سبق نمبر۔۳
جی، آگے لکھیے بھئی۔
کتنے قول ہو چکے؟ پانچ۔
قول سادس ۔ جمہور علماء کے نزدیک، جمہور علماء کے نزدیک قرآن اپنی فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے معجزہ ہے۔ قرآن اپنی فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے معجزہ ہے۔
یعنی قرآن کا معیار فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے اتنا اونچا ہے، اتنا اعلیٰ ہے کہ کوئی اور کلام اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا، کہ اور کوئی کلام اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔
تو قرآن جیسا فصیح و بلیغ کلام لانے سے، قرآن جیسا فصیح و بلیغ کلام لانے سے ساری مخلوقات عاجز ہیں، ساری مخلوقات عاجز ہیں۔
تو اس اعتبار سے یہ معجزہ ہے۔ تو اس اعتبار سے یہ معجزہ ہے۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ جمہور کے نزدیک قرآن کس اعتبار سے معجز ہے؟ فصاحت و بلاغت۔ اتنا فصیح و بلیغ کلام ہے کہ کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا، کوئی انسانی کلام نہیں، کوئی کسی مخلوق کا کلام نہیں۔ کوئی اس جیسا کلام بنا ہی نہیں سکتا بھئی۔
حتیٰ کہ بعض لوگوں نے اس کا مقابلہ کرنے کی بھی کوشش کی۔ ایران جسے فارس کہا جاتا تھا، یہاں کا سینکڑوں سال قبل کی بات ہے، یہاں کا ایک بہت بڑا ادیب تھا بھئی۔ بہت بڑا نام، اس وقت میرے ذہن میں نہیں، بڑا مشہور واقعہ ہے کہ بہت شہرت تھی کہ اس جیسا ادیب کوئی نہیں۔ اس نے کہا: "میں قرآن جیسا کلام بناتا ہوں، مجھے یوں کرو سارے اسباب دو بھئی، مجھے کھانے پینے، خرچے وغیرہ اور ضروریات سے بے فکر کر دو، مجھے میری یہ ضروریات پوری کرو، تو میں، تو میں چھ مہینے میں قرآن جیسی کتاب لکھ دوں گا۔"
چنانچہ اس کے لیے بادشاہ کی طرف سے مراعات وغیرہ اور انتظام کیا گیا، سارے ضروریات اس کی پوری ہوں، خوب دولت وغیرہ دی گئی، اور وہ، اس نے قرآن کا مقابل تیار کرنا شروع کر دیا بھئی۔
چھ ماہ تک وہ ایک کمرے میں بند کوشش کرتا رہا، کرتا رہا۔ چھ ماہ بعد جب پوچھا گیا تو کہتے ہیں کمرے میں اس کے پاس کاغذوں کا ایک ڈھیر لگا ہوا تھا، جنہیں وہ لکھ لکھ کر، پھاڑ کر پھینکتا رہا۔ پوچھا: "کتنا کام ہوا؟ کتاب تیار ہو گئی؟" کہتے ہیں: "نہیں۔ ابھی تک تو میں ایک جملہ بھی قرآن کے مقابلے میں نہیں لکھ سکا۔ ایک جملہ! میں جو بھی اپنا جملہ لکھتا ہوں، پھر جب میں اس کا قرآن سے موازنہ کرتا ہوں تو مجھے اتنا خراب معلوم ہوتا ہے، اس کو میں پھاڑ کر پھینک دیتا ہوں۔ نیا جملہ تیار کرتا ہوں۔"
تو چھ مہینے تک وہ ایک قرآن کی آیت کے مقابل ایک جملہ اپنا نہیں لکھ سکا بھئی۔ قرآن کی فصاحت و بلاغت اتنی اونچی ہے کہ انسان کا، تمام مخلوقات بھی اس جیسا کلام نہیں بنا سکتیں۔
آگے لکھیے بھئی۔
قرآن جب نازل ہوا، الگ سطر لکھیے گا بھئی، قرآن جب نازل ہوا، قرآن جب نازل ہوا تو عربوں کی فصاحت و بلاغت اپنے عروج پر تھی، تو عربوں کی فصاحت و بلاغت اپنے عروج پر تھی۔
