Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-009

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 04 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 14
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
سبق نمبر۔۹ ووضعف التاليف كون الكلام غير جار على القانون النحوي المشهور كالإضمار قبل الذكر لفظا ورتبة في قوله: جزا بنوه أبا الغيلان عن كبر وحسن فعل كما يجزى سنمار. گزشتہ سبق میں ضعف تالیف کے بارے میں ہم پڑھ رہے تھے۔ آپ نے پڑھا کہ ضعف تالیف اس کو کہتے ہیں کہ کلام مشہور نحوی قانون کے خلاف ہو بھئی، مشہور نحوی قانون کے مطابق نہ ہو۔ میں نے یہاں تفصیل ذکر کی تھی کہ ایک مشہور قانون ہے اور ایک متفق علیہ قانون ہے۔ متفق علیہ قانون تو وہ ہے جس پر سارے بڑے نحوی حضرات کا اتفاق ہو کہ یہ بات اسی طرح ہے۔ اور اس کے خلاف اگر کوئی کرتا ہے تو اس کا کلام فصاحت سے کیا خارج ہونا، وہ تو کلام ہی سرے سے فاسد ہے، وہاں فصاحت اور غیر فصاحت کی بات ہی نہیں، وہ تو کلام ہی کیا ہے سرے سے؟ فاسد ہے، غلط ہے، درست نہیں ہے بھئی۔ ہا البتہ اگر کوئی شخص عربی کلام کرتا ہے اور مشہور نحوی قانون کی مخالفت کرتا ہے، مشہور نحوی قانون کا کیا معنی تھا؟ کہ جس میں اکثر نحویوں کا اتفاق ہو۔ ایک دو چار اگر بڑے نحوی مخالف بھی ہیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن اکثر اس طرف ہیں، وہ اکثر یہی کہتے ہیں کہ یہ بات اسی طرح ہے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ مشہور نحوی قانون۔ تو اگر کلام مشہور نحوی قانون کے خلاف ہو، اس کے مطابق نہ ہو تو کلام فصاحت سے نکل جائے گا، کیونکہ اس کے اندر ضعف تالیف والا عیب آ گیا۔ ضعف تالیف کس کو کہتے تھے؟ کہ کلام مشہور نحوی قانون پر جاری نہ ہو، اس کے خلاف ہو بھئی۔ جیسے اس کی مثال انہوں نے ذکر کی تھی: كالإضمار قبل الذكر لفظا ورتبة، یہاں میں نے آپ کو تفصیل بتلائی تھی کہ ضمیریں تین قسم پر ہیں بھئی، کچھ متکلم کی ضمیریں ہیں، کچھ مخاطب کی ضمیریں ہیں اور کچھ غائب کی۔ متکلم بات کرنے والا، لہذا متکلم جو شخص آدمی بات کر رہا ہے اس کو اپنی ذات کے بارے میں تو کوئی شک و شبہ نہیں، وہاں کسی مرجع وغیرہ کی ضرورت نہیں، جب میں تقریر کر رہا ہوں اور میں یوں کہہ رہا ہوں دیکھو "میں" کا لفظ استعمال کر رہا ہوں، اس "میں" کے اندر کوئی شبہ ہو سکتا ہے اس سے کون مراد ہے؟ انا انا کہتا ہوں، میں، تو یہ انا کے اندر شبہ نہیں ہو سکتا، نہ مجھے کوئی شبہ ہے نہ سننے والے کو شبہ ہوتا ہے، اس کو پتہ ہے یہ کس کی بات کر رہا ہے یہ شخص، اپنی بات کر رہا ہے۔ اور جب میں کہتا ہوں انت یا انتما یا انتم، تو اس میں بھی سننے والے اور کہنے والے کو کسی قسم کا شک و شبہ نہیں بھئی، کیونکہ انت، وہ جو ایک سامنے موجود ہے، اگر دو ہیں تو وہ انتما، وہ دو مراد ہیں، اگر زیادہ ہیں تو انتم مراد ہوگا وغیرہ وہ، انتم سے وہ لوگ مراد ہوں گے۔ تو متکلم میں بھی کوئی اشتباہ نہیں، مخاطب میں بھی کوئی اشتباہ نہیں، ہاں هو هما هم، ان سے کون مراد ہیں؟ هو کی ضمیر اس سے تو کوئی بھی مراد ہو سکتا ہے، زید ہے، عمرو ہے، بکر ہے، خالد ہے، کون ہے؟ اس کے لیے مرجع چاہیے بھئی، تعیین ہو جائے کہ کون مراد ہے۔ معلوم ہوا غائب کی ضمیر کے لیے ہمیشہ مرجع چاہیے، مرجع، اور مرجع کو مقدم ہونا چاہیے، کیا ہونا چاہیے؟ مقدم ہونا چاہیے بھئی، تاکہ جب هو یا ها وغیرہ ضمیر آئے تو فورا پتہ چل سکے کہ اس سے کون مراد ہے، کس کی طرف یہ ضمیر لوٹ رہی ہے۔ تو غائب کی ضمیر کے لیے مرجع چاہیے اور وہ مرجع بھی کیا ہونا چاہیے؟ مقدم ہونا چاہیے بھئی، مقدم ہونا چاہیے۔ پھر یہ جو مقدم ہونا ہے میں نے بتلایا تھا یہ تین قسم پر ہے بھئی۔ مرجع کیا ہوگا؟ مرجع یہ جو میں نے کہا تھا نا کہ لفظا ہوگا یا معنا ہوگا یا حکما ہوگا، یہ مرجع کی صورتیں نہیں ہیں۔ مرجع لفظا ہوگا، مرجع معنا ہوگا، مرجع حکما ہوگا، نہیں ایسا نہیں ہے۔ یہ مقدم ہونے کی صورتیں ہیں۔ یہ مقدم ہونا، یہ لفظا ہوگا، یا یہ مقدم ہونا معنا ہوگا، یا مقدم ہونا کیسے ہوگا؟ حکما ہوگا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو مرجع کا مقدم ہونا ضروری ہے بھئی، مرجع تو چاہیے ہی چاہیے ہر حال میں، اس کے بغیر تو پتہ ہی نہیں چلے گا کبھی بھی، صرف مرجع ہی نہیں چاہیے اس کا مقدم ہونا بھی ضروری ہے اور یہ مقدم ہونا اس کی تین صورتیں ہیں، یا یہ مقدم ہوگا لفظا، یا یہ مقدم ہوگا معنا، یا یہ مقدم ہوگا حکما مقدم ہوگا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ لفظا، معنا، حکما، یہ مرجع کی صورتیں ہیں یا مقدم ہونے کی صورتیں ہیں؟ مقدم ہونے کی صورتیں ہیں بھئی۔ پہلی صورت کیا تھی؟ کہ مرجع مقدم ہوگا لفظا، اس میں میں نے بتلایا تھا دو صورتیں ہیں، مقدم لفظا حقیقۃً ہوگا یا مقدم لفظا، یہ یوں کہیں لفظا تو ہے ہی، لفظا کا کیا معنی؟ تلفظ جس پر ہو رہا ہے، تلفظ ہو رہا ہے بھئی۔ تو حقیقۃً پہلے اس پر تلفظ ہو رہا ہے، پہلے وہ گزرا ہے۔ اور کبھی حقیقۃً اس پر پہلے تلفظ نہیں ہے، یعنی اس کا تقدم حقیقۃً نہیں ہے بلکہ اس کا ذکر لفظوں میں تو بعد میں آ رہا ہے لیکن تقدیراً، رتبے کے اعتبار سے وہ مقدم ہی ہے بھئی۔ جیسے اس کی میں نے مثال ذکر کی تھی بھئی، مثال: ضرب زيد غلامه، ضرب زيد غلامه، اب یہ غلامه کی ها ضمیر کس کو راجع؟ زید کو، اور زید لفظوں میں ہے، اس پر ہم نے تلفظ کیا ہے ضرب زيد، اور مقدم ہے حقیقۃً کیا ہے ضمیر پر؟ مقدم ہے۔ تو اس کو کیا کہیں گے؟ کہ مرجع مقدم ہے لفظا حقیقۃً، لفظا حقیقۃً۔ اب اسی کے اندر ذرا اس کی ترتیب بدل دیں، کیا کہیں؟ ضرب غلامه زيد، اب دیکھیے بھئی یہ غلامه کی ها ضمیر زید کو راجع، اور زید کا لفظ تو مؤخر ہے بھئی، مؤخر ہے، لیکن یہاں کہتے ہیں بھئی نحوی حضرات فرماتے ہیں کہ یہ زید کا لفظ اگرچہ لفظوں کے اعتبار سے دیکھا جائے تو کیا ہے؟ مؤخر ہے، لیکن رتبے کے اعتبار سے یہ مقدم ہے، رتبے کے اعتبار سے، کیونکہ زید کیا بن رہا ہے؟ فاعل، اور غلامه کیا ہے؟ مفعول، اور فعل کے فورا بعد فاعل چاہیے ہوتا ہے، فعل کے آتے ہی فاعل سب سے پہلے کس کا تقاضا کرتا ہے؟ فاعل کا، کہ جس کے ساتھ وہ فعل قائم ہوتا ہے۔ تو زید لفظوں میں اگرچہ اس وقت مؤخر ہے، اور غلامه لفظوں کے اندر اس وقت مقدم ہے، لیکن رتبے کے اعتبار سے گویا کلام یوں ہے: ضرب زيد غلامه۔ رتبے کے اعتبار سے زید کیا ہے غلامه پر؟ مقدم ہے بھئی، تو یہ اسی کو کہیں گے لفظا تقدیراً، تقدیراً مقدم ہے یا یوں کہیں دوسرے لفظوں میں، رتبۃً مقدم ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لفظا تقدیراً مقدم ہونا اور رتبۃً مقدم ہونا یہ دونوں ایک ہی چیز، ایک ہی چیز ہیں بھئی، ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔ کبھی اسی کو کس سے تعبیر کر دیتے ہیں؟ کہ لفظا تقدیراً مقدم ہے، اور کبھی اسی کو کس سے تعبیر کر دیتے ہیں؟ رتبۃً مقدم ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ کیا مثال ذکر کی اس کی میں نے؟ ضرب غلامه زيد، تو زید اگرچہ لفظوں میں مؤخر لیکن دراصل فاعل ہے اور غلامه یہ مفعول ہے، اور پہلے کس کا درجہ ہوتا ہے؟ فاعل کا، تو رتبے کے اعتبار سے گویا زید کا مقام غلامه سے پہلے اور غلامه کا مقام زید کے بعد ہے، تو غلامه کا مقام جب زید کے بعد ہے تو ضمیر بعد میں ہو گئی یا نہیں ہو گئی؟ اور زید پہلے ہو گیا، اور ضمیر لوٹ بھی کس کو رہی تھی؟ زید کو، تو گویا یہاں پر تقدیراً زید کا لفظ کیا ہے؟ مقدم ہے، تقدیراً کیا ہے؟ مقدم ہے، یعنی رتبے کے اعتبار سے مقدم ہے۔ اس کے بعد بات آئی تھی کہ کبھی مرجع جو ہے وہ معنا مقدم ہوگا، جیسے اس کی مثال میں نے ذکر کی: اعدلوا هو أقرب للتقوى، هو ضمیر کس کو راجع؟ عدل کو، عدل کا تو لفظ پیچھے گزرا ہی نہیں، لفظوں میں ہے ہی نہیں، ہاں اعدلوا کے ضمن میں کیا لفظ آیا؟ عدل، اس کے ضمن، اس کے معنی، کیونکہ اعدلوا فعل ہے اور فعل کے اندر مصدر کا معنی پایا جاتا ہے، فعل کے اندر مصدر ہوتا ہے۔ ضرب کے اندر ضربٌ والا معنی ہے، اعدلوا کے اندر عدلٌ والا معنی ہے، عدل کرو۔ تو یہ کیا کہیں گے؟ مرجع کیا ہے؟ معنا مقدم ہے یہاں پر بھئی، معنا مقدم ہے مقدم ہے معنوی اعتبار سے، معنی کے اعتبار سے۔ وﻷبويه لكل واحد منهما السدس، وﻷبويه، أبويه کی ها ضمیر کس کو راجع؟ میت، میت کا تو لفظ پیچھے گزرا ہی نہیں، تو جواب کیا دیتے ہیں؟ کہ یہاں مرجع معنا مقدم ہے، اس لیے کیونکہ میراث کی بات چل رہی ہے، اور میراث وہی ہوتی ہے جہاں پر کوئی میت ہو، کسی کا انتقال ہوا ہو، تو میراث کا ذکر شروع ہوتے ہی گویا کس کا ذکر گزر آ چکا اور گزر چکا؟ میت کا ذکر گزر چکا، تو یہ مقدم ہے مرجع معنا یہاں پر۔ تیسری قسم تھی کہ مرجع مقدم ہو حکماً، حکماً۔ اور یہ جیسے اس کی مثال ضمیر شان اور ضمیر قصہ۔ ضمیر شان اور ضمیر قصہ آپ نحو میں پڑھ چکے ہیں، ایک مبہم ضمیر ہوتی ہے، آگے آنے والا جملہ اس کی تفسیر کرتا ہے۔ ضمیر شان اور ضمیر قصہ کیا ہوتی ہے؟ ایک مبہم ضمیر ہوتی ہے آگے آنے والا جملہ اس کی تفسیر کرتا ہے، اس کا معنی بیان کرتا ہے۔ تو اس کو ضمیر، اگر مذکر کی ضمیر ہو تو ضمیر شان کہتے ہیں، مؤنث کی ہو تو ضمیر قصہ کہتے ہیں، چیز ایک ہی ہیں بس نام ذرا الگ الگ کر دیے، مذکر کے لیے ضمیر شان، مؤنث کے لیے لفظ کیا لائے؟ ضمیر قصہ۔ مثلاً میں کہتا ہوں: إنه زيد قائم، ترکیب بھی آتی ہے یا نہیں بھئی؟ إنه زيد قائم، إن حرف، حروف مشبہ بالفعل، یہ کس کا تقاضا کرتا ہے؟ ایک اسم کا اور ایک خبر کا، اسم کو یہ نصب دیتا ہے خبر کو رفع، اس کے ساتھ ها ضمیر آئی، ها ضمیر آئی، یہ ہے إن کا اسم۔ اب إنه، یہ کیا دیتا ہے إن؟ نصب، آپ یہ نہ کہیں إنه، ها پر تو ہم پیش پڑھ رہے ہیں، بھئی ها ضمیر ہے، ضمیر مبنیات میں سے ہے اور مبنی پر اعراب ظاہر نہیں ہوتا، اعراب معرب پر ظاہر ہوگا، تو یہ تو کیا ہے؟ مبنی ہے، تو پھر اس پر پیش کیوں پڑھ رہے ہیں؟ بھئی یہ اس کی حرکت ہے۔ یہ کیا ہے اس کی؟ اس کی اپنی حرکت ہے، یہ کوئی اعراب نہیں، یہ کوئی إن نے پیش نہیں دیا اس کو، تو إنه، یہ ها ضمیر اس کا اسم۔ آگے زيدٌ، پھر آیا مبتدا، قائمٌ، اس کی خبر، مبتدا خبر مل کر پھر یہ پورا جملہ یہ خبر ہوئی إن کی۔ آپ نے پڑھا ہے، خبر کبھی مفرد ہوتی ہے، زيد قائم، قائمٌ کیا ہے؟ مفرد، اور کبھی پورا جملہ خبر ہوتی ہے جیسے ابھی مثال میں آپ نے دیکھا: إنه زيد قائم، ها کیا ہے؟ إن کا اسم، اور زيد قائم یہ پھر پورا جملہ ہے، اور کون سا جملہ ہے؟ جملہ اسمیہ، اور جملہ اسمیہ میں کیا ہوتے ہیں؟ ایک مبتدا ہوتا ہے ایک خبر، تو زيدٌ ہے مبتدا قائمٌ ہے اس کی خبر، یہ مبتدا خبر مل کر پورا جملہ بنا اور پھر یہ کیا بن گیا؟ خبر بن گیا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ جی، تو یہ اب آپ سے کوئی پوچھے اس کا کیا ترجمہ ہوگا؟ اس کا ترجمہ یوں کریں گے: إنه، بے شک ها ضمیر ضمیر شان ہے، شان یہ ہے، شان کا معنی حال، حال، حالت، حالت یہ ہے، حال یہ ہے، زيد قائم، کہ زید کھڑا ہے۔ بے شک حال یہ ہے کہ زید کھڑا ہے۔ اب آپ سے کوئی پوچھے اس کا ضمیر کا مرجع کیا ہے؟ آپ کہیں گے بھئی یہ ضمیر شان ہے، ضمیر شان کسے کہتے ہیں؟ آگے آنے والا جملہ اس کی تفسیر کرتا ہے، یہ جو آگے جملہ آ رہا ہے نہ زيد قائم، یہ اسی ضمیر کی تفسیر بیان کر رہا ہے، ضمیر سے یہی مراد ہے، ضمیر سے یہی مراد، یہی حالت مراد ہے، یہی حال مراد ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ گویا میں نے جب کہا إنه زيد قائم، میں نے ذہن کے اندر زيد قائم کا تصور کیا، کیا کیا؟ اور پھر إنه، یہ ها ضمیر میں نے اس کی طرف لوٹا دی، وہ جو چیز میرے ذہن میں موجود تھی۔ کس میں موجود تھی؟ ذہن میں جو چیز موجود تھی یہ ها ضمیر میں نے اس کو لوٹا دی، اور پھر چونکہ سننے والے کو تو پتہ نہیں ہے، لہذا فوراً ہی آگے میں اس پورے جملے کو بھی اٹھا کر لے آیا تاکہ فوراً ہی اس کی تفسیر آ جائے، اس کو بھی معنی کا پتہ چل جائے کہ یہ ها ضمیر سے کیا مراد ہے، کس کو لوٹ رہی ہے؟ زيد قائم کو بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ إنه میں کیا ہے؟ ضمیر شان، شان کا کیا معنی؟ حال اور حالت، کیا ترجمہ کریں گے؟ بے شک شان یہ ہے، حال یہ ہے کہ زید کھڑا ہے، اگر اسی میں میں یوں کہوں: إنها زينب قائمة، اب یہ کیا ہے؟ یہ ضمیر قصہ، وہی چیز ہے لیکن صرف مؤنث کی ہے اس لیے اس کو کیا کہیں گے؟ ضمیر قصہ، قصہ یہ ہے، جیسے وہاں تھا حال یہ ہے، کیا قصہ ہے؟ زينب قائمة، زینب قائم کھڑی ہے۔ تو دیکھو، یہ ها ضمیر کا کی تفسیر کون کر رہا ہے؟ آگے آنے والا جملہ زينب قائمة اس کی تفسیر کر رہا ہے۔ اور یاد رکھیے، یہ کیوں کیا جاتا ہے؟ یہاں مرجع لفظوں میں مؤخر ہے آپ دیکھ رہے ہیں۔ ها ضمیر پہلے آئی، آگے کس کو لوٹ رہی تھی؟ زيد قائم کو، وہ بعد میں آیا۔ إنها ها ضمیر پہلے آئی، زينب قائمة کس کو لوٹ رہی تھی؟ اور یہ بعد میں آیا، یہی اس کی تفسیر بیان کر رہا ہے۔ تو ایسا کیوں کیا جاتا ہے؟ دراصل یہاں ایک نقطہ مقصود ہوتا ہے، نقطہ، نقطہ کہتے ہیں کاف چھوٹے کاف کے ساتھ باریک اور گہری بات بھئی، تو یہاں وہ کیا نقطہ ہے؟ کیا گہری بات ہے؟ بھئی یہاں پر دراصل مقصد جو ہے بات کو سننے والے کے ذہن میں اچھی طرح بٹھانا ہوتا ہے۔ میں نے کہا إنه زيد قائم، شان یہ ہے کہ زید کھڑا ہے، بھئی یہ میں ضمیر شان کیوں لایا؟ میرا مقصد کیا ہے؟ تو یاد رکھیے میرا مقصد یہ ہے کہ یہ جو میں بات آپ کو کہنے لگا ہوں نہ زيد قائم، یہ آپ کے ذہن میں اچھی طرح بیٹھ جائے، اگر میں ویسے کہہ دوں زيد قائم، بات تب بھی وہی، یا یوں کہوں إن زيدا قائم، اب بھی بات وہی، اور إنه زيد قائم، اب بھی بات وہی، لیکن فرق پڑ گیا کہ إنه زيد قائم کی صورت میں بات آپ کے ذہن میں اچھی طرح بیٹھ جائے گی، اور إن زيدا قائم کے اندر بات آپ کے ذہن میں اتنی اچھی طرح نہیں بیٹھے گی بھئی۔ احتمال ہے کہ شاید اتنی اچھی طرح آپ کے ذہن میں یہ بات نہ، وجہ یہ، میں جب آپ کو کہتا ہوں إن زيدا قائم، إن زيدا قائم، تو میں آپ سے جب بات کر رہا ہوتا ہوں آپ کے ذہن میں کوئی طلب نہیں ہوتی کہ، کہ یہ والی بات مجھے بتلائے، ہاں جس بات کی آپ کے ذہن میں طلب ہوگی کہ یہ بات بتاؤ بھئی جلدی جلدی، وہ بات آپ پوری توجہ سے سنیں گے کیونکہ آپ کے اپنے دل میں طلب ہے یہ والی بات بتلائے بھئی، تو بغیر طلب کے جب بھی کوئی بات آئے گی وہ ہو سکتا ہے آپ توجہ ہی نہ کریں، لیکن طلب جب ذہن میں ہوگی تو پھر آپ پوری توجہ کریں گے، ایسا ہی ہوتا ہے یا نہیں بھئی؟ بغیر طلب کے بات آئے تو کبھی انسان کی توجہ ہوتی ہے کبھی نہیں ہوتی، لیکن طلب کے ساتھ بات آ رہی ہو، دل میں طلب ہو، پتہ چلے اس بات کا، وہاں پر بات اچھی طرح ذہن میں، آپ پوری طرح متوجہ ہو کر سنیں گے کیونکہ آپ کے اپنے دل میں طلب ہے کہ اس بات کا پتہ چلنا چاہیے بھئی۔ تو لہذا، إن زيدا قائم، یہاں کوئی طلب میں نے آپ کے دل میں پیدا نہیں کی اور ہو سکتا ہے آپ کی توجہ نہ رہے، اور اب بات آپ اچھی طرح آپ کے ذہن میں نہ بیٹھے، ہو سکتا ہے توجہ ہو بھی آپ کی لیکن یہ بھی تو احتمال ہے ہو سکتا ہے آپ کی توجہ نہ ہو بھئی، لیکن جب میں نے کہا إنه زيد قائم، تو جیسے ہی میں نے کہا إنه، غائب کی ضمیر آئی، آپ کی اتنی توجہ نہیں تھی، لیکن جیسے ہی غائب کی ضمیر آئی آپ کی آنکھیں کھل گئیں، کان کھڑے ہو گئے، ذہن متوجہ ہو گیا، غائب کی ضمیر آئی ہے، مرجع تو پیچھے کوئی گزرا نہیں ہے، مرجع تو کوئی پیچھے نہیں گزرا، اس ضمیر کا کیا معنی؟ آپ کے دل میں طلب پیدا ہو گئی، اور طلب کے ساتھ ہی آگے آ گیا زيد قائم، تو وہ بات اچھی طرح آپ کے دل میں، ذہن میں بیٹھ گئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں پر کیا نقطہ مقصود ہوتا ہے؟ یہ ضمیر شان اور ضمیر قصہ میں؟ کہ سامع کے ذہن میں بات اچھی طرح بیٹھ جائے۔ کہیں غفلت میں ویسے ہی نہ بات گزر جائے، وہ غافل ہو۔ تو پہلے ایک مبہم ضمیر لائی جاتی ہے، پہلے اجمال لاتے ہیں، اجمال جس کے اندر تفصیل نہ ہو، پورا پتہ نہ ہو، پہلے اجمال لاتے ہیں إِنَّهُ، اپ نے کہا بھئی یہ ضمیر کس کو راجع ہے، کون مراد ہے؟ آگے ساتھ ہی تفصیل آگئی، اور اجمال کے بعد جب تفصیل آتی ہے تو پھر بات ذہن میں اچھی طرح بیٹھ جاتی ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ ہے ضمیرِ شان اور ضمیرِ قصہ، تو یہاں پر ضمیر لاتے ہی پہلے ہیں، یہاں مرجع پیچھے سے گزرا ہی نہیں ہوتا۔ اور مرجع بعد میں لاتے ہیں جان بوجھ کر، کیونکہ مقصد کیا ہوتا ہے؟ سننے والے کے ذہن میں بات کو اچھی طرح بٹھانا مقصد ہوتا ہے۔ یہ نکتہ، تو اس نکتے کی وجہ سے یہاں ضمیر ہمیشہ مرجع سے پہلے آئے گی، مرجع ہمیشہ بعد میں آئے گا۔ تو اب نحویوں کا تو قانون ٹوٹ رہا ہے، نحویوں نے تو قانون بنایا تھا۔ ہمیشہ مرجع پہلے آنا چاہیے، ضمیر بعد میں آنی چاہیے۔ لیکن یہاں پر چونکہ مجبوری ہے، یہاں تو آنا ہی ضمیر نے پہلے ہے کیونکہ وہ نکتہ مقصود ہے، تو پھر نحویوں نے اس کو اپنے قانون میں داخل کرنے کے لیے کیا کہا؟ کہ یہاں مرجع مقدم ہے حکماً۔ مرجع کیا ہے؟ نحویوں نے کیا قانون بنایا تھا کہ مرجع کو کیا ہونا چاہیے؟ مقدم ہونا چاہیے۔ کیا قانون بنایا تھا؟ مرجع کو ہر حال میں مقدم ہونا چاہیے، اور یہ مقدم کبھی لفظاً ہوگا، کبھی معناً ہوگا۔ لیکن یہاں ان چیزوں میں آکر دیکھا، یاد رکھیے یہ ضمیرِ شان میں بھی اس طرح ہوگا، یہ کوئی چھ جگہ ہیں جہاں پر ضمیر پہلے آتی ہے اور مرجع بعد میں آتا ہے، اور وہاں مقصد یہی ہوتا ہے کہ بات ذہن میں اچھی طرح بیٹھ جائے بھئی، اجمال کے بعد تاکہ تفصیل آئے اس کی بھئی۔ چھ چھ جگہ ہیں، مثلاً نِعْمَ کے اندر ایسا ہوتا ہے، نِعْمَ رَجُلًا، اور اسی طرح تنازعِ فعلین کے باب میں بھی ہوتا ہے، اور اسی طرح یہ ضمیرِ شان میں ہے، اسی طرح رُبَّ کے اندر ہوتا ہے، یا اسی طرح وہ جو مرجع ہوتا ہے وہ بدل واقع ہو رہا ہو ضمیر سے، ضمیر مبدل منہ ہو اور وہ کیا ہو اس سے بدل واقع ہو رہا ہو، یا اسی طرح چھٹی جگہ کہ جہاں پر مبتدا کی تفصیل خبر بیان کر رہی ہو۔ مبتدا کی تفصیل خبر، تو یہ چھ جگہ ہیں بہرحال جہاں پر اضمار قبل الذکر ہوتا ہے بھئی۔ تو نحویوں نے جو قانون بنایا تھا کہ مرجع کو مقدم ہونا چاہیے ہر حال کے اندر تاکہ پتہ چلے ضمیر سے کیا مراد ہے، چاہے وہ مرجع مقدم ہوگا کبھی کیا لفظاً مقدم ہوگا، کبھی معناً مقدم ہوگا، لیکن یہ جو پانچ چھ جگہ آئیں یہاں تو ہمیشہ ضمیر پہلے آتی ہے اور مرجع بعد میں آتا ہے، تو انہوں نے اپنے قانون کے اندر یوں کہیں اس کو داخل کرنے کے لیے، اپنے قانون کو بچانے کے لیے، یہاں پھر وہ یوں کہتے ہیں کہ مرجع مقدم ہے حکماً۔ مرجع کیا ہے؟ مقدم ہے حکماً۔ حکماً کا کیا معنیٰ؟ یعنی یہ حکم لگا دیا گیا کہ مرجع مقدم ہے۔ حقیقت میں کوئی مقدم ہے مرجع؟ نہیں، لیکن یہ حکم ہم نے لگا دیا بس، کیونکہ یہاں مرجع مقدم ہو ہی نہیں سکتا، یہاں مجبوری ہے، یہاں وہ نکتہ ہے کہ بات ذہن میں اچھی طرح بٹھانی ہے، اور بات اچھی طرح ذہن میں تبھی بیٹھے گی جب پہلے اجمال آئے، بعد میں اس کی کیا آئے؟ تفصیل آئے، اور اس کی یہی صورت ہے کہ ضمیر پہلے آنی چاہیے، اس کی تفصیل بعد میں آنی چاہیے، تو لہٰذا یہاں یہ نکتہ مقصود ہے، تو لہٰذا یہاں یوں کہتے ہیں کہ مرجع مقدم ہے حکماً۔ حکماً کا کیا معنیٰ بتلایا میں نے؟ حکم لگایا گیا، حقیقت میں مرجع مقدم نہیں ہے بھئی، حکم لگایا گیا۔ جیسے قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، هُوَ، شان یہ ہے، کیا شان ہے؟ فوراً ہی مرجع پیچھے تھا نہیں، اب ذہن پوری طرح متوجہ ہوا، ساتھ ہی آگیا اللَّهُ أَحَدٌ، اللہ ایک ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو کل گویا یہاں پر چار صورتیں ہوگئیں بھئی مرجع کے مقدم ہونے کی۔ مرجع مقدم ہوگا لفظاً حقیقتاً یا لفظاً تقدیرًا، یا مرجع مقدم ہوگا معناً، یا مرجع مقدم ہوگا حکماً بھئی، حکماً بھئی۔ اب اس کے مقابلے میں اگر کوئی شخص یوں کہے: ضَرَبَ غُلَامُهُ زَيْدًا کیا کہتا ہے؟ ضَرَبَ غُلَامُهُ زَيْدًا غُلَامُهُ ہے فاعل، زَيْدًا ہے مفعول، اور فاعل مقدم ہونا چاہیے یا مفعول مقدم ہونا چاہیے؟ فاعل، تو غُلَامُهُ فاعل ہے وہ مقدم بھی ہے، اور زَيْدًا مفعول ہے اس کو کیا ہونا چاہیے؟ مؤخر، لفظوں میں بھی یہ مؤخر ہے۔ اب غُلَامُهُ کی ہا ضمیر کس کو راجع ہے؟ زید کو۔ تو زید دیکھو مفعول ہے، اور تو یہ اضمار قبل الذکر ہوا۔ یہ کیا ہوا؟ اضمار یعنی ضمیر لانا قبل الذکر، أَيْ قَبْلَ ذِكْرِ الْمَرْجِعِ، مرجع کے ذکر سے پہلے کس کو لے آنا؟ ضمیر کو لے آنا۔ یہاں پر ضمیر مرجع کے ذکر سے پہلے آگئی، اور زید لفظوں میں بھی مؤخر، اور رتبے کے اعتبار سے بھی مؤخر ہے کیونکہ مفعول ہے بھئی، فاعل ہوتا تو ہم اس کو غلام سے پہلے فرض کر لیتے، لیکن یہ تو فاعل بھی نہیں ہے۔ تو یہ اضمار قبل الذکر ہوا لفظاً بھی اور رتبتاً بھی۔ صرف لفظاً ہوتا پھر تو ٹھیک تھا، جیسے کس میں تھا؟ ضَرَبَ غُلَامَهُ زَيْدٌ، اس میں صرف کیا تھا؟ صرف لفظوں کے اعتبار سے مؤخر تھا زید کا، لیکن رتبے کے اعتبار سے کیا تھا؟ مقدم تھا، لیکن ضَرَبَ غُلَامُهُ زَيْدًا، یہاں پر لفظوں کے اعتبار سے بھی زید کا لفظ مؤخر، رتبے کے اعتبار سے بھی مؤخر ہے کیونکہ مفعول واقع ہو رہا ہے، تو یہاں ہر حال میں اضمار قبل الذکر ہی ہے۔ کوئی تاویل اب آپ نہیں کر سکتے، آپ یہ بھی نہیں کہہ سکتے رتبے کے اعتبار سے مقدم ہے، آپ یہ بھی نہیں کہہ سکتے یہ معنوی کے اندر داخل ہے، آپ یہ بھی نہیں کہہ سکتے حکماً ہے کیونکہ یہ حکماً تو چھ جگہ پر ہے، ان کے علاوہ تو نہیں ہے بھئی۔ تو لہٰذا یہ کیا ہوا؟ اضمار قبل الذکر، تو یہ مشہور نحوی قانون کی مخالفت ہوگئی اس کلام کے اندر، لہٰذا یہ فصاحت سے خارج ہوا۔ فاسد تو نہیں کہیں گے، کیونکہ دو چار نحویوں نے اجازت تو دی ہے بڑے نحویوں نے کہ اس طرح بھی جائز ہے، ضَرَبَ غُلَامُهُ زَيْدًا کہنا بھی جائز ہے، تو لہٰذا یہ تو ہم نہیں کہیں گے کہ کلامِ فاسد ہے، ہاں البتہ فصاحت سے خارج ہوگیا۔ تمام تقریباً تقریباً یہ دو تین کو چھوڑ کر باقی سارے بڑے بڑے ائمہِ نحو فرماتے ہیں کہ اس طرح کہنا درست نہیں ہے، تو یہ مشہور نحوی قانون ہوا اور اس کی مخالفت ہوئی، تو یہ کلام فصاحت سے نکل گیا بھئی، اب اس کو فصیح نہیں کہیں گے۔ یہاں تک بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آگئی بھئی؟ اب دیکھیے کتاب پر بھئی: وَالضَّعْفُ فِي التَّأْلِيفِ كَوْنُ الْكَلَامِ غَيْرَ جَارٍ عَلَى الْقَانُونِ النَّحْوِيِّ الْمَشْهُورِ اور ضعفِ تالیف وہ کلام کا مشہور نحوی قانون پر جاری نہ ہونا ہے۔ "غیر" کس لیے آیا؟ نفی کے لیے۔ مشہور نحوی قانون پر جاری نہ ہونا ہے: كَالْإِضْمَارِ قَبْلَ الذِّكْرِ لَفْظًا وَرُتْبَةً جیسے کہ ضمیر کا لانا قبل الذکر، أَيْ ذِكْرِ الْمَرْجِعِ، ضمیر کو لانا مرجع کے ذکر سے پہلے ہی، لفظاً اور رتبتاً بھی۔ فِي قَوْلِهِ کسی شاعر کے اس قول کے اندر: جَزَى بَنُوهُ أَبَا الْغَيْلَانِ عَنْ كِبَرٍ وَحُسْنِ فِعْلٍ كَمَا يُجْزَى سِنِمَّارُ جَزَى بَنُوهُ أَبَا الْغَيْلَانِ، بدلہ دیا بَنُوهُ، ہا ضمیر راجع ہے ابو الغیلان کو جو أَبَا الْغَيْلَانِ آگے آرہا ہے بھئی، یہ ہا ضمیر اس کو راجع ہے۔ اور أَبَا الْغَيْلَانِ یہ لفظوں میں بھی مؤخر، اور رتبے کے اعتبار سے بھی مؤخر، بَنُوهُ یہ فاعل بن رہا ہے جَزَى کے لیے۔ بَنُوهُ کیا ہے؟ فاعل ہے۔ کیونکہ یہ واؤ کے ساتھ آرہا ہے۔ بنون تھا نا بنون، بیٹے، مسلمون کی طرح، حالتِ رفعی میں کس کے ساتھ آئے گا؟ واؤ کے ساتھ۔ حالتِ نصبی جری میں کس کے ساتھ آئے گا؟ مسلمین، بنین، وہاں یا کی صورت میں آئے گا بھئی۔ یہ کس کے ساتھ آیا بنو؟ واؤ کے ساتھ۔ معلوم ہوا یہ مرفوع ہے، اور فعل کے بعد مرفوع آئے وہ کون ہوتا ہے؟ فاعل، تو یہ بَنُوهُ کیا ہے جَزَى کے لیے؟ فاعل۔ اور آگے ہے أَبَا الْغَيْلَانِ، یہ أَبَا منصوب آیا، کیونکہ یہ کس میں سے ہے؟ اسماءِ ستہ مکبرہ موحدہ مضافہ الی غیر یاء المتکلم، اور اس کا اعراب کیا ہوتا ہے؟ حالتِ رفعی میں واؤ کے ساتھ، حالتِ نصبی میں الف، حالتِ جری میں یا کے ساتھ، تو یہاں کس کے ساتھ آیا؟ الف کے ساتھ، معلوم ہوا یہ منصوب یہ مفعول ہے بھئی۔ اب بَنُوهُ یہ فاعل اور أَبَا الْغَيْلَانِ یہ مفعول، بَنُوهُ کی ہا ضمیر راجع ہے أَبَا الْغَيْلَانِ کو، اور أَبَا الْغَيْلَانِ لفظوں میں مؤخر، اور رتبے کے اعتبار سے بھی مؤخر ہے کیونکہ مفعول ہے، تو لہٰذا یہ اضمار قبل الذکر ہوا، یہ کیا ہوا؟ اضمار قبل الذکر۔ تو یہ مشہور نحوی قانون کی مخالفت پائی گئی اس کلام کے اندر، بات سمجھ میں آگئی؟ یہ اسی کی طرح ہے: ضَرَبَ غُلَامُهُ زَيْدًا ضَرَبَ غُلَامُهُ زَيْدًا کی طرح ہی ہے بالکل یہ جو ابھی تفصیل میں نے بیان کی۔ تو جَزَى بَنُوهُ أَبَا الْغَيْلَانِ، ابو الغیلان یہ ایک آدمی کی کنیت ہے بھئی، نام ہے، اور یہ کوئی شخص تھا، اس کے بیٹوں نے اس کے ساتھ اس کو تکلیف وغیرہ دی، اس کا خیال نہیں رکھا، حالانکہ اس نے ان کی اچھی پرورش کی تھی، ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا تھا ہمیشہ بھئی۔ تو شاعر کہتا ہے: جَزَى، جَزَى کا معنیٰ بدلہ دینا، بدلہ دیا بَنُوهُ، ابو الغیلان کے بیٹوں نے، کس کو بدلہ دیا؟ أَبَا الْغَيْلَانِ، ابو الغیلان یعنی اپنے والد کو بدلہ دیا، عَنْ كِبَرٍ، عَنْ بمعنیٰ "بعد" کے ہے، أَيْ بَعْدَ كِبَرٍ، بڑھاپے کے بعد۔ کبر کا معنیٰ بڑا ہونا یعنی بڑا ہو جانے کے بعد یعنی بوڑھا ہو جانے کے بعد۔ ابو الغیلان کے بیٹوں نے اس کو بدلہ دیا بوڑھا ہو جانے کے بعد، وَحُسْنِ فِعْلٍ، اس کا عطف کبر پر ہے، أَيْ بَعْدَ حُسْنِ فِعْلٍ، اچھے فعل کے بعد۔ ابو الغیلان نے تو خود ان کے ساتھ کیا کیا تھا؟ اچھا فعل کیا تھا، ہمیشہ ان کا خیال رکھا تھا، اچھی پرورش کی تھی، تو لیکن جب وہ بوڑھا ہو گیا تو اس کے بوڑھا ہو جانے اور اس کے اچھے افعال کے بعد اس کے بیٹوں نے اس کو بدلہ دیا، كَمَا يُجْزَى سِنِمَّارُ، جیسا کہ بدلہ دیا جاتا ہے کس کو؟ سنمار کو۔ سنمار، سین کے نیچے بھی کسرہ، نون کے نیچے بھی کسرہ، اور میم مشدد ہے، سِنِمَّارُ، سِنِمَّارُ۔ بدلہ دیا ابو الغیلان کو اس کے بیٹوں نے اس کے بوڑھا ہو جانے اور اس کے اچھے فعل کے بعد كَمَا يُجْزَى سِنِمَّارُ، جیسے کہ بدلہ دیا جاتا ہے سنمار کو۔ سنمار یاد رکھیے، یہ آپ کے حاشیے میں تفصیل انہوں نے دی ہوئی ہے کہ یہ ایک رومی آدمی تھا جو تعمیرات کا بڑا ماہر تھا بھئی، یوں کہیں آج کے زمانے میں انجینئر تھا بھئی، بڑا ماہر انجینئر تھا، نام کیا تھا؟ سنمار، اور کہاں کا رہنے والا تھا؟ روم کا، روم کا، یعنی انگریز تھا، کیا تھا؟ انگریز۔ ایک تو یہ انگریز تھا اور روم کا رہنے والا، اور بہت ماہرِ تعمیرات تھا، تو اس کی شہرت جو کوفہ کا بادشاہ تھا بھئی، نعمانِ اکبر انہوں نے آگے نام دیا ہوا ہے، یہ نعمان ابن امرؤ القیس تھا بھئی، نعمان ابن امرؤ القیس اس بادشاہ کا نام نعمانِ اکبر یہ کہلاتا تھا، اور کوفہ کا بادشاہ تھا، اس کے اس کو شہرت پہنچی، اس نے اس کو بلوايا اور کہا کہ میں اپنے لیے ایک محل بنوانا چاہتا ہوں یہاں، ایک ایسا محل جسے لوگ دیکھ کر حیران رہ جائیں اور اس کے حسن و جمال سب کو حیرت میں ڈال دے اور ایک عظیم محل ہو۔ چنانچہ اس نے اس کے لیے کام شروع کر دیا بھئی، اور کہتے ہیں بیس سال لگے بھئی اس محل کو مکمل ہونے میں، اور بڑا زبردست اس کو زبردست محل بنایا کہ جو اس کو دیکھتا تھا تو دیکھ کر حیران رہ جاتا تھا کہ اتنا حسین و جمیل محل بنایا ہے اس نے۔ جب محل بن کر مکمل ہو گیا، اب وہ بادشاہ کو دکھانے کے لیے لایا، بادشاہ نے بھی دیکھا اس کو بڑا پسند آیا بھئی کہ بہت زبردست چیز بنائی ہے، یہ ایسا تو کسی کا محل نہیں ہوگا۔ پھر خیال آیا، یہ نہ ہو، یہ ایسا ہی محل یہ کسی اور کو نہ بنا کر دے دے، چنانچہ حکم دیا اور پھر اس سنمار کو محل کے اوپر سے ہی گرا کر قتل کر دیا گیا بھئی۔ تو ہونا تو یہ چاہیے تھا اس نے اس کے لیے اتنا اچھا محل بنایا تھا کہ جسے کہ جیسا اس کی خواہش تھی بلکہ اس سے بھی بڑھ کر بنایا تھا، اتنا احسان اس نے کیا تھا، اسے بڑے انعامات وغیرہ دیتا، لیکن اس نے کیا کیا؟ اس کے ساتھ اس کے اس کو اس کی زندگی ہی ختم کر دی، اس کو قتل کر دیا۔ تو بعض لوگ ایسے دنیا میں بھئی، یہ دنیا عجیب چیز ہے، دنیا عجیب چیز ہے، انسان حیران رہتا ہے، انسان اس کے لیے کیا کچھ کر گزرتا ہے، صرف اس لیے کہ کوئی کہیں کسی اور کے لیے ایسا نہ بنا دے، بس صرف ذہن میں خیال آگیا اور اس خیال پر اس نے اس کو قتل کر دیا۔ تو عربی میں کہتے ہیں جب کوئی کسی کے ساتھ احسان کرے اور وہ بدلے میں اس کے ساتھ برائی کرے، تو اس عربی میں کہتے ہیں: جَزَاهُ جَزَاءَ سِنِمَّارٍ، اس نے اس کو سنمار جیسا بدلہ دیا جیسا بادشاہ نے کس کے ساتھ کیا تھا؟ سنمار۔ اور یہ محل جو تھا کہتے ہیں جو بنایا، یہ دیکھیے یہ بھی حاشیے میں دیا ہوا ہے: بَنَى الْخَوَرْنَقَ، خورنق محل کا، وَهُوَ قَصْرٌ، یہ محل کا نام تھا بھئی، خورنق۔ خا پر بھی فتحہ، واؤ پر بھی فتحہ، اور را ساکن ہے، نون پر بھی فتحہ، خورنق۔ تو کوئی بہت احسان کے بعد کسی کے ساتھ برائی کرے تو عربی میں کہتے ہیں جَزَاهُ جَزَاءَ سِنِمَّارٍ۔ اب دیکھیے شعر پر: كَمَا يُجْزَى سِنِمَّارُ جیسا کہ بدلہ دیا جاتا ہے سنمار کو۔ جَزَى بَنُوهُ أَبَا الْغَيْلَانِ عَنْ كِبَرٍ وَحُسْنِ فِعْلٍ كَمَا يُجْزَى سِنِمَّارُ بدلہ دیا ابو الغیلان کے بیٹوں نے اس کو اس کے بڑھاپے کے بعد اور اس کے اچھے فعل کے بعد جیسے کہ بدلہ دیا جاتا ہے سنمار کو، یعنی احسان کے بعد کیا کیا اس کے بیٹوں نے؟ اس کے ساتھ برا سلوک کیا والد کے ساتھ بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