سبق نمبر۔۱۰
وَالتَّعْقِيدُ أَنْ يَكُونَ الْكَلَامُ خَفِيَّ الدَّلَالَاتِ عَلَى الْمَعْنَى الْمُرَادِ، وَالْخَفَاءُ إِمَّا مِنْ جِهَةِ اللَّفْظِ بِسَبَبِ تَقْدِيمٍ أَوْ تَأْخِيرٍ أَوْ فَصْلٍ وَيُسَمَّى تَعْقِيدًا لَفْظِيًّا كَقَوْلِ الْمُتَنَبِّي: جَفَخَتْ وَهُمْ لَا يَجْفَخُونَ بِهَا بِهِمْ شِيَمٌ عَلَى الْحَسَبِ الْأَغَرِّ دَلَائِلُ.
بحث چل رہی ہے فصاحتِ کلام کی بھئی!
سب سے پہلے آپ نے فصاحتِ کلمہ کے بارے میں پڑھا کہ کلمہ فصیح وہ ہوگا جو تین عیبوں سے خالی ہو: تنافرِ حروف، مخالفتِ قیاس اور غرابت بھئی! تنافرِ حروف کس کو کہتے تھے؟ کہ کلمے میں ایسے حروف جمع ہو جائیں جس کی وجہ سے اس کی ادائیگی زبان پر ثقیل ہو جائے۔
اور دوسرا عیب جس سے کلمے کا خالی ہونا ضروری تھا فصاحت کے لیے وہ مخالفتِ قیاس ہے بھئی! مخالفتِ قیاس کہتے تھے کہ کلمہ صرفی قانون کے خلاف ہو، یا دوسرے لفظوں میں یوں کہیں جو واضع کی وضع کے خلاف ہو یا عربوں کے استعمال کے خلاف ہو بھئی! تو اگر کلمہ جو ہے عربوں کے استعمال کے خلاف ہو تو وہ غیرِ فصیح ہوگا-
اسی طرح تیسرا عیب جس سے کلمے کا خالی ہونا ضروری تھا فصاحت کے لیے وہ غرابت ہے- غرابت اس کو کہتے تھے کہ کلمے کی دلالت اپنے معنی پر واضح نہ ہو، یعنی کلمہ بولنے سے اس کا معنی خالص عربوں کو بھی سمجھ میں نہیں آتا بھئی! تو معلوم ہوا یہ جو عربی کلمہ ہے یہ فصیح نہیں ہے ورنہ خالص عربوں کو تو کم از کم اس کا معنی ضرور سمجھ میں آتا-
اس کے بعد فصاحتِ کلام کی بحث شروع ہوئی تھی- فصاحتِ کلام میں بھی آپ نے پڑھا کہ کلامِ فصیح وہ ہوگا جو تین عیبوں سے خالی ہو، تین چیزیں اس میں نہ ہوں اور ایک چیز کا ہونا ضروری تھا اس میں- تین عیب جن کا نہ ہونا ضروری کلامِ فصیح کے اندر: نمبر ایک: تنافرِ کلمات بھئی! نمبر دو: ضعفِ تالیف اور نمبر تین: تعقید بھئی!
تنافرِ کلمات اس کو کہتے تھے کہ کلام کے اندر ایسے کلمات جمع ہو گئے جس کی وجہ سے زبان پر اس کلام کی ادائیگی دشوار ہو گئی، ثقیل ہو گئی- اگرچہ ان میں سے ہر کلمہ فصیح ہے لیکن اکٹھے ہونے کی وجہ سے اب ان کی زبان پر ادائیگی ثقیل ہو جائے، یہ ہے تنافرِ کلمات-
اور ضعفِ تالیف اس کو کہتے تھے کہ کلام مشہور نحوی قانون کے خلاف ہو بھئی، جیسے اضمار قبل الذکر لفظاً و رتبۃً- ضمیر کو لانا مرجع کے ذکر سے پہلے ہی لفظاً بھی اور رتبۃً بھی-
میں نے بتلایا تھا کہ ایک متفق علیہ قانون ہے، ایک مشہور نحوی قانون ہے- متفق علیہ قانون تو وہ ہے جس پر سارے بڑے نحوی حضرات کا اتفاق ہو کہ یہ بات اسی طرح ہے، تو متفق علیہ قانون کے خلاف ہو کلام تو وہ سرے سے ہی فاسد ہوگا بھئی! وہاں فصاحت اور غیرِ فصاحت کی بات ہی نہیں ہوگی، وہ کلام ہی فاسد ہے- کلام صحیح ہو تو پھر فصیح ہے یا فصیح نہیں، وہ بعد میں دیکھا جاتا ہے-
