Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تيسير المنطق · dars-018

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Ghais
📍 Location Lahore, Pakistan
📅 Approved Date 05 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 12
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
جی، دیکھیے بھئی کتاب پر۔ سبقِ نہم، نواں سبق۔ ذاتی اور عرضی کی قسمیں۔ ذاتی کی تین قسمیں ہیں: جنس، نوع، فصل۔ جنس: وہ کلی ذاتی ہے جو ایسی جزئیات پر بولی جائے کہ ان جزئیات کی حقیقتیں الگ الگ ہوں، جیسے حیوان کہ اس کی ‏جزئیات انسان و بقر و غنم کی حقیقت جدا جدا ہے۔ نوع: وہ کلی ذاتی ہے جو ایسی جزئیات پر بولی جائے کہ ان جزئیات کی حقیقت ایک ہو، جیسے انسان کہ زید، عمرو، بکر ‏وغیرہ کی نوع ہے اور ان کی حقیقت ایک ہے۔ فصل: وہ کلی ذاتی ہے جو ایسی جزئیات پر بولی جائے کہ ان کی حقیقت ایک ہو اور دوسری حقیقتوں سے اس حقیقت کو ‏جدا کرے، جیسے ناطق انسان کا فصل ہے کہ زید، عمرو، بکر پر بولا جاتا ہے اور ان کی حقیقت یعنی انسان کو دیگر ‏حقائق مثلاً بقر و غنم وغیرہ سے جدا کرتا ہے۔ کل کے سبق کا خلاصہ سن لیجیے ایک مرتبہ دوبارہ۔ گزشتہ سبق میں آپ نے حقیقت اور ماہیت کے بارے میں پڑھا، اور ‏اسی طرح کلی ذاتی اور کلی عرضی۔ حقیقت اور ماہیت، چاہے حقیقت لفظ بول لیں چاہے ماہیت، دونوں کا ایک معنی ہے۔ حقیقت یا ماہیت کسی چیز کی وہ ہوتی ‏ہے جس سے وہ چیز بنے، یعنی وہ پرزے جن سے مل کر کوئی چیز بنے وہ اس چیز کی حقیقت اور ماہیت کہلاتے ہیں ‏بھئی، حقیقت۔ اور وہ ایسے پرزے کہ وہ ہیں تو وہ چیز ہے، وہ نہیں ہیں تو وہ چیز بھی نہیں ہے۔ جیسے انسان کی حقیقت کیا ہے؟ حیوانِ ناطق۔ ان میں سے ایک بھی پرزہ، ایک بھی چیز ان میں سے کم ہوگئی تو انسان ‏نہیں ہو سکتا۔ دونوں چیزیں ہوں گی تو پھر ہی انسان پایا جائے گا، کیونکہ یہ انسان کی حقیقت اور ماہیت ہیں بھئی، ماہیت ‏ہیں۔ اسی طرح حیوانِ صاہل، یہ کس کی حقیقت ہے؟ یہ گھوڑے کی حقیقت ہے۔ یہ دونوں پرزے ہوں گے تو گھوڑے کا ‏وجود ہوگا، ان میں سے ایک پرزہ بھی کم ہو جائے تو پھر گھوڑے کا وجود نہیں، کیونکہ یہ اس گھوڑے کی حقیقت اور ‏ماہیت ہے۔ اسی طرح حیوانِ ذو خوار، یہ کس کی حقیقت ہے؟ یہ گائے، بیل وغیرہ کی حقیقت ہے، اور یہ دونوں پرزے ہوں گے تو ‏گائے، بیل وغیرہ ہوں گے، اگر ان میں سے ایک بھی پرزہ کم ہو گیا تو گائے، بیل وغیرہ کا وجود نہیں ہو سکتا، کیونکہ ‏یہ گائے اور بیل کی حقیقت اور ماہیت ہیں۔ اسی طرح حیوانِ ذو رغاء، یہ کس کی حقیقت ہے؟ یہ بکری کی حقیقت ہے، یہ دونوں پرزے ہوں گے تو بکری ہوگی، ‏کیونکہ یہ بکری کی حقیقت اور ماہیت ہے۔ ان کے ان میں سے ایک بھی کم ہوا تو بکری کا وجود نہیں ہوگا۔ اسی طرح یاد رکھیے حیوانِ ناہق، ن، ا، ہ اور ق دو نقطوں والا، حیوانِ ناہق یہ گدھے کی حقیقت ہے۔ نہق وہ گدھے کی ‏مخصوص آواز جو نکالتا ہے، اس کو نہق کہتے ہیں عربی میں۔ تو حیوانِ ناہق وہ مخصوص آواز والا جو حیوان ہے۔ تو یہ ‏حیوانِ ناہق کیا ہے؟ گدھے کی حقیقت اور ماہیت ہے۔ یہ دونوں پرزے ہوں گے، یہ دونوں چیزیں ہوں گی تو پھر گدھے کا ‏وجود ہوگا، اگر ان میں سے ایک بھی کم ہو گیا تو پھر گدھے کا وجود نہیں ہو سکتا، کیونکہ یہ گدھے کی حقیقت اور ماہیت ‏ہیں بھئی، ماہیت ہیں۔ اور اس کے علاوہ اگر اور چیزیں ہوں وہ کسی چیز میں پائی جائیں، حقیقت اور ماہیت کے علاوہ اور پرزے ہیں یا اور ‏کوئی چیزیں ہیں، ان کو عوارض کہا جاتا ہے۔ ان کو کیا کہتے ہیں؟ عوارض کہتے ہیں، اور ان پر اس چیز کا دارومدار ‏نہیں ہوتا کہ وہ نہ ہوں تو وہ چیز ہی نہ پائی جائے، ایسا نہیں۔ پھر آپ نے پڑھا کہ کلی کی دو قسمیں ہیں: ایک کلی ذاتی اور ایک کلی عرضی۔ میں نے بتلایا تھا ذاتی وہ چیز ہے جس سے کوئی چیز بنے، ذاتی وہ چیز ہے جس سے کوئی چیز بنے اور یعنی یوں کہیں ‏اس جس پر اس چیز کا دارومدار ہو، اور عرضی وہ ہے جس پر کسی چیز جو کسی چیز میں پائی تو جائے لیکن وہ لیکن ‏اس چیز کا اس پر دارومدار نہ ہو۔ تو پھر یہ جو پرزہ ہے، یہ جو جو ذاتی ہے یعنی جس پر اس چیز کا دارومدار ہے، اگر ‏یہ اوروں میں بھی پایا جائے تو پھر اس کو کہیں گے کلی ذاتی۔ کلی ہے نا، اوروں میں بھی پایا جا رہا ہے۔ صورت سمجھ ‏میں آ رہی ہے؟ اور اسی طرح اگر وہ پرزہ جس پر کسی چیز کا دارومدار تو نہیں ہے لیکن وہ اور چیزوں میں پایا جا رہا ‏ہے، اس کو کیا کہیں گے؟ کلی عرضی کہیں گے۔ اور انہوں نے زیادہ بہتر الفاظ یہ تو میں نے آپ کو سمجھانے کے لیے تفصیل بیان کی، صاحبِ کتاب، صاحبِ تسہیل ‏المنطق جو ہیں انہوں نے بڑے پیارے الفاظ میں آپ کو بتلایا کہ کلی ذاتی وہ کلی ہے جو اپنے جزئیات کی پوری حقیقت ہو ‏یا حقیقت کا جز ہو۔ لہٰذا انسان کے لیے حیوانِ ناطق یہ کیا ہے؟ کلی ذاتی ہے، کیونکہ پوری حقیقت ہے۔ یا حقیقت کا جز ہو، ‏وہ بھی کلی ذاتی ہوگی۔ مثلاً صرف حیوان، یہ انسان کے لیے کیا ہے؟ کلی ذاتی ہے۔ ذاتی ہے کہ اس سے حیوان اس سے ‏انسان کا وجود بنتا ہے، یہ نہ ہو تو انسان بھی نہ ہو۔ اور کلی ہے، صرف ایک انسان میں ہے یا ہر فرد میں یہ ہے؟ ہر فرد ‏میں یہ ہے، بلکہ اور حقیقتوں کے افراد میں بھی ہے، گائے، بیل، بکری وہ بھی سب کیا ہیں؟ حیوان ہیں۔ تو لہٰذا یہ کلی ہے۔ ‏یہ حیوان کیا ہے؟ کلی۔ اور کون سی کلی ہے؟ کلی ذاتی۔ تو حیوان تو حیوانِ ناطق یہ بھی انسان کے لیے کلی ذاتی، صرف حیوان یہ بھی انسان کے لیے کلی ذاتی، اور صرف ناطق ‏یہ بھی کیا ہے انسان کے لیے؟ کلی ذاتی ہے، کیونکہ کلی ذاتی وہ کلی ہے جو اپنی جزئیات کی پوری حقیقت ہو یا حقیقت کا ‏جز ہو۔ تو انسان کی پوری حقیقت کیا؟ حیوانِ ناطق، یہ بھی کلی ذاتی۔ اور حقیقت کا جز کیا؟ حیوان اور ناطق، تو یہ دونوں ‏بھی کیا ہیں؟ کلی ذاتی ہیں۔ اور وہ کلی جو اپنے جزئیات کی نہ تو پوری حقیقت ہو اور نہ حقیقت کا جز ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ اس کو کلی عرضی ‏کہتے ہیں بھئی۔ جیسے ضاحک بھئی، ضاحک ہنسنے والا۔ تو ضاحک یہ انسان کے لیے کیا ہے؟ جی، انسان کے لیے ‏ذاتی کلی انسان کے لیے کلی عرضی ہے بھئی، کیونکہ ہر انسان ضاحک ہے، یعنی اس میں اللہ نے یہ صلاحیت رکھی ہے ‏تو ضروری نہیں وہ چاہے ساری زندگی نہ ہنسے، لیکن صلاحیت ہے یا نہیں اس میں ہنسنے کی؟ تو یہ ضاحک انسان ‏میں پایا تو جائے گا، ضحک پایا تو جائے گا، لیکن اس پر اس کے وجود کا دارومدار نہیں، تو یہ عرضی ہوا اور تو یہ نہ ‏حقیقت ہے اور نہ یہ نہ انسان کی حقیقت ہے اور نہ حقیقت کا جز، لہٰذا اس کو کیا کہیں گے؟ کلی عرضی کہیں گے بھئی۔ اب آئیے آج کے سبق کی طرف بھئی۔ آج ہم نواں سبق پڑھیں گے: ذاتی اور عرضی کی قسمیں۔ اتنا تو پتہ چل گیا کلی ذاتی ‏کسے کہتے ہیں؟ کلی ذاتی، تعریف دہرائیں اپنے زبان سے۔ وہ کلی جو اپنی جزئیات کی پوری حقیقت ہو یا حقیقت کا جز ‏ہو۔ اور کلی عرضی کسے کہتے ہیں؟ وہ کلی جو اپنے جزئیات کی نہ تو پوری حقیقت ہو، نہ حقیقت کا جز ہو۔ اب ان کی یاد رکھیے دونوں کی ملا کر پانچ قسمیں ہیں، ان کو کلیاتِ خمسہ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ خمسہ کا معنی پانچ نا، ‏تو کلی کی جمع کلیات، تو کلیاتِ خمسہ۔ تو یہ دونوں کی ملا کر پانچ قسمیں ہیں: کلی ذاتی کی تین قسمیں اور کلی عرضی ‏کی دو قسمیں، تو کل کتنی ہو گئیں؟ پانچ، پانچ قسمیں ہو گئیں۔ جی، یہ آسان ہے دیکھیے کتاب پر بھئی۔ ذاتی اور عرضی کی قسمیں۔ ذاتی کی تین قسمیں ہیں: جنس، نوع اور فصل۔ جنس وہ کلی ذاتی ہے جو ایسی جزئیات پر بولی جائے، یا یوں کہہ لو جو ایسے افراد پر بولی جائے، جزئیات اور افراد کا ‏ایک معنی۔ وہ کلی ذاتی ہے جو ایسی جزئیات پر بولی جائے کہ ان جزئیات کی حقیقتیں الگ الگ ہوں۔ ان جزئیات کی؟ اب ‏ادھر دیکھو، مجھے کوئی ایسی کلی ذاتی بتاؤ، کلی ہو اور کون سی کلی ہو؟ ذاتی ہو، اور مختلف حقیقتوں کے افراد میں ‏پائی جائے، جن کی حقیقتیں الگ الگ ہوں۔ کوئی بتاؤ۔ جی؟ حیوانِ ناطق۔ حیوانِ ناطق؟ اچھا مجھے بتاؤ حیوانِ ناطق کس پر ‏بولا جائے گا؟ زید، عمرو، بکر، خالد وغیرہ، ان کی حقیقتیں الگ ہیں یا سب کی حقیقت ایک ہی ہے؟ سب کی ایک ہے۔ میں ‏نے تو کہا ایسی کلی ذاتی جو ایسے جزئیات، ایسے افراد پر بولی جائے جن کی حقیقتیں الگ الگ ہوں۔ شاباش! صرف ‏حیوان۔ حیوان دیکھو کلی ذاتی ہے، اور یہ انسان پر بھی بولی جاتی ہے، انسان کے لیے بھی کلی ذاتی، گائے، بیل، بکری کے لیے ‏بھی یہ کلی ذاتی، گھوڑے کے لیے بھی یہ کلی ذاتی، گدھے کے لیے بھی کیا ہے؟ کلی، کیونکہ یہ سب کیا ہیں؟ حیوان۔ تو ‏دیکھو جنس ایسی کلی ذاتی ہے جو ایسے جزئیات، ایسے افراد پر بولی جاتی ہے جن کی حقیقتیں الگ الگ۔ دیکھو ان سب ‏کی حقیقت الگ ہے، انسان کی حقیقت حیوانِ ناطق، گھوڑے کی حقیقت حیوانِ صاہل، گدھے کی حقیقت حیوانِ ناہق، گائے، ‏بیل کی حقیقت حیوانِ ذو خوار، اور بکری کی حقیقت حیوانِ ذو رغاء۔ تو دیکھا حقیقتیں الگ الگ ہیں، ان سب میں یہ کلی ‏ذاتی حیوان جو ہے وہ ان سب پر بولی جاتی ہے۔ تو ایسی کلی ذاتی جو ایسے افراد پر بولی جائے جن کی حقیقتیں الگ الگ ہوں اس کو جنس کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ جنس ‏کہتے ہیں۔ اور کوئی مثال دیجیے مجھے؟ اور کوئی مثال؟ یا جیسے دیکھ لو جسم ہے، یا یوں کہو جسمِ نامی ہے، کیا ہے؟ ‏جیسے جسمِ نامی ہے۔ جسمِ نامی انسان کے بھی جسمِ نامی ہے، کیونکہ انسان کیا ہے؟ حیوان ہے نا، اور حیوان کسے کہتے ‏ہیں؟ جیسے حیوان بھئی، انسان، بقر و غنم، گائے، بیل، بکری یہ سب کیا ہیں؟ حیوان۔ اور ہر حیوان، حیوان کسے کہتے ‏ہیں؟ میں نے کل آپ کو بتایا تھا، جسمِ نامی، حساس اور متحرک بالارادہ، تینوں چیزیں ملیں گی تو حیوان پایا جائے گا ‏بھئی۔ یہ حیوان کی حقیقت ہے، کیا؟ جسمِ نامی ہو، بڑھنے والا جسم ہونا چاہیے، پھر حساس ہو، محسوس کرتا ہو چیزوں ‏کو بھئی، بھوک، پیاس وغیرہ، اور متحرک بالارادہ، اپنے ارادے سے حرکت کرنے والا ہو۔ تو معلوم ہوا یہ جتنے حیوان ہیں سب کیا ہیں؟ ان سب کا جسمِ نامی بھی ہے، کیونکہ یہ حیوان ہیں اور ہر حیوان میں کیا ہوتا ‏ہے؟ جسمِ نامی۔ نیز یہ سب کیا ہیں؟ حساس ہیں، چیزوں کو محسوس کرنے والے ہیں۔ اور نیز یہ سب متحرک بالارادہ ہیں۔ تو جنس کے بارے میں بات چل رہی تھی، جنس وہ کلی ذاتی ہے جو ایسے افراد پر بولی جائے جن کی حقیقتیں الگ الگ ‏ہوں۔ ایک قسم آپ نے بیان کر دی، ایک جیسے حیوان ہے۔ حیوان یہ کلی ذاتی ہے اور جن افراد پر بولی جاتی ہے ان کی ‏حقیقتیں الگ الگ۔ حیوان انسان پر بھی بولا جاتا ہے، انسان بھی حیوان ہے، حیوان گھوڑے پر بھی بولا جاتا ہے، حیوان ‏گائے، بیل پر بھی بولا جاتا ہے اور ان سب کی حقیقتیں آپ جانتے ہیں کہ الگ الگ ہیں۔ انسان کی حقیقت حیوانِ ناطق ہے، ‏گھوڑے کی حقیقت حیوانِ صاہل ہے، گدھے کی حقیقت حیوانِ ناہق ہے۔ اور جنس بتائیں جو مختلف حقیقتوں کے افراد پر بولی جائے۔ میں نے مثال ذکر کر دی۔ جسمِ نامی، کیا ہے؟ جسمِ نامی، یہ ‏مختلف افراد کے حقیقتوں پر بولا جاتا ہے۔ انسان بھی ہے، گائے، بیل، بکری وغیرہ یہ سب کیا ہیں؟ ان میں یہ جسمِ نامی ‏ہے۔ کوئی اور مثال دیجیے؟ حساس بھی اسی طرح ہے، انسان بھی حساس، گائے بھی حساس، بکری بھی حساس، گھوڑا ‏بھی حساس، کیونکہ سب حیوان ہیں کہ نہیں ہیں؟ اور ہر حیوان کیا ہوتا ہے؟ حساس ہوتا ہے۔ تو یہ بھی ایسی کلی ذاتی ہے ‏جو ایسے افراد پر بولی جا رہی ہے جن کی حقیقتیں الگ الگ ہیں۔ کوئی اور بتائیے؟ وہی متحرک بالارادہ بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ جب حیوان جب حیوان کیا تھا؟ جنس، تو حیوان کے اندر جو جو چیزیں ہیں وہ سب جنس بن جائیں ‏گی۔ جسمِ نامی بھی کیا بن جائے گا؟ جنس، حساس بھی کیا ہے؟ جنس، متحرک بالارادہ یہ بھی جنس ہے، کیونکہ انسان بھی ‏متحرک بالارادہ، بکری بھی متحرک بالارادہ، گھوڑا بھی متحرک بالارادہ ہے۔ تو یہ ایسی کلی ذاتی ہے جو ایسے افراد پر ‏بولی جاتی ہے جن کی حقیقتیں الگ الگ ہیں، الگ الگ ہیں۔ اور کوئی مثال دیجیے؟ جیسے جسم ہے، جیسے کیا ہے؟ جیسے جسم ہے۔ بھئی جہاں جسمِ نامی ہوگا، تو جسم ہوگا یا نہیں؟ ‏پہلے جسم ہوگا پھر ہی نامی ہوگا نا، جسم ہونا ضروری ہے پھر بڑھنے والا بھی ہو۔ تو جسم یہ بھی کیا ہے؟ یہ جنس ہے، ‏یہ ایسی جزئیات پر بولا جاتا ہے جن کی حقیقتیں الگ الگ ہیں۔ دیکھو جسم کس کس میں ہے؟ پتھر میں بھی ہے، درخت ‏میں بھی ہے، اور کتاب، یہ سب چیزیں ہیں اور ان سب کی حقیقت کیا ہے؟ الگ الگ ہے، الگ الگ ہے۔ تو یہ ایسی کلی ‏ذاتی ہے جو ایسے افراد پر بولی جاتی ہے جن کی حقیقتیں الگ الگ ہیں، اور وہ جسمِ نامی جسمِ نامی کے اندر رہ گیا، اس ‏میں درخت بھی آ جاتے ہیں، حیوان بھی ہیں اور درخت بھی، وہ بھی جسمِ نامی ہے ان کا بھئی۔ بات اچھی طرح سب کو سمجھ میں آگئی؟ ہاں، اب دیکھیے کتاب پر: جنس وہ کلی ذاتی ہے جو ایسی جزئیات پر بولی جائے ‏کہ ان جزئیات کی حقیقتیں الگ الگ ہوں۔ جزئیات کا دوسرا نام؟ افراد، یہ آپ نے ہمیشہ یاد رکھنا ہے، پریشان نہیں ہونا، یہ ‏وہی افراد کا نام ہے۔ تو جنس وہ کلی ذاتی ہے جو ایسی جزئیات پر بولی جائے کہ ان جزئیات کی حقیقتیں الگ الگ ہوں، ‏جیسے حیوان کہ اس کی جزئیات انسان و بقر و غنم کی حقیقت جدا جدا ہے۔ انسان، بقر، غنم، انسان تو انسان جانتے ہیں آپ، بقر، بقر گائے، بیل کو کہتے ہیں۔ بقر کسے کہتے ہیں؟ گائے، بیل۔ اور غنم ‏یہ بھیڑ، بکری کو کہتے ہیں بھئی، بھیڑ، بکری کو۔ تو جیسے کہ اس کی جزئیات انسان و بقر و غنم کی حقیقت جدا جدا، بقر ‏کسے کہتے ہیں؟ گائے، بیل کو کہتے ہیں، اور غنم؟ بھیڑ، بکری کو کہتے ہیں۔ تو بھیڑ ایک قسم ہوگئی اور بکری دوسری ‏قسم۔ آگے دیکھیے نوع۔ نوع وہ کلی ذاتی ہے، دیکھو یہ سب کلی ذاتی کی قسمیں چل رہی ہیں، اسی لیے شروع میں ہی کہہ دیتے ‏ہیں: وہ کلی ذاتی ہے جو ایسی جزئیات پر بولی جائے یعنی ایسے افراد پر بولی جائے کہ ان جزئیات کی حقیقت ایک ہو، کہ ‏ان کی حقیقت کیا ہو؟ ایک ہو۔ اب مجھے بتائیے، کوئی ایسی کلی ذاتی بتاؤ جو ایک حقیقت والے افراد پر بولی جائے، زیادہ ‏حقیقت والوں پر نہیں، ایک حقیقت والوں پر بولی جائے۔ کلی، کلی بتاؤ۔ جیسے انسان، کیا ہے؟ انسان، اس کے سارے افراد ‏ان کی حقیقت کیا ہے؟ ایک ہے، سب کیا ہیں؟ حیوانِ ناطق۔ اور کوئی لفظ بولو؟ جی؟ حیوانِ صاہل۔ حیوانِ صاہل یہ ہر ‏گھوڑے پر بولا جائے گا، کیونکہ ہر گھوڑا کیا حیوانِ صاہل اور ہر گھوڑے کی حقیقت ایک ہی ہے یا الگ الگ ہے؟ ایک ‏ہی ہے۔ اور کوئی مثال؟ حیوانِ ذو رغاء۔ اور کوئی مثال؟ جی؟ جسم؟ جسم تو مختلف حقیقتوں والے افراد پر بولا گیا، ابھی ‏ذکر ہوا تھا۔ ایک حقیقت والوں پر بولا جائے، دوسروں پر نہیں۔ درخت، انہوں نے ٹھیک کہا، درخت کیا ہے؟ یہ نوع ہے، ‏کیا ہے؟ نوع۔ ایک حقیقت والے ہیں، سب جسمِ نامی ہیں۔ جو بھی درخت ہے وہ کیا ہے؟ لہٰذا ادھر دیکھو، انسان یہ بھی کیا ‏ہے؟ یہ نوع ہے، یہ کیا ہے؟ نوع ہے، کیونکہ یہ ایک ہی حقیقت والی چیزوں پر بولا جاتا ہے۔ انسان کسے کہتے ہیں؟ ‏حیوانِ ناطق، یہ حیوانِ ناطق یہ بھی نوع ہے۔ ایک ہی حقیقت والوں پر بولا جا رہا ہے کہ نہیں؟ صورت سمجھ میں آگئی؟ ‏اسی طرح حیوانِ صاہل یہ بھی کیا ہے؟ نوع۔ اسی طرح حیوانِ ذو خوار یہ بھی کیا ہے؟ نوع۔ اسی طرح حیوانِ ناہق، یہ ‏بھی نوع ہے۔ تو بکری ایک نوع ہے، گدھا ایک نوع ہے، گائے، بیل ایک نوع ہے، اور ہر چیز، جو بھی چیز آپ نام لیں گے وہ ایک ‏نوع ہے۔ چڑیا یہ کیا ہے؟ ایک نوع ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ کیونکہ ایک ہی حقیقت ان سب کی حقیقت جن پر یہ لفظ ‏بولا جاتا ہے ان سب کی حقیقت کیا ہے؟ ایک ہی ہے۔ تو نوع وہ کلی ذاتی ہے جو ایسی جزئیات پر بولی جائے کہ ان جزئیات کی حقیقت ایک ہو، جیسے انسان کہ زید، عمرو، ‏بکر وغیرہ کی نوع ہے اور ان کی انسان ان کی نوع ہے اور ان کی سب کی حقیقت ایک ہی ہے۔ تیسرا آگیا فصل بھئی۔ فصل وہ کلی ذاتی ہے جو ایسی جزئیات پر یعنی ایسے افراد پر بولی جائے کہ ان کی حقیقت ایک ہو، ‏اور دوسری حقیقتوں سے اس حقیقت کو جدا کرے، یہ ایک نئی چیز ساتھ آگئی۔ فصل وہ کلی ذاتی ہے، توجہ ہے؟ جو ایسے ‏جزئیات پر بولی جائے کہ ان کی حقیقت ایک ہو اور وہ دوسری حقیقتوں سے اس حقیقت کو کیا کر دے؟ جدا کر دے، ‏جیسے ناطق انسان کا فصل ہے۔ ناطق کن پر بولا جاتا ہے؟ انسانوں پر، اور سب انسانوں کی حقیقت کیا ہے؟ ایک ہی ہے، سب کی حقیقت۔ اور نیز اس ‏ناطق نے اس حیوان کو یعنی انسان کو گائے، بیل، بکری وغیرہ سے الگ کر دیا یا نہیں؟ جیسے ہی ناطق آیا آپ کو پتہ چل ‏گیا یہ کس حیوان کی بات ہو رہی ہے؟ انسان کی، یا جیسے صاہل ہے، صاہل اس نے یہ کس پر بولا جاتا ہے؟ گھوڑے، ‏ہر گھوڑے پر۔ ہر گھوڑا صاہل ہے، تو یہ اس کے لیے کلی ذاتی ہے، اس کی حقیقت کا جز ہے۔ اور تو اور گھوڑوں کی ‏حقیقت ایک ہی ہے، تو صاہل ایک ہی حقیقت والی چیزوں پر بولا جا رہا ہے اور کیا کر رہا ہے؟ ان صاہل اس حیوان کو ‏جو گھوڑا ہے، اس حیوان کو باقی چیزوں سے کیا کر رہا ہے؟ جدا کر رہا ہے، الگ کر رہا ہے۔ اس سے فوراً آپ سمجھ ‏گئے کہ کسی اور حیوان کی بات نہیں ہو رہی، کس کی ہو رہی ہے؟ حیوانِ صاہل یعنی گھوڑے کی بات ہو رہی ہے۔ اور ‏کوئی مثال دو فصل کی؟ جی؟ غنم؟ غنم تو نوع ہو جائے گا، صرف بکری مراد لیں۔ یہ تو پوری حقیقت ہے۔ ذو رغاء، ذو ‏رغاء، یہ فصل ہے، یہ بکری کو باقی سارے حیوانات سے کیا کر دیتا ہے؟ جدا، اور ساری بکریوں پر یہ بولا جاتا ہے ‏اور سب کی حقیقت ایک۔ تو یہ ایک حقیقت کے افراد پر بولا گیا اور اس نے اس کو باقی حقیقتوں سے کیا کر دیا اس حقیقت ‏کو؟ جدا کر دیا۔ اور کوئی مثال دیجیے؟ جیسے؟ بات کلی کی چل رہی ہے، زید کلی ہے؟ کلی ذاتی کی بات چل رہی ہے، جو حقیقت میں ‏پوری حقیقت ہو یا حقیقت کا جز ہو۔ تو یہ چیزیں جو ذکر ہو رہی ہیں، ناطق یہ حقیقت کا جز ہے، کلی ذاتی ہے۔ صاہل یہ ‏حقیقت کا جز ہے، کلی ذاتی ہے۔ یہ کلیات کی بات چل رہی ہے، اسی لیے کلیاتِ خمسہ کہتے ہیں ان کو۔ کتنی کلیات ہیں؟ ‏پانچ۔ ان میں سے تین ذاتی ہیں اور دو عرضی۔ دوبارہ دیکھیے: فصل وہ کلی ذاتی ہے جو ایسی جزئیات پر بولی جائے کہ ان کی حقیقت ایک ہو اور دوسری حقیقتوں سے ‏اس حقیقت کو جدا کرے، جیسے ناطق انسان کا فصل ہے کہ زید، عمرو، بکر وغیرہ ان پر بولا جاتا ہے اور ان کی حقیقت ‏یعنی انسان کو دیگر حقائق مثلاً بقر و غنم وغیرہ سے جدا کرتا ہے۔ جیسے ہی آپ نے ناطق کہا تو بقر نکل گئے بھئی، ‏کیونکہ ان پر ناطق نہیں بولا جاتا۔ جب میں نے کہا حیوان، میں نے کیا کہا؟ حیوان، تو حیوان میں ساری چیزیں آگئیں: ‏انسان بھی آگیا، گائے، بیل، بکری، گھوڑا، گدھا، سب حیوانات آگئے، سب پرندے آگئے۔ لیکن جیسے ہی میں نے کہا ناطق، ‏سب نکل گئے، کیونکہ یہ ناطق والا لفظ صرف کس پر بولا جاتا ہے؟ انسان۔ تو یہ ناطق انسان کے لیے کیا ہے؟ فصل ‏ہے، ایک حقیقت والوں پر بولا جا رہا ہے اور ان کو باقیوں سے جدا کر رہا ہے۔ آگے دیکھیے، کلی عرضی کی دو قسمیں ہیں: خاصہ، عرضِ عام۔ یہ پھر اسی طرح ہے۔ ادھر دیکھیے بھئی، جنس کسے ‏کہتے تھے؟ ابھی پڑھا۔ وہ کلی ذاتی ہے، پوری بات کریں، وہ کلی ذاتی ہے جو ایسے افراد پر بولا جائے جن کی حقیقتیں ‏الگ الگ ہوں۔ بس، اب صرف یہاں کلی عرضی لے آؤ، باقی یہی تعریف کرو۔ جی، بولیے: وہ کلی عرضی، سنو، وہ کلی ‏عرضی جو ایسے افراد پر بولی جائے جن کی حقیقتیں الگ الگ ہوں، اس کو عرضِ عام کہتے ہیں۔ دیکھا، یہ وہی جنس والی تعریف ہے لیکن وہ تھا کلی ذاتی، یہ کیا ہے؟ کلی عرضی۔ ایسی کلی عرضی جو ایسے افراد پر ‏بولی جائے جن کی حقیقتیں الگ الگ ہوں، اس کو کیا کہتے ہیں؟ عرضِ عام، یعنی ایک صفت ہے، ایک صفت ہے جو ‏چیزوں میں پائی جاتی ہے اور حقیقت کا جز نہیں۔ توجہ ہے؟ ادھر دیکھو، عرضِ عام کیا ہے؟ ایک صفت ہے جو ذاتی ‏نہیں، یعنی ذات کا حصہ نہیں، عرضی ہے۔ اور مختلف حقیقتوں کے افراد پر بولی جا رہی ہے، جیسے ماشی۔ مَشَى يَمْشِي ‏کے معنی ہوتے ہیں چلنا، پاؤں سے چلنا۔ تو دیکھو ماشی، یہ ماشی کون کون ہے؟ سب حیوانات ہیں، انسان بھی ماشی اور ‏گائے، بیل، بکری، گھوڑا، گدھا یہ سب بھی کیا ہیں؟ ماشی۔ تو اور مجھے بتائیے ماشی، یہ کلی ذاتی ہے یا کلی عرضی ‏ہے؟ یہ ذات کا حصہ ہے؟ نہیں نہیں، انسان کی تعریف کیا تھی؟ حیوانِ ناطق، کوئی ماشی آیا یہاں پر؟ نہیں، تو معلوم ہوا یہ ‏ذات کا حصہ نہیں، اور تو یہ کلی عرضی ہے۔ کلی عرضی، اور ایک ہی حقیقت والے افراد میں پائی میں پائی جاتی ہے یا ‏مختلف حقیقتوں والے افراد میں؟ مختلف حقیقتیں، انسان کی حقیقت اور، وہ بھی ماشی، بکری کی حقیقت اور، وہ بھی ماشی، ‏گھوڑے کی حقیقت اور، وہ بھی ماشی۔ تو دیکھو یہ ایسی کلی عرضی ہے جو ایسے افراد پر بولی جاتی ہے جن کی حقیقتیں ‏الگ الگ ہیں، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ عرضِ عام، عرضِ عام۔ اور اگر کلی عرضی، ادھر دیکھو، کلی عرضی ایسے افراد پر بولی جائے جن کی حقیقتیں ایک ہی ہوں تو پھر اس کو ‏خاصہ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ خاصہ، خ، ا، ص، ص مشدد ہے اور ہ ہے، خاصہ۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ خاصہ۔ ‏خاصہ کی تعریف کریں: وہ کلی عرضی، پوری بات کریں، وہ کلی عرضی ہے جو ایسے افراد پر بولی جائے جن کی ‏حقیقت جن کی حقیقت ایک ہو، ایک ہو، ایک ہو تو وہ خاصہ، اور حقیقت الگ الگ ہو تو وہ عرضِ عام۔ دیکھو عرض، ‏عرض کا کیا معنی؟ صفت، اور عام ہے یعنی صرف ایک حقیقت میں نہیں پائی جا رہی اوروں میں بھی پائی جا رہی ہے۔ ‏اور خاصہ، نام سے ہی پتہ چل رہا ہے، یہ ایک ہی قسم کے ساتھ خاص ہے، ایک ہی قسم کے ساتھ خاص۔ تو معلوم ہوا کلی عرضی کی کتنی قسمیں؟ دو قسمیں: ایک خاصہ اور ایک عرضِ عام۔ خاصہ کی تعریف کرو، میری ‏طرف دیکھیں، کتاب پر نہ دیکھیں بھئی، زبان سے دہراؤ۔ خاصہ: وہ کلی عرضی ہے جو ایسے افراد پر بولی جائے جن ‏کی حقیقت ایک ہاں، خاصہ، خاصہ نام سے نہیں پتہ چل رہا؟ کہ جن کی حقیقت ایک ہی ہو، جیسے مثال اس کی ہے ‏ضاحک۔ ضحک کا معنی ہے ہنسنا، ضاحک ہنسنے والا، اور ضحک یہ خاصہ ہے انسان کا۔ صرف ان حیوانات میں سے ‏انسان کے اندر یہ صفت پائی جاتی ہے کہ وہ ہنستا ہے، باقی اور کسی حیوان میں نہیں پائی جاتی۔ تو ضاحک کیا ہے؟ ‏خاصہ۔ اور عرضِ عام کی بھی تعریف کرو، میری طرف دیکھو بھئی، زبان سے دہراؤ، بولو: وہ کلی عرضی ہے جو ‏ایسے افراد پر بولی جائے جن کی حقیقتیں الگ الگ ہوں، جیسے ماشی کہ یہ انسان میں بھی ہے، بقر میں بھی ہے اور غنم ‏وغیرہ میں بھی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اب دیکھیے کتاب پر: کلی عرضی کی دو قسمیں ہیں: خاصہ، عرضِ عام۔ خاصہ وہ کلی عرضی ہے جو ایک حقیقت کے ‏افراد کے ساتھ خاص ہو، جیسے ضاحک انسان کا خاصہ ہے اور زید، عمرو، بکر کہ جن کی حقیقت ایک ہے کے ساتھ یہ ‏خاص ہے۔ عرضِ عام وہ کلی عرضی ہے جو چند مختلف افراد کی حقیقتوں پر صادق آئے، جیسے ماشی پاؤں سے چلنے ‏والا انسان و بقر وغیرہ کا عرضِ عام ہے یعنی ان سب میں پایا جاتا ہے اور انسان کی حقیقت اور ہے اور بقر کی دوسری ‏ہے۔ پس کلی کی خواہ وہ ذاتی ہو یا عرضی، پانچ قسمیں ہیں: جنس، نوع، فصل، خاصہ اور عرضِ عام۔ ان کو کیا کہتے ‏ہیں؟ کلیاتِ خمسہ، کلیاتِ خمسہ۔ ادھر دیکھیے میری طرف بھئی، ذرا نام دہرا لو، کلیاتِ خمسہ کون کون سے ہیں؟ نمبر ایک: جنس، نمبر دو: نوع، نمبر ‏تین: فصل، نمبر چار: خاصہ، نمبر پانچ: عرضِ عام۔ پھر دہرا لو، نمبر ایک: جنس، نمبر دو: نوع، نمبر تین: فصل، نمبر ‏چار: خاصہ، نمبر پانچ: عرضِ عام۔ اب ان کی تعریف بھی دہرا لو۔ جنس، میری طرف دیکھو، کتاب پہ نہیں دیکھنا، جنس کسے کہتے ہیں؟ وہ کلی ذاتی ہے جو ‏ایسے افراد پر بولی جائے جن کی حقیقتیں الگ الگ ہوں، جیسے حیوان، جیسے جسمِ نامی، جیسے حساس، جیسے متحرک ‏بالارادہ، جیسے جسمِ نامی، جیسے جسم۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے۔ اور فصل، نوع کسے کہتے ہیں؟ وہ کلی ذاتی ہے جو ایسے افراد پر بولی جائے جن کی حقیقت ایک ہی ہو، جیسے انسان، ‏جیسے حیوانِ ناطق، یا جیسے جیسے جیسے درخت، سب کی حقیقت ایک ہے سب درختوں کی، جیسے بکری، بکری، ‏جیسے گھوڑا، جیسے بیل اور جیسے بھینس۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ دیکھو یہ جو جو لفظ بول رہے ہیں ان سب کی ‏حقیقت ایک ہے کہ الگ الگ ہے؟ تو ان سب کی حقیقت ایک ہی ہے۔ اچھا اور تیسرا کیا ہے؟ فصل۔ فصل، بولیے تعریف کیجیے: فصل وہ کلی ذاتی ہے جو ایسے افراد پر بولی جائے جن کی ‏حقیقت ایک ہو اور اس حقیقت کو باقی حقیقتوں سے جدا کر دے، اس کو فصل کہتے ہیں، جیسے ناطق اور جیسے؟ جب آپ ‏ایک چیز کو سمجھ گئے ہیں پھر کوئی آپ کو غلطی میں کیسے مبتلا کر سکتا ہے؟ تو خود سوچ کر بولو، کوئی بولے آپ ‏بھی اس کی طرح بولنے لگ پڑیں تو پھر تو فرق نہ ہوا۔ جی، فصل کی مثال؟ ناطق۔ اور کوئی مثال؟ بکری تو ابھی گزرا ‏ہے وہ تو نوع ہے۔ جی؟ جو اوروں سے جدا کر دے۔ ہاں، جیسے ناہق بھئی، جیسے صاہل، جیسے ذو خوار، جیسے ذو ‏رغاء بھئی۔ یہ ایک ہی حقیقت والوں پر بولا جا رہا ہے اور یہ باقی حقیقتوں سے اس حقیقت کو کیا کر دیتا ہے؟ جدا کر دیتا ‏ہے۔ اس کے بعد خاصہ کسے کہتے ہیں؟ وہ کلی عرضی ہے جو ایسے افراد پر بولی جائے جن کی حقیقت ایک ہی ہو، جیسے ‏ضاحک انسان کے لیے۔ اور عرضِ عام وہ کلی عرضی ہے جو ایسے افراد پر بولی جائے جن کی حقیقتیں الگ الگ ہوں، ‏جیسے ماشی، ماشی۔ بات اچھی طرح سب کو سمجھ میں آگئی؟ اب آئیے سوالات بھی کر لیں بھئی۔ آئیے بھئی سوالات دیکھیے بھئی: امثلۂ ذیل میں دو دو شے لکھی ہیں، امثلہ جمع ہے ‏مثال کی، ذیل یعنی نیچے۔ نیچے دی گئی جو مثالیں ہیں ان میں دو دو چیزیں لکھی ہیں، ان میں غور کر کے یہ بتاؤ کہ اول ‏شے دوسری شے کے لیے جنس ہے یا نوع، یا فصل، یا خاصہ، یا عرضِ عام۔ ائیے بھئی، اب پہلی مثال انہوں نے جو ذکر کی: حیوان اور فرس۔ حیوان یہ فرس، فرس گھوڑے کو کہتے ہیں، حیوان فرس ‏کے لیے کیا ہے؟ مجھے بتائیے، کیا یہ حیوان فرس کے لیے خاصہ ہے؟ نہیں، سب سے پہلے تو یہ دیکھو، یہ کلی ذاتی ‏ہے کہ کلی عرضی ہے حیوان؟ کلی ذاتی ہے۔ جب کلی ذاتی سمجھ میں آگیا تو معلوم ہوا یہ جنس، نوع یا فصل میں سے ‏کوئی ہوگا۔ اچھا اب بتائیے، یہ کیا ہے؟ حیوان، حیوان ایک حقیقت والوں پر بولا جا رہا ہے یا مختلف پر؟ مختلف پر، تو یہ ‏اس کے لیے کیا ہے؟ جنس۔ تو حیوان فرس کے لیے جنس ہے۔ اگلے پر آئیے، جسمِ نامی، بڑھنے والا جسم، شجرِ انار، انار کے درخت کے لیے، یہ کیا ہے؟ جی، جسمِ نامی؟ جسمِ نامی یہ ‏نوع ہے۔ ہر درخت کیا ہے؟ شجرِ ہر درخت، شجر درخت، ہر درخت کیا ہے؟ جسمِ نامی ہے، تو شجرِ انار وہ بھی کیا ہوا؟ ‏جسمِ نامی۔ اور تو یہ جسمِ نامی کیا ہے شجرِ انار کے لیے؟ نوع ہے۔ کیا ہے؟ نوع ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جسمِ ‏نامی کیا ہے؟ نوع۔ ہر درخت کیا ہے؟ وہ جسمِ نامی ہے، تو یہ اس کی پوری حقیقت ہے۔ جسمِ نامی کیا ہے اس کی؟ پوری ‏حقیقت ہے، تو یہ کیا ہے اس کے لیے؟ نوع ہے، جو ایک حقیقت والوں پر بولا جاتا ہے، پوری حقیقت ہے۔ نمبر تین ہے: حیوان اور حساس، حیوانِ حساس۔ اچھا یہ انہوں نے عجیب بات کی ہے کہ ترتیب الٹی رکھی ہے، اوپر پوچھ ‏رہے ہیں اول شے دوسری کے لیے کیا ہے۔ سوال میں کیا پوچھا؟ اول شے دوسری کے لیے کیا ہے، حالانکہ یہاں پوچھنا ‏چاہیے تھا یہ حساس حیوان کے لیے کیا ہے۔ تو حساس اول ہے یا ثانی ہے؟ یہاں حیوان پہلے لکھا ہے، حساس بعد میں ‏لکھا ہے، تو حساس تو دوسرا ہوا، اور سوال میں اوپر کیا پوچھا؟ اول دوسری کے لیے کیا ہے، لیکن یہاں پر کیا بنتا ہے؟ ‏دوسری چیز اول کے لیے کیا ہے۔ اب مجھے بتائیے، حساس حساس حیوان کے لیے کیا ہے؟ ہاں شاباش! حساس حیوان ‏کے لیے فصل ہے۔ کس طرح؟ دیکھو، حیوان کسے کہتے ہیں؟ جسمِ نامی، حساس، متحرک بالارادہ۔ صرف ابھی جسمِ نامی ‏ہم نے کہا، کیا کیا آگئے؟ درخت بھی آگئے، سارے حیوانات بھی آگئے۔ جب حساس کہا، درخت کیا ہوئے؟ نکل گئے، تو یہ ‏حیوان کے لیے کیا ہے؟ فصل ہے، حیوان کو کیا کر رہا ہے؟ درختوں سے جدا کر رہا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی ‏بھئی؟ اگلی مثال میں آئیے: فرسِ صاہل۔ یہاں پھر صاہل کو بعد میں لکھ دیا، حالانکہ اس کو پہلے لکھنا چاہیے تھا کہ صاہل فرس ‏یعنی گھوڑے کے لیے کیا ہے؟ صاہل گھوڑے کے لیے کیا ہے؟ جی، فصل۔ صاہل فرس کے لیے فصل ہے، شاباش۔ انسانِ کاتب، یہ کاتب ہونا یہ انسان کے لیے کیا ہے؟ کاتب، لکھنے والا۔ کاتب، خود غور کریں، غور کر کے بتائیں۔ مجھے ‏یہ بتاؤ، کاتب انسان کی حقیقت میں داخل ہے؟ انسان کی حقیقت بیس دن سے چل رہی ہے، کیا ہے انسان کی حقیقت؟ حیوانِ ‏ناطق ہے، اس میں کاتب کدھر سے آگیا؟ تو معلوم ہوا یہ کلی ذاتی تو ہے ہی نہیں، کیا ہے؟ یہ کلی عرضی ہے۔ اب بولو۔ ‏عرضِ عام؟ اچھا، انسان بھی لکھتا ہے، گائے اور بیل بھی لکھتے ہیں، بکری بھی لکھتی ہے؟ کیسے بلا سوچے سمجھے ‏بول رہے ہو؟ کاتب کیا ہے انسان کے لیے؟ خاصہ ہے، صرف انسان کو اللہ نے یہ صلاحیت دی ہے کہ حیوانات میں سے ‏کہ یہ لکھتا ہے، تو کاتب انسان کے لیے کیا ہے؟ خاصہ ہے۔ انسانِ قائم، دیکھو سب میں الٹا کیا ہوا ہے، بعد والے لفظ کو پہلے ہونا چاہیے تھا۔ قائم یہ انسان کے لیے کیا ہے؟ قائم کا ‏معنی کھڑا ہوا۔ قائم؟ یہ ذات کا حصہ ہے؟ نہیں، تو یہ معلوم ہوا کلی عرضی میں سے ہے۔ اور کلی عرضی دو قسم پر ہے: ‏یا ایک حقیقت والوں میں پائی جائے گی یا دو یا تو قائم، کھڑا ہونا، یہ ایک ہی حقیقت انسان میں ہے یا اور حیوانات میں ‏بھی ہے؟ اور حیوانات میں بھی یہ صفت ہے، تو پھر اس کو کیا کہیں گے؟ عرضِ عام، شاباش۔ آگے: جسمِ مطلق اور فرس، یہاں ترتیب ٹھیک ہے۔ جسمِ مطلق، وہی جسم ہاں، اس کو جسمِ مطلق بھی کہہ دیتے ہیں۔ تو جسم ‏اور فرس، جسم فرس کے لیے کیا ہے؟ ذات میں داخل ہے؟ ذات میں داخل ہے، کیونکہ ہر چیز حیوان ہے اور ہر حیوان کیا ‏ہوتا ہے؟ جسمِ نامی، دیکھو جسم بھی ہوتا ہے، نامی بھی ہوتا ہے۔ جسم، جسمِ مطلق فرس کے لیے کلی ذاتی ہے۔ اب ان میں ‏غور کرو، کون سی کلی ذاتی ہے؟ صرف فرس میں ہے یا اور حیوانات میں بھی ہے؟ تو پھر یہ جنس ہے، یہ کیا ہے؟ یہ ‏جنس ہے فرس کے لیے۔ آگے: غنمِ ماشی، یہ پھر ترتیب بدل دی۔ ماشی کو پہلے لے آؤ، یہ ماشی غنم یعنی بھیڑ، بکری کے لیے کیا ہے؟ حقیقت میں ‏داخل ہے؟ نہیں، حقیقت میں نہیں داخل، معلوم ہوا کلی عرضی ہے۔ کون سی عرضی ہے؟ یہ عرضِ عام ہے، غنم بھی ‏ماشی، انسان بھی ماشی، سب پاؤں سے چلتے ہیں۔ حمارِ ناہق، یہاں پھر ترتیب الٹی ہے، تو ناہق کو پہلے لے آؤ۔ یہ ناہق حمار کے لیے کیا ہے؟ ناہق، کلی ذاتی ہے کہ کلی ‏عرضی، پہلے تو یہ دیکھو۔ کلی ذاتی ہے! ناطق انسان کے لیے کلی ذاتی ہے، صاہل گھوڑے کے لیے کلی ذاتی، ناہق ‏گدھے کے لیے کلی ذاتی۔ تو ناہق کیا ہے گدھے حمار گدھے کو کہتے ہیں، تو ناہق حمار کے لیے کیا ہے؟ کون سی کلی ‏ذاتی؟ ایک نوع ایک ایک قسم پر بولا جا رہا ہے، اور اس کو باقیوں سے جدا کر رہا ہے کہ نہیں کر رہا؟ تو پھر فصل ‏ہے، تو ناہق حمار یعنی گدھے کے لیے فصل ہے۔ آگے: انسانِ ہندی، اس میں پھر ہندی کو پہلے ہونا چاہیے تھا، ہندی انسان۔ ہندی کا کیا معنی؟ ہند کا رہنے والا، یعنی ‏ہندوستان کا رہنے والا۔ یہ سارا علاقہ پہلے کیا تھا؟ ہند کہلاتا تھا، اب تو پاکستان الگ، ہندوستان الگ۔ اچھا تو ہند، ہندی جو ‏بھی چیز ہندوستان کی ہے، ہندوستان یہ ملک نہیں، یہ پورے علاقے کی، اس کو کیا کہتے ہیں؟ ہندی، کیا کہتے ہیں؟ ہندی ‏کہتے ہیں۔ جیسے لاہوری، لاہوری۔ لاہوری صرف انسان ہوتے ہیں یا چیزیں بھی لاہوری کہلاتی ہیں؟ چیزیں بھی کہلاتی ‏ہیں، انسان ہوگا لاہور کا رہنے والا ہو تو کہیں گے لاہوری ہے، اسی طرح کوئی چیز جو لاہور میں بنتی ہے تو آپ کسی ‏کو بتلاتے ہیں کہ یہ لاہور یہ لاہوری چیز ہے، خاص وہیں بنتی ہے یہاں نہیں بنتی۔ تو مجھے بتائیے، ہندی انسان کے لیے کیا ہے؟ ہندی کیا ہے انسان کے لیے؟ مجھے بتائیے، ہندی ہونا، ہندوستان کا ہونا یہ ‏حقیقت میں داخل ہے؟ حقیقت میں داخل نہیں، معلوم ہوا یہ کلی عرضی ہے۔ اب کلی عرضی دو ہی ہوتی ہیں: یا خاصہ یا ‏عرضِ عام۔ اب مجھے بتائیے، ہندی انسان ہوتا ہے صرف یا اور بھی چیزیں ہوتی ہیں؟ تو پھر یہ کیا ہوا؟ عرضِ عام ہوا، ‏تو ہندی انسان کے لیے کیا ہے؟ عرضِ عام ہے۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ اب بھئی، شروع سے بھی ہم تکرار کر رہے تھے، تھوڑا تھوڑا کرتے رہیں گے، ان شاء اللہ سارے سبقوں کا تکرار ہو ‏جائے گا۔ آج تھوڑا سا کر لیتے ہیں زیادہ نہیں بھئی۔ گزشتہ سبق میں ہم نے پہلے سبق کا تکرار کیا تھا، آپ نے پڑھا تھا ‏علم کے بارے میں۔ علم کا کیا معنی ہے؟ جاننا۔ تو کسی چیز کی جو صورت اور جو پہچان ہمارے ذہن میں آئے، وہ اس ‏چیز کا علم ہے بھئی۔ اور پھر یہ جو علم ہے، یہ تصور بھی ہو سکتا ہے اور تصدیق بھی ہو سکتی ہے۔ تصدیق وہ ہے ‏جس میں بات پوری ہو، اور تصور وہ ہے جس میں بات پوری نہ ہو۔ اور جہاں بھی بات پوری ہوتی ہے وہاں دو چیزیں ہوتی ہیں: ایک وہ چیز جس کے بارے میں بات کی جائے اور ایک جو ‏بات کی جائے۔ مثلاً میں نے کہا زید عالم ہے، کس کے بارے میں بات کی؟ زید کے بارے میں۔ اور کیا بات کی؟ عالم ہے۔ ‏تو تصدیق میں ہمیشہ دو چیزیں ہوں گی: ایک وہ چیز جس کے بارے میں بات کی جائے اور ایک وہ چیز جو بات کی ‏جائے۔ اب توجہ ادھر دیکھیے بھئی، یہ ہے زید، میں نے کیا کہا: زید عالم، زید کیا ہے؟ عالم ہے۔ یہ ہے زید پہلی چیز، یہ ہے ‏دوسری چیز عالم۔ تو میں نے اس عالم کو اس عالم کو زید کے لیے ثابت کر دیا کہ زید کیا ہے؟ عالم ہے۔ دو الگ چیزیں ‏تھیں نا، زید الگ ہے، عالم الگ لفظ، زید ایک آدمی کا نام ہے، عالم ہونے کا معنی وہ آدمی جس کو کیا ہو؟ علم ہو۔ جب بھی ‏میں عالم بولوں، کوئی زید ذہن میں آتا ہے آپ کے؟ نہیں، عالم تو زید بھی ہو سکتا ہے، بکر بھی ہو سکتا ہے، خالد بھی ہو ‏سکتا ہے۔ تو عالم ایک الگ لفظ ہے، اس کا الگ معنی ہے، زید ایک الگ ذات ہے۔ لیکن میں نے کیا کیا؟ زید پر عالم ہونے ‏کا حکم لگا دیا۔ کیا کیا؟ زید پر عالم ہونے کا حکم لگا دیا۔ یعنی ادھر دیکھو، یہ زید ہے پہلی چیز، عالم ہونا ہے دوسری ‏چیز، تو اس چیز پہلی چیز کے لیے میں نے اس دوسری چیز کو ثابت کر دیا کہ اس کے لیے یہ صفت ثابت ہے، یعنی زید ‏کیا ہے؟ عالم ہے۔ تو پہلی چیز کے لیے دوسری چیز کو ثابت کر دیا، تو زید کو بھی کہہ لیں زید کی جگہ کچھ بھی ہو سکتا ‏ہے، بس کیونکہ تصدیق کی بات چل رہی ہے نا، اور تصدیق میں کتنی چیزیں ہوتی ہیں؟ دو چیزیں ہوتی ہیں، تو وہ دو ‏چیزیں کچھ بھی ہو سکتی ہیں۔ مثلاً میں نے کہا زید کھڑا ہے، یہ بھی ایک بات ہے۔ میں آپ کو کہتا ہوں میں کل بازار گیا تھا، یہ بھی کیا ہے؟ ایک بات ‏ہے۔ مثلاً میں کہتا ہوں وہ فلاں مدرسے میں پڑھتا ہے، دیکھو یہ بھی ایک بات ہے۔ تو جو کچھ آپ باتیں آپس میں کرتے ‏ہیں یہ سب باتیں کیا ہیں؟ تصدیق ہیں، کیا ہیں؟ تصدیق۔ اور تصدیق ہر جملے میں آپ غور کر لیں، ایک اس میں دو چیزیں ‏ہوں گی: ایک وہ چیز جس کے بارے میں بات کی جائے اور ایک جو بات کی جائے۔ تو جو بات آپ دراصل کرتے ہیں، ‏آپ اس کو اس پہلی چیز کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔ مثلاً میں نے کہا زید کھڑا ہے، یہ کھڑے ہونے کو میں نے کس سے ‏جوڑ دیا؟ زید کے ساتھ جوڑ دیا۔ تو لہٰذا تصدیق میں ہمیشہ کتنی چیزیں ہوں گی؟ دو چیزیں: ایک پہلی چیز اور ایک دوسری، اور اس دوسری کو کس سے ‏جوڑ دیا؟ پہلی چیز کے ساتھ جوڑ دیا۔ اب وہ پہلی چیز کچھ بھی ہو سکتی ہے، کسی بھی چیز کے بارے میں، آپ ہر طرح ‏کی باتیں کرتے ہیں یا نہیں کرتے؟ یا صرف زید کے بارے میں ہی باتیں کرتے ہیں؟ ہاں، جو بھی باتیں آپ کرتے ہیں ‏کھیلتے، کودتے، چلتے، پھرتے، کھاتے، پیتے ساتھیوں کے ساتھ، آپ غور کر لیں، سب باتوں کے اندر ایک وہ چیز ہوگی ‏جس کے بارے میں بات کر رہے ہیں، ایک وہ جو بات۔ مثلاً اپ اپنے ساتھی کو بتلاتے ہیں کہ کل میں نے بڑا مزیدار کھانا ‏کھایا، دیکھا؟ کس کے بارے میں بات کی؟ اپنے بارے میں۔ اور کیا بات کی؟ کہ میں نے بڑا مزیدار کھانا کھایا۔ دیکھا، ہر ‏طرح کی جو بھی باتوں پر آپ غور کر لیں، اس میں دو چیزیں ہوں گی: ایک وہ چیز جس کے بارے میں بات کی جائے ‏اور ایک جو بات کی جائے۔ تو یہ جو جس کے بارے میں بات کی جائے وہ ہوگئی ایک چیز، اور جو بات کی گئی وہ کیا ‏ہے؟ دوسری چیز۔ تو اس دوسری چیز کو آپ نے کیا کیا؟ پہلی چیز سے جوڑ دیا، پہلی چیز کے ساتھ اس کو جوڑ دیا۔ تو اب دیکھیے، یہ پہلی چیز کچھ بھی ہو سکتی ہے، لہٰذا اس کو کہو فلاں شے۔ فلاں شے عام ہے نا، ہر ایک پہ بولا جا ‏سکتا ہے یا نہیں؟ اور یہ دوسری چیز بھی کیا ہے؟ یہ اس کو بھی فلاں شے کہہ لو سمجھانے کے لیے۔ تو دیکھو فلاں شے ‏کو میں نے ثابت کیا، فلاں شے کو میں نے جوڑ دیا، کس سے؟ فلاں شے سے۔ دیکھا، دو چیزیں آگئیں یا نہیں؟ دو فلاں ‏چیزیں آگئیں۔ تو ہر تصدیق میں کتنی چیزیں ہوتی ہیں؟ دو چیزیں ہوتی ہیں۔ یہ میں اس لیے ذکر کر رہا ہوں کیونکہ کتاب ‏میں اس طرح ذکر ہے کہ فلاں شے کے لیے فلاں شے ثابت ہے۔ آپ سمجھ گئے کہ فلاں شے اس سے ایک چیز مراد اور ‏دوسری فلاں شے سے دوسری چیز مراد، وہ جو بات کی گئی جس کو اس کے ساتھ جوڑا گیا ہے، وہ کچھ بھی ہو سکتا ‏ہے۔ آپ جو بھی لفظ لے آئیں، زید عالم ہے، دیکھا؟ پہلے فلاں شے کی جگہ میں کیا لے آیا؟ زید۔ دوسرے فلاں شے کی ‏جگہ کیا لے آیا؟ عالم۔ اور جڑ گئے یا نہیں آپس میں؟ اور مثال لے لیں: میں منطق پڑھتا ہوں۔ میں نے کس کے بارے میں ‏بات کی؟ اپنے بارے میں، اور کیا بات کی؟ منطق پڑھتا ہوں۔ تو میں یہ پہلی فلاں شے، اور منطق کا پڑھنا یہ دوسری فلاں ‏شے، اور میں نے اس دوسری فلاں شے کو کس سے جوڑ دیا؟ پہلی فلاں شے سے۔ تو کتاب میں بھی کیا تعریف لکھی ‏ہے؟ کہ تصدیق وہ ہے کہ جس میں یہ بتلایا جائے کہ فلاں شے فلاں شے کے لیے ثابت ہے، فلاں شے کے لیے ثابت، یا ‏فلاں شے فلاں شے ہے، ایک ہی بات ہے۔ اور پھر یاد رکھیے، یہ جو آپ بات کرتے ہیں، اس میں ہمیشہ ایک چیز کا ہونا ہی ہوتا ہے یا کبھی نہ ہونا بھی ذکر ہوتا ‏ہے؟ کبھی نہ ہونا بھی ذکر ہوتا ہے، کہ آج میں نے مزیدار کھانا نہیں کھایا، دیکھا؟ یا آپ کہتے ہیں زید عالم نہیں ہے، تو ‏کبھی آپ تو نہیں کے ساتھ لاتے ہیں بات اور کبھی بغیر نہیں کے۔ جب نہیں کے ساتھ آپ نہیں کے ساتھ بات لائیں تو اس ‏کو کہتے ہیں نفی کرنا۔ کیا کہتے ہیں؟ میں نے کہا زید عالم نہیں ہے، تو یوں کہیں گے میں نے زید سے عالم ہونے کی نفی ‏کر دی۔ اور اگر یہ نہیں نہ ہوتا، میں کہتا زید عالم ہے، تو اس کو کہیں گے میں نے زید کے لیے عالم ہونے کا اثبات کر ‏دیا۔ فرق سمجھ میں آ رہا ہے؟ ایک میں کیا ہے؟ نفی، اور ایک میں کیا ہے؟ اثبات ہے۔ تو ہمارا کلام، یہ جو باتیں ہم کرتے ‏ہیں یہ یہی دو قسم کی ہوتی ہیں: یا کسی میں کیا ہوگی؟ نفی، یا کسی میں کیا ہوگا؟ اثبات۔ یہ جملہ خبریہ کی بات چل رہی ‏ہے بھئی، اس میں اسی طرح ہوگا: یا نفی یا اثبات۔ میں فلاں جگہ گیا تھا یا آپ کہتے ہیں میں فلاں جگہ نہیں گیا تھا، میں آج ‏کھیلوں گا یا آج میں نہیں کھیلوں گا، آج میں پڑھوں گا یا آج میں نہیں، دیکھو سب جملے اسی طرح اس میں اثبات بھی ہو ‏سکتا ہے اور نفی بھی۔ کبھی آپ ایک لفظ بولتے ہیں کبھی ایک جملہ، کبھی دوسرا جملہ موقع کے مطابق بولتے ہیں۔ اس کو ‏کیا کہتے ہیں؟ تصدیق کہتے ہیں۔ لیکن تصور میں ایسا نہیں ہوگا، اس میں ایک چیز کے لیے دوسری چیز کا اثبات یا نفی نہیں ہوگی۔ تصدیق میں کیا ہوگا؟ ‏ایک چیز کے لیے دوسری چیز کا اثبات، یا ایک چیز سے دوسری چیز کی نفی ہوگی۔ اور پھر میں نے مزید تھوڑی تفصیل ذکر کی تھی وہ بھی بیان کر دیتا ہوں۔ میں نے بتلایا تھا کہ تصور اس کی کئی قسمیں ‏ہیں، تین چار قسمیں بن جاتی ہیں۔ یاد رکھیے جو تصدیق ہے نا تصدیق، اس میں کتنی چیزیں ہوں گی؟ دو۔ ایک پہلی چیز ‏جس کے بارے میں بات کی جائے، تصدیق میں کتنی چیزیں ہوں گی؟ دو: ایک پہلی چیز جس کے بارے میں بات، اور ‏دوسری چیز جو بات کی جائے، بات کی جائے۔ یاد رکھیے اس میں آپ کا یہ مان لینا ضروری ہے، آپ جو بات کریں آپ ‏ذہن کے اعتبار سے بھی اس کو مان لیں کہ ایسا ہی ہے، ایسا ہی ہے یعنی اس کا یقین کر لیں یوں کہو۔ آپ اس کا کیا کر ‏لیں؟ یقین۔ اگر آپ کو ایک چیز کا یقین ہے، آپ زبان سے مثلاً بولتے ہیں: زید کھڑا ہے، اور آپ کو اس کا یقین بھی ہے تو ‏اس کو کہیں گے تصدیق ہے۔ اور اگر آپ کو یقین نہیں، مثلاً آپ نے دیکھا نہیں ویسے اپنے خیال سے بات کر رہے ہیں، آپ کا ادھا خیال، آپ کو اس میں ‏شک ہے، شک ہے، تو مثلاً تو اس کو یاد رکھیے یہ تصور ہے۔ کیا ہے؟ یہ تصور ہے۔ تو شک میں بات پوری ہوتی ہے ‏لیکن آپ کو یقین نہیں ہوتا۔ مثلاً آپ سے کسی نے پوچھا: زید آگیا ہے؟ آپ نے کہا: زید آگیا ہوگا۔ دیکھو معلوم ہوا آپ کو ‏پورا پتہ نہیں، شک ہے۔ کبھی ذہن میں آتا ہے آیا ہوگا، ساتھ ہی دوسرا خیال بھی آتا ہے کہ ہو سکتا ہے کسی وجہ سے نہ ‏آیا ہو۔ تو جب دونوں جانب کا خیال ہو ذہن میں اور دونوں طرف کا خیال برابر ہو، پچاس فیصد خیال ہے ہونے کا، آنے کا، ‏اور پچاس فیصد خیال ہے نہ آنے کا، تو اس کو منطق میں شک کہتے ہیں۔ یعنی دونوں طرف کا خیال ہو ادھا ادھا، اس کو ‏کیا کہتے ہیں؟ شک۔ تو شک میں دونوں جانبیں برابر ہوتی ہیں، جتنا خیال ہونے کا ہے اتنا ہی خیال نہ ہونے کا۔ بولیے، ‏دہرائیے، شک کسے کہتے ہیں منطق میں؟ جس میں ہاں، ادھا خیال یوں نہ کہیں، جس میں دونوں جانبیں برابر ہوں۔ جس ‏میں دونوں جانبیں برابر ہوں، ایک چیز کے ہونے کا جتنا خیال اتنا ہی خیال نہ ہونے کا بھی، یعنی پچاس فیصد خیال ہے ‏ایک چیز کا تو پچاس ہی اس کے برعکس ہے کہ ہو سکتا ہے ایسا نہ ہو۔ اس کو کہتے ہیں شک۔ اور اگر ایک طرف کا خیال کچھ زیادہ ہے اور دوسری طرف کا خیال کچھ کم ہے، تو جو زیادہ خیال ہے اس کو ظن کہتے ‏ہیں، ظ، ن کے ظ، ط، ظ، ظ اور ن، ظن، جو زیادہ خیال ہے۔ مثلاً آپ کا ساٹھ یا ستر فیصد خیال ہے کہ زید آگیا ہوگا لیکن ‏ساتھ ساتھ بیس تیس فیصد تھوڑا سا خیال یہ بھی آ جاتا ہے کہ ہو سکتا ہے نہ آیا ہو، تو اب دیکھو دونوں جانب کا خیال ہے ‏ذہن میں کہ نہیں؟ دونوں کا ہے، لیکن ایک کا خیال زیادہ اور ایک کا خیال کم۔ جو زیادہ ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ ظن، ‏اور جو تھوڑا ہے اس کو وہم کہتے ہیں۔ تو یہ جو زیادہ خیال ہے یعنی ظن، یاد رکھو یہ تصدیق ہے۔ کیونکہ یہ یقین کے ‏قریب ہو گیا۔ تصدیق میں بھی کیا ضروری؟ ایک چیز کا آپ کو یقین، اور جب زیادہ خیال ہے تو گویا کیا ہو گیا؟ یقین ہی ‏ہو گیا، تو لہٰذا یہ بھی کیا ہے؟ تصدیق۔ اور وہ جو تھوڑا خیال ہے، وہم، وہ تصور ہے۔ تو شک بھی تصور، وہم بھی ‏تصور۔ اسی طرح جملہ انشائیہ آپ نے پڑھا ہے، جملہ انشائیہ مثلاً قسم ہے: واللہ، میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں، یا کسی کو آواز دیتے ‏ہیں: اے زید، یا کسی کو حکم دیتے ہیں: جاؤ میرے لیے پانی لاؤ۔ دیکھو ان میں بات آپ کسی کو بتلا نہیں رہے بلکہ حکم ‏دے رہے ہیں: جاؤ میرے لیے پانی لے آؤ۔ تو یہ جو انشاء ہے، یہ بھی تصور کی قسم ہے۔ انشاء بھی کیا ہے؟ تصور کی ‏قسم ہے۔ انشاء کا زیادہ نہیں پتہ تو بہرحال آپ اگلے کتابوں میں آگے اسی سال شاید آ جائے، نحومیر وغیرہ میں آ جائے گا ‏انشاء کسے کہتے ہیں۔ بس ابھی صرف اتنا یاد رکھیں کہ انشاء بھی کس کی قسم ہے؟ تصور کی قسم ہے۔ تو لہٰذا تصور کی چار صورتیں ہو گئیں: ایک صورت یہ کہ صرف ایک ہی چیز ہو۔ تصدیق میں تو تھا نا دو چیزیں ہوں ‏گی کم از کم، اور پہلی دوسری چیز کو پہلی کے لیے یا ثابت کریں گے یا اس سے کیا کریں گے؟ نفی کریں گے، اور ساتھ ‏یقین کا ہونا بھی ضروری۔ تو تصور میں ہو سکتا ہے بعض اوقات صرف ایک ہی چیز ہو۔ جب ایک ہے تو دو نہ ہوئیں، ‏جب دو نہ ہوئیں ایک ہی ہے تو پھر تصدیق تو نہ ہوئی، تصدیق نہ ہوئی تو دوسری صورت کیا ہے؟ تصور ہی۔ تو اگر ‏ایک چیز ہو مثلاً زید، یہ بھی کیا ہے؟ تصور۔ بکر، تصور۔ کتاب، تصور۔ درخت، جو بھی ایک چیز ہے وہ۔ ہاں، بعض ‏اوقات چیزیں ایک سے زیادہ ہوں گی لیکن بات پوری نہیں ہوگی، وہ بھی تصور ہے۔ زید اور عمرو، زید، عمرو، بکر اور ‏خالد، زید کے بھئی کا دوست، دیکھو جتنے بھی لفظ آگئے لیکن بات پوری نہیں، بات پوری نہیں۔ مثلاً میں نے کہا: زید کا ‏بھئی، آپ کہیں گے کیا ہوا؟ بات تو پوری کریں اس کو، وہ آیا تھا یا چلا گیا ہے۔ تو لہٰذا لفظوں سے آپ نے لفظوں میں ‏خود غور کرنا ہے کہ بات پوری ہے یا بات پوری نہیں۔ تو تصور کی ایک صورت کیا کہ لفظ ہی ایک، دوسری صورت ‏کہ ایک سے زیادہ لفظ ہوں لیکن بات پوری نہ ہو، تیسری صورت بات تو پوری ہے لیکن شک ہے یا وہم ہے، یہ بھی کیا ‏ہے؟ تصور، اور چوتھی صورت کہ جملہ انشائیہ ہو، یہ چاروں تصور ہیں۔ جبکہ اس کے مقابلے میں تصدیق ہے جس میں ‏بات پوری ہو اور آپ کو اس کا یقین ہو۔ اسی میں ظن بھی داخل ہے، کیونکہ ظن میں زیادہ خیال ہوتا ہے، جب زیادہ خیال ‏ہے تو یہ اسی طرح ہے جیسے کہ آپ کو یقین ہے بھئی۔ تو یہ ہے تصدیق اور تصور۔ تو یاد رکھو ہمارا جتنا علم ہے وہ سارا یا تصور ہوتا ہے یا تصدیق۔ آپ کے ذہن میں جو بھی باتیں آتی ہیں آپ غور کر ‏لیں، یا وہ تصور ہوگا یا تصدیق، کیونکہ بات ذہن کی چل رہی ہے نا۔ منطقی کی توجہ کس کی طرف ہوتی ہے؟ قولِ معقول ‏کی طرف، ذہن میں جو بات آئے، اور تو ذہن میں جو بات آئی یا وہ تصور ہوگی یا تصدیق ہوگی، تو ہمارا علم انہی دو ‏قسموں پر مشتمل ہے بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الکلام۔ ‏ ‏