Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-006

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 04 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 13
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
سبق نمبر۔۶ فَتَنَافُرُ الْحُرُوفِ وَصْفٌ فِي الْكَلِمَةِ يُوجِبُ ثِقَلَهَا عَلَى اللِّسَانِ وَعُسْرَ النُّطْقِ بِهَا، نَحْوُ الظَّشِّ لِلْمَوْضِعِ الْخَشِنِ، وَالْهُعْخُعِ لِنَبَاتٍ تَرْعَاهُ الْإِبِلُ، وَالنُّقَاخِ لِلْمَاءِ الْعَذْبِ الصَّافِي، وَالْمُسْتَشْزِرِ لِلْمَفْتُولِ. گزشتہ سبق میں اپ نے فصاحت کے بارے میں پڑھا تھا کہ فصاحت کے کئی معانی آتے ہیں۔ البتہ ہر معنی کے اندر ظهور پایا جائے گا۔ کیا پایا جائے گا؟ ظهور پایا جائے گا، ظهور کی خبر وہ دے گا، اور پھر انہوں نے اپ کو بتلایا تھا کہ فصاحت یہ صفت بنتی ہے کلمے کی بھی، کلام کی بھی اور متکلم کی بھی۔ اور پھر اس کے بعد فصاحت فی الکلمہ جو ہے اس کے بارے میں پڑھنا شروع کیا تھا کہ فصاحت کلمہ جو ہے وہ کلمے کا سالم ہونا ہے، اس کا سلامت ہونا ہے تنافر حروف، مخالفتِ قیاس اور غرابت سے۔ یعنی آسان لفظوں میں یوں کہو کہ تین عیب کلمے میں نہیں ہوں گے تو وہ کلمہ فصیح ہو گا۔ اور وہ تین عیوب کیا ہیں؟ یرحمک اللہ، وہ تین عیوب کیا تھے؟ نمبر ایک تنافر حروف، نمبر دو مخالفتِ قیاس، نمبر تین غرابت۔ اور یہ تین ہی عیب کیوں ذکر کیے؟ چار یا پانچ کیوں نہیں ذکر کیے جن کا نہ ہونا ضروری؟ تو اس کی تفصیل بھی بیان ہو گئی تھی کہ کلمے کے اندر تین چیزیں ہوتی ہیں بھئی۔ ایک اس کا مادہ ہوتا ہے، ایک اس کی صورت یعنی صیغہ ہوتا ہے اور ایک اس کی اپنے معنی پر دلالت ہوتی ہے۔ تو اگر مادے کے اندر کوئی عیب پایا جائے تو یہ تنافرِ حروف ہو گا، اور اگر صورت یعنی صیغے کے اندر کوئی عیب پایا جائے تو یہ مخالفت القیاس ہے، اور اگر اپنے معنی پر دلالت کرنے کے اندر عیب پایا جائے تو پھر یہ کیا ہے؟ غرابت ہے بھئی غرابت۔ تو اسی لیے تین عیوب ذکر کیے کہ وہ کلمے میں نہیں ہونے چاہئیں۔ اب دیکھیے بھئی کتاب پر: "فَفَصَاحَةُ الْكَلِمَةِ سَلَامَتُهَا مِنْ تَنَافُرِ الْحُرُوفِ وَمُخَالَفَةِ الْقِيَاسِ وَالْغَرَابَةِ" تو کلمے کا فصیح ہونا وہ اس کا سالم ہونا ہے تنافر حروف سے اور مخالفت قیاس سے اور غرابت سے۔ آسان لفظوں میں، میں نے اپ کو تفصیل بتلا دی تھی کہ تنافر حروف کسے کہتے ہیں؟ کہ کلمے میں ایسے حروف جمع ہو جائیں جس کی وجہ سے زبان پر اس لفظ کی ادائیگی ثقیل ہو جائے، مشکل ہو جائے بھئی۔ اور مخالفت قیاس کا آسان معنی میں نے بتلایا تھا، کیا معنی ہے؟ کہ صرفی قانون کے خلاف ہو کلمہ بھئی۔ اور غرابت کا معنی میں نے بتلایا تھا، کیا معنی ہے؟ کہ کلمے کا معنی کا پتہ نہیں چلتا بھئی۔ کلمہ، کلمے کو تو اپنے معنی پر دلالت کرنی چاہیے بھئی، جیسے ہی ایک لفظ بولا جائے سننے والے کو اس کا معنی سمجھ میں آنا چاہیے، لیکن اگر معنی سمجھ میں نہیں آ رہا تو معلوم ہوا اس کے اندر کیا ہے؟ غرابت ہے بھئی، یہ اپنے معنی پر دلالت نہیں کر رہا۔ یہ میں نے تفصیل بیان کر دی تھی۔ اب دیکھیے صاحب کتاب بھی ہر ایک کی تعریف کریں گے۔ "فَتَنَافُرُ الْحُرُوفِ وَصْفٌ فِي الْكَلِمَةِ" پس تنافرِ حروف جو ہے "وَصْفٌ فِي الْكَلِمَةِ" یہ ایسا وصف ہے کلمے کے اندر "يُوجِبُ ثِقَلَهَا" يُوجِبُ أي يُثْبِتُ، يُوجِبُ، يُثْبِتُ کے معنی میں عام استعمال ہوتا رہتا ہے کتابوں کے اندر بھئی، تو یہاں بھی يُثْبِتُ کے معنی میں ہے۔ تو تنافرِ حروف ایسا وصف ہے کلمہ کے اندر جو ثابت کرتا ہے، يُوجِبُ أي يُثْبِتُ، جو کیا کرتا ہے؟ یہ ایسا وصف ہے جو ثابت کرتا ہے۔ کیا چیز ثابت کرتا ہے؟ آگے مفعول آ رہا ہے، "ثِقَلَهَا عَلَى اللِّسَانِ" ہا ضمیر راجع ہے کلمہ کو، ثقل الكلمة على اللسان، کلمے کا ثقیل ہونا، بوجھ ہونا علی اللسان، کس پر؟ زبان پر، کہ کلمے کی ادائیگی زبان پر بوجھ محسوس ہوتی ہے، آسانی اور روانی سے وہ کلمہ ادا نہیں ہوتا بھئی۔ تو کہتے ہیں تنافرِ حروف ایسا وصف ہے کلمہ کے اندر "يُوجِبُ ثِقَلَهَا عَلَى اللِّسَانِ" جو اس کلمے کے ثقیل ہونے کو ثابت کرتا ہے زبان پر، "وَعُسْرَ النُّطْقِ بِهَا" یاد رکھیے یہ عطفِ تفسیری ہے۔ عطفِ تفسیری کی بات پہلے بھی گزر چکی بھئی، واؤ سے جو ماقبل ہو وہ کیا ہے؟ معطوف علیہ، اور واؤ کے بعد جو ہو وہ معطوف۔ تو معطوف بعد میں آتا ہے، اور اگر وہ معنی بیان کر رہا ہو کس کا؟ معطوف علیہ کا، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ عطفِ تفسیری کہتے ہیں بھئی۔ تو یہاں پر بھی "وَعُسْرَ النُّطْقِ بِهَا" یہ تفسیر بیان کر رہا ہے ثقل علی اللسان کی۔ زبان پر بوجھ ہو جاتا ہے وہ لفظ، کیا معنی بوجھ ہو جاتا ہے بھئی؟ خود بتلا رہے ہیں "عُسْرَ النُّطْقِ بِهَا"، عسر کہتے ہیں مشکل ہونا، دشوار ہونا، اور نطق کہتے ہیں بولنے کو، تکلم کو، بہا، ہا ضمیر اسی کلمہ کو راجع، "عُسْرَ النُّطْقِ بِهَا" اس کلمے پر تکلم دشوار ہو جاتا ہے۔ اس کلمے پر تکلم دشوار ہو جاتا ہے یعنی اس کو بولنا مشکل ہو جاتا ہے، دیکھیے یہ تفسیر کر دی۔ پیچھے کیا آیا تھا؟ کہ تنافرِ حروف ایسا وصف ہے جو کلمے کے زبان پر ثقیل ہونے کو ثابت کرتا ہے، زبان پر وہ ثقیل ہوتا ہے بھئی۔ زبان پر ثقیل ہونے کا کیا معنی؟ آگے بتایا کہ اس کو بولنا مشکل ہو جاتا ہے، اس پر تکلم دشوار ہوتا ہے زبان پر ثقیل ہونے کا یہ معنی ہے بھئی۔ روانی سے، آسانی سے وہ ادا نہیں ہوتا بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ عسر کا کیا معنی؟ دشواری، اور نطق کا معنی؟ بولنا، یعنی تکلم یعنی۔ تو اس کلمے پر تکلم دشوار ہو جاتا ہے۔ اب دیکھیے پورا ترجمہ سارے کا: پس تنافرِ حروف ایسا وصف ہے کلمے کے اندر جو ثابت کرتا ہے اس کلمے کے زبان پر ثقیل ہونے کو اور اس کے ساتھ تکلم کے دشوار ہونے کو، "نَحْوُ الظَّشِّ لِلْمَوْضِعِ الْخَشِنِ" اب مثالیں ذکر کر رہے ہیں، کچھ ایسے لفظ لے کر آئے جن کے اندر تنافرِ حروف ہے۔ پہلی مثال "ظشّ" ہے بھئی، "لِلْمَوْضِعِ الْخَشِنِ"، خشن کا معنی سخت بھئی، کھردری، سخت جگہ ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ اس کے لیے ایک لفظ ظش ہے عربی میں، لیکن اس کے اندر تنافرِ حروف ہے بھئی۔ "وَالْهُعْخُعِ لِنَبَاتٍ تَرْعَاهُ الْإِبِلُ"، ہعخع بھئی، یہ نبات، نبات کہتے ہیں بھئی زمین سے اگنے والی چیز گھاس ہو، پودا ہو، درخت ہو، ان سب کو نبات کہتے ہیں، لیکن یہاں مراد گھاس یا کوئی پودے ہیں۔ تو کہتے ہیں "وَالْهُعْخُعِ لِنَبَاتٍ تَرْعَاهُ الْإِبِلُ" اور ہعخع ایسے پودے یا گھاس کے لیے "تَرْعَاهُ الْإِبِلُ" جس کو اونٹ چرتے ہیں۔ ابل اونٹ، ترعی کے معنی ہیں چرنے کے۔ کوئی گھاس ہے جس کو اونٹ چرتے ہیں تو اس کا ایک نام کیا ہے؟ ہعخع، اور یہ لفظ کیا ہے؟ اس میں تنافرِ حروف ہے۔ "وَالنُّقَاخِ" یہ آپ کی کتابوں میں حا ہے یا خا بھئی؟ خا ہونی چاہیے۔ "وَالنُّقَاخِ لِلْمَاءِ الْعَذْبِ الصَّافِي"، نقاخ کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں الماء العذب بھئی، میٹھا پانی۔ الماء العذب، میٹھا پانی۔ شربت نہ سمجھ لینا بھئی، یہ عام پانی جو خوشگوار ذائقے والا ہو۔ بعض علاقوں کا پانی بڑا کڑوا یا عجیب قسم کے مختلف ذائقے ہوتے ہیں، تو جہاں کا پانی خوشگوار ہو تو اس پانی کو کیا کہتے ہیں؟ الماء العذب کہتے ہیں۔ الصافی، صاف ستھرا بھئی۔ "وَالنُّقَاخِ لِلْمَاءِ الْعَذْبِ الصَّافِي" اور نقاخ صاف میٹھے پانی کے لیے یہ ایک لفظ ہے نقاخ، اور یہ تنافرِ حروف کی مثال ہے بھئی۔ "وَالْمُسْتَشْزِرِ لِلْمَفْتُولِ"، مستشزر، مستشزر "لِلْمَفْتُولِ" بٹے ہوئے کے لیے۔ کس کے لیے؟ ہاں، مفتول کا معنی ہے بٹا ہوا، بل دیا ہوا، بل دار بھئی۔ رسی نہیں ہوتی بھئی آپ نے دیکھی ہے، رسی کو کس طرح تیار کیا جاتا ہے اس میں وہ جو دھاگے وغیرہ ہیں ان کو بل دیا جاتا ہے، تو وہ مفتول ہوئے بل دار بھئی جن کو بل دیا ہو۔ تو مستشزر کا کیا معنی؟ بل دار بھئی، بل والے، بل دیے ہوئے، تو یہ ہر ایک کے ساتھ اس کا معنی بھی بیان کر رہے ہیں، ظش للموضع الخشن، ظش کا لفظ ہے کس کے لیے ہے؟ سخت جگہ کے لیے۔ ہعخع یہ کس کے لیے ہے؟ ایسے پودے کے لیے یا ایسے گھاس کے لیے جس کو اونٹ چرتے ہیں۔ اور نقاخ یہ ایسے پانی کے لیے جو میٹھا، صاف ستھرا ہو۔ والمستشزر یہ کس کے لیے؟ بٹے ہوئے کے لیے۔ تو یہ ساری ظش، ہعخع، نقاخ اور مستشزر یہ مثالیں ہیں ان لفظوں کی جن میں تنافرِ حروف ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی سب کو بھئی؟ تو اور پھر ان کے اندر تنافر مختلف قسم کا ہے، کسی میں تنافر کم ہے کسی میں تنافر زیادہ ہے، جیسے ہعخع اس میں انتہا درجے کا تنافر ہے بھئی، ایسے سارے ایسے حروف جمع ہو گئے جن کا مخرج ایک ہی ہے، حلق سے ادا ہوتے ہیں یہ سارے، تو اس میں انتہا درجے کا ثقل ہے۔ ہعخع، بعض علماء نے اس کو میں دونوں جگہ کسرہ نقل کیا ہے، هِعْخِعْ، وہ کیا کہتے ہیں یہ کیا لفظ ہے؟ هِعْخِعْ۔ اچھا، یہاں تک تو بات ہو گئی بھئی کہ تنافرِ حروف کسے کہیں گے؟ کلمے میں ایسے حروف جمع ہو جائیں جس کی وجہ سے زبان پر اس کی ادائیگی ثقیل ہو جائے۔ اب اس کے لیے ضابطہ چاہیے بھئی، کوئی ضابطہ اس کے لیے ہونا چاہیے جس سے ہمیں پہچان ہو جایا کرے، پتہ چل جایا کرے کہ اس وقت کلمے میں کیا ہے؟ تنافرِ حروف ہے، تنافرِ حروف ہے۔ تو جواب اس کا یہ ہے مولانا کہ اس کے لیے کوئی ضابطہ نہیں ہے، اس کے لیے کوئی ضابطہ نہیں ہے، ذوق آپ کو بتلائے گا کہ اس کلمے کے اندر اس وقت تنافرِ حروف ہے۔ آپ کا ذوق ہی بتلا دے گا کہ زبان پر کلمہ صحیح طور پر روانی سے، سلاست سے اور نرمی سے ادا نہیں ہو رہا بھئی، نرمی سے ادا نہیں ہو رہا۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو تنافرِ حروف کا پتہ کس سے چلے گا؟ ذوق سے چلے گا ذوق سے، اور ذوق کسے کہتے ہیں؟ ذوق یاد رکھیے یہ ایک صلاحیت ہوتی ہے جو اللہ کی طرف سے بعض انسانوں کو عطا ہوتی ہے جس کے ذریعے وہ اچھی اور ردی چیز میں فرق کر لیتا ہے فوراً بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو یہ مختلف قسم کے ذوق ہوتے ہیں، مثلاً بعض کو شاعری کا ذوق اللہ نے دیا ہوتا ہے، فطرتاً اس کے اندر شاعری کا ذوق ہوتا ہے، اور اسی پہ پھر وہ جب محنت کرتا ہے تو بہت بڑا شاعر بن جاتا ہے بھئی۔ تو یہاں پر بھی کس سے پتہ چلے گا؟ ذوق سے بھئی، ذوق بتلائے گا اور میں نے بتلایا ذوق ایک صلاحیت کا نام ہے جس کے ذریعے صحیح اور ردی چیز میں انسان فرق کر لیتا ہے، وہ چیز جیسے ہی اس کے سامنے آتی ہے اس کا ذوق اسے خود ہی بتلا دیتا ہے، کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہوتی، فوراً ہی پتہ چل جاتا ہے کہ اس میں کچھ خرابی ہے، اس چیز میں کچھ خرابی ہے۔ یہاں تک بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جس کو اللہ نے ذوق دیا ہو اس کو خود بخود پتہ چل جائے گا وہ لفظ۔ آپ کی اور میری بات نہیں ہو رہی بھئی، ہمارے لیے تو یہ لفظ کیا اس سے بھی مشکل لفظ ہو ہم بڑے آرام سے اس کو ادا کر لیتے ہیں بھئی۔ انگریزی وغیرہ کتنی زبانوں کے لفظ ہیں آپ بڑے آرام سے ادا کر لیتے ہیں، آپ کو محسوس بھی نہیں ہوتا، تو یہ عرب کی بات ہو رہی ہے اور عرب بھی عربِ عرباء، جو خالص عرب ہیں بھئی، عربِ عرباء، خالص عرب، ان کی بات ہو رہی ہے۔ تو ذوق ایک فطری صلاحیت ہے جو اللہ تعالیٰ بعض انسانوں کو نصیب فرماتے ہیں اور مختلف چیزوں، مختلف قسم کا ذوق جس کے ذریعے وہ اس چیز میں عمدہ اور ردی کا فوراً ہی ان کو پتہ چل جاتا ہے کہ کیا چیز عمدہ ہے اور کیا ردی ہے، یہ ایک فطری صلاحیت ان میں اللہ تعالیٰ نے رکھی ہوتی ہے اور مختلف قسم کے مختلف چیزوں کے ذوق اللہ نے لوگوں کو نصیب فرمائے ہوتے ہیں۔ تو تنافرِ حروف کا پتہ کس سے چلے گا؟ ذوق سے چلے گا۔ "وَمُخَالَفَةُ الْقِيَاسِ كَوْنُ الْكَلِمَةِ غَيْرَ جَارِيَةٍ عَلَى الْقَانُونِ الصَّرْفِيِّ" اب مخالفتِ قیاس کی بات آئی بھئی، مخالفتِ قیاس آسان لفظوں میں، میں نے آپ کو بتلایا تھا بھئی، کس کو کہتے ہیں؟ کہ کلمے کا صرفی قانون کے خلاف ہونا، یہ ہے مخالفت القیاس۔ اب وہی بیان کر رہے ہیں: "وَمُخَالَفَةُ الْقِيَاسِ" اور مخالفت القیاس جو ہے "كَوْنُ الْكَلِمَةِ غَيْرَ جَارِيَةٍ" کلمے کا جاری نہ ہونا، "كَوْنُ الْكَلِمَةِ" کلمے کا ہونا "غَيْرَ جَارِيَةٍ" کہ وہ جاری نہ ہو، غیر نفی کے لیے آیا، کہ وہ جاری نہ ہو "عَلَى الْقَانُونِ الصَّرْفِيِّ" صرفی قانون پر، یعنی کلمے کا صرفی قانون پر جاری نہ ہونا یہ کیا ہے؟ مخالفت القیاس ہے بھئی، کلمہ صرفی قانون کے مطابق نہ ہو بھئی۔ لیکن یاد رکھیے، یہ انہوں نے آسان لفظوں میں آپ کے لیے بیان کیا۔ اصل اعتبار صرفی قانون کا نہیں ہے، عربوں کے استعمال کی بات ہے بھئی عربوں کے استعمال کی۔ یہ یوں کہیں، واضع کی وضع کے خلاف ہو کلمہ تو یہ ہے مخالفت القیاس۔ تو جو بھی کلمہ آپ کے سامنے آئے اور وہ صرفی قانون کے خلاف ہو آپ فوراً اس پر حکم لگا دیں کہ اس میں تو مخالفت القیاس ہے؟ نہیں بھئی ایسا نہیں ہے۔ بعض اوقات آپ نے علمِ صرف میں پڑھا ہے بھئی، قانون ذکر ہوتا ہے اور قانون کے بعد بتلاتے ہیں کہ یہ کلمہ شاذ ہے، یہ قانون سے خارج ہے، قانون کے دائرے میں نہیں آتا، علمِ صرف میں پڑھا ہے یا نہیں پڑھا آپ نے؟ قوانین کے بعد عموماً وہ مثال کوئی نہ کوئی ذکر کرتے ہیں کہ یہ کلمہ شاذ ہے۔ یعنی قانون کی گرفت میں نہیں ہے، تو اس کا کیا معنی ہوتا ہے وہ کلمہ غلط ہے؟ نہیں نہیں، اس کا یہ معنی نہیں ہوتا۔ شاذ ہونے کا معنی یہ کہ عرب اس کو استعمال کرتے ہیں، اسی طرح کرتے ہیں اور یہ اسی طرح صحیح ہے۔ لیکن قانون کے دائرے میں نہیں آ رہا، ہم نے کوشش کی تھی قانون ایسا بنائیں کہ کلامِ عرب کے سارے اس جیسے لفظ اس قانون کے اندر داخل ہو جائیں، یہ قانون ان کا احاطہ کر لے، لیکن ہم پوری کوشش کے باوجود ایسا قانون نہیں بنا سکے، جتنی بھی ہم نے کوشش کی باقی سارے لفظ تو اس کے اندر داخل ہو گئے ہو گئے، لیکن یہ والا یا یہ والا لفظ ابھی بھی قانون سے باہر ہے بھئی۔ جیسے مثال بھئی، صرف کا ایک قانون ہے کہ بابِ فتح سے جو بھی لفظ آئے گا، جو بھی کلمہ آئے گا اس کا عین یا لام کلمہ حرفِ حلقی ہونا ضروری ہے۔ بابِ فتح سے جو بھی صیغہ آئے گا اس کا عین یا لام کا حرفِ حلقی ہونا ضروری ہے۔ فَتَحَ، ع کے جگہ لام کے جگہ کیا ہے؟ خا حرفِ حلقی ہے۔ مَنَعَ، لام کے جگہ کیا ہے یہاں پر مَنَعَ میں؟ ع ہے حرفِ حلقی ہے تو یہ بابِ فَتَحَ سے ہیں۔ تو بابِ فَتَحَ کے اندر ع یا لام کا حرفِ حلقی ہونا ضروری، لیکن وہیں پر آپ کو پھر بتاتے ہیں أَبَى يَأْبَى شاذ ہے۔ أَبَى يَأْبَى شاذ ہے۔ أَبَى يَأْبَى کا معنیٰ ہے انکار کرنا، انکار کرنا۔ اب أَبَى يَأْبَى وہی بابِ فَتَحَ سے ہے لیکن اس کے اندر ع کے جگہ ہے با اور لام کے جگہ ہے یا جو کس سے بدل جاتی ہے؟ الف سے۔ تو با، یہ بھی حرفِ حلقی نہیں، یا، وہ بھی حرفِ حلقی نہیں، تو اب یہ کلمہ قانون کے دائرے میں تو نہیں آ رہا لیکن استعمال کے اعتبار سے بالکل صحیح ہے۔ تمام عرب اس کو اسی طرح استعمال کرتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ یہ کلمہ صحیح ہے، البتہ قانون کے اندر داخل نہیں ہو رہا، استعمال کے اعتبار سے بالکل ٹھیک ہے، فصیح کلمہ ہے بھئی۔ فصیح کلمہ ہے۔ اسی طرح ورنہ دیکھ لو بھئی، عَوِرَ يَعْوَرُ، عَوِرَ يَعْوَرُ، یہ صرفی قانون کے خلاف ہے لیکن واضع کی وضع کے مطابق ہے، واضع نے اس کو وضع ہی اس طرح کیا ہے، عَوِرَ۔ ورنہ تو ضابطہ لگنا چاہیے واؤ متحرک ماقبل فتحہ، اس واؤ کو کس سے بدلنا چاہیے؟ الف سے۔ يَعْوَرُ، یہاں پر بھی واؤ کا فتحہ ماقبل کو نقل کرکے واؤ کو کس سے بدلنا چاہیے؟ الف سے، لیکن یہ اسی طرح استعمال ہوتا ہے عربی میں، عَوِرَ يَعْوَرُ۔ تو یہ صرفی قانون کے تو خلاف ہے لیکن واضع نے وضع ہی اسی طرح کیا، لہٰذا یہ مخالفتِ قیاس اس کے اندر نہیں ہے بھئی۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو لہٰذا یہاں جو ذکر آیا کہ کلمہ صرفی قانون کے خلاف ہو بھئی، کیا معنیٰ صرفی قانون کے خلاف ہونے کا؟ مراد کیا ہے اس سے؟ واضع کی وضع کے خلاف ہو یا یوں کہیں عربوں کے استعمال کے خلاف ہو بھئی، عرب اس طرح استعمال نہ کرتے ہوں، اگر استعمال کرتے ہیں پھر چاہے صرفی قانون کے خلاف ہی کیوں نہ ہو، پھر بھی وہ کیا ہے؟ فصیح ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ واضع کی وضع کے خلاف ہو یعنی واضع نے اس کو اس طرح بنانے والے نے اس کو اس طرح نہ بنایا ہو، جیسے دو حرف ایک جنس کے آئیں تو ان میں کیا کرتے ہیں؟ ادغام۔ اس سے اس اس مثلاً لفظ ہے اجل، اجل، لام مشدد بھئی، اجل۔ اب اس اجل کو اگر اس میں ادغام ختم کیا جائے اور یوں پڑھا جائے اَجْلَلَ، اب یہ واضع کی وضع کے خلاف ہوا۔ اب یہ عربوں کے استعمال کے خلاف ہوا، صرفی قانون کے بھی خلاف اور واضع کی وضع، بنانے والے نے کس طرح بنایا تھا؟ لام کے میں ادغام کیا تھا لیکن یہاں پر کوئی ادغام کو توڑ دیتا ہے تو یہ واضع کی وضع کے خلاف اور عربوں کے استعمال کے بھی خلاف، عرب بھی اس کو شد کے ساتھ استعمال کرتے ہیں یعنی ادغام کے ساتھ، بغیر ادغام کے نہیں، تو یہ اَجْلَلَ کیا ہو جائے گا؟ یہ مخالفتُ القیاس ہے اس کے اندر بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی سب کو اچھی طرح؟ وَمُخَالَفَةُ الْقِيَاسِ كَوْنُ الْكَلِمَةِ غَيْرَ جَارِيَةٍ عَلَى الْقَانُونِ الصَّرْفِيِّ، غَيْرَ بتلایا ہے میں نے کس لیے آ رہا ہے یہاں پر؟ نفی کے لیے۔ كَوْنُ الْكَلِمَةِ غَيْرَ جَارِيَةٍ، کلمے کا جاری نہ ہونا عَلَى الْقَانُونِ الصَّرْفِيِّ، یہ صرفی قانون پر۔ كَجَمْعِ بُوقٍ عَلَى بُوقَاتٍ، جیسے بُوقٍ کی جمع ہے بُوقَاتٍ، فِي قَوْلِ الْمُتَنَبِّي، متنبی شاعر کے اس قول کے اندر بھئی۔ یہ شعر آگے آ رہا ہے: فَإِنْ يَكُ بَعْضُ النَّاسِ سَيْفًا لِدَوْلَةٍ ... فَفِي النَّاسِ بُوقَاتٌ لَهَا وَطُبُولُ سَيْفًا لِدَوْلَةٍ ہونا چاہیے بھئی، اگر فتحہ ہے یہ غلط لگا ہے۔ سَيْفًا لِدَوْلَةٍ ... فَفِي النَّاسِ بُوقَاتٌ لَهَا وَطُبُولُ۔ اب یہاں دیکھیے، اس شعر کے اندر متنبی بُوقٍ کی جمع بُوقَاتٍ اس نے ذکر کی ہے متنبی نے۔ حالانکہ بُوقٍ کی جمع عرب بُوقَاتٍ نہیں استعمال کرتے بلکہ اس کی جمع یا تو اَبْوَاقٍ لاتے ہیں یا بَوَائِقٍ بھئی۔ اَبْوَاقٍ یا بَوَائِقٍ۔ اَبْوَاقٍ ہے جمعِ قلت اور بَوَائِقٍ کیا ہے؟ جمعِ کثرت۔ جمعِ قلت جس کا اطلاق کتنے پر ہو؟ تین سے لے کر نو یا بعض کے نزدیک ۱۰ تک، یہ ہے جمعِ قلت، اور ۱۰ سے اوپر جمع کے لیے کیا آئے گا؟ جمعِ کثرت۔ تو جمعِ قلت کے لیے اَبْوَاقٍ استعمال کرتے ہیں عرب اور جمعِ کثرت کے لیے بَوَائِقٍ، لیکن متنبی نے کیا لفظ ذکر کر دیا؟ بُوقٍ کے بجائے بُوقَاتٍ، تو یہ عربوں کے استعمال کے خلاف ہوا بھئی، صرفی قانون کے خلاف ہوا، بُوقٍ کی جمع صرفی قانون کے مطابق بھی اَبْوَاقٍ آنی چاہیے تھی، بُوقَاتٍ نہیں بھئی۔ تو یہ مخالفتُ القیاس ہے یہاں پر، کس لفظ کے اندر؟ بُوقَاتٍ کے اندر۔ كَجَمْعِ بُوقٍ عَلَى بُوقَاتٍ فِي قَوْلِ الْمُتَنَبِّي، جیسے کہ بُوقٍ کی جمع بُوقَاتٍ وزن بُوقَاتٍ پر متنبی کے قول میں: فَإِنْ يَكُ بَعْضُ النَّاسِ سَيْفًا لِدَوْلَةٍ ... فَفِي النَّاسِ بُوقَاتٌ لَهَا وَطُبُولُ شعر کا ترجمہ سمجھ لیجیے۔ فَإِنْ يَكُ، يَكُ اصل میں تھا يَكُنْ بھئی، يَكُنْ، فَإِنْ يَكُنْ۔ وہی كَانَ يَكُونُ، اس پر اِنْ آیا، اِنْ جزم دیتا ہے تو يَكُونُ میں نون ساکن ہو گیا، يَكُونْ، واؤ بھی ساکن نون بھی ساکن، اجتماعِ ساکنین علیٰ غیر حدہِ آیا، اول حرفِ مدہ تھا اس کو گرا دیا، کیا بن گیا؟ يَكُنْ، اِنْ يَكُنْ، پھر بعض اوقات یوں کرتے ہیں کہ پھر آخر سے نون کو بھی خلافِ قیاس گرا دیتے ہیں، حذف کر دیتے ہیں تخفیف کے لیے تاکہ لفظ ہلکا ہو جائے زبان پر۔ حروف زیادہ ہوں تو لفظ آسانی سے ادا ہوتا ہے کہ حروف کم ہوں تو آسانی سے ادا ہوتا ہے؟ حروف کم ہوں تو، حروف کو کم کرنے کے لیے، تخفیف کے لیے اس نون کو بھی گرا دیتے ہیں خلافِ قیاس، تو یہ کیا بن گیا؟ فَإِنْ يَكُ۔ بَعْضُ النَّاسِ، سَيْفًا لِدَوْلَةٍ، بَعْضُ النَّاسِ، بعض لوگ، اس سے مراد شاعر کا ممدوح ہے جس کی مدح کرتے ہوئے، تعریف کرتے ہوئے، وہ بادشاہ جس کی شاعر تعریف کر رہا ہے اس کی طرف اشارہ ہے بَعْضُ النَّاسِ کے ذریعے، بعض لوگ، کون لوگ مراد ہیں؟ وہ بادشاہ جس کی شاعر کیا کر رہا ہے؟ تعریف کر رہا ہے، وہ مراد ہے یہاں اس سے۔ سَيْفُ، تلوار آپ جانتے ہیں، دَوْلَةٍ، لِدَوْلَةٍ، لام جارّہ ہے، دَوْلَةٍ مملکت کو کہتے ہیں، حکومت کو بھئی، بادشاہت کو۔ فَفِي النَّاسِ بُوقَاتٌ، بُوقَاتٌ جیسے اوپر انہوں نے بتلایا یہ جمع ہے بُوقٍ کی، اور بُوقٍ کہتے ہیں بگُل کو، بگُل، بگُل اور بڑا باجا بھئی، اس کو کیا کہتے ہیں؟ بُوقٍ کہتے ہیں بھئی، بڑا باجا، باجے کی قسم کی ایک چیز جو جنگوں وغیرہ میں بجائی جاتی بھئی، بگُل۔ اور طُبُولُ جمع ہے طَبْلٌ کی، طَبْلٌ، اور طَبْلٌ کہتے ہیں ڈھول کو بھئی، نقارے کو، نقارے کو۔ فَإِنْ يَكُ بَعْضُ النَّاسِ سَيْفًا لِدَوْلَةٍ ... فَفِي النَّاسِ بُوقَاتٌ لَهَا وَطُبُولُ اگر ہیں بعض الناس، بعض لوگ، سَيْفًا لِدَوْلَةٍ، حکومت کے لیے، مملکت کے لیے تلوار، اگر بعض لوگ مملکت کے لیے کیا ہیں؟ تلوار ہیں، فَفِي النَّاسِ بُوقَاتٌ لَهَا وَطُبُولُ، تو لوگوں میں اس کے لیے بگُل اور ڈھول ہیں، بگُل اور نقارے ہیں، بگُل اور نقارے ہیں۔ شاعر کہنا یہ چاہتا ہے کہ میرا ممدوح جس کی میں تعریف کر رہا ہوں وہ بڑا عظیم بادشاہ ہے اور دشمن وغیرہ کوئی بھی اس مملکت کی طرف میلی آنکھ سے دیکھتا ہے تو یہ بادشاہ اس کا مقابلہ کرتا ہے اور اس کو ختم کر دیتا ہے اور یہ بادشاہ مملکت کی حفاظت کے لیے تلوار ہے، تلوار ہے، بادشاہ کا لقب بھی سیف الدولہ تھا بھئی، کیا تھا؟ سیف الدولہ، مملکت کی تلوار بھئی، اسی لفظ کو شاعر نے شعر میں بھی استعمال کیا ہے لیکن لغوی اعتبار سے الگ الگ بھئی لفظ کر دیا اس نے۔ تو سیف الدولہ جو ہے وہ اگر مملکت کی حفاظت کے لیے دشمن کا مقابلہ کرتا ہے اور ان کو ختم کر دیتا ہے اور اتنا عظیم کام سرانجام دیتا ہے، پوری مملکت کی اور لوگوں کی حفاظت کرتا ہے تو لوگوں میں بھی اس کے لیے بگُل اور نقارے ہیں یعنی یہ بات لوگوں پر بھی چھپی نہیں رہتی، لوگ جیسے بھئی باجے اور ڈھول کی آواز دور تک پہنچتی ہے اسی طرح بعض لوگ جو ہیں وہ پھر اس کے اس کارنامے کو پوری مملکت کے گوشے گوشے میں ہر ایک تک پہنچا دیتے ہیں بھئی، شعراء اس کی مدح میں اشعار کہتے ہیں، لوگ اس کی تعریف کے اندر تقاریر کرتے ہیں اور اس کی مدح بیان کی جاتی ہے، یہ مراد ہے بگُل اور باجے ہیں کہ یعنی کہ اس کے کارناموں کو ہر شخص بیان کرتا ہے، وہ پھر کسی پر چھپے نہیں رہتے، معنیٰ سمجھ میں آیا بھئی؟ فَإِنْ يَكُ بَعْضُ النَّاسِ سَيْفًا لِدَوْلَةٍ ... فَفِي النَّاسِ بُوقَاتٌ لَهَا وَطُبُولُ اگر بعض لوگ جو ہیں وہ مملکت کے لیے تلوار ہیں تو لوگوں میں اس کے لیے بگُل اور نقارے ہیں یعنی جو اس کے کارنامے کو پھیلا دیتے ہیں، سب تک یہ بات پہنچ جاتی ہے۔ بعضوں نے تو شعر کا یہ ترجمہ کیا۔ بعضوں نے شعر کا دوسرا ترجمہ کیا، وہ کہتے ہیں: فَإِنْ يَكُ بَعْضُ النَّاسِ سَيْفًا لِدَوْلَةٍ، اگر بعض لوگ وہ مملکت کے لیے تلوار ہیں، مملکت کے لیے کیا ہیں؟ تلوار ہیں یعنی اس کے حقدار ہیں، اس کی حفاظت کر سکتے ہیں، فَفِي النَّاسِ بُوقَاتٌ لَهَا وَطُبُولُ، تو لوگوں میں جو ہیں وہ اس کے لیے، اس مملکت کے لیے بگُل اور نقارے ہیں۔ شاعر یہ کہنا چاہتا ہے کہ میرا ممدوح تو بہت عظیم بادشاہ ہے، وہ اس مملکت کے لیے تلوار کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی حفاظت کرتا ہے اور باقی بادشاہ جو اس کے مقابلے میں ہیں وہ ڈھول اور باجوں کی طرح ہیں جن کا شور تو ہوتا ہے لیکن طاقت وغیرہ ان کی کچھ نہیں ہے بھئی۔ وَالْقِيَاسُ فِي جَمْعِهِ لِلْقِلَّةِ أَبْوَاقٌ، اس لیے کیونکہ قیاس جو ہے اس کی جمعِ قلت کے اندر اَبْوَاقٌ ہے، بُوقٍ کے اندر قیاس کیا ہے؟ کہ اس کی جمعِ قلت کیا آنی چاہیے؟ جمعِ قلت اَبْوَاقٌ آنی چاہیے بھئی یعنی صرفی قانون یہ بتلاتا ہے۔ وَكَمَوْدَدَةٍ فِي قَوْلِهِ، اور جیسے مَوْدَدَةٍ کا لفظ اس قول کے اندر شاعر کے: إِنَّ بَنِيَّ لَلِئَامٌ زَهَدَهْ ... مَا لِيَ فِي صُدُورِهِمْ مِنْ مَوْدَدَهْ إِنَّ بَنِيَّ لَلِئَامٌ زَهَدَهْ، اچھا، بھئی یہاں دیکھیے، مودت، مودت کا لفظ اردو میں بھی استعمال کرتے ہیں، مودت کا کیا معنیٰ ہے؟ محبت، لیکن یہاں پر شاعر نے کیا کیا؟ مودت کے اندر تو دال میں ادغام ہے، شاعر نے ادغام کو ختم کر دیا، دونوں دال الگ الگ کر دیے اور کیا مودت کو کیا بنا دیا لفظ؟ مَوْدَدَهْ بنا دیا تو یہ اس کے اندر مخالفتُ القیاس ہے، صرفی قانون کے مطابق دو حرف ایک جنس کے ہوں اور دوسرا متحرک ہو تو پھر کیا کرتے ہیں؟ ادغام کرتے ہیں لیکن یہاں پر اس نے ادغام نہیں کیا بھئی، تو یہ مخالفتُ القیاس کی مثال ہے۔ اب یہ کسی شاعر کا شعر ہے اور غالباً اس کے بیٹے جو ہیں وہ اس کا کچھ خیال وغیرہ نہیں رکھتے تھے اور کوئی تکلیف وغیرہ پہنچائی ہوگی تو اب وہ شاعر ان کے بارے میں کہہ رہا ہے، إِنَّ بَنِيَّ، اس میں یا متکلم کی ہے بھئی، بے شک میرے بیٹے، بَنُونَ، نون اضافت کی وجہ سے گر گیا اور آخر میں یا متکلم کی آ گئی، بَنُويَ، پھر واؤ اور یا اکٹھے ہوئے تو واؤ کو بھی یا کرکے یا میں ادغام کیا اور ماقبل کسرہ دے دیا، کیا بن گیا؟ بَنِيَّ۔ بے شک میرے بیٹے جو ہیں، لَلِئَامٌ، یہ لام پہلا تاکید کے لیے ہے، لِئَامٌ، یہ جمع ہے لَئِيمٌ کی، لَئِيمٌ کہتے ہیں کمینے کو، کنجوس کو، گھٹیا کو، إِنَّ بَنِيَّ لَلِئَامٌ، بے شک میرے بیٹے جو ہیں وہ گھٹیا ہیں، کمینے ہیں، زَهَدَهْ، زَهَدَهْ یہ جمع ہے زَاهِدٌ کی، زَاهِدٌ، زَاهِدٌ کا تو ایک معروف معنیٰ ہے جو آپ جانتے ہیں، جو شخص دنیا سے بے رغبت ہو اسے کیا کہتے ہیں؟ زَاهِدٌ، لیکن زَاهِدٌ کا ایک معنیٰ جو ہے وہ بدخلق اور بد مزاج کے بھی آتے ہیں بھئی، زَاهِدٌ کا کیا معنیٰ ہے؟ بدخلق اور بد مزاج بھئی، ضَیِّقُ الخُلُقِ بھئی۔ یہاں وہی معنیٰ مراد ہے، تو یہ زَهَدَهْ جمع ہوئی زَاهِدٌ کی اور معنیٰ یہاں پر کیا ہے؟ بدخلق اور بد مزاج۔ إِنَّ بَنِيَّ لَلِئَامٌ زَهَدَهْ، بے شک میرے بیٹے جو ہیں وہ کمینے ہیں، بدخلق ہیں، مَا لِيَ فِي صُدُورِهِمْ مِنْ مَوْدَدَهْ، مَا لِيَ، نہیں ہے میرے لیے، ما نفی کے لیے آیا، نہیں ہے میرے لیے، فِي صُدُورِهِمْ، ان کے سینوں میں، مِنْ مَوْدَدَهْ، کوئی محبت، ان کے سینوں میں میرے لیے کوئی محبت نہیں ہے، وہ مجھ سے محبت نہیں کرتے۔ وَالْقِيَاسُ مَوَدَّةٌ بِالْإِدْغَامِ، اور قیاس کیا ہے کہ یہ لفظ مَوْدَدَهْ فکِ ادغام کے ساتھ نہ ہو بلکہ کس کے ساتھ ہو؟ ادغام کے ساتھ مَوَدَّةٌ ہونا چاہیے، وَالْقِيَاسُ مَوَدَّةٌ بِالْإِدْغَامِ، اور قیاس یہ کہ مَوَدَّةٌ ہونا چاہیے ادغام کے ساتھ۔ جی، یہاں تک بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے، بس، فهذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