شرح میں:
قوله: العلمُ. "هو الصورة الحاصلة من الشيء عند العقل". والمصنف رحمه الله لم يتعرض لتعريفه إما للاكتفاء بالتصور بوجه ما في مقام التقسيم، وإما لأن تعريف العلم مشهور مستفيض، وإما لأن العلم بديعي التصور على ما قيل.
أچھا بھئی، متن کی شرح چل رہی ہے۔ اوپر متن میں دیکھیے: مقدمة أي هذه مقدمة، یہ مقدمہ ہے۔ العلم إن كان إذعاناً بالنسبة فتصديق وإلا فتصور.
علم جو ہے اگر وہ إذعان ہو نسبتِ حکمیہ یعنی نسبتِ تامہ خبریہ کا، إذعان کا کیا معنی؟ مان لینا، اعتقاد کر لینا کہ جس میں شک اور انکار باقی نہ رہے۔ شک بھی نہ ہو اور انکار بھی نہ ہو۔ تو اس کو تصدیق کہتے ہیں اور اگر ایسا نہ ہو تو اسے تصور کہتے ہیں۔
بھئی، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ مقدمہ ہے اور اس میں مصنف جو ہے علمِ منطق کی تعریف، موضوع اور غرض و غایت یعنی اس کا مقصد ذکر کریں گے۔ تو مقدمہ کے اندر مصنف نے علم کی تقسیم شروع کر دی تصور اور تصدیق کی طرف۔
بھئی، دیکھیے یہ تصور اور تصدیق کا ذکر مصنف نے کیا، اس کی وجہ کیا ہے؟ دراصل مصنف تعریف کرنا چاہتے ہیں علمِ منطق کی۔ اور علمِ منطق کی تعریف کیا ہے؟ وہ علم ہے جو نظر و فکر میں انسان کو غلطی سے بچاتا ہے۔ تو دیکھو اس تعریف کے اندر نظر و فکر کا لفظ آ رہا ہے۔ تو اگر یہ تعریف کی جائے گی تو سننے والا فوراً کہے گا بھئی نظر و فکر کسے کہتے ہیں، ہمیں تو آپ نے بتایا ہی نہیں۔ تو لہٰذا اس تعریف سے پہلے مصنف کس کو بیان کریں گے؟ نظر اور فکر۔ اور نظر اور فکر سے پہلے نظری اور بدیہی کا جاننا ضروری ہے۔ تو لہٰذا اس نظر و فکر سے پہلے پھر مصنف نے کس کو ذکر کیا؟ بدیہی اور نظری کو۔ پھر بدیہی اور نظری یہ تو تصور اور تصدیق کی قسمیں ہیں۔ لہٰذا اس سے پہلے مصنف نے تصور اور تصدیق کو ذکر کیا۔ اور تصور اور تصدیق یہ دونوں قسمیں ہیں علم کی، تو پہلے علم کو ذکر کرتے۔
تو ترتیب سمجھ میں آئی کہ کس کو ذکر کرنا چاہتے ہیں؟ تعریف کو۔ تعریف میں کیا لفظ آئے گا؟ نظر، یہ وہ علم ہے جو نظر و فکر میں ہمیں غلطی سے بچاتا ہے۔ تو ضروری ہے کہ ہمیں پہلے سے پتہ ہو نظر و فکر کسے کہتے ہیں۔ تو اس سے پہلے مصنف کس کو ذکر کریں گے؟ نظر اور فکر۔ اور نظر اور فکر کو سمجھنے کے لیے بدیہی اور نظری کا جاننا ضروری ہے، تو اس سے پہلے کس کو ذکر کریں گے؟ پھر سنو۔
مصنف کیا ذکر کرنا چاہتے ہیں؟ علمِ منطق کی تعریف۔ اور تعریفِ علمِ منطق کی کیا ہے؟ یہ وہ علم ہے جو نظر و فکر میں غلطی سے ہمیں بچاتا ہے۔ تو اس تعریف کو سمجھنے کے لیے پہلے ہمیں نظر و فکر کو سمجھنا ہوگا کیونکہ اس تعریف میں کیا لفظ آ رہا ہے؟ نظر اور فکر۔ تو اس تعریف کو سمجھنے کے لیے ہمیں نظر اور فکر کو سمجھنا ہوگا۔ تو لہٰذا اس تعریف سے پہلے مصنف کس کو ذکر کریں گے؟ نظر اور فکر۔ اور نظر اور فکر کو سمجھنے کے لیے بدیہی اور نظری کا جاننا ضروری، تو لہٰذا اس نظر اور فکر سے پہلے پھر مصنف نے کس کو ذکر کیا ہے؟ بدیہی اور نظری کو۔ پھر بدیہی اور نظری کو سمجھنے کے لیے تصور اور تصدیق کا سمجھنا ضروری، تو اس بدیہی اور نظری سے پہلے مصنف نے کس کو ذکر کیا؟ تصور اور تصدیق کو ذکر کیا۔ اور تصور اور تصدیق یہ قسمیں ہیں کس کی؟ علم کی۔ تو مصنف کو پہلے علم کی تعریف کرنی چاہیے تھی اور پھر کیا کرنا چاہیے تھا؟ تصور اور تصدیق کو ذکر کرنا چاہیے تھا، لیکن مصنف نے تصور اور تصدیق کو تو بیان کیا، علم کی تعریف نہیں کی، تو وہ اب شارح بیان کرنے لگے ہیں کہ علم کسے کہتے ہیں۔
ترتیب سمجھ میں آئی؟ تو اوپر پھر ایک دفعہ متن کو سمجھ لیں۔ متن میں سب سے پہلے کیا ہونا چاہیے تھا؟ علم کی تعریف۔ پھر اس کے بعد کیا ہونا چاہیے؟ تصور اور تصدیق۔ پھر تصور اور تصدیق کے بعد کیا ہونا چاہیے؟ بدیہی اور نظری۔ پھر بدیہی اور نظری کے بعد کس کا ذکر ہونا چاہیے؟ نظر اور فکر۔ پھر نظر اور فکر کے بعد کیا آنی چاہیے؟ منطق کی تعریف۔ اور اسی کو الٹا چلائیں ذرا۔
منطق کی تعریف سمجھنے کے لیے کس کا سمجھنا ضروری؟ نظر اور فکر۔ نظر اور فکر کو سمجھنے کے لیے کس کا سمجھنا ضروری؟ بدیہی اور نظری۔ بدیہی اور نظری کو سمجھنے سے پہلے کس کا سمجھنا ضروری؟ تصور اور تصدیق۔ تصور اور تصدیق کو سمجھنے کے لیے پہلے کس کا سمجھنا ضروری؟ علم کا سمجھنا ضروری۔ تو مصنف نے بھی اسی ترتیب سے چیزیں ذکر کی ہیں مقدمے میں۔ علم کی تقسیم شروع کر دی تصور اور تصدیق کی طرف۔ اب تصور اور تصدیق کا آپ کو پتہ چل گیا، تو اب اس کو آگے ذکر کریں گے، ان کی دو دو قسمیں ہیں، بدیہی اور نظری۔ پھر بديہی اور نظری، تو بھئی نظر کسے کہتے ہیں؟ تو لہٰذا ساتھ ہی اس کے فوراً کس کو ذکر کر دیں گے؟ نظر اور فکر کو۔ اور نظر و فکر میں کبھی کبھار انسان سے کیا ہوتی ہے؟ غلطی ہوتی ہے، تو ایک علم کی ضرورت تھی جو نظر و فکر میں انسان کو غلطی سے بچائے اور وہ علمِ منطق ہے۔ تو اس ترتیب سے ساری چیزیں اوپر مقدمے میں ذکر ہیں۔
لیکن علم جو ہے اس کی تقسیم تو کر دی تصور اور تصدیق کی طرف، لیکن علم کی تعریف نہیں کی تھی، تو شارح اب اس علم کی تعریف ذکر کرنے لگے ہیں۔ میں نے پہلے ذکر کر دیا تھا کہ علم کسے کہتے ہیں؟ کسی شے کی صورت جو عقل میں حاصل ہو، وہ کیا ہے؟ اس چیز کا علم ہے، جیسے میں نے کہا مکہ مکرمہ، دیکھو فوراً ایک شہر کا تصور آپ کے ذہن میں آ گیا۔ آپ نے بے شک دیکھا نہیں ہے لیکن اتنا تو پتہ ہے کہ یہ مبارک شہر ہے جہاں بیت اللہ واقع ہے، جہاں مسلمان حج ادا کرنے جاتے ہیں، اتنا علم ہے یا نہیں؟ تو بس جتنا علم ہے اس کے بقدر آپ کا تصور ذہن میں آ گیا کہ ایک شہر ہے، مبارک شہر ہے ہمارا۔ یا جیسے میں نے ذکر کیا مدینہ منورہ کا، فوراً ایک شہر کا ذکر آپ کے ذہن میں آ گیا جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے تشریف لائے اور وہی آپ کا روضہ مبارک ہے بھئی۔ تو یہ دیکھا، آپ کو معلوم ہوا مکہ مکرمہ کا بھی علم ہے اور مدینہ منورہ کا بھی علم ہے بھئی۔
