جی، کتاب پر دیکھیے بھئی۔
سبقِ ششم: مفرد و مرکب۔
مفرد وہ لفظ ہے کہ اس کے جز سے اس کے معنی کے جز پر دلالت کا قصد نہ ہو، جیسے لفظِ زید کہ اس کے جز سے مثلاً ’زا‘ سے اس کے معنی کے جز پر دلالت کا ارادہ نہیں بلکہ دلالت ہی نہیں۔
مفرد کی چار قسمیں ہیں: اول، اس لفظ کا جز نہ ہو، جیسے لفظِ ’کہ‘ اردو میں۔ دوم، لفظ کا جز ہو مگر وہ معنی دار نہ ہو، جیسے انسان کے الف اور نون اور سین کے کچھ معنی نہیں۔ سوم، لفظ کا جز ہو اور معنی دار بھی ہو لیکن جو معنی تم کو مقصود ہیں ان پر دلالت نہ کرتا ہو، جیسے لفظِ عبد اللہ۔
اچھا بھئی، ہم نے چھٹیوں سے قبل یہ مفرد اور مرکب کی بحث شروع کی تھی اور کچھ باتیں میں نے ذکر بھی کر دی تھیں، لیکن درمیان میں یہ عید کی چھٹیاں آ گئیں، اب میں پھر دوبارہ تفصیل سے ساری بیان کر دیتا ہوں۔
اس سے پہلے آپ نے پڑھا کہ دلالت کسے کہتے ہیں۔ آسان لفظوں میں میں نے بتایا تھا دلالت کسے کہتے ہیں کہ ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ چل جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ دلالت۔ مثلاً میں نے کہا زید، فوراً زید کی ذات آپ کے ذہن میں آ گئی۔ تو یہ ہے یہ کیا ہوئی؟ دلالت ہو گئی، یعنی لفظِ زید نے ذاتِ زید پر دلالت کر دی بھئی۔ آپ کا ایک ساتھی ہے اس کا نام زید ہے، فوراً اس کی صورت آپ کے ذہن میں آ گئی بھئی۔ میں نے کہا بارش، فوراً وہ جو آسمان سے بادلوں سے وہ پانی برستا ہے وہ فوراً آپ کے ذہن میں آ گیا۔ میں نے کہا درخت، فوراً ایک صورت آپ کے ذہن میں آ گئی۔ میں نے دیوار کہا، میں نے پنکھا کہا، دیکھیے جو جو لفظ میں بولتا جا رہا ہوں مختلف چیزوں کی صورتیں آپ کے ذہن میں آتی جا رہی ہیں۔ تو دیکھو یہ لفظ ان چیزوں پر کیا کر رہے ہیں؟ دلالت کر رہے ہیں بھئی، دلالت۔
اور پھر آپ نے پڑھا تھا اس دلالت کی چھ قسمیں ہیں لیکن ان میں سب سے زیادہ نفع والی دلالتِ لفظیہ وضعیہ ہے۔ کون سی دلالت ہے؟ دلالتِ لفظیہ جس میں دال لفظ ہو اور دلالت بااعتبار وضع کے ہو، اور وضع کسے کہتے ہیں؟ مقرر کرنا کہ ہم نے ایک چیز کے لیے ایک نام مقرر کیا ہو یا ایک معنی کے لیے ایک لفظ مقرر کیا ہو۔ مثلاً میں نے کہا زید کے ماں باپ نے اس کا نام کیا رکھا؟ زید، تو دیکھو یہاں بھی مقرر کرنا ہے۔ اور یہ جو دیوار کا نام ہم نے دیوار رکھا ہے عرب کے سامنے یا انگریزوں کے سامنے دیوار کہو ان کو کچھ سمجھ نہیں آئے گا کیونکہ انہوں نے اس کے لیے یہ لفظ مقرر نہیں کیا، انہوں نے اور لفظ مقرر کیے ہیں جو ان کی زبانوں میں ہیں۔
تو دیکھا یہ ہے وضع۔ تو معلوم ہوا دلالت کی قسموں میں سب سے زیادہ فائدہ دینے والی دلالت کون سی ہے؟ دلالتِ لفظیہ وضعیہ، جس میں دال کیا ہو؟ لفظ ہو اور دلالت کس وجہ سے ہو؟ وضع کی وجہ سے کہ ہم نے مقرر کیا ہے۔ ہر ایک کو اس کا پتہ ہوتا ہے، ہر ایک اس کو جانتا ہے کہ اس لفظ کو کس معنی کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ جیسے دیکھو میں آپ کے سامنے یہ اتنی لمبی تقریر کر رہا ہوں، میں جو جو بولتا جا رہا ہوں آپ سمجھتے جا رہے ہیں۔ سمجھتے جا رہے ہیں یا نہیں؟ لیکن اگر آپ کی جگہ اگر عرب بیٹھے ہوتے یا کوئی انگریز بیٹھے ہوتے اور میں یہی تقریر کرتا ان کو ایک لفظ بھی سمجھ میں نہیں آنا تھا کیونکہ وہ اردو جانتے ہی نہیں۔ انہوں نے انہی چیزوں کے لیے اپنی زبان میں اور لفظ مقرر کیے ہیں، اب ان کی زبان میں تقریر کرو گے تو ان کو سمجھ آئے گی، ان کی زبان میں نہیں کرو گے تو ان کو سمجھ میں؟ تو دیکھو وضع وہاں بھی ہے لیکن ان کی اپنی وضع ہے، ہماری اپنی، ہم نے اپنی زبان میں مختلف چیزوں کے خود نام مقرر کیے ہیں، عربوں نے خود مقرر کیے ہیں، انگریزوں نے خود مقرر کیے ہیں مختلف چیزوں کے مختلف نام بھئی، مختلف نام۔
تو دلالتِ لفظیہ وضعیہ کا فائدہ سب سے زیادہ، اس لیے مناطقہ اس سے زیادہ بحث کرتے ہیں۔ چنانچہ اسی لیے گزشتہ سبق میں دلالتِ لفظیہ وضعیہ کی تین قسمیں آپ نے پڑھی تھیں: دلالتِ مطابقی، دلالتِ تضمنی اور دلالتِ التزامی۔ دلالتِ مطابقی کسے کہتے تھے؟ کہ لفظ اپنے پورے معنی موضوع لہ پر دلالت کرے۔ دلالتِ تضمنی کہ لفظ اپنے معنی کے جز پر دلالت کرے۔ ذہن میں تازہ ہو رہی ہیں چیزیں بھئی؟ تو لفظ اگر اپنے پورے معنی موضوع لہ پر دلالت کرے اسے کیا کہتے ہیں؟ دلالتِ مطابقی۔ اور لفظ اگر اپنے معنی کے جز پر دلالت کرے تو اسے کیا کہتے ہیں؟ دلالتِ تضمنی۔ اور اگر لفظ اپنے معنی کے کسی خارج پر دلالت کرے، نہ جز پر نہ کل پر بلکہ کسی خارج، کسی لازم چیز پر دلالت کرے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ دلالتِ التزامی کہتے ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
