Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح التهذيب · dars-025

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Noman Ahmad
📍 Location Peshawar, Pakistan
📅 Approved Date 05 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 14
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے دیکھیے بھئی شرح کے اندر۔ فَإِنْ كَانَتِ الْإِشَارَةُ إِلَى الْأَلْفَاظِ فَالْمُرَادُ بِالْكَلَامِ الْكَلَامُ اللَّفْظِيُّ، وَإِنْ كَانَتْ إِلَى الْمَعَانِي فَالْمُرَادُ بِهِ الْكَلَامُ النَّفْسِيُّ الَّذِي يَدُلُّ عَلَيْهِ الْكَلَامُ اللَّفْظِيُّ۔ گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا کہ "هذا" کے ذریعے اشارہ ہے یا تو معانی کی طرف یا وہ الفاظ جو ذہن میں ہیں ابھی، یعنی جو ان معانی پر کیا کر رہے ہیں؟ دلالت کر رہے ہیں۔ تو "هذا" کے ذریعے اشارہ ہے اس چیز کی طرف جو مرتب ہے، ترتیب وار ہے، اور حاضر ہے ذہن کے اندر۔ چاہے وہ مخصوص معانی ہیں اور چاہے وہ الفاظ ہیں جو ان مخصوص معانی پر کیا کر رہے ہیں؟ دلالت کرتے، دلالت کرنے والے ہیں۔ تو "هذا" کے ذریعے اشارہ ہوا کس کی طرف؟ وہ جو مرتب حاضر ہے ذہن میں اور اس سے پھر کیا مراد ہے؟ یا تو یا تو اشارہ ہے وہ مرتبِ حاضر کیا ہے؟ یا تو وہ معانی مخصوص معانی ہیں یا وہ مخصوص الفاظ ہیں جو ابھی خیال میں ہیں، جو ان معانی پر کیا کر رہے ہیں؟ دلالت کر رہے ہیں۔ جو خارج میں، خارج میں الفاظ ہیں ان کی طرف اشارہ نہیں، کیونکہ الفاظ غیر قار الذات ہیں۔ وہ اکٹھے ہوتے ہی نہیں، خارج میں اکٹھے جمع ہوتے ہی نہیں۔ جب خارج میں جمع ہی نہیں ہوتے تو ترتیب کہاں سے آئے؟ ترتیب تو تبھی ہے نا، ایک چیز، کافی ساری چیزیں اکٹھی ہو گئیں اب آپ نے ان کو ترتیب دے دیا۔ تو یہاں تو ہے ہی نہیں، ایک لفظ آ رہا ہے تو دوسرا ختم ہوتا جا رہا ہے اور اگلے ابھی آئے ہی نہیں۔ تو الفاظ اکٹھے ہیں ہی نہیں۔ جب اکٹھے نہیں تو مرتب بھی نہیں ہو سکتے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ خارج میں اکٹھے جمع ہو ہی نہیں سکتے، مرتب ہو ہی نہیں سکتے، تو ان الفاظ کی طرف جو خارج میں ہیں ان کی طرف بھی اشارہ نہیں ہو سکتا، اور نیز معانی وہ تو خارج میں موجود ہوتے ہی نہیں، معانی تو کہاں پر موجود ہیں؟ ذہن کے اندر بھئی! تو شارح نے آپ کو بتلا دیا کہ ہر حال میں یہ جو "هذا" ہے، چاہے آپ اس کے، چاہے آپ اس کے ذریعے معانی کی طرف اشارہ مراد لیں، چاہے اس کے ذریعے آپ ان الفاظ کی طرف اشارہ مراد لیں، دونوں صورتوں میں یہ اپنے مجازی معنیٰ میں استعمال ہو رہا ہے اور الفاظ سے بھی وہ الفاظ مراد ہیں جو ان معانی پر دلالت کر رہے ہیں، جو ابھی خیال کے اندر ہیں، جو کہاں پر ہیں؟ خیال میں موجود ہیں، خارج میں نہیں، کیونکہ خارج کے اندر تو الفاظ اکٹھے ہوتے ہی نہیں، تو خارج والوں کی طرف تو اشارہ ہو ہی نہیں سکتا، ہاں وہ جو ذہن میں ہیں ان کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے۔ تو بہرحال، انہی کی طرف اشارہ بنے گا، یا ان معانی کی طرف یا ذہن میں موجود الفاظ کی طرف، اور یہ دونوں، دونوں کا وجود خارج میں نہیں، تو "هذا" کا اشارہ ہوا ایسی چیز کی طرف جو خارج میں موجود نہیں، تو یہ کون سا استعمال ہوا؟ مجازی معنیٰ، کیونکہ "هذا" اگر اس کے ذریعے اشارہ ہو کسی موجود، مشاہد چیز کی طرف جو خارج میں موجود ہو، خارج میں حاضر ہو، تو پھر تو "هذا" اپنے اصلی معنیٰ میں ہے، اور اگر ذہن میں چیز کی طرف اشارہ ہے تو یہ اپنے اصلی معنیٰ میں استعمال نہیں ہوا بھئی، مجازی معنیٰ میں استعمال ہوا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دو احتمال انہوں نے ذکر کیے، یا تو "هذا" کے ذریعے اشارہ ہے کس کی طرف؟ مخصوص معانی کی طرف جو ذہن میں ہیں، مرتب ہیں، یا اشارہ ہے کس کی طرف؟ ان مخصوص الفاظ کی طرف جو ان مخصوص معانی پر کیا کر رہے ہیں؟ دلالت کر رہے ہیں، اور کہاں پر ہیں یہ الفاظ؟ یہ بھی ذہن میں ہیں، خیال میں ہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ جیسے میں نے کل بتایا بھی تھا، "أَوْ تِلْكَ الْأَلْفَاضِ الدَّالَّةِ" کتاب میں اس کے نیچے لکھا ہوا ہے "الْمُخَيَّلَةِ"، وہ الفاظ جو کہاں پر موجود ہیں؟ خیال میں موجود ہیں، خیال میں موجود، یعنی ذہن میں موجود ہیں۔ تو حاصلِ کلام پھر سنو، اس "هذا" کے ذریعے اشارہ ہے ان مخصوص معانی کی طرف، یا "هذا" کے ذریعے اشارہ ہے ان مخصوص الفاظ کی طرف جو ان مخصوص معانی پر کیا کر رہے ہیں؟ دلالت کر رہے ہیں۔ تفصیل یاد رکھو، یہاں کل سات احتمال بنتے ہیں، کتنے؟ سات۔ سات احتمال بنتے ہیں، اور ان سات میں سے صرف یہ دو احتمال درست ہیں، باقی احتمال صحیح نہیں۔ "هذا" کا اشارہ ہو، "هذا" کس چیز کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے؟ سات چیزیں بن سکتی ہیں یہاں پر، "هذا" کے ذریعے جن کی طرف اشارہ ہو، وہ سات چیزیں ہو سکتی ہیں، لیکن ان سات میں سے صرف دو احتمال آپ کو ابھی تک بتائے ہیں، کون سے؟ یا تو اشارہ ہے معانی کی طرف یا اشارہ ہے مخصوص الفاظ کی طرف جو ان معانی پر دلالت کر رہے ہیں بھئی۔ باقی پانچ احتمالات درست نہیں، اس لیے ان کو ذکر ہی نہیں کیا شارح نے۔ تفصیل یاد رکھو، کون سے سات احتمالات ہیں بھئی؟ آپ یاد رکھیں۔ یاد رکھیے، یہ جو کتاب میں آپ کے سامنے لکھے ہوئے ہیں، یہ ہیں نقوش، یہ کیا ہیں؟ نقوش، اور یہ نقوش دلالت کرتے ہیں الفاظ پر، دیکھو: ز، ی، د، میں نے آپ کے سامنے لکھا، تو ہر پڑھنے والا اس کو کیا پڑھے گا؟ زید ہی پڑھے گا، تو دیکھو یہ الفاظ پر دلالت کر رہے ہیں، یہ نقوش کیا کرتے ہیں؟ الفاظ پر دلالت کرتے ہیں، اور پھر وہ الفاظ جو ہیں، معانی پر دلالت کرتے ہیں۔ جیسے ہی میں نے لفظِ زید، کتاب میں لکھا ہوا تھا زید، آپ دور بیٹھے ہیں، میں نے کتاب میں لکھا ہوا تھا زید، میں نے اس کو پڑھا، تو زید پڑھتے ہی آپ کے ساتھی، مثلاً آپ کے ساتھی کا ذکر چل رہا ہے یہاں پر، تو وہ زید جیسے ہی میں نے زبان سے ادا کیا، فوراً آپ کے ذہن میں کس کی صورت آ گئی؟ زید کی، تو دیکھو لفظِ زید نے کس پر دلالت کی؟ ذاتِ زید پر۔ تو نقوش اولاً دلالت کرتے ہیں الفاظ پر، اور پھر الفاظ دلالت کس پر کرتے ہیں؟ معانی پر۔ تو گویا یہاں کل تین چیزیں ہیں: نقوش، الفاظ، اور معانی۔ تو "هذا" کے ذریعے کس کی طرف اشارہ ہے؟ انہوں نے بتا دیا، یا اشارہ ہے معانی کی طرف، یا اشارہ ہے مخصوص الفاظ کی طرف جو ان معانی پر کیا کر رہے ہیں؟ دلالت کر رہے ہیں۔ نقوش کی طرف اشارہ نہیں کہا، "هذا" کے ذریعے نقوش کی طرف اشارہ نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ کیوں؟ وجہ یہ کہ آگے آ رہا ہے "فَهَذَا" کی خبر ہے "غَايَةُ تَهْذِيبِ الْكَلَامِ"، یہ انتہا درجے کا مہذب کلام ہے، اور نقوش کو کلام نہیں کہا جاتا، نقوش کو کلام نہیں، تو جب کلام کی قید لگا دی، کلام کی قید لگا دی، تو نقوش نکل گئے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور یاد رکھیے، میں نے بتایا یہاں سات احتمال بنتے ہیں، ایک صورت یہ کہ اشارہ ہو صرف نقوش کی طرف، "هذا" کے ذریعے اشارہ ہو۔ دوسری صورت، اشارہ ہو صرف معانی کی طرف۔ تیسری صورت، اشارہ ہو صرف الفاظ کی طرف۔ چوتھی صورت، تینوں کے مجموعے کی طرف اشارہ ہے، کون کون؟ نقوش، اور پھر ان پر، جن الفاظ پر وہ دلالت کر رہے ہیں وہ بھی، اور پھر وہ جن معانی پر دلالت کر رہے ہیں وہ بھی، تو تینوں کے مجموعے کی طرف اشارہ ہو، یہ ہوا چوتھا احتمال۔ توجہ ہے؟ پہلا احتمال کیا؟ کس کی طرف اشارہ ہو؟ صرف نقوش کی طرف۔ دوسرا احتمال، صرف الفاظ کی طرف۔ پھر تیسرا احتمال، صرف معانی کی طرف "هذا" کے ذریعے اشارہ ہو۔ چوتھا احتمال، ان تینوں کا جو مجموعہ ہے اس کی طرف اشارہ ہو۔ پانچواں، چھٹا، اور ساتواں، تین چیزیں ہیں نا: نقوش، الفاظ، معانی، تو ان کے جوڑے بنا لو، دو دو کے جوڑے بنا لو۔ ایک صورت کہ اشارہ ہو نقوش اور الفاظ کی طرف۔ دوسری صورت، اشارہ ہو نقوش اور معانی کی طرف۔ تیسری صورت، اشارہ ہو معانی اور الفاظ کی طرف۔ تو کل کتنے ہو گئے؟ سات۔ تین صورتیں یہ ہیں کہ ان میں سے ایک ایک کی طرف اشارہ ہو۔ تین صورتیں یہ ہیں کہ ان میں سے دو دو کی طرف اشارہ ہو، ان کے مجموعے کی طرف، اور تیسری صورت یہ ہے کہ ان تینوں کے مجموعے کی طرف اشارہ ہو، تو کل کتنے احتمال ہوئے؟ سات۔ مثلاً ایک احتمال کیا ہوا؟ دوبارہ دہرا لو، اشارہ ہو کس کی طرف؟ الفاظ کی طرف، صرف الفاظ کی طرف۔ دوسرا، اشارہ ہو کس کی طرف؟ صرف معانی کی طرف۔ تیسری صورت کہ صرف اشارہ ہو صرف نقوش کی طرف۔ چوتھی صورت کہ اشارہ ہو ان تینوں کے مجموعے کی طرف۔ پانچویں صورت کہ اشارہ ہو نقوش اور معانی، نقوش کوئی بھی لے لو، کوئی بھی ترتیب نہیں ضروری، نقوش اور الفاظ کی طرف اشارہ ہو۔ اگلی صورت، چھٹی صورت کہ اشارہ ہو نقوش اور معانی کی طرف، اور ساتویں صورت کہ اشارہ ہو الفاظ اور معانی کے مجموعے کی طرف، ان دونوں کی طرف۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو سات احتمال ہیں۔ سات احتمال، اور ان سات میں سے بتایا صرف یہ دو احتمال صحیح ہیں جو کتاب میں ہیں کہ یا تو اشارہ مان لو کس کی طرف؟ مخصوص معانی کی طرف، یا اشارہ مان لو ان مخصوص الفاظ کی طرف جو ان مخصوص معانی پر دلالت کر رہے ہیں۔ باقی پانچ احتمالات صحیح نہیں، لہذا مصنف، شارح نے ان کو ذکر بھی نہیں کیا۔ بھئی وہ احتمالات کیوں نہیں صحیح؟ وجہ میں نے ذکر کر دی، کیونکہ آگے کتاب میں خبر کیا آ رہی ہے؟ "فَهَذَا غَايَةُ تَهْذِيبِ الْكَلَامِ"، یہ انتہا درجے کا مہذب کلام ہے۔ اب یاد رکھنا، کلام دو ہی قسم کا ہے، یا ہوتا ہے کلامِ لفظی، یا ہوتا ہے کلامِ نفسی۔ کیا ہوتا ہے؟ کلام دو قسم کا ہے یاد رکھنا، کلام، کلام کسے کہتے ہیں؟ "مَا تَضَمَّنَ كَلِمَتَيْنِ بِالْإِسْنَادِ"، جس میں اسناد آتا ہے، دو چیزیں ہوتی ہیں، ایک وہ چیز جس کے بارے میں بات کی جائے، اور ایک جو بات کی جائے، یعنی اسناد ہوتا ہے۔ تو یہ جو کلام ہے نا، یہ دو قسم کا ہے، یا یہ کلامِ لفظی ہو گا یا کلامِ نفسی ہو گا بھئی۔ بھئی وہی، آسان سی بات ہے، بھئی دیکھیے آپ جو بھی بات کرنے لگتے ہیں، پہلے ذہن میں سوچتے ہیں اور پھر اسی کے پر تلفظ کرتے ہیں۔ تو یہ جو ذہن میں سوچا، یہ ہے کلامِ نفسی، اور پھر زبان سے اس پر تلفظ کیا، الفاظ لے کر آئے، تو یہ کیا بن گیا؟ کلامِ لفظی بن گیا۔ تو ترتیب کیا؟ پہلے آپ ذہن میں ایک معنیٰ کا تصور کرتے ہیں، پھر اس کے لیے الفاظ ذہن میں سوچتے ہیں کیا الفاظ بولنے ہیں، اور پھر ان الفاظ کو زبان سے کیا کر دیتے ہیں؟ ادا کر دیتے ہیں۔ تو ذہن میں جو معنیٰ سوچا، اولاً، وہ ہے کلامِ نفسی، کلامِ نفسی وہ الفاظ سے مرکب نہیں، وہ تو صرف معنیٰ ہے، اور پھر اس کے لیے الفاظ سوچے اور زبان سے ادا کر دیے، تو یہ کیا ہوا؟ کلامِ لفظی ہوا۔ تو کلام دو ہی قسم پر ہے، یا کلامِ لفظی یا کلامِ نفسی۔ اور یاد رکھو، یہ بات ابھی آگے بھی آئے گی، قول، اسی کو قول بھی کہتے ہیں، قول دو قسم پر ہے، ایک قولِ ملفوظ، ایک قولِ معقول۔ قولِ ملفوظ کسے کہتے ہیں؟ جس پر تلفظ کیا جائے، جو آپ زبان سے ادا کرتے ہیں، جو الفاظ سے مرکب ہے، اور ایک ہے قولِ معقول، جو ذہن میں ہم کیا کرتے ہیں؟ معنیٰ سوچتے ہیں، جو بھی بات، جو بھی آپ بات کرنا چاہتے ہیں، پہلے آپ ذہن میں سوچتے ہیں یا ویسے ہی زبان حرکت کرنا شروع کر دیتی ہے؟ پہلے سوچتے ہیں، تو جب ذہن میں سوچا وہ ہے قولِ معقول، اور جب زبان پر تلفظ کیا تو وہ کیا ہے؟ قولِ ملفوظ۔ تو اسی طرح یہ کلام بھی اسی اعتبار سے دو قسم کا ہو گیا، ایک وہ جو ذہن میں سوچا، وہ جو مخصوص معانی ہیں، وہ کیا ہے؟ کلامِ نفسی، اور پھر ان پر جو تلفظ کرنا ہے یا تلفظ کر دیا وہ کیا ہے؟ کلامِ ملفوظ۔ کلامِ ملفوظ جو کلامِ ملفوظ جو الفاظ سے مرکب ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ کلامِ نفسی میں الفاظ ہیں؟ نہیں، صرف معانی ہیں۔ ٹھیک ہے؟ اور کلامِ لفظی کس سے مرکب ہے؟ الفاظ سے مرکب ہے جو ان معانی پر کیا کر رہے ہیں؟ دلالت کر رہے ہیں۔ تو یہاں پر "هذا" کی خبر آ گئی کہ "هذا کلام مهذب"، معلوم ہوا "هذا" سے کلام مراد ہے، کوئی اور چیز مراد نہیں، جب کلام مراد ہے تو کلام تو دو ہی قسم کا ہے، یا کلامِ لفظی ہے یا کلامِ نفسی، اگر معنیٰ کی طرف اشارہ مانو تو یہ ہے کلامِ نفسی، اور اگر لفظوں کی طرف اشارہ مانو تو یہ ہے کلامِ لفظی، اور نقوش ان کی طرف اشارہ نہیں ہو سکتا، کیونکہ نقوش نہ کلامِ لفظی ہے اور نہ کلامِ نفسی ہے، کلامِ نفسی ہے۔ تو نقوش کی طرف اشارہ نہیں ہو سکتا، جب نقوش کی طرف اشارہ نہیں تو جن، سات احتمال تھے نا، سات احتمالات میں سے جن جن کے ساتھ نقوش شامل ہے وہ سب نکل گئے۔ نقوش بھی نکل گئے، تینوں کا مجموعہ جو تھا: نقوش، الفاظ اور معانی، وہ بھی نکل گیا، دو احتمال نکل گئے؟ نقوش اور الفاظ، وہ بھی مجموعہ نکل گیا، نقوش اور معانی، وہ بھی نکل گیا، کیونکہ نقوش پر کلام کا اطلاق نہیں ہوتا، نقوش کو کلام کوئی نہیں کہتا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کتنے احتمال نکل گئے؟ چار احتمال نکل گئے، تین رہ گئے: ایک کیا کہ اشارہ ہو صرف معانی کی طرف، ایک یہ کہ اشارہ ہو صرف الفاظ کی طرف، اور تیسرا یہ کہ اشارہ ہو الفاظ اور معانی دونوں کی طرف۔ تو یہ جو الفاظ اور معانی دونوں کی طرف اشارہ ہو، یہ احتمال بھی نکل گیا، اس لیے کیونکہ معانی مراد لیں تو اشارہ ہے کلامِ نفسی کی طرف، اگر الفاظ مراد لیں تو اشارہ ہے کلامِ لفظی کی طرف، تو ایک وقت میں ایک ہی کلام مراد ہو سکتا ہے، یہ مہذب کلام ہے، "هَذَا كَلَامٌ مُهَذَّبٌ"، یہ کیا ہے؟ مہذب کلام ہے، تو ایک ہی کلام مراد ہو گا، دونوں تو اکٹھے مراد نہیں ہو سکتے، یا تو کلام سے کیا مراد لو گے؟ کلامِ لفظی، یا تو کلامِ لفظی مراد لو گے یا کلامِ نفسی مراد لو گے، تو لہذا وہ جو دونوں کا مجموعہ تھا کہ لفظ اور معنیٰ دونوں مراد ہوں، وہ احتمال بھی نکل گیا، کیونکہ اس میں تو دونوں کلام جمع ہو رہے تھے اور یہاں دونوں مراد نہیں لے سکتے، ایک وقت میں ایک ہی کلام مراد لے سکتے ہیں، کلامِ مہذب سے یا تو آپ کلامِ نفسی مراد لیں گے یا آپ اس سے کلامِ لفظی مراد لیں گے۔ وجہ سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں کل کتنے احتمال بنتے تھے؟ سات احتمال، ان سات احتمالات میں سے نقوش اور نقوش جن کے ساتھ مرکب تھا وہ سارے نکل گئے، کیونکہ نقوش کو کوئی بھی کلام نہیں کہتا، اور وہ، وہ احتمال بھی نکل گیا جس میں، جس میں الفاظ اور معانی دونوں اکٹھے ہیں، کیونکہ وہ تو پھر کلامِ نفسی اور کلامِ لفظی دونوں ہو گئے، حالانکہ ایک وقت میں ایک مراد لے سکتے ہیں، دونوں اکٹھے مراد نہیں لے سکتے۔ مثلاً میں ایک ہی لفظ سے ایک ہی وقت میں دو معنیٰ مراد نہیں لے سکتا، ایک معنیٰ مراد لینا پڑے گا، میں نے کہا: "شیر آ گیا"، یا تو میں جنگلی درندہ مراد لوں گا یا میں بہادر آدمی مراد لوں گا، دونوں اکٹھے مراد نہیں لے سکتا، تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے کہ جب کلام کا لفظ آ گیا تو ایک مراد لینا پڑے گا، یا آپ کلامِ نفسی مراد لیں تو پھر اشارہ ہوا معانیِ مخصوصہ کی طرف، یا آپ کلامِ لفظی مراد لیں تو اشارہ ہوا الفاظِ مخصوصہ کی طرف جو ان معانی پر کیا کر رہے ہیں؟ دلالت کر رہے ہیں بھئی۔ تو اسی لیے شارح نے صرف دو احتمال ذکر کیے، باقی احتمال چونکہ درست نہیں اس لیے ان کو یہاں پر ذکر بھی نہیں کیا۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھیے ترجمہ: "فَإِنْ كَانَتِ الْإِشَارَةُ إِلَى الْأَلْفَاظِ" پس اگر یہ اشارہ ہو الفاظ کی طرف، "فَالْمُرَادُ بِالْكَلَامِ الْكَلَامُ اللَّفْظِيُّ" تو کلام سے مراد کلامِ لفظی ہے، "وَإِنْ كَانَتْ إِلَى الْمَعَانِي" اور اگر اشارہ ہو معانی کی طرف، "فَالْمُرَادُ بِهِ الْكَلَامُ النَّفْسِيُّ" تو اس سے مراد وہ کلامِ نفسی ہے "الَّذِي يَدُلُّ عَلَيْهِ الْكَلَامُ اللَّفْظِيُّ" جس پر کلامِ لفظی دلالت کرتا ہے بھئی، یعنی وہ معانی مراد ہیں۔ آگے دیکھیے بھئی شرح میں: قَوْلُهُ "غَايَةُ تَهْذِيبِ الْكَلَامِ"، متن میں کیا آیا تھا؟ "وَبَعْدُ فَهَذَا غَايَةُ تَهْذِيبِ الْكَلَامِ"، یہ انتہا درجے کا مہذب کلام ہے، مہذب کلام ہے۔ یہاں میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ "غَايَةُ تَهْذِيبِ الْكَلَامِ"، متن پر آپ دیکھ رہے ہیں "وَبَعْدُ فَهَذَا غَايَةُ تَهْذِيبِ الْكَلَامِ فِي تَحْرِيرِ الْمَنْطِقِ وَالْكَلَامِ"، تو یہ "فَهَذَا الْكِتَابُ"، یہ کتاب جو ہے "غَايَةُ تَهْذِيبِ الْكَلَامِ"، انتہا درجے کا مہذب کلام ہے "فِي تَحْرِيرِ الْمَنْطِقِ وَالْكَلَامِ"، علمِ منطق اور علمِ کلام کے بیان میں۔ یہاں میں نے آپ کو بتلایا تھا بھئی کہ "هذا" سے مراد کتاب ہے اور وہ کیا ہے؟ ذات، ذات، اور "غَايَةُ تَهْذِيبِ الْكَلَامِ" یہ کیا ہے؟ مصدر ہے، تہذیب تفعیل مصدر ہے نا؟ جی، تو یہ مصدر کا حمل ہو رہا ہے ذات پر، اور مصدر کا حمل تو ذات پر صحیح نہیں، تو، تو ایک جواب یہ تھا کہ یہ حمل ہو رہا ہے بطورِ مبالغہ کے، جیسے "زَيْدٌ عَدْلٌ"، تو یہ زید پر عدل کا حمل ہو رہا ہے بطورِ مبالغہ کے، کہ زید اتنا عدل کرنے والا ہے کہ وہ سراپا کیا بن گیا ہے؟ عدل، "زَيْدٌ عَدْلٌ"، زید سراپا انصاف ہے، وہ خود ہی سارا کیا بن چکا؟ انصاف بن چکا، اور اس میں تعریف زیادہ، اس میں مبالغہ ہے، تو لہذا یہاں پر بھی "هذا" پر "غَايَةُ تَهْذِيبِ الْكَلَامِ" کا حمل کر دیا گیا بطورِ مبالغہ کے، یعنی اس کتاب کو علامہ تفتازانی نے اتنا مہذب بنایا کہ اس کی ذات ہی تہذیب بن گئی، اس کی ذات ہی کیا بن گئی؟ تہذیب بن گئی، تو اس میں مبالغہ ہے، تو یا تو حمل ہے بطورِ مبالغہ کے، بطورِ مبالغہ کے۔ یہی بیان کر رہے ہیں شرح میں، اب دیکھیے: قَوْلُهُ "غَايَةُ تَهْذِيبِ الْكَلَامِ"، حَمْلُهُ عَلَى هَذَا، کہ اس کا حمل جو ہو رہا ہے "هذا" پر، إِمَّا بِنَاءً عَلَى الْمُبَالَغَةِ یا تو بنا بر مبالغہ کے ہے، نَحْوُ "زَيْدٌ عَدْلٌ"، جیسے کس کے اندر ہے؟ "زَيْدٌ عَدْلٌ"، أَوْ بِنَاءً یا بنا بر اس کے، عَلَى أَنَّ التَّقْدِيرَ کہ تقدیرِ کلام یوں ہے: هَذَا كَلَامٌ مُهَذَّبٌ غَايَةَ التَّهْذِيبِ، "هَذَا كَلَامٌ مُهَذَّبٌ"، یہ مہذب کلام ہے "غَايَةَ التَّهْذِيبِ"، انتہائی مہذب، یعنی یہ انتہائی مہذب کلام ہے۔ تو ایک ترکیب کیا کی؟ "غَايَةُ تَهْذِيبِ الْكَلَامِ"، ابھی جو میں نے پہلی ترکیب کی کہ "غَايَةُ تَهْذِيبِ الْكَلَامِ" یہ مصدر کا حمل ذات پر ہو رہا ہے، تو اسی کو خبر بنا دیا، اس صورت میں یہ کیا بن گیا؟ خبر، جیسے "زَيْدٌ عَدْلٌ"، "عَدْلٌ" کیا ہے؟ خبر ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اس کو براہِ راست خبر بنایا، تو یہ "غَايَةُ تَهْذِيبِ الْكَلَامِ"، توجہ ہے؟ متن پہ دیکھ رہے ہو؟ "هَذَا غَايَةُ تَهْذِيبِ الْكَلَامِ"، یہ "غَايَةُ" مرفوع ہے، کیوں؟ کیونکہ یہ خبر ہے "هذا" کے لیے کیا بن رہا ہے؟ خبر، تو ہم نے اس کو براہِ راست خبر بنا دیا تو اس مصدر کا حمل ذات پر ہو رہا ہے بطورِ مبالغہ کے، اور یہ خود ہی خبر ہے۔ "غَايَةُ تَهْذِيبِ الْكَلَامِ" خود ہی کیا ہے؟ یہ خبر ہے، لیکن اشکال صرف پھر یہ ہوتا ہے کہ یہ تو مصدر ہے، مصدر کا حمل تو ذات پر صحیح نہیں، تو بتا دیا کہ یہ حمل ہے بطورِ مبالغہ کے جیسے کس میں تھا؟ "زَيْدٌ عَدْلٌ" کے اندر، تو لہذا "غَايَةُ تَهْذِيبِ الْكَلَامِ" یہ اس کا اپنا اعراب ہے۔ یہ خود خبر ہے نا، تو یہ اس رفع اس کا اپنا اعراب ہے، کسی اور کا اعراب نہیں۔ دوسری ترکیب یہ کریں گے، دوسری ترکیب بھی یہی متن میں ہی سمجھ لو کہ "فَهَذَا" اس "غَايَةَ تَهْذِيبِ الْكَلَامِ" کو مفعولِ مطلق بناؤ، تہذیب مصدر ہے نا؟ جی، "ضَرَبْتُ ضَرْبًا"، یہ "ضَرْبًا" کیا ہے؟ مفعولِ مطلق، تو اس تہذیب کو بھی کیا بنا دو؟ مفعولِ مطلق، اور اس کے لیے ماقبل میں "كَلَامٌ مُهَذَّبٌ" خبر نکال لو، تو "هذا" ہوا مبتدا، "كَلَامٌ مُهَذَّبٌ" موصوف صفت مل کر خبر، اور "غَايَةَ تَهْذِيبِ الْكَلَامِ" اس کو اب منصوب پڑھنا ہے، یہ کیا ہے؟ مفعولِ مطلق، اور میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ اس سے آپ کو یہ بھی پتہ چل گیا کہ مفعولِ مطلق صرف فعل سے نہیں آتا، "ضَرَبْتُ ضَرْبًا"، بلکہ "ضَارِبٌ ضَرْبًا" یا "مَضْرُوبٌ ضَرْبًا"، اسمِ فاعل یا اسمِ مفعول سے بھی آگے کیا آ سکتا ہے؟ مفعولِ مطلق، کیونکہ اس میں فاعل یا اسمِ مفعول فعل جیسا ہی عمل کرتے ہیں، اس میں فاعل فعلِ معروف جیسا عمل کرتا ہے اور اس میں مفعول فعلِ مجہول جیسا عمل کرتا ہے، تو ان سے بھی آگے مفعولِ مطلق آ سکتا ہے، تو یہاں پر بھی اسی طرح، تو کلام کیا ہوا؟ "فَهَذَا كَلَامٌ مُهَذَّبٌ"، "كَلَامٌ مُهَذَّبٌ" موصوف صفت مل کر کیا ہوئے؟ خبر، اور وہ مرفوع ہیں، اور "غَايَةَ تَهْذِيبِ الْكَلَامِ" یہ کیا ہوا؟ مفعولِ مطلق ہوا، اور "كَلَامٌ مُهَذَّبٌ" وہ کیا تھا؟ خبر، تو اصل خبر وہ تھی، لیکن اس کو حذف کر دیا، وہ مقدر ہے، وہ کیا ہے؟ مقدر ہے، لفظوں سے حذف کر دیا، جب اس کو حذف کیا تو "غَايَةَ تَهْذِيبِ الْكَلَامِ" یہ کیا ہے؟ مفعولِ مطلق، اس کو اس کا نائب بنا دیا، اس کی جگہ پر اس کو رکھ دیا، اور وہ مرفوع تھا تو اس کا اعراب اس رفع اس کو دے دیا، تو کلام کیا ہوا؟ "فَهَذَا غَايَةُ تَهْذِيبِ الْكَلَامِ"، تو یہ "غَايَةُ" جو مرفوع ہے، کیا یہ اس کا اپنا اعراب ہے؟ نہیں، اپنا اعراب اس کا کیا ہے؟ "غَايَةَ" منصوب ہے، کیونکہ یہ کیا ہے؟ مفعولِ مطلق، تو یہ کس کا اعراب اس کو دے دیا؟ خبر، کیا تھی خبر؟ "كَلَامٌ مُهَذَّبٌ"، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اس صورت میں یہ اس کا اپنا اعراب نہیں، اس کا اپنا اعراب نہیں ہے بھئی، اور یاد رکھیے اس کو پھر مجاز الحذف کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ مجاز الحذف کہتے ہیں، مجاز الحذف۔ اچھا، چلیے یہ میں آگے بیان کرتا ہوں، پھر دیکھو: قَوْلُهُ "غَايَةُ تَهْذِيبِ الْكَلَامِ"، حَمْلُهُ عَلَى هَذَا اس کا حمل ہے کس پر؟ "هذا" پر، إِمَّا بِنَاءً عَلَى الْمُبَالَغَةِ یا تو بنا بر مبالغہ کے، نَحْوُ "زَيْدٌ عَدْلٌ" جیسے اس کی طرح، سوال: "نَحْوُ" مضاف ہے اور "زَيْدٌ عَدْلٌ" کیا ہے؟ مضاف الیہ، تو مضاف الیہ تو مجرور ہوتا ہے، یہ مجرور کیوں نہیں؟ "نَحْوُ" کیا ہے؟ مضاف، اور "زَيْدٌ عَدْلٌ" کیا ہے؟ مضاف الیہ، "نَحْوُ" مضاف ہوتا ہے نا ہمیشہ؟ تو اس کے لیے کیا چاہیے؟ مضاف الیہ، تو یہ "زَيْدٌ عَدْلٌ" کیا ہے؟ مضاف الیہ، اور مضاف الیہ کیا ہوتا ہے؟ مجرور، تو میں تو مرفوع پڑھ رہا ہوں "زَيْدٌ عَدْلٌ"۔ جی جواب دیجیے بھئی، نحو اچھی خاصی آپ پڑھ چکے ہیں۔ بھئی "زَيْدٌ عَدْلٌ" یہ پورا جملہ ہے، "زَيْدٌ" مبتدا، "عَدْلٌ" اس کی خبر، اور جملہ کیا ہوتا ہے؟ مبنی ہوتا ہے، مبنی، اور مبنی پر اعراب کیسے آتا ہے؟ محلاً، تو لہذا یہ "زَيْدٌ عَدْلٌ" یہ محلاً مجرور ہے پورا جملہ، مضاف الیہ ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یا تو اس "غَايَةُ تَهْذِيبِ الْكَلَامِ" کا حمل ہے "هذا" پر بنا بر مبالغہ کے جیسے "زَيْدٌ عَدْلٌ"، أَوْ بِنَاءً عَلَى أَنَّ التَّقْدِيرَ هَذَا كَلَامٌ مُهَذَّبٌ غَايَةَ التَّهْذِيبِ یا اس کا حمل ہے "هذا" پر بنا بر اس کے کہ تقدیرِ کلام یوں ہے: "هَذَا كَلَامٌ مُهَذَّبٌ غَايَةَ التَّهْذِيبِ"، یہ تقدیرِ کلام ہے، فَحُذِفَ الْخَبَرُ تو خبر کو کیا کر لیا گیا؟ حذف کر لیا گیا، کون سی خبر تھی؟ "كَلَامٌ مُهَذَّبٌ"، وَأُقِيمَ الْمَفْعُولُ الْمُطْلَقُ مَقَامَهُ اور مفعولِ مطلق کو اس کا قائم مقام کر دیا گیا، وَأُعْرِبَ بِإِعْرَابِهِ اور اس کا اعراب اس کو دے دیا گیا، اس کا اعراب اس کو دے دیا گیا، اس کو اعراب دیا گیا کون سا؟ "بإعرابه"، اسی خبر والا اعراب۔ اس کا اعراب اسے دے دیا اور خبر تو کیا تھی؟ مرفوع، تو لہذا اس "غَايَةُ" پر بھی اب رفع پڑھا "هَذَا غَايَةُ تَهْذِيبِ الْكَلَامِ"، طریقہ سمجھ میں آیا؟ تو اصل میں یہ کیا تھا؟ منصوب، اور پھر خبر کی جگہ جب آیا تو اسی کا اعراب دے کر اس پر بھی کیا پڑھا گیا؟ رفع، تو پڑھیں گے رفع ہی دونوں صورتوں میں، چاہے اس کو خبر بناؤ چاہے اس کو کیا بناؤ؟ مفعولِ مطلق، لیکن خبر بناؤ تو پھر اس کا رفع اپنا، اور مفعولِ مطلق بناؤ تو پھر اس کا رفع اپنا نہیں بلکہ یہ کس کا قائم مقام ہے؟ خبر کا رفع اس پر آ رہا ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اچھا، "وَأُعْرِبَ بِإِعْرَابِهِ" اور اس کو معرب بنایا گیا، اس کو اعراب دیا گیا اس کا، وہ خبر والا اعراب، عَلَى طَرِيقِ مَجَازِ الْحَذْفِ مجاز الحذف کے طریقے پر، کس طریقے پر؟ مجاز الحذف کے طریقے پر۔ یاد رکھیے، جب بھی لفظ کو اپنے معنیٰ غیر موضوع لہ میں استعمال کیا جائے تو اسے مجاز کہتے ہیں۔ "شیر" کا لفظ اردو میں وضع ہے جنگلی درندے کے لیے، اگر اسی کے لیے استعمال ہو تو یہ ہے حقیقت، اور اگر یہی شیر کا لفظ کسی بہادر آدمی کے لیے آپ بولتے ہیں کہ وہ تو شیر ہے، تو پھر یہ کیا ہے؟ مجاز۔ تو جیسے لفظ جب اپنے معنیٰ اصلی سے نکل کر کسی دوسرے معنیٰ میں استعمال ہو تو اسے کیا کہتے ہیں؟ مجاز، اسی طرح کسی لفظ کو مجاز تب بھی کہتے ہیں جب اس کا اعرابِ اصلی بدل جائے، جب اس کا اس کا اعرابِ اصلی بدل جائے کسی لفظ کو حذف کرنے کی وجہ سے یا کسی لفظ کو زیادہ کرنے کی وجہ سے۔ لکھ لیجیے، یہ بات لکھ لیں یہ آپ کو پھر بھول نہ جائے۔ جس طرح لکھیے بھئی، جس طرح کلمے کو مجاز کے ساتھ موصوف کیا جاتا ہے، لکھیے بھئی، جس طرح کسی کلمہ کو مجاز کہا جاتا ہے، جس طرح کسی کلمہ کو مجاز کہا جاتا ہے جب اس کو معنیٰ اصلی سے نقل کر کے، جب اس کو معنیٰ اصلی سے نقل کر کے کسی دوسرے معنیٰ میں استعمال کیا جائے، جب اس کو معنیٰ اصلی سے نقل کر کے کسی دوسرے معنیٰ میں استعمال کیا جائے، اسی طرح کسی کلمے کو، اسی طرح کسی کلمے کو تب بھی مجاز کہتے ہیں، تب بھی مجاز کہتے ہیں جب اس کا اعرابِ اصلی بدل جائے، جب اس کا اصلی اعراب بدل جائے، جیسے بھی لکھ لیں، اعرابِ اصلی لکھ لیں یا اصلی اعراب، جب اس کا اصلی اعراب بدل جائے کسی لفظ کو حذف کرنے کی وجہ سے، کسی لفظ کو حذف کرنے کی وجہ سے یا کسی لفظ کو زیادہ کرنے کی وجہ سے، یا کسی لفظ کو زیادہ کرنے کی وجہ سے، جیسے قرآن میں آتا ہے: "وَاسْأَلِ"، و، اور اس، ال، سین کے ساتھ ہے، و، اس، واس، "وَاسْأَلِ الْقَرْيَةَ"، "وَاسْأَلِ الْقَرْيَةَ"، قاف دو نقطوں والا، "وَاسْأَلِ"، الف، سین، اور دندانے پر ہمزہ، اور پھر دندانے پر نہیں الف پر لکھ دو، الف، سین، الف، لکھ لیا؟ اس ال کیسے لکھنا ہے؟ الف، سین، الف، الف کے اوپر ہمزہ لکھو، اور پھر آگے لام لکھ دو، یہ ہے "وَاسْأَلِ"، ہمزہ وصلی ہے نا، گر جائے گا، "وَاسْأَلِ الْقَرْيَةَ"، قاف دو نقطوں والا، "قَرْيَةَ"، یا اور گول تا ہے، قاف، را، یا، اور گول تا، "الْقَرْيَةَ"۔ معنیٰ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ کیا معنیٰ ہے؟ لکھو نا، اب بات لمبی ہو جائے گی، "وَاسْأَلِ الْقَرْيَةَ"، آپ پوچھ لیں، قریہ کہتے ہیں بستی کو، "وَاسْأَلِ الْقَرْيَةَ"، آپ بستی سے پوچھ لیں۔ بھئی بستی سے پوچھا جاتا ہے یا بستی والوں سے پوچھا جاتا ہے؟ بستی والوں سے پوچھا جاتا ہے، تو یہ اصل میں ہے "وَاسْأَلْ أَهْلَ الْقَرْيَةِ"، لکھو آگے، جیسے "وَاسْأَلِ الْقَرْيَةَ"، اصل میں ہے "وَاسْأَلْ أَهْلَ الْقَرْيَةِ"، "وَاسْأَلْ أَهْلَ الْقَرْيَةِ"۔ تو لفظِ اہل جو کہ منصوب تھا، تو لفظِ اہل جو کہ منصوب تھا اس کو حذف کر لیا گیا، اس کو حذف کر لیا گیا، اور قریہ کو اس کا قائم مقام کرتے ہوئے، اور قریہ کو اس کا قائم مقام کرتے ہوئے اس کا اعراب دے دیا گیا، اس کا اعراب یعنی نصب دے دیا گیا، اس کا اعراب یعنی نصب دے دیا گیا، حالانکہ قریہ کا اصل اعراب جر تھا، حالانکہ قریہ کا اصل اعراب جر تھا، کیونکہ وہ مضاف الیہ تھا، کیونکہ وہ مضاف الیہ تھا، اور مضاف الیہ مجرور ہوتا ہے، اور مضاف الیہ مجرور ہوتا ہے۔ جی، شروع میں کیا لکھا تھا وہ ذرا پڑھیں۔ "جس طرح کسی کلمہ کو مجاز کہا جاتا ہے جب اس کو معنیٰ اصلی سے نقل کر کے کسی دوسرے معنیٰ میں استعمال کیا جائے، اسی طرح کسی کلمے کو تب بھی مجاز کہتے ہیں جب اس کا اعراب بدل جائے کسی لفظ کو حذف کرنے کی وجہ سے یا کسی لفظ کو زیادہ کرنے کی وجہ سے۔" ہاں، بعض اوقات نیچے لکھیں: بعض اوقات کسی لفظ کو زیادہ کرنے سے بھی اعراب بدل جاتا ہے۔ بعض اوقات یوں لکھو: بعض اوقات کسی زائد لفظ کو لانے سے بھی، کسی زائد لفظ کو لانے سے بھی لفظ کا اعراب بدل جاتا ہے، لانے سے بھی اعراب بدل جاتا ہے، جیسے قرآن میں آتا ہے: "لَيْسَ"، سین کے ساتھ ہے، "لَيْسَ كَمِثْلِهِ"، کاف اور "مِثْلِهِ"، کاف کو میم کے ساتھ جوڑ کر لکھیں، ثا کے ساتھ، "لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ"، شین، یا، اور یا کے بعد آگے ہمزہ، یا کے اوپر نہیں ہمزہ لکھنی، شین، یا، اور یا کے بعد ہمزہ لکھنی ہے، "شَيْءٌ"۔ تو اس میں کاف جارہ زائد ہے، کاف جارہ زائد ہے، لیکن اس کی وجہ سے "مِثْلَهُ" کا اعراب، "مِثْلَهُ" کا اعراب بدل گیا اور وہ مجرور ہو گیا، اور وہ مجرور ہو گیا، حالانکہ "مِثْلَهُ" منصوب ہے، حالانکہ "مِثْلَهُ" اصل میں منصوب ہے، حالانکہ "مِثْلَهُ" اصل میں منصوب ہے، کیونکہ "لَيْسَ" کی خبرِ مقدم ہے، کیونکہ "لَيْسَ" کی خبرِ مقدم ہے، اور "شَيْءٌ" "لَيْسَ" کا اسمِ مؤخر ہے، اور "شَيْءٌ" "لَيْسَ" کا اسمِ مؤخر ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ دیکھو، "لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ"، یہ کاف جارہ زائد ہے، کیا ہے؟ کاف جارہ زائد ہے، یعنی، یعنی معنیٰ اس کی وجہ سے، یعنی یوں بالکل زائد لفظ ہے بھئی، کیا ہے؟ زائد لفظ ہے، اس کے بغیر ترجمہ کریں گے۔ "لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ"، کاف کو کاف زائد ہے، بعض حروف زائد آپ نے نحو میں پڑھا ہے یا نہیں؟ بعض حروف زائد ہوتے ہیں، ان کا ترجمہ وغیرہ نہیں کیا جاتا، وہ کلام میں زائد آتے ہیں صرف کلام میں حسن پیدا کرنے کے لیے یا کلام میں تاکید پیدا کر دیتے ہیں، لیکن خود اپنا معنیٰ نہیں دیتے، حالانکہ کاف کا معنیٰ ہے مثل، آپ بھی کہتے ہیں: "زَيْدٌ كَالْأَسَدِ"، زید شیر جیسا ہے، یا "زَيْدٌ مِثْلُ أَسَدٍ"، "مِثْلُ" کی جگہ آپ کیا کہہ دیتے ہیں؟ "كَالْأَسَدِ"، "زَيْدٌ كَالْأَسَدِ"، تو کاف کا معنیٰ ہوتا ہے مثل، لیکن یہاں کاف زائد ہے، کیا ہے؟ کاف زائد ہے، کیونکہ مثل کا لفظ خود موجود ہے، ورنہ تو پھر معنیٰ بن جائے گا "لَيْسَ مِثْلَ مِثْلِهِ شَيْءٌ"، اللہ کے مثل کا مثل، اللہ کے مثل جیسا کوئی نہیں، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ کاف کیا ہے؟ زائد ہے، تو یہ ترجمہ اس کا نہیں کریں گے، لیکن اس کاف کی وجہ سے مثل کا اعراب بدل گیا یا نہیں؟ مثل کا اصل اعراب کیا تھا؟ منصوب ہے، یہ کیا ہے؟ "لَيْسَ" کی خبرِ مقدم، "لَيْسَ" کیا کرتا ہے؟ اپنے خبر کو، اپنے اسم کو رفع دیتا ہے اور خبر کو نصب، تو یہ "لَيْسَ مِثْلَهُ" تھا، لیکن کاف نے آ کر اس کو کیا کر دیا؟ جر دے دیا، اور کاف خود ہے زائد، تو زیاد، دیکھو ایک حرفِ زائد کی وجہ سے اعرابِ اصلی بدل گیا۔ ایک تو لفظ کا اپنا معنیٰ ہو نا، پھر تو، پھر تو ہم جب لفظ کا معنیٰ بھی ہے زائد نہیں ہے پھر تو ہم نہیں کہیں گے اعراب بدلا، یہ لفظ زائد ہے اس کا ترجمے میں دخل ہی نہیں ہے، تو زائد ہے اور اس کی وجہ سے ایک لفظ کا اعرابِ اصلی بدل رہا ہے، تو اس کو بھی مجاز کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ مجاز کہتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حاصلِ کلام کیا ہوا؟ کہ جس طرح کسی لفظ کو معنیٰ اصلی سے نقل کر کے کسی دوسرے معنیٰ میں استعمال کیا جائے تو اسے کیا کہتے ہیں؟ مجاز، اسی طرح، اسی طرح کسی لفظ کا اعرابِ اصلی جب بدل جائے تو اس کو بھی مجاز کہتے ہیں، چاہے وہ اعرابِ اصلی بدلے حذف کی وجہ سے، چاہے زائد لفظ کی وجہ سے۔ کبھی حذف کی وجہ سے بھی تو اعراب بدلتا ہے جیسے "وَاسْأَلِ الْقَرْيَةَ"، اصل میں کیا ہے؟ "وَاسْأَلْ أَهْلَ الْقَرْيَةِ"، اہل منصوب مضاف اور القریة مضاف الیہ، لیکن اہل کو حذف کیا گیا اور اس کا نصب کس کو دے دیا گیا؟ قریہ کو، "وَاسْأَلِ الْقَرْيَةَ"، حالانکہ قریہ کا اصلی اعراب تو کیا تھا؟ جر، جر تھا، مضاف الیہ تھا، تو دیکھا اعرابِ اصلی بدل گیا کسی لفظ کے حذف کی وجہ سے، اور بعض اوقات اعرابِ اصلی بدلتا ہے کسی لفظ کو زائد لانے کی وجہ سے کہ کوئی زائد لفظ آ جاتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ مجاز کہتے ہیں، مجاز کہتے ہیں۔ یہ بعض علماء کا یہ قول ہے، جبکہ بعض علماء حذف کو مجاز میں شمار کرتے ہی نہیں۔ بعض علماء کیا فرماتے ہیں؟ یہ حذف کس قبیل سے ہے؟ مجاز کی قبیل سے، جبکہ بعض علماء فرماتے ہیں: نہیں، مجاز، یہ حذف جو ہے وہ اس کو مجاز نہیں کہتے، حذف کو وہ مجاز نہیں کہتے۔ بہرحال بات سمجھ میں آ گئی؟ کہ کسی لفظ کا اعرابِ اصلی بدل جائے کس کی وجہ سے؟ کسی کلمے کو حذف کرنے کی وجہ سے، تو اسے کیا کہتے ہیں؟ مجاز الحذف کہتے ہیں۔ یہی بیان کر رہے ہیں: "وَأُعْرِبَ بِإِعْرَابِهِ عَلَى طَرِيقِ مَجَازِ الْحَذْفِ"، اور اس "غَايَةُ تَهْذِيبِ الْكَلَامِ" کو اس "كَلَامٌ مُهَذَّبٌ" والا اعراب دے دیا گیا "عَلَى طَرِيقِ مَجَازِ الْحَذْفِ"، کس طریقے پر؟ مجاز الحذف کے طریقے پر۔ بات سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ کہ "غَايَةَ تَهْذِيبِ الْكَلَامِ" اس کا اصل اعراب تو کیا تھا؟ نصب، کیونکہ یہ کیا تھا؟ مفعولِ مطلق، لیکن "كَلَامٌ مُهَذَّبٌ" خبر کو حذف کیا گیا اور اس کو اس کا قائم مقام کرتے ہوئے اس پر کیا پڑھا گیا؟ رفع پڑھا گیا، تو دیکھو اعرابِ اصلی بدل گیا ایک لفظ کو حذف کرنے کی وجہ سے، تو یہ کیا ہوا؟ مجاز، اور کون سا مجاز ہوا؟ مجاز بالحذف، "مَجَازُ الْحَذْفِ" ہوا بھئی، بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ قَوْلُهُ "فِي تَحْرِيرِ الْمَنْطِقِ وَالْكَلَامِ"، مصنف کا قول "فِي تَحْرِيرِ الْمَنْطِقِ وَالْكَلَامِ"، میں نے تحریر کا کیا معنیٰ بیان کیا تھا؟ بیان بھئی، بیان، اور تحریر کا ایک معنیٰ، البتہ تحریر اس بیان کو کہتے ہیں جو حشو و زوائد سے خالی ہو، جس میں بیکار اور زائد چیزیں نہ ہوں بھئی۔ ایک ہے نا بیان، بیان میں ہو سکتا ہے زائد چیزیں ہوں، ہو سکتا ہے زائد چیزیں نہ ہوں، لیکن اگر زائد چیزیں نہ ہوں بیان میں تو اس کو تحریر بھی کہتے ہیں۔ تو تحریر لا کر مصنف نے بتلا دیا کہ میری کتاب جو ہے اس میں حشو و زوائد نہیں ہیں، زائد چیزیں نہیں، حشو وہ زائد جو بالکل بیکار ہوں جن کا کوئی فائدہ نہ ہو، اور زائد چیزیں بھئی ایک ہوتا ہے نا مقصد، ایک کیا ہے؟ مقصد، جو باتیں مصنف ہمیں سمجھانا چاہتا ہے وہ کیا ہوئے؟ جو علم میں بیان کرنا چاہتا ہے جو اس علم میں بیان کی جاتی ہیں وہ کیا ہیں؟ مقصد، اس مقصد کے ساتھ کچھ اور فائدے بھی ساتھ کبھی ملا لیے جاتے ہیں، تو یہ ہوئے زائد، مقصد پر کیا ہوئے؟ زائد، لیکن پھر یہ جو کچھ لفظ بعض اوقات بڑھائے جاتے ہیں ان کا فائدہ ہوتا ہے، بعض اوقات یہ بالکل ردی ہوتے ہیں فائدہ نہیں ہوتا، ویسے ہی لفظ بڑھا دیا، ویسے ہی لفظ بڑھا دیا، اس کو حشو کہتے ہیں کہ ایک لفظ آپ کلام میں لائے اور اس کا کوئی بھی فائدہ نہیں ہے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ حشو، حشو۔ اس کے آگے آپ مثالیں پڑھیں گے بلاغت وغیرہ کی کتابوں میں آئیں گی، بعض اوقات ایک لفظ بالکل ردی ہوتا ہے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ حشو، اور بعض اوقات جو آپ کا مقصد ہے اس سے زائد الفاظ آپ لاتے ہیں لیکن ان کا بھی کچھ نہ کچھ فائدہ ہوتا ہے، ان سے بھی کوئی آپ کو نئی بات پتہ چل رہی ہوتی ہے۔ تو زائد عام ہے، زائد لفظ کیا ہے؟ عام ہے، جو مقصد سے زیادہ ہو، اب ہو سکتا ہے اس کا فائدہ ہو، ہو سکتا ہے فائدہ نہ ہو، لیکن حشو وہ والا زائد ہے جس کا کوئی بھی فائدہ نہ ہو بالکل ہی ردی ہو، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو میری، کہتے ہیں میری کتاب حشو و زوائد سے پاک ہے، میں نے صرف اس میں مقاصد بیان کیے ہیں، بیکار ردی الفاظ بھی نہیں لایا اور نیز زائد لمبی باتیں بھی میں نے ادھر ادھر کی اس میں نہیں کیں، صرف مقاصد بیان کیے ہیں، تو تحریر کسے کہتے ہیں؟ وہ کلام جو حشو و زوائد سے خالی ہو، وہ وہ بیان جو حشو و زوائد سے خالی ہو۔ تو کہتے ہیں: قَوْلُهُ "فِي تَحْرِيرِ الْمَنْطِقِ وَالْكَلَامِ"، لَمْ يَقُلْ فِي بَيَانِهِمَا، مصنف نے یہ نہیں کہا، اوپر متن میں دیکھو: "فِي تَحْرِيرِ الْمَنْطِقِ وَالْكَلَامِ"، تحریر کو ذرا اٹھاؤ، "فِي بَيَانِ الْمَنْطِقِ وَالْكَلَامِ"، اور یہ منطق اور کلام دو ہیں نا؟ تو دونوں کی جگہ ضمیر لے آؤ: "فِي بَيَانِهِمَا"، مصنف نے "فِي بَيَانِهِمَا" نہیں کہا، بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ "هما" ضمیر کس کو راجع ہے؟ منطق اور کلام کو، تو پھر اب شرح میں آ جائیے، کہتے ہیں: "لَمْ يَقُلْ فِي بَيَانِهِمَا"، مصنف نے اوپر "فِي بَيَانِهِمَا" نہیں کہا بلکہ کیا کہا؟ "فِي تَحْرِيرِهِمَا"، بھئی کیوں؟ کہتے ہیں: لِمَا فِي لَفْظِ التَّحْرِيرِ مِنَ الْإِشَارَةِ اس وجہ سے کہ لفظِ تحریر کے اندر اشارہ ہے إِلَى أَنَّ هَذَا الْبَيَانَ خَالٍ عَنِ الْحَشْوِ وَالزَّوَائِدِ کہ یہ والا بیان جو ہے، یہ خالی ہے حشو اور زوائد سے۔ وَالْمَنْطِقُ آلَةٌ قَانُونِيَّةٌ تَعْصِمُ مُرَاعَاتُهَا الذَّهْنَ عَنِ الْخَطَأِ فِي الْفِكْرِ، بھئی اوپر کیا آیا تھا؟ "فِي تَحْرِيرِ الْمَنْطِقِ وَالْكَلَامِ"، اب منطق اور کلام کا لفظ بھی متن میں آیا تھا، تو اب ان کا معنیٰ بیان کر رہے ہیں۔ آپ جانتے ہیں، منطق کی تعریف آپ کو میں لکھوا چکا ہوں کہ منطق وہ علم ہے جس کے ذریعے نظر و فکر میں غلطی سے حفاظت ہوتی ہے۔ منطق چند قوانین کا مجموعہ ہے، ان قوانین کی آپ رعایت رکھیں گے، ان ضابطوں کا خیال رکھیں گے تو نظر و فکر میں یہ آپ کو غلطی سے بچائے گا۔ نظر و فکر کسے کہتے تھے؟ کہ معلوم تصوروں کو ملا کر کس کو حاصل کرنا؟ نا معلوم تصور یعنی مجہول تصور کو حاصل کرنا، یا اسی طرح چند معلوم تصدیقوں کو ملا کر نا معلوم تصدیق کو حاصل کرنا، یہ کیا ہے؟ نظر اور فکر ہے، نظر چاہے بول دیں، چاہے فکر بول دیں، چاہے دونوں بول دیں، دونوں کا ایک ہی معنیٰ ہے۔ تو یہ منطق چند، منطق کیا ہے؟ منطق علم کا نام ہے، یہ ایسے قوانین پر مشتمل ہے کہ ان قوانین کی اگر آپ رعایت رکھیں گے، ان کو ملحوظ رکھیں گے تو یہ نظر و فکر میں آپ کو غلطی سے بچائے گا۔ یہی بیان کر رہے ہیں۔ اور میں نے وہاں یہ بھی ذکر کیا تھا کہ والد صاحب رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ منطق کی یہ تعریف غلطِ محض ہے، منطق نظر و فکر میں انسان کو غلطی سے نہیں بچاتا، اگر یہ غلطی سے بچاتا پھر تو مناطقہ کے آپس میں اختلافات نہیں ہونے چاہیے تھے، کیونکہ وہ تو منطقی ہیں، وہ تو اس کا خیال رکھتے ہیں تو نظر و فکر میں غلطی سے بچیں گے، جب بچیں گے تو آپس میں اختلاف ہو گا؟ پھر تو آپس میں اختلاف ہی نہیں ہو گا، لیکن ہم دیکھتے ہیں مناطقہ کے سب سے زیادہ اختلافات ہیں آپس میں، اور چلو، اور نہیں کم از کم منطق کے جو ائمہ ہیں، بڑے بڑے چوٹی کے مناطقہ ہیں ان کو تو کم از کم اس علم نے بچا لیا ہوتا، وہ تو آپس میں اختلاف نہ کرتے، لیکن ہم دیکھتے ہیں ان کی بھی آپس میں بہت زیادہ اختلافات ہیں۔ معلوم ہوا یہ علم نظر و فکر میں انسان کو غلطی سے نہیں بچاتا، اس کی یہ تعریف صحیح ہے ہی نہیں، بات سمجھ میں آ گئی؟ جی، تو پھر بھئی منطق نطق سے ہے، نطق بولنا، بولنا، اس سے انسان کو بولنے کا بولنے کا ملکہ حاصل ہوتا ہے، اور وہاں میں نے تعریف لکھوائی تھی والد صاحب فرماتے تھے کہ منطق وہ علم ہے جس کے ذریعے انسان کو بحث کرنا آتی ہے کہ کس طرح انسان اپنی بات کو ثابت کر سکتا ہے اور کس طرح دوسرے کی بات کو رد کر سکتا ہے۔ اگر آپ منطقی ہوں گے، آپ صغریٰ کبریٰ ملائیں گے اور دلیل بنا کر اپنی بات کو ثابت کر دیں گے، اگر آپ منطقی ہوں گے، مخالف کوئی بھی بات کر رہا ہے، آپ اس کے ساتھ بحث کر رہے ہیں، آپ صغریٰ کبریٰ ملا کر اس کی دلیل کا جواب دے دیں گے، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو منطق جو ہے اس کے ذریعے نظر و فکر میں غلطی سے حفاظت نہیں ہوتی بلکہ وہ منطق وہ علم ہے، کیا تعریف لکھوائی تھی؟ "الْمَنْطِقُ هُوَ عِلْمٌ يُعْرَفُ بِهِ طُرُقُ الْإِسْتِدْلَالِ وَالْأَبْحَاثِ"، جس کے ذریعے انسان استدلال کے طریقے سیکھتا ہے اور بحثوں کے طریقے سیکھتا ہے، "نَفْيًا وَإِثْبَاتًا"، نفی اور اثبات کے طریقے پر، کہ دوسرے کی بات کی نفی کیسے کرنی ہے، اس کو جواب کیسے دینا ہے اور اپنی بات کا اثبات کیسے کرنا ہے بھئی، اور اس سے اس علم کی پھر عظمت بھی سامنے آتی ہے، کہ معلوم ہوا یہ وہ علم ہے باعظمت علم ہے کہ اگر آپ اس کی مہارت حاصل کر لیں تو آپ دفاعِ اسلام کا کام زبردست انداز میں کر سکتے ہیں، آپ مخالفین کو کے اعتراض جو اسلام پر وہ اعتراض کرتے ہیں آپ ان کے زبردست جواب دے سکتے ہیں۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ہمارے جن بڑے علماء نے غیر مسلموں کو جوابات دیے ہیں اور ان کو شکستیں دی ہیں، وہ تمام بڑے بڑے منطقی تھے، جیسے امامِ رازی رحمہ اللہ، امام غزالی رحمہ اللہ، مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ، مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ وغیرہ بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَالْمَنْطِقُ آلَةٌ قَانُونِيَّةٌ، آلہ، آلہ بھئی وہ چیز جس کے لیے کوئی کام سرانجام دیا جائے، جیسے قلم کیا ہے؟ لکھنے کا آلہ، جیسے سوٹی، چھڑی، چھڑی ہے پٹائی کرنے کا آلہ، تو یہ آلہ وہ ہے جس کے لیے کوئی کام کیا جائے جس کی مدد سے، تو یہ منطق بھی چند قوانین کا مجموعہ ہے اور وہ قوانین کون سا کام کرتے ہیں؟ آلے جیسا کام کرتے ہیں، جیسے آلے سے کوئی کام سرانجام دیا جاتا ہے اسی طرح یہ قوانین بھی ہمارے مددگار بنتے ہیں اور نظر و فکر میں غلطی سے ہماری حفاظت کرتے ہیں، اس لیے اس کو آلہ کہا، کیا کہا؟ آلہ۔ اور "آلَةٌ قَانُونِيَّةٌ"، قانونی آلہ ہے، یعنی قانونوں پر مشتمل آلہ ہے، قانونوں والا آلہ ہے۔ تو کہتے ہیں: وَالْمَنْطِقُ آلَةٌ قَانُونِيَّةٌ، اور منطق ایسا قانونی آلہ ہے تَعْصِمُ کہ بچاتا ہے، عصم یعصم کا معنیٰ ہے بچانا، حفاظت کرنا، کہ بچاتا ہے مُرَاعَاتُهَا اس کی رعایت رکھنا، آپ کیا کریں؟ اس کو سیکھ کر بھلا نہ دیں بلکہ اس کی لحاظ بھی رکھیں، اس کے قوانین کی رعایت بھی رکھیں، پھر ہی یہ آپ کو کیا کرے گا؟ غلطی سے بچائے گا، اگر بھلا دیں گے تو پھر تو آپ اس کا لحاظ نہیں رکھ رہے، اور جب لحاظ نہیں رکھ رہے تو پھر یہ آپ کو غلطی سے بھی نہیں بچائے گا، اسی لیے کہا: منطق ایسا قانونی آلہ ہے کہ تَعْصِمُ بچاتا ہے مُرَاعَاتُهَا اس کی ان کی رعایت رکھنا الذَّهْنَ ذہن کو، یہ ذہن کو بچاتا ہے اس کی رعایت رکھنا عَنِ الْخَطَأِ غلطی سے فِي الْفِكْرِ کس میں؟ فکر میں۔ آگے علمِ کلام کی بات کرنے لگے ہیں، علمِ کلام میں نے آپ کو بتایا تھا کہ علمِ کلام وہ علم ہے جس میں عقیدے کی بحث ہوتی ہے، کہ اللہ ایک ہے، جنت ہے، جہنم ہے، قیامت قائم ہو گی، فرشتے موجود ہیں وغیرہ، یہ سب کیا ہیں؟ عقیدے، جن میں دخل جن میں عمل کا دخل نہیں، ایک وہ علم ہے جس میں جس کا تعلق عمل کے ساتھ ہے اس کو فقہ کہتے ہیں، کہ نماز کیسے پڑھنی ہے، وضو کیسے کرنا ہے، روزہ کیسے رکھنا ہے، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو علمِ کلام میں صرف عقیدے کی بحث ہو گی، تو کہتے ہیں: وَالْكَلَامُ هُوَ الْعِلْمُ الْبَاحِثُ، وہ علم ہے جو بحث کرنے والا ہے، یعنی جو بحث کرتا ہے عَنْ أَحْوَالِ الْمَبْدَإِ وَالْمَعَادِ۔ اچھا، پہلے وہ ترجمہ دوبارہ سن لیں، تو دوبارہ سنیں ترجمہ: وَالْمَنْطِقُ آلَةٌ قَانُونِيَّةٌ تَعْصِمُ مُرَاعَاتُهَا الذَّهْنَ عَنِ الْخَطَأِ فِي الْفِكْرِ، منطق وہ قانونی آلہ ہے کہ اس کی رعایت رکھنا بچاتا ہے ذہن کو فکر کے اندر غلطی سے۔ وَالْكَلَامُ هُوَ الْعِلْمُ الْبَاحِثُ عَنْ أَحْوَالِ، اور علمِ کلام وہ علم ہے جو بحث کرتا ہے عَنْ أَحْوَالِ الْمَبْدَإِ وَالْمَعَادِ، مبدأ اور معاد کے احوال سے۔ مبدأ کہتے ہیں آغاز کو، ابتداء، شروع، شروع، اور معاد کہتے ہیں لوٹنا، لوٹنا، یعنی مراد آخرت ہے، جب کیا جس کی طرف سب نے لوٹنا ہے، جب سب کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا، قیامت قائم ہو گی، جزا و سزا کا نظام قائم ہو گا۔ یاد رکھیے، چیزیں دو ہیں: ایک ہے ممکنات اور ایک ہے واجب الوجود۔ واجب الوجود اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، اللہ تعالیٰ کی ذات، تو اللہ کے، یاد رکھیں ایک لفظ ہے حادث، ایک ہے قدیم۔ حادث وہ چیز جو جس پر کبھی عدم آیا ہو، حادث کا کیا معنیٰ؟ ثا کے ساتھ: ح، ا، د، ث، حادث کا کیا معنیٰ؟ جس پر کبھی عدم آیا ہو، یعنی ایک زمانہ تھا کہ اس کا وجود نہیں تھا، اور ایک لفظ ہے قدیم، قدیم کا ویسے تو معنیٰ ہے پرانا، لیکن پرانا یہاں مراد نہیں، یہ اصطلاحی لفظ ہے، قدیم کا معنیٰ ہے وہ چیز جس پر کبھی بھی عدم نہ آیا ہو، کوئی بھی ایسا زمانہ نہیں تھا جس کے اندر اس کا وجود نہیں تھا، اس کا وجود ہمیشہ سے ہے، اور قدیم صرف اللہ کی ذات اور اللہ کی صفات ہیں، باقی تمام چیزیں جتنی کائنات میں ہیں وہ سب حادث ہیں بھئی، حادث ہیں، اور انہی حادث کو ممکنات بھی کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ ایک ہے تو اللہ ہے جو قدیم ہے، اللہ کی ذات وہ ہے واجب الوجود جس کا ہونا ضروری ہے، اور باقی چیزیں ہیں ممکن الوجود، جن کا ہونا ممکن ہے، یعنی چاہے ہو یا چاہے نہ ہو، برابر ہے، تو واجب الوجود وہ ہے جس کا ہونا ضروری، اور ممکن الوجود جس کا ہونا، نہ ہونا برابر ہے، چاہے ہو چاہے نہ ہو، لیکن واجب الوجود کا ہونا ضروری ہے بھئی، تو باقی ساری چیزیں کیا ہیں؟ ممکن الوجود، انہی کو کیا کہتے ہیں؟ ممکنات۔ تو علمِ کلام کے اندر ایک تو اللہ کی ذات اور صفات کی بحث ہوتی ہے، ذات اور صفات کی بحث ہوتی ہے کہ اللہ کی ذات موجود ہے، اللہ ایک ہے، اللہ ہمیشہ سے ہے، اور اللہ ہمیشہ سے اس کی صفات بھی ہیں، اللہ قدرت والا ہے، اللہ کلام کرنے والا ہے، اللہ سننے والا ہے، یہ ساری صفات بھی ہیں، اور نیز اس میں کہ آخر میں ہمارا انجام کیا ہو گا؟ کہ دنیا میں ہم کس راستے پر چلیں کہ ہمارا آخرت میں نیک انجام ہو، چنانچہ اس کے لیے ضروری ہے ہم کیا کریں؟ پیغمبروں پر ایمان لائیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین مانیں، آپ کے لائے ہوئے احکام پر احکام پر عمل کریں، تو پھر ہی آخرت میں ہمارا اچھا انجام ہو گا بھئی۔ تو اسی لیے کہا: وَالْكَلَامُ هُوَ الْعِلْمُ الْبَاحِثُ عَنْ أَحْوَالِ الْمَبْدَإِ وَالْمَعَادِ، علمِ کلام وہ علم ہے جو بحث کرتا ہے عَنْ أَحْوَالِ الْمَبْدَإِ وَالْمَعَادِ، مبدأ اور معاد کے احوال سے، آغاز اور معاد کا معنیٰ لوٹنا، اور لوٹنے کے احوال سے بحث کرتا ہے۔ آغاز کے احوال سے بحث کرتا ہے، اسی میں اللہ کی ذات اور صفات بھی آ گئیں، کیونکہ آغاز میں صرف اللہ کی ذات اور صفات تھیں، اور اللہ ہی نے پھر کیا کیا؟ تمام ممکنات کو پیدا فرمایا، اور معاد کے اندر یہ دنیاوی چیزیں بھی آ گئیں کہ پیغمبر کو مانو، پیغمبروں پر ایمان لاؤ، اللہ کی کتابوں پر ایمان لاؤ، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین مانو، اور پھر ہی آخرت میں کیا ہو گا؟ جزا و سزا کا جب نظام قائم ہو گا تو اس میں آپ کو کامیابی ملے گی، آپ کو اجر ملے گا، آپ کو جنت ملے گی بھئی۔ تو گویا سارے اسلامی عقائد اس میں آ گئے، مبدأ اور معاد کے اندر کیا آ گئے؟ سارے اسلامی عقائد آ گئے، مبدأ، آغاز، اس میں اللہ کی ذات اور صفات کا ذکر بھی کرنا پڑے گا، پھر معاد آخرت کے اعتبار سے، اس دنیا کے اندر بھی احکام کہ آخرت میں کامیابی کیسے ملے گی؟ وہ سارے بھی اس کے اندر آ گئے، تو سارے عقیدے اس کے اندر آ گئے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اسی لیے لکھا ہے مبدأ کے نیچے لکھا ہے: أَيْ ذَاتِهِ تَعَالَى وَصِفَاتِهِ، اللہ کی ذات اور صفات، اور معاد کے اوپر لکھا ہے: أَيِ الْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ، موت کے بعد دوبارہ اٹھنا، موت کے بعد دوبارہ اٹھنا، تو اس کی بحث ہوتی ہے، اور اسی میں سارے عقیدے آ جاتے ہیں بھئی۔ تو وہ تو علمِ دوبارہ دیکھیں: علمِ کلام وہ علم ہے جو بحث کرتا ہے عَنْ أَحْوَالِ الْمَبْدَإِ وَالْمَعَادِ، مبدأ اور معاد کے احوال سے، عَلَى نَهْجِ قَانُونِ الْإِسْلَامِ، اسلامی قانون کے طریقے پر، نہج کہتے ہیں راستہ اور طریقہ، کس طریقے پر بحث کرتا ہے مبدأ اور معاد سے؟ اسلامی قانون کے طریقے پر بحث پر بحث کرتا ہے، ایک فلسفیوں والا طریقہ ہے، فلسفیوں والے طریقے پر یہاں بحث نہیں ہوتی بلکہ کس طریقے پر بحث ہوتی ہے علمِ کلام میں؟ مبدأ اور معاد کی بحث ہوتی ہے لیکن اسلامی قانون کے طریقے پر ہوتی ہے۔ تو نہج کا معنیٰ ہے راستہ اور طریقہ، عَلَى نَهْجِ قَانُونِ الْإِسْلَامِ، اسلامی قانون کے طریقے پر بحث کرتا ہے۔ قَوْلُهُ "وَتَقْرِيبِ الْمَرَامِ"، مصنف کا قول "وَتَقْرِيبِ الْمَرَامِ"، بِالْجَرِّ، یہ کس کے ساتھ ہے؟ جر کے ساتھ، عَطْفٌ عَلَى التَّهْذِيبِ، یہ عطف ہے کس پر؟ تہذیب پر، اور تہذیب کیا تھا؟ مجرور تھا، اس پر غایہ مضاف داخل تھا، غایہ تھا مضاف اور تہذیب تھا مضاف الیہ، اور مضاف مضاف الیہ کیا ہوتا ہے؟ مجرور، اسی لیے کہا یہ تقریب کا بھی اس پر عطف ہے، تو "بالجر" یہ جر کے ساتھ ہے، "عَطْفٌ عَلَى التَّهْذِيبِ"، عطف ہے تہذیب پر، أَيْ "هَذَا غَايَةُ تَقْرِيبِ الْمَقْصَدِ"، یہ یہ کیا ہے؟ انتہا درجے کا مقصد کو قریب کرنا ہے، مرام کا مرام ذکر نہیں کیا، مرام کے بجائے براہِ راست مقصد لفظ ذکر کر دیا، یعنی اس کا معنیٰ بیان کر دیا کہ مرام کا کیا مطلب ہے؟ مقصد۔ تو یہ کتاب جو ہے "غَايَةُ تَقْرِيبِ الْمَقْصَدِ"، یہ انتہا درجے کا مقصد کو قریب کرنا ہے، بھئی کس کے قریب کرنا ہے مقصد کو؟ إِلَى الطَّبَائِعِ وَالْأَفْہَامِ، طبیعتوں اور فہموں کی طرف۔ مقصد کو یہ کتاب ایسے خوبصورت، پیارے اور دلکش انداز میں ہے کہ یہ مقصد کو ذہنوں کے، سمجھ کے اور طبیعت کے قریب کر لیتی ہے، طالبِ علم ان کو آسانی سے سمجھ لیتا ہے۔ تو یہ معنیٰ ہے کہ یہ انتہا درجے کے مقصد کو قریب کرنے والی ہے إِلَى الطَّبَائِعِ وَالْأَفْہَامِ، طبیعتوں کی طرف اور فہموں کی طرف، افہام جمع ہے فہم کی، میں نے بتلایا تھا ایک ہے افہام، ایک ہے افہام، افہام مصدر ہے بابِ افعال کا، اس کا معنیٰ ہے سمجھانا، اور افہام، الف پر زبر پڑھو تو یہ جمع ہے، آپ نے ہمیشہ خیال رکھنا ہے، جب بھی اس وزن پر افعال وزن ہمزہ کے نیچے زیر آئے تو وہ مصدر ہوتا ہے، اور جب بھی الف پر زبر آئے وہ کیا ہوتا ہے؟ وہ جمع کا صیغہ ہوتا ہے، تو جہاں مصدر کا مقام ہو وہاں آپ نے مصدر پڑھنا ہے، اور جہاں جمع کا مقام ہو وہاں آپ نے الف پر زبر پڑھنا ہے جمع کا صیغہ۔ تو فہم کا معنیٰ ہے سمجھ، مقصد کو قریب کرنا طبیعتوں اور فہموں کے، وَالْحَمْلُ عَلَى طَرِيقِ الْمُبَالَغَةِ، اور یہاں بھی حمل کس طریقے پر ہے؟ مبالغے کے طریقے پر، جیسے وہاں تھا "هَذَا غَايَةُ تَهْذِيبِ الْكَلَامِ"، جیسے وہاں پہلے جواب کیا تھا؟ حمل ہے مصدر کا ذات پر بطورِ مبالغہ کے، اسی طرح یہاں پر بھی ہے "هَذَا غَايَةُ تَقْرِيبِ الْمَرَامِ"، یہ مقصد کو ذہن کے انتہائی قریب کرنا ہے، تو یہ مصدر کا حمل ہوا کس پر؟ ذات پر، بطورِ مبالغہ کے، أَوِ التَّقْدِيرُ یا تقدیرِ کلام یوں ہے: هَذَا مُقَرِّبٌ غَايَةَ التَّقْرِيبِ، یہ کتاب قریب کرنے والی ہے غَايَةَ التَّقْرِيبِ انتہائی قریب کرنا، تو غایت التقریب کو کیا بنایا؟ مفعولِ مطلق، وہی دونوں ترکیبیں یہاں بھی ہو گئیں بھئی، ایک تھا حمل علی طریق المبالغہ، یہ پہلی ترکیب، اور "هَذَا مُقَرِّبٌ غَايَةَ التَّقْرِيبِ"، تو خبر محذوف ہے اور غایت التقریب کیا ہے؟ مصدر ہے، مفعولِ مطلق ہے، پھر اس کو مقرب کو حذف کیا اور غایت التقریب کو اس کا قائم مقام کر دیا گیا، تو یہ پھر وہی مجاز الحذف کی قبیل سے ہوا، تو تقدیرِ کلام یہ ہوئی کہ "هَذَا مُقَرِّبٌ غَايَةَ التَّقْرِيبِ" کہ یہ کتاب جو ہے مقصد کو انتہائی قریب کرنے والی ہے، بات سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ آپ نے پڑھا کہ "وَبَعْدُ فَهَذَا غَايَةُ تَهْذِيبِ الْكَلَامِ"، یہ غایت خبر بن رہی ہے، کیا بن رہی ہے؟ خبر، اور یہ غایة تہذیب الکلام یہ ہے مصدر، کیونکہ تہذیب بابِ تفعیل کا مصدر ہے، تو مصدر کا حمل ہو رہا ہے هذا الکتاب یعنی ذات پر، اور مصدر کا حمل تو ذات پر صحیح نہیں، تو ایک جواب یہ دیا تھا کہ یہ حمل ہے بطورِ مبالغہ کے، یہ حمل ہے، یعنی غایة تہذیب الکلام یہ خود ہی خبر ہے اور یہ اس کا اپنا رفع ہے۔ اور اشکال پھر کیا ہوتا ہے؟ کہ یہ تو مصدر ہے، مصدر کا حمل تو ذات پر نہیں ہو سکتا، تو جواب دے دیا کہ یہ حمل ہے بطورِ مبالغہ کے۔ دوسرا جواب یہ ذکر کیا کہ یہاں خبر محذوف ہے اور یہ "غَايَةُ" اصل میں "غَايَةَ" منصوب تھا، یہ مفعولِ مطلق تھا، یہ اس کا اپنا اعراب اس وقت تو یہ مرفوع ہے لیکن یہ اس کا اپنا رفع نہیں، اس کا اپنا اصل میں کیا تھا؟ نصب تھا، یہ منصوب تھا، اصل کلام یوں تھا: "فَهَذَا كَلَامٌ مُهَذَّبٌ غَايَةَ تَهْذِيبِ الْكَلَامِ"، تو خبر تھی "كَلَامٌ مُهَذَّبٌ"، اور "غَايَةَ تَهْذِيبِ الْكَلَامِ" یہ ہے مفعولِ مطلق، پھر اس خبر کو حذف کیا اور اس کو اس کا قائم مقام کر دیا اور اس کا اعراب اس کو دے دیا، تو کیا بن گیا؟ "فَهَذَا غَايَةُ تَهْذِيبِ الْكَلَامِ"، تو یہ رفع اس کا اپنا نہیں، تو یہ کس قبیل سے ہوا؟ مجاز الحذف کی قبیل سے ہوا، مجاز الحذف کسے کہتے ہیں؟ ایک لفظ کو حذف کرنے کی وجہ سے دوسرے کا اعراب بدل جائے، تو دیکھو یہاں "غَايَةَ" سے کیا بن گیا؟ "غَايَةُ تَهْذِيبِ"، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اصل خبر ہے "كَلَامٌ مُهَذَّبٌ" جو محذوف ہے۔ اور یہی تقریر ہے تقریب المرام میں بھی: "أَيْ غَايَةُ تَقْرِيبِ الْمَرَامِ"، ایک تو یہ کیا، تو یہ تو اس کا اپنا اعراب ہے، اس صورت میں یہ خبر ہے اور حمل ہے بطورِ مبالغہ کے، کیونکہ مصدر کا حمل ذات پر نہیں ہو سکتا، اور دوسرا یہ کہ اصل میں یہاں خبر محذوف ہے اور یہ مفعولِ مطلق ہے: "أَيْ هَذَا الْكِتَابُ مُقَرِّبٌ لِلْمَرَامِ غَايَةَ تَقْرِيبِ الْمَرَامِ"، تو "غَايَةَ" یہ منصوب ہے اور خبر کیا ہے؟ "مُقَرِّبٌ"، "مُقَرِّبٌ"، تو خبر کو حذف کیا اور پھر اس غایت کو اس کا قائم مقام کرتے ہوئے اس کا رفع اس کو دے دیا، تو یہ اس کا اپنا رفع نہیں، یہ کسی اور کا رفع ہے، یعنی اس خبر کا رفع ہے جو اس پر آ گیا، تو اس صورت میں یہ پھر مجاز الحذف کی قبیل سے ہے کہ مقرب کو حذف کرنے کی وجہ سے غایت تقریب المرام کا اعراب بدل گیا نصب سے کس کی طرف؟ رفع کی طرف۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ حاصلِ کلام سن لو، حاصلِ کلام یہ ہوا کہ آج آپ نے پڑھا کہ "هذا" کے ذریعے اشارہ ہے یا معانی کی طرف یا الفاظ کی طرف، اور باقی دراصل یہاں سات احتمالات بنتے ہیں، لیکن ان سات میں سے پانچ احتمال صحیح نہیں، صرف دو احتمال صحیح بنتے تھے، انہی کو شارح نے یہاں ذکر کیا، کیونکہ آگے خبر کلام آ رہی ہے کہ یہ مہذب کلام ہے، اور کلام تو دو ہی قسم کا ہے، یا کلامِ لفظی ہے یا کلامِ نفسی ہے، تو نقوش بھی نکل گئے اور دونوں بھی اکٹھے مراد نہیں ہو سکتے، تو ایک وقت میں ایک ہی مراد ہو گا، یا کلامِ نفسی اور وہ معانی ہیں، یا کلامِ لفظی اور وہ الفاظ ہیں۔ اس کے بعد غایة تہذیب الکلام کے بارے میں بھی بتایا کہ یا تو اس کا حمل کیا ہے؟ یہ خود خبر ہے اور اس کا حمل ہے مبتدا یعنی ذات پر بطورِ مبالغہ کے، یا یہ مفعولِ مطلق ہے اور خبر دراصل محذوف ہے، لیکن پھر اس کو حذف کر کے اس کو اس کا قائم مقام کر دیا گیا اور اس کا اعراب اسے دے دیا گیا، تو اس کا اصلی اعراب بدل گیا حذف کی وجہ سے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مجاز الحذف کہتے ہیں۔ پھر اس کے بعد "فِي تَحْرِيرِ الْمَنْطِقِ وَالْكَلَامِ" آیا، وہ آپ کو بتلایا کہ تحریر کا معنیٰ بھی بیان ہے، لیکن ہر بیان نہیں، وہ بیان جو حشو و زوائد سے خالی ہو، تو اس لیے تحریر کا لفظ استعمال کر کے بتلا دیا، میری اس کتاب میں حشو و زوائد نہیں ہوں گے، اور پھر منطق کی تعریف بھی کر دی اور علمِ کلام کی تعریف بھی کر دی، کہ علمِ منطق وہ قانونی آلہ ہے کہ جس کی رعایت رکھی جائے تو وہ نظر و فکر میں ذہن کو غلطی سے بچاتا ہے، اور علمِ کلام کی تعریف بھی کر دی، کہ علمِ کلام وہ علم ہے جو مبدأ اور معاد کے احوال سے بحث کرتا ہے اسلامی قانون کے طریقے پر، اور پھر تقریب المرام میں بھی بتلا دیا کہ اس کا عطف تہذیب پر ہے اور جو غایة تہذیب الکلام میں جو دو ترکیبیں تھیں، ایک ترکیب کیا تھی؟ کہ یہ حمل ہے بطورِ مبالغہ کے، تو یہ بھی یا تو حمل ہے بطورِ مبالغہ کے، یا یہ مفعولِ مطلق ہے اور خبر اصل میں محذوف ہے، تو یہ کس قبیل سے ہوا؟ مجاز الحذف کی قبیل سے ہوا، بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