عربوں کو اپنی فصاحت و بلاغت پر اتنا ناز تھا، عربوں کو اپنی فصاحت و بلاغت پر اتنا ناز تھا کہ وہ عربوں کے علاوہ، کہ وہ عربوں کے علاوہ باقی تمام دنیا والوں کو، باقی تمام دنیا والوں کو عجم کہا کرتے تھے، عجم، ع-ج-م بھئی، عجم کہا کرتے تھے۔ عجم کا معنی ہے "گنگے"، عجم کا معنی ہے "گنگے"، یعنی جو بات نہ کر سکے۔
باقی تمام دنیا کو عجم کہنے کا مطلب یہ تھا، باقی تمام دنیا کو عجم کہنے کا مطلب یہ تھا کہ ہمارا کلام، کہ ہمارا کلام اتنا اونچا اور اعلیٰ اور بہترین ہوتا ہے، اتنا اعلیٰ، اونچا اور بہترین ہے کہ اس کے مقابلے میں، کہ اس کے مقابلے میں باقی تمام دنیا والوں کا کلام، باقی تمام دنیا والوں کا کلام لا کلام کی طرح ہے، لا کلام کی طرح ہے۔
یعنی ان کے کلام کی کوئی حیثیت ہی نہیں، یعنی ان کے کلام کی کوئی حیثیت ہی نہیں اور ہماری فصاحت، اور ہماری فصاحت و بلاغت کے سامنے، اور ہماری فصاحت و بلاغت کے سامنے یہ لوگ، باقی دنیا والے، باقی، ہماری فصاحت و بلاغت کے سامنے باقی دنیا والے گونگوں کی طرح ہیں، گونگوں کی طرح ہیں۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ ایک شخص بات کرنے والا ہے، دوسرا گونگا ہے۔ کلام میں دونوں کا مقابلہ ہو سکتا ہے؟ گونگا بیچارہ تو ایک لفظ بھی نہیں بول سکتا، مقابلہ کیا کرے گا۔ تو عرب کا بھی یہ کہنا تھا کہ ہمارا کلام اتنا اعلیٰ ہے باقی کا تو مقابلہ، تقابل کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہے یہاں پر، ہمارا اتنا فصیح و بلیغ اور عمدہ کلام ہے۔ اور یہ واقعی حقیقت بھی تھی، بڑی فصاحت و بلاغت ان کے کلام میں تھی۔
جی آگے لکھیے بھئی۔
عربوں کو اپنی فصاحت و بلاغت پر اتنا گھمنڈ تھا، اپنی فصاحت و بلاغت پر اتنا گھمنڈ تھا کہ انہوں نے اپنے مشہور شعراء کے قصیدے، کہ انہوں نے اپنے مشہور شعراء کے قصیدے بیت اللہ کے اندر لٹکا رکھے تھے، بیت اللہ کے اندر لگا، لٹکا رکھے تھے تاکہ باقی دنیا میں سے کوئی بھی شخص، باقی دنیا والوں میں سے کوئی بھی شخص حج یا تجارت یا کسی اور مقصد سے مکہ مکرمہ آئے، حج، تجارت یا کسی اور مقصد کی وجہ سے مکہ مکرمہ آئے تو یہ قصائد بھی اس، یہ قصیدے بھی اس کے سامنے آ جائیں، یہ قصیدے بھی اس کے سامنے آ جائیں اور وہ ذرا، وہ ذرا ہماری فصاحت و بلاغت کے شاہکار کلام کو ملاحظہ کر لے، ہماری فصاحت و بلاغت کے شاہکار کلام کو ملاحظہ کر لے۔
یہ مشہور قصیدے سبعہ معلقات کے نام سے مشہور ہیں۔ یہ قصیدے سبعہ معلقات، م-ع-ل-ق-ا-ت، ق دو نقطوں والا، ا، ت، سبعہ معلقات کے نام سے مشہور ہیں۔
سات قصیدے لٹکائے بھئی بڑے بڑے مشہور شعراء کے، انتہائی فصیح و بلیغ کلام تھا، اس کو انہوں نے بیت اللہ کے اندر لٹکا رکھا تاکہ جو بھی دنیا میں سے آئے ذرا دیکھے، ہماری فصاحت و بلاغت کو دیکھے، ہمارا کلام کتنا فصیح و بلیغ ہے، ہمارے شعراء کے اشعار کو ذرا دیکھے۔