تو اگر متفق علیہ قانون کے خلاف ہو کلام تو وہ کلام ہی فاسد ہوگا، درست نہیں ہوگا- مشہور نحوی قانون میں نے بتلایا جس میں اکثر بڑے نحوی حضرات کی رائے ہو کہ یہ مسئلہ اسی طرح ہے- ایک، دو یا تین کی مخالفت جب ہو جائے گی تو پھر یہ متفق علیہ نہیں رہے گا بلکہ کیا کہلائے گا؟ مشہور نحوی قانون بھئی! اور مشہور نحوی قانون کے خلاف ہو اگر کلام تو وہ فاسد تو نہیں، صحیح تو پھر بھی رہے گا- کیوں صحیح رہے گا؟ کیونکہ ایک دو نحویوں کی رائے تو ہے کہ اس طرح کرنا ٹھیک ہے، تو کلام صحیح تو ہوگا لیکن چونکہ اکثر نحویوں کی رائے کے خلاف ہوا، مشہور نحوی قانون کے خلاف ہوا کلام تو اس لیے وہ فصاحت سے نکل جائے گا بھئی، فصیح نہ رہے گا-
تو یہ ہے ضعفِ تالیف- ضعف: کمزوری، تالیف: جوڑنا، گویا لفظوں کو ایسی ترتیب سے جوڑا ہے کہ وہ ترتیب اور وہ ترکیب کمزور ہے، کمزور ہے-
اور پھر یہاں پر میں نے تفصیل ذکر کی تھی کہ ضمیر جو ہے اس کے لیے مرجع کا ہونا ضروری اور یہ مرجع مقدم ہونا چاہیے، پھر یہ مقدم ہونا مرجع کا یہ کبھی لفظاً حقیقۃً ہوگا، کبھی لفظاً تقدیرًا ہوگا، کبھی معنًا ہوگا اور کبھی حکماً ہوگا-
اور پھر اس کی مثال بھی گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھ لی بھئی: جَزَى بَنُوهُ أَبَا الْغَيْلَانِ- یہاں بنوہ فاعل ہے اور ابا الغیلان یہ مفعول ہے- تو بنوہ فاعل ہے اور اس کے اندر ضمیر ہے، ہا ضمیر جو راجع ہے ابا الغیلان کو- تو ضمیر پہلے آئی اور مرجع بعد میں- فعل کے فوراً بعد کس کا درجہ ہوتا ہے؟ اس کے فوراً بعد فاعل آنا چاہیے، پھر مفعول آنا چاہیے- تو یہاں پر ابا الغیلان جس کو ضمیر راجع ہے وہ لفظوں میں بھی مؤخر اور رتبے کے اعتبار سے بھی- اگر یہ رتبے کے اعتبار سے مقدم ہوتا پھر تو چلو بات چل جاتی، ہم کیا کہتے کہ مرجع مقدم ہے رتبۃً، لیکن یہاں پر اضمار قبل الذکر ہے لفظاً بھی اور رتبۃً بھی- ضمیر لائی گئی مرجع کے ذکر سے پہلے، لفظاً بھی ضمیر پہلے اور رتبے کے اعتبار سے بھی کیا ہے؟ پہلے ہے، یعنی مرجع لفظوں میں بھی مؤخر اور رتبے کے اعتبار سے بھی مؤخر ہے بھئی! اور تو یہ مشہور نحوی قانون کی مخالفت ہوئی بھئی اس میں-
آج کے سبق میں ہم تعقید کے بارے میں پڑھیں گے-
فرماتے ہیں: وَالتَّعْقِيدُ أَنْ يَكُونَ الْكَلَامُ خَفِيَّ الدَّلَالَاتِ عَلَى الْمَعْنَى الْمُرَادِ- تعقید کا معنی بھئی میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں- تعقید کسے کہتے ہیں؟ کہ کلام کی دلالت معنی مراد پر واضح نہ ہو بھئی- کلام سے معنی مراد سمجھ میں نہ آتا ہو، یہ تعقید ہے- کلام تو ایسا ہونا چاہیے کہ اس کے سنتے ہی، اس کے پڑھتے ہی فوراً معنی مراد سمجھ میں آ جانا چاہیے-
لیکن اگر سمجھ میں نہیں آتا، معنی مراد اس سے واضح نہیں ہے تو یہ تعقید ہے بھئی تعقید-
یہاں لفظ آیا معنی مراد بھئی! اس کے بارے میں اگرچہ میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں، پھر سمجھ لیجیے- ایک ہوتا ہے معنی لغوی اور ایک ہوتا ہے معنی مراد بھئی- معنی لغوی وہ ہے کہ ہر لفظ جس معنی کے لیے وضع کیا گیا تھا اسی معنی پر دلالت کرے بھئی، اس پر اس کی دلالت واضح ہو جائے- اور معنی مراد- مراد اسم مفعول کا صیغہ ہے- وہ معنی، مراد جس کا ارادہ کیا جائے، مراد کا کیا ترجمہ ہے؟ جس کا ارادہ کیا گیا ہو- تو کلام کا ایک ہوتا ہے معنی لغوی یعنی لغت کے اعتبار سے ہر ہر لفظ اپنے معنی پر دلالت کر رہا ہوتا ہے، پورا کلام اس لغوی معنی پر دلالت کرتا ہے- اور ایک ہوتا ہے معنی مراد جو کہنے والے کا ارادہ ہوتا ہے، تو معنی لغوی اور معنی مراد یہ دو چیزیں ہیں بھئی، دو چیزیں ہیں-
