Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح التهذيب · dars-019

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Noman Ahmad
📍 Location Peshawar, Pakistan
📅 Approved Date 04 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 20
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
‏ آگے دیکھیے شرح میں۔‏ قوله "به" متعلق بالإقتداء، لا بـ"يليق". فإن اقتداءنا به، عليه السلام، إنما يليق بنا، لا به. فإنه كمالٌ لنا، لا له. وحينئذٍ تقديم الظرف لقصد الحصر والإشارة إلى أن ملته ناسخة لملل سائر الأنبياء. وأما الإقتداء بالأئمة فيقال: إنه اقتداء به حقيقةً. أو يقال: الحصر إضافي بالنسبة إلى سائر الأنبياء، عليهم السلام. أچھا بھئی، قوله "به".‏ بھئی، اوپر متن میں آیا تھا: "ونوراً به الإقتداء يليقُ".‏ "نوراً"، اور وہ آپ کو بتلایا تھا انہوں نے کہ "نوراً"، ایک ترکیب یہ ہے کہ "نوراً" کو بناؤ موصوف اور "به الإقتداء يليق" کو بناؤ اس کی صفت، اور دوسری ترکیب یہ تھی کہ "نوراً" کو بھی حال بناؤ اور "به الإقتداء يليق" کو بھی حال بناؤ، پھر چاہے احوالِ متداخلہ بنا لو اور چاہے احوالِ مترادفة، یا "به الإقتداء يليق" اس کو جملہ مستأنفة بنا دو، کہ یہ استئناف ہے، سوالِ مقدر کا جواب ہے، یا یوں کہو نئی بات شروع ہو رہی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟‏ یہ سب ترکیبیں جو "هو بالإقتداء حقيق" میں تھیں، وہی ساری ترکیبیں "به الإقتداء يليق" میں۔‏ أچھا، یہاں ترکیب میں نے ذکر کی تھی بھئی۔ کیا ترکیب ہے؟‏ "نوراً" تو ہوا موصوف، "به الإقتداء يليق" اس کی کیا ترکیب تھی؟‏ "به": باء جارة، ها ضمير مجرور جو راجع ہے کس کو؟ "نور" کو اگر یہ اس کی صفت آپ بناتے ہیں۔ اور جار مجرور یہ مل کر متعلق ہے "إقتداء" سے، "إقتداء" إفتعال مصدر ہے نا؟ اور جار مجرور فعل سے بھی متعلق ہوتے ہیں، مصدر سے بھی متعلق ہوتے ہیں، اسمِ فاعل سے بھی، اسمِ مفعول سے بھی، صفتِ مشبہ سے بھی، اسمِ تفضیل سے بھی، مبالغے کے صيغوں سے بھی اور اسمِ فعل سے بھی، آٹھ چیزیں جن سے جار مجرور متعلق ہوتے ہیں۔‏ تو یہاں پر ایک تو ہے "الإقتداء" مصدر ہے اور ایک ہے "يليق" فعل بھی موجود ہے، تو یہ "به" کس سے جڑے گا؟ تو شارح آپ کو بتلائیں گے کہ اس "به" کو "الإقتداء" سے جوڑو، "يليق" سے نہ جوڑو۔‏ "يليق" سے نہ جوڑو۔‏ أچھا، پہلے ترکیب ذرا سن لیں۔ تو "به" جار مجرور مل کر متعلق کس سے؟ "إقتداء" مصدر سے، اور "إقتداء" مصدر اپنے متعلق سے مل کر یہ ہوا مبتدا۔‏ "الإقتداء" یہ مرفوع ہے، مبتدا ہے۔‏ اور آپ کو یہ بھی میں نے بتایا تھا کہ یہ جار مجرور جس سے جڑتے ہیں تو یہ ہوتے ہیں متعلق، اور جس سے جڑے وہ ہے متعلق، اور متعلق ان کے اندر عامل ہوتا ہے۔ تو یہ "به" کو ہم نے کس سے جوڑا؟ "الإقتداء" سے، تو "الإقتداء" اس کے اندر ہوا عامل۔ تو پہلے عامل آتا ہے، پھر معمول، لہذا اصل مقام "به" کا جو ہے، "إقتداء" کے بعد ہے: "الإقتداء به".‏ تو "الإقتداء" مرفوع لفظاً مبتدا ہے، اور یہ "به" اسی سے متعلق ہے۔‏ أچھا، اور "يليق" فعل ہے، اس کے اندر "هو" ضمير فاعل جو مبتدا کو راجع، کیونکہ یہ "يليق" جملہ فعلیہ ہو کر خبر بنے گا۔‏ اور خبر کو کس سے جوڑتے ہیں؟ مبتدا سے۔ تو "هو" ضمير وہ "إقتداء" کو راجع، وہ ربط بھی دے رہی ہے۔ تو "يليق" فعل، "هو" ضمير اس کے اندر فاعل،‏ اور یاد رکھیے یہاں "بنا" جار مجرور اس کے لیے محذوف نکال لو، باء جارة، "نا" متکلم کی جمع کی ضمیر، "نا" مجرور محلاً مجرور، باء جارة کے لیے، "بنا". جار مجرور پھر مل کر متعلق کس سے؟ "يليق" سے۔ "يليق" فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر یہ خبر ہوئی کس کے لیے؟ "الإقتداء" کے لیے۔ "الإقتداء" مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ تو یہ ایسا جملہ اسمیہ ہے جس کی خبر جملہ فعلیہ ہے بھئی، جملہ فعلیہ۔‏ تو "الإقتداء به"، تو یہ "به" کس سے متعلق؟ "إقتداء" سے۔‏ تو شارح آپ کو بتلائیں گے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے پہلے کہ "به" کس سے متعلق ہے؟ میں نے تو آپ کو بتلا دیا "الإقتداء" سے، لیکن یہاں دو چیزیں ہیں، ایک ہے "الإقتداء" اور ایک ہے "يليق"، "إقتداء" مصدر ہے اور "يليق" فعل، اور جار مجرور دونوں سے جڑ سکتا ہے، تو یہاں کس سے جڑے گا؟ تو شارح آپ کو بتلائیں گے کہ یہ "به" "إقتداء" سے متعلق ہے، کس سے؟ "إقتداء" سے متعلق ہے۔‏ پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ "إقتداء" سے متعلق ہے تو اس کو پھر "إقتداء" پر مقدم کیوں کیا؟ پہلے تو کون آتا ہے؟ عامل، اور اس کے بعد کون آتا ہے؟ معمول، تو "به" کو "إقتداء" کے بعد ہونا چاہیے تھا۔ تو آپ کو بتلائیں گے کہ اس کو مقدم کیا گیا حصر کے لیے، کس کے لیے؟ حصر، حصر کا کیا معنی؟ بند کرنا۔‏ آپ ضابطہ پڑھ چکے ہیں: "تقديم ما حقه التأخير يفيد الحصر والقصر والتخصيص".‏ یاد ہے ضابطہ؟ دوبارہ لکھ لیں، چلیں اپنے سامنے یہ ضابطہ آپ کو ہر وقت یاد ہونا چاہیے بھئی۔‏ جی لکھیے بھئی، جلدی جلدی:‏ "تقديم ما حقه التأخير يفيد الحصر والقصر والتخصيص".‏ لکھ لیا بھئی؟ جی بس یہ ضابطہ مکمل ہوا بھئی۔‏ "تقديم ما"، تقديم: مقدم کرنا، پہلے لانا۔ "ما": اس چیز کو۔ "حقه التأخير": جس کا حق کیا تھا؟ مؤخر کرنا کہ اس کو مؤخر کیا جاتا، توجہ ہے؟ وہ اس چیز کو مقدم کرنا جس کا حق تھا کہ اس کو مؤخر کیا جائے، "يفيد الحصر": یہ حصر کا فائدہ دیتا ہے، "والقصر": اور قصر کا، "والتخصيص": اور تخصیص کا۔‏ حصر، قصر اور تخصیص، تینوں کا ایک ہی معنی ہے۔‏ تو ایک ہی لفظ بولنا کافی ہے: "تقديم ما حقه التأخير يفيد الحصر"، یا صرف کہہ دو "يفيد القصر"، یا صرف کہہ دو "يفيد التخصيص". لیکن میں تینوں لفظ یاد کرواتا ہوں، لکھواتا ہوں، تاکہ تینوں لفظ آپ کو یاد ہو جائیں کہ تینوں کا ایک ہی معنی ہے: حصر، قصر اور تخصیص، سب کا معنی ہے تخصیص کرنا، خاص کرنا۔‏ اور تخصیص کہتے ہیں ایک چیز کے لیے آپ ایک چیز ثابت کریں تو باقی سب سے اس کی نفی ہو جائے، یا ایک چیز سے ایک شے کی نفی کریں تو باقی سب کے لیے اس کا اثبات ہو جائے۔ جیسے دیکھیں مثال سے وضاحت ہو گی۔‏ قرآن میں آپ پڑھتے ہیں، سورۂ فاتحہ میں ہے: "إياك نعبد"، "إياك نعبد". تو یہ "إياك" یہ مفعول ہے، یہ مقدم ہے، مفعول کو تو مؤخر ہونا چاہیے، تو کلام تو یوں ہونا چاہیے تھا: "نعبدك"، "نعبد": ہم عبادت کرتے ہیں، "ك": آپ کی، "نعبدك": اے اللہ، ہم آپ کی عبادت کرتے ہیں۔ لیکن اگر کلام ایسا ہو تو پھر اس میں اللہ کی عبادت کا تو اثبات ہوا کہ اللہ ہم آپ کی عبادت کرتے ہیں، لیکن یہ پتہ نہیں چلا کہ باقیوں کی چیزوں کی بھی عبادت کرتے ہو یا نہیں کرتے، اور باقیوں کی عبادت کرو یہ تو کفر ہے۔‏ تو لہذا اس لیے یہ مفعول جو مؤخر تھا اس کو مقدم کر دیا گیا اور کیا کہا گیا؟ "إياك نعبد". تو دیکھو ایک لفظ جس کا حق کیا تھا کہ اس کو مؤخر ہونا چاہیے تھا اس کو کیا کر دیا گیا؟ مقدم کر دیا گیا۔ تو "تقديم ما حقه التأخير"، اس نے "يفيد الحصر"، تو اس نے کس چیز کا فائدہ دیا؟ حصر، قصر اور تخصیص کا، اب معنی ہو گیا کہ اے اللہ ہم آپ ہی کی عبادت کرتے ہیں۔ تو اللہ کے لیے عبادت اپنی ثابت کر دی اور باقی سب چیزوں سے اس کی کیا کر دی؟ نفی کر دی، تو اب معنی کیا ہوا؟ اے اللہ ہم صرف آپ کی عبادت کرتے ہیں۔ یہ فائدہ کس وجہ سے حاصل ہوا؟ کہ مفعول کو کیا کر دیا گیا؟ مقدم۔ تو جب بھی کوئی ایسا لفظ جس کا حق تو اس مؤخر کرنا تھا آپ اس کو کیا کر دیں؟ مقدم کر دیں، تو وہ تخصیص کا فائدہ دیتا ہے۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟‏ تو یہاں پر بھی "الإقتداء به"، معنی کیا تھا؟ ان کی پیروی کرنا، ان کی اقتداء کرنا، ان کے راستے پر چلنا۔‏ تو اس سے دوسروں کی نفی نہ ہوئی کہ دوسروں کے راستے پر بھی چلنے میں کامیابی ہے یا نہیں، لہذا "به" کو کیا کر دیا گیا؟ مقدم کر دیا گیا: "به الإقتداء"، ان ہی کی پیروی کرنا، دیکھا اب حصر آ گیا۔ "به الإقتداء"، ان ہی کی پیروی کرنا "يليق بنا"، یہ ہمارے مناسب ہے۔‏ یہ ہمارے لائق، یہ ہمارے لائق ہے، یہ ہمارے مناسب ہے کہ ہم ان ہی کی یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی پیروی کریں اور انبياء کی پیروی نہ کریں بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ کیونکہ وہ خاتم النبیین ہیں اور ان کے آنے کے بعد اب ان ہی کی پیروی کی جائے گی۔