اور میں نے یہ بھی بیان کیا تھا کہ میں مثلاً انسان بولوں تو انسان کو انسان کس چیز کا نام ہے؟ حیوانِ ناطق کا۔ تو جیسے ہی میں نے کہا انسان، یہ حیوانِ ناطق پورا آپ کے ذہن میں آ گیا۔ جب پورا ذہن میں آیا تو حیوان، ناطق دونوں جز بھی آ گئے ساتھ یا نہیں آ گئے؟ کیونکہ کل تو ہوتا ہی تب ہے جب ایک ایک جز بھی ذہن میں آ جائے۔ اور نیز اس کا کوئی لازم جو اس کے ساتھ لازم چیز تھی یعنی اس میں علم کی صلاحیت اللہ نے رکھی ہے وہ بھی ذہن میں آ گئی۔ تو جیسے ہی میں کہوں گا انسان، خود بخود فوراً تینوں دلالتیں پائی گئیں۔ یہ نہیں کہ آپ ارادہ کریں گے تو ایک دلالت ہو گی، دوسری کا ارادہ کریں گے تو دوسری دلالت ہو گی، تیس، بھئی دلالت میں ارادے کا کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ دلالت تو کس کو کہتے تھے؟ ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ چل جائے، وہاں کوئی ارادے کی بات تھی؟ کہ ارادہ ہو گا تو دلالت ہو گی، ارادہ نہیں تو دلالت بھی، ہاں تو دلالت میں ارادے کی بات ہی نہیں ہے۔
لہٰذا جیسے ہی آپ نے انسان کہا تو حیوانِ ناطق پورا آپ کے ذہن میں آیا۔ اور پورا تبھی آئے گا جب حیوان اور ناطق دونوں جز بھی آ جائیں، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو مطابقی بھی ہوئی، ساتھ ہی خود بخود تضمنی بھی ہو گئی اور ساتھ ہی خود بخود التزامی۔ تو جہاں بھی مطابقی ہو گی اگر اس کا جز ہے تو خود بخود تضمنی بھی ہو جائے گی، اگر اس کا کوئی لازم ہے تو خود بخود التزامی بھی ہو جائے گی، تینوں دلالتیں اکٹھی ہو جائیں گی بھئی۔ ہاں، پھر اس میں بعض اوقات ہمارا ارادہ کل بول کر کل ہی کا ارادہ ہوتا ہے، بعض اوقات ہمارا ارادہ جز کا ہوتا ہے، بعض اوقات ہمارا ارادہ کس کا ہوتا ہے؟ لازم کا ہوتا ہے، تو ارادہ اور چیز ہے۔ تو دلالتیں، جب میں نے کہا انسان، کون سی دلالت پائی گئی؟ جب میں نے کہا انسان، تینوں دلالتیں پائی گئیں۔ کون سی دلالت؟ تینوں پائی گئیں۔ اب میرا ارادہ کس کا ہے وہ الگ چیز ہے۔ ہو سکتا ہے انسان سے بول کر میرا پورا حیوانِ ناطق کا ارادہ ہو، ہو سکتا ہے میرا ارادہ کس کا ہو؟ میرا ارادہ ایک جز کا ہو، اور ہو سکتا ہے میرا ارادہ نہ کل کا ہے نہ جز کا ہے بلکہ ایک لازم کا ہے۔ تو ارادہ اور چیز ہے، ارادہ میرا ہو سکتا ہے ایک کا ہو لیکن دلالتیں خود بخود کون سی ہو گئیں؟ تینوں دلالتیں ہو گئیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو دلالتیں تینوں پائی گئیں البتہ ہم یہ کہیں گے کہ میرا ارادہ تو صرف حیوان کا تھا انسان بول کر، تو یہ کون سی دلالت ہوئی؟ دلالتِ تضمنی ہوئی، کون سی ہوئی؟ تو میں نے اب میں بولتا ہوں سنو توجہ سے، پتہ لگے آپ کو علم ہوا کہ نہیں۔ انسان بول کر میں نے حیوان کا ارادہ کیا صرف، یہ کون سی دلالت ہوئی؟ دلالتِ تضمن۔ اور کون سی دلالت پائی گئی یہاں پر؟ انسان بول کر میں نے کس کا ارادہ کیا؟ حیوان کا۔ کون یہ کون سی دلالت ہے؟ یہ دلالتِ تضمنی ہے۔ اچھا اور دلالت کون کون سی دلالت یہاں پائی گئی؟ پائی ساری گئیں: مطابقی بھی، تضمنی بھی اور کیونکہ انسان کا جز ہے یا نہیں ہے؟ تو جب کل آیا تو جز بھی ذہن میں آ گیا، اور انسان کا کوئی لازم ہے؟ لازم یعنی قابلیتِ علم اس کا لازم بھی ہے، تو جب کل آیا جز بھی آ گیا اور اس کے وہ اس کا لازم بھی آ گیا، تو دلالتیں تینوں پائی گئیں لیکن ارادہ میرا کس کا ہے؟ تضمنی کا ارادہ ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟
اور یہ بھی میں نے بیان کیا تھا کہ دلالتِ مطابقی تو ہمیشہ پائی جائے گی، آپ ارادہ کریں یا نہ کریں۔ اب میں نے انسان بول کر کس کا ارادہ کیا؟ حیوان کا، یہ کون سی دلالت ہے؟ تضمنی۔ لیکن مطابقی خود بخود پائی جائے گی، ہر جگہ ایسا ہو گا۔ تو یہاں بھی دیکھو تینوں دلالتیں ہیں یا نہیں؟ تو مطابقی پائی جا رہی ہے یا نہیں؟ توجہ ہے؟ میں نے کس کا ارادہ کیا؟ تضمنی، اور میں نے آپ کو بتایا تھا دلالتِ تضمنی بعد میں آتی ہے، پہلے کون سی آتی ہے؟ دلالتِ ہمیشہ دلالتِ مطابقی پہلے آتی ہے، تضمنی اور التزامی بعد میں آتی ہیں۔ لہٰذا اولاً کون سی دلالت ہوئی؟ مطابقی، پھر یہ جو میں نے ارادہ کیا تضمنی اس کے بعد پائی گئی، تو دلالتیں یہاں تینوں موجود ہیں لیکن میرا کس کا ارادہ دلالتِ تضمنی کا، اور اب مجھے بتاؤ یہاں دلالتِ مطابقی موجود ہے یا نہیں؟ موجود ہے بھئی، پہلے کون سی ہوتی ہے ہمیشہ؟ مطابقی، لفظ پہلے اپنے پورے معنی موضوع لہ پہ دلالت کرتا ہے پھر اس سے دوسری طرف ذہن جاتا ہے کہ نہیں یہ تو پورا تو مراد نہیں ہے، یہاں تو جز مراد ہے، پھر جز کی طرف ذہن چلا جاتا ہے۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ رہی ہے؟
معلوم ہوا جہاں بھی دلالتِ تضمنی ہو گی پہلے مطابقی کا ہونا کیونکہ تضمنی میں کس پہ دلالت ہوتی ہے؟ جز پر، کس پر؟ اور جز وہیں ہوتا ہے جہاں کل ہو۔ کل ہو گا تو اس کے کوئی جز بھی ہوں گے، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ اور اسی طرح دلالتِ التزامی وہاں ہوتی ہے جہاں پہلے کون سی ہو؟ مطابقی ہو۔ تو دلالتِ تضمنی کے لیے بھی ساتھ مطابقی ضروری ہو گی، دلالتِ التزامی کے ساتھ بھی دلالتِ مطابقی ضرور ہو گی، لیکن دلالتِ مطابقی کے ساتھ ان دونوں کا ہونا ضروری نہیں۔