تو علم کی تعریف میں ذکر کر چکا، کیا ذکر کی تھی؟ کہ کسی شے کی صورت جو عقل میں حاصل ہو، وہ اس چیز کا علم ہے بھئی۔ اور اس کے مقابلے میں کیا آتا ہے؟ جہل۔ تو جس چیز کا ہمیں علم ہے اس کو کہیں گے معلوم اور جس چیز کا ہمیں علم نہیں، اسے کیا کہیں گے؟ مجهول کہیں گے بھئی، مجهول کہیں گے۔
تو یہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: قوله العلم. "مصنف کا قول العلم، هو الصورة الحاصلة من الشيء عند العقل"، وہ کسی شے کی وہ صورت ہے جو حاصل ہو عقل کے نزدیک۔ کسی شے کی وہ صورت جو عقل کے پاس حاصل ہو، وہ کیا ہے؟ اس چیز کا علم ہے۔ یا جیسے اور مثال لے لیں، میں نے خانہ کعبہ کا نام لیا تو آپ کے ذہن میں بیت اللہ کی فوراً صورت آ گئی، میں نے مسجدِ نبوی کا نام لیا تو فوراً آپ کے ذہن میں مسجدِ نبوی کی صورت آ گئی۔ یہ ان کا علم ہے، یہ خانہ کعبہ کا اور مسجدِ نبوی کا علم ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: "العلم هو الصورة الحاصلة من الشيء عند العقل"، کہ علم جو ہے وہ کسی شے کی صورت کا حاصل ہونا ہے عند العقل عقل کے پاس۔ یا وہ صورت الحاصلة من الشيء، وہ صورت ہے جو حاصل ہو کسی چیز سے عند العقل عقل کے پاس۔
"والمصنف رحمه الله لم يتعرض لتعريفه"، یہ اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ اعتراض یہ ہے کہ مصنف نے اوپر ایک ایک چیز کو ذکر کیا۔ تصور اور تصدیق کو بھی ذکر کیا۔ بدیہی، نظری کو بھی ذکر کیا۔ نظر اور فکر کو بھی ذکر کیا۔ تو علم، آغاز علم سے ہو رہا ہے، علم کی تقسیم ہو رہی ہے کس کی طرف؟ تصور اور تصدیق کی طرف، تو سب سے پہلے علم کی تعریف کرنی چاہیے تھی، علم کو مصنف نے بیان ہی نہیں کیا اور فوراً اس کی کیا شروع کر دی؟ تقسیم شروع کر دی۔ اعتراض سمجھ میں آیا کہ مصنف نے علم کی تعریف کیوں نہیں ذکر کی؟ تو جواب دے رہے ہیں۔ تین جوابات دیں گے بھئی، تین جوابات۔
دیکھیے بھئی کتاب پر، کہتے ہیں: "والمصنف رحمه الله لم يتعرض لتعريفه"، تعرض کا معنی ہے کسی چیز کے پیچھے پڑنا یعنی یہاں ذکر کرنا مراد ہے۔ اور مصنف رحمہ اللہ لم يتعرض لتعريفه أي لتعريف العلم، مصنف رحمہ اللہ علم کی تعریف کے پیچھے نہیں پڑے یعنی علم کی تعریف ذکر نہیں کی، کس وجہ سے؟ کہتے ہیں: "إما للاكتفاء بالتصور بوجه ما في مقام التقسيم"، یا تو اکتفاء کرتے ہوئے بالتصور بوجه ما کہ علم کا تصور ہے کسی نہ کسی درجے میں في مقام التقسيم تقسیم کے مقام میں، کہ کسی نہ کسی درجے میں علم کا تصور آ جاتا ہے مقامِ تقسیم کے اندر۔
بھئی دیکھیے، پہلے کرنی چاہیے تھی علم کی تعریف، مصنف نے علم کی تعریف کیوں نہیں کی؟ تو پہلا جواب شارح دے رہے ہیں کہ مصنف نے علم کی تقسیم شروع کر دی اور بتلا دیا کہ علم کی دو قسمیں ہیں، ایک تصدیق ہے اور ایک تصور ہے۔ اور تصدیق بھی ادراک کا نام ہے اور تصور بھی ادراک کا نام ہے، تو وہیں سے علم کچھ نہ کچھ سمجھ میں آ جاتا ہے کہ معلوم ہوا علم ادراک کا نام ہے، جاننے کا نام ہے، کس کا نام ہے؟ جاننے اور ادراک کا نام ہے۔ تو کسی نہ کسی درجے میں علم کیا ہے، یہاں سے سمجھ میں آ جاتا ہے، جب علم کی دو قسمیں بیان کر دیں کہ علم کتنی قسم پر ہے؟ یا تصور یا تصدیق، یہی دو قسمیں ہیں، اس کے علاوہ اور کوئی قسم نہیں، اور تصدیق بھی کس چیز کا نام ہے؟ ادراک کا نام، تصور بھی کس چیز کا نام ہے؟ ادراک، تو وہیں سے علم کا بھی کچھ نہ کچھ پتہ چل گیا کہ علم دراصل ادراک کا نام ہے۔ تو اسی پر مصنف نے کیا کر لیا؟ اکتفاء کر لیا، کہ مقامِ تقسیم میں علم کا کچھ نہ کچھ شارح علم کو اندازہ ہو جاتا ہے، تو اسی پر کیا کر لیا؟ اکتفاء کر لیا۔
کہتے ہیں: "والمصنف رحمه الله لم يتعرض لتعريفه"، مصنف رحمہ اللہ علم کی تعریف کے پیچھے نہیں پڑے یعنی اس کو ذکر نہیں کیا۔ "إما للاكتفاء بالتصور بوجه ما في مقام التقسيم"، یا تو اکتفاء کرتے ہوئے بالتصور اس علم کے تصور پر بوجه ما کسی نہ کسی درجے میں في مقام التقسيم تقسیم کے مقام میں۔
تقسیم کر رہے ہیں نا، کس کی تقسیم کر رہے ہیں؟ علم کی۔ جب علم کی دونوں قسموں کا جب پتہ چلے گا تو علم کا بھی کچھ نہ کچھ اندازہ ہو جائے گا یا نہیں ہو جائے گا؟ علم کا بھی کچھ نہ کچھ اندازہ ہو جائے گا بھئی۔ بوجه ما، کسی نہ کسی درجے میں، کسی نہ کسی وجہ سے، کسی نہ کسی اعتبار سے۔ یہ "ما" کیا ہے؟ یہ صفت ہے "وجه" کی۔ عربی میں یوں کرتے ہیں، کبھی کبھار نکرہ کی صفت "ما" لاتے ہیں جیسے آپ پہلے پڑھ چکے بھئی، لا سیما کے اندر ایک "ما" نکرہ تامّہ تھا غیر موصوفہ۔ تو اسی طرح یہ "ما" جو ہے کبھی کبھار صفت آتا ہے نکرہ کی اور اس کے عموم میں تاکید پیدا کرتا ہے۔ "رجل" کا کیا معنی؟ کوئی آدمی۔ "رجل ما"، کوئی ایک آدمی۔ دیکھا؟ اسی عموم میں کیا پیدا کر دیا؟ اسی عموم میں تاکید پیدا کر دی، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ نکرہ کی صفت آتی ہے۔
اکتفاء کرتے ہوئے بالتصور کس پر؟ اس علم کے تصور پر، بوجه ما کسی نہ کسی درجے میں، في مقام التقسيم تقسیم کے مقام میں، کہ کسی نہ کسی درجے میں علم کا تصور آ جاتا ہے، علم کچھ نہ کچھ سمجھ میں آ جاتا ہے، ایک جواب یہ ہوا-
"وإما لأن تعريف العلم مشهور مستفيض"، یا اس وجہ سے کہ علم کی جو تعریف ہے مشہور ہے، مستفیض کا معنی شائع اور رائج، پھیلی ہوئی جو سب میں رائج ہے، شائع ہے، مشہور ہے۔ کہتے ہیں: "وإما لأن تعريف العلم مشهور مستفيض"، کیونکہ علم کی تعریف جو ہے مشہور ہے، شائع ہے، تو مصنف نے اسی پر اکتفاء کر لیا کہ طالب علم ہے، چونکہ علم کی تعریف مشہور ہے تو اس کو پہلے سے ہی علم کی تعریف کا پتہ ہو گا، اس لیے اس کو متن میں ذکر نہیں کیا۔ یہ دوسرا جواب ہوا۔