‏ تو ہم ان ہی کی پیروی کریں، کسی اور کی پیروی نہ کریں بھئی، تو یہ "به" کو مقدم کیا تو اس نے کس چیز کا فائدہ دیا؟ حصر کا۔ "به الإقتداء": ان ہی کی پیروی کرنا "يليق بنا": یہ ہمارے لائق ہے، ہمارے مناسب ہے۔‏ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو "به" کو مقدم کیا کس لیے؟ حصر کے لیے۔‏ تو انہوں نے "به" کو کس سے جوڑا؟ "به" کو جوڑا "إقتداء" سے، تو "يليق" سے کیوں نہیں جوڑا؟ "يليق" کے لیے میں نے بتلایا ایک الگ "بنا" جار مجرور نکال لو۔ تو "يليق" سے اس "به" کو کیوں نہیں جوڑا؟ کہتے ہیں بھئی اگر "به" کو "يليق" کے ساتھ جوڑا جائے تو پھر معنی صحیح نہیں رہتا، یہ یہ پھر بے ادبی والا معنی بن جائے گا۔ کس طرح؟‏ پھر معنی یہ ہو گا، دیکھو بھئی، "به" کو ذرا "يليق" سے جوڑو: "الإقتداء"، پیروی کرنا کہ ہم کیا کریں؟ پیروی کریں۔ "يليق به"، یہ ان کے مناسب ہے۔ یہ ان کے مناسب ہے۔‏ بھئی دیکھیے، ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں، یہ ہمارے لیے کمال ہے، یہ ہمارے لیے سعادت کی بات ہے، حضور علیہ السلام کے لیے یہ کوئی کمال نہیں، یہ ان کے لیے کوئی سعادت کی بات نہیں۔‏ بات سمجھ بھی آ رہی ہے؟ توجہ ہے؟‏ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں، تو یہ ہمارے لیے کمال ہے، اس سے ہماری ذات کامل ہو گی، ہم اللہ کے محبوب بنیں گے، تو یہ ہمارے لیے کمال ہے، اس سے ہماری ذات کامل ہو گی، ہماری صفات کامل ہوں گی، اور ہمارا مرتبہ بڑھے گا۔ تو یہ ہمارے لیے سعادت کی بات ہے، اس سے ہماری ذات کامل ہو گی۔‏ اور یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کمال نہیں ہے کہ ہم ان کی پیروی کریں گے تو ان کی ذات کامل ہو جائے گی، نہیں، ان کی ذات تو پہلے ہی کامل ہے بھئی، ہم ان کی پیروی کریں گے تو وہ اللہ کے محبوب بن جائیں گے؟ نہیں نہیں، یہ بھئی وہ تو پہلے ہی اللہ کے محبوب ہیں۔ تو ہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں گے تو اللہ کے محبوب بن جائیں گے، ہماری ذات کامل ہو جائے گی، یہ ہمارے لیے سعادت کی بات ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کوئی کمال یا سعادت کی بات نہیں ہے کہ اس ہم کہیں اس سے ان کی ذات کامل ہو جائے گی بھئی۔‏ تو یہ کس کے لیے کمال ہے پیروی کرنا؟ ہمارے لیے، ہمارے لیے کمال ہے۔‏ تو "يليق"، مناسب ہے، اگر "به" کو جوڑو "يليق" سے، کس سے؟ "يليق" سے، تو "يليق به"، یہ حضور، تو ترجمہ بے ادبی والا بن جائے گا کہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مناسب ہے کہ ہم کیا کریں؟ ان کی پیروی کریں۔ تو معنی تو یہ ہو جائے گا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سعادت ہے، یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اس سے کامل ہو رہی ہے، اور یہ معنی درست ہے؟ نہیں، تو یہ تو ہمارے لیے سعادت ہے، تو "به"،‏ پھر سنو، پھر سنو!‏ "يليق به"، اگر "به" کو کس سے جوڑو؟ "يليق" سے، تو ترجمہ کیا ہو گا؟ کہ مناسب، کہ ہمارا پیروی کرنا "يليق به"، یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مناسب ہے۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مناسب ہے معلوم ہوا اس سے ان کی ذات کیا ہو رہی ہے؟ کامل ہو رہی ہے، اور یہ ان کے لیے سعادت کی بات ہے، اور یہ کوئی بات درست ہے؟ یہ بات تو درست نہیں، تو لہذا "به" کو "يليق" سے جوڑو تو وہ بے ادبی والا معنی بنتا ہے کہ حضور کے مناسب ہے یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کمال ہے، حالانکہ حضور کے لیے کمال نہیں، یہ ہمارے لیے کمال ہے کہ ہم کس کے راستے پر چلیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے پر چلیں گے تو ہماری ذات کامل ہو گی، ہماری نجات ہو گی ورنہ اور کوئی نجات کا راستہ نہیں۔ تو لہذا "به" کو اگر "يليق" سے جوڑو تو پھر معنی صحیح نہیں بنتا، ہاں "به" کو کس سے جوڑو؟ "إقتداء" کے ساتھ، کہ "الإقتداء به"، ان کی پیروی کرنا "يليق"، "به" نہیں، "يليق بنا"، "يليق بنا".‏ پہلے کس کو جوڑ رہے تھے آپ "يليق" کے ساتھ؟ "به" کو، کہ یہ ان کے مناسب ہے، میں نے بتایا "به" کو نہیں جوڑنا اس سے "يليق" سے، بلکہ "بنا" کو جوڑو، جار مجرور الگ نکال لو، "يليق بنا"، یہ ہمارے مناسب ہے کہ ہم کیا کریں؟ ان ہی کی پیروی کریں، یہ ہمارے لیے کامیابی اور نجات کا باعث ہے اور ہمارے لیے کمال ہے بھئی۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟‏ تو لہذا "به" کو کس سے جوڑیں گے؟ "إقتداء" سے، "يليق" سے نہیں جوڑیں گے۔‏ اب دیکھیے بھئی شرح پر: قوله "به"، مصنف کا قول "به"، کہتے ہیں: متعلق بالإقتداء لا بـ"يليق"، یہ "إقتداء" سے متعلق ہے، "يليق" کے ساتھ متعلق نہیں ہے۔ کیوں بھئی، کیوں نہیں متعلق؟ کہتے ہیں: فإن اقتداءنا به، کیونکہ، یہ "ف" جو ہے نا "ف"، یہ علت پر داخل ہوتی ہے، کبھی کبھار کس پر آتی ہے؟ کیا بیان کرنے کے لیے؟ علت، آپ اصول الشاشی میں آپ نے پڑھا ہو گا کہ "ف" کبھی علت بیان کرنے کے لیے آتی ہے، تو پھر اس کا ترجمہ "کیونکہ" کے ساتھ کرتے ہیں، "اس وجہ سے"، یہ ترجمہ کر لیں یا "کیونکہ" اس کے ساتھ ترجمہ کر لیں۔‏ تو کہتے ہیں بھئی، یہ "به" متعلق ہے "إقتداء" کے ساتھ، لا بـ"يليق"، "يليق" کے ساتھ متعلق نہیں ہے، فإن، کیونکہ، "ف" آ گئی نا؟ کیونکہ فإن اقتداءنا به، کیونکہ ہمارا پیروی کرنا به، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی، کہ ہم پیروی کریں کن کی؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی، علیہ السلام کی، إنما يليق بنا لا به، یہ ہمارے مناسب ہے، ان کے مناسب نہیں ہے۔ فإنه كمالٌ لنا لا له، اس لیے کہ یہ ہمارے لیے کمال ہے، ان کے لیے کمال نہیں ہے۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟‏ تو "به" کو کس سے جوڑنا ہے؟ "إقتداء" سے۔ چلیں یہ بات تو ہو گئی۔ اب دوسری بات آئی کہ پھر یہ "به" کو "إقتداء" پر مقدم کیوں کیا؟ میں نے بتلا دیا تھا کہ کیا بیان کرنے کے لیے؟ تخصیص اور حصر کے لیے، کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی پیروی جو ہے وہ ہمارے مناسب ہے، کسی اور کی پیروی نہیں۔ یہی بیان کر رہے ہیں: وحينئذٍ، اور اس وقت، کس وقت؟ جب "به" کو آپ کس سے جوڑیں؟ "إقتداء" سے، جب آپ "إقتداء" سے جوڑیں تو اس وقت تقديم الظرف لقصد الحصر، یہ جو ظرف جو ہے، جار مجرور کو ظرف کہتے ہیں نا؟ جار مجرور کو کیا کہتے ہیں؟ ظرف، تو یہ جو ظرف کو مقدم کیا گیا، کس پر مقدم کیا گیا؟ اپنے عامل پر، یہ جو تقديم ظرف کو مقدم کیا گیا لقصد الحصر، یہ کس لیے ہے؟ حصر کے ارادے سے ہے، حصر کے ارادے، "قصد" کا معنی ارادہ، حصر کے ارادے یعنی تخصیص کے ارادے سے ہے تاکہ تخصیص پیدا ہو جائے کہ ان ہی کی پیروی ہمارے لائق ہے، کسی اور کی پیروی نہیں۔‏ والإشارةِ، اس کو چاہے پڑھ لیں الإشارةِ، تو عطف ہو جائے گا الحصرِ پر:‏ لقصد الحصرِ ولقصد الإشارةِ، عبارت سمجھ میں آ رہی ہے؟ "إشارة" کا عطف کس پر؟ "حصر" پر، تو "حصر" کو اٹھائیں اور "إشارة" کو رکھ دیں: لقصد الإشارةِ، لقصد الإشارةِ، تو عبارت یوں بن گئی گویا: لقصد الحصرِ ولقصد الإشارةِ.‏ دوسرا یہ کہ اس کو آپ پڑھ لیں والإشارةَ، کیا بنائیں؟ مفعول معه، مفعول واؤ بمعنی "مع" کے بعد آتا ہے اور منصوب ہوتا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مفعول معه.‏ مثلاً میں کہتا ہوں: جاءني زيدٌ وعمروٌ، توجہ ہے؟ جاء ادھر دیکھیے: جاءني زيدٌ وعمروٌ، یہ واؤ عاطفہ ہے، میں نے عمرو کا عطف کس پر کیا؟ زید پر، تو ترجمہ کیا ہوا؟ میرے پاس زید آیا اور عمرو آیا۔ تو اس میں اتنا تو ذکر ہے کہ زید بھی آیا اور عمرو بھی آیا، لیکن یہ پتہ نہیں چل رہا کہ دونوں اکٹھے آئے یا الگ الگ آئے۔ اگر دونوں اکٹھے آئے ہوں تب بھی میں کہہ سکتا ہوں: جاءني زيدٌ وعمروٌ، اگر دونوں الگ الگ آئے ہوں، پہلے زید آیا اور پھر عمرو آیا تو بھی میں کہہ سکتا ہوں: جاءني زيدٌ وعمروٌ، پہلے عمرو آیا ہو پھر زید آیا ہو پھر بھی میں کہہ سکتا ہوں: جاءني زيدٌ وعمروٌ، کیونکہ یہ واؤ صرف جمع ہونے کا فائدہ دیتا ہے، یہ دونوں کو حکم میں جمع کر دیتا ہے، معطوف اور معطوف علیہ، واؤ سے جو پہلے ہوتا ہے وہ معطوف علیہ، واؤ کے بعد جو ہوتا ہے وہ معطوف، یہ معطوف علیہ اور معطوف دونوں کو یہ واؤ کیا کر دیتا ہے؟ جمع کر دیتا ہے اس حکم یعنی اس بات میں جو ذکر ہو رہی ہے، کہ دونوں اس بات میں جمع ہیں، اور کیا بات ذکر ہو رہی ہے؟ آنے کی آنے کی۔ مطلب اس آنے میں زید اور عمرو دونوں جمع ہیں، یعنی جیسے زید آیا ہے ویسے ہی عمرو بھی آیا ہے، دونوں کے لیے آنا ثابت ہے، یہ فائدہ کون دے رہا ہے؟ واؤ۔ تو واؤ صرف جمع کا فائدہ دیتا ہے۔‏ یہ نہیں بتلاتا کہ یہ اکٹھے ہوا کیا یہ دونوں نے آنے والا فعل یا الگ الگ کیا؟ اور کون پہلے آیا، کون بعد میں آیا، واؤ یہ بھی نہیں بتاتا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟‏ اور نیز ایک کے آنے کے فوراً بعد دوسرا آیا یا دوسرا سال کے بعد آیا؟ واؤ یہ بھی نہیں بتاتا، بس واؤ صرف اتنا بتاتا ہے، آئے دونوں ہیں۔ مثلاً زید آج آیا اور عمرو دس سال پہلے آیا تھا، پھر بھی آپ کہہ سکتے ہیں: جاءني زيدٌ وعمروٌ، میرے پاس زید بھی آیا اور عمرو بھی، کیونکہ آئے ہیں یا نہیں دونوں؟ ہاں، اور اگر دیکھو، لفظوں میں تو ہے زید پہلے اور عمرو بعد میں، لیکن عمرو پہلے آیا تھا اور زید بعد، پھر بھی آپ کہہ سکتے ہیں: جاءني زيدٌ وعمروٌ، لفظوں میں پہلے ہے زید اور عمرو ہے بعد میں، لیکن اس کا یہ معنی نہیں کہ زید پہلے آیا ہو گا اور عمرو بعد، بلکہ ہو سکتا ہے دونوں اکٹھے آئے ہوں تب بھی یوں آپ کہہ سکتے ہیں، زید پہلے ہو اور عمرو بعد میں آیا ہو پھر بھی آپ یہی کہہ سکتے ہیں: جاءني زيدٌ وعمروٌ، عمرو پہلے آیا تھا اور زید اس کے بعد، پھر بھی آپ کہہ سکتے ہیں: جاءني زيدٌ وعمروٌ، تو یہ واؤِ عطف صرف جمع کا فائدہ دیتا ہے، یہ صرف اتنا بتاتا ہے کہ معطوف اور معطوف علیہ دونوں اس حکم میں جمع ہیں، دونوں کے لیے یہ چیز ثابت ہے، آنا جیسے زید کے لیے ثابت ہے، اسی طرح عمرو کے لیے بھی ثابت ہے، اور یہ نہ ترتیب کا فائدہ دیتا ہے اور نہ اکٹھے یا الگ ہونے کا کوئی، کسی چیز کا اور پتہ نہیں چلتا، صرف اتنا پتہ چلتا ہے کہ یہ کام دونوں نے کیا ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟‏ اور ایک ہے مفعول معه، وہ واؤ بمعنی "مع" کے آتا ہے۔‏ مثلاً جاءني زيدٌ وعمروٌ، "زيدٌ" مرفوع تھا، "عمروٌ" معطوف کا بھی وہی اعراب ہوتا ہے جو کس کا ہوتا ہے؟ معطوف علیہ کا، تو لہذا میں نے "عمروٌ" کو مرفوع پڑھا، کیوں مرفوع پڑھا؟ کیونکہ معطوف علیہ "زيدٌ" کیا تھا؟ مرفوع تھا۔‏ تو جب میں نے عطف کیا، آپ کو پتہ چل گیا یہ میں واؤ کو واؤِ عاطفہ بنا رہا ہوں۔ لیکن اگر میں اس واؤ کو اس واؤ کو بمعنی "مع" کے لے لیتا ہوں اور "عمراً" کو مفعول مفعول معه بنا دیتا ہوں، اور مفعول معه کیا ہوتا ہے؟ منصوب، تو یوں پڑھوں گا: جاءني زيدٌ وعمراً، یہ "عمراً" کا نصب بتلا رہا ہے کہ بھئی ماقبل میں تو "زيدٌ" مرفوع ہے اور یہ منصوب ہے، معلوم ہوا یہ واؤ معطوف کے لیے نہیں لے رہے بلکہ کس کے لیے لے رہے ہیں آپ؟ مفعول معه والا واؤ ہے، وہ یہ واؤ بمعنی "مع" کے ہے، اور یہ "عمراً" کیا ہے؟ مفعول معه ہے۔‏ تو فرق اس کا یہ ہے: جاءني زيدٌ وعمروٌ، وہاں آپ کو صرف یہ پتہ چل رہا تھا کہ دونوں آئے ہیں، اور یہ پتہ نہیں چل رہا تھا اکٹھے ہیں یا الگ ہیں، کون پہلے ہے، کون بعد میں ہے، سب صورتوں میں وہ بولا وہ جملہ بولا جا سکتا تھا۔ لیکن جاءني زيدٌ وعمراً، جب منصوب پڑھیں تو یہ واؤ بمعنی "مع" کے، تو ترجمہ ہو گیا: میرے پاس زید آیا مع عمرٍ، کس کے ساتھ؟ عمرو کے ساتھ، اس کا مطلب ہے دونوں اکٹھے آئے۔ الگ الگ آئے ہوں تو پھر آپ یہ نہیں بول سکتے بھئی۔ تو فرق سمجھ میں آیا؟ کہ اسی واؤ کو آپ عاطفہ بھی بنا سکتے ہیں، اسی واؤ کو آپ مفعول معه والا واؤ بمعنی "مع" کے بھی بنا سکتے ہیں۔ اگر عطف کے لیے بنائیں تو پھر وہاں اکٹھے ہونے کا پتہ نہیں چلتا، لیکن یہ واؤ بمعنی "مع" کے کریں تو پھر وہاں اکٹھے ہونے والا معنی ہوتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟‏ تو یہاں پر بھی اسی طرح: والإشارةِ، اس کا عطف کر دو "حصر" پر، وہ مجرور تو یہ بھی مجرور، اور چاہیں تو اس کو پڑھ اس کو واؤ کو بمعنی "مع" کے لے لیں اور والإشارةَ اس کو کیا پڑھیں؟ اس پر نصب پڑھ لیں۔‏ تو کہتے ہیں: وحينئذٍ تقديم الظرف لقصد الحصر، اور اس وقت کہ جب "به" کو کس سے جوڑا جائے؟ "إقتداء" سے، اس وقت یہ جو ظرف جار مجرور "به" کو مقدم کیا گیا لقصد الحصر، حصر کے ارادے سے ہے اس کو مقدم کیا گیا، والإشارةِ، اور اس اشارے کے ارادے سے، یا مع الإشارةِ، ساتھ اس اشارے کے، ایک تو حصر کا ارادہ تھا اور ساتھ اس اشارے کا ارادہ تھا، إلى اس بات کی اشارہ تھا کہ أن ملته ناسخة لملل سائر الأنبياء. "ملت" کہتے ہیں دین کو، "ملت" کسے کہتے ہیں؟ دین کو، اور "ملت" کی جمع آتی ہے "ملل"، "ملل".‏ تو اس اس بات کی طرف اشارہ کرنے کے لیے کہ أن ملته، کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جو دین ہے، ناسخة، وہ ناسخ ہے، لملل سائر الأنبياء، تمام انبیاء کے دینوں کا۔ "سائر"، یاد رکھو "سائر" کے معنی "سارے"، "سارے"، یہ بھی ترجمہ آتا ہے، اور "سائر" کا معنی "باقی"، "باقی" کے بھی آتا ہے، تو موقع کے مطابق جو بھی ترجمہ آپ کو مناسب لگے وہ کر سکتے ہیں، کہ أن ملته، کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جو دین ہے، ناسخة، وہ ناسخ ہے، لملل سائر الأنبياء، باقی انبیاء کے دینوں کے لیے۔‏ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ناسخ، ناسخ ہے باقی انبیاء کے دینوں کے لیے، یعنی جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دین آ گیا تو باقی سارے دین منسوخ کر دیے اللہ نے، اس دین نے باقی دینوں کو کیا کر دیا؟ منسوخ، تو یہ دین ہوا ناسخ اور باقی دین ہوئے منسوخ۔ اب کسی اور دین پر چلا جائے تو نجات نہیں ہو سکتی کیونکہ اس دین نے باقی سارے دینوں کو کیا کر دیا؟ منسوخ کر دیا، اب آپ نجات چاہتے ہیں، کامیابی چاہتے ہیں تو پھر اسی دین پر चलना پڑے گا۔‏ تو دیکھا، یہ اشارہ ہوا، کس سے؟ اس "به" کو مقدم کرنے سے، کہ ان ہی کی پیروی ہمارے مناسب ہے، اور معلوم ہوا ان ہی کی پیروی، اشارہ ہو گیا کہ ان ہی کی پیروی جو ہے کی جائے گی کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ناسخ ہے باقی سارے دینوں کے، تو باقی سارے دین کیا ہوئے؟ منسوخ، لہذا انہی کی پیروی کی جائے گی، اسی دین پر چلا جائے گا کیونکہ یہ دین اب ناسخ ہے، باقی دین کیا ہو چکے؟ منسوخ، لہذا ان پر نہیں چلا جائے گا۔ تو یہ "به" کو مقدم کرنے سے اس بات کی طرف بھی اشارہ ہو گیا۔‏ کہ ان ہی کی اقتداء کی جائے گی، اب باقی انبیاء کی اقتداء، ان کے دینوں کی اقتداء نہیں کی جائے گی۔‏ تو یہ معنی ہے اور اس بات کی طرف اشارہ کرنے کے لیے کہ أن ملته ناسخة لملل سائر الأنبياء، ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ وہ دوبارہ سنو: وحينئذٍ تقديم الظرف لقصد الحصر والإشارة إلى أن ملته ناسخة لملل سائر الأنبياء، اور اس وقت کہ جب "به" کو کس سے جوڑا جائے؟ "إقتداء" سے، اس وقت یہ جو ظرف جار مجرور "به" کو مقدم کیا گیا لقصد الحصر، حصر کے ارادے سے اور اس اشارے کے ارادے سے کہ أن ملته ناسخة، کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دین جو ہے وہ ناسخ ہے، لملل سائر الأنبياء، باقی انبیاء کے دینوں کے لیے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ناسخ ہے۔‏ یا یہ میں نے ترجمہ کون سا کیا؟ واؤ کو عطف کے لیے بنایا۔ اور اب میں واؤ کو بنا لیتا ہوں کس کے لیے؟ بمعنی "مع" کے معنی میں لے لیتا ہوں، اور اس وقت جبکہ "به" کو کس سے متعلق کیا گیا؟ "إقتداء" سے، اس وقت یہ جو ظرف کو مقدم کرنا ہے، کس پر مقدم کرنا ہے؟ "إقتداء" پر، یہ جو ظرف کو مقدم کرنا ہے لقصد الحصر، یہ حصر کے ارادے سے ہے، مع الإشارةِ، ساتھ اس اشارے کے، حصر کا ارادہ ہے اور ساتھ یہ اشارہ اس کے ارادے سے ہے، کس بات کیا اشارہ ہے؟ کہ إلى أن ملته ناسخة لملل سائر الأنبياء، کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دین جو ہے وہ ناسخ ہے باقی انبیاء کے دینوں کے لیے۔