تو، اور واقعی انسان حیران ہوتا ہے ان کی فصاحت و بلاغت دیکھ کر بھئی۔ اتنا فصیح و بلیغ کلام! تشبیہات، استعارات وغیرہ یہ چیزیں اور حیران رہ جاتا ہے انسان بھئی۔
مثال کے طور پر بھئی امرؤ القیس ان کا مشہور ایک شاعر، اس کا ایک، اس کا بھی قصیدہ اور اس میں اس کی ذرا ایک تشبیہ سنیں، کیسی کیسی وہ تشبیہات وہ دیتے ہیں بھئی۔
امرؤ القیس اپنے گھوڑے کی تعریف کر رہا ہے اور گھوڑے کی تعریف کر رہا ہے، اور گھوڑے ان کے ہاں خوبصورت، نازک سے، یہ گھوڑے پسندیدہ نہیں، ان کے ہاں وہ جنگجو لوگ تھے بھئی، تو ان کے ہاں جو گھوڑا جتنا بدشکل ہوتا، وہ اتنا ہی زیادہ معروف ہوتا۔ بدشکل ہونے سے مراد یہ نہیں کہ شکل بری ہوتی، معنیٰ یہ جس پر زخم، زخموں کے نشان لگے ہوئے ہیں، کہیں تیروں، تیر کا نشان لگا ہے، کہیں نیزے کا نشان لگا ہے، کیونکہ یہ نشان بتلاتے تھے کہ معلوم ہوا یہ شخص اس گھوڑے کے ساتھ جنگوں میں شرکت کرتا رہا ہے اور کوئی معمولی آدمی نہیں ہے، بڑی جرات اور بہادر، بڑا بہادر انسان ہے، بڑی جرات والا انسان ہے بھئی۔
تو وہ جتنا زیادہ گھوڑے پر وہ نشانات وغیرہ ہوتے، اتنا ہی زیادہ اس کو کمال سمجھا جاتا تھا۔ اب امرؤ القیس اپنے گھوڑے کی تعریف کر رہا ہے بھئی، گھوڑے کی تعریف، اور اس کی دہشت کو بیان کر رہا ہے کہ میرا گھوڑا کتنا دہشت ناک ہے۔ کہتا ہے کہ: "میرا گھوڑا جب میدانِ جنگ کے اندر آگے بڑھتا ہے تو دشمنوں کی صفوں کی صفیں الٹ دیتا ہے، وہ جدھر کا رخ کرتا ہے، وہ لوگ گھبرا کر گھبرا جاتے ہیں اور ہر طرف وہ تباہی پھیلا دیتا ہے میرا گھوڑا۔"
اور، عجیب تشبیہ اب سنو آگے! کہتا ہے: "میرا گھوڑا جب میدانِ جنگ میں آگے بڑھتا ہے تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے پہاڑ کی چوٹی سے ایک بڑی سی چٹان لڑھکتی ہوئی نیچے کو آ رہی ہو۔"
اب اپ ذرا تصور کریں، پہاڑ کی چوٹی سے ایک بڑی سی چٹان لڑھکتی ہوئی آ رہی ہو بھئی اور نیچے کوئی انسان کھڑا ہو، کتنا خوفناک منظر ہو گا بھئی، کتنا خوفناک! کوئی مقابلے کی صورت ہے مجھے بتائیں بھئی؟ کوئی مقابلے کی صورت ہی نہیں ہے اور اپ کو تو شاید تجربہ نہ ہوا ہو، مجھے اس صورتحال کا کچھ تجربہ ہوا ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا بھی تھا، اللہ تعالیٰ نے زندگی بچا لی جہاں بچنے کی کوئی صورت نہیں تھی، اسی طرح پہاڑ کے اوپر سے۔ تو، تو تشبیہ اس کی سنیں! کہہ رہا ہے کہ پہاڑ کے اوپر سے چٹان لڑھکتی ہوئی آ رہی ہے بھئی۔
اب ایک بڑی سی چٹان چوٹی سے لڑھکتی ہوئی، اچھلتی ہوئی، بجلی کی رفتار سے، وہ کتنی رفتار سے آ رہی ہو گی اور نیچے جو انسان کھڑا ہوتا ہے، وہ جس طرف کو، اب اس کے پاس چند لمحے ہیں۔ وہ جس طرف کو بھی قدم اٹھاتا ہے، لگتا ہے ادھر کو آ رہی ہے بھئی۔ چند لمحوں کے اندر وہ کوئی صورت ہی بچنے کی نہیں رہتی، بڑا ہی خوفناک، بڑی عجیب تشبیہ اس نے بیان کر دی بھئی، انسان حیران رہتا ہے بھئی۔
