دیکھیے جی آگے شرح پر:
**قوله بالاهتداء مصدر مبني للمفعول أي بأن يهتدى به، والجملة صفة لقوله هدىً، أو يكونان حالين مترادفين أو متداخلين، ويحتمل الاستئناف أيضاً، وقس على هذا قوله نورا مع الجملة التالية.**
آئیے بھئی، ذرا پہلے کل والا متن پھر دیکھ لیں۔
**والصلاة والسلام على من أرسله هدىً هو بالاهتداء حقيق ونوراً به الاقتداء يليق۔**
اور رحمت اور سلامتی ہو اس ذات پر جن کو اللہ نے بھیجا ہدیً اور یہ آگے جملہ کیا ہے اس کی صفت؟ جن کو اللہ نے بھیجا ہدایت دینے کے لیے۔ یہ دوسرا ترجمہ کیا تھا؟ رحمت اور سلامتی ہو اس ذات پر کہ جن کو اللہ نے بھیجا اس حال میں کہ وہ ہدایت دینے والے ہیں، یعنی وہ اللہ ہدایت دینے والے ہیں۔ یا یہ مفعول سے حال بنا لو کہ رحمت اور سلامتی ہو اس ذات پر جن کو اللہ نے بھیجا اس حال میں کہ وہ رسول جو ہیں وہ ہدایت دینے والے ہیں۔
اور تیسری بات شارح نے یہ ذکر کی تھی کہ ہدیً کو ہادی کے معنی میں لینے کی ضرورت نہیں، بلکہ اس کو اگر اپنے ہی معنی میں لیا جائے تو بھی درست ہے اور یہ حمل بطورِ مبالغہ کے ہوگا کہ رحمت اور سلامتی ہو اس ذات پر کہ جن کو اللہ نے بھیجا اس حال میں کہ وہ سراپا ہدایت ہیں۔ وہ سراپا ہدایت ہیں۔
اور آگے کل میں نے بتلایا تھا: **هو بالاهتداء حقيق**، یہ پورا کیا ہے؟ جملہ اسمیہ۔ اور نکرہ کے بعد اگر فعل آ جائے تو وہ فعل اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت۔ اور کیسے صفت بنتا ہے؟ پورا جملہ فعلیہ ہو کر۔ تو پورا جملہ فعلیہ صفت بن رہا ہے نکرہ کی، اس سے ایک اور ضابطے کا آپ کو پتہ چل گیا کہ جملہ جو ہے وہ نکرہ کے حکم میں ہوتا ہے، کس کے؟ نکرہ کے۔
تو اسی طرح کبھی کبھار نکرہ کے بعد جملہ اسمیہ آ جاتا ہے اور وہ بھی اس کے لیے صفت بنتا ہے۔ تو یہاں پر بھی یہ پورا جملہ اسمیہ ہدیً کے لیے کیا بنے گا؟ صفت بنے گا۔
صفت بنے گا، اور اسی طرح **نوراً** کے بعد **به الاقتداء يليق** یہ جملہ اسمیہ آیا اور وہ بھی نوراً کے لیے کیا بنے گا؟ صفت بنے گا۔
اور یہ ضابطہ آپ پڑھ چکے ہیں کہ جملے کو جب بھی کسی چیز سے جوڑنا ہو، درمیان میں ربط ضروری ہے اور وہ ربط عموماً کس کے ذریعے دیتے ہیں؟ غائب کی ضمیر جو اس چیز کی طرف لوٹتی ہے جس کے ساتھ اس کو جوڑا جا رہا ہے۔ تو لہٰذا جب ہدیً کے لیے **هو بالاهتداء حقيق** کو آپ صفت بنا رہے ہیں تو پھر کوئی ربط چاہیے، تو یہ جو **هو** ضمیر ہے **هو بالاهتداء حقيق**، یہ **هو** ضمیر کس کو راجع ہے؟ اس ہدیً کو، اور یہ اس کے ساتھ ربط دے رہی ہے۔ اسی طرح **نوراً به الاقتداء يليق**، **به الاقتداء** کے اندر **به** کی ہا ضمیر ہے، یہ اس **نوراً** کو راجع ہے، تو یہ ربط دے رہی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دونوں جملے صفت بن رہے ہیں اور یہ دونوں اپنے موصوف کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، ربط ہے، ضمیریں موصوف کی طرف لوٹ رہی ہیں۔
تو ہدیً، ایسی ہدایت **هو بالاهتداء حقيق** کہ وہ لائق ہے کہ اس سے ہدایت حاصل کی جائے۔ سمجھ میں آ رہی ہے عبارت؟ یہ **بالاهتداء** متعلق ہے کس سے؟ **حقيق** سے، تو اس کو اس سے مؤخر کر دو۔ کیونکہ یہ جار مجرور جس سے جڑتا ہے وہ اس کے اندر عامل ہوتا ہے، لہٰذا عامل پہلے آتا ہے اور معمول بعد میں، تو اس کو مؤخر کر دو: **هو حقيق بالاهتداء**۔
ہدیً، ایسی ہدایت **هو حقيق بالاهتداء** کہ وہ لائق ہے کہ اس سے ہدایت حاصل کی جائے، **ونوراً** اور ایسا نور **به الاقتداء يليق** کہ انہی کی پیروی کرنا **يليق بنا**، میں نے یہاں بتایا تھا جار مجرور محذوف بھی نکالیں گے، انہی کی پیروی کرنا **يليق بنا** ہمارے مناسب ہے، مناسب ہے۔
اب یاد رکھیے اهتداء کا معنی ہے ہدایت حاصل کرنا۔ هدى يهدي، توجہ ہے؟ هدى يهدي کے معنی ہیں ہدایت دینا، هدى يهدي هدياً فهو هادٍ، ہادی دیکھو ہدایت دینے والا۔ اور اهتدى، باب افتعال میں لے جاؤ، تو اس کا معنی ہوتا ہے ہدایت حاصل کرنا۔
تو ہادی وہ شخص جو دوسروں کو ہدایت دیتا ہے، اور مہتدی وہ شخص جو دوسروں سے ہدایت لیتا ہے، ہدایت کو حاصل کرتا ہے۔ فرق سمجھ میں آ رہا ہے؟
تو یہاں پر **بالاهتداء** آیا کہ وہ **هو حقيق بالاهتداء** کہ وہ لائق ہے **بالاهتداء** ہدایت حاصل کرنے کے۔ ترجمے پہ نظر ہے؟ وہ **هو**، وہ **هو حقيق** وہ ذات لائق ہے **بالاهتداء** کس چیز کی؟ ہدایت حاصل کرنے کی۔ اب یہ **هو** ضمیر کس کی طرف راجع؟ یہ تو راجع ہے کس کی طرف؟ ہدیً کی طرف، اور ہدیً یہ ہادی کے معنی میں، اور یہ ہادی یہ آپ نے پڑھا یہ حال واقع ہو سکتا ہے کس سے؟ فاعل سے بھی اور مفعول سے بھی، اور فاعل کون؟ بھیجنے والی ذات کس کی؟ اللہ کی، تو پھر یہ اللہ کی صفت بنے گی: **هو بالاهتداء حقيق**۔
اور اگر اس کو مفعول سے حال بنایا تو پھر یہ صفت کس کی بنے گی؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی۔
تو اب یہ معنی کرنا: **هو حقيق بالاهتداء** وہ اللہ اس لائق ہے، کس لائق؟ **بالاهتداء** کہ وہ ہدایت حاصل کرے، تو یہ تو کفرِیہ معنی ہو گیا۔ معنی یہ ہو گیا کہ اللہ دوسروں سے ہدایت حاصل کرے۔ اللہ کیا کرے؟ تو اللہ ہدایت حاصل نہیں کرتے، اللہ تو ہدایت دوسروں کو دیتے ہیں۔ تو اللہ کی ذات تو ہادی ہے، تو لہٰذا یہ معنی درست نہیں، یہ کیا ہے کفرِیہ معنی ہو جائے گا۔
اسی طرح اگر **هو** سے مراد لیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کہ وہ حضور **هو حقيق بالاهتداء** حضور علیہ السلام کی ذات اس لائق ہے کہ وہ ہدایت حاصل کریں۔ وہ ہدایت حاصل کریں، تو یقینی بات ہے حضور علیہ السلام تو ہدایت کس سے حاصل کرتے ہیں؟ اللہ تعالی سے، تو معنی تو ٹھیک لیکن بہرحال بے ادبی والا معنی ہے، کیا ہے؟ بے ادبی والا معنی بنتا ہے کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ حضور علیہ السلام کو کیا کرنی چاہیے؟ اللہ سے ہدایت حاصل کرنی چاہیے، حالانکہ اللہ تو حضور کو ہدایت دے چکے ہیں بھئی اور اب حضور کیا کر رہے ہیں دوسروں کے لیے ہادی ہیں، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
تو بہرحال حضور علیہ السلام کی طرف بھی اس کی نسبت کی جائے تو یہ بے ادبی ہے بھئی، بے ادبی ہے۔ تو پھر اس اهتداء کا کیا معنی کریں؟ تو آپ کو شارح بتلائیں گے کہ یہ مصدرِ مجہول ہے۔ یہ کیا ہے؟ مصدرِ مجہول۔ اچھا، پہلے یہ سمجھ لیں، ایک ہوتا ہے مصدرِ معروف اور ایک ہوتا ہے مصدرِ مجہول۔
