اگے شرح میں دیکھیے بھئی، قولہ مقدمۃ، ای ہذہ مقدمۃ بین فیہا امور ثلاثۃ، رسم المنطق وبیان الحاجۃ الیہ وموضوعہ، وہی ماخوذۃ من مقدمۃ الجیش، والمراد منہا ہاہنا ان کان الکتاب عبارۃ عن الالفاظ والعبارات طائفۃ من الکلام قدمت امام المقصود لارتباط المقصود بہا ونفعہا فیہ، وان کان عبارۃ عن المعانی فالمراد من المقدمۃ طائفۃ من المعانی یوجب الاطلاع علیہا بصیرۃ فی الشروع۔
اچھا بھئی، اگے سبق دیکھنے سے پہلے گزشتہ سبق میں اپ نے پڑھا تھا کہ القسم الاول فی المنطق۔ القسم الاول میں سات احتمالات ہیں اور منطق کے اندر پانچ احتمال ہیں۔ القسم الاول میں سات احتمال کون سے؟ یا تو اس سے مراد ہیں نقوش، یا اس سے مراد ہیں الفاظ، یا اس سے مراد ہیں معانی، یا اس سے مراد ہیں نقوش اور الفاظ، یا اس سے مراد ہیں نقوش اور معانی، یا اس سے مراد ہیں الفاظ اور معانی، یا اس سے مراد ہیں تینوں کا مجموعہ یعنی نقوش، الفاظ اور معانی۔
تو یہ سات احتمال ہیں قسم اول میں اور منطق میں پانچ احتمال کون سے؟ نمبر ایک: ملکہ یعنی مہارت۔ نمبر دو: تمام مسائل منطقیہ کا علم۔ نمبر تین: قدر معتد بہ مسائل منطقیہ کا علم۔ چوتھا احتمال: منطق سے کیا مراد ہے؟ تمام مسائل، تمام مسائل منطقیہ۔ یا پانچواں احتمال: منطق سے مراد ہے قدر معتد بہ مسائل منطقیہ۔ صورت سمجھ میں اگئی؟ تو یہ پانچ احتمال ہیں منطق میں اور سات احتمال ہیں قسم اول میں۔ قسم اول کے ہر احتمال کے ساتھ منطق کے پانچوں احتمال جوڑیں تو اس طرح 35 صورتیں بن جاتی ہیں، 35 احتمالات یہاں بن جاتے ہیں کل، 35 احتمالات۔
اور پھر انہوں نے اپ کو یہ بھی بتایا تھا کہ یہ فی اور المنطق، اس کے درمیان میں یعنی منطق کے لیے مضاف محذوف نکالیں گے۔ فی کے بعد اور المنطق سے پہلے، یہاں ایک لفظ محذوف نکالیں گے جو مضاف ہوگا منطق کی طرف اور وہ لفظ بیان بھی ہو سکتا ہے، وہ لفظ تحصیل بھی ہو سکتا ہے اور وہ لفظ حصول بھی ہو سکتا ہے۔ تو ان 35 احتمالات میں جو احتمال بھی مناسب اپ سمجھیں، ان تین لفظوں میں سے کوئی بھی لفظ وہاں مضاف نکال سکتے ہیں۔ تو اب کس صورت میں کون سا مضاف محذوف نکالیں گے؟ کب تحصیل نکالنا ہے؟ کب حصول مضاف نکالنا ہے؟ اور کب بیان؟ عبارت کیسے بنے گی؟ القسم الاول فی حصول المنطق، یا القسم الاول فی تحصیل المنطق، یا القسم الاول فی بیان المنطق۔ تو کب تحصیل نکالنا ہے، کب حصول اور کب بیان؟ تو اس کے لیے میں نے ذکر کیا تھا کہ میں ایک نقشہ بنوا دوں گا جس سے اپ انشاءاللہ اسانی سے اس کو حل کر لیں گے۔ تو کاپیاں نکال لیں، وہ نقشہ بنا لیں بھئی کاپی پر۔
اللہ، اللہ، اللہ۔ نقشہ بنا لیں بھئی۔ نقشہ چوڑائی میں بھی کاپی پر بن سکتا ہے، لیکن ذرا چوڑا نقشہ ہے تو اگر لمبائی میں بنا لیں تو زیادہ بہتر بنے گا بھئی، واضح اپ کے لیے لکھنا اسان ہوگا۔ ٹھیک ہے؟ ہاں، لمبائی کے رخ میں بنائیں کاپی پر۔
ایک جدول بنانا ہے، جدول جسے انگریزی میں ٹیبل کہتے ہیں، یعنی ہم نے ایک ٹیبل بنانا ہے۔ اب ہم نے ایک جدول بنانا ہے، نقشہ بنانا ہے، جس میں یہ 35 احتمالات کو ہم ذکر کریں گے اور اس میں پھر یہ دیکھیں گے کہاں پر تحصیل کا لفظ نکالنا ہے، کہاں حصول کا لفظ نکالنا ہے اور کہاں بیان کا لفظ نکالنا ہے۔ تو کاپی کے صفحے پر ایک بڑا سا ڈبہ بنا لیں بھئی، ایک بڑا سا ڈبہ بنا لیں۔ کاپی کے چاروں طرف کناروں سے کوئی ادھا ادھا انچ چھوڑ دیں اور باقی ایک ڈبہ بنا لیں بڑا سا، ایک بڑا سا ڈبہ بنا لیں۔ صفحے کے چاروں کناروں پر ڈبے سے باہر ادھا ادھا انچ جگہ کم از کم چھوڑ دیں۔
ڈبہ بنا لیا؟ جی۔ ہاں، تو ڈبے کے چاروں طرف باہر ادھا ادھا انچ جگہ خالی ہے؟ جی سر۔ اچھا۔ اچھا، اب اس ڈبے کو یوں کرو، اس ڈبے کے بالکل درمیان میں اوپر سے نیچے کی طرف ایک لکیر کھینچ کر اس ڈبے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیں۔ دو حصوں میں تقسیم کر دیں۔ دو حصے بن گئے ڈبے کے؟ ایک دائیں طرف کا حصہ اور ایک بائیں طرف کا۔ اچھا، اب دائیں طرف کا ایک کھانا ہے نا دایاں کھانا، اس کو اس کے اندر دو اور لکیریں اوپر سے نیچے کھینچیں تاکہ تین کھانے بن جائیں۔ دائیں طرف اوپر سے نیچے دو اور لکیریں کھینچیں، تو یہ تین کھانے بن گئے دائیں طرف۔ اسی طرح بائیں طرف بھی دو لکیریں اوپر سے نیچے کھینچیں، اس طرف بھی تین کھانے بن گئے۔
نقشہ سمجھ میں ا رہا ہے بھئی؟ تو اب یہ کل کتنے کھانے ہو گئے ہمارے پاس؟ چھ۔ صفحے کی چوڑائی میں چھ کھانے ہو گئے بھئی، چھ کھانے۔ اب یوں کریں کہ لمبائی میں بھی ہمیں کھانے چاہیے، لمبائی میں۔ لمبائی میں یوں کرو، لمبائی کے اندر بھی ڈبے کے بالکل درمیان میں دائیں سے بائیں ایک لکیر کھینچ دیں۔ چوڑائی میں کتنے کھانے بن گئے؟ چھ۔ اب لمبائی کے اندر بھی ہمیں کھانے چاہیے، بالکل درمیان میں دائیں سے بائیں ایک لکیر کھینچ دیں۔ تو وہ چھ کے چھ کھانے دو حصوں میں بٹ گئے، ایک اوپر والا حصہ ہے ان کا، ایک نیچے والا حصہ۔ اب اوپر والے حصے میں بھی ہمیں چار کھانے چاہیے اور نیچے والے حصے میں بھی ہمیں چار کھانے چاہیے، تو تین تین لکیریں درمیان میں کھینچ دو۔ تین لکیریں اوپر والے حصے میں کھینچو دائیں سے بائیں، اسی طرح نیچے والے حصے میں بھی ہمیں چار کھانے چاہیے، تو تین لکیریں دائیں سے بائیں کھینچ دو۔