مثلاً: آپ کا ایک ساتھی ہے اور وہ کمرے میں آیا، جیسے ہی وہ آیا آپ نے کہا: شیر آ گیا، شیر آ گیا- اب اس کلام کا لغوی معنی تو کیا ہے؟ شیر کس کا نام ہے؟ ایک جنگلی درندے کا نام ہے، تو لغوی معنی ہوا جنگلی درندہ آ گیا-
لیکن کیا آپ کا یہ ارادہ ہے اس کلام سے؟ نہیں! آپ کیا بتلانا چاہتے ہیں؟ کہ بہادر آدمی آ گیا ہے! تو دیکھیے معنی مراد کیا ہوا آپ کا؟ بہادر آدمی آ گیا ہے، یہ ہے معنی مراد- معنی لغوی کیا تھا؟ شیر آیا ہے یعنی وہ جنگلی درندہ آیا ہے، اور معنی مراد کیا ہے؟ بہادر آدمی آیا ہے بھئی، بہادر آدمی آیا ہے-
تو ایک ہوتا ہے معنی لغوی جو لغت کے اعتبار سے ہوتا ہے اور ایک ہوتا ہے معنی مراد جس کا ارادہ کیا جائے اس کلام کے ذریعے-
اس کی ایک اور مثال: آپ کا ساتھی آیا، آپ نے کہا: حاتم طائی آ گیا ہے، حاتم طائی- اب اس کلام کا لغوی معنی کیا ہے؟ وہ جو عرب میں ایک آدمی گزرا تھا، حاتم طائی کس کا نام رکھا گیا تھا؟ عرب میں ایک سخی آدمی گزرا تھا، اس کا نام تھا حاتم طائی بھئی، حاتم طائی- تو کلام کا لغوی معنی ہوا وہ جو آدمی جس کا نام حاتم طائی تھا وہ آ گیا ہے، حالانکہ اس کو تو مرے ہوئے سینکڑوں سال گزر چکے ہیں- تو معلوم ہوا یہاں لغوی معنی مراد نہیں، بلکہ کیا مراد ہے؟ سخی آدمی آ گیا ہے- تو حاتم طائی بول کر آپ نے سخی آدمی کے معنی کا ارادہ کیا، تو دیکھیے یہ ہے معنی مراد- تو معنی مراد کیا ہوا کہ سخی آدمی آ گیا ہے-
اتنی بات اب آپ سمجھ گئے کہ ایک معنی لغوی ہوتا ہے اور ایک معنی مراد- اس میں پھر تفصیل یاد رکھیے: کبھی کبھار لغوی معنی اور معنی مراد دونوں ایک ہی ہوتے ہیں- کبھی کبھار- اور معنی مراد ایک ہی ہوں گے، اور کبھی لغوی معنی الگ ہوگا اور معنی مراد الگ ہوگا- لغوی معنی اور معنی مراد ایک ہی ہو، مثلاً: آپ کا ساتھی آیا، آپ نے کہا: بہادر آدمی آ گیا ہے- کیا کہا آپ نے؟ لغوی معنی کیا؟ آپ کو سمجھ میں آ رہا ہے کہ بہادر آدمی آیا ہے- مراد بھی کیا ہے؟ مراد بھی یہی معنی ہے کہ بہادر آدمی آیا ہے- تو دیکھیے یہاں پر لغوی معنی اور معنی مراد ایک ہی ہے، لیکن جب آپ نے کہا شیر آ گیا ہے تو یہاں پر لغوی معنی اور ہے اور معنی مراد اور ہے- اسی طرح جب آپ نے کہا حاتم طائی آ گیا ہے تو لغوی معنی اور ہے اور معنی مراد اور ہے بھئی- یہاں تک بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟
تو گویا یہاں پر دو معنی ہوئے: ایک لغوی معنی اور ایک معنی مراد بھئی، معنی مراد-
تو کلام کو سنتے ہی سب سے پہلے ذہن میں اس کا لغوی معنی آتا ہے اور پھر اس لغوی معنی سے ذہن منتقل ہوتا ہے معنی مراد کی طرف- کلام کو بولتے ہی دوسرا شخص جیسے ہی اس کو سنے گا، جیسے ہی اس کو پڑھے گا، سب سے پہلے فوراً اس کے ذہن میں کیا آئے گا؟ لغوی معنی! اور پھر اس لغوی معنی سے ذہن کس کی طرف منتقل ہو جائے گا؟ معنی مراد کی طرف، اور اس کو بھی سمجھ لے گا- جیسے ہی میں نے کہا: شیر آ گیا ہے، اولاً آپ کے ذہن میں لغوی معنی آیا اور پھر اس لغوی معنی سے آپ کا ذہن کس کی طرف منتقل ہوا؟ معنی مراد کی طرف بھئی!