جیسے ضربٌ، ضربٌ مصدر ہے، اگر یہ معروف ہو تو اس کا معنی ہے پٹائی کرنا۔ اور اگر ضربٌ یہی ضربٌ مصدرِ مجہول بھی استعمال ہوتا ہے، یاد رکھیے عربی میں ایک ہی مصدر کا وزن مصدرِ معروف کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور مصدرِ مجہول، جیسے فعل کے اندر ہے، ضربَ کا کیا معنی؟ اس نے پٹائی کی، اور ضربُِ کا معنی اس کی پٹائی کی گئی۔ يضربُ کا معنی يضرب زيدٌ، کیا معنی؟ زید، زید پٹائی کرتا ہے، اور يضرب زيدٌ کا کیا معنی؟ زید کی پٹائی کی جاتی ہے۔ تو جیسے فعل معروف اور مجہول ہوتا ہے اسی طرح مصدر بھی کیا ہے؟ معروف اور مجہول ہوتا ہے۔
البتہ یہ جو مصدرِ معروف اور مجہول ہے، عربی میں ان کے لیے الگ لفظ نہیں، فعل میں تو فرق تھا، فعلَ ہو تو معروف، فعلُِ ہو تو مجہول، يضربُ ہو تو معروف، يضربُ ہو تو مجہول، تو فعل میں تو معروف اور مجہول میں فرق ہے لیکن مصدرِ معروف اور مجہول میں کوئی فرق نہیں، وہی ضربٌ جو مصدرِ معروف کے لیے استعمال ہوتا ہے وہی مصدر کس کے لیے استعمال ہوتا ہے؟ مجہول کے لیے بھی وہی استعمال ہوتا ہے۔
تو ضربٌ کا ایک معنی اگر معروف ہو تو اس کا کیا معنی؟ پٹائی کرنا، اور اگر ضربٌ یہ مصدرِ مجہول ہو تو اس کا معنی ہے پٹائی کیے جانا، یا یوں کہو پٹائی ہونا۔ دیکھو ایک ہے پٹائی کرنا اور ایک ہے اپنی پٹائی ہونا، تو دونوں میں فرق ہے یا نہیں؟ تو ایک کیا ہے مصدرِ معروف اور ایک کیا ہے مصدرِ مجہول۔ اسی طرح ہے شربٌ، شربٌ کا معنی ہے پینا، اور اسی شربٌ کا معنی ہے پیا جانا۔ اسی شربٌ کا کیا معنی ہے؟ پیا جانا۔ جیسے مثلاً آپ کہتے ہیں: شرب زيدٌ مشروباً، کہتے ہیں کیا پیا؟ زید نے کوئی مشروب پیا، اور اس کی دوسرا آپ کہتے ہیں: شرب مشروبٌ، مشروب پیا گیا، مشروب پیا گیا۔ دیکھو تو پینا اور اور پیا جانا اور، پینے کی نسبت فاعل کی طرف ہوتی ہے جو اس کام کو کرنے والا ہوتا ہے، زید نے پانی پیا، اور پیے جانے کی نسبت مفعول کی طرف ہوتی ہے، پانی پیا جاتا ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
تو مصدرِ معروف کی نسبت کس کی طرف ہوتی ہے؟ فاعل کی طرف، اور مصدرِ مجہول کی نسبت کس کی طرف ہوتی ہے؟ مفعول کی طرف ہوتی ہے۔ جیسے مثلاً میں کہتا ہوں: ضرب زيدٌ، یہ کون سا فعل ہے؟ فعلِ معروف، تو آگے جو ہے زيدٌ یہ فاعل آیا۔ اور اگر میں کہوں: ضرب زيدٌ، تو آگے یہ زيدٌ کیا ہے؟ مفعول۔ پہلا تھا ضرب زيدٌ، مطلب تھا زید پٹائی کرنے والا ہے، اور دوسرا کیا ہے؟ ضرب زيدٌ، معلوم ہوا زید کی پٹائی ہوئی ہے، تو دونوں میں فرق ہے، ایک میں ہے پٹائی کرنا، ایک میں ہے پٹائی ہونا۔
تو یاد رکھیے یہ جو فعلِ معروف ہوتا ہے نا فعلِ معروف، اس کی نسبت ہوتی ہے فاعل کی طرف، اس کی نسبت فاعل کی طرف، ضرب زيدٌ عمراً، توجہ ہے؟ ضرب زيدٌ عمراً، یہ جو زيدٌ یہ ہے فاعل، اور عمراً یہ کیا ہے؟ مفعول۔ اب آپ سے کوئی پوچھے، یہاں فعل کی نسبت کس کی طرف ہو رہی ہے؟ آپ فوراً کہیں گے فاعل کی طرف، کیونکہ یہ فعلِ معروف ہے۔ اور آگے جو عمراً آیا وہ مفعول ہے، فعل کی اس کی طرف نسبت نہیں ہو رہی، فعل اس پر واقع ہو رہا ہے۔ فعل اس پر واقع ہو رہا ہے، فعل کی نسبت ہونے کا معنی یہ ہے کہ وہ ذات فعل کو کرنے والی ہے، اور یہ ضرب کرنے والا کون؟ زید ہے، تو یہاں نسبت کس کی طرف؟ فاعل کی طرف۔ تو فعلِ معروف کی نسبت ہوتی ہے فاعل کی طرف، یا یوں کہو فعلِ معروف جو ہوتا ہے نا، وہ مبنی للفاعل ہوتا ہے۔
کیا ہوتا ہے؟ مبنی للفاعل ہوتا ہے۔ مبنی کا معنی مبنيٌ کون سا صیغہ ہے؟ جی بتائیے بھئی! مبنيٌ، جی؟ شاباش! اسمِ مفعول، کس باب سے؟ کیا؟ جی، آپ نے کیا پڑھا ہے؟ مرميٌ، شاباش! دیکھا معلوم ہوا اب آپ اچھے خاصے صرفی بن چکے ہیں بھئی، یہ تو بڑا مشکل صیغہ ہے، عام طلباء کو پتہ ہی نہیں چلتا۔
تو یہ مبنيٌ، یہ اسمِ مفعول کا صیغہ ہے، رمى يرمي رمياً فهو رامٍ، ورمي يرمى رمياً فذاك مرميٌ، یہ مرميٌ جو ہے اسمِ مفعول ہے بھئی۔
تو مبنيٌ، بنا يبني کا معنی ہوتا ہے بنانا، بنانا، اور مبنيٌ جس کو بنایا گیا ہو، جس کو بنایا گیا ہو۔ تو یہ جو فعلِ معروف ہوتا ہے نا فعلِ معروف، اس کو کہتے ہیں مبنيٌ للفاعل، اس کو بنایا گیا ہے للفاعل کس کے لیے؟ فاعل کے لیے، یعنی اس کی نسبت کس کی طرف کرنی ہے؟ فاعل کی طرف۔ اور جو فعلِ مجہول ہوتا ہے نا اس کے بارے میں کہتے ہیں مبنيٌ للمفعول، اس کو بنایا گیا ہے کس کے لیے؟ مفعول کے لیے۔ تو يضربُ یہ فعل مبنی للفاعل ہے، اور يضربُ یہ فعل کیا ہے؟ مبنی للمفعول ہے، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟
مبنی للفاعل کو آسان لفظوں میں آپ کہتے ہیں معروف، يضربُ کیا ہے؟ مبنی للفاعل ہے، اسی کو آپ کیا کہتے ہیں؟ فعلِ معروف ہے، اور مبنی للمفعول، يضربُ یہ مبنی للمفعول ہے، آپ اس کو کیا کہتے ہیں؟ فعلِ مجہول۔ تو معروف اور مجہول یہ وہی آپ معنی ادا کر رہے ہیں جو مبنی للفاعل اور مبنی للمفعول کا ہے، فعلِ معروف ہے تو وہ مبنی للفاعل ہے، یا یوں کہہ لو وہ فعلِ معروف ہے یعنی فاعل کی طرف اس کا اسناد ہوگا، اور دوسرا فعلِ مجہول ہے تو اسی میں کبھی اس کو فعلِ مجہول کہہ دیتے ہیں اور کبھی کیا کہہ دیتے ہیں کہ یہ فعل مبنی للمفعول ہے، دونوں کا معنی ایک ہی ہے، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟
تو جیسے یہ فعل معروف اور مجہول ہوتا ہے، اسی طرح یہ جو مصدر ہے یہ بھی معروف اور مجہول ہوتا ہے۔ معروف اور مجہول ہوتا ہے۔
اچھا، تو فعلِ معروف کا اسناد کس کی طرف؟ فاعل کی طرف، اور فعلِ مجہول کا اسناد مفعول کی طرف ہوتا ہے، یعنی یہ ان کے ساتھ قائم ہوتا ہے اور یہ اس کو رفع دیتے ہیں، ضرب زيدٌ، یہ ضرب کیا ہے؟ فعلِ معروف، تو یہ کس کے ساتھ قائم ہے؟ زید کے ساتھ، اور اسی لیے یہ اس کو رفع دے رہا ہے۔ اور ضرب عمروٌ، یہ ضرب کس کے ساتھ قائم؟ عمر کے ساتھ، اس لیے یہ کیا کر رہا ہے؟ اس کو رفع دے رہا ہے، صورت سمجھ میں؟ عمر ہے مفعول ہی، لیکن فاعل کو حذف کر کے یہ مفعول کو اس کا قائم مقام کر دیا اور فعل کو مجہول بنا دیا، تو یہ اب کیا کر رہا ہے؟ ضرب کا اسناد کس کی طرف ہے؟ عمروٌ یعنی مفعول کی طرف ہے اور یہ اس کو رفع دے رہا ہے اور اس کو نائب الفاعل کہتے ہیں۔ تو فعلِ معروف کس کو رفع دیتا ہے؟ فاعل کو، اور فعلِ مجہول کس کو رفع دیتا ہے؟ نائب الفاعل کو، اور یہ دراصل مفعول ہی ہے، یہ کیا ہے؟ دراصل مفعول ہی ہے کہ اس پر پٹائی واقع ہوئی ہے بھئی۔