تو عربوں کو اللہ نے عجیب فصاحت و بلاغت دی تھی بھئی۔
اسی طرح صحابہ کی تشبیہات سنیں، انسان حیران رہ جاتا ہے بھئی، صحابہ، عجیب، مبارک اور پیاری تشبیہات بھئی۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم مرض الموت میں گرفتار ہوئے بھئی، بیمار ہیں، بیماری کی وجہ سے نماز کے لیے تشریف نہیں لا سکتے، کبھی ہمت ہو جائے تو تشریف لے آتے ہیں۔
تو ایک صحابی بیان فرماتے ہیں، صحابہ جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی محبت تھی، ایسی محبت تھی جس کی مثال پوری انسانی تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ لفظ کہنے پر جنہوں نے اپنے ماں، باپ، بہن، بھئیوں، سب کی گردنیں اڑا دیں بھئی! نقصان پہنچانا نہیں، صرف حضور کی شان میں گستاخی کرنے والے میں وہ پھر اپنے رشتہ دار، غیر کو نہیں دیکھتے تھے، اس کی گردن تن سے جدا کر دیتے تھے بھئی۔ اتنی عجیب محبت اللہ نے ان کو نصیب فرمائی تھی۔
تو صحابہ، ایک صحابی فرماتے ہیں، صحابہ مسجد میں انتظار کر رہے ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہیں، صحابہ سب بے چین ہیں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے ان کو والہانہ محبت تھی۔ اب انتظار میں، نماز کا وقت ہے، تمام صحابہ مسجد میں جمع ہیں، منتظر ہیں کہ شاید حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت کچھ بہتر ہو، اپ تشریف لے ائیں اور ہمیں نماز پڑھا دیں۔
تو ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر کا پردہ اٹھایا اور مسجد کی طرف جھانکا۔ حضور صلى الله عليه وسلم کے گھر کا دروازہ مسجد کے اندر ہی تھا۔ گھر کا پردہ اٹھایا اور سرورِ کونین صلى الله عليه وسلم نے مسجد کے اندر جھانکا اور پھر آپ نے پردہ واپس گرا دیا۔ اشارہ تھا، معلوم ہوا، تشریف نہیں لا سکتے، نہیں لا سکتے۔ طبیعت اتنی زیادہ خراب آپ کی، بیماری اتنی زیادہ تھی۔
تو صحابی کی تشبیہ سنیں بھئی، عجیب مبارک اور پیاری تشبیہ۔ کہتے ہیں: سرورِ کونین صلى الله عليه وسلم نے پردہ ہٹایا اور مسجد کے اندر جھانکا، حضور صلى الله عليه وسلم کا چہرۂ انور یوں چمک رہا تھا جیسے قرآن کا ورق ہوتا ہے۔ کتنی پیاری تشبیہ ہے بھئی! قرآن کا ورق کتنا مبارک اور منور ہے! صحابی کیا فرماتے ہیں: حضور صلى الله عليه وسلم کا چہرۂ انور قرآن کے ورق کی طرح چمک رہا تھا! تو یہ عربوں کی فصاحت و بلاغت، بھئی۔ جی، آگے لکھیے بھئی، الگ سطر۔
اپنی فصاحت و بلاغت پر فخر کرنے، اپنی فصاحت و بلاغت پر فخر کرنے والے ان عربوں کے پاس، ان عربوں کے پاس جب نبی کریم صلى الله عليه وسلم، جب نبی کریم صلى الله عليه وسلم قرآن لے کر آئے، قرآن لے کر آئے، تو وہ عرب، تو وہ عرب قرآن کی فصاحت و بلاغت دیکھ کر، قرآن کی فصاحت و بلاغت دیکھ کر حیران رہ گئے بھئی، حیران رہ گئے۔