اور جتنا ظہور ہوگا یہاں پر، اتنی ہی تیزی سے ذہن منتقل ہوگا معنی لغوی سے معنی مراد کی طرف بھئی- کس سے؟ ذہن میں سب سے پہلے بھئی، ہر لفظ اپنے اپنے معنی پر دلالت کر رہا ہے تو ہر لفظ کا اپنا معنی ہے وہ فوراً سمجھ میں آئے گا اور پھر ذہن منتقل ہو جائے گا کس کی طرف؟ معنی مراد کی طرف-
تو یہ جو ذہن منتقل ہوتا ہے معنی لغوی سے معنی مراد کی طرف، اس انتقال میں کسی قسم کا کوئی مانع یا خفاء نہیں ہونا چاہیے- اگر یہاں کوئی مانع آ گیا، کوئی رکاوٹ آ گئی، کوئی خلل اور خرابی آ گئی تو ذہن منتقل نہیں ہوگا معنی لغوی سے معنی مراد کی طرف اور اس کو تعقید کہتے ہیں-
کیا کہتے ہیں؟ تو تعقید کس چیز کا نام ہے؟ کہ ذہن کے معنی لغوی سے معنی مراد کی طرف منتقل ہونے میں کیا ہو؟ خلل ہو، کوئی خرابی ہو- یہ خرابی اگر پائی جائے کلام میں کہ جہاں پر ذہن معنی لغوی سے معنی مراد کی طرف منتقل نہیں ہوتا تو یہ خلل اور خرابی، یہ تعقید کہلائے گی بھئی، تعقید کہلائے گی- ایسا، ایسی خرابی آ گئی، ایسا مانع آ گیا کہ ذہن منتقل ہی نہیں ہو رہا، تو دیکھو جب ذہن منتقل نہیں ہوگا تو معنی مراد آپ کو سمجھ میں نہیں آئے گا- معنی لغوی تو سمجھ میں آ رہا ہے، ایک ایک لفظ کا معنی واضح ہوگا، لیکن معنی مراد سمجھ میں نہیں آئے گا بھئی آپ کو- یہ کس کی وجہ سے؟ خلل کہاں پر آیا؟ معنی لغوی سے معنی مراد کی طرف جو انتقال ہے، منتقل ہونا ہے، یہاں اس میں کوئی خرابی ہے، کوئی خلل ہے-
یہ خرابی اور خلل یاد رکھیے پھر دو قسم پر ہے: کبھی خلل اور خرابی لفظوں کے اندر ہوگی، اس کلام ہی کے اندر، اس کے لفظوں میں خرابی ہوگی، اور کبھی خرابی معنی کے اندر ہوگی- اگر خرابی لفظوں کے اندر ہو تو یہ تعقیدِ لفظی کہلاتی ہے، اور اگر خرابی معنی کے اندر ہو تو پھر یہ تعقیدِ معنوی کہلاتی ہے- یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی سب کو اچھی طرح؟
کہتے ہیں: وَالتَّعْقِيدُ أَنْ يَكُونَ الْكَلَامُ خَفِيَّ الدَّلَالَاتِ عَلَى الْمَعْنَى الْمُرَادِ- اور تعقید وہ یہ ہے کہ کلام جو ہے وہ خفی الدلالۃ ہو معنی مراد پر- ترجمے پہ نظر رکھنا- کلام کی جو دلالت ہے عَلَى الْمَعْنَى الْمُرَادِ، کس پر؟ ہاں! تو یہ جو دلالت علی المعنى المراد ہے، اس میں خفاء ہو بھئی- تو کہتے ہیں: وَالتَّعْقِيدُ أَنْ يَكُونَ الْكَلَامُ خَفِيَّ الدَّلَالَاتِ عَلَى الْمَعْنَى الْمُرَادِ- تعقید جو ہے وہ کلام کا معنی مراد پر خفی الدلالۃ ہونا ہے، کلام کا معنی مراد پر خفی الدلالۃ ہونا ہے، یعنی معنی مراد پر اس کی دلالت خفی ہوگی، اس میں پوشیدگی ہوگی-
وَالْخَفَاءُ إِمَّا مِنْ جِهَةِ اللَّفْظِ- اور یہ خفاء یا تو لفظ کی جانب سے ہوگا- بِسَبَبِ تَقْدِيمٍ أَوْ تَأْخِيرٍ أَوْ فَصْلٍ- وَالْخَفَاءُ إِمَّا مِنْ جِهَةِ اللَّفْظِ، یہاں سے تعقیدِ لفظی کو اب بیان کر رہے ہیں کہ یہ خفاء یا تو لفظ کی جانب سے ہوگا، یعنی لفظوں کے اندر ہی کچھ ایسی خرابی ہے جس کی وجہ سے ذہن معنی لغوی سے معنی مراد کی طرف جلدی منتقل نہیں ہوتا بھئی-
