قوله سواء الطريق أي وسطه الذي يفضي سالكه إلى المطلوب البتة وهذ كناية عن الطريق المستوي إذ هما متلازمان وهذا مراد من فسره بالطريق المستوي والصراط المستقيم.
هم آج پڑھیں گے شرح قوله سواء الطريق بھئی اس حصے کی شرح۔
پہلے ذرا متن دیکھ لیجیے۔
بسم الله الرحمن الرحيم. الحمد لله الذي هدانا سواء الطريق.
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے الذي هدانا جس نے ہماری رہنمائی کی سواء الطريق سیدھے راستے کی طرف۔
جس نے ہماری سیدھے راستے کی طرف ہماری رہنمائی کی وجعل لنا التوفيق خير رفيق اور بنایا ہمارے لیے توفیق کو بہترین ساتھی۔
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جس نے توفیق کو ہمارے لیے بہترین ساتھی بنایا۔
تو جیسے هدانا سواء الطريق یہ صلہ ہے الذي کا، وہ اللہ جس نے ہمارے لیے، جس نے ہماری رہنمائی کی سیدھے راستے کی طرف۔
اور اسی طرح جعل لنا کا عطف بھی هدانا پر ہے، تو یہ بھی صلہ بن رہا ہے الذي کا، تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جس نے ہمارے لیے توفیق کو بہترین ساتھی بنایا۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ اب آئیے شرح پر بھئی۔
قوله سواء الطريق، قوله میں نے بتلایا تھا کہ اس کے ساتھ شارح کس کا قول ذکر کرتے ہیں اوپر؟ ماتن کا، مصنف کا، قوله أي قول المصنف يا قول الماتن۔ اور پھر آگے جو لفظ ذکر ہوتے ہیں، ان پر وہی اعراب پڑھا جاتا ہے عموماً جو کس پر تھا متن میں، اور متن میں کیا تھا؟ سواء الطريقِ، سواء کیا تھا؟ منصوب۔ تو یہاں بھی اسی طرح پڑھیں گے، قوله سواء الطريقِ۔
بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اور آگے أي وسطه، یہ اس کا معنی ذکر ہو رہا ہے۔
تو یہ أي کے ساتھ تفسیر اور معنی ذکر کیا جاتا ہے بھئی، کس کے ساتھ؟ أي کے ساتھ معنی اور تفسیر ذکر کیا جاتا ہے۔ اور یاد رکھیے، یہ جو تفسیر ہے اس کا وہی اعراب ہوتا ہے جو ماقبل میں مفسَّر کا اعراب ہے، مفسِّر کا وہی، یعنی یوں کہیں، مفسِّر، جو تفسیر ہے وہ کیا ہے؟ مفسِّر، تفسیر کرنے والی ہے، وضاحت کرنے والی۔ تو مفسِّر کا وہی اعراب ہوتا ہے جو کس کا ہوتا ہے؟ مفسَّر کا۔
سواء الطريق مفسَّر ہے نا، اس کا معنی بیان کیا گیا ہے، اس کی تفسیر بیان کی گئی ہے۔ مفسَّر کون سا صیغہ ہے؟ اسم مفعول۔ اور کون اس کی تفسیر کر رہا ہے؟ کون معنی بیان کر رہا ہے؟ آگے جو لفظ آ رہا ہے، اس کو کیا کہیں گے؟ مفسِّر۔ تو مفسَّر کا، تو مفسِّر، مفسَّر کا تو وہ اعراب جو کہاں آیا تھا اوپر متن میں، اور مفسِّر کا کیا اعراب یہاں پڑھیں گے؟ تو یاد رکھیے، اس یعنی یوں کہیں تفسیر کا، تفسیر کا وہی اعراب ہوگا جو کس کا تھا؟ مفسَّر کا تھا، اور سواء الطريق یہ منصوب ہے، تو أي وسطه یہ بھی کیا پڑھیں گے؟ منصوب پڑھیں گے بھئی، وسطه۔
