اچھا بھئی آگے دیکھیے شرح میں، "قوله بالتصديق متعلق بقوله سعدوا أي بسبب التصديق والإيمان بما جاء به النبي عليه السلام، قوله وسعدوا في معارج الحق يعني بلغوا أقصى مراتب الحق فإن الصعود على جميع مراتبه يستلزم ذلك."
"قوله بالتصديق"
یہ شرح کا حصہ ہم آج پڑھیں گے بھئی۔
اس سے پہلے
ذرا متن کو دوبارہ دیکھ لیجئے:
"وعلى آله وأصحابه الذين سعدوا في مناهج الصدق بالتصديق، وسعدوا في معارج الحق بالتحقيق"
اور رحمت اور سلامتی ہو "على آله"
اس پیغمبر کی آل پر یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر۔
اور میں نے آل کے متعدد معانی بیان کیے بھئی کہ بعضوں نے کہا کہ اس سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والے مراد ہیں۔ بعضوں نے کہا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت حسن، حضرت حسین اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہم مراد ہیں۔
اور بعضوں نے کہا کہ اس سے تمام
کہ اس سے بنو عبد المطلب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ دار مراد ہیں۔ بعضوں نے کہا بنو ہاشم میں قریبی رشتہ دار مراد ہیں۔ بعضوں نے کہا اس سے مراد کیا ہیں؟ تمام اہل ایمان ہیں۔ بعضوں نے کہا اس سے مراد متقی مومنین مراد ہیں، یعنی متقی اہل ایمان مراد ہیں، تمام اہل ایمان مراد نہیں۔ بعضوں نے کہا کہ اہل ایمان میں سے صرف علماء مراد ہیں، اور جبکہ بعضوں نے کہا عام علماء بھی نہیں مراد بلکہ علماء مجتہدین مراد ہیں بھئی،
جو خود قرآن و حدیث میں غور و فکر کر کے مسائل کا استنباط کرتے ہیں۔
بات سمجھ میں آگئی؟
اور
شارح نے پھر آپ کو بتلایا کہ یہ آل کی اصل جو ہے اہل ہے، اور اس کی دلیل کیا ذکر کی؟ کہ اس کی دلیل أُهيل ہے۔ أُهيل، یعنی اس کی تصغیر آل کی تصغیر أُهيل آتی ہے۔ اور التـ آپ نے ضابطہ پڑھا ہے "التصغير والتكسير يردان الأشياء إلى أصولها" کہ جمعِ تکسیر
اور اسی طرح تصغیر جو ہیں وہ چیزوں کو ان کی اصل کی طرف لوٹا دیتی ہیں۔ آپ نے کسی چیز کسی لفظ کی اصل کا پتہ لگانا ہے کہ اصل میں یہ لفظ کیا تھا تو آپ اس کی تصغیر دیکھ لیں، یا آپ اس کی جمعِ تکسیر دیکھ لیں عربی کے اندر، آپ کو اس کی اصل کا پتہ چل جائے گا۔ تو یہاں بھی آل کی تصغیر کیا آتی ہے؟
أُهيل۔
یہ دلیل ہے اس بات کی کہ یہ اصل میں کیا تھا؟ أهلٌ تھا۔
اور أهلٌ سے پھر ہا کے ہا کو خلاف القیاس ہمزہ سے بدلا گیا تو کیا بن گیا؟ أألٌ۔ أهلٌ سے کیا بن گیا؟ أألٌ، اور پھر ہمزہ کو الف کے ساتھ بدلا درمیان والے کو تو کیا بن گیا؟ آلٌ۔
اس پر اشکال ہوتا ہے کہ آل اصل میں کیا تھا؟ أهلٌ، اور پھر ہم ہا کو کس سے بدلا؟ ہمزہ سے، حالانکہ ہمزہ تو ہا کے مقابلے میں زیادہ ثقیل ہے، ہمزہ کی ادائیگی زیادہ مشکل ہے۔ أهلٌ، دیکھو ادائیگی آسان، أألٌ، دیکھو یہ ادائیگی مشکل ہے، تو ہمزہ تو ہا کے مقابلے میں زیادہ ثقیل ہے، اور جب بھی ایک حرف کو دوسرے سے بدلا جاتا ہے تو ہمیشہ
ثقیل کے کے مقابلے میں خفیف کی طرف جاتے ہیں۔
کس کی طرف جاتے ہیں؟
خفیف کی طرف جاتے ہیں، بدلنے کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ تاکہ لفظ میں خفت پیدا ہو جائے، اس کی ادائیگی زبان پر آسان ہو جائے، لیکن یہاں تو برعکس کیا گیا، ہا کو کس سے بدل دیا؟ ہمزہ سے، آپ خفیف سے کس کی طرف چلے گئے؟ ثقیل کی طرف، یہ تو خلاف القیاس ہے، ایسا تو کہیں بھی نہیں ہوتا کہ خفیف کو چھوڑ کر کس کی طرف چلے جائیں؟ ثقیل کی طرف۔ تو جواب اس کا گزر گیا
کہ ہمارا اصل مقصد تھا آلٌ تک پہنچنا۔
تو أهلٌ سے کیا آیا درمیان میں؟ أألٌ، اور پھر کیا بن گیا؟ آلٌ۔
توجہ ہے؟ اصل میں کیا تھا؟ أهلٌ، پھر کیا بنا؟ أألٌ، پھر ہمزہ کو ماقبل حرکت کے موافق حرفِ علت سے بدلا،
تو أألٌ ہمزہ سے ماقبل کیا ہے؟ زبر ہے، تو اس کو کس سے بدلا؟ الف سے، کیا بن گیا؟ آلٌ۔
تو ہم چلے تھے أهلٌ سے اور پہنچ گئے آلٌ پر، تو جو نتیجہ آیا یعنی آلٌ وہ بے انتہا خفیف ہے۔
تو درمیان میں اگر ثقیل کا واسطہ آ بھی گیا تو کوئی حرج نہیں ہے بھئی، اگر ہم أألٌ پر رک جاتے پھر آپ کا اعتراض ٹھیک تھا کہ خفیف کے چھوڑ کر کس کی طرف چلے گئے؟ ثقیل کی طرف، لیکن ہم اس ثقیل پر رکے نہیں، ہمارا مقصد کہاں پہنچنا تھا؟
آل انتہائی خفیف کی طرف پہنچنا تھا، تو اگر درمیان میں یہ واسطہ آ بھی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ آخر میں جو لفظ حاصل ہوا وہ بے انتہا خفیف تھا، ایک ہے أهلٌ، ایک ہے آلٌ، کس کی ادائیگی آسان؟
آلٌ کی ادائیگی آسان ہے۔
صورت سمجھ میں آگئی؟ اور یہ شارح نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ یہ آل کا لفظ جو ہے معزز لوگوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، ہر ایک کے لیے استعمال نہیں ہوتا، اہل کا لفظ سب کے لیے استعمال ہوتا ہے چاہے معزز ہو یا معزز نہ ہو۔
بات سمجھ میں آگئی؟ معزز لوگوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