تو اسی طرح مصدر بھی ہوتا ہے، وہ معروف بھی ہوتا ہے اور مجہول بھی، لیکن دونوں کا وزن ایک ہی ہوتا ہے، فعل میں تو فرق ہوتا ہے لیکن مصدر میں فرق نہیں، اسی ضربٌ کا معنی پٹائی کرنا بھی اور پٹائی ہونا بھی، اسی شربٌ کا معنی پانی پینا بھی اور پانی کا پیا جانا بھی، اسی طرح اور دیکھ لیں اَکْل، ہمزہ، چھوٹا کاف اور لام، اَکْل، اَکْل کا معنی ہے کھانا کھانا، تو اَکْل کا معنی کھانا کھانا بھی اور اَکْل کا معنی کھانا کھایا جانا بھی، مجہول والا معنی بھی کریں گے، صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو جو مصدرِ معروف ہوگا اس کو کیا کہیں گے؟ مصدرٌ مبنيٌ للفاعل، اور جو مصدرِ مجہول ہوگا اس کو کیا کہیں گے؟ مصدرٌ مبنيٌ للمفعول، للمفعول۔
پھر ایک اور بات یاد رکھیں، یہ جو مصدر ہے نا مصدر، یہ کبھی اسمِ فاعل کے معنی بھی آتا ہے، اسمِ فاعل کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، اور کبھی اسمِ مفعول کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔
مثلاً مثال گزری تھی گزشتہ سبق میں: زيدٌ عدلٌ، یہ عدلٌ تو مصدر ہے، تو علماء کیا فرماتے ہیں کہ یہ عدلٌ کس معنی میں ہے؟ عادلٌ کے معنی میں، دیکھا عادلٌ اسمِ فاعل ہے، تو مصدر کس معنی میں ہوا؟ اسمِ فاعل کے معنی میں۔ یا جیسے میں کہتا ہوں: زيدٌ ضربٌ، تو کیا کہیں گے؟ أي زيدٌ ضاربٌ، تو یہ ضربٌ کس معنی میں؟ ضاربٌ کے معنی میں، اور یہ تو اس صورت میں اگر زید پٹائی کرنے والا ہے، اور اگر زید اس کی پٹائی ہوئی ہے تو پھر یوں کہیں گے، میں کہتا ہوں: زيدٌ ضربٌ، تو اب آپ کیا ترجمہ کریں گے؟ کیسے کہیں گے؟ یہ ضربٌ کس معنی میں ہے؟ اسمِ مفعول کے معنی میں لیں گے: زيدٌ مضروبٌ، کیونکہ زید نے پٹائی، آپ کو پتہ ہے زید نے پٹائی نہیں کی بلکہ اس کی پٹائی ہوئی ہے، تو اب زيدٌ ضربٌ، یہ ضربٌ کو کس معنی میں لیں گے؟ مضروبٌ، کیونکہ مصدر کا حمل ذات پر نہیں ہو سکتا تو پھر اس کو کس معنی میں لیتے ہیں؟ اسمِ فاعل یا اسمِ مفعول کے معنی میں لیتے ہیں، اور موقع محل کے مطابق، جہاں اسمِ فاعل کی ضرورت ہے صحیح بنتا ہے وہاں اسمِ فاعل کے معنی میں لے لیتے ہیں، اور جہاں اسمِ مفعول کے معنی میں لینا صحیح ہو تو اس کو اسمِ مفعول کے معنی میں لے لیتے ہیں۔
یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ ایک بات یہ ہوئی کہ مصدر کبھی معروف ہوتا ہے اور کبھی مجہول، معروف کو کیا کہتے ہیں؟ مبنی للفاعل، اور مجہول کو کیا کہتے ہیں؟ مبنی للمفعول۔ پھر یہی مصدر کبھی اسمِ فاعل کے معنی میں بھی آتا ہے اور کبھی اسمِ مفعول کے معنی میں بھی آتا ہے۔ اب یہ بھی یاد رکھو کہ یہ اسمِ فاعل کے معنی میں، اسمِ فاعل کے، وہ والا مصدر آئے گا جو معروف ہوگا۔
اسمِ فاعل کے معنی میں وہ والا مصدر آئے گا جو معروف ہوگا، اور اگر مصدر اسمِ مفعول کے معنی میں ہے تو سمجھ جائیں یہ مصدرِ مجہول ہے۔ یہ کیا ہے؟ مصدرِ مجہول۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ میں نے کہا: زيدٌ ضربٌ، یہ ضربٌ کس معنی میں ہے؟ ضاربٌ کے معنی میں، تو اس سے آپ کو ایک اور بات کا بھی پتہ چل گیا، کیا؟ کہ یہ ضربٌ کون سا مصدر ہے؟ مصدرِ معروف ہے، اور اگر میں کہوں زيدٌ ضربٌ، یہ ضربٌ کس معنی میں ہے؟ مضروبٌ کے معنی میں ہے، تو خود بخود ایک اور بات کا بھی آپ کو پتہ چل گیا کہ یہ ضربٌ کون سا مصدر ہے؟ مصدرِ مجہول ہے، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ کہ مصدر کبھی فاعل کے معنی میں ہوگا لیکن یہ تب جب مصدر معروف ہو، اور مصدر کبھی اسمِ مفعول کے معنی میں ہوگا لیکن یہ اس وقت جب مصدر کیا ہو؟ مجہول ہو، صورت سمجھ میں آ گئی؟
اب ایک اور بات یاد رکھیں، جب کہیں پر یہ آ جائے: **مصدرٌ مبنيٌ للفاعل**، تو پھر طلباء یہ سمجھتے ہیں، اکثر طلباء اسی غلطی میں مبتلا ہیں، کہیں پر لکھا ہوا آ جائے: مصدرٌ مبنيٌ للفاعل، تو وہ کہتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مصدر اسمِ فاعل کے معنی میں ہے، یعنی ضربٌ کس معنی میں ہے؟ ضاربٌ، حالانکہ اس کلام کا یہ معنی نہیں ہے۔
بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ مثلاً ایک مصنف اپنی کتاب میں لکھتا ہے: زيدٌ ضربٌ، اور آگے کہتا ہے: الضرب مصدرٌ مبنيٌ للفاعل، طالب علم کیا کہتے ہیں کہ اس کا کیا معنی ہے؟ کہ یہ ضرب کس معنی میں ہے؟ ضاربٌ کے معنی میں ہے، حالانکہ مصنف یہ نہیں کہہ رہا، وہ صرف اتنا کہہ رہا ہے کہ یہ مصدر معروف ہے، یہ کیا ہے؟ یہ مصدر مبنی للفاعل ہے یعنی مصدرِ معروف ہے۔ پھر مصدرِ معروف کبھی اسمِ فاعل کے معنی میں ہوتا ہے وہ دوسری بات ہے، تو پہلی چیز کیا؟ کہ مصدر کیا ہوگا؟ معروف، اور پھر کبھی وہ کس معنی میں ہوگا؟ اسمِ فاعل کے، اسی طرح کبھی مصدر ہوگا مجہول، یہ ایک چیز، اور پھر کبھی یہ مصدرِ مجہول کس معنی میں ہوگا؟ اسمِ مفعول کے معنی میں ہوگا، تو لہٰذا مبنی للفاعل کہہ دیا جائے تو اس کا یہ معنی نہیں کہ یہ اسمِ فاعل کے معنی میں ہے، اور مبنی للمفعول کہہ دیا جائے تو اس کا یہ معنی نہیں کہ یہ اسمِ مفعول کے معنی میں ہے، وہ الگ چیز ہے، مبنی للفاعل جب کہا تو اس کا صرف یہ معنی کہ یہ مصدر کون سا ہے؟ معروف، معروف والا ترجمہ کرنا، اور جب کہہ دیا جائے مصدرٌ مبنيٌ للمفعول، تو معنی کیا یہ مصدر مجہول ہے، اس کا کون سا ترجمہ کرنا؟ مجہول ترجمہ کرنا۔