اور وسطه، ها ضمیر کس کو راجع ہے؟ اسی الطريق کو راجع ہے، اسی کے معنی بیان ہو رہے ہیں نا، سواء الطريق أي وسط الطريق جي، تو دوبارہ طریق کو ذکر کرنے کے بجائے کس کو ذکر کر دیا؟ ضمیر کو ذکر کیا، ایک لفظ جب ایک دفعہ ذکر ہو جائے، دوسری دفعہ پھر اس کے لیے کیا استعمال کرتے ہیں؟ ضمیر استعمال کرتے ہیں تاکہ کلام مختصر ہو جائے اور خوبصورت ہو جائے بھئی، بار بار ایک لفظ کا استعمال پسندیدہ نہیں۔
تو شارح فرماتے ہیں، قوله سواء الطريقِ، مصنف کا قول سواء الطريق، أي وسطه یعنی وسط الطريق، راستے کا درمیان، یعنی یہ وسط کی اضافت ہے الطريق کی طرف، اور یہ اضافت ہو رہی ہے صفت کی موصوف کی طرف۔
کس کی؟ معلوم ہوا وسط ہے صفت اور الطريق کیا ہے؟ موصوف۔
موصوف، تو اس صفت کو اٹھا کر، صفت عربی میں کہاں آتی ہے؟ بعد میں آتی ہے، پہلے موصوف آتا ہے پھر صفت۔ ہاں، کبھی کبھی یوں کرتے ہیں کہ اضافت کرنے کے لیے صفت کو مقدم بھی کر دیتے ہیں، تو لیکن اصل اگر آپ اس کو دیکھنا چاہتے ہیں تو پھر وہی ذرا ترتیب دے دیں، تو الطريق کو مقدم کر دیں اور الوسط کو کیا کر دیں؟ مؤخر کر دیں، الطريق الوسط، کیا معنی ہو گیا؟ درمیانہ راستہ بھئی۔
تو کہتے ہیں سواء الطريق أي وسطه، تو سواء الطريق جو ہے، یعنی کہ درمیانہ راستہ، الذي يفضي سالكه، افضى يفضي کے معنی ہیں پہنچانا، سالک سلوک کا معنی ہے راستے پر چلنا، الذي يفضي سالكه وہ راستہ جو پہنچا دے سالكه اپنے اوپر چلنے والے کو، إلى المطلوب مطلوب اور مقصود تک، البتة قطعی طور پر، یقینی طور پر۔ البتة کا کیا معنی؟ قطعی طور پر، یقینی طور پر۔
جی، معنی سمجھ میں آیا؟ پھر دیکھو بھئی، قوله سواء الطريقِ، مصنف کا قول سواء الطريق، أي وسطه يعني درمیانہ راستہ، الذي يفضي سالكه إلى المطلوب البتة یعنی وہ راستہ جو پہنچا دے اپنے اوپر چلنے والے کو منزل تک، مطلوب، وہ مقصود اور منزل، منزل تک جو پہنچا دے اپنے اوپر چلنے والے کو، البتة یقینی طور پر۔ وہ درمیانہ راستہ، ادھر دیکھو۔
سواء الطريق وہ درمیانہ راستہ جو اپنے اوپر چلنے والے کو، اپنے اوپر چلنے والے کو یقینی طور پر کہاں تک پہنچا دے؟ منزل تک پہنچا دے، اس کو کہتے ہیں سواء الطريق۔ یہ جو درمیان والا راستہ ہے اور یقینی طور پر کہاں تک پہنچانے والا ہے؟ منزل اور مقصود تک پہنچانے والا ہے، اس کو کہتے ہیں سواء الطريق، سواء الطريق بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
مثلاً دیکھو، آپ دو نقطے لگائیں اور ان دو نقطوں کے درمیان ایک سیدھا خط کھینچیں جو ان دونوں کو ملا دے، ایک نقطے کو دوسرے نقطے سے ملا دے۔ اب ایک نقطے سے جو مثلاً پہلا نقطہ ہے، اس سے آپ نے ایک سیدھی لکیر کھینچی جو کہاں پہنچی؟ دوسرے نقطے تک۔ اسی پہلے نقطے سے دو لکیریں دائیں طرف بھی نکال دیں اور دو لکیریں بائیں طرف بھی نکال دیں۔
تو ایک ہی نقطہ ہے پہلا اس سے دیکھ رہے ہیں آپ پانچ خط نکل رہے ہیں، لیکن ان پانچ خطوں میں سے جو درمیان والا ہے صرف وہ منزل تک پہنچانے والا ہے، باقی دائیں بائیں طرف جا رہے ہیں بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو یہ اور جو منزل تک پہنچانے والا ہے، وہ کون سا راستہ ہے؟ درمیان والا ہے، یہ معنی ہے، وہ درمیان والا راستہ جو کہاں تک یقینی طور پر پہنچا دے؟ منزل تک پہنچا دے۔