لکیریں کھینچ دیں؟ دیکھیے، اب یہ ہمارے سامنے ایک جدول، ایک ٹیبل بن گیا، اس ٹیبل میں چوڑائی کے اندر دائیں سے بائیں کی طرف دیکھیں تو کتنے کھانے ہیں؟ چھ۔ اور اوپر سے نیچے کی طرف اگر اپ کھانے گنیں تو اٹھ کھانے ہیں، کتنے کھانے ہیں؟ اٹھ کھانے ہیں۔ اب ہم لکھنا شروع کرتے ہیں اس میں بھئی۔ یوں کریں کہ ڈبے کے دائیں طرف جو سب سے اوپر والا پہلا کھانا ہے، اس کھانے کے اوپر، ڈبے سے باہر القسم الاول لکھ لیں۔ جو دائیں طرف جو پہلا ڈبہ ہے، اس ڈبے کے اوپر، اس کھانے کے اوپر اس سے باہر لکھنا ہے القسم الاول۔
بات سمجھ گئے؟ یہ کیا ہے؟ اس یہ جو پہلا ڈبہ ہے، اس کے اندر القسم الاول کے وہ سات احتمالات ہم لکھیں گے، صورت سمجھ میں ارہی ہے؟ تو اس لیے اوپر ہم نے لکھ دیا کہ یہ القسم الاول کا کھانا ہے، اس کے اندر سات احتمال ائیں گے۔ کہاں لکھا؟ پہلے ڈبے سے باہر اوپر اس کے، ڈبے کے اندر نہیں لکھنا۔ ہاں، پھر اس القسم الاول کے نیچے جو پہلا ڈبہ ہے اس کو خالی چھوڑ دیں، اس سے نچلے ڈبے میں لکھیں الالفاظ۔ ایک کھانا چھوڑ دیا، سب سے اوپر والا، سب سے اوپر، سب سے دائیں طرف والا کھانا خالی چھوڑ دیا اور اس کے نیچے والے کھانے میں لکھ دیں الالفاظ۔ اس کے نیچے لکھ دیں المعانی، اس سے نچلے کھانے میں لکھیں المعانی۔ اس سے نچلے کھانے میں لکھیں النقوش، النقوش۔ اس سے نچلے کھانے میں لکھیں الالفاظ والمعانی، اکٹھا لکھیں الالفاظ والمعانی۔ اس سے نچلے کھانے میں لکھیں الالفاظ والنقوش۔ اس سے نچلے کھانے میں لکھیں المعانی والنقوش۔ اور اس سے نچلے کھانے میں تینوں لکھ دیں الالفاظ والمعانی والنقوش، الالفاظ والمعانی والنقوش، الالفاظ والمعانی والنقوش۔ لکھ لیے بھئی؟ دیکھا، یہ ہیں وہ سات احتمالات جو کس میں ہیں؟ قسم اول میں۔ قسم اول کو اپ نے کہاں لکھا؟ سب سے اوپر جدول سے باہر، سب سے پہلے کھانے کے اوپر بتلا دیا کہ اس کھانے اس کے نیچے جو ہیں وہ سات احتمالات ائیں گے اور پھر اس کے نیچے ایک کھانا خالی چھوڑ دیا اور اس سے نیچے پھر ایک ایک کر کے وہ سارے سات احتمالات اپ نے لکھ دیے، تو ترتیب اگے پیچھے بھی ہو، یرحمک اللہ، ترتیب اگے پیچھے بھی ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا بھئی۔
تو یہ سات احتمالات ہو گئے۔ اب ہم نے منطق کے پانچ احتمالات لکھنے ہیں، تو پہلا کھانا جس کے اوپر کیا لکھا تھا؟ القسم الاول، اسی پہلے کھانے کے دائیں طرف باہر المنطق لکھ لیں۔ اسی پہلے کھانے کے باہر، کھانے کے اندر نہیں لکھنا، ڈبے سے باہر لکھنا ہے دائیں طرف المنطق۔ دائیں طرف، دائیں طرف۔ پہلے کھانے کے اوپر کیا لکھا؟ القسم الاول۔ اسی ڈبے کے دائیں طرف باہر المنطق لکھ دیں۔ تو دیکھا، پہلے کھانے کے باہر دائیں طرف المنطق لکھا، یہ بتلا رہا ہے کہ اس لکیر میں سیدھے وہ منطق کے پانچ احتمالات ذکر ہوں گے۔ تو پہلا کھانا تو اسی طرح خالی چھوڑ دیں، اس سے اگلے پہلے کھانے میں لکھیں الملکۃ۔ سب سے اوپر والا پہلا کھانا خالی چھوڑ دیں، اس کے ساتھ والے کھانے میں جو سب سے اوپر ہے، سب سے اوپر دوسرا کھانا جو ہے دائیں طرف سے، اس میں لکھیں الملکۃ۔ سب سے اوپر دائیں طرف سے جو دوسرا کھانا ہے اس میں کیا لکھا؟ الملکۃ۔ پہلا کھانا خالی ہے۔ پہلے بھی خالی تھا، وہ اب بھی خالی چھوڑ دیں۔ الملکۃ لکھ لیا؟ اس سے اگلے کھانے میں لکھیں العلم بجميع المسائل، العلم بجميع المسائل۔ اگلے کھانے میں لکھیں العلم بالقدر المعتد بہ، العلم بالقدر، با، الف، لام، قاف، دال، را، بالقدر المعتب بہ۔ اگلے کھانے میں لکھیں نفس جميع المسائل، نفس جميع المسائل۔ اور اس سے اگلے کھانے میں لکھیں نفس القدر المعتد بہ، نفس القدر المعتد بہ۔ لکھ لیا؟ نفس القدر المعتد بہ۔
نقشے کی صورت سمجھ میں ارہی ہے؟ پہلے، سب سے پہلے دائیں طرف کے جو کھانے ہیں ان میں اوپر سے نیچے کی طرف القسم الاول کے سات احتمالات ہیں۔ پھر اس کے بعد جو سب سے اوپر کے ڈبے ہیں، دائیں سے بائیں طرف، ان میں منطق کے جو پانچ احتمالات ہیں وہ ذکر ہیں۔ اب دیکھیے بھئی، اب الملکۃ کے نیچے ا جائیے، الملکۃ کے نیچے جو کھانا ہے معلوم ہوا منطق کا کون سا احتمال یہاں مراد ہے؟ الملکۃ۔ اور دائیں طرف اس کے کیا ہے؟ دائیں طرف کے ڈبے میں کیا ہے؟ الالفاظ۔ معلوم ہوا القسم الاول سے مراد لے لیے الفاظ اور منطق سے مراد لے لیا ملکہ، تو عبارت کیا ہو گئی؟ ہذہ الالفاظ فی ہذہ الملکۃ، یہ الفاظ ہیں اس ملکہ کے بارے میں یعنی منطق میں مہارت کے بارے میں۔ عبارت سمجھ میں ارہی ہے؟ متن میں کیا تھی عبارت؟ القسم الاول فی المنطق، تو یہاں الملکۃ کے نیچے والا ڈبہ، اس میں منطق سے کیا مراد لیں گے؟ ملکہ۔ اور قسم اول سے کیا مراد لیں گے اس کے ساتھ کیا لکھا ہوا ہے؟ الالفاظ۔ تو کیا عبارت بن گئی؟ القسم الاول فی المنطق، وہ متن والی عبارت یاد ہے؟ القسم الاول لگاؤ، کیا لگایا اپ نے؟ الالفاظ، تو ہذہ الالفاظ۔ اور فی المنطق، منطق کی جگہ کیا لگا دو؟ ملکہ، ہذہ الالفاظ فی ہذہ الملکۃ۔ تو ہم نے قسم اول سے مراد لیے الفاظ اور منطق سے کیا مراد لیا؟ ملکہ، تو پھر اس صورت میں مضاف محذوف کیا نکالیں گے؟ القسم الاول فی المنطق، منطق سے پہلے مضاف محذوف نکالنا ہے یا نہیں؟ جی، تو ہم نے منطق سے کیا مراد لیا؟ ملکہ، تو اس صورت میں پھر یاد رکھیے یہاں حصول کا لفظ مقدر نکالیں گے۔ تو اس ڈبے میں حصول لکھ لیں، ملکہ کے نیچے جو ڈبہ ہے۔
