Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح التهذيب · dars-033

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Noman Ahmad
📍 Location Peshawar, Pakistan
📅 Approved Date 05 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 13
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
پہلے متن دیکھ لیجئے: وَيَقْتَسِمَانِ بِالضَّرُورَةِ الضَّرُورَةَ وَالِاكْتِسَابَ بِالنَّظَرِ وَهُوَ مُلَاحَظَةُ الْمَعْقُولِ لِتَحْصِيلِ الْمَجْهُولِ۔ یہ تقسیم کر رہے ہیں تصور اور تصدیق کے بارے میں۔ اس سے پہلے آپ نے متن میں پڑھا تھا: الْعِلْمُ إِنْ كَانَ إِذْعَانًا لِلنِّسْبَةِ فَتَصْدِيقٌ وَإِلَّا فَتَصَوُّرٌ۔ دیکھ رہے ہیں متن میں بھئی؟ کہ علم جو ہے اگر اس میں اذعان ہو نسبتِ خبری کا، تو وہ تصدیق ہے، اور اگر ایسا نہ ہو تو وہ تصور ہے۔ تو تصدیق کے اندر معلوم ہوا اعتقاد کر لینا، مان لینا ضروری ہے بھئی۔ جبکہ تصور میں باقی تمام صورتیں داخل ہو گئیں، چاہے ادراک ایک ہی چیز کا ہو، چاہے ایک سے زیادہ چیزوں کا ادراک ہو، اور چاہے ایک سے زیادہ چیزیں ہیں اور ان کے درمیان نسبت بھی ہے لیکن نسبتِ تام نہیں، اسی طرح نسبتِ خبری تام ہو لیکن انشائی ہو، وہ بھی کس کے اندر داخل؟ تصور میں، اور اسی طرح نسبتِ تام خبری ہو لیکن اعتقاد نہ ہو، اذعان نہ ہو، تو وہ بھی کس کے اندر داخل ہے؟ تصور کے اندر۔ تو یاد رکھیے بھئی ہمارا علم یہی دو قسم پر ہے: یا تصور يا تصدیق، یا یوں کہیں ہماری جتنی بھی معلومات ہیں، جتنا بھی علم ہے، جو بھی معلومات ہمیں ہیں، وہ یا تصور کے قبیل سے ہوں گی یا تصدیق کے قبیل سے۔ تو گویا ہمارا علم بند ہے انہی دو قسموں میں، جتنا بھی علم ہے یا وہ تصور ہو گا یا تصدیق ہو گا، تیسری کوئی صورت نہیں ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اتنا آپ کو پتہ چل گیا کہ ہماری معلومات انہی دو قسموں میں سے ہوں گی، تیسری کوئی قسم نہیں۔ اب ان کی تقسیم کرنے لگے ہیں، اور آپ کو یہ بتلائیں گے کہ بھئی تصور دو قسم پر ہے: ایک تصورِ بدیہی ہے اور ایک تصورِ نظری ہے، اسی طرح تصدیق بھی دو قسم پر ہے: ایک تصدیقِ بدیہی ہے اور ایک تصدیقِ نظری ہے۔ تو پہلے بدیہی اور نظری کو سمجھ لیں بھئی، بدیہی اس چیز کو کہتے ہیں جو بغیر غور و فکر کے فوراً ہی سمجھ میں آ جائے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ بدیہی کہتے ہیں۔ اور نظری وہ چیز ہے جو غور و فکر کے بعد ہمیں سمجھ میں آئے، جہاں دماغ خرچ کرنا پڑے، سوچنا پڑے، غور کرنا پڑے، تو اس چیز کو کیا کہتے ہیں؟ نظری کہتے ہیں۔ آپ بھی غور کر لیں چیزوں پر، آپ خود دیکھیں گے کہ کچھ چیزیں ہمیں فوراً سمجھ میں آ جاتی ہیں، اور مثلاً میں چیزیں دیکھو ذکر کرتا جاؤں گا، آپ سمجھتے جائیں گے۔ مثلاً میں کہتا ہوں: درخت، بادل ہیں، بارش ہے، ہوا، پانی، آگ، کتاب، قلم، چارپائی، کرسی، میز، دیکھا؟ یہ جتنی چیزیں ہیں ہمارے عام استعمال کی یا ہم آس پاس جو دیکھتے ہیں، گھروں میں ہیں یا باہر ہیں، فوراً ہی سمجھ میں آ جاتی ہیں، ان کو کسی چھوٹے کے سامنے ذکر کریں وہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو، جاہل ہو یا پڑھا لکھا ہو، کم ذہن والا ہو، تیز ذہن والا ہو، سب ان کو سمجھتے ہیں۔ تو دیکھیے یہ وہ چیزیں ہیں جو فوراً سمجھ میں آ جاتی ہیں، ہر ایک ان کو سمجھ لیتا ہے، ان میں ذرا بھی دماغ نہیں خرچ کرنا پڑتا، تو ان کو کہتے ہیں بدیہی۔ تو وہ چیز جو بغیر غور و فکر کے فوراً سمجھ میں آ جائے وہ کیا ہے؟ بدیہی ہے۔ اور کچھ چیزیں وہ ہیں جن میں دماغ خرچ کرنا پڑتا ہے، غور و فکر کرنا پڑتا ہے، مثلاً جیسے یہ اب آپ اس وقت شرح تہذیب پڑھ رہے ہیں، آپ کو غور و فکر کرنا پڑتا ہے، توجہ کرنی پڑتی ہے، دماغ خرچ کرنا پڑتا ہے، پھر جا کر آپ کو اس کی باتیں سمجھ آتی ہیں، تو معلوم ہوا یہ باتیں کیا ہیں؟ نظری ہیں، جن میں غور و فکر کرنا پڑتا ہے۔ تو معلوم ہوا چیزیں دو قسم کی ہو گئیں: کچھ بدیہی ہیں جو فوراً سمجھ میں آ جاتی ہیں، اور کچھ نظری ہیں جن میں غور و فکر کرنا پڑتا ہے۔ آپ کوئی بھی بدیہی چیز ہے، تو آپ اس میں غور کر لیں، وہ تصور کے قبیل سے ہے یا تصدیق کے قبیل سے، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ بدیہی چیز یا وہ تصور کے قبیل سے ہو گی یا تصدیق کی قبیل سے، کیونکہ ہمارا علم تو انہی دو قسموں میں بند ہے، تیسری تو کوئی قسم نہیں۔ تو جو بھی چیز آپ کو فوراً سمجھ میں آ جائے، اب آپ اس میں غور کر لیں، اگر وہ تصور کی قبیل سے ہے تو اس کو کہیں گے تصورِ بدیہی، اور اگر وہ تصدیق کی قبیل سے ہے تو اس کو کہیں گے تصدیقِ بدیہی۔ اسی طرح وہ چیز جو غور و فکر کرنے کے بعد آپ کو سمجھ میں آئی، وہ ہے نظری، اب اس میں پھر مزید آپ غور کر لیں کہ یہ جو آپ کو غور و فکر کے بعد بات سمجھ میں آئی ہے، یہ تصور کی قبیل سے ہے یا تصدیق کی قسم میں ہے؟ تو اگر وہ تصور کی قسم ہوئی تو وہ کیا کہلائے گی؟ تصور کی قبیل سے ہوئی تو وہ تصورِ نظری کہلائے گی، اور اگر تصدیق کی قبیل سے ہوئی تو وہ تصدیقِ نظری کہلائے گی۔ تو جیسے میں نے کچھ چیزیں ذکر کیں، دیکھیے ان کو چھوٹا، بڑا، کمزور ذہن والا، تیز ذہن والا، پڑھا لکھا یا ان پڑھ، سارے ان کو جانتے ہیں۔ میں نے درخت کہا، سب پہچان لیں گے کس چیز کی بات ہو رہی ہے۔ میں نے بادل کہا، فوراً سب سمجھ جائیں گے، چاہے چھوٹا ہو، بڑا ہو، جاہل ہو یا پڑھا لکھا ہو، سب فوراً سمجھ جائیں گے۔ اسی طرح کچھ چیزیں ان میں دماغ خرچ کرنا پڑتا ہے، مثلاً جن یا فرشتہ لے لو، اب جن یا فرشتہ کسے کہتے ہیں؟ تو یہ بیان کرنا پڑتا ہے کہ فرشتہ جو ہے نور سے بنائی ہوئی اللہ کی ایک مخلوق ہے اور جو مختلف صورتیں بدل سکتی ہے، اور ان میں نہ مذکر ہوتا ہے نہ کوئی مؤنث، اور ان میں اولاد کا سلسلہ بھی نہیں چلتا۔ اسی طرح جن ہے، جن کے بارے میں بیان کرنا پڑے گا کہ جن کسے کہتے ہیں، ایک مخلوق ہے جسے اللہ نے آگ سے پیدا کیا ہے، وہ مختلف شکلیں بدل سکتا ہے اور لطیف ہے، ہوا کی طرح ہے۔ ہوا کی طرح ہے اور ان میں مذکر اور مؤنث بھی ہوتے ہیں، اور ان میں اولاد کا سلسلہ بھی چلتا ہے۔ تو دیکھا؟ جن کو سمجھانے کے لیے کئی باتیں ذکر کرنا پڑیں۔ اسی طرح فرشتے کو سمجھانے کے لیے کئی باتیں ذکر کرنا پڑیں، معلوم ہوا یہ کیا ہیں؟ معلوم ہوا یہ نظری ہیں، ان کو سمجھنے کے لیے دماغ خرچ کرنا پڑا، غور و فکر کرنا پڑا۔ اب یہ یاد رکھیے، یہ بدیہی اور نظری لوگوں کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے۔ جیسے مسلمانوں کے ہاں جن اور فرشتہ بدیہی ہیں، چھوٹے بڑے سب کے سامنے ذکر کریں وہ سمجھ جاتے ہیں تقریباً، اور غیر مسلم جو ہوں گے، ان کے لیے جن اور فرشتہ کیا ہوں گے؟ نظری ہوں گے، ان کو سمجھانا پڑے گا، یہ ساری تعریف ان کو بتلانی پڑے گی، پھر ان کو فرشتے کی سمجھ آئے گی اور پھر جن کی ان کو سمجھ میں آئے گی۔ تو ان کے لیے یہ جن کیا ہوا اور فرشتہ کیا ہوا؟ نظری۔ گویا مسلمانوں کے لیے ہو گیا بدیہی، اور غیر مسلموں کے لیے نظری ہو گیا۔ تو معلوم ہوا یہ بدیہی اور نظری لوگوں کے اعتبار سے مختلف ہوتے ہیں۔ ایک تیز ذہن والا ہو، ہو سکتا ہے وہ ایک بات کو فوراً سمجھ جاتا ہے، اور ایک کمزور ذہن والا ہے، ہو سکتا ہے اس کو دماغ خرچ کرنا پڑے گا، تو معلوم ہوا تیز ذہن والے کے لیے ایک چیز کیا ہوئی؟ بدیہی ہو گی، جبکہ کمزور ذہن والے کے لیے وہی چیز کیا ہو جائے گی؟ نظری ہو جائے گی۔ تو نظری اور بدیہی ہونا لوگوں کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے، ہو سکتا ہے ایک چیز آپ کے لیے بدیہی ہو لیکن آپ کے ساتھی کے لیے نظری ہو۔ جیسے مثلاً آپ مختلف علوم پڑھتے ہیں، جیسے مثلاً علمِ نحو پڑھتے ہیں، وہاں اسم، فعل اور حرف کی تعریف پڑھتے ہیں۔ تو وہاں باقاعدہ پہلے کلمہ کی تعریف ہوتی ہے کہ کلمہ بامعنی لفظ کو کہتے ہیں، وہ لفظ جس کا کیا ہو؟ کوئی معنی ہو، اس کو کلمہ کہتے ہیں، اور اس کی پھر تین قسمیں ہیں: یا اسم ہو گا یا فعل ہو گا اور یا حرف ہو گا، پھر اسم کی باقاعدہ تعریف آپ کو سمجھائی جاتی ہے کہ اسم وہ کلمہ ہے جو اپنے معنی پر خود بخود دلالت کرے اور اس کے ساتھ تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ بھی ملا ہوا نہ ہو۔ پھر فعل کی باقاعدہ تعریف کر کے آپ کو سمجھایا جاتا ہے کہ فعل وہ کلمہ ہے کہ جو اپنے معنی پر خود مستقلاً دلالت کرے اور اس کے ساتھ تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ بھی ملا ہوا ہو، اور پھر حرف کی تعریف کی جاتی ہے کہ حرف وہ کلمہ ہے جو خود بخود اپنے معنی پر دلالت نہ کرے بلکہ اس کے ساتھ اور کلموں کو ملانا پڑے گا، پھر جا کر وہ اپنے معنی پر دلالت کرے گا۔ تو دیکھا؟ معلوم ہوا کہ جو کلمہ ہے، اسم ہے، فعل ہے، حرف ہے، یہ کیا ہیں؟ نظری ہیں، ان میں باقاعدہ دوسرے کو سمجھانا پڑتا ہے، اس کو غور و فکر کرنا پڑتا ہے، دماغ خرچ کرنا پڑتا ہے، پھر جا کر اس کو بات سمجھ میں آتی ہے۔ لیکن ایک دفعہ جب اس کو بات سمجھ میں آ جائے، تو اب یہی اسم، فعل اور حرف اس کے لیے بدیہی بن جاتے ہیں، جیسے دیکھو اب میں جیسے ہی کلمہ کہتا ہوں، آپ فوراً سمجھ جاتے ہیں کہ کسی بامعنی لفظ کی بات ہو رہی ہے، میں جیسے ہی اسم کہتا ہوں یا فعل یا حرف کہتا ہوں، آپ فوراً سمجھ جاتے ہیں۔ تو وہ چیز جو پہلے آپ کے لیے نظری تھی، جب ایک دفعہ آپ نے اس کو سمجھ لیا اور جان لیا، اب وہ آپ کے لیے کیا بن گئی؟ بدیہی بن گئی، لیکن یہ یاد رکھیں کہیں گے اس کو اب بھی نظری ہی، کیا کہیں گے؟ اب بھی اس کو نظری ہی کہیں گے، کیونکہ شروع میں اس کو سمجھنے کے لیے دماغ خرچ کرنا پڑا، غور و فکر کرنا پڑا۔ تو حاصلِ کلام سمجھ میں آیا بھئی؟ کہ چیزوں کو ایک دفعہ سمجھنے کے بعد وہ ہمارے لیے بدیہی بن جاتی ہیں، اب جیسے نحویوں کے سامنے اسم، فعل اور حرف جیسے ہی ذکر کریں وہ فوراً سمجھ جائیں گے، یا جیسے ادھر مثال سمجھ لیں، جیسے تصور اور تصدیق تھا، چند دن قبل آپ کو اس کی تعریف کا پتہ نہیں تھا، اب اس کو بیان کرنا پڑا اور خوب آپ کو ذہن خرچ کرنا پڑا، پھر جا کر آپ کو تصور و تصدیق اچھی طرح سمجھ میں آ گئے، اور اب میں جیسے ہی تصور ذکر کرتا ہوں، آپ سمجھ جاتے ہیں کہ کون سے علم کی بات ہو رہی ہے، میں جیسے ہی تصدیق ذکر کرتا ہوں، آپ فوراً سمجھ جاتے ہیں کہ علم کی کون سی قسم کی بات ہو رہی ہے۔ تو اب یہ آپ کے لیے بدیہی بن گئے، لیکن پھر بھی ان کو نظری ہی کہیں گے، کیونکہ ابتداء میں ان کو سمجھنے کے لیے کیا کرنا پڑا تھا؟ دماغ خرچ کرنا پڑا تھا اور غور و فکر کرنا پڑا تھا۔ تو یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ حاصلِ کلام کیا ہوا؟ کہ تصور بھی دو قسم پر اور تصدیق بھی دو قسم پر، تصور یا بدیہی ہو گا یا نظری، بدیہی وہ جو بغیر غور و فکر کے فوراً سمجھ میں آ جائے، اور نظری وہ جس میں غور و فکر کرنا پڑے اور ذہن کو خرچ کرنا پڑے، اسی طرح تصدیق بھی دو قسم پر ہے: یا وہ بدیہی ہو گی یا نظری ہو گی، نظری ہو گی بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھیے ذرا کتاب پر بھئی، کہتے ہیں: وَيَقْتَسِمَانِ بِالضَّرُورَةِ الضَّرُورَةَ وَالِاكْتِسَابَ بِالنَّظَرِ۔ يَقْتَسِمَانِ، اِقْتَسَمَ يَقْتَسِمُ کے معنی ہوتے ہیں اپنا اپنا حصہ لے لینا، آپس میں بانٹ لینا۔ اِقْتَسَمَ يَقْتَسِمُ کے کیا معنی ہیں؟ آپس میں بانٹ لینا، اپنا اپنا حصہ لے لینا۔ مثلاً میں آپ کو کوئی چیز دیتا ہوں اور آپ ساتھی اس کو آپس میں بانٹ لیتے ہیں، تو اس کو کیا کہیں گے؟ اقتسام کہیں گے، ہر ایک اپنا اپنا حصہ لے لیتا ہے، اس کو کیا کہیں گے؟ اقتسام کہیں گے، اقتسام۔ بِالضَّرُورَةِ، یہ لفظ ذرا ابھی اس کو یہاں سے، اس لفظ کو ذرا چھوڑ دیں: الضَّرُورَةَ وَالِاكْتِسَابَ بِالنَّظَرِ۔ الضَّرُورَةَ، یاد رکھیے یہ مفعول ہے، مفعول بہ ہے، وَالِاكْتِسَابَ بِالنَّظَرِ اسی پر عطف ہے۔ تو الضَّرُورَةَ وَالِاكْتِسَابَ بِالنَّظَرِ کیا ہوئے؟ مفعول بہ بن گئے۔ وَيَقْتَسِمَانِ، اور یہ دونوں آپس میں بانٹ لیتے ہیں، آپس میں تقسیم کر لیتے ہیں، کون دونوں؟ تصور اور تصدیق۔ تو یہ تثنیہ کی ضمیر جو ہے، وہ راجع ہے تصور اور تصدیق کی طرف۔ یہ دونوں آپس میں بانٹ لیتے ہیں، یہ دونوں اپنا اپنا حصہ لے لیتے ہیں، کس سے؟ الضَّرُورَةَ وَالِاكْتِسَابَ بِالنَّظَرِ، ضرورت اور اکتساب بنظر سے، اس کو آپس میں کیا کر لیتے ہیں؟ بانٹ لیتے ہیں، بانٹ لیتے ہیں۔ تو معلوم ہوا بھئی عبارت میں یہ الضَّرُورَةَ، اس کو منصوب پڑھنا ہے، کیوں منصوب پڑھنا ہے؟ مفعول بہ ہے، اور اکتساب کو بھی منصوب پڑھنا ہے، کیونکہ اس کا بھی اسی پر عطف ہے۔ ضرورت کا معنی ہے بداہت بھئی، کسی چیز کا بدیہی ہونا، یعنی بغیر غور و فکر کے سمجھ میں آنا، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ ہے بدیہی ہونا، اور بدیہی کو کہتے ہیں ضروری، ضروری۔ منطق کی کتابوں میں لفظِ بدیہی آئے یا ضروری آئے، ضَرُورِيٌّ، بَدِيهِيٌّ، تو اس سے یہ ایک ہی چیز ہے بھئی، بدیہی کا دوسرا نام کیا ہے؟ ضروری، اور بداہت کا کیا معنی؟ بدیہی ہونا، مصدر ہے نا، بداہت۔ تو اسی طرح ضرورت کا کیا معنی ہے؟ ضروری ہونا، یعنی اس کا حاصل ہونا بداہت کے ساتھ، بغیر نظر و فکر کے، بغیر نظر و فکر کے ایک چیز کا حاصل ہونا۔ وَالِاكْتِسَابَ بِالنَّظَرِ، اکتساب بنظر کا معنی ہے نظری ہونا، یعنی نظر و فکر کے ساتھ ایک چیز کا حاصل ہونا، نظر و فکر کے ساتھ حاصل ہونا۔ تو اکتساب جس میں اپنا عمل ہوتا ہے، دیکھو جو بدیہی ہو گی، اس میں آپ وہ خود ہی آپ کو سمجھ میں آ جائے گی، اور جو نظری ہو گی، اس میں کیا کرنا پڑے گا آپ کو؟ حاصل کرنا پڑے گا، غور کرنا پڑے گا، فکر کرنی پڑے گی، سوچنا پڑے گا، پھر وہ آپ کو سمجھ میں آئے گی۔ تو اکتساب جس میں کیا ہو؟ اپنا عمل دخل ہو۔ تو اکتساب کا معنی نظری ہونا، اکتساب کا کیا معنی ہے؟ نظری، یعنی ایک چیز کا حاصل ہونا نظر کے ساتھ، نظر و فکر کے ساتھ۔ تو یہ دونوں آپس میں بانٹ لیتے ہیں، کس چیز کو؟ بداہت کو اور اکتساب بنظر کو، بداہت کا کیا معنی؟ بدیہی ہونا، یعنی یوں کہو، حصول بلا نظر، مصدر بنا لو نا، حصول کیا معنی؟ حاصل ہونا، اور کس طرح حاصل ہونا؟ بلا نظر، بغیر غور و فکر کے۔ تو ضرورت کا معنی ہوا حصول بلا نظر، اور اکتساب بنظر کا کیا معنی ہوا؟ حصول بنظر، نظر و فکر کے ساتھ حاصل ہونا، یعنی غور و فکر کے ساتھ حاصل ہونا۔ تو ایک ہے حصول بلا نظر اور ایک ہے حصول بنظر، نظر و فکر کے ساتھ حاصل ہونا۔ بائی دیکھیے، میرے سامنے یہ دو ڈھیریاں پڑی ہیں، یہ ایک طرف دائیں طرف ڈھیری ہے، ایک دائیں طرف، یہ ہے حصول بلا نظر، یہ کیا ہے؟ بغیر نظر کے حاصل ہونا، اور دوسری طرف حصول بنظر۔ یاد رکھیے عبارت پہ ذرا دیکھیے: وَيَقْتَسِمَانِ الضَّرُورَةَ، اور یہ دونوں، یعنی تصور اور تصدیق آپس میں بانٹ لیتے ہیں، کس کو؟ الضَّرُورَةَ، حصول بلا نظر کو، بداہت کو آپس میں کیا کر لیتے ہیں؟ بانٹ لیتے ہیں۔ کچھ بداہت کون لے لیتی ہے؟ تصور، کچھ تصور لے لیتا ہے کچھ بداہت میں سے کچھ حصہ، اور کچھ حصہ بداہت میں سے کون لے لیتا ہے؟ تصدیق۔ تو جو تصور جس نے بداہت میں سے حصہ لیا، وہ کہلائے گا تصورِ بدیہی، اور وہ تصدیق جس نے بداہت میں سے حصہ لیا، وہ کیا کہلائے گی؟ تصدیقِ بدیہی کہلائے گی، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ اور دوسرا ہے حصول بنظر، نظر و فکر کے ساتھ ایک چیز کا حاصل ہونا، تو اکتساب بنظر، یہ دونوں اکتساب بنظر میں سے بھی اپنا حصہ لے لیتے ہیں، تصور اور تصدیق، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ میں عبارت حل کروا رہا ہوں، عبارت ذرا مشکل ہے۔ دونوں تصور اور تصدیق اکتساب بنظر میں سے بھی کیا کر لیتے ہیں؟ مثلاً دیکھو یہ میرے سامنے ضرورت ہے، میرے سامنے کیا چیز موجود ہے؟ ایک ڈھیری موجود ہے، اس کا نام کیا ہے؟ ضرورت، یعنی یہ حصول بلا نظر ہے، بغیر نظر کے حاصل ہونا۔ اس ڈھیری کو آپس میں تقسیم کر لیتے ہیں، کون آپس میں تقسیم کر لیتے ہیں؟ تصور اور تصدیق۔ تصور بھی اپنا حصہ لے لیتا ہے کس میں سے؟ اس ضرورت میں سے، یعنی حصول بلا نظر میں سے، اور تصدیق بھی اپنا حصہ لے لیتی ہے کس میں سے؟ حصول بلا نظر، یعنی ضرورت میں سے۔ اسی طرح دوسری ڈھیری ہے کس کی؟ اکتساب بنظر، یہ اکتساب بنظر کا کیا معنی؟ حصول بنظر، نظر و فکر کے ساتھ حاصل ہونا۔ تو یہ جو نظر و فکر کے ساتھ حاصل ہونا ہے، اس میں سے کچھ حصہ کس نے لے لیا؟ تصور نے، اور کچھ حصہ کس نے لے لیا؟ تصدیق نے لے لیا۔ تو معلوم ہوا کچھ تصور ہیں انہوں نے اپنا حصہ کس میں سے لیا؟ ضرورت میں سے، اور کچھ تصور ہیں انہوں نے اپنا حصہ کس میں سے لے لیا؟ اکتساب بنظر میں سے، توجہ ہے؟ تصور ایک وقت میں ایک سے حصہ لے گا، یا ضرورت سے حصہ لے گا یا اکتساب بنظر سے۔ مثلاً بھئی آسان یوں دیکھو، مثلاً میرے سامنے ایک طرف منطق، منطقی کتابیں پڑی ہیں، ایک طرف نحو کی کتابیں پڑی ہیں، ایک طرف میرے پاس منطقی کتابیں پڑی ہیں اور ایک طرف نحو کی کتابیں پڑی ہیں۔ میرے پاس درجہ ثالثہ اور رابعہ والے دونوں طلباء آ گئے۔ تو میں نے ثالثہ والوں میں سے کہا کہ بھئی آپ کچھ منطق میں سے کتابیں لے لیجیے، منطق والی کتابیں لے لیجیے، اور کچھ سے کیا کہا کہ آپ نحو والی کتابیں لے لیجیے، لیکن لینی ایک کتاب ہے، دونوں نہیں ایک وقت میں طالب علم لے سکتا۔ تو ثالثہ والے کچھ طلباء نے کون سی لیں؟ نحو والی کتاب، تو وہ یوں کہو، وہ کیا ہو گئے؟ نحوی طلباء، اور کچھ طلباء نے کون سی کتاب لے لی؟ منطق والی، تو وہ کون سے ہوئے؟ منطقی طلباء۔ رابعہ والوں کے لیے بھی یہی شرط تھی، تو ان میں سے بھی کچھ نے کیا لی؟ نحو کی کتاب، کچھ نے کون سی کتاب لی؟ منطقی، تو رابعہ والے بھی دو قسم کے ہو گئے: کچھ نحوی طلباء ہوئے، کچھ منطقی طلباء ہو گئے۔ دونوں نے، دونوں درجے والوں نے اپنا اپنا حصہ لے لیا، کس میں سے؟ نحو کی کتابوں میں سے بھی اور منطقی کتابوں میں سے بھی حصہ لے لیا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ درجہ ثالثہ والے میں بھی کچھ نحوی ہو گئے اور درجہ رابعہ میں بھی کچھ کیا ہو گئے؟ نحوی، اور ثالثہ والوں میں سے بھی کچھ نے منطقی کتابوں میں سے حصہ لے لیا اور رابعہ والوں میں سے بھی کچھ نے کس میں سے حصہ لے لیا؟ منطقی کتابوں میں سے، تو کچھ منطقی ثالثہ والے ہوئے اور کچھ منطقی رابعہ والے ہوئے۔ بالکل اسی طرح ہے تصور اور تصدیق، یوں سمجھو یہ دو درجوں والے ہیں، کون ہیں؟ دو درجوں والے ہیں، ان کے سامنے دو قسم کی چیزیں پڑی ہیں: ایک کیا ہے؟ ضرورت، اور ایک کیا ہے؟ اکتساب، اکتساب بنظر۔ تو آپ نے تصور والوں سے کہا، تصور والوں سے یعنی دو یہ درجے والے ہیں ثالثہ والے، یہ سارے طلباء ہیں، کہ بھئی یا کیا کرو؟ ضرورت میں سے اپنا حصہ لے لو یا کس میں سے؟ اکتساب میں سے، ایک وقت میں ایک سے حصہ لینا ہے۔ تو کچھ تصور نے کس سے حصہ لے لیا؟ ضرورت سے، تو وہ کیا ہوئے؟ تصورِ ضروری۔ کچھ تصور نے حصہ لے لیا کس سے؟ اکتساب بنظر سے حصہ لے لیا، تو وہ تصور کیا ہوئے؟ نظری ہو گئے۔ تو معلوم ہوا تصور کتنی قسم کا؟ یا بدیہی ہو گا، یعنی ضروری، یا نظری۔ ضروری اور بدیہی کا ایک معنی ہے نا، میں نے ابھی آپ کو بتایا تھا، ضرورت کا کیا معنی ہے؟ بداہت، اور اکتساب کا کیا معنی؟ اکتساب کا معنی نظری ہونا، نظری ہونا۔ تو جو اکتساب سے حاصل ہو، اس کو کہتے ہیں کسَبی، كَسْبِيٌّ، نَظَرِيٌّ۔ تو کسَبی اور نظری کا ایک معنی ہے، توجہ ہے؟ بدیہی کے لیے دوسرا لفظ کیا استعمال ہوتا ہے؟ ضروری، اور نظری کے لیے دوسرا لفظ کیا استعمال ہوتا ہے؟ کسَبی۔ تو ضروری کہہ دیا جائے یا بدیہی کہہ دیا جائے ایک ہی بات ہے، تصورِ بدیہی اور تصورِ ضروری ایک ہی چیز ہے، اور اسی طرح تصورِ کسَبی اور تصورِ نظری، یہ کیا ہے؟ ایک ہی چیز ہے۔ اسی طرح تصدیقِ ضروری اور بدیہی، یہ کیا ہے؟ تصدیقِ ضروری اور بدیہی ایک ہی چیز ہے، اسی طرح تصدیقِ کسَبی اور تصدیقِ نظری، یہ بھی کیا ہے؟ ایک ہی بات ہے، تو بدیہی اور ضروری ایک ہی معنی ہے دونوں کا، اور کسَبی اور نظری کا بھی ایک ہی معنی ہے۔ تو میں بیان یہ کر رہا تھا کہ میرے پاس ایک طرف کس چیز کی ڈھیری پڑی ہے؟ ضرورت کی، ایک طرف کس چیز کی ڈھیری پڑی ہے؟ اکتساب بنظر کی، اور کون آ گئے؟ تصور اور تصدیق آ گئے، تصور میں بہت سارے افراد ہیں، میں نے تصور سے کہا کہ بھیا ضرورت میں سے اپنا حصہ لے لو یا کس میں سے؟ اکتساب بنظر سے، ایک سے حصہ لینا ہے، دونوں سے حصہ نہیں لینا، تو کچھ تصور نے کس میں سے حصہ لے لیا؟ ضرورت میں سے، تو وہ کیا کہلائے؟ تصورِ، ضرورت میں سے، ضرورت میں سے حصہ لیا، تو وہ کیا کہلائے؟ تصورِ بدیہی اور تصورِ ضروری، ایک ہی بات ہے، تصورِ بدیہی اور تصورِ ضروری، اور کچھ تصور کے افراد نے کس میں سے حصہ لیا؟ اکتساب بنظر سے، تو وہ تصور کون سے کہلائے؟ تصورِ کسَبی اور تصورِ نظری کہلائے۔ اسی طرح تصدیق کے کچھ افراد نے کس میں سے حصہ لیا؟ ضرورت میں سے، تو وہ کیا کہلائی؟ تصدیقِ ضروری اور تصدیقِ بدیہی کہلائی، اور تصدیق کے کچھ افراد نے کس میں سے حصہ لے لیا؟ اکتساب بنظر سے، تو وہ کیا کہلائی؟ تصدیقِ کسَبی اور تصدیقِ نظری کہلائی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو دیکھا تصور اور تصدیق آئے، انہوں نے آپس میں بانٹ لیا، کس کو؟ ضرورت کو بھی اور اکتساب بنظر کو بھی۔ تصور نے ضرورت میں سے بھی اپنا حصہ لیا اور اکتساب بنظر میں سے بھی اپنا حصہ لیا، اور اسی طرح تصدیق نے بھی ان دونوں سے حصہ لیا، ضرورت سے بھی اپنا حصہ لیا اور اکتساب بنظر سے بھی حصہ لیا۔ تو جس تصور نے ضرورت سے حصہ لیا تھا وہ کیا کہلائے گا؟ تصورِ ضروری، اور جس تصور نے اکتساب بنظر سے حصہ لیا تھا وہ کیا کہلائے گا؟ تصورِ کسَبی اور تصورِ نظری کہلائے گا۔ تصدیق نے بھی دونوں سے حصہ لیا، تو جس تصدیق نے ضرورت سے حصہ لیا وہ کیا کہلائے گی؟ تصدیقِ ضروری اور بدیہی، اور جس تصدیق نے اکتساب بنظر سے حصہ لیا وہ کیا کہلائے گی؟ تصدیقِ کسَبی اور تصدیقِ نظری کہلائے گی، بات سمجھ میں آ گئی؟ اب اس عبارت پہ ذرا غور کرو: وَيَقْتَسِمَانِ، اور یہ دونوں، یعنی تصور اور تصدیق آپس میں بانٹ لیتے ہیں، کس کو بانٹ لیتے ہیں؟ الضَّرُورَةَ وَالِاكْتِسَابَ بِالنَّظَرِ، ضرورت اور اکتساب بنظر کو آپس میں بانٹ لیتے ہیں۔ معلوم ہوا تقسیم ضرورت اور اکتساب کی ہو رہی ہے، کس کی ہو رہی ہے؟ کس کو بانٹا جا رہا ہے؟ ضرورت اور اکتساب کو، ضرورت کو آپس میں بانٹ لیا، کچھ حصہ کس نے لے لیا؟ تصور نے، کچھ حصہ کس نے لے لیا؟ تصدیق نے، تو تقسیم کس کی ہوئی؟ ضرورت کی، اور اکتساب بنظر کو بھی دونوں نے آپس میں بانٹ لیا، کچھ حصہ کس نے لیا؟ تصور نے، اور کچھ حصہ کس نے لیا؟ تصدیق نے۔ تو یاد رکھو اس عبارت میں ظاہراً تقسیم ہے ضرورت اور اکتساب بنظر کی، بظاہر تقسیم کس کی ہو رہی ہے؟ کس کو آپس میں بانٹا جا رہا ہے؟ ضرورت اور اکتساب بنظر کو، لیکن درحقیقت یہاں ضمناً تقسیم ہو رہی ہے تصور اور تصدیق کی، کیونکہ وہ تصور جس نے کس میں سے حصہ لیا؟ ضرورت میں سے، وہ تصورِ ضروری اور بدیہی کہلایا، اور وہ تصور جس نے کس میں سے حصہ لیا؟ اکتساب بنظر سے، وہ تصورِ کسَبی اور نظری کہلایا، اور اسی طرح وہ تصدیق جس نے بضرورة سے حصہ لیا، وہ کیا کہلائی؟ تصدیقِ ضروری اور بدیہی، اور وہ تصدیق جس نے کس میں سے حصہ لیا؟ اکتساب بنظر سے، وہ کیا کہلائی؟ تصدیقِ کسَبی اور نظری کہلائی۔ تو عبارت میں صراحتاً جو صاف لفظوں میں تقسیم ذکر ہے، وہ ضرورت اور اکتساب کی ہے کہ ضرورت اور اکتساب کو یہ آپس میں بانٹ رہے ہیں، تصور بھی اور تصدیق بھی، لیکن ضمناً تقسیم دراصل کس کی ہو رہی ہے؟ تصور اور تصدیق کی، کہ جب دونوں سے دونوں حصہ لے رہے ہیں تو دونوں کی دو دو قسمیں ہو گئیں: تصورِ ضروری اور تصورِ نظری، اسی طرح تصدیقِ بدیہی اور تصدیقِ نظری، بات سمجھ میں آ گئی؟ صراحتاً عبارت میں کیا ذکر، کس کو آپس میں تقسیم کر رہے ہیں؟ ضرورت اور اکتساب بنظر، جیسے وہ میں نے ذکر کیا تھا کہ طلباء ثالثہ والے بھی آئے اور رابعہ والے بھی آئے، اور ثالثہ والوں نے بھی نحو کی کتابیں بھی لیں کچھ نے اور کچھ نے منطق کی کتابیں لیں، اسی طرح رابعہ والوں میں سے بھی کچھ نے نحو کی کتابیں لیں اور کچھ نے منطق، تو بظاہر یہ تقسیم کتابوں کی ہو رہی ہے کہ نحو کی کتابیں کچھ ثالثہ والوں نے لیں، کچھ رابعہ والوں نے، اور اسی طرح منطقی کتابوں کی صاف لفظوں میں تقسیم اس کی ہو رہی ہے کہ کچھ کتابیں کس نے لیں؟ ثالثہ والوں نے اور کچھ رابعہ والوں، تو بظاہر تقسیم کتابوں کی ہو رہی ہے، لیکن ضمناً تقسیم ان طلباء کی بھی ہو گئی، کس طرح؟ کہ معلوم ہوا ثالثہ والے بھی دو قسم کے طلباء ہو گئے: کچھ نحوی اور کچھ منطقی، رابعہ والے بھی دو قسم کے طلباء ہو گئے: کچھ نحوی اور کچھ منطقی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو صریح الفاظ میں، یہاں عبارت میں دیکھیں: وَيَقْتَسِمَانِ، اور یہ دونوں آپس میں بانٹ لیتے ہیں، یعنی تصور اور تصدیق آپس میں بانٹ لیتے ہیں، کس کو؟ الضَّرُورَةَ وَالِاكْتِسَابَ بِالنَّظَرِ، ضرورت اور اکتساب بنظر، تو صریح الفاظ میں، صریح کا معنی ہے صاف الفاظ، کیا ہے؟ صاف الفاظ، جیسے دیکھو ایک ہے بات کو میں صاف لفظوں میں کہوں، ایک ہے بات کو میں ذرا گھما کر کہوں۔ صاف لفظوں میں میں کیا کہتا ہوں؟ مثلاً میں کہتا ہوں: زید بہادر ہے، کیا ہے؟ دیکھا میں صاف لفظوں میں اس کی بہادری ذکر کر رہا ہوں، اور ایک ہے دوسرے انداز میں یہی بات میں دوسرے انداز میں کہتا ہوں: زید شیر ہے۔ دیکھو اس کا بھی کیا معنی؟ زید بہادر ہے، لیکن ایک ہے صریح، صاف لفظوں میں ایک بات ذکر کرنا، اور ایک ہے دوسرے لفظوں میں ذکر کرنا، صاف لفظوں میں ذکر نہ کرنا۔ تو عبارت میں صریح، یعنی صاف لفظوں میں کس کی تقسیم ہو رہی ہے؟ ضرورت اور اکتساب بنظر کی کہ ان کو تقسیم کیا جا رہا ہے، کون کون اپنا حصہ لے رہے ہیں دونوں میں سے؟ تصور اور تصدیق، لیکن ضمناً کس کی تقسیم ہو گئی؟ تصور کی بھی اور تصدیق کی بھی تقسیم ہو گئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دیکھیے کہتے ہیں: وَيَقْتَسِمَانِ بِالضَّرُورَةِ الضَّرُورَةَ وَالِاكْتِسَابَ بِالنَّظَرِ۔ اور یہ تصور اور تصدیق آپس میں بانٹ لیتے ہیں ضرورة، یعنی حصول بلا نظر، اور اکتساب، یعنی حصول بنظر، تو یہ تصور اور تصدیق آپس میں بانٹ لیتے ہیں حصول بلا نظر کو اور حصول بنظر کو۔ درمیان میں لفظ آیا تھا بِالضَّرُورَةِ، کیا لفظ آیا تھا؟ بِالضَّرُورَةِ، یاد رکھیے منطق وغیرہ کی کتابوں میں جب بھی بِالضَّرُورَةِ کا لفظ آئے، تو اس کے معنی بالبداہۃ اور بالیقین کے ہوتے ہیں، کس کے؟ بالبداہۃ اور بالیقین، ہاں یہ والد صاحب رحمہ اللہ سے ہم جب شرح عقائد پڑھ رہے تھے، وہاں انہوں نے یہ بات ذکر فرمائی تھی، وہاں بالضرورة کا لفظ آیا تھا، تو انہوں نے فرمایا کہ یہ منطق وغیرہ اور ان کتابوں میں بالضرورة کا لفظ جب بھی آئے، تو اس کے معنی بالبداہۃ اور بالیقین کے۔ بالبداہۃ، یعنی بدیہی طور پر، بالبداہۃ کا کیا معنی؟ بالضرورة کا کیا معنی؟ بدیہی طور پر، یا یقینی طور پر۔ توجہ ہے؟ بالضرورة کا کیا معنی؟ بالبداہۃ اور بالیقین، کیا معنی بالبداہۃ؟ بدیہی طور پر۔ یہ جو تصور اور تصدیق ہیں، توجہ ہے؟ ابھی جو میں نے پہلے بات سمجھائی تھی، یہ کس کو آپس میں بانٹ رہے ہیں؟ ضرورت اور اکتساب بنظر، یعنی بعض تصور بدیہی بن گئے، بعض کیا بن گئے؟ نظری بن گئے، اسی طرح کیا ہے؟ تصدیق بھی، بعض کیا بن گئیں؟ بدیہی بن گئیں اور بعض کیا بن گئیں؟ نظری۔ تو یہ جو دونوں آپس میں تقسیم کر رہے ہیں، ضرورت اور اکتساب بنظر کو، یہ تقسیم کرنا بدیہی ہے۔ اس میں غور و فکر کی ضرورت نہیں۔ بالبداہۃ کا معنی بیان کر رہا ہوں کہ وہ یہ تقسیم، اب پھر عبارت پہ نظر رکھو، یہ دونوں تقسیم کر لیتے ہیں بدیہی طور پر، کس چیز کو تقسیم کر لیتے ہیں؟ الضَّرُورَةَ وَالِاكْتِسَابَ بِالنَّظَرِ، یا یوں کہو یقینی طور پر تقسیم کر لیتے ہیں، اس میں کسی قسم کا شک اور شبہ نہیں۔ سمجھ میں آ رہی ہے بات؟ کہ تصور اور تصدیق آپس میں بانٹ لیتے ہیں، کس کو؟ ضرورت اور اکتساب بنظر کو، اور یہ بانٹنا کیا ہے؟ بدیہی ہے، یقینی ہے۔ اس میں ذرا بھی غور و فکر کی ضرورت نہیں۔ بھئی آپ خود دیکھیں نا، کیا آپ کو دنیا کی ساری چیزوں کا پتہ ہے؟ نہیں، ساری چیزوں کا پتہ نہیں، کچھ کو جاننا پڑتا ہے، جیسے ہی آپ یہ سبق علم میں بیٹھے کس لیے ہیں؟ منطق سیکھنے کے لیے، آپ کو ان چیزوں کا پتہ نہیں ہے، تو معلوم ہوا کچھ چیزوں کا ہمیں پتہ ہے، کچھ کا ہمیں پتہ نہیں، تو معلوم ہوا جن چیزوں کا پتہ ہے ہمیں معلوم ہے ہمارے لیے بدیہی ہیں، اور کچھ چیزوں میں کیا کرنا پڑتا ہے؟ دماغ خرچ کرنا پڑتا ہے۔ تو آپ غور کر لیں، آپ خود دیکھ لیں، کچھ چیزیں ہیں آپ کو بغیر غور و فکر کے خود ہی سمجھ میں آ جاتی ہیں، اور کچھ میں کیا کرنا پڑتا ہے؟ دماغ خرچ کرنا پڑتا ہے، غور و فکر کرنا پڑتا ہے۔ اور یہ بات بدیہی ہے۔ بچہ بھی جانتا ہے کہ مجھے سب چیزوں کا پتہ نہیں، وہ آپ سے کبھی ایک چیز پوچھتا ہے، کبھی دوسری چیز پوچھتا ہے۔ بڑا ہو وہ بھی جانتا ہے کہ اسے کچھ چیزوں کا پتہ ہے، کچھ چیزوں کا پتہ نہیں، کچھ چیزیں جیسے ہی ذکر کرو ہر ایک سمجھ لیتا ہے، کچھ اس کو پوچھنا پڑتا ہے، اس کو بتانا پڑتا ہے۔ پڑھا لکھا بھی جانتا ہے، ان پڑھ بھی جانتا ہے کہ کچھ چیزیں ہم جانتے ہیں، غور و فکر کے بغیر ہمیں خود ہی سمجھ میں آ جاتی ہیں، اور کچھ چیزیں کیا ہیں؟ ان میں کیا کرنا پڑتا ہے؟ غور و فکر کرنا پڑتا ہے۔ تو معلوم ہوا یہ جو تصور اور تصدیق، ضرورت، توجہ ہے؟ وہی بات، کتاب کی عبارت ذکر کر رہا ہوں کہ تصور اور تصدیق کس کو تقسیم کرتے ہیں آپس میں؟ ضرورت اور اکتساب بنظر، یہ تقسیم کرنا، یہ آپس میں بانٹ لینا بدیہی ہے، اس کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں کہ آپ کو دلیل دینی پڑے کسی کو کہ بھئی کچھ چیزیں آپ جانتے ہیں، کچھ چیزیں آپ جانتے نہیں ہیں بھئی، یہ ہر ایک کو پتہ ہے، یہ بات بدیہی ہے، یہ کیا ہے؟ یہ بات بدیہی ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے، یہ بالضرورة کہنے کی اس لیے انہوں نے ذکر کیا کہ بعض علماء نے اس کے لیے بھی دلیل قائم کی بھئی، کہ کچھ چیزیں فوراً خود سمجھ میں آتی ہیں، کچھ کے لیے کیا کرنا پڑتا ہے؟ دماغ خرچ کرنا پڑتا ہے، اس کے لیے بھی دلیل بنانی پڑے گی، دلیل دینی پڑے گی، بھئی دلیل کی ضرورت ہی نہیں ہے، یہ بات بدیہی ہے، سب کو پتہ ہے کہ کچھ چیزیں ہمیں پتہ ہیں، ہمیں فوراً سمجھ میں آ جاتی ہیں، اور کچھ چیزیں ہیں وہ ہمیں سمجھنا پڑتا ہے۔ تو معلوم ہوا یہ تصور اور تصدیق کا آپس میں بانٹ لینا، کس کو؟ ضرورت اور اکتساب بنظر کو، یہ جو آپس میں بانٹ لینا ہے، یہ کیا ہے؟ بدیہی ہے، کسی دلیل کی ضرورت نہیں، اگر دلیل کی ضرورت ہوتی پھر تو یہ تو نظری ہوتا، حالانکہ یہ تو نظری نہیں ہے، یہ بدیہی ہے بھئی، بالکل واضح بات ہے، ذرا بھی دماغ نہیں خرچ کرنا پڑتا، ہر ایک کو پتہ ہے اسے کچھ چیزوں کا علم ہے، کچھ چیزوں کا علم نہیں ہے۔ میرا خیال بات ابھی تک نہیں سمجھ میں آئی؟ تصور اور تصدیق، ضرورت اور اکتساب بنظر کو کیا کر رہے ہیں؟ بانٹ رہے ہیں۔ تو درحقیقت یہ تقسیم کس کی؟ ضرورت اور اکتساب کی، لیکن ضمناً تقسیم کس کی ہو گئی؟ تصور اور تصدیق کی، کہ تصور دو قسم پر: یا بدیہی ہو گا یا نظری، اسی طرح ضمناً تقسیم ہو گئی کہ تصدیق بھی دو قسم پر: یا تصدیق بدیہی ہو گی یا نظری ہو گی۔ تو ظاہراً کس کی تقسیم ہوئی؟ ضرورت اور اکتساب کی، لیکن ضمناً کس کی تقسیم ہو گئی؟ تصدیق اور تصور کی، کہ دونوں دو دو قسم۔ تو یہ جو تصور اور تصدیق، ضرورت اور اکتساب میں حصہ لے رہے ہیں، کس میں سے؟ نہیں، ذہن نہیں حاضر میرا خیال ہے۔ تصور اور تصدیق کس میں سے حصہ لے رہے ہیں؟ کس کو آپس میں بانٹ رہے ہیں؟ ضرورت اور اکتساب بنظر کو، تو تقسیم کس کی ہو رہی ہے؟ ضرورت اور اکتساب کی، کچھ ضرورت تصور کی طرف چلا گیا اور کچھ ضرورت تصدیق کی طرف، اسی طرح اکتساب بنظر کچھ کس کی طرف چلا گیا؟ تصور کی طرف، اور کچھ کس کی طرف چلا گیا؟ تصدیق کی طرف۔ تو یہ جو تقسیم بظاہر تو ہو رہی ہے ضرورت اور اکتساب کی، لیکن درحقیقت یہاں تقسیم کس کی ہے؟ تصور اور تصدیق، کہ تصور بھی دو قسم پر اور تصدیق بھی دو قسم پر۔ اچھا، تو متن آپ کو بتلا رہے ہیں کہ یہ جو ضرورت اور اکتساب میں سے، کی تقسیم ہے، یعنی یوں کہو، یہ جو تصور اور تصدیق آپس میں بانٹ رہے ہیں، کس کو؟ ضرورت اور اکتساب بنظر کو، بِالضَّرُورَةِ، یہ کیا ہے؟ بدیہی ہے، اس میں، اس میں دلیل قائم کرنے کی ضرورت نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ بھئی یہ کیسے بدیہی ہے؟ ہمیں تو اتنا دماغ خرچ کرنا پڑا، پھر جا کے یہ بات سمجھ میں آئی، بھئی حاصلِ کلام پہ ذرا چلے جاؤ نا، پھر آپ کو سمجھ میں بات آ جائے گی۔ بظاہر تقسیم کس کی ہو رہی ہے؟ ضرورت اور اکتساب بنظر کی، لیکن درحقیقت تقسیم کس کی ہو رہی ہے؟ تصور اور تصدیق کی، تو گویا یوں سمجھو، یوں کہا جا رہا ہے کہ یاد رکھو بھئی، تصور بھی دو قسم پر ہے: یا بدیہی ہے یا نظری، تصدیق بھی دو قسم پر ہے: یا بدیہی ہے یا نظری۔ تو تصور کی دو قسمیں ہونا اور تصدیق کے دو قسمیں ہونا، یہ بات بدیہی ہے، بچے بچے کو پتہ ہے۔ اب بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ جو بات یہ کہنا چاہ رہے ہیں، یہ جو تصور دو قسم پر ہے، بدیہی اور نظری، اور یہ جو تصدیق دو قسم پر ہے، بدیہی اور نظری، یہ بات بدیہی ہے، اس پہ دلیل دینے کی کوئی ضرورت نہیں، سورج نکلا ہو تو وہاں دلیل نہیں دی جاتی، دلیل تو ایسی چیز پہ دی جاتی ہے جس میں کچھ خفاء ہو، کچھ پوری طرح ظاہر نہ ہو، تو آپ کو کیا ضرورت پڑتی ہے؟ دلیل دینے کی، اور سورج جب نکلا ہوا ہے، وہ تو سامنے نظر آ رہا ہے، یہاں کوئی دلیل دینے کی ضرورت نہیں کہ کسی کو آپ دلیل دیں کہ دیکھو بھئی سورج نکلا ہوا ہے، نہیں، وہ سب کو نظر آ رہا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں کہنا یہ چاہتے ہیں کہ تصور کی دو قسمیں ہیں: ایک نظری اور ایک بدیہی، یہ بات بالکل بدیہی ہے۔ اسی طرح تصدیق کی دو قسمیں ہیں: ایک بدیہی اور ایک نظری، یہ بات بالکل بدیہی ہے۔ کیا آپ کو دنیا کے سارے تصورات کا پتہ ہے؟ نہیں، کچھ کا پتہ ہے، کچھ کا پتہ نہیں، ان کو جاننا پڑتا ہے، اسی لیے تو آپ یہاں بیٹھے ہیں، آپ سیکھنے کے لیے یہاں بیٹھے ہیں۔ اسی طرح تصدیقات، کچھ باتوں کا آپ کو پتہ ہے، کچھ باتوں کو آپ، کو جاننا پڑتا ہے، دماغ خرچ کرنا پڑتا ہے، تو گویا تصور کچھ ہمیں معلوم ہیں، کچھ کو ہمیں جاننا پڑتا ہے، یعنی کچھ بدیہی ہیں اور کچھ نظری، اور اسی طرح ہر بات کا، تصدیقات سب کا، تمام تصدیقات کا ہمیں علم نہیں، کچھ تصدیقات ہمیں علم ہیں، وہ بدیہی ہیں، کچھ کو ہمیں جاننا پڑتا ہے، وہ کیا ہیں؟ نظری۔ تو، تو یہ یوں کہہ لو کہ تمام دنیا کی چیزیں، کیا ہمیں سب کا علم ہے؟ نہیں، تو کچھ کا ہمیں معلوم ہیں اور کچھ کو جاننا پڑتا ہے، تو کچھ چیزوں کا معلوم ہونا اور کچھ کا نظری ہونا، نامعلوم ہونا، یہ بات بدیہی ہے، چھوٹا بڑا ہر شخص جانتا ہے، بچہ بھی اسے پتہ ہے، کچھ چیزوں کا اس کو علم ہے، کچھ چیزوں کا اسے علم نہیں، پڑھا لکھا بھی جانتا ہے، اسے کچھ چیزوں کا علم ہے، کچھ چیزوں کا علم نہیں، ان پڑھ بھی جانتا ہے، اسے کچھ چیزوں کا علم ہے، کچھ چیزوں کا علم نہیں، بوڑھا بھی جانتا ہے، اسے کچھ چیزوں کا علم ہے، کچھ چیزوں کا علم نہیں، تو چھوٹا، بڑا، پڑھا لکھا، ان پڑھ، سب جانتے ہیں کہ انہیں کچھ چیزوں کا علم ہے، کچھ کو کیا کرنا پڑتا ہے؟ جاننا پڑتا ہے، یہ بات بدیہی ہے، اس میں کوئی دلیل قائم کرنے کی ضرورت۔ یہ معنی ہے کہ کچھ تصورات کیا ہیں؟ نظری، اور کچھ کیا ہیں؟ بدیہی، کچھ تصدیقات کیا ہیں؟ بدیہی، اور کچھ تصدیقات کیا ہیں؟ نظری، یہ بات بدیہی ہے، سب کو پتہ ہے کہ کچھ تصورات بدیہی ہیں اور کچھ نظری، اور کچھ تصدیقات بدیہی ہیں اور کچھ کیا ہیں؟ نظری، یہ بات بدیہی ہے، اس میں کسی دلیل کی ضرورت نہیں، بات سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟ اب دیکھیے عبارت: وَيَقْتَسِمَانِ بِالضَّرُورَةِ الضَّرُورَةَ وَالِاكْتِسَابَ بِالنَّظَرِ۔ اور یہ تصور اور تصدیق آپس میں بانٹ لیتے ہیں بدیہی طور پر، یوں کر لیں، یوں ترجمہ کریں: اور یہ بات بدیہی ہے، بالضرورة کو کہاں لے آؤ؟ اردو ترجمے میں، میں شروع میں لے آؤ، پھر بات واضح ہو جائے گی، بالضرورة، یہ بات بدیہی ہے، ضروری ہے کہ تصور، وَيَقْتَسِمَانِ الضَّرُورَةَ وَالِاكْتِسَابَ بِالنَّظَرِ، کہ تصور اور تصدیق ضرورت اور اکتساب بنظر کو آپس میں بانٹ لیتے ہیں، یہ بات بدیہی ہے، یہ بات بدیہی ہے، اس میں ذرا بھی غور و فکر کی ضرورت نہیں، ترجمہ سمجھ میں آیا؟ یا یوں ترجمہ کر لیں، با محاورہ یوں کر لیں: وَيَقْتَسِمَانِ بِالضَّرُورَةِ الضَّرُورَةَ وَالِاكْتِسَابَ بِالنَّظَرِ۔ اور تصور اور تصدیق بدیہی طور پر آپس میں بانٹ لیتے ہیں ضرورت اور اکتساب بنظر کو۔ تو جب آپس میں بانٹ لیا، تو جس تصور نے ضرورت میں سے حصہ لیا، وہ کیا کہلائے گا؟ تصورِ ضروری اور تصورِ بدیہی، اور جس تصور نے اکتساب بنظر سے حصہ لیا، وہ کیا کہلائے گا؟ تصورِ کسَبی اور تصورِ نظری۔ اسی طرح جس تصدیق نے ضرورت میں سے حصہ لیا، وہ کیا کہلائے گی؟ تصدیقِ ضروری اور تصدیقِ بدیہی، اور جس تصدیق نے اکتساب بنظر میں سے حصہ لیا، وہ کیا کہلائے گی؟ تصدیقِ کسَبی اور تصدیقِ نظری کہلائے گی۔ نیچے اب شرح میں دیکھیے بھئی: قَوْلُهُ: وَيَقْتَسِمَانِ، مصنف کا قول: وَيَقْتَسِمَانِ، کہتے ہیں: الِاكْتِسَامُ بِمَعْنَى أَخْذِ الْقِسْمَةِ عَلَى مَا فِي الْأَسَاسِ۔ کہ اقتسام جو ہے بِمَعْنَى أَخْذِ الْقِسْمَةِ، قسمت کا معنی حصہ، حصہ، اخذ کا معنی ہے لینا، کہ اقتسام حصہ لینے کے معنی میں ہے، اقتسام کا کیا معنی ہے؟ حصہ لینا، آپس میں بانٹ لینا، حصہ لے لینا، عَلَى مَا فِي الْأَسَاسِ، بناء پر اس کے جو اساس کتاب میں ہے، اساس یہ لغت کی ایک کتاب ہے۔ جیسے آپ مختلف عربی الفاظ کے معنی دیکھنے ہوں تو آپ لغت کی کتاب اٹھاتے ہیں، منجد ہے یا اور دوسری لغت کی کتابیں اٹھاتے ہیں، جن میں ایک ایک عربی لفظ کا معنی لکھا ہوتا ہے کہ اس کا کیا معنی ہے، اسی طرح لغت کی ایک کتاب کیا ہے؟ اس کا نام ہے "اساس"۔ تو شارح کیا فرماتے ہیں؟ اقتسام کا معنی بیان کر رہے ہیں کہ اقتسام کا کیا معنی ہے؟ اپنا حصہ لے لینا، یعنی آپس میں بانٹ لینا، عَلَى مَا فِي الْأَسَاسِ، بناء پر اس کے جو کس میں ہے؟ اساس، اساس جو لغت کی کتاب ہے، اس میں اس اقتسام کا یہ معنی لکھا ہے۔ بھئی دراصل یہاں پر اور شارحین نے اقتسام کو بمعنی تقسیم ہونے کے معنی میں لیا، یعنی اقتسام بابِ افتعال کو بابِ انفعال کے معنی میں لے لیا کہ يَقْتَسِمَانِ بمعنی انقسام کے ہے، يَقْتَسِمَانِ کیا معنی؟ یعنی تقسیم ہونا، دیکھو ذرا اوپر متن میں پھر آؤ: وَيَقْتَسِمَانِ، انہوں نے تو کیا ترجمہ کیا؟ کہ تصور اور تصدیق آپس میں بانٹ لیتے ہیں، لیکن دیگر شارحین انہوں نے اِقْتَسَمَ کا معنی کیے: اِنْقَسَمَ، تقسیم ہونا، تو یوں کر لیں کہ یہ دونوں تقسیم ہو جاتے ہیں، کون؟ تصور اور تصدیق، ضمیر کس کو راجع؟ تصور اور تصدیق، یہ دونوں، یہ دونوں خود تقسیم ہو جاتے ہیں۔ اور تقسیم ہونا یہ تو فعلِ لازم ہے، اس کے لیے تو مفعول نہیں چاہیے۔ ہم نے تو ابھی بتایا نا يَقْتَسِمَانِ کا کیا معنی؟ آپس میں بانٹ لینا، اور الضَّرُورَةَ اس کے لیے کیا ہے؟ الضَّرُورَةَ وَالِاكْتِسَابَ اس کے لیے مفعول ہے، کیونکہ اقتسام حصہ بانٹ لینا یہ فعلِ متعدی ہے، اس کے لیے مفعول چاہیے، یہ بانٹ لیتے ہیں بھئی، کس چیز کو بانٹتے ہیں؟ مفعول چاہیے یا نہیں چاہیے؟ لیکن انقسام کے معنی میں لیں، تو انقسام تو فعلِ لازمی ہے۔ انقسام کا تو معنی ہے خود تقسیم ہو جانا، اس کے لیے تو مفعول چاہیے ہی نہیں۔ تو جنہوں نے اس يَقْتَسِمَانِ کو کس معنی میں لیا؟ انقسام کے معنی میں، کہ تصور اور تصدیق دونوں تقسیم ہو جاتے ہیں، ان کو کہنا پڑا کہ اصل میں عبارت یوں تھی، ذرا بالضرورة کو ہٹا دو: وَيَقْتَسِمَانِ إِلَى الضَّرُورَةِ وَالِاكْتِسَابِ بِالنَّظَرِ۔ یہاں "إِلَى" تھا، مفعول تو یہ بن نہیں سکتے، کیونکہ اقتسام کو کس معنی میں لے لیا؟ انقسام، اس کے لیے تو مفعول آتا نہیں، تو پھر یہاں "إِلَى" حرفِ جار ذکر تھا، اور عبارت اصل میں یوں تھی: یہ تصور اور تصدیق تقسیم ہو جاتے ہیں إِلَى الضَّرُورَةِ وَالِاكْتِسَابِ بِالنَّظَرِ، کس کی طرف تقسیم ہوتے ہیں؟ ضرورت اور، یعنی بداہت اور اکتساب بنظر نظری ہونے کی طرف تقسیم ہو جاتے ہیں، بدیہی اور نظری ہونے کی طرف تقسیم ہو جاتے ہیں۔ تو اصل میں یہاں تھا "إِلَى"، پھر اس "إِلَى" حرفِ جار تھا اور وہ کیا دیتا ہے؟ جر، تو یہ الضَّرُورَةِ وَالِاكْتِسَابِ یہ دونوں کیا تھے؟ مجرور، پھر "إِلَى" کو حذف کر لیا گیا۔ "إِلَى" کو حذف کیا گیا اور ضرورت اور اکتساب کو نصب دے دیا گیا۔ جر کون دے رہا تھا؟ "إِلَى"، وہ "إِلَى" کو حذف کر دیا، تو اب اس کو حذف کیا اور ضرورت اور اکتساب کو کیا دے دیا؟ نصب دے دیا، یاد رکھیے اس کو کہتے ہیں "منصوب بنزع الخافض" کہ یہ دونوں کیا ہیں؟ منصوب ہیں، اس وقت، پہلے کیا تھے؟ مجرور، منصوب، اور نزعٌ، نزعٌ کا معنی ہے کھینچ لینا، ہٹا دینا، ہٹا دینا، اور خافضٌ، خافض، خفض جر کو کہتے ہیں، خ، ا، ف، ض، خفض کسے کہتے ہیں؟ جر، خافضٌ، جارة، جر دینے والا، خفض دینے والا۔ تو یہاں "إِلَى" جارة تھا، یعنی "إِلَى" خافضہ یہاں موجود تھا، کیا تھا؟ "إِلَى" خافضہ موجود تھا، جر دینے والا، تو اس "إِلَى" کو کیا کیا ہم نے؟ نزع، ہٹا دیا، نزع کر دیا، تو نزعِ خافض ہوا یہاں پر، کیا ہوا؟ خافض جر دینے والی لفظ کو ہٹا دیا، اور اس لفظ کو اب کیا پڑھا؟ نصب پڑھ دیا، تو عربی میں ایسا ہوتا ہے، بعض اوقات حرفِ جار کو حذف کر لیتے ہیں اور اس لفظ پر پھر نصب پڑھ دیا جاتا ہے، تو ان شارحین نے یہ کہا کہ یہ بھی الضَّرُورَةَ وَالِاكْتِسَابَ بِالنَّظَرِ منصوب ہیں، لیکن انہوں نے اس کو کیا بنایا تھا؟ منصوب بنزع الخافض، یاد رہے گا؟ یہ جگہ جگہ کتابوں میں آئے گا، وہاں لکھا ہوتا ہے، منصوب، یہ منصوب بنزع الخافض ہے، کیا معنی؟ آپ سمجھ گئے، معلوم ہوا یہاں کوئی حرفِ جار تھا جو ان کو کیا کر رہا تھا؟ جر دے رہا تھا، پھر اس حرفِ جار کو کیا کر دیا گیا؟ حذف کر دیا گیا، اور پھر اس، ان لفظوں کو پر کیا پڑھا گیا؟ نصب، تو ان کو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ منصوب بنزع الخافض۔ تو بعض شارحین نے اقتسام کو کس معنی میں لیا؟ انقسام کے معنی میں، اور انقسام تو فعلِ لازمی ہے، اس کے لیے تو مفعول نہیں چاہیے ہے، تو پھر انہوں نے کہا کہ یہ جو الضَّرُورَةَ وَالِاكْتِسَابَ بِالنَّظَرِ منصوب ہیں، یہ مفعول نہیں بلکہ کیا ہے؟ منصوب بنزع الخافض ہیں، شارح نے بتلا دیا کہ نہیں بھئی، اقتسام بمعنی انقسام کے نہیں ہے، بلکہ اقتسام بِمَعْنَى أَخْذِ الْقِسْمَةِ، یہ کس معنی میں ہے؟ اپنا حصہ لینے کے معنی میں ہے، عَلَى مَا فِي الْأَسَاسِ، بناء پر اس کے جو کس میں مذکور ہے؟ کتاب، لغت کی کتاب اساس میں مذکور ہے، تو معلوم ہوا یہ متعدی ہے، اور یہ جو ضرورت اور اکتساب ہیں، یہ مفعول بہ ہونے کی بناء پر منصوب ہیں، منصوب بنزع الخافض کی قبیل سے یہ نہیں ہیں بھئی۔ آگے دیکھیے بھئی شرح میں: أَيْ يَقْتَسِمُ التَّصَوُّرُ وَالتَّصْدِيقُ، یعنی تقسیم کر لیتے ہیں تصور اور تصدیق، دونوں، یہ تقسیم کر لیتے ہیں، بھئی کس کو تقسیم کرتے ہیں؟ عبارت پہ نظر ہے؟ كُلًّا، ہر ایک کو، کل کا کیا معنی ہے؟ ہر ایک، كُلُّ الطُّلَّابِ، سارے طلباء، ہر ایک طالب علم، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تصور اور تصدیق آپس میں حصہ لے لیتے ہیں یا آپس میں بانٹ لیتے ہیں، كُلًّا، ہر ایک کو، بھئی وہ کیا ہے؟ ہر ایک کیا چیز؟ تو من کے ساتھ اس کا بیان آ گیا، تصور اور تصدیق ہر چیز کو آپس میں تقسیم، بانٹ لیتے ہیں، بھئی کیا ہر چیز؟ ہمیں تو نہیں پتہ، تو اس میں کیا ہے؟ ابہام، تو آگے من کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے؟ اس کو بیان کیا جاتا ہے، ہر ایک، بھئی کیا معنی ہر ایک کیا؟ کہتے ہیں: مِنْ وَصْفَيِ الضَّرُورَةِ، أَيِ الْحُصُولِ بِلَا نَظَرٍ، وَالِاكْتِسَابِ، أَيِ الْحُصُولِ بِالنَّظَرِ۔ عبارت پہ ذرا نظر رکھو: كُلًّا مِنْ وَصْفَيِ الضَّرُورَةِ، اصل میں تھا وَصْفَيْنِ، وَصْفَيْنِ، دو وصف، اور پھر اس کی اضافت ہوئی الضَّرُورَةِ کی طرف، تثنیہ کا نون کیا ہے؟ اضافت میں گر جائے، دو وصف، کون سے دو وصف؟ الضَّرُورَةِ، ایک تو کیا ہے؟ ضرورت ہے، درمیان میں آئے أَيِ الْحُصُولِ بِلَا نَظَرٍ، یہ اسی ضرورت کا معنی بیان کر دیا، ضرورت کا کیا معنی؟ أَيِ الْحُصُولِ بِلَا نَظَرٍ، یعنی بغیر نظر کے ایک چیز کا حاصل ہونا۔ وَالِاكْتِسَابِ، اس کا عطف وہ جو پیچھے الضَّرُورَةِ پر گزرا، مِنْ وَصْفَيِ الضَّرُورَةِ وَالِاكْتِسَابِ، اور اکتساب سے آگے پھر اس کا معنی ہے: أَيِ الْحُصُولِ بِالنَّظَرِ، یعنی نظر و فکر سے حاصل ہونا۔ عبارت پہ نظر ہے؟ یہ أَيِ الْحُصُولِ بِلَا نَظَرٍ، یہ کیا ہے؟ یہ الضَّرُورَةِ کا معنی بیان ہو رہا ہے، کس کا؟ الضَّرُورَةِ کا، ذرا اس کو ہٹا دو، آگے وَالِاكْتِسَابِ أَيِ الْحُصُولِ بِالنَّظَرِ، اس کو بھی کیا، أَيِ الْحُصُولِ بِالنَّظَرِ، یہ کیا ہے؟ اکتساب کا معنی بیان، اس کو بھی ذرا ہٹا دو، عبارت کیا بن گئی؟ كُلًّا مِنْ وَصْفَيِ الضَّرُورَةِ وَالِاكْتِسَابِ۔ اب عبارت، ترجمہ سنو: اور تصور اور تصدیق آپس میں بانٹ لیتے ہیں كُلًّا، ہر ایک کو، بھئی کیا ہر ایک؟ بیان چاہیے، کہتے ہیں: مِنْ وَصْفَيِ الضَّرُورَةِ وَالِاكْتِسَابِ، یعنی ضرورت اور اکتساب کے جو دو وصف ہیں، ان میں سے ہر ایک کو کیا کر لیتے ہیں؟ آپس میں بانٹ لیتے ہیں، توجہ ہے؟ تصور اور تصدیق کیا کر لیتے ہیں؟ ہر ایک کو بانٹ لیتے ہیں، یعنی کہ ضرورت اور اکتساب کے جو دو وصف ہیں، ان کو آپس میں کیا کر لیتے ہیں یہ؟ بانٹ لیتے ہیں، تو کل سے دنیا کی ساری چیزیں نہیں مراد، بلکہ یہ دونوں وصف مراد ہیں، یعنی ضرورت اور اکتساب۔ تو یہ دونوں کیا کر لیتے ہیں؟ یہ دو جو وصف ہیں، کون سے؟ ضرورت اور اکتساب، ان کو، ان میں سے ہر ایک کو بانٹ لیتے ہیں، کون بانٹ لیتے ہیں؟ تصور اور تصدیق، عبارت سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟ تو کہتے ہیں: أَيْ يَقْتَسِمُ التَّصَوُّرُ وَالتَّصْدِيقُ كُلًّا مِنْ وَصْفَيِ الضَّرُورَةِ، أَيِ الْحُصُولِ بِلَا نَظَرٍ، وَالِاكْتِسَابِ، أَيِ الْحُصُولِ بِالنَّظَرِ۔ اور آپس میں بانٹ لیتے ہیں تصور اور تصدیق ہر ایک کو ضرورت، یعنی حصول بلا نظر، اور اکتساب، یعنی حصول بنظر کے دونوں وصفوں کو۔ فَيَأْخُذُ التَّصَوُّرُ قِسْمًا مِنَ الضَّرُورَةِ فَيَصِيرُ ضَرُورِيًّا۔ پس تصور لے لیتا ہے قِسْمًا، ایک قسم، کس میں سے؟ ایک حصہ کس میں سے؟ مِنَ الضَّرُورَةِ، ضرورت میں سے، فَيَصِيرُ ضَرُورِيًّا، تو وہ تصورِ ضروری، وہ ضروری بن جاتا ہے، یعنی بدیہی بن جاتا ہے۔ وَقِسْمًا مِنَ الِاكْتِسَابِ فَيَصِيرُ كَسْبِيًّا۔ اور ایک قسم، ایک حصہ لے لیتا ہے کس میں سے؟ تصور کی بات ہو رہی ہے نا، تصور دونوں سے حصہ لے گا یا نہیں؟ تصور کس سے، پھر دیکھیں: فَيَأْخُذُ التَّصَوُّرُ قِسْمًا مِنَ الضَّرُورَةِ فَيَصِيرُ ضَرُورِيًّا، پس تصور لے لیتا ہے ایک حصہ مِنَ الضَّرُورَةِ، ضرورت میں سے، فَيَصِيرُ ضَرُورِيًّا، تو وہ کیا بن جاتا ہے؟ تصورِ ضروری، تصورِ بدیہی ہو جاتا ہے، وَقِسْمًا مِنَ الِاكْتِسَابِ فَيَصِيرُ كَسْبِيًّا، اور ایک قسم، ایک حصہ لے لیتا ہے کس میں سے؟ اکتساب میں سے، فَيَصِيرُ كَسْبِيًّا، تو وہ کیا بن جاتا ہے؟ تصورِ کسَبی اور تصورِ نظری بن جاتا ہے، کسَبی اور نظری میں نے بتایا نا ایک ہی چیز، اور ضروری اور بدیہی، پھر بھول گئے۔ ضروری کا دوسرا نام کیا؟ بدیہی، اور کسَبی کا دوسرا نام کیا؟ نظری ہی کہو، تو وہ ضروری اور کسَبی بن جاتا ہے۔ وَكَذَا الْحَالُ فِي التَّصْدِيقِ۔ اور اسی طرح حال ہے کس کے اندر؟ تصدیق بھی، تصدیق اپنا حصہ لے لیتی ہے کس میں سے؟ ضرورت میں سے، تو وہ کیا بن جاتی ہے؟ تصدیقِ ضروری اور تصدیقِ بدیہی، اور اسی طرح تصدیق اپنا حصہ لے لیتی ہے کس میں سے؟ اکتساب بنظر سے، تو وہ کیا بن جاتی ہے؟ تصدیقِ کسَبی اور تصدیقِ نظری بن جاتی ہے۔ تو کہتے ہیں: فَالْمَذْكُورُ فِي هَذِهِ الْعِبَارَةِ صَرِيحًا، تو وہ جو مذکور کیا گیا ہے اس عبارت میں صریحاً، صاف لفظوں میں، هُوَ انْقِسَامُ الضَّرُورَةِ وَالِاكْتِسَابِ، وہ کس کی تقسیم ہے؟ ضرورت اور صراحتاً کس کی تقسیم ہو رہی ہے؟ ضرورت اور، لیکن ضمناً کس کی تقسیم ہو رہی ہے؟ تصور اور تصدیق، یہی بیان کر رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں: وہ جو ذکر کیا، وہ جو مذکور ہے اس عبارت میں صریحاً، صراحتاً، یعنی صاف لفظوں میں: هُوَ انْقِسَامُ الضَّرُورَةِ وَالِاكْتِسَابِ۔ وہ ضرورت اور اکتساب کا تقسیم ہونا ہے: وَيُعْلَمُ انْقِسَامُ كُلٍّ مِنَ التَّصَوُّرِ وَالتَّصْدِيقِ۔ اور معلوم ہو جاتا ہے تقسیم ہونا ہر ایک تصور اور تصدیق میں سے ہر ایک کا: إِلَى الضَّرُورِيِّ وَالْكَسْبِيِّ ضِمْنًا وَكِنَايَةً۔ تصدیق کا تقسیم ہونا ضروری اور کسَبی کی طرف ضمناً اور کنایۃً। کہتے ہیں بھئی، عبارت کے اندر صریح صاف لفظوں میں تقسیم تو کس کی ہو رہی ہے؟ ضرورت اور اکتساب بنظر کی، لیکن ضمناً اور کنایۃً کس کی تقسیم ہو رہی ہے؟ تصور اور تصدیق کی، معلوم ہوا تصور دو قسم پر: یا بدیہی ہو گا یا نظری، اسی طرح تصدیق بھی دو قسم پر: یا بدیہی ہو گی یا نظری ہو گی۔ تو کہتے ہیں: وَيُعْلَمُ انْقِسَامُ كُلٍّ مِنَ التَّصَوُّرِ وَالتَّصْدِيقِ إِلَى الضَّرُورِيِّ وَالْكَسْبِيِّ ضِمْنًا وَكِنَايَةً۔ اور معلوم ہو جاتا ہے تقسیم ہونا تصور اور تصدیق میں سے ہر ایک کا، تصور اور تصدیق دونوں میں سے ہر ایک کا ضروری اور کسَبی کی طرف تقسیم ہونا معلوم ہو جاتا ہے ضمناً اور کنایۃً۔ وَهِيَ أَبْلَغُ وَأَحْسَنُ مِنَ الصَّرِيحِ۔ اور کنایہ جو ہے، یہ ابلغ، یعنی افضل ہے اور احسن، یعنی بہتر ہے مِنَ الصَّرِيحِ، کس سے؟ صریح۔ یاد رکھیے ایک ہے صاف لفظوں میں بات کرنا اور ایک ہے کنائے کے رنگ میں گفتگو کرنا، کنایہ افضل ہے، احسن ہے کس سے؟ صریح سے۔ کنایہ کسے کہتے ہیں بھئی؟ کنایہ اسے کہتے ہیں کہ ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کیا جائے۔ یہ جگہ جگہ آئے گا کنایہ، آپ کو آنا چاہیے، کنایہ کسے کہتے ہیں؟ ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کرنا، جیسے دیکھو سورج، سورج کے ساتھ دن کا ہونا لازم ہے، سورج جب بھی نکلے گا کیا ہو گا؟ دن ہو گا، تو سورج ہوا ملزوم، اور اس کے ساتھ دن کا ہونا لازم۔ تو ملزوم بولیں، یعنی سورج کو ذکر کریں اور مراد کیا لے لیں؟ دن، یہ ہے کنایہ، یہ ہے کنایہ۔ دیکھیے بھئی، مثلاً میں آپ کو بتلانا چاہتا ہوں کہ زید کا قد لمبا ہے، زید کا قد لمبا ہے، یا یوں کہو زید لمبے قد والا ہے، تو ایک صریح الفاظ ہے، میں صاف لفظوں میں کہتا ہوں: زید لمبے قد والا ہے، یہ کیا ہے؟ صریح، صاف لفظوں میں میں نے کہا: زید لمبے قد والا ہے، اور ایک اسی بات کو میں کنائے کے رنگ میں کہتا ہوں، میں کیا کہتا ہوں؟ زید لمبی قمیص والا ہے، یا یوں کہتا ہوں: زید کی قمیص لمبی ہے۔ اور ارادہ کس کا ہے؟ اس کا قد، قمیص نہیں بتانا چاہ رہا، اگر میرا ارادہ قمیص ہی کا ہے، پھر تو کنایہ نہیں ہے بھئی، اگر میں بتانا بھی آپ کو یہی چاہتا ہوں کہ اس کی قمیص کیا ہے؟ لمبی، پھر کنایہ نہیں ہے، کنایہ میں بولا ملزوم جاتا ہے، ارادہ کس کا ہوتا ہے؟ لازم، تو یہاں میں نے ذکر کیا کہ قمیص لمبی ہے، اور ارادہ کس کا کر رہا ہوں؟ کہ اس کا قد لمبا ہے، کیونکہ قمیص کے لمبا ہونے کے ساتھ قد کا لمبا ہونا لازم، طبعی سی بات ہے جس کا قد لمبا ہو گا، اسی کی قمیص کیا ہو گی؟ لمبی، تو قمیص کے لمبے ہونے کے ساتھ قد کا لمبا ہونا لازم، توجہ ہے؟ قمیص کے لمبے ہونے کے ساتھ قد کا لمبا ہونا لازم، تو قمیص کا لمبا ہونا ہوا ملزوم، اور قد کا لمبا ہونا ہوا لازم، میں کس کو ذکر کر رہا ہوں؟ ملزوم، یعنی قمیص لمبی ہے، اور ارادہ کس کا ہے؟ لازم کہ اس کا قد لمبا ہے، اگر ملزوم بول کر میں اسی کا ارادہ کر رہا ہوں، یعنی ملزوم ہی کا، پھر یہ کنایہ نہیں ہے، میں کیا کہہ رہا ہوں؟ زید کی قمیص لمبی ہے، اور ارادہ بھی اسی معنی کا ہے، میں بتانا بھی یہی چاہتا ہوں کہ اس کی قمیص لمبی ہے، پھر کنایہ نہیں ہے، کنایہ تب ہے، یعنی کہوں ایک بات اور ارادہ دوسری بات کا ہو، پھر کنایہ ہے، تو میں نے کہا کیا؟ زید کی قمیص لمبی ہے، اور ارادہ کس کا کیا؟ کہ اس کا قد لمبا ہے، تو ملزوم بول کر کس کا ارادہ کیا؟ لازم، ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کیا، اور اسے کیا کہتے ہیں؟ کنایہ، کنایہ۔ اور یہ جو کنایہ ہے نا کنایہ، یہ افضل و اعلیٰ ہے، کیوں اعلیٰ ہے؟ کیونکہ دراصل اس میں دلیل ساتھ ہوتی ہے، صرف دعویٰ ہی نہیں ہوتا، دعوے کے ساتھ ساتھ کیا ہوتی ہے؟ دلیل بھی، بھئی ایک بات ہے آپ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ کتاب میری ہے، اور ایک دعویٰ یہ ہے کہ کتاب میری ہے، ساتھ دلیل بھی ذکر کر دیتے ہیں کہ مثلاً میں نے یہ کتاب کس سے خریدی ہے؟ زید سے خریدی ہے، زید آپ کے سامنے بیٹھا ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ مثلاً مثال ذکر کر رہا ہوں، تو ایک ہے صرف دعویٰ، اور ایک ہے دعوے کے ساتھ ساتھ دلیل بھی ذکر کر دیں، کیا چیز اعلیٰ؟ صرف دعویٰ یا دعوے کے ساتھ دلیل بھی ہو؟ ظاہر سی بات ہے دعوے کے ساتھ دلیل بھی ہو تو پھر کیا ہے؟ بات کا لطف ہو گا، بات اچھی طرح سمجھ میں آ جائے گی دلیل کے ذریعے، تو کنایہ جو ہوتا ہے نا کنایہ، اس میں دعوے کے ساتھ ساتھ دلیل بھی ہوتی ہے۔ کس طرح دلیل ہوتی ہے؟ میں نے کیا کہا؟ زید کی قمیص لمبی ہے، ارادہ کس معنی کا ہے؟ کہ اس کا قد لمبا ہے، تو میں نے کہا آپ کو زید کا قد لمبا ہے، گویا یہ کہہ دیا، کیا کہہ دیا؟ کنائے کے رنگ میں کہا نا کہ زید کی قمیص لمبی ہے، اور کس معنی کا ارادہ کیا کہ زید کا قد لمبا ہے، تو دیکھو اور ساتھ دلیل بھی آ گئی، دلیل کیا؟ اس کی قمیص لمبی ہے، یہی تو دلیل ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ارادہ کس معنی کا کیا؟ کہ اس کا قد لمبا ہے، لیکن ذکر کیا کیا کہ اس کی قمیص، تو دلیل بھی ساتھ ہی آ گئی، قد لمبا ہے، دلیل کیا ہے؟ بھئی اس کی قمیص، یہی تو دلیل ہے اس کی قمیص لمبی ہے، اگر قد چھوٹا ہوتا تو قمیص بھی کیا ہوتی؟ چھوٹی ہوتی۔ تو کنائے میں کیا ہوتا ہے؟ دلیل ساتھ ہوتی ہے، تو اور یہ ظاہر سی بات ہے کہ دعویٰ مع الدلیل کے ہو، وہ اعلیٰ و افضل ہے، اور نیز اس لیے بھی کنایہ افضل ہے کیونکہ کنائے میں غور کرنا پڑتا ہے، سوچنا پڑتا ہے، اور ایک بات خود ہی فوراً سمجھ میں آ جائے، اس کا لطف زیادہ ہے، یا ایک گہری بات جو غور و فکر کے بعد سمجھ میں آئے اس کا لطف زیادہ ہے؟ آپ بھی سبق میں دیکھتے ہوں گے، بعض اوقات آپ بیٹھے ہوتے ہیں، استاد کوئی بات گہری بات بیان کرتا ہے، اور جیسے ہی آپ کو سمجھ میں آتی ہے، آپ کو ایک عجیب لذت محسوس ہوتی ہے، لطف آتا ہے کہ کتنی گہری بات دیکھو مجھے معلوم ہو گئی، سمجھ میں آئی بات؟ تو دیکھا بات جتنی گہری ہو گی، اس کو سمجھنے کا اتنا ہی لطف بھی آئے گا، صاف لفظوں میں بات وہ تو بچہ، بڑا، پڑھا لکھا، ان پڑھ، ہر ایک سمجھ لے گا، لیکن جو گہری بات ہو گی اس کو ہر ایک نہیں سمجھ سکے گا، تو کنایہ اعلیٰ ہے صریح سے، کس اعتبار سے؟ ایک تو اس میں کیا ہوتا ہے؟ دلیل ساتھ، دعوے کے ساتھ ساتھ دلیل بھی ہوتی ہے، اور دوسرا اس میں دماغ خرچ کرنا پڑتا ہے، غور و فکر کرنا پڑتا ہے، بات ذرا گہری ہوتی ہے، فوراً ہی سمجھ میں نہیں آتی۔ تو اگر میں کہوں زید کی قمیص لمبی ہے، اور اس سے قمیص ہی کا ارادہ کروں، پھر کنایہ ہے؟ نہیں، پھر کنایہ نہیں ہے، بلکہ میں جب کہوں قمیص اور ارادہ اس کے لازم، یعنی قد کا لوں، پھر کیا ہے یہ؟ کنایہ ہے۔ اور مثال لے لو کنایہ کی، مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: زید کا بھئی نہیں ہے، زید کا بھئی نہیں ہے، یہ صاف لفظوں میں میں آپ کو بتا رہا ہوں، اس کو صریح کہتے ہیں، میں نے صاف لفظوں میں آپ کو بتایا کہ زید کا بھئی نہیں ہے، ایک اسی بات کو میں کنائے کے رنگ میں کہتا ہوں، کیا کہتا ہوں؟ زید کے بھئی کا بھئی نہیں ہے۔ اب یہی وہی بات، بات وہی ہے کیا؟ زید کا بھئی نہیں ہے، لیکن وہ تھی صریح، وہ صاف لفظوں میں تھی، اس میں اس کا لطف نہیں تھا، اب اس میں میں کیا کہہ رہا ہوں؟ زید کے بھئی کا بھئی نہیں ہے، بات وہی ہے، کہنا میں کیا چاہتا ہوں؟ کہ زید کا بھئی نہیں ہے، لیکن لفظ کیا بول رہا ہوں؟ کنایہ استعمال کر رہا ہوں: زید کے بھئی کا بھئی نہیں ہے، بھئی کس طرح کنایہ ہے؟ دیکھو بھئی، ادھر دیکھو، فرض کر لو زید کا بھئی ہے، ایک صورت پہلے فرض کیا کر لو؟ زید کا بھئی ہے، دیکھو یہ، دیکھ رہے ہیں بھئی دو انگلیاں؟ یہ ایک کون ہے؟ زید، یہ دوسرا کون ہے اس کا؟ بھئی، اگر یہ زید کا بھئی ہے نا، تو ذرا اس بھئی پہ آ جاؤ، اس بھئی کا کوئی بھئی ہے؟ کون؟ خود زید ہی اس کا بھئی ہے، جب زید کا بھئی ہے، تو بھئی کا بھی بھئی کون ہوا؟ زید خود اس کا بھئی، بھئی کا بھئی ہوا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور جب زید کا بھئی نہیں، تو بھئی کا بھی بھئی نہیں ہے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اگر زید کا بھئی ہوتا، تو بھئی کا بھی بھئی ہوتا، لیکن میں تو کیا کہہ رہا ہوں؟ زید کے بھئی کا بھئی نہیں ہے، تو یہ وہی بات ہوئی، کس رنگ میں ہوئی؟ کنائے کے رنگ میں ہوئی بھئی۔ تو دیکھو دلیل بھی آ گئی ساتھ، یہی تو دلیل ہے، زید کا کوئی بھئی نہیں ہے، اگر بھئی ہوتا تو بھئی کا بھی بھئی ہوتا یا نہ ہوتا؟ ہاں، زید کا بھئی کا بھی بھئی ہوتا، لیکن جب بھئی کا بھئی نہیں، معلوم ہوا زید کا بھی بھئی نہیں ہے بھئی۔ اچھا جی، یہ معنی ہے، کہتے ہیں، دوبارہ دیکھیے، کہتے ہیں: فَالْمَذْكُورُ فِي هَذِهِ الْعِبَارَةِ صَرِيحًا هُوَ انْقِسَامُ الضَّرُورَةِ وَالِاكْتِسَابِ، تو اس عبارت میں صاف صریح طور پر جو مذکور ہے، وہ انقسام الضرورة والاکتساب، وہ ضرورت اور اکتساب کا تقسیم ہونا ہے، وَيُعْلَمُ انْقِسَامُ كُلٍّ مِنَ التَّصَوُّرِ وَالتَّصْدِيقِ، اور اس سے معلوم اور معلوم ہو جاتا ہے تقسیم ہونا تصور اور تصدیق میں سے ہر ایک کا، إِلَى الضَّرُورِيِّ وَالْكَسْبِيِّ، کس کی طرف؟ ضروری اور کسَبی کی طرف تصور اور تصدیق کا تقسیم ہونا یہ معلوم ہو جاتا ہے، ضِمْنًا وَكِنَايَةً، ضمناً اور کنایۃً۔ ضمناً، یعنی اسی کے بیچ میں، تقسیم تو کس کی کر رہے ہیں؟ ضرورت اور اکتساب، لیکن اسی کے بیچ میں یہ بھی پتہ چل گیا کہ تصور اور تصدیق بھی کیا ہو رہے ہیں؟ یہ بھی تقسیم ہو رہے ہیں۔ تو ضمناً اور کنایۃً جو ہے، تصور اور تصدیق کی بھی تقسیم معلوم ہو گئی: وَهِيَ أَبْلَغُ وَأَحْسَنُ مِنَ الصَّرِيحِ۔ اور کنایہ جو ہے، یہ ابلغ، ابلغ بمعنی افضل کے ہے، اور کنایہ جو ہے، وہ افضل ہوتا ہے اور احسن، یعنی بہتر ہوتا ہے مِنَ الصَّرِيحِ، کس کے مقابلے میں؟ صریح کے مقابلے میں۔ قَوْلُهُ: بِالضَّرُورَةِ، متن میں کیا لفظ آیا تھا؟ وَيَقْتَسِمَانِ بِالضَّرُورَةِ، میں نے کیا معنی ذکر کیا بالضرورة کا؟ بالبداہۃ اور بالیقین کے، یعنی یہ جو تصور اور تصدیق کی دو قسمیں بنتی ہیں: نظری اور بدیہی، یہ تقسیم ہونا کیا ہے؟ تصور اور تصدیق کی دو دو قسمیں ہونا یہ بدیہی ہے، اس میں کسی دلیل قائم کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہی بیان کر رہے ہیں: قَوْلُهُ: بِالضَّرُورَةِ، مصنف کا قول: بالضرورة، إِشَارَةٌ إِلَى أَنَّ هَذِهِ الْقِسْمَةَ بَدِيهِيَّةٌ، یہ اشارہ ہے اس طرف کہ یہ جو تقسیم ہے یہ بدیہی ہے، لَا يَحْتَاجُ إِلَى تَجَشُّمِ الِاسْتِدْلَالِ، یہ دلیل قائم کرنے کی مشقت کی محتاج نہیں۔ تجشم کا معنی ہے مشقت اٹھانا، تکلیف اٹھانا، مشقت برداشت کرنا۔ استدلال کا معنی ہے دلیل بنانا، دلیل قائم کرنا۔ تو یہ جو تقسیم ہے، تصور اور تصدیق کی، کس کی طرف؟ بدیہی اور نظری کی طرف، ان هذه القسمة بدیهیة، یہ تقسیم ان هذه القسمة بدیهیة، یہ تقسیم کیا ہے؟ بدیہی ہے، لَا يَحْتَاجُ إِلَى تَجَشُّمِ الِاسْتِدْلَالِ، یہ دلیل قائم کرنے کی، مشقت اٹھانے کی محتاج نہیں، کَمَا ارْتَكَبَهُ الْقَوْمُ، جیسے کہ ارتکاب کیا ہے بعض لوگوں نے۔ ارتکب، ارتکاب کرنا، کسی عمل کرنا، کوئی کام کرنا، جیسے کہ بعض لوگوں نے یہ کا، یہ ارتکاب کیا ہے، یہ عمل کیا ہے، انہوں نے یہاں دلیل دینے کی کوشش کی ہے، شارح ان کا رد کر رہے ہیں کہ نہیں بھئی، یہ بدیہی چیز ہے، اس کے لیے کسی دلیل دینے کی ضرورت نہیں، جیسے سورج دیکھو مشرق سے نکلے، تو سب کو نظر آئے گا، اب کوئی آپ سے، آپ اس پر دلیل دیں دوسرے کو کہ بھئی سورج نکلا ہوا ہے، کوئی دلیل دینے کی ضرورت ہے؟ نہیں، دلیل اس چیز پر دی جاتی ہے جس میں کچھ خفاء ہو، جو سمجھ میں نہ آئے، یہ تو سب کو پتہ ہے، سب کو نظر آ رہا ہے کہ سورج نکلا ہوا ہے۔ تو یہ معنی ہے: کَمَا ارْتَكَبَهُ الْقَوْمُ، جیسے کہ بعض لوگوں نے ان لوگوں نے یہ ارتکاب کیا، کیا ارتکاب کیا؟ کہ انہوں نے دلیل قائم کی ہے اس پر اور یہ درست نہیں۔ وَذَلِكَ، بھئی یہ کس طرح؟ آپ نے یہ کیا کہا؟ کہ تصور کی بھی دو قسمیں ہیں: بدیہی اور نظری، تصدیق کی بھی دو قسمیں: بدیہی اور نظری، تو تصور اور تصدیق دونوں کا بدیہی اور نظری کی طرف تقسیم ہونا آپ نے کہا یہ دلیل کا محتاج نہیں، کیسے؟ کہتے ہیں بھئی دیکھو، آپ خود دیکھ لیں، آپ خود اپنے عقل میں ذرا غور کر لیں چیزوں پر، آپ دیکھیں گے کچھ چیزیں ہمیں بغیر غور و فکر کے خود ہی معلوم ہو جاتی ہیں، اور کچھ میں ہمیں کیا کرنا پڑتا ہے؟ سوچنا پڑتا ہے، دماغ خرچ کرنا پڑتا ہے، کیا دنیا کی ساری چیزوں کا آپ کو پتہ ہے؟ نہیں، یا دنیا کی کسی بھی چیز کا آپ کو پتہ نہ ہو، ایسا ہے؟ نہیں، کچھ کا پتہ ہے، کچھ کا پتہ نہیں، یہ ہر چھوٹا بچہ، بڑا، ہر ایک جانتا ہے، کوئی دلیل قائم کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہی بیان کر رہے ہیں: وَذَلِكَ لِأَنَّا إِذَا رَجَعْنَا إِلَى وِجْدَانِنَا، وجدان کہتے ہیں قوتِ ادراکیہ جس کے ذریعے چیزوں کا کیا کر، یہ شعور کہہ لو، یعنی جب ہم اپنے، یوں کہو آسان لفظوں میں عقل میں، کیا کرے؟ اپنی عقل میں، اپنے شعور میں ہم غور و فکر، إِذَا رَجَعْنَا إِلَى وِجْدَانِنَا، جب ہم اپنے وجدان کی طرف رجوع کریں، یعنی اپنی عقل کی طرف رجوع کریں، وَجَدْنَا مِنَ التَّصَوُّرَاتِ مَا هُوَ حَاصِلٌ لَنَا بِلَا نَظَرٍ، تو ہم پاتے ہیں بعض تصورات جو ہیں، مَا هُوَ حَاصِلٌ لَنَا بِلَا نَظَرٍ، کہ وہ ہمیں حاصل ہوتے ہیں بغیر نظر و فکر کے، كَتَصَوُّرِ الْحَرَارَةِ وَالْبُرُودَةِ، جیسے کہ گرمی اور ٹھنڈک کا تصور، گرمی اور سردی کا تصور، گرمی اور سردی، گرمی کسے کہتے ہیں؟ سردی کسے کہتے ہیں؟ بچہ بھی جانتا ہے، بڑا بھی جانتا ہے، پڑھا لکھا بھی جانتا ہے، ان پڑھ بھی جانتا ہے، وہی بات جو میں نے پہلے ذکر کی تھی، کچھ چیزیں ہیں جن کو ہر ایک جانتا ہے، وہ کیا ہیں؟ بدیہی، کچھ میں غور و فکر کرنا پڑتا ہے، وہ کیا ہیں؟ نظری، وہی بیان کر رہے ہیں: كَتَصَوُّرِ الْحَرَارَةِ، کہ کچھ تصورات جو ہیں، مَا هُوَ حَاصِلٌ لَنَا بِلَا نَظَرٍ كَتَصَوُّرِ الْحَرَارَةِ وَالْبُرُودَةِ، جو ہمیں حاصل ہیں بغیر نظر و فکر کے، جیسے گرمی اور سردی کا تصور، وَمِنْهَا مَا هُوَ حَاصِلٌ بِالنَّظَرِ وَالْفِكْرِ، اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو حاصل ہیں نظر و فکر کے ذریعے، كَتَصَوُّرِ حَقِيقَةِ الْمَلَكِ وَالْجِنِّ، جیسے حقیقتِ ملک، ملک فرشتے کو کہتے ہیں، جیسے جن اور فرشتے کی حقیقت کا تصور، کہ جن کسے کہتے ہیں اور فرشتہ کسے کہتے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ میں نے بتلایا آپ کو، فرشتہ کسے کہتے ہیں؟ ایک، ایک نورانی مخلوق ہے جسے اللہ نے نور سے پیدا فرمایا ہے، مختلف صورتیں وہ بدل سکتی ہے، ہاں ان میں مذکر مؤنث نہیں ہوتا، اور ان میں اولاد کا سلسلہ بھی نہیں چلتا، جبکہ جن ایک مخلوق ہے جس کو اللہ نے آگ سے پیدا فرمایا ہے، اور ان میں مذکر اور مؤنث ہوتے ہیں، اور ان میں اولاد کا سلسلہ بھی چلتا ہے انسانوں کی طرح بھئی۔ یہ معنی ہے: كَتَصَوُّرِ حَقِيقَةِ الْمَلَكِ وَالْجِنِّ، جیسے جن، جیسے کہ فرشتے اور جن کی حقیقت کا تصور، وَكَذَا مِنَ التَّصْدِيقَاتِ مَا يَحْصُلُ بِلَا نَظَرٍ، اور اسی طرح وہ تصدیقات میں سے بھی بعض جو ہیں، مَا يَحْصُلُ بِلَا نَظَرٍ، جو ہمیں حاصل ہوتی ہیں بغیر غور و فکر کے، كَالتَّصْدِيقِ بِأَنَّ الشَّمْسَ مُشْرِقَةٌ، جیسے یہ تصدیق بِأَنَّ الشَّمْسَ مُشْرِقَةٌ، کہ سورج چمکدار ہے، مشرق چمکدار، روشن، بِأَنَّ الشَّمْسَ مُشْرِقَةٌ، شمس مؤنثِ سماعی ہے، اسی لیے مُشْرِقَةٌ خبر کیا لائی گئی؟ مؤنث لائی گئی۔ توجہ ہے؟ شمس کا لفظ کیا ہے عربی میں؟ مؤنث استعمال ہوتا ہے، اسی لیے مُشْرِقَةٌ خبر کیا لائی گئی؟ مؤنث لائی گئی، جیسے بھئی کہ سورج چمکدار ہے، وَالنَّارَ مُحْرِقَةٌ، اور آگ جلانے والی ہے، احرق یحرق احراق کا معنی ہے جلانا، آگ، بھئی سورج چمکدار ہے، سورج روشن ہے، کیا کسی دلیل کی ضرورت ہے؟ نہیں، ہر ایک اس کو جانتا ہے، آگ جلانے والی ہے، آگ چیز کو جلا دیتی ہے، کیا کسی دلیل کی ضرورت ہے؟ نہیں، چھوٹا، بڑا، پڑھا لکھا، ان پڑھ، کم ذہن والا، تیز ذہن والا، سب یہ چیزیں جانتے ہیں بھئی، تو یہ وہ تصدیقات ہیں جو ہمیں حاصل ہوتی ہیں بغیر غور و فکر کے۔ وَمِنْهَا مَا يَحْصُلُ بِالنَّظَرِ، اور ان میں سے بعض تصدیقیں وہ ہیں جو حاصل ہوتی ہیں ہمیں نظر و فکر سے، كَالتَّصْدِيقِ بِأَنَّ الْعَالَمَ حَادِثٌ، جیسے یہ تصدیق اس بات کی کہ عالم کیا ہے؟ حادث ہے۔ حادث اور قدیم یاد رکھو، قدیم تو ویسے تو اردو میں قدیم کا معنی پرانا، لیکن اصطلاحی لفظ ہے یہاں، قدیم کا معنی ہے وہ چیز جس پر کبھی عدم نہ آیا ہو۔ قدیم کسے کہتے ہیں؟ جس پر کبھی عدم نہ آئے، یعنی کبھی بھی کوئی بھی زمانہ ایسا نہیں تھا کہ اس چیز کا وجود نہیں تھا۔ اس کو کیا کہیں گے؟ قدیم، یعنی جس پر کبھی بھی عدم نہ آیا ہو۔ اور حادث وہ چیز ہے جس پر کبھی نہ کبھی عدم آیا ہو، ایک زمانہ تھا کہ اس چیز کا وجود نہیں تھا، اور یاد رکھو قدیم جو ہے نہ قدیم، صرف اللہ کی ذات اور اللہ کی صفات ہیں، اللہ کی ذات ہمیشہ سے ہے، اور جب سے اللہ کی ذات ہے، اللہ کی صفات بھی ہیں، کبھی بھی کوئی ایسا زمانہ نہیں تھا جس میں اللہ کی ذات یا صفات کا وجود نہ ہو، تو قدیم صرف کون؟ اللہ اور اللہ کی صفات، توجہ ہے؟ اللہ کی ذات اور صفات کیا ہیں؟ قدیم، جبکہ اس کے، اللہ کے علاوہ باقی تمام کائنات کی جتنی بھی چیزیں ہیں وہ سب حادث ہیں، وہ سب کیا ہیں؟ حادث ہیں، یعنی ایک زمانہ تھا کہ ان چیزوں کا وجود نہیں تھا، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو یہ عالم، سارا جہان کیا ہے؟ حادث ہے، حادث ہے، یہ تصدیق نظر و فکر کی محتاج ہے، بغیر نظر و فکر کے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی، غور و فکر کرنا پڑے گا، پھر سمجھ میں آئے گا کہ یہ عالم کیا ہے؟ حادث۔ سمجھ میں آئی بات؟ اگر بدیہی ہوتی، پھر تو ہر ایک مانتا، حالانکہ کفار کیا کہتے ہیں؟ کہ عالم ہمیشہ سے ہے، بہرحال اب تو، اب تو سائنس نے بھی اس بات کی تصدیق کر دی ہے، اب تو سائنسدان بھی ماننے لگ پڑے ہیں کہ یہ عالم ہمیشہ سے نہیں ہے، عالم کیا ہے؟ ہمیشہ سے نہیں، ایک زمانہ تھا کہ اس کا وجود نہیں تھا بھئی۔ تو بہرحال، چاہے وہ ماننے بھی لگے ہیں کس کے ذریعے؟ دلیل کے ذریعے، تجربات کے ذریعے، غور و فکر کے ذریعے ان کو یہ معلوم ہوا کہ یہ عالم حادث ہے، قدیم نہیں ہے، پہلے تو کیا کہتے تھے؟ یہ عالم قدیم ہے۔ اسی طرح: وَالصَّانِعَ مَوْجُودٌ، اور یہ تصدیق اس بات کی کہ صانع، صانع بنانے والا، یعنی خالق، صانع کا کیا معنی ہے؟ خالق، خالق موجود ہے، یعنی اللہ کی ذات موجود ہے۔ ایک ذات ہے جو ان تمام چیزوں کو پیدا کرنے والی ہے، وہ کیا ہے؟ موجود ہے۔ یہ تصدیق کہ اللہ موجود، یوں کہہ لو اللہ موجود ہے، یوں کہو خالق موجود ہے، یہ تصدیق کون سی ہے؟ نظری ہے، غور و فکر کرنا پڑے گا، پھر بات سمجھ میں آئے گی بھئی۔ آپ دیکھتے نہیں؟ کفار جو داہریے ہیں، وہ اللہ کے وجود کو تسلیم ہی نہیں کرتے، اگر یہ بدیہی ہوتا تو وہ بھی مانتے یا نہ مانتے؟ معلوم ہوا اللہ کا وجود، اللہ کا، اللہ موجود ہے، یہ بدیہی نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ نظری ہے، اس کے لیے دلیل چاہیے۔ تو حاصلِ کلام کیا ہوا؟ کہ تصورات کچھ بدیہی ہیں اور کچھ نظری ہیں، اسی طرح تصدیقات کچھ بدیہی ہیں اور کچھ نظری ہیں، تصدیقِ بدیہی جیسے سورج چمکدار ہے، یہ ہر ایک جانتا ہے، کوئی دلیل دینے کی ضرورت نہیں، اسی طرح آگ جلانے والی ہے، یہ بھی ہر ایک کو پتہ ہے، اور تصدیقِ نظری، مثلاً کہ عالم کیا ہے؟ حادث ہے، اور ص، خالق موجود ہے، کوئی ذات موجود ہے جو ان سب چیزوں کو پیدا کرنے والی ہے، تو اس کے لیے باقاعدہ دلیل چاہیے، یہ نظری ہے، جبھی تو کفار کیا کرتے ہیں؟ داہریے اس کا انکار کرتے ہیں۔ حاصلِ کلام پھر سمجھ لیں بھئی، آج ہم نے متن میں پڑھا: وَيَقْتَسِمَانِ بِالضَّرُورَةِ الضَّرُورَةَ وَالِاكْتِسَابَ بِالنَّظَرِ۔ اور شارح نے آپ کو بتلایا کہ يَقْتَسِمَانِ یہ فعلِ متعدی ہے اور اس کے لیے الضَّرُورَةَ وَالِاكْتِسَابَ مفعول بہ بن رہے ہیں، اور بعض شارحین نے اقتسام کو بمعنی انقسام کے لیا، یعنی تقسیم ہونا، اور وہ تو فعلِ لازم ہے، اس کے لیے تو مفعول نہیں چاہیے، تو وہ، انہوں نے پھر کہا کہ الضَّرُورَةَ وَالِاكْتِسَابَ یہ منصوب ہیں، منصوب بنزع الخافض۔ تو شارح نے بتلایا کہ نہیں، یہ منصوب بنزع الخافض نہیں ہیں بلکہ یہ مفعول بہ بن رہے ہیں کس کے لیے؟ اقتسام کے لیے، اور پھر شارح نے آپ کو بتلایا کہ یہاں صریح طور پر جو تقسیم ہو رہی ہے، صاف لفظوں میں، وہ تو ضرورت اور اکتساب بنظر کی ہے، لیکن ضمناً اور کنایۃً کس کی تقسیم ہو رہی ہے؟ تصور اور تصدیق کی کہ وہ دو دو قسم پر ہیں، تو وہ، کہ وہ دونوں یا بدیہی ہوں گے یا نظری ہوں گے۔ میں نے آپ کو بتلایا، ایک ہے بدیہی اور ایک ہے ضروری، دونوں کا ایک معنی ہے، اسی طرح میں نے آپ کو بتلایا کہ نظری اور کسَبی، دونوں کا ایک ہی معنی ہے۔ تو صراحتاً جو ہے، یہاں تقسیم ضرورت اور اکتساب بنظر کی ہے، لیکن ضمناً اور کنایۃً کس کی تقسیم ہو رہی ہے؟ تصور اور تصدیق کی، اور کنایہ کیا ہوتا ہے؟ وہ صریح سے اعلیٰ و افضل ہوتا ہے، اور کنایہ کسے کہتے ہیں؟ ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کرنا، اور کنایہ اس لیے افضل ہے کہ کیونکہ اس میں دعوے کے ساتھ ساتھ دلیل بھی ذکر ہوتی ہے، اور نیز اس لیے بھی کنایہ افضل ہے کیونکہ اس میں غور و فکر کرنا پڑتا ہے، اور وہ بات جو آسانی سے معلوم ہو اس کے مقابلے میں وہ بات جو، وہ بات جو غور و فکر سے معلوم ہو، اس کی لذت ہی زیادہ، اس کی لذت بہت زیادہ ہوتی ہے، تو معلوم ہوا کہ کنایہ کیا ہے؟ صریح سے افضل۔ اس کے بعد انہوں نے یہ بھی بتلایا کہ اوپر متن میں جو بالضرورة کا لفظ آیا، کہ بالضرورة کے معنی بالبداہۃ کے ہیں، کہ یعنی یہ جو تصور اور تصدیق کی تقسیم ہو رہی ہے بدیہی اور نظری کی طرف، یہ بات بدیہی ہے، اس کے لیے کوئی دلیل قائم کرنے کی ضرورت نہیں، جیسے سورج نکلا ہو تو اس کے نکلنے پر کوئی دلیل قائم کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ سب کو نظر آ رہا ہے، اس میں کسی قسم کا خفاء اور پوشیدگی نہیں ہے بھئی۔ کہ آپ خود اپنے عقل میں، اپنے ذہن میں آپ غور کر لیں، آپ دیکھیں گے کچھ چیزیں جو ہیں، وہ ہمیں بغیر غور و فکر کے حاصل ہوتی ہیں، اور کچھ چیزوں میں ہمیں کیا کرنا پڑتا ہے؟ غور و فکر کرنا پڑتا ہے، تو وہ غور و فکر کے بغیر جو چیز حاصل ہوئی وہ ہے بدیہی، اور جو غور و فکر کر کے حاصل ہوئی وہ کیا ہے؟ نظری، پھر وہ بدیہی اگر تصور کی قبیل سے ہے تو اسے تصورِ بدیہی کہیں گے، اور وہ بدیہی اگر تصدیق کی قبیل سے ہے تو اس کو تصدیقِ بدیہی کہیں گے، اور وہ نظری جو غور و فکر سے ہمیں حاصل ہوا، اگر وہ تصور کی قبیل سے ہے تو اسے تصورِ بدیہی کہیں، تصورِ نظری کہیں گے، اور اگر وہ تصدیق کی قبیل سے ہے تو اسے تصدیقِ نظری کہیں گے بھئی۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