لفظوں کے اندر خرابی کی کیا کیا صورتیں ہو سکتی ہیں؟ چند ایک انہوں نے ذکر کر دیں بھئی- لفظوں میں بعض اوقات یہ خرابی ہوگی کہ ایک لفظ کو مقدم ہونا چاہیے تھا، دوسرے کو مؤخر ہونا چاہیے تھا، لیکن کہنے والے نے اس کا عکس کر دیا- جس کو مقدم ہونا چاہیے تھا اس کو مؤخر کر دیا اور جس کو مؤخر ہونا چاہیے تھا اس کو مقدم کر دیا- کبھی کبھار یہ خرابی اسی طرح فصل کی وجہ سے ہوگی- فصل کا معنی: جدائی کرنا، الگ کرنا- بھئی موصوف کے فوراً بعد صفت آنی چاہیے، تو اگر وہ درمیان میں کوئی اور لفظ لے آیا، صفت کو موصوف سے جدا کر دیا تو یہ بھی خلل پیدا کرے گی معنی مراد کے سمجھنے میں- اسی طرح مبتدا کے فوراً بعد خبر آنی چاہیے، اگر مبتدا اور خبر کے درمیان آپ اور چیز لفظ لے آتے ہیں تو اس کی وجہ سے بھی کلام میں کیا آئے گا؟ معنی مراد کے سمجھنے میں خلل آئے گا بھئی- اسی طرح ایک جگہ ایک لفظ کو ذکر کرنا ہے، ذکر کرنا چاہیے، اور بات کرنے والا اس لفظ کو حذف کر دیتا ہے اور کوئی اور قرینہ وغیرہ بھی نہیں ہوتا واضح جس سے اس محذوف کا پتہ چل رہا ہو، تو یہ بھی کیا ہے؟ اس کی وجہ سے بھی خرابی آئے گی- یا اسی طرح ایک مقام تو اسم کا ہے لیکن کہنے والا اس مقام پر ضمیر کو لے آتا ہے، تو یہ مختلف قسم کی خرابیاں جن کی وجہ سے لفظوں ہی میں کیا آ جاتا ہے؟ لفظوں ہی میں خلل آیا، آپ نے لفظوں میں ہی تقديم و تاخير کر دی یا لفظوں کے اندر بھئی موصوف صفت اور مبتدا خبر میں فصل کر دیا یا لفظوں کے اندر آپ نے ایک چیز کو حذف کر دیا یا لفظوں کے اندر ایک قسم کا لفظ ذکر ہونا چاہیے تھا، آپ نے دوسری قسم کا لفظ ذکر کر دیا بھئی- تو یہ سارے اسباب ہیں جن کی وجہ سے لفظوں میں خلل آیا بھئی، کہ اب وہ معنی مراد پر صحیح طور پر دلالت نہیں کر رہے بھئی-
یہ معنی ہے: وَالْخَفَاءُ إِمَّا مِنْ جِهَةِ اللَّفْظِ- اور یہ خفاء جو ہے یا تو لفظ کی جانب سے ہوگا- بِسَبَبِ تَقْدِيمٍ أَوْ تَأْخِيرٍ أَوْ فَصْلٍ- تقديم یا تاخير یا فصل کی وجہ سے- وَيُسَمَّى تَعْقِيدًا لَفْظِيًّا- اور اس کو تعقیدِ لفظی کہتے ہیں- كَقَوْلِ الْمُتَنَبِّي- جیسے کہ متنبی کا قول ہے- متنبی مشہور شاعر گزرا ہے بھئی، اس کا یہ شعر اس کے اندر تعقیدِ لفظی ہے بھئی- کیا ہے؟ تعقیدِ لفظی- اور تعقیدِ لفظی ابھی بتایا، کہ جہاں تعقید پائی جائے کہ کلام کا معنی مراد سمجھ میں نہ آ رہا ہو، اور لفظی کیا معنی؟ کہ خلل اور خرابی کہاں پر ہے؟ لفظوں کے اندر ہے بھئی- اگر معنی کے اندر ہوتی تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ تعقیدِ معنوی کہتے ہیں- تو یہ تعقیدِ لفظی کی مثال ہے- اب دیکھیے ذرا شعر پر نظر رکھیے بھئی: جَفَخَتْ وَهُمْ لَا يَجْفَخُونَ بِهَا بِهِمْ شِيَمٌ عَلَى الْحَسَبِ الْأَغَرِّ دَلَائِلُ-
جَفَخَتْ- جَفَخَ کا معنی ہے فخر کرنا، فخر کرنا-
آگے لفظ آیا: شِيَمٌ- شِيَمٌ- شیم جمع ہے شِيمَةٌ کی، شِیمَۃٌ- شِيمَةٌ کہتے ہیں عادت اور طبیعت کو، عادت اور طبیعت-
آگے ایک لفظ آ رہا ہے: الْحَسَبُ، سین کے فتحہ کے ساتھ- الْحَسَبُ، حسب یاد رکھیے خاندانی شرافت کو کہتے ہیں، خاندانی شرافت- خاندان کا معظم
ہونا، یہ ہے حسب۔
آپ بھی سنتے ہیں بھئی، کوئی بڑے خاندان سے تعلق رکھتا ہو تو کہتے ہیں فلاں کا حسب و نسب بڑا اعلیٰ ہے بھئی۔
الأغر بھئی، الأغر یہ صفت مشبہ ہے بھئی غَرَّ يَغَرُّ غَرَرًا وَغَرَارَةً سے۔ غَرَّ يَغَرُّ غَرَرًا وَغَرَارَةً کا معنی ہے روشن چہرے یا پیشانی والا ہونا، اسی طرح اس کا معنی ہے معزز ہونا اور بلند کردار والا ہونا۔ معزز ہونا اور بلند کردار والا ہونا، تو اغر صفت مشبہ ہے بھئی۔ صفت مشبہ، روشن چہرے والا یا روشن پیشانی والا یا معزز جو بھی ترجمہ آپ کر لیں۔
اور اسی سے غُرَّۃٌ بھی ہے غُرَّۃٌ۔ غُرَّۃٌ گھوڑے کی پیشانی پر عموماً سفید رنگ کا نشان ہوتا ہے بھئی، سفید بال ہوتے ہیں اس کو غُرَّۃٌ کہتے ہیں بھئی غُرَّۃٌ۔ تو یہ اسی سے ہے یہ اغر بھئی۔
