أچھا بھئی! پہلے ذرا اوپر متن دیکھیے آگے:
هو بالاهتداء حقيق ونوراً به الاقتداء يليق۔
بلکہ پیچھے سے ذرا متن دیکھ لیں:
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
الحمد لله الذي هدانا سواء الطريق، تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جس نے ہمیں چلایا سیدھے راستے پر۔
وجعل لنا التوفيق خير رفيق، اور جس نے بنایا توفیق کو ہمارے لیے ہمارا بہترین ساتھی۔
والصلاة والسلام على من أرسله هدىً، اور رحمت اور سلامتی ہو اس ذات پر جس کو اللہ نے بھیجا ہدایت دینے کے لیے۔
یا اس حال میں کہ وہ ہدایت دینے والے ہیں۔
هو بالاهتداء حقيق، وہ ہدایت حاصل کیے جانے کے لائق ہیں۔
وہ ہدایت حاصل کیے جانے کے لائق ہیں، یعنی کہ ان سے ہدایت حاصل کی جائے۔
یوں کریں: هو حقيق بالاهتداء، بالاهتداء کو ذرا آخر میں لے جائیں۔
هو حقيق، وہ لائق ہیں، وہ لائق ہیں، بالاهتداء بالاهتداء به، کہ ان سے کیا کی جائے؟ ہدایت حاصل کی جائے، تو یہاں "به" محذوف نکال لیں موقع کے مطابق۔
تو وہ لائق هو حقيق، حقيق کا کیا معنی؟ لائق ہونا، کسی چیز کے لائق ہونا، کسی چیز کے قابل ہونا۔ هو حقيق، وہ اس لائق ہیں، وہ اس قابل ہیں، کس قابل؟ بالاهتداء به، کہ ان سے کیا کی جائے؟ ہدایت حاصل کی جائے۔
ونوراً، اس "نوراً" کا عطف ہے "هدىً" پر۔
تو جو ترکیب "هدىً" میں تھی وہی یہاں "نوراً" میں بھی کر لیں گے۔ "هدىً" میں ایک ترکیب کیا تھی؟ وہ مفعول لہ ہے۔ اور مفعول لہ کا کیا معنی تھا؟ جو ماقبل فعل کی علت بیان کرتا ہے۔ تو معنی کیا ہوا تھا؟ رحمت اور سلامتی ہو على من اس ذات پر أرسله هدىً، کہ جن کو اللہ نے ہدایت دینے کے لیے بھیجا، جن کو اللہ نے ہدایت دینے کے لیے بھیجا۔
اور آگے "نوراً" کا عطف بھی اسی پر ہے "نوراً" کا، تو یہ بھی مفعول لہ بنے گا بھئی اسی طرح۔
تو نور روشنی اور اجالے کو کہتے ہیں، کس کو؟ روشنی، روشنی، اجالا۔
تو معنی ہو جائے گا کہ رحمت اور سلامتی ہو اس ذات پر جس کو اللہ نے بھیجا نوراً، نور دینے کے لیے۔
کیا دینے کے لیے؟ روشنی دینے کے لیے، معنی وہی ہے یعنی ہدایت دینے کے لیے، کیا دینے کے لیے؟ ہدایت دینے کے لیے۔
به الاقتداء يليق، به الاقتداء، انہی کی پیروی کرنا يليق، وہ مناسب ہے بنا، ہمارے۔
ہمارے مناسب ہے۔
دیکھو ترتیب دے دو ذرا عبارت کو۔
يليق کے بعد لے آؤ الاقتداء، اور اس کے بعد لے آؤ به۔ يليق الاقتداء به، عبارت سمجھ میں آ رہی ہے؟
مناسب ہے، کیا مناسب ہے؟ الاقتداء، یہ فاعل ہے۔
یہ کیا ہے؟ فاعل، ہم نے مؤخر کر دیا نا، ورنہ پہلے تو ضمیر لوٹ رہی تھی، يليق کے اندر ضمیر ہے جو کس کو راجع؟ الاقتداء کو، لیکن اب ہم نے اس کو مؤخر کر دیا تو یہ خود ہی فاعل بن گیا۔ يليق الاقتداء به، مناسب ہے بنا، یہاں بنا محذوف نکالیں گے جار مجرور۔ يليق بنا، ہمارے لیے مناسب ہے الاقتداء، کیا مناسب ہے؟ پیروی کرنا، اقتداء کرنا به، ان کی۔ ہمارے لیے مناسب ہے ان کی اقتداء کرنا، ان کی پیروی کرنا۔
ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ کہ رحمت اور سلامتی ہو اس ذات پر جن کو اللہ نے روشنی دینے کے لیے بھیجا، روشنی، مفعول لہ والا ترجمہ کر رہے ہیں نا، ضربته تأديباً، میں نے اس کی پٹائی کی کس لیے؟ ادب سکھانے کے لیے، تو یہاں بھی اسی کی طرح "کے لیے" کے ساتھ ترجمہ کر لیں گے۔
تو اللہ نے جن کو بھیجا نوراً، روشنی دینے کے لیے۔
اور به الاقتداء يليق، ان کی پیروی کرنا يليق بنا، بنا یہاں محذوف نکال لیں گے، وہ ہمارے مناسب ہے۔ ہمارے مناسب ہے کہ ہم ان کی اقتداء کریں، ان کی پیروی کریں، ان کے بتلائے ہوئے راستے پر چلیں۔
معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ یہاں بڑی مشکل پیچیدہ ابحاث ہیں بھئی، خوب توجہ سے بیٹھنا ہے آپ نے۔
دوسری ترکیب، ابھی ہم نے نور کو کیا بنایا؟ مفعول لہ بنایا، روشنی دینے کے لیے۔