"وإما لأن العلم بديعي التصور على ما قيل"، یا اس وجہ سے کہ علم جو ہے وہ بدیہی التصور ہے یعنی بدیہی ہے۔ علم کیا ہے؟ بدیہی ہے۔ بھئی یہ آگے آنے والا ہے متن کے اندر ہی کہ تصور اور تصدیق دو قسم پر ہیں، یا بدیہی ہوں گے یا نظری۔ بدیہی وہ ہے جو بغیر غور و فکر کے فوراً خود ہی سمجھ میں آ جائے، اور نظری وہ ہے جس میں غور و فکر کرنا پڑے، جس میں غور و فکر کرنا پڑے۔ جیسے دیکھو، میں نے کہا "درخت"، آپ فوراً سمجھ گئے۔ بچے کے سامنے بھی اگر "درخت" کہو، وہ فوراً سمجھ جاتا ہے۔ میں نے کہا "پانی"، آپ فوراً سمجھ گئے۔ میں نے کہا "کمرہ"، آپ فوراً سمجھ گئے۔ میں نے کہا "کتاب"، "قلم"، جو جو چیزیں میں ذکر کرتا جا رہا ہوں، آپ فوراً سمجھتے جا رہے ہیں کیونکہ یہ چیزیں بدیہی ہیں، غور و فکر کرنا نہیں پڑتا، انسان فوراً ان کو سمجھ لیتا ہے، چھوٹا بڑا ہر ایک فوراً سمجھ لیتا ہے۔
اور کچھ چیزیں ہیں جن میں غور و فکر کرنا پڑتا ہے، جیسے آپ نے پڑھا تصور اور تصدیق، آپ کو پہلے اس کی تعریف کا پتہ نہیں تھا، پھر آپ کو تصور کو سمجھنا پڑا، دماغ خرچ کرنا پڑا، پھر تصدیق کسے کہتے ہیں آپ کو دماغ خرچ کرنا پڑا، تو یہ تصور اور تصدیق کیا تھے؟ نظری، نظری۔ اب آپ کے لیے، اب آپ سمجھ گئے ہیں، اب آپ کے لیے بے شک یہ بدیہی بن گئے، تصور بولتے ہی آپ تصور کو سمجھ جاتے ہیں، تصدیق بولتے ہی آپ تصدیق سمجھ جاتے ہیں، لیکن اولاً کیا کرنا پڑا آپ کو؟ دماغ خرچ کرنا پڑا، سوچنا پڑا۔ تو جہاں جس چیز کو سمجھنے کے لیے دماغ خرچ کرنا پڑے، سوچنا پڑے، غور کرنا پڑے، اس کو کہتے ہیں نظری، اور جو فوراً خود بخود سمجھ میں آ جائے، اسے کیا کہتے ہیں؟ بدیہی کہتے ہیں۔
تیسرا جواب دے رہے ہیں، کہتے ہیں علم کی تعریف اس لیے نہیں کی، "لأن العلم بديعي التصور"، کیونکہ علم جو ہے بدیہی التصور ہے۔ علم کیا ہے؟ بدیہی ہے، "على ما قيل"، بناء بر اس کے جو کہا گیا ہے۔ علم جو ہے وہ بدیہی ہے، اس وجہ سے جو کہا گیا ہے۔ علم بدیہی ہے، اور بدیہی چیز، وہ تو ہر ایک کو پتہ ہوتی ہے، چھوٹے بڑے، ذہن کم ذہن والے سب کو وہ چیز پتہ ہوتی ہے۔ جب وہ ہر چیز کو پتہ ہے تو اس کو اس کی تعریف کرنے کی ضرورت نہیں، جواب سمجھ میں آیا؟
لیکن یہ جواب کمزور ہے مولانا، اس لیے کیونکہ بدیہی اگرچہ اس میں غور و فکر نہیں کرنا پڑتا، لیکن بدیہی بھی دو قسم پر ہیں، بعض اوقات بدیہی میں بھی تھوڑا سا کچھ خفا ہوتا ہے، تو اس کے اندر اس کے لیے بیان چاہیے، اس کی کچھ وضاحت چاہیے۔ بدیہی میں بھی بعض اوقات کیا ہوتا ہے؟ خفا ہوتا ہے یعنی پوری طرح ظاہر نہیں ہوتا، جب پوری طرح ظاہر نہیں، کچھ پوشیدگی ہے، کچھ یوں سمجھیں کچھ ہلکا سا پردہ سا ہے، تو اس پردے کو ہٹانا پڑے گا یا نہیں؟ کچھ بیان ہلکا سا کرنا پڑے گا یا نہیں؟ دماغ تو زیادہ غور و فکر تو نہیں کرنا پڑے گا، لیکن کچھ نہ کچھ تھوڑا سا بیان اس کے لیے چاہیے ہو گا، اس خفا کو، اس پردے کو تھوڑا سا دور کرنا ہو گا۔ تو یہ کہنا کہ علم بدیہی التصور ہے، یہ جواب نہیں بن سکتا بھئی، کیونکہ بدیہی میں بھی بعض اوقات کیا ہوتا ہے؟ بات سمجھ میں آ رہی ہے کہ نہیں؟ یہ تیسرا جواب انہوں نے کیا دیا؟ اعتراض کیا ہوا تھا؟ علم کی تعریف کیوں نہیں ذکر کی؟ باقی سب چیزیں آپ نے ذکر کر دیں مقدمے میں اور علم کی تعریف ذکر نہیں کی، اور تعریف کے بغیر ہی آپ نے اس کی تقسیم شروع کر دی، حالانکہ پہلے چیز کی تعریف کی جاتی ہے، پھر اس کو کیا کیا جاتا ہے؟ تقسیم کیا جاتا ہے، آپ نے براہ راست تقسیم شروع کر دی اور خود علم کے بارے میں ہمیں کچھ بھی نہیں بتایا۔ تو تین جوابات دے دیے، ایک تو جواب یہ دیا کہ بھئی علم یہ چونکہ تقسیم علم کی ہو رہی ہے تو کسی نہ کسی درجے میں یہاں سے علم خود ہی سمجھ میں آ جاتا ہے، اس کا کچھ نہ کچھ تصور حاصل ہو جاتا ہے، تو مصنف نے بھی کیا کیا؟ اسی پر اکتفاء کر لیا۔ یا دوسرا جواب یہ دیا کہ علم کی تعریف تو مشہور ہے، تمام طلباء کو، علماء کو سب کو پتہ ہوتی ہے، تو لہٰذا اس وجہ سے اس کو ذکر نہیں کیا۔ اور تیسرا جواب یہ دیا کہ علم جو ہے وہ بدیہی التصور ہے یعنی بدیہی ہے، اور جب بدیہی ہے تو لہٰذا اس بدیہی کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں، لیکن یہ جواب کمزور ہے، اس لیے کیونکہ بدیہی میں بھی بعض اوقات کیا ہوتا ہے؟ کچھ خفا ہوتا ہے اور اس خفا کو دور کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ بیان کی ضرورت پڑتی ہے، تو لہٰذا اگر یہ بدیہی بھی ہے تو بھی اس کے اندر کچھ خفا تھا، اس کے لیے کیا چاہیے تھا؟ بیان چاہیے تھا، مصنف کو کیا کرنا چاہیے تھا؟ پھر بھی بیان کرنا چاہیے تھا۔ تو یہ تیسرا جواب چونکہ کمزور ہے۔
اسی لیے اس میں کہہ دیا "على ما قيل"، بناء بر اس کے جو کہا گیا ہے۔ بناء بر اس کے جو کہا، یہ قائل ہیں اس کے امام رازی رحمہ اللہ بھئی۔ بھئی دیکھیے آپ بھی اسی طرح کرتے ہیں، جب آپ کی کسی بات سے تسلی نہ ہو تو آپ اس کہنے والے کی طرف ہی نسبت کر دیتے ہیں۔ مثلاً آپ نے کسی سے پوچھا کہ زید آ گیا ہے کہ نہیں آیا؟ اس نے کہا زید آ گیا ہے، آپ کی تسلی ہو گئی، اعتماد ہے آپ کو اس پر، تو جب اب اگر میں بھی آپ سے پوچھتا ہوں کہ بھئی زید آیا یا نہیں آیا؟ آپ فوراً کہیں گے زید آ گیا ہے۔ لیکن اگر اس جس نے آپ کو بتایا کہ زید آ گیا ہے آپ کا اس پر پورا اعتماد نہیں، آپ کی تسلی نہیں ہوئی، اب میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ زید آیا یا نہیں آیا؟ تو آپ کہیں گے جی فلاں کہہ رہا تھا کہ زید آ گیا ہے، کہیں گے یا نہیں کہیں گے؟ اپنی طرف نسبت نہیں کریں گے، دوسرے کی طرف نسبت کر دیں گے کہ میری تو تسلی نہیں ہے، البتہ انہوں نے یوں کہا ہے۔ تو یہاں بھی اسی طرح ہے کہ چونکہ اس سے شارح کی تسلی نہیں تھی کہ علم بدیہی التصور ہے، تیسرا جواب دیا، لیکن امام رازی نے یہ ذکر کیا ہے تو اس جواب کو ذکر بھی کر دیا اور چونکہ تسلی نہیں تھی تو نسبت انہی کی طرف کر دی کہ بناء بر اس کے جو کہا گیا ہے کہ علم کیا ہے؟ بدیہی التصور ہے، اس لیے ماتن نے علم کی تعریف ذکر نہیں کی۔ وجہ سمجھ میں آ گئی؟
