Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-002

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 03 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 14
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
سبق نمبر۔۲‏ آج ہم دروس البلاغہ کتاب شروع کرنے والے ہیں۔ یاد رکھیے دروس البلاغہ ‏کے بارے میں کہ یہ آج سے تقریباً سو سال قبل بعض مصری علماء، اہل علم ‏حضرات نے ابتدائی درجات کے طلباء کے لیے عربی قواعد کی کتابیں لکھنے ‏کا سلسلہ شروع کیا بھئی۔ ابتدائی درجات کے طلباء کے لیے عربی قواعد کی کچھ کتابیں لکھنے کا سلسلہ ‏شروع کیا، بڑی کتابوں ہی سے اخذ کرتے ہوئے ابتدائی درجات کے طلباء کے ‏لیے وہ عربی زبان میں انہوں نے چند کتابیں تیار کیں بھئی۔ اور یہ دروس ‏البلاغہ بھی اسی سلسلے میں فن بلاغت کے اندر انہوں نے لکھی اور آج کل ‏مصر کے اندر بھی وہ کتابیں عربی قواعد کی جو ہیں وہ ابتدائی درجات کے ‏طلباء کو مدارس میں پڑھائی جاتی ہیں اور یہ دروس البلاغہ یہاں پر بھی ‏مدارس کے نصاب میں داخل کی گئی ہے بھئی۔ یہ کتاب کے جو مصنفین ہیں ان کے نام کتاب پر دیے ہوئے ہیں آپ کے: حفنی ‏ناصف، محمد دیاب، سلطان محمد، مصطفی طموم۔ بھئی یہ کچھ اہل علم ‏حضرات علماء تھے جنہوں نے مل کر یہ کتابیں لکھیں بھئی۔ تو بڑی پیاری ‏اور مفید کتاب لکھی اور علم بلاغت کے اندر ہے یہ کتاب۔ تو شروع میں علم ‏بلاغت کے بارے میں مختصراً ایک بحث لکھ لیجیے بھئی۔ جی، ابتدا میں ایک ‏بحث لکھ لیجیے‎:‎ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ‏‏۲۳ سال کے عرصے میں تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہوا۔ قرآن کریم سرور ‏کونین صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ معجزہ ہے جو آج بھی زندہ ہے۔ اس بات میں تو علماء کا اتفاق ہے کہ قرآن کریم پیغمبر علیہ الصلاۃ والسلام کا ‏معجزہ ہے لیکن قرآن کس اعتبار سے معجز ہے؟ اس سلسلے میں علماء کے ‏کئی اقوال ہیں۔ قول اول: بعض علماء لکھتے ہیں کہ قرآن معجز ہے ذکر مغیبات کی وجہ سے۔ ‏یعنی اس میں غیب کی خبریں دی گئیں اور کوئی کتاب ایسی نہیں جس میں ‏غیب کی خبریں دی گئی ہوں اور وہ حرف بحرف پوری ہوں۔ قول ثانی: بعض علماء فرماتے ہیں کہ قرآن معجزہ ہے اپنے اسلوب بیان کی ‏وجہ سے۔ اسلوب بیان بھئی، انداز بیان۔ قرآن کا انداز بڑا عجیب ہے۔ کہیں جنت ‏کا تذکرہ ہوتا ہے تو ساتھ ہی جہنم کا ذکر آ جاتا ہے۔ کہیں کوئی واقعہ ذکر ہوتا ‏ہے تو کہیں نصیحتیں آ جاتی ہیں۔ کہیں دعا کا ذکر ہوتا ہے تو کہیں نعمتیں ‏گنوائی جاتی ہیں اور کسی کتاب کا یہ انداز نہیں۔ قول ثالث: بعض علماء لکھتے ہیں کہ قرآن معجزہ ہے اپنی تاثیر کے اعتبار ‏سے۔ تاثیر 'ث' کے ساتھ ہے بھئی 'ث' سے، تاثیر کے اعتبار سے۔ قرآن بہت ‏جلدی دلوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ قرآن کا وہ ہے نا عجیب، عجیب اثر، عجیب ‏اثر بھئی! آپ واقعات پڑھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن پڑھتے اور وہ ‏مشرکین مکہ میں سے کوئی سنتا، فوراً مسلمان ہو جاتا بھئی۔ اور کیسے اثر ‏انداز، اثر نہ پڑتا جبکہ کتاب قرآن ہو اور پڑھنے والی ذات نبی کریم صلی اللہ ‏علیہ وسلم کی ہو‎!