Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تيسير المنطق · dars-012

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Ghais
📍 Location Lahore, Pakistan
📅 Approved Date 04 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 15
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
جی کتاب پر دیکھیے بھئی آگے:‏ سبقِ ششم: مفرد و مرکب۔ مفرد وہ لفظ ہے کہ اس کے جز سے اس کے معنیٰ ‏کے جز پر دلالت کا قصد نہ ہو، جیسے لفظِ زید کہ اس کے جز سے مثلاً ’ز‘ ‏سے اس کے معنیٰ کے جز پر دلالت کا ارادہ نہیں بلکہ دلالت ہی نہیں۔ مفرد ‏کی چار قسمیں ہیں: اوّل اس لفظ کا جز نہ ہو جیسے لفظِ ’کہ‘ اردو میں۔ دوم لفظ ‏کا جز ہو مگر وہ معنیٰ دار نہ ہو جیسے انسان کے الف اور نون اور سین کے ‏کچھ معنیٰ نہیں۔ سوم لفظ کا جز ہو اور معنیٰ دار بھی ہو لیکن جو معنیٰ تم کو ‏مقصود ہے ان پر دلالت نہ کرتا ہو۔ اچھا بھئی، آج ہم مفرد اور مرکب کے بارے میں پڑھیں گے بھئی، مفرد اور ‏مرکب۔ گزشتہ سبق کا ذرا مختصر لفظوں میں خلاصہ پھر سن لیجیے تاکہ آپ ‏کے ذہن میں تازہ ہو جائے۔ گزشتہ سبق میں آپ نے دلالتِ لفظیہ وضعیہ کی قسمیں پڑھی تھیں اور اس سے ‏گزشتہ سبق میں آپ نے دلالت کی چھ قسمیں پڑھی تھیں۔ ان چھ قسموں میں ‏سے میں نے بتایا تھا دلالتِ لفظیہ وضعیہ جو ہے وہ سب سے زیادہ فائدہ دینے ‏والی ہے، اس لیے مناطقہ اسی سے بحث کرتے ہیں۔ تو گزشتہ سبق میں پھر ‏اسی دلالتِ لفظیہ وضعیہ جو سب سے زیادہ فائدہ دینے والی ہے، اس کی تین ‏قسمیں ہم نے پڑھی تھیں: ایک دلالتِ مطابقی، ایک دلالتِ تضمنی اور ایک ‏دلالتِ التزامی۔ دلالتِ مطابقی وہ دلالتِ لفظیہ ہے کہ جس میں لفظ اپنے پورے معنیٰ موضوع لہٗ ‏پر دلالت کرے، جس کے لیے وضع ہے اسی پر کیا کرے؟ اس پورے معنیٰ پر ‏دلالت۔ جیسے انسان کا لفظ کس کے لیے وضع ہے؟ حیوانِ ناطق کے لیے۔ تو ‏انسان پورے حیوانِ ناطق پر دلالت کرے یہ کون سی دلالت ہے؟ دلالتِ مطابقی۔ دلالتِ تضمنی یہ ہے کہ لفظ اپنے معنیٰ موضوع لہٗ کے جز پر دلالت کرے، کل ‏پر نہیں بلکہ جز پر۔ تو اسی انسان کی دلالت جب حیوانِ ناطق پورے پر ہوئی ‏تو اسی میں حیوانِ ناطق حیوان لفظ بھی آگیا یا نہیں؟ ناطق بھی آگیا یا نہیں؟ تو ‏ایک ایک جز پر بھی دلالت ہوگئی۔ تو یہ دلالت کون سی ہے؟ دلالتِ تضمنی۔ اور اسی کے ساتھ اگر اس چیز کا کوئی خاصہ ہو، اس کے ساتھ کوئی چیز ‏لازم ہو وہ بھی ذہن میں آجاتی ہے، جیسے انسان میں اللہ نے علم کی قابلیت ‏رکھی ہے، علم کی صلاحیت رکھی ہے، تو انسان کہنے سے وہ صلاحیتِ علم ‏بھی ہمارے ذہن میں آجاتی ہے، تو یہ دلالت کون سی ہوئی کہ لفظ اپنے معنیٰ ‏موضوع لہٗ کے کل پر بھی دلالت نہیں کر رہا، جز پر بھی نہیں کر رہا بلکہ ‏کس پر کر رہا ہے؟ ایک اپنے لازم پر، اپنے معنیٰ موضوع لہٗ کے لازم پر ‏دلالت کر رہا ہے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ دلالتِ التزامی۔ اور میں نے بتلایا تھا، آپ کو بتلایا تھا، عموماً طلبہ میں غلط فہمی یہ ہوتی ہے ‏وہ سمجھتے ہیں جہاں دلالتِ مطابقی ہے وہاں مطابقی ہی ہوگی، تضمنی اور ‏التزامی نہیں ہوگی۔ جہاں دلالت، دلالت کسے کہتے ہیں؟ ایک چیز کے بولنے ‏سے دوسری چیز سمجھ میں آجائے۔ تو وہ کیا سمجھتے ہیں؟ جہاں دلالتِ ‏مطابقی ہے وہاں تضمنی اور التزامی نہیں، جہاں تضمنی ہے وہاں مطابقی اور ‏التزامی نہیں اور جہاں التزامی ہے وہاں دلالتِ مطابقی اور تضمنی نہیں ہے۔ ‏طلبہ یہ سمجھتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ لفظ تو ہمیشہ اپنے پورے معنیٰ موضوع لہٗ پر ہی دلالت کرے گا۔ انسان جب ‏بھی بولیں گے تو حیوانِ ناطق ہی ذہن میں آئے گا۔ تو دلالتِ مطابقی تو ہمیشہ ‏ہوگی کیونکہ لفظ کس پر دلالت کرتا ہے؟ اپنے پورے معنیٰ، ہمیشہ موضوع لہٗ ‏پر دلالت کرتا ہے۔ لیکن جب پورے موضوع لہٗ پر دلالت کرے گا تو پوری چیز ‏تب ہی ہوتی ہے نہ جب اس کا ایک ایک جز بھی ساتھ آجائے ذہن میں۔ آدھی ‏چیز ذہن میں آئی یہ تو پوری ہی نہ آئی۔ تو جب پوری چیز ذہن میں آئے گی تو ‏ساتھ کیا ہوگی؟ اس کا ایک ایک جز اگر ہے تو جز بھی ذہن میں آجائے گا۔ ‏اور اگر اس کا کوئی خاصہ ہے تو وہ بھی ذہن میں آجائے گا۔ تو ایک ہی وقت ‏کے اندر مطابقی بھی ہو رہی ہے، تضمنی بھی ہو رہی ہے اور التزامی بھی ہو ‏رہی ہے۔ دلالت کسے کہتے ہیں؟ ایک چیز سے دوسری چیز ذہن میں آجائے، اسے کیا ‏کہتے ہیں؟ تو جب آپ نے کہا انسان، تو پورا انسان، حیوانِ ناطق پر دلالت ‏ہوئی یا نہ ہوئی؟ ایک چیز سے کیا چیز ذہن میں آئی؟ دوسری چیز۔ یہ دلالت، ‏اور پورا اسی کے لیے، یہ وضع بھی اسی کے لیے ہے تو یہ دلالت کون سی ‏ہوئی؟ مطابقی۔ جب پورا انسان حیوانِ ناطق ذہن میں آ رہا ہے تو حیوان بھی آ ‏رہا ہے یا نہیں؟ حیوان نہ ہو تو پھر پورا کیسے ذہن میں آ سکتا ہے؟ اور کیا آ ‏رہا ہے؟ ناطق بھی آ رہا ہے۔ ناطق نہ ہو تو پورا حیوانِ ناطق ذہن میں آ سکتا ‏ہے؟ نہیں، پورا تو ذہن میں آئے گا ہی تب جب اس کا ایک ایک جز ساتھ ‏آجائے۔ اور جب کل آیا تو ایک ایک جز بھی آگیا۔ تو مطابقی کے ساتھ خود ‏بخود کون سی دلالت آگئی؟ تضمنی بھی آگئی۔ اور اگر اس کا کوئی لازم تھا وہ ‏بھی خود بخود فوراً ساتھ ہی آجائے گا، تو یہ کون سی ہوگئی؟ التزامی۔ ہاں، اس میں سے آپ کا ارادہ کس کا ہے؟ کبھی آپ کا ارادہ کون سا ہوتا ہے؟ ‏مطابقی کا ہوتا ہے۔ کبھی آپ کا ارادہ کس کا ہوتا ہے؟ تضمنی کا۔ کبھی آپ کا ‏ارادہ کس کا ہوتا ہے؟ التزامی کا۔ تو ارادہ ہونا اور چیز ہے، دلالت کرنا اور ‏چیز ہے بھئی۔ تو عموماً طلبہ ارادے کو سمجھتے ہیں کہ شاید انسان بولو اور ‏صرف حیوان کا ارادہ کرو تو یہ دلالت کون سی ہوئی؟ تضمنی۔ نہیں نہیں، ‏ارادے کا دخل نہیں ہے، دلالت اور چیز ہے، ارادہ اور چیز ہے بھئی۔ دلالت تو ‏وہ خود بخود کر دے گا، اس میں ارادے کا دخل ہے؟ جب آپ انسان بولیں گے، آپ کا ارادہ ہو یا نہ ہو، حیوانِ ناطق ذہن میں آئے گا ‏یا نہیں آئے گا؟ دیکھا، ارادے کا دخل نہیں ہے اس میں۔ ارادہ ہونا ایک الگ ‏چیز ہے۔ دیکھو، انسان جب بولا تو دلالتِ مطابقی پائی گئی کہ نہیں پائی گئی؟ ‏پائی گئی۔ تضمنی پائی گئی کہ نہیں پائی گئی؟ تضمنی بھی پائی گئی۔ التزامی ‏پائی گئی کہ نہیں پائی گئی؟ التزامی بھی پائی گئی۔ تو دیکھو بیک وقت تینوں ‏دلالتیں ہیں، ہاں اب آپ کا ارادہ کس کا ہے؟ آپ کا یقیناً ایک کا ارادہ ہوگا: یا ‏آپ کا ارادہ کس کا ہوگا؟ پورے معنیٰ موضوع لہٗ کا، یا آپ کا ارادہ کس کا ‏ہوگا؟ موضوع لہٗ کے جز کا، یا آپ کا ارادہ کس کا ہوگا؟ موضوع لہٗ کے لازم ‏کا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو ارادہ ہونا اور چیز ہے، اس سے دھوکے میں ‏نہیں پڑنا آپ نے کہ ارادہ ہونا چاہیے، نہیں۔ اگر ایک چیز کے اجزاء ہیں تو جب بھی لفظ اب کس پر دلالت کرتا ہے ہمیشہ؟ ‏اپنے پورے معنیٰ موضوع لہٗ پر۔ اور پورا موضوع لہٗ پر دلالت ہو تو یہ کیا ‏کہلاتی ہے؟ مطابقی۔ تو دلالتِ مطابقی تو ہمیشہ ہوگی۔ آپ نیت کریں یا نہ ‏کریں، مطابقی ضرور پائی جائے گی۔ آپ نے کس کا ارادہ کیا ہے؟ جز کا، تو ‏جز پر بھی پہلے کل آئے گا ذہن میں تو ساتھ جز بھی آجائے گا، اکیلا جز تو ‏نہیں آئے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ کہ مشکل ہوگیا؟ میں انسان بول کر صرف حیوان کا ارادہ کرتا ہوں فرض کریں، یا میں انسان ‏بول کر صرف کس کا ارادہ کرتا ہوں؟ ناطق کا۔ یا میں انسان بول کر اس کی ‏علم کی صلاحی، بہرحال باقی چیزوں کو الگ رکھو، میں انسان بول کر مثلاً ‏صرف حیوان ہونے کا ارادہ کرتا ہوں۔ جیسے ہی میں انسان بولوں گا، کیا آپ ‏کے ذہن میں صرف حیوان آئے گا؟ کیا آئے گا؟ حیوانِ ناطق پورا آئے گا۔ تو ‏جب بھی کوئی لفظ بولو ہمیشہ اس کا معنیٰ موضوع لہٗ پورا ذہن میں آتا ہے اور ‏یہ ہے دلالتِ مطابقی۔ تو دلالتِ مطابقی تو ہر حال میں آئے گی، آپ کا ارادہ ‏ہے، ارادہ نہیں ہے۔ آپ سو دفعہ چاہیں کہ دوسرے کے ذہن میں پورا موضوع ‏لہٗ نہ آئے، وہ آئے گا بھئی۔ وہ لفظ وضع ہی، مقرر ہی کس کے لیے ہے؟ انسان ‏کا لفظ مقرر ہی کس لیے ہے؟ حیوانِ ناطق۔ تو میں جب بھی انسان بولوں گا، ‏میرا کچھ بھی ارادہ ہو، آپ کے ذہن میں کیا آئے گا؟ حیوانِ ناطق۔ یا دوسری مثال لے لو سائیکل۔ میں جب بھی سائیکل بولوں گا تو آپ کے ذہن ‏میں وہ دو پہیے ہیں اور اس کے اور وہ جو سیٹ ہے اس کی، ہینڈل، سارے ‏اجزاء سارے آئیں گے یا نہیں آئیں گے؟ بے شک میرا ارادہ سائیکل بول کر ‏اس کا پہیہ مراد ہو، مثلاً میں کہتا ہوں فلاں نے فلاں کی سائیکل توڑ دی اور ‏مراد ہے صرف پہیہ توڑا ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی؟ تو بے شک میں ‏ارادہ جز کا کروں لیکن جب بھی لفظ بولوں گا، ذہن میں ہمیشہ کیا آئے گا؟ ‏پورا موضوع لہٗ۔ تو دلالتِ مطابقی تو ہمیشہ ہوگی، اولاً وہی ہوگی۔ پھر اس کے ‏بعد ذہن دوسری طرف جائے گا کہ یہاں تو پوری چیز نہیں مراد، شاید جز ‏مراد ہے یا اس کا کوئی لازم مراد ہے۔ دلالتِ مطابقی کیا ہوگی؟ ہمیشہ ہوگی۔ لفظ ہمیشہ کس پر دلالت کرے گا؟ اپنے ‏پورے معنیٰ موضوع لہٗ پر۔ اور اگر اس کا جز ہوا تو جز پر بھی دلالت ہو ‏جائے گی کیونکہ پورا موضوع لہٗ پایا ہی تب جائے گا جب ایک ایک جز بھی ‏اس کے ساتھ ہو۔ میں نے کہا سائیکل، اور فرض کرو میں نے اس کا ارادہ کیا ‏اس کے ایک پہیے کا۔ جب میں نے کہا سائیکل، آپ کے ذہن میں کیا آیا؟ پوری ‏سائیکل آئی، دیکھا مطابقی خود بخود آگئی، بے شک میں ارادہ کروں یا نہ ‏کروں۔ پھر اس کے بعد جب آپ جملہ سنیں گے، موقع کا پتہ چلے گا پھر آپ ‏کو پتہ چلے گا اچھا سائیکل بول کر کیا سائیکل کا لفظ بول کر کس کا ارادہ کیا ‏تھا؟ پہیے کا ارادہ کیا گیا تھا یا ایک فلاں حصے کا، ایک ایک چھوٹے حصے ‏کا ارادہ کیا گیا تھا۔ تو لفظ جب بھی بولیں ہمیشہ اولاً دلالت کس پہ ہوتی ہے؟ ‏معنیٰ موضوع لہٗ پر، یعنی اولاً دلالتِ مطابقی پائی جاتی ہے۔ پھر اگر اس کا ‏کوئی جز ہے تو جز پر بھی کیا ہو جائے گی؟ خود بخود دلالت ہو جائے گی، ‏نیت اور ارادے کی ضرورت نہیں ہے۔ سائیکل جب پوری ذہن میں آ رہی ہے ‏تو اس کا ایک ایک پہیہ بھی ذہن میں آ رہا ہے یا نہیں آ رہا؟ ایک ایک حصہ ‏بھی ذہن میں آ رہا ہے تو دیکھو ایک ایک جز پہ بھی خود بخود دلالت ہو رہی ‏ہے۔ اور اس کا اگر کوئی لازم ہو وہ بھی خود بخود ذہن میں آجائے گا، آپ ‏ارادہ کریں یا ارادہ نہ کریں۔ تو دلالتِ مطابقی تو ہمیشہ ہوگی۔ اب اگر اس کا کوئی جز بھی ہے، دلالتِ ‏تضمنی بھی خود بخود ہو جائے گی۔ اور اگر اس کا کوئی لازم بھی ہے تو ‏دلالتِ التزامی بھی خود بخود ہو جائے گی۔ اب آپ کا ارادہ کیا ہے وہ الگ چیز ‏ہے۔ کبھی آپ پورے کا ارادہ کریں گے، کبھی جز کا ارادہ کریں گے، کبھی ‏لازم کا ارادہ کریں گے۔ تو آپ کا ارادہ ایک الگ چیز اور دلالت کرنا الگ چیز ‏ہے۔ اور دلالت ہوگی تو آپ ارادہ کریں گے ایک چیز کا، اگر دلالت ہی نہیں ‏ہے تو ارادہ کیسے کریں گے؟ دلالت کسے کہتے ہیں؟ ایک چیز بولو دوسری ‏چیز ذہن میں آجائے۔ اگر وہ چیز ذہن میں آتی ہے تو آپ ارادہ بھی کر سکتے ‏ہیں۔ ایک چیز کسی کے ذہن میں ہی نہیں آتی، اس کا ارادہ کیسے کر سکتے ‏ہیں؟ بکری بول کے ہاتھی مراد لے لیں؟ دوسرے تو بکری بولنے سے ذہن میں ‏ہاتھی آتا ہے یا بکری آتی ہے؟ ہاں، جو چیز ذہن میں آتی ہے اسی کا ارادہ کر ‏سکتے ہو نا، کسی الگ چیز کا تو ارادہ نہیں کر سکتے، اگر کر بھی لو اس ‏کے ذہن میں تو نہیں آئے گی، اس کو تو بات ہی نہیں سمجھ میں آئے گی۔ تو دلالتیں یہاں تینوں ہوتی ہیں۔ کون سی؟ مطابقی، سب سے پہلے مطابقی ہوتی ‏ہے اور وہ ہمیشہ ہوتی ہے۔ البتہ اگر اس کا کوئی جز ہے، بار بار میں کہہ رہا ‏ہوں، اگر جز ہی نہیں ہے تو تضمنی کہاں سے ہوگی؟ تضمنی تو کہتے ہی ‏کسے ہیں؟ کہ کس پر دلالت ہو؟ جز پر۔ جب ایک چیز کا جز ہی نہیں ہے تو ‏پھر دلالتِ مطابقی ہوگی اور تضمنی نہیں، کیونکہ جز ہی نہیں ہے اس کا، وہ ‏ایک ہی چیز ہے بھئی۔ اور اگر اس کے لازم پر دلالت ہو، ایک چیز کا لازم ہی ‏نہیں ہے تو پھر مطابقی تو ہوگی لیکن دلالتِ التزامی نہیں ہوگی۔ اور ایک چیز ‏کا جز بھی ہے اور لازم بھی ہے تو دونوں پر دلالت ہو جائے گی، مطابقی بھی ‏پائی جائے گی، تضمنی بھی پائی جائے گی اور دلالتِ التزامی بھی پائی جائے ‏گی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو لہٰذا کبھی طلبہ عموماً یہ سمجھتے ہیں کہ شاید تعلق ارادے سے ہے۔ پورا ‏لفظ لفظ بول کر پورے موضوع لہٗ کا ارادہ کرو تو یہ کیا ہے؟ مطابقی۔ اگر جز ‏کا ارادہ کرو تو یہ کیا ہے؟ تضمنی۔ اور اگر لازم کا ارادہ کرو تو یہ کیا ہے؟ ‏التزامی ہے۔ نہیں نہیں، ارادے سے نہیں تعلق، دلالت خود بخود ہوگی۔ ہاں، ان ‏دلالتوں میں سے ایک دلالت کا آپ ارادہ کر لیتے ہیں۔ مثلاً آپ نے انسان بولا ‏اور کس کا ارادہ کیا؟ پورے حیوانِ ناطق کا، تو یہ دلالت کون سی ہوئی؟ ہاں، ‏تو یوں کہیں گے آپ نے دلالتِ مطابقی کا ارادہ کیا ہے۔ اور اگر آپ نے ارادہ ‏کس کا صرف حیوان کا کیا یا صرف کس کا کیا؟ ناطق کا کیا، تو یہ یہ کون ‏سی دلالت ہے؟ تو آپ کا ارادہ دلالتِ تضمنی کا ہے۔ باقی دونوں دلالتیں خود ‏بخود پائی جا رہی ہیں، آپ ارادہ کریں یا نہ کریں وہ پائی جا رہی ہیں لیکن آپ ‏کا ارادہ کس کا ہے؟ تضمنی کا ارادہ ہے۔ لہٰذا اب آپ لکھتے ہوئے، آپ کہتے ہیں جی مثلاً لفظ بول کر آپ جز کا ارادہ ‏کرتے ہیں۔ اب آپ کو کوئی یہ نہیں کہہ سکتا بھئی یہ آپ پورے موضوع لہٗ کا ‏ارادہ کیوں نہیں کر رہے؟ آپ جز کا ارادہ کیسے کر رہے ہیں، یہ لفظ تو وضع ‏ہے کس کے لیے؟ پورے موضوع لہٗ کے لیے، آپ کس کا ارادہ کر رہے ہیں؟ ‏جز کا۔ توجہ ہے؟ آپ کچھ لکھ رہے ہیں یا کسی کو کچھ بتا رہے ہیں، بتاتے ‏ہوئے آپ کہتے ہیں دیکھو میں یہ لفظ بولتا ہوں اور اس سے کس کا ارادہ کرتا ‏ہوں؟ جز کا۔ کس کا ارادہ کرتا ہوں؟ تو کوئی یہ نہیں کہہ سکتا بھئی جز کا ‏ارادہ کیسے کرتے ہو؟ یہ لفظ تو وضع ہے پورے حیوانِ ناطق کے لیے، آپ ‏صرف حیوان کا ارادہ کیسے کر سکتے ہو؟ اس سے حیوان کا ارادہ نہیں کر ‏سکتے؟ آپ کہیں گے بھئی حیوانِ ناطق کل کے لیے جب وضع ہے تو جب کل ‏ذہن میں آتا ہے تو جز بھی خود بخود ذہن میں آ جاتا ہے، تو وہاں خود بخود ‏دلالت آجاتی ہے، میں نے اسی کا ارادہ کر لیا۔ یا جب آپ نے حیوان، آپ نے انسان بولا اور آپ نے قابلیتِ علم کا ارادہ کر ‏لیا، دوسرا ساتھی آپ سے کہتا ہے بھئی انسان سے تو حیوانِ ناطق مراد ہوتا ‏ہے، قابلیتِ علم تو مراد نہیں ہوتی، آپ کا ارادہ ٹھیک نہیں ہے۔ آپ جواب میں ‏فوراً کیا کہیں گے؟ کہ بھئی انسان کے ساتھ قابلیتِ علم لازم ہے اور جب حیوانِ ‏ناطق ہمارے ذہن میں آتا ہے تو جو چیز لازم ہے وہ بھی ذہن میں خود بخود ‏آجاتی ہے تو دلالت ہوگئی یا نہیں ہوگئی؟ جیسے سورج جیسے ہی بولو اس کی ‏روشنی خود بخود ذہن میں آجاتی ہے یا اس کی دھوپ خود بخود ذہن میں ‏آجاتی ہے، تو سورج کی دلالت روشنی پر یا دھوپ پر یہ کون سی ہوئی؟ دلالتِ ‏التزامی۔ تو لہٰذا یہ آپ بھی کبھی بولتے ہیں، اس کا ارادہ بھی کرتے ہیں۔ مثلاً آپ کمرے میں بیٹھے ہیں اور دھوپ آگئی کھڑکی سے، کھڑکی سے دھوپ ‏آ رہی ہے، آپ کے دھوپ آہستہ آہستہ، سورج جوں جوں حرکت کر رہا ہے ‏دھوپ بھی آہستہ آہستہ حرکت کر رہی ہے اس کے ساتھ، تو دھوپ جب آپ کے ‏قریب پہنچی آپ نے ساتھی سے کہا اٹھو بھئی ذرا وہاں چل کر بیٹھ جاتے ہیں، ‏یہاں تو یہاں تو سورج آگیا ہے۔ یہاں کیا آگیا ہے؟ سورج آگیا ہے۔ تو اب ‏سورج، سورج تو کمرے میں نہیں آیا، سورج تو آسمان پر ہے، تو سورج بول ‏کر کس کا ارادہ کیا آپ نے؟ دھوپ کا ارادہ کیا، عام بول چال میں لوگ بول ‏دیتے ہیں بعض اوقات بھئی اگر آپ نے غور نہیں کیا، سورج آگیا کمرے میں، ‏اور ارادہ کس کا ہوتا ہے؟ دھوپ کا۔ تو سورج دھوپ کے لیے تو نہیں مقرر، ‏تو کوئی آپ کو یہ نہ کہے بھئی سورج بول کے دھوپ کا ارادہ کیسے کر رہے ‏ہو؟ آپ کہیں گے بھئی یہ کون سی دلالت ہے؟ دلالتِ التزامی۔ جب ہم نے سورج ‏بولا تو سورج ہمارے ذہن میں آیا، یہ کون سی دلالت ہوئی؟ مطابقی۔ اور سورج ‏کا جو لازم ہے وہ بھی ذہن میں آگیا، یہ کون سی ہوئی دلالت؟ التزامی۔ تو یہاں ‏دونوں دلالتیں ہیں: مطابقی بھی اور، لیکن اولاً ذہن میں کیا آیا؟ مطابقی۔ پھر ‏ذہن کس کی طرف چلا گیا؟ التزامی کی طرف۔ تو مطابقی تو ہمیشہ ہوگی اور ‏پھر ارادہ کس کا ہے؟ دو دلالتیں یہاں پائی گئیں فرض کریں اور دونوں میں ‏سے کس کا ارادہ ہے؟ التزامی۔ تو ارادہ ہونا اور چیز ہے اور دلالت ہونا اور ‏چیز ہے۔ تو جہاں، اور اولاً ہمیشہ کون سی دلالت ہوتی ہے؟ مطابقی ہوتی ہے۔ ایک چیز ‏ایسی ہے اس کا جز بھی نہیں ہے اور اس کا کوئی لازم بھی نہیں ہے تو ‏صرف مطابقی پائی جائے گی، التزامی اور تضمنی نہیں ہوگی۔ اور ایک چیز ‏ہے اس کا جز تو ہے لیکن اس کا کوئی لازم نہیں ہے تو دلالتِ مطابقی بھی ‏ہوگی اور دلالتِ تضمنی بھی ہوگی، البتہ دلالتِ التزامی نہیں ہوگی۔ ایک چیز ‏ہے اس کا جز تو نہیں البتہ اس کا لازم ہے تو دلالتِ مطابقی بھی ہوگی اور ‏دلالتِ التزامی بھی ہوگی، تضمنی نہیں ہوگی کیونکہ جز ہے ہی نہیں۔ تو معلوم ہوا دلالتِ مطابقی تو ہمیشہ ہوگی اور وہ ان دونوں کے بغیر بھی پائی ‏جا سکتی ہے۔ ایک چیز ہے نہ اس کا جز ہے، نہ اس کا کوئی لازم ہے، آپ ‏نے جیسے ہی لفظ بولا وہ چیز ذہن میں آگئی، تو جب جز ہی نہیں تو تضمنی ‏بھی نہیں، اور لازم بھی نہیں تو دلالتِ التزامی بھی نہیں۔ تو دلالتِ مطابقی بغیر ‏تضمنی اور بغیر التزامی کے پائی جا سکتی ہے۔ لیکن تضمنی اور التزامی وہ ‏بغیر مطابقی کے نہیں پائی جا سکتی، بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ پھر ان ‏دونوں میں سے جو تضمنی ہے اور التزامی ہے، ہو سکتا ہے یہ دونوں پائی ‏جائیں مطابقی کے ساتھ، ہو سکتا ہے ان میں سے صرف ایک پائی جائے ‏مطابقی کے ساتھ۔ وہ موقع کے مطابق کہ اس چیز کا جز ہے اور لازم ہے اس ‏کو آپ دیکھیں گے۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ یا جیسے دوسری مثال گزری تھی چاقو کی۔ چاقو دیکھو اس میں دو حصے ‏ہوتے ہیں: ایک دستہ ہوتا ہے، ایک اس کا آگے کاٹنے والا پھل ہوتا ہے، وہ تیز ‏حصہ جس کے ذریعے چیز کو کاٹتے ہیں وہ چاقو کا پھل کہلاتا ہے۔ تو دیکھو ‏دو حصے ہیں: ایک دستہ لکڑی وغیرہ کا ہے اور ایک اس کا پھل۔ میں نے ‏جیسے ہی کہا چاقو، آپ کے ذہن میں دونوں حصے آگئے یا نہیں؟ پورا چاقو ‏آگیا، یہ ہے دلالتِ مطابقی۔ اور ساتھ ہی جب پورا حصہ آیا تو دستہ بھی آگیا یا ‏نہیں؟ اور پھل بھی آگیا یا نہیں؟ یہ کون سی دلالت ہوئی؟ دلالتِ تضمنی ہوئی، ‏ایک ایک جز آگیا۔ یہ کیا ہوئی؟ دلالتِ تضمنی۔ اور اس کا کوئی لازم ہو، مثلاً ‏چاقو کے ساتھ لازم ہے کاٹنا کہ وہ تیز ہوتا ہے، چیز کو کاٹ دیتا ہے تو وہ ‏بھی ذہن میں آگیا تو یہ کیا ہوئی؟ دلالتِ التزامی ہوگئی۔ تو دیکھو جیسے ہی میں ‏نے چاقو کہا، تینوں دلالتیں ہوگئیں۔ پورا چاقو بھی ذہن میں آیا اور جب پورا ‏چاقو آیا تو دستہ اور پھل بھی آگئے ساتھ ہی کیونکہ وہ پورا تو تب ہی ذہن میں ‏آئے گا جب یہ دونوں ذہن میں آئیں۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ بھئی پورا چاقو ذہن میں آیا یہ کون سی ہوئی دلالت؟ تو کیا پھل اور دستہ وہ ‏الگ الگ ذہن میں آئیں گے یا جب پورا آیا تو ساتھ ہی یہ دونوں بھی آگئے؟ ‏جب پورا چاقو ذہن میں آیا تو یہ دونوں پھل اور دستہ بھی ساتھ آگئے یا نہیں ‏آگئے؟ تو دلالتِ مطابقی کے ساتھ ہی تضمنی بھی آگئی، تضمنی بھی ہوگئی۔ یہ ‏نہیں کہ پورا چاقو الگ ذہن میں آئے گا، پھر اس کا دستہ الگ ذہن میں آئے گا، ‏پھر اس کا پھل الگ ذہن میں آئے گا، نہیں ایسا نہیں ہے۔ جب پورا چاقو آگیا تو ‏پورا چاقو ہوتا ہی کیا ہے؟ دستہ اور پھل۔ جب پورا چاقو آیا تو دستہ خود، خود ‏بخود تضمنی بھی ساتھ آگئی۔ مطابقی کے ساتھ ہی کیا آگئی؟ تضمنی بھی آگئی۔ ‏اور تیز کاٹنا، چیزوں کو کاٹنے کا بھی ذہن میں آگیا یا نہیں آگیا کہ یہ چیزوں ‏کو کاٹ ڈالتا ہے، تیز ہوتا ہے؟ تو وہ بھی تو دلالتِ التزامی بھی ساتھ ہی آگئی۔ ‏کوئی الگ نہیں کہ پورا چاقو الگ ذہن میں آئے، دستہ الگ ذہن میں آئے، پھل ‏الگ ذہن میں آئے، نہیں نہیں۔ جیسے ہی پورا چاقو آیا تو پورا چاقو کہتے ہی ‏کس کو ہیں؟ جس کا پھل بھی ہوتا ہے اور جب پورا چاقو ذہن میں آیا تو وہ ‏دستہ اور پھل ہی آئے نا ذہن میں، اور تو کوئی چیز نہیں آئی۔ تو لہٰذا مطابقی ‏کے ساتھ ہی کون سی دلالت آگئی؟ تضمنی بھی آگئی، بات اچھی طرح سمجھ ‏میں آگئی؟ تو اب ارادے میں، ارادے کا دخل ہے دلالت میں؟ دلالت میں ارادے کا دخل؟ ‏ہاں، وہ ارادہ ایک الگ چیز ہے۔ آپ پھر ان تینوں میں سے دلالتِ مطابقی، ‏تضمنی، التزامی سے کبھی ایک کا ارادہ کرتے ہیں، کبھی دوسری کا، کبھی ‏تیسری کا ارادہ کرتے ہیں۔ جیسے میں نے مثال دی تھی، آپ قرآن کا ایک پارہ ‏تلاوت کرتے ہیں، ساتھی نے آپ سے پوچھا: آپ کہاں تھے؟ آپ جواب میں ‏کہتے ہیں: میں قرآن کی تلاوت کر رہا تھا۔ تو اب پورا قرآن مراد ہے یا اس کا ‏ایک حصہ مراد ہے؟ ایک حصہ۔ تو دلالتیں تو تینوں ہوگئیں لیکن آپ کا ارادہ ‏کس کا ہے؟ تضمنی کا ہے، تو ارادہ ہونا اور چیز۔ لیکن قرآن جب پورا، قرآن ‏بولا تو پورے تیس پارے جو اللہ کی کتاب ہے وہ پوری ذہن میں آگئی، تو ‏مطابقی پائی گئی، تضمنی بھی پائی گئی، آپ نے کس کا ارادہ کیا؟ تضمنی۔ تو ‏دلالت ہونا اور چیز اور ارادہ ہونا اور چیز ہے بھئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر بھئی۔ آج چھٹا سبق ہم پڑھیں گے مفرد اور مرکب کے ‏بارے میں۔ بھئی مفرد کا معنیٰ ہوتا ہے اکیلا، اکیلا، جو ایک ہو، اکیلا ہو، اس ‏کو کیا کہتے ہیں؟ مفرد، ایک چیز، چاہے ایک چیز ہو، چاہے ایک لفظ ہو۔ اور ‏مرکب، رَکَّبَ یُرَکِّبُ ترکیباً کا معنیٰ ہوتا ہے جوڑنا، جوڑنا۔ مرکب وہ ہے جس ‏میں کم از کم دو چیزوں کو جوڑا گیا ہو۔ تو جہاں بھی ایک چیز ہو یا ایک لفظ ‏ہو اس کو کہتے ہیں مفرد۔ اور دو یا دو سے زیادہ چیزیں ہیں ان کو جوڑا گیا ‏ہے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مرکب۔ چاہے کوئی دو، دو چیزیں ہیں یا دو لفظ ‏ہیں، دو کم از کم ہوں گے تو جوڑیں گے، دو سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں: ‏تین، چار، پانچ بھی ہو سکتے ہیں لیکن کم از کم کتنے چاہیے جوڑنے کے ‏لیے؟ دو۔ تو مفرد ایک کو کہتے ہیں اور مرکب دو یا دو سے زیادہ کو کہتے ‏ہیں، چاہے لفظ ہوں، چاہے چیزیں ہوں۔ اکیلی چیز ہوئی تو مفرد ہے، زیادہ ‏چیزیں ہوئیں تو مرکب ہوگئیں، مرکب ہوگئیں جن کو جوڑا گیا ہے۔ تو عام طور پر مفرد ایک چیز کو کہتے ہیں اور مرکب جس میں دو یا دو سے ‏زیادہ چیزیں یا دو یا دو سے زیادہ لفظ ہوں، لفظ ہوں۔ ہماری چونکہ بحث چل ‏رہی ہے دلالتِ لفظیہ، تو یہاں لفظ کے بارے میں ہم بات کریں گے، لفظ کے ‏بارے میں۔ اکیلا لفظ ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مفرد۔ دو یا زیادہ لفظ ہوں تو ‏اس کو کیا کہتے ہیں؟ مرکب۔ لیکن یاد رکھیے، منطق میں ایسا نہیں ہے، منطق ‏میں مفرد اور مرکب کی اور تعریف کرتے ہیں۔ ویسے تو آسان ہے، مفرد کا ‏معنیٰ ایک، مرکب کا معنیٰ دو یا دو سے زیادہ، لیکن منطق کے اندر مفرد کی ‏الگ تعریف ہے اور مرکب کی الگ تعریف ہے، الگ تعریف ہے۔ منطق میں مرکب اسے کہتے ہیں، مشکل ہے ذرا توجہ سے سننا، منطق میں ‏مرکب اسے کہتے ہیں کہ دو یا زیادہ لفظ ہوں اور ان میں سے ہر ایک اپنے ‏معنیٰ پر دلالت کرے، ہر ایک کا اپنا معنیٰ ہوگا، جو لفظ بھی بولیں اسی کا ‏معنیٰ ذہن میں آتا ہے یا نہیں آتا؟ میں نے کہا درخت، دیکھو آپ کے ذہن میں ‏درخت آگیا۔ میں نے کہا بارش، میں نے کہا بادل، میں نے کہا دیوار، تکیہ، ‏تپائی، کتاب، قلم، جو جو لفظ میں بولتا جا رہا ہوں وہ فوراً آپ کے ذہن میں آتا ‏جا رہا ہے، وہ چیز آپ کے ذہن میں آتی جا رہی ہے کیونکہ دلالت ہو رہی ‏ہے، کیا ہو رہی ہے؟ دلالت ہو رہی ہے۔ تو مرکب اسے کہتے ہیں کہ دو یا ‏زیادہ لفظ ہوں اور وہ دلالت کریں کس پر؟ اپنے، اپنے اپنے معنیٰ پر، اور اس ‏دلالت کا ارادہ بھی کیا جائے۔ تین چیزیں آگئیں، کیا؟ دو یا زیادہ لفظ ہوں اور ان میں سے ہر ایک کیا کرے؟ ‏اپنے معنیٰ پر دلالت کرے، اور اس دلالت کا ارادہ بھی ہو، تو پھر یہ مرکب ‏ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو پھر وہ مفرد ہے۔ تو ساری صورتیں مفرد کے اندر آگئیں، ‏ایک صورت مرکب کی رہ گئی جو میں نے بیان کر دی کہ دو یا زیادہ لفظ ہوں ‏اور ہر لفظ کیا کرے؟ اپنے معنیٰ پر دلالت کرے، اور پھر اس دلالت کا آپ ‏ارادہ بھی کریں، اگر ارادہ نہیں کرتے تو پھر وہ وہ مفرد ہو جائے گا، مرکب ‏نہیں رہے گا۔ تعریف سمجھ میں آگئی؟ مثلاً میں نے کہا رمضان کا مہینہ، کتنے لفظ بولے؟ رمضان کا مہینہ، کتنے لفظ ‏بولے میں نے؟ تین لفظ میں نے بولے، کتنے لفظ بولے؟ تین۔ اور تینوں میں ‏سے ہر، رمضان کا کچھ معنیٰ ہے یا نہیں؟ مہینے کا نام ہے۔ کا، کے، کی کا ‏معنیٰ آپ سمجھتے ہیں ایک چیز کو دوسری چیز کی طرف نسبت کرنے کے ‏لیے آتا ہے۔ اور مہینے کا معنیٰ بھی سمجھتے ہیں یا نہیں سمجھتے؟ تو دیکھو ‏تینوں لفظ کیا کر رہے ہیں؟ اپنے اپنے معنیٰ پر دلالت کر رہے ہیں۔ رمضان کا ‏مہینہ، ہر ایک لفظ اپنے معنیٰ پر دلالت کر رہا ہے یا نہیں کر رہا؟ اور آپ ‏سمجھ رہے ہیں اس کو کہ نہیں سمجھ رہے؟ آپ سمجھ، ہر لفظ اپنے معنیٰ پر ‏دلالت کر رہا ہے اور آپ اس کو سمجھ بھی رہے ہیں، اور میں نے اس کا ‏ارادہ بھی کیا ہے۔ رمضان سے رمضان ہی کا مہینہ مراد ہے، کا سے کا کا ‏معنیٰ ہی مراد ہے، مہینے سے مہینے کا معنیٰ ہی مراد ہے۔ تو یہ دلالت، تو یہ ‏کیا ہوا رمضان کا مہینہ؟ یہ مفرد ہے یا مرکب ہے؟ یہ مرکب ہے، کیونکہ دو یا ‏دو سے زیادہ لفظ ہیں اور ہر لفظ کیا کر رہا ہے؟ اپنے معنیٰ پر دلالت کر رہا ‏ہے اور اس دلالت کا میں نے ارادہ بھی کیا ہے، بات اچھی طرح سمجھ میں ‏آگئی؟ اور مثال لے لو: ماہِ رمضان۔ ماہ یہ بھی مہینے کو کہتے ہیں، تو دیکھو ماہ ‏سے مراد ہے مہینہ، رمضان سے مراد ہے رمضان کا مہینہ۔ تو دیکھو دو لفظ ‏ہیں اور ہر لفظ کس پر دلالت کر رہا ہے؟ اپنے معنیٰ پر، اور میں اس کا ارادہ ‏بھی کر رہا ہوں، تو یہ کیا ہوا؟ مرکب ہوگا۔ اور مثال لے لو: زید عمر کا ‏دوست۔ دیکھو، زید ایک لفظ، عمر دوسرا لفظ، کا تیسرا لفظ، دوست چوتھا لفظ ‏بھئی۔ تو زید سے زید مراد ہے، زید سے کون مراد ہے؟ زید کی ذات۔ عمر ‏سے کون مراد ہے؟ عمر کی ذات۔ کا سے کا والا معنیٰ نسبت کے لیے آتا ہے، ‏اور دوست سے دوست کا معنیٰ مراد ہے۔ تو لفظ دو ہیں یا دو سے زیادہ؟ دو ‏سے زیادہ۔ ہر لفظ کا اپنا، اپنے معنیٰ پر دلالت کر رہا ہے ہر لفظ؟ ہر لفظ اپنے ‏معنیٰ پر دلالت کر رہا ہے اور اس دلالت کا ارادہ بھی کیا ہے کہ نہیں کیا؟ اس ‏دلالت کا ارادہ بھی کیا ہے، تو یہ کیا ہوا؟ مرکب ہوا، مرکب ہوا۔ تو مرکب ‏کسے کہتے ہیں جس میں دو یا دو سے زیادہ لفظ ہوں اور ہر لفظ کیا کرے؟ ‏اپنے معنیٰ پر دلالت کرے اور اس دلالت کا ارادہ بھی کیا جائے تو وہ مرکب ‏ہے ورنہ وہ مفرد ہے۔ اب مفرد میں کئی صورتیں آگئیں۔ پہلی صورت، پہلی صورت کہ لفظ ہی ایک ‏ہو۔ لفظ ہی ایک ہو۔ جب لفظ ہی ایک ہے تو ہم نے تو کیا کہا تھا مرکب میں کیا ‏ہوں گے؟ دو سے زیادہ۔ تو جب لفظ ہی ایک ہے تو اس کا معنیٰ بھی ایک ہی ‏ہوگا تو یہ یہ کیا ہوگا؟ مفرد ہوگا۔ یہ کیا ہوگا؟ مفرد۔ مثلاً زید ہے، میں نے کہا ‏صرف زید، کیا چیز آپ کے ذہن میں آئی؟ زید کی ذات آپ کے ذہن میں آئی، ‏تو یہ کیا ہے؟ مفرد، کہ لفظ ہی ایک ہو۔ کتنی قیدیں تھیں مرکب میں؟ قیدیں تین چیزیں تھیں مرکب میں، تین قیدیں تھیں۔ ‏پہلی قید کہ دو یا دو سے زیادہ لفظ ہوں۔ دوسری قید کہ وہ اپنے معنیٰ پر دلالت ‏کر رہے ہوں۔ تیسری قید کہ اس دلالت کا ارادہ بھی کیا جائے۔ تو ایک ایک قید ‏سے دیکھو، کتنی پھر دہراؤ، پہلی قید کیا؟ کہ دو یا دو سے زیادہ لفظ ہوں۔ ‏دوسری قید کہ ہر لفظ اپنے معنیٰ پر دلالت کرے۔ تیسری قید کہ اس دلالت کا ‏ارادہ بھی کیا جائے۔ تین چیزیں ہیں۔ تو پہلی کو ذرا ختم کرو، پہلی قید کیا تھی؟ ‏دو یا دو سے زیادہ لفظ ہوں، دو سے دو سے زیادہ نہیں لفظ ایک کر دو۔ جب ‏لفظ ایک ہے تو پہلی شرط ہی نہیں پوری تو مرکب نہ رہا، یہ کیا بن گیا؟ مفرد۔ ‏تو زید صرف اکیلا لفظ ہے، کس پر دلالت ہوئی؟ زید کی ذات پر، تو یہ کیا ‏ہے؟ مفرد۔ عمر یہ کیا ہے؟ مفرد۔ بکر یہ کیا ہے؟ مفرد ہے۔ دوسری صورت: لفظ تو دو ہوں، پہلی شرط پوری کر لیں، دوسری شرط ختم ‏کر دیں۔ کتنی شرطیں تھیں؟ تین۔ پہلی کیا شرط؟ دو یا دو سے زیادہ لفظ ہوں۔ ‏دوسری شرط؟ اپنے معنیٰ پر دلالت کریں۔ تیسری شرط؟ اس کا ارادہ بھی کیا ‏جائے۔ پہلی شرط ختم کی ہم نے، ایک قسم بن گئی مفرد کی۔ پہلی شرط کیا ‏تھی؟ دو یا دو سے زیادہ لفظ ہوں، ہم نے ختم کر دیا، دو یا دو سے زیادہ نہیں ‏ہیں، ایک ہی لفظ ہے۔ جب ایک ہی لفظ ہے تو پہلی شرط ہی نہیں پوری۔ جب ‏پہلی شرط ہی پوری نہیں ہے تو یہ مرکب نہ ہوا بلکہ کیا ہوا؟ مفرد۔ اب پہلی ‏شرط پوری کر دو، دوسری ذرا ختم کر دو۔ پہلی شرط کیا پوری کرو؟ لفظ دو ‏ہوں۔ لفظ دو ہوں۔ دوسری شرط کیا تھی؟ اپنے معنیٰ پر دلالت، وہ ختم کر دو، ‏لفظ دو ہوں لیکن اپنے معنیٰ پر دلالت نہ کریں۔ مثلاً آپ کا ایک، عربی میں عبد کا معنیٰ ہے بندہ اور غلام، اور لفظِ اللہ ذاتِ ‏باری تعالیٰ کے لیے نام ہے، علم ہے۔ تو اب ایسے لفظ بولیں عبد اللہ، اس کا ‏کیا معنیٰ؟ اللہ کا بندہ۔ کیا معنیٰ؟ اللہ کا بندہ۔ اب بتائیے مجھے، دو یا دو سے ‏زیادہ لفظ ہیں؟ دو لفظ ہیں، توجہ ہے؟ عبد اللہ، کتنے لفظ ہیں؟ دو۔ ہر لفظ اپنے ‏معنیٰ پر دلالت کر رہا ہے؟ ہاں، عبد کا معنیٰ بندہ اور اللہ سے خالقِ ارض و ‏سما کی ذات مراد۔ تو دو لفظ ہوئے اور ہر لفظ کیا کر رہا ہے؟ اپنے معنیٰ پر ‏دلالت بھی کر رہا ہے اور ہم اس کا ارادہ بھی کریں، ہم اس کا کیا کریں؟ ارادہ ‏بھی کریں۔ آپ اپنے بارے میں کہیں انا عبد اللہ، میں اللہ کا بندہ ہوں۔ نام آپ کا ‏کچھ اور ہے لیکن آپ ویسے کہتے ہیں انا عبد اللہ، میں اللہ کا بندہ ہوں۔ تو ‏دیکھو عبد اللہ میں دو یا زیادہ لفظ، دو لفظ ہیں اور دونوں لفظ کیا کر رہے ہیں؟ ‏اپنے معنیٰ پر دلالت کر رہے ہیں اور آپ نے اس کا ارادہ بھی کر لیا، آپ نے ‏لفظِ عبد اللہ بول کر کیا معنیٰ کیا؟ اللہ کا بندہ۔ تو معلوم ہوا عبد اللہ لفظ کیا ہے؟ ‏مرکب ہے۔ توجہ ہے؟ کتنے لفظ ہیں؟ دو۔ عبد اللہ، انا عبد اللہ، انا کو ذرا ہٹا دیں نا، عبد ‏اللہ، کتنے لفظ ہیں؟ دو۔ اور ہر لفظ اپنے معنیٰ پر دلالت کر رہا ہے؟ دلالت بھی ‏کر رہا ہے اور آپ نے اس معنیٰ کا ارادہ کیا کہ نہیں کیا؟ آپ نے اس معنیٰ کا ‏ارادہ بھی کیا، انا عبد اللہ، میں کیا ہوں؟ اللہ کا بندہ۔ بھئی میرا نام تو کچھ اور ‏ہے لیکن میں اپنے لیے کیا بول رہا ہوں؟ عبد اللہ، معلوم ہوا معنیٰ کرنا پڑے گا۔ ‏میں عبد اللہ ہوں یہ تو نہیں کہہ سکتے۔ عبد اللہ آپ کے ایک ساتھی کا نام ہے، ‏وہ عبد اللہ ہے، میں تو میرا نام تو عبد اللہ نہیں، لیکن میں اپنے آپ کو کیا کہہ ‏رہا ہوں؟ انا عبد اللہ، تو آپ سے کوئی پوچھے بھئی یہ تو عبد اللہ نہیں ہے، یہ ‏کیسے عبد اللہ اپنے آپ کو کہہ رہا ہے؟ آپ کہیں گے بھئی عبد اللہ کا معنیٰ ہے ‏اللہ کا بندہ، تو یہ کیا ارادہ کر رہا ہے؟ میں اللہ کا بندہ ہوں۔ تو اب دیکھیے عبد ‏اللہ میں کتنے لفظ؟ دو، دو لفظ، اور ہر لفظ اپنے معنیٰ پر دلالت بھی کر رہا ہے ‏اور میں نے ہر اس معنیٰ کا ارادہ بھی کیا یا نہیں کیا؟ میں نے اس کا ارادہ بھی ‏کیا ہے تو یہ عبد اللہ یہ کیا ہوا؟ مرکب ہوا، مرکب ہوا۔ لیکن اگر یہی عبد اللہ کسی کا نام ہو تو اب یہ مفرد بن جائے گا بھئی۔ کیا ہو؟ ‏مفرد، یہ نام بن جائے گا۔ دیکھو، لفظ کتنے؟ دو، توجہ ہے؟ عبد اللہ میں دو ‏صورتیں بن رہی ہیں: ایک صورت میں عبد اللہ مرکب ہے میں نے ابھی بیان ‏کر دیا، اور ایک صورت میں دیکھنا عبد اللہ مفرد بن جائے گا جیسے عبد اللہ ‏کسی کا نام ہے۔ عبد اللہ کسی کا نام، اب مجھے بتائیے۔ میں نے کہا ھو عبد اللہ، ‏اس ساتھی کی طرف اشارہ کیا جس کا نام ہی کیا ہے؟ عبد اللہ۔ اب مجھے ‏بتائیے، عبد اللہ دو یا زیادہ لفظ ہیں؟ پہلی شرط پوری ہوگئی، دو لفظ ہیں۔ اور ‏ہر لفظ اپنے معنیٰ پر دلالت کر رہا ہے؟ ہر لفظ اپنے معنیٰ پر دلالت بھی کر ‏رہا ہے کیونکہ عبد اللہ کا معنیٰ ہوتا ہے اللہ کا بندہ۔ کیا میں نے اس دلالت کا ‏ارادہ کیا؟ نہیں، یہاں اس کے میں نام کے طور پر کہہ رہا ہوں وہ عبد اللہ ہے، ‏میرے کہنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ اللہ کا بندہ ہے۔ لہٰذا اگر اسی جملے کو ‏ھو عبد اللہ، آپ کا ایک ساتھی ہے اس کا نام کیا ہے؟ عبد اللہ۔ آپ نے کہا ھو ‏عبد اللہ، میں آپ سے کہتا ہوں اس جملے کا ترجمہ کرو، کیا ترجمہ کرو گے؟ ‏بھئی عبد اللہ کا ترجمہ کیوں نہیں کر رہے؟ آپ کہیں گے نہیں، یہاں نہیں ہوگا ‏ترجمہ، یہ اس کا نام ہے۔ یہ عبد اللہ ہم نے کیا کر دیا؟ اس کا نام رکھ دیا ہے، ‏اب اگر آپ کہیں وہ اللہ کا بندہ، کسی کو پتہ چلے گا وہ ساتھی آیا ہے جس کا ‏نام کیا ہے؟ عبد اللہ، اللہ کا بندہ تو ہر آدمی ہے۔ تو لہٰذا جب آپ نے اس کا نام ‏لیا، ناموں کا ترجمہ نہیں ہوتا بھئی۔ نام اس شخص کے لیے وہ لفظ مقرر ہے، ‏وہی اس ذات پہ وہ دلالت کر رہا ہے تو لہٰذا اس کا ترجمہ نہیں کیا جاتا۔ تو میں ‏نے آپ سے کہا ھو عبد اللہ کا ترجمہ کرو، آپ نے کیا ترجمہ کیا؟ وہ عبد اللہ ‏ہے۔ جب میں نے کہا تھا انا عبد اللہ، اس کا کیا ترجمہ ہوگا؟ میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اب ‏ترجمہ یہ نہیں ہوگا میں عبد اللہ ہوں، میرا نام عبد اللہ نہیں ہے، عبد اللہ تو اس ‏کا نام ہے، تو پھر یہاں ترجمہ کرنا پڑے گا کہ میں اللہ کا بندہ، میں کیا ہوں؟ ‏میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اور وہ، اور جب میں نے کہا ھو عبد اللہ جس کا نام ہی عبد ‏اللہ ہے اس کی طرف اشارہ کیا، اب میں نے کہا ھو عبد اللہ کا ترجمہ کرو، آپ ‏کیا کریں گے ترجمہ؟ وہ عبد اللہ ہے۔ دیکھو ایک جگہ آپ عبد اللہ کا ترجمہ کر ‏رہے ہیں، ایک جگہ آپ عبد اللہ کا ترجمہ نہیں کر رہے۔ کیوں نہیں کر رہے؟ ‏کیونکہ یہ اس کا نام بن گیا ہے، یہاں معنیٰ کی رعایت نہیں ہے، معنیٰ کا ارادہ ‏نہیں ہے بلکہ اس کی ذات مراد ہے۔ تو عبد اللہ سے جب اس کے معنیٰ کا ارادہ ‏کیا جائے تو یہ کیا ہوگا؟ مرکب۔ اور جب یہ کسی کا نام ہو تو پھر یہ کیا ہوگا؟ ‏مفرد۔ مفرد کیوں ہوگا؟ دو لفظ تو ہیں، پہلی شرط پوری ہوگئی۔ توجہ ہے؟ مرکب میں ‏کتنی شرطیں تھیں؟ تین۔ دو لفظ ہیں یا نہیں؟ کون سی صورت میں ذکر کر رہا ‏ہوں جب یہ کسی کا نام ہو، دیکھنا یہ مرکب سے نکل جائے گا۔ پہلی شرط ‏پوری، یہ دو لفظ ہیں۔ دوسری شرط کیا ہے؟ وہ اپنے معنیٰ پر دلالت کریں۔ عبد ‏اللہ کا بھی کچھ نہ کچھ عربی میں معنیٰ ہے یا نہیں؟ تو یہ تو یہ اس معنیٰ پر ‏دلالت بھی کرتے ہیں، اور لیکن یہاں جب کسی کا نام لیا تو وہ معنیٰ مراد ہے؟ ‏عبد اللہ، اللہ کا بندہ، یہ والا معنیٰ مراد نہیں بلکہ اس کی ذات مراد ہے بھئی۔ تو ‏لہٰذا یہ مفرد ہوا کہ مرکب ہوا؟ مفرد، کیونکہ تیسری شرط نہیں پوری۔ پریشان ‏بیٹھے ہیں، لگتا ہے سمجھ میں نہیں آ رہی بات۔ سب کو آ رہی ہے؟ ہاں؟ ہاں، ‏شاباش، پتہ چلے مجھے کہ آپ کو بات سمجھ میں آ رہی ہے۔ تو عبد اللہ اگر کسی کے نام کے طور پر استعمال ہو تو یہ کیا ہے؟ مفرد۔ ‏کیونکہ مرکب میں ضروری تھا لفظ دو ہوں تو ان کا معنیٰ بھی الگ ہو اور اس ‏معنیٰ کا ارادہ بھی ہو، اور یہاں پر تو ارادہ نہیں، عبد اللہ سے اللہ کا بندہ اس ‏ترجمے کا۔ تو معلوم ہوا کہ لفظ ایک ہو وہ بھی کیا ہوتا ہے؟ مفرد۔ اور اگر دو ‏لفظ ہوں لیکن ایک ہی چیز کا نام ہوں جیسے عبد اللہ، لفظ دو ہیں لیکن ایک ہی ‏انسان کا نام رکھا ہے تو یہ بھی کیا ہے؟ مفرد۔ تین لفظ ہوں لیکن ایک ہی چیز، ‏ایک ہی چیز کا نام ہو، ایک ہی انسان کا نام ہو وہ بھی مفرد ہے۔ جیسے بھئی ‏کوئی نام لیں جس میں تین لفظ آئیں، مثلاً محمد علی حسن، ایک آدمی کا نام کیا ‏ہے؟ محمد علی حسن۔ دیکھو اب کتنے لفظ آگئے؟ تین لفظ آگئے، تو پہلی شرط ‏ہی پوری، لفظ تین ہیں، دو یا دو سے زیادہ ہیں لفظ، پہلی شرط پوری۔ دوسری ‏شرط کیا؟ ہر لفظ کا اپنا معنیٰ ہو تو ہر لفظ کا اپنا معنیٰ بھی ہے، اور لیکن یہ ‏دلالت یہاں پر مراد نہیں بلکہ یہ تینوں بول کر اکٹھے ایک ہی آدمی کا نام ہے: ‏محمد علی حسن۔ محمد سے کوئی اور مراد ہو، علی سے کوئی اور مراد ہو، ‏حسن سے کوئی اور مراد ہو، کوئی تین معنیٰ یہاں مراد ہیں یا نہیں؟ ایک ہی ‏ذات مراد ہے۔ ایک، تو جب لفظ زیادہ ہوں اور ایک ہی ذات مراد ہو، ایک ہی ‏معنیٰ کا ارادہ کر رہے ہیں تو یہ مرکب ہوا یا مفرد ہوا؟ مفرد۔ مرکب میں تو ہر ‏لفظ کا اپنا معنیٰ مراد ہوتا ہے۔ اگر یہ مرکب ہوتا تو اس کا معنیٰ یہ تھا: محمد ‏کوئی اور ہے، علی کوئی اور ہے، حسن کوئی اور ہے، ہر ایک اپنے اپنے ‏معنیٰ پر، اپنے اپنے ذات پر دلالت کر رہا ہے تو پھر یہ کیا بن جاتا؟ مرکب۔ ‏لیکن جب یہ تین لفظ ہیں اور معنیٰ کیا ہے؟ ایک ہی ہے یعنی ایک ہی ذات ‏مراد ہے، تو یہ کیا بن گیا؟ مفرد۔ مفرد، ایک لفظ ہو وہ بھی کیا ہے؟ مفرد۔ دو یا ‏زیادہ لفظ ہوں لیکن ایک ہی معنیٰ ہو، ایک ہی ذات مراد ہو وہ بھی کیا ہے؟ ‏مفرد۔ اسی طرح آپ نے کسی شخص کا نام حیوانِ ناطق رکھ دیا۔ کیا رکھ دیا؟ حیوانِ ‏ناطق ایک آدمی کا نام رکھ دیا باقاعدہ، اور نام میں معنیٰ کی رعایت ہوتی ہے؟ ‏نام میں معنیٰ کی رعایت نہیں، یعنی نام میں معنیٰ مراد نہیں ہوتا، نام کے اندر ‏معنیٰ مراد نہیں ہوتا۔ اب آپ نے ساتھی کا نام کیا رکھا؟ حیوانِ ناطق۔ تو دیکھو ‏لفظ دو ہیں یا دو نہیں ہیں؟ لفظ دو ہیں: حیوان اور ناطق، پہلی شرط پوری۔ ‏دوسری شرط: لفظ اپنے اپنے معنیٰ پر دلالت کر رہے ہیں یا نہیں کر رہے؟ ‏لفظ کیا کر رہے ہیں، اپنے اپنے معنیٰ پر دلالت بھی کر رہے ہیں، حیوان کا ‏معنیٰ ہے جاندار بھئی اور ناطق بولنے والا، عقل رکھنے والا۔ تو دو لفظ بھی ‏ہیں اور ہر لفظ اپنے معنیٰ پر دلالت بھی کر رہا ہے، لیکن آپ نے اس دلالت کا ‏ارادہ نہیں کیا۔ آپ نے جب اسے بلایا: اے حیوانِ ناطق، تو آپ نے حیوان سے ‏حیوان اور ناطق سے ناطق کا ارادہ کیا یا سارے مجموعے سے اس ایک آدمی ‏کا ارادہ کیا؟ اس ایک، جیسے عبد اللہ کے اندر معنیٰ کی رعایت نہیں تھی، اس ‏آدمی کی ذات مراد تھی، اسی طرح یہاں حیوانِ ناطق اس کا نام رکھ دیا ہے۔ تو ‏یہاں بھی لفظ دو ہیں لیکن معنیٰ یا ذات جو مراد ہے وہ کیا ہے؟ ایک ہی ہے، ‏تو یہ بھی کیا ہوا؟ مفرد ہوا۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ تو مرکب کسے کہتے ہیں؟ جس میں دو لفظ ہوں، ہر لفظ اپنے معنیٰ پر دلالت ‏کرے اور اس معنیٰ کا ارادہ بھی کیا جائے، ہر لفظ کے معنیٰ کا ارادہ بھی کیا ‏جائے تو یہ ہے مرکب بھئی۔ چلیے بس بھئی، یہ تو مفرد اور مرکب کا میں نے بیان کر دیا۔ صاحبِ تیسیر ‏المنطق، تیسیر المنطق کے جو مصنف ہیں انہوں نے ذرا اور انداز اختیار کیا ‏ہے، یہی چیزیں بیان کریں گے تھوڑے سے فرق کے ساتھ وہ انشاءاللہ ہم کل ‏کر لیں گے، ٹھیک ہے؟ ہاں، تو یہ بس مفرد اور مرکب کی تعریف ذہن میں ‏رکھیں، یہ جو چیزیں میں نے بیان کی وہ ذہن میں رکھیے اور پھر یہ ذرا ‏تھوڑے اپنے الگ انداز میں، اپنے لفظوں میں، اپنے طریقے سے بیان کرتے ‏ہیں وہ بھی ہم انشاءاللہ کل اچھے طریقے سے کر لیں گے بھئی۔ گزشتہ سبق کا ذرا مختصر لفظوں میں خلاصہ پھر سن لیجیے:‏ دلالتِ مطابقی اس کو کہتے ہیں کہ لفظ اپنے پورے معنیٰ موضوع لہٗ پر دلالت ‏کرے، لفظ کیا کرے؟ اپنے پورے معنیٰ موضوع لہٗ پر دلالت کرے۔ جیسے انسان، انسان ہم نے نام رکھا ہے کس کا؟ حیوانِ ناطق کا، کس کا؟ جب ‏میں نے کہا انسان، آپ کے ذہن میں فوراً کون سا حیوان آیا؟ حیوانِ ناطق۔ تو ‏دیکھو لفظِ انسان کس کے لیے مقرر ہے؟ حیوانِ ناطق کے لیے، اور انسان ‏بولتے ہی پورا حیوانِ ناطق ذہن میں آیا یا نہیں؟ اس کو کہتے ہیں دلالتِ ‏مطابقی، کہ لفظ کیا کرے؟ اپنے پورے معنیٰ موضوع لہٗ پر دلالت۔ اچھا، جب پورا حیوانِ ناطق آپ کے ذہن میں آیا تو حیوانِ ناطق کے دونوں جز ‏بھی آگئے یا نہیں؟ کون سے؟ حیوان اور ناطق۔ یہ دونوں جز آئے جبھی تو ‏پورا کامل حیوانِ ناطق ہوا، اگر ایک جز نہ آتا تو پورا حیوانِ ناطق ہو سکتا ‏تھا؟ نہیں۔ دونوں جز جب آئے ہیں تو کل پر بھی دلالت ہوگئی اور ہر ہر جز پر ‏بھی دلالت۔ تو دلالتِ مطابقی کے ساتھ ساتھ دلالتِ تضمنی بھی آگئی، دلالت، تو ‏دلالتِ مطابقی کے ساتھ ساتھ دلالتِ تضمنی بھی آگئی۔ یعنی جب کل پر دلالت ‏ہوئی تو ہر ہر جز پر بھی کیا ہوگئی؟ دلالت۔ جیسے انسان کی دلالت کس پر؟ ‏حیوانِ ناطق پر ہوئی، اسی طرح صرف حیوان پر بھی ہوگئی، صرف ناطق پر ‏بھی ہوگئی۔ آپ کے ذہن میں کیا آیا؟ پورا حیوانِ ناطق۔ حیوانِ ناطق پورا تبھی آئے گا جب ‏اس کا ایک ایک جز کیا ہو؟ آپ کے ذہن میں، حیوانِ ناطق کے کتنے جز ہیں؟ ‏دو، ایک حیوان اور ایک ناطق۔ تو پورا حیوانِ ناطق آپ کے ذہن میں تبھی آئے ‏گا نہ جب دونوں جز آئیں؟ جب دونوں جز آگئے تو ایک ایک جز آگیا نہیں؟ ‏ایک ایک جز آگیا کہ نہیں؟ کوئی رہ تو نہیں گیا؟ تو ہر ہر جز آگیا تو ہر ہر ‏جز پر بھی دلالت ہوگئی، یہ کیا ہوئی؟ دلالتِ تضمنی ہوئی۔ اور انسان جب ذہن میں آیا تو ساتھ ہی یہ بھی ذہن میں آگیا کہ انسان تو ضاحک ‏ہے، یعنی اس میں اللہ نے ہنسنے کی صلاحیت رکھی ہے۔ ساتھ ہی یہ بات بھی ‏آگئی کہ انسان تو کاتب بھی ہے، اللہ نے اس کو کتابت یعنی لکھنے پڑھنے کی ‏بھی صلاحیت جو ہے نصیب فرمائی ہے، صورت سمجھ میں آگئی؟ کیونکہ جب ‏چیز کوئی ذہن میں آتی ہے تو اس کے جو لازم ہوتے ہیں وہ بھی ذہن میں آ ‏جاتے ہیں، جیسے مثلاً میں کہوں سورج، میں نے جیسے ہی سورج کہا آپ ‏کے ذہن میں اس کی روشنی بھی ذہن میں آگئی اور اس کی دھوپ بھی ذہن میں ‏آگئی۔ حالانکہ میں نے تو دھوپ کا ذکر نہیں کیا، میں نے تو روشنی کا ذکر ‏نہیں کیا، میں نے تو صرف سورج کا ذکر کیا لیکن جب بھی کوئی چیز ذہن ‏میں آتی ہے جو جو چیزیں اس کے ساتھ لازم ہوتی ہیں، اس کے ساتھ جڑی ‏ہوتی ہیں، اس سے الگ نہیں ہو سکتیں وہ بھی ساتھ ذہن میں آجاتی ہیں۔ مثلاً آپ کا ایک ساتھی ہے تو وہ بہت زیادہ ہنسی مذاق کرتا ہے فرض کریں، ‏بہت زیادہ ہنسی، تو جب بھی اس کا نام بولتے ہیں آپ کے ذہن میں وہ آتا ہے، ‏ساتھ ہی اس کی ہنسی مذاق والی صفت بھی آجاتی ہے یا نہیں آتی؟ دیکھا، ‏کیونکہ وہ آپ نے دیکھا ہے کہ وہ ہمیشہ ہنسی مذاق کرتا ہے، گویا ہنسی مذاق ‏اس کے ساتھ لازم آپ نے سمجھ لیا ہے۔ تو جب بھی کوئی چیز کو ذکر کیا ‏جائے ساتھ ہی اس کے لازم بھی آ جاتے ہیں، تو جب انسان ذہن میں آیا تو اس ‏انسان کا ضاحک ہونا بھی ذہن میں آگیا اور ضاحک ہونا یہ انسان کا، انسان کو ‏اس ضاحک کے لیے مقرر کیا گیا ہے؟ نہیں، انسان کو تو حیوانِ ناطق کے ‏لیے مقرر کیا گیا ہے۔ تو انسان کی دلالت ضاحک پر بھی ہوگئی، وہ بھی ذہن ‏میں آگیا لیکن ضاحک یہ نہ انسان کا موضوع لہٗ ہے، نہ اس کا جز ہے۔ انسان ‏تو اس کے لیے مقرر، موضوع لہٗ وہ معنیٰ جس کے لیے اس کو مقرر کیا گیا ‏ہے، موضوعٌ لہٗ اس کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ تو انسان کو کس کے لیے مقرر ‏کیا گیا ہے؟ حیوانِ ناطق، تو حیوانِ ناطق اس کا موضوع لہٗ ہوا۔ اور حیوان ‏صرف حیوان اس کا جز، صرف ناطق بھی اس کا جز۔ تو جب انسان بولا تو ‏پورا حیوانِ ناطق بھی ذہن میں آگیا اور جب حیوانِ ناطق آیا تو معلوم ہوا حیوان ‏بھی آگیا اور ناطق بھی آگیا۔ ظاہر سی بات ہے آپ کے ذہن میں پورا حیوانِ ناطق آ جائے اور حیوان نہ آئے ‏یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ حیوانِ ناطق میں تو حیوان خود ہی داخل ہے یا نہیں؟ تو ‏جب کل آئے گا ذہن میں تو جز خود بخود ذہن میں ساتھ آئے گا، جز کے بغیر ‏ہو ہی نہیں سکتا۔ اور جیسے ہی جب کل کے ساتھ جز آگیا تو ساتھ اگر کوئی ‏لازم ہوتا ہے وہ بھی ذہن میں آ جاتا ہے، تو ایک ہی لفظ میں تینوں دلالتیں ہو ‏رہی ہیں: مطابقی بھی ہو رہی ہے، تضمنی بھی ہو رہی ہے اور التزامی بھی۔ یہ ہمیشہ یاد رکھنا، جب بھی ہم کوئی لفظ بولتے ہیں ہمیشہ اولاً آتی ہے دلالتِ ‏مطابقی اور اس کے ساتھ ساتھ کیا آ جاتی ہے؟ دلالتِ تضمنی بھی اور التزامی، ‏کیونکہ جب کل ذہن میں آئے گا تو کل کہتے ہی کس کو ہیں؟ کل کسے کہتے ‏ہیں؟ جس میں سارے جز ہوں، تو سارے جز بھی آ گئے یا نہیں؟ تو سارے جز ‏بھی آ گئے۔ اور ساتھ اس کے لازم بھی آ گئے یا نہیں آ گئے؟ تو دلالتِ التزامی ‏بھی ساتھ آ گئی۔ تو دلالتِ مطابقی بھی آئی، تضمنی بھی آئی اور التزامی۔ میں ‏نے صرف لفظِ انسان بولا لیکن دلالتیں تینوں ہو گئیں۔ کل پر بھی ہو گئی دلالت ‏اور جز پر بھی ہو گئی اور لازم پر بھی ہو گئی۔ تو طلبہ عموماً یہ سمجھتے ہیں کہ ایک وقت میں ایک دلالت ہوتی ہے: مطابقی ‏ہو رہی ہے تو تضمنی نہیں ہے، یا تضمنی ہو رہی ہے تو مطابقی نہیں ہے، ‏نہیں نہیں، یاد رکھو دلالت تو ہوتی ہی مطابقی ہے ہمیشہ۔ کیا ہوتی ہے؟ مطابقی ‏کے بعد دیکھو تضمنی اور التزامی بھی ہے یا نہیں۔ مطابقی کے ساتھ ہی ‏تضمنی بھی ہو رہی ہوگی اور مطابقی کے ساتھ ہی التزامی بھی۔ صرف دلالتِ ‏تضمنی ہو اور مطابقی نہ ہو ایسا ہو ہی نہیں سکتا، صرف دلالتِ التزامی ہو ‏اور مطابقی نہ ہو ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ یاد رکھو ہم جب بھی لفظ کو مقرر ‏کرتے ہیں کسی معنیٰ کے لیے مقرر کرتے ہیں نا، تو جب بھی وہ لفظ بولو گے ‏وہ پورا معنیٰ ذہن میں آئے گا یا نہیں؟ اور جب وہ پورا ذہن میں آیا تو مطابقی ‏تو ہو گئی۔ کبھی ایسا ہو سکتا ہے آپ نے ایک لفظ بولا اور آدھا معنیٰ ذہن میں ‏آیا، آدھا نہیں آیا؟ نہیں، ایسا ہو ہی نہیں سکتا، ہمیشہ پورا معنیٰ ذہن میں آئے ‏گا۔ تو ہمیشہ مطابقی تو ہمیشہ ہوگی، ایسا کبھی نہیں ہو سکتا مطابقی نہ ہو، جب ‏بھی لفظ بولیں گے کون سی دلالت ہوگی؟ مطابقی۔ ہاں انسان کے تو دو جز ہیں حیوان اور ناطق، لیکن جس چیز اگر ایک چیز ‏کے جز ہی نہیں ہیں جیسے اللہ کی ذات ہے، اللہ کی ذات، اللہ کی ذات بسیط ‏ہے، مرکب نہیں، جز نہیں، کیونکہ جو جز جس کا جز ہو وہ ہمیشہ سے نہیں ‏ہو سکتا اور اللہ کی ذات تو ہمیشہ سے ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ بحثیں ‏انشاءاللہ اب آگے پڑھ لیں گے۔ تو اللہ کی ذات کا جز نہیں، تو جب میں نے کہا ‏لفظِ اللہ آپ سمجھ گئے خالقِ ارض و سما کی بات ہو رہی ہے، وہ ذات جو ‏زمین اور آسمان کو پیدا کرنے والی ہے، جو ساری مخلوقات کو پیدا کرنے ‏والی ہے، جو سب کو رزق دینے والی ہے اس ذات کی بات ہو رہی ہے۔ تو ‏یہاں مطابقی تو ہو گئی لیکن دلالتِ تضمنی نہیں ہوئی، صورت سمجھ میں آئی؟ ‏کیونکہ جز ہے ہی نہیں۔ تو لہٰذا لہٰذا اگر ایک چیز کے جز ہی نہ ہوں تو وہاں ‏مطابقی تو ہوگی لیکن تضمنی نہیں ہوگی، کیونکہ جز ہیں ہی نہیں۔ اور اسی طرح جب کوئی چیز ذہن میں آتی ہے تو اس کے ساتھ جو جو چیزیں ‏لازم ہوتی ہیں، اس سے جدا نہیں ہوتیں وہ بھی ذہن میں آ جاتی ہیں، دلالتِ ‏مطابقی کے ساتھ ہی کون سی دلالت آ جاتی ہے؟ دلالتِ التزامی بھی۔ لہٰذا اب ‏دیکھو ادھر دیکھو، ایک چیز ہے اس کے جز بھی ہیں اور اس کے ساتھ کچھ ‏چیزیں لازم بھی ہیں، میں جیسے ہی اس چیز کا نام لوں گا کون سی دلالت ‏ہوگی؟ اس کے جز بھی ہیں اور چیزیں لازم بھی ہیں، یاد رکھو جیسے ہی میں ‏نام لوں گا تینوں دلالتیں ہو جائیں گی۔ جب میں اس کا نام لوں گا وہ پوری چیز ‏ذہن میں آئے گی یا نہیں؟ جب پوری چیز ذہن میں آئی تو اس کا ایک ایک پرزہ ‏بھی ذہن میں آ گیا یا نہیں؟ پوری بنے گی تب جب ایک ایک پرزہ آئے ذہن ‏میں، تو پوری تو دلالتِ تضمنی بھی ہو گئی اور اس کے ساتھ جو چیزیں لازم ‏ہیں وہ بھی ذہن میں آئیں کہ نہیں آئیں؟ وہ بھی ذہن میں آئیں تو کون سی دلالت ‏ہوئی؟ التزامی بھی ہو گئی۔ تو دیکھو میں جب بھی ایک چیز، پھر سنو، میں ‏جب بھی ایک چیز کا نام لوں اور اس کے جز بھی ہوں اور اس کے ساتھ کوئی ‏چیز لازم بھی ہو تو کون سی دلالت ہوگی؟ تینوں ہو جائیں گی، کیا ہوں گی؟ ‏تینوں، کل بھی ذہن میں آئے گا، جز بھی آئے گا اور اس کے لازم بھی آ جائیں ‏گے۔ لہٰذا میں نے کہا انسان، کون سی دلالت ہوئی؟ تینوں شاباش ہو گئیں: مطابقی ‏بھی کل پر بھی، جز پر بھی اور اس کے لازم یعنی انسان کے ضاحک اور ‏کاتب ہونے پر بھی، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ ایک چیز ہے اس کے جز ‏بھی ہیں اور اس کے لازم بھی ہیں، تو جب میں اس چیز کا نام لوں گا کون سی ‏دلالتیں ہوں گی؟ تینوں ہو جائیں گی۔ اب ایک اور چیز ہے، اس کا جز کوئی نہیں ہاں اس کے کچھ لازم ہیں، کیا ‏ہیں؟ لازم ہیں، تو جب میں نے اس چیز کا نام لیا کون سی دلالت ہوئی؟ مطابقی ‏اور التزامی۔ تضمنی کیوں نہیں ہوئی؟ کیوں جز ہی نہیں ہے۔ اب ایک تیسری چیز ہے، اس کا کل بھی ہے، اس کے اس کے جز بھی ہیں ‏لیکن کوئی لازم نہیں، تو جب میں اس کا نام لوں گا کون سی دلالت ہوگی؟ ‏مطابقی اور تضمنی ہوگی، التزامی نہیں کیونکہ لازم ہے ہی کوئی نہیں۔ اب ایک چیز ایسی ہے نہ اس کا کوئی جز ہے، نہ اس کا کوئی لازم ہے، میں ‏اس کا نام لیتا ہوں، کون سی دلالت ہوئی؟ صرف مطابقی ہوئی کیونکہ لازم ہے ‏ہی نہیں کہ دلالتِ التزامی ہوتی اور جز بھی کوئی نہیں کہ دلالتِ تضمنی ہوتی۔ اور ہر ایک میں آپ دیکھ رہے ہیں مطابقی ہے یا نہیں؟ مطابقی ہر ایک میں ‏ہے لیکن کہیں پر التزامی نہیں ہے، کہیں تضمنی نہیں ہے اور کہیں دونوں ‏نہیں ہیں۔ تو دلالتِ مطابقی تو ہمیشہ ہوگی، اس کے ساتھ کبھی التزامی اور ‏تضمنی دونوں ہوں گی، کبھی ایک ہوگی، کبھی دونوں ہی نہیں ہوں گی، لیکن ‏مطابقی ہر جگہ ضرور ہوگی۔ کیونکہ لفظ کو مقرر ہی ایک معنیٰ کے لیے کیا ‏جاتا ہے، وہ لفظ جب بھی بولو گے پورا معنیٰ سمجھ میں آئے گا۔ اب یاد رکھو، ایک لفظ میں نے بولا، اس کے جز بھی ہیں اور اس کا لازم ‏بھی، تو جب میں نے لفظ بولا کون کون سی دلالتیں ہوئیں؟ تینوں ہو گئیں: ‏مطابقی بھی، تضمنی بھی اور التزامی بھی۔ لیکن میرا ارادہ عموماً ایک کا ہوگا۔ ‏کس کا؟ ایک کا۔ یا تو میرا مراد پورا انسان، میں نے انسان بولا اور مراد کیا ‏لے رہا ہوں؟ پورا انسان۔ یا میں انسان بولتا ہوں لیکن ارادہ کس کا کرتا ہوں؟ ‏صرف حیوان کا یا صرف ناطق کا۔ یا میں انسان بولتا ہوں اور صرف ضاحک ‏یا کاتب کا ارادہ کرتا ہوں۔ کر سکتا ہوں یا نہیں کر سکتا؟ کیونکہ دلالت ہو رہی ‏ہے یا نہیں؟ ایک چیز سے دوسری چیز ذہن میں آ رہی ہے یا نہیں؟ جب ذہن ‏میں آ رہی ہے تو میں اس کا ارادہ بھی کر سکتا ہوں، یا تو میں مثلاً میں بول ‏مثلاً میں بولوں بکری اور ارادہ کروں ہاتھی کا، بکری بولنے سے تو ہاتھی ذہن ‏میں ہی نہیں آتا، آپ ارادہ کیسے کر رہے ہیں؟ ارادہ تو اس چیز کا کریں جو ‏ہو تو سکے، تو وہاں تو ارادہ نہیں ہو سکتا لیکن یہاں ساری چیزیں ذہن میں آ ‏رہی ہیں یا نہیں؟ تو ساری میں سے جس کا بھی میں چاہوں ارادہ کر سکتا ‏ہوں۔ میں آپ سے باتیں کر رہا ہوں، باتیں کرتے کرتے میں نے انسان کا لفظ بولا ‏اور پورے حیوانِ ناطق کا ارادہ کیا، آپ کہیں گے یہ کون سی دلالت کا ارادہ ‏کر رہے ہیں؟ دلالتِ مطابقی کا۔ میں نے انسان بولا اور صرف حیوان کا ارادہ ‏کیا یا صرف ناطق کا، آپ کہیں گے کون سی دلالت کا ارادہ کر رہے ہیں؟ ‏دلالتِ تضمنی کا۔ میں نے انسان بولا اور میں نے ارادہ کیا ضاحک یا کاتب کا، ‏آپ کہیں گے کون سی دلالت کا ارادہ کر رہے ہیں؟ دلالتِ التزامی کا۔ تو دلالتیں ‏تو تینوں ہیں لیکن میں ارادہ ایک کا کر رہا ہوں۔ تو ارادہ اور چیز ہے اور ‏دلالت ہونا اور چیز ہے۔ ایک جگہ پر دلالتیں ہوں گی باقی بھی لیکن ایک وقت ‏میں ارادہ کس کا ہوگا؟ ایک کا ہوگا۔ تو طلبہ یہ سمجھتے ہیں عموماً کہ شاید کل بول کر جب جز کا ارادہ کیا تو یہ ‏دلالت کون سی ہوئی؟ کل بول کر ایک لفظ بول کر اس کے جز کا ارادہ کیا، یہ ‏کون سی ہوئی؟ تضمنی ہوئی، جب تضمنی ہوئی تو یہاں مطابقی نہیں ہے۔ نہیں ‏بھئی، مطابقی تو ہمیشہ ہوگی، مطابقی تو دلالت تو ہے لیکن ہم ارادہ اس کا نہیں ‏کر رہے، ہم ارادہ کس کا کر رہے ہیں؟ دلالتِ تضمنی کا۔ اور وہ کہے گا یہاں ‏دلالتِ التزامی بھی نہیں، ہو سکتا ہے نہ ہو لیکن ہو سکتا ہے ہو بھی، اس چیز ‏کا اگر لازم ہے تو دلالت، ہاں تو دلالت ہوگی لیکن ہو سکتا ہے اس کا ارادہ آپ ‏اس کا ارادہ نہیں کر رہے۔ تو ارادہ ہونا اور چیز، دلالت ہونا اور چیز ہے۔ ‏اچھی طرح بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، ھٰذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