تو جواب بھی ذکر کر دیا اور نسبت بھی دوسرے کی طرف کر دی کہ یہ میں نہیں کہتا، البتہ بعضوں نے اس طرح کہا ہے، یہ معنی ہے "وإما لأن العلم بديعي التصور على ما قيل"، اور یہ اس وجہ سے کہ علم جو ہے وہ بدیہی التصور ہے، بناء بر اس کے جو کہا گیا ہے یعنی بعض علماء نے کہا ہے۔
تو تین جواب شارح نے ذکر کر دیے۔
اور چوتھا جواب یہ، چوتھا جواب یہ کہ مصنف نے علم کی تعریف ذکر نہیں کی اس لیے کیونکہ علم کی تعریف میں علماء کا بہت اختلاف ہے۔ حتیٰ کہ اس علم کے مقولے میں ہی اختلاف ہے، بعض علماء اسے مقولۂ کیف سے کہتے ہیں، بعض مقولۂ اضافت سے اور بعض مقولۂ انفعال سے۔ مقولات عشرہ ہیں، تو اس علم کی تعریف میں اختلاف ہے علماء کا، حتیٰ کہ مقولے میں ہی اختلاف ہے، بعض اسے کس سے کہتے ہیں؟ مقولۂ کیف سے، بعض مقولۂ اضافت سے اور بعض مقولۂ انفعال سے۔ البتہ اس علم کے آثار بہت نمایاں ہیں، بہت ظاہر ہیں، اور اس کی علم کی برکات بہت زیادہ واضح اور روشن ہیں۔ علم کے فائدے بہت زیادہ ہیں، علم کی برکات بہت زیادہ، لیکن خود اس علم کے اندر خفا ہے، حتیٰ کہ علماء اس کی مقولے میں ہی اختلاف کرتے ہیں، کئی تعریفیں کرتے ہیں بھئی اور ان تعریفوں پر مختلف اعتراضات وارد ہوتے ہیں۔ تو چونکہ علم کی تعریف کے اندر، علم کی حقیقت میں خفا ہے، پوری طرح اس کی حقیقت کا پتہ نہیں، علماء کے مختلف اقوال ہیں، میں نے بتایا حتیٰ کہ مقولے کے اندر ہی اختلاف ہے کہ اس کا تعلق کس مقولے سے ہے، مقولۂ کیف سے ہے یا اضافت سے ہے یا مقولۂ انفعال۔ تو اس میں بہت زیادہ خفا ہونے کی وجہ سے یا یوں کہیں اس کی حقیقت، پوری حقیقت کا علم نہیں ہے، اس لیے مصنف نے علم کی تعریف کو ذکر نہیں کیا۔ اور اس کی بہت سی نظیریں ہیں، بہت سی مثالیں ہیں کہ بعض اوقات ایک کہ چیز بہت زیادہ ظاہر ہوتی ہے، اس کے بہت سے آثار ہوتے ہیں، لیکن اس کی حقیقت کا کسی کو پتہ نہیں ہوتا۔ جیسے علم جیسے علم تھا نا، اس کے فائدے بہت زیادہ، اس کے برکات بہت زیادہ ہیں اور اس کے آثار خوب نمایاں ہیں، خوب ظاہر ہیں، لیکن اس کی پوری حقیقت کا پتہ نہیں، یہ اسی طرح ہے جیسے عقل، عقل۔
تو عقل کی بہت سی تعریفیں علماء نے کی ہیں اور بعض علماءِ محققین فرماتے ہیں کہ عقل کی حقیقت کا پتہ ہی نہیں کسی کو، یہ مبہم ہے، یہ مبہم ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عقل کے فوائد اور ثمرات بہت واضح اور روشن ہیں، آثارِ عقل واضح ہیں بھئی، مگر خود عقل کا کچھ پتہ نہیں۔ اللہ کی یہ قدرت ہے، اسے چھپا رکھا ہے اللہ نے، تو عقل کی مختلف تعریفیں علماء کرتے ہیں اور جتنی زیادہ تعریفیں ہوں گی اس کا مطلب ہے حقیقت کا پتہ نہیں، حقیقت کا پتہ نہیں۔
اس کی اور بھی مثالیں ہیں، مثلاً جیسے روح بھئی، روح۔ بچہ بچہ روح کو جانتا ہے مگر اس کی حقیقت کا کچھ پتہ نہیں۔ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے روح کے بارے میں 400 اقوال ذکر کیے ہیں علماء کے، اور کثرتِ اقوال دلالت کرتی ہے کسی مسئلے میں کہ کسی کو علم نہیں اس کا۔ یا اس کی مثال جیسے اللہ تعالیٰ کی ذات، اللہ کی ذات کے آثار اور دلائل بہت زیادہ ہیں، مگر اللہ کی ذات کی حقیقت کیا ہے؟ کسی کو پتہ نہیں ہے، جیسے انسان کی حقیقت کیا ہے؟ حیوانِ ناطق، اللہ کی ذات کی حقیقت کیا ہے؟ کسی کو پتہ نہیں ہے، اور اللہ کی ذات کے آثار اور دلائل ہر چیز میں اللہ کی ذات کے آثار اور دلائل موجود ہیں کہ کوئی ذات ہے جس نے اس حسین و جمیل نظام کو بنایا اور جو اس حسین و جمیل نظام کو چلا رہی ہے۔ جوں جوں سائنس ترقی کر رہی ہے، انسان چیزوں کے اندر غور کرتا ہے، حیران رہ جاتا ہے۔ اتنے زبردست نظام بنے ہوئے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔ یہ چیونٹیوں، یہ دیمک وغیرہ انہی چیزوں پر انسان غور کرتا ہے تو حیران رہ جاتا ہے اللہ کی عجائبات اور اللہ کی قدرتوں پر بھئی، قدرتوں پر۔
اللہ اللہ! تو اللہ کی ذات کے آثار اور دلائل بہت زیادہ ہیں لیکن حقیقت کا کسی کو پتہ نہیں ہے بھئی۔ اور جس چیز کے آثار جس قدر زیادہ ہوتے ہیں، وہ اسی قدر مبہم ہوتی ہے، مبہم ہوتی ہے۔ تو چوتھا جواب کیا ہوا؟ کہ مصنف نے علم کو کی تعریف ذکر نہیں کی کیونکہ علم کی تعریف میں علماء کا بہت زیادہ اختلاف ہے بھئی، تو اس وجہ سے اس کو ذکر نہیں کیا یہاں پر۔
دیکھ لیجیے بھئی، ایک دفعہ ترجمہ پھر دیکھ لیں بھئی: "قوله العلم: هو الصورة الحاصلة من الشيء عند العقل"، علم جو ہے وہ صورت ہے جو حاصل ہو من الشيء کسی چیز کی عند العقل عقل کے پاس۔ "والمصنف رحمه الله لم يتعرض لتعريفه"، اور مصنف رحمہ اللہ علم کی تعریف کے پیچھے نہیں پڑے "إما للاكتفاء بالتصور بوجه ما في مقام التقسيم"، یا تو اکتفاء کرتے ہوئے علم کے تصور پر بوجه ما کسی نہ کسی درجے میں في مقام التقسيم تقسیم کے مقام میں، کہ جب اس کی قسمیں بیان کر دیں تو کسی نہ کسی درجے میں علم کا تصور بھی حاصل ہو گیا تو اسی پر اکتفاء کر لیا۔ "وإما لأن تعريف العلم مشهور مستفيض"، یا اس وجہ سے کہ علم کی تعریف مشہور اور شائع ہے، رائج ہے طلباء میں۔ "وإما لأن العلم بديعي التصور على ما قيل"، یا اس وجہ سے کہ علم جو ہے وہ بدیہی التصور ہے بناء بر اس کے جو کہا گیا ہے۔
آگے دیکھیے بھئی: قوله: "إن كان إذعاناً بالنسبة" "أي اعتقاداً بالنسبة الخبرية الثبوتية كالإذعان بأن زيداً قائم أو السلبية كالاتقاد بأنه ليس بقائم".