چاہے وہ معزز دینی اعتبار سے ہو
یا صرف دنیاوی اعتبار سے ہو۔
یا صرف جیسے فرعون تھا، وہ صرف دنیاوی اعتبار سے معزز تھا، لیکن بہرحال معزز تھا کہ بادشاہ تھا، بڑا آدمی تھا، بات سمجھ میں آگئی بھئی؟
اور پھر شارح نے بتلایا کہ آل سے کیا مراد ہے؟ کہ آل سے مراد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد ہے، المعصومون، جو کیا ہیں؟ معصوم کا کیا معنی؟ محفوظ، جو محفوظ ہیں یعنی گناہوں سے محفوظ ہیں، اللہ کی طرف سے ان کی خاص حفاظت ہوتی ہے، وہ گناہ کر ہی نہیں سکتے۔ میں نے بتلایا تھا کہ یہ اہل سنت کا عقیدہ نہیں، اہل سنت والجماعت کے نزدیک صرف یہ انبیاء کا مقام ہے، معصوم گناہوں سے معصوم صرف کون ہیں؟ انبیاء ہیں، ان کی اللہ کی طرف سے خاص حفاظت ہوتی ہے۔
تو دیکھیے ہم متن کر رہے تھے "وعلى آله" اور رحمت اور سلامتی ہو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر "وأصحابه" اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ پر "الذين سعدوا في مناهج الصدق بالتصديق" وہ صحابہ جو نیک بخت ہوئے یعنی کامیاب ہوئے "في مناهج الصدق" سچائی کے راستوں میں "بالتصديق" تصدیق کی وجہ سے۔
تصدیق کا کیا معنی میں نے کیا تھا؟ ایمان، ایمان۔ ایمان لانے کی وجہ سے جو سچائی کے راستوں میں کامیاب ہوئے، سعید نیک بخت کو کہتے ہیں بھئی۔
تو "سعدوا" وہ نیک بخت ہوئے سچائی کے راستوں میں ایمان لانے کی وجہ سے، "وسعدوا في معارج الحق" اور وہ چڑھ گئے حق کی تمام سیڑھیوں پر "بالتحقيق" یقینی طور پر، یعنی ان کا حق کی تمام سیڑھیوں پر چڑھنا یقینی ہے، اس میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں۔
یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟
تو درمیان میں شارح نے آپ کو بتلایا تھا اصحاب کسے کہتے ہیں؟
تو اصحاب جمع ہے صاحب کی، اصحاب، اور اس سے مراد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ہیں۔
صاحب کی جمع اصحاب بھی ہے اور صحابہ بھی ہے، لیکن اصحاب عام ہے، عام لوگوں پر بھی بولا جا سکتا ہے، کسی کے بھی ساتھی ہوں ہم کہہ سکتے ہیں یہ اس کے اصحاب ہیں۔
لیکن صحابہ کا لفظ صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں پر بولا جاتا ہے۔
تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب جو ایمان لائے تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کو انہوں نے پایا اور اسی پر ایمان پر ہی ان کا انتقال ہوا۔
اس کے بعد صدق کی بات آئی تھی
کہ وہ چڑھ گئے صدق کی سیڑھیوں پر، سچ سچائی کی سیڑھیوں پر۔
تو شارح نے آپ کو بتلایا تھا کہ ایک ہے صدق اور ایک ہے حق۔
"في مناهج الصدق" یہاں کیا آرہا ہے؟ صدق، اور "في معارج الحق" یہاں کیا آرہا ہے؟ حق۔ تو یہ صدق اور حق میں کیا فرق ہے؟ شارح نے آپ کو بتلایا بھئی، میں نے الگ تقریر بھی لکھوائی تھی اور ان دونوں میں کئی فروق میں نے آپ کو لکھوائے تھے، کئی فرق ہیں ان دونوں کے اندر بھئی۔
البصہ شارح نے کلام مختصر کیا اور بتلایا
کہ خبر اور اعتقاد یہ جب واقعے کے مطابق ہوں
تو واقعہ بھی یقیناً ان کے مطابق ہوگا، کیونکہ مطابقت بابِ مفاعلہ ہے اور یہ جانبین سے فعل کو چاہتا ہے۔
مثلاً میں کیا کہتا ہوں؟ ضارب زيد عمراً، ضارب زيد عمراً، تو ضارب کون سا فعل ہے؟ بابِ مفاعلہ سے ہے، ضارب يضارب مضاربةً، تو ضارب زيد عمراً
ضارب زيد عمراً کہ زید دیکھو زيد فاعل بن رہا ہے۔
اور عمراً کیا بن رہا ہے؟ مفعول، تو اس کا یہ معنی نہیں زید نے صرف عمر کی پٹائی کی ہے، نہیں، یہ بابِ مفاعلہ ہے، بابِ مفاعلہ دونوں جانب سے فعل چاہتا ہے، تو معنی یہ ہوگا کہ زید نے عمر کی پٹائی کی اور عمر نے زید کی پٹائی کی۔
زید نے کس کی پٹائی کی؟ عمر کی، اور عمر نے زید کی، تو اب ترجمہ کیسے کریں گے؟ ضارب زيد عمراً
زید اور عمر نے باہم ایک دوسرے کی پٹائی کی۔
ترجمہ کیا کریں گے؟ ضارب زيد عمراً، زید اور عمر نے باہم ایک دوسرے کی پٹائی کی بھئی۔
طریقہ سمجھ میں آیا؟ تو یہاں بھی بابِ مفاعلہ ہے۔
بھئی خبر اور اعتقاد کا لفظ آیا نا، خبر سے وہی قول مراد ہے، جملہ خبریہ مراد ہے، قول، اور اعتقاد سے عقیدہ مراد ہے، تو قول اور عقیدہ جب واقعے کے مطابق ہوا تو واقعہ بھی ان کے مطابق، کیونکہ مطابقت بابِ مفاعلہ ہے، یہ دونوں جانب سے فعل چاہتا ہے۔ تو اگر اس مطابقت کو ہم دیکھیں قول اور عقیدے کی جانب سے اور یوں کہیں کہ یہ قول اور عقیدہ واقعے کے مطابق ہے،
تو واقعہ ان کے مطابق ہوا، تو مطابق تو مطابق کون ہوئے؟
قول اور عقیدہ، تو اس کو کہیں گے صدق۔
اور اگر آپ واقعے کی طرف سے دیکھیں کہ واقعہ جو ہے وہ قول اور عقیدے کے مطابق ہے، تو قول اور عقیدہ کیا ہوئے؟ مطابق ہوئے، تو واقعہ کیا ہوا؟ مطابق، تو پھر اس اس مطابقت کو کیا کہیں گے؟ حق کہیں گے۔ تو اگر کس کی جانب سے دیکھیں؟ قول اور عقیدے کی طرف سے مطابقت کو دیکھیں تو پھر یہ ہے صدق، اور اگر یہ مطابقت ہم واقعے کی طرف سے دیکھیں تو یہ کیا ہے؟ حق ہے بھئی، اور یہ فرق اعتباری ہے۔