قرآن کا مقابلہ کرنے کے لیے، قرآن کا مقابلہ کرنے کے لیے ان کے پاس، ان کے پاس ایک بڑا ہی آسان راستہ تھا، ایک بڑا ہی آسان راستہ تھا کہ وہ قرآن جیسا کلام بنا کر لے آتے، کہ وہ قرآن جیسا کلام بنا کر لے آتے۔ لیکن انہوں نے کبھی، لیکن انہوں نے کبھی قرآن کے مقابلے میں، قرآن کے مقابلے میں کلام لانے کی کوشش ہی نہ کی، لانے کی کوشش ہی نہ کی، کیونکہ وہ جانتے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ قرآن جیسا کلام بنا ہی نہیں سکتے، کہ وہ قرآن جیسا کلام بنا ہی نہیں سکتے۔
اس کے بجائے، اس کے بجائے انہوں نے انتہائی مشکل راستے، انتہائی مشکل راستے یعنی تلوار کو اختیار کیا، یعنی تلوار کو اختیار کیا کہ تلوار کے زور پر قرآن کا راستہ روکا جائے، کہ تلوار کے زور پر قرآن کا راستہ روکا جائے۔ اور اس میں بھی اللہ نے انہیں ناکام و نامراد فرمایا، اور اس میں بھی اللہ نے انہیں ناکام و نامراد فرمایا۔
الگ سطر میں لکھیے بھئی۔ قرآن کی فصاحت و بلاغت کا پتہ، قرآن کی فصاحت و بلاغت کا پتہ علمِ بلاغت سے چلے گا، علمِ بلاغت سے چلے گا۔
مثال کے طور پر، مثال کے طور پر قرآن میں ہے، قرآن میں ہے: "إِنَّكِ كُنْتِ"، "إِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخَاطِئِينَ"، "إِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخَاطِئِينَ"۔ خاطئین "ط" ہے بھئی "ط"، خطا سے۔ خاطِ، "مِنَ الْخَاطِئِينَ"۔
تو بظاہر یہاں پر، تو بظاہر یہاں پر "من الخاطئات" ہونا چاہیے، "من الخاطئات" ہونا چاہیے، یعنی مؤنث کا صیغہ، یعنی مؤنث کا صیغہ، کیونکہ ماقبل میں مؤنث کے صیغے ہیں، کیونکہ اس سے پہلے مؤنث کے صیغے ہیں۔ تو یہاں پر "من الخاطئات" کے بجائے، تو یہاں پر "من الخاطئات" کی بجائے "مِنَ الْخَاطِئِينَ" کیوں ذکر کیا گیا؟ "مِنَ الْخَاطِئِينَ" کیوں ذکر کیا گیا؟ اس کی وجہ علمِ بلاغت بتلائے گا، اس کی وجہ علمِ بلاغت بتلائے گا۔ اس کا پتہ علمِ بلاغت سے چلے، یعنی کہ اس کا پتہ علمِ بلاغت سے چلے گا۔
نیز، اسی طرح قرآن میں ہے، نیز، اسی طرح قرآن میں ہے: "وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ"، "وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ"۔ قانتین میں "ق" دو نقطوں والا ہے، پھر "ن" ہے، "ت" ہے دو نقطوں والی، "ی"، "ن"۔ "مِنَ الْقَانِتِينَ"۔ یہاں پر بھی بظاہر "من القانتات" ہونا چاہیے، یہاں پر بھی بظاہر "من القانتات" ہونا چاہیے، کیونکہ پیچھے مؤنث کے صیغے ہیں، کیونکہ پیچھے مؤنث کے صیغے ہیں۔ تو یہاں پر، تو یہاں پر "من القانتات" کی بجائے، "من القانتات" کی بجائے "مِنَ الْقَانِتِينَ" کیوں اختیار کیا گیا؟ "مِنَ الْقَانِتِينَ" کیوں اختیار کیا گیا؟ اس کا پتہ بھی علمِ بلاغت ہی سے چلے گا، اس کا پتہ بھی علمِ بلاغت ہی سے چلے گا۔