متن میں جو تصدیق کی تعریف آئی تھی، شارح اس کی شرح کر رہے ہیں بھئی۔ بھئی دیکھیے، ادھر دیکھیے۔ مثلاً میں آپ کے سامنے ایک جملہ بولتا ہوں "زيد عالم"، زید عالم ہے۔ اس میں جو "زيد" ہے، اس کو کہتے ہیں منطق کی اصطلاح میں محکوم علیہ اور اسی کو موضوع بھی کہتے ہیں۔ اور جو "عالم" ہے، اسے محکوم بہ کہتے ہیں اور اسی کو محمول بھی کہتے ہیں۔ پھر ان دونوں کے درمیان جو نسبت، ربط اور تعلق ہے، اس کو نسبتِ حکمیہ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ بھئی دیکھو، "زيد" ایک الگ لفظ ہے، "عالم" ایک الگ لفظ ہے، دونوں کو آپ نے ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیا کہ "زيد عالم"، زید عالم ہے۔ تو دونوں میں ربط آیا یا نہیں آیا؟ دونوں میں ربط آیا، جوڑ آیا یعنی آپ نے زید پر عالم ہونے کا حکم لگایا، تو زید کیا ہوا؟ محکوم علیہ، اور عالم کیا ہوا؟ محکوم بہ ہوا، اور جو درمیان میں نسبت ہے، جو تعلق ہے، جو ربط ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ نسبتِ حکمیہ۔ جیسے دیکھو بھئی، ایک مرد اور ایک عورت ہے، ان کا نکاح ہوا تو اب ان کو کیا کہیں گے؟ مرد کو کہیں گے خاوند اور عورت کو کہیں گے بیوی، اور ان دونوں کے درمیان جو ربط ہے، جوڑ ہے، تعلق ہے، وہ کون سا ہے؟ نکاح، وہ نکاح۔ تو یہ نکاح نہ ہو تو اس مرد کو خاوند نہیں کہیں گے، اس عورت کو بیوی نہیں کہیں گے، تو دونوں میں جوڑ اور ربط وہ کیا ہے؟ نکاح۔ اسی طرح "زيد عالم"، یہ دو لفظ ہیں، ان دو میں سے ایک کو آپ نے دوسرے کے ساتھ جوڑ دیا، تو پہلے کو کیا کہیں گے "زيد"، یہ ہے محکوم علیہ اور اس کا نام موضوع بھی، اور دوسرے کو کیا کہیں گے؟ محکوم بہ بھی اور محمول بھی، اور دونوں کے درمیان جو ربط ہے، جو جوڑ ہے، اس کو کیا کہیں گے؟ نسبتِ حکمیہ، نسبتِ حکمیہ۔
اسی نسبتِ حکمیہ کو نسبتِ خبریہ بھی کہتے ہیں، نسبتِ خبریہ تامہ، یعنی جس سے بات پوری ہو جاتی ہے، بات پوری سمجھ میں آ جاتی ہے۔ اور یاد رکھیے، اسی نسبتِ حکمیہ کا، نسبتِ حکمیہ کا دوسرا نام کیا؟ نسبتِ خبریہ تامہ۔ اسی نسبتِ حکمیہ کا دوسرا نام نسبتِ خبریہ ہے یا یوں کہیں نسبتِ خبریہ تامہ ہے۔ اسی نسبتِ خبریہ تامہ کا إذعان ہو، اسی کا اعتقاد ہو، تو اس کو تصدیق کہتے ہیں۔ کس کا؟ نسبتِ خبریہ تامہ، یا یوں کہو نسبتِ حکمیہ، اسی کا إذعان ہو یعنی اعتقاد ہو، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ تصدیق کہتے ہیں۔ إذعان کا کیا معنی؟ مان لینا، تسلیم کر لینا کہ شک اور انکار باقی نہ رہے، اعتقاد کا بھی یہی معنی ہے، اعتقاد کر لیا یعنی مان لیا، قبول کر لیا، تسلیم کر لیا، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ آسان سی باتیں ہیں جو پہلے بھی میں ذکر کر چکا ہوں بھئی۔
تو محکوم علیہ اور محکوم بہ کے درمیان جو نسبت، ربط اور جوڑ ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ نسبتِ خبریہ تامہ، اور اس کا کیا نام ہے؟ نسبتِ حکمیہ بھئی، حکمیہ بھی کہتے ہیں۔ اور اسی نسبتِ حکمیہ کا اعتقاد ہو اور إذعان ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ تصدیق کہتے ہیں۔ إذعان اور اعتقاد کا کیا معنی؟ مان لینا، تسلیم کر لینا، قبول کر لینا-
اب یاد رکھیے، اسی تصدیق کا دوسرا نام إذعان بھی ہے۔ اور اسی کا نام حکم بھی ہے۔ إذعان، إذعان کہہ دیں تو سمجھ جائیں کس کی بات ہو رہی ہے؟ تصدیق کی، حکم کہہ دیں تو سمجھ جائیں کس کی بات ہو رہی ہے؟ تصدیق۔ تو تصدیق ہی کا دوسرا نام کیا؟ إذعان، اور اسی کا نام کیا؟ حکم بھی، یہ یاد رہے گا؟
اور یہ بھی آپ جانتے ہیں کہ یہ نسبتِ خبریہ ثبوتیہ بھی ہو سکتی ہے اور سلبیہ بھی ہو سکتی ہے۔ میں نے کہا "زيد عالم"، میں نے زید کے لیے عالم ہونے کو ثابت کیا یا اس کی نفی کی؟ ثابت، تو یہ نسبتِ خبریہ ثبوتیہ ہوئی، کون سی ہوئی؟ نسبتِ خبریہ تامہ، تامہ کہیں یا نہ کہیں بہرحال نسبتِ خبریہ ثبوتیہ ہوئی۔ اور اگر میں کہوں "زيد ليس بعالم"، زید عالم نہیں ہے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ نسبتِ خبریہ سلبی، سلب کا معنی ہے نفی، نفی، تو دیکھو میں زید سے عالم ہونے کی نفی کر رہا ہوں "زيد ليس بعالم"، زید عالم نہیں ہے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ نسبتِ خبریہ سلبی۔ تو معلوم ہوا نسبتِ حکمیہ یا نسبتِ خبریہ، وہ ثبوتیہ بھی ہو سکتی ہے اور سلبیہ بھی ہو سکتی ہے۔
بات یہاں تک اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھیے، یاد رکھیے، ایک مذہب ہے فلاسفہ کا، یاد رکھیے فلسفی کو کہتے ہیں حکیم، کیا کہتے ہیں؟ حکیم، حکیم کا معنی ہے فلسفی جو علمِ فلسفہ کا ماہر ہے۔
تو حکماء فرماتے ہیں کہ تصدیق بسیط ہے، اور امام رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تصدیق مرکب ہے۔ بسیط اور مرکب ایک دوسرے کی ضد ہیں، مرکب وہ جس کے اجزاء ہوں، جو کئی چیزوں سے مل کر بنے، اور بسیط اسے، بسیط ب، س، ی اور ط، بسیط، بسیط وہ چیز جس کے اجزاء نہ ہوں، جو کئی چیزوں سے مل کر نہ بنی ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ بسیط، جس کے اجزاء نہ ہوں۔ اور جس کے اجزاء ہوں، اسے کیا کہتے ہیں؟ مرکب۔ تو فلاسفہ کہتے ہیں، جو تصدیق ہے، وہ بسیط ہے، وہ اس إذعان کا نام ہے، کس کا نام ہے؟ إذعان کا۔ بھئی دیکھو نا، ادھر دیکھیے، یہ ہے محکوم علیہ اور یہ کیا ہے؟ محکوم بہ، اور ان دونوں کے درمیان جو ربط اور جوڑ ہے، وہ کیا ہے؟ نسبتِ حکمیہ یا نسبتِ خبریہ۔ اس نسبتِ حکمیہ اور خبریہ کا إذعان ہو، اس کا اعتقاد ہو، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ تصدیق کہتے ہیں۔ تو حکماء اور فلاسفہ کہتے ہیں کہ تصدیق اس إذعان کا نام ہے۔ صرف ایک چیز کا نام ہے، کس کا؟ إذعان کا۔ جب ایک چیز ہے، تو اس کے اجزاء ہیں کہ اجزاء نہیں؟ اجزاء نہیں ہیں، تو تصدیق کیا ہوئی؟ بسیط ہوئی، کیونکہ اس کے اجزاء نہیں۔ تو گویا یہاں گویا کل چار چیزیں ہو گئیں، ادھر دیکھیے بھئی، ایک ہے آپ کو تصدیق کے لیے چار چیزیں چاہیے بھئی، کیا؟ آپ کو محکوم علیہ کا تصور کرنا پڑے گا یعنی زید ہے مثلاً، آپ کو محکوم بہ کا تصور کرنا پڑے گا یعنی مثلاً عالم ہے، قائم ہے، جو بھی ہو، اور تیسرا آپ کو ان دونوں، ان دونوں کے درمیان نسبت کا تصور کرنا پڑے گا یعنی نسبتِ حکمیہ کا تصور کرنا پڑے گا۔ اور پھر اس نسبتِ حکمیہ کا إذعان کر لیں گے تو پھر اس کو کیا کہیں گے؟ تصدیق۔ تو حکماء کے نزدیک تصدیق صرف اس إذعان کا نام ہے، اس اعتقاد کا نام ہے، اور وہ جو تین تصورات تھے، کون سے تین تصورات؟ تصورِ محکوم علیہ، تصورِ محکوم بہ اور تصورِ نسبتِ خبریہ یا نسبتِ حکمیہ- پھر سن لیں، کون سے تین تصور؟ ایک محکوم علیہ کا تصور، ایک محکوم بہ کا تصور اور ایک ان دونوں کے درمیان جو ربط اور جوڑ ہے یعنی نسبتِ حکمیہ کا تصور، یہ تین تصورات ہوں پھر کیا آئے گا؟ إذعان، تو یہ جو تین تصورات ہیں، یہ شرط ہیں۔ کس کے لیے؟ تصدیق کے لیے، یہ ہوں گے تو تصدیق حاصل ہو گی، پھر ہی إذعان آئے گا نا؟ یہ تین چیزیں ہوں گی، کیا؟ محکوم علیہ بھی ہونا چاہیے، محکوم بہ بھی ہونا چاہیے اور نسبتِ حکمیہ بھی ہونی چاہیے۔ اس کے بعد ہی پھر اس کا إذعان ہو گا، تو ان تین چیزوں کا ہونا یعنی ان تین تصورات کا ہونا ضروری ہے، اس کے بعد ہی کیا پائی جائے گی؟ تصدیق پائی جائے گی، إذعان پایا جائے گا اور تصدیق پائی جائے گی۔ تو تصدیق اس إذعان کا نام ہے اور یہ بسیط ہے، اس کے اجزاء نہیں، اور یہ جو تین تصورات ہیں، یہ تصدیق کی حقیقت سے خارج ہیں۔ تصدیق کے لیے ضروری ہیں، لیکن تصدیق کے اندر داخل نہیں، جیسے وضو اور نماز، وضو نماز کے لیے شرط ہے، لیکن نماز کے اندر داخل نہیں۔ وضو ہے تو نماز ہے، وضو نہیں تو نماز بھی نہیں، اسی طرح یہ تین چیزیں ہیں جو تصوراتِ ثلاثہ ہیں، کون سے تصوراتِ ثلاثہ؟ محکوم علیہ کا تصور، محکوم بہ کا تصور اور نسبتِ خبریہ یعنی نسبتِ حکمیہ کا تصور، یہ تین تصورات شرط ہیں اور إذعان مشروط ہے، جیسے وضو شرط ہے اور نماز کیا ہے؟ مشروط ہے، شرط ہے تو مشروط ہے، شرط نہیں تو مشروط بھی نہیں۔ تو یہاں پر بھی یہ تین تصورات شرط ہیں کس کے لیے؟ اس إذعان کے لیے، یہ شرط پوری ہو گی، تینوں چیزیں ہوں گی یعنی محکوم علیہ کا بھی تصور، محکوم بہ کا بھی تصور اور نسبتِ حکمیہ کا بھی تصور، یہ تینوں تصورات ہوں تو اس کے بعد پھر کیا آئے گا؟ إذعان آئے گا۔ ان تین میں سے ایک چیز بھی کم ہو گئی تو إذعان نہیں آ سکتا بھئی، کیونکہ محکوم علیہ نہیں ہے، تو پھر حکم کس پہ لگایا بھئی؟ اور محکوم بہ نہیں ہے، تو کس چیز کا حکم لگایا؟ ربط کہاں سے آیا، کن دو چیزوں کے درمیان ہے ربط؟ تو ربط کے لیے دو چیزیں تو ضرور چاہیے جن کے درمیان آپ کیا کر رہے ہیں؟ ربط دے رہے ہیں۔ تو یہ تینوں چیزیں حکماء کے نزدیک تصدیق کی حقیقت سے خارج ہیں، تصدیق صرف کس کا نام ہے؟ إذعان کا نام ہے، اور إذعان ایک چیز ہے، اس میں اور اجزاء نہیں، تو معلوم ہوا تصدیق بسیط ہے، اس کے اجزاء نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
جبکہ امام رازی رحمہ اللہ اور ان کے متبعین فرماتے ہیں کہ تصدیق جو ہے وہ مرکب ہے، وہ فرماتے ہیں کہ یہ تصوراتِ ثلاثہ اور إذعان یہ چاروں چیزیں ملیں گی تو تصدیق بنے گی، تو یہ چاروں تصدیق کے اندر داخل ہیں۔ فرق سمجھ میں آ رہا ہے؟ یہ چاروں چیزیں تصدیق کے اندر داخل ہیں۔ حکماء نے تو کیا کہا تھا؟ یہ تصدیق کے لیے شرط ہیں، تصدیق کے اندر داخل نہیں، صرف إذعان کا نام تصدیق ہے، جبکہ امام رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ إذعان اور وہ تصوراتِ ثلاثہ، ان چاروں چیزوں کے مجموعے کا نام کیا ہے؟ تصدیق ہے، تو وہ مرکب مانتے ہیں تصدیق کو، تو یعنی بسیط نہیں کہتے، بسیط ہو تو اس کے تو اجزاء نہیں ہوتے، اور یہاں تو تصدیق کتنی چیزوں سے مل کر بن رہی ہے؟ چار چیزوں سے، تو تصدیق کیا ہوئی؟ مرکب ہوئی۔ یہ اسی طرح ہے جیسے دیکھیے، آپ چائے بناتے ہیں، چائے کے اندر کیا کیا ملاتے ہیں؟ دودھ، پانی، چینی، پتی، یہ چار چیزیں ملائیں گے تو چائے بنے گی بھئی، ان میں سے ایک ایک جز کو لیں، پانی ہو تو اس کو بھی کوئی چائے نہیں کہتا، صرف دودھ ہو، اس کو بھی کوئی چائے نہیں کہتا، صرف پتی ہو اس کو بھی کوئی چائے نہیں کہتا۔ تو چاروں چیزیں مرکب ہوئیں تو پھر کیا بن گئی؟ چائے۔ فرق سمجھ میں آیا دونوں کے اندر؟
تو امام رازی رحمہ اللہ کے نزدیک تصدیق مرکب ہے، کتنی چیزوں سے؟ چار چیزوں سے، کون کون سی؟ نمبر ایک: تصورِ محکوم علیہ، نمبر دو: تصورِ محکوم بہ، یعنی دیکھو آپ کو محکوم علیہ کا بھی تصور کرنا پڑے گا، آپ کو محکوم بہ کا بھی تصور کرنا پڑے گا، پھر ان دونوں کے درمیان آپ ربط بھی دیں گے، تو نسبتِ حکمیہ کا بھی آپ کو تصور کرنا پڑے گا، اور پھر اس کا إذعان بھی کرنا پڑے گا، تو چار چیزیں ہوں گی۔ تو امام رازی رحمہ اللہ کے نزدیک تصدیق مرکب ہے ان چار چیزوں سے، کون کون سی؟ نمبر ایک: تصورِ محکوم علیہ، نمبر دو: تصورِ محکوم بہ، تیسرا: تصورِ نسبتِ حکمیہ، اسی نسبتِ حکمیہ کا دوسرا نام کیا؟ نسبتِ خبریہ، اور پھر اس نسبتِ حکمیہ کا کیا کرنا پڑے گا؟ إذعان اور اعتقاد کرنا پڑے گا، تو یہ چاروں سے جو مرکب ہوئی چیز، اب یہ کیا کہلاتی ہے؟ تصدیق کہلاتی ہے بھئی تصدیق، اور تصدیق کا دوسرا نام کیا؟ إذعان، اور اسی طرح تصدیق کا ایک نام کیا ہے؟ حکم بھی ہے بھئی، حکم بھی ہے۔
یاد رکھیے ایک اور بات بھئی، یہ جو حکم ہے نا حکم، علمِ منطق میں حکم چار چیزوں پر بولا جاتا ہے، کبھی تصدیق کو ہی کہہ دیتے ہیں، ابھی جیسے میں نے ذکر کیا تصدیق کا ایک نام کیا ہے؟ إذعان، اور ایک کیا نام ہے؟ حکم، تو حکم بول کر تصدیق مراد لیتے ہیں۔ تو حکم کبھی تصدیق پر بولا جاتا ہے، کبھی نسبتِ حکمیہ پر حکم کا لفظ بولتے ہیں، کس پر؟ کون سی نسبتِ حکمیہ؟ جو محکوم علیہ اور محکوم بہ کے درمیان ہے، اس کو بھی کبھی کیا کہہ دیتے ہیں؟ حکم۔ کبھی محکوم بہ کو بھی حکم کہہ دیتے ہیں، محکوم بہ وہی حکم لگایا جا رہا ہے نا، زید پر عالم کا حکم، تو یہ عالم حکم ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو محکوم بہ کو بھی کبھی حکم کہہ دیتے ہیں، اور کبھی قضیہ کو بھی حکم کہہ دیتے ہیں۔ قضیہ جانتے ہو یا نہیں؟ جملہ خبریہ کو قضیہ کہتے ہیں، جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے، جس میں بات پوری ہو اور جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا، "زيد عالم"، دیکھا یہ قضیہ ہے۔ کوئی کہے "زيد عالم"، آپ کہہ سکتے ہیں یہ ٹھیک کہہ رہا ہے یا آپ کہہ سکتے ہیں یہ جھوٹ بول رہا ہے، کہہ سکتے ہیں یا نہیں؟ تو ہر وہ کلام، ہر وہ جملہ خبریہ جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے، اسے کیا کہتے ہیں؟ قضیہ کہتے ہیں۔ تو حکم چار چیزوں پر بولا جاتا ہے علمِ منطق کے اندر، نمبر ایک: تصدیق، نمبر دو: نسبتِ حکمیہ، نمبر تین: محکوم بہ، اور نمبر چار: قضیہ، قضیہ کو بھی حکم کہہ دیتے ہیں۔ پھر دہراؤ بھئی، حکم منطق میں کتنی چیزوں پر بولا جاتا ہے؟ چار چیزوں پر، نمبر ایک: تصدیق، اور کبھی نسبتِ حکمیہ پر، اور کبھی محکوم بہ پر، اور کبھی قضیہ پر، اور کبھی قضیہ پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے بھئی۔