‏ وأما الإقتداء بالأئمة فيقال، سوال پیدا ہوتا ہے کہ ماتن نے اوپر کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی پیروی کی جائے گی اور کسی کی پیروی نہیں کی جائے گی، یہی حصر سے معلوم ہوا نا؟ تو حالانکہ ہم تو ائمہ کی پیروی بھی کرتے ہیں، امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے مذہب پر ہم عمل کرتے ہیں، بعض لوگ بعض مسلمان وہ امامِ شافعی رحمہ اللہ کے مذہب پر ہیں، بعض امامِ مالک رحمہ اللہ کے مذہب پر ہیں، اور بعض امام احمد ابنِ حنبل رحمہ اللہ کے مذہب پر ہیں، تو ہم ان کی بھی تو پیروی کرتے ہیں، جبکہ متن میں تو کیا آیا؟ صرف کس کی پیروی؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی پیروی جو ہے وہ ہمارے مناسب ہے۔‏ تو اس کا ایک جواب تو یہ، ایک جواب تو یہ کہ ائمہ کی پیروی درحقیقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی پیروی ہے کیونکہ ائمہ اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کرتے، ہر امام نے قرآن اور حدیث سے ہی جو کچھ سمجھا اسی کو آگے بیان کیا۔‏ تو قرآن اور حدیث سے جس طرح مسائل کو سمجھا انہی کو آگے بیان کیا، ہر ایک نے اپنی پوری کوشش کی بھئی، پوری کوشش کی، اور جو جو کچھ جو کچھ ان کو قرآن و حدیث سے سمجھ آیا جس طرح مسائل سمجھ آئے انہی کو آگے ذکر کیا اور لوگ ان پر چل رہے ہیں، تو یہ ائمہ کی پیروی دراصل کس کی پیروی ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی پیروی ہے، یہ کسی اور کی پیروی نہیں ہے بھئی۔‏ یہی بیان کر رہے ہیں: وأما الإقتداء بالأئمة، اور باقی ائمہ کی پیروی کرنا، ائمہ جمع ہے امام کی، اور باقی اماموں کی پیروی کرنا، فيقال، تو کہا جائے گا کہ إنه اقتداء به حقيقةً، کہ یہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی اقتداء ہے حقیقت میں۔‏ ایک جواب یہ، یہ اس صورت میں تھا کہ حصر سے اوپر ہم حصرِ حقیقی مراد لیں، یاد رکھو حصر دو قسم پر ہے، ایک کیا ہے؟ حصرِ حقیقی، اور ایک حصرِ اضافی۔‏ کتنی قسم؟ دو قسم، نمبر ایک حصرِ حقیقی اور نمبر دو حصرِ اضافی۔ حصرِ حقیقی وہ ہے جب آپ ایک چیز کو ایک دوسری چیز میں بند کرتے ہیں باقی تمام چیزوں کے مقابلے میں۔‏ ایک ہے حصرِ حقیقی اور ایک ہے حصرِ اضافی۔ حصرِ حقیقی وہ ہے کہ جس میں ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ خاص کیا جائے، دوسری چیز کے ساتھ بند کیا جائے تمام چیزوں کے مقابلے میں۔‏ اور اگر آپ اس سے مراد لیں حصرِ اضافی، اضافی اضافت سے ہے، نسبت سے ہے، کہ بعض کی نسبت سے کلام کیا جائے، ایک ہے سب کے اعتبار سے کلام کیا جائے، جیسے کہا گیا کہ صرف حضور ہی کی پیروی کی جائے، اگر یہ تمام لوگوں کے اعتبار سے ہے تو سب کی نفی ہو گئی، اور اگر اس میں اس کو حصرِ اضافی لیں، اضافی اضافت سے ہے، معنی کیا ہے؟ نسبت نسبت، یعنی بعض کی نسبت سے یہ کہا گیا کہ حضور ہی کی پیروی کی جائے گی، تو حصرِ اضافی ہوا، معنی یہ ہوا یعنی صرف انبیاء کی نسبت سے یہ کہا گیا ہے کہ باقی انبیاء میں سے اب کسی کی پیروی ہم نہیں کریں گے، صرف کس کی کریں گے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں گے، ائمہ کے اعتبار سے بات نہیں کی گئی، تو یہ حصر کون سا ہوا؟ اضافی، اگر حصرِ اضافی ہو صرف کس کے اعتبار سے؟ انبیاء کے اعتبار سے ہو، تو معنی یہ ہو گا اب کسی اور پیغمبر کی اتباع نہیں کی جائے گی بلکہ کس کا اتباع کیا جائے گا؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا، اور باقی ائمہ کی پیروی کی جائے گی یا نہیں، اس کے اعتبار سے حصر نہیں، بات سمجھ میں آئی؟ اسی طرح جیسے آپ کلام کرتے ہیں نا، بعض اوقات تمام لوگوں کے اعتبار سے آپ کلام کرتے ہیں اور بعض اوقات کچھ مخصوص لوگوں کے اعتبار سے کلام کرتے ہیں، مثلاً آپ کا ایک ساتھی ہے وہ بڑا ذہین ہے، کلاس میں چالیس طلباء ہیں، میں کہتا ہوں آپ سے: یہ طالبِ علم سب سے زیادہ ذہین ہے۔ اب مجھے بتاؤ، کیا معنی؟ سب سے زیادہ کیا ساری دنیا کے لوگوں سے ذہین مراد ہے یا یہ چالیس طلباء میں سے یہ سب سے ذہین ہے؟ یہ طلباء میں سے ظاہر سی بات ہے، میں ان کی اضافت سے، اضافت یہ دیکھو اضافت آ گئی، نسبت آ گئی، میں ان کی نسبت سے کہہ رہا ہوں یہ سب سے زیادہ ذہین ہے، اور بعض اوقات تمام لوگوں کے اعتبار سے کلام کیا جاتا ہے، تمام چیزوں کے اعتبار سے، مثلاً ایک شخص کے بارے میں میں کہتا ہوں کہ یہ سب سے زیادہ ذہین ہے ساری دنیا میں، تو میں نے کس کے اعتبار سے کلام کیا؟ تمام دنیا کے لوگوں کے اعتبار سے، ساری دنیا کے لوگ یہ تو لفظوں میں آ گیا یہ ذکر نہ بھی میں کروں، میں یہ کہہ دوں: یہ سب سے زیادہ ذہین ہے، تو اگر میری مراد کچھ مخصوص لوگ ہوں ان کی نسبت سے میں کہہ رہا ہوں تو یہ اضافت کے اعتبار سے، ان کی نسبت کے اعتبار سے ہے۔‏ تو بہرحال بعض اوقات بعض کے اعتبار سے ایک بات کی جاتی ہے اور بعض اوقات سب لوگوں کے اعتبار سے، سب چیزوں کے اعتبار سے ایک بات کی جاتی ہے، تو اسی طرح حصر میں بھی ہے، اگر تمام چیزوں کے اعتبار سے حصر ہے تو پھر وہ حصرِ حقیقی، اگر بعض کے اعتبار سے حصر ہے تو وہ حصرِ اضافی ہے بھئی۔‏ مثلاً میں ایک طالب علم ایک شخص کے بارے میں کہتا ہوں:‏ صرف یہی منطقی ہے۔‏ صرف یہی منطقی ہے۔‏ تو اگر تمام دنیا کے لوگوں کے اعتبار سے میں کہہ رہا ہوں، معلوم ہوا پوری دنیا میں میرے کہنے کا مطلب ہے اور کوئی منطقی ہے ہی نہیں، یہی منطقی ہے، تو یہ کون سا حصر ہوا؟ حصرِ حقیقی ہوا، اور اگر کلاس کے جو چالیس لڑکے ہیں ان کے اعتبار سے میں اس میں منطق کو بند کر رہا ہوں کہ یہی منطقی ہے اور کوئی منطقی نہیں، تو پھر یہ کس یہ کیا ہے حصرِ؟ پھر یہ حصرِ اضافی ہو جائے گا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہذا یہاں پر بھی حضور کی ہی کی پیروی کی جائے گی، یہاں پر بھی دونوں احتمال، حصرِ حقیقی بھی ہو سکتا ہے اور حصرِ اضافی بھی، اگر حصرِ حقیقی مراد لیں، اور کسی کی پیروی نہیں کی جائے گی،‏ تو پھر اشکال ہوتا ہے کہ پھر آپ ائمہ کی پیروی کیوں کرتے ہیں؟ تو جواب دے دیا کہ ائمہ کی پیروی بھی حضور ہی کی اقتداء ہے، کسی اور کی اقتداء نہیں، ائمہ بھی وہی باتیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی باتوں کی تشریح ہمارے سامنے کرتے ہیں، تو حصرِ حقیقی لیں گے تو پھر اشکال ہو گا کہ آپ ائمہ کی پیروی کیوں کرتے ہیں، تو جواب ہو گیا کہ ائمہ کی پیروی دراصل حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی پیروی ہے، کیونکہ ائمہ اپنی طرف سے کچھ بھی بیان نہیں کرتے، ائمہ قرآن و حدیث ہی کو جو سمجھ جو ان کی عقل میں اور سمجھ میں آتا ہے اور اس میں غور و فکر کرتے ہیں اسی کو آگے لوگوں کو لوگوں کے سامنے آسان لفظوں میں بیان کرتے ہیں، تو ائمہ کی پیروی دراصل کس کی پیروی ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی ہے، تو یہ ہوا حصرِ حقیقی کی صورت میں ہم یہ جواب دیں گے۔ یا دوسرا جواب یہ کہ ائمہ والا اشکال ہی نہیں ہوتا، کیونکہ یہاں حصرِ حقیقی نہیں ہے بلکہ حصرِ اضافی ہے، حضور ہی کی پیروی کی جائے گی یہ انبیاء کے اعتبار سے بتلایا جا رہا ہے کہ اب کسی اور پیغمبر کی پیروی نہیں کی جائے گی، صرف کس کی پیروی کی جائے گی؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی جائے گی، تو اب ائمہ، ائمہ تو رسولوں میں داخل ہی نہیں ہیں، ان کی تو بات ہی نہیں یہاں پر، لہذا اشکال بھی نہیں ہوتا بھئی۔‏ تو کہتے ہیں: وأما الإقتداء بالأئمة، باقی ائمہ کی جو پیروی ہے، فيقال، تو کہا جائے گا: إنه اقتداء به حقيقةً، کہ یہ بھی حضور علیہ السلام ہی کی پیروی ہے حقیقت میں، یہ کب؟ جبکہ ہم حصر سے کون سا حصر مراد لیں؟ حصرِ حقیقی۔ أو يقال، یا یہ کہا جائے گا کہ الحصر إضافيٌ، کہ حصر اضافی ہے، بالنسبة إلى سائر الأنبياء، عليهم السلام، باقی انبیاء کی نسبت سے، حصر اضافی ہے باقی انبیاء کی نسبت سے، کہ باقی انبیاء میں سے کسی کی پیروی نہیں کی جائے گی، صرف کس کی پیروی کی جائے گی؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی، کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ناسخ ہے اور باقی دین کیا ہو چکے؟ منسوخ ہو چکے۔‏ چلیے بس بھئی، هذا هو المراد، والله اعلم بحقيقة الكلام.‏ "‏