Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تيسير المنطق · dars-011

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Ghais
📍 Location Lahore, Pakistan
📅 Approved Date 04 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 13
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
سبقِ پنجم دلالتِ لفظیہ وضعیہ کی قسمیں دلالتِ لفظیہ وضعیہ کی تین قسمیں ہیں:‏ ‏ • دلالتِ مطابقت • دلالتِ تضمن • دلالتِ التزام دلالتِ مطابقت وہ دلالتِ لفظیہ ہے کہ لفظ اپنے پورے موضوع لہٗ پر دلالت ‏کرے، جیسے انسان کی دلالت مجموعۂ حیوانِ ناطق پر۔ دلالتِ تضمن یہ ہے کہ لفظ اپنے موضوع لہٗ کے جز پر دلالت کرے، جیسے ‏انسان کی دلالت حیوان پر یا ناطق پر۔ دلالتِ التزام یہ ہے کہ لفظ اپنے موضوع لہٗ کے لازم پر دلالت کرے، جیسے ‏انسان کی دلالت قابلیتِ علم پر۔ اچھا بھئی! آج ہم دلالتِ لفظیہ وضعیہ کی قسمیں پڑھیں گے۔ گزشتہ سبق میں ہم نے دلالت کے بارے میں پڑھا تھا، آپ نے پڑھا کہ دلالت ‏کہتے ہیں کہ ایک چیز کے جاننے سے دوسری چیز کا علم ہو جائے، اس کو ‏کیا کہتے ہیں؟ دلالت۔ جب بھی ایسا ہو، ایک چیز سے آپ کو دوسری چیز کا ‏پتہ چلے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ دلالت۔ آپ صبح کے وقت کمرے میں بیٹھے ‏ہیں، آپ نے باہر نظر دوڑائی، آپ کو دیوار پر دھوپ نظر آئی، اس سے آپ ‏کو کیا پتہ چلا؟ کہ سورج نکل آیا ہے، تو دیکھو ایک چیز سے دوسری چیز کا ‏پتہ چلا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ دلالت کہتے ہیں۔ اور پھر آپ نے پڑھا تھا کہ جو پہلی چیز، جس سے دوسری کا پتہ چلا، تو ‏پہلی کو کیا کہتے ہیں؟ دال، اور دوسری کو؟ مدلول کہتے ہیں۔ اور پھر دال کے ‏اعتبار سے یہ دلالت دو قسم پر ہے: دال اگر لفظ ہو تو یہ دلالتِ لفظیہ ہے، اور ‏دال اگر غیرِ لفظ ہو تو پھر دلالتِ غیرِ لفظیہ ہے۔ پھر چاہے دلالتِ لفظیہ ہو، ‏چاہے دلالتِ غیرِ لفظیہ ہو، دونوں کی تین تین قسمیں ہیں۔ دلالتِ لفظیہ، وہ وضعیہ بھی ہو سکتی ہے، طبعیہ بھی ہو سکتی ہے اور عقلیہ ‏بھی ہو سکتی ہے۔ دلالتِ لفظیہ وضعیہ... پہلے وضع کا، وضع ذرا مختصر ‏میں پھر بیان کر دیتا ہوں۔ وضع کسے کہتے ہیں؟ وضع کا معنی ہے مقرر ‏کرنا۔ تو جس میں ہم نے ایک چیز کو دوسری چیز کے لیے مقرر کیا ہوتا ہے، ‏تو ایک چیز سے ہمیں دوسری چیز کا پتہ لگ جاتا ہے۔ جیسے سرخ رنگ کا اشارہ، یہ کس لیے مقرر کیا گیا ہے؟ گاڑی روکنے کے ‏لیے، یہ ہم لوگوں نے مقرر کیا ہے، اور سبز رنگ کا اشارہ کس لیے مقرر کیا ‏ہے؟ گاڑی چلانے کے لیے۔ تو آپ گاڑی چلا رہے ہوں، سرخ اشارہ جیسے ہی ‏جلتا ہے، کوئی کچھ بھی نہیں بولتا لیکن آپ خود بخود گاڑی روک لیتے ہیں، ‏کیونکہ اس اشارے نے آپ کو بتلا دیا کہ اب کیا کرنا ہے؟ گاڑی کو روکنا ہے، ‏تو ایک چیز نے دوسری چیز کا بتلایا۔ اسی طرح سبز اشارہ جیسے ہی جلتا ‏ہے، آپ فوراً گاڑی چلا دیتے ہیں، آپ کو کسی نے کچھ نہیں کہا، لیکن اس ‏اشارے نے آپ کو بتا دیا کہ اب کیا کرنا چاہیے؟ گاڑی چلا دینی چاہیے، تو یہ ‏جو پہلی چیز ہے وہ ہے دال، اور دوسری کیا ہے؟ مدلول ہے، مدلول۔ اور ‏وضع، وضع کا معنی مقرر کرنا، یہ ہم نے مقرر کیا ہے۔ دلالتِ لفظیہ وضعیہ، اس میں کیا ہوگا؟ دال لفظ ہوگا۔ پہلی بات تو یہ ہے، ‏کیونکہ دلالت کون سی ہے؟ لفظیہ۔ دال لفظ ہوگا اور دلالت کس وجہ سے ہوگی؟ ‏وضع کی وجہ سے ہوگی، مقرر کرنے کی وجہ سے ہوگی۔ اب پھر دہرائیں، ‏دلالتِ لفظیہ وضعیہ کسے کہتے ہیں؟ جس میں دال لفظ ہوتا ہے اور دلالت ‏وضع کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اور دوسری قسم ہے دلالتِ لفظیہ طبعیہ، اس میں بھی دال لفظ ہوتا ہے اور ‏دلالت طبیعت کی وجہ سے ہوتی ہے، طبیعت کے تقاضے کی وجہ سے۔ مثلاً ‏بھئی، مثال میں نے اس کی ذکر کی تھی کہ ایک ساتھی ہے آپ کا، وہ غمگین ‏بیٹھا ہے اور پھر اس نے ہائے ہائے شروع کر دیا، تو آپ فوراً سمجھ گئے کہ ‏یہ کیا ہے؟ معلوم ہوا یہ غمزدہ ہے، اس کو کوئی دکھ اور تکلیف پہنچی ہے، تو ‏آپ اس سے پوچھتے ہیں بھئی۔ تو دیکھو، دلالتِ طبعیہ کے اندر یہ جو دال، دلالتِ طبعیہ میں دال ہوتا ہے نا ‏دال، دال کیا تھا؟ وہ جو اس نے ہائے ہائے کہا، وہ لفظ ہے۔ اور یہ دال کیوں، ‏دال کیسے بنا؟ کیسے اس کو وجود ملا؟ اس کی طبیعت نے تقاضا کیا۔ اس کو ‏غم لاحق تھا، مدلول پہلے سے تھا، مدلول غم ہے نا، غم اس کو پہلے سے تھا، ‏اس مدلول نے اس کی طبیعت کو مجبور کیا اور اس کی طبیعت نے پھر کیا ‏کیا؟ اس نے ہائے ہائے کہا بھئی۔ تو دیکھو اس میں جو دال، دلالتِ طبعیہ میں ‏دال کو طبیعت وجود دیتی ہے، دال کو کون پیدا کرتی ہے؟ طبیعت۔ طبیعت پیدا ‏کرتی ہے، طبیعت کو مدلول لاحق ہوتا ہے، مدلول اس کے ساتھ جڑ جاتا ہے ‏اور طبیعت پھر تقاضا کرتی ہے کہ کیا کرے، مثلاً غم لاحق ہوا ہے تو طبیعت ‏کیا کہتی ہے؟ ہائے ہائے کرے، ہائے ہائے کہے۔ یا اسی طرح آپ کو کسی بات، کسی بات پر خوشی لاحق ہوتی ہے، خوش ‏ہوتے ہیں، تو آپ واہ واہ کرتے ہیں۔ مثلاً گرمی کے دن تھے اور آپ کمرے ‏سے نکلے تو آپ نے دیکھا کہ بادل آ رہے ہیں اور ٹھنڈی ہوا چلنا شروع ہو ‏گئی ہے، دیکھو آپ خوش ہوئے یا نہیں ہوئے؟ اور آپ فوراً کہیں گے واہ واہ! ‏دیکھو خوشی سے آپ نے کہا۔ تو یہ جو واہ واہ ہے، یہ کس وجہ سے کہا آپ ‏نے؟ آپ کو کیا لاحق ہوئی؟ خوشی۔ اور اس خوشی کی وجہ سے آپ کی ‏طبیعت نے کیا تقاضا کیا کہ کیا کہو؟ واہ واہ! تو یہ جو واہ واہ، بات چل رہی ‏ہے دلالت کی۔ دلالت میں کیا ہوتا ہے؟ ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ چلتا ہے۔ تو یہاں ‏کیسے ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ کیسے چل رہا ہے؟ دال کیا ہے؟ واہ ‏واہ۔ شاباش! دیکھو اس کو تو پتہ ہے، وہ تو خوش ہے اور اسی خوشی کی وجہ ‏سے اس نے واہ واہ کہا ہے، یا وہ غمگین ہے اس کو تو پتہ ہے میں غمزدہ ‏ہوں اور اس نے ہائے ہائے کہا ہے۔ ہاں! لیکن اس ہائے ہائے کی وجہ سے آپ ‏کو کس چیز کا پتہ چلا؟ اس دال کی وجہ سے مدلول غم کا پتہ چلا، یا یہ واہ ‏واہ جو کہا، تو اس واہ واہ کی وجہ سے آپ کو اس کی خوشی کا پتہ چلا۔ تو ‏دیکھو یہ واہ واہ کیا ہے؟ دال، اور وہ خوشی کیا ہے؟ مدلول۔ اور یہ واہ واہ اس ‏کو کس چیز نے وجود دیا؟ یہ واہ واہ جو آپ نے کہا، یہ کس نے تقاضا کیا؟ یہ ‏آپ کی طبیعت نے تقاضا کیا۔ تو یہ جو دلالتِ طبعیہ ہوتی ہے نا، اس میں دال ‏کو طبیعت وجود دیتی ہے، طبیعت تقاضا کرتی ہے کہ اس طرح کرو۔ تو یہ آپ نے یہ ہائے ہائے جو کہا یا واہ واہ کہا، تو یہ کون سی دلالت ہوئی؟ ‏دلالتِ لفظیہ طبعیہ۔ لفظیہ کیوں؟ کیونکہ یہ ہائے ہائے اور واہ واہ کیا ہے؟ لفظ ‏ہے۔ اور طبعیہ کیوں؟ کہ ان کو وجود کیوں ملا؟ کس کی، کس نے تقاضا کیا؟ ‏طبیعت نے تقاضا کیا۔ اور اگر دلالتِ لفظیہ تو ہے لیکن نہ اس میں وضع کا دخل ہے، نہ اس میں ‏طبیعت کا دخل ہے، تو پھر یہ دلالتِ لفظیہ عقلیہ کہلائے گی۔ اس کی مثال ‏انہوں نے ذکر کی تھی کہ دیوار کے پیچھے سے آپ نے دیز کی آواز سنی، ‏دیز کی آواز۔ دیز ایک لفظ ہے جس کا کوئی معنی نہیں، اسی زید کو الٹ دیا۔ ‏اب دیز، دیز کا تو کوئی معنی نہیں، تو کوئی بھی لفظ آپ نے باہر سے سنا، ‏کوئی بھی لفظ آپ نے سنا جس کا کوئی معنی نہیں۔ اگر معنی ہوگا پھر تو وہ ‏معنی بھی سمجھ میں آئے گا یا نہیں آئے گا؟ تو وہ جو معنی پر دلالت ہوگی وہ ‏ہوگی دلالتِ لفظیہ وضعیہ۔ مثلاً دیوار کے پیچھے سے ایک آدمی نے زور سے کہا "بارش"، آپ کے ذہن ‏میں کیا آئی؟ بارش آ گئی ہے یا نہیں۔ تو یہ جو بارش کی دلالت اس بارش پر، ‏جو آسمان سے پانی برستا ہے اس پر ہوئی، یہ کون سی دلالت ہے؟ لفظیہ ہے ‏اور کون سی ہے؟ وضعیہ ہے۔ لیکن ساتھ ہی ایک اور بات کا بھی آپ کو پتہ ‏چل گیا، کیا؟ کوئی باہر کوئی ہے۔ یہ دلالت، یہ جو لفظِ بارش نے دلالت کی ‏کس پر؟ باہر کسی آدمی کے ہونے پر، یہ دلالتِ لفظیہ ہے لیکن عقلیہ ہے۔ کیا ‏ہے؟ اس میں وضع کا دخل نہیں، بارش کے لفظ کو کیا ہم نے اس لیے مقرر ‏کیا ہے کہ اس سے پتہ چلتا ہے باہر کوئی آیا ہے؟ نہیں نہیں، یہ اس لیے مقرر ‏ہی نہیں ہے۔ تو یہ ایک الگ چیز کا آپ کو پتہ چلا اور دلالت ہوئی اور یہ کون ‏سی دلالت ہے؟ عقلیہ، یعنی اس میں ہمارے مقرر کرنے کا کوئی دخل نہیں ہے ‏بھئی۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ اسی طرح دلالتِ غیرِ لفظیہ میں بھی یہی تینوں قسمیں جاری ہوں گی۔ دلالتِ ‏غیرِ لفظیہ وضعیہ، جس میں وضع کا تو دخل ہے لیکن دال غیرِ لفظ ہے۔ مثلاً ‏تار کی وہ کھٹ کھٹ بھئی، وہ جو تار بھیجتے ہیں، ٹیلی گرام بھیجتے ہیں، تو ‏اس کی جو کھٹ کھٹ ہے اب دیکھو اس میں ہر حرف کے لیے مخصوص ‏آوازیں مقرر ہیں۔ جو اس کے ماہر ہوتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ یہ اس وقت ‏میم ہے، یہ با ہے، یہ جیم ہے، وہ لکھتے رہتے ہیں اور پورا جملہ لکھ لیتے ‏ہیں کہ کیا پیغام آیا ہے۔ تو اب دیکھو، یہ جو کھٹ کھٹ سے وہ میم، جیم، حا ‏وغیرہ حروف سمجھ رہے ہیں، کیا یہ خود بخود ہے یا یہ مقرر کیے گئے ہیں ‏اس کے لیے؟ اس کے لیے مقرر، تو دلالت ہوئی وضعیہ۔ اور کون سی ہے، ‏لفظیہ ہے یا غیرِ لفظیہ؟ غیر، تو یہ غیرِ لفظیہ وضعیہ ہوئی۔ اسی طرح غیرِ لفظیہ طبعیہ بھی ہوگی، مثلاً گھوڑا ہنہنایا، اس سے آپ کو کیا ‏پتہ چلا کہ اس کو بھوک لگی ہے۔ تو دیکھو، یہ جب گھوڑے کو بھوک لگی تو ‏اس کی طبیعت نے تقاضا کیا اور وہ ہنہنانے لگا۔ تو ہنہنانے سے کس چیز کا ‏پتہ چلا؟ اس کے بھوک کا، تو ہنہنانا یہ لفظ ہے؟ نہیں، تو یہ دلالتِ غیرِ لفظیہ ‏ہوئی۔ اور یہ ہنہنانا اس کی طبیعت نے تقاضا کیا تھا تو دلالت کون سی ہوئی؟ ‏طبعیہ، تو دلالتِ غیرِ لفظیہ طبعیہ بھئی۔ اور اسی طرح کیا ہے؟ دلالتِ غیرِ لفظیہ عقلیہ۔ تو دلالت غیرِ لفظی ہو اور، اور ‏نہ وضع کا دخل ہو، نہ طبیعت کا دخل ہو، تو پھر وہ کیا کہلائے گی؟ دلالتِ ‏غیرِ لفظیہ عقلیہ۔ جیسے دھویں کو آپ نے دیکھا تو کس چیز کا پتہ چلا؟ آگ کا ‏پتہ چلا۔ تو اس طرح جہاں بھی آپ کو، غور کریں، بہت سی مثالیں آپ کو قدم قدم پر ‏مل جائیں گی۔ جب بھی ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ چلے، سمجھ جائیں ‏یہ دلالت ہے، اور پھر کون سی قسم ہے آپ غور کر لیں کہ دال لفظ ہے یا غیرِ ‏لفظ ہے۔ اگر لفظ ہے تو لفظیہ، غیرِ لفظ ہے تو غیرِ لفظیہ۔ پھر غور کر لیں کہ ‏یہ جو دال ہے، یہ اس نے دلالت کی ہے وضع کی وجہ سے کی ہے اور، یا ‏نہیں؟ اور یا کیا یہ طبیعت کے تقاضے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے؟ یا نہیں؟ تو ‏اگر طبیعت کی وجہ سے ہے تو طبعیہ، اور اگر ورنہ پھر کیا ہے؟ عقلیہ ہے ‏بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اب یہ جو دلالت کی چھ قسمیں پڑھیں آپ نے، چھ قسمیں، ذرا ان کو دہرالیں ‏صرف نام ان کے۔ پہلی قسم کیا؟ دلالتِ لفظیہ وضعیہ۔ دوسری کیا؟ دلالتِ لفظیہ ‏طبعیہ۔ تیسری؟ دلالتِ لفظیہ عقلیہ۔ چوتھی قسم؟ دلالتِ غیرِ لفظیہ وضعیہ۔ ‏پانچویں قسم؟ دلالتِ غیرِ لفظیہ طبعیہ۔ اور چھٹی قسم؟ دلالتِ غیرِ لفظیہ عقلیہ۔ یاد رکھیے! ان چھ قسموں میں سے، چھ قسموں میں سے جو دلالتِ لفظیہ ‏وضعیہ ہے، دلالتِ لفظیہ وضعیہ، منطقی اس کے بارے میں بحث کرتے ہیں، ‏کیونکہ اس کا فائدہ سب سے زیادہ ہے۔ باقی دلالتوں کا بھی فائدہ ہے، لیکن اتنا ‏نہیں جتنا فائدہ کس کا ہے؟ دلالتِ لفظیہ وضعیہ۔ دیکھو، یہ جتنی میں تقریر کر ‏رہا ہوں اور آپ سمجھتے جا رہے ہیں، یہ کون سی دلالت ہے؟ لفظیہ ہے اور ‏کون سی ہے؟ وضعیہ ہے۔ تو یہ جتنے جو ہم باتیں کرتے ہیں، ایک دوسرے کو اپنے دل کی بات بتاتے ‏ہیں اور گفتگو کرتے ہیں اور یہ جو کچھ ہم علم حاصل کر رہے ہیں، کتابوں ‏کے اندر پڑھتے ہیں، یہ ساری کون سی دلالتیں ہیں؟ دلالتِ لفظیہ وضعیہ، تو ‏سب سے زیادہ فائدہ اس دلالت کا ہے، اور تو اس لیے مناطقہ کس کے بارے ‏میں بحث کرتے ہیں؟ دلالتِ لفظیہ وضعیہ کے بارے میں بحث کرتے ہیں، باقی ‏دلالتوں کے بارے میں اتنی بحث نہیں کرتے بھئی، کیونکہ وہ اتنی، ان کا فائدہ ‏اتنا زیادہ نہیں جتنا فائدہ ان کا ہے بھئی۔ تو لہٰذا، آج ہم اس دلالتِ لفظیہ وضعیہ کی قسمیں پڑھیں گے بھئی، قسمیں ‏پڑھیں گے۔ اور یہ آپ کو بتلائیں گے کہ اس دلالت کی تین قسمیں ہیں: ایک ‏دلالتِ مطابقی، مطابقی، ایک دلالتِ تضمنی، اور ایک دلالتِ التزامی۔ کتنی ‏قسمیں ہیں؟ نمبر ایک: دلالتِ مطابقی، نمبر دو: دلالتِ تضمنی، اور نمبر تین: ‏دلالتِ التزامی۔ بہت آسان ہیں بھئی، بہت آسان۔ دلالتِ مطابقی اس کو کہتے ہیں... بلکہ پہلے وضع کو پھر ایک دفعہ دہرالیں، ‏وضع کو، دیکھو! وضع، اس میں مقرر کرنا ہوتا ہے، کیا کرنا ہوتا ہے؟ مقرر۔ ‏ایک چیز کو لوگ مقرر کرتے ہیں دوسری چیز کے لیے، تو پہلی سے دوسری ‏کا پتہ چل جاتا ہے۔ اور یہ چونکہ دلالتِ لفظیہ ہے، تو ایک لفظ بولتے ہیں تو ‏اس کا معنی ذہن میں آ جاتا ہے، یا وہ کسی کا نام ہے تو وہ ذات ذہن میں آ ‏جاتی ہے، یا کسی چیز کا نام ہے تو وہ چیز ذہن میں آ جاتی ہے۔ جیسے میں ‏نے کہا "کتاب"، فوراً آپ کے ذہن میں کتاب آ گئی۔ میں نے "قلم" کہا، آپ کے ‏ذہن میں فوراً قلم آ گیا۔ میں نے "زید" کہا، فوراً آپ کے ذہن میں زید کی ‏صورت آ گئی۔ میں نے "بارش" کہا، میں نے "مدرسہ" کہا، میں نے "بازار" ‏کہا، میں نے "شہر" کہا، "ملک" کہا، دیکھو! سب جو جو لفظ میں بولتا جا رہا ‏ہوں، وہ معنی آپ کے ذہن میں آتا جا رہا ہے۔ وہ معنی آپ کے ذہن میں آتا جا رہا ہے، تو یہ جو لفظ ہے جس کو مقرر کیا گیا ‏ہے ایک چیز کے لیے، تو یہ لفظ جس کو مقرر کیا گیا، اس کو کہتے ہیں ‏موضوع۔ کیا کہتے ہیں؟ اور جس چیز کے لیے مقرر کیا گیا، اس کو کہتے ہیں ‏موضوع لہٗ بھئی۔ موضوع لہٗ۔ جس کو مقرر کیا وہ کیا؟ موضوع، اور جس کے ‏لیے مقرر کیا وہ؟ موضوع لہٗ بھئی، موضوع لہٗ۔ تو دیکھیے! دلالتِ مطابقی وہ ہے کہ لفظ اپنے پورے موضوع لہٗ پر دلالت ‏کرے۔ جس کے لیے اس کو وضع کیا گیا ہے، جس چیز کے لیے اس کو مقرر ‏کیا گیا ہے، اس پوری چیز پر وہ دلالت کرے تو یہ دلالتِ مطابقی ہے۔ تو دلالتِ ‏مطابقی یہ ہے کہ لفظ اپنے پورے معنی موضوع لہٗ پر دلالت کرے، جیسے ‏بھئی انسان۔ انسان کس کو کہتے ہیں؟ حیوانِ ناطق کو۔ ناطق کا معنی بولنے ‏والا، یا بعضوں نے کیا مراد لی، کیا معنی کیا اس کا؟ عقل رکھنے والا۔ تو ‏حیوانِ ناطق، وہ حیوان جو بولنے والا ہے، باتیں کرنے والا ہے، اور وہ ‏صرف کون ہے؟ انسان۔ یا وہ حیوان جو عقل رکھنے والا ہے، عقل و شعور، ‏وہ بھی کون ہے صرف؟ انسان۔ تو جو بھی ترجمہ آپ کو مناسب لگے آپ کر ‏سکتے ہیں۔ تو اب دیکھیے! انسان لفظ اس کو وضع کیا گیا ہے حیوانِ ناطق کے لیے۔ انسان ‏لفظ کو کس کے لیے وضع کیا گیا ہے؟ اب میں نے کہا انسان، آپ کے ذہن میں ‏کیا آیا؟ حیوانِ ناطق۔ تو دیکھو! لفظ نے اپنے پورے موضوع لہٗ پر دلالت کر ‏دی۔ دلالت کسے کہتے ہیں؟ ایک چیز سے دوسری چیز ذہن میں آ جائے۔ میں ‏نے کیا بولا؟ انسان۔ میں نے تو انسان بولا، لیکن ایک دوسری چیز ذہن میں آ ‏گئی، وہ کیا؟ حیوانِ ناطق۔ دیکھو! انسان نے حیوانِ ناطق پر دلالت کر دی۔ ‏حیوانِ ناطق آپ کے ذہن میں آ گیا۔ اب یہ دلالت ہوئی کہ نہیں ہوئی؟ دلالت ہوئی۔ اب کون سی دلالت ہے؟ آپ ‏دیکھیں، انسان کو کس کے لیے وضع کیا گیا ہے؟ اور ذہن میں بھی کیا آیا؟ ‏معلوم ہوا لفظ نے اپنے پورے موضوع لہٗ پر دلالت کی ہے، تو یہ کیا، کون سی ‏دلالت ہوئی؟ دلالتِ مطابقی، دلالتِ مطابقی۔ یا دوسری مثال لے لو، مثلاً درخت، ‏درخت کسے کہتے ہیں؟ اس کا تنا ہوتا ہے، اس کی شاخیں ہوتی ہیں اور اس ‏پر پتے وغیرہ لگے ہوتے ہیں۔ تو جب بھی میں کہوں گا درخت، آپ کے ذہن ‏میں صرف تنا آئے گا؟ صرف شاخیں آئیں گی؟ نہیں، بلکہ پورا تنا، شاخیں اور ‏پتے، یہ سب چیزیں آپ کے ذہن میں آ جائیں گی۔ تو درخت نے کس پر دلالت ‏کی؟ اپنے پورے موضوع لہُ پر دلالت کی یا نہیں کی؟ ہاں، درخت وضع بھی اسی کے لیے تھا اور یہ سارا ہی جیسے ‏ہی میں نے درخت کہا، پورا آپ کے ذہن میں یہ سب چیزیں آ گئیں۔ تو یہ دلالت کون سی ہوئی؟ دلالتِ مطابقی ہوئی۔ یا دوسری مثال لے لیں، کرسی۔ کرسی کسے کہتے ہیں؟ جس کے چار پائے ہوتے ہیں، اوپر بیٹھنے کی جگہ بنی ہوتی ہے ‏اور پیچھے ٹیک لگانے کی جگہ بھی بنی ہوتی ہے۔ تو گویا کرسی کے کم از کم کتنے حصے ہو گئے؟ تین حصے ہو ‏گئے۔ پائے بھی ہیں، اوپر بیٹھنے کی جگہ بھی ہے اور ٹیک لگانے کی جگہ بھی۔ تو گویا کرسی کے تین حصے ہوئے۔ اب ‏جب میں نے کہا کرسی، آپ کے ذہن میں صرف پائے آئے؟ نہیں! پھر کون سا، صرف ٹیک لگانے والی جگہ آئی؟ نہیں! ‏بلکہ تینوں حصے آپ کے ذہن میں آ گئے، پوری کرسی آپ کے ذہن میں آئی۔ تو یہ لفظِ کرسی نے اپنے پورے موضوع لہُ ‏پر دلالت کی یا اس کے جز پر دلالت کی؟ پورے موضوع لہُ پر دلالت کی۔ تو لفظ جب بھی اپنے پورے موضوع لہُ پر ‏دلالت کرے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ دلالتِ مطابقی کہتے ہیں بھئی۔ کرسی کا لفظ وضع بھی ان تینوں کے مجموعے کے ‏لیے تھا اور ذہن میں بھی یہی تینوں آ گئے، تو یہ کیا ہے؟ دلالتِ مطابقی ہے۔ یا جیسے قرآن، قرآن کتنے پاروں پر مشتمل ہے؟ 30 پاروں پر۔ اب مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں قرآن اللہ کی کتاب ہے۔ تو ‏قرآن سے کتنے پارے مراد ہوئے؟ 30۔ تو قرآن کا لفظ مقرر بھی ان 30 پاروں کے لیے تھا اور ذہن میں بھی وہ 30 پارے ‏ہی آئے، تو لفظ نے اپنے پورے معنیِ موضوع لہُ پر کیا کر دی؟ دلالت کر دی۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ دلالتِ مطابقی کہتے ‏ہیں بھئی۔ تو لفظ اپنے پورے معنیِ موضوع لہُ پر دلالت کرے تو اس دلالت کو کیا کہتے ہیں؟ دلالتِ مطابقی کہتے ہیں۔ اچھا! جب میں ‏نے کہا درخت، تو تنا، شاخیں، پتے یہ سب چیزیں آپ کے ذہن میں آئیں یا نہیں آئیں؟ آئیں۔ تو گویا درخت نے، یوں سمجھو ‏درخت کے یہ تین حصے ہیں۔ کیا کیا حصے ہیں؟ تنا ہے، شاخیں ہیں اور پتے ہیں۔ جب میں نے کہا درخت، تو یہ تینوں ‏چیزیں آپ کے ذہن میں آ گئیں۔ تو گویا یہ تین چیزیں ہیں کل، اور تنا اس کا ایک جز، شاخیں اس کا دوسرا جز اور پتے اس ‏کا تیسرا جز یا تیسرا حصہ بھئی۔ اب جب میں نے کہا درخت، تو آپ کے ذہن میں یہ تینوں چیزیں آ گئیں۔ اور لفظِ درخت وضع بھی انہی تینوں کے لیے ہے، ‏تو گویا لفظ نے اپنے پورے معنیِ موضوع لہُ پر دلالت کی تو یہ دلالت کون سی ہوئی؟ دلالتِ مطابقی، دلالتِ مطابقی۔ لیکن ‏اس کے جب، جب آپ کے ذہن میں پورا درخت آیا، تو تنا بھی آ گیا یا نہیں آ گیا؟ اور تنا کل ہے یا جز ہے درخت کا؟ جز ‏ہے، اس کا ایک حصہ ہے پورا نہیں، تو گویا درخت نے معنیِ موضوع لہُ کے جز پر بھی دلالت کر دی۔ کر دی یا نہیں کر ‏دی؟ بھئی کل تبھی ہوتا ہے نا جب جز سارے ہوں۔ اگر جز سارے نہیں تو اس کو کوئی کل کہے گا؟ نہیں بھئی، کل کوئی ‏بھی نہیں کہے گا۔ موٹر سائیکل ہے، موٹر سائیکل کے بھئی اس کا ہینڈل بھی ہو گا، اس کی سیٹ بھی ہو گی، انجن بھی ہو گا، دو پہیے بھی ‏ہوں گے، پھر ہی اس کو کیا کہیں گے؟ موٹر سائیکل کہیں گے۔ اگر دو پہیے نہیں ہیں، باقی چیزیں ہیں تو کوئی اس کو ‏موٹر سائیکل کہے گا؟ نہیں، یہ تو موٹر سائیکل پوری نہیں ہے بھئی، کچھ حصہ ہے کچھ نہیں ہے بھئی۔ تو لہذا جب لفظ ‏کل پر دلالت کرتا ہے تو کل کے ساتھ ایک ایک جز بھی ذہن میں آ جاتا ہے۔ جب میں نے لفظِ موٹر سائیکل کہا، آپ کے ‏ذہن میں پوری موٹر سائیکل آ گئی، تو اسی میں ہینڈل بھی آ گیا یا نہیں؟ پہیے بھی آ گئے یا نہیں؟ سیٹ بھی آ گئی کہ نہیں؟ ‏وہ انجن بھی آیا؟ جی! تو دیکھو ایک ایک جز پر بھی دلالت ہو گئی۔ اس کو کہتے ہیں دلالتِ تضمنی۔ کیا کہتے ہیں؟ کہ لفظ ‏اپنے معنیِ موضوع لہُ کے جز پر دلالت کرے۔ اور جب دلالتِ، جہاں دلالتِ مطابقی ہوتی ہے، وہاں دلالتِ تضمنی بھی ہوتی ہے، اگر اس چیز کے جز ہوں، اجزا ہوں۔ جب ‏کل ذہن میں آئے گا تو ایک ایک جز بھی آ جائے گا یا نہیں آ جائے گا؟ جب پوری کرسی ذہن میں آئی تو کرسی کے پائے ‏بھی آ گئے، وہ ٹیک لگانے والی جگہ بھی آ گئی، وہ بیٹھنے والی جگہ، تو اس، تو دلالت کس کو کہتے ہیں؟ کہ ایک چیز ‏سے کیا ہو؟ دوسری چیز کا پتا لگے۔ تو جب میں نے کہا درخت، تو پورا درخت ذہن میں آیا، تو تنا بھی آ گیا یا نہیں؟ تو ‏گویا درخت نے تنے پر بھی دلالت کر دی۔ اور تنا کوئی کل ہے؟ نہیں، تو گویا درخت نے اپنے جز پر بھی دلالت، کل پر ‏بھی دلالت کی اور جز پر بھی دلالت کی۔ شاخیں بھی آئیں یا نہیں ذہن میں؟ تو اس نے شاخوں پہ بھی دلالت کی۔ اور پتے ‏بھی آئے؟ تو گویا اس نے پتوں پر بھی دلالت کی۔ تو لفظ نے اپنے معنیِ موضوع لہُ کے کل پر بھی دلالت کی اور ایک ‏ایک جز پر بھی دلالت کی۔ تو جو کل پر دلالت کی، وہ کیا ہے؟ دلالتِ مطابقی۔ اور جو ایک ایک جز پر دلالت کی، وہ ‏دلالتِ تضمنی کہلاتی ہے۔ جہاں مطابقی ہوتی ہے، وہاں تضمنی ضرور ہوتی ہے، جبکہ اس چیز کے اجزا ہوں۔ اگر اجزا ‏ہی نہیں، پھر تو نہیں ہو سکتا، کیونکہ دلالتِ تضمنی میں دلالت ہوتی کس پر ہے؟ جز پر ہوتی ہے، اگر جز ہی نہیں ہے تو ‏پھر کہاں سے دلالت ہو گی۔ تو جب بھی کل پہ دلالت ہوتی ہے، ساتھ ہی کس پر ہو جاتی ہے؟ جز پر بھی ہو جاتی ہے۔ ‏اچھی طرح سمجھ گئے؟ اب تیسرا ہے دلالتِ التزامی۔ دلالتِ التزامی اس کو کہتے ہیں کہ لفظ اپنے موضوع لہُ کے کل پر نہیں دلالت کرتا، جز پر ‏بھی نہیں کرتا، بلکہ ایک خارج، ایک تیسری چیز پر دلالت کرتا ہے جو نہ وہ اس چیز کا کل ہے، نہ جز ہے، بلکہ اس ‏کے ساتھ لازم ہے، ضروری ہے۔ مثلاً میں نے کہا سورج۔ اب سورج کسے کہتے ہیں؟ وہ جو آسمان پر چمکنے والی ایک ‏گول ٹکیا ہے، اس کا نام کیا ہے؟ اس کا نام ہم نے سورج رکھا ہے۔ تو جب میں نے کہا سورج، آپ کے ذہن میں سورج آیا ‏اور سورج کے ساتھ ایک چیز لازمی ہے، وہ کیا؟ روشنی۔ جب سورج ہو گا، دن ہو گا، روشنی ہو گی۔ تو دیکھو، میں نے ‏تو سورج کہا، سورج تو اس ٹکیا کا نام ہے، تو لیکن ساتھ میں نے روشنی کا ذکر کیا؟ نہیں! لیکن روشنی اس کے ساتھ ‏لازم ہے، وہ خود بخود ذہن میں آ گئی۔ یا دھوپ، دھوپ بھی سورج کے ساتھ کیا ہے؟ لازم۔ تو جیسے ہی میں نے سورج ‏کہا، دھوپ بھی آپ کے ذہن میں آ گئی۔ اب مجھے بتائیے، میں نے کیا کہا لفظ؟ سورج۔ اور کیا ذہن میں آیا اول آپ کے؟ وہ ‏گول ٹکیا آئی پہلے، کیا آئی؟ گول ٹکیا پر، تو اس لفظِ سورج نے کس پر دلالت کی؟ اس گول ٹکیا پر۔ یہ کون سی دلالت ‏ہے؟ دلالتِ مطابقی ہے، سورج سمجھ میں آیا۔ اور اس گول ٹکیا کے ساتھ ساتھ آپ کے ذہن میں سورج کی روشنی بھی آ ‏گئی، اسی طرح سورج کی جو دھوپ ہے، اس کی وہ بھی آپ کے ذہن میں آ گئی، تو یہ، یہ روشنی یا جو دھوپ ہے، یہ ‏سورج کا کل ہے؟ جز ہے؟ نہیں، یہ اس سے خارج، الگ چیز ہے۔ ہاں اس کے ساتھ لازم ہے، جب بھی سورج نکلے گا ‏کیا آئے گی، کیا ہو گی؟ روشنی بھی ہو گی اور دھوپ بھی ہو گی۔ بھئی! تو دیکھا، بعض اوقات لفظ، لفظ جو ہے وہ اپنے ‏موضوع لہُ کے کل پر بھی دلالت کرتا ہے اور اس کے اگر جز ہو تو جز پر بھی دلالت کرتا ہے اور اگر اس کے ساتھ ‏کوئی چیز لازم ہو تو اس پر بھی کیا کر دیتا ہے؟ دلالت۔ تو جو کل پہ دلالت کرے وہ کیا ہے؟ دلالتِ مطابقی۔ جز پر دلالت ‏کرے وہ کیا ہے؟ دلالتِ تضمنی۔ اور اگر کسی خارجی لازم چیز پر دلالت کرے، لازم کا کیا معنیٰ؟ جو اس کے ساتھ ‏ضروری ہے۔ کسی خارجی لازم چیز پر دلالت کرے تو وہ کیا ہے؟ دلالتِ التزامی ہے۔ جیسے دیکھو انسان، انسان کو اللہ نے پیدا فرمایا اور اس کو اللہ نے اس میں علم حاصل کرنے کی صلاحیت رکھی۔ علم ‏حاصل کرنے کی صلاحیت رکھی۔ ہر انسان میں یہ صلاحیت ہے۔ اب اگر وہ علم حاصل کرے گا، بڑا عالم بن جائے گا۔ ‏علم حاصل نہیں کرتا، پڑھتا ہی نہیں ہے، تو جاہل رہے گا۔ لیکن صلاحیت ہے اس میں یا صلاحیت نہیں ہے؟ صلاحیت تو ‏ہے، صلاحیت تو اللہ نے رکھی ہے۔ اور، اور یہ انسان کے ساتھ لازم ہے، تو اگر لفظِ انسان بولوں، آپ کے ذہن میں کیا ‏آیا؟ حیوانِ ناطق۔ اور ساتھ ہی یہ بھی آ جاتا ہے کہ یہ انسان کیا ہے؟ اس میں علم حاصل کرنے کی صلاحیت، کیونکہ یہ ‏انسان کے ساتھ لازم ہے، جو بھی انسان ہے اس میں کس چیز کی صلاحیت ہے؟ علم حاصل کرنے کی صلاحیت ہے۔ تو ‏انسان کی دلالت حیوانِ ناطق پر، یہ کیا ہے؟ دلالتِ مطابقی۔ انسان کی دلالت صرف حیوان پر یا صرف ناطق پر، یہ کیا ‏ہے؟ دلالتِ تضمنی۔ اور انسان کی دلالت علم کی قابلیت اور علم کی صلاحیت پر، یہ کیا ہے؟ یہ دلالتِ التزامی ہے۔ ارادہ نہیں مراد، ارادہ نہیں کہ میں اس کا ارادہ کروں گا، میں تضمنی کا ارادہ کروں گا تو پھر تضمنی ہو گی، نہیں نہیں۔ وہ ‏خود بخود آ جائے گی۔ جب بھی ایک ایسی چیز کا نام آپ لیتے ہیں جس کے اجزا ہیں اور جس کا کوئی لازم بھی ہے۔ توجہ ‏ہے؟ جب بھی آپ کس کا نام لیتے ہیں؟ ایک ایسی چیز کا جس کے کیا ہیں؟ اجزا بھی ہیں اور اس کا کوئی لازم بھی ہے، تو ‏جب آپ اس چیز کا نام لیں گے، وہ پوری چیز ذہن میں آئے گی۔ اور جب پوری آئی تو جز بھی آ گئے یا نہیں آ گئے؟ جز ‏بھی آ گئے۔ اور جو اس کا لازم ہے، وہ بھی ساتھ آئے گا یا نہیں؟ وہ بھی آ جائے گا۔ تو دلالت یہاں ارادہ آپ کا کیا تھا؟ ‏ارادہ، آپ وہ پوری چیز مراد لینا چاہ رہے تھے، آپ کا ارادہ اس پوری چیز کا تھا، تو دلالتِ مطابقی ہوئی آپ کے ارادے ‏کے مطابق۔ لیکن ساتھ ہی جز پر بھی دلالت ہو گئی یا نہیں ہو گئی؟ تو خود بخود دلالتِ تضمنی بھی ہوئی، وہ بغیر ارادے ‏کے ہو گئی، اور وہ خارج جو لازم ہے، وہ بھی ساتھ ذہن میں آ گیا، تو دلالتِ التزامی بھی ہو گئی اور وہ بغیر ارادے کے ‏ہو گئی۔ تو جہاں بھی دلالتِ مطابقی ہوتی ہے، وہاں دلالتِ تضمنی بھی ہو گی اگر جز ہو، اور دلالتِ التزامی بھی ہو گی اگر ‏کوئی لازم ہو اس چیز کا۔ اب مجھے بتائیے بھئی، اب مجھے بتائیے، میں نے کہا انسان اور ارادہ کیا میں نے حیوانِ ناطق کا، تو انسان کی دلالت ‏حیوانِ ناطق پر، یہ کون سی دلالت ہوئی؟ دلالتِ مطابقی، اور یہ قصدی ہوئی، قصد کہتے ہیں ارادے کو ص کے ساتھ، ق ‏دو نقطوں والا، ص اور د۔ تو دلالتِ مطابقی ہوئی قصداً یعنی ارادے کے ساتھ، لیکن جب حیوانِ ناطق پورا ذہن میں آیا، تو ‏حیوان بھی آ گیا یا نہیں؟ ناطق بھی آ گیا یا نہیں؟ تو انسان نے گویا ان پر بھی دلالت کر دی۔ یہ دلالت کون سی ہوئی؟ ‏تضمنی ہوئی، اور قصداً ہوئی یا بلا قصد ہوئی؟ یہ بلا قصد ہو گئی، لیکن ہوئی دلالت۔ اور ساتھ ہی انسان کی علم کی قابلیت ‏پر بھی دلالت ہو گئی یا نہیں ہو گئی؟ وہ بھی ہوئی، اور اس کا آپ نے کوئی ارادہ کیا؟ نہیں! تو دلالتِ التزامی ہوئی، اور ‏قصداً ہوئی یا بلا قصد ہوئی؟ بلا قصد ہوئی! تو انسان کی دلالت حیوانِ ناطق پر ہوئی، وہ ہوئی قصداً دلالتِ مطابقی، اور ‏انسان کی دلالت صرف حیوان پر یا صرف ناطق پر، یہ دلالتِ تضمنی ہوئی اور یہ بلا قصد ہوئی، اور انسان کی دلالت ‏قابلیتِ علم پر بھی ہوئی اور یہ دلالتِ التزامی ہے اور یہ بلا قصد ہوئی۔ لیکن ہوئی کہ نہیں ہوئی؟ تینوں دلالتیں، جہاں مطابقی ہو گی، وہاں تضمنی بھی ہو گی، بات پوری کریں، بشرطیکہ اس چیز ‏کا کوئی جز ہو۔ اور وہاں التزامی بھی ہو گی، بشرطیکہ اس چیز کا کوئی لازم ہو۔ اور ہم یہ دلالتیں استعمال کرتے ہیں۔ یہ، یہ سب دلالتیں ہم استعمال کرتے ہیں۔ کبھی ہمارا ارادہ کہیں پر دلالتِ مطابقی کا ‏ہوتا ہے، کبھی ہمارا ارادہ دلالتِ تضمنی کا ہوتا ہے، کبھی ہمارا ارادہ دلالتِ التزامی کا ہوتا ہے۔ دیکھو مثالوں سے اور ‏بات واضح ہو جائے گی۔ مثلاً میں نے کہا قرآن اللہ کی کتاب ہے۔ اب مجھے بتائیے۔ قرآن کس کے لیے وضع ہے، کتنے سپاروں کے لیے؟ 30۔ میں ‏نے کہا قرآن اللہ کی کتاب ہے۔ تو اس قرآن سے میں نے کتنے پاروں کا ارادہ کیا؟ 30 یا 20 کا؟ 30! قرآن جب میں نے ‏بولا، اس سے تو سارے ہی اللہ کی کتاب میں شامل ہیں، تو 30 کے 30 پاروں کا ارادہ کیا اور وہی آپ کے ذہن میں بھی ‏آئے۔ تو دیکھو، میں نے لفظِ قرآن بولا، اس قرآن کی دلالت کس پر ہوئی؟ 30 پاروں پر۔ تو یہ دلالت کون سی ہوئی؟ ‏مطابقی! اور جب 30 پاروں پہ دلالت ہوئی، تو پہلا پارہ بھی بیچ میں آ گیا یا نہیں؟ دوسرا بھی آ گیا۔ تو یہ ایک ایک جز پہ ‏بھی دلالت ہو گئی، یہ کون سی ہوئی؟ یہ تضمنی ہوئی۔ اب مجھے بتائیے، کون سی ارادے کے ساتھ ہے، کون سی بغیر ‏ارادے کے ہے؟ مطابقی ارادے کے ساتھ ہے اور یہ ایک ایک پارے پر جو دلالت ہے، وہ تضمنی، وہ کیا ہے؟ بغیر ‏ارادے کے ہے۔ دوسری مثال مجھے بتائیے بھئی! آپ کا ایک ساتھی ہے، اس کو عادت ہے ہر روز بلا ناغہ وہ ایک سپارہ قرآن تلاوت ‏کرتا ہے۔ تو وہ آپ کے پاس پہنچا، آپ نے کہا بھئی آپ کہاں تھے اب تک؟ آپ کیا کر رہے تھے؟ اس نے کہا: میں قرآن ‏کی تلاوت کر رہا تھا۔ کس کی؟ قرآن کی تلاوت! اب مجھے بتائیے، اس کے اس قرآن سے کیا مطلب ہے؟ اس نے پورے ‏قرآن کی ابھی تلاوت کی ہے؟ نہیں! کتنے کی کی ہے؟ ایک سپارے کی! تو قرآن بول کر یہاں پورا قرآن مراد ہے یا ایک ‏سپارہ؟ ایک سپارہ! کیا مراد ہے؟ ایک سپارہ! تو قرآن کی دلالت اولاً کس پر ہوئی؟ اولاً، اولاً، قرآن بولا جائے تو کیا ذہن ‏میں آتا ہے؟ 30! تو 30 پاروں پر بھی ہو گئی، اور 30 کے ساتھ ساتھ وہ جو ایک پارہ جو اس نے تلاوت کیا ہے، اس پر ‏بھی ہو گئی۔ دلالت ہوئی یا نہیں ہوئی؟ اب مجھے بتائیے، 30 پاروں پر دلالت یہاں ارادے سے ہے یا ایک پارے پر؟ تو ‏یہاں دلالتِ تضمنی کیا ہے؟ قصداً ہے، اور دلالتِ مطابقی کیا ہے؟ بلا قصد ہے۔ اور مثال لے لیں۔ آپ کا ایک ساتھی ہے، اس نے کرسی کا پایا توڑ دیا۔ اور پھر آپ کو دوسرے نے بتایا کہ بھئی زید نے ‏آپ کی کرسی توڑ دی ہے۔ زید نے آپ کی کرسی توڑ دی ہے، اس نے کرسی کا لفظ بولا، تو اس کرسی کی دلالت اول کس ‏پہ ہے؟ پورے حصے پر۔ کرسی کے پایوں پر بھی ہے، بیٹھنے کی جگہ اور ٹیک لگانے کی بھی، وہ بھی ذہن میں آئی۔ ‏کرسی جب بھی بولیں گے یہ سب چیزیں آئیں گی ذہن میں کہ نہیں آئیں گی؟ تو اس کرسی کی دلالت پورے موضوع لہُ پر ‏کون سی ہوئی؟ مطابقی! اور اسی کرسی کی دلالت پائے پر کیا ہوئی؟ تضمنی! اور یہاں اس کا ارادہ کس کا ہے؟ پائے کا ‏ارادہ ہے یا پوری کرسی کا ارادہ ہے؟ اس کے پائے کا ارادہ ہے کہ پایا اس نے توڑا ہے، تو دیکھو، دلالتِ مطابقی ہوئی ‏قصد کے ساتھ یا بلا قصد؟ بلا قصد! اور دلالتِ تضمنی کیا ہوئی؟ قصد کے ساتھ۔ اسی طرح آپ کا ایک ساتھی ہے، آپ نے اس سے پوچھا: آپ کہاں رہتے ہیں؟ اس نے کہا: میں رائے ونڈ میں رہتا ہوں، ‏رائے ونڈ میں رہتا ہوں۔ تو رائے ونڈ کا لفظ پورے شہر کے لیے وضع ہے یا اس کے کچھ حصے کے لیے وضع ہے؟ ‏پورے شہر کے لیے وضع ہے۔ تو رائے ونڈ کی دلالت ہوئی پورے شہر پر، یہ کون سی ہے؟ مطابقی! اور وہ لڑکا، وہ ‏ساتھی آپ کا پورے شہر میں رہتا ہے یا رائے ونڈ کے ایک چھوٹے سے حصے میں رہتا ہے؟ رائے ونڈ کے ایک ‏چھوٹے سے حصے میں! تو جب رائے ونڈ کی دلالت پورے شہر پر ہو گئی، تو اس چھوٹے حصے پر بھی دلالت ہو گئی ‏یا نہیں ہو گئی؟ وہ بھی اسی کا ایک جز ہے، اس پر بھی دلالت ہو گئی۔ لیکن یہاں پر رائے ونڈ کی دلالت اپنے پورے شہر ‏پر، یہ کون سی ہوئی؟ مطابقی! رائے ونڈ کی دلالت اس چھوٹے سے حصے پر کون سی ہوئی؟ تضمنی! اب مجھے بتائیے، ‏ارادہ کس کا ہے اس کا؟ اس نے ارادہ کس کا کیا؟ اس نے دلالتِ تضمنی کا ارادہ کیا، تو دلالتِ تضمنی ہوئی قصداً، اور ‏دلالتِ مطابقی ہوئی بلا قصد۔ تو یاد رکھو، جب بھی آپ کوئی لفظ بولتے ہیں، وہ ہمیشہ اپنے پورے موضوع لہُ پہ دلالت کرتا ہے۔ کس پہ دلالت کرتا ‏ہے؟ وہ ہمیشہ پورا موضوع لہُ ذہن میں آئے گا، یہ نہ کہیں آپ کہ اس نے مجھے کہا میں رائے ونڈ میں رہتا ہوں تو آپ ‏کے ذہن میں وہ ایک محلہ آئے گا بس، رائے ونڈ نہیں آئے گا، نہیں دیکھو! جب بھی کوئی لفظ بولو گے، فوراً کیا آئے گا ‏اولاً؟ پورا موضوع لہُ آئے گا، کیا آئے گا؟ پورا موضوع لہُ آپ کے ذہن میں آئے گا، اور پھر اس کے جب پورا ذہن میں ‏آیا، تو اگر اس کے جز ہیں، وہ بھی ذہن میں آ گئے، اور اس کا اگر کوئی لازم ہے، وہ بھی ذہن میں آ گئے۔ تو وہاں دلالتِ ‏مطابقی بھی خود بخود ہو گی، وہاں دلالتِ تضمنی بھی ہو گی، اور اگر کوئی لازمِ خارج ہے تو دلالتِ التزامی بھی ہو گی۔ تو جب بھی کوئی لفظ بولیں گے ذہن میں کیا آئے گا؟ وہ پورا موضوع لہُ ہی ذہن میں آئے گا، ہاں ارادہ کس کا اس نے کیا ‏ہے؟ اگر اس نے پورے موضوع لہُ کا ہی ارادہ کیا ہے، تو ہم کہیں گے دلالتِ مطابقی ہے قصداً، اور باقی دو دلالتیں ہیں ‏بلا قصد۔ اور اگر اس نے حصے کا ارادہ کیا ہے تو ہم کہیں گے دلالت تضمنی ہے قصداً اور باقی دو دلالتیں ہیں بلا قصد۔ ‏اور اگر اس نے ارادہ کیا ہے کس کا؟ التزامی کا، تو ہم کہیں گے دلالت التزامی ہے قصداً اور باقی دو کیا ہیں؟ بلا قصد۔ ‏لیکن ہیں تینوں دلالتیں۔ جب بھی ایک چیز کا جز ہوگا وہ چیز بولو گے تو اس کا جز بھی ذہن میں آئے گا۔ اگر لازم ہوا تو وہ بھی ذہن میں آئے گا۔ ‏تو یہ نہ کہو کہ تینوں ہمیشہ اکٹھی ہوں گی، نہیں نہیں۔ تینوں ہمیشہ اکٹھی نہیں ہوں گی۔ لیکن التزامی جہاں بھی ہوگی وہاں مطابقی ضرور ہوگی۔ توجہ ہے؟ تینوں دلالتیں ہمیشہ اکٹھی نہیں ہوں گی۔ دلالت مطابقی ‏تو ہوگی ہی ہوگی، کیونکہ لفظ کو ہمیشہ کسی نہ کسی چیز کے لیے کیا کیا جاتا ہے؟ وضع کیا جاتا ہے۔ تو کوئی نہ کوئی ‏چیز تو ہوگی جس کے لیے آپ نے لفظ، تو مطابقی ہمیشہ ہوگی۔ تضمنی کب ہوگی؟ جب اس چیز کا جز بھی ہو، اگر جز نہ ‏ہوا تو تضمنی نہیں ہوگی، پھر ہم یوں کہیں گے صرف دلالت مطابقی ہے تضمنی یہاں ہے ہی نہیں۔ تضمنی ہے ہی نہیں۔ اور اسی طرح مطابقی ہو اور دلالت التزامی نہ ہو، ایک چیز ایسی ہے جس کا کوئی لازم ہی نہیں ہے تو لازم پر دلالت بھی ‏نہیں ہوگی، جب لازم ہے ہی نہیں تو دلالت کہاں سے ہوگی؟ تو ہم کہیں گے دلالت مطابقی تو یہاں ہے دلالت التزامی نہیں ‏ہے۔ تو مطابقی تو ہمیشہ ہوگی۔ ہاں، اس کے ساتھ کبھی تضمنی ہو سکتی ہے، اس کے ساتھ کبھی التزامی ہو سکتی ہے، کبھی ‏دونوں بھی اس کے ساتھ ہو سکتی ہیں، لازم بھی ہے اور اس کا جز بھی ہے۔ اب مجھے یہ بتاؤ، التزامی بغیر مطابقی کے ہو سکتی ہے؟ جی؟ نہیں، التزامی مطابقی، کیونکہ التزامی کہتے ہی کس کو ‏تھے؟ اپنے موضوع لہُ کے خارج پر دلالت کرے، تو خارج پر تب ہی دلالت ہوگی نہ جب کوئی موضوع لہُ تو پتہ چلے یہ ‏موضوع لہُ ہے اور یہ کیا کر رہی ہے اس کے خارج پر۔ تو خارج پر دلالت تب ہی ہوگی جب پہلے کس پر دلالت ہو؟ ‏موضوع لہُ پر، تو وہاں ہمیشہ مطابقی ہوگی پھر کیا ہوگی دلالت التزامی۔ اسی طرح تضمنی بھی ہمیشہ وہی ہوگی جہاں مطابقی ضرور ہو۔ اگر کل نہیں ہے تو جز کہاں سے پیدا ہو گیا؟ جز تو ‏کہتے ہی اس کو ہیں جس کے لیے کوئی کل بھی ہو بھئی۔ تو مطابقی ہوگی، کل ہوگا تو جز بھی ہو سکتا ہے اور دلالت ‏تضمنی پائی جائے گی۔ لیکن جز ہو اور کل اس کا کوئی نہ ہو ایسا نہیں ہوتا۔ معلوم ہوا دلالت تضمنی کے ساتھ کون سی دلالت لازم ہے؟ مطابقی ضرور ہوگی۔ اسی طرح دلالت التزامی کے ساتھ بھی ‏مطابقی ضرور ہوگی، لیکن مطابقی کے ساتھ یہ دونوں ضروری نہیں۔ دلالت مطابقی ہو اور تضمنی اور التزامی نہ ہو، ‏مثلاً ایک چیز ایسی ہے اس کا جز بھی نہیں ہے اور اس کا کوئی لازم بھی نہیں، تو تضمنی بھی نہیں اور التزامی بھی نہیں۔ یا ایک چیز، ایک چیز ہے اس کا جز بھی ہے اور لازمی خارج بھی ہے، تو مطابقی کے ساتھ دونوں پائی جائیں گی۔ اگر ‏ایک چیز ہے اس کا صرف جز ہے اور لازمی خارج نہیں، تو مطابقی اور تضمنی تو ہوگی لیکن التزامی نہیں۔ یا ایک چیز ‏ہے اس کا جز تو نہیں ہے البتہ لازمی خارج ہے، تو مطابقی کے ساتھ التزامی تو پائی جائے گی لیکن تضمنی نہیں۔ تو ‏مطابقی کے ساتھ دونوں کا ہونا ضروری نہیں، ہو سکتا ہے ایک ہو اور ہو سکتا ہے دونوں ہوں۔ البتہ التزامی کے ساتھ مطابقی کا ہونا ضروری، اسی طرح تضمنی کے ساتھ مطابقی کا ہونا ضروری ہے۔ بات اچھی طرح ‏سمجھ میں آ گئی؟ اور پھر ان میں سے، پھر ان میں سے ایک ارادے کے ساتھ ہوگی تو باقی کیا ہوں گی؟ بغیر ارادے کے۔ اور جب لفظ ‏بولتے ہیں وہ سب سے پہلے کس پر دلالت کرتا ہے؟ اپنے موضوع لہُ پر ہی دلالت کرتا ہے، باقی تضمنی اور التزامی بعد ‏میں آئیں گے۔ تو میں اس کی اور مثالیں ذکر کر رہا تھا جیسے قرآن کی مثال گزر گئی۔ قرآن بولا اور اس سے ایک پارہ مراد لے لیا۔ ‏رائے ونڈ بولا اور اس سے اس کا ایک محلہ یا ایک گھر مراد لے لیا۔ اور مثال لے لیں، مثلاً آپ بعض اوقات ایک لفظ بولتے ہیں، یا مثلاً بھئی آپ سے کسی نے پوچھا: آپ کیا پڑھ رہے تھے؟ ‏آپ کہتے ہیں: تیسیر المنطق پڑھ رہا تھا۔ اب مجھے بتائیے، پوری تیسیر المنطق پڑھ رہے تھے یا اس کا ایک حصہ پڑھ ‏رہے تھے؟ ایک حصہ، تو تیسیر المنطق جب کہا پوری کتاب ذہن میں آئی، لیکن جب پوری کتاب ذہن میں آئی تو ایک ایک ‏حصہ بھی ذہن میں آ گیا۔ تو یہاں پر پوری کتاب پر دلالت ہوئی اور ساتھ ساتھ ایک ایک حصے پر بھی دلالت، تو دلالت مطابقی بھی موجود اور ‏دلالت تضمنی بھی موجود، لیکن مطابقی ہے بلا قصد، اور تضمنی ہے قصداً بھئی، ارادے کے ساتھ۔ اسی طرح بعض اوقات ہم آپس میں بات چیت کرتے ہیں تو ہم نہ معنی موضوع لہُ کا ارادہ کرتے ہیں نہ ہم جز کا ارادہ ‏کرتے ہیں، ہم لازم خارج کا ارادہ کر لیتے ہیں۔ کس کا؟ آپ بھی استعمال کرتے ہیں، مثلاً آپ کا ایک ساتھی آیا آپ نے کہا ‏حاتم طائی آ گیا ہے۔ کون آیا؟ حاتم طائی۔ اب حاتم طائی یہ تو عرب میں ایک مشہور سخی آدمی گزرا تھا، سخی آدمی۔ تو آپ کا، آپ کی کیا مراد ہے؟ وہ آدمی قبر سے اٹھ کے آ گیا ہے؟ نہیں، یہ ارادہ تو آپ کا نہیں ہے، یہ تو ہر ایک سمجھتا ‏ہے۔ پھر کیا مراد ہے؟ آپ کہنا یہ چاہتے ہیں ایک سخی آدمی آ گیا ہے، میرا یہ ساتھی بھی کیا ہے؟ سخی آدمی ہے۔ تو دیکھو حاتم طائی ایک انسان گزرا تھا اور بڑا سخی تھا، اس کی سخاوت کی ہر طرف شہرت ہے، تو گویا یوں سمجھو ہم ‏نے اس کے ساتھ سخاوت کو لازم سمجھ لیا ہے۔ جب بھی حاتم طائی بولتے ہیں سخاوت ذہن میں آ جاتی ہے یا نہیں آ جاتی؟ ‏حالانکہ وہ تو حیوان ناطق تھا، حیوان ناطق کے ساتھ تو سخاوت لازم نہیں ہے، کوئی کنجوس ہوتا ہے یا نہیں ہوتا کوئی ‏آدمی؟ اگر حیوان ناطق کے ساتھ سخاوت لازم ہوتی تو ہر انسان کیا ہوتا؟ سخی ہوتا، لیکن ہم دیکھتے ہیں ہر انسان سخی ‏نہیں ہے۔ معلوم ہوا سخاوت انسان کے ساتھ لازم نہیں ہے۔ لیکن اس حاتم طائی کے ساتھ سخاوت اتنی مشہور، ہم نے یوں بنا لیا ہے گویا اس کے ساتھ کیا ہے؟ لازم ہے۔ اب میں نے ‏حاتم طائی کہا تو اس سے وہ ذات وغیرہ مراد لی، اس کو کل لیا، جز مراد لیا یا اس کی ایک صفت اور مراد لے لی جو اس ‏کے ساتھ لازم ہے؟ ایک صفت یعنی سخاوت مراد لی جو اس کے ساتھ لازم ہے۔ اسی طرح آپ کا ایک ساتھی آتا ہے آپ کہتے ہیں: شیر آ گیا۔ اب شیر تو ایک جنگلی درندے کا نام ہے، تو کیا یہاں وہ ‏جنگلی درندہ مراد ہے؟ نہیں، اس کا کوئی جز مراد ہے؟ نہیں، ہاں اس کی ایک صفت، ایک لازم یعنی بہادری مراد ہے کہ ‏یعنی کہ میرا ساتھی بھی شیر کی طرح کیا ہے؟ بہادر ہے۔ تو دیکھو آپ نے، یہاں دلالت کون سی ہوئی؟ دلالت التزامی ‏قصداً ہے اور باقی دلالتیں بلا قصد ہیں۔ جی اب دیکھیے کتاب پر۔ دلالت لفظیہ وضعیہ کی تین قسمیں ہیں: دلالت مطابقت، دلالت تضمن، اور دلالت التزام۔ یا اسی ‏طرح آپ یاد کر سکتے ہیں جیسا میں نے بتایا: دلالت مطابقی، دلالت تضمنی یا ساتھ جوڑ کر، اور دلالت التزامی۔ دلالت مطابقت وہ دلالت لفظیہ ہے، بھئی لفظیہ کیوں کہہ رہے ہیں؟ کیونکہ یہ دلالت لفظیہ کی قسمیں ہیں بھئی۔ تو دلالت ‏مطابقت وہ دلالت لفظیہ ہے کہ لفظ اپنے پورے موضوع لہُ پر دلالت کرے، جیسے انسان کی دلالت مجموعہ حیوان ناطق ‏پر۔ دلالت تضمن یہ ہے کہ لفظ اپنے موضوع لہُ کے جز پر دلالت کرے، جیسے انسان کی دلالت حیوان پر یا انسان کی دلالت ‏ناطق پر، یہ ایک ایک جز پر یہ دلالت تضمنی ہے۔ اور دلالت التزام یہ ہے کہ لفظ اپنے موضوع لہُ کے لازم پر دلالت کرے، جیسے انسان کی دلالت قابلیت علم پر۔ قابلیت علم ‏یعنی صلاحیت علم پر کہ اس میں صلاحیت ہے علم حاصل کرنے کی۔ آگے دیکھیے بھئی، سوالات دیے ہوئے ہیں وہ سوالات بھی حل کر لیں۔ اشیائے ذیل میں دال اور مدلول لکھے جاتے ہیں، ‏ان میں دلالت کی قسمیں بتاؤ۔ دال اور مدلول، پہلے دال لکھیں گے، یہ پھر مدلول لکھیں گے اور پھر پوچھیں گے کہ دلالت ‏بتائیں۔ نابینا، یہ ہے دال، اور آنکھ، یہ ہے مدلول۔ جی، پہلے تو مجھے بتائیں یہ ہے کیسے؟ نابینا آنکھ پر کیسے دلالت کرتا ہے؟ ‏میں نے کہا نابینا، دیکھو نابینا کسے کہتے ہیں؟ جس کی آنکھیں نہ ہوں، وہ تو دیوار کی بھی نہیں ہیں، دیوار نابینا ہے؟ ‏اچھا یہ کرسی کی بھی نہیں ہے، کرسی نابینا ہے؟ پھر نابینا کسے کہتے ہیں؟ ہاں، جس میں دیکھنے کی صلاحیت ہے، ‏جس کو اللہ نے آنکھیں دی ہیں لیکن پھر کسی بیماری یا کسی وجہ سے وہ آنکھیں کیا ہوئیں؟ ضائع ہو گئیں، اب وہ دیکھ ‏نہیں سکتا، اس کو نابینا کہتے ہیں۔ تو جب نابینا آپ کہیں گے، ساتھ ہی کس کا ذہن، کس طرف ذہن چلا جائے گا؟ آنکھ کی طرف بھی کہ، اور پھر کہ اس کی ‏آنکھ نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ذہن آنکھ کی طرف گیا یا نہیں گیا؟ گیا، تو یہ نابینا کی دلالت آنکھ پر، یہ دلالت ‏کون سی ہوئی؟ یہ دلالت التزامی ہے، دیکھو مطابقی کیا ہوگی؟ نابینا: وہ آدمی جس کو دکھائی نہ دے، یہ کیا ہے دلالت ‏مطابقی، اور وہ انسان ہے نہ؟ تو وہ کیا ہوا حیوان ناطق، تو حیوان پر یا اس کے اجزاء پر جو دلالت ہوئی وہ کیا ہوئی؟ ‏تضمنی، اور یہ آنکھ، آنکھ یہ، یہ تو نہ کل ہے اور نہ جز ہے، تو معلوم ہوا یہ کون سی دلالت ہوئی؟ دلالت التزامی۔ آگے بھئی، دوسری مثال: لنگڑا اور ٹانگ۔ جی، لنگڑا کسے کہتے ہیں؟ جس کی ٹانگ نہ ہو۔ جی، تو یہ کون سی دلالت ‏ہوئی؟ یہ بھی التزامی ہوئی، یہ بھی کیا ہوئی؟ التزامی، لنگڑا اسی کو کہیں گے جس کی، جس کو اللہ نے ٹانگیں دی ہیں اور ‏پھر کسی عذر کی، بیماری کی وجہ سے وہ ٹانگ کٹ گئی یا حادثے کی وجہ سے تو پھر کیا کہیں گے؟ اس کو کیا کہتے ‏ہیں؟ لنگڑا کہتے ہیں ورنہ ہر وہ چیز جو، جس کا پاؤں نہ ہو، اچھا تو اس کو لنگڑا کہتے ہیں۔ تو لنگڑا اور ٹانگ، یہ کون سی دلالت ہوئی؟ دلالت التزامی ہوئی، التزامی، لنگڑا کسے کہتے ہیں؟ جس کی ٹانگ نہ ہو۔ ‏ٹانگ نہ ہو، تو یہ ہوئی دلالت مطابقی، اور ٹانگ نہیں ہے، تو ٹانگ پہ تو تضمن بھی نہیں ہو سکتا نہ، اس کی تو ٹانگ ‏ہے ہی نہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ جیسے نابینا کی تو آنکھ ہے ہی نہیں، تو نابینا، نابینا اس کے لیے آنکھ نہ کل ہے ‏نہ جز ہے۔ معلوم ہوا وہ کون سی دلالت ہوئی؟ التزام، لنگڑے کے لیے ٹانگ نہ کل ہے نہ جز ہے، ٹانگ تو ہے نہیں اس ‏کی، جز بھی نہیں ہے، تو لنگڑے کے لیے ٹانگ نہ کل ہے نہ جز، نہ معلوم ہوا نہ مطابقی ہے نہ تضمنی، تو کون سی ‏دلالت ہوئی؟ التزامی ہوئی۔ اسی طرح تیسرا ہے: درخت اور شاخیں۔ درخت کی دلالت شاخوں پر، پہلا دال ہے دوسرا کیا ہے؟ مدلول، اب بتائیے۔ یہ ‏کون سی؟ یہ دلالت تضمنی ہے، درخت پوری شاخوں کا نام ہے؟ تو یہ جز ہوا اس کا، تو جز پر دلالت ہوئی بھئی، تو یہ ‏کون سی دلالت؟ ہاں، پورا درخت تو تنا بھی ہے، شاخیں بھی ہیں، پتے بھی ہیں، تو صرف جز پہ دلالت ہو رہی ہے یہ ‏تضمنی۔ اچھا، نکٹا، ناک۔ نکٹا جانتے ہو؟ جس کی ناک کٹی ہوئی ہو، نا، اصل میں تھا ناک کٹا، ناک کٹا، جس کی ناک کٹی ہوئی ‏ہو۔ پھر ایک کاف ختم کر دیا تو کیا بن گیا؟ نکٹا، الف بھی گر گیا نکٹا۔ ہاں جی، نکٹا کسے کہتے ہیں؟ جس کی ناک، اب ‏بتائیے، نکٹے کی دلالت ناک پر؟ یہ بھی کیا ہے دلالت التزامی، کیونکہ وہ نکٹا ہے اس کی تو ناک ہے ہی نہیں، تو ناک نہ ‏اس کے لیے کل ہے نہ اس کا جز ہے، وہ ہے ہی نہیں جز کہاں سے ہو جائے؟ تو معلوم ہوا یہ دلالت کون سی ہے؟ ‏التزامی۔ اچھا، آگے پانچویں مثال: ہدایہ، کتاب الصوم۔ ہدایہ کتاب ہے مشہور فقہ کی اور اسی کے اندر مختلف حصے ہیں، ایک ‏حصے کا کیا نام ہے؟ کتاب الصوم جس میں روزے کا بیان ہوتا ہے، روزے کے مسائل ذکر ہوتے ہیں۔ تو ہدایہ ہے دال، ‏اور کتاب الصوم، بھئی یہ جتنی مثالیں آپ غور کر رہے ہیں پہلا ہے دال اور دوسرا کیا ہوتا ہے؟ مدلول، تو ہدایہ میں نے ‏کہا آپ کے ذہن میں کتاب الصوم آ گئی۔ اور یہ کتاب الصوم پوری ہدایہ ہے یا اس کا ایک حصہ ہے؟ حصہ ہے، تو کون ‏سی دلالت ہوئی؟ دلالت تضمنی۔ اسی طرح ہدایت النحو، یہی ہے آپ کی کتابوں میں؟ جی، ہدایت النحو اور مقصد اول۔ ہدایت النحو کتاب ہے نحو کی اور ‏مقصد اول اس کے اندر ایک حصے کا نام ہے۔ تو ہدایت النحو کل اور مقصد اول اس کا جز، تو ہدایت النحو کی دلالت ‏مقصد اول پر یہ کون سی ہے؟ دلالت تضمنی ہے کہ اس کے جز پر دلالت ہو رہی ہے۔ چاقو اور اس کا دستہ۔ بھئی دیکھیے چاقو آپ جانتے ہیں، چاقو کے دو حصے ہوتے ہیں، ایک، ایک جز کیا ہے؟ دستہ، وہ ‏لکڑی کا ہوگا یا پلاسٹک جس چیز کا بھی ہے، اور دوسرا حصہ؟ وہ چاقو کا پھل ہے وہ تیز کاٹنے، دھات والا حصہ ‏کاٹنے والا، اس کو چاقو کا پھل کہتے ہیں۔ تو چاقو جب میں نے کہا آپ کے ذہن میں وہ دستہ بھی آ گیا اور اس کا پھل، پھل ‏بھی آ۔ اب یہاں پر چاقو اور اس کی دلالت صرف اس کے دستے پر، یہ کون سی ہے؟ یہ دلالت تضمنی ہے کہ جز پر دلالت ‏ہے۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ تھی دلالت لفظیہ وضعیہ کی قسمیں بھئی۔ تو لفظ ہمیشہ کس پر دلالت کرتا ہے؟ ‏اپنے پورے موضوع لہُ پر، اور اس پورے موضوع لہُ پر جب وہ دلالت کرے گا اور وہ ذہن میں آئے گا، تو اگر کوئی جز ‏ہے تو وہ بھی ذہن میں آ جائے، اور اگر کوئی لازم خارج ہے تو وہ بھی ذہن میں آ جائے گا۔ تو اولاً مطابقی، مطابقی ہوتی ہے دلالت، پھر تضمنی یا التزامی ہوتی ہے، اور تضمنی اور التزامی بغیر مطابقی کے ہوتی ‏نہیں ہیں۔ جہاں بھی تضمنی ہوگی یا التزامی ہوگی وہاں دلالت مطابقی ضرور ہوگی، لیکن مطابقی کے ساتھ یہ دونوں ‏ضروری نہیں ہیں۔ اگر کوئی ایسا کل ہے، کوئی ایسی چیز ہے جس کا جز ہی نہیں، تو یہاں تضمنی ہو ہی نہیں سکتی، یا ‏ایسی چیز ہے جس کا کوئی لازم خارج نہیں، تو یہاں پر دلالت التزامی نہیں ہو سکتی۔ تو مطابقی بغیر تضمنی اور بغیر التزامی کے پائی جا سکتی ہے لیکن وہ دونوں بغیر مطابقی کے نہیں پائی جا سکتیں۔ اور یہ بات، اور یہ بات بھی آپ کو سمجھ میں آ گئی کہ ہمارے ارادے سے کچھ نہیں ہوتا، ارادے سے دلالت نہیں بدلے ‏گی، ہاں ارادہ ہم پھر یہ کہیں گے کہ یہ والی دلالت ارادے کے ساتھ ہے اور باقی کیا ہیں؟ بغیر ارادے کے ہیں۔ تو یہ نہ آپ ‏کہیں مثلاً میں، آپ کے ساتھی نے کہا: میں رائے ونڈ میں رہتا ہوں، اور رائے ونڈ سے پورا شہر مراد ہے یا صرف ایک ‏خاص چھوٹا سا حصہ؟ مثلاً جس میں اس نے ذکر کیا: میں رائے ونڈ میں رہتا ہوں، تو وہ پورے شہر میں رہتا ہے یا ایک ‏چھوٹے سے حصے میں؟ چھوٹے سے حصے میں، تو آپ یہ نہ کہیں یہاں صرف دلالت تضمنی ہے، رائے ونڈ بول کے ‏کل نہیں مراد بلکہ جز مراد ہے، نہیں نہیں۔ رائے ونڈ جب بھی بولیں گے اول کیا آئے گا ذہن میں؟ پورا شہر آئے گا، اور جب پورا شہر آئے گا تو ایک ایک حصہ بھی ‏آ گیا۔ تو اول مطابقی آئے گی پھر کیا آئے گی؟ تضمنی آئے گی۔ ہاں پھر فرق ہم یہ کریں گے کہ یہاں ارادہ کس کا ہے؟ ‏دلالت تضمنی کا، اور مطابقی کا ارادہ نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ آپ نہ پھر یہ، تو یہ غلطی آپ سے نہ ہو جائے کہ آپ کہیں جہاں، کہ اس میں سارا دخل ‏کس کا ہے؟ ارادے کا ہے۔ کل کا ارادہ کرو تو مطابقی، جز کا ارادہ کرو تو تضمنی، اور خارج کا ارادہ کرو تو التزامی، ‏نہیں نہیں ایسا نہیں، ہوں گی دونوں یا تینوں دلالتیں ہوں گی، البتہ کوئی کسی میں ارادہ ہوگا کسی میں ارادہ نہیں ہوگا۔ چلیے ‏بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