دلائل آیا آگے لفظ بھئی، دلائل جمع ہے دلالت کی بھئی دلالت، اور دلالت کہتے ہیں رہنمائی کرنا، رہنمائی کرنا۔
تو یہاں دلائل بمعنی علامتوں کے ہے، علامتیں، نشانیاں۔ لکھ لیا بھئی؟
اب دیکھیے شعر پر نظر رکھیے: جَفَخَتْ فخر کرتی ہیں، جَفَخَتْ فعل آیا اور فعل کے لیے کیا چاہیے؟ فاعل چاہیے۔ تو یاد رکھیے اگلے مصرعے کے اندر جو شروع میں پہلا لفظ آ رہا ہے شِيَمٌ، یہ فاعل ہے جَفَخَتْ کا۔ فخر کرتی ہیں عادتیں، شيم عادتیں۔ فخر کرتی ہیں عادتیں۔
تو دیکھیے، یہ پہلا سبب ہے تعقید کا بھئی کہ فعل اور فاعل کے درمیان فصل کر دیا درمیان میں وَهُمْ لَا يَجْفَخُونَ بِهَا لے آئے بھئی۔ نیز دوسری، دوسرا سبب خلل کا، بِهِمْ جو آیا پہلے مصرعے کے آخر میں یہ اسی جَفَخَتْ سے متعلق ہے۔ پہلے مصرعے کے آخر میں جو بِهِمْ آیا یہ اسی جَفَخَتْ سے متعلق ہے اور درمیان میں وَهُمْ لَا يَجْفَخُونَ بِهَا لے آئے، حالانکہ پہلے بِهِمْ کو لانا چاہیے تھا تو یہ دوسرا سبب ہوا کس چیز کا؟ تعقید کا بھئی۔ ایک سبب کہ فاعل اور فعل میں فصل کر دیا، اسی طرح جار مجرور اور اس کے متعلق میں کیا کر دیا؟ فصل کر دیا۔
وَهُمْ لَا يَجْفَخُونَ بِهَا یہ حال ہے شِيَمٌ سے۔ یہ حال ہے شِيَمٌ سے۔
آگے بھئی دیکھیے، دلائل یہ صفت ہے شِيَمٌ کی، تو شِيَمٌ ہوا موصوف، دلائل ہوئی اس کی صفت، اور موصوف صفت کے درمیان فصل لے آئے بھئی شاعـ شاعر نے فصل کر دیا۔ تو یہ بھی تعقید کا سبب ہے بھئی، تعقید کا سبب ہے۔ جس کی وجہ سے کلام کی اپنے معنی مراد پر دلالت واضح نہیں۔
جَفَخَتْ اب ترجمہ سنیے بھئی: جَفَخَتْ بِهِمْ فخر کرتی ہیں ان پر شِيَمٌ عادتیں، جَفَخَتْ بِهِمْ فخر کرتی ہیں ان پر عادتیں، آگے صفت آ رہی ہے شيم کی: دَلَائِلُ عَلَى الْحَسَبِ الْأَغَرِّ اس کا تعلق دلائل سے ہے۔ عَلَى الْحَسَبِ الْأَغَرِّ یہ جار مجرور ہے اس کا تعلق کس سے ہے؟ دلائل سے۔ جو نشانیاں ہیں عَلَى الْحَسَبِ الْأَغَرِّ، کیا ترجمہ کریں گے؟ نشانیاں کس چیز پر؟ عَلَى الْحَسَبِ الْأَغَرِّ، روشن خاندانی شرافت پر، روشن خاندانی شرافت پر۔ نشانیاں ہیں کس پر؟ روشن خاندانی شرافت پر بھئی۔ تو یہ عَلَى الْحَسَبِ الْأَغَرِّ اس کا تعلق دلائل سے ہے اور اس کو مؤخر ہونا چاہیے تھا دلائل پر لیکن اس کو مقدم کر دیا جس کی وجہ سے تعقید آئی بھئی، یہ بھی اسباب تعقید میں سے ہے۔ اگرچہ ایسا جائز ہے، بھئی بعض اوقات ایک چیز جائز ہوتی ہے لیکن اس کی وجہ سے اس کے ارتکاب سے تعقید بڑھتی چلی جاتی ہے۔ کئی چیزیں اکٹھی ہو گئیں دیکھیں یہاں پر، فعل اور فاعل میں فصل کیا، فعل اور اس کے متعلق میں فصل کیا، موصوف صفت کے اندر فصل کیا اور اسی طرح جار مجرور اور اس کے متعلق میں ترتیب بدل دی جار مجرور کو مقدم ذکر کر دیا اور متعلق کو بعد میں ذکر کیا بھئی۔ تو یہ سب چیزیں جمع ہوئیں جس کی وجہ سے کلام میں تعقید آ گئی بھئی۔
تو ایسی نشانیاں جو نشانیاں ہیں کس چیز پر نشانیاں ہیں؟ عَلَى الْحَسَبِ الْأَغَرِّ، روشن خاندانی شرافت پر۔
اب شِيَمٌ ہے موصوف اور دلائل ہے اس کی صفت میں نے بتلایا۔ اور موصوف صفت کا ترجمہ کرنے کا طریقہ میں ذکر کر چکا کہ موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی کا لفظ لے آؤ۔ اب ترجمہ دیکھیے: شِيَمٌ تو پہلے ترتیب بھی دے لیں: شِيَمٌ دَلَائِلُ عَلَى الْحَسَبِ الْأَغَرِّ، دلائل کو ذرا اٹھا کر شيم کے بعد لے آئیں تاکہ موصوف صفت اکٹھے ہو جائیں۔ شِيَمٌ دَلَائِلُ عَلَى الْحَسَبِ الْأَغَرِّ، ایسی عادتیں جو نشانیاں ہیں روشن خاندانی شرافت پر۔ ایسی عادتیں جو نشانیاں ہیں روشن خاندانی شرافت پر۔