معتبر کے اعتبار پر موقوف ہے۔
معتبر یعنی اعتبار کرنے والا، آپ اس کا اعتبار کرتے ہیں تو یہ فرق ہے، آپ اعتبار نہیں کرتے تو یہ فرق بھی نہیں ہے۔
یہ جیسے میں نے مثال ذکر کی تھی، ایک ترپائی ہے آپ اس کو دائیں طرف سے ناپیں تو بھی دو گز، بائیں طرف سے ناپیں تو بھی دو گز، تو کیا اس سے کوئی فرق پڑے گا کہ آپ دائیں طرف سے ناپیں یا بائیں طرف سے ناپیں؟ کیا لمبائی بدل رہی ہے؟ نہیں، لمبائی تو وہی ہے دو کی دو گز، تو یہاں بھی صرف معتبر جو آدمی اعتبار کر رہا ہے، اگر وہ مطابقت کا اعتبار کر رہا ہے کس کی طرف سے؟
واقعے کی طرف سے، تو وہ حق ہے، اور اگر وہ مطابقت کا اعتبار کر رہا ہے کس کی طرف سے؟
قول اور عقیدے کی طرف سے، تو وہ کیا ہے؟ وہ صدق ہے، تو یہ کس کے اعتبار پر موقوف؟ معتبر، اعتبار کرنے والے کے اعتبار پر یہ بات موقوف ہے، تو پھر یہ یعنی یہ فرق، یہ فرق کس پر موقوف؟
معتبر کے، یہ لفظ زبان سے دہراؤ، یہ جگہ جگہ آئے گا، یہ فرق کس پر یہ فرق کس بنیاد پر ہے؟ معتبر کے، یا یوں کہتے ہیں کہ یہ فرق اعتباری ہے، جگہ جگہ یہ بات آئے گی، یہ فرق اعتباری ہے، کیا معنی اعتباری؟ یعنی آپ اس کا اعتبار کرتے ہیں تو فرق ہے ورنہ کوئی فرق نہیں، یہاں بھی حق اور صدق میں آپ اسے مطابقت کا ایک طرف سے اعتبار کریں یا دوسری طرف سے، پھر تو فرق ہے، اگر آپ اس کا اعتبار ہی نہیں کرتے تو فرق بھی نہیں، حق بھی وہی ہے اور صدق بھی وہی ہے بھئی۔
تو یہ فرق اعتباری ہے، معتبر کے اعتبار پر موقوف ہے، حقیقت میں یہ کوئی فرق نہیں، واقعی نہیں ہے بھئی۔
واقعے کے اندر جب فرق ہو وہ تو فرق ہوتا ہے، آپ کے اعتبار پر موقوف نہیں ہوتا،
جیسے ایک دیوار ہے اور ایک اینٹ ہے، دیوار اور اینٹ میں فرق ہے یا نہیں ہے؟ جی؟ یا یوں کہو ایک دیوار ہے اور ایک درخت ہے، دیوار اور درخت میں فرق ہے کہ نہیں؟ آپ چاہے اعتبار کریں یا نہ کریں، فرق تو ہے دونوں میں، دیوار اور چیز ہے، درخت اور چیز ہے، تو باقی چیزوں میں جب فرق ہوتا ہے وہ واقعی ہوتا ہے، واقعے کے اعتبار سے ہوتا ہے، حقیقت کے اعتبار سے ہوتا ہے، اور یہاں حقیقت کے اعتبار سے فرق نہیں بلکہ کس اعتبار سے فرق ہے؟ معتبر کے اعتبار کے لحاظ سے فرق ہے، معتبر اگر اعتبار اس فرق کا کرتا ہے تو یہ فرق ہے، اگر وہ اس کا اعتبار نہیں کرتا تو فرق بھی نہیں ہے۔
اور انہوں نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ کبھی کبھار نفسِ مطابقت جو ہے
جو واقعہ
ایک طرف کیا ہے؟ واقعہ، دوسری طرف کیا ہے؟ قول اور عقیدہ، ان دونوں کے درمیان جو مطابقت ہے، جو تعلق ہے،
جیسے میاں بیوی کے درمیان کون سا تعلق ہوتا ہے؟ نکاح والا، نکاح۔ تو جیسے تو یہاں بھی، ایک طرف ہے واقعہ اور ایک طرف کیا ہے؟
قول اور عقیدہ، ان دونوں کے درمیان تعلق کون سا ہے؟ مطابقت والا۔
یہ سب ایک دوسرے کے مطابق، تو ان میں جو تعلق ہے وہ مطابقت والا ہے، تو کبھی اس نفسِ مطابقت ہی کو کیا کہہ دیتے ہیں؟
صدق اور حق کہہ دیتے ہیں۔
یہ معنی تھا، "وقد يطلق الصدق والحق على نفس المطابقة أيضا" کبھی نفسِ مطابقت پر بھی کیا کر دیتے ہیں؟ صدق اور حق کو کا اطلاق کر دیا جاتا ہے۔
یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟
آگے دیکھیے:
"قوله بالتصديق"
مصنف کا قول جو ہے "بالتصديق"، "متعلق بقوله سعدوا" یہ متعلق ہے مصنف کے قول "سعدوا" کے ساتھ، بھئی متن میں آؤ ذرا،
"وأصحابه الذين" اور وہ صحابہ کہ جو کہ "سعدوا" نیک بخت ہوئے، یعنی خوش قسمت ہوئے، یوں ترجمہ کر لو کامیاب ہوئے "في مناهج الصدق" سچائی کے تمام راستوں میں "بالتصديق" تصدیق کی وجہ سے، تو "بالتصديق" آیا جار مجرور،
جار مجرور، اور آپ ترکیب کے اندر پڑھ چکے ہیں کہ جار مجرور ہمیشہ چاہتا ہے کسی چیز سے متعلق ہو جائے، تو یہ ہمیشہ ہوتا ہے متعلق، اور جس سے جڑتا ہے اس کو کہتے ہیں متعلق، لام کے فتحہ کے ساتھ، یہ ان کو کیا اس کو کیا کہتے ہیں؟ متعلق، اور جس سے جڑے اس کو متعلق، اور یہ آٹھ چیزوں میں سے کسی ایک سے متعلق ہوتا ہے آپ پڑھ چکے ہیں نحو کے اندر، وہ آٹھ چیزیں کیا ہیں؟ نمبر ایک:
فعل ہے، نمبر دو:
مصدر ہے، نمبر تین:
اسمِ فاعل ہے، ایک ہوتا ہے فاعل اور ایک ہے اسمِ فاعل، دونوں میں فرق جانتے ہو؟
فاعل وہ ہے جس کو فعل یا صفت کا صیغہ رفع دے، "ضرب زيدٌ"، یہ "زيدٌ" فاعل ہے،
کیا ہے؟ فاعل، اور ایک ہوتا ہے اسمِ فاعل، وہ مخصوص صیغے کا نام ہے جو آپ نے گردانوں میں پڑھا، ضاربٌ، مانعٌ، مكرمٌ، مستخرجٌ، یہ سب کیا ہیں؟ اسمِ فاعل، یہ تو صیغے کا نام ہے، اسی طرح ایک ہوتا ہے مفعول اور ایک ہوتا ہے اسمِ مفعول، مفعول وہ ہے جس کو فعل یا صفت کا صیغہ نصب دے، "ضربت زيداً"، یہ "زيداً" کیا ہے؟ منصوب، تو اس کو فعل نصب دے رہا ہے تو یہ ہوا مفعول،
تو یہ ہے مفعول، اور ایک ہوتا ہے اسمِ مفعول، اسمِ مفعول وہ مخصوص صیغے کا نام ہے جو آپ نے گردانوں میں پڑھا ہے، مضروبٌ، ممنوعٌ، مفتوحٌ، مکرمٌ، مستخرجٌ، بات سمجھ میں آگئی؟