اب دیکھیے بھئی کتاب پر، کہتے ہیں: قوله: "إن كان إذعاناً بالنسبة" "مصنف کا قول: إن كان إذعاناً بالنسبة أي اعتقاداً بالنسبة". دیکھا إذعان کا معنی کس کے ساتھ کر رہے ہیں؟ اعتقاد کے ساتھ۔ إذعان اور اعتقاد ایک چیز ہے اور کیا معنی ہے اس کا؟ مان لینا، قبول کر لینا کہ شک اور انکار باقی نہ رہے۔ تو کہتے ہیں: "أي اعتقاداً بالنسبة الخبرية الثبوتية كالإذعان بأن زيداً قائم أو السلبية كالاتقاد بأنه ليس بقائم"، یعنی اعتقاد کر لینا نسبتِ خبریہ ثبوتیہ کا، نسبتِ خبریہ کیا ہے؟ وہی نسبتِ حکمیہ، اور وہ کتنی قسم پر ہو سکتی ہے؟ ثبوتیہ بھی اور سلبیہ بھی، وہی ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: یعنی اعتقاد کر لینا نسبتِ خبریہ ثبوتیہ کا كالإذعان جیسے یہ مان لینا بأن زيداً قائم کہ زید کھڑا ہے، أو السلبية یا اعتقاد کر لینا کس کا؟ نسبتِ خبریہ سلبیہ کا، كالاتقاد جیسے یہ اعتقاد کرنا بأنه ليس بقائم کہ وہ کھڑا نہیں ہے۔ تو اس میں دیکھو قیام کی زید سے نفی ہو رہی ہے، تو یہ کیا ہوئی؟ نسبتِ خبریہ سلبیہ، اور پہلی میں زید کے لیے قیام کا ثبوت تھا، تو وہ کیا تھی؟ نسبتِ خبریہ ثبوتیہ۔ تو اس نسبتِ خبریہ، ادھر دیکھیے بھئی، نسبتِ خبریہ ثبوتیہ، نسبتِ خبریہ دو قسم کی ہوئی نا، نسبتِ خبریہ یا ثبوتیہ ہو گی یا سلبیہ، تو اس نسبتِ خبریہ ثبوتیہ یا سلبیہ کا اعتقاد کر لینا، یہ کیا ہے؟ تصدیق ہے۔ اس کا کیا کر لینا؟ اعتقاد، "زيد قائم"، درمیان میں کیا ہے؟ نسبتِ حکمیہ، اور وہی کیا ہے؟ نسبتِ، اسی کا دوسرا نام کیا ہے؟ توجہ ہے؟ "زيد عالم"، زید اور عالم، ان دونوں میں کیا ہے؟ نسبتِ حکمیہ، اسی نسبتِ حکمیہ کا دوسرا نام کیا؟ نسبتِ خبریہ، اس نسبتِ خبریہ کا اعتقاد کر لینا، اس کا إذعان کر لینا، اس کو مان لینا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ تصدیق، یہی تو بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: "أي اعتقاداً بالنسبة الخبرية الثبوتية"، یعنی اعتقاد کر لینا، مان لینا نسبتِ خبریہ ثبوتیہ کو كالإذعان جیسے کہ یہ یقین، یہ مان لینا بأن زيداً قائم کہ زید کھڑا ہے، یہ کون سی ہے؟ نسبتِ خبریہ ثبوتیہ کا إذعان ہے، أو السلبية یا نسبتِ خبریہ سلبیہ کا اعتقاد کر لینا كالاتقاد جیسے یہ اعتقاد کرنا بأنه ليس بقائم کہ وہ کھڑا نہیں ہے، تو یہ کیا ہے؟ تصدیق ہے۔ تصدیق ہے۔
بات سمجھ میں آ گئی؟
اب کہتے ہیں: "فقد اختار مذهب الحكماء حيث جعل"، تو یہاں دو مذاہب میں نے ذکر کیے تصدیق کے بارے میں، ایک حکماء کا مذہب، فلاسفہ کا مذہب، اور ایک امام رازی رحمہ اللہ کا مذہب۔ فلاسفہ کیا کہتے ہیں؟ کہ تصدیق بسیط ہے، اس کے اجزاء نہیں ہیں، اور مصنف نے بھی اسی مذہب کو اختیار کیا، اسی کو پسند کیا۔ کیسے؟ اوپر متن میں کیا کہا؟ "إن كان إذعاناً بالنسبة"، علم جو ہے اگر وہ إذعان ہو نسبت کا، تو وہ تصدیق ہے، دیکھا؟ إذعان ہی کو کیا کہا؟ تصدیق۔ اب بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ "العلم إن كان إذعاناً بالنسبة"، علم جو ہے اگر اس میں إذعان ہو کس کا؟ نسبت کا، "فتصديق"، تو وہ تصدیق ہے، تو إذعان ہی کو تصدیق کہہ رہے ہیں۔ معلوم ہوا کس کا مذہب ان کے نزدیک پسندیدہ؟ حکماء، کیونکہ إذعان کو حکماء تصدیق کہتے ہیں، امام رازی تو صرف إذعان کو تصدیق نہیں کہتے، وہ تو چار چیزوں کے مجموعے اور مرکب کو کیا کہتے ہیں؟ تصدیق کہتے ہیں، اور یہ متن میں اس إذعان کو کیا کہہ رہے ہیں؟ تصدیق، معلوم ہوا ان کے نزدیک کس کا مذہب پسندیدہ؟ حکماء کا، حکماء کے نزدیک تصدیق کس کا نام؟ إذعان کا، اور تصدیق کیا ہے؟ بسیط ہے، اس کے اجزاء نہیں ہیں، اور اس کے لیے کتنی چیزوں کی شرط ہے؟ تین چیزوں کی شرط، کون کون سی؟ تصورِ محکوم علیہ، اور تصورِ محکوم بہ، اور تصورِ نسبتِ حکمیہ، یہ تین چیزیں شرط ہیں، البتہ یہ تصدیق کے اندر داخل نہیں، تصدیق صرف کس کا نام ہے؟ إذعان کا۔ اور امام رازی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ یہ تین چیزیں شرط نہیں بلکہ تصدیق کے اندر داخل ہیں، اور تصدیق کتنی چیزوں کا نام؟ چار چیزوں کے مرکب سے مرکب ہے، چار چیزوں کے مجموعے کا نام ہے، اور وہ کیا؟ تصورِ محکوم علیہ، اور تصورِ محکوم بہ، اور تصورِ نسبتِ حکمیہ، اور اس نسبتِ حکمیہ کا إذعان کر لیں، تو یہ چار چیزوں سے مرکب ہو کر تصدیق بنتی ہے۔ تو متن میں کیا کہا؟ "إن كان إذعاناً بالنسبة"، تو وہ تصدیق ہے، معلوم ہوا إذعان کو تصدیق کہہ رہے ہیں، تو یہ کس کا مذہب ہوا؟ حکماء، حکماء کے مذہب کو بیان کر رہے ہیں، معلوم ہوا مصنف کے نزدیک حکماء کا مذہب پسندیدہ ہے، اس لیے وہی تعریف کر رہے ہیں تصدیق کی جو کس نے کی ہے؟ حکماء نے کی ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ وہ تعریف کر رہے ہیں جو کس نے کی ہے؟ حکماء نے، حکماء کیا کہتے ہیں؟ تصدیق کس چیز کا نام ہے؟ إذعان کا نام ہے، وہی بیان کی۔
تو کہتے ہیں: "فقد اختار مذهب الحكماء"، پس اختیار کیا مصنف نے حکماء کے مذہب کو، حکماء جمع ہے حکیم کی اور حکیم کسے کہتے ہیں؟ فلسفی کو جو علمِ فلسفہ کا ماہر ہو۔ تو اختیار کیا حکماء کے مذہب کو، "حيث جعل التصديق نفس الإذعان والحكم"، اس حیثیت سے کہ قرار دیا "جعل" قرار دینا، بنا دینا، اس حیثیت سے کہ انہوں نے قرار دیا التصدیق تصدیق کو "نفس الإذعان والحكم"، کہ نفسِ إذعان اور حکم یہ تصدیق ہے۔
پھر سنو ترجمہ: "حيث جعل التصديق نفس الإذعان والحكم"، اس حیثیت سے کہ مصنف نے نفسِ إذعان اور نفسِ حکم کو تصدیق قرار دیا، ترجمہ آخر سے ہو رہا ہے، سمجھ میں آ رہا ہے؟ اس حیثیت سے کہ مصنف نے نفسِ إذعان اور نفسِ حکم کو تصدیق قرار دیا، تو معلوم ہوا کس کے مذہب کو اختیار کیا؟ حکماء کے مذہب کو۔
"دون المجموع المركب منه ومن تصور الطرفين"، نہ کہ اس وہ جو مجموعہ ہے، مرکب ہے من ه، کس سے؟ ها ضمیر کس کو راجع ہے؟ ها ضمیر کے نیچے نمبر لگا ہوا ہے 8، پیچھے کس نمبر، کس کے نیچے 8 ہے؟ ہے آپ کی کتابوں میں؟ نہیں ہے؟ اچھا! اچھا ضمیر کے نیچے عمر نمبر وغیرہ دے دیتے ہیں کہ پتہ لگے یہ کس کو لوٹ رہی ہے، تو یہ "منه" کی ها ضمیر راجع ہے حکم اور إذعان کی طرف، حکم اور، چاہے حکم کو لوٹا لیں، چاہے إذعان کو، ایک ہی بات ہے۔ "دون المجموع المركب منه"، نہ کہ وہ جو مجموعہ ہے، مرکب ہے منه کس سے؟ إذعان سے، "ومن تصور الطرفين"، اور تصورِ طرفین۔
قضیہ کی دو طرف ہیں نا؟ کون سے؟ ایک محکوم علیہ، ایک محکوم بہ، تو طرفین سے یہ دو مراد ہیں: محکوم علیہ اور محکوم بہ۔ "ومن تصور الطرفين"، دونوں طرفین کا تصور یعنی کون کون؟ محکوم علیہ اور محکوم بہ، وہ جو مجموعۂ مرکب ہو، کتنی چیزیں ذکر کرنی چاہئیں؟ امام رازی کے نزدیک کتنی چیزیں ہیں؟ چار، چار ہیں، لیکن شارح تین ذکر کریں گے، کتنی ذکر کریں گے؟ تین ذکر کریں گے۔ کہتے ہیں دیکھیے: "المجموع المركب منه"، وہ جو مجموعہ مرکب ہو کس سے؟ إذعان سے، چار چیزیں ہیں نا، وہ ترتیب آگے پیچھے ہو جائے اس کی خیر ہے، ایک کیا ہے؟ إذعان، اور "ومن تصور الطرفين"، اور تصورِ طرفین، یہ کون کون؟ تصورِ محکوم علیہ اور تصورِ محکوم بہ، ان کے مجموعے سے نہیں، ان کا مجموعہ نہیں۔