لہٰذا ایک کتاب ہے، دیکھیے اب آپ نے مجھے بتانا ہے، یہ کتاب ہے، اس کتاب کے اندر ایک عبارت آئی اور ایک مصدر آیا، ایک مصدر آیا، اور آگے لکھا ہوا ہے: مبنيٌ للفاعل، تو آپ کیا سمجھے؟ یہ مصدرِ معروف ہے۔ کیا یہ اسمِ فاعل کے معنی میں ہے، یہ بھی اس سے نکلا؟ نہیں، یہ بات اس سے معلوم نہیں، صرف اتنا بتایا گیا کہ یہ کیا ہے؟ مصدرِ معروف ہے۔ اور اسی طرح ایک کتاب آئے، کتاب میں لکھا ہوا ہے مصدر اور آگے لکھا ہوا ہے: مصدرٌ مبنيٌ للمفعول، اس سے کیا پتہ چلا؟ کہ یہ مجہول ہے، کیا یہ پتہ چلا کہ یہ اسمِ مفعول کے معنی میں ہے؟ نہیں، یہ پتہ نہیں چلا، وہ الگ چیز ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ ہاں، ایک اور کتاب ہے، اس میں لکھا ہوا ہے، مثلاً زيدٌ ضربٌ، اور الضرب کے آگے لکھا ہے کہ یہ مصدر اسمِ فاعل کے معنی میں ہے، توجہ ہے؟ یہ مصدر اسمِ فاعل کے معنی میں ہے، کیا کیا سمجھے آپ؟ دو باتیں آپ کو پتہ چلیں یہاں پر، دیکھا انہوں نے صرف یہ کہا یہ اسمِ فاعل کے معنی میں ہے، لیکن دو باتوں کا پتہ چل گیا، ایک تو یہ کہ یہ کیا ہے؟ مصدرِ معروف ہے، کیونکہ وہ کس معنی میں ہوتا ہے اسمِ فاعل کے، تو ایک تو یہ پتہ چلا کہ یہ مصدرِ معروف ہے، اور دوسرا پھر یہ بھی پتہ چلا کہ یہ اسمِ مصدرِ معروف کس معنی میں ہے؟ اسمِ فاعل کے معنی میں ہے۔ اسی طرح کتاب میں کبھی لکھا ہوگا مصدر ہوگا اور آگے لکھا ہوگا: یہ اسمِ مفعول کے معنی میں ہے، تو اس سے بھی آپ کو کتنی باتوں کا پتہ چلا؟ دو باتوں کا پتہ چلا، ایک تو یہ مصدرِ مجہول ہے، اور دوسرا یہ پتہ چلا کہ یہ مصدرِ مجہول پھر کس معنی میں ہے؟ اسمِ مفعول کے معنی میں ہے۔ تو لہٰذا جب مبنی للفاعل کہا جائے تو صرف ایک بات کا پتہ چلتا ہے کہ یہ معروف ہے، اور جب مبنی للمفعول کہا جائے تو صرف ایک بات کا پتہ چلتا ہے کہ یہ مصدرِ مجہول ہے، اور لیکن جب کہا جائے کہ یہ مصدر اسمِ فاعل کے معنی میں ہے تو دو باتوں کا پتہ چلتا ہے کہ معروف بھی ہے اور پھر کس معنی میں ہے؟ اسمِ فاعل، اور جب کہا جائے یہ مصدر اسمِ مفعول کے معنی میں ہے تو پھر وہاں بھی دو باتوں کا پتہ چلتا ہے کہ ایک تو یہ مجہول ہے اور دوسرا کس معنی میں ہے؟ اسمِ مفعول کے معنی میں ہے۔
اور اسی وجہ سے اب گردانوں کا نکتہ بھی آپ کو سمجھ میں آ گیا۔ ہمارے بزرگوں کا کوئی بھی عمل، کوئی بھی عمل بلا سبب نہیں، ہر ایک میں عجیب عجیب نکات ہوتے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔ جیسے آپ کی صرفِ صغیر ہے، صرف میں آپ گردان پڑھتے ہیں: ضرب يضرب ضرباً فهو ضاربٌ، وضرب يضرب ضرباً فذاك مضروبٌ، لم يضرب لم يضرب، آخر تک گردان چلتی ہے۔ دیکھو یہ صرفِ صغیر ہے، چھوٹی گردان ہے، اسی لیے ماضی معروف کے، کبیر میں کتنے صیغے ہیں؟ ۱۴ صیغے، لیکن ان میں سے صرف ایک صیغہ لیا: ضربَ، گردان، پوری گردان کی طرف اشارہ کر دیا کہ یہ ضربَ کے وزن پر گردان چلتی ہے، باقی صیغے خود سمجھ لو اس سے۔ اسی طرح مضارع معروف جو ہے، کس سے شروع ہوتی ہے؟ يضربُ، اور کل اس کے صیغے کتنے ہیں؟ ۱۴، لیکن صرفِ صغیر میں صرف ایک صیغہ يضربُ لا کر اس پوری گردان کی طرف اشارہ کر دیا کہ وہ اسی وزن پر چلے گی باقی صیغے خود نکال لینا، پوری گردان کی طرف اشارہ کر دیا۔ آگے ضرباً، کیا آیا؟ مصدر، بتلا دیا ان کا مصدر کیا آتا ہے؟ ضرباً آتا ہے، ضربَ اور يضربُ کا مصدر کیا آتا ہے؟ ضرباً، اور اس کو منصوب رکھا، کیوں منصوب رکھا؟ کیونکہ وہ مصدر جو ماقبل فعل کے معنی میں ہو اسے کیا کہتے ہیں؟ مفعولِ مطلق، ضربتُ ضرباً، ضربتُ ضرباً، یہ دیکھا ضرباً مصدر ہے اور اسی ماقبل والے فعل کے معنی میں ہے، تو یہ مصدر اس کو، یہ منصوب ہوتا ہے اور یہ مفعولِ مطلق ہوتا ہے، اس لیے گردانوں میں بھی ضرباً، اس کو منصوب پڑھا، کیونکہ یہ کیا بن رہا ہے؟ مفعولِ مطلق، کیونکہ ماقبل والے ضربَ اور يضربُ ہی کے معنی میں ہے یہ بھئی۔ پھر آگے مجہول کے، مجہول ماضی مجہول کے کتنے صیغے ہیں؟ ۱۴، لیکن صرف ایک صیغہ لیا: ضربُِ، باقی گردان آپ خود صاف کر لینا بھئی، پوری گردان کی طرف اشارہ کر دیا۔ اگلی مضارع مجہول کے کتنے صیغے؟ ۱۴ صیغے، اس کی طرف يضربُ کے ذریعے اشارہ کر دیا، ضربُِ کے ذریعے ماضی مجہول کی طرف اور يضربُ کے ذریعے مضارع مجہول کی طرف اشارہ کر دیا، کیونکہ یہ چھوٹی گردان ہے، صرفِ صغیر ہے، ایک ایک لفظ کے ذریعے ایک ایک گردان کی طرف اشارہ کرتے چلے جا رہے ہیں بھئی، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ پھر تو ضربُِ يضربُ، آگے پھر ضرباً آ گیا، تو اشکال ہوتا ہے کہ کیا وجہ ہے؟ ضرباً دوبارہ کیوں لائے؟ یہ تو چھوٹی گردان ہے، ایک دفعہ ضرباً پہلے گزر چکا تھا، دوبارہ لانے کی کیا ضرورت ہے؟ یہاں تو آپ دوسرا صیغہ نہیں ذکر کرتے، چہ جائیکہ کہ آپ کیا کریں ایک ہی صیغے کو دو دفعہ ذکر کر رہے ہیں، ایک دفعہ ضرباً گزر چکا پھر ضرباً ذکر کر رہے ہیں؟ تو جواب آج آپ کو سمجھ میں آ گیا کہ پہلا جو ضرباً آیا تھا وہ فعلِ معروف کے بعد تھا، وہ مصدرِ معروف تھا، اور یہ مصدر جو آیا، کس کے بعد آیا؟ فعلِ مجہول کے بعد، تو یہ کون سا مصدر ہے؟ مصدرِ مجہول ہے، اور نیز اس نقطے کی طرف اشارہ ہے، بزرگوں نے اس نقطے کی طرف اشارہ کر دیا کہ یاد رکھنا اردو اور زبانوں میں تو ہو سکتا ہے کہ مصدرِ معروف کے لیے اور لفظ ہو اور مصدرِ مجہول کے لیے اور لفظ ہو، تھوڑا فرق ہو جائے، جیسے پینا اور پیا جانا، مارنا اور مارے جانا، لیکن عربی میں دونوں کا وزن، دونوں ایک ہی صیغہ دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، وہی ضربٌ معروف کے لیے بھی استعمال ہوگا اور وہی ضربٌ مجہول کے لیے بھی استعمال ہوگا، وہی اکرامٌ معروف کے لیے بھی استعمال ہوگا اور وہی اکرامٌ مجہول کے لیے بھی استعمال ہوگا، وہی استخراجٌ معروف کے لیے بھی استعمال ہوگا اور وہی استخراجٌ مجہول کے ذریعے بھی استعمال ہوگا۔ تو یہ نکتہ ہے کہ مصدر دو دفعہ لایا گیا، یہ بتلانے کے لیے کہ ایک مصدرِ معروف ہے اور ایک مصدرِ مجہول، اور دونوں کا وزن ایک ہی ہوتا ہے، ایک ہی لفظ ہوتا ہے دونوں کا عربی میں، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟
اب آؤ پھر دیکھیے بھئی کتاب پر، متن میں کیا آیا تھا: **هو بالاهتداء حقيق**، اور اهتداء کا کیا معنی ہے؟ ہدایت حاصل کرنا۔ وہ، اگر یہ ترجمہ کیا جائے: وہ اللہ ہدایت حاصل کرنے کے لائق ہیں، تو یہ تو کفرِیہ معنی ہو گیا، تو یہ معنی درست نہیں، اور اگر حضور کی طرف بھی یہ نسبت کر لیں: حضور علیہ السلام ہدایت حاصل کرنے کے لائق ہیں، تو یہ بھی بے ادبی والا معنی ہے۔ تو یہ معنی تو صحیح نہیں ہوتا، پھر کیا کیا جائے؟ تو شارح آپ کو بتلائیں گے کہ اهتداء، یہ مصدر مبنی للمفعول ہے، یہ کیا ہے؟ مصدر مبنی للمفعول، کیا معنی مصدر مبنی للمفعول؟ یعنی یہ مصدرِ مجہول ہے بھئی، جی مصدرِ مجہول ہے۔
