Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-007

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 04 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 12
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
سبق نمبر۔۷ وَالْغَرَابَةُ كَوْنُ الْكَلِمَةِ غَيْرَ ظَاهِرَةِ الْمَعْنَى، نَحْوُ: "تَكَأْكَأَ" بِمَعْنَى "اجْتَمَعَ"، وَ"افْرَنْقَعَ" بِمَعْنَى "انْصَرَفَ"، وَ"اطْلَخَمَّ" بِمَعْنَى "اشْتَدَّ". وَفَصَاحَةُ الْكَلَامِ سَلَامَتُهُ مِنْ تَنَافُرِ الْكَلِمَاتِ مُجْتَمِعَةً، وَمِنْ ضَعْفِ التَّأْلِيفِ، وَمِنَ التَّعْقِيدِ مَعَ فَصَاحَةِ كَلِمَاتِهِ. آج ہم غرابت کے بارے میں پڑھیں گے، بھئی! گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا مخالفتِ قیاس اور تنافرِ حروف کے بارے میں۔ تو فصاحتِ کلمہ کی بات چل رہی ہے، اور آپ نے پڑھا کہ کلمہ فصیح تب ہو گا جب اس میں تین عیب نہ پائے جائیں: ایک تنافرِ حروف، اور ایک مخالفتِ قیاس، اور تیسرا غرابت۔ جی، تو یہ آج تیسرا عیب جس سے کلمے کا خالی ہونا ضروری ہے فصیح ہونے کے لیے، وہ غرابت، اس کے بارے میں ہم پڑھیں گے۔ میں آسان لفظوں میں معنی بیان کر چکا ہوں، بھئی! غرابت کسے کہتے ہیں؟ کلمے کی دلالت اپنے معنی پر نہ ہو، واضح نہ ہو، بھئی! اس کو کہتے ہیں: وَالْغَرَابَةُ كَوْنُ الْكَلِمَةِ غَيْرَ ظَاهِرَةِ الْمَعْنَى، غرابت جو ہے وہ کلمے کا غیر ظاہر المعنى ہونا ہے، یعنی کلمے کا معنی ظاہر نہ ہو، کلمے کے معنی کا ظاہر نہ ہونا۔ "غیر" نفی کے لیے آیا۔ وَالْغَرَابَةُ اور غرابت جو ہے كَوْنُ الْكَلِمَةِ غَيْرَ ظَاهِرَةِ الْمَعْنَى کلمے کا ظاہر المعنى نہ ہونا، یعنی اس کا معنی ظاہر نہ ہو۔ نَحْوُ: "تَكَأْكَأَ" بِمَعْنَى "اجْتَمَعَ" جیسے "تَكَأْكَأَ" کا لفظ، یہ "اجْتَمَعَ" کے معنی میں ہے، جمع ہونے کے، اکٹھے ہونے کے۔ "تَكَأْكَأَ" کا کیا معنی؟ جمع ہونا۔ وَ"افْرَنْقَعَ" اور اسی طرح "افْرَنْقَعَ" لفظ ہے، بھئی! یہ بمعنی "انْصَرَفَ" ہے، "انْصَرَفَ" کے معنی میں ہے، بھئی! "انْصَرَفَ"۔ "انْصَرَفَ" کے معنی کیا ہیں؟ پلٹنے کے، پھر جانے کے، پلٹ جانے کے۔ وَ"اطْلَخَمَّ" اور تیسرا لفظ جو غرابت کی مثال، "اطْلَخَمَّ" ہے، بِمَعْنَى "اشْتَدَّ" اس کے معنی سخت ہونا، قوت والا ہونا، بھئی! تو اس کے لیے ایک لفظ "اطْلَخَمَّ" آتا ہے، اور یہ کلمہ غریب ہے۔ تو تین مثالیں ذکر کر دیں غرابت کی: "تَكَأْكَأَ"، "افْرَنْقَعَ"، اور "اطْلَخَمَّ"۔ تو یہ کلمے سب غریب ہیں، یعنی ان کے معنی ظاہر نہیں ہیں، بھئی! اور ظاہر نہ ہونا معنی کا، یہ ہمارے اور آپ کے اعتبار سے نہیں ہے، یہ خالص عربوں کے اعتبار سے ہے، عرب العرباء جو ہیں، خالص عرب ہیں، ان کو بھی اس کلمے کے، یہ کلمات ان کے سامنے آئیں تو ان کو ان کے معنی کا پتہ نہ چلے، معلوم ہوا ان کے اندر کیا ہے؟ غرابت ہے، بھئی! غرابت ہے۔ تو آپ کی اور میری بات نہیں ہو رہی، میرے اور آپ کے لیے تو ہر عربی کا ہر لفظ ہی غریب ہو گا، ہمیں اس کا معنی دیکھنے کے لیے لغت وغیرہ کی طرف رجوع کرنا پڑے گا، معنی کا پتہ نہیں چلے گا۔ تو غرابت تب کہ خالص عرب جن کی زبان ہے، اصل عرب جو ہیں، ان کو بھی لفظ کے معنی کا پتہ نہ چلے تو معلوم ہوا کلمے میں کیا ہے؟ غرابت ہے، بھئی! اس کی اپنے معنی پر دلالت واضح نہیں ہے، اگر یہ اپنے معنی پر دلالت کر رہا ہوتا تو خالص عربوں کو ضرور اس کے معنی کا پتہ چل جاتا، بھئی! لیکن ان کو بھی پتہ نہیں چلا، معلوم ہوا اس میں کیا ہے؟ غرابت ہے، غرابت۔ اور پھر یاد رکھیے، غرابت دو قسم پر ہے، بھئی! دو قسم پر ہے۔ ایک غرابت کی قسم یہ کہ جس میں خالص عربوں کو لغت کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے، خالص عربوں کو بھی اس کا معنی جاننے کے لیے کس کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے؟ وہ لغت کی کتابوں میں دیکھیں گے کہ اس لفظ کا کیا معنی ہے، تو وہاں ان کو وہ لفظ مل جائے گا، کیونکہ وہ لفظ ہے تو عربی ہی، لیکن اتنا قلیل الاستعمال ہے، اتنا تھوڑا استعمال ہوتا ہے کہ خالص عربوں کو بھی وہ بعض اوقات اس کے معنی کا علم نہیں ہوتا، تو لفظ تو عربی ہی ہے لیکن بہت قلیل الاستعمال ہوتا ہے، تو یہ پہلی قسم ہے کلمہ غریب کی، جس کے میں عربوں کو بھی کس کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے؟ لغت کی کتابوں کی طرف۔ اور غرابت کی دوسری قسم جس میں لغت کی کتابوں کی طرف بھی رجوع نہیں ہو سکتا، کیونکہ وہ کلمہ لغت کی کتابوں میں ملتا ہی نہیں، عربوں نے وہ کبھی وہ لفظ استعمال ہی نہیں کیا، بھئی! تو یہ دوسری قسم ہے غرابت کی، بھئی! پہلی قسم جس میں وہ کس کی طرف رجوع کریں؟ لغت، اور دوسری قسم جس میں لغت کی کتابوں کی طرف بھی رجوع نہیں ہو سکتا، کیونکہ لغت کی کتابوں میں بھی وہ لفظ وہ نہیں ملتا، بھئی! تو یہ دو قسمیں ہوئیں غرابت کی، بھئی! اور یہ بھی میں نے بتلا دیا کہ میری اور آپ کی بات نہیں، ہمارے لیے تو ہر کلمہ کیا ہو گا؟ غریب، ہمیں ہر کلمے کا معنی جاننے کے لیے کس کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے؟ لغت کی کتابوں کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے، بھئی! تو یہ خالص عربوں کی بات ہو رہی ہے۔ تو یہاں لفظ آیا "تَكَأْكَأَ" اور "افْرَنْقَعَ"۔ جاحظ، بھئی! عربی زبان کا بہت بڑا ادیب گزرا ہے، بھئی! جاحظ۔ حتیٰ کہ لغتِ عربی کے چوٹی کے چند نام، چوٹی کے چند ادیبوں کے نام جمع کیے جائیں، چار پانچ دس نام جمع کیے جائیں، تو جاحظ کا نام ان میں شامل ہو گا، بھئی! اتنا بڑا ادیب تھا عربی زبان کا، بھئی! لیکن تھے بڑے بدصورت، بھئی! شکل بڑی خوفناک شکل تھی، کہتے ہیں آنکھیں بہت باہر کو نکلی ہوئی ہیں اور ہونٹ بڑے موٹے، اور بڑی خوفناک صورت تھی، بھئی! لیکن اس شکل و صورت کے باوجود اللہ نے ان کو ایسا فضل و کمال نصیب فرمایا تھا کہ سینکڑوں سال گزرنے کے باوجود آج بھی ان کا نام کتابوں کے اندر زندہ ہے، بھئی! اور ادبِ عربی کے اندر وہ اماموں کے اندر ان کا نام شمار ہوتا ہے، میں نے بتایا چوٹی کے چند نام نکالو تو ان کے اندر جاحظ کا نام ضرور شامل ہو گا، بھئی! اتنے بڑے ادیب تھے۔ معلوم ہوا شکل و صورت، لباس وغیرہ، دولت، یہ چیز، ان چیزوں کا کوئی اعتبار نہیں ہے، اصل چیز انسان کے کمالات اور اوصاف ہیں جو اس کے دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی اس کے نام کو دنیا میں باقی رکھتے ہیں، بھئی! تو یہ جاحظ بڑا بہت بڑا ادیب تھا، اور شکل و صورت بڑی خوفناک تھی، میں نے بتایا۔ یہ کہتے ہیں کہ مجھے کبھی کسی نے دھوکہ نہیں دیا سوائے ایک عورت کے، ایک عورت نے مجھے دھوکہ دیا۔ کہتے ہیں: میں بیٹھا ہوا تھا، مطالعے وغیرہ کے اندر مصروف تھا کہ مجھے بتایا گیا کوئی عورت آئی ہے اور وہ آپ سے ملنا چاہتی ہے، اور آپ ہی اس کی مدد کر سکتے ہیں۔ جاحظ نے اجازت دی آنے کی، تو عورت نے کہا کہ آپ میرے ساتھ چلیے، میری ضرورت آپ کے سوا اور کوئی پورا نہیں کر سکتا، تو بڑی منت سماجت وغیرہ کی، تو جاحظ تیار ہو کے اس کے ساتھ چل پڑے، بھئی! کہتے ہیں: وہ عورت شہر کی گلیوں میں مختلف گلیوں سے ہوتی ہوئی بالآخر ایک دکان کے اندر داخل ہوئی، میں بھی اس کے پیچھے دکان میں داخل ہوا، اس نے مجھے دکاندار کے سامنے کھڑا کیا اور کہتی ہے: "اس جیسا۔" میری طرف اشارہ کر کے کیا کہا؟ "اس جیسا۔" یہ کہا اور نکل کے چلی گئی، میں حیران رہ گیا کہ یہ کیا کہا اس نے؟ کیا ہوا؟ میں نے دکاندار سے پوچھا کہ: "کیا بات ہے؟" تو اس نے کہا کہ: "یہ میں بت ساز ہوں، بت بناتا ہوں، مورتیاں وغیرہ بناتا ہوں، اور یہ عورت میرے پاس بڑے عرصے سے آ رہی تھی اور کہتی تھی: 'مجھے شیطان کا بت بنا دو۔' تو میں نے اس کو کہا، بھئی! مجھے تو شیطان کی شکل و صورت کا نہیں پتہ، میں کیسے تمہیں بنا دوں؟ تو وہ تمہیں آج لے آئی کہ اس جیسا بنا دو۔" تو ان کی صورت چونکہ بری بری تھی، خوفناک تھی، اس لیے وہ ان کو لے آئی، میں نے بتایا آنکھیں بڑی ان کے باہر آنکھوں کے ڈیلے باہر کو نکلے ہوئے، ہونٹ موٹے، اسی طرح یہ بادشاہ کے دربار میں آتے جاتے تھے، بڑے علماء میں سے تھے، تو بادشاہ کے دربار میں ان کو آنے جانے کی عام اجازت تھی، تو ایک مرتبہ یہ بادشاہ کے دربار میں گئے۔ تو بادشاہ نے کہا: "اے جاحظ! آج تمہیں انعام نہ دیں؟" جاحظ نے کہا: "کیوں نہیں، حضور!" تو بادشاہ نے کہا: "وہ میری فلاں باندی کو لے کر آؤ۔" تو وہ بادشاہ کی باندی کو ایک کو لے آئے، انتہائی حسین و جمیل باندی۔ بادشاہ نے کہا: "اے جاحظ! یہ باندی جاؤ، آج میں نے تمہیں بخش دی، آج سے تم اس کے مالک ہو۔" اب باندی انتہائی حسین و جمیل، اس نے جب جاحظ کی طرف دیکھا تو زور زور سے رونا شروع کر دیا، چیخیں مار مار کر رونے لگی، اب چپ کروا رہے ہیں، وہ خاموش ہی نہیں ہو رہی۔ بڑی دیر تک روتی رہی، روتی رہی، آخر بادشاہ نے کہا کہ: "بھئی جاحظ! یہ تو رو رہی ہے، یوں کرو چلو اس کی جگہ اگر میں تمہیں کوئی اور چیز دے دوں، کیا تم یہ واپس کرنے کو تیار ہو؟" تو جاحظ نے کہا: "کیوں نہیں، حضور!" چنانچہ بادشاہ نے پھر ان کو کوئی اور ہدیہ وغیرہ دے دیا اور پھر باندی کو اندر محل کے اندر بھیجنے کا حکم دے دیا۔ باندی چلی گئی تو بادشاہ جاحظ کو کہنے لگا کہ: "یہ باندی جو ہے، اس کی کسی بات، کوئی بات مجھے بری لگی تھی، تو میں اس کو تھوڑی سی سزا دینا چاہتا تھا۔ اسی لیے اس کو میں نے کافی دیر تک رونے دیا، فوراً نہیں واپس بھجوایا۔" جاحظ نے کہا: "بادشاہ سلامت! اگر یہ بات تھی تو آپ نے مجھے پہلے بتانا تھا، میں تو جب آپ کے پاس آتا ہوں بڑا تیار ہو کر آتا ہوں، پگڑی باندھتا ہوں، بال سنوارتا ہوں، کپڑے پہنتا ہوں، اگر سزا دینی تھی تو مجھے بتاتے، میں ویسے ہی اٹھ کر آ جاتا، پھر صحیح سزا اس کو ملتی، بھئی!" سمجھ میں آیا، بھئی! معلوم ہوا کہ زندہ دل لوگ تھے، مولانا! زندہ دل، پرواہ بھی نہیں کرتے تھے اس بات کی کہ میری شکل و صورت معمولی ہے، ساری توجہ انہوں نے کس طرف رکھی؟ علم کی طرف رکھی، اور علم نے ان کو بڑے اونچے مقام پر پہنچا دیا۔ اچھا، بات جاحظ کی اس لیے میں نے ذکر کی، بھئی! کہ یہ "تَكَأْكَأَ" اور "افْرَنْقَعَ" کے لفظ آئے ہیں، اور اس کے بارے میں جاحظ نے ایک واقعہ ذکر کیا ہے، بھئی! جاحظ کہتے ہیں: بصرہ کے اندر ایک آدمی تھا جس کا نام ابو علقمہ تھا، ابو علقمہ۔ اور وہ بصرہ کے اندر گلی میں کہیں جا رہا تھا تو اس کو مرگی کا دورہ پڑ گیا، بھئی! اللہ ہم سب کی اس مہلک مرض سے حفاظت فرمائے۔ تو اس کو مرگی کا دورہ پڑا اور وہ وہی گر گیا، اور لوگ سارے اس کے ارد گرد اکٹھے ہو گئے کہ کیا ہوا ہے۔ تو جب اس کو ہوش آیا تھوڑی دیر بعد، تو لوگوں کا ہجوم اپنے ارد گرد دیکھا تو بولا: "مَا لَكُمْ تَكَأْكَأْتُمْ عَلَيَّ كَمَا تَتَكَأْكَؤُونَ عَلَى ذِي جِنَّةٍ؟ افْرَنْقِعُوا عَنِّي!" "مَا لَكُمْ تَكَأْكَأْتُمْ عَلَيَّ كَمَا تَتَكَأْكَؤُونَ عَلَى ذِي جِنَّةٍ؟ افْرَنْقِعُوا عَنِّي!" اب یہ لفظ اس نے کلام کہا، معنی کیا تھا؟ "مَا لَكُمْ" تم لوگوں کو کیا ہوا ہے؟ "تَكَأْكَأْتُمْ عَلَيَّ" کہ تم مجھ پر جمع ہو، سارے اکٹھے ہوئے ہو، "كَمَا تَتَكَأْكَؤُونَ" جیسے تم لوگ جمع ہوتے ہو "عَلَى ذِي جِنَّةٍ" جنون والے پر، جیسے تم جمع ہوتے ہو کسی جنون والے یعنی کسی پاگل پر، بھئی! "ذِي جِنَّةٍ"، "ذُو مَالٍ" کا لفظ، بھئی! "ذُو مَالٍ"، تو اسی کا "ذُو" حالتِ جری میں کیا آیا؟ "ذِي"، اور "جِنَّةٍ" جنون کو کہتے ہیں، بھئی! "ذِي جِنَّةٍ" جنون والا، جیسے "ذُو مَالٍ" مال والا۔ "افْرَنْقِعُوا عَنِّي" مجھ سے دور ہو جاؤ۔ "افْرَنْقَعَ" کے کیا معنی ہیں؟ "انْصَرَفَ"، دور ہو جاؤ، مجھ سے پلٹ جاؤ۔ تو یہ لفظ اس نے کہا، بھئی! کس نے کہا؟ ابو علقمہ نے: "مَا لَكُمْ تَكَأْكَأْتُمْ عَلَيَّ كَمَا تَتَكَأْكَؤُونَ عَلَى ذِي جِنَّةٍ؟ افْرَنْقِعُوا عَنِّي!" یہ اب کلمے تو اس نے کہے، لیکن یہ "تَكَأْكَأَ" کا لفظ آیا، "افْرَنْقَعَ" کا لفظ آیا، ابھی آپ نے پڑھا، ان کے اندر کیا ہے؟ غرابت ہے، خالص عربوں کو بھی ان کے معنی کا پتہ نہیں چلتا، بھئی! تو وہ لوگ سمجھ رہے تھے اس کو کوئی جنات وغیرہ اس پر آئے ہیں۔ تو کہنے لگے، بھئی! اس کا جن تو ہندی زبان میں باتیں کر رہا ہے۔ اب حالانکہ عربی کے الفاظ تھے لیکن ان کو سمجھ میں نہیں آئے، بھئی! تو کیا کہنے لگے؟ ہندی زبان میں اس کا جن باتیں کر رہا ہے۔ تو یہ واقعہ ذکر کیا ہے جاحظ نے، بھئی! تو جاحظ کا ذکر آیا، اس لیے میں نے آپ کو یہ مزید ایک دو واقعات اس کے سنا دیے، بھئی! آگے دیکھیے، بھئی! وَفَصَاحَةُ الْكَلَامِ سَلَامَتُهُ مِنْ تَنَافُرِ الْكَلِمَاتِ مُجْتَمِعَةً، وَمِنْ ضَعْفِ التَّأْلِيفِ، وَمِنَ التَّعْقِيدِ مَعَ فَصَاحَةِ كَلِمَاتِهِ. اور فصاحتِ کلام جو ہے، وَسَلَامَتُهُ وہ اس کلام کا سلامت ہونا ہے، اس کا سالم ہونا ہے مِنْ تَنَافُرِ الْكَلِمَاتِ مُجْتَمِعَةً کس چیز سے سلامت ہو وہ کلام؟ تنافرِ کلمات سے، مُجْتَمِعَةً یہ حال ہے الْكَلِمَاتِ سے، اس حال میں کہ وہ کلمات اکٹھے ہوں۔ تو یعنی وہ کلمات جو اکٹھے ہیں، ان کے تنافر سے کلام سلامت ہونا چاہیے، وہ کلمات جو کلام کے اندر کیا ہیں؟ اکٹھے ہیں، تو وہ جو مجتمع کلمات ہیں، ان کے تنافر، ان میں تنافر نہیں ہونا چاہیے، بھئی! کلام کلمات سے بنے گا، اور اگر وہ کلمات، بھئی دیکھیے! ایک کلام ہے، اس کے لیے کم از کم کتنے کلمات چاہیے؟ دو، تو یہ کلمات ان میں تنافر نہیں ہونا چاہیے۔ چاہے یہ دونوں فصیح ہی کیوں نہ ہوں، مثلاً دو کلمے آئے، یا تین آئے، یا چار آئے، ان چار سے مل کر کیا بن رہا ہے؟ کلام بن رہا ہے، پورا جملہ بن رہا ہے۔ تو پہلی شرط یہ ہے کہ ان کلمات کے اندر تنافر نہ ہو اکٹھے ہونے کی حالت میں۔ "مُجْتَمِعَةً" کس حالت میں؟ اکٹھے ہونے کی حالت میں، اب یہ چاروں اکٹھے ہیں یا نہیں، بھئی کلام کے اندر؟ اکٹھے ہیں، تو اس اکٹھے ہونے کی حالت میں ان کلمات کے اندر تنافر نہیں ہونا چاہیے۔ کیا معنی تنافر؟ وہی پیچھے بات گزر چکی ہے کہ زبان پر ان کی ادائیگی کیا ہو جائے؟ ثقیل ہو جائے، تو یہ ہے تنافرِ کلمات۔ مثلاً یہ چار کلمات آئے، پہلا کلمہ بھی فصیح، دوسرا بھی فصیح، تیسرا بھی فصیح، چوتھا بھی فصیح، کلمات سارے فصیح ہیں، لیکن جب اکٹھے ہو گئے، اب ان کی ادائیگی زبان پر دشوار ہو گئی، تو یہ کلمات اکٹھے ہونے کی حالت میں ان میں کیا پایا جا رہا ہے؟ تنافر پایا جا رہا ہے، یہ ہے تنافرِ کلمات مجتمعۃً، اکٹھے ہونے کی حالت میں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ کلمات بے شک سارے فصیح ہوں کلام کے اندر، لیکن اگر ان کے اکٹھا ہونے کی وجہ سے زبان پر ثقل آتا ہو تو یہ کیا کہلائے گا؟ تنافرِ کلمات، تنافرِ کلمات۔ وَمِنْ ضَعْفِ التَّأْلِيفِ اور کلام کا سالم ہونا ضعفِ تالیف سے۔ ضعفِ تالیف کہتے ہیں کلام کا مشہور نحوی قانون کے خلاف ہونا، کلام کا مشہور نحوی قانون کے خلاف ہونا، یہ ہے ضعفِ تالیف، بھئی! ضعفِ تالیف۔ وہاں پر کیا تھا؟ کلمے کے اندر مخالفت القیاس، وہ تھا صرفی قانون کے خلاف ہونا، اور یہاں پر چونکہ کلام ہے، کلام کے اندر لفظ ایک دوسرے کے ساتھ جڑیں گے، پورا جملہ بنے گا، تو یہ ان میں جو ترکیب کے اعتبار سے لفظ اس طرح جڑنے چاہئیں کہ ان میں کسی مشہور نحوی قانون کی مخالفت نہیں ہونی چاہیے، بھئی! اگر مشہور نحوی قانون کے خلاف ان کو ترتیب دی اور جوڑا، تو یہ اس کلام میں کیا آ جائے گا؟ کون سا عیب؟ ضعفِ تالیف۔ تالیف کا معنی جوڑنا، اکٹھا کرنا۔ ضعف کس کو کہتے ہیں؟ کمزوری کو۔ تو اچھے طریقے سے جوڑا یا کمزور طریقے سے جوڑا؟ کمزور طریقے سے جوڑا اور کمزور طریقے سے جوڑنے کی فصاحت میں گنجائش نہیں ہے بھئی، جب آپ نے فصیح کلام کرنا ہے تو اس کے لیے اس کو اچھے اور عمدہ طریقے سے لفظوں کو آپس میں ان کی ترکیب، ترتیب اچھی ہونی چاہیے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اور تیسرا عیب و من التعقید۔ کلامِ فصیح کے لیے اس کو سالم ہونا چاہیے تعقید سے۔ تعقید بھئی، اسے کہتے ہیں کہ کلام کی اپنے معنی مراد پر دلالت واضح نہ ہو۔ کلمے میں کیا گزرا تھا؟ فصاحتِ کلمہ میں تیسرا عیب کیا ذکر ہوا تھا جس سے خالی ہونا چاہیے؟ غرابت کا کیا معنی تھا؟ کہ کلمہ اپنے معنی پر دلالت اس کی واضح، واضح نہیں ہے وہ اپنے معنی پر دلالت صحیح طرح نہیں کر رہا۔ یہاں بھی اسی طرح ہے، ہاں البتہ یہاں اس کو تعقید کہیں گے۔ کیا کہیں گے؟ تعقید اور یہاں معنی مراد، مراد کا لفظ لے کر آنا بھئی، کلام کی دلالت اپنے معنی مراد پر واضح نہ ہو بھئی معنی مراد پر، کہ اس سے کیا مراد ہے؟ کیا کہنا چاہتا ہے کہنے والا بھئی اس جملے کے ذریعے؟ یہ پتہ نہ چل رہا ہو تو کیا کہیں گے کلام میں کیا ہے؟ تعقید ہے، اس کی دلالت اپنے معنی مراد پر واضح نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آئی؟ کلمے میں کیا تھا؟ غرابت کے اندر، کلمے کی دلالت اپنے معنی پر واضح نہ ہو۔ لیکن یہاں کیا کہیں گے کلام کے اندر؟ کلام کی دلالت اپنے معنی مراد پر واضح نہ ہو بھئی۔ بھئی معنی مراد یہی سمجھ لو آپ، بھئی ایک ہوتا ہے معنی لغوی، ایک ہوتا ہے معنی مراد۔ معنی لغوی، زبان کے اعتبار سے جو ایک ایک لفظ کا مطلب ہو، وہ ہے معنی لغوی اور ایک معنی مراد جس کا ارادہ کیا ہو آپ نے، مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں، میرا ایک ساتھی ہے بڑا بہادر ہے، مثلاً زید نام ہے اس کا، وہ آیا جیسے ہی آیا میں نے کہا شیر آ گیا۔ آپ بھی کہتے ہیں یا نہیں؟ بہادر ساتھی آئے کیا کہتے ہیں آپ؟ شیر آ گیا۔ اب اس کا ایک ہے لغوی معنی، شیر آنے کا لغوی کیا معنی؟ شیر وہ جو ایک درندہ ہے جنگلی وہ آ گیا، حالانکہ وہ مراد ہے؟ نہیں۔ مراد کیا ہے آپ کی؟ بہادر آدمی آ گیا ہے، تو دیکھو معنی لغوی کیا ہے؟ وہ جنگلی درندہ آ گیا ہے اور معنی مراد کیا ہے؟ بہادر آدمی آیا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ ہے کلام کے اندر استعارات، مثالیں وغیرہ اس طرح کی چیزیں اور لفظ ہوتے ہیں ان بعض اوقات ان کا لغوی معنی تو سب کو پتہ ہوتا ہے، لیکن مراد کیا ہے؟ یہ کہنے والا کیا اس نے معنی کا ارادہ کیا ہے؟ اس کا ہمیں پتہ نہیں چلتا۔ تو پھر کیا کہتے ہیں؟ یہ اس کلام کے اندر کیا ہے؟ تعقید ہے۔ لغوی معنی پتہ ہو گا وہاں جتنے لفظ آ رہے ہیں آپ کو ایک ایک لفظ کے معنی کا پتہ ہو گا۔ لیکن کہنے والا کہنا کیا چاہتا ہے؟ کیا بات کہنا چاہتا ہے؟ کیا پیغام دے رہا ہے اس جملے کے اندر؟ وہ ہمیں پتہ نہیں چلتا۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں پھر؟ تعقید کہتے ہیں۔ تو کلام کے لیے فصیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے اندر تعقید بھی نہ ہو، اس کا معنی مراد واضح ہونا چاہیے بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ علمِ بلاغت اور فصاحت آپ پڑھ رہے ہیں بھئی، بڑا پرلطف فن ہے اگر اچھی طرح اور شوق سے اس کو سیکھیں بھئی۔ تو فصاحتِ کلام جو ہے، کلام فصیح کب ہو گا؟ اس کا اس کے لیے ضروری ہے وہ تین عیبوں سے سالم ہو، تین عیبوں سے خالی ہو، تین عیب اس میں نہیں ہونے چاہئیں۔ نمبر ایک تنافرِ کلمات، نمبر دو ضعفِ تالیف اور نمبر تین تعقید بھئی۔ تو تنافرِ کلمات، ضعفِ تالیف اور تعقید، یہ تین عیب نہ ہوں، یہ تین چیزیں نہیں ہونی چاہئیں، نہیں ہونی چاہئیں اور ایک چوتھی چیز ہے وہ ہونی چاہیے پھر کلام فصیح کہلائے گا۔ وہ کیا؟ وہ آگے ذکر کر رہے ہیں، مع فصاحتِ کلماتہِ، ساتھ اس کے کلمات کے فصیح ہونے کے، کہ اس کلام کے سارے کلمات کیا ہونے چاہئیں؟ فصیح ہونے چاہئیں بھئی، ایک بھی کلمہ غیر فصیح آ گیا تو وہ کلام فصاحت سے خارج ہو جائے گا بھئی۔ تو تین چیزوں کا نہ ہونا ضروری، کون کون سی تین چیزیں ہیں؟ تنافرِ کلمات، ضعفِ تالیف اور تعقید، یہ نہیں ہونی چاہئیں اور چوتھی چیز ہونی چاہیے وہ کیا ہے؟ فصاحتِ کلمات، یعنی اس کے سارے کلمات کیا ہونے چاہئیں؟ فصیح ہونے چاہئیں بھئی سارے کلمات۔ تو مع فصاحتِ کلماتہِ، یہ حال واقع ہو رہا ہے، حال واقع ہو رہا ہے۔ مجتمعةً یہ بھی حال تھا تنافرِ کلمات کلمات کے اکٹھے ہونے کی حالت میں کیا ہو؟ تنافر۔ ترجمہ سمجھ میں آیا کہ نہیں آیا بھئی؟ میں اسے بار بار کر رہا ہوں بھئی، یہ مجتمعةً حال واقع ہے کس سے؟ کلمات سے، تنافرِ کلمات ان کلمات کے اکٹھے ہونے کی حالت میں، یہ عیب نہ ہو اور اس سے وہ سالم ہو اور ضعفِ تالیف سے سالم ہو اور تعقید سے سالم ہو مع فصاحتِ کلماتہِ اس حال میں کہ وہ کلام اپنے کلمات کے فصاحت کے ساتھ ہو، یعنی اس کے سارے کلمات کس قسم کے ہوں؟ فصیح ہوں۔ تو مع فصاحتِ کلماتہِ، یہ حال واقع ہو رہا ہے سلامتہُ کی ہا ضمیر سے اور سلامتہُ کی ہا ضمیر کلام کو راجع ہے، سلامتہُ أي سلامة الكلامِ، کلام کا سلامت ہونا اس حال میں کہ مع فصاحتِ کلماتہِ ساتھ اس کے کلمات کے فصیح ہونے کے بھئی فصیح ہونے کے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو تنافرِ کلمات مجتمعةً کیا معنی کیا میں نے؟ کلام کو سالم ہونا چاہیے کس سے؟ کلمات کے اکٹھے ہونے کی حالت میں تنافر سے، اکٹھے ہونے کی حالت میں تنافر سے، تو اکٹھے ہونے کی حالت میں ان میں تنافر نہیں ہونا چاہیے۔ فالطنافر وصف فی الکلام یوجب ثقلہ علی اللسان وعسراً نطق بہ۔ فالطنافر جو ہے وہ وصف ہے کلام کے اندر، ایسا وصف ہے کلام کے اندر یوجب أي یثبت، ایسا وصف ہے کلام میں جو ثابت کرتا ہے ثقلہ علی اللسان، اس کلام کا زبان پر ثقیل ہونا وعسراً نطق بہ، یہ کیا ہے؟ عطفِ تفسیری ہے، تو زبان پر ثقیل ہونے کا کیا معنی؟ اس پر بولنا مشکل ہو، دشوار ہو، اس پر تکلم مشکل ہو۔ عطفِ تفسیری یاد ہے کہ بھول گئے بھئی؟ کس کو کہتے ہیں؟ جس میں معطوف معطوف علیہ کا معنی بیان کرے، وعسراً نطق بہ یہ کس کا معنی بیان کر رہا ہے؟ ثقلہ علی اللسان، زبان پر ثقل کو ثابت کرتا ہے، بھئی زبان پر ثقیل ہونے کا کیا معنی؟ آگے تفصیل کر دی کہ اس پر تکلم کیا ہوتا ہے؟ دشوار ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں فالطنافر وصف فی الکلام یوجب ثقلہ علی اللسان وعسراً نطق بہ۔ یاد رکھیے یہ وصفٌ موصوف ہے، یوجب یہ صفت ہے اس کی، یہ کیا ہے؟ صفت ہے۔ اور یہ بات شاید گزشتہ اسباق میں کبھی میں نے بیان کی ہو کہ نکرہ کے بعد فعل آئے تو وہ عموماً اس کے لیے صفت بنتا ہے، تو وصفٌ ہے نکرہ۔ وصفٌ کیا ہے؟ نکرہ اور آگے آ رہا ہے یوجب، فعل آیا، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ بنتا ہے اور جملہ نکرہ کے حکم میں ہوتا ہے، تو نکرہ کے بعد نکرہ آ گیا اور نکرہ کے بعد نکرہ آئے تو وہ آپس میں عموماً کیا بنتے ہیں؟ موصوف صفت اور موصوف صفت کا ترجمہ کہ موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی کا لفظ لے آؤ، تو موصوف کون ہے؟ وصفٌ، اس سے پہلے کیا لفظ لے آؤ؟ ایسا۔ اب دیکھیے ترجمہ، فالطنافر وصف فی الکلام، پس تنافر جو ہے وہ ایسا وصف ہے کلام میں یوجب ثقلہ علی اللسان، جو ثابت کرتا ہے اس کلام کے ثقیل ہونے کو زبان پر وعسراً نطق بہ، اور اس پر تکلم کے دشوار ہونے کو۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ نحو مثال کے طور پر فی رفعِ عرشِ الشرعِ مثلُک یشرعُ، یہ ایک مصرع یہ الگ ہے، ولَیْسَ قُرْبَ قَبْرِ حَرْبٍ قَبْرُ، یہ دوسرا مصرع، یہ شعر نہ سمجھ لینا پورا بھئی، یہ ایک شعر نہیں ہے، فی رفعِ عرشِ الشرعِ مثلُک یشرعُ یہ الگ مصرع ہے کسی اور شعر کا، ولَیْسَ قُرْبَ قَبْرِ حَرْبٍ قَبْرُ یہ کسی اور شعر کا مصرع ہے بھئی۔ اب دیکھیے فی رفعِ عرشِ الشرعِ مثلُک یشرعُ، رفعٌ کا لفظ آیا یہ فصیح کلمہ ہے، عرشٌ کا لفظ آیا یہ فصیح کلمہ ہے، الشرعُ کا لفظ آیا یہ فصیح کلمات ہیں، لیکن جب یہ اکٹھے ہوئے تو اکٹھے ہونے کی حالت میں ان میں تنافر آ گیا، اب زبان پر ان کی ادائیگی ثقیل ہو گئی۔ ان میں سے ہر کلمہ خود فصیح کلمہ ہے، لیکن جب اکٹھے ہوئے تو اس حالت میں زبان پر ان کی ادائیگی کیا ہو گئی؟ ثقیل، فی رفعِ عرشِ الشرعِ بھئی، اس کی زبان پر ثقل آتا ہے ادا کرتے ہوئے اور کس وجہ سے یہ ثقل آیا؟ کیا ان کلموں کے اندر کوئی عیب پایا جا رہا ہے؟ نہیں، بلکہ کس وجہ سے عیب آ رہا ہے؟ اکٹھے ہونے کی وجہ سے اب زبان پر ادائیگی دشوار ہو رہی ہے بھئی۔ تو یہاں تنافرِ کلمات ہے اور تنافرِ کلمات کا پتہ کس سے چلے گا؟ یہ بات پیچھے بیان ہو چکی، جیسے تنافرِ حروف کا پتہ کس سے چلتا تھا؟ ذوق سے، ذوق بتلاتا تھا اور ذوق میں نے بتلایا تھا کہ انسان کے اندر ایک صلاحیت اور قوت اللہ نے رکھی ہوتی ہے جس کے ذریعے وہ اچھی اور ردی چیز، اچھی اور خراب چیز کے درمیان فرق کر لیتا ہے بھئی فوراً ہی۔ تو یہاں پر بھی یہ تنافرِ کلمات کا پتہ کس سے چلے گا؟ ذوق سے پتہ چلے گا بھئی ذوق سے اور ذوق آپ کا میرا ذوق نہیں مراد بھئی، خالص عربوں کا ذوق مراد ہے، ہمارے ہم تو بڑے مشکل سے مشکل لفظ بھی اردو میں آپ بولتے ہیں اور زبانوں کے، کبھی بوجھ محسوس ہوتا ہے؟ انگریزی کے لفظ تو عام ہی استعمال ہوتے ہیں، کوئی بوجھ محسوس، پتہ بھی نہیں چلتا بھئی۔ تو یہ خالص عربوں کی بات ہو رہی ہے، وہ جب ان لفظ کو اس لفظ کو ادا کرتے ہیں تو ان کا ذوق فوراً ان کو بتلا دیتا ہے کہ یہاں زبان پر اس جملے کی ادائیگی اب آسانی اور نرمی سے نہیں ہو رہی، معلوم ہوا کچھ ثقل آ رہا ہے۔ پھر یہ ثقل مختلف قسم کا ہو سکتا ہے، کسی میں ثقل تھوڑا ہو گا، کسی میں ثقل جیسے وہاں پر ھعخع کے اندر انتہا درجے کا ثقل تھا اور باقی لفظوں میں اس سے کم، یہاں پر بھی اسی طرح ہو گا، کسی میں ثقل زیادہ ہو گا، کسی میں ثقل کم ہو گا۔ تو کہتے ہیں فی رفعِ عرشِ الشرعِ مثلُک یشرعُ، رفعٌ کا معنی اونچا کرنا، عرش کہتے ہیں تخت کو، شرع شریعت بھئی، شرع کس کو کہتے ہیں؟ شریعت بھئی، فی رفعِ عرشِ الشرعِ شریعت کے تخت کو بلند کرنے میں مثلُک تیرے جیسے لوگ جو ہیں، یشرعُ، یشرعُ کے مختلف معانی آتے ہیں، جو بھی آپ یہاں مناسب سمجھیں کر سکتے ہیں۔ شریعت کے تخت کو اونچا کرنے میں تیرے جیسے لوگ شروع ہو جاتے ہیں، شرع یشرع کا ایک معنی کیا ہے؟ شروع کرنا۔ شاعر کسی کی تعریف کر رہا ہے کہ تم جیسے بڑے لوگ کیا کرتے ہیں؟ وہ شریعت کے تخت کو اونچا کرنے کے کام میں لگ جاتے ہیں، ان کی کوشش ہوتی ہے کہ دین کی سربلندی ہو ہر مقام پر بھئی دین کی۔ يا شرع یشرع کے ایک معنی ہیں حق کو ظاہر کرنا اور باطل کو مٹا دینا، تو یہ یہ بھی ترجمہ کر سکتے ہیں، شریعت کے تخت کو اونچا کرنے کے سلسلے میں تیرے جیسے لوگ یشرعُ وہ کیا کرتے ہیں؟ حق کو ظاہر کرتے ہیں، باطل کو مٹاتے ہیں، حق کو ظاہر کرنا اور باطل کو مٹانا۔ تو شریعت کے تخت کو اونچا کرنے کے سلسلے میں تیرے جیسے لوگ کیا کرتے ہیں؟ حق کو ظاہر کرتے ہیں، یعنی ہر معاملے میں حق ہی پر رہتے ہیں، چاہے اپنا ذاتی نقصان ہی کیوں نہ ہو رہا ہو، کس لیے؟ مقصد کیا ہوتا ہے کہ ہر حال میں دین سربلند رہے، ہماری ذاتی خواہشات اور وغیرہ جو ہیں ان پر دین کو کبھی بھی ترجیح نہیں دیتے بلکہ دین کو ہمیشہ مقدم رکھتے ہیں۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ ولَیْسَ قُرْبَ قَبْرِ حَرْبٍ قَبْرُ اور نہیں ہے قربَ قبرِ حربٍ، حرب کی، حرب ایک آدمی کا نام ہے بھئی حرب، اور مراد ہیں حرب ابنِ امیہ جو والد ہیں ابو سفیان رضی اللہ تعالی عنہ کے اور دادا ہیں کاتبِ وحی حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے بھئی۔ تو یہ حرب سے کون مراد ہے؟ حرب ابنِ امیہ جو حضرت ابو سفیان کے والد اور حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہما کے دادا تھے بھئی، ان کا نام حرب تھا۔ حرب کی قبر کے قریب نہیں ہے، ولَیْسَ قُرْبَ قَبْرِ حَرْبٍ، حرب کی، یہ سارے مضاف مضاف الیہ ہیں، ترجمہ آخر سے ہو گا بھئی، حرب کی قبر کے قریب نہیں ہے قبرُ کوئی قبر، حرب کی قبر کے پاس کوئی قبر نہیں ہے، کوئی قبر نہیں ہے۔ اور نیچے حاشیے میں پہلا مصرع بھی دیا ہوا ہے، وقبرُ حربٍ بمکانٍ قفرٍ، اور حرب کی قبر بمکانٍ قفرٍ، قفر کہتے ہیں ایسی جگہ جہاں گھاس، پودے وغیرہ کچھ نہ ہو، بالکل بے آب و گیاہ میدان ہو، جگہ ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ قفر کہتے ہیں، تو کہتے ہیں حرب کی قبر پانی اور سبزے سے خالی جگہ کے اندر ہے جہاں نہ پانی ہے نہ سبزہ وغیرہ ہے ولَیْسَ قُرْبَ قَبْرِ حَرْبٍ قَبْرُ اور نہیں ہے حرب کی قبر کے قریب کوئی اور قبر، اس کی قبر ویرانے میں ہے جہاں اور کوئی قبر نہیں۔ تو دیکھیے یہاں پر قرب یہ لفظ خود فصیح ہے، قبر یہ لفظ بھی کیا ہے؟ فصیح ہے، حرب یہ لفظ بھی فصیح ہے، لیکن جب یہ سارے اکٹھے ہو گئے، اب زبان پر اس کی ادائیگی ثقیل ہو گئی، ولَیْسَ قُرْبَ قَبْرِ حَرْبٍ قَبْرُ روانی سے ادا کرنا مشکل ہو گیا، کلام کے اندر ثقل آ گیا، تو یہ کون سا عیب ہے؟ کیا کہلاتا ہے؟ تنافرِ کلمات کہلاتا ہے، تنافرِ کلمات بھئی۔ تو دیکھیے ان میں سے ہر کلمہ خود تو فصیح ہے، لیکن اکٹھے ہونے کی حالت میں ان کے اندر کیا آ گیا؟ تنافر آ گیا تنافر، اور میں نے بتلایا یہ حرب ابنِ امیہ کے بارے میں شعر ہے اور کہتے ہیں یہ شعر جنات کا ہے بھئی، جنات نے یہ شعر کہا بعض جنوں نے۔ اور یہ حرب ابنِ امیہ کے بارے میں آتا ہے کہ یہ کہیں جا رہا تھا سفر کے اندر تھا اور وہاں کوئی سانپ اس کو نظر آیا بھئی اور اس تو اس سانپ کو اس نے مار ڈالا، تو اس کو مار ڈالا یا اس کو کہیں زخمی کر دیا اور وہ سانپ دراصل جن تھا بھئی، تو وہ جن تھا، یہ جنات وغیرہ جو ہیں عموماً سانپ کی صورت میں ہوتے ہیں، اسی لیے کہتے ہیں اگر کوئی سانپ آئے اور تو اس کو مارنے سے پہلے تین دفعہ اس کو یہ کہہ دینا چاہیے کہ اگر تو جن ہے تو یہاں سے چلا جا ورنہ میں تجھے قتل کر دوں گا۔ تو وہ جن تھا بھئی اور پھر ان جنات نے حملہ کیا اور حرب ابنِ امیہ کو قتل کر دیا، تو وہ سفر کے اندر صحرا کے اندر ویرانے کے اندر وہاں ان کو قتل کیا اور وہی ان کی قبر بنی اور پھر اسی پر انہوں نے یہ شعر کہا کہ حرب کی قبر جو ہے ایسی جگہ پر ہے جہاں نہ پانی ہے اور نہ سبزہ ہے اور اس کی قبر کے آس پاس کوئی اور قبر بھی نہیں ہے بھئی نہیں ہے۔ تو جنات عموماً کس کی صورت میں ہوتے ہیں؟ سانپ کی صورت میں، لہذا ان کو مارتے ہوئے ان سے پہلے ان کو متنبہ کر دے کہ اگر جن ہے تو یہاں سے چلا جائے، چلا جائے۔ چنانچہ بھئی، حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کے بھئی شاہ اہل اللہ رحمہ اللہ جو بڑے نیک انسان تھے، بڑے ولی اللہ انسان تھے، وہ انہوں نے تو یہ اس کلام میں کیا آ جائے گا؟ کون سا عیب؟ ضعفِ تالیف۔ تالیف کا معنی جوڑنا، اکٹھا کرنا۔ ضعف کس کو کہتے ہیں؟ کمزوری کو۔ تو اچھے طریقے سے جوڑا یا کمزور طریقے سے جوڑا؟ کمزور طریقے سے جوڑا اور کمزور طریقے سے جوڑنے کی فصاحت میں گنجائش نہیں ہے بھئی، جب آپ نے فصیح کلام کرنا ہے تو اس کے لیے اس کو اچھے اور عمدہ طریقے سے لفظوں کو آپس میں ان کی ترکیب، ترتیب اچھی ہونی چاہیے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اور تیسرا عیب و من التعقید۔ کلامِ فصیح کے لیے اس کو سالم ہونا چاہیے تعقید سے۔ تعقید بھئی، اسے کہتے ہیں کہ کلام کی اپنے معنی مراد پر دلالت واضح نہ ہو۔ کلمے میں کیا گزرا تھا؟ فصاحتِ کلمہ میں تیسرا عیب کیا ذکر ہوا تھا جس سے خالی ہونا چاہیے؟ غرابت کا کیا معنی تھا؟ کہ کلمہ اپنے معنی پر دلالت اس کی واضح، واضح نہیں ہے وہ اپنے معنی پر دلالت صحیح طرح نہیں کر رہا۔ یہاں بھی اسی طرح ہے، ہاں البتہ یہاں اس کو تعقید کہیں گے۔ کیا کہیں گے؟ تعقید اور یہاں معنی مراد، مراد کا لفظ لے کر آنا بھئی، کلام کی دلالت اپنے معنی مراد پر واضح نہ ہو بھئی معنی مراد پر، کہ اس سے کیا مراد ہے؟ کیا کہنا چاہتا ہے کہنے والا بھئی اس جملے کے ذریعے؟ یہ پتہ نہ چل رہا ہو تو کیا کہیں گے کلام میں کیا ہے؟ تعقید ہے، اس کی دلالت اپنے معنی مراد پر واضح نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آئی؟ کلمے میں کیا تھا؟ غرابت کے اندر، کلمے کی دلالت اپنے معنی پر واضح نہ ہو۔ لیکن یہاں کیا کہیں گے کلام کے اندر؟ کلام کی دلالت اپنے معنی مراد پر واضح نہ ہو بھئی۔ بھئی معنی مراد یہی سمجھ لو آپ، بھئی ایک ہوتا ہے معنی لغوی، ایک ہوتا ہے معنی مراد۔ معنی لغوی، زبان کے اعتبار سے جو ایک ایک لفظ کا مطلب ہو، وہ ہے معنی لغوی اور ایک معنی مراد جس کا ارادہ کیا ہو آپ نے، مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں، میرا ایک ساتھی ہے بڑا بہادر ہے، مثلاً زید نام ہے اس کا، وہ آیا جیسے ہی آیا میں نے کہا شیر آ گیا۔ آپ بھی کہتے ہیں یا نہیں؟ بہادر ساتھی آئے کیا کہتے ہیں آپ؟ شیر آ گیا۔ اب اس کا ایک ہے لغوی معنی، شیر آنے کا لغوی کیا معنی؟ شیر وہ جو ایک درندہ ہے جنگلی وہ آ گیا، حالانکہ وہ مراد ہے؟ نہیں۔ مراد کیا ہے آپ کی؟ بہادر آدمی آ گیا ہے، تو دیکھو معنی لغوی کیا ہے؟ وہ جنگلی درندہ آ گیا ہے اور معنی مراد کیا ہے؟ بہادر آدمی آیا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ ہے کلام کے اندر استعارات، مثالیں وغیرہ اس طرح کی چیزیں اور لفظ ہوتے ہیں ان بعض اوقات ان کا لغوی معنی تو سب کو پتہ ہوتا ہے، لیکن مراد کیا ہے؟ یہ کہنے والا کیا اس نے معنی کا ارادہ کیا ہے؟ اس کا ہمیں پتہ نہیں چلتا۔ تو پھر کیا کہتے ہیں؟ یہ اس کلام کے اندر کیا ہے؟ تعقید ہے۔ لغوی معنی پتہ ہو گا وہاں جتنے لفظ آ رہے ہیں آپ کو ایک ایک لفظ کے معنی کا پتہ ہو گا۔ لیکن کہنے والا کہنا کیا چاہتا ہے؟ کیا بات کہنا چاہتا ہے؟ کیا پیغام دے رہا ہے اس جملے کے اندر؟ وہ ہمیں پتہ نہیں چلتا۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں پھر؟ تعقید کہتے ہیں۔ تو کلام کے لیے فصیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے اندر تعقید بھی نہ ہو، اس کا معنی مراد واضح ہونا چاہیے بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ علمِ بلاغت اور فصاحت آپ پڑھ رہے ہیں بھئی، بڑا پرلطف فن ہے اگر اچھی طرح اور شوق سے اس کو سیکھیں بھئی۔ تو فصاحتِ کلام جو ہے، کلام فصیح کب ہو گا؟ اس کا اس کے لیے ضروری ہے وہ تین عیبوں سے سالم ہو، تین عیبوں سے خالی ہو، تین عیب اس میں نہیں ہونے چاہئیں۔ نمبر ایک تنافرِ کلمات، نمبر دو ضعفِ تالیف اور نمبر تین تعقید بھئی۔ تو تنافرِ کلمات، ضعفِ تالیف اور تعقید، یہ تین عیب نہ ہوں، یہ تین چیزیں نہیں ہونی چاہئیں، نہیں ہونی چاہئیں اور ایک چوتھی چیز ہے وہ ہونی چاہیے پھر کلام فصیح کہلائے گا۔ وہ کیا؟ وہ آگے ذکر کر رہے ہیں، مع فصاحتِ کلماتہِ، ساتھ اس کے کلمات کے فصیح ہونے کے، کہ اس کلام کے سارے کلمات کیا ہونے چاہئیں؟ فصیح ہونے چاہئیں بھئی، ایک بھی کلمہ غیر فصیح آ گیا تو وہ کلام فصاحت سے خارج ہو جائے گا بھئی۔ تو تین چیزوں کا نہ ہونا ضروری، کون کون سی تین چیزیں ہیں؟ تنافرِ کلمات، ضعفِ تالیف اور تعقید، یہ نہیں ہونی چاہئیں اور چوتھی چیز ہونی چاہیے وہ کیا ہے؟ فصاحتِ کلمات، یعنی اس کے سارے کلمات کیا ہونے چاہئیں؟ فصیح ہونے چاہئیں بھئی سارے کلمات۔ تو مع فصاحتِ کلماتہِ، یہ حال واقع ہو رہا ہے، حال واقع ہو رہا ہے۔ مجتمعةً یہ بھی حال تھا تنافرِ کلمات کلمات کے اکٹھے ہونے کی حالت میں کیا ہو؟ تنافر۔ ترجمہ سمجھ میں آیا کہ نہیں آیا بھئی؟ میں اسے بار بار کر رہا ہوں بھئی، یہ مجتمعةً حال واقع ہے کس سے؟ کلمات سے، تنافرِ کلمات ان کلمات کے اکٹھے ہونے کی حالت میں، یہ عیب نہ ہو اور اس سے وہ سالم ہو اور ضعفِ تالیف سے سالم ہو اور تعقید سے سالم ہو مع فصاحتِ کلماتہِ اس حال میں کہ وہ کلام اپنے کلمات کے فصاحت کے ساتھ ہو، یعنی اس کے سارے کلمات کس قسم کے ہوں؟ فصیح ہوں۔ تو مع فصاحتِ کلماتہِ، یہ حال واقع ہو رہا ہے سلامتہُ کی ہا ضمیر سے اور سلامتہُ کی ہا ضمیر کلام کو راجع ہے، سلامتہُ أي سلامة الكلامِ، کلام کا سلامت ہونا اس حال میں کہ مع فصاحتِ کلماتہِ ساتھ اس کے کلمات کے فصیح ہونے کے بھئی فصیح ہونے کے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو تنافرِ کلمات مجتمعةً کیا معنی کیا میں نے؟ کلام کو سالم ہونا چاہیے کس سے؟ کلمات کے اکٹھے ہونے کی حالت میں تنافر سے، اکٹھے ہونے کی حالت میں تنافر سے، تو اکٹھے ہونے کی حالت میں ان میں تنافر نہیں ہونا چاہیے۔ فالطنافر وصف فی الکلام یوجب ثقلہ علی اللسان وعسراً نطق بہ۔ فالطنافر جو ہے وہ وصف ہے کلام کے اندر، ایسا وصف ہے کلام کے اندر یوجب أي یثبت، ایسا وصف ہے کلام میں جو ثابت کرتا ہے ثقلہ علی اللسان، اس کلام کا زبان پر ثقیل ہونا وعسراً نطق بہ، یہ کیا ہے؟ عطفِ تفسیری ہے، تو زبان پر ثقیل ہونے کا کیا معنی؟ اس پر بولنا مشکل ہو، دشوار ہو، اس پر تکلم مشکل ہو۔ عطفِ تفسیری یاد ہے کہ بھول گئے بھئی؟ کس کو کہتے ہیں؟ جس میں معطوف معطوف علیہ کا معنی بیان کرے، وعسراً نطق بہ یہ کس کا معنی بیان کر رہا ہے؟ ثقلہ علی اللسان، زبان پر ثقل کو ثابت کرتا ہے، بھئی زبان پر ثقیل ہونے کا کیا معنی؟ آگے تفصیل کر دی کہ اس پر تکلم کیا ہوتا ہے؟ دشوار ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں فالطنافر وصف فی الکلام یوجب ثقلہ علی اللسان وعسراً نطق بہ۔ یاد رکھیے یہ وصفٌ موصوف ہے، یوجب یہ صفت ہے اس کی، یہ کیا ہے؟ صفت ہے۔ اور یہ بات شاید گزشتہ اسباق میں کبھی میں نے بیان کی ہو کہ نکرہ کے بعد فعل آئے تو وہ عموماً اس کے لیے صفت بنتا ہے، تو وصفٌ ہے نکرہ۔ وصفٌ کیا ہے؟ نکرہ اور آگے آ رہا ہے یوجب، فعل آیا، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ بنتا ہے اور جملہ نکرہ کے حکم میں ہوتا ہے، تو نکرہ کے بعد نکرہ آ گیا اور نکرہ کے بعد نکرہ آئے تو وہ آپس میں عموماً کیا بنتے ہیں؟ موصوف صفت اور موصوف صفت کا ترجمہ کہ موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی کا لفظ لے آؤ، تو موصوف کون ہے؟ وصفٌ، اس سے پہلے کیا لفظ لے آؤ؟ ایسا۔ اب دیکھیے ترجمہ، فالطنافر وصف فی الکلام، پس تنافر جو ہے وہ ایسا وصف ہے کلام میں یوجب ثقلہ علی اللسان، جو ثابت کرتا ہے اس کلام کے ثقیل ہونے کو زبان پر وعسراً نطق بہ، اور اس پر تکلم کے دشوار ہونے کو۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ نحو مثال کے طور پر فی رفعِ عرشِ الشرعِ مثلُک یشرعُ، یہ ایک مصرع یہ الگ ہے، ولَیْسَ قُرْبَ قَبْرِ حَرْبٍ قَبْرُ، یہ دوسرا مصرع، یہ شعر نہ سمجھ لینا پورا بھئی، یہ ایک شعر نہیں ہے، فی رفعِ عرشِ الشرعِ مثلُک یشرعُ یہ الگ مصرع ہے کسی اور شعر کا، ولَیْسَ قُرْبَ قَبْرِ حَرْبٍ قَبْرُ یہ کسی اور شعر کا مصرع ہے بھئی۔ اب دیکھیے فی رفعِ عرشِ الشرعِ مثلُک یشرعُ، رفعٌ کا لفظ آیا یہ فصیح کلمہ ہے، عرشٌ کا لفظ آیا یہ فصیح کلمہ ہے، الشرعُ کا لفظ آیا یہ فصیح کلمات ہیں، لیکن جب یہ اکٹھے ہوئے تو اکٹھے ہونے کی حالت میں ان میں تنافر آ گیا، اب زبان پر ان کی ادائیگی ثقیل ہو گئی۔ ان میں سے ہر کلمہ خود فصیح کلمہ ہے، لیکن جب اکٹھے ہوئے تو اس حالت میں زبان پر ان کی ادائیگی کیا ہو گئی؟ ثقیل، فی رفعِ عرشِ الشرعِ بھئی، اس کی زبان پر ثقل آتا ہے ادا کرتے ہوئے اور کس وجہ سے یہ ثقل آیا؟ کیا ان کلموں کے اندر کوئی عیب پایا جا رہا ہے؟ نہیں، بلکہ کس وجہ سے عیب آ رہا ہے؟ اکٹھے ہونے کی وجہ سے اب زبان پر ادائیگی دشوار ہو رہی ہے بھئی۔ تو یہاں تنافرِ کلمات ہے اور تنافرِ کلمات کا پتہ کس سے چلے گا؟ یہ بات پیچھے بیان ہو چکی، جیسے تنافرِ حروف کا پتہ کس سے چلتا تھا؟ ذوق سے، ذوق بتلاتا تھا اور ذوق میں نے بتلایا تھا کہ انسان کے اندر ایک صلاحیت اور قوت اللہ نے رکھی ہوتی ہے جس کے ذریعے وہ اچھی اور ردی چیز، اچھی اور خراب چیز کے درمیان فرق کر لیتا ہے بھئی فوراً ہی۔ تو یہاں پر بھی یہ تنافرِ کلمات کا پتہ کس سے چلے گا؟ ذوق سے پتہ چلے گا بھئی ذوق سے اور ذوق آپ کا میرا ذوق نہیں مراد بھئی، خالص عربوں کا ذوق مراد ہے، ہمارے ہم تو بڑے مشکل سے مشکل لفظ بھی اردو میں آپ بولتے ہیں اور زبانوں کے، کبھی بوجھ محسوس ہوتا ہے؟ انگریزی کے لفظ تو عام ہی استعمال ہوتے ہیں، کوئی بوجھ محسوس، پتہ بھی نہیں چلتا بھئی۔ تو یہ خالص عربوں کی بات ہو رہی ہے، وہ جب ان لفظ کو اس لفظ کو ادا کرتے ہیں تو ان کا ذوق فوراً ان کو بتلا دیتا ہے کہ یہاں زبان پر اس جملے کی ادائیگی اب آسانی اور نرمی سے نہیں ہو رہی، معلوم ہوا کچھ ثقل آ رہا ہے۔ پھر یہ ثقل مختلف قسم کا ہو سکتا ہے، کسی میں ثقل تھوڑا ہو گا، کسی میں ثقل جیسے وہاں پر ھعخع کے اندر انتہا درجے کا ثقل تھا اور باقی لفظوں میں اس سے کم، یہاں پر بھی اسی طرح ہو گا، کسی میں ثقل زیادہ ہو گا، کسی میں ثقل کم ہو گا۔ تو کہتے ہیں فی رفعِ عرشِ الشرعِ مثلُک یشرعُ، رفعٌ کا معنی اونچا کرنا، عرش کہتے ہیں تخت کو، شرع شریعت بھئی، شرع کس کو کہتے ہیں؟ شریعت بھئی، فی رفعِ عرشِ الشرعِ شریعت کے تخت کو بلند کرنے میں مثلُک تیرے جیسے لوگ جو ہیں، یشرعُ، یشرعُ کے مختلف معانی آتے ہیں، جو بھی آپ یہاں مناسب سمجھیں کر سکتے ہیں۔ شریعت کے تخت کو اونچا کرنے میں تیرے جیسے لوگ شروع ہو جاتے ہیں، شرع یشرع کا ایک معنی کیا ہے؟ شروع کرنا۔ شاعر کسی کی تعریف کر رہا ہے کہ تم جیسے بڑے لوگ کیا کرتے ہیں؟ وہ شریعت کے تخت کو اونچا کرنے کے کام میں لگ جاتے ہیں، ان کی کوشش ہوتی ہے کہ دین کی سربلندی ہو ہر مقام پر بھئی دین کی۔ يا شرع یشرع کے ایک معنی ہیں حق کو ظاہر کرنا اور باطل کو مٹا دینا، تو یہ یہ بھی ترجمہ کر سکتے ہیں، شریعت کے تخت کو اونچا کرنے کے سلسلے میں تیرے جیسے لوگ یشرعُ وہ کیا کرتے ہیں؟ حق کو ظاہر کرتے ہیں، باطل کو مٹاتے ہیں، حق کو ظاہر کرنا اور باطل کو مٹانا۔ تو شریعت کے تخت کو اونچا کرنے کے سلسلے میں تیرے جیسے لوگ کیا کرتے ہیں؟ حق کو ظاہر کرتے ہیں، یعنی ہر معاملے میں حق ہی پر رہتے ہیں، چاہے اپنا ذاتی نقصان ہی کیوں نہ ہو رہا ہو، کس لیے؟ مقصد کیا ہوتا ہے کہ ہر حال میں دین سربلند رہے، ہماری ذاتی خواہشات اور وغیرہ جو ہیں ان پر دین کو کبھی بھی ترجیح نہیں دیتے بلکہ دین کو ہمیشہ مقدم رکھتے ہیں۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ ولَیْسَ قُرْبَ قَبْرِ حَرْبٍ قَبْرُ اور نہیں ہے قربَ قبرِ حربٍ، حرب کی، حرب ایک آدمی کا نام ہے بھئی حرب، اور مراد ہیں حرب ابنِ امیہ جو والد ہیں ابو سفیان رضی اللہ تعالی عنہ کے اور دادا ہیں کاتبِ وحی حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے بھئی۔ تو یہ حرب سے کون مراد ہے؟ حرب ابنِ امیہ جو حضرت ابو سفیان کے والد اور حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہما کے دادا تھے بھئی، ان کا نام حرب تھا۔ حرب کی قبر کے قریب نہیں ہے، ولَیْسَ قُرْبَ قَبْرِ حَرْبٍ، حرب کی، یہ سارے مضاف مضاف الیہ ہیں، ترجمہ آخر سے ہو گا بھئی، حرب کی قبر کے قریب نہیں ہے قبرُ کوئی قبر، حرب کی قبر کے پاس کوئی قبر نہیں ہے، کوئی قبر نہیں ہے۔ اور نیچے حاشیے میں پہلا مصرع بھی دیا ہوا ہے، وقبرُ حربٍ بمکانٍ قفرٍ، اور حرب کی قبر بمکانٍ قفرٍ، قفر کہتے ہیں ایسی جگہ جہاں گھاس، پودے وغیرہ کچھ نہ ہو، بالکل بے آب و گیاہ میدان ہو، جگہ ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ قفر کہتے ہیں، تو کہتے ہیں حرب کی قبر پانی اور سبزے سے خالی جگہ کے اندر ہے جہاں نہ پانی ہے نہ سبزہ وغیرہ ہے ولَیْسَ قُرْبَ قَبْرِ حَرْبٍ قَبْرُ اور نہیں ہے حرب کی قبر کے قریب کوئی اور قبر، اس کی قبر ویرانے میں ہے جہاں اور کوئی قبر نہیں۔ تو دیکھیے یہاں پر قرب یہ لفظ خود فصیح ہے، قبر یہ لفظ بھی کیا ہے؟ فصیح ہے، حرب یہ لفظ بھی فصیح ہے، لیکن جب یہ سارے اکٹھے ہو گئے، اب زبان پر اس کی ادائیگی ثقیل ہو گئی، ولَیْسَ قُرْبَ قَبْرِ حَرْبٍ قَبْرُ روانی سے ادا کرنا مشکل ہو گیا، کلام کے اندر ثقل آ گیا، تو یہ کون سا عیب ہے؟ کیا کہلاتا ہے؟ تنافرِ کلمات کہلاتا ہے، تنافرِ کلمات بھئی۔ تو دیکھیے ان میں سے ہر کلمہ خود تو فصیح ہے، لیکن اکٹھے ہونے کی حالت میں ان کے اندر کیا آ گیا؟ تنافر آ گیا تنافر، اور میں نے بتلایا یہ حرب ابنِ امیہ کے بارے میں شعر ہے اور کہتے ہیں یہ شعر جنات کا ہے بھئی، جنات نے یہ شعر کہا بعض جنوں نے۔ اور یہ حرب ابنِ امیہ کے بارے میں آتا ہے کہ یہ کہیں جا رہا تھا سفر کے اندر تھا اور وہاں کوئی سانپ اس کو نظر آیا بھئی اور اس تو اس سانپ کو اس نے مار ڈالا، تو اس کو مار ڈالا یا اس کو کہیں زخمی کر دیا اور وہ سانپ دراصل جن تھا بھئی، تو وہ جن تھا، یہ جنات وغیرہ جو ہیں عموماً سانپ کی صورت میں ہوتے ہیں، اسی لیے کہتے ہیں اگر کوئی سانپ آئے اور تو اس کو مارنے سے پہلے تین دفعہ اس کو یہ کہہ دینا چاہیے کہ اگر تو جن ہے تو یہاں سے چلا جا ورنہ میں تجھے قتل کر دوں گا۔ تو وہ جن تھا بھئی اور پھر ان جنات نے حملہ کیا اور حرب ابنِ امیہ کو قتل کر دیا، تو وہ سفر کے اندر صحرا کے اندر ویرانے کے اندر وہاں ان کو قتل کیا اور وہی ان کی قبر بنی اور پھر اسی پر انہوں نے یہ شعر کہا کہ حرب کی قبر جو ہے ایسی جگہ پر ہے جہاں نہ پانی ہے اور نہ سبزہ ہے اور اس کی قبر کے آس پاس کوئی اور قبر بھی نہیں ہے بھئی نہیں ہے۔ تو جنات عموماً کس کی صورت میں ہوتے ہیں؟ سانپ کی صورت میں، لہذا ان کو مارتے ہوئے ان سے پہلے ان کو متنبہ کر دے کہ اگر جن ہے تو یہاں سے چلا جائے، چلا جائے۔ چنانچہ بھئی، حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کے بھئی شاہ اہل اللہ رحمہ اللہ جو بڑے نیک انسان تھے، بڑے ولی اللہ انسان تھے، وہ انہوں نے ایک مرتبہ ایک سانپ کو قتل کر دیا۔ سانپ کو قتل کر دیا اور پھر کہتے ہیں میں پھر دن کے وقت گھر پر سویا، تو کوئی بادشاہ کا شخص آیا اور کہنے لگا کہ میں بادشاہ کا سپاہی ہوں، بادشاہ نے مجھے بھیجا ہے آپ کو طلب کیا ہے، ابھی چلیے میرے ساتھ۔ کہتے ہیں میں اس کے ساتھ چل پڑا۔ وہ مجھے مختلف گلیوں سے لے جاتا ہوا بالآخر شہر سے باہر لے گیا۔ میں اس کے ساتھ ساتھ چل رہا ہوں، پھر وہ ایک غار کے اندر داخل ہوا، میں بھی اس کے پیچھے چلا گیا، دیکھا تو ایک بڑا دربار لگا ہوا ہے، جنات کا بادشاہ بیٹھا ہوا ہے، سیکنڑوں جنات جمع ہیں اور اپنے اپنے مقدمات اس بادشاہ کے سامنے پیش کر رہے ہیں اور وہ بادشاہ ان کے درمیان فیصلہ کرتا ہے ہر قسم کے مقدمے کا۔ وہ فیصلے کرتا جا رہا ہے۔ اور ایک طرف ایک جن جو ہے وہ مرا ہوا پڑا ہے بھئی۔ تو مجھے بھی یہ آدمی لے گیا، اس کے پاس کھڑا کر دیا۔ یہ جو سپاہی تھا، یہ بھی دراصل جن تھا بھئی جو انہیں لینے آیا تھا انسانی صورت میں۔ تو پھر وہ جنات نے، جن کا جن مرا ہوا پڑا تھا، انہوں نے اپنا مقدمہ بادشاہ کے سامنے پیش کیا۔ بادشاہ نے کہا: کیا بات ہے؟ وہ کہنے لگے: اس آدمی نے، میری طرف اشارہ کیا، اس آدمی نے ہمارے اس جن کو قتل کر ڈالا ہے، آپ ہمیں انصاف دلائیے، اس نے ظلم کیا، ہمارے ساتھی کو ختم کر دیا۔ تو کہتے ہیں: بادشاہ میری طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا کہ: آپ نے اس کو کیوں قتل کیا؟ تو میں نے جواب میں کہا کہ: میں نے تو کسی جن کو نہیں قتل کیا، ایک سانپ تھا اس کو میں نے قتل کیا تھا، لیکن اسے بھی میں نے کہہ دیا تھا: اگر جن ہو تو یہاں سے چلے جاؤ اور حدیث میں آتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جس شخص نے اپنا حلیہ بدل لیا ہو اور اسے پھر کوئی قتل کر دے تو قتل کرنے والے پر کوئی خون بہا نہیں آئے گا۔ اس جن نے اپنی صورت بدل لی تھی، سانپ کی شکل میں تھا، مجھے تو علم نہیں تھا کہ یہ جن ہے، تو میں نے تین مرتبہ اس کو یہ کہا بھی اور پھر بھی وہ نہیں گیا۔ تو حدیث یہ ذکر کر دی کہ جس نے اپنا حلیہ بدل لیا ہو اور پھر اسے قتل کوئی کر دے، تو قاتل پر کوئی خون بہا وغیرہ نہیں۔ تو اس جن نے اپنی صورت بدلی ہوئی تھی، مجھے تو علم نہیں تھا کہ یہ سانپ نہیں ہے بلکہ جن ہے۔ کہتے ہیں: جب میں نے یہ حدیث ذکر کی، حدیث ذکر کی، تو بادشاہ کے ساتھ ایک بہت بڑا اور بہت بوڑھا جن بیٹھا ہوا تھا، سر کو جھکایا ہوا تھا، جب میں نے یہ حدیث روایت کی تو اس جن نے اپنا سر اٹھایا، میری طرف دیکھا اور کہنے لگا: اے بادشاہ سلامت! یہ آدمی سچ کہہ رہا ہے، جب سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث ذکر فرمائی تھی، یہ بات آپ نے بیان کی تھی تو اس وقت میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا، معلوم ہوا وہ جن صحابی تھا بھئی صحابی۔ تو جنات کی عمریں بڑی طویل ہوتی ہیں بھئی۔ چنانچہ پھر جنات کے بادشاہ نے پھر مجھے چھوڑ دیا، جانے دیا، کچھ بھی نہیں کہا بھئی۔ تو یہ واقعہ یہ شعر کس کے بارے میں ہے؟ حرب ابنِ امیہ کے بارے میں بھئی۔ اس سلسلے میں ایک دو اور بھی واقعات ہیں کہ یہ کس طرح واقعہ پیش آیا تھا اور کس طرح ان کو جنات نے قتل کیا، وہ انشاء اللہ بھئی اج وقت کافی ہو گیا ہے، کل کے اگلے سبق میں میں انشاء اللہ بیان کروں گا بھئی۔ چلیے بس بھئی، ہَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