دوسرا، اس کو حال بنا لو جیسے "هدىً" کیا تھا؟ حال، اور پھر "هدىً" حال ہے اور اس میں کیا بنایا تھا؟ "هدىً" کو اسم فاعل کے معنی میں لیا تھا یا نہیں؟ کیونکہ وصف کا حمل ذات پر صحیح نہیں، تو پھر اس کو کیا کیا؟ "هدىً" کو ہادی کے معنی میں لے لیا اور ہادی بھی کس پر دلالت کرتا ہے؟ ذات پر۔
تو یہاں پر نور کو منور کے معنی میں کر، ہادی کا کیا معنی تھا؟ ہدایت دینے والا، اور نور سے پھر کیا بنا لو؟ منور، روشن کرنے والا، روشن کرنے والا۔
پھر سنو ترجمہ: رحمت اور سلامتی ہو اس ذات پر جن کو اللہ نے بھیجا، بھیجا اس حال میں، پہلے فاعل سے حال بنا لو، اللہ نے بھیجا اس حال میں کہ اللہ روشن کرنے والے ہیں، اللہ ہدایت دینے والے ہیں، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ روشن کرنے سے مراد یہی وہی ہدایت دینا، رہنمائی کرنا۔
اور یا معنی کر لو: رحمت اور سلامتی ہو اس ذات پر کہ اللہ نے ان کو بھیجا اس حال میں کہ منوراً، وہ روشن کرنے والے ہیں، یعنی وہ رہنمائی اور ہدایت دینے والے ہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ پہلے کیا تھا؟ ہادیاً تھا، اللہ نے بھیجا اس حال میں کہ اللہ ہدایت دینے والے ہیں، یا دوسرا ترجمہ کیا تھا؟ اللہ نے بھیجا اس حال میں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہدایت دینے والے ہیں۔ اب یہاں پر بھی اسی طرح، اللہ نے بھیجا ان کو اس حال میں کہ اللہ جو ہیں منور ہیں، روشن کرنے والے ہیں، روشنی دینے والے ہیں، یعنی ہدایت کرنے والے ہیں، ہدایت دینے والے ہیں۔ روشنی سے مراد ہدایت ہے نا، جیسے چراغ کی روشنی میں انسان کو سب کچھ دکھائی دے دیتا ہے، راستہ نظر آتا ہے۔
تو یا دوسرا ترجمہ کر لیں، مفعول سے حال بنا لیں: اللہ نے بھیجا اس ذات کو اس حال میں کہ وہ روشن کرنے والی ہے، منوراً، وہ کیا ہے؟ روشن کرنے والی ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟
تو لہٰذا یہ "نوراً" اس کا عطف کس پر؟ "هدىً" پر، اور "هدىً" کیا تھا؟ مفعول لہ ایک ترکیب، اور دوسری ترکیب کیا تھی؟ حال تھا، پھر حال فاعل سے بھی بنا سکتے تھے اور مفعول سے، مفعول سے بھی حال، اور میں نے بتلایا تھا کہ زیادہ مناسب اس موقع پر یہ ہے کہ مفعول سے اس کو حال بنایا جائے، کیونکہ اللہ کا ہادی ہونا شروع میں ہی بیان ہو چکا ہے، کہاں پر؟ الحمد لله الذي هدانا، یہاں پر اللہ کا ہادی ہونا بیان ہو چکا، اور یہاں پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر صلوۃ و سلام ذکر کی جا رہی ہے، تو حضور علیہ السلام کی صفات ذکر ہو رہی ہیں، تو مناسب یہ ہے کہ کس پر حمل کیا جائے اس کا؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر، کہ وہ ہدایت دینے والے ہیں۔
تو منور یہ بھی پھر کس سے حال بنانا زیادہ مناسب؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے، کیونکہ حضور کی صفات ذکر ہو رہی ہیں، کہ وہ ذات کہ رحمت اور سلامتی ہو اس ذات پر جس کو اللہ نے بھیجا منوراً، کہ وہ روشنی دینے والے ہیں۔
یا شارح نے آپ کو بتلایا تھا کہ "هدىً" کو ہادی کے معنی میں نہ لو، بلکہ "هدىً" کو "هدىً" ہی رہنے دو، مصدر کا حمل ذات پر ہو گیا بطور مبالغہ کے، جیسے "زيد عدل"، زید کیا ہے؟ "زيد" ہونا تو چاہیے "زيد عادل"، لیکن کیا کہتے ہیں؟ "زيد عدل"، تو پھر بعض علماء فرماتے ہیں، لکھتے ہیں کہ یہ "عدل" کا حمل ذات پر صحیح نہیں کیونکہ یہ تو وصف ہے، تو پھر اس کو کس معنی میں لیتے ہیں؟ "عادل" کے معنی میں، لیکن میں نے بتلایا کہ علماء محققین کیا فرماتے ہیں؟ کہ یہ "عدل" کو "عادل" کے معنی میں لینے کی ضرورت ہی نہیں، بلکہ یہ "عدل" کا حمل ہے ذات پر بطور مبالغہ کے، بطور مبالغہ کے، تو "زيد عدل" کا معنی ہو جائے گا کہ زید سراپا عدل ہے۔ عدل کرنے والا نہیں، بلکہ سراپا خود ہی کیا ہے؟ عدل ہے، دیکھو اس میں مبالغہ زیادہ ہے۔