اچھا بات یہ ذکر کر رہا تھا کہ جار مجرور جب بھی کلام میں آئیں، آٹھ چیزوں میں سے کسی ایک سے متعلق ہوں گے، نمبر ایک:
فعل، نمبر دو: مصدر، نمبر تین: اسمِ فاعل، نمبر چار: اسمِ مفعول، نمبر پانچ:
صفتِ مشبہ جیسے کریمٌ شریفٌ وغیرہ، نمبر چھ:
اسمِ تفضیل جیسے اضربُ
وغیرہ،
امنَعُ،
انصَرُ وغیرہ،
اسمِ تفضیل، یا
مبالغے کے صیغے ہو،
جیسے ضرابٌ، بہت پٹائی کرنے والا، اسمِ فاعل ہی میں مبالغہ ہے،
یا جیسے اسمِ فعل ہے،
اسمِ فعل ہے جو ہے تو اسم، لیکن معنی کس کا ادا کرتا ہے؟ فعل کا، تو جار مجرور جب بھی آئیں کلام میں، کتنی چیزوں سے متعلق ہو سکتے ہیں؟ آٹھ سے، نمبر ایک:
فعل، نمبر دو: مصدر، نمبر تین: اسمِ فاعل، نمبر چار: اسمِ مفعول، نمبر پانچ: صفتِ مشبہ، نمبر چھ: اسمِ تفضیل، نمبر سات: مبالغے کے صیغے، اور نمبر آٹھ: اسمِ فعل، ان آٹھ میں سے کوئی ایک اگر موجود ہے تو اس کے ساتھ جوڑ کر ترجمہ کریں گے، عموماً وہ اس سے جڑ جائے گا، اور ترجمہ اگر ٹھیک نہیں ہوتا تو پھر اس کے لیے ہمیں محذوف نکالنا پڑتا ہے۔
تو جار مجرور کے لیے متعلق ضرور چاہیے، اگر عبارت میں کوئی ان میں سے موجود ہے تو یہ اس سے جڑے گا بشرطیکہ معنی ٹھیک ہو رہا ہو، اگر اس سے نہیں جڑ رہا تو متعلق تو ضرور چاہیے تو پھر ہمیں محذوف نکالنا پڑے گا،
اور ان جار مجرور کا متعلق اگر عبارت میں ذکر ہو تو اس کو کہتے ہیں ظرفِ لغو،
ظرفِ لغو، لام، غین، واؤ، لغوٌ،
اور اگر جار مجرور کا متعلق محذوف نکالنا پڑے تو اس کو کہتے ہیں ظرفِ مستقر،
را مشدد ہے، مستقرٌ،
اس کو کیا کہتے ہیں؟ ظرفِ مستقر۔
اچھا بھئی، اب دیکھیے بھئی شرح میں آئیے، "قوله بالتصديق" مصنف کا قول "بالتصديق"، دیکھو یہ متن میں دیکھو "بالتصديق"، یہ جار مجرور ہے۔
اب یہ کس سے جڑے گا؟
تو پیچھے لفظ آیا تھا "سعدوا"، فعل آیا، شارح آپ کو بتائیں گے، یہ "سعدوا" کے ساتھ جڑے گا۔
وہ صحابہ جو کامیاب ہوئے،
"بالتصديق"، یہ با سببیہ ہے، "أي بسبب التصديق"، تصدیق کی وجہ سے،
وہ صحابہ جو کامیاب ہوئے، نیک بخت ہوئے، کس وجہ سے؟ تصدیق یعنی ایمان لانے کی وجہ سے کہ وہ کس پر ایمان لائے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اور ان کی لائی ہوئی باتوں پر ایمان لائے، اس لیے کامیاب ہو گئے بھئی۔
تو یہی بیان کر رہے ہیں "قوله"، اب دیکھیے شرح میں، "قوله بالتصديق" مصنف کا قول "بالتصديق" کہتے ہیں "متعلق بقوله سعدوا"، یہ متعلق ہے مصنف کے قول "سعدوا" کے ساتھ، یعنی "سعدوا" فعل کے ساتھ متعلق ہے، دیکھا، آٹھ چیزوں سے متعلق ہوتا ہے نا؟ اور ان آٹھ میں سے ایک پہلا کیا ذکر تھا؟ فعل، تو "سعدوا" بھی فعل ہے، یہ اسی سے جڑ گئے۔
تو کہتے ہیں "متعلق بقوله سعدوا أي بسبب التصديق"،
دیکھا، "بالتصديق" کی جگہ کیا کہہ دیا؟ معنی بیان کر رہے ہیں، "أي" آتا ہے نا، "أي" معنی اور تفسیر بیان کرنے کے لیے آتا ہے، "أي"، اس کا ترجمہ کریں گے یعنی، یعنی، "أي بسبب التصديق"، یعنی تصدیق کی وجہ سے "والإيمان"، اور
ایمان کی وجہ سے، دیکھو،
"بالتصديق"
درمیان میں کیا لفظ بڑھا دیا؟
سبب کو، "بسبب التصديق"، بتلا دیا کہ یہ با سببیہ ہے،
با، یہ با مختلف معانی کے لیے عربی میں استعمال ہوتی ہے، تو یہاں بتلا دیا، یہ سبب کے معنی میں ہے، یعنی یہ وجہ بیان کی جا رہی ہے، وہ نیک بخت ہوئے کس وجہ سے؟ وجہ کیا تھی؟ "بالتصديق"، تصدیق کی اور ایمان لانے کی وجہ سے۔
تو کہتے ہیں "بسبب التصديق"، تصدیق کی وجہ سے "والإيمان"، اور ایمان،
اور ایمان لانے کی وجہ سے، بھئی دیکھو، تصدیق کے بعد واؤ عاطفہ ہے اور اس کے بعد لفظِ ایمان ہے، تو ایمان کا عطف ہو رہا ہے تصدیق پر، تصدیق ہوا معطوف علیہ، توجہ ہے؟ جو پہلے آتا ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ معطوف علیہ، اور جو واؤ کے بعد آئے اس کو کیا کہتے ہیں؟ معطوف،
اور یاد رکھو عطف مغایرت کو چاہتا ہے،
عطف
کہ معطوف اور معطوف علیہ ایک دوسرے سے الگ ہونے چاہئیں، تبھی آپ بیچ میں واؤ لائے نا، مثلاً میں کہتا ہوں میرے پاس زید
اور عمر آیا،
میرے پاس
زید اور عمر آیا، یہ درمیان میں "اور" کا لفظ بتا رہا ہے کہ زید کسی اور کا نام ہے، عمر کسی اور کا نام ہے، یہ بیچ میں لفظِ "اور" بتلا رہا ہے کہ یہ دونوں الگ الگ ہیں، تو عربی میں "اور" کے لیے کیا آتا ہے؟ واؤ، تو یہ واؤ بتلا رہا ہے، تو یہ واؤ بتلاتا ہے کہ معطوف علیہ اور معطوف ایک دوسرے سے غیر ہیں، الگ الگ چیزیں ہیں،
تو اس کو یوں کہتے ہیں کہ عطف مغایرت کا تقاضا کرتا ہے۔
عطف مغایرت، وہی بابِ مفاعلہ آگیا،
بابِ مفاعلہ فعل کو جانبین سے چاہتا ہے، تو عطف کس کا تقاضا کرتا ہے؟ مغایرت کا، یعنی معطوف علیہ معطوف سے غیر ہو، اور معطوف معطوف علیہ سے غیر، دونوں طرف سے کر لو نا، پہلے کون ہے؟ معطوف علیہ، وہ غیر ہے کس سے؟
معطوف سے،
اب ذرا معطوف کی طرف آجاؤ، معطوف غیر ہے کس سے؟