اب پھر ترجمہ دیکھیے: وَهُمْ لَا يَجْفَخُونَ بِهَا ذرا اس کو ختم کر دو تھوڑی دیر کے لیے۔ جَفَخَتْ بِهِمْ شِيَمٌ دَلَائِلُ عَلَى الْحَسَبِ الْأَغَرِّ، فخر کرتی ہیں ان پر شِيَمٌ ایسی عادتیں جو نشانیاں ہیں عَلَى الْحَسَبِ الْأَغَرِّ روشن خاندانی شرافت پر، جو نشانیاں ہیں شرافت پر۔
وَهُمْ لَا يَجْفَخُونَ بِهَا یہ حال ہے بھئی شيم سے، اور اس کو اس پر مقدم کر دیا۔ اس حال میں کہ هُمْ لَا يَجْفَخُونَ بِهَا کہ وہ فخر نہیں کرتے، بِهَا ھا ضمیر راجع ہے شِيَمٌ کو۔ ھا ضمیر کس کو راجع؟ اس حال میں کہ وہ ان عادتوں پر فخر نہیں کرتے۔ تو یہ بھی تعقید کا ایک سبب ہے۔ ھا ضمیر پہلے آ گئی اور شِيَمٌ کیا ہے؟ بعد میں مرجع آیا۔ اگرچہ یہ رتبے کے اعتبار سے مقدم ہے بھئی شيم، کیونکہ شيم کا مقام کہاں پر ہے؟ جَفَخَتْ کے بعد ہے، یہ فاعل ہے اس کے لیے۔ تو رتبے کے اعتبار سے اگرچہ شِيَمٌ مقدم ہے لیکن بہرحال لفظوں کے اعتبار سے تو مؤخر ہے۔ یہ اگرچہ ترکیب بالکل صحیح ہے، اضمار قبل الذکر صرف لفظاً ہے رتبۃً نہیں، رتبے کے اعتبار سے کلام بالکل صحیح ہے تو لیکن بہرحال جائز چیز کی وجہ سے بھی بعض اوقات تعقید بڑھ جاتی ہے میں نے بتلایا۔ اور چیزیں بھی تھیں ان کی وجہ سے خلل آ رہا تھا تو اس کی وجہ سے بھی کیا آیا؟ کچھ نہ کچھ کلام میں خلل آ گیا، خلل آ گیا بھئی۔
اس حال میں کہ وہ فخر نہیں کرتے ان عادتوں پر۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟
دیکھیے جو ترتیب میں نے آپ کو بتلائی وہی ترتیب نیچے صاحب کتاب بھی ذکر کر رہے ہیں: فَإِنَّ تَقْدِيرَهُ، پس بے شک جو ہے اس کلام کی تقدیر جو ہے یعنی اس کلام کی اصل جو ہے وہ یوں ہے: جَفَخَتْ بِهِمْ شِيَمٌ، دیکھو جار مجرور کو جَفَخَتْ سے متعلق تھا جوڑ دیا انہوں نے۔ شِيَمٌ کو بھی لے آئے تھے اور دلائل کیا تھی؟ شيم کی صفت، اس کو شيم کے ساتھ جوڑ دیا۔ اور عَلَى الْحَسَبِ الْأَغَرِّ یہ کس سے متعلق تھے؟ دلائل سے، تو ان کو مؤخر ہونا چاہیے تھا، اس کو انہوں نے مؤخر کر دیا۔ آخر میں اب حال آنا چاہیے تھا: وَهُمْ لَا يَجْفَخُونَ بِهَا، اس کو آخر میں لے گئے بھئی۔
اب ترجمہ دیکھیے اسی سے: جَفَخَتْ بِهِمْ شِيَمٌ، فخر کرتی ہیں ان پر ایسی عادتیں جو علامتیں ہیں روشن خاندانی شرافت پر، وَهُمْ لَا يَجْفَخُونَ بِهَا اس حال میں کہ وہ ان عادتوں پر فخر نہیں کرتے۔ شاعر کسی کی تعریف کر رہا ہے اور مدح کر رہا ہے کہ وہ لوگ بہت معزز لوگ ہیں، بڑے اونچے لوگ ہیں، وہ اتنے اونچے لوگ ہیں کہ بڑی بڑی عادات جن پر لوگ فخر کیا کرتے ہیں وہ عادتیں ان پر فخر کرتی ہیں۔ بھئی بعض عادات وہ لوگوں کے اندر بڑی عمدہ شمار ہوتی ہیں، مثلاً جیسے سخاوت کا وصف ہے بھئی سخاوت بھئی۔ تو ان عادتوں کو دیکھ کر ہی لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ اس شخص میں اتنی اعلیٰ صفات اور عادات ہیں، معلوم ہوتا ہے یہ کسی عام خاندان سے تعلق نہیں رکھتا، کسی بڑے ہی معزز خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ تو عادتوں کے ذریعے خاندان کا پتہ چلتا ہے، وہ عادتیں علامت ہوتی ہیں، نشانی ہوتی ہیں کس چیز پر؟ خاندان کے معزز ہونے پر، اور لوگ اس قسم کی عادات پر فخر کرتے ہیں۔