الگ سطر۔ نیز، اسی طرح قرآن میں ہے، نیز، اسی طرح قرآن میں ہے: "يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ"، "يَسْأَلُونَكَ عَنِ"، "عَنِ"، "عَنِ الْأَهِلَّةِ"۔ اہلہ لکھنا آتا ہے بھئی؟ الف، پھر لام الف، پھر ھ، دو آنکھوں والی، لام اور ت، بھئی گول ت، اور لام پر شد ہے۔ "الْأَهِلَّةِ"۔ "يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ ۖ قُلْ هِيَ مَوَاقِيتُ لِلنَّاسِ"، "قُلْ هِيَ مَوَاقِيتُ لِلنَّاسِ"۔
صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین نے، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے چاند کے بارے میں پوچھا، چاند کے بارے میں پوچھا کہ یہ مہینے کے شروع میں باریک ہوتا ہے، کہ یہ مہینے کے شروع میں باریک ہوتا ہے اور پھر بڑا ہوتا چلا جاتا ہے، اور پھر بڑا ہوتا چلا جاتا ہے، اور مہینے کے آخر میں پھر چھوٹا ہوتا چلا جاتا ہے، اور مہینے کے آخر میں پھر چھوٹا ہوتا چلا جاتا ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کی کیا وجہ ہے؟
اسی بات کو قرآن میں ذکر کیا گیا، اسی بات کو قرآن میں ذکر کیا گیا: "يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ"، "يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ"۔ اہلہ جمع ہے ہلال کی، اہلہ جمع ہے ہلال کی۔ مہینے کے ابتدائی تین دن، مہینے کے ابتدائی تین دن میں جو باریک چاند ہوتا ہے، اسے ہلال کہتے ہیں۔ مہینے کے ابتدائی تین دنوں میں جو باریک چاند ہوتا ہے، اسے ہلال کہتے ہیں۔
آگے قرآن میں ان کے سوال کا جواب دیا گیا، آگے قرآن میں ان کے سوال کا جواب دیا گیا: "قُلْ هِيَ مَوَاقِيتُ لِلنَّاسِ"۔ کہ اے پیغمبر! آپ فرما دیجیے، کہ اے پیغمبر! آپ فرما دیجیے: چاند کے ذریعے لوگ وقت معلوم کرتے ہیں، چاند کے ذریعے لوگ وقت معلوم کرتے ہیں، یعنی دنوں اور مہینوں کا حساب رکھتے ہیں، یعنی دنوں اور مہینوں کا حساب رکھتے ہیں۔
تو صحابہ نے اپنے سوال میں، تو صحابہ نے اپنے سوال میں چاند کے چھوٹے بڑے ہونے کی وجہ پوچھی تھی، چاند کے چھوٹے بڑے ہونے کی وجہ پوچھی تھی، اور جواب میں، اور جواب میں چاند کے چھوٹے بڑے ہونے کے فائدے ذکر کیے گئے، چاند کے چھوٹے بڑے ہونے کے فائدے ذکر کیے گئے۔ تو بظاہر جواب سوال کے مطابق نہیں، تو بظاہر جواب سوال کے مطابق نہیں۔ تقریر بھی سمجھ میں آ رہی ہے یا نہیں؟ انہوں نے پوچھا تھا کہ چھوٹا بڑا کیوں ہوتا ہے، وہ نہیں بتلایا گیا بلکہ اس کے فائدے ذکر کیے گئے۔ تو بظاہر جواب کیا ہے؟ سوال کے مطابق نہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ ایسا کیوں ہے؟ اس کا پتہ بھی علمِ بلاغت ہی سے چلے گا، اس کا پتہ بھی علمِ بلاغت ہی سے چلے گا۔
