Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح التهذيب · dars-020

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Noman Ahmad
📍 Location Peshawar, Pakistan
📅 Approved Date 05 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 15
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
دیکھیے بھئی، پہلے متن دیکھ لیجیے۔ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ الَّذِينَ سَعِدُوا فِي مَنَاهِجِ الصِّدْقِ بِالتَّصْدِيقِ وَصَعِدُوا فِي مَعَارِجِ الْحَقِّ بِالتَّحْقِيقِ۔ گزشتہ اسباق میں متن چل رہا تھا کہ: وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى مَنْ أَرْسَلَهُ هُدًى، کہ رحمت اور سلامتی ہو اس ذات پر جس کو اللہ نے ہدایت بنا کر بھیجا، وَهُوَ بِالاهْتِدَاءِ حَقِيقٌ، اور وہ اس لائق ہے کہ اس سے ہدایت حاصل کی جائے، وَنُورًا بِهِ الاِقْتِدَاءُ يَلِيقُ، جس کو اللہ نے ایسا نور بنا کر بھیجا کہ ہم انہی کی پیروی کریں، یہ ہمارے مناسب ہے۔ وَعَلَى آلِهِ، تو آگے آل کا لفظ آ رہا ہے۔ آلِهِ، اور ان کی آل پر۔ اور رحمت اور سلامتی ہو عَلَى آلِهِ، عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ضمیر راجع، جہاں پیچھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر آیا تھا، مَنْ أَرْسَلَهُ۔ وہ ذات جس کو اللہ نے بھیجا، تو یہ ضمیر اسی کو راجع جس کو اللہ نے بھیجا، یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم۔ اب آل کسے کہتے ہیں؟ تو یاد رکھیے، اس میں علماء کے کئی اقوال ہیں۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ آلِ نبی، آلِ محمد سے مراد جو ہیں، وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات ہیں، آپ کی بیویاں، یعنی امہات المؤمنین مراد ہیں بھئی۔ ایک قول یہ ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ آلِ محمد سے مراد جو ہیں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہم مراد ہیں۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ آلِ محمد سے مراد بنو عبد المطلب میں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ دار ہیں۔ عبد المطلب حضور کے دادا تھے۔ یعنی دادا سے نیچے نیچے جو حضور کے قریبی رشتہ دار ہیں، وہ کیا ہیں؟ آلِ محمد، آلِ نبی۔ جبکہ بعضوں نے کہا کہ بنو عبد المطلب نہیں، بلکہ بنو ہاشم۔ ہاشم یہ عبد المطلب سے اوپر حضور کے ایک دادا گزرے ہیں بھئی۔ تو ان کی جو اولاد ہے، وہ قریبی رشتہ دار حضور علیہ السلام کے۔ دادا قریب ہوئے تو اس میں تھوڑے لوگ آئیں گے، اور جتنا اوپر جائیں گے خاندان پھیلتا جائے گا یا نہیں؟ جتنی پشتیں بڑھ جائیں گی نیچے اتنا ہی پھیل جائے گا۔ تو بعضوں نے کہا کہ بنو عبد المطلب کے اندر حضور کے جو قریبی رشتہ دار ہیں، وہ مراد ہیں آلِ نبی سے۔ جبکہ بعضوں نے کہا بنو عبد المطلب نہیں، بلکہ بنو ہاشم کے اندر جو قریبی رشتہ دار ہیں، تو اس میں دیکھو تعداد بڑھ گئی رشتہ داروں کی، کیونکہ ہاشم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پردادا کا نام۔ جبکہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ آلِ محمد سے مراد جو ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین ہیں، جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے والے ہیں، یعنی تمام مسلمان۔ تمام مسلمان جو دینِ اسلام پر ہیں، وہ سب چاہے وہ نیک ہو، چاہے گناہگار ہو، یہ سب کس میں داخل ہیں؟ آلِ محمد میں۔ جبکہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ تمام مسلمان نہیں، بلکہ متقی مسلمان، متقی مومنین مراد ہیں بھئی۔ اور ہر ایک کی اپنی، ہر ایک کے اپنے دلائل بھی ہیں بھئی۔ جیسے کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: مَنْ آلُ مُحَمَّدٍ؟ آلِ محمد کون ہیں؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كُلُّ تَقِيٍّ، ہر متقی۔ آلِ محمد کون ہیں؟ ہر متقی، یعنی ہر متقی مسلمان ہے۔ جبکہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ متقی مومنین نہیں، بلکہ آلِ محمد سے مراد جو ہیں وہ علماء ہیں، اہل ایمان میں سے جو علماء ہیں، تو وہ مراد ہیں آلِ محمد سے۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ تمام مسلمان مراد لیں، تو تمام آ گئے۔ متقی مسلمان لیں، تو دائرہ چھوٹا ہو گیا، صرف متقی مومنین رہ گئے، گناہگار نکل گئے۔ اور اگر صرف علماء مراد لیں، تو دائرہ اور چھوٹا ہو گیا، عام متقی مومنین بھی نکل گئے، صرف کون رہ گئے؟ علماء۔ جبکہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ آلِ محمد سے مراد عام علماء بھی نہیں ہیں، بلکہ مجتہدین علماء مراد ہیں، جو اجتہاد کرنے والے ہیں، یعنی ائمہ وغیرہ مراد ہیں، جو خود قرآن و حدیث میں غور کر کے مسائل کو نکالتے ہیں، تو عام علماء نہیں مراد، بلکہ علمائے مجتہدین مراد ہیں بھئی۔ یہ تو میں نے چند اقوال ذکر کیے، اور بھی اقوال ہیں علماء کے۔ آل اور اہل، یہ لفظ ہماری کتابوں میں عام استعمال ہوتا ہے، اس کی اگر آپ نے تفصیل دیکھنی ہو، تو والد صاحب شیخ الحدیث والفسیر حضرت مولانا محمد موسیٰ روحانی بازی رحمہ اللہ تعالیٰ، ان کی اس پر باقاعدہ دو تصانیف ہیں بھئی۔ ایک چھوٹی ہے "لطائف البال فی الفروق بین الاہل والآل"، اور ایک ہے "النہج السہل"، "النہج السہل"، نہج راستے کو کہتے ہیں، "النہج السہل" آسان راستہ، "الی مباحث الآل والاہل"۔ تو وہاں آپ کو ان کی پوری تفصیل مل جائے گی کہ یہ کن کا قول ہے، ان کے دلائل کیا ہیں، اور پوری تفصیل وہاں ہوگی۔ اچھا دیکھیے اب کتاب پر۔ وَعَلَى آلِهِ، اور رحمت اور سلامتی ہو۔ اس کا وَعَلَى آلِهِ کس پر عطف ہے؟ ماقبل میں آیا تھا: عَلَى مَنْ أَرْسَلَهُ، یہ اس پر عطف ہے۔ اور رحمت اور سلامتی ہو وَعَلَى آلِهِ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر، وَأَصْحَابِهِ الَّذِينَ، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ان صحابہ پر الَّذِينَ سَعِدُوا، جو نیک بخت ہوئے، جو کیا ہوئے؟ نیک بخت ہوئے، کامیاب ہوئے، خوش قسمت ہوئے، فِي مَنَاهِجِ الصِّدْقِ، مناہج جمع ہے منہج کی، راستے کو کہتے ہیں، ابھی جیسے گزرا نہج اور منہج۔ تو مناہج الصدق، سچ کے راستے۔ بِالتَّصْدِيقِ، تصدیق کی وجہ سے۔ تصدیق کا معنی ہے ایمان لانا۔ تصدیق کا کیا معنی ہے؟ ایمان لانا، مان لینا۔ یعنی جو کچھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم دعوت لے کر آئے ہیں، اس سارے کی تصدیق کر لینا کہ یہ حق، یہ سچ فرما رہے ہیں، میں اس پر ایمان لاتا ہوں۔ تو تصدیق کسے کہتے ہیں؟ ایمان کو، مان لینا۔ تو رحمت اور سلامتی ہو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر، وَأَصْحَابِهِ الَّذِينَ سَعِدُوا، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ان صحابہ پر سَعِدُوا جو نیک بخت ہوئے، جو خوش قسمت ہوئے فِي مَنَاهِجِ الصِّدْقِ سچائی کے راستوں میں نیک بخت ہوئے، بِالتَّصْدِيقِ، اَیْ بِسَبَبِ التَّصْدِیْقِ، یہ با سببیہ ہے۔ تصدیق کی وجہ سے، وہ نیک بخت کیوں ہوئے سچائی کے راستوں میں؟ تصدیق کی وجہ سے کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تھے۔ اگر ایمان نہ لاتے تو پھر کوئی بھی کامیابی کی صورت نہیں تھی، لیکن وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے کر آئے، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد و نصرت کی، اور اس راستے میں ایسی ایسی قربانیاں دیں کہ انسان سنتا ہے تو حیران رہ جاتا ہے۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ اور رحمت اور سلامتی ہو حضور علیہ السلام کے ان صحابہ پر جو نیک بخت ہوئے سچائی کے راستوں میں، بِالتَّصْدِيقِ ایمان لانے کی وجہ سے، تصدیق کی وجہ سے۔ وَصَعِدُوا فِي مَعَارِجِ الْحَقِّ، صعد صعود کا معنی آتا ہے اوپر چڑھنا۔ معارج جمع ہے معراج کی، یہ سیڑھی کو کہتے ہیں۔ وَصَعِدُوا، اور وہ صحابہ جو چڑھ گئے، یہ صعدوا پر عطف ہے نہ، جو ماقبل میں سعدوا آیا تھا۔ وَصَعِدُوا، اور وہ صحابہ جو کہ چڑھ گئے فِي مَعَارِجِ الْحَقِّ حق کی تمام سیڑھیوں پر، بِالتَّحْقِيقِ یقینی طور پر۔ جو حق کی تمام سیڑھیوں پر چڑھ گئے یقینی طور پر۔ بالتحقیق کا معنی آتا ہے یقینی طور پر۔ یعنی ان کا یہ چڑھنا یقینی ہے، اس میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: زید یقیناً کھڑا ہے، دیکھا؟ کیا معنی؟ میری اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ تو یہاں بھی اسی طرح بالتحقیق کا کیا معنی ہے؟ بالیقین بھئی۔ تو وہ چڑھ گئے حق کی تمام سیڑھیوں پر بالتحقیق یقینی طور پر، یعنی اس میں کسی شک اور شبہے کی گنجائش نہیں۔ یہاں تک ترجمہ سمجھ میں آ گیا؟ پھر ایک دفعہ دیکھ لو: اور رحمت اور سلامتی ہو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر، اور آپ کے ان صحابہ پر جو نیک بخت ہوئے سچائی کے راستوں میں تصدیق کی وجہ سے، ایمان لانے کی وجہ سے، وَصَعِدُوا فِي مَعَارِجِ الْحَقِّ بِالتَّحْقِيقِ، اور وہ چڑھ گئے حق کی تمام سیڑھیوں پر بالتحقیق یقینی طور پر، یعنی ان کا حق کی تمام سیڑھیوں پر چڑھنا یقینی ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ اب آئیے شرح پر۔ قَوْلُهُ: وَعَلَى آلِهِ، مصنف کا قول وعلی آلہ۔ أَصْلُهُ أَهْلٌ بِدَلِيلِ أُهَيْلٍ، شارح آپ کو آل کی اصل بتلا رہے ہیں کہ اصل اس کی کیا تھی؟ اس کا مادہ کیا تھا؟ کہتے ہیں: اَھْلٌ، اس کی اصل اَھْلٌ ہے، یعنی ہمزہ، ہاء اور لام۔ اور دلیل اس کی کیا ہے؟ بِدَلِيلِ أُهَيْلٍ، یہ اضافت بیانیہ ہے۔ وہ دلیل کیا ہے؟ یہ اُہَیل ہے، یہ تصغیر ہے تصغیر۔ بھئی، بات یاد رکھیے، بعض اوقات مضاف علیہ جو آگے آتا ہے نہ، وہ مضاف کا بیان کرتا ہے۔ کیا کرتا ہے؟ غُلَامُ زَیْدٍ، زید کا غلام، یہاں تو بیان نہیں ہو رہا، یہاں تو بتلایا جا رہا ہے کہ غلام منسوب ہے کس کی طرف؟ زید کی طرف، لیکن کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ جو آگے مضاف علیہ ہوتا ہے، وہ مضاف کو بیان کرتا ہے۔ ماقبل میں آیا: بِدَلِیْلِ، دلیل کی وجہ سے، بھئی وہ کون سی دلیل ہے؟ اُہَیل، وہ دلیل کیا ہے؟ اُہَیل، یہ تصغیر کا صیغہ ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ اضافت بیانیہ ہے اور اسی دلیل کا بیان ہو رہا ہے کہ وہ دلیل کیا ہے؟ اُہَیل ہے۔ بھئی، یاد رکھیے، ایک ضابطہ لکھ لیجیے بھئی اپنی کاپیوں پر، یہ آپ کو ہر وقت یاد ہونا چاہیے۔ لکھیے بھئی: اَلتَّصْغِیْرُ وَالتَّکْسِیْرُ یَرُدَّانِ الْأَشْیَاءَ اِلَى أُصُوْلِھَا ضابطہ لکھ لیا؟ اَلتَّصْغِیْرُ وَالتَّکْسِیْرُ یَرُدَّانِ الْأَشْیَاءَ اِلَى أُصُوْلِھَا۔ یہ ایک ہی ضابطے میں میں نے دو ضابطے ذکر کر دیے، چاہیں تو الگ الگ کر دیں: اَلتَّصْغِیْرُ یَرُدُّ الْأَشْیَاءَ اِلَى أُصُوْلِھَا، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اور چاہے اور دوسرا کر دیں: اَلتَّکْسِیْرُ، تو چاہے الگ الگ ضابطے کی صورت میں یاد کر لیں، بہتر یہ ہے اکٹھا ہی رکھیں: اَلتَّصْغِیْرُ وَالتَّکْسِیْرُ یَرُدَّانِ الْأَشْیَاءَ اِلَى أُصُوْلِھَا۔ تصغیر، دیکھو ترجمہ سنو: تصغیر اور جمع تکسیر، یردان یہ دونوں لوٹا دیتے ہیں الأَشْیَاءَ چیزوں کو اِلَى أُصُوْلِھَا ان کی اصلوں کی طرف۔ تصغیر اور جمع تکسیر، تصغیر جانتے ہیں یا نہیں؟ فُعَیْلٌ وزن پر عموماً آتی ہے تصغیر کا صیغہ، اور تکسیر جمع تکسیر جانتے ہو کہ نہیں بھئی؟ ایک جمع سالم ہے، جس میں مفرد کا وزن سلامت رہتا ہے، اور ایک جمع تکسیر ہے جس میں مفرد کا وزن ٹوٹ جاتا ہے، جیسے رَجُلٌ کی جمع رِجَالٌ بھئی، دیکھو رجل کا وزن ٹوٹ گیا سارا۔ تو یاد رکھیے، یہ بہت قیمتی ضابطہ ہے۔ عربی میں آپ نے اگر کسی چیز کی اصل کا پتہ لگانا ہے، کسی لفظ کی، آپ کے پاس ایک لفظ ہے، آپ پتہ چلانا چاہتے ہیں کہ یہ اصل میں کیا تھا، تو یوں کرو اس کی تصغیر نکال لو، آپ کو اس کے مادے کا اور اصل کا پتہ چل جائے گا۔ یا یوں کرو اس کی جمع تکسیر بنا لو، اس کی جمع تکسیر دیکھ لو، کیا استعمال ہوتی ہے عربی میں؟ تو اس سے آپ کو اس کی اصل کا پتہ چل جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ جیسے مثلاً دیکھو: أَرْضٌ، أَرْضٌ ضاد کے ساتھ، زمین کو کہتے ہیں عربی میں، اور یہ عربی میں مونث استعمال ہوتا ہے، حالانکہ مونث کی کوئی علامت ساتھ ملی ہوئی نہیں، نہ گول تا ہے، نہ الف ہے۔ تو یہ عربی میں مونث استعمال ہوتا ہے، تو اب ہم اس کی اصل دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس کی اصل کیا ہے؟ یہ کیوں مونث استعمال کرتے ہیں؟ دیکھا تو اس کی تصغیر جو عربی میں استعمال ہوتی ہے، عرب جو استعمال کرتے ہیں، وہ أُرَیْضَةٌ ہے۔ فُعَیْلَةٌ، أُرَیْضَةٌ، دیکھا تصغیر میں گول تا آ گئی یا نہیں؟ دیکھا معلوم ہوا یہ لفظ کیا ہے؟ اصل میں اس میں گول تا تھی، مونث اسی لیے عربی میں مونث استعمال ہوتا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اسی طرح جمع تکسیر کے ذریعے بھی اصل کا پتہ چلتا ہے، مثلاً میں پتہ کرنا چاہتا ہوں کہ دِینَارٌ، دینار کی اصل کیا ہے؟ اصل کیا ہے؟ تو میں نے اس کی جمع تکسیر نکالی، جمع تکسیر کیا ہے؟ دَنَانِیْرُ۔ دَنَا نِیْرُ، دیکھو دو نون آ رہے ہیں، دَنَانِیْرُ، اور دِینَار میں تو ایک نون ہے۔ معلوم ہوا یہ دینار اصل میں دِنْنَارٌ تھا، کیا تھا؟ دِنْنَارٌ، دو نون تھے بھئی، پھر دو نون جب جمع دو حرف ایک جنس کے جمع ہو جائیں، تو کبھی کبھار عرب یوں کرتے ہیں ایک کو حرفِ علت سے بدل دیتے ہیں ماقبل کے مطابق، یا وغیرہ سے۔ تو یہاں بھی پہلے نون کو یا سے بدل دیا، تو کیا بن گیا؟ دِیْنَارٌ۔ تو دینار کی اصل کیا ہے؟ دِنْنَارٌ، دو نون ہیں نونِ مشدد، اور کیسے پتہ چلا؟ جمع تکسیر سے، جمع تکسیر اس کی کیا ہے؟ دَنَانِیْرُ۔ تو یہ آپ نے ہمیشہ یاد رکھنا ہے، جب بھی کسی لفظ کی اصل کا پتہ چلانا ہے، یا اس کی تصغیر کی طرف چلے جاؤ، یا جمع تکسیر کی طرف، آپ کو اس کی اصل کا پتہ چل جائے گا۔ تو یہاں پر بھی مصنف آل کی اصل بتلا رہے ہیں، کہتے ہیں: أَصْلُهُ أَهْلٌ، آل اصل میں کیا تھا؟ اَھْلٌ تھا، بِدَلِيلِ أُهَيْلٍ، کون سی دلیل؟ دلیل کیا ہے؟ أُہَیل، یعنی اس کی تصغیر کیا آتی ہے؟ آل کی تصغیر أُہَیل استعمال ہوتی ہے۔ تو درمیان میں ہاء ہے، حالانکہ آل میں تو کوئی ہاء نہیں، توجہ ہے؟ آل میں تو کوئی ہاء نہیں، لیکن تصغیر میں ہاء ہے، معلوم ہوا یہ اصل میں کیا تھا؟ اَھْلٌ، اَھْلٌ۔ پھر کیا کیا؟ اس ہاء کو خلافِ قیاس، قانون کوئی نہیں، خلافِ قیاس کس سے بدلا؟ ہمزہ سے، کیا بن گیا؟ اَأْلٌ۔ پھر اس دو ہمزہ جب جمع ہو جائیں، آپ نے قانون پڑھا ہے صرف میں کہ دوسرے ہمزہ کو پہلے کی حرکت کے موافق حرفِ علت سے بدل دیتے ہیں، تو پہلے ہمزہ پر زبر ہے، اس زبر کے مناسب حرفِ علت کون سا؟ الف، تو اس کو الف سے بدلا، کیا بن گیا؟ اَالٌ۔ ترتیب سمجھ میں آ گئی؟ کہ یہ آل اصل میں کیا تھا؟ اَھْلٌ، پھر کیا بنا؟ اَأْلٌ، ہمزہ سے بدل گئی ہاء، پھر کیا بنا؟ اَالٌ۔ تو یہ دلیل ہے کہ اس کی تصغیر أُہَیل آتی ہے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی لفظ بنتا ہے، تو ہمیشہ ثقیل سے خفیف کی طرف جاتے ہیں۔ کوئی لفظ جس کی ادائیگی دشوار ہو، اس کو چھوڑ کر کس کی طرف جاتے ہیں؟ خفیف جس کی ادائیگی آسان ہو، اور یہاں آپ برعکس کر رہے ہیں۔ ہاء، ہاء کا پڑھنا آسان، اور اَأْلٌ دیکھو کتنا مشکل ہے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو انسان کو جھٹکا لگتا ہے، اَأْلٌ، تو یہ ہمزہ کا پڑھنا تو ثقیل ہے، تو آپ خفیف سے کس کی طرف چلے گئے؟ ثقیل کی طرف، حالانکہ ایسا کبھی بھی نہیں ہوتا۔ تو جواب اس کا پھر علماء یہ دیتے ہیں کہ اَھْلٌ سے ہم اَأْلٌ کی طرف گئے، یہ اگرچہ خلافِ قیاس ہے، لیکن ہمارا مقصد اَأْلٌ پہ رکنا نہیں تھا، ہم نے پہنچنا تھا اَالٌ تک، اور اَالٌ تو بہت ہی خفیف ہے، ایک ہے اَھْلٌ، ایک ہے اَالٌ، دیکھو کتنی آسانی سے ادا ہوتا ہے۔ تو ہم نے پہنچنا کہاں تک تھا؟ آل تک، تو درمیان میں اگر ثقیل کا واسطہ آ بھی گیا، تو کوئی حرج نہیں ہے، بہرحال جو نتیجہ آخر میں آیا وہ بہت خفیف ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: قَوْلُهُ: وَعَلَى آلِهِ أَصْلُهُ أَهْلٌ بِدَلِيلِ أُهَيْلٍ خُصَّ اسْتِعْمَالُهُ فِي الأَشْرَافِ، خُصَّ اسْتِعْمَالُهُ، استعمال اس کا ہمزہ وصلی ہے، وصلی۔ بابِ استفعال ہے نہ؟ بابِ افعال کے علاوہ باقی سب ابواب کے ہمزہ کیا ہیں؟ وصلی ہیں، وہ درجِ عبارت میں گر جاتے ہیں، لیکن عموماً طلباء گراتے نہیں ہیں، تو یہاں بھی یہ ہمزہ گرے گا، تو کیسے پڑھیں گے؟ خُصَّ اسْتِعْمَالُهُ، خُصَّ اسْتِعْمَالُهُ، طریقہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ اور خاص کیا گیا، اس کا استعمال خاص ہے فِي الأَشْرَافِ معزز لوگوں میں۔ اشراف جمع ہے شریف کی۔ شریف بھئی، اردو والا شریف نہیں، اردو میں تو شریف سادہ آدمی کو کہتے ہیں، عربی میں شریف کا معنی ہے معزز آدمی، شرف والا۔ شریف کا کیا معنی؟ معزز آدمی، شرف والا، بڑا آدمی، اس کو شریف کہتے ہیں بھئی۔ تو اس کی جمع کیا؟ اشراف۔ بتلا رہے ہیں بھئی کہ یہ جو آل کا لفظ ہے، یہ ہر جگہ نہیں بولا جاتا، یہ صرف معزز لوگوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اہل کا لفظ سب کے لیے بولا جاتا ہے: اَھْلُ حَجَّامٍ، حجام کے گھر والے۔ تو یہ اہل کا لفظ عام ہے، وہ سب کے لیے استعمال ہوتا ہے، عام چھوٹے ہوں یا بڑے، لیکن آل کا لفظ صرف بڑے اور معزز لوگوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ پھر چاہے یہ شرافت جو ہے، یہ معزز ہونا دینی اعتبار سے ہو، یا صرف دنیاوی اعتبار سے ہو۔ کس اعتبار سے ہو یہ معزز ہونا؟ دینی اعتبار سے ہو، جیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم، دینی اعتبار سے معزز ہیں، یعنی دنیا اور آخرت دونوں میں آپ معزز ہیں، دنیا میں بھی معزز اور آخرت میں بھی معزز، یا یوں کہہ لو کہ معزز ہونا عام ہے، چاہے دنیا اور آخرت دونوں کے اعتبار سے ہو یا صرف دنیا کے اعتبار سے ہو۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم دنیا اور آخرت دونوں کے اعتبار سے سب سے معزز ہیں، اس لیے ان کے لیے آل کا لفظ استعمال کیا: آلُ النَّبِیِّ، آلُ مُحَمَّدٍ۔ اور یا صرف دنیاوی اعتبار سے کوئی معزز ہو، جیسے کہتے ہیں: آلُ فِرْعَوْنَ، اب فرعون بادشاہ تھا، دنیاوی اعتبار سے معزز تھا، اگرچہ گمراہ تھا بھئی۔ تو اہل کا لفظ عام ہے، معزز کے لیے بھی بولتے ہیں اور غیر معزز کے لیے بھی، یا یوں کہو بڑے آدمی کے لیے بھی بولتے ہیں اور چھوٹے آدمی کے لیے بھی، لیکن آل کا لفظ صرف کس کے لیے بولتے ہیں؟ معزز آدمی کے لیے۔ یہ معنی ہے: خُصَّ اسْتِعْمَالُهُ فِي الأَشْرَافِ، کہ اس آل کا استعمال خاص ہے فِي الأَشْرَافِ معزز لوگوں میں۔ وَآلُ النَّبِيِّ عِتْرَتُهُ الْمَعْصُومُونَ، اچھا آلِ نبی سے کیا مراد ہے؟ میں نے آپ کو کئی اقوال بتا دیے۔ کئی اقوال بتا دیے، یہ اس کا معنی بیان کر رہے ہیں کہ آلِ نبی جو ہے عِتْرَتُهُ، عترت کہتے ہیں اولاد اور نسل کو، کہ آلِ نبی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد اور نسل ہے الْمَعْصُومُونَ، جو معصوم ہیں، جو گناہوں سے محفوظ ہیں، جن سے گناہ ہو ہی نہیں سکتا بھئی، کیونکہ اللہ کی طرف سے ان کی حفاظت کی جاتی ہے۔ لیکن یاد رکھیے، یہ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ نہیں بھئی۔ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ معصوم صرف انبیاء ہیں، انبیاء کی اللہ کی طرف سے حفاظت کی جاتی ہے، ہر نہ گناہ سے ان کی حفاظت کی جاتی ہے۔ اور پھر اس میں علماء کے مختلف اقوال، بعض کہتے ہیں کہ نبوت ملنے سے پہلے نبی سے صغیرہ گناہ ہو سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے پیارا مذہب علمائے دیوبند کا ہے۔ علمائے دیوبند فرماتے ہیں کہ نبی سے نبوت ملنے سے پہلے بھی کوئی صغیرہ گناہ نہیں ہو سکتا، اور نبوت ملنے کے بعد بھی کوئی صغیرہ گناہ نہیں ہو سکتا، کبیرہ کی تو بات ہی چھوڑو، نبوت سے پہلے صغیرہ گناہ بھی نہیں ہو سکتا، بلکہ احناف علمائے دیوبند مزید ایک قدم آگے پیغمبروں کی عصمت بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نبوت سے پہلے پیغمبر سے صغیرہ گناہ نہیں، ناپسندیدہ کام بھی نہیں ہو سکتا، گناہ نہ ہو لیکن ہو کیا؟ ناپسندیدہ کام، وہ بھی پیغمبر سے نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ جب خانہ کعبہ کو سیلاب سے نقصان پہنچا، اور پھر قریش نے حلال مال جمع کیا اور پھر خانہ کعبہ کی تعمیر شروع کی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم چھوٹے سے بچے تھے، سات آٹھ سال یا دس سال کے بچے تھے۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی اور بچوں کے ساتھ اینٹیں اٹھا کر لا رہے تھے، جو پتھر وغیرہ تھے دیواروں میں لگنے تھے، وہ پتھر لے کر آ رہے تھے۔ اور وہ پتھر وہ کندھے پر رکھ کر لاتے، تو کندھے پر ظاہر سی بات ہے تکلیف ہوتی، اور وہ جاہلیت کا زمانہ تھا، اس زمانے میں بڑے کا ننگا ہونا عیب نہیں سمجھا جاتا تھا، تو بچے کی تو بات ہی نہ کریں، اس کو تو بالکل بھی کچھ نہیں سمجھا جاتا تھا۔ تو بس بعض لوگوں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر شفقت کرتے ہوئے، جو بڑے تھے، کہ بچہ اینٹیں لے کر آ رہا ہے، اس کے کندھے سات آٹھ سال کا ہے، کندھے پر درد ہو رہا ہوگا، تو کہا بھئی یہ جو آپ نے تہبند باندھا ہوا ہے، حضور نے صرف تہبند باندھا ہوا تھا، قمیض وغیرہ نہیں، یہ تہبند باندھا ہے یہ اتار کے کندھے پہ رکھ لو، تاکہ تمہیں چوٹ نہ لگے، درد نہ ہو۔ تو کہتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم وہ چھوٹے تھے، بچے تھے، اور آپ وہ تہبند اتانے لگے کہ میں اس کو کندھے پر رکھتا ہوں، تو غیب سے آواز آئی: مت کرنا، یا نہ کرو! حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک دم حیران ہو گئے کہ یہ آواز کہاں سے آئی؟ حیران ہوئے، ادھر ادھر دیکھا کوئی نظر نہیں آ رہا۔ پھر دوبارہ وہ تہبند اتار کر کندھے پر رکھنے لگے، پھر آواز آئی کہ نہ کرو! حضور علیہ السلام اور زیادہ پریشان ہو گئے کہ کوئی شخص نظر نہیں آ رہا اور یہ کون مجھے منع کر رہا ہے؟ تیسری دفعہ پھر وہ تہبند کی طرف ہاتھ بڑھایا کہ اس کو اتاروں اور کندھے پہ رکھوں، تو ایک کڑکتی ہوئی آواز آئی کہ ہم تمہیں منع کر رہے ہیں اور تم پھر اس کو اتار رہے ہو؟ اتنی خوفناک کڑکدار آواز تھی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ تو دیکھا یہ ایک نامناسب کام تھا، اگرچہ بچے تھے لیکن ننگا ہونا کیا تھا؟ گناہ نہیں تھا، لیکن نامناسب تھا بچے تھے، بچہ تو مکلف ہی نہیں ہے، لیکن اس سے بھی ان کو روکا گیا، ان کی حفاظت کی گئی۔ اسی طرح روایات میں آتا ہے کہ اس زمانے میں میلے وغیرہ لگتے تھے، جس میں لوگ اکٹھے ہوتے اور اس میں کھیل تماشے وغیرہ ہوتے تھے، جیسے آج کل میلوں میں ہوتے ہیں۔ تو اس زمانے میں کوئی میلہ وغیرہ تھا قریب ہی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم چھوٹے سے تھے، آٹھ دس بارہ سال کے ہوں گے، تو بچوں نے کہا کہ وہاں میلے میں تم نہیں آئے، تم بھی آنا، حضور نے وعدہ کیا کہ آج میں ضرور آؤں گا۔ تو کہتے ہیں چل پڑے، راستے میں ایک جگہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو شدید نیند آ گئی، ایک جگہ درخت کے نیچے بیٹھے اور وہیں سو گئے، صبح تک سوئے رہے، تو رات کو وہ تماشے گزر گئے۔ تو اس طرح دو تین دفعہ دن ایسا ہوا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر دفعہ سو جاتے، تو حالانکہ اب یہ کوئی گناہ نہیں تھا، لیکن کیا تھا؟ پیغمبر کے شان کے مناسب نہیں تھا، تو اس سے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کی گئی بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو میں نے کیا بیان کیا کہ ہمارا کیا عقیدہ ہے؟ کہ معصوم صرف انبیاء ہیں، اور صرف صغیرہ گناہوں سے ہی نہیں معصوم، بلکہ ناپسندیدہ کاموں سے بھی معصوم ہیں، محفوظ ہیں، معصوم کا معنی محفوظ، سے بھی محفوظ ہیں، نبوت سے پہلے بھی اور نبوت کے بعد بھی۔ جبکہ میں نے آپ کو شروع میں ذکر کیا تھا کہ یہ شارح شیعہ ہے بھئی، شیعہ ہے، اور شیعہ کے نزدیک اماموں کا درجہ نبیوں سے بڑھ کر ہے۔ ان کی کتابوں میں صاف لفظوں میں لکھا ہوا ہے کہ یہ جو ہمارے بارہ امام ہیں، ان کا درجہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ باقی جتنے انبیاء ہیں، ان سب سے بڑھ کر ہے۔ تو اسی اعتبار سے انہوں نے یہ لکھا، اپنے مذہب کے مطابق کہ: وَآلُ النَّبِيِّ، کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آل جو ہے: عِتْرَتُهُ الْمَعْصُومُونَ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ اولاد ہے المائصومون جو معصوم ہیں، گناہوں سے محفوظ ہیں۔ آگے دیکھیے بھئی: قَوْلُهُ: وَأَصْحَابِهِ، اور رحمت اور سلامتی ہو کس پر؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ پر۔ تو اصحابه سے کون مراد ہیں؟ بتلا رہے ہیں: هُمُ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ أَدْرَكُوا صُحْبَةَ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ مَعَ الإِيمَانِ، هُمُ الْمُؤْمِنُونَ، وہ مومن ہیں الَّذِينَ أَدْرَكُوا جنہوں نے پایا، جنہوں نے حاصل کیا کس چیز کو؟ صُحْبَةَ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کو مَعَ الإِيمَانِ، ساتھ کس کے؟ ایمان کے۔ صحابی یاد رکھیے، صحابی وہ شخص ہے جس نے ایمان کی حالت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی، اور پھر اسی ایمان پر اس کا انتقال ہوا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ صحابی کہتے ہیں، صحابی۔ تو کہتے ہیں: وَهُمُ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ أَدْرَكُوا صُحْبَةَ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ مَعَ الإِيمَانِ، وہ مومنین ہیں جنہوں نے پایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کو مَعَ الإِيمَانِ ساتھ کس کے؟ ایمان کے ساتھ، اور میں نے بتلایا کہ اسی ایمان پر انتقال بھی ضروری ہے بھئی، اسی پر کیا ہو؟ انتقال بھی ہو اسی ایمان کی حالت میں بھئی۔ یاد رکھیے، صحابہ کا مقام بڑا اونچا ہے بھئی، بہت اونچا مقام ہے۔ دنیا کا بڑے سے بڑا ولی بھی کسی ادنیٰ سے ادنیٰ صحابی کے درجے کو نہیں پہنچ سکتا، اس پر تمام علماء کا اتفاق ہے کہ دنیا کا بڑے سے بڑا ولی بھی ادنیٰ سے ادنیٰ صحابی کے درجے کو نہیں پہنچ سکتا، اور یہ صحابی کا یہ مقام کیوں ہے؟ کیونکہ اس نے حالتِ ایمان میں سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے۔ تو جو ایک لمحے کی زیارت کر لے، اس کو اتنا اونچا مقام ملتا ہے، تو جنہوں نے زندگیاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گزار دیں، شب و روز حضور کی صحبت سے فیضیاب ہوتے رہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے عظیم قربانیاں دیں، ان کا کیا مقام ہوگا؟ ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ الحمد للہ ثم الحمد للہ کہ اللہ نے ہمیں صحابہ کی محبت نصیب فرمائی ہے، صحابہ کی محبت۔ صحابہ کا واسطہ نکال دو، تو یہ دین بچتا ہی نہیں ہے، کیونکہ حضور کے بعد یہ دین ہم تک کس نے پہنچایا؟ صحابہ نے، تو اگر صحابہ کو بیچ میں سے نکال دو، تو تابعین کہاں سے لیا انہوں نے دین؟ حضور سے تو ان کی ملاقات ہوئی نہیں، تو سارا دین کیا ہے؟ سارے دین کی عمارت گر جاتی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو الحمد للہ، اللہ نے ہمیں صحابہ کی محبت نصیب فرمائی ہے۔ اور یہ بڑے پیارے لوگ، بڑے متقی لوگ، ایسے لوگ کہ اس زمین و آسمان نے نہ ان سے پہلے ایسے لوگ دیکھے، نہ اس کے بعد کبھی ایسے لوگ دیکھیں۔ تو صحابہ کی الحمد للہ، اللہ نے ہمیں صحابہ کی محبت نصیب فرمائی ہے، اس خوشی میں تو آج آپ کو کم از کم دو دو رکعت نفل پڑھنے چاہئیں بطورِ شکرانے کے، کہ اللہ نے آپ کو صحابہ کی محبت نصیب فرمائی ہے۔ اللہ! اور شیعوں پر حیرت ہوتی ہے کہ وہ تمام صحابہ کو برا کہتے ہیں، برا کہتے ہیں۔ اللہ ان کے سینوں کو بھی اسلام کے لیے کھول دے بھئی، اسلام تو محبتوں کا دین ہے، اللہ تک پہنچنے کا دین ہے، اور انسان کو اللہ تک پہنچاتا ہے، اور ہر شخص کے لیے محبت ہی محبت ہے اس کے اندر۔ اللہ! اللہ! شیعہ اگر اپنے مذہب پر غور کر لیں، خود ہی ان کو پتہ چل جائے گا کہ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا راستہ نہیں ہے۔ تھوڑا سا بھی غور کر لیں، بشرطیکہ حق کے متلاشی ہوں، یاد رکھو، اللہ، ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے، لیکن اللہ ہدایت صرف اسی کو دیتے ہیں جو ہدایت کو چاہتا ہے، جو ہدایت کو چاہے ہی نہ، اللہ بھی اس کو ہدایت نہیں دیتے، اس کو اللہ ہدایت نہیں دیتے۔ تو شیعہ اگر اپنے مذہب میں غور کر لیں، خود ہی ان کو پتہ چل جائے گا کہ یہ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا راستہ نہیں ہے۔ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ، وہ تو شہید ہوئے بھئی، شہادت پر تو فخر کیا جاتا ہے، شہید کا ماتم نہیں کیا جاتا، اس پر تو فخر کرنا چاہیے، خوش ہونا چاہیے کہ اللہ نے ان کو اتنا اونچا مقام نصیب فرما دیا، کیونکہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے ہیں۔ اور صحابہ میں حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور باقی خلفائے راشدین اور صحابہ میں بے انتہا محبت تھی۔ محبت کا ذرا اندازہ تو لگاؤ، حضرت علی کے تین بچوں کے نام، ایک کا نام، یہ تو ایک تو حسن اور حسین ہیں یہ دو، اس کے علاوہ ایک کا نام ابو بکر ہے، ان کے بیٹے کا نام، ایک ان کے بیٹے کا نام عمر ہے، ایک بیٹے کا نام عثمان ہے۔ دیکھو کتنی محبت تھی کہ کسی کے نام پر اپنے بچوں کا نام انسان اسی وقت رکھتا ہے، جب اسے ان سے بے انتہا محبت اور عقیدت ہو۔ تو حضرت علی کے تین بچوں کے نام، چنانچہ یہ جو واقعہ کربلا آتا ہے، جہاں اور شہداء تھے، حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور اور ان کی اولاد وغیرہ جو شہید ہوئی، وہی ان کے حضرت علی کے دوسرے بیٹے ابو بکر، اسی طرح دوسرے بیٹے عمر، اور تیسرے بیٹے عثمان، یہ تینوں بھی وہیں پر شہید ہوئے کربلا کے اندر، کربلا کے اندر۔ تو حضرت علی کو تو ان صحابہ، خلفائے راشدین سے اتنی محبت تھی کہ ان کے نام پر اپنے بچوں کے نام رکھے۔ کتنی واضح دلیل ہے، کتنی واضح دلیل ہے۔ لیکن جس نے نہ ماننا ہو، اس کے لیے بہت سے راستے ہیں، کوئی نہ کوئی وہ تاویل کر لیتا ہے۔ چنانچہ شیعہ پھر کہتے ہیں کہ یہ جو حضرت علی نے اپنے بیٹے کا نام ابو بکر رکھا، یہ کسی اور کی نسبت سے رکھا، عمر نام رکھا اپنے بیٹے کا، یہ کسی اور کی نسبت سے رکھا، اور عثمان اپنے بیٹے کا نام رکھا، یہ کسی اور کی نسبت سے رکھا، حیرت کی بات ہے بھئی، حیرت کی بات ہے۔ تین ہی خلفائے راشدین ہیں ان سے پہلے، اور تینوں کے نام پر وہ اپنے بچوں کے نام رکھ رہے ہیں، اور آپ کہتے ہیں کہ یہ کسی اور کے نام پر رکھا ہے، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اللہ! کتنا واضح ہے، کتنا حق اتنا واضح ہے کہ بیان سے باہر ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ شیرِ خدا بھی کہتے ہیں، اور پھر کہتے ہیں کہ حضرت علی نے حضرت ابو بکر کی جو بیعت کی، وہ تقیہ کیا۔ یعنی دل میں نہیں مانتے تھے، بس بظاہر بیعت کی۔ اور ان کے پیچھے جو دو سال تقریباً نمازیں پڑھتے رہے، تقیہ کیا۔ پھر حضرت عمر کی جو بیعت کی، تقیہ کیا۔ حضرت علی ان سے راضی نہیں تھے۔ پھر 10 سال ان کے پیچھے نمازیں پڑھتے رہے۔ اور تو یہ خلفائے راشدین حضرت علی سے مشورے لیتے تھے، اہم اہم چیزوں میں، وہ حضرت علی کو فوقیت دیتے تھے، حضرت علی کو اللہ نے کمال کا علم نصیب فرمایا تھا۔ ان کی رائے ایسی ٹھوس اور پختہ ہوتی کہ انسان حیران رہ جاتا۔ تو 10 سال حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیچھے نمازیں پڑھتے رہے۔ اور پھر حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت بھی کی، تو کہتے ہیں وہ تقیہ کیا، اور 12 سال ان کے پیچھے نمازیں پڑھتے رہے، کہتے ہیں یہ تقیہ کیا، تقیہ کیا۔ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں بھی یہی کہتے ہیں کہ انہوں نے بھی جو ان کی بیعت کی اور ان کے پیچھے نمازیں پڑھیں، اور حتیٰ کہ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تو بیعت کر رکھی تھی حضرت معاویہ کی، حضرت معاویہ کے بعد لڑائی ہوئی ہے نہ، پہلے تو لڑائی نہیں ہوئی۔ تو صحابہ میں آپس میں بے انتہا محبت تھی، بے انتہا محبت تھی۔ حتیٰ کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی بیٹی جو ہے، حضرت عمر کی زوجیت میں دی تھی، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی تھیں۔ تو یہاں، یہاں تو اتنی محبت ہے کہ بیان سے باہر ہے، بیان سے باہر ہے۔ اور حضرت علی کو شیرِ خدا کہتے ہیں، اور پھر کہتے ہیں کہ انہوں نے کوئی 24 سال تک تقیہ کیا۔ 24 سال تک! حضرت علی کی شان کم نہیں ہو گئی؟ حضرت علی تو ایک، ایک ناحق، کوئی صحابی ناحق بات کو گوارا کر جائے، یہ تھا ہی نہیں صحابہ کے اندر، اور حضرت علی تو سب سے بہادر صحابہ میں سے تھے، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ حضرت علی ناحق کو دیکھ کر خاموش رہ جائیں؟ آج بھی آپ دیکھتے ہیں حالات کتنے سخت ہیں، لیکن شام کے اندر لوگ جہاد کے اندر، جہاد کر رہے ہیں، داعش کے ساتھ لڑ رہے ہیں، اور ان کے ٹکڑے ہو جاتے ہیں، لیکن وہ پیچھے ہٹنا گوارا نہیں کرتے، تو کیا لوگ حضرت علی سے زیادہ بہادر ہیں؟ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو وہ ہیں، جو جنگ میں آگے ہوتے تھے۔ جنگ سے پہلے دو چار سوار نکلتے تھے، کفار کی طرف سے بھی اور مسلمانوں کی طرف سے بھی، پیچھے صفیں بنی ہوئی ہیں، تو پہلا دن جب جنگ کا ہوتا، دو چار سوار ادھر سے نکلتے، دو چار سوار ادھر سے نکلتے، اور ان کی اکیلے اکیلے لڑائی ہوتی تھی بھئی، اور اس میں ایک کو قتل کر دیا جاتا، ایک بچ جاتا، تو حضرت علی تو اتنے بہادر تھے کہ ان مقابلوں کے لیے سب سے آگے نکلا کرتے تھے، اور مقابلہ کرتے تھے۔ اللہ! تو بس اللہ تعالیٰ جو ہے، ان لوگوں کے سینوں کو کھول دیں، اللہ ان کو سمجھ نصیب فرما دیں، کہ یہ حسین کا راستہ نہیں ہے، حسین محبتوں کے سفیر تھے، حسین جرات کا نام تھے، دیکھو کربلا میں اپنی جان دے دی، لیکن جو چیز ناحق نظر آئی، اس کا ساتھ انہوں نے نہیں دیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ تو ان کے والد ہیں، تو اندازہ لگائیے، جب بیٹے کا یہ حال ہے، تو والد کا کیا حال ہوگا؟ تو بس اللہ تعالیٰ ان کے سینوں کو کھول دیں، اللہ ان کو سمجھ نصیب فرما دیں، اسلام تو محبت کا راستہ ہے۔ اور شیعوں کے ساتھ جو اہل سنت کی لڑائی بھی ہوتی ہے، صرف اسی بناء پر کہ وہ ہمارے صحابہ کو گالیاں دیتے ہیں، صحابہ سے ہمیں اپنی جانوں سے بھی بڑھ کر محبت ہے، جانوں سے بھی بڑھ کر محبت ہے۔ تو ظاہر سی بات ہے، آپ کے والد کو کوئی گالی دے تو آپ سے برداشت نہیں ہوتی، تو صحابہ جن سے اپنی جان سے بھی بڑھ کر ہمیں محبت ہے، تو جب گالیاں ان کو دی جاتی ہیں، برا بھلا کہا جاتا ہے، تو یقیناً جو ہے، یہ کسی سے بھی برداشت نہیں ہوتا، ورنہ تو کبھی لڑائی ہو ہی نہ۔ تو اللہ تعالیٰ ہم سب کو سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق نصیب فرمائے، اور ہر قسم کی گمراہیوں سے ہماری بھی حفاظت فرمائے، اور قیامت تک ہماری آنے والی نسلوں کی بھی حفاظت فرمائے۔ تو دیکھو، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے تین بچوں کے نام ابو بکر، عمر اور عثمان رکھے، عثمان رکھے، اور لیکن یہ پھر کہتے ہیں کہ یہ ابو بکر کسی اور کی نسبت سے رکھا، عمر کسی اور کی نسبت سے رکھا، اور اور عثمان عثمان کسی اور کی نسبت سے رکھا، کسی اور کی نسبت سے۔ اندازہ تو لگائیے۔ شیعہ کہتے ہیں تمام صحابہ، تمام صحابہ مرتد ہو گئے تھے والعیاذ باللہ، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد، اور حضرت علی ان کو مانتے نہیں تھے، لیکن صرف تقیہ کیا ہوا تھا، تقیہ کسے کہتے ہیں؟ دل میں کچھ اور ہو، ظاہر اور ظاہر میں کچھ اور ہو، تو دل میں وہ نہیں مانتے تھے، لیکن ظاہر میں بس ویسے ہی ان کی اطاعت کر لی، ان سے بیعت کر لی بھئی، ان کی بیعت کر لی۔ ہم کہتے ہیں شیرِ خدا ایسا نہیں کر سکتا، ممکن ہی نہیں ہے، آج کے زمانے میں بھی آپ دیکھ لیں، ایک عام انسان ہوتا ہے، جہاں اسے کوئی ناحق بات نظر آتی ہے، وہ اس کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے، اپنی جان دے دیتا ہے، لیکن ناحق بات کو برداشت نہیں کرتا، آپ جگہ جگہ اس قسم کے واقعات دیکھتے ہیں، حکومت کوئی اسلام کے خلاف قانون لانے کی کوشش کرتی ہے، تمام لوگ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، کئیوں کی جانیں اس میں چلی جاتی ہیں، لیکن وہ پیچھے نہیں ہٹتے، کیونکہ ان کو ایک چیز ناحق نظر آ رہی ہے۔ تو کیا شیرِ خدا سے یہ بڑھ کر ہیں یہ؟ نہیں نہیں، حضرت علی شیرِ خدا ہیں بھئی، حضرت علی بہادر ترین صحابہ میں سے ہیں، وہ کیسے تقیہ کر سکتے ہیں بھئی؟ ناحق چیز نظر آئے اور اس کو وہ تسلیم کر لیں؟ ہم کہتے ہیں ممکن ہی نہیں، حضرت علی کو تو چھوڑو، حضرت علی کا مقام تو بہت اونچا ہے، کوئی عام صحابی بھی ہو، اس کے سامنے کوئی ناحق چیز آئے، وہ کبھی گوارا نہیں کرے گا کہ اس کو قبول کر لے بھئی۔ تو تقیہ کرنا، تقیہ تو کبھی کوئی بہادر آدمی تقیہ کر ہی نہیں سکتا، اس کی مردانگی، اس کی جرات، اس کی شجاعت اسے اجازت ہی نہیں دیتی، وہ ناحق کو گوارا کرنا اس کی طبیعت ہی میں نہیں ہوتا، ہم کہتے ہیں حضرت علی، حضرت حسن، حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہم ان کی طبیعت ہی ایسی تھی کہ یہ ناحق کو کبھی گوارا کر ہی نہیں سکتے تھے، ان کی ان کو ایسی غیرت اللہ نے عطا فرمائی تھی، یہ ناحق کو کبھی گوارا کر ہی نہیں سکتے تھے، تو اگر، اگر والعیاذ باللہ صحابہ مرتد ہو گئے تھے، تو حضرت علی ایک لمحے کے لیے بھی ان کو گوارا نہ فرماتے، کبھی بھی تقیہ نہ کرتے، بہادر اور جرات والا اور غیرت والا انسان تقیہ کر ہی نہیں سکتا، تو اگر حضرت علی پر اور حضرت حسین، حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہم پر ہم تقیہ کہیں ان کے بارے میں، یہ تو ہم نے ان کی، دیکھو ہم نے ان کا مقام کتنا نیچے گرا دیا! اللہ! اللہ! تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی بیٹی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دی، وہ ان کی بیوی تھیں۔ اگر والعیاذ باللہ حضرت علی کی نظر میں حضرت عمر مسلمان ہی نہیں تھے، تو مجھے آپ بتائیے، کیا کوئی شخص اپنی بیٹی غیر مسلم کو دے سکتا ہے؟ کبھی گوارا، عام آدمی گوارا نہیں کر سکتا، عام مسلمان گوارا نہیں کر سکتا، میں اپنی بیٹی کس کو دوں؟ ایک غیر مسلم کو دے دوں گوارا؟ تو حضرت علی رضی اللہ جلیل القدر صحابی بھئی، خلفائے راشدین میں، اور جن کے اتباع کا تمام امت کو حکم دیا گیا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میرا اتباع کرو اور خلفائے راشدین کا اتباع کرو بھئی، اور ان کا مقام، اور وہ اپنی بیٹی ایک غیر مسلم کو دے دیں؟ ممکن ہی نہیں ہے بھئی۔ تقیہ کر کے بھی ممکن نہیں ہے کہ کوئی اپنی بیٹی دے دے بھئی۔ بات وہی ہے، معلوم ہوا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ان سے بے انتہا محبت اور عقیدت تھی، اور اتنی عقیدت تھی کہ اپنی بیٹی ان کو دے دی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور اپنے بیٹوں کے نام ابو بکر، عمر اور عثمان رکھے۔ بس جب انسان نے ایک چیز کو نہ ماننا ہو، تو بہت سے راستے نکال ہی لیتا ہے۔ تو جواب میں یہ لوگ کہتے ہیں کہ حضرت علی نے اپنے بیٹے کا نام ابو بکر رکھا کسی اور کی نسبت سے، عمر رکھا کسی اور کی نسبت سے، عثمان رکھا کسی اور کی نسبت سے، حیرت کی بات ہے! ان سے پہلے یہی تین خلفائے راشدین ہیں، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابہ ہیں، اور حضرت علی ان کے نام پر اپنے بچوں کے نام رکھ رہے ہیں، اور یہ کیا کہہ رہے ہیں کہ یہ کسی اور کے نام پر رکھا ہے، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اور اگر والعیاذ باللہ یہ مرتد ہو گئے تھے، تو ان، تو یہ غیر مسلم ہوئے، تو غیر مسلم کے نام کے ساتھ تو انسان اپنے بچوں کے نام کی مشابہت بھی پسند نہیں کرتا، اگر یہ حضرت علی کی نظر میں مسلمان نہیں تھے، تو کسی اور کی نسبت سے بھی اپنے بیٹے کا نام ابو بکر نہ رکھتے، کیونکہ ابو بکر کے ساتھ مشابہت آ رہی ہے یا نہیں؟ کسی اور کی نسبت سے بھی اپنے بیٹے کا نام عمر نہ رکھتے، کیونکہ عمر کے ساتھ کیا آ رہی ہے؟ مشابہت آ رہی ہے غیر مسلم کے ساتھ بقول ان کے، اور عثمان اپنے بیٹے کا نام نہ رکھتے، کیونکہ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ مشابہت آ رہی ہے۔ معلوم ہوا یہ باتیں درست نہیں ہیں۔ تو جنہوں نے نہیں ماننا ہوتا، وہ پھر اور ایسی ایسی ایسے ایسے راستے نکال لیتے ہیں کہ انسان بیان نہیں کر سکتا، کہتے ہیں یہ نام جو رکھے، کسی اور کی نسبت سے رکھے۔ اور بات پھر اور دوسری طرف سے بات کو پکڑ لیتے ہیں، جب نہیں ماننا تو کہتے ہیں نہیں ماننا ہم نے، کہتے ہیں حضرت علی نے تو اپنے بچوں کے نام ان کے نام پر رکھے، انہوں نے اپنے بچوں کے نام حضرت علی کے نام پر کیوں نہیں رکھے؟ دیکھو، عجیب عجیب اعتراض ہے، جب بات کو نہیں ماننا سو نہیں ماننا بھئی۔ دعا کرو، اللہ میری ان باتوں کو اصلاح کا ذریعہ بنائے، اور جن جن تک یہ بات پہنچے اور سننے والوں کے، اللہ سینوں کو کھول دے، اور دینِ حق کی طرف وہ آ جائیں، کہ یہ جس راستے کو علی اور حسن اور حسین کا راستہ بتلایا جا رہا ہے، یہ دراصل ان کا راستہ نہیں ہے، ان کا راستہ نہیں ہے۔ یہ جرات والے لوگ تھے، شجاعت والے لوگ تھے، غیرت والے لوگ تھے، انہوں نے اپنی جانیں قربان کر دیں لیکن لیکن کبھی ناحق کو قبول نہیں کیا، تو یہ تقیہ کیسے کر سکتے ہیں بھئی؟ تقیہ کیسے کر سکتے کر سکتے ہیں؟ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کا واقعہ ہے، کہتے ہیں ایک دن آپ ایک پرانی پرانا سا کمبل اوڑھ کر بیٹھے ہوئے تھے، بڑے ہی غمگین بیٹھے ہوئے ہیں۔ کوئی جاننے والے آئے، حضرت ابو مریم رحمہ اللہ، وہ جاننے والے، وہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آتے جاتے تھے تابعین، تو وہ آئے، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پریشان اور غمزدہ بیٹھے ہوئے دیکھا، اور دیکھا ایک کمبل اوڑھا ہوا ہے بڑا ہی پرانا، تو کہنے لگے: یا امیر المؤمنین! یہ کمبل بڑا پرانا ہے، اس کو بدل لیں۔ پھٹا ہوگا، پرانا ہوگا، کہیں سے ادھڑا ہوگا۔ تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ سنتے ہی رو نے لگ پڑے۔ پہلے ہی غمگین بیٹھے تھے، اب رو نے لگ پڑے۔ تو وہ کہنے لگے حضرت ابو مریم کہ: یا امیر المؤمنین! اگر مجھے پتہ ہوتا میری بات سے آپ کو تکلیف ہوگی، تو میں کبھی یہ بات نہ کہتا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے: تم جانتے ہو یہ کمبل مجھے کس نے اوڑھایا ہے؟ یہ کمبل مجھے میرے خلیل نے اوڑھایا ہے، خلیل کہتے ہیں گہرا دوست، گہرا محبوب، یہ کمبل مجھے میرے خلیل نے اوڑھایا ہے، خلیل نے پہنایا۔ انہوں نے پوچھا کہ: یا امیر المؤمنین! آپ کے خلیل کون؟ کہا: عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ یہاں کیسی محبت تھی کہ ان کی یاد آئی، ان کا کمبل اوڑھا ہوا ہے، اور حضرت علی غم کی وجہ سے رو رہے ہیں۔ تو کتنی محبت تھی حضرت علی کے دل میں کہ بیان سے باہر ہے۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ جب حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو باغیوں نے گھر میں محصور کر دیا، بند کر دیا، سب کچھ بند ہے۔ تو جو چند لوگ حفاظت کرنے والے تھے، ان میں حضرت علی کے بیٹے غالباً حضرت حسن یا حضرت حسین بھی تھے، جن کو حضرت علی نے وہاں کھڑا کیا کہ تم یہاں کھڑے رہو ان کی، امیر المؤمنین کی حفاظت کے لیے۔ دیکھو، جب جان جانے کا خطرہ ہے، لیکن اتنی محبت ہے کہ اپنے بیٹے کو وہاں پر کھڑا کر دیا کہ تم نے ان کا خیال رکھنا ہے، کوئی باغی یہاں تک پہنچنے نہ پائے۔ تو ان میں اتنی محبتیں تھیں کہ بیان سے باہر ہے، بیان سے باہر ہے۔ اور الحمد للہ، کہ اللہ نے ہمیں سب کی محبت نصیب فرمائی ہے۔ اللہ! تو دعا کرو، میری یہ باتیں جو جن جن تک پہنچیں، اللہ ان کے سینوں کو کھول دیں، اور وہ خود یہ چھوٹی سی چند باتیں ہیں بھئی، جب بحث میں انسان پڑتا ہے تو پھر کوئی بات کبھی مانتا نہیں ہے، لیکن اگر اچھے طریقے سے دو چار جملے بھی کہے جائیں، وہ بھی ذہن کو کھولنے کے لیے کافی ہیں، تو اگر وہ میری ان دو چار باتیں ہیں جو میں نے سادہ سی کی ہیں، کوئی دلائل کے ذریعے ان کو ہرانے کی کوشش نہیں کی، آسان سی سمجھانے کے لیے، ان کے دل کے دریچوں کو کھولنے کے لیے چند باتیں کی ہیں، تو دعا کرو اللہ ان کے دل کے دریچوں کو کھول دے، اور اس کے ذریعے ہزاروں لاکھوں بلکہ کروڑوں لوگوں کو دینِ حق کی طرف رجوع کی توفیق نصیب فرما دے۔ صحیح۔ آگے دیکھیے بھئی: قَوْلُهُ: فِي مَنَاهِجَ، جَمْعُ مَنْهَجٍ، یہ مناہج جمع ہے منہج کی۔ وَهُوَ الطَّرِيقُ الْوَاضِحُ، اور وہ واضح راستے کو کہتے ہیں۔ منہج کسے کہتے ہیں؟ واضح راستہ۔ قَوْلُهُ: الصِّدْقِ، قَوْلُهُ: الصِّدْقِ، متن میں مجرور تھا، تو وہی اعراب یہاں ہم پڑھ لیں۔ قَوْلُهُ: الصِّدْقِ، الْخَبَرُ وَالاِعْتِقَادُ إِذَا طَابَقَ الْوَاقِعَ كَانَ الْوَاقِعُ أَيْضًا مُطَابِقًا لَهُ فَإِنَّ الْمُفَاعَلَةَ مِنَ الطَّرَفَيْنِ۔ اچھا، یہ ذرا مشکل مقام ہے، اس کو اچھی طرح سمجھ لیں بھئی۔ یاد رکھیے، ایک ہے صدق اور ایک ہے حق، ایک ہے صدق اور ایک ہے حق۔ صدق اور حق، اور دونوں کا معنی تقریباً ایک ہے۔ صدق اور حق کا معنی ہے درست، صحیح، سچ، تو جو بھی درست ہو، صحیح ہو اور سچ ہو، اس کو صدق بھی کہتے ہیں اور حق بھی کہتے ہیں بھئی، حق بھئی۔ البتہ ان میں کچھ معمولی فرق ہیں، جیسے شارح یہاں پر ایک، ایک فرق ذکر کریں گے۔ والد صاحب رحمہ اللہ سے جب ہم شرح عقائد پڑھ رہے تھے، جو جس میں عقیدوں کا بیان ہے علمِ کلام کے اندر یہ کتاب ہے، آپ بھی انشاء اللہ درجہ سادستہ میں پڑھیں گے۔ تو وہاں پر صدق اور حق کے بارے میں آیا، تو والد صاحب نے ان دونوں میں کچھ فرق ہمیں بیان کیے تھے، ہمیں کچھ فرق لکھوائے تھے، آپ بھی وہ فرق لکھ لیجیے، انشاء اللہ آپ کو ہر جگہ کام آئیں گے۔ اچھا، پہلے ایک بات سمجھ لیں بھئی، اس کے بعد پھر لکھیں۔ یاد رکھیے، ایک ہوتا ہے قولِ ملفوظ، ایک ہوتا ہے قولِ معقول، توجہ ہے؟ ایک ہوتا ہے قولِ ملفوظ، وہ بات جس پر ہم تلفظ کریں، مثلاً میں زبان سے کہتا ہوں کہ: "زید کھڑا ہے"، یہ کیا ہے؟ قولِ ملفوظ، لیکن یہ جب زبان سے میں نے کہا، تو کہنے سے پہلے ہم ہمیشہ بات کو ذہن میں سوچتے ہیں کہ کیا بولنا ہے، اور پھر ہم اس پر کلام کرتے ہیں۔ تو پہلے میں نے ذہن میں سوچا کہ زَیْدٌ قَائِمٌ، "زید کھڑا ہے"، اور پھر میں نے اس پر تلفظ کیا۔ تو جب تک یہ بات ذہن میں ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ قولِ معقول، کیا کہتے ہیں؟ قولِ معقول، اور اسی کو عقیدہ بھی کہتے ہیں۔ جب میں نے کہا: "زید کھڑا ہے"، تو کیا معنی؟ میں نے مان لیا کہ زید کھڑا ہے، تو اسی کو عقیدہ بھی کہتے ہیں، جیسے ہم کہتے ہیں: "اللہ ایک ہے"، تو اس بات کو ہم مان لیتے ہیں، ہمارے ذہن میں یہ ہے۔ تو یہ کیا ہے؟ عقیدہ، یا اس کو کیا کہتے ہیں؟ قولِ معقول، اور جب ہم اسی کو زبان سے بولیں، تو یہ جو الفاظ ہیں، اس کو کیا کہتے ہیں؟ قولِ ملفوظ کہتے ہیں بھئی، قولِ ملفوظ۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اچھا، اب لکھیے بھئی: صدق اور حق میں چار فروق ہیں: فرقِ اول: صدق کا مصداق صرف ایک، یعنی قول ہے، یعنی قضیہ ملفوظہ۔ یعنی صرف قول جو ہے، وہ صدق سے موصوف ہوتا ہے، چنانچہ کہتے ہیں: هَذَا الْقَوْلُ صَادِقٌ۔ جبکہ حق کے مصداق چار ہیں عموماً: نمبر 1: اقوال، نمبر 2: عقائد، نمبر 3: ادیان (ادیان جمع ہے دین کی)، ادیان، اور نمبر 4 ہے: مذاہب۔ یہ چاروں امور حق کے ساتھ موصوف ہوتے ہیں، چنانچہ کہتے ہیں: هَذَا الْقَوْلُ حَقٌّ، اسی طرح کہتے ہیں: هَذِهِ الْعَقِيدَةُ حَقٌّ، هَذَا الدِّينُ حَقٌّ، اور اسی طرح هَذَا الْمَذْهَبُ حَقٌّ۔ قول سے مراد نسبتِ تام خبری ہے، یعنی جس کے کہنے والے کو سچا جھوٹا کہا جا سکے، یعنی جس کو آپ خبر بھی کہتے ہیں لکھیے آگے: جس کو آپ خبر بھی کہتے ہیں۔ بھئی دیکھو، پہلے سمجھ لو ایک چھوٹی سی چیز۔ دیکھو کلام دو قسم پر ہے: ایک ہے انشاء، ایک ہے خبر۔ یہ جو خبر ہے نہ خبر، یہ ہے نسبتِ تام خبری، یعنی وہ حکم، یعنی وہ حکم ہے۔ حکم جانتے ہو؟ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: زَیْدٌ قَائِمٌ، یہ میں آپ کو ایک خبر دے رہا ہوں، جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے، اس کو خبر بھی کہتے ہیں، اسی کو قول بھی کہہ دیا، اور اسی کو قضیہ ملفوظہ بھی کہہ لیں، اور اسی طرح اس کو حکم بھی کہہ لیں، حکم کیا ہے؟ یہاں کیا حکم میں بیان کر رہا ہوں؟ حکم کیسے نکالتے ہیں؟ کیا چیز بیان ہو رہی ہے؟ زَیْدٌ قَائِمٌ۔ یہ تو پورا جملہ آپ نے بول دیا۔ حکم کیا بیان ہو رہا ہے؟ ہاں، زید کا، دیکھو خبر کیا ہے؟ کھڑا ہونا، اس کی اضافت کر دو مبتدا کی طرف: زَیْدٌ قَائِمٌ، قَائِمٌ کا مصدر کیا؟ قیام، اور مبتدا کیا؟ زید، اس کی طرف اضافت کر دو: قِیَامُ زَیْدٍ۔ آپ سے کوئی پوچھے اس قضیے میں کون سا حکم بیان ہو رہا ہے؟ آپ کیا کہیں گے؟ قیامِ زید، قِیَامُ زَیْدٍ، قِیَامُ زَیْدٍ یا یوں کہو اردو میں قیامِ زید بیان ہو رہا ہے، زید کا کھڑا ہونا۔ آگے لکھیے: عقیدہ اور قول دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔ قول سے قضیہ ملفوظہ مراد ہے، اور عقیدہ سے مراد قضیہ معقولہ ہے۔ جو عقیدہ واقع کے مطابق ہو، تو کہا جاتا ہے: هَذِهِ الْعَقِيدَةُ حَقٌّ۔ قول اور عقیدہ شخصی چیزیں ہیں، جبکہ دین کلی چیز ہے۔ دین وہ ہوتا ہے جو منسوب الی اللہ ہو، چاہے یہ نسبت درست ہو یا نہ ہو۔ جبکہ مذاہب کی بنیاد رائے اور عقل پر ہوتی ہے۔ لکھ لیا؟ فرقِ ثانی: صدق کا مقابل کذب ہے، کاف چھوٹا، ذال اور باء، کذب، جس کو اسی کو آپ کذب بھی پڑھتے ہیں بھئی، کذب۔ تو صدق کا مقابل کذب ہے، اور حق کا مقابل باطل ہے۔ فرقِ ثالث: تیسرا فرق اعتباری ہے، واقعی اور حقیقی نہیں۔ دونوں میں مطابقت بَیْنَ الْوَاقِعِ وَالْحُكْمِ ضروری ہے۔ بھئی، پہلے اس کو سمجھ لو، پھر یہ پورا کرتے ہیں، ادھر دیکھو بھئی۔ بھئی، میں نے بتلایا: صدق اور حق، دونوں کا معنی کیا ہے؟ صحیح، درست اور سچ، لیکن کچھ فرق بھی ہیں جو ہم لکھ رہے ہیں۔ ایک فرق کیا ذکر کیا کہ صدق صرف کس کی صفت بنتا ہے؟ قول، هَذَا الْقَوْلُ صَادِقٌ کہتے ہیں عام طور پر، اور جبکہ حق، وہ چار چیزوں کی صفت بنتا ہے، کس کس کی؟ اقوال کی بھی، عقائد کی بھی، عقیدوں کی بھی صفت بنتا ہے، دین کی بھی اور مذہب کی بھی، ان سب کی صفت بنتا ہے حق بھئی۔ اور دونوں میں مطابقت ہوتی ہے بَیْنَ الْوَاقِعِ وَالْحُكْمِ۔ مثلاً میں نے دیکھو، ایک ہے میں زبان سے کہتا ہوں: "زید کھڑا ہے"، یہ ہیں الفاظ میرے، کیا ہیں؟ اور ایک واقعہ اور خارج ہے کہ خارج میں بھی زید کھڑا ہے یا کھڑا نہیں، تو اگر میرے یہ الفاظ واقعہ کے مطابق ہیں، تو یہ ہے صدق، یہ کیا ہے؟ صدق ہے۔ میرے الفاظ کہہ لو یا میرا قضیہ ملفوظہ کہہ لو، یا میری یہ خبر جو ہے، یا میرا جو حکم ہے جو میں نے زبان سے ادا کیا، یہ حکم کیا ہے؟ واقعہ کے مطابق ہے۔ تو صدق میں بھی واقعہ کے ساتھ مطابقت دیکھی جاتی ہے، اگر آپ کی بات واقعہ کے مطابق ہے، آپ نے بھی زبان سے کہا "زید کھڑا ہے"، اور واقعہ میں بھی زید کھڑا ہے، تو ہم کہیں گے: هَذَا الْقَوْلُ صَادِقٌ، کہ یہ قول کیا ہے؟ سچا ہے، کیونکہ یہ واقعہ کے مطابق ہے۔ اسی طرح آپ کا قول اگر واقعہ کے مطابق ہے، تو بھی کہیں گے کہ: هَذَا الْقَوْلُ حَقٌّ، یہ قول کیا ہے؟ حق ہے، صحیح ہے۔ تو معلوم ہوا یہاں مطابقت دیکھی جائے گی۔ کس چیز میں؟ بَیْنَ الْوَاقِعِ وَالْحُكْمِ، کس میں مطابقت دیکھو گے؟ واقعہ کے ساتھ اس جو حکم آپ لگا رہے ہیں۔ توجہ ہے؟ تو یاد رکھیے، صدق میں مطابقت دیکھی جائے گی حکم کی طرف سے، کس کی طرف سے؟ کہ یہ حکم مطابق ہے، توجہ سے، حکم مطابق ہے کس کے؟ واقعہ کے، توجہ ہے؟ حکم مطابق ہے کس کے؟ تو واقعہ اس کے مطابق ہوا، کیونکہ ایک اس میں فاعل ہے تو دوسرا کیا بنے گا؟ اس میں مفعول، تو جب آپ کہتے ہیں کہ یہ حکم یا یہ قول واقعہ کے مطابق ہے، تو واقعہ کیا ہوا اس کے؟ مطابق ہوا، اور اگر آپ واقعہ کی طرف سے دیکھیں کہ یہ واقعہ اس حکم کے مطابق ہے، تو حکم کیا ہوگا اس کے؟ مطابق ہوگا، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ بات ایک ہی ہے، بات ایک ہی ہے، جیسے ترپائی ہے آپ کے سامنے تین فٹ کی، آپ چاہیں تو دائیں طرف سے اس کی پیمائش کریں تو بھی تین فٹ، آپ چاہیں تو بائیں طرف سے پیمائش کریں تو بھی کتنی؟ تین فٹ، تین فٹ ہے تو بہرحال بات ایک ہی ہے، البتہ ایک میں مطابقت کس کی طرف سے دیکھی جائے گی؟ حکم کی طرف سے، صدق میں مطابقت دیکھی جائے گی حکم کی طرف سے، اور حق کے اندر مطابقت دیکھی جائے گی واقعہ کی طرف سے۔ میں نے بتلایا فرق کوئی نہیں پڑے گا، کیونکہ جب ایک مطابق ہوگا تو دوسرا کیا ہوگا؟ مطابق۔ اگر یہ مطابقت آپ کس کی طرف سے دیکھتے ہیں؟ حکم کی طرف سے، یہ دیکھتے ہیں کہ یہ حکم واقعہ کے مطابق ہے، تو واقعہ کیا بن گیا؟ مطابق، تو اس کو کیا کہیں گے؟ صدق۔ اور اگر آپ مطابقت دیکھتے ہیں واقعہ کی طرف سے کہ یہ واقعہ کیا ہے؟ اس حکم کے مطابق ہے، تو واقعہ ہوا مطابق، تو حکم کیا ہوا؟ مطابق، تو پھر اسی کو حق کہیں گے۔ تو اگر مطابقت کس کی طرف سے دیکھیں؟ حکم کی طرف سے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ اس کو صدق کہیں گے، اور اگر آپ مطابقت دیکھتے ہیں کس کی طرف سے؟ واقعہ کی طرف سے، کہ یہ واقعہ کیا ہے؟ حکم کے مطابق ہے، تو پھر اسی اس کو کیا کہیں گے؟ حق کہیں گے کہ یہ قول کیا ہے؟ حق ہے۔ ویسے تو ایک ہی قول ہے نہ، قول میں حکم آئے گا یا نہیں آئے گا؟ تو اس میں اگر آپ مطابقت کس کی طرف سے دیکھیں؟ قول کی طرف سے، یعنی حکم کی طرف سے، کس کی طرف دیکھیں؟ واقعہ کی طرف، تو کیا کہیں گے؟ هَذَا الْقَوْلُ... کس کی طرف سے دیکھ رہے ہو؟ کیا بات ہے، مشکل ہو گئی بات؟ پھر سنو، پھر سنو! دیکھو، قول جو ہے نہ قول، اس کو حق بھی کہتے ہیں، اسی کو صدق بھی کہتے ہیں، هَذَا الْقَوْلُ حَقٌّ، کہتے ہیں یا نہیں کہتے؟ اور هَذَا الْقَوْلُ صِدْقٌ بھی کہتے ہیں یا نہیں؟ تو یہ کس وقت صدق کہیں گے، اور کس وقت اس کو حق کہیں گے؟ تو دیکھو، یہاں دو چیزیں ہیں: ایک وہ قول ہے، یعنی حکم، کیا ہے؟ حکم کہہ لو یا قول کہہ لو، یہ قول اگر اس کی مطابقت ہوگی کس کے ساتھ؟ واقعہ کے ساتھ، تو اگر آپ قول کی طرف سے، یعنی حکم کی طرف سے کس کو دیکھتے ہیں؟ مطابقت کو، تو قول ہوا مطابق، اور وہ واقعہ کیا ہوا؟ مطابق، تو کیا کہیں گے؟ هَذَا الْقَوْلُ صَادِقٌ، هَذَا الْقَوْلُ... تو مطابقت کس کی طرف سے دیکھ رہے ہیں؟ قول کی طرف سے، حکم کی طرف سے، توجہ ہے؟ میں نے مثال، بات ایک ہی ہے، جیسے ترپائی تین فٹ کی ہے، آپ دائیں طرف سے ناپیں تو بھی تین فٹ، بائیں طرف سے ناپیں تو بھی تین فٹ، صرف اعتباری فرق ہے، آپ نے ایک نے اعتبار کیا دائیں طرف سے، دوسرے نے اعتبار کیا کس کی طرف سے؟ بائیں طرف سے، بات ایک ہی ہے۔ تو یہ اعتباری فرق ہے، جس میں ہم اعتبار کر رہے ہیں، اگر آپ مطابقت ایک طرف سے قول کی طرف سے دیکھتے ہیں اور یا واقعہ کی طرف سے آپ مطابقت دیکھتے ہیں، تو پھر تو یہ فرق ہے، اگر آپ اس کا اعتبار ہی نہیں کرتے تو کوئی فرق بھی نہیں ہے، چاہے آپ هَذَا الْقَوْلُ صَادِقٌ کہہ دو، چاہے آپ هَذَا الْقَوْلُ حَقٌّ کہہ دو، تو یہ کس پر موقوف ہے؟ معتبر کے اعتبار، آپ اعتبار کرتے ہیں، اعتبار کرنے والا اعتبار کرتا ہے، کیا؟ کہ صدق میں مطابقت کس کی طرف سے معتبر؟ قول اور حکم کی طرف سے، اور حق میں مطابقت کس کی طرف سے معتبر؟ واقعہ کی طرف سے، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ نہیں سمجھ میں آئی بات میرا خیال ہے۔ دیکھو نہ دیکھو، ایک مرد ہے ایک عورت، ان دونوں کے درمیان عقدِ نکاح ہو گیا، تو یہ جو دونوں میں تعلق ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ نکاح، کیا کہتے ہیں؟ اور اس نکاح کی وجہ سے ایک کو کہیں گے بیوی اور دوسرے کو کہیں گے خاوند، اگر یہ ربط اور تعلق نہ ہوتا، تو میاں بیوی ان کو کہتے؟ نہیں، وہ ایک آدمی تھا اور ایک عورت تھی، لیکن جب عقدِ نکاح ہو گیا، دونوں میں تعلق آ گیا، ربط آ گیا، تو ایک کو کہیں گے بیوی اور دوسرے کو کہیں گے خاوند۔ بیوی اس کو کہیں گے کس کی طرف دیکھتے ہوئے؟ شوہر کی طرف، اس عورت کو بیوی کہیں گے کس کی طرف دیکھتے ہوئے؟ شوہر کی طرف، اور شوہر کو ہم شوہر کہتے ہیں کس کی طرف دیکھتے ہوئے؟ بیوی کی طرف دیکھتے ہوئے، تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے: ایک ہے قول جو آپ کہتے ہیں، اور ایک کیا ہے؟ واقعہ ہے، میں کہتا ہوں "زید کھڑا ہے"، یہ میں نے کس سے کہا؟ زبان سے، اور واقعہ میں بھی پھر دیکھیں گے، "زید کھڑا ہے" یا "کھڑا نہیں"، تو یہ جو قول کی مطابقت ہے، قول کی واقعہ کے ساتھ مطابقت ہے، اسی کے دو نام ہیں: ایک کیا؟ صدق، اور دوسرا کیا؟ حق۔ صدق کب کہیں گے اور حق کب کہیں گے؟ تو اگر آپ دیکھتے ہیں قول اور حکم کی طرف سے، مطابقت کس کی طرف سے؟ قول اور حکم کی طرف سے، تو پھر یہ کیا ہے؟ صدق، اور اگر آپ مطابقت دیکھتے ہیں کس کی طرف سے؟ واقعہ کی طرف سے، تو پھر یہ کیا ہے؟ حق۔ تو معلوم ہوا، صدق میں موصوف کون ہوتا ہے؟ قول، حکم، صدق میں کون موصوف ہوتا ہے؟ اور حق میں موصوف کون ہوتا ہے؟ واقعہ موصوف ہوتا ہے، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہذا دونوں میں کون سا؟ جیسے میاں بیوی میں تھا عقدِ نکاح، یہاں، یہاں واقعہ، قول اور واقعہ ہے، قول اور واقعہ میں کون سی نسبت ہے؟ مطابقت، کیا ہے؟ یہ جو تعلق ہے اس کو مطابقت کہتے ہیں، یہ مطابقت اگر کس کی طرف سے دیکھیں؟ قول اور قول اور حکم کی طرف سے، تو قول اور حکم ہوا مطابق، اور واقعہ ہوا مطابق، اور اس کو کیا کہتے ہیں؟ صدق کہتے ہیں، اور اگر یہ مطابقت ہم دیکھیں کس کی طرف سے؟ واقعہ کی طرف سے، تو واقعہ ہوا مطابق، اور وہ قول اور حکم کیا ہوا؟ مطابق، اور اس کو کیا کہیں گے؟ حق کہیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ اچھا، تو کیا لکھا؟ تیسرا فرق: اعتباری ہے واقعی اور حقیقی نہیں۔ دونوں میں مطابقت بَیْنَ الْوَاقِعِ وَالْحُكْمِ ضروری ہے، لکھ لیا؟ آگے لکھیے: حق میں مطابقت مِنْ جَانِبِ الْوَاقِعِ لِلْحُكْمِ معتبر ہے۔ یوں کہتے ہیں کہ واقعہ مطابقِ حکم ہے، یوں کہتے ہیں کہ واقعہ مطابقِ حکم ہے، واقعہ مطابقِ قول ہے، دو جملے۔ واقعہ مطابقِ حکم ہے، واقعہ مطابقِ قول ہے۔ تو واقعہ مطابق ہوا، تو واقعہ مطابق ہوا، اور قول مطابق ہوا حق میں۔ نشان لگا دیں بات پوری ہو گئی۔ کیونکہ لفظِ حق کے معنی کا تقاضا یہ ہے: حَقَّ الشَّيْءُ، اعراب بھی ڈال لیں: حَقَّ الشَّيْءُ، یا کے بعد ہمزہ ڈالنی ہے، الشَّيْءُ، حَقَّ الشَّيْءُ أَيْ ثَبَتَ الشَّيْءُ، أَيْ ثَبَتَ الشَّيْءُ۔ یہ حق کا لغوی معنی ہے۔ یعنی چیز موجود ہے، یعنی چیز موجود ہے، آگے لکھو: یعنی چیز کا واقعہ میں وجود ہے۔ جبکہ صدق میں، جبکہ صدق میں مطابقت بَیْنَ الْحُكْمِ لِلْوَاقِعِ، دو لام آئیں گے، لِلْوَاقِعِ معتبر ہے۔ معتبر ہے۔ صدق میں اصل موصوف، صدق میں اصل موصوف حکم ہے، اور حق میں اصل موصوف واقعہ ہے، اور حق میں اصل موصوف واقعہ ہے، اگرچہ نتیجہ ایک ہی ہوگا۔ اگرچہ نتیجہ ایک ہی ہوگا، جیسے ترپائی کی لمبائی دو گز ہو، جیسے ترپائی کی لمبائی دو گز ہو، ترپائی تا دو نقطوں والی، پ، اور الف، جیسے ترپائی کی لمبائی دو گز ہو، چاہے ادھر سے ناپیں یا ادھر سے، چاہے ادھر سے ناپیں یا ادھر سے، فرق صرف اعتباری ہے، فرق صرف اعتباری ہے۔ فرقِ چہارم: فرقِ چہارم، صدق قائل کی صفت بنتا ہے، صدق قائل کی صفت بنتا ہے، چنانچہ کہتے ہیں: هَذَا الْقَائِلُ صَادِقٌ، هَذَا الْقَائِلُ صَادِقٌ، لکھ لیا؟ هَذَا الْقَائِلُ صَادِقٌ، هَذَا الْمُتَكَلِّمُ صَادِقٌ، هَذَا الْمُتَكَلِّمُ صَادِقٌ، زَيْدٌ صَادِقٌ، زَيْدٌ صَادِقٌ۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ متکلم بھی کون ہے؟ قائل ہے، زید بھی کون ہے؟ قائل ہے، تو قائل کی یہ صفت بنتا ہے، تو لفظِ قائل ہونا ضروری نہیں، زید قائل صفت ہے اس کی وہ قائل ہے، تو آپ اس کو صادق کہہ سکتے ہیں، یا متکلم ہے تو وہ اس کو آپ صادق کہہ سکتے ہیں۔ جبکہ حق وہ قائلین کے لیے وصف نہیں بنتا، جبکہ حق قائلین کے لیے صفت نہیں بنتا، لہذا هَذَا الْقَائِلُ حَقٌّ، هَذَا الْقَائِلُ حَقٌّ، یا هَذَا الْمُتَكَلِّمُ حَقٌّ، یا هَذَا الْمُتَكَلِّمُ حَقٌّ، یا زَيْدٌ حَقٌّ نہیں کہیں گے، یا زَيْدٌ حَقٌّ نہیں کہیں گے۔ لکھ لیا بھئی؟ چلیے جی، یہ بحث مکمل ہوئی بھئی۔ دیکھیے بھئی، اب شرح کے اندر، اب آپ کو بات سمجھ میں آئے گی۔ قوله قوله الصدق، چاہیں تو اعراب متن میں ہے، وہی اعراب یہاں پڑھ لیں۔ وہاں پر کیا تھا؟ کہ معنی کے لحاظ سے وہ مجروہوتا تھا۔ قوله صدق الخبر والاعتقاد، دیکھا کسی کی بات کر رہے ہیں؟ خبر اور اعتقاد یہی ہے۔ ابھی دیکھیے۔ عقیدہ کس کا نام ہے؟ قول معقول اور خبر کس کا نام ہے؟ قول ملفوظ، قول ملفوظ۔ تو وہی بیان کر رہے ہیں کہتے ہیں الخبر والاعتقاد، خبر اور اعتقاد جو ہیں إذا طابق الواقع، جب یہ دونوں واقع کے مطابق ہوں، تو کان الواقع ایضا مطابقا لہ، تو واقع بھی ان کے مطابق ہو۔ تو واقع بھی ان کے۔ بھئی جب یہ اس کے مطابق ہیں، تو وہ اس کے مطابق ہوا۔ اب ان میں مطابقت کیا ہے؟ دونوں طرف سے فعل چاہتا ہے یا نہیں؟ آپ کہیں ایک کو مطابق بناتے ہیں، کبھی دوسرے کو مطابق بناتے ہیں۔ اسی لیے بنا رہے ہیں کہ دونوں میں مطابقت دونوں طرف سے ہو سکتی ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو کہتے ہیں خبر اور اعتقاد إذا طابق الواقع جب یہ واقع کے مطابق ہوں، تو کان الواقع ایضا مطابقا لہ تو واقع بھی ان کے مطابق ہوگا۔ فان المفاعلة من الطرفین، اس لیے کیونکہ باب مفاعلہ کیا ہے؟ دونوں دونوں طرف سے ہوتا ہے، دونوں طرف سے فعل کو چاہتا ہے۔ جیسے ضرب زید عمروا تو معنی کیا ہوا؟ دونوں نے ایک دوسرے کی پٹائی کی زاربی ہے اور مضروب اور امر بھی زاربی ہے اور مضروب۔ اچھا۔ فان المفاعلة من الطرفین اس لیے کیونکہ باب مفاعلہ جو ہے دونوں جانب سے ہوتا ہے فھو من حيث انه مطابق للواقع، پس یہ خبر اور اعتقاد۔ ان میں سے ہر ایک۔ دونوں میں سے ہر ایک۔ اس حیثیت سے کہ یہ مطابق ہے للواقع، کس کے؟ واقع کے مطابق ہے۔ بالقسر، کسرہ کے ساتھ، کیا معنی بالقسر؟ کیا چیز ہے کسرہ کے ساتھ؟ مطابق لفظوں کے پیچھے گزرنا، اس لیے کہ ایک بات کے اس کو کسرہ کے ساتھ پڑھنا۔ کس کے ساتھ؟ کسرہ۔ یہ ہمارے ہمارے علماء کا طریقہ، وہ کیا کرتے ہیں؟ جہاں غلطی کا شبہ ہو، تو لفظوں میں صراحتًا ذکر کر دیتے ہیں۔ یہاں اب مطابق پڑھنا ہے یا مطابق پڑھنا ہے، دونوں احتمال اور دونوں صورتیں بن سکتی تھیں، تو انہوں نے لکھ دیا بالقسر، کہ یہ کس کس کے ساتھ ہے؟ کسرے کسرے یہ مطابق پڑھنا ہے، مطابق نہیں۔ تو یہ تو یہ دونوں اس حیثیت سے کہ انہ مطابق للواقع کہ یہ واقع کے مطابق ہے بالقسر یسمى صدقا تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ صدق کہتے ہیں۔ ومنہ حيث انه مطابق لہ بالفتح، اور اس حیثیت سے کہ یہ واقع کے مطابق ہے۔ مطابق ہے۔ معلوم ہوا آپ کس کی طرف سے دیکھ رہے ہو؟ واقع واقع کی طرف سے دیکھ رہے ہو وہ مطابق ہے اور یہ مطا وممن حيث انه مطابق لہ بالفتح، اور اس حیثیت سے کہ واقع کے مطابق ہے فتحہ کے ساتھ، یسمى حقا، تو اس کو حق کہتے ہیں۔ وقد يطلق الصدق والحق، اور کبھی کبھار صدق اور حق کا اطلاق ہوتا ہے، یعنی بولا جاتا ہے علی نفس المطابقتہ ایضا، نفس مطابقت پر بھی۔ کس پر؟ نفس مطابقت پر۔ بھئی پہلے تو یہ تھا ایک کی طرف سے ہم دیکھتے تھے۔ مثلاً حکم کی طرف سے یا عقیدے کی طرف سے دیکھا تو یہ کیا ہے؟ مطابق اور واقع کیا ہے؟ مطابق تو حکم کی طرف سے یہ کیا ہے؟ صدق۔ اور واقع کی طرف سے اگر دیکھو تو یہ کیا ہے؟ حق ہے۔ حق ہے۔ یہ کیا ہے؟ حق ہے۔ لیکن کبھی ان دونوں کے درمیان جو ربط ہے، جو تعلق ہے، جو جوڑ ہے، اس جوڑ ہی کو، اس پر ہی یہ صدق اور حق بول دیے جاتے ہیں۔ کس پر؟ جوڑ اور مطابقت ہے۔ کیا ہے؟ جوڑ۔ دیکھو، ایک طرف ہے صدق ایک طرف ہے حکم اور ایک طرف کیا ہے؟ واقع ہے۔ ایک طرف کیا ہے؟ حکم حکم، ایک طرف حکم ہے۔ ایک طرف حکم ہے، دوسری طرف واقع ہے۔ تو ان دونوں میں کوئی تعلق ہے یا ویسے ہی مطابق اور مطابق کہہ رہے ہو؟ تعلق ہے۔ تعلق ہے، کون سا تعلق ہے؟ مطابقت والا ہے۔ جیسے میاں بیوی میں ان کے بیچ کون سا تعلق ہے؟ نکاح۔ تو درمیان میں تعلق ہے، اس تعلق کو جیسے وہاں نکاح کہتے ہیں۔ یہاں پر تعلق کو، وہ جو مطابقت ہے، اس اسی کو صدق بھی کہہ دیتے ہیں اور اسی کو کبھی کبھار حق بھی کہہ دیتے ہیں یہ جو دونوں میں آپس میں مطابقت ہے، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ پہلے کیا تھا؟ یا تو ہم حکم کو موصوف کر رہے تھے، جب مطابقت کس کی طرف سے دیکھی؟ حکم کی طرف سے۔ اور جب مطابقت واقع کی طرف سے دیکھی تو کس کو موصوف کر رہے تھے؟ واقع کو۔ لیکن کبھی ان دونوں سے قطع نظر، دونوں کے درمیان جو کیا ہے؟ نفس مطابقت ہے، اس کے اعتبار سے ہی اس اس چیز کو صدق اور حق کہہ دیتے ہیں۔ تو یہ ماننا ہے وقد يطلق الصدق والحق على نفس المطابقتہ ایضا، اور کبھی کبھار اطلاق ہوتا ہے صدق اور حق کا نفس مطابقت پر بھی، نفس مطابقت پر ہی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ البتہ اس میں بھی جانب معتبر ہوگی، اگر یہ مطابقت اس نظر سے ہے کہ یہ حکم کی طرف سے آپ دیکھ رہے ہیں، تو یہ کیا ہے؟ صدق، اور یہ مطابقت آپ دیکھ رہے ہیں، لیکن کس کی طرف سے دیکھ رہے ہیں؟ واقع واقع کی طرف سے تو اس کو کیا کہیں گے؟ حق کہیں گے۔ تو نام تو اسی مطابقت کا ہے، لیکن اس میں بھی جانب ملحوظ ہوگی۔ تو یہاں دیکھیے، شارح کے کلام کا حاصل یہ ہوا۔ شارح نے کیا کہا تھا؟ قوله صدق، الخبر والاعتقاد، کس کی بات کی؟ خبر اور عقیدے کی۔ یعنی قول اور عقیدے کی، کس کی بات کی؟ قوله قول اور اور عقیدے کی بات کی۔ تو مشکل، تو اس شارح کے کلام کا حاصل یہ ہوا کہ قول اور عقیدہ توجہ ہے؟ قول اور عقیدہ اس حیثیت سے، کہ یہ واقعے کے مطابق ہوں، تو ان کو صدق کہا جاتا ہے۔ ان کو صادق کہا جاتا ہے۔ قول اور عقیدہ، توجہ ہے؟ اس حیثیت سے، کہ یہ واقعے کے مطابق ہوں، تو ان کو صادق کہا جاتا ہے۔ اور قول اور عقیدے کو حق کہا جاتا ہے اس حیثیت سے، کہ واقعہ ان کے مطابق ہو۔ تو اگر قول اور عقیدہ اس حیثیت سے کہ یہ واقعے کے مطابق ہیں، انہی کو صادق کہتے ہیں۔ اور انہی کو حق کہتے ہیں اس حیثیت سے کہ واقعہ ان کے مطابق ہے۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ اگر کوئی بات سمجھ میں نہ بھی آئی ہو تو انشاءاللہ کل دوبارہ میں اس کا خلاصہ ذکر کر دوں گا۔ انشاءاللہ پھر بات خوب اچھی طرح سمجھ میں آ جائے گی۔ چلیے بس، فھذا هو المرام، واللہ اعلم بالحقيقة الکلام۔