ایک چیز ہے اس کا جز ہی نہیں ہے، اس کا تو وہاں مطابقی تو ہو گی لیکن تضمنی نہیں، یا ایک چیز ہے اس کا کوئی لازم نہیں ہے جو اس کے ساتھ ہمیشہ ہو تو وہاں مطابقی تو ہو گی لیکن التزامی نہیں۔ تو ہو سکتا ہے، تو یہاں تینوں صورتیں بن سکتی ہیں: صرف دلالتِ مطابقی ہے اور تضمنی اور التزامی نہیں۔ صرف مطابقی ہو اور ساتھ تضمنی بھی ہو کیونکہ اس کا جز ہے لیکن التزامی نہ ہو کیونکہ اس کا کوئی لازم ہے ہی نہیں۔ تیسری صورت: دلالتِ مطابقی بھی ہو اور التزامی بھی ہو کیونکہ اس کا لازم ہے، لیکن جز کوئی نہیں تو دلالتِ تضمنی نہیں ہو گی، اور تیسری صورت کیا ہے کہ تینوں دلالتیں پائی جائیں بھئی، جیسے انسان کے اندر کون سی تین کون سی دلالتیں ہیں؟ تینوں دلالتیں پائی جا رہی ہیں، بات سمجھ میں آ گئی؟ کہ ابھی بھی نہیں سمجھ میں آئی؟ ویسے سر ہلا رہے ہیں لگتا ہے۔ کیا بات ہوئی؟ دلالتِ دلالتِ مطابقی کسے کہتے ہیں کہ لفظ اپنے پورے معنی موضوع لہ پر دلالت کرے۔ دلالتِ تضمنی کسے کہتے ہیں کہ لفظ اپنے معنی موضوع لہ کے جز پر۔ دلالتِ التزامی کسے کہتے ہیں کہ لفظ اپنے معنی موضوع لہ کے لازم پر دلالت کرے، ایسی چیز جو اس کے ساتھ لازم ہے اس سے جدا نہیں ہوتی، جیسے سورج کے ساتھ روشنی لازم ہے، سورج ہو اور روشنی نہ ہو ایسا نہیں کیونکہ روشنی اس کے ساتھ لازم ہے۔ تو جیسے سورج بولیں روشنی بھی فوراً ذہن میں آتی ہے یا نہیں آتی؟ تو دن کی روشنی بھی فوراً ذہن میں آ جاتی ہے، تو یہ دلالتِ التزامی ہے۔
اور میں نے آپ کو بتایا کہ اگر ایک چیز ہے اس کا جز بھی ہے اور اس کا لازم بھی ہے، تو پھر جیسے ہی وہ لفظ آپ بولیں گے مطابقی کے ساتھ ساتھ دلالتِ تضمنی بھی پائی جائے گی اور دلالتِ التزامی۔ ہاں، آپ نے کس کا ارادہ کیا ہے؟ مطابقی کا، یا تضمنی کا، یا التزامی کا، وہ الگ چیز ہے۔ آپ کے ارادے کو ایک طرف رکھ دو، دلالتیں کون سی پائی گئیں؟ تینوں پائی گئیں، ہاں پھر ان میں سے ایک کا ارادہ کیا تھا ہم نے۔
اور اگر ایک چیز کا جز تو ہے لیکن لازم نہیں تو دلالتِ مطابقی کے ساتھ صرف کون سی دلالت ہو گی؟ تضمنی ہو گی، التزامی ہو گی ہی نہیں کیونکہ اس چیز کا کوئی لازم ہی نہیں۔ اور ایک چیز کا اگر لازم تو ہے لیکن اس کا جز ہی کوئی نہیں تو وہاں مطابقی کے ساتھ التزامی تو ہو گی لیکن تضمنی نہیں ہو گی۔ اور ایک چیز ایسی ہے کہ اس کا نہ جز ہے، نہ اس کا کوئی لازم ہے، تو دلالتِ مطابقی تو پائی جائے گی لیکن نہ تضمنی ہو گی اور نہ التزامی۔
معلوم ہوا دیکھو چار صورتیں بن گئیں: ایک صورت کیا؟ صرف دلالتِ مطابقی ہے، نہ جز ہے نہ خارج ہے۔ دوسری صورت کیا؟ دلالتِ مطابقی بھی ہے اور دلالتِ تضمنی بھی ہے لیکن امرِ لازم کوئی نہیں تو دلالتِ التزامی نہیں ہے، دو صورتیں ہو گئیں؟ تیسری صورت: مطابقی بھی ہے اور التزامی بھی ہے لیکن تضمنی نہیں کیونکہ اس چیز کا کوئی جز ہی نہیں۔ اور چوتھی صورت یہ ہے کہ تینوں دلالتیں ہیں، تینوں تو کل کتنی صورتیں ہوئیں؟ چار۔ اور ان چاروں میں آپ غور کر لیں، پھر سن لیں ایک دفعہ: ایک صورت میں صرف کون سی دلالت؟ مطابقی ہے، تضمنی اور التزامی نہیں۔ دوسری صورت میں مطابقی اور تضمنی ہے، التزامی نہیں۔ تیسری صورت میں مطابقی اور التزامی ہے، تضمنی نہیں۔ اور چوتھی صورت میں تینوں دلالتیں ہیں۔ آپ ان چاروں صورتوں میں دیکھ لیں، مطابقی سب میں پائی جا رہی ہے۔ مطابقی سب میں ہے یا نہیں؟ ہاں، لیکن تضمنی اور التزامی میں سے کبھی ایک ہوتی ہے، کبھی ایک بھی نہیں ہوتی اور کبھی دونوں ہوتی ہیں۔ معلوم ہوا دلالتِ تضمنی کے ساتھ ہمیشہ مطابقی ضرور ہو گی، دلالتِ التزامی کے ساتھ ہمیشہ مطابقی ضرور ہو گی، لیکن مطابقی کے ساتھ ان دونوں کا ہونا ضروری نہیں، ہو سکتا ہے ایک ہو، ہو سکتا ہے دوسری ہو، ہو سکتا ہے دونوں ہی نہ ہوں اور ہو سکتا ہے دونوں بھی ہوں۔ صورتیں سمجھ میں آ گئیں؟
یہ تو تھا گزشتہ سبق میں ذکر کر رہا تھا بھئی۔ اب آئیے آج کے سبق مفرد اور مرکب پر بھئی۔ مفرد اور مرکب میں پہلے بھی کچھ بیان کر چکا ہوں بھئی، پھر سن لیجیے۔ ایک مفرد اور مرکب جو ہیں وہ عام علوم کے اندر اور ایک مفرد اور مرکب منطق کے اندر ہیں بھئی۔ عام علوم کے اندر مفرد جو اکیلی چیز ہو یا اکیلا لفظ ہو اس کو مفرد کہتے ہیں، اور جو دو یا زیادہ چیزیں یا دو سے زیادہ لفظ ہوں تو اس کو مرکب کہتے ہیں۔ عام علوم کے اندر مفرد کسے کہتے ہیں؟ ایک چیز یا ایک لفظ، اور مرکب کسے کہتے ہیں؟ دو یا زیادہ لفظ یا چیزیں، اور یہاں ہم چیزوں کی تو بات نہیں کر رہے، یہ تو لفظ کی بات چل رہی ہے، دلالتِ لفظیہ کی بات چل رہی ہے نا؟ تو یہاں اب لفظ کے بارے میں ہم صرف بات کریں۔ تو اگر اکیلا لفظ ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مفرد، اور اگر دو یا زیادہ لفظ ہوں تو اسے کیا کہتے ہیں؟ مرکب۔ مثلاً زید ایک لفظ ہے یا کئی لفظ ہیں؟ یہ ایک لفظ ہے بھئی، تو یہ کیا ہوا؟ مفرد۔ زید، بکر، خالد یہ ایک لفظ ہے یا کئی لفظ ہیں؟ کئی لفظ، تو یہ کیا کہلائیں گے؟ مرکب کہلائیں گے۔ تو اگر ایک لفظ ہو اسے کیا کہتے ہیں؟ مفرد، اور اگر دو یا زیادہ لفظ ہوں تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مرکب کہتے ہیں بھئی، مرکب کہتے ہیں۔