تو جو دائیں بائیں خط جا رہے ہیں، وہ سیدھے خط ہیں، وہ کبھی بھی منزل تک نہیں پہنچیں گے بھئی، وہ سیدھا، وہ ہیں تو سیدھے خط، لیکن وہ دو دائیں طرف جا رہے ہیں اور دو کس طرف کو جا رہے ہیں؟ بائیں طرف، وہ تو دور آپ کو لے جائیں گے منزل سے، لیکن جو درمیان والا سیدھا راستہ ہے، راستے سارے سیدھے ہیں، لیکن پہنچانے والا کون سا صرف؟ درمیان والا پہنچانے والا ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو قوله سواء أي وسطه الذي يفضي سالكه جو پہنچا دے سالک، سلوک کا معنی ہے راستے پر چلنا۔ سلک یسلک سلوکاً، اور چلنے والا اس کو کیا کہیں گے؟ سالک، سلک یسلک سلوکاً فهو سالک۔
تو جو پہنچا، پہنچا دے سالكه أي سالك الطريق، اس راستے پر جو چلنے والا ہے، اس کو پہنچا دے کہاں تک؟ إلى المطلوب، مطلوب اور منزل تک، البتة یقینی طور پر۔
تو یاد رکھیے، سلوک کا معنی ہے راستے پر چلنا، لیکن یہ عام راستے پر چلنے کو سلوک نہیں کہتے، ایک شخص سڑک پہ چل رہا ہے یا ایک شخص گلی میں چل رہا ہے، تو یہ بھی راستے پر چل رہا ہے یا نہیں چل رہا؟ لیکن اس کو سلوک نہیں کہتے، سلوک کہتے ہیں عملی راستے پر چلنا۔
کس پر چلنا؟ عملی راستے پر چلنا، مثلاً میں آپ کو کچھ نصیحتیں کرتا ہوں اور آپ ان نصیحتوں پر عمل کرتے ہیں، تو یہ ہے سلوک، آپ میرے بتلائے ہوئے راستے پر چل رہے ہیں۔
بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ ایک ہے ظاہری راستے پر چلنا، ایک ہے کچھ باتیں جو ذکر کی جائیں، ان پر عمل کرنا، تو یہ عمل بھی اس بتلائے ہوئے راستے پر چل رہے ہیں یا نہیں چل رہے؟ ہاں، تو یہ وہ ظاہری راستہ مراد نہیں ہے، بلکہ کون سا راستہ مراد ہے؟ عملی راستہ مراد ہے بھئی عملی راستہ، جیسے لوگ مختلف بزرگوں سے بیعت ہوتے ہیں اور پھر وہ بزرگ ان کو باتیں بتلاتے ہیں کہ آپ نے زندگی اس طرح گزارنی ہے، یوں عمل کرنا ہے، یوں عمل کرنا ہے، سنت کے مطابق چلنا ہے، یہ یہ اعمال کرنے ہیں، اور وہ مریدین جو ہیں، وہ اسی راستے پر چلتے ہیں، تو اس کو سلوک کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ سلوک کہتے ہیں، یہ وہ جو عملی راستے پر چل رہا ہے۔
تو وہ سواء الطريق جو ہے، وہ درمیانہ راستہ ہے جو پہنچا دے اپنے اوپر چلنے والے کو إلى المطلوب البتة، منزل تک قطعی طور پر۔
وهذا كناية عن الطريق المستوي إذ هما متلازمان، اور یہ کنایہ ہے۔
درمیانہ راستہ، بھئی سواء الطريق کا معنی کیا ہے؟ درمیانہ راستہ۔
وهذا كناية، اور یہ کیا ہے؟ کنایہ ہے، یہ سواء الطريق کنایہ ہے، عن الطريق المستوي سیدھے راستے سے۔
کس سے؟ توجہ ہے؟ ایک ہے درمیانہ راستہ، ایک ہے سیدھا راستہ۔ دیکھو، درمیان والا راستہ، یہ الگ بات ہے، الگ معنی ہے، اور سیدھا راستہ الگ معنی ہے، تو شارح نے آپ کو بتلا دیا کہ سواء الطريق کا معنی سیدھا راستہ نہیں ہے، سواء الطريق کا معنی ہے وسط الطريق، درمیانہ راستہ۔