تو یہاں پر بھی اسی طرح، ہادی کے معنی میں لینے کے بجائے اس کو "هدىً" کو "هدىً" ہی کے معنی میں رہنے دو، کہ معنی یہ ہو جائے گا کہ حضور علیہ السلام کی ذات مبارک ایسی ہے کہ وہ خود ہی سراپا ہدایت ہیں، وہ خود ہی سراپا ہدایت ہیں، دیکھو کتنا بہترین ترجمہ ہو گیا۔ یہی ترجمہ اب "نوراً" میں کر لو، حضور علیہ السلام کی ذات مبارک ایسی ہے، وہ رحمت اور سلامتی ہو، ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے میں بار بار شروع سے کر رہا ہوں؟ رحمت اور سلامتی ہو اس ذات پر جس کو اللہ نے بھیجا اس حال میں کہ وہ سراپا نور ہے، یعنی سراپا ہدایت دینے والا ہے، نور سے کیا مراد ہے؟ رہنمائی کرنے والا، روشنی دینے والا۔
معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ اچھی طرح؟
اب ایک اور ترکیب والی بات یاد رکھنا، میں نے آپ کے سامنے ضابطہ ذکر کیا تھا کہ نکرہ کے بعد فعل آ جائے تو وہ عموماً اس کے لیے صفت بنتا ہے، نکرہ کے بعد کیا آ جائے؟ فعل آ جائے، تو وہ عموماً اس کے لیے صفت بنتا ہے۔
اور صفت کیسے بنے گا؟ جیسے مثلاً دیکھو مثال دیکھو: جاءني رجل ضربك، جاءني رجل ضربك، کیا ترکیب ہوگی؟ جاء فعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، رجل مرفوع لفظاً، مرفوع کیوں ہے یہ؟ یہ فاعل ہے جاء کے لیے فاعل، اور فاعل کیا ہوتا ہے؟ مرفوع ہوتا ہے، اور یہ "رجل" ہے نکرہ، اور نکرہ کے بعد "ضربك" فعل آ رہا ہے، اور میں نے بتایا نکرہ کے بعد فعل آئے تو وہ عموماً اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت بنتا ہے۔
تو یہاں پر بھی یہ اس کے لیے صفت بنے گا۔ اچھا، آؤ پہلے موصوف صفت کے ترجمے کا طریقہ میں آپ کو بتا دوں بھئی، پہلے بھی میں شاید اور گزشتہ کتابوں میں آپ کے سامنے ذکر کر چکا ہوں گا۔
یاد رکھیے، موصوف صفت يا دونوں معرفہ ہوں گے یا دونوں نکرہ ہوں گے، کیونکہ صفت موصوف کے مطابق ہوتی ہے، اگر موصوف معرفہ تو صفت بھی معرفہ، اگر موصوف نکرہ تو صفت بھی نکرہ۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ موصوف تو نکرہ ہو اور صفت کیا آ جائے؟ معرفہ، یا موصوف ہو معرفہ اور صفت نکرہ آ جائے، نہیں، موصوف صفت پر موصوف صفت ہمیشہ تعریف و تنکیر میں ایک جیسے ہوں گے، نیز اعراب بھی وہی ہوگا جو موصوف کا ہے، صفت صفت پر وہی اعراب آئے گا جو کس پر ہوگا؟ موصوف۔
اب موصوف صفت کے ترجمہ کرنے کا طریقہ یاد رکھو، ایک ترجمہ کرنے کا طریقہ ہے نکرہ میں، ایک طریقہ ہے معرفہ میں۔ نکرہ میں طریقہ یہ ہے کہ عربی میں یاد رکھو صفت مؤخر ہوتی ہے، موصوف پہلے آتا ہے اور صفت بعد میں، رجل شجاع، شجاع کا کیا معنی؟ بہادر، تو رجل دیکھو موصوف پہلے اور شجاع بعد میں، اور دونوں نکرہ ہیں۔ اب اردو میں اس کا ترجمہ کرو تو صفت کو مقدم کر دیں گے اور کیا کہیں گے؟ بہادر آدمی، دیکھو عربی میں بہادر والا لفظ بعد میں تھا اور آدمی یا مرد کا لفظ کیا تھا؟ پہلے تھا، اب اردو میں جب میں نے کہا "رجل شجاع" اس کا ترجمہ کرو، تو آپ نے کیا ترجمہ کیا؟ بہادر آدمی، بہادر مرد۔
دوسرا طریقہ، یہ ہے نکرہ میں ایک طریقہ کہ صفت کو کیا کر دو موصوف پر مقدم کر دو۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ جو ترتیب عربی میں ہے وہی ترتیب آپ اردو میں بھی رکھیں۔