تو پھر کیا معنی ہوگا؟ **هو بالاهتداء حقيق**، وہ لائق ہے **بالاهتداء** ہدایت حاصل کیے جانے کے، یعنی کہ ان کہ ان سے کیا کی جائے؟ ہدایت حاصل، وہ اللہ اس لائق ہیں، وہ ہادی ہیں، وہ اس لائق ہیں کہ ان سے ہدایت حاصل کی جائے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس لائق ہیں کہ ان سے کیا کی جائے؟ ہدایت حاصل کی جائے۔ تو وہاں ہدایت حاصل کرنا ان کے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے ہے کہ دوسرے کیا کریں ان سے؟ تو دوسرے ان سے ہدایت حاصل کریں، تو یہ اهتداء مصدرِ معروف نہیں بلکہ کیا ہے؟ مصدرِ مجہول ہے بھئی، مصدرِ مجہول ہے۔
دیکیھے اب شرح میں: **قوله بالاهتداء** مصنف کا قول بالاهتداء جو ہے، یہ کہتے ہیں **مصدر مبني للمفعول** یہ مصدر مبنی للمفعول ہے، اگر مبنی للفاعل کا ترجمہ کرو گے تو پھر معنی صحیح نہیں رہے گا، یا تو کفرِیہ معنی بن جائے گا یا بے ادبی والا، بلکہ یہ کون سا مصدر ہے؟ مصدرِ مجہول۔ وہ لائق ہے **بالاهتداء** کہ ان سے کیا کی جائے؟ ہدایت حاصل کی جائے۔
اس پر پھر اشکال ہوتا ہے، اشکال یہ کہ اهتداء یہ تو مصدرِ لازمی ہے، متعدی نہیں۔
جب ہم کسی فعل کو معروف سے مجہول بناتے ہیں تو کیا کرتے ہیں؟ ضرب زيدٌ عمراً، توجہ ہے؟ ضرب زيدٌ عمراً، یہ زيدٌ کیا ہے؟ فاعل، اور عمراً کیا ہے؟ مفعول۔ تو جب اس ضرب کو ہم ضربُِ بنائیں گے تو فاعل کو حذف کر لیں گے، زيدٌ کیا ہوا؟ حذف، اور پھر جو مفعول تھا اس کو نائب الفاعل بنائیں گے: ضرب عمروٌ، عمر کی پٹائی کی گئی۔ تو فعلِ مجہول کے لیے نائب الفاعل چاہیے یا نہیں چاہیے؟ اور وہ نائب الفاعل کہاں سے آتا ہے؟ وہ اسی کا مفعول ہوتا ہے جو کیا بن گیا؟ نائب الفاعل بن گیا۔
تو یہ تو فعلِ متعدی میں ہوگا، فعلِ متعدی کسے کہتے ہیں؟ جس کے لیے مفعول چاہیے ہوتا ہے، اور فعلِ لازم جہاں مفعول کی ضرورت نہ ہو۔ مفعول کی ضرورت، تو یہ اهتداء اس کا تو معنی ہے ہدایت حاصل کرنا، یہ تو فعلِ لازمی ہے، مصدرِ لازمی ہے، اس کے لیے تو مفعول آتا ہی نہیں، تو اگر آپ اس کو کیا بنائیں گے؟ مصدرِ مجہول، تو مفعول اگر ہوتا تو ہم اس کو نائب الفاعل بنا دیتے، یہاں تو مفعول ہے ہی نہیں، تو پھر اس کا مفعول کیا بنے گا؟ کیسے یہ فعلِ مجہول آئے گا؟ کیسے مصدرِ مجہول آئے گا؟ اور کس چیز کو اس کے لیے نائب الفاعل بناؤ گے؟ اشکال سمجھ میں آ رہا ہے؟ فاعل کو تو حذف کر دیا، جب فعلِ مجہول لاتے ہیں یا مصدرِ مجہول تو فاعل کو کیا کر دیتے ہیں؟ حذف، اور پھر مفعول کو اس کا قائم مقام بناتے ہیں، یہاں کوئی مفعول ہے ہی نہیں، تو پھر یہ کس طرح ترجمہ ہوگا اور کیسے یہ فعل، کیسے اس کا مجہول آئے گا بھئی؟
اشکال سمجھ میں آ گیا؟ تو جواب دیں گے کہ یہاں پر **به** جار مجرور محذوف ہے۔ **به** جار مجرور محذوف ہے۔ یاد رکھو، یہ جو جار مجرور ہیں نا جار مجرور، یہ جس سے جڑتے ہیں وہ ان کے اندر عامل ہوتا ہے، اگر یہ فعل سے جڑے جار مجرور، تو فعل اس جار مجرور میں عامل، اگر یہ مصدر سے جڑے، تو مصدر ان کے اندر عامل، اگر یہ اسمِ فاعل سے جڑے، ضاربٌ سے، تو ضاربٌ ان میں عامل، اگر یہ مضروبٌ اسمِ مفعول کے ساتھ جڑے، تو مضروبٌ ان کے اندر عامل، اگر یہ صفتِ مشبہ کے ساتھ جڑے، کریمٌ، تو وہ کریمٌ ان کے اندر عامل، اور اگر یہ کس سے جڑے؟ اسمِ تفضیل، اضربُ کے ساتھ جڑے، تو وہ ان کے اندر عامل، تو حاصل کلام یہ: یہ جار مجرور جس سے جڑتے ہیں وہ ان کے اندر عامل ہوتا ہے۔
اور پھر یہ بھی یاد رکھنا، یہ یہ جو مجرور ہے نا مجرور، یہ دراصل مفعول ہوتا ہے۔ کیا ہوتا ہے؟ دراصل مفعول ہوتا ہے، لیکن فعل اس کو براہِ راست نصب نہیں دے سکتا، مفعول تو منصوب ہوتا ہے نا، یہ جار مجرور، توجہ ہے؟ یہ جار مجرور مثلاً جڑ گئے فعل کے ساتھ، تو یہ جار مجرور، یہ جو ایک تو حرفِ جار ہے، آگے جو مجرور اسم ہے وہ دراصل مفعول ہوتا ہے، وہ کیا ہوتا ہے؟ دراصل مفعول ہوتا ہے، لیکن مفعول تو ہوتا ہے منصوب، فعل اس میں براہِ راست عمل نہیں کر سکتا تھا تو ہم نے حرفِ جار کا واسطہ اختیار کیا، ہم نے حرفِ جار کی مدد لی۔
مثلاً میں کہتا ہوں: ضربتُ زيدا، میں نے کس کی پٹائی کی؟ زید کی، اب میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ میں نے لاٹھی سے پٹائی کی، تو میں کہوں گا: ضربتُ زيدا بالعصا، میں نے زید کی پٹائی کی لاٹھی کے ساتھ، توجہ ہے؟ تو یہ بالعصا کس سے متعلق؟ ضربتُ سے، تو ضربتُ اس کے اندر عامل ہوا، اور بالعصا، یہ با جارّہ اور العصا، یہ دراصل مفعول بہِ ہے ضربتُ کے لیے، تو پھر اس کو مفعول بہِ کیوں نہیں بناتے؟ مفعول بہِ کیا ہوتا ہے؟ منصوب، با کو ختم کرو، العصا کو منصوب لے آؤ، تو جواب یہ کہ بھئی ضربتُ صرف ایک مفعول کو نصب دے سکتا ہے، دو یا زیادہ کو نصب، مفعول بہِ کی بات کر رہا ہوں، مفعول مفعول فیہ، مفعول لہ وغیرہ وہ الگ ہیں، ان کو تو وہ نصب دے گا، لیکن مفعول بہِ صرف ایک ہی کو یہ نصب دے سکتا ہے، اور ضربتُ زيدا، یہ زيدا مفعول بہِ ایک آ گیا یا نہیں آ گیا؟ تو آگے العصا کو اب یہ نصب نہیں دے سکتا، اور میں تو اس کو جوڑنا چاہتا ہوں، تو پھر میں مدد لیتا ہوں حرفِ جار کی، اور با لے آتا ہوں درمیان میں: ضربتُ زيدا بالعصا، تو یہ زيدا، یہ بھی ہے مفعول بہِ، اور العصا، یہ بھی کیا ہے؟ مفعول بہِ۔ البتہ علماء فرماتے ہیں کہ یہ دونوں ہیں مفعول بہِ، البتہ ایک کو کہیں گے مفعول بہِ صریح، یہ زيدا کیا ہے؟ ضربتُ زيدا، یہ زيدا مفعول بہِ صریح، صریح پہلے بھی گزر چکا ہے، صاف لفظوں میں ایک بات ذکر کرنا، تو یہ مفعول بہِ صریح ہے یعنی واضح طور پر صراحتاً یہ کیا ہے؟ مفعول بہِ ہے، اور العصا، یہ بھی مفعول بہِ ہے لیکن یہ غیرِ صریح ہے، یہ کیا ہے؟ ہاں یعنی صراحتاً یہ مفعول بہِ نہیں، صراحتاً تو یہ جار مجرور ہے، لیکن ہے مفعول بہِ ہی، تو اس مفعول بہِ جس کو فعل نصب دے کیا کہتے ہیں؟ مفعول بہِ صریح، اور یہ جو جار مجرور جو مجرور ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ مفعول بہِ غیرِ صریح۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ہوتا یہ مفعول بہِ ہی ہے، تو یہاں پر بھی اهتداء یہ کیا ہے؟ مصدرِ مجہول، اور اس کے لیے کیا چاہیے؟ نائب الفاعل چاہیے، اور نائب الفاعل کس کو بناتے ہیں؟ مفعول کو، تو یہاں به محذوف ہے، اور به جار مجرور تھا، تو اس میں سے یہ ہا جو ضمیر ہے یہ کیا تھی؟ مفعول بہِ غیرِ صریح، تو یہی اب نائب فاعل بن گئی، کیا بن گئی؟ نائب فاعل بن گئی، دیکھیے اسی کی طرف اشارہ کیا: **أي بأن يهتدى به**، دیکھو به نکال لیا شارح نے بتلا دیا: **بأن يهتدى به**، بہیں صورت کہ **يهتدى به** کہ اس سے ہدایت حاصل کی جائے، يهتدى، ہدایت حاصل کی جائے به، اس سے۔
بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
اشکال کیا ہوا؟ کہ اهتداء کیا ہے؟ مصدرِ لازم ہے، مصدرِ لازم ہے اور آپ کہہ رہے ہیں یہ کیا ہے؟ مصدرِ مجہول ہے، تو مجہول کے لیے تو کیا چاہیے؟ نائب الفاعل، اور نائب الفاعل کون بنتا ہے؟ مفعول، اور اس کا تو مفعول، یہ تو فعلِ لازم تھا اس کے لیے تو مفعول آتا ہی نہیں، تو پھر؟ تو جواب دے دیا کہ یہاں پر جار مجرور ہے اور وہ بنے گا اس کے لیے نائب فاعل بن جائے گا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟
دوبارہ دیکھیے: **قوله بالاهتداء** مصنف کا قول بالاهتداء **مصدر مبني للمفعول** یہ مصدر مبنی للمفعول ہے، **أي بأن يهتدى به** یعنی کہ ان سے ہدایت حاصل کی جائے، وہ لائق ہیں کہ ان سے ہدایت حاصل کی جائے، **والجملة صفة لقوله هدىً** اور یہ پورا جملہ جو ہے کون سا؟ **هو بالاهتداء حقيق**، یہ پورا جملہ **صفة** یہ صفت ہے **لقوله هدىً** مصنف کے قول هدىً سے اس کے لیے، یہ پورا جملہ مصنف کے قول هدىً کے لیے صفت ہے، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ **أو يكونان حالين مترادفين** یا یہ دونوں حالِ مترادَفہ ہیں، **أو متداخلين** یا احوالِ متداخلہ ہیں، یہ اور دو ترکیبیں بتلا رہے ہیں آپ کو۔
ایک ترکیب تو بتا دی کہ هدىً کو بناؤ موصوف اور **هو بالاهتداء حقيق** اس کو کیا بناؤ؟ صفت۔ دوسری ترکیب: هدىً حال ہے، هدىً کیا ہے؟ حال ہے، اور **هو بالاهتداء حقيق** کو اس کی صفت نہ بناؤ، دوسری ترکیب، پہلی ترکیب میں تو صفت، دوسری ترکیب میں جیسے هدىً حال تھا **هو بالاهتداء حقيق** یہ پورا جملہ بھی حال، یہ بھی کیا ہے؟ آپ پڑھ چکے ہیں کہ حال کبھی مفرد آتا ہے اور کبھی جملہ آتا ہے۔
مثلاً میں کہتا ہوں: جاءني زيدٌ راكباً، آیا میرے پاس زید اس حال میں، جاءني زيدٌ راكباً، آیا میرے پاس زید اس حال میں راكباً کہ وہ سوار تھا، تو دیکھو راكباً یہ مفرد کو میں نے حال بنایا، ایک صیغہ ہے نا جملہ تو نہیں، تو میں نے مفرد کو کیا بنایا؟ حال، اور کبھی پورا جملہ حال آتا ہے، مثلاً میں کہتا ہوں: جاءني زيدٌ وهو راكبٌ، آیا یہ واؤ حالیہ ہے، آیا میرے پاس زید وهو راكبٌ اس حال میں کہ وہ سوار تھا، دیکھو ترجمہ ایک ہی ہے دونوں کا، تو حال کبھی مفرد ہوتا ہے اور کبھی پورا جملہ، تو یہاں پر بھی کہتے ہیں دوسری ترکیب آپ یہ کر سکتے ہیں کہ هدىً وہ بمعنی ہادی کے ایک حال ہو گیا، یا یوں کہو هدىً ایک حال ہوا اور **هو بالاهتداء حقيق** یہ پورا جملہ کیا ہوا؟ دوسرا حال ہو گیا، دوسرا حال۔
بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ حال ہوا، تو یہ جملہ ہے اور اس کو آپ کیا بنا رہے ہیں؟ حال، اور حال کو کس سے جوڑتے ہیں؟ ذو الحال سے، ربط ضرور چاہیے، تو اب اس صورت میں اب **هو** ضمیر جو ہے نا پہلے ہم نے هدىً کو راجع کی تھی کیونکہ ہم اس کی صفت بنا رہے تھے، اب **هو** ضمیر کس کو لوٹاؤ؟ ذو الحال کی طرف، تو أرسلَ کے فاعل سے حال بنا رہے ہیں تو اس کی طرف لوٹا دیں، یعنی وہ اللہ اس حال میں کہ وہ لائق ہیں کہ ان سے ہدایت حاصل کی جائے، اور یا یہ مفعول کی طرف لوٹاؤ، أرسله کی ہا ضمیر جو ہے کہ اللہ نے ان کو بھیجا اس حال میں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم **هو بالاهتداء حقيق** وہ لائق ہیں کہ ان سے ہدایت حاصل کی جائے، بات سمجھ میں آ گئی۔
تو یہ دو حال، دونوں حال ہو گئے، هدىً بھی حال، وہ حال مفرد ہوا، اور یہ **هو بالاهتداء حقيق** یہ پورا جملہ بھی حال، پورا جملہ حال ہو گیا۔
پھر ان کو آپ چاہیں تو احوالِ مترادَفہ بنا دیں، اور چاہیں تو حالِ متداخلہ، حالِ مترادَفہ توجہ سے، احوالِ مترادَفہ اس کو کہتے ہیں کہ ایک ہی ذو الحال آئے، توجہ ہے؟ ایک ہی ذو الحال آیا آگے دو حال ہیں یا تین ہیں یا چار ہیں جتنے بھی ہیں، تو اسی ذو الحال سے پہلا بھی حال، اسی ذو الحال سے دوسرا بھی حال، اسی ذو الحال سے تیسرا بھی حال، یہ ہیں احوالِ مترادَفہ۔ مترادَفہ ایک دوسرے کے ہم معنی، ایک دوسرے کے، ایک دوسرے جیسے ہیں، مترادَف کا کیا معنی؟ ایک دوسرے جیسے ہیں، جیسے پہلا مثلاً أرسلَ کی **هو** ضمیر سے حال ہے، دوسرا بھی أرسلَ کی **هو** ضمیر سے حال، تیسرا بھی أرسلَ کی **هو** ضمیر سے، تو ایک ہی ذو الحال سے دو یا زیادہ حال آ جائیں تو ان کو کیا کہتے ہیں؟ احوالِ مترادَفہ، کہ ایک ہی ذو الحال سے آ رہے ہیں۔
اور کبھی ایسا ہوتا ہے، یاد رکھو ادھر دیکھو، ایک ذو الحال ہے اس سے آگے حال آیا، کیا آیا؟ آگے حال آیا، حال آیا، پھر اس حال کے اندر ایک ضمیر ہوتی ہے جس سے آگے دوسرا حال آ جاتا ہے، تو اب یہ ایک ہی ذو الحال سے حال ہے یا الگ الگ؟ الگ الگ ہیں، پہلے ذو الحال سے ایک حال آیا، مثلاً دیکھو أرسله، أرسله کے اندر **هو** ضمیر، وہ کیا ہے؟ ذو الحال، اور هدىً بمعنی ہادی کے، یہ کیا ہوا؟ حال، اور ہادی کیا ہے؟ اسمِ فاعل، اور اسمِ فاعل کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ فاعل چاہیے، میں بتلا چکا ہوں ترکیب میں، جیسے ضربَ فعل کے لیے فاعل کا ہونا ضروری، صفت کے صیغوں کے لیے بھی فاعل کا ہونا ضروری، تو اسی ضارب اسی ہادی کے اندر کون سی ضمیر ہے؟ **هو** ضمیر ہے، وہ پھر ذو الحال اب یہ والی ضمیر ذو الحال بنے گی اور آگے **هو بالاهتداء حقيق** کیا ہے؟ یہ حال بنے گا، معنی اسی طرح رہے گا، معنی میں کوئی فرق نہیں پڑا، کیونکہ ہادی حال تھا کس سے؟ أرسلَ کی **هو** ضمیر سے، تو ہادی کے اندر **هو** ضمیر بھی اسی کو راجع، ہادی کون ہیں؟ اللہ، اللہ ہی، **هو** ضمیر اللہ کی ذات کی طرف راجع، مراد کون ہے؟ اللہ کی ذات، اور اسی سے پھر اگلا بھی حال آیا، باتیں سمجھ بھی آ رہی ہے کہ مشکل ہے؟