توجہ ہے؟ ایک کیا ہوتا ہے؟ سیدھا راستہ، ایک کیا ہے؟ درمیانہ راستہ، اور سواء الطريق کا کیا معنی ہے؟ درمیانہ راستہ اس کا معنی ہے۔
تو یہ درمیانہ راستہ کہتے ہیں، یہ کنایہ ہے سیدھے راستے سے۔
یہ کیا ہے؟ یعنی مصنف نے کہا تو درمیانہ راستہ، لیکن مراد ان کی سیدھا راستہ ہے، کیا ہے؟ مراد ان کی سیدھا راستہ ہے۔
دیکھیے عبارت: وهذا كناية عن الطريق المستوي، اور یہ درمیانہ راستہ، یہ کنایہ ہے طریق مستوی سیدھے راستے سے، طریق مستوی کا کیا معنی؟ سیدھا راستہ، سیدھے راستے سے یہ کنایہ ہے، إذ هما متلازمان، اس لیے کیونکہ یہ دونوں باہم ایک دوسرے کے ساتھ لازم ہیں، جو راستہ درمیانہ ہوگا، وہ سیدھا ہوگا، اور جو سیدھا ہوگا، وہ درمیانہ ہوگا بھئی۔ دیکھیے آپ، میں نے ابھی مثال ذکر کی، آپ ایک نقطے سے دوسرے نقطے تک مثلاً آپ تین چار خط پہنچائیں پہلے نقطے سے کہاں تک؟ دوسرے نقطے، ایک خط سیدھا پہلے نقطے سے کہاں تک پہنچ رہا ہے؟ دوسرے نقطے، دوسرا خط آپ ذرا ٹیڑھا کر کے دائیں طرف سے لے کر آئیں اور وہ بھی پہنچا دیں، تیسرا خط بھی آپ دائیں طرف سے لے کر آئیں اور وہ بھی اس دوسرے نقطے تک پہنچا دیں، پھر اسی طرح دو ٹیڑھے خط کس طرف سے لے جائیں؟ بائیں طرف سے بھی آپ پہنچا دیں اس دوسرے نقطے تک۔ اب دیکھیے یہ خطوط سارے پہنچا تو رہے ہیں منزل تک، لیکن ان میں سے جو درمیان والا ہے، وہ تو قطعی طور پر پہنچا رہا ہے اور وہ سیدھا بھی ہے۔
اولاً تو دائیں بائیں والے جو خطوط ہیں، میں نے تو ابھی بتایا نا ٹیڑھا کر کے آپ پہنچا دیں۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ یہ تو ضروری نہیں ہے کہ دائیں بائیں جو خط جائے، وہ مڑ کر کہاں تک پہنچا دے؟ اس منزل تک پہنچا دے، ہاں، درمیان والا قطعی طور پر آپ کو منزل تک پہنچائے گا، لیکن دائیں بائیں کے جو راستے ہیں، احتمال ہے، ہو سکتا ہے کسی طرح گھوم کے آدمی منزل تک پہنچ جائے، لیکن زیادہ احتمال یہ ہے کہ وہ منزل تک پہنچائیں گے ہی نہیں، وہ کسی اور طرف نکل جائیں گے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اب دیکھیے، یہاں پر جو درمیان والا راستہ ہے، آپ نے کئی خط کھینچے۔
سیدھا خط کون سا؟ درمیان والا، تو دیکھا، جو درمیانہ راستہ ہوگا، وہ سیدھا ہوگا، اور جو سیدھا ہوگا، وہ کیا ہوگا؟ درمیان والا ہوگا، اس کے ساتھ لازم ہے، وہ کیا ہوگا؟ سیدھا، اور جو سیدھا ہوگا، اس کے ساتھ لازم ہے، وہ کیا ہوگا؟ درمیان والا ہوگا، دائیں بائیں والا نہیں ہوگا، بات سمجھ، تو لزوم دونوں طرف سے ہے، درمیان والے راستے کے ساتھ سیدھا راستہ ہونا لازم، اور سیدھے راستے کے ساتھ درمیانہ راستہ ہونا لازم، جیسے بھئی سورج کے ساتھ دن کا نکلنا لازم ہے، جیسے ہی سورج نکلے گا کیا ہوگا؟ دن ہوگا، تو جیسے وہاں سورج کے نکلنے کے ساتھ دن کا لازم، اسی طرح یہاں پر بھی درمیان والے راستے کے ساتھ سیدھا ہونا لازم، جو درمیانہ ہے وہ سیدھا، اور جو سیدھا ہے وہ درمیانہ ہے، تو مصنف نے کیا کیا؟ جب دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم ہیں، تو مصنف نے بولا تو درمیانہ راستہ، لیکن ارادہ کس کا کیا؟ سیدھے راستے کا، اسی لیے ہم نے ترجمہ کیا، تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جس نے ہماری رہنمائی کی سیدھے راستے کی طرف، دیکھا ہم نے سیدھا راستہ، کیونکہ مصنف کی مراد بھی یہی ہے، درمیانے راستے سے کیا مراد ہے؟ سیدھا، کیونکہ درمیانے راستے کے ساتھ سیدھا ہونا لازم ہے، سیدھا ہونا لازم ہے۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ اب یہاں ایک لفظ آیا کنایہ، کنایہ، کنایہ کو سمجھ لیں بھئی، کنایہ کہتے ہیں ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کرنا، یہ کتابوں میں جگہ جگہ آپ کو یہ لفظ ملے گا کنایہ، اچھی طرح ابھی سمجھ لیں، بہت آسان ہے بھئی۔ تو کنایہ کہتے ہیں، ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کرنا، توجہ ہے؟
ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کرنا۔
دیکھو سورج کے نکلنے کے ساتھ دن کا ہونا لازم، تو دن کا ہونا ہوا لازم، اور سورج کا نکلنا ہوا ملزوم، وہ جو دوسری چیز ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ ملزوم، ایک کو کہتے ہیں لازم، تو جس کے ساتھ وہ لازم ہوتا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ ملزوم। سورج کے نکلنے کے ساتھ کیا لازم؟ دن کا ہونا، تو دن کا ہونا ہوا تو لازم، اور کس کے ساتھ لازم ہے؟ سورج کے نکلنے کے ساتھ، تو سورج کے نکلنے کو کہیں گے ملزوم، تو سورج کا نکلنا ہوا ملزوم، اور دن کا ہونا ہوا لازم۔
تو ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کرنا، یعنی آپ سورج نکلنے کا ذکر کریں اور مراد دن کا ہونا لیں، ذکر کس کو کریں؟
لازم کون؟ دن کا ہونا۔ اور ملزوم کون؟ سورج کا نکلنا۔ تو آپ ذکر ملزوم کا کریں اور ارادہ کس کا کریں؟ لازم کا کریں، اس کو کیا کہتے ہیں؟ کنایہ۔ آپ ذکر کریں سورج کے نکلنے کو، لیکن آپ کا ارادہ کس کا ہو؟ دن کے ہونے کا، بھئی دیکھو ایک ہوتا ہے لفظ کا معنی اور ایک ہوتی ہے مراد اس کی، مراد، معنی اور مراد جانتے ہو؟ بھئی دیکھو، مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں کہ ایک آپ کا ساتھی ہے بڑا بہادر ہے، وہ کمرے کے اندر آیا، جیسے ہی وہ کمرے میں آیا، میں نے کہا: شیر آ گیا۔
اب شیر آ گیا، ایک اس لفظ کا معنی ہے، ایک اس لفظ کی مراد ہے۔ لفظ شیر آ گیا، اس کا معنی کیا؟ درندہ آ گیا، جنگلی، کیونکہ شیر تو ایک جنگلی درندے کا نام ہے، درندہ آ گیا، لیکن کیا یہاں میرا درندہ آ گیا اس معنی کا ارادہ ہے؟ نہیں، کیونکہ یہاں تو کوئی درندہ نہیں آیا، ہاں، میری مراد کیا ہے؟ میرا ارادہ کیا ہے؟ بہادر آدمی آ گیا، یعنی میں اس کو شیر کے ساتھ تشبیہ دے رہا ہوں کہ جیسے شیر بڑا بہادر ہوتا ہے، یہ آدمی بھی بڑا بہادر، تو ایک ہوتا ہے لغوی معنی، ایک ہوتا ہے مرادی معنی۔ شیر آ گیا، لغوی معنی کیا؟ درندہ آ گیا، لیکن مرادی معنی کیا؟ مراد کیا ہے؟ بہادر آدمی آ گیا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو بعض اوقات لغوی معنی اور ہوتا ہے اور مرادی معنی اور ہوتا ہے، اور بعض اوقات دونوں ایک ہی ہوتے ہیں، مثلاً وہ اندر آیا، میں نے کہا: بہادر آدمی آ گیا۔
اب اس کا بہادر آدمی کا جو لغوی معنی ہے، میری مراد بھی وہی ہے، کوئی اور معنی مراد ہے؟ میں بھی یہی کہنا چاہتا ہوں کہ بہادر آدمی آ گیا، لفظ بھی میں نے وہی بولے اور معنی بھی اسی کا ارادہ کیا، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ پہلے میں نے اس کا ارادہ کیا تھا شیر آ گیا، اس وقت میرا اس معنی کا ارادہ تھا، اب میں نے وہی لفظ ذکر کر دیے، تو لفظوں کا معنی بھی وہی کہ بہادر آدمی آیا ہے، اور میری مراد بھی وہی ہے، تو کبھی لغوی اور مرادی معنی الگ الگ ہوتے ہیں، اور کبھی لغوی اور مرادی معنی ایک، کبھی پھر سنو، کبھی لغوی اور مرادی معنی الگ الگ ہوتے ہیں، اور کبھی لغوی اور مرادی معنی ایک ہی ہوتے ہیں۔
یا اور مثال دیکھ لیں، مثلاً آپ کا ایک ساتھی ہے وہ بڑا ڈرپوک ہے۔
اور سب ساتھیوں کو بھی پتہ ہے کہ یہ بڑا ڈرپوک ہے۔ اب آپ سب ساتھیوں کے سامنے یہ کہتے ہیں: یہ بڑا بہادر آدمی ہے۔
بڑا بہادر، اب مجھے بتائیے، بہادر کا معنی تو ہے شجاع جو بہادری کی صفت والا ہو، تو کیا یہاں بہادری کی صفت کا ارادہ آپ نے کیا؟ نہیں، تو دیکھو یہ معنی تو اس کا بہادر ہے، لیکن آپ کا اس کا ارادہ نہیں، آپ اس کے ساتھ مذاق کر رہے ہیں بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ایک ہوتا ہے لغوی معنی اور ایک کیا ہوتا ہے؟ مرادی معنی، مرادی معنی جس کا آپ کیا کرتے ہیں؟ ارادہ کرتے ہیں، تو مصنف نے یہاں کیا ذکر کیا؟ سواء الطريق، اور سواء الطريق کا لغوی معنی کیا ہے؟ وسط الطريق، درمیانہ راستہ، لیکن ارادہ کس کا کیا؟ سیدھے راستے کا، بات سمجھ میں آ گئی؟
تو اس اچھا، میں آپ کو سمجھا رہا تھا کنایہ، کنایہ کہتے ہیں کہ کہ آپ ذکر ملزوم کا کریں اور ارادہ لازم کا کریں۔
ذکر کس کا کریں؟ ملزوم کا، ارادہ کس کا کریں؟ لازم کا، مثلاً آپ نے کہا: سورج نکل آیا ہے، اور سورج کا نکلنا ملزوم، اور اس کے ساتھ کیا لازم؟ دن کا ہونا لازم، تو میں نے ذکر تو کیا سورج کا نکلنا، لیکن ارادہ کس کا کیا؟ دن کے، توجہ نہیں ہے میرا خیال ہے سبق کی طرف۔
سورج کا نکلنا کیا ہے؟ ملزوم ہے، اور اس کے ساتھ کیا لازم؟ دن کا ہونا، تو میں نے ذکر تو یہ کیا سورج نکل آیا ہے، لیکن ارادہ کس کا کیا؟ کہ دن ہو گیا ہے۔
بات تو دونوں ایک دوسرے کے قریب قریب ہیں نا، لیکن بہرحال فرق تو آ رہا ہے، میں نے ذکر کس کو کیا؟ سورج کے نکلنے کو، لیکن ارادہ کس کا کیا؟ دن کے ہونے کا، تو ملزوم بول کر کس کا ارادہ کرنا؟ لازم کا، اس کو کہتے ہیں کنایہ، کیا کہتے ہیں؟ کنایہ، اور مثال سے زیادہ اور اچھی وضاحت ہو جائے گی۔ دیکھو بھئی، جس آدمی کا قد لمبا ہو، اس کی قمیص بھی لمبی ہوتی ہے۔