تو اب جو بھی ڈبہ اپ جس ڈبے میں بھی جائیں گے، اس کے اوپر بھی اپ نے دیکھنا ہے اور اس کے دائیں طرف بھی دیکھنا ہے، اوپر سے کیا پتہ چلے گا؟ اوپر سے منطق کا کون سا احتمال لینا ہے اور دائیں طرف سے کیا پتہ چلے گا؟ القسم الاول سے کون سا احتمال مراد لینا ہے۔ اچھا، اس سے ذرا نچلے ڈبے میں ا جاؤ، یہ ملکہ کے نیچے ڈبے میں کیا لکھا؟ حصول، حصول۔ اس سے نچلے ڈبے میں ا جاؤ، حصول کے نیچے والے ڈبے میں، جی، یہ یہاں پر منطق سے کیا مراد ہے؟ وہی اوپر سے نیچے کی طرف ہے نا، تو حصول کے نیچے والا ڈبہ، سب سے اوپر کیا ہے اس کے اوپر؟ ملکہ، تو منطق سے یہاں ملکہ، اس سارے ڈبے نیچے تک یہ جتنے جائیں گے ان سب میں منطق سے کون سا احتمال مراد ہوگا؟ ملکہ، لیکن قسم اول کے احتمال ہر لکیر میں بدلتے جائیں گے نیچے کی طرف، کیونکہ دائیں طرف وہ قسم اولاتی جا رہی ہے، کبھی الفاظ ائیں گے، کبھی معانی، کبھی نقوش، کبھی ان میں سے دو ائیں گے، کبھی تینوں ا جائیں گے۔ صورت سمجھ میں ا گئی؟ تو ہم نے پہلی صورت کر رہے ہیں، القسم الاول فی المنطق، قسم اول سے کیا مراد لیے؟ الفاظ۔ اور منطق سے کیا مراد لیا؟ ملکہ، تو اب کیا لفظ محذوف نکالیں گے؟ حصول کا لفظ محذوف نکالیں گے، تو القسم الاول فی حصول، فی حصول المنطق، اور منطق سے کیا مراد؟ ملکہ، کیونکہ ملکہ حاصل ہوتا ہے، محنت کرو گے تو کیا حاصل ہو جائے گا؟ ملکہ حاصل ہو جائے گا، ملکہ حاصل ہو جائے گا۔
ملکہ کے نیچے والے ڈبے میں کیا لکھا؟ حصول۔ اس حصول کے نیچے والے ڈبے میں لکھ دو ایضا، ضاد کے ساتھ، ایضا، ایضا۔ اب نیچے تک سارے ڈبوں میں ایضا لکھ دو، اس سے نچلے ڈبے میں بھی ایضا، سارے نیچے تک سب ڈبوں میں ایضا لکھ دو بھئی، جلدی جلدی لکھو۔
ایضا کا معنی ہے بھی، یعنی یہاں بھی وہی چیز ہے جو اوپر تھی، جو اوپر تھی۔ اور معلوم ہوا منطق سے جب اپ کیا مراد لیں؟ سب سے اوپر کیا ہے؟ ملکہ، جب بھی منطق سے ملکہ مراد لیں تو قسم اول کے اندر چاہے اپ الفاظ مراد لیں تو بھی حصول محذوف نکالنا پڑے گا، اپ چاہے نقوش مراد لیں تو بھی حصول، اپ چاہے معانی مراد لیں پھر بھی حصول، اپ کوئی سے دو مراد لے لیں پھر بھی حصول، تو قسم اول کو جو بھی بنا لیں لیکن جب اپ نے منطق سے کیا مراد لے لیا ملکہ، تو مضاف کیا محذوف نکالیں گے؟ حصول، القسم الاول فی حصول المنطق، فی حصول الملکۃ، تو یوں بن گئی عبارت: ہذہ الالفاظ فی حصول ہذہ الملکۃ، یہ الفاظ ہیں، یہ جو قسم اول ہیں یہ والے الفاظ ہیں اس ملکہ کے حاصل ہونے کے بارے میں یعنی یہ منطق کا ملکہ کیسے حاصل ہوگا۔ اور پھر اس سے نچلے ڈبے میں کیا ہے؟ معانی، تو عبارت کیا بن گئی؟ منطق سے وہی ملکہ مراد اور قسم اول سے کیا مراد؟ معانی، القسم الاول فی المنطق، ہذہ المعانی فی حصول ہذہ الملکۃ، یہ الفاظ، یہ معانی ہیں اس ملکہ کے حاصل ہونے کے بارے میں، یا ہذہ النقوش فی حصول ہذہ الملکۃ، یا ہذہ الالفاظ والنقوش فی حصول ہذہ الملکۃ، یا ہذہ الالفاظ والمعانی فی حصول ہذہ الملکۃ، یا ہذہ النقوش والمعانی فی حصول ہذہ الملکۃ، یعنی سب میں حصول محذوف نکالنا پڑے گا۔
اچھا، ملکہ کے ساتھ والے کھانے میں کیا ہے؟ العلم بجميع المسائل، اس کے نچلے کھانے میں ا جائیں، معلوم ہوا یہاں منطق کا کون سا احتمال ہے؟ العلم بجميع المسائل، اور قسم اول کا کون سا احتمال ہے؟ الالفاظ، تو قسم اول سے جب الفاظ مراد لیں اور منطق سے علم مراد لیں، تو اس صورت میں یاد رکھیے تحصیل محذوف نکالیں گے، تو اس کے نیچے تحصیل لکھ لیں۔ العلم بجميع المسائل کے نیچے والے ڈبے میں تحصیل لکھ دیں۔ اس سے اگلے میں کیا ہے؟ العلم بالقدر المعتب بہ، اس میں بھی لکھیں تحصیل۔ اس سے اگلے اخری دونوں خانوں میں نفس جميع المسائل، اس کے نیچے لکھیں بیان، اور اس سے اگلے ڈبے میں نفس القدر المعتب بہ، اس کے نیچے والے ڈبے میں بھی بیان لکھیں۔ اور نیچے والے سارے ڈبوں میں ایضا ائے گا۔ صورت سمجھ میں اگئی؟ تو حاصل کلام اپ سمجھ لو، دیکھو پھر دیکھو، اس نقشے پہ ذرا پھر نظر ڈالو، القسم الاول سے چاہے الفاظ لو، چاہے معانی، چاہے نقوش، جو بھی مراد لے لو فرق نہیں پڑے گا، لیکن منطق سے کیا مراد اپ لیتے ہیں؟ قسم اول میں سات احتمال ہیں، جو بھی احتمال مراد لیں اس سے کوئی فرق نہیں، لیکن منطق سے جو اپ احتمال لیتے ہیں مراد، اس احتمال سے وہ مضاف بھی اسی کے مطابق بدل جائے گا۔ اگر اپ منطق سے کون سا کیا مراد لیتے ہیں؟ ملکہ، تو ملکہ حاصل ہوتا ہے جب انسان کیا کرے؟ محنت کرے، تو لہذا حصول نکالیں گے اور عبارت یہ ہو گئی: القسم الاول فی حصول المنطق ای فی حصول ہذہ الملکۃ۔ اور اگر اپ منطق سے کیا مراد لیں؟ مسائل کا علم، چاہے سارے مسائل کا علم ہو یا قدر معتد بہ مسائل کا علم ہو، تو علم کو حاصل کیا جاتا ہے، علم کی تحصیل ہوتی ہے، تو وہاں کیا نکالیں گے مضاف محذوف؟ تحصیل، القسم الاول فی تحصیل المنطق ای فی تحصیل العلم، فی تحصیل العلم، علم سے جو بھی علم مراد لے لیں، یوں کر لیں: القسم الاول فی تحصیل علم جميع المسائل، یا القسم الاول فی تحصیل علم القدر المعتب بہ من المسائل، کیونکہ علم کو کیا کیا جاتا ہے؟ حاصل کیا جاتا ہے، تو حاصل کرنے کے لیے کیا بولتے ہیں؟ تحصیل۔ اور اگر اپ منطق سے مراد نفس مسائل مراد لیتے ہیں، چاہے سارے مسائل مراد لیں یا تھوڑے مسائل مراد لے لیں، قدر معتد بہ مسائل مراد لے لیں، تو مسائل کو بیان کیا جاتا ہے، کیا کیا جاتا ہے؟ بیان کیا جاتا ہے، تو وہاں بیان محذوف نکالیں گے، عبارت کیسے ہو جائے گی؟ القسم الاول فی بیان المنطق، اور منطق کی جگہ وہ لے اؤ نفس مسائل، القسم الاول فی بیان نفس جميع المسائل، نفس کے لفظ کو ذرا ختم کر دو، القسم الاول فی بیان جميع المسائل، یا القسم الاول فی بیان القدر المعتب بہ من المسائل، یہ قسم اول ہے، اس میں تمام مسائل منطق بیان ہوں گے، یا یہ قسم اول ہے، اس میں قدر معتد بہ مسائل کیا ہوں گے؟ بیان ہوں گے۔ تو لہذا قسم اول سے چاہے اپ الفاظ لیں، معانی، نقوش، جو بھی مراد لے لیں، اس سے تو اثر نہیں پڑتا، البتہ منطق سے اپ جو مراد لے رہے ہیں اس سے فرق پڑے گا، تو اگر منطق سے کیا مراد لیں؟ ملکہ، تو پھر کیا نکالیں گے؟ حصول، کیونکہ ملکہ حاصل ہوتا ہے جب کیا کی جائے؟ خوب محنت کی جائے۔ اور بعضوں نے کہا، بعضوں نے یہاں بھی تحصیل بھی نکالا ہے، کہ ملکہ خوب محنت کرو گے تو ملکہ حاصل کر لو گے، تو انہوں نے حصول کے بجائے کیا نکالا؟ تحصیل۔ اسی طرح منطق سے اگر علم مراد لیں، چاہے تمام مسائل کا ہو، چاہے قدر معتد بہ، تو پھر اس صورت میں ہم نے کیا نکالا؟ تحصیل، کہ علم حاصل کیا جاتا ہے، اور بعضوں نے یہاں بھی حصول نکالا، کہ کیا نکال سکتے ہو؟ حصول، کہ علم کوشش کرو گے تو حاصل ہو جائے گا، سیکھو گے تو حاصل ہو جائے گا۔ اور جبکہ نفس جميع المسائل یا نفس قدر المعتب بہ میں بیان ہی نکالیں گے، کیونکہ مسائل کو کیا کیا جاتا ہے؟ ملکے کو کیا کیا جاتا ہے؟ ملکہ حاصل ہوتا ہے، اور علم حاصل کیا جاتا ہے، اور مسائل کو بیان کیا جاتا ہے، تو اس کے مطابق اپ مضاف محذوف نکال لیں گے۔ تو یہ 35 صورتیں اب سمجھ میں ا گئیں؟ اچھی طرح؟
تو یہ بعض کتابوں میں یہ نقشہ بنا بھی ہوا ہے، تو اگر نقشہ کتاب میں پہلے سے ہی بنا ہو اپ اس سے بھی مدد لے سکتے ہیں، اور ورنہ پھر یہ نقشہ بنا لیجیے اور انشاءاللہ اس سے وہ ساری صورتیں اپ کے سامنے ا جائیں گی۔
اب ائیے جی اج کے سبق پر۔ اگے دیکھیے بھئی کتاب پر، قولہ مقدمۃ، ای ہذہ مقدمۃ، مصنف کا قول مقدمہ، ای ہذہ مقدمۃ، شارح اس کے لیے ترکیب بتلا رہے ہیں، کہ یعنی ای ہذہ مقدمۃ یعنی ہذہ مبتدا محذوف ہے اور مقدمۃ کو مرفوع پڑھو، کیونکہ یہ اس کے لیے کیا ہے؟ خبر ہے۔ تو یہ مبتدا خبر ہیں اپس میں، میں نے یہاں ایک دو ترکیبیں اور بھی ذکر کی تھیں۔ تو کہتے ہیں: ای ہذہ مقدمۃ بين فيها امور ثلاثۃ، کہتے ہیں اس مقدمے کے اندر تین چیزیں تین امور بیان کیے گئے ہیں، تین چیزیں بیان کی گئی ہیں: رسم المنطق، رسم کہتے ہیں تعریف کو، منطق کی تعریف، وبیان الحاجۃ الیہ، اور منطق کی طرف حاجت کو بیان کیا گیا ہے کہ منطق کی ضرورت کیوں ہے؟ منطق کی ضرورت کیوں ہے؟ وموضوعہ، اور اس کے موضوع کو بیان کیا گیا ہے، تو یہ جو مقدمہ ہے اس میں تین چیزیں ذکر کریں گے۔ کیا؟ منطق کی تعریف، منطق کا موضوع اور اس کی ضرورت کیوں ہے یعنی اس کا غرض کیا ہے، اس کا مقصد کیا ہے؟
تو کہتے ہیں: وہی ماخوذۃ من مقدمۃ الجیش، اور یہ لفظ مقدمہ یہ ماخوذ ہے مقدمۃ الجیش سے، کس سے ماخوذ ہے؟ مقدمۃ الجیش سے۔ جیش لشکر کو کہتے ہیں۔ یاد رکھیے قدیم زمانے میں لشکر کے پانچ حصے ہوتے تھے عموماً، پانچ حصے بھئی۔ ایک درمیان والا حصہ اس کو قلب کہتے تھے، قلب، جیسے دل ہے، یہ مرکز ہوتا تھا لشکر کا جس میں بادشاہ وغیرہ اور بڑے سپہ سالار اس کے اندر ہوتے تھے، مرکز ہے، تو اس کو کہتے تھے قلب، قلب الجیش، لشکر کا دل، لشکر کا مرکز۔ اور جو لشکر کے دائیں طرف کا حصہ ہوتا تھا اس کو میمنہ کہتے تھے، میمنۃ الجیش، میمنہ یمین سے ہے نا، یمین دائیں کو کہتے ہیں، اور یسار کس کو کہتے ہیں؟ بائیں کو، تو جو بائیں طرف حصہ ہوتا تھا اس کو میسرہ کہتے تھے، میسرہ، میسرۃ الجیش، لشکر کا بایاں حصہ۔ اور اسی طرح ایک لشکر کا اگلا حصہ ہوتا تھا اس کو مقدمۃ الجیش کہتے تھے۔ اور ایک لشکر کا پچھلا حصہ ہوتا تھا اسے ساقہ کہتے تھے، سین، الف، قاف دو نقطوں والا اور گول تا، ساقہ، ساقۃ الجیش۔ بات سمجھ میں ارہی ہے؟ جو پیچھے سائق سے ہے نا، ہانکنے والے، جو ہانکنے والے ہیں، پیچھے سے لشکر کو چلا رہے ہیں۔ تو بہرحال یہ پانچ حصے ہوتے تھے لشکر کے بھئی: قلب، میمنہ، میسرہ، ساقہ اور مقدمہ۔ تو جو مقدمہ اس حصے کو کہتے تھے جو لشکر کے اگے ہوتا تھا، تو یہ جو کتاب کا مقدمہ ہے، یہ جو اوپر اپ نے پڑھا، کہتے ہیں یہ مقدمہ اس مقدمۃ الجیش سے لیا گیا ہے، جیسے وہ حصہ لشکر کے اگے اگے ہوتا تھا، اسی طرح کتاب کے شروع میں جو حصہ پہلے اتا ہے اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ مقدمہ کہتے ہیں، جس میں چند ضروری باتیں ذکر کی جاتی ہیں، تاکہ کتاب اگے کتاب پڑھنے میں اسانی ہو جائے، اس فن کا سمجھنا تاکہ وہ فن سمجھ میں ا سکے، کتاب اچھی طرح سمجھ میں ا سکے، تو کچھ باتیں شروع میں ذکر کی جاتی ہیں مقدمہ کے عنوان سے، تو جیسے وہ مقدمۃ الجیش لشکر پر سے مقدم ہوتا اور پہلے ہوتا تھا، اسی طرح یہ حصہ بھی کتاب کا مقاصد پر مقدم ہوتا ہے، ان سے پہلے اتا ہے۔
اس پر اشکال ہوتا ہے کہ مقدمۃ، قدم يقدم تقديم، یہ تو باب تفعیل ہے، اور قدم کا معنی ہے اگے کرنا، اپ کسی ادمی کو اپنے سے اگے کریں تو ہم کہیں گے قدمت رجلا، اپ نے اپنے سے اگے اس ادمی کو اگے کر دیا اپنے سے، اپ نے اس ادمی کو اپنے سے اگے کر دیا۔ تو اپ ہوئے مقدم، اور وہ ادمی کیا ہوا؟ مقدم، تو مقدم کیا ہوا؟ اسم فاعل، اسی سے مؤنث کا صیغہ بنا لو، کیا بن گیا؟ مقدمۃ، تو مقدمۃ کا معنی ہوا اگے کرنے والا، یعنی خود اگے نہیں ہے بلکہ دوسرے کو کیا کر رہا ہے؟ اگے کر رہا ہے، تو یہ تو بات معنی یہاں صحیح نہیں بنتا، یہ کتاب کا یہ حصہ مقاصد کو اگے کرتا ہے یا خود ان سے پہلے ا جاتا ہے؟ یہ تو خود پہلے اگیا، تو یہ تو مقدمہ نہ ہوا! اشکال سمجھ میں ایا؟ مقدم کا کیا معنی؟ دوسرے کو جو اگے کرتا ہے، اپنے سے اگے کر دیا، تو یہ تو مقدمہ نہ ہوا، تو جواب دیا کہ یہاں قدم بمعنی تقدم کے ہے، یعنی باب تفعیل بمعنی باب تفعل کے ہے، اور عربی میں ایسا ہوتا رہتا ہے، ایک باب کبھی دوسرے باب کے معنی میں استعمال ہو جاتا ہے، تو قدم کا معنی تو ہے دوسرے کو اگے کرنا، لیکن تقدم کا معنی ہے خود اگے ہونا، تو یہ مقدمۃ بمعنی متقدمۃ ہے، مقدمہ کا کیا معنی تھا؟ دوسرے کو اگے کرنے والا، اور متقدمہ کا کیا معنی؟ خود اگے ہونے والا، اور یہ بھی خود اگے ہے، مقاصد پر کیا ہے؟ مقدم ہے، پہلے یہ ایا ہے، تو یہاں مقدمہ کس معنی میں؟ متقدمہ کے معنی میں ہے۔
اور بعض نے لکھا کہ یہ لفظ مقدمہ نہیں ہے، یہ مقدمہ ہے، اس میں مفعول کا صیغہ ہے، اسم فاعل کا صیغہ نہیں، اور اس میں مفعول ہے پھر بات ٹھیک بن گئی، پھر تو اشکال ہی کوئی نہیں، کیونکہ مقدم کا کیا معنی؟ جس کو اگے کیا گیا ہو، اور اس کو بھی کیا ہے؟ مقاصد پر اگے کیا گیا، ان سے پہلے لایا گیا ہے۔ تو بہرحال زیادہ رائج جو ہے وہ اس کے اندر مقدمہ ہے، دال کے کسرہ کے ساتھ، اور اس کا جواب گزر گیا کہ مقدمہ کس معنی میں ہے؟ متقدمہ کے معنی میں ہے۔
تو کہتے ہیں: وہی ماخوذۃ من مقدمۃ الجیش، اور یہ ماخوذ ہے مقدمۃ الجیش سے، والمراد منہا ہاہنا ان کان الکتاب عبارۃ عن الالفاظ والعبارات، اچھا، کہتے ہیں بھئی یہ مقدمہ ہے، اور یہ مقدمہ کتاب کا جز ہے، کتاب سے یا تو الفاظ مراد ہیں یا معانی، یہ ساری کیا ہے؟ یہ جو شرح تہذیب یہ ساری کیا ہے؟ یہ تہذیب جو متن ہے، یہ ساری کیا ہے؟ کتاب، اور کتاب یا تو الفاظ کا نام ہے یا معانی کا، اپ پہلے پڑھ چکے ہیں، یہ یعنی یہ کلام لفظی ہے یا کلام نفسی ہے۔ یاد ایا کہ بھول گیا؟ یاد ہے۔ کیا ایا تھا؟ ای ہذا غایۃ تہذیب الکلام، یہ انتہائی درجے کا مہذب کلام، تو یہ ہذا سے کس چیز کی طرف اشارہ ہے؟ انہوں نے بتایا تھا سات احتمالات ہیں، یا تو اشارہ ہے کس کی طرف؟ وہی سات احتمال جو القسم الاول میں ائے، وہی سات احتمال ہذا کے اندر بھی تھے، یا تو اس سے مراد کیا ہیں؟ نقوش، یا اس سے کیا مراد ہیں؟ الفاظ، یا اس سے کیا مراد ہیں؟ معانی، یا اس سے مراد ہیں نقوش اور الفاظ، یا اس سے مراد ہیں نقوش اور معانی، یا اس سے مراد ہیں الفاظ اور معانی، یا اس سے مراد تینوں کا مجموعہ ہے یعنی نقوش، الفاظ اور معانی۔
تو سات احتمال تھے اس کتاب کے اندر، اور وہاں کیا بتلایا تھا؟ کہ وہاں چونکہ اگے لفظ ا رہا ہے کلام، ہذا کلام مہذب، اور کلام وہ تو دو ہی قسم کا ہے، یا کلام لفظی ہے یا کلام نفسی، اور کلام لفظی وہ ہے جو الفاظ سے مرکب ہو، اور کلام نفسی وہ معانی کا نام ہے جو دل میں کلام ہے بھئی، جو دل میں کلام ہے، تو وہاں بتلایا تھا کہ ہذا سے مراد یا تو کلام لفظی ہے یا کلام نفسی ہے، یعنی یا تو الفاظ مراد ہیں یا معانی مراد ہیں۔ ذہن میں بحث ائی؟ الفاظ مراد ہیں یا معانی؟ تو کتاب میں وہ سات احتمال تھے، لیکن چونکہ اگے لفظ کلام ا رہا تھا، تو اس وجہ سے یہ دو انہوں نے بتلایا تھا، یا تو اس سے الفاظ مراد لیں گے یا معانی۔ میرا خیال ذہن میں بحث نہیں تازہ اپ کے۔