نیز، الگ سطر لکھیے بھئی۔ نیز، اسی طرح قرآن میں ہے، نیز، اسی طرح قرآن میں ہے: "يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ"، "يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ"، "قُلْ مَا أَنْفَقْتُمْ"، "قُلْ مَا أَنْفَقْتُمْ"، انفقتم: الف، ن، ف، ق دو نقطوں والا، ت، م۔ "مَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ خَيْرٍ"، "مِنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ"، "قُلْ مَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ"، "وَالْأَقْرَبِينَ"، ق دو نقطوں والا ہے اس میں، "وَالْأَقْرَبِينَ وَالْيَتَامَىٰ"، "وَالْيَتَامَىٰ"، یتامیٰ کیسے لکھیں گے؟ آخر میں م اور ی ہے، ی کے اوپر کھڑی زبر، یتیم کی جمع، "وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ"، "وَالْمَسَاكِينِ"۔
وَبَنِي السَّبِيلِ وَبَنِي السَّبِيلِ
جب اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کا حکم دیا گیا جب اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کا حکم دیا گیا، صحابہ کرام نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا جب اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کا حکم دیا گیا، تو صحابہ کرام نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: "مَاذَا يُنْفِقُونَ؟ مَاذَا يُنْفِقُونَ؟" کہ وہ اللہ کے راستے میں کیا خرچ کریں؟ کہ وہ اللہ کے راستے میں کیا خرچ کریں؟
تو انہیں جواب میں بتلایا گیا، تو انہیں جواب میں بتلایا گیا کہ اپنے والدین، اپنے والدین، رشتہ داروں، رشتہ داروں، یتیموں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کرو، اور مسافروں پر خرچ کرو۔
تو سوال تھا، تو سوال تھا کہ کیا خرچ کریں؟ اور جواب میں بتلایا گیا کہ کن پر خرچ کریں؟ اور جواب میں بتلایا گیا کہ کن پر خرچ کریں؟ تو بظاہر یہاں بھی، تو بظاہر یہاں بھی جواب سوال کے مطابق نہیں، جواب سوال کے مطابق نہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟ یہ علم بلاغت سے پتہ چلے گا، اس کی کیا وجہ ہے؟ یہ علم بلاغت سے پتہ چلے گا۔
الگ سطر لکھیے۔ نیز اسی طرح قرآن میں ہے: "وَمَا لِيَ لا أَعْبُدُ الَّذِي فَطَرَنِي وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ" اور مجھے کیا ہے کہ میں اس ذات کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔
تو یہاں پر بھی بظاہر "تُرْجَعُونَ" کی بجائے "أُرْجَعُ" ہونا چاہیے، یعنی "میں اسی کی طرف لوٹایا جاؤں گا"۔ کیونکہ اس سے پہلے واحد متکلم کے صیغے ہیں، واحد متکلم کے صیغے ہیں، تو "تُرْجَعُونَ" کی جگہ بھی واحد متکلم کا صیغہ ہونا چاہیے، واحد متکلم کا صیغہ ہونا چاہیے۔ پھر یہاں "تُرْجَعُونَ" کیوں لایا گیا؟ پھر یہاں "تُرْجَعُونَ" کیوں لایا گیا؟ یہ تفصیل علم بلاغت بتلائے گا، یہ تفصیل علم بلاغت بتلائے گا۔
الگ سطر۔ علم بلاغت تین علوم کا مجموعہ ہے: علم معانی، علم بیان، اور علم بدیع۔ علم معانی، علم بیان، اور علم بدیع۔
چلیے بس۔ هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