معطوف علیہ سے، تو دیکھو یہ عطف جو ہے یہ مغایرت کا تقاضا کرتا ہے کہ معطوف اور معطوف علیہ باہم ایک دوسرے سے غیر ہیں، الگ ہیں۔
لیکن یہاں میں نے آپ کو اوپر بتلایا تھا متن میں "بالتصديق"، تصدیق کا کیا معنی کیا؟
ایمان، ایمان، تو یاد رکھو، یہاں یہ عطف مغایرت کے لیے نہیں ہے، کبھی کبھار عطف کرتے ہیں اور عطف کے ذریعے ماقبل کا معنی بیان کیا جاتا ہے، اس کو کہتے ہیں عطفِ تفسیری،
کیا کہتے ہیں؟ تصدیق کا کیا معنی تھا؟
ایمان، وہی ایمان آگے لا کر بتلا دیا کہ تصدیق کا کیا معنی ہے؟ ایمان ہے، تو کیا تو عطف کیا،
لیکن یہ وہ مغایرت والا عطف نہیں ہے بلکہ یہ کیا کیا جا رہا ہے؟ اسی تصدیق کا معنی بیان کیا جا رہا ہے، اسی کی تفسیر بیان کی جا رہی ہے، تفسیر کا مطلب ہوتا ہے معنی، معنی، اس عطف میں کیا کیا جا رہا ہے؟
اسی تصدیق کی تفسیر کی جا رہی ہے، اس کا معنی بیان کیا جا رہا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ عطفِ تفسیری، کیا کہتے ہیں؟ عطفِ تفسیری، جیسے گزشتہ سبق میں آیا تھا،
گزشتہ سبق میں آیا تھا "بدليل أهيل"، "بدليل" دليل مضاف تھا، "أهيل" کیا تھا؟ مضاف علیہ، اور میں نے آپ کو بتلایا تھا
کہ مضاف مضاف علیہ سے غیر ہوتا ہے لیکن یہاں اضافت بیانی ہے۔
اضافت کیا ہے؟ بیانی، یاد ہے یا بھول گئے؟ اضافت بیانی ہے، اضافت بیانی اسے کہتے ہیں کہ مضاف
مضاف سے کیا مراد ہے؟
مثلاً "بدليل" آیا، دلیل لفظ آیا، کیا دلیل ہے؟ آگے "أهيل"، اس نے اس دلیل کو بیان کر دیا کہ کیا دلیل کیا ہے وہ؟ یہ "أهيل"، یہ تصغیر دلیل ہے،
یہ تصغیر کیا ہے؟ دلیل، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ اضافتِ بیانی،
تو یہ "أهيل" کیا کر رہا ہے؟ اسی دلیل کو بیان کر رہا ہے، اسی کو بتلا رہا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ اضافتِ بیانی۔
بات یاد رہے گی؟ کبھی عطف آتا ہے ماقبل کا معنی بیان کرنے کے لیے، اس کی تفسیر بیان کرنے کے لیے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ عطفِ تفسیری، اس میں آپ خود غور کر لینا، جو ماقبل کا معنی ہوگا وہی آگے ذکر ہو رہا ہوگا۔
تصدیق ذرا مشکل لفظ تھا، آگے ایمان، ایمان کو تو ہر شخص جانتا ہے، اس کے ساتھ اس کا معنی کر دیا کہ تصدیق سے کیا مراد ہے؟ ایمان مراد ہے، اور اوپر بتلایا تھا کہ آل کی اصل کیا ہے؟ اہل، "بدليل أهيل"، دلیل کی وجہ سے، اور وہ دلیل کیا ہے؟
أهيل ہے، یہ تصغیر أهيل آرہی ہے اس کی، یہ دلیل ہے۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ اضافتِ بیانی، اور یہ "بسبب التصديق والإيمان" یہ کون سا عطف ہے؟ عطفِ تفسیری ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں "أي بسبب التصديق والإيمان"، یعنی تصدیق اور ایمان لانے کی وجہ سے، بھئی کس چیز کی تصدیق؟ کس چیز پر ایمان؟ خود بیان کر رہے ہیں "بما جاء به النبي عليه الصلاة والسلام"،
"ما"، وہ چیز، "جاء"، "جاء" کا معنی آنا، لیکن اس کے ساتھ با آجائے تو با اس کو متعدی بنا دیتی ہے اور معنی ہوتا ہے لانا۔
"بما"، وہ چیز "جاء به" کہ جس کو لے کر آئے "النبي عليه السلام" حضور صلی اللہ علیہ وسلم، تو یعنی وہ صحابہ نیک بخت ہوئے
تصدیق اور ایمان لانے کی وجہ سے اس چیز پر جس کو حضور علیہ السلام لے کر آئے۔
تصدیق اور ایمان لے کر آئے "بما جاء به النبي عليه السلام"،
تصدیق اور ایمان اس چیز پر جس کو
جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے،
یعنی
جو احکامِ شریعت لے کر آئے، ان سب پر، ان سب کی تصدیق کی، ان پر ایمان لے کر ائے۔
"قوله وسعدوا في معارج الحق"، مصنف کا قول "وسعدوا في معارج الحق"، میں نے کیا ترجمہ کیا تھا؟
اور وہ صحابہ چڑھ گئے "في معارج الحق" حق کی تمام سیڑھیوں پر "بالتحقيق" یقینی طور پر، ترجمے پہ نظر ہے اوپر متن میں؟ "وسعدوا في معارج الحق" اور وہ صحابہ چڑھ گئے "في معارج الحق" حق کی تمام سیڑھیوں پر "بالتحقيق" یقینی طور پر، یعنی ان کا حق کی تمام سیڑھیوں پر چڑھنا یقینی ہے، اس میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں۔
اچھا بھئی، سوال پیدا ہوتا ہے
"في معارج الحق"، اس کا معنی آپ نے کیا کیا؟
کہ تمام حق کی تمام سیڑھیوں پر چڑھ گئے، بھئی یہ تمام کا لفظ آپ کہاں سے لے آئے؟
یوں ترجمہ کریں نا، وہ چڑھ گئے حق کی سیڑھیوں پر، لیکن آپ کیا ترجمے میں ترجمہ کیا کر رہے ہیں؟ حق کی تمام سیڑھیوں پر چڑھ گئے، یہ تمام کا لفظ تو لفظ متن میں نہیں ہے، یہ ترجمے میں کہاں سے آپ لے آئے؟ تو ایک ضابطہ یاد رکھنا، یاد رکھو جب جمع کی اضافت ہو جائے معرف باللام کی طرف،
معارج، یہ جمع ہے یا نہیں؟ معراج کی جمع ہے، اس کی جمع اضافت ہو رہی ہے "الحق"، ایک ایسے لفظ کی طرف جو معرف باللام ہے جس پر کیا داخل ہے؟ الف لام داخل ہے، تو جب جمع کی اضافت ہو جائے معرف باللام کی طرف تو وہ استغراق کا فائدہ دیتا ہے۔
کس کا؟ استغراق، کیا معنی استغراق؟ تمام افراد کا احاطہ کر لیتا ہے۔
تو "معارج الحق"، کیا معنی؟