بھئی دیکھیے، ہم جو بھی بات کرتے ہیں پہلے بات سوچتے ہیں پھر بولتے ہیں، اور سوچتے کس کو ہیں؟ معانی کو، ذہن میں کیا ہوتے ہیں؟ معانی، اور پھر ان معانی کے لیے ہم الفاظ لاتے ہیں، لیکن وہ الفاظ بھی پہلے ذہن میں سوچتے ہیں اور پھر ان کو بول دیتے ہیں، تو پہلا درجہ کس کا؟ کہ ذہن میں کیا ائے؟ معانی، ترتیب سے کہ یہ بات کرنی ہے، پھر ان معانی کے لیے ترتیب سے کیا لائے؟ ذہن میں ہی سوچے، کیا؟ الفاظ، اور پھر ان الفاظ پر کیا کیا؟ تلفظ کیا، اور الفاظ جو ہیں وہ تو غیر قار الذات ہیں، یعنی وہ اکٹھے خارج میں جمع نہیں ہوتے، ایک لفظ بولیں تو پچھلا لفظ گزر چکا اور اگلے ابھی ائے ہی نہیں، مثلاً میں کہنا چاہتا ہوں: زید محنتی طالب علم ہے، جب میں نے کہا: زید، تو ابھی باقی الفاظ ائے ہی نہیں، بڑا محنتی طالب علم ہے، اور جب میں نے کہا: بڑا، تو زید کا لفظ گزر گیا، ختم ہو گیا، اور اگلے الفاظ ابھی ان کا وجود ہی نہیں کیونکہ میں نے ان پر ابھی تلفظ ہی نہیں کیا، پھر محنتی پر جب میں پہنچا، تو زید کا لفظ بھی گزر چکا، بڑا کا لفظ بھی گزر چکا، ختم ہو چکا، اس کا وجود نہیں، اور اگلے الفاظ ابھی ائے ہی نہیں، تو دیکھا، الفاظ سارے اکٹھے ہوتے ہی نہیں، اپ جوں جوں تلفظ کرتے جاتے ہیں، جو لفظ گزرتا گیا وہ ختم ہوتا چلا جا رہا ہے، اور جو باقی ہیں ابھی ان پر تو تلفظ کیا ہی نہیں، تو الفاظ ایک وقت میں خارج میں اکٹھے ہوتے ہی نہیں، تو الفاظ سے وہ الفاظ نہیں مراد جو خارج میں موجود ہیں، بلکہ کون سے الفاظ مراد انہوں نے لیے تھے؟ وہ الفاظ جو ہم نے ذہن میں سوچے، پہلے کس کا تصور کیا؟ معنی کا، پھر ان کے لیے کس کا تصور کیا؟ الفاظ کا، اور پھر ابھی ان الفاظ پر ابھی تلفظ نہیں کیا، تو وہ الفاظ جو ابھی کہاں پر ہیں؟ ذہن میں ہی ہیں، ان کی طرف اشارہ ہے ہذا کے ذریعے، تو یا تو معانی کی طرف یا ان الفاظ کی طرف، خارج میں جو الفاظ ہیں ان کی طرف اشارہ نہیں، کیونکہ خارج میں تو الفاظ غیر قار الذات ہیں یعنی اکٹھے ہوتے ہی نہیں۔
بات سمجھ میں ا گئی؟ تو وہاں وہاں چونکہ کلام کا لفظ ایا تھا، ویسے تو کتاب کے اندر سات احتمال تھے، لیکن چونکہ وہاں لفظ ایا تھا کلام، اس لیے انہوں نے کہا تھا ان سات میں سے یا تو صرف الفاظ مراد لینے پڑیں گے یا صرف معانی مراد لینے پڑیں گے، کیونکہ ان دو کو کلام کہتے ہیں اور باقی نقوش وغیرہ کو کلام نہیں کہتے، کیونکہ کلام دو ہی قسم پر ہے، یا کلام لفظی جس پر ہم کیا کرتے ہیں؟ تلفظ، یا کلام نفسی وہ جو معنی ہم ذہن میں سوچتے ہیں۔ تو یہاں بھی کیا ایا؟ ہذا کلام مہذب، تو کتاب ہذا کے اندر تو سات احتمال، لیکن جب اگے کلام اگیا اب ہذا سے دو ہی چیزیں مراد لے سکتے ہو، یا کلام نفسی یا کلام لفظی مراد لے سکتے ہو، یعنی یا الفاظ مراد لو گے یا معانی مراد لو گے۔ صورت سمجھ میں اگئی؟
تو یہاں پر بھی یہ بیان کر رہے ہیں کہ یہ جو مقدمہ ایا، یہ جو مقدمہ ایا، یہ بھی کس کا حصہ ہے؟ کتاب کا، کتاب کا، اور اس کتاب میں کتنے احتمال تھے؟ سات احتمال، تو اس مقدمے میں بھی سات احتمال ہونے چاہیے، کتنے؟ بھئی یہ اسی کا حصہ ہے نا، تو جب کتاب میں کتنے احتمال؟ سات، تو اس مقدمے میں بھی کتنے ہونے چاہیے؟ سات احتمال ہونے چاہیے، لیکن منطقہ نے یہاں پر یہی دو احتمال ذکر کیے ہیں کہ مقدمے سے یا تو مراد الفاظ ہیں یا معانی مراد ہیں، تو ہم بھی ان کی پیروی کرتے ہیں اور یہاں پر باقی احتمالات کو ذکر نہیں کرتے، اگرچہ جب کتاب میں سات احتمال ہیں تو یہ بھی کتاب کا حصہ، اس میں بھی کتنے احتمال ہونے چاہیے؟ سات، مقدمے سے یا مراد ہونے چاہیے الفاظ، یا معانی، یا نقوش، یا نقوش اور الفاظ، یا نقوش اور معانی، یا الفاظ اور معانی، یا تینوں کا مجموعہ یعنی الفاظ، نقوش اور معانی، تو یہ ساتوں احتمال مقدمے میں ہونے چاہیے، لیکن باقی منطقہ جنہوں نے اس کتاب کی شروحات وغیرہ لکھیں، اس تہذیب کی، کسی نے بھی یہ سات احتمال مقدمے میں ذکر نہیں کیے، سب نے مقدمے میں صرف دو ہی احتمال ذکر کیے ہیں، کون کون سے؟ الفاظ اور معانی، تو ہم بھی الفاظ اور معانی ہی یہاں ذکر کریں گے، کہ مقدمے سے مراد یا تو الفاظ ہیں یا کیا ہیں؟ معانی ہیں۔
تو مقدمے میں دو ہی احتمال ذکر کریں گے، یا کیا ذکر کریں گے؟ الفاظ، یا کیا ذکر کریں گے؟ معانی ذکر کریں گے۔ اب ذرا اگے عبارت ذرا مشکل ہے، اس کو سمجھنے کے لیے ادھر دیکھیے بھئی، پہلے یہ بات سمجھ لیں۔ مقدمہ، یاد رکھیے مقدمے کے اندر مقاصد جو کتاب کے اندر جو چیزیں مقصود ہیں جن کو مقاصد ہیں اس علم یا کسی علم یا فن کے وہ ذکر ہوتے ہیں، اور اس سے پہلے مصنف جو ہے مقدمہ کے عنوان سے کچھ ضروری باتیں ذکر کرتا ہے، کیا کرتا ہے؟ کچھ ضروری باتیں مقدمہ کے عنوان سے ذکر کرتا ہے، اور اس میں کچھ ایسی باتیں مقدمہ میں ایسی باتیں جمع کرتا ہے جن سے اگے کتاب کے سمجھنے میں اسانی ہوگی، ان باتوں کا اس کتاب سے اور مقاصد سے ربط ہوتا ہے اور ان کے سمجھنے سے اس کتاب کا سمجھنا اسان ہو جاتا ہے، تو مقدمہ اس میں کچھ باتیں ذکر کی جاتی ہیں، ان باتوں کا اگے انے والے مقاصد سے ربط ہوتا ہے اور اس مقدمے کے مقدمے کے سمجھنے سے ان کا سمجھنا اسان ہو جاتا ہے، یعنی یوں سمجھو یوں کہو مقدمہ ان کے سمجھنے میں فائدہ دیتا ہے، مقدمہ ان کے سمجھنے میں فائدہ دیتا ہے اور سمجھنا اسان ہو جاتا ہے۔
