Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تيسير المنطق · dars-001

Version 2 · Text format · ⬆ Improved
👤 Contributor Muhammad Ghais
📍 Location Lahore, Pakistan
📅 Approved Date 01 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ⬆ بہتر کردیا گیا
👁️ Total Views 98
📝

Transcription Content

Download TEXT بہتر کردیا گیا TEXT
آئیے بھئی، شروع میں دعا پڑھ لیں۔ یہ ہمارے بزرگوں کا طریقہ ہے، کتابوں کی ابتداء میں دعا پڑھتے ہیں اور طالب علم سے بھی کہلواتے ہیں اور بزرگوں ‏‏کے طریقوں میں اللہ نے بڑی انوارات اور برکات اور رحمتیں رکھی ہیں۔ آئیے، ہم سب دعا پڑھ لیں۔ میرے ساتھ ساتھ پڑھیے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمد لله رب العالمين.‏ اللهم صل على سيدنا ومولانا محمد وعلى آله واصحابه وبارک وسلم.‏ اللهم صل على سيدنا ومولانا محمد وعلى آله واصحابه وبارک وسلم.‏ اللهم صل على سيدنا ومولانا محمد وعلى آله واصحابه وبارک وسلم.‏ ربنا يسر لنا هذا الكتاب ولا تعسر وتممه بالخير وبك نستعين، يا فتاح يا عليم.‏ ربنا يسر لنا هذا العلم ولا تعسر وتممه بالخير وبك نستعين، يا فتاح يا عليم.‏ ربنا يسر لنا هذا الفن ولا تعسر وتممه بالخير وبك نستعين، يا فتاح يا عليم.‏ آمین۔ آمین۔ آمین۔ ثم آمین۔ ‏ اللهم صل على سيدنا ومولانا محمد وعلى آله واصحابه وبارک وسلم.‏ اللهم صل على سيدنا ومولانا محمد وعلى آله واصحابه وبارک وسلم.‏ اللهم صل على سيدنا ومولانا محمد وعلى آله واصحابه وبارک وسلم.‏ اچھا، اب کتاب میں سے بھی تھوڑی سی عبارت پڑھ لیجیے۔ بسم الله الرحمن الرحيم.‏ علم کی تعریف اور اس کی قسمیں۔ علم، کسی شے کی صورت کا تمہارے ذہن میں آنا جیسے زید، کسی نے بولا اور تمہارے ذہن میں اس کی صورت آئی، یہ ‏‏زید کا علم ہے۔ جی، شاباش! آگے ایک ساتھی اور تھوڑا سا پڑھ لیں۔ علم کی دو قسمیں ہیں: تصور اور تصدیق۔ تصدیق، علم اس بات کا ہے کہ فلاں شے فلاں شے ہے جیسے کہ تم کو اس بات کا علم ہو کہ زید عمر کا باپ ہے۔ زید عمرو کا باپ ہے، شاباش! اور آگے آپ پڑھ لیجیے۔ تصور وہ علم ہے جس میں اس قسم کا علم نہ ہو جیسے صرف زید کا علم یا مثلاً زید کا غلام۔ شاباش! آگے آپ تھوڑا سا پڑھ لیں۔ سبق نمبر دو۔ تصور اور تصدیق کی قسمیں، تصور کی دو قسمیں ہیں: تصورِ بدایہی، تصورِ نظری۔ تصورِ بدایہی یہ ہے ایسی شے کا ‏‏علم ہے کہ اس کی تعریف بیاننے کی ضرورت نہ ہو، بغیر تعریف کے سمجھ میں آ جائے جیسے پانی۔ شاباش! چلیے جی چلیے۔ یہ بس کتاب کا الحمد للہ آغاز ہو گیا۔ اب منطق کے بارے میں بھئی ایک ضروری بحث جو منطق کے طلباء کو میں لکھوایا کرتا ہوں، لیکن آپ صرف سن لیں ‏‏تو سننا بھی انشاء اللہ آپ کے لیے فائدے سے خالی نہیں ہوگا کیونکہ عموماً طلباء منطق کی طرف زیادہ توجہ نہیں دیتے ‏‏بھئی اور سمجھتے ہیں شاید یہ بیکار علم ہے۔ یاد رکھیے، ایسا نہیں ہے۔ منطق نہایت قیمتی علم ہے بھئی، بہت قیمتی علم ہے۔ تو منطق بہت ضروری علم ہے اور بے ‏‏انتہا مفید علم ہے۔ یاد رکھیے، علومِ شرعیہ تو دراصل صرف تین ہیں: قرآن، حدیث اور علمِ فقہ۔ لیکن ان علوم کو سمجھنے کے لیے صرف ‏‏کا پڑھنا بھی ضروری، علمِ صرف کا۔ اسی طرح علمِ نحو کا جاننا بھی ضروری۔ اسی طرح علمِ بلاغت کا جاننا بھی ‏‏ضروری اور اسی طرح منطق و فلسفہ وغیرہ کئی علوم کو جاننے کی ضرورت پڑتی ہے بھئی۔ یہ باقی علوم آپ کو آتے ‏‏ہوں گے تو پھر ہی آپ قرآن اور حدیث اور فقہ کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ صرف آتی ہے تو آپ کو صیغے کا پتہ چلے گا کہ اس صیغے کو کیا پڑھنا ہے؟ مُکْرِمٌ پڑھنا ہے یا مُکْرَمٌ پڑھنا ہے مثلاً؟ ‏‏دیکھو 'ر' کے ایک زبر اور زیر سے پورا معنی ہی بدل جاتا ہے۔ اسی طرح آپ کو نحو آئے گی تو آپ کو یہ پتہ چلے گا کسی لفظ کے آخر میں اعراب کیا پڑھنا ہے؟ ضربٌ پڑھنا ہے، ‏‏ضرباً پڑھنا ہے یا ضربٍ پڑھنا ہے۔ تو یہ تمام علوم جو ہیں، معین اور مددگار ہیں اور اس کے ذریعے انسان پھر جو علومِ شرعیہ ہیں، ان کا ماہر بن جاتا ہے۔ اور یاد رکھیے منطق وہ علم ہے جس کے ذریعے آپ کو بات کرنے کا طریقہ آتا ہے کہ کیسے کسی دوسرے سے بحث ‏‏کی جائے، کس طرح اپنی بات کو ثابت کیا جائے اور دوسرے کی بات کو رد کیا جائے۔ اگر آپ کو علمِ منطق آتا ہوگا تو ‏‏پھر ہی آپ کسی سے بحث کر سکتے ہیں، مناظرہ کر سکتے ہیں اور اس پر غالب آ سکتے ہیں۔ اگر آپ غور کریں ہمارے جتنے بڑے بڑے علماء گزرے ہیں اور جنہوں نے کفار کے ساتھ، غیر مسلموں کے ساتھ بحث ‏‏کی اور ان کو انہوں نے جو اسلام پر جو جو اعتراض کیے تھے، ان کے جوابات ان کو دیے تو آپ دیکھیں گے وہ بڑے کہ ‏‏وہ علماء علمِ منطق کے بہت بڑے ماہر تھے بھئی۔ مثلاً جیسے امامِ غزالی رحمہ اللہ بھئی، اسی طرح دیکھ لیں جیسے امامِ ‏‏رازی رحمہ اللہ بھئی، اسی طرح، اسی طرح مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ، اسی طرح مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ۔ ‏‏تو یہ جتنے بڑے بڑے علماء گزرے ہیں اور جنہوں نے غیر مسلموں نے جو جو اسلام پر اعتراضات کیے تھے، ان کے ‏‏جوابات دیے ہیں، آپ دیکھیں گے یہ سارے علماء علمِ منطق کے بہت بڑے ماہر تھے بھئی، بہت بڑے ماہر۔ تو علمِ منطق کے ذریعے آپ کو یہ طریقہ آتا ہے کہ اپنی بات ثابت کیسے کرنی ہے، کس طرح دلیل دینی ہے کہ دوسرا اس ‏‏کا جواب نہ دے سکے یا دوسرا کوئی بات کر رہا ہے تو اس کی بات کا جواب کیسے دینا ہے، اس کی بات کو رد کیسے ‏‏کرنا ہے۔ یہ آپ کو علمِ منطق بتلائے گا۔ تو دیکھا؟ علمِ منطق کتنا قیمتی علم ہے۔ اس کے ذریعے آپ اسلام کا دفاع کرتے ہیں، آپ اسلام کی حفاظت کا فریضہ ‏‏سرانجام دیتے ہیں۔ آپ علمِ منطق کے ماہر ہوں گے تو کوئی اسلام پر اعتراض کرے گا، آپ فوراً اس کا بہترین اور ‏‏زبردست جواب دے کر اس کو خاموش کروا دیں گے۔ تو کتنا قیمتی علم ہے جس کے ذریعے آپ اسلام کی حفاظت کا ‏‏فریضہ بہترین انداز میں سرانجام دے سکتے ہیں۔ پھر خصوصاً یاد رکھیے۔ خصوصاً یاد رکھیے۔ آج کل ہم علمِ منطق کی جتنی کتابیں پڑھتے اور پڑھاتے ہیں، یہ ساری علماءِ اسلام کی لکھی ہوئی ہیں یا اکثر علماءِ اسلام ‏‏کی لکھی ہوئی ہیں اور یہ علم اصل میں تو یونان سے آیا تھا، لیکن علماءِ اسلام نے اس میں مہارت حاصل کی، اس میں ‏‏محنت کی اور اس علم کو اس علم کی تہذیب کی اور اس میں جو غیر اسلامی چیزیں تھیں ان سب کو نکال دیا۔ تو آسان ‏‏لفظوں میں یوں کہو، آج کل کی جو منطق ہے، وہ خالص اسلامی منطق ہے بھئی۔ اور علمِ منطق یاد رکھیے، ہمارے بزرگوں کی ہر کتاب میں آپ کو منطق کی باتیں ملیں گی۔ اب یہ علم اتنا ضروری بن گیا ‏‏ہے کہ اس کے بغیر گزارا ہی نہیں، اگر آپ کو اگر علمِ منطق کو ہم نکال دیں اور اگر آپ کو علمِ منطق نہیں آتا تو پھر ‏‏بزرگوں کی کتابوں میں سے بہت سی باتیں، اکثر باتیں آپ کو سمجھ میں ہی نہیں آئیں گی۔ حتیٰ کہ بزرگوں کی لکھی ہوئی، ‏‏علماءِ اسلام کی لکھی ہوئی اگر آپ کوئی تفسیر بھی اٹھائیں گے، اس میں بھی جگہ جگہ وہ منطق کی اصطلاحات ذکر ‏‏کرتے ہیں۔ تفسیر نہیں بیان کرتے، آپ نے منطق پڑھی ہوگی تو آپ کو ان کی وہ باتیں سمجھ میں آ جائیں گی، منطق نہیں ‏‏پڑھی تو آپ حیران ہوں گے کہ یہ کیا کہنا چاہ رہے ہیں؟ اسی طرح آپ حدیث کی کوئی شرح اٹھائیں گے، وہاں بھی جگہ جگہ آپ کو منطق کی اصطلاحات سے واسطہ پڑے گا۔ اسی طرح فقہ کی کتابیں اٹھائیں گے، اس میں بھی بہت جگہ آپ کو منطقی اصطلاحات سے واسطہ پڑے گا۔ تو اگر آپ کو منطق نہیں آتی تو بزرگوں کے علم کے ایک بڑے حصے کو تو آپ سمجھ ہی نہیں سکیں گے۔ تو لہٰذا یہ کہنا ‏‏کہ جی اب منطق کو نکال دیا جائے، منطق کی کوئی ضرورت نہیں ہے، یہ بالکل غلط ہے۔ علمِ منطق نہایت قیمتی علم ہے، ‏‏اس کے ذریعے ہم غیر مسلموں کو زبردست جواب دے سکتے ہیں، ان کو خاموش کروا سکتے ہیں اور اور اسی کے اسی ‏‏کے ذریعے ہم اپنے بزرگوں اور اسلاف کی کتابوں کو اچھے طریقے سے، کامل طریقے سے سمجھ سکتے ہیں بھئی۔ تو آپ نے بھی اس علمِ منطق کو پورے ذوق اور شوق سے پڑھنا ہے، سیکھنا ہے، اس کو معمولی علم نہ سمجھنا کیونکہ ‏‏آپ بہت سے طلباء سے آپ کو اس طرح کی باتیں سننے کو ملیں گی کہ منطق بیکار علم ہے، اس کا کوئی فائدہ نہیں، لیکن ‏‏میں نے یہ کچھ مختصر لفظوں میں آپ کو بتا دیا کہ یہ بڑا قیمتی علم ہے، اس کے ذریعے آپ کو بولنے کا طریقہ آتا ہے، ‏‏کیسے دوسرے سے بحث کرنی ہے، اس کو جواب دینا ہے، اس کو خاموش کروانا ہے اور کس طرح اسلام کا دفاع کرنا ‏‏ہے، کس طرح بزرگوں یہ آپ سیکھیں گے تو آپ کو بزرگوں کی ساری کتابیں سمجھ میں آئیں گی، تفاسیر سمجھ میں آئیں ‏‏گی، حدیث کی شروحات سمجھ میں آئیں گی اور اسی طرح علمِ فقہ کی کتابیں پورے طور پر آپ کو سمجھ میں آئیں گی۔ تو اب اگر آپ کے سامنے کوئی یہ کہے کہ منطق بیکار علم ہے تو آپ نے پریشان نہیں ہونا، یہ چند باتیں مختصراً میں نے ‏‏آپ کے سامنے ذکر کر دیں تاکہ آپ کی تسلی رہے، آپ ذوق اور شوق سے یہ علم حاصل کریں اور انشاء اللہ آپ دیکھیں ‏‏گے، آپ دیکھیں گے کہ علمِ منطق اس میں کوئی اور چیزیں نہیں ہیں، وہی باتیں جو ہمارے عقل میں آتی ہیں، جو ہم ‏‏سوچتے ہیں، جو باتیں ہمارے ذہن میں آتی ہیں، ان سب کو ایک علمی رنگ دے دیا ہے، ان کے علمی نام دے دیے ہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ جی ہاں۔ ابھی انشاء اللہ جب شروع کریں گے، آپ دیکھیں گے کہ منطق میں تو یہ عام چیزیں ہوتی ہیں جو ہمارے ذہن میں آتی ہیں، ‏‏بس ان کو علمی نام دے دیے، علمی ان کو رنگ دے دیا اور اس کے لیے یاد رکھیے، ذہن تیز ہوتا ہے کیونکہ اس میں ‏‏بڑی مشکل باتیں آتی ہیں۔ اور اللہ نے انسان کو ایسا بنایا ہے، جتنی مشکلات اس کے راستے میں آتی ہیں، وہ اوپر سے ‏‏اوپر چڑھتا چلا جاتا ہے اور ان مشکلات پر قابو پاتا ہے، ان کے ساتھ ان کا مقابلہ کرنے کی اس میں صلاحیت پیدا ہوتی ‏‏جاتی ہے، صلاحیت پیدا ہوتی جاتی ہے۔ تو جب آپ منطق پڑھتے ہیں، مشکل باتیں آتی ہیں اور آپ زور لگاتے ہیں ان کو سمجھنے کے لیے، دماغ کے سوچنے ‏‏کی، سمجھنے کی صلاحیت بڑھتی چلی جاتی ہے، بڑھتی چلی جاتی ہے۔ تو اللہ نے انسان کو ایسا بنایا، جتنی بھی مشکلات آئیں، جتنی بھی مشکلات آئیں، انسان ان سب کا مقابلہ کر سکتا ہے، سب ‏‏کا مقابلہ کر سکتا ہے اور اور اوپر کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے، ان مشکلات پر قابو پاتا چلا جاتا ہے۔ اور تو یاد رکھیے، یہ بڑا قیمتی علم ہے بھئی۔ اور اس علم کے پڑھنے، پڑھانے اور مطالعے میں بھی وہی اجر و ثواب ‏‏ہے جس طرح اور علومِ شرعیہ کے پڑھنے، پڑھانے اور مطالعے کا ثواب ہے، اسی طرح علمِ منطق کے پڑھنے، ‏‏پڑھانے اور مطالعے کا بھی اسی طرح اجر و ثواب ہے کیونکہ یہ دراصل کیا ہے، یہ علوم سیڑھی کی طرح ہیں جو ہمیں ‏‏کہاں تک پہنچاتے ہیں؟ علومِ شرعیہ کے سمجھنے کی، بہترین انداز میں علومِ شرعیہ کے سمجھنے کی صلاحیت ہم میں ‏‏پیدا کر دیتے ہیں۔ تو ان کا بھی وہی اجر و ثواب ہے، تو آپ نے اس علم کو معمولی نہیں سمجھنا، محنت کرنی ہے انشاء اللہ اور آپ دیکھیں ‏‏گے کہ منطق میں بڑی دلچسپ اور پیاری بحثیں آتی ہیں، بہترین منطقی آپ نے بننا ہے، بہترین منطقی۔ تو بہترین منطقی آپ نے بننا ہے، خود بھی منطق سیکھنی ہے، پھر آگے بھی آپ نے سکھانی ہے، ٹھیک ہے؟ انشاء اللہ اللہ آپ سب میں سے ہر ایک کو بڑا مدرس بنائے اور ہر ایک سے اللہ خوب دین کا کام لے، اخلاص کے ساتھ اور ‏‏شان کے ساتھ، آمین۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