‎ روایات میں آتا ہے بھئی کہ جو آپ کے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت ‏ترین مخالف بھی تھے، وہ بھی رات کے وقت حضور علیہ السلام جب بیت اللہ ‏کے پاس قرآن پڑھا کرتے تھے نوافل میں، نمازوں میں، تو وہ چھپ کر سننے ‏آیا کرتے تھے۔ حتیٰ کہ ابو جہل کے بارے میں بھی آتا ہے کہ وہ بھی آکر ‏چھپ کر سنا کرتا تھا۔ اس قرآن میں اتنی لذت اللہ نے رکھی! لیکن وہ الگ بات ‏ہے، ضد کی وجہ سے، سرکشی کی وجہ سے وہ اس کو تسلیم نہیں کرتا تھا۔ بہرحال، قرآن کے اندر اللہ نے یہ تو وہ واقعہ میں ذکر کر رہا تھا حضور صلی ‏اللہ علیہ وسلم کا، ویسے قرآن کے اندر اللہ نے عجیب اثر رکھا ہے، کسی کتاب ‏کے اندر وہ اثر نہیں بھئی، کسی کتاب میں۔ اتنا عجیب اثر کہ غیر مسلم بھی ‏جب اس کو سنتے ہیں، اگرچہ ان کو سمجھ میں نہیں آتا، عربی کا ایک لفظ وہ ‏نہ جانتے ہوں، دنیا کی کسی بھی زبان سے، کسی بھی قوم سے ان کا تعلق ہو، ‏ان کے سامنے قرآن پڑھا جائے تو ان کے دلوں پر اثر انداز ہوتا ہے اور ‏واضح طور پر وہ اس کو محسوس کرتے ہیں بھئی، واضح طور پر۔ یہ چند سال قبل کا واقعہ ہے جس کا ذکر اخبارات میں بھی آیا کہ روس کے ‏اندر محفل قرأت منعقد ہوئی، مصر کے کوئی قاری شاید قاری عبدالباسط یا کون ‏سے قاری تھے، ان کو بلوایا گیا تھا اور ایک بہت بڑے ہال کے اندر بھئی ‏انہوں نے تلاوت کی اور سامنے ہزاروں کا مجمع جس میں ان کے بڑے بڑے ‏لوگ بھی شامل، حتیٰ کہ وزراء بھی اس میں شامل تھے سننے والوں کے اندر ‏بھئی۔ اور وہ غیر مسلم تھے، چند ایک مسلمان ہوں گے، باقی غیر مسلم تھے ‏لیکن مصر کے قاری کو سننے آئے تھے کہ مشہور قاری آرہے ہیں یہاں پر۔ ‏قاری نے تلاوت کی بھئی اور جتنے غیر مسلم بیٹھے ہوئے تھے، سب کی ‏آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے قرآن سنتے ہوئے، اتنا عجیب اثر، اتنا عجیب ‏اثر‎!‎ آگے لکھیے بھئی، قول رابع: بعض علماء لکھتے ہیں کہ قرآن معجزہ ہے ‏باعتبار عدم خلق کے۔ خ، ل، ق، نقطوں والا ق۔ ل پر فتحہ ہے بھئی خلق۔ خلق ‏کا معنی پیدا کرنا اور خلق جو ہے، خلق کا معنی پرانا ہونا۔ تو بعض علماء ‏لکھتے ہیں کہ قرآن معجزہ ہے باعتبار عدم خلق کے۔ یعنی اسے جتنی مرتبہ ‏بھی پڑھا جائے، یہ پرانا نہیں ہوتا۔ یعنی اس کے پڑھنے سے جی نہیں بھرتا۔ ‏یہ قول رابع سمجھ میں آیا بھئی؟ اور کوئی بھی کتاب ہو، دو تین، کتنی ہی ‏بہترین کیوں نہ ہو، ایک دو مرتبہ کے بعد اسے دوبارہ پڑھنے کو جی نہیں ‏کرتا۔ قول خامس: بعض علماء لکھتے ہیں کہ قرآن معجزہ ہے عجائبات پر مشتمل ‏ہونے کی وجہ سے۔ قرآن عجائبات پر مشتمل ہے۔ اس کی اب تک ہزاروں ‏لاکھوں تفاسیر لکھی جا چکی ہیں مگر اس کے عجائبات ختم ہونے میں نہیں ‏آرہے۔ ہر آنے والا مفسر نئے نئے نکات بیان کرتا ہے جن سے پچھلی تفاسیر ‏خالی ہوتی ہیں اور قرآن کے عجائبات ختم ہی کیسے ہو سکتے ہیں‎!‎ جب کہ یہ خالقِ ارض و سماء کی کتاب ہے। القرآن كلام الله تعالى، لا تنقضي عجائبه - قاف دو نقطوں والا، ضاد اور یا - لا ‏تنقضي عجائبه، إلى يوم القيامة۔ چلیے بھئی، باقی بحث کل لکھیں گے۔ ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