تو یہ عام علوم کے اندر، لیکن منطق کے اندر مفرد اور مرکب کی اور تعریف کرتے ہیں۔ منطق میں مرکب اسے کہتے ہیں کہ لفظ کئی ہوں، لفظ دو یا زیادہ ہوں، لفظ دو یا اور ہر لفظ کا اپنا معنی ہو اور ہر لفظ اپنے معنی پر دلالت بھی کرے اور اس دلالت کا ارادہ بھی کیا جائے۔ پھر سنو، منطق میں مرکب کسے کہتے ہیں؟ کہ دو یا زیادہ لفظ ہوں اور ان میں سے ہر ایک کا معنی ہو اور وہ اپنے معنی پر کیا کرے؟ دلالت کرے اور اس معنی کا ارادہ بھی کیا جائے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ مرکب۔ اور اگر ایسا نہ ہو، ان میں سے کوئی ایک چیز بھی کم ہو گئی تو پھر وہ مرکب نہیں کہلائے گا بلکہ مفرد کہلائے گا۔ پھر دہراؤ، منطق میں مرکب کسے کہتے ہیں؟ دو یا زیادہ لفظ ہوں اور ہر لفظ کا اپنا معنی ہو اور وہ اس اپنے معنی پر دلالت بھی کرے اور اس کا ارادہ بھی کرے، تو پھر اس کو کیا کہیں گے؟ مرکب۔ اور اگر ان میں سے کوئی ایک چیز بھی کم ہو گئی تو پھر وہ مرکب نہیں کہلائے گا بلکہ مفرد کہلائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
مثلاً دیکھو، رمضان کا مہینہ، رمضان کا کوئی بھی مثال ذکر کر لیں، دیکھیں ایک چیز بات سمجھ میں آ جائے گی، یہ مثال میں پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں۔ رمضان کا مہینہ، رمضان دیکھو ایک لفظ ہے، کا دوسرا لفظ ہے، مہینہ تیسرا لفظ ہے، تو لفظ ایک ہے یا کئی لفظ ہیں؟ کئی لفظ، پہلی شرط پوری ہو گئی۔ دوسری شرط: ہر لفظ کا معنی بھی ہو۔ رمضان وہ ایک مخصوص مہینے کا نام ہے جس میں ہم روزے رکھتے ہیں۔ کا، کا، کے، کی یہ کس لیے آتے ہیں؟ نسبت بیان کرنے کے لیے کہ ایک چیز کا تعلق ہے دوسری چیز سے، اس کی جی۔ اور مہینہ تیس دنوں کو کہتے ہیں، تو دیکھو لفظ بھی کئی اور ہر لفظ کا کیا ہے؟ اپنا معنی ہے، اور وہ اس مہینے پر دلالت بھی کر رہا ہے، اور رمضان کا مہینہ میں نے ارادہ بھی اسی کا کیا۔ جو ہر ایک کا معنی ہے میں نے اسی کا، دوبارہ دہراؤ، لفظ کتنے ہیں؟ کئی لفظ ہیں اور ہر لفظ اپنے معنی پر دلالت بھی کر رہا ہے، اور تیسری چیز کہ اس دلالت کا آپ ارادہ بھی کریں، تو پھر یہ کیا کہلائے گا؟ مرکب۔ تو رمضان کا مہینہ معنی سمجھ میں آ گیا؟ تو یہ کون یہ کیا ہے؟ مفرد ہے یا مرکب ہے؟ مرکب ہے، شاباش۔ ان میں سے ایک بھی چیز کم ہو گئی تو پھر وہ مرکب نہیں کہلائے گا بلکہ مفرد کہلائے گا۔
جیسے زید، اب بتائیے زید ایک لفظ ہے، کئی لفظ ہیں؟ ایک لفظ، تو مفرد ہے یا مرکب؟ مفرد ہے کیونکہ مرکب میں تینوں شرطیں پوری ہونی چاہئیں۔
دوسری صورت: جیسے آپ کا مثلاً ایک ساتھی ہے اس کا نام ہے عبد اللہ، اس کا نام کیا ہے؟ عبد اللہ۔ ویسے عربی زبان میں دیکھو عبد کہتے ہیں بندے کو، بندہ، غلام، غلام، بندہ۔ اور لفظِ اللہ یہ نام ہے ذاتِ باری تعالیٰ کے لیے۔ تو عبد اللہ کا ویسے معنی کیا ہوا؟ اللہ کا بندہ۔ لیکن جب ایک ساتھی کا نام ہے والدین نے رکھا ہے، اب آپ اس کو عبد اللہ کہتے ہیں تو کیا آپ کا معنی کا ارادہ ہوتا ہے؟ نہیں، وہاں معنی کا ارادہ نہیں ہوتا بلکہ اس کا نام ہے، نام کے طور پر ایک لفظ بولا جاتا ہے۔ تو اب دیکھو عبد اللہ میں نے آپ کے سامنے کہا، ایک لفظ ہیں یا دو ہیں؟ دو لفظ ہیں، اور ہر ایک کا اپنا معنی ہے یا نہیں؟ ہر ایک کا اپنا معنی بھی ہے، لیکن کیا اس کا ارادہ آپ کرتے ہیں؟ نہیں، ارادہ نہیں کرتے، تو یہ مفرد ہے یا مرکب؟ یہ مفرد ہے، صورت سمجھ میں آ گئی۔
اس کے مقابلے میں اگر مثلاً آپ سے کسی نے آپ کا نام پوچھا اور آپ اپنا نام چھپانا چاہتے ہیں، اس کو بتانا نہیں چاہتے، تو آپ اس کو کہہ دیتے ہیں میرا آپ اس کو کہہ دیتے ہیں انا عبد اللہ، انا عبد اللہ، تو وہ سمجھتا ہے کہ یہ شاید مجھے اپنا نام بتا رہا ہے کہ میں عبد اللہ ہوں، میرا نام کیا ہے؟ لیکن آپ کا کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میرا نام عبد اللہ ہے، آپ اس کو کیا کہنا چاہ رہے ہیں؟ میں اللہ کا بندہ ہوں۔ دیکھو آپ نے معنی کا ارادہ کیا اور وہ معنی نہ سمجھا، وہ سمجھا شاید عبد اللہ سے نام عبد اللہ مراد ہے۔ اب مجھے بتائیے جب آپ نے کہا انا عبد اللہ تو یہ کوئی آپ کا نام تو ہے نہیں، لہٰذا اب دیکھیں یہ مرکب ہے یا نہیں؟ عبد اللہ ایک لفظ ہے یا زیادہ لفظ ہیں؟ زیادہ لفظ ہیں، شاباش۔ اور ہر لفظ کا معنی ہے کہ معنی نہیں؟ ہر لفظ کا معنی بھی ہے، اور وہ اس معنی کا آپ نے ارادہ کیا کہ نہیں کیا؟ آپ نے ارادہ بھی کیا، آپ نے اللہ کے بندہ ہی کا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں، تو آپ نے اس کا ارادہ بھی کیا، تو اب یہی عبد اللہ کیا بن گیا؟ مرکب بن گیا۔ پہلے یہی عبد اللہ جب کسی کا نام تھا تو یہ مفرد تھا، اور جب آپ نے اس کے معنی کا ارادہ کر لیا اب یہ کیا بن گیا؟ مرکب بن گیا۔ فرق سمجھ میں آیا؟ تو مرکب میں کئی لفظ ہوں گے اور ہر لفظ اپنے معنی پر دلالت کرے گا اور اس دلالت کا ارادہ بھی کیا جائے گا، تین چیزیں ہوں گی، بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ تھا مفرد اور مرکب میں فرق بھئی۔
اب اسی بات کو صاحبِ صاحبِ تیسیر المنطق، تیسیر المنطق کے جو مصنف ہیں وہ اس کو اپنے علمی انداز میں بیان کریں گے اور گہرائی کے اندر آپ کو لے جائیں گے۔ آئیے اب ان کا طریقہ بھی کر لیتے ہیں۔ وہ کیا فرماتے ہیں؟ دیکھو پہلے تعریف پڑھ لو، وہ کہتے ہیں: مفرد وہ لفظ ہے کہ اس کے جز سے اس کے معنی کے جز پر دلالت کا قصد نہ ہو، قصد ارادہ، ارادہ۔ قصد کا کیا معنی؟ ارادہ۔ کہ دلالت کا قصد نہ ہو یعنی ارادہ نہ ہو، جیسے لفظِ زید۔ اور آخر میں پھر انہوں نے تعریف دی ہے مرکب کی، آخر میں، کہ مرکب وہ لفظ ہے کہ اس کے جز سے معنی کے جز پر دلالت کا ارادہ کیا جائے۔
تو وہی بات کر رہے ہیں، میں نے کیا کہا؟ مرکب کسے کہتے ہیں؟ تین چیزیں ہوں اس میں، تین چیزیں: کیا؟ پہلی چیز دو یا زیادہ لفظ ہوں۔ دوسری چیز وہ اپنے معنی پر دلالت بھی کریں۔ اور تیسری چیز اس دلالت کا، پھر دہراؤ، پھر دہراؤ۔ پہلی چیز کیا؟ دو یا زیادہ لفظ ہوں۔ دوسری وہ اپنے معنی پر دلالت کریں۔ تیسرا اس دلالت کا ارادہ بھی کریں، تو اس کو کیا کہیں گے؟ مرکب، ورنہ مفرد کہیں گے۔ یہی تعریف کر رہے ہیں: مرکب وہ لفظ ہے کہ اس کے جز سے معنی کے جز پر دلالت کا ارادہ کیا جائے۔ یہ تعریف کر رہے ہیں۔
اب اس کو سمجھ لیں بھئی، بعینہٖ وہی بات کر رہے ہیں جو میں نے بیان کی، البتہ یہ ذرا علمی انداز میں اس کو ذکر کر رہے ہیں علمی۔ سب سے پہلے تو یہ سمجھ لو یہ جو لفظ ہے نا لفظ، ایک ہو اس کو بھی لفظ کہتے ہیں، دو ہوں اس کو بھی لفظ کہتے ہیں، تین یا چار یا پانچ ہوں اس کو بھی لفظ کہتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ آپ کہیں گے نہیں ایک کو تو لفظ کہتے ہیں، دو یا زیادہ ہوں تو الفاظ کہتے ہیں۔ نہیں بھئی، وہ بھی ٹھیک ہے، اس طرح بھی استعمال ہوتا ہے، لیکن صرف لفظ ہی کو سب پر بھی بولا جا سکتا ہے۔ زید یہ بھی کیا ہے؟ لفظ۔ زید، عمر، بکر یہ بھی کیا ہے؟ لفظ ہیں۔ اور زید، عمر، بکر، خالد یہ بھی کیا ہیں؟ لفظ ہیں۔ جیسے انسان، ایک آدمی ہو تو بھی آپ کہتے ہیں یہ انسان ہے، دو ہوں تو بھی آپ کہتے ہیں یہ انسان ہیں، تین یا چار ہوں تو بھی آپ کہتے ہیں یہ انسان ہیں، دیکھو ایک ہی لفظ آپ بول رہے ہیں سب کے اوپر۔ یا جیسے طالب علم، ایک ہو یہ طالب علم ہے، دو ہوں یہ طالب علم ہیں، تین، چار یا سب ہوں یہ طالب علم ہیں، دیکھو وہی ایک لفظ میں بول رہا ہوں سب کے اوپر، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو اسی طرح لفظ ہے، ایک ہو اس کو بھی کہتے ہیں لفظ، دو یا زیادہ ہوں تو اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ لفظ کہتے ہیں، لفظ کہتے ہیں۔ تو لفظ اس میں جنس ہے، اس کا اطلاق قلیل اور کثیر پر ہوتا ہے، یعنی یہ تھوڑوں پر تھوڑے ہوں ان پر بھی بولا جاتا ہے، زیادہ ہوں ان پر بھی، ایک لفظ ہو اس کو بھی لفظ کہتے ہیں، دو یا زیادہ ہوں اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ لفظ کہتے ہیں، بات سمجھ میں آ گئی؟
اب دیکھیے، جب کئی لفظ ہوں گے تو ہر ایک کا اپنا معنی بھی ہو گا، تو ہم یوں کہیں گے اس لفظ کے جز ہیں، اس لفظ کے اور جب اس لفظ کے جز ہیں تو پھر یقیناً اس کے معنی کے بھی جز ہوں گے، اس کے معنی کے بھی کیا ہوں گے؟ تو اگر لفظ کے جز سے معنی کے جز پر دلالت کا ارادہ کیا جائے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مرکب کہتے ہیں۔ نہیں سمجھ میں آئی بات، اوپر سے لگتا ہے گزر گئی۔ ہاں بھئی، اپنے سامنے ذرا کاغذ کے اوپر جو میں بتلاتا ہوں وہ لکھیں، ابھی آپ کو بات سمجھ میں آ جائے گی بھئی۔ جی، وہ جو میں نے مثال ذکر کی تھی رمضان کا مہینہ، رمضان کا اچھا پہلے لفظ لکھو رمضان، لکھو بھئی رمضان۔ رمضان سے تھوڑا سا فاصلہ دے کے لکھو کا، پھر تھوڑا سا فاصلہ دے کر لکھو مہینہ۔ ٹھیک ہے؟ اب رمضان کے گرد ایک چھوٹا سا دائرہ اس کے گرد بنا دو، دائرے میں کر دو اس کو، اس لفظ کو رمضان کو، رمضان کو، صرف لفظِ رمضان کے گرد دائرہ بناؤ۔ لفظِ رمضان کے گرد دائرہ بنا دو، بنا دیا؟ کا کے گرد بھی ایک دائرہ بنا دو، بنا لیا؟ اچھا، اور مہینے کے گرد بھی ایک دائرہ بنا دو، بنا دیا؟