عربی میں کیا تھا؟ موصوف مقدم تھا اور صفت مؤخر، اردو میں بھی آپ موصوف کو مقدم رکھیں اور صفت کو مؤخر، لیکن نکرہ کے اندر موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی کا لفظ لے آئیں، کیا لے آئیں؟ ایسا یا ایسی، تو اب ترجمہ کیا کریں گے؟ رجل شجاع، ایسا آدمی جو کہ بہادر ہے، ایسا آدمی جو کہ بہادر ہے، اور یہ جو "ہے" آخر میں آیا اس سے دھوکے میں نہ پڑنا کہ یہ جملہ ہے، یہ جملہ نہیں ہے بھئی، جملہ اسے کہتے ہیں جس میں بات پوری ہو، تو ایسا آدمی جو کہ بہادر ہے، آپ کسی کے سامنے ۱۰ دفعہ بھی دہرا دیں، وہ آپ سے کہے گا بھئی بات تو پوری کریں، ایسا آدمی جو کہ بہادر ہے، اس کو کیا ہوا؟ وہ مر گیا ہے، کہیں آیا ہے، کہیں چلا گیا ہے، بات تو آپ پوری کریں، تو اس میں بات پوری نہیں، تو یہ "ہے" اور "تھا" کسی لفظوں کے آخر میں "ہے" یا "تھا" آ جائے تو اس سے آپ یہ نہ سمجھیں کہ یہ جملہ پورا ہے، بلکہ جملے میں کیا ہوگی ہمیشہ بات پوری، تو لہٰذا نکرہ میں موصوف صفت کے ترجمے کے دو طریقے: کیا؟ پہلا طریقہ یہ کہ صفت کو اٹھا کر مقدم کر دو، رجل شجاع، کیا ترجمہ ہوا؟ بہادر آدمی، اور دوسرا طریقہ: رجل شجاع، ایسا آدمی جو کہ بہادر ہے۔
معرفہ میں بھی بعینہٖ یہی طریقہ، الرجل الشجاع، دونوں پر میں الف لام لایا، لیکن معرفہ اسے کہتے ہیں جو کسی متعین ذات پر دلالت کرے، بولتے ہی آپ سمجھ جائیں اچھا اس کی بات ہو رہی ہے، اگر آپ نہیں سمجھتے تو اس کا مطلب ہے یہ معرفہ ہی نہیں ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ معرفہ معرفت سے ہے، معرفت کا کیا معنی ہوتا ہے؟ پہچان، جس کی آپ کو پہچان ہو، جیسے میں کہتا ہوں خالد، تو فوراً آپ کے مثلاً ایک ساتھی ہے اس کا نام خالد ہے، آپ فوراً سمجھ گئے اس کی بات ہو رہی ہے، یہ ہے معرفہ بھئی۔
تو لہٰذا الرجل الشجاع، وہی طریقہ، شجاع صفت کو اٹھا کر اردو میں کیا کر دو؟ مقدم، اور البتہ شروع میں وہ یا اس جیسا کوئی لفظ لے آؤ، تو الرجل الشجاع، وہ بہادر آدمی، وہ صفت کو مقدم کیا لیکن شروع میں وہ یا اس، یہ جو بھی موقع کے مطابق لفظ ہو جس کے ذریعے اشارہ ہو رہا ہو کسی متعین ذات کی طرف، تو وہ بہادر آدمی، دیکھا معلوم ہو کسی خاص بہادر آدمی کی طرف آپ اشارہ کر رہے ہیں۔ وہ بہادر آدمی۔
اور اسی معرفہ میں دوسرا طریقہ کہ آپ صفت کو مؤخر ہی رکھتے ہیں اردو میں، تو پھر نکرہ میں شروع میں کیا لاتے تھے؟ ایسا یا ایسی، معرفہ میں وہ یا اس کا لفظ لے آؤ، الرجل الشجاع، وہ آدمی جو کہ بہادر ہے، تو نکرہ میں ترجمہ کرو پہلا طریقہ: رجل شجاع، بہادر آدمی، ترجمہ کرو بھئی، رجل شجاع پہلا طریقہ: بہادر آدمی، رجل شجاع نکرہ ہے دوسرا طریقہ: ایسا آدمی جو کہ بہادر ہے، اب معرفہ میں آ جاؤ، الرجل الشجاع پہلا طریقہ: وہ بہادر آدمی، دوسرا طریقہ الرجل الشجاع: وہ آدمی جو کہ بہادر ہے، شاباش!
تو یہ یہ اب آپ نے یاد رکھنا ہے۔
تو لہٰذا معرفہ کے بعد معرفہ آئے تو وہ عموماً موصوف صفت بنتے ہیں، پہلے کو بناؤ موصوف اور دوسرے کو بناؤ صفت، اور صفت پر وہی اعراب آتا ہے جو کس پر آتا ہے؟ موصوف پر، اسی طرح اگر ایک نکرہ کے بعد آگے ایک، دو یا تین نکرہ آ جائیں، تو پھر پہلے کا پہلا بنے گا موصوف اور بعد والے صفت، عموماً عموماً، بشرطیکہ آخری نکرہ کے بعد کوئی معرفہ نہ آئے، تو ایک نکرہ کے بعد کئی نکرہ اکٹھے آ جائیں، تو پہلے کو بناؤ موصوف اور بعد والوں کو صفت بشرطیکہ آخری جو نکرہ ہے اس کے بعد کوئی معرفہ نہ آئے، اگر آخری نکرہ کے بعد معرفہ آ گیا تو پھر عموماً وہ موصوف صفت نہیں بنیں گے بلکہ سارے آپس میں مضاف اور مضاف الیہ بنیں گے، بہرحال یہ اکثری قانون ہے کلی نہیں، اور اگر ایک معرفہ کے بعد آگے پھر ایک یا زیادہ معرفہ آ جائیں، تو پھر پہلے کو بناؤ موصوف اور بعد والوں کو بناؤ صفت بھئی، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟
اچھا، ضابطہ کیا ذکر ہوا؟ نکرہ کے بعد نکرہ آئے، اسی طرح یاد رکھیے نکرہ کے بعد اگر فعل آ جائے تو وہ بھی عموماً اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت، صفت بنتا ہے۔