اچھا، اب ادھر دیکھیے۔ سب سے پہلے کس کو ذکر کر رہے ہیں؟ مقدمہ، اس کے بعد کس کو ذکر کریں گے؟ مقاصد کو، علم منطق کے جو مقاصد ہیں، تو پہلے مقدمہ، اور مقدمے میں کچھ ایسی باتیں ذکر کریں گے جن کی وجہ سے اگے مقاصد کا سمجھنا اسان ہو جائے گا، ان باتوں کا ان سے ربط ہے اور یہ ان کے ان کے سمجھنے میں فائدہ پہنچاتی ہیں، اور مجھے یہ بتائیے، یہ جو مقدمہ ہے، یہ اس سے کیا مراد لیا؟ الفاظ یا معانی، تو یوں کہیں گے کہ یہ جو مقدمہ ہے الفاظ کا ایک گروہ ہے، الفاظ کی ایک جماعت ہے۔ مقدمہ کیا ہے؟ بھئی کچھ باتیں جمع ہیں نا، تو الفاظ کا کیا ہے؟ ایک گروہ ہے یا الفاظ کی ایک جماعت ہے، جس کو مصنف نے کیا کر دیا؟ کتاب پر مقدم کر دیا، کیونکہ اس کا کتاب کے ساتھ ربط ہے اور یہ کتاب کے سمجھنے میں فائدہ دے گا۔ یا مقدمے سے مراد لے لو معانی، تو معنی ہو جائے گا کہ یہ مقدمہ جو ہے، یہ یہ معانی کا ایک گروہ ہے، کچھ معانی اکٹھے کیے ہیں نا؟ یا تو کچھ اگر الفاظ مراد ہیں تو یوں کہو گے کہ مقدمہ یہ کچھ الفاظ جمع کیے ہیں، کچھ الفاظ کی جماعت ہے جس کا اگلی کے اگے انے والے مقاصد سے ربط ہے اور یہ اس کے سمجھنے میں فائدہ دے گا، اور اگر مقدمے سے کیا مراد لو؟ معانی، تو پھر یوں کہیں گے کہ مقدمہ معانی کا ایک گروہ ہے جس کا اگے انے والے معانی یعنی کتاب کے ساتھ ربط ہے اور یہ اس کے سمجھنے میں فائدہ دیتا ہے۔ یہی بیان کر رہے ہیں، دیکھیے بھئی۔
کہتے ہیں: والمراد منہا اور مقدمہ سے مراد جو ہے ہاہنا یہاں پر، ان کان الکتاب عبارۃ عن الالفاظ والعبارات، اگر کتاب عبارت ہو الفاظ اور عبارتوں سے، توجہ ہے؟ کتاب میں ویسے تو سات احتمال تھے، لیکن ہذا کلام مہذب میں کتنے احتمال باقی رہ گئے تھے؟ دو، یا تو کتاب عبارت ہے کس سے؟ الفاظ سے، یا کتاب عبارت ہے کس سے؟ معانی سے، تو کہتے ہیں اگر کتاب عبارت ہو الفاظ اور عبارتوں سے، کتاب کس سے کتاب سے کیا مراد ہے؟ الفاظ اور عبارتیں، تو پھر مقدمے سے بھی کیا مراد ہوں گے؟ الفاظ، الفاظ کا ایک گروہ مراد ہوگا، اور اگر کتاب عبارت ہو کس سے؟ معانی سے، تو مقدمے سے بھی مراد جو ہے وہ ایک معانی کا ایک گروہ ہوگا۔ بات سمجھ میں ا گئی؟ اب دیکھیے صرف ترجمہ ہے۔
کہتے ہیں: والمراد منہا ہاہنا، اور مراد مقدمے سے یہاں پر، اگے ا رہا ہے: طائفۃ من الکلام، کلام کا ایک گروہ ہے، مقدمے سے یہاں مراد کلام کا ایک گروہ ہے، بھئی کب کلام کا ایک گروہ کب مراد ہوگا؟ درمیان میں ذکر کر دیا: ان کان الکتاب عبارۃ عن الالفاظ والعبارات، اگر یہ کتاب عبارت ہو الفاظ اور عبارتوں سے، اگر کتاب سے کیا مراد لیا اپ نے؟ الفاظ اور عبارات، تو مقدمے سے بھی کیا مراد لوگے؟ الفاظ اور عبارات یعنی کلام کا ایک گروہ مراد لے لو گے، کلام لفظی کا ایک گروہ۔ تو کہتے ہیں مراد مقدمے سے یہاں پر ان کان الکتاب عبارۃ عن الالفاظ والعبارات، اگر یہ کتاب عبارت ہو الفاظ اور عبارتوں سے، تو مقدمے سے یہاں مراد طائفۃ من الکلام، کلام کی ایسی جماعت ہے، طائفہ کا کیا معنی؟ گروہ، کلام کی ایک ایسی جماعت مراد ہے قدمت امام المقصود، جس کو مقدم کیا گیا ہے مقصود سے پہلے، مقصود سے پہلے، مقصود پر کیا گیا؟ مقصود کے سامنے اس کو مقدم کیا گیا، لارتباط المقصود بہا، اس لیے کیونکہ ربط ہے مقصود کا بہا اس کے ساتھ، ونفعہا فیہ، اور نفع ہے اس مقدمے کا فیہ اس مقصود میں یعنی اس کے سمجھنے میں، معنی سمجھ میں ا رہا ہے؟ پھر دیکھ لو ایک دفعہ ترجمہ۔
کہتے ہیں: والمراد منہا ہاہنا ان کان الکتاب عبارۃ عن الالفاظ والعبارات طائفۃ من الکلام، اور مراد مقدمے سے یہاں پر اگر کتاب عبارت ہو الفاظ اور عبارتوں سے، تو پھر مقدمے سے یہاں مراد طائفۃ من الکلام، کلام کا ایک گروہ ہے، کلام کی ایک جماعت ہے، قدمت جس کو مقدم کیا گیا ہے امام المقصود، مقصود پر، مقصود سے پہلے، لارتباط المقصود بہا، اس وجہ سے کہ مقصود کا اس کے ساتھ ربط ہے، ونفعہا فیہ، اور اس لیے کیونکہ یہ مقدمہ فائدہ دیتا ہے فیہ اس مقصود کے اندر، وان کان عبارۃ عن المعانی، اور اگر کتاب عبارت ہو کس سے؟ معانی سے، فالمراد من المقدمۃ، تو پھر مقدمے سے مراد جو ہے طائفۃ من المعانی، معانی کی ایک جماعت مراد ہے، یوجب الاطلاع علیہا بصیرۃ فی الشروع، یوجب کا معنی يثبت، یوجب، يثبت، ثابت کرنا۔ ویسے یوجب اوجب یوجب کا معنی ہے واجب کرنا، دوسرے پر کوئی چیز لازم کر دینا، لیکن یہاں لازم کرنے کے معنی میں نہیں ہے بلکہ یہاں کس معنی میں ہے؟ ثابت کر دینا، یوجب بمعنی يثبت کے ہے، اور یاد رکھنا کتابوں کے اندر یوجب بمعنی يثبت کے عام استعمال ہوتا ہے، يثبت کے، تو یوجب واجب کرتا ہے، الاطلاع علیہا یہ فاعل ہے، اس پر مطلع ہونا، یہ ثابت کرتا ہے، اس مقدمے پر مطلع اگر اپ ہو جائیں، اس کو سیکھ لیں، پڑھ لیں، جان لیں، تو یہ ثابت کر دے گا، کیا ثابت کرے گا؟ بصیرۃ فی الشروع، کتاب کے شروع میں بصیرت کو، بصیرت ا جائے گی، بصیرت کا کیا معنی ہے؟ سمجھنا، سمجھنا، دل کا نور بھئی، تو دل کا نور ا جائے گا یعنی کتاب کو سمجھا جا سکے گا۔ عبارت سمجھ میں ارہی ہے؟ یوجب الاطلاع علیہا، اس پر مطلع ہونا یہ ثابت کرتا ہے بصیرۃ فی الشروع، اس کتاب کے شروع میں بصیرت کو یعنی کتاب کے شروع میں کیا ا جائے گی؟ بصیرت ا جائے گی اور کتاب کا سمجھنا اسان ہو جائے گا۔ عبارت سمجھ میں ائی کہ نہیں؟ پھر دیکھو: وان کان عبارۃ عن المعانی، اور اگر یہ کتاب عبارت ہو معانی سے، فالمراد من المقدمۃ طائفۃ من المعانی، تو مقدمے سے مراد معانی کی ایک جماعت ہے، یوجب الاطلاع علیہا بصیرۃ فی الشروع، کہ اس پر مطلع ہونا وہ بصیرت کو ثابت کر دیتا ہے کتاب کے شروع میں۔
وتجویز الاحتمالات الاخری فی الکتاب، اچھا، کیا بات ذکر کی تھی؟ کہ کتاب میں کتنے احتمالات؟ سات، سات، جب کتاب میں سات احتمال، تو مقدمہ بھی اسی کا حصہ ہے، اس میں بھی کتنے احتمال ہونے چاہیے؟ سات، لیکن میں نے ذکر کر دیا کہ شارح اپ کو بتلائیں گے کہ باقی شارحین نے یہاں صرف مقدمے سے الفاظ یا معانی ہی مراد لیے ہیں، تو ہم بھی انہی کی پیروی کرتے ہوئے الفاظ یا معانی ہی مراد لیتے ہیں، باقی احتمالات کو ہم بھی یہاں ذکر نہیں کرتے۔ یہی بات بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: وتجویز الاحتمالات الاخری، اور جائز قرار دینا، بھئی کتاب میں کتنے احتمالات جائز قرار دیے تھے؟ سات، یہی بیان کر رہے ہیں: وتجویز الاحتمالات الاخری، اور دوسرے احتمالات کو جائز قرار دینا، جوز یجوز تجویز کا معنی ہے جائز قرار دینا، اور جائز قرار دینا دوسرے احتمالات کو فی الکتاب، کس میں؟ کتاب میں، یستدعی، یہ تقاضا کرتا ہے جوازہا فی المقدمۃ، کہ یہ احتمالات جائز ہونے چاہیے فی المقدمۃ، کس کے اندر؟ مقدمے میں بھی، اللتی ہی جزؤہ، وہ مقدمہ جو کہ کتاب کا جز، کتاب کے اندر باقی بھی پانچ احتمالات جائز قرار دیے تھے یا نہیں؟ جی، تو کتاب میں جب باقی پانچ احتمالات اپ جائز قرار دے رہے ہیں، الفاظ اور معانی کے علاوہ، نقوش وغیرہ، جب کتاب میں اپ پانچ مزید احتمالات جائز قرار دے رہے ہیں، تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ مقدمے میں بھی یہ احتمالات کیا ہونے چاہیے؟ جائز ہونے چاہیے، کیونکہ مقدمہ اسی کتاب کا جز ہے۔ یہ معنی ہے: وتجویز الاحتمالات الاخری فی الکتاب، اور باقی احتمالات کا جائز قرار دینا کتاب کے اندر، یستدعی، یہ تقاضا کرتا ہے، جوازہا فی المقدمۃ، کہ وہ احتمالات جائز ہونے چاہیے مقدمہ کے اندر، اللتی ہی جزؤہ، وہ مقدمہ جو کہ اس کتاب کا جز ہے، لکن القوم لم یزیدوا علی الالفاظ والمعانی فی ہذا الباب، لیکن ان لوگوں نے، ان لوگوں نے، کون مراد ہیں؟ وہ لوگ، منطق والے، علم منطق والے، منطقہ مراد ہیں، منطقی حضرات مراد ہیں۔
اچھا، تو القوم جو ہے، القوم، اس کا معنی میں نے کیا کیا؟ وہ لوگ، لیکن ان لوگوں نے، اور مراد کون ہیں؟ منطقہ، تو اس پر اشکال ہوتا ہے کہ کہ پیچھے تو کہیں قوم کا ذکر نہیں ایا، کہیں، تو پھر الف لام کے ذریعے کن لوگوں کی طرف اشارہ ہے؟ میں نے جواب دے دیا کہ اس سے کون مراد؟ منطقی حضرات مراد ہیں۔ تو اس پر اشکال ہوتا ہے کہ پیچھے تو کہیں قوم وغیرہ کا لفظ ایا ہی نہیں، کہ پھر جیسے رجل ایا تھا، جاءنی رجل فاکرمت الرجلا، ایا میرے پاس ہوا ادمی، ایا میرے پاس کوئی ایک ادمی، تو میں نے اس ادمی کا اکرام کیا۔ پہلے رجل کا ذکر ہوگا تو پھر الرجل کے ذریعے، الف لام کے ذریعے اس کی طرف کیا ہوگا؟ اشارہ، تو یہاں پر بھی پیچھے تو کہیں قوم کا ذکر نہیں ایا کہ قوم ذکر ہوتا تو پھر القوم کے ذریعے کیا کیا جاتا؟ اس کی طرف اشارہ کیا جاتا۔ تو جواب یہ کہ یہاں پر کہ لفظوں کے اعتبار سے اگرچہ قوم کا ذکر نہیں ایا، لیکن معنی کے اعتبار سے قوم کا ذکر اگیا، منطقہ کا ذکر اگیا، کیونکہ یہ کتاب منطق میں ہے، تو جب منطق کی کتاب اگئی تو منطقہ کا خود بخود گویا یوں سمجھو ذکر اگیا، تو معنی کے اعتبار سے ذکر ہے، لفظوں کے اعتبار سے ذکر نہیں ہے۔
تو کہتے ہیں: لکن القوم لم یزیدوا علی الالفاظ والمعانی فی ہذا الباب، لیکن ان منطقہ نے جو ہے، انہوں نے زیادہ نہیں کیا، بڑھایا نہیں الفاظ اور معانی پر فی ہذا الباب، اس باب میں، اس باب میں یعنی اس مقدمہ کے باب میں انہوں نے الفاظ اور معانی پر زیادتی نہیں کی، اور احتمالات کو ذکر اور احتمالات کو ذکر نہیں کیا، تو میں بھی اور باقیوں کو یہاں ذکر نہیں کرتا، صرف وہی دو احتمال ذکر کرتا ہوں کہ اگر کتاب سے مراد الفاظ ہیں تو مقدمہ سے بھی مراد الفاظ کا ایک گروہ ہے، اور اگر کتاب سے مراد معانی ہیں تو مقدمہ سے بھی مراد معانی کا ایک گروہ ہے۔ چلیے بس بھئی، ہذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