ظاہر سی بات ہے۔ اب زید لمبے قد والا ہے، ایک یہ ہے کہ میں سیدھا سیدھا آپ سے کہوں: زید لمبے قد والا ہے، یا یوں کہوں: زید کا قد لمبا ہے۔
تو جو دیکھو، جو لغوی معنی ہے، وہی مرادی معنی بھی وہی ہے۔ میں نے لفظ بھی یہی بولے کہ زید لمبے قد والا ہے، اور معنی بھی اسی کا ارادہ کیا کہ اس کا کیا ہے؟ قد لمبا ہے۔
اسی کو میں دوسرے لفظوں میں یوں بھی کہہ سکتا ہوں: زید لمبی قمیص والا ہے، یا یوں کہوں: زید کی قمیص لمبی ہے۔
اور ارادہ وہی ہے کہ اس کا قد لمبا، میں کہنا یہی چاہتا ہوں کہ اس کا قد لمبا ہے، لیکن میں یہ لفظ نہیں بولتا، میں کہتا ہوں: زید کی قمیص لمبی ہے۔
اور ارادہ کس معنی کا؟ اس کا قد لمبا ہے، تو بولا میں نے قمیص کے لمبا، ذکر میں نے کیا قمیص کا لمبا ہونا، اور ارادہ کس کا کیا؟ قد کے لمبے، کیونکہ قمیص کے لمبے ہونے کے ساتھ قد کا لمبا ہونا لازم ہے، قمیص اسی کی لمبی ہوگی جس کا قد کیا ہوگا؟ لمبا ہوگا، تو قمیص کے لمبے ہونے کے ساتھ قد کا لمبا ہونا لازم، تو میں نے ذکر کیا ملزوم، یعنی قمیص کا لمبا ہونا، اور ارادہ کس کا کیا؟ لازم، یعنی قد کا لمبا، تو اس کو کہتے ہیں کنایہ، کیا کہتے ہیں؟ کنایہ کسے کہتے ہیں؟ ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کیا جائے۔
پھر دہرائو، کنایہ کسے کہتے ہیں؟ ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کیا جائے۔
تو مثلاً جیسے میں نے کیا مثال ذکر کی؟ کہ میں آپ کو کہنا کیا چاہتا ہوں؟ زید کا قد لمبا ہے، لیکن ذکر جن لفظوں میں کرتا ہوں؟ کہ اس کی قمیص لمبی ہے، ارادہ اسی معنی کا ہے۔
ہاں، اگر میں یہ کہتا ہوں: زید کی قمیص لمبی ہے، اور میرا ارادہ بھی اسی معنی کا ہے کہ میں اس کی قمیص ہی کے بارے میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں، پھر یہ کنایہ نہیں ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ میں آپ کو صرف یہی بتانا چاہتا ہوں اس کی قمیص لمبی ہے، پھر یہ کنایہ نہیں ہے، کیونکہ آپ جو لفظ بول رہے ہیں، اسی کا ارادہ کر رہے ہیں، ہاں، آپ ذکر ملزوم کو کریں اور ارادہ کس کا کریں؟ لازم، پھر یہ کنایہ کہلائے گا، مثلاً میں ذکر کروں کہ اس کی قمیص لمبی ہے، اور ارادہ کیا کروں؟ اس کا قد لمبا ہے، پھر اس صورت میں یہ کنایہ بنے گا، بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ جیسے میں سورج کے نکلنے کو ذکر کروں اور ارادہ کس کا کروں؟ دن کے ہونے کا، تو یہ ہے کنایہ، اور اگر میں سورج کے نکلنے سے سورج کا نکلنا ہی مراد لے رہا ہوں، پھر یہ کنایہ نہیں ہے بھئی، بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟
اچھا، میں نے کیا بتایا آپ کو؟
درمیانے راستے کے ساتھ سیدھا ہونا لازم، اور سیدھے راستے کے ساتھ درمیانہ ہونا لازم، تو دونوں ملزوم بھی ہیں اور دونوں لازم بھی ہیں۔