مضاف کے تمام افراد لے آؤ نا،
تو کیا معنی ہوا؟
حق کی تمام، حق کی تمام سیڑھیاں، دیکھا، یہ اس نے استغراق کا احاطہ کر لیا۔
تو بعضوں نے علماء نے یہ ضابطہ اسی طرح لکھا کہ جب جمع کی اضافت معرف باللام کی طرف ہو تو یہ استغراق کا فائدہ دیتی ہے، تو وہ صحابہ چڑھ گئے حق کی تمام سیڑھیوں پر، جبکہ بعض شارحین نے مطلقاً لکھا ہے کہ جب بھی جمع کی اضافت ہو، جمع مضاف بنے تو وہ استغراق کا فائدہ دیتا ہے۔
جبکہ بعضوں نے کہا کہ آگے معرف باللام ہو تو پھر وہ استغراق کا فائدہ دے گا، تو اگر اس ضابطے کے مطابق دیکھا جائے تو ماقبل میں بھی پھر ترجمہ تھوڑا بدلنا پڑے گا، "وأصحابه الذين سعدوا" اور وہ صحابہ جو نیک بخت ہوئے "في مناهج الصدق"، دیکھا یہاں پھر وہی ضابطہ لگے گا۔
مناہج جمع ہے منہج، اور یہ کسے کہتے ہیں؟ راستے کو، واضح راستے کو۔
تو کیا ترجمہ کریں گے؟ وہ صحابہ جو نیک بخت ہوئے "في مناهج الصدق"
مضاف کے ساتھ تمام لاؤ، مضاف علیہ کے ساتھ نہیں،
سچائی کے تمام راستوں، سچائی کے تمام راستوں میں،
تو مضاف کے تمام افراد آئیں گے، مضاف علیہ کے نہیں، صحابہ جو نیک بخت ہوئے "في مناهج الصدق" سچائی کے تمام راستوں میں "بالتصديق" ایمان لانے کی وجہ سے، "وسعدوا في معارج الحق" اور وہ چڑھ گئے حق کی تمام سیڑھیوں پر "بالتحقيق"، اور یہ بات یقینی ہے۔
اب دیکھیے، آئیے شرح پر، "قوله وسعدوا في معارج الحق"، مصنف کا قول "وسعدوا في معارج الحق"، "يعني"، ترجمہ کرنے لگے ہیں شارح،
ترجمہ سنو، "يعني بلغوا"، وہ صحابہ پہنچ گئے،
بلوغ کا کیا معنی؟ پہنچنا، "بلغوا"، وہ صحابہ پہنچ گئے "أقصى مراتب الحق"، حق کے آخری درجوں کو، اقصی کہتے ہیں دور کا، آخری،
"مراتب الحق"، حق کے مرتبے۔ وہ صحابہ "بلغوا"، پہنچ گئے، کہاں پہنچ گئے؟
"أقصى مراتب الحق"، حق کے آخری درجوں کو پہنچ گئے،
ترجمے پہ نظر ہے؟ شارح، ماتن نے کیا کہا تھا؟ صحابہ حق کی تمام سیڑھیوں پر چڑھ گئے، اور شارح ترجمہ کیا کر رہے ہیں؟
"بلغوا أقصى مراتب الحق"، صحابہ
حق کے
حق کے مرتبوں کے
آخری درجے کو پہنچ گئے، توجہ ہے؟ صحابہ پہنچ گئے، کہاں پہنچ گئے؟
حق کے آخری مرتبے، یوں کہو، حق کے آخری مرتبے کو پہنچ گئے صحابہ۔
توجہ ہے؟ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ماتن نے تو یہ نہیں کہا
کہ آخری مرتبے کو پہنچ گئے،
ماتن نے کوئی کہا آخری مرتبے کو پہنچ گئے صحابہ؟ نہیں، ماتن نے تو صرف یہ کہا وہ حق کی تمام سیڑھیوں پر چڑھ گئے،
تو شارح آپ کو بتلائیں گے، بھئی جب تمام سیڑھیوں پر چڑھ گئے تو آخری مرتبے کو پہنچ گئے یا نہیں پہنچ گئے؟ تو تمام سیڑھیوں پر چڑھنے کے ساتھ لازم ہے
کہ وہ کہاں پہنچ گئے؟
آخری مرتبے کو پہنچ گئے،
اگر
تمام پر نہیں چڑھے تو پھر تو آخری مرتبے کو بھی نہیں پہنچے، اور اگر آپ کہتے ہیں کہ وہ تمام سیڑھیوں پر چڑھ گئے ہیں تو معلوم ہوا وہ آخری مرتبے کو بھی پہنچ گئے ہیں، تو یہ ترجمہ
ترجمہ کیا لازم کے ساتھ،
کس کے ساتھ؟ لازم کے ساتھ، ترجمہ تو یہ تھا حق کی ساری سیڑھیوں پر چڑھ گئے، لیکن ساری سیڑھیوں پر چڑھنے کے ساتھ لازم ہے، کیا؟
کہ وہ آخری مرتبے کو پہنچ گئے، جب آخری مرتبہ جب ساری سیڑھیوں پر چڑھے ہیں تو اس کا مطلب ہے آخری مرتبے کو پہنچ گئے، اگر ساری پر نہیں چڑھے تو پھر آخری مرتبے کو بھی نہیں پہنچے، تو ساری سیڑھیوں پر چڑھنے کے ساتھ کیا لازم؟
آخری مرتبے کو پہنچنا، ترجمہ لازم کے ساتھ کر دیا کہ جب ساری سیڑھیوں پر چڑھ گئے تو معلوم ہوا آخری مرتبے کو بھی پہنچ گئے، جیسے سورج کے نکلنے کے ساتھ دن کا ہونا لازم ہے، سورج نکلے گا تو دن ضرور ہوگا، اگر دن نہیں ہے تو معلوم ہوا سورج بھی نہیں نکلا، بات سمجھ میں آگئی؟
اچھی طرح سب کو؟ تو یہ ترجمہ کس کے ساتھ کیا؟ لازم کے ساتھ۔
"يعني بلغوا أقصى مراتب الحق"، یعنی صحابہ پہنچ گئے حق کے آخری مرتبوں کو،
"فإن الصعود على جميع مراتبه"، اس لیے کیونکہ چڑھنا "على جميع مراتبه" حق کے سارے مرتبوں پر
چڑھنا "يستلزم ذلك"، اس کے ساتھ یہ لازم ہے، حق کے ساری سیڑھیوں پر چڑھنے کے ساتھ یہ
کیا لازم ہے؟
حق کے آخری کنارے کو پہنچنا لازم ہے بھئی۔
اچھی طرح ترجمہ سمجھ میں آگئی؟
پھر دیکھ لو،
مصنف کا قول "وسعدوا في معارج الحق يعني بلغوا أقصى مراتب الحق"، یعنی وہ صحابہ پہنچ گئے حق کے آخری مرتبوں کو "فإن الصعود على جميع مراتبه"، اس لیے کیونکہ چڑھ جانا حق کے تمام مرتبوں پر "يستلزم ذلك"، اس کے ساتھ یہ لازم ہے، کیا لازم ہے؟ آخری کناروں کو پہنچنا اس کے ساتھ لازم ہے۔
"قوله بالتحقيق"، اوپر متن میں کیا آیا تھا؟ "بالتحقيق"۔
تو کہتے ہیں "ظرف لغو متعلق بسعدوا"، یا تو یہ ظرفِ لغو ہے اور متعلق ہے کس کے ساتھ؟ "صعدوا" جو فعل آیا،
متن پہ نظر رکھو،
متن میں کیا آیا؟ "بالتحقيق"، یہ جار مجرور ہے، جار مجرور کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ کوئی متعلق چاہیے، تو یہ کس کے ساتھ متعلق ہو رہے ہیں؟ شارح آپ کو بتلا رہے ہیں کہ یہ "بالتحقيق" متعلق ہے