اب ذرا نیچے چلے جاؤ ایک دو سطریں چھوڑ کر، تین سطریں چھوڑ کر۔ رمضان کس چیز کا نام ہے؟ خاص مہینہ، یہ اس کا معنی ہم لکھ رہے ہیں۔ ہاں، لکھو خاص مہینہ۔ یہ کس کا معنی ہے؟ وہ خاص مہینہ ہے نا روزوں والا، ہاں تو اس خاص مہینے کے گرد بھی دائرہ لگاؤ۔ خاص مہینے یہ کس کا معنی بیان ہوا؟ رمضان۔ اچھا کا کا کیا معنی ہوتا ہے؟ نسبت بیان کرنے کے لیے آتا ہے، تو اب وہ جو خاص مہینہ لکھا ہے نا اس کے آگے تھوڑا فاصلے پر لکھ دو نسبت، نسبت، اور اس کے گرد بھی دائرہ لگا دو، اس کے گرد بھی دائرہ لگا دو۔ یہ کس کا معنی بیان ہو رہا ہے؟ کا کا۔ اب تیسرا آ گیا مہینہ، مہینہ کسے کہتے ہیں؟ تیس دنوں کو، تو آگے لکھو تیس دن، تیس دن، تیس دن، اور اس کے گرد بھی دائرہ بنا دو۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے سب کو؟ خاص مہینہ یہ کس کا معنی ہے؟ رمضان کا۔ نسبت یہ کس کا معنی ہے؟ کا کا۔ اور یہ تیس دن یہ کس کا معنی ہے؟ مہینے کا۔ اچھا تو لفظ کیا ہے؟ رمضان کا مہینہ، یہ کیا ہیں؟ لفظ۔ اور خاص مہینہ، نسبت، تیس دن یہ کیا ہے؟ یہ ہے معنی، یہ کیا ہے؟ تو اوپر کیا ہے؟ لفظ، اور نیچے کیا ہے؟ توجہ ہے؟ اوپر جو تین دائرے بنائے یہ کیا ہے؟ یہ ہے لفظ، اور نیچے جو تین دائرے بنائے یہ کیا ہیں؟ معنی۔
اب یہ سارا لفظ ہے: رمضان کا مہینہ۔ لفظ ایک ہو، دو ہوں، دس ہوں، سب کو کیا کہتے ہیں؟ لفظ۔ تو اس سارے کا نام کیا ہے؟ رمضان کا مہینہ، اس سارے کا نام کیا؟ یہ ہے لفظ، یہ کیا ہے؟ اس سارے کے گرد دائرہ بنا دو: رمضان کا مہینہ۔ اب اس کے گرد ایک بڑا دائرہ رمضان کے مہینے کے گرد ایک بڑا دائرہ بناؤ، تینوں دائرے اس کے اندر آ جائیں، رمضان بھی آ جائے، کا بھی آ جائے، مہینہ بھی آ جائے۔ دیکھو یہ لفظ ہے، یہ سارا کیا ہے؟ لفظ۔ اور مجھے بتاؤ لفظ کا جز ہے؟ سارا لفظ کیا ہے؟ رمضان کا مہینہ، یہ سارا کیا ہے؟ یہ جو بڑا دائرہ بنایا نا اس کے اندر کیا کیا آ گیا؟ رمضان کا مہینہ، تو یہ سارا ہے لفظ، اور اس لفظ کے تین جز ہیں، کون سے تین جز اندر والے چھوٹے دائرے؟ رمضان ایک جز، کا دوسرا جز، مہینہ تیسرا جز۔ تو یہ لفظ ہے اور اس لفظ کے جز ہیں؟ جز ہیں۔ اچھا نیچے معنی کے گرد معنی کیا ہیں؟ تین ہیں، تو یہ سارا ایک معنی ہے اس کا، اس کے گرد پورے کے گرد دائرہ لگاؤ۔ وہ تینوں نیچے والے خانوں کے گرد ایک دائرہ بنا دو، یہ سارا کیا ہے؟ یہ کیا ہے؟ معنی۔ اور لکھ دو ساتھ چھوٹا سا معنی لکھ دو تاکہ آپ کو یاد رہے یہ دائرہ کس چیز کا ہے؟ معنی کا۔ اور اوپر والے دائرے کے ساتھ لکھ دو چھوٹا سا لفظ، اوپر والے دائرے کے اندر لکھ دو لفظ، یہ سارا لفظ ہے۔ لکھ لیا بھئی؟ یہ جو اوپر والے دائرے میں آپ نے چھوٹا سا لفظ لکھ دیا تاکہ آپ کو یاد رہے یہ سارا لفظ ہے، اور نیچے والا دائرہ کیا ہے؟ یہ سارا معنی ہے، معنی: میم، عین، نون، یا، یہ یا کے اوپر پھر کھڑی زبر ڈال دیتے ہیں، معنی۔
اچھا، پھر سنو، توجہ سے سن لو بھئی، ایک دفعہ آپ سمجھ گئے آپ کہیں گے کوئی مشکل نہیں۔ اب مجھے بتائیے لفظ کیا ہے؟ رمضان کا مہینہ، یہ سارا ہے لفظ۔ اور مجھے بتاؤ اس لفظ کے جز ہیں؟ جز، کیا کیا جز ہیں؟ رمضان ایک جز، کا دوسرا جز، مہینہ تیسرا جز۔ اور مجھے بتاؤ معنی کیا ہے؟ خاص مہینہ، نسبت اور تیس دن۔ تو مجھے بتاؤ معنی کے جز ہیں؟ معنی کے بھی جز ہیں، معنی کے بھی جز ہیں۔ اب جب میں نے کہا رمضان کا مہینہ یہ لفظ بولا، تو اس لفظ نے اس معنی پر دلالت کی جو آپ نے نیچے لکھا ہوا ہے۔ اب مجھے بتائیے لفظ کا جز معنی کے جز پہ دلالت، لفظ کا جز مثلاً ایک بولو، لفظ کا جز کوئی ایک جز بولو۔ اس دائرے کو دیکھو نا، لفظ کا کوئی ایک جز بولو۔ لفظ کا، معنی دیکھو، لفظ کو لفظ بولو، رمضان، یہ لفظ کا کیا ہے؟ جز، اور یہ جز دلالت کر رہا ہے معنی کے ایک جز پر کس پر؟ خاص مہینے پر۔ اور کا لفظ کا دوسرا جز ہے اور وہ کس پہ دلالت کر رہا ہے؟ نسبت یعنی معنی کے دوسرے جز پر۔ اور مہینہ یہ لفظ کا تیسرا جز ہے اور یہ بھی کس پر دلالت کر رہا ہے؟ معنی کے تیسرے جز۔ تو لفظ کا جز کس پہ دلالت کر رہا ہے؟ معنی کے جز پر۔ لفظ کا جز کس پر دلالت کر رہا ہے؟ معنی، لفظ کا ہر جز معنی کے ہر جز پر کیا کرتا جا رہا ہے؟ دلالت کرتا چلا جا رہا ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟
اور آپ اس دلالت کا ارادہ بھی کر لیں، اور آپ بھی بتائیے آپ نے بھی یہی ارادہ کیا یا نہیں؟ جو جو ہر لفظ کا معنی ہے آپ نے اسی کا ارادہ کیا یا نہیں کیا؟ اسی کا آپ نے ارادہ کیا ہے، تو یوں کہیں گے لفظ کے جز سے معنی کے جز پر دلالت کا ارادہ کیا گیا۔ میں نے جب بولا رمضان کا مہینہ، تو آپ یہ نیچے والا معنی سمجھے یا نہیں؟ اور میں نے بھی اسی کا ارادہ کیا یا کسی اور چیز کا ارادہ کیا ہے؟ میں نے بھی اسی کا ارادہ کیا ہے، تو دیکھو لفظ کے جز سے، توجہ ہے؟ معنی کے جز پر دلالت کا ارادہ کیا گیا ہے۔ کیسے ارادہ کیا گیا ہے؟ لفظ کا ایک جز مثلاً رمضان کیا ہے؟ خاص مہینے پر دلالت کر رہا ہے اور میں نے بھی اسی کا ارادہ کیا ہے، اور کا نسبت کے لیے ہے اور میں نے بھی اسی معنی کا ارادہ کیا ہے، اور مہینہ تیس دنوں کا نام ہے اور میں نے بھی اسی کا ارادہ کیا ہے، تو دیکھو ایک ایک لفظ کے ایک ایک جز سے معنی کے ایک ایک جز پر میں کیا کر رہا ہوں؟ دلالت کا ارادہ کر رہا ہوں۔ تو لفظ کے جز سے جب معنی کے جز پر دلالت کا ارادہ کیا جائے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مرکب کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ مرکب کہتے ہیں، صورت سمجھ میں آ گئی۔
اور دیکھو وہی چیزیں جو میں نے پہلے بیان کی تھیں: لفظ ایک ہے یا کئی لفظ ہیں؟ لفظ والے دائرے پہ نظر رکھو، ایک لفظ ہے یا کئی لفظ ہیں؟ کئی لفظ ہیں، اور وہ ہر ایک اپنے معنی پر دلالت کر رہا ہے یا نہیں؟ کر رہا ہے، اور میں نے بھی اس کا ارادہ کیا یا نہیں کیا؟ ارادہ بھی کیا، تو یہ کیا ہوا؟ مرکب۔ اسی کو صاحبِ تیسیر المنطق یعنی تیسیر المنطق کے جو مصنف ہیں انہوں نے ان لفظوں میں بیان کیا کہ مرکب وہ اب دیکھو کتاب پر: مرکب وہ لفظ ہے کہ اس کے جز سے معنی کے جز پر دلالت کا ارادہ کیا جائے۔ لفظ کے جز سے معنی کے جز پر دلالت کا ارادہ کیا جائے۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی؟ اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟
تو گویا مرکب میں تین شرطیں تو ہونا ضروری ہیں مرکب میں: لفظ کا جز ہونا چاہیے جیسے یہاں پر تین جز ہیں، اور وہ جز ان میں سے ہر ایک کیا کر رہا ہو؟ اپنے معنی پر دلالت کر رہا ہے، اور پھر اس دلالت کا ارادہ بھی کیا جائے۔ اور صاحبِ تیسیر المنطق نے کیا تعریف کی وہ ذرا دہراؤ، بولو، خود بولو، خود سوچ کر، کتاب پہ نہ دیکھو، کیا؟ لفظ کے جز سے معنی کے جز پر دلالت کا ارادہ، ارادہ لفظ ضرور لانا ہے کیونکہ ارادہ نہیں کرو گے تو پھر دلالت ہو بھی جائے وہ مرکب نہیں ہے بلکہ کیا ضروری؟ ارادہ۔ تو پھر دہراؤ: لفظ کے جز سے معنی کے جز پر دلالت کا ارادہ کیا جائے تو وہ مرکب ہے، اور اگر ایسا نہ ہو تو وہ مفرد ہے۔
اب مفرد کی بہت ساری صورتیں بن جائیں گی۔ ایک صورت یہ: ایک لفظ ایسا ہے جس کا جز ہی کوئی نہیں، ایک لفظ ایسا ہے جس کا جز ہی کوئی نہیں۔ ہم نے تو کہا تھا جز ضرور ہونا چاہیے تاکہ لفظ کا جز کس پہ دلالت کرے؟ معنی، جب لفظ کا جز ہی نہیں ہے تو پہلی شرط ہی پوری نہ ہوئی، تو وہ مفرد ہوا یا مرکب ہوا؟ وہ مفرد ہوا۔ دوسری صورت: لفظ کا جز تو ہے لیکن وہ معنی دار نہیں، ان کا معنی ہی کوئی نہیں، تو بھی مفرد۔ تیسری صورت: لفظ کا جز بھی ہے اور وہ معنی دار بھی ہے لیکن وہ ان پر دلالت نہیں کر رہا، تو بھی کیا ہوا؟ مفرد۔ چوتھی صورت: لفظ کا جز بھی ہے، معنی دار بھی ہے، وہ ان پہ دلالت بھی کر رہا ہے لیکن آپ اس کا ارادہ نہیں کرتے، یہ بھی کیا ہوا؟ مفرد ہوا، صورت سمجھ میں آ گئی۔
اس کی مثال جیسے وہ دیں گے اردو میں ’کہ‘، ’کہ‘۔ اردو میں لفظ ’کہ‘ بولتے ہیں یا نہیں؟ کیونکہ، اس کے آخر میں دیکھو کیونکہ، کیونکہ کے آخر میں کیا آ رہا ہے؟ کہ، اچھا کاف اور ہ بھئی۔ عربی میں اس کی زیادہ آسان مثال ہے، دیکھو مثلاً عربی میں ہمزہ جو ہے نا ہمزہ، یہ سوال پوچھنے کے لیے بھی آتا ہے اور کسی کو آواز دینے کے لیے بھی آتا ہے ندا کے لیے۔ مثلاً آپ عربی میں کسی کو آواز دینی ہو تو کہتے ہیں یا زیدُ، مثلاً اس کا نام زید تھا، دور کھڑا ہے آپ اس کو آواز دیتے ہیں یا زیدُ، اے زید! تو یہ یا کے ساتھ آپ آواز دے رہے ہیں۔ اسی طرح ہمزہ کے ساتھ بھی، قریب ہو تو آواز دیتے ہیں: اَزیدُ، اَزیدُ، معنی وہی ہے: اے زید! اب مجھے بتائیے اَزیدُ، یہ ’اَ‘، یہ ہمزہ کیا ہے؟ لفظ ہے یا نہیں؟ ہمزہ کیا ہے؟ لفظ۔ اب صرف یہ ہمزہ ہو تو مجھے بتائیے یہ لفظ ہے یا لفظ نہیں؟ لفظ ہے، اور مجھے بتائیے اس لفظ کے جز ہیں؟ جز ہی نہیں، یہ تو ایک ہی حرف ہے، یہ تو کیا ہے؟ ایک ہی حرف، تو یہ مفرد ہوا یا مرکب؟ مفرد، مرکب میں تو کئی لفظوں کا ہونا ضروری تھا۔
دوسری صورت: آپ بولتے ہیں لفظِ زید، زید۔ اب دیکھیے زید جب آپ نے کہا اس کے جز ہیں: زا، یا، دال، تین جز ہیں یا نہیں؟ لیکن زا کا کوئی معنی ہوتا ہے؟ یا کا کوئی معنی ہے؟ دال کا؟ نہیں، ان کا معنی نہیں ہے، یہ صرف بولنے کے لیے یہ لفظ ہیں، ان کا معنی کوئی نہیں ہوتا، یہ حروفِ تہجی کہلاتے ہیں۔ کوئی لفظ لکھنا ہو تو ان کی مدد سے لکھا جاتا ہے، البتہ ان کا معنی کچھ نہیں ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو زید یہ لفظ ہے اور اس لفظ کے جز بھی ہیں: زا بھی ہے، یا بھی ہے اور دال بھی، لیکن ان کا کوئی معنی نہیں، لہٰذا یہ بھی کیا ہوا؟ مفرد ہوا۔