اسی طرح یاد رکھو، نکرہ کے بعد اگر جار مجرور آ جائے اور وہ کسی سے نہ جڑ رہا ہو تو وہ بھی عموماً اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت، لیکن بہرحال اس وقت وہ فعل پر آ جاؤ، نکرہ کے بعد اگر فعل آ جائے تو وہ عموماً اس کے لیے کیا بنے گا؟ صفت، جیسے میں نے ابھی مثال ذکر کی تھی: جاءني رجل ضربك، تو جاء فعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، رجل مرفوع لفظاً موصوف، مرفوع کیوں؟ کیونکہ فاعل ہے، اور موصوف آپ کو کیسے پتہ چلا موصوف ہے؟ کیونکہ یہ نکرہ ہے، اور نکرہ کے بعد "ضربك" فعل آ رہا ہے، اور تو یہ بھی اکثری قانون ہے، ہر جگہ نہیں لیکن اکثر جگہ، پھر وہاں ترجمہ کر کے دیکھنا وہی موصوف صفت والا، تو ضربك یہ کیا بن رہا ہے؟ صفت، کس کی؟ رجل کی، اور ویسے صفت نہیں بنے گا، یہ ضربك پورا جملہ ہے، ضرب فعل، اس کے اندر هو ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جو کس کو راجع؟ رجل کو، کیونکہ صفت کو صفت اگر جملہ یا شبہ جملہ ہو تو اس کو موصوف سے ربط چاہیے، تو هو ضمیر نے ربط دے دیا، اور کاف ضمیر منصوب محلاً یہ کیا ہے؟ مفعول بہ، توجہ ہے؟ تو فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر یہ صفت ہوئی کس کی؟ رجل کی، اور یہ جو جملہ ہوتا ہے یاد رکھو یہ مبنی ہوتا ہے، اس کا اعراب محلاً بتلاتے ہیں، تو اگر آپ سے کوئی پوچھے یہ ضربك یہ پورے جملے کا اعراب کیا ہے؟ تو آپ کہیں گے یہ مرفوع ہے، یہ کیا ہے؟ اور مرفوع محلاً ہے، مرفوع، بھئی کیوں مرفوع کیوں؟ وجہ یہ کہ صفت ہے، اور صفت کا وہی اعراب ہوتا ہے جو کس کا ہوتا ہے؟ موصوف، اور موصوف رجل کیا تھا؟ مرفوع تھا، تو یہ ضربك کا پورا جملہ بھی کیا ہے؟ مرفوع، اور یہ مرفوع ہے محلاً، یہ چونکہ پورا جملہ ہے اس لیے اس پر اعراب ظاہر نہیں ہوتا، اگر ایک لفظ ہوتا تو اعراب ظاہر ہو جاتا، رجل شجاع، دیکھا شجاع ہوتا تو اس پر کیا ہے اعراب ظاہر، تو یہ ضربك کیا ہے پورا جملہ اس کی صفت ہے۔
تو دیکھا نکرہ کے بعد، توجہ ہے؟ نکرہ کے بعد جب فعل آ جائے تو وہ فعل عموماً اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت، صفت بنتا ہے، اور وہ براہِ راست صفت بنتا ہے یا پورا جملہ بن کر صفت بنے گا؟ جملہ، پورا جملہ بن کر، جملہ فعلیہ ہو کر یہ کیا بنے گا؟ صفت بنے گا، اور اس جملے کو ہم کس کی صفت بنا رہے ہیں؟ نکرہ کی، معلوم ہوا جملہ نکرہ کے حکم میں ہوتا ہے، کیونکہ ابھی آپ نے پڑھا موصوف صفت میں مطابقت ضروری ہے، کس میں؟ تعریف اور تنکیر میں، موصوف اگر معرفہ ہو تو صفت ہمیشہ کیا ہوگی؟ معرفہ، اور موصوف اگر نکرہ ہو تو صفت ہمیشہ کیا ہوگی؟ نکرہ ہوگی، اور آپ رجل نکرہ کے لیے، توجہ ہے؟ رجل نکرہ کے لیے پورے جملے کو صفت بنا رہے ہیں، معلوم ہوا یہ جملہ کس کے حکم میں ہے؟ نکرہ کے حکم میں ہے، جبھی یہ نکرہ کی صفت بن رہا ہے، اگر یہ معرفہ کے حکم میں ہوتا تو یہ کبھی بھی نکرہ کی صفت نہ بن سکتا، معلوم ہوا جملہ کس کے حکم میں ہوتا ہے؟ نکرہ، تو یہ اب ضابطہ آپ نے ہمیشہ یاد رکھنا ہے، جملے کے اندر چاہے ۱۰ معرفہ آ جائیں چاہے ۲۰ آ جائیں، لیکن جب مل ملا کر سارا جملہ بن جائے گا، تو اب یہ کس کے حکم میں ہے؟ نکرہ کے حکم میں ہے، نکرہ کے حکم میں۔
تو نکرہ کے بعد اگر جملہ آئے، تو وہ اس کے لیے صفت بنتا ہے، اور معرفہ کے بعد اگر جملہ آئے، تو وہ صفت نہیں بن سکتا، کیونکہ ماقبل میں ہے معرفہ، اور جملہ کس کے حکم میں؟ نکرہ، تو نکرہ تو معرفہ کے لیے صفت نہیں بن سکتا، پھر اس وقت وہ حال بنتا ہے، کیا بنتا ہے؟ حال۔ پھر دہرا لو ایک دفعہ، رجل ضربك، یہ پورا ضربك کا پورا جملہ کیا ہے؟ یہ پورا جملہ فعلیہ صفت بنے گا۔
تو اس سے جملہ اسمیہ کا حکم بھی پتہ چل گیا آپ کو، جب جملہ فعلیہ صفت بن رہا ہے کس کی؟ نکرہ کی، تو جملہ اسمیہ کا بھی یہی حکم ہے، اگر نکرہ کے بعد پورا جملہ اسمیہ آ جائے، تو بعض اوقات وہ صفت بنے گا اس نکرہ کی، توجہ ہے؟ نکرہ کے بعد اگر نکرہ آئے تو وہ نکرہ اس کے لیے صفت، نکرہ کے بعد اگر جملہ فعلیہ آئے تو وہ عموماً اس کے لیے صفت، اسی طرح نکرہ کے بعد اگر جملہ اسمیہ آ جائے تو وہ بھی عموماً اس کے لیے کیا بنے گا؟ صفت بنے گا بھئی۔