"وسعدوا في معارج الحق"، یہ جو "صعدوا" ہے نا یہ اس کے ساتھ متعلق ہے۔
اور جب یہ متعلق ہے "صعدوا" کے ساتھ، تو "صعدوا" تو عبارت میں ذکر ہے، اور جار مجرور کا متعلق اگر عبارت میں ذکر ہو تو اسے کیا کہتے ہیں؟
ظرفِ لغو، اسی لیے یہ کہا "بالتحقيق" ظرفِ
لغو ہے اور متعلق کس سے ہے؟ "صعدوا" سے،
یا دوسری ترکیب یہ بتلائیں گے
کہ یہ "بالتحقيق"، اس کو خبر بناؤ اور مبتدا محذوف ہے،
"أي هذا الحكم بالتحقيق"، یا یوں کہو "هذا الخبر بالتحقيق"، یہ والی جو بات ہے،
کون سی بات؟
کہ صحابہ حق کی تمام سیڑھیوں پر چڑھ گئے،
یہ والی جو "هذا الخبر" یا "هذا الحكم بالتحقيق"، یقینی ہے،
تو "هذا الخبر"، یہ موصوف صفت ہیں، ان کو کیا بناؤ؟ مبتدا، اور "بالتحقيق" کو کیا بناؤ؟ خبر، تو دو ترکیبیں آگئیں، ایک ترکیب کیا؟ "بالتحقيق" کو کس سے جوڑ دو؟
"صعدوا" کے ساتھ، یہ کیا بن جائے گا؟ ظرفِ لغو، دوسری ترکیب کیا؟ کہ "بالتحقيق" کو کیا بناؤ؟ خبر، اور اس کے لیے مبتدا محذوف کیا نکالو؟
"هذا الخبر" یا "هذا الحكم"، "هذا" موصوف، "الحكم" صفت، موصوف صفت مل کر مبتدا، اور "بالتحقيق" اس کی خبر، اور "بالتحقيق" کیا ہے؟
جار مجرور، اور اس کے لیے متعلق محذوف نکالنا پڑے گا، کیونکہ جار مجرور ہمیشہ کسی سے کیا ہوتے ہیں؟ متعلق، تو یہاں کیا نکال لیں گے؟
"ثابتٌ"، "هذا الحكم ثابتٌ بالتحقيق"، تو جار مجرور کس سے متعلق؟ "ثابتٌ" سے، اور "ثابتٌ" عبارت میں ذکر آیا یا محذوف نکالا؟ محذوف نکالا، تو یہ کون سا ظرف ہوا؟
ظرفِ مستقر، "بالتحقيق" کیا ہوا؟ ظرفِ مستقر، تو دو ترکیبیں بتا دیں، ایک تو یہ کہ "بالتحقيق" کو جوڑو "صعدوا" کے ساتھ تو یہ ظرفِ لغو، اور دوسری ترکیب یہ کہ "بالتحقيق" کو کیا کرو؟
خبر بناؤ، اور یہ کیا بنے گا؟ ظرفِ مستقر بنے گا۔
اور یاد رکھو جار مجرور جس سے جڑتا ہے تو اسی کے مطابق معنی بھی ہوگا، جار مجرور کا متعلق بدلے گا تو معنی بھی بدل جائے گا،
جار مجرور کا متعلق بدلے گا تو معنی بھی بدل جائے گا۔
پہلی ترکیب سنو بھئی، یہ بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں "قوله بالتحقيق"، مصنف کا قول "بالتحقيق"، "ظرف لغو متعلق بسعدوا كما مر"، یہ کیا ہے؟ ظرفِ لغو ہے "متعلق بسعدوا"، کس کے ساتھ متعلق ہے؟ "صعدوا" کے ساتھ "كما مر"، جیسے کہ گزر گیا،
جیسے کہ بات گزر گئی، کہاں گزری؟
بھئی وہ جو "بالتصديق" میں بتایا تھا کہ "بالتصديق" کس سے متعلق ہے؟
وہ "صعدوا" کے ساتھ متعلق ہے، اور با کون سی ہے؟ سببیہ، تو اس صورت میں یہاں پر بھی جب "بالتحقيق" کو کس سے جوڑا؟
"بالتحقيق" کو کس سے جوڑا؟ "صعدوا في معارج الحق" والے "صعدوا" کے ساتھ جوڑا، تو
با سببیہ، اور وہ صحابہ چڑھ گئے "في معارج الحق" حق کی تمام سیڑھیوں میں،
حق کی تمام سیڑھیوں پر چڑھ گئے "بسبب التحقيق"، تحقیق کی وجہ سے۔
یاد رکھیے، جب اس با کو سببیہ بنایا اور متعلق کیا "صعدوا" کے ساتھ، تو اس صورت میں تحقیق کا معنی ہوگا
یقین کرنے کے، اس کا کیا معنی ہے؟ یقین کرنا، یعنی وہی جو گزر گیا، ایمان لانا۔
اس صورت میں تحقیق کا معنی ہے
یقین کر لینا یعنی ایمان لانا،
یعنی وہی جو معنی ہے جو تصدیق کا تھا، تصدیق کا تھا۔
صحابہ چڑھ گئے حق کی تمام سیڑھیوں پر "بسبب التحقيق"، یقین کرنے کی وجہ سے،
کون سا یقین؟ یعنی کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا انہوں نے یقین کر لیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو تسلیم کر لیا، اس پر ایمان لے آئے، سمجھ میں آیا بھئی؟
تو تحقیق کا کیا معنی؟
یقین کرنے کے، یعنی یقین کر لینا کس پر؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر، یعنی یقین کر لینا یعنی ایمان لے آنا، تو تحقیق کا وہی معنی ہے جو کس کا تھا؟
تصدیق کا، تصدیق کا معنی کیا تھا؟ ایمان لانا، اور یہاں بھی تحقیق کا معنی بھی کیا ہے؟ ایمان لانا، تو معنی کیا ہوا؟ "وسعدوا في معارج الحق"، اور وہ صحابہ چڑھ گئے حق کی تمام سیڑھیوں پر "بسبب التحقيق"، ایمان لانے کے سبب سے، ایمان لانے کی وجہ سے۔
با کو سببیہ بنایا اور "التحقيق" کو کس سے متعلق کیا؟
"صعدوا" جو صاد کے ساتھ ہے اس کے ساتھ جوڑا، اور اس صورت میں تحقیق کا کیا معنی ہے؟
ایمان لانا، ایمان لانے کی وجہ سے، ایمان، بھئی اس کا معنی ہے ایمان بھئی، اور وہ چڑھ گئے حق کی تمام سیڑھیوں پر ایمان لانے کی وجہ سے۔
یہ ایک
ترجمہ تھا جبکہ "بالتحقيق" کو کس سے جوڑیں؟ "صعدوا"، دوسری ترکیب ہم نے کیا کی؟
اس کو خبر بناؤ، کس کے لیے؟ مبتدائے محذوف، اور وہ کیا ہے؟ "هذا الخبر" یا "هذا الحكم"،
وہ موصوف صفت مل کر مبتدا، اور "بالتحقيق" اس کے لیے خبر، اور خبر براہ راست بنے گی یا اس کے لیے متعلق نکالیں گے؟ متعلق نکالیں گے، "هذا الحكم"، یہ والا جو حکم ہے، کون سا حکم؟
یہ جو ابھی ہم نے پیچھے بیان کیا کہ صحابہ حق کی تمام سیڑھیوں پر چڑھ گئے،
