Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-008

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 04 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 18
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
سبق نمبر۔۸ کریم متی امدحہ امدحہ والوری معی و اذا ما لمتہ لمتہ وحدی۔ ‏ و ضعف التالیف کون الکلام غیر جار علی القانون النحوی المشہور كالإضمار قبل الذکر لفظا و رتبۃ۔ بھئی علم بلاغت ہم پڑھ رہے ہیں اور آپ نے پڑھا کہ یہ دراصل تین علوم کا مجموعہ ہے، علم معانی، علم بیان اور علم بدیع بھئی۔ سب سے پہلے مقدمہ میں فصاحت کے بارے میں مصنفین نے ہمیں بتلانا شروع کیا اور بتلایا تھا کہ فصاحت جو ہے اس کے عربی زبان میں کئی معانی آتے ہیں، لیکن ہر معنی کے اندر ظہور پایا جائے گا، یعنی ہر معنی میں ظہور پر دلالت ہوگی۔ اور یہ فصاحت جو ہے، یہ کلمہ کی بھی صفت بنتی ہے، کلام کی بھی صفت بنتی ہے اور متکلم کی بھی صفت بنتی ہے۔ پھر اس کے بعد فصاحت فی الکلمہ کے بارے میں ہم نے پڑھنا شروع کیا تھا اور آپ نے پڑھا کہ کلمہ فصیح تب ہوگا جب وہ تین عیبوں سے خالی ہو، نمبر ایک کیا تھا؟ تنافر حروف، نمبر دو مخالفت القیاس اور نمبر تین غرابت بھئی۔ یہ تین عیب کسی کلمے میں نہ پائے جائیں تو اس کو فصیح کلمہ کہیں گے بھئی۔ اور پھر ان عیبوں کی تفصیل بتلائی تھی کہ تنافر حروف کسے کہتے ہیں؟ کہ کلمے کے اندر ایسے حروف جمع ہو جائیں جس کی وجہ سے اس کی ادائیگی زبان پر ثقیل ہو جائے، مشکل ہو جائے بھئی، نرمی اور روانی سے وہ ادا نہ ہو سکے تو یہ ہے تنافر حروف۔ دوسرا عیب جس سے کلمے کا خالی ہونا ضروری وہ تھا مخالفت القیاس۔ مخالفت القیاس کا کیا معنی تھا؟ کہ کلمہ صرفی قانون کے خلاف ہو، میں نے بتلایا تھا کہ اس سے کیا مراد ہے؟ کہ کلمہ واضع کی وضع کے خلاف ہو یا یوں کہیں عربوں کے استعمال کے خلاف ہو تو یہ ہے مخالفت القیاس، جیسے اجل اجل لام کی تشدید کے ساتھ، اگر اس میں کوئی فک ادغام کرے اور اجلل پڑھے تو یہ اس نے کس طرح استعمال کیا کلمے کو؟ واضع کی وضع کے خلاف یا یوں کہیں عربوں کے استعمال کے خلاف، تو یہ کلمہ فصیح نہیں ہے بھئی اجلل۔ اور تیسرا عیب جو کلمے میں نہیں ہونا چاہیے وہ غرابت ہے بھئی، اور غرابت کس کو کہتے ہیں؟ کہ کلمے کا معنی ظاہر نہ ہو، یعنی کلمہ اپنے معنی پر دلالت نہ کرے بھئی، ہونا تو یہ چاہیے کلمہ بولتے ہی اس کا معنی سمجھ میں آنا چاہیے۔ اور بات ہماری ہی چل رہی، عرب العرباء، خالص عربوں کی بات چل رہی ہے، کیونکہ کلام عرب کے ہم یہ قوانین پڑھ رہے ہیں بھئی، عربی کلمہ خالص عربوں کے سامنے آتا ہے اور انہیں اس لفظ کے معنی کا پتہ نہیں چلتا، معلوم ہوا اس کلمے میں کیا ہے؟ غرابت والا عیب پایا جا رہا ہے، یہ اپنے معنی پر صحیح دلالت نہیں کر رہا۔ پھر غرابت آپ نے پڑھا کہ دو قسم پر ہے، بعض کلمے ایسے ہوں گے کہ ان کا معنی جاننے کے لیے خالص عربوں کو بھی لغت کی کتابوں کی طرف رجوع کرنا پڑے گا، اس لیے کیونکہ وہ کلمہ ہے تو عربی، لیکن اتنا قلیل استعمال ہوتا ہے کہ عام خالص عربوں کو بھی اس کے معنی کا پتہ نہیں چلتا۔ اور دوسری غرابت کی قسم یہ کہ لغت کی کتابوں میں بھی وہ کلمہ نہیں ملتا، کیونکہ عربوں نے کبھی وہ کلمہ اس سے پہلے استعمال ہی نہیں کیا بھئی۔ پھر اس کے بعد فصاحت فی الکلام کی بحث ہم نے شروع کی تھی، مصنفین رحمہم اللہ نے آپ کو بتلایا کہ فصاحت فی الکلام، یعنی کلام میں کلام کے فصیح ہونے کے لیے اس کا بھی تین عیوب سے خالی ہونا ضروری ہے، نمبر ایک تنافر کلمات، نمبر دو ضعف تالیف، نمبر تین تعقید۔ یہ تین عیب نہیں ہونے چاہئیں کلام میں اور ایک چوتھی چیز ہے وہ ہونی چاہیے، وہ کیا؟ مع فصاحۃ کلماتہ، اس کے سارے کلمات فصیح ہونے چاہئیں بھئی۔ تو تین عیب نہ ہوں اور ایک چوتھی چیز ہے وہ ہونی چاہیے، تین عیب کون کون سے؟ تنافر کلمات، ضعف تالیف اور تعقید۔ تنافر کلمات کس کو کہتے تھے؟ کہ ایسے کلمے جمع ہو جائیں کلام کے اندر کہ ان میں سے ہر کلمہ ویسے تو خود فصیح ہے، لیکن جب وہ اکٹھے ہو گئے تو اب ان کی ادائیگی زبان پر ثقیل ہو گئی، دشوار ہو گئی، تو یہ ہے تنافر کلمات۔ اور ضعف تالیف میں نے بتلایا تھا کہ کلام مشہور نحوی قانون کے خلاف ہو بھئی، ترکیب اس کی۔ اور تعقید کہ کلام کی دلالت اپنے معنی مراد پر واضح نہ ہو بھئی، اپنے معنی مراد پر کلام کی دلالت واضح نہ ہو۔ تو گزشتہ سبق کے آخر میں ہم تنافر کلمات کی مثالیں پڑھ رہے تھے، ایک مثال ذکر کی انہوں نے فی رفع عرش الشرع مثلك يشرع۔ اب دیکھیے رفع، عرش اور شرع، یہ تین لفظ، ان میں سے ہر کلمہ فصیح ہے، ہر لفظ فصیح ہے، لیکن جب اکٹھے ہو گئے تو اب زبان پر اس کلام کی ادائیگی دشوار ہو گئی، مشکل ہو گئی، تو یہ کلام کیا ہوا؟ فصاحت سے خارج ہو گیا، اس میں عیب آ گیا تنافر کلمات کا۔ اور دوسری مثال ذکر کی تھی و ليس قرب قبر حرب قبر۔ یہاں پر بھی قرب، قبر، حرب، یہ لفظ اکٹھے ہوئے، اب ان میں سے ہر لفظ فصیح ہے، لیکن جب اکٹھے ہوئے تو اب زبان پر ان کی ادائیگی مشکل ہو گئی، تو تنافر کلمات کا عیب آیا اور یہ کلام کیا ہوا؟ فصاحت سے خارج ہوا، فصاحت سے نکل گیا۔ اس شعر کی تفصیل بیان ہو رہی تھی۔ میں نے بتلایا کہ کہتے ہیں یہ جنات کا شعر ہے بھئی، اور یہ جنات نے حرب ابن امیہ کے بارے میں کہا، اور حرب ابن امیہ یہ والد ہیں حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالی عنہ کے اور دادا ہیں کاتب وحی حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے۔ اور میں نے بتلایا تھا کہ یہ کہیں سفر میں جا رہے تھے اور کہیں کوئی جن وغیرہ جو تھا سانپ کی صورت میں تھا، انہوں نے اس کو قتل کر دیا یا زخمی کر دیا، تو جنات نے بدلے کے طور پر ان پر حملہ کیا اور ان کو قتل کر ڈالا، تو وہی جنگل میں ویرانے کے اندر ان کی قبر بنی اور جنات نے یہ شعر کہا بھئی۔ کہ حرب کی قبر کہاں پر ہے؟ بمکان قفر، بے آب و گیاہ جگہ پر ہے، جہاں نہ پانی ہے نہ سبزہ ہے، و ليس قرب قبر حرب قبر، اور نہیں ہے حرب کی قبر کے قریب کوئی اور قبر، بالکل ویرانے میں اس کی قبر ہے۔ یہ تو تھا مختصر واقعہ بھئی۔ اس سلسلے میں بعض کتابوں میں تفصیلی واقعہ درج ہے کہ حرب ابن امیہ جو تھے، یہ کسی سفر سے واپس آ رہے تھے سوق عکاظ، عکاظ مقام پر ایک میلا لگتا تھا، بہت مشہور میلا عربوں کے اندر، تو وہ سوق عکاظ سے واپس آ رہے تھے، تو راستے میں ایک مقام پر انہوں نے کچھ جھاڑیاں وغیرہ دیکھیں بھئی۔ تو کوئی خاص قسم کی عمدہ جھاڑیاں ہوں گی، تو یہ ساتھیوں سے کہنے لگے کہ بھئی یوں کرتے ہیں مشورہ کیا، کہ اگر ان پودوں کو ہم جلا دیں جھاڑیوں کو اور ان کی جڑیں نکال کر لے جائیں تو ہمارے بڑے کام آئیں گی، چنانچہ انہوں نے وہ جھاڑیوں کو آگ لگا دی تاکہ جھاڑیاں ختم ہو جائیں تو پھر ان کی جڑیں ہم نکال لیں گے۔ کہتے ہیں جب جھاڑیوں کو انہوں نے آگ لگا دی، آہستہ آہستہ آگ پھیلنے لگی، تو جھاڑیوں میں سے سسکیوں کی آوازیں آنے لگیں بھئی، پھر آہستہ آہستہ وہ سسکیاں بڑھنے لگیں اور چیخ و پکار شروع ہو گئی بھئی، وہ جھاڑیاں دراصل جنات کا مسکن تھا بھئی۔ تو چیخ و پکار شروع ہو گئی، آہ و فغاں شروع ہو گئی، لوگ رو رہے ہیں، چیخ و پکار کر رہے ہیں، اور پھر اس جھاڑیوں میں سے سفید سفید رنگ کے سانپ نکلنے لگے اور جھاڑیوں کے گرد فضا میں اڑتے ہوئے چکر لگانے لگے بھئی۔ اور پھر جنات کا یہ مسکن چونکہ انہوں نے جلا دیا تھا، تو پھر جنات نے ان پر حملہ کیا اور ان کو قتل کر دیا کہ انہوں نے ہمارا مسکن جلایا ہے، تو وہی ویرانے میں ان کی قبر بنی اور وہی پر ان کو دفنایا گیا بھئی۔ اسی طرح اسی قسم کا ایک اور ذرا مختلف واقعہ ہے، تاریخ ابن کثیر میں بھی لکھا ہے بھئی۔ تاریخ ابن کثیر میں جلد ۲ صفحہ ۲۲۷ پر لکھا ہے کہ یہ ایک سفر پر جا رہے تھے، حرب ابن امیہ بھئی، اور بھی بہت سے ساتھی ہمراہ تھے، بڑا قافلہ تھا، سفر پر جا رہے ہیں۔ تو حرب ابن امیہ نے کسی سانپ کو قتل کر دیا اور وہ سانپ جن تھا۔ جب اس کو قتل کر دیا، تھوڑا سا آگے چلے تو پیچھے ایک جنیا عورت ظاہر ہوئی بھئی، جو ان لوگوں کو برا بھلا کہہ رہی تھی اور پھر اس کے ہاتھ میں بھی لاٹھی تھی، خوب برا بھلا کہنے کے بعد اس نے زور سے اپنی لاٹھی زمین پر ماری بھئی۔ یہ بڑا قافلہ تھا، ان کے پاس سینکڑوں اونٹ تھے بھئی، جیسے ہی اس نے اپنی لاٹھی زور سے زمین پر ماری، سارے اونٹ بدک گئے بھئی، جس کا جس طرف کو منہ ہوا بھاگ نکلا بھئی۔ بڑی تعداد میں اونٹ تھے، یہ لوگ تو عجیب مصیبت میں پڑ گئے، بڑی مشکل سے اونٹوں کو پھر پکڑا اکٹھا کر کے چل پڑے، تھوڑا سا ہی دور گئے تھے پھر وہی عورت ظاہر ہوئی، پھر ان لوگوں کو برا بھلا کہنے لگی اور پھر اس نے زور سے لاٹھی اپنی زمین پر ماری، پھر سارے اونٹ بدک گئے، ادھر ادھر بھاگ نکلے۔ انہوں نے پھر اونٹوں کو بڑی مشکل سے اکٹھا کیا، تھوڑا سا ہی چلے تھے کہ پھر دوبارہ وہ ظاہر ہوئی اسی طرح اور برا بھلا کہا، زور سے لاٹھی ماری، اونٹ پھر بدک کر بھاگ نکلے۔ تو وہ جب جمع کرتے، کچھ چلتے وہ پھر ظاہر ہوتی، اب یہ لوگ عجیب مصیبت میں پڑ گئے کہ کریں تو کیا کریں بھئی؟ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا، عذاب میں پڑ گئے یہ سارے لوگ بھئی۔ خیر شام کے قریب دور ان کو ایک جگہ آگ جلتی ہوئی نظر آئی اور تو یہ اس آگ کی طرف گئے کہ شاید کوئی مدد کرنے والا مل جائے، کوئی صورت ایسی ہو جائے کہ اس تکلیف اور پریشانی سے ہماری جان چھوٹ جائے، اس آگ کے قریب گئے تو وہاں ایک بہت بوڑھا شخص بیٹھا ہوا تھا اور شاید غالباً وہ بھی جن تھا بھئی۔ تو وہ اس کے پاس گئے اور اس کے ساتھ سامنے سارا ماجرا سنایا کہ اس اس طرح ہوا ہے، اب ہم عجیب مصیبت میں پھنس گئے ہیں، جان ہماری نہیں چھوٹ رہی، کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی، کیسے اس سے پیچھا چھڑائیں اس جنیا عورت سے؟ تو اس نے کہا اس بوڑھے نے کہ اس دفعہ جب وہ عورت ظاہر ہو تو تم کہہ دینا باسمك اللهم۔ باسمك اللهم۔ تو اس دفعہ جب وہ جنیا عورت ظاہر ہو تو تم باسمك اللهم کہہ دینا۔ چنانچہ اس مرتبہ جب وہ عورت ظاہر ہوئی تو انہوں نے، ان میں جو امیہ ابن ابی الصلت ایک بڑا مشہور شاعر اور سردار گزرا ہے عرب کا، تو اس نے زور سے کہا باسمك اللهم۔ باسمك اللهم کہتے ہی وہ عورت جنیا بھاگ گئی بھئی، لیکن پھر مڑ کر جنات نے حملہ کیا اور وہ حرب ابن امیہ جس نے اس سانپ کو قتل کیا تھا اس کو قتل کر ڈالا اور اس کے بعد پھر نہیں آئے بھئی، تو یہ حرب ابن امیہ اس کی قبر جو ہے وہی پر ویرانے میں بنی اور پھر اس پر انہوں نے یہ شعر کہا بھئی۔ تو بعض کہتے ہیں یہ جنات کا شعر ہے بھئی۔ اب آگے دیکھیے کتاب پر بھئی۔ کریم متی امدحہ امدحہ والوری معی و اذا ما لم تہ لم تہ وحدی۔ کریم، شاعر کسی کی تعریف کر رہا ہے، مدح بیان کر رہا ہے۔ کریم کا یاد رکھیے عربی میں یہ لفظ آئے تو اس کے معنی سخی کے بھی کرنا صحیح، اسی طرح اس کے معنی معزز کے بھی ہیں بھئی معزز، کریم وہ ایسا سخی ہے۔ متی امدحہ، جب میں اس کی مدح کرتا ہوں۔ وہ ایسا سخی آدمی ہے کہ جب میں اس کی مدح کرتا ہوں، امدحہ تو میں اس کی مدح کرتا ہوں والوری معی، وری کہتے ہیں مخلوق کو بھئی، کس کو کہتے ہیں؟ مخلوق۔ تو میں اس کی مدح کرتا ہوں والوری معی اس حال میں کہ مخلوق میرے ساتھ ہوتی ہے، یعنی وہ بھی مدح کے اندر میرا ساتھ دیتے ہیں، وہ اتنا سخی آدمی ہے، میں جب بھی اس کی مدح کرنے لگتا ہوں تعریف کرنے لگتا ہوں، تو سارے لوگ میرے ساتھ اس کی تعریف شروع کر دیتے ہیں، کیونکہ وہ اس کی سخاوت اتنی عام ہے کہ صرف مجھی کو فائدہ نہیں ہوا، بلکہ سارے لوگوں تک اس کے فائدے پہنچتے رہتے ہیں، اس کی سخاوت پہنچتی رہتی ہے، لہذا جب میں تعریف کرنے لگتا ہوں تو سارے لوگ بھی کیا کرتے ہیں؟ اس کی تعریف شروع کر دیتے ہیں۔ و اذا ما لم تہ، اور جب میں اس کو ملامت کرتا ہوں، لم تہ لام یلوم سے متکلم کا صیغہ ہے۔ و اذا ما لم تہ، اور جب میں اس کو ملامت کرتا ہوں، یعنی کسی بات پر اگر میں ناراض ہو جاؤں، شاعر کہتا ہے اگر میں کسی بات پر اس ممدوح سے ناراض ہو جاؤں اور اس کو برا بھلا کہنے لگوں، تو لم تہ وحدی، تو میں اکیلا ہی اس کو ملامت کرتا ہوں، یعنی ملامت کرنے میں میرے ساتھ اور کوئی شریک نہیں ہوتا، اس لیے کیونکہ کسی کو تکلیف اس سے پہنچی ہی نہیں ہے، تو کیوں کوئی اس کی ملامت کرے گا؟ تعریف کا موقع آتا ہے تو سارے تعریف شروع کر دیتے ہیں، وہ لوگوں میں اتنا محبوب ہے، لیکن برائی کرو تو کوئی بھی ساتھ نہیں دیتا، ہر ایک اس سے محبت کرتا ہے، اس کی تعریف کرتا ہے، معنی شعر کا سمجھ میں آ گیا؟ ترکیب بھی ذرا سمجھ لیجیے بھئی، کریم متی امدحہ، یہ ہے شرط، توجہ رکھنا بھئی ترکیب پر، متی امدحہ یہ کیا ہے؟ شرط، اور اگلا امدحہ جو ہے یہ جزا ہے، امدحہ والوری معی یہ کیا ہے؟ جزا، متی امدحہ یہ ہے شرط، امدحہ والوری معی یہ ہے جزا، ترجمہ کیسے ہوگا؟ متی امدحہ، جب میں اس کی تعریف کرتا ہوں، آگے جزا آ گئی، امدحہ والوری معی، تو میں اس کی تعریف کرتا ہوں اس حال میں کہ مخلوق معی میرے ساتھ ہوتی ہے۔ اور الورى معي میں یاد رکھیے الورى ہے مبتدا اور معی ہے اس کی خبر، یہ جملہ اسمیہ یہ حال بن رہا ہے بھئی۔ و اذا ما لم تہ، یہاں پر بھی اسی طرح، یہ لم تہ اول جو ہے یہ شرط میں آ رہا ہے، و اذا ما لم تہ یہ ہے شرط، اور جب میں اس کو ملامت کرتا ہوں، آگے جو لم تہ دوسرا آ رہا ہے یہ ہے جزا، لم تہ وحدی، تو میں اکیلا اس کو ملامت کرتا ہوں، معنی سمجھ میں آیا؟ کریم، اب دوبارہ دیکھیے، کریم متی امدحہ امدحہ والوری معی و اذا ما لم تہ لم تہ وحدی، وہ ایسا سخی ہے کہ جب میں اس کی مدح کرتا ہوں تو میں مدح کرتا ہوں اس حال میں کہ مخلوق میرے ساتھ ہوتی ہے، یعنی مدح کرنے میں، و اذا ما لم تہ لم تہ وحدی، اور جب میں اس کو ملامت کرتا ہوں، لم تہ وحدی، تو میں اس کو ملامت کرتا ہوں اس حال میں کہ میں اکیلا ہوتا ہوں۔ یہ تو تھا شعر کا معنی اور مفہوم بھئی، اور یہ شعر مثال ہے تنافر کلمات کی، تنافر کلمات، اب دیکھیے تنافر کلمات کس وجہ سے آ رہا ہے؟ کون سے کلمات کی وجہ سے؟ یہ جو امدحہ آ گیا بھئی امدحہ، اس کلمے کے اندر ح اور ھ جمع ہیں بھئی، ح اور ھ، اور ح اور ھ کے جمع ہونے سے کلمے میں معمولی سا ثقل آ جاتا ہے، معمولی سا ثقل آ جاتا ہے، لیکن کلمہ ابھی بھی فصاحت سے خارج نہیں، معمولی سا ثقل آیا، لیکن فصاحت سے خارج نہیں، تو صرف ح اور ھ کے اجتماع کی وجہ سے یہ کلمہ فصاحت سے خارج نہیں ہوتا، قرآن میں بھی ح اور ھ جمع ہوئے ہیں، تو اگر یہ کہا جائے یہ کلمہ فصاحت سے خارج ہو جاتا ہے تو اس کا تو معنی یہ ہوگا کہ قرآن غیر فصیح کلمے پر مشتمل ہے، حالانکہ قرآن قرآن میں کوئی ایک کلمہ بھی غیر فصیح نہیں ہے، غیر فصیح نہیں ہے بھئی۔ قرآن میں ہے: وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا تو حاء اور حاء اکٹھے ہو رہے ہیں بھئی۔ تو معلوم ہوا حاء اور حاء کا جمع ہونا یہ فصاحت میں مخل نہیں، یعنی فصاحت سے کلمے کو نہیں نکالتا۔ تھوڑا سا ثقل آ جاتا ہے لیکن کلمہ پھر بھی کیا ہے بہرحال؟ ثقیل۔ لیکن یہ جو دوبارہ "امدحہ" آیا، اب ثقل دگنا ہو گیا اور اب اس نے فصاحت سے کلام کو نکال دیا۔ تو ایک "امدحہ" ہوتا تو خیر تھی، لیکن جب دو آئے تو اب ثقل کتنا ہو گیا؟ دگنا ہو گیا، دگنا ہونے کی وجہ سے اب یہ کلام کیا ہوا؟ فصاحت سے خارج۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ تو یہ تنافرِ کلمات کی تیسری مثال انہوں نے ذکر کی بھئی۔ آگے دیکھیے بھئی: وَضَعْفُ التَّأْلِيفِ كَوْنُ الْكَلَامِ غَيْرَ جَارٍ عَلَى الْقَانُونِ النَّحْوِيِّ الْمَشْهُورِ كَالْإِضْمَارِ قَبْلَ الذِّكْرِ لَفْظًا وَرُتْبَةً بھئی ضعفِ تالیف تعریف میں بیان کر چکا ہوں، ضعفِ تالیف کسے کہتے ہیں؟ کہ کلام کا مشہور نحوی قانون کے مطابق نہ ہونا، اس کے خلاف ہونا۔ کلام کا مشہور نحوی قانون کے خلاف ہونا۔ تفصيل یاد رکھیے۔ مشہور نحوی قانون کی بات کی میں نے بھئی، مشہور نحوی قانون کی، ایک ہے متفق علیہ قانون، اجمع علیہ قانون، جس پر سارے بڑے نحوی متفق ہیں، اس کی بات نہیں ہو رہی اس کے خلاف کلام۔ کیونکہ اگر کلام متفق علیہ قانون کے خلاف ہوا پھر تو وہ کلام ہی فاسد ہے، فصاحت اور غیر فصاحت تو چھوڑو، بالکل کلام ہی کیا ہے؟ فاسد ہے، درست نہیں ہے بھئی۔ تو اجمع علیہ قانون کے اس کے خلاف ہو تو فصاحت تو کیا درست ہونے سے بھی کلام نکل جائے گا بھئی۔ تو یہاں کس قانون کی بات ہو رہی ہے؟ مشہور، مشہور نحوی قانون کا معنی یہ ہے کہ جس میں اکثر نحوی کہتے ہیں کہ یہ اسی طرح ہے۔ ہاں چند ایک، ایک دو تین نے کیا کی ہو اس کی؟ مخالفت بھی کی ہو، اکثر کا یعنی اس میں اتفاق ہو نحویوں کا کہ یہ بات اسی طرح ہے۔ اس کو کیا کہیں گے؟ مشہور نحوی قانون، اور ایک دو بڑے نحوی اس کے خلاف ہوں بھئی ایک دو۔ اور اگر سارے اکٹھے ہوں کسی قانون کے بارے میں وہ کس قسم کا قانون ہے؟ متفق علیہ، اور اگر ایک دو مخالف ہوں تو یہ کس قسم کا قانون ہے؟ مشہور، اور یہاں کون سے قانون کی بات ہو رہی ہے؟ مشہور نحوی قانون کے، اس کے خلاف کلام ہو تو فصاحت سے نکل جائے گا، اگرچہ کلام پھر بھی ٹھیک ہے، کیونکہ گنجائش تو ہے چند نحویوں نے تو کہا ہے اس طرح کہنا ٹھیک ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جیسے کہ اضمار قبل الذکر ہے بھئی۔ بھئی نحوی بات آئی، یاد رکھیے ضمیریں آپ نے پڑھا ہے کہ تین قسم کی ہیں: متکلم کی ضمیر ہوگی، یا مخاطب کی ضمیر ہوگی، یا غائب کی۔ اور یاد رکھو متکلم ہے بات کرنے والا، مخاطب جس سے بات کی جائے، اور غائب جس کے بارے میں بات کی جائے۔ تو یہ متکلم اور مخاطب کی ضمیر کا مرجع نہیں ہوتا، کیونکہ متکلم بات کرنے والا ہے۔ میں اب آپ کے سامنے تقریر کر رہا ہوں میں متکلم ہوں، میں کون ہوں؟ متکلم، تو متکلم میں کسی کو اپنے ذات کے بارے میں شبہ ہو سکتا ہے؟ نہیں، اپنے ذات کے بارے میں کیا شبہ؟ اور آپ لوگ میرے مخاطب ہیں، مجھے آپ لوگوں کے بارے میں کوئی شبہ ہو سکتا ہے؟ آپ لوگ ہیں مخاطب بھئی، اس میں کیا شک ہوگا بھئی؟ آپ لوگ میرے سامنے بیٹھے ہیں، میں آپ سے بات کر رہا ہوں۔ تو میں ہوں متکلم، آپ ہوئے مخاطب، ہاں غائب کے بارے میں جب میں بات کروں میں "ہو" کی ضمیر لے کر آؤں گا یا "ہما" لے کر آؤں گا وغیرہ بھئی، اب "ہو" کی ضمیر بھئی "ہو" کے ذریعے تو انسان کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے، کسی اور چیز کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے، "ہو" کا کیا معنی؟ وہ، تو اس کے لیے تعیین ہونی چاہیے۔ اگر انسان کی طرف بھی اشارہ ہے، کون مراد ہے؟ زید مراد ہے، عامر مراد ہے، بکر مراد ہے، کون مراد ہے؟ تو غائب کی ضمیر کے لیے مرجع چاہیے۔ متکلم کی ضمیر کے لیے بھی مرجع کی ضرورت نہیں، مخاطب کی ضمیر میں بھی مرجع کی ضرورت نہیں، لیکن غائب کی ضمیر کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ مرجع ہونا چاہیے بھئی۔ تو غائب کی ضمیر ہمیشہ وہاں آئے گی جہاں مرجع مقدم ہو، غائب کی ضمیر کے لیے مرجع کا مقدم ہونا ضروری ہے۔ غائب کی ضمیر کے لیے مرجع کا مقدم ہونا ضروری، اور یہ مقدم ہونا کبھی لفظاً ہوگا، کبھی معناً ہوگا، کبھی حکماً ہوگا۔ یہ مقدم ہونا مرجع کا کبھی لفظاً ہوگا، کبھی معناً ہوگا، اور کبھی حکماً ہوگا۔ پھر لفظاً کے اندر دو قسمیں ہیں: یا حقیقۃً ہوگا، یا تقدیرًا ہوگا۔ تو کل چار صورتیں بن گئیں۔ اولاً کتنی بھئی؟ غائب کی ضمیر کے لیے مرجع کا مقدم ہونا ضروری، اور یہ مرجع کا مقدم ہونا کتنی قسم پر ہوگا؟ تین قسم پر بھئی دیکھیے، یہ پہلی قسم کیا ہے؟ مرجع لفظاً مقدم ہوگا، دوسری صورت معناً مقدم ہوگا، تیسری صورت حکماً مقدم ہوگا۔ پھر یہ جو پہلی قسم ہے لفظاً، اس کے اندر دو صورتیں ہیں: لفظاً حقیقۃً مقدم ہوگا یا تقدیرًا مقدم ہوگا۔ تو اس میں دو صورتیں بن گئیں، اور دو وہ معناً اور حکماً والی، کل کتنی صورتیں ہو گئیں؟ چار صورتیں ہو گئیں بھئی چار صورتیں۔ بات سمجھ میں آئی؟ مشکل تو نہیں ہے؟ آسان سی بات ہے، غائب کی ضمیر کے لیے مرجع کا مقدم ہونا ضروری، اور مقدم ہونے کی کتنی صورتیں؟ تین، نمبر ایک لفظاً، نمبر دو معناً، نمبر تین حکماً۔ لفظاً کے اندر پھر کتنی قسمیں ہیں؟ دو قسمیں ہیں، یا لفظاً حقیقۃً ہوگا، یا لفظاً تقدیرًا ہوگا بھئی۔ اب ان سب کی مثالیں بھی یاد رکھتے جاؤ بھئی۔ ضمیر آئے گی غائب کی، اور اس کا مرجع مقدم ہوگا، لفظاً حقیقۃً، چار قسمیں بن گئیں نہ؟ چار کے نام یاد رکھنا، پہلے ہے مرجع مقدم ہوگا لفظاً حقیقۃً، پھر مثال آئے گی مرجع مقدم ہوگا لفظاً تقدیرًا، پھر مثال آئے گی مرجع مقدم ہوگا معناً، پھر مثال آئے گی مرجع مقدم ہوگا حکماً، تو چاروں کی مثالیں بھی ہم کر لیں گے بھئی۔ پہلا کیا؟ مرجع مقدم ہو لفظاً حقیقۃً، لفظاً دیکھیے بھئی: ضَرَبَ زَيْدٌ غُلَامَهُ ضَرَبَ زَيْدٌ غُلَامَهُ زید نے پٹائی کی "غلامہ" اپنے غلام کی۔ اب یہ "غلامہ" کے ساتھ "ہ" ضمیر غائب کی آئی، اور یہ ضمیر راجع ہے لفظِ زید کو، کس کو؟ یہ بھئی جو میں مثالیں لکھوا رہا ہوں یہ اپنے سامنے لکھتے جانا بھئی، جلدی حل ہوتا چلا جائے گا بھئی۔ جلدی لکھیے بھئی، یہ چیز آپ کو ہر جگہ کام آئے گی بھئی، ہر کتاب میں آپ کو کام آئے گی۔ اوپر لکھ لیجیے: مرجع مقدم ہو لفظاً حقیقۃً، مرجع مقدم ہو لفظاً حقیقۃً، نمبر ایک دے دیا اس کو ایک نمبر بھئی؟ ایک نمبر کیا ہے؟ مرجع مقدم ہو لفظاً حقیقۃً، مثال اس کے آگے لکھیے: ضَرَبَ زَيْدٌ غُلَامَهُ ضَرَبَ زَيْدٌ غُلَامَهُ لکھ لیا بھئی؟ اب اس پہ نظر رکھو، دیکھو، ترجمہ کیا ہے؟ زید نے پٹائی کی اپنے غلام کی۔ یہ "غلامہ" کے ساتھ کون سی ضمیر آئی؟ غائب کی ضمیر، اور یہ "ہ" ضمیر کس کو راجع؟ زید کو راجع، اور زید ضمیر پر مقدم ہے یا نہیں؟ پہلے آیا نہ؟ مقدم ہے، اور لفظوں میں آیا تو لفظاً ہے، اور حقیقۃً مقدم ہے یا حقیقۃً نہیں مقدم؟ حقیقۃً مقدم ہے، آپ نے پہلے زید پر تلفظ کیا یا نہیں کیا؟ تو مرجع لفظوں میں آیا، آپ اس پر باقاعدہ تلفظ کر رہے ہیں، لفظاً کا کیا معنی؟ جس پر کیا کیا جائے؟ تلفظ کیا جائے، تو تلفظ کیا آپ نے لفظِ زید پر، اور حقیقۃً یہ پہلے "ہ" ضمیر سے پہلے آیا یا نہیں آیا؟ حقیقۃً پہلے یہ آیا ہے بھئی، "غلامہ" تو "ہ" ضمیر تو آخر میں جا کر آئی ہے، زید کا لفظ حقیقۃً مقدم ہے اس پر لفظاً بھئی۔ تو یہ کس کی مثال ہوئی؟ مرجع مقدم ہو لفظاً حقیقۃً، لفظاً کا کیا معنی؟ کہ اس مرجع پر کیا ہو؟ تلفظ ہے باقاعدہ، زید پر آپ نے کیا کیا ہے باقاعدہ؟ تلفظ کیا ہے، اور حقیقۃً یہ مقدم ہے بھئی۔ دوسری قسم لکھیے بھئی: مرجع مقدم ہو لفظاً تقدیرًا، مرجع مقدم ہو لفظاً تقدیرًا۔ بھئی پچھلی مثال میں نے لکھوائی تھی، کیا لکھوائی؟ ضَرَبَ زَيْدٌ، "زید" پہ تنوین ضرور ڈالنا، پتہ چلے یہ فاعل ہے بھئی، پیش پیش۔ اور "غلامہ"، "میم" پر زبر ضرور لکھیے، پتہ چلے یہ مفعول ہے۔ اب دوسری مثال بعینہٖ یہی مثال، یہی اعراب، صرف "غلامہ" کو زید پر مقدم کر دیں: ضَرَبَ غُلَامَهُ زَيْدٌ ضَرَبَ غُلَامَهُ زَيْدٌ اب دیکھیے بھئی، "ضرب" ترکیب دیکھو بھئی، "ضرب" فعل، "غلامہ" یہ مضاف مضاف الیہ ہیں بھئی، اور یہ کیا بن رہا ہے جملے میں؟ فاعل بن رہا ہے یا مفعول بن رہا ہے؟ مفعول ہے، تو یہ مقدم ہے، اور "زید" فاعل ہے، یہ مؤخر ہے بھئی۔ اب یہ "غلامہ" کی "ہ" ضمیر کس کو راجع؟ زید کو، اور زید لفظوں زید پر تلفظ کر رہے ہیں یا نہیں کر رہے آپ؟ تلفظ کر رہے ہیں، تلفظ ہے۔ لیکن زید ضمیر پر مقدم ہے یا مؤخر ہے؟ مؤخر ہے، لفظوں کے اعتبار سے، ظاہر کے اعتبار سے تو مؤخر ہے، لیکن تقدیرًا یہ مقدم ہے بھئی۔ تقدیرًا کیا ہے؟ کیوں مقدم ہے؟ یا یوں کہو دوسرے لفظوں میں، رتبۃً یہ مقدم ہے، رتبۃً کیا ہے؟ کیوں مقدم ہے؟ وجہ یہ کہ زید یہ فاعل ہے، اور فعل کے فوراً بعد فاعل آنا چاہیے بھئی، تو زید لفظوں میں مؤخر ہے، لیکن رتبے کے اعتبار سے اس کا مقام کہاں تھا؟ "غلامہ" سے پہلے، "ضرب" کے فوراً بعد اور "غلامہ" سے پہلے، تو رتبے کے اعتبار سے گویا زید کا وہ مقام ہے، زید کا وہ مقام ہے۔ تو یہاں صرف لفظوں میں مؤخر ہے زید، رتبے کے اعتبار سے مؤخر رتبے کے اعتبار سے تو وہ کہاں ہے؟ "ضرب" کے بعد ہے اور "غلامہ" سے تو رتبے کے اعتبار سے وہ مقدم ہے، اب رتبے کے اعتبار سے مقدم ہے تو مرجع کو کیا ہونا چاہیے تھا؟ مقدم، تو یہ بھی کیا ہے؟ رتبے کے اعتبار سے مقدم ہے، لہٰذا یہ ترکیب صحیح ہے بھئی، یہ ترکیب کیا ہے؟ صحیح ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو یہ لفظاً تقدیرًا کی مثال ہے کہ زید لفظوں میں تو مؤخر ہے، لیکن ہم نے کیا فرض تقدیرًا کا معنی ہے فرض کرنا، ہم نے کیا فرض کر لیا؟ یہ کہاں پر ہے اس وقت؟ "غلامہ" سے پہلے، کیوں فرض کیا؟ کیونکہ فاعل ہے اس کا رتبہ کہ یہ مفعول پر مقدم ہوتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ مثال ہوئی کہ مرجع مقدم ہو لفظاً تقدیرًا۔ تیسری قسم ہے کہ مرجع مقدم ہو معناً، مرجع مقدم ہو معناً، جیسے: اعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى دوسری مثال لکھیے: وَلِأَبَوَيْهِ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ "سین"، "دال"، "سین"، "السدس"، "السدس"۔ اگلے قسم ہے کہ مرجع مقدم ہو حکماً، کہ مرجع مقدم ہو حکماً، اس کی مثال لکھیے: ضمیرِ شان، ضمیرِ شان، جیسے: إِنَّهُ إِنَّهُ زَيْدٌ قَائِمٌ إِنَّهُ زَيْدٌ قَائِمٌ اور ضمیرِ قصہ، اور ضمیرِ قصہ، "ص" کے "ق" دو نقطوں والا، "ص" اور گول "تا" بھئی، ضمیرِ قصہ، جیسے: إِنَّهَا زَيْنَبُ قَائِمَةٌ إِنَّهَا زَيْنَبُ قَائِمَةٌ نیز اسی طرح: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ لکھ لیا بھئی؟ ہاں، بس اب لکھنا بند کریں بھئی، بس اب بات کو سمجھ لیں۔ اب تک یہ بات بیان ہوئی کہ غائب کی ضمیر کے لیے ہمیشہ مرجع چاہیے، اور مرجع بھی مقدم ہونا چاہیے، اور اس کے مقدم ہونے کی چار صورتیں ہیں بھئی، یا تو لفظاً مقدم ہوگا حقیقۃً، یا لفظاً مقدم ہوگا تقدیرًا، یا یوں کہیں رتبۃً مقدم ہوگا رتبۃً، یا مرجع کیا ہوگا؟ مقدم ہوگا معناً، یا مرجع مقدم ہوگا حکماً۔ لفظاً تقدیرًا اور لفظاً حقیقۃً کی مثالیں گزر گئیں بھئی، اب مرجع کبھی مقدم ہوتا ہے معناً، معنیٰ کے اعتبار سے، کس اعتبار سے؟ معنیٰ کے اعتبار سے، جیسے اس کی مثال میں نے آپ کو لکھوائی: "اعدلوا"، "اعدلوا" امر ہے، کیا معنی؟ تم لوگ عدل کرو، اللہ قرآن میں کیا فرماتے ہیں؟ "اعدلوا" تم لوگ عدل کرو، عدل کرو، "ہو اقرب للتقویٰ"، عدل تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ عدل تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ اب یہ "ہو" ضمیر عدل کو راجع ہے، سوال پیدا ہوتا ہے پیچھے تو عدل کا کہیں ذکر نہیں آیا، "اعدلوا" وہ تو فعل ہے بھئی۔ کیا ہے؟ فعل ہے، بات عدل کی چل رہی ہے، لفظِ عدل پیچھے آیا ہے؟ نہیں، تو پیچھے عدل کا لفظ نہیں آیا، تو یہاں جواب کیا دیتے ہیں؟ کہ مرجع معناً مقدم ہے بھئی، یعنی معنیٰ کے اعتبار سے مقدم ہے، یعنی "اعدلوا" بھئی، "اعدلوا" فعل ہے، اور ہر فعل کے اندر مصدر کا معنی پایا جاتا ہے بھئی، "اعدلوا" کیا معنی؟ عدل کرو، دیکھو عدل آ رہا ہے یا نہیں آیا بھئی؟ تو ہر فعل کے اندر کون سا معنی پایا جاتا ہے؟ مصدری معنی پایا جاتا ہے، تو گویا "اعدلوا" کے ضمن میں عدل گزر چکا، عدل مقدم ہو چکا، تو یہاں مرجع معناً مقدم ہے۔ مرجع کیا ہے؟ معناً، یا اسی طرح جیسے دوسری مثال ہے: "ولابویہ"، "ابویہ" "ہ" ضمیر راجع ہے میت کو، اور میت کے والدین جو ہیں ان کے لیے، مسئلہ میراث کا چل رہا ہے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں، اللہ کیا فرماتے ہیں: "ولابویہ" اور اس میت کے جو والدین ہیں "لكل واحد منهما السدس" ان میں سے ہر ایک کے لیے چھٹا حصہ ہے، میراث میں سے ان کو کتنا ملے گا؟ چھٹا حصہ ملے گا۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے "ولابویہ" "ہ" ضمیر تو میت کو راجع، اور پیچھے تو میت کا لفظ نہیں گزرا، پیچھے تو میت کا لفظ نہیں گزرا، تو جواب یہ کہ یہاں میت کا ذکر معنـ معنوی اعتبار سے گزر چکا۔ اس لیے کیونکہ بات چل رہی ہے میراث کی اور میراث وہیں پر تقسیم ہوتی ہے جہاں کیا ہو؟ پہلے کوئی میت ہو بھئی، کسی کا انتقال ہوا ہو بھئی۔ تو یہاں میت لفظوں میں نہیں، لیکن معنوی اعتبار سے گویا کہ میت کا پہلے ہی ذکر ہو چکا۔ جب میراث کی بات شروع ہوئی تو گویا کس کا ذکر آ گیا؟ میت کا گویا آ گیا ذکر۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں بھی ہم کہیں گے، یہ مرجع یہاں پر مقدم ہے معناً یعنی معنوی طور پر۔ یا اسی طرح آپ کتابوں میں دیکھتے ہیں نحو کی کتاب میں پڑھتے پڑھتے، اچانک کوئی غائب کی ضمیر آ جائے گی۔ شرح میں آپ دیکھیں گے شرح والا لکھے گا کہ یہ ضمیر نحویوں کو راجع ہے۔ کس کو راجع؟ نحویوں کو راجع ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھئی پیچھے تو نحوی کا کہیں لفظ ہی نہیں آیا۔ نحو کی کتاب تو ٹھیک ہے لیکن نحویوں کا ذکر تو نہیں آیا پیچھے۔ تو جواب وہ دیتے ہیں کہ بھئی آپ کس چیز کی کتاب پڑھ رہے ہیں؟ نحو کی۔ تو جب نحو کی کتاب پڑھ رہے ہیں تو گویا معنوی طور پر کس کا ذکر ہو گیا؟ علمائے نحو کا ذکر ہو چکا ہے بھئی، کیونکہ یہ مسائل کس نے لکھے ہیں؟ علمائے نحو ہی نے۔ یا عربی زبان کی کوئی بات چل رہی ہوتی ہے، اچانک وہاں غائب کی ضمیر آ جاتی ہے اور وہ پھر آپ کو بتلاتے ہیں کہ یہ غائب کی ضمیر عربوں کو راجع ہے۔ کن کو راجع؟ عربوں کو۔ سوال پیدا ہوتا ہے یہاں تو کہیں عربوں کا ذکر نہیں آیا، تو جواب دیتے ہیں کہ بھئی بات کس کی چل رہی ہے؟ عربی کی۔ جب عربی کی بات چل رہی ہے تو گویا معناً عربوں کا ذکر مقدم ہو چکا۔ تو یہ کس کی مثالیں ہوئیں سارے؟ کہ جہاں ضمیر کا مرجع مقدم ہوگا، معناً مقدم ہو چکا ہے بھئی۔ آگے چوتھی قسم کیا ہے کہ ضمیر کا مرجع مقدم ہو حکماً، حکماً بھئی۔ چلیے بس کرتے ہیں، بس بھئی۔ باقی کل کر لیں گے انشاء اللہ۔ ھٰذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