اچھا، پھر ترجمہ کیسے کریں گے؟ ترجمے کا نکرہ میں موصوف صفت کے ترجمے کا ایک طریقہ کیا تھا؟ صفت کو اٹھا کر موصوف پر مقدم کر دو، لیکن یہاں نہیں کر سکتے، کیونکہ صفت ایک لفظ نہیں ہے صفت پورا جملہ ہے، تو اب وہ دوسرا طریقہ دوسرا طریقہ یہاں لگائیں گے، کیا؟ موصوف کو مقدم ہی رہنے دو جیسے عربی میں ہے، صفت کو مؤخر ہی رہنے دو، البتہ موصوف سے پہلے کیا لے آؤ؟ ایسا یا ایسی، وہ نہیں وہ تو معرفہ کے لیے آتا ہے، نکرہ کے لیے ایسا، تو جاءني رجل ضربك، صرف اس کا ترجمہ کرو، رجل ضربك، کرو ترجمہ؟ رجل ضربك، طریقہ میں نے بتا دیا۔ کیا؟ ایسا آدمی، دیکھو وہی نہ موصوف کو مقدم رکھو اور اس سے پہلے کیا لے آؤ؟ ایسا، رجل ایسا آدمی ضربك کہ پٹائی کی هو اس نے کا آپ کی، ایسا آدمی جس نے آپ کی پٹائی کی، جاءني رجل ضربك، آیا میرے پاس ایسا آدمی جس نے آپ کی پٹائی کی تھی، دیکھو بہترین ترجمہ ہو گیا یا نہیں؟ تو یہ ضابطے ذہن میں رکھو بہت بہترین ترجمہ ہو جائے گا۔ تو معلوم ہوا نکرہ کے بعد چاہے جملہ فعلیہ آ جائے چاہے جملہ اسمیہ، وہ عموماً اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت، میں نے پھر ذکر میں پھر ذکر کر دیتا ہوں یہ قاعدہ کوئی کلی نہیں ہے، جہاں بھی ایسا ہو جائے آپ اس کو زبردستی صفت بنائیں نہیں نہیں، آپ ترجمہ کر کے دیکھیں جیسے ابھی ہم نے ترجمہ کیا: رجل ضربك، ایسا آدمی جس نے آپ کی پٹائی کی، دیکھو بہترین ترجمہ ہو گیا، تو ترجمے سے آپ کو پتہ چل جائے گا آپ موصوف صفت بنا کر پھر اس کا ترجمہ کرنا، اگر ترجمہ بہترین ہو رہا ہے تو پھر موصوف صفت بنا دو۔
تو نکرہ کے بعد جملہ فعلیہ آ جائے وہ اس کے لیے عموماً کیا بنتا ہے؟ صفت، اور پھر ترجمے کا کیا طریقہ؟ کہ موصوف سے پہلے کیا لے آؤ؟ ایسا یا ایسی کا، اسی طرح نکرہ کے بعد اگر جملہ اسمیہ آ جائے تو اس کا بھی وہی حکم ہے، وہاں بھی اسی طریقے سے اس پورے جملہ اسمیہ کو کیا کرنا؟ نکرہ کی صفت بنانا، اور ترجمے میں موصوف سے پہلے کیا لے آؤ؟ ایسا یا ایسی کا لفظ لے آؤ، اور نیز جملے کو جب بھی کسی چیز سے جوڑتے ہیں، درمیان میں ربط ضروری ہے، اور ربط عموماً جو ہوتا ہے وہ کسی ضمیر کے ذریعے دیا جاتا ہے، غائب کی ضمیر، جو اسی چیز کی طرف لوٹتی ہے جس کے ساتھ آپ اسے جوڑ رہے ہیں، رجل ضربك، یہ ضربك کو ہم کس سے جوڑ رہے ہیں؟ رجل سے، تو ضربك کے اندر جو هو ضمیر ہے وہ اس رجل کی طرف لوٹ رہی ہے، اس نے ربط دے دیا۔ رجل، ایسا آدمی ضربك کہ پٹائی کی اس نے کا آپ کی، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
حاصل کلام کیا؟ نکرہ کے بعد اگر جملہ اسمیہ بھی آ جائے تو وہ بھی عموماً اس کے لیے کیا بنے گا؟ صفت بنے گا، اور فعل بھی آ جائے تو وہ عموماً اس کے لیے صفت بنے گا۔
اتنی تمہید میں نے باندھ دی یہ بتلانے کے لیے کہ دیکھو هدىً هدىً، متن پہ دیکھو، متن میں کیا آیا؟ هدىً، نکرہ ہے معرفہ ہے؟ جی؟ نکرہ ہے، ظاہر سی بات ہے، کیونکہ معرفہ کی قسمیں آپ کو یاد ہونی چاہئیں ہر وقت بھئی، معرفہ کیا ہے؟ علم کسی کا نام ہو، ضمیر ہو، یہ ضمیر ہے یہ هدىً کسی کا نام ہے؟ نہیں، یہ ضمیر بھی نہیں، یہ اسم اشارہ بھی نہیں، یہ اسم موصول بھی نہیں، اس پر الف لام بھی داخل نہیں، اور یہ ان جو چار پانچ ذکر ہوئے ان میں سے کسی کی طرف مضاف بھی نہیں، تو یہ نکرہ ہے بھئی، تو یہ نکرہ ہے، اور اس نکرہ کے بعد هو بالاهتداء حقيق، یہ کیا آیا؟ جملہ اسمیہ آ گیا۔