بھئی دیکھیے نا، عبارت یہ بیان کر رہے ہیں، ترجمہ یہ، شارح کہہ رہے ہیں کہ مصنف نے حکماء کے مذہب کو اختیار کیا، کس طرح؟ کہتے ہیں انہوں نے نفسِ إذعان اور نفسِ حکم کو ہی کیا قرار دے دیا؟ تصدیق قرار دے دیا، نہ کہ اس مجموعۂ مرکب کو، اس کو تصدیق قرار نہیں دیا۔ بھئی مرکب کس چیز سے؟ "منه"، اس إذعان سے، اور تصورِ طرفین سے، ان سے جو مجموعۂ مرکب ہے، اس کو تصدیق قرار نہیں دیا۔ اب عبارت سمجھ میں آ گئی؟ پھر دیکھ لو: "فقد اختار مذهب الحكماء"، پس تحقیق مصنف نے اختیار کیا، پسند کیا حکماء کے مذہب کو، "حيث جعل التصديق نفس الإذعان والحكم"، اس حیثیت سے کہ قرار دے دیا تصدیق کو نفسِ إذعان اور حکم، "دون المجموع المركب"، نہ کہ مجموعۂ مرکب کو، وہ جو مرکب ہے "منه"، اس حکم یا إذعان سے، "ومن تصور الطرفين"، اور طرفین کے تصور سے، "كما زعمه الإمام الرازي"، جیسے کہ گمان کیا امام رازی نے۔
"زعم" کا لفظ لائے، زعم گمانِ باطل کو کہتے ہیں، غلط خیال کو کہتے ہیں، جیسے امام رازی کا غلط خیال تھا۔ یعنی بتلا دیا کہ ان کی یہ رائے صحیح نہیں، بلکہ حکماء کی بات ٹھیک ہے۔
تو کہہ دیا جیسے کہ گمان کیا امام رازی نے یعنی ان کا مذہب ٹھیک نہیں ہے، بات کس کی ٹھیک ہے؟ حکماء اور فلاسفہ کی بات ٹھیک ہے۔
یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟
یہاں پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ امام رازی رحمہ اللہ کے نزدیک تو تصدیق چار چیزوں سے مرکب ہے، اور شارح نے کیا کہا، کتنی ذکر کیں؟ تین ذکر کیں، تصورِ نسبتِ حکمیہ کو تو ذکر نہیں کیا۔ اشکال سمجھ میں آ رہا ہے؟ انہوں نے کہا: "المجموع المركب منه"، وہ جو مجموعہ مرکب ہو کس سے؟ حکم سے، اور تصورِ طرفین سے، تو یہ تو تین چیزیں ہو گئیں، اور نسبتِ حکمیہ کے تصور کو تو انہوں نے چھوڑ دیا، حالانکہ وہ بھی ذکر کرنا چاہیے تھا۔ تو بعضوں نے یہ جواب دیا کہ شارح نے تصورِ نسبتِ حکمیہ کو ذکر نہیں کیا، طلباء کے لیے ہی چھوڑ دیا کہ طلباء خود ہی سمجھ جائیں گے بھئی، کیونکہ جب تصورِ محکوم علیہ اور تصورِ محکوم بہ آ گیا، تو درمیان میں نسبتِ حکمیہ خود بخود آ گئی، کیونکہ محکوم علیہ اور محکوم بہ ان کو کہیں گے ہی تب جب درمیان میں کیا ہو؟ نسبتِ حکمیہ، اگر نسبتِ حکمیہ نہیں، تو پھر تو وہ محکوم علیہ اور محکوم بہ بھی نہیں کہلائیں گے۔ جیسے ایک مرد اور عورت ہیں، ان میں نکاح نہیں، تو ان کو میاں بیوی بھی نہیں کہیں گے، میاں بیوی کہیں گے ہی تب جب ان میں کیا ہو؟ نکاح۔ تو یہاں پر بھی تصورِ طرفین جب آ گیا، تو تصورِ نسبتِ حکمیہ بھی خود بخود آ گیا، کیونکہ طرفین کہیں، ہوں گے ہی تب جب ان کے درمیان کون سی نسبت ہو؟ نسبتِ حکمیہ ہو بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اس لیے شارح نے اس کو ذکر نہیں کیا۔
یا یوں کہیں کہ وہ خود بخود اس سے سمجھ میں آ رہا ہے۔ خود بخود اس سے سمجھ میں آ رہا ہے بھئی، تو اس لیے اس کو صاف لفظوں میں علیحدہ ذکر نہیں کیا۔
یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟
حاصلِ کلام پھر سن لو:
آج شارح نے علم کی تعریف کی: کسی شے کی صورت جو عقل کے پاس حاصل ہو، وہ اس شے کا علم ہے، علم ہے۔ اور پھر اس اعتراض کا جواب دیا، اعتراض یہ ہوتا تھا کہ مصنف نے علم کی تعریف کیوں نہیں کی؟ تو شارح نے تین جوابات دیے: ایک جواب یہ کہ مصنف نے اکتفاء کر لیا کہ یہاں پر مقامِ تقسیم ہے، علم کی تقسیم ہو رہی ہے، جب اس کی دو قسموں کا پتہ چل جائے گا تو خود بخود علم کا بھی کسی نہ کسی درجے میں پتہ چل جائے گا۔ یا اس وجہ سے علم کی تعریف ذکر نہیں کی، کیونکہ علم کی تعریف مشہور ہے، شائع ہے، سب طلباء کو، علماء کو اس کا علم ہوتا ہے، اس لیے اس کو ذکر نہیں کیا۔ اور تیسرا جواب یہ دیا کہ علم بدیہی التصور ہے، لیکن چونکہ اس سے شارح کی تسلی نہیں تھی، اس لیے اس کی نسبت کس کی طرف کر دی؟ قائل کی طرف کر دی کہ جیسا کہ کہا گیا ہے کہ علم کیا ہے؟ بدیہی التصور ہے، وجہ یہ کہ بے شک علم بدیہی التصور ہو، تو بھی بدیہی دو قسم پر، بعض اوقات بدیہی پورا ظاہر ہوتا ہے اور بعض اوقات اس میں کچھ خفا ہوتا ہے، تو اس کے لیے بھی کچھ نہ کچھ بیان چاہیے ہوتا ہے، تو بھی لہٰذا ماتن کو کیا کرنا چاہیے تھا؟ علم کی تعریف کرنی چاہیے تھی۔ اور چوتھا جواب میں نے ذکر کیا کہ ماتن نے علم کی تعریف اس لیے نہیں کی، کیونکہ علم کی بہت سی تعریفیں کی گئی ہیں اور زیادہ تعریفیں ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اس کی حقیقت کا کسی کو پتہ نہیں، تو علم کی تعریفوں میں بہت زیادہ اختلاف تھا، اس وجہ سے اس کو ذکر نہیں کیا، اگرچہ علم کے آثار، علم کے برکات اور علم کے فوائد خوب ظاہر ہیں بھئی۔
پھر اس کے بعد شارح نے آپ کو بتلایا کہ ایک ہے حکماء کا مذہب اور ایک ہے امام رازی کا مذہب، حکماء کے نزدیک جو ہے تصدیق، وہ بسیط ہے، اس کے اجزاء نہیں، وہ صرف إذعان کا نام ہے، جبکہ تصوراتِ ثلاثہ یعنی محکوم علیہ کا تصور، محکوم بہ کا تصور اور نسبتِ حکمیہ کا تصور، یہ اس إذعان کے لیے شرط ہیں، شرط ہیں، اور شرطِ شے کیا ہوتی ہے؟ شے سے خارج ہوتی ہے، تو ان کے نزدیک تصدیق بسیط ہے، جبکہ امام رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تصدیق ان تصوراتِ ثلاثہ اور إذعان، ان چاروں چیزوں سے مرکب ہے، اور مصنف نے کس کے مذہب کو اختیار کیا؟ حکماء کے مذہب کو کہ انہوں نے نفسِ إذعان کو تصدیق قرار دیا۔
اور پھر شارح پر اعتراض ہوتا تھا کہ انہوں نے امام رازی کے مذہب کی پوری تفصیل ذکر نہیں کی، تو جواب گزر گیا کہ شارح نے طلباء کے حوالے کر دیا اس کو کہ طلباء خود سمجھ جائیں گے، کیونکہ جب طرفین کا تصور آ گیا تو خود بخود اس میں نسبتِ حکمیہ کا بھی تصور آ گیا، کیونکہ طرفین کو طرفین کہیں گے ہی تب جب ان کے درمیان کیا پائی جائے؟ نسبتِ حکمیہ پائی جائے، تو امام رازی رحمہ اللہ کے نزدیک تصوراتِ ثلاثہ اور إذعان، چاروں کے مجموعے کا نام جو ہے وہ تصدیق ہے بھئی۔
اور یہ بھی آپ نے پڑھا کہ تصدیق کا ایک نام إذعان بھی ہے، اسی طرح اس کو اعتقاد بھی کہتے ہیں، اسی طرح اس کو حکم بھی کہتے ہیں۔ اور نیز حکم جو ہے، وہ علمِ منطق کے اندر چار چیزوں کے لیے بولا جاتا ہے، کبھی حکم کا لفظ کس کے لیے بولتے ہیں؟ تصدیق کے لیے، کبھی حکم کا لفظ نسبتِ حکمیہ کے لیے بولتے ہیں، اور کبھی محکوم بہ کے لیے بول دیتے ہیں، اور کبھی قضیہ کے لیے بول دیتے ہیں بھئی۔
چلیے بس بھئی، هذا هو المراد، والله اعلم بحقيقة الكلام۔