تو میں نے بتایا کچھ عادتیں ایسی ہوتی ہیں کہ جس سے خاندان کی عظمت کا، خاندان کے معزز ہونے کا پتہ چلتا ہے بھئی پتہ چلتا ہے، اور یہ صفات لوگوں کے نزدیک بڑی پسندیدہ ہوتی ہیں اور جو ان صفات سے موصوف ہوتے ہیں وہ ان پر فخر کرتے ہیں بھئی فخر کرتے ہیں، کیونکہ اس کی وجہ سے تمام لوگ ان کی تعریف کرتے ہیں بھئی، تمام لوگ ان کو پسند کرتے ہیں۔ لیکن شاعر کیا کہتا ہے؟ شاعر عجیب بات کہہ رہا ہے، دیکھو تو سہی کیسے تعریف کر رہا ہے بھئی۔ وہ عادتیں جس پر لوگ فخر کرتے ہیں شاعر کہتا ہے: میں جن لوگوں کی مدح کر رہا ہوں یہ عادتیں ان لوگوں پر فخر کرتی ہیں کہ ہمیں ان لوگوں نے اپنایا ہوا ہے۔ لوگ ان عادتوں پر فخر کرتے ہیں کسی کو حاصل ہو جائیں یہ عادات بھئی یہ صفات حاصل ہو جائیں، لیکن شاعر کیا کہہ رہا ہے؟ وہ لوگ اتنے اونچے ہیں کہ ان عادتوں پر کیا فخر کرنا ہے انہوں نے، یہ عادتیں خود فخر کرتی ہیں کہ ہمیں ان جیسے بڑے لوگوں نے اپنایا ہوا ہے، یہ ہمارے لیے کتنی فخر کی بات ہے ان باعظمت لوگوں نے ہمیں اپنایا ہوا ہے۔ عجیب تعریف کر رہا ہے۔
وَهُمْ لَا يَجْفَخُونَ بِهَا، اس حال میں کہ وہ ان پر فخر نہیں کرتے، وہ اتنے بڑے لوگ اتنے معزز لوگ ہیں وہ ان عادتوں کو کچھ سمجھتے ہی نہیں ہیں جن پر لوگ فخر کرتے ہیں، وہ ان عادتوں کی پرواہ ہی نہیں کرتے۔ ہاں یہ عادتیں جو ہیں کیا ہیں؟ اس بات پر فخر کرتی ہیں کہ ان جیسے لوگوں نے ہمیں اپنایا ہوا ہے بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کیسی عرب کے عجیب اشعار ہوتے ہیں، انسان حیران رہ جاتا ہے بھئی۔
جَفَخَتْ وَهُمْ لَا يَجْفَخُونَ بِهَا بِهِمْ شِيَمٌ عَلَى الْحَسَبِ الْأَغَرِّ دَلَائِلُ، فخر کرتی ہیں ان پر ایسی عادتیں جو نشانیاں ہیں روشن خاندانی شرافت پر اس حال میں کہ وہ ان عادتوں پر فخر نہیں کرتے۔ وہ ان کی پرواہ بھی نہیں کرتے، وہ اتنے بڑے لوگ ہیں، انہیں ان عادتوں کی بھی پرواہ ہی نہیں ہے ان کی ان کو اللہ نے پہلے ہی ایسا مقام اور ایسی عزت نصیب فرمائی ہے۔
فَإِنَّ تَقْدِيرَهُ، پس بے شک کلام کی تقدیر یعنی کلام کی اصل جو ہے وہ یوں ہے: جَفَخَتْ بِهِمْ شِيَمٌ دَلَائِلُ عَلَى الْحَسَبِ الْأَغَرِّ وَهُمْ لَا يَجْفَخُونَ بِهَا، فخر کرتی ہیں ان پر ایسی عادتیں جو علامتیں ہیں روشن خاندانی شرافت پر، وَهُمْ لَا يَجْفَخُونَ بِهَا اس حال میں کہ وہ ان عادتوں پر فخر نہیں کرتے۔
یہاں تک بات ساری سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ بات ہوئی آج تعقید کی، تعقید اس کو کہتے ہیں کہ کلام کی دلالت معنی مراد پر واضح نہ ہو، اس کے اندر خفا ہو، اور پھر یہ خفا جو ہے یہ خلل اور خرابی کی وجہ سے ہوتا ہے کہ ذہن معنی لغوی سے معنی مراد کی طرف منتقل نہیں ہوتا جلدی بھئی، اور یا منتقل ہی نہیں ہوتا سرے سے۔ تو یہ معنی لغوی سے معنی مراد کی طرف جو ذہن منتقل نہیں ہوتا اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں کوئی خلل اور خرابی ہوتی ہے۔ یہ خلل اور خرابی اگر لفظوں کی وجہ سے ہو، مثلاً لفظوں میں تقديم و تاخير کر دی گئی ہے، فصل کر دیا گیا ہے، حذف کر دیا گیا ہے، ایک لفظ کی جگہ دوسرا لفظ ذکر کر دیا گیا ہے، تو یہ تعقید لفظی کہلائے گی۔ اور اگر معنی کی وجہ سے یہ خلل آئے کہ معنی مراد سمجھ میں نہ آئے تو یہ کیا ہے؟ تعقید معنوی ہے بھئی۔ چلیے بس بھئی ھٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