میں نے ترکیب بتلائی، هو کیا تھا؟ میں نے بتلایا تھا بالاهتداء کو آخر میں لے جاؤ، هو حقيق بالاهتداء، وہ لائق ہے بالاهتداء کہ ان کی پیروی کی جائے، تو هو ہے مبتدا، حقيق کیا ہے اس کی؟ خبر ہے، اور بالاهتداء جار مجرور یہ حقيق سے متعلق ہو رہا ہے، کس سے متعلق؟ حقيق۔
تو یہ جملہ اسمیہ آ گیا، اور نکرہ کے بعد جملہ اسمیہ آیا، اور نکرہ کے بعد جملہ اسمیہ آئے تو وہ عموماً اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت بنتا ہے۔
تو ترجمہ کیا ہوگا؟ هدىً، ایسی ہدایت، دیکھو وہی ترجمہ کر رہا ہوں پہلے میں کیا لفظ لے آیا؟ ایسی، ایسی ہدایت هو بالاهتداء حقيق، کہ وہ ہدایت حاصل کیے جانے کے لائق ہے، ان کو ایسے اللہ نے ان کو ایسی ہدایت بنا کر بھیجا، کہ وہ اس لائق ہیں اس کہ انہی کی ان سے ہدایت حاصل کی جائے، ان سے ہدایت حاصل کی جائے۔
اسی طرح آگے آیا ونوراً ونوراً، اور نوراً کیا ہے؟ نکرہ، اور اس کے بعد کیا آیا جملہ فعلیہ؟ نہیں، جملہ اسمیہ پھر آیا، کیا آیا؟ الاقتداء ہے مبتدا، توجہ ہے؟ اور يليق یہ جملہ ہے پورا، فعل ہے نا، اور فعل کے لیے کیا چاہیے؟ فاعل، تو اسی کے اندر فاعل کی هو ضمیر، اور وہ اسی اقتداء کو راجع ہے، کس کو؟ اقتداء کو، تو الاقتداء مبتدا ہے، اور يليق یہ جملہ، یہ به اسی الاقتداء سے متعلق ہو جائے گا، جار مجرور، مصدر ہے نا، مصدر سے متعلق ہوتا ہے یا نہیں جار مجرور، فعل مصدر وغیرہ، اچھا اور يليق یہ کیا ہے؟ جملہ جملہ فعلیہ، اور یہ پورا جملہ فعلیہ یہ پورا جملہ ہو کر یہ کیا بنے گا؟ خبر، خبر بنے گا، اور مبتدا خبر مل کر کیا ہوا؟ جملہ اسمیہ، اور یہ پورا جملہ اسمیہ کیا ہے؟ یہ یہ یہ صفت بن جائے گا، کیونکہ نوراً نکرہ کے بعد آیا، اور ربط بھی چاہیے، یہ به کی ہا ضمیر نور کو راجع ہے، ربط چاہیے یا نہیں چاہیے؟ جیسے هدىً کے ساتھ هو بالاهتداء حقيق جڑ رہا تھا، اور هو ضمیر لوٹ رہی تھی کس کو؟ هدىً کو، هدىً نکرہ تھا، اور هو بالاهتداء حقيق یہ سارا کیا ہے؟ جملہ اسمیہ، تو ربط چاہیے جملے کو کسی چیز سے جوڑنے کے لیے، تو یہ جو هو ضمیر ہے نا مبتدا، یہ لوٹ رہی ہے کس کو؟ ہدایت کو، وہ ہدایت ایسی، ایسی ہدایت کہ وہ ہدایت حاصل کیے جانے کے لائق ہے کہ اسے ہدایت لی جائے۔ ونوراً، اور یہاں پر یہ به کی ہا ضمیر کس کو راجع؟ نور کو، یہ ربط دے رہی ہے۔
تو اور ایسا نور بنا کر بھیجا، کہ به الاقتداء يليق، کہ انہی کی پیروی کی جائے يليق بنا، یہ ہمارے مناسب ہے، ہمارے مناسب یہ ہے کہ ہم انہی کی پیروی کریں، کسی اور کی پیروی نہ کریں۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ کیا؟
کہ جیسے هدىً کی جو ترکیب ہے، وہ یا مفعول لہ ہے یا حال، یہی ترکیب نوراً کی بھی ہے، اس کا عطف اسی پر ہے، تو یہ بھی مفعول لہ ہے یا حال، اور پھر پھر هدىً کو کس معنی میں لیا تھا حال بناؤ تو؟ فاعل سے بھی حال بنا سکتے ہیں اور مفعول سے بھی، اور اس کو کس معنی میں لے لو؟ ہادی کے معنی میں، اسی طرح نوراً جب اس کو حال بنائیں تو اس کو فاعل سے بھی حال بنا سکتے ہیں اور مفعول سے بھی، اور پھر اس کو منور کے معنی میں لے لو، اور یا پھر کیا کرو؟ اس کو اسی طرح رہنے دو، هدىً کو جیسے ہم نے اپنے معنی میں رکھا تھا اور اس کا حمل ہوا تھا بطور مبالغہ کے، تو نوراً کو بھی اسی معنی میں رہنے دو اور اس کا حمل بھی کس طریقے پر ہو جائے گا؟ بطریق مبالغہ کے، کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہی سراپا نور ہے۔
اور پھر اس کے بعد یہ بھی بتلایا کہ هدىً کے بعد جو جملہ ہے هو بالاهتداء حقيق، یہ پورا جملہ اس کے لیے صفت بن رہا ہے، اور اسی طرح نوراً کے بعد جو جملہ ہے به الاقتداء يليق، یہ پورا جملہ اس کے لیے کیا ہے؟ صفت بن رہا ہے بھئی، صفت بن رہا ہے۔
یہ ایک ترکیب ہوئی، کیا؟
کہ هو بالاهتداء حقيق، یہ کیا ہے؟ صفت ہے کس کی؟ هدىً کی، اور به الاقتداء يليق یہ پورا جملہ کیا ہے؟ صفت ہے، ترکیب سمجھ بھی آ رہی ہے کہ ساری ذہن سے نکلتی جا رہی ہے؟ ترکیب کیسے ہوگی؟