تو آپ چاہیں تو ان کو کیا بنا دیں؟ دونوں کو حال بنائیں، ایک ترکیب کیا تھی؟ اس دوسرے جملے کو پہلے مفرد کی صفت بنا دو، دوسرا کیا کہ دونوں کو کیا بناؤ؟ حال، اور پھر چاہو تو حالِ مترادَفہ بنا دو یعنی ایک ہی ذو الحال سے دونوں کو حال بناؤ، یا فاعل سے دونوں کو حال بنا دو یا مفعول سے دونوں کو حال بنا دو، اور چاہو تو ان کو احوالِ متداخلہ بنا دو، یعنی فاعل سے ایک کو حال بنایا اور پھر حال کے اندر ضمیر سے اگلے کو حال بنایا، یا یوں کرو مفعول کی جو ضمیر تھی، أرسله کی ہا ضمیر، اس مفعول سے پہلے هدىً کو کیا بناؤ؟ حال، اور پھر اس هدىً کے اندر جو ضمیر ہے اس سے پورے جملے کو حال بنا دو، تو احوالِ مترادَفہ بھی بنا سکتے ہیں اور احوالِ متداخلہ بھی، معنی میں فرق نہیں پڑے گا، معنی وہی رہے گا، صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو یہی بات بیان کر رہے ہیں: **والجملة صفة لقوله هدىً** اور جملہ جو ہے یہ صفت ہے مصنف کے، کون سا جملہ؟ **هو بالاهتداء حقيق**، ہاں شاباش! **هو بالاهتداء حقيق**، یہ پورا جملہ صفت ہے **لقوله هدىً** مصنف کے قول هدىً کے لیے، **أو يكونان حالين مترادفين** یا یہ دونوں کیا ہوں گے؟ حالینِ مترادفین ہوں گے، یعنی کون کون دونوں؟ **هدىً** بھی اور **هو بالاهتداء حقيق** یہ دونوں حالینِ مترادفین ہوں گے، **أو متداخلين** یا یہ کون ہوں گے؟ حالینِ متداخلین، متداخل یعنی ایک دوسرے میں داخل ہو رہے ہیں، دیکھو ایک حال سے اگلا حال آ رہا ہے۔
**ويحتمل الاستئناف أيضاً** اور یہ استئناف کا بھی احتمال رکھتا ہے۔
ایک ترکیب کیا؟ کہ جملے کو صفت بناؤ، دوسری کیا؟ حال بناؤ چاہے حالِ مترادَفہ بناؤ یا حالِ متداخلہ، اور تیسری ترکیب یہ کہ یہ استئناف کا بھی احتمال رکھتا ہے۔ استئناف کے دو معنی آتے ہیں، استئناف کا ایک معنی ہے نئی بات کرنا، الگ بات کرنا جو پچھلی کے ساتھ جڑی ہوئی نہیں، یعنی یہ ماقبل کے لیے صفت یا حال نہ بناؤ، بس الگ ساتھ ہی الگ اور بات شروع کر دی مصنف نے، حضور علیہ السلام کی صفات ذکر کر رہے ہیں نا کہ اللہ ان پر اللہ کی رحمت ہو اس حال میں کہ وہ کیا ہیں؟ ہادی ہیں، آگے پھر دوسری بات شروع کر دی: **هو بالاهتداء حقيق** حضور علیہ السلام اس لائق ہیں کہ ان سے ہدایت حاصل کی جائے۔
تو استئناف کا کیا معنی؟ نئی بات شروع کرنا، نئے سرے سے کوئی بات کرنا، یعنی ماقبل کی صفت یا حال وغیرہ نہیں ہے، ان کے ساتھ اس طرح جڑ نہیں رہا۔
اور استئناف کا ایک معنی ہوتا ہے سوالِ مقدر کا جواب ہونا، استئناف کا کیا معنی ہے؟ سوالِ مقدر کا جواب ہونا، قدر يقدّر تقدیر کا کیا معنی ہے؟ فرض کرنا، فرض کرنا، یعنی ایک سوال یہاں پیدا ہوتا تھا، تو اب کسی نے کیا تو نہیں ابھی، لیکن سننے والے کے ذہن میں سوال اٹھ سکتا تھا، پیدا ہو سکتا تھا، تو مصنف نے اس طرح کر دیا جیسے کسی نے واقعی سوال پوچھا ہو، اور خود ہی جواب بھی دے دیا۔
کیا؟ ایک مقام پہ مصنف تقریر کرتا ہوا جا رہا ہے اور وہ مقام ایسا ہے کہ سننے والوں کے ذہن میں وہاں ایک سوال آ سکتا ہے، ان کے ذہن میں سوال آ سکتا ہے، تو احتمال ہے، آیا تو نہیں نا، کسی نے پوچھا تو نہیں، لیکن احتمال ہے ان کے ذہنوں میں آ سکتا ہے، تو اس احتمال کو وجود کے درجے میں اتار لیتا ہے کہ گویا واقعی کوئی اس سے پوچھ رہا ہے اور پھر آگے وہ اس کا جواب، سوال کو ذکر نہیں کرتا، صرف اس کا کیا ذکر کر دیتا ہے؟ جواب ذکر کر دیتا ہے، اس کو کہتے ہیں سوالِ مقدر، سوال کا صرف احتمال تھا لیکن اس نے اس کو باقاعدہ فرض کر لیا کہ گویا کسی نے کیا کیا ہے؟ مجھ سے سوال پوچھا ہے، اور پھر اس کا جواب، تو اس کو کہتے ہیں سوالِ مقدر، ایسا سوال جس کو کیا کر لیا گیا؟ فرض کر لیا گیا، صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: **ويحتمل الاستئناف أيضاً** اور یہ جو ہے، یہ **هو بالاهتداء حقيق** یہ استئناف کا بھی احتمال رکھتا ہے، **أيضاً** بھی، بھی، **ويحتمل الاستئناف أيضاً** اور یہ استئناف کا احتمال بھی رکھتا ہے، **أيضاً** یہ یاد رکھیے یہ بھی کے معنی میں آتا ہے، اور یہ مفعولِ مطلق ہوتا ہے: آضَ أيضاً، آضَ أيضاً، أي رجع رجوعاً۔
اچھا، تو دوبارہ دیکھو: **ويحتمل الاستئناف أيضاً** اور یہ **هو بالاهتداء حقيق** یہ استئناف کا احتمال بھی رکھتا ہے، یعنی کہ یہ کیا ہو؟ سوالِ مقدر کا جواب، سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے:
سوال یہ ہے، ماقبل میں مصنف نے کہا: رحمت اور سلامتی ہو اس ذات پر جن کو اللہ نے بھیجا ہدایت دینے کے لیے، جن کو اللہ نے بھیجا ہدایت دینے کے لیے، تو کوئی پوچھنے والا پوچھ سکتا ہے کہ حضور کو اللہ نے ہدایت دینے والا بنا کر کیوں بھیجا؟
تو مصنف نے جواب دے دیا کہ **هو بالاهتداء حقيق**، کیونکہ وہ اس لائق ہیں کہ ان سے ہدایت حاصل کی جائے، ان کا اتنا اونچا مقام ہے کہ ان سے کیا کرنی چاہیے ہمیں؟ ہدایت حاصل کرنی چاہیے، تو ان کا مقام ہی اتنا اونچا ہے، اسی لیے اللہ نے ان کو ہدایت دینے کے لیے ان کو اللہ نے بھیجا بھئی، تو سوالِ مقدر کیا ہوا؟ هدىً سے پیدا ہوا، هدىً سے، اللہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ہادی بنا کر بھیجا، سوال پیدا ہوا کہ اللہ نے ان کو ہادی بنا کر کیوں بھیجا؟ تو جواب دے دیا کہ **هو بالاهتداء حقيق** کہ وہ ہدایت، وہ اس لائق ہیں کہ ان سے ہدایت حاصل کی جائے۔
تو کہتے ہیں: **ويحتمل الاستئناف أيضاً** اور یہ استئناف کا بھی احتمال رکھتا ہے، **وقس على هذا**، قس کون سا صیغہ ہے؟ امر ہے، شاباش! قس۔ قس آپ نے کیا گردان پڑھی ہے؟ بیع، جی؟ ہاں شاباش! بیع، قاس يقيس باع يبيع بیع بیع، وقس، **وقس على هذا** اور قیاس کر لیجیے اسی پر، **قوله** مصنف کے قول کو، یہ مفعول ہے **قوله**، اسی پر آپ قیاس کر لیں ہماری اس اتنی لمبی تقریر پر ہی آپ قیاس کر لیں، **قوله** مصنف کا قول **نوراً** جو آگے نور آ رہا ہے، یہ اس کو بھی اسی پر قیاس کر لیں، **مع الجملة التالية**، تالی کا معنی پیچھے آنے والا، بعد میں آنے والا، ساتھ اس جملے کے جو اس کے پیچھے آ رہا ہے، مصنف کا قول جو اوپر ہے **نوراً**، اس کو بھی اسی هدىً پر کیا کر لو؟ قیاس کر لو **مع الجملة التالية** ساتھ اس کے پیچھے جو جملہ آ رہا ہے، وہ کون سا جملہ؟ **به الاقتداء يليق**، اس کو بھی اسی پر قیاس کر لو، جو تقریر ہم نے هدىً اور **هو بالاهتداء حقيق** میں کی وہ ساری ترکیبیں اس میں بھی جاری ہوں گی، یعنی **نوراً** وہ مفعول لہ بھی بن سکتا ہے، اور وہ حال بھی بن سکتا ہے کل کے سبق میں گزر چکا، اور اس سے اگلا جملہ **به الاقتداء يليق** یہ اس کے لیے صفت بھی بن سکتا ہے، اور اس کے ساتھ یہ بھی حال بھی بن سکتا ہے، **نوراً** بھی حال اور **به الاقتداء يليق** بھی حال، پھر چاہیں تو حال کیا بنا لیں؟ احوالِ متداخلہ بنا لیں، اور چاہیں تو احوالِ مترادَفہ بنا لیں، اور چاہیں تو اس کو کیا کریں؟ استئناف بنا لیں کہ اللہ نے ان کو نور بنا کر بھیجا، روشنی دینے کے لیے بھیجا، سوال کہ اللہ نے ان کو نور بنا کر کیوں بھیجا؟ روشنی دینے کے لیے کیوں بھیجا؟ یعنی معنی وہی ہدایت دینا ہے، ہدایت دینے کے لیے کیوں بھیجا؟ کہتے ہیں: **به الاقتداء يليق**، کیونکہ وہ انہی کی پیروی کرنا **يليق بنا** یہ ہمارے مناسب، ہمارے مناسب ہے کہ ہم کیا کریں؟ انہی کی پیروی کریں اور اپنے آپ کو کامل کریں، انہی کی پیروی کر کے ہم بھی اللہ کے محبوب بن جائیں بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ اپنے آپ کو ہم کامل کریں اور اللہ کے محبوب بن جائیں۔