یا "هذا الخبر"، یہ والی خبر جو ابھی ہم نے پیچھے ذکر کی کہ صحابہ حق کی تمام سیڑھیوں پر چڑھ گئے، یہ خبر "بالتحقيق" یقینی ہے،
یہ کیا ہے؟ "ثابتٌ بالتحقيق"، ثابت ہے تحقیق کے ساتھ یعنی یقینی ہے،
تو اب یہ کیا بن گیا؟ ظرفِ مستقر، دیکھیے شرح میں آگے، "أو مستقرٌ"، یعنی "ظرفٌ مستقرٌ"، یا یہ ظرفِ مستقر ہے،
"خبر مبتدإ محذوف"، خبر ہے کس کی؟ مبتدائے محذوف کی، "أي هذا الحكم متلبس بالتحقيق"، میں نے کیا بتلایا تھا؟
"هذا الحكم ثابتٌ بالتحقيق"،
بات سمجھ میں آگئی؟ تو اب ایک ہی بات ہے، آپ چاہے "ثابتٌ" نکالیں، چاہے "متلبسٌ"، متلبس کا معنی ہے ملے ہونا، جڑے ہونا،
متلبس کا کیا معنی ہے؟ جڑا ہوا ہو، ملا ہوا ہو، تو کیا معنی؟ "هذا الحكم"، یہ جو حکم ابھی ہم نے بیان کیا، کون سا حکم؟
کہ صحابہ حق کی تمام سیڑھیوں پر چڑھ گئے، یہ "متلبسٌ بالتحقيق"، یہ جڑا ہوا ہے کس کے ساتھ؟ تحقیق کے ساتھ، یعنی یقینی ہے، "أي متحققٌ"، یعنی کہ
ثابت ہے، خود معنی بیان کر دیا،
تحقیق کے ساتھ جڑا ہوا ہے، کیا معنی؟ "أي متحققٌ"، کہ یہ ثابت ہے۔
تو آپ چاہے "ثابتٌ" نکال لیں، چاہے ان کا یہ انہوں نے نکالا "متلبسٌ"، کیونکہ آپ نے پڑھا ہے جار مجرور کا
متعلق
افعالِ عامہ میں سے بھی نکال سکتے ہیں اور افعالِ خاصہ میں سے بھی، افعالِ عامہ
مشہور چار ہیں، کون؟ ثبوت، وجود، حصول،
تو آپ کوئی بھی یہاں نکال سکتے ہیں، "هذا الحكم كائنٌ بالتحقيق"، "هذا الحكم ثابتٌ بالتحقيق"، "هذا الحكم حاصلٌ بالتحقيق"،
اور "هذا الحكم موجودٌ بالتحقيق"، صورت سمجھ میں آگئی؟
اور چاہیں تو متلبس نکال لیں، یہ بھی عام افعالِ عامہ میں سے ہے،
اچھا، تو یہ حکم جو ہے "متلبسٌ بالتحقيق"، یہ جڑا ہوا ہے تحقیق کے ساتھ "أي متحققٌ"، یعنی ثابت ہے،
یعنی یقینی ہے، متحقق ہے یعنی یقینی ہے، ثابت ہے، اس میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں،
اچھی طرح بات سمجھ میں آگئی؟ پھر یہ آخر میں ترجمہ دیکھ لیں، "قوله بالتحقيق" مصنف کا قول "بالتحقيق" کہتے ہیں "ظرف لغو متعلق بسعدوا كما مر"، یا تو یہ ظرفِ لغو ہے جو متعلق ہے "صعدوا" کے ساتھ جیسے کہ بات گزر گئی، "أو مستقرٌ"، یا یہ ظرفِ مستقر ہے، "خبر مبتدإ محذوف"، یہ خبر ہے مبتدائے محذوف کی، "أي هذا الحكم متلبس بالتحقيق"، کہ یہ حکم جڑا ہوا ہے تحقیق کے ساتھ، یہ حکم ملا ہوا ہے تحقیق کے ساتھ، "أي متحققٌ"، یعنی ثابت ہے، یقینی ہے، جو بھی ترجمہ آپ کر لیں، متحقق کا معنی ثابت ہے یا متحقق کا معنی یقینی ہے۔
حاصلِ کلام یہ ہوا
کہ "وسعدوا في معارج الحق بالتحقيق"، یہاں "بالتحقيق" کے دو مان تركيبیں ذکر کیں، ایک ترکیب یہ کہ "بالتحقيق أي بسبب التحقيق"، با کو سببیہ بناؤ اور اس کو جوڑ دو کس کے ساتھ؟ "صعدوا" کے ساتھ، اس صورت میں یہ ظرف ظرفِ لغو ہوا اور اس صورت میں تحقیق کا معنی ہے ایمان لانے کے،
ایمان لانے اور یقین کرنے کے، اور صحابہ حق کی تمام سیڑھیوں پر چڑھ گئے "بسبب التحقيق"، حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی وجہ سے۔
اور دوسری دوسرا معنی "بالتحقيق"، اگر اس کو خبر بناؤ "أي هذا الحكم ثابتٌ بالتحقيق" یا "هذا الحكم متلبسٌ بالتحقيق"، اس صورت میں تحقیق کا معنی ہے یقینی بھئی، ثابت ہے، "هذا الحكم"، یہ جو بات ہم نے کی، کون سی بات؟ کہ صحابہ حق کی تمام سیڑھیوں پر چڑھ گئے، "بالتحقيق"، یہ بات کیا ہے؟ یقینی ہے، ثابت ہے، متحقق ہے، اس میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہے بھئی۔
تو یہ یاد رکھنا بھئی، یہ ایک تو اضافتِ بیانی،
اضافتِ بیانی کسے کہتے ہیں؟
کہ مضاف علیہ بیان کرتا ہے کس کا؟ مضاف کا،
مضاف کا، مضاف علیہ بیان کرتا ہے کس کا؟ مضاف کا، اور ایک ہے عطفِ تفسیری،
جس میں معطوف
بیان کرتا ہے کس کو؟ معطوف علیہ کو بھئی،
ہاں، یہ لکھ لو، لکھ لو، جلدی لکھ لو۔
اضافتِ بیانی
جس میں مضاف علیہ
اضافتِ بیانی وہ ہے جس میں
مضاف علیہ
بیان کرتا ہے
مضاف کا،
جس میں مضاف علیہ بیان کرتا ہے مضاف کا۔
اور دوسرا لکھو عطفِ تفسیری، عطفِ تفسیری وہ ہے
عطفِ تفسیری وہ ہے
جس میں معطوف
جس میں معطوف
یعنی بعد میں آنے والا
یعنی بعد میں آنے والا
تفسیر بیان کرتا ہے
اور معنی بیان کرتا ہے
اور معنی بیان کرتا ہے
معطوف علیہ کا،
معطوف علیہ کا،
یعنی جو پہلے آیا ہے،
یعنی جو پہلے آیا ہے۔
آسان لفظوں میں، میں نے تو بڑی تفصیل کے ساتھ لکھوا دیا نا، معطوف وہ ہے جو بعد میں آتا ہے، اور معطوف علیہ وہ ہے جو پہلے، بس آپ کو تو پتہ ہے، معطوف علیہ کسے کہتے ہیں؟ جو واؤ سے پہلے آیا، اور معطوف کسے کہتے ہیں؟ جو واؤ کے بعد آیا، تو معطوف جو ہے یعنی بعد میں آنے والا وہ کیا کرتا ہے؟
معطوف علیہ کا معنی بیان کرتا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ عطفِ تفسیری، اور یہ جگہ جگہ آپ کو کتابوں کے اندر ملے گا
کہ عطف کے ساتھ معنی ذکر کر دیا جاتا ہے ایک لفظ کا بھئی۔
چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