هدىً منصوب منصوب ہے، کیوں منصوب؟ مفعول لہ پہلے بنا لو، اور اگر حال بناؤ پھر بھی حال بھی کیا ہوتا ہے؟ منصوب، آگے هو ضمیر یہ مرفوع، کیونکہ مبتدا ہے یہ پورا جملہ ہے، مبتدا، اور حقيق یہ مرفوع یہ کیا ہے؟ جی؟ یہ خبر ہے، اور اس کے اندر هو ضمیر ہے جو کس کو لوٹ رہی ہے؟ مبتدا کو، خبر کو بھی مبتدا سے ربط چاہیے یا نہیں؟ اگر خبر کیا ہو؟ جملہ ہو یا شبہ جملہ ہو، تو حقيق کون سا صیغہ ہے؟ فعيل، صفت مشبہ ہے، اور صفت مشبہ کے لیے بھی فاعل چاہیے ہوتا ہے یا نہیں؟ جیسے فعل کے لیے فاعل چاہیے، اسی طرح اسم فاعل، اسم مفعول اور صفت مشبہ کے صیغوں کے لیے بھی کیا چاہیے؟ فاعل، تو اسی کے اندر هو ضمیر کیا ہے؟ فاعل، اور وہ اس کو وہ ضمیر لوٹ رہی ہے کس کی طرف؟ مبتدا کی طرف، مبتدا کون ہے؟ هو، اسی کے ساتھ جوڑ، اور بالاهتداء کس سے متعلق ہے؟ حقيق کے ساتھ، هو حقيق بالاهتداء، تو یہ پورا جملہ اسمیہ، اور اس پورے جملے کا اعراب بولو: منصوب ہے، کیونکہ یہ صفت ہے نا، اور موصوف صفت کا اعراب ایک ہوتا ہے۔
اسی طرح نوراً، اس کا اسی پر یہ معطوف ہے کس پر؟ هدىً پر، وہ منصوب تھا تو یہ معطوف بھی اسی کی طرح منصوب، اور به الاقتداء يليق، یہ به کو ذرا اقتداء کے بعد لے جاؤ، کیونکہ پہلے عامل آتا ہے بعد میں کون آتا ہے؟ معمول، یہ جار مجرور جس سے جڑتے ہیں وہ ان میں عامل ہوتا ہے، یہ معمول ہوتے ہیں اور وہ عامل، یہ به کس سے جڑ رہا ہے؟ الاقتداء سے، تو الاقتداء ہوا عامل، اور به جار مجرور اس سے جڑے تو یہ کیا ہوئے؟ معمول، اور پہلے عامل آتا ہے یا پہلے معمول آتا ہے؟ پہلے عامل آتا ہے پھر کون آتا ہے؟ معمول، تو لہٰذا اس کو ذرا مؤخر کر دو: الاقتداء به، تو یہ جار مجرور متعلق کس سے؟ اقتداء، اور یہ ہا ضمیر به کی ہا ضمیر کس کو راجع؟ نور کو، تو الاقتداء به، یہ الاقتداء مرفوع یہ کیا ہے؟ مبتدا، مبتدا، مصدر ہے نا، اور به جار مجرور اس سے متعلق ہو گئے، اور يليق یہ کیا ہے؟ یہ فعل ہے، اور يليق لائق يليق، اس کے اندر هو ضمیر، هو ضمیر جو کس کو راجع؟ خبر بن رہا، خبر کو کس سے جوڑتے ہیں؟ مبتدا سے، تو هو ضمیر اقتداء کو راجع، یہ ضمیر کس کو راجع؟ الاقتداء، خبر کو کس سے جوڑتے ہیں؟ مبتدا سے، تو فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر یہ خبر ہوئی کس کے لیے؟ اقتداء کے لیے، اقتداء مبتدا یہ اپنی خبر سے مل کر یہ کیا ہوا؟ پورا جملہ یہ صفت ہوئی نور کی، لہٰذا اس جملے کا اعراب کیا ہے؟ منصوب محلاً، کیونکہ موصوف کا بھی یہی اعراب، اب ترکیب سمجھ میں آ گئی بھئی؟
دیکیھے دوبارہ ترجمہ دیکھ لیجیے: والصلاة والسلام على من أرسله هدىً، اور رحمت اور سلامتی ہو على من اس ذات پر أرسله کہ جن کو اللہ نے بھیجا هدىً، ہدایت دینے کے لیے، جن کو اللہ نے بھیجا یا یوں کہو، جن کو اللہ نے بھیجا ہدایت بنا کر، ہدایت بنا کر، جن کو اللہ نے بھیجا ایسی ہدایت بنا کر کہ هو بالاهتداء حقيق، کہ وہ لائق ہیں کہ ان سے ہدایت حاصل کی جائے، اور اللہ نے ان کو ونوراً به الاقتداء يليق، اور اللہ نے ان کو ایسا نور بنا کر بھیجا کہ وہ اس کہ ہمارے مناسب یہ ہے کہ ہم انہی کی پیروی کریں، کسی اور کی پیروی نہ کریں بھئی، یہاں تک ترجمہ اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟
اور میں نے یہ بھی بتایا کہ يليق کے بعد بنا جار مجرور، بنا، با جارة اور نون ضمیر کیا ہے؟ نا ضمیر مجرور محلاً، یہ جار مجرور يليق بنا، ہمارے مناسب ہے، لائق يليق کا معنی مناسب ہونا، ان کی پیروی ہمارے مناسب ہے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں۔
صورت، تو یہ ہمارے لیے کمال ہے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں۔
چلیے بس بھئی، هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