یہ معنی ہے **وقس على هذا** اور اسی پر قیاس کر لیجیے **قوله نوراً** مصنف کے قول **نوراً** کو بھی **مع الجملة التالية** ساتھ اس کے پیچھے آنے والے جملے کے۔
توجہ ہے؟ میری کتاب میں یہ **قوله** اس کو بڑا کر کے لکھا ہے، آپ کی کتابوں میں بھی بڑا لکھا ہے؟ جی؟ سارے ایک قول جیسے ہیں، سارے یہ قول مطلب جو بڑے بڑے قول آ رہے ہیں نا درمیان میں شرح میں، ہاں سا جیسے اوپر آیا تھا: **قوله بالاهتداء**، قوله بڑا لکھا تھا اور بالاهتداء باقی عبارت ساری چھوٹی ہے، تو جگہ جگہ قوله آ رہا ہے سارے بڑے لکھے ہیں، تو کاتب نے اس قوله کو بھی بڑا لکھ دیا، حالانکہ یہ اس کو چھوٹا لکھنا چاہیے، کیونکہ یہ شارح مصنف کے قول کی کوئی آگے شرح نہیں کرنے لگے، بلکہ اس کو تو یہ تو پچھلے جملے سے جڑ رہا ہے: **وقس على هذا** اسی پر آپ قیاس کر لو **قوله نوراً** مصنف کے قول **نوراً**۔
بات سمجھ بھی آ رہی ہے کہ نہیں سمجھ میں آئی؟ اس قول کو بڑا نہیں لکھنا چاہیے تھا، کیونکہ جہاں پر یہ بڑا قول آتا ہے نا اس کے بعد شارح کیا کرتے ہیں؟ متن کا کوئی لفظ لیتے ہیں اور پھر آگے اس کی شرح شروع کر دیتے ہیں، کیا کر دیتے ہیں؟ مثلاً جیسے اوپر آیا تھا: **قوله بالاهتداء**، اور پھر بالاهتداء کی شرح شروع کر دی، آگے آ رہا ہے: قوله به، اس به کی کیا کر دی؟ شرح شروع کر دی، آگے آیا: قوله وعلى آله، تو وعلى آله کی کیا کر دی؟ شرح شروع، یہاں پر ایسا نہیں ہے کہ نوراً لکھ کر آگے وہ نوراً کی تشریح شروع کر دیں، نہیں، یہ اس کا ماقبل سے ہی تعلق ہے: **وقس على هذا** اسی پر قیاس کر لو **قوله نوراً** مصنف کے قول **نور** کو بھی **مع الجملة التالية** کس کے ساتھ؟ ہاں اور نیز باقی سارے **قوله** مرفوع ہیں، مبتدا بن رہے ہیں، اور یہ **قوله** مفعول بن رہا ہے قس کے لیے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ اسی جملے کا حصہ ہے، لیکن کاتب نے اس کو بھی عام قول کی طرح، قوله کی طرح بڑا لکھ دیا ہے بھئی، اس کو چھوٹا ہونا چاہیے۔
حاصلِ کلام پھر سن لو: متن میں بالاهتداء مصدر آیا تھا، تو مصدرِ معروف اگر لیں تو پھر اس صورت میں اگر اللہ کی طرف نسبت کی جائے کہ اللہ اس لائق ہے کہ وہ ہدایت حاصل کرے، تو یہ تو کفرِیہ معنی ہو گیا، اور اگر حضور علیہ السلام کی طرف بھی یہ نسبت کی جائے کہ حضور علیہ السلام کیا کریں؟ ہدایت حاصل کریں، تو یہ بے ادبی والا معنی بن جائے گا، تو لہٰذا پھر کیا کریں؟ شارح نے آپ کو بتلا دیا کہ یہ اهتداء مصدرِ معروف نہیں ہے بلکہ مصدرِ مجہول ہے، اور معنی کیا ہے؟ **هو حقيق بالاهتداء**، وہ اللہ اس لائق ہیں کہ ان سے ہدایت حاصل کی جائے، اور یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس لائق ہیں کہ ان سے ہدایت حاصل کی جائے۔ پھر دوسرا اعتراض یہ کہ اهتداء یہ تو مصدرِ لازم ہے، اور اس کے لیے نائب الفاعل پھر کس کو بنائیں گے؟ نائب الفاعل تو مفعول کو بناتے ہیں، اس کے لیے تو مفعول آتا ہی نہیں، تو میں نے جواب دے دیا کہ یہاں به جار مجرور کیا ہے؟ محذوف ہے، اور یہ جار مجرور یہ یہ جس سے جڑتے ہیں، یہ اس کے لیے مفعول، یہ جو مجرور ہوتا ہے یہ مفعول بہِ ہوتا ہے، اور اس کو کیا کہتے ہیں؟ مفعول بہِ غیرِ صریح। ایک فعل، فعل جس کو نصب دے وہ ہوتا ہے مفعول بہِ صریح، اور یہ جو جار مجرور جو مجرور ہے، یہ ہے مفعول بہِ غیرِ صریح، یہ چونکہ فعل اس کو نصب نہیں دے سکتا تھا، تو ہم درمیان میں کس کو لے آئے؟ حرفِ جار کو، ہم نے حرفِ جار کی مدد لے لی، تو ہے یہ بھی مفعول بہِ، البتہ غیرِ صریح ہے، تو پھر جب یہ مفعول بہِ ہے، تو یہی کیا بن جائے گا؟ نائب الفاعل بن جائے گا بھئی।
اور پھر اس کے بعد شارح نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ یا **هو بالاهتداء حقيق** اس کو چاہو تو هدىً کے لیے صفت بنا دو، چاہے اس کو بھی هدىً کی طرح حال بنا دو، پھر حال بناتے ہو تو چاہے احوالِ مترادَفہ بناؤ ایک ہی ذو الحال سے، اور چاہے تو احوالِ متداخلہ بناؤ یعنی ایک ذو الحال سے ایک حال آیا اور پھر حال کے اندر کوئی ضمیر تھی اس سے آگے دوسرا حال آ گیا۔ اور اس میں استئناف کا بھی احتمال ہے، استئناف یہ یعنی ماقبل سے کے لیے نہ یہ صفت بن رہا ہے نہ حال، ایک الگ بات مصنف نے الگ صفت ساتھ شروع کر دی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی، یا استئناف کا دوسرا معنی، استئناف کا ایک معنی کیا؟ نئے سرے سے بات کرنا، نئی بات کرنا، اور استئناف کا دوسرا معنی کیا؟ کہ سوالِ مقدر کا جواب ہو، مثلاً کوئی مقام ایسا ہے کہ وہاں پر مصنف کوئی تقریر کر رہا ہو اور سننے والوں کے ذہن میں کوئی سوال آ سکتا ہے، تو اس سوال، اس احتمال ہی کو کس کے درجے میں اتار لیا جاتا ہے؟ وجود کے درجے میں، گویا واقعی کسی نے سوال پوچھا ہے، تو سوال کو فرض کر لیا جاتا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ سوالِ مقدر، ایک سوال فرض کر لیا اور پھر اس کا جیسے کسی نے حقیقۃً پوچھا ہو اور پھر اس کا جواب دے دیا، سوال یہ پیدا ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے ہادی بنا کر کیوں بھیجا؟ تو جواب دے دیا کہ **هو بالاهتداء حقيق** کہ وہ اس لائق ہیں کہ ان سے ہدایت حاصل کی جائے، اس لیے اللہ نے ان کو ہادی بنا کر بھیجا۔
اور پھر یہ بھی بتایا کہ نوراً اور اس کے ساتھ پیچھے جو اس کے جملہ آ رہا ہے اس میں اس کو بھی اسی پر قیاس کر لیں، اس میں بھی یہ ساری ترکیبیں جاری کر لیں، بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