تیسری صورت: آپ کا ایک ساتھی ہے اس کا نام عبد اللہ ہے بھئی، عبد اللہ۔ اب دیکھو یہاں لفظ ہے عبد اللہ اور اس کے جز بھی ہیں: ایک لفظِ عبد ہے، ایک لفظِ اللہ ہے بھئی، جز بھی ہیں، لیکن یہاں وہ اپنے معنی کے جز پر دلالت نہیں کر رہے، تو لہٰذا یہ بھی کیا ہوا؟ مفرد۔
اور چوتھی صورت یہ ہے: آپ کا ایک ساتھی ہے اس کا نام آپ نے حیوانِ ناطق رکھ دیا، کیا رکھ دیا؟ حیوانِ ناطق۔ اب جب نام رکھ دیا، نام کے اندر معنی کی رعایت پھر نہیں ہوتی، معنی ملحوظ نہیں ہوتا۔ جب آپ اس کو بلاتے ہیں حیوانِ ناطق ادھر آؤ، اب وہ بھی حیوانِ ناطق ہے یا نہیں؟ وہ آدمی، وہ انسان ہے نا، تو انسان کیا ہوتا ہے؟ تو دیکھو حیوانِ ناطق یہ لفظ ہے اور اس لفظ کے جز ہیں یا نہیں؟ دو لفظ ہیں۔ اور وہ اپنے معنی پر دلالت کر رہے ہیں یا نہیں کر رہے؟ دلالت بھی کر رہے ہیں، یہ جس کا نام آپ نے رکھا ہے وہ بھی حیوانِ ناطق ہے اور یہ لفظ بھی کیا ہے؟ حیوانِ ناطق۔ لیکن آپ نے اس معنی کا ارادہ کیا؟ نہیں، آپ نے تو اس کے نام کے طور پر اس کو بلایا ہے، حیوانِ ناطق کے معنی کے اعتبار سے اس کو معنی کے اعتبار سے تو ہر ایک کو کہا جا سکتا ہے لیکن ہر ایک کی بات نہیں ہو رہی، ایک کا باقاعدہ آپ نے نام رکھ دیا، ہم اس کی بات کر رہے ہیں بھئی۔ لہٰذا جب اس کو حیوانِ ناطق کہہ کر آپ نے پکارا، اب اگرچہ لفظ کا جز معنی کے جز پر دلالت کر رہا ہے لیکن اس کا ارادہ چونکہ آپ نے نہیں کیا لہٰذا یہ مرکب نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ مفرد۔ ہاں، کسی اور ساتھی کو آپ ویسے آپ بلائیں حیوانِ ناطق ادھر آؤ، اب یہاں تو اس کا نام تو حیوانِ ناطق نہیں، تو آپ کس کا ارادہ کر رہے ہیں؟ معنی کا ارادہ کر رہے ہیں، تو لہٰذا اب یہ کیا بن جائے گا؟ مرکب بن جائے گا۔ صورت سب کو سمجھ میں آ گئی؟
اب دیکھیے ذرا کتاب پر بھئی۔ مفرد وہ لفظ ہے کہ اس کے جز سے اس کے معنی کے جز پر دلالت کا قصد نہ ہو، قصد کا کیا معنی؟ ارادہ۔ کہ اس کے جز سے اس کے معنی کے جز پر دلالت کا ارادہ نہ ہو، جیسے لفظِ زید کہ اس کے جز سے، زید کے کیا کیا جز ہیں؟ زا، یا، دال، وہی بیان کر رہے ہیں: جیسے لفظِ زید کہ اس کے جز سے مثلاً زا سے اس کے معنی کے جز پر دلالت کا ارادہ نہیں۔ زا سے اس کے معنی کے جز پر دلالت کا ارادہ نہیں بلکہ دلالت ہی نہیں، کیونکہ اس کا تو معنی ہی کچھ نہیں۔ دلالت ہوتی تو پھر آپ ارادہ بھی کرتے، ارادہ تو بعد میں آئے گا نا، پہلے ایک چیز کا معنی تو ہو پھر آپ اس کا ارادہ بھی کریں گے، ایک چیز ہی نہیں ہے اس کا ارادہ کیسے ہو سکتا ہے؟ تو اسی لیے کہا اس پر دلالت کا ارادہ نہیں بلکہ دلالت ہی نہیں ہے کیونکہ اس کا کوئی معنی ہی نہیں۔
پھر کہتے ہیں مفرد کی چار قسمیں ہیں: اول، اس لفظ کا جز نہ ہو۔ میں نے اس کی عربی میں مثال ذکر کر دی: ہمزہ جو ندا کے لیے آئے، کسی کو آواز دینے کے لیے آئے، تو وہ کیا ہے؟ پہلی قسم، کہ لفظ کا جز ہی نہیں ہے۔ انہوں نے اردو میں اس کی مثال کی اردو میں کہ اول، اس لفظ کا جز نہ ہو، جیسے لفظِ ’کہ‘ اردو میں۔ جیسے لفظِ ’کہ‘ اردو میں۔ ’کہ‘ کے اندر کاف اور ہ دو حروف ہیں، لیکن محشی حضرات نیچے لکھتے ہیں کہ ’کہ‘ کے اندر اصل یہ کاف ہے، کاف، اور یہ جو ہ ساتھ ملی ہوئی ہے یہ کسرہ ظاہر کرنے کے لیے ہے۔ کیا ظاہر کرنے کے لیے؟ کسرہ ظاہر کرنے کے لیے، یہ ہ جو ساتھ ملی ہوئی ہے یہ کس لیے ہے؟ کسرہ ظاہر کرنے کے لیے ہے۔ اگر یہ کاف کے ساتھ ہ نہ ہوتی تو ہم اس کو پڑھتے کَ یا کْ، لیکن اب جب ہ ساتھ ملی ہوئی ہے تو اب ہم اس کو کیا پڑھتے ہیں؟ کِہ، تو گویا یہ جو ہا ساتھ ملائی گئی یہ کس لیے ہے؟ کسرہ ظاہر کرنے کے لیے کہ اس کاف کے نیچے کسرہ پڑھنا ہے: کہ۔ تو کاف ایک ہی حرف ہوا تو یہ ایسا لفظ ہے جس کا جز ہی نہیں، جب جز ہی نہیں تو یہ کیا ہوا؟ یہ مفرد ہو گیا بھئی۔ یہ ہا صرف وقف کے لیے ہے، اصل کاف ہی ہے، اکیلا ایک حرف ہے۔ جب اکیلا ایک حرف ہے تو اس کا کوئی جز ہی نہیں، جیسے وہ ہمزہ اکیلا تھا اس کا کوئی جز نہیں تھا، اس ’کہ‘ کا بھی کوئی جز جب جز نہیں ہے تو پھر معنی پر دلالت جز کیسے کر سکتا ہے؟ تو یہ کیا ہوا؟ مفرد۔ تو پہلی قسم کیا کہ اس لفظ کا جز نہ ہو، جیسے لفظِ ’کہ‘ اردو میں۔ بات سب کو سمجھ بھی آ رہی ہے کہ مشکل ہو گئی؟ سمجھ میں آ رہی ہے سب کو؟
دوم، لفظ کا جز ہو مگر وہ معنی دار نہ ہو۔ لفظ کا کیا ہو؟ جز ہو مگر وہ معنی دار نہ ہو، جیسے انسان کہ الف اور نون اور سین کے کچھ معنی نہیں۔
میرا خیال ہے بس کرتے ہیں بھئی، کل ان شاء اللہ پھر اس کو ذرا دہرا بھی لیں گے اور چھٹیوں کے بعد آپ آئے ہیں تو زیادہ بوجھ نہ ہو جائے آپ کے لیے، مشکل نہ ہو جائے، کل پھر اسی سبق کو ہم پورا دہرا بھی لیں گے اور یہ جو عبارت ہے تیسیر المنطق کی اس کو بھی حل کر لیں گے۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی ہے یہاں تک؟ چلیے بس بھئی، ہذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