تو ایک بول کر دوسرے کا ارادہ کیا جائے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ کنایہ، تو مصنف نے بھی یہاں ایسے ہی کیا، وسط الطريق بولا اور ارادہ کس کا کیا؟ سیدھے راستے کا، تو یہ کیا ہوا؟ کنایہ، کہ ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کیا، بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ کیونکہ درمیانے راستے کے ساتھ راستے کا سیدھا ہونا لازم ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو بولا تو ملزوم درمیانہ راستہ، لیکن ارادہ کس کا کیا؟ لازم، سیدھے راستے کا، اب بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟
کہتے ہیں: وهذا كناية عن الطريق المستوي، اور یہ کنایہ، سواء الطريق جو متن میں آیا، یہ کنایہ ہے عن الطريق المستوي سیدھے راستے سے، إذ هما متلازمان، اس لیے کیونکہ یہ دونوں، کون دونوں؟ وسط الطريق اور طريق مستوي، یہ یعنی درمیانہ راستہ اور سیدھا راستہ، یہ دونوں جو ہیں، متلازمان باہم ایک دوسرے کے ساتھ لازم ہیں، وهذا مراد من فسره بالطريق المستوي والصراط المستقيم، بھئی یہ جو علامہ تفتازانی کا متن ہے نا تہذیب، تہذیب۔
یہ بڑا مقبول متن ہے، اور اس کی کئی شروحات کئی علماء نے لکھیں بھئی۔
تو مصنف نے آپ کو بتلا دیا کہ سواء الطريق کا لغوی معنی کیا ہے؟ وسط الطريق۔ بعض اور شارحین نے بھی اس کتاب کی شرح کی، تو انہوں نے سواء الطريق کا معنی طريق مستوي کیا، مصنف نے تو بتایا سواء الطريق کا کیا معنی؟ وسط الطريق ہے، طريق مستوي اس کا معنی نہیں، وہ اس کے ساتھ لازم ہے، تو اس کا معنی کیا ہے سواء الطريق کا؟ وسط الطريق، لیکن بعض شارحین نے اس کتاب کی شرح کی، انہوں نے سواء الطريق کا معنی طريق مستوي کے کیا، سیدھا راستہ کیا۔
یا صراط مستقیم کیا، صراط مستقیم کا بھی کیا معنی؟ سیدھا راستہ۔ تو بعضوں نے اس کا معنی طريق مستوي اور صراط مستقیم کے کیا ہے، حالانکہ اس کا معنی تو صراط مستقیم یا طريق مستوي نہیں، اس کا معنی تو کیا ہے؟ وسط الطريق ہے۔
تو شارح آپ کو بتلائیں گے کہ جنہوں نے اس کا معنی طريق مستوي یا صراط مستقیم کیا، ان پر اعتراض نہ کریں، وہ کوئی اس کا لغوی معنی نہیں بیان کر رہے، وہ اس کا مرادی معنی بیان کر رہے ہیں، اور ہم نے بھی بتا دیا سواء الطريق کا لغوی معنی تو کیا ہے؟ وسط الطريق، لیکن مراد کیا ہے؟
طريق مستوي ہی مراد ہے، تو ان دوسرے مصنفین نے لغوی معنی نہیں ذکر کیا وہاں پر، وہ کیا ذکر کر رہے ہیں وہاں پر؟
مرادی معنی، جس کا ارادہ کر رہے ہیں مصنف، وہی ذکر کیا ہے، بات سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی؟
تو کہتے ہیں: وهذا مراد، اور یہی مراد ہے من فسره ان کی جنہوں نے اس کی تفسیر کی ہے، یعنی سواء الطريق کی جنہوں نے تفسیر کی ہے، بالطريق المستوي کس کے ساتھ؟ طريق مستوي، ہم نے تو سواء الطريق کی تفسیر کیا کی؟ وسط الطريق، لیکن بعضوں نے اس کی تفسیر کیا کی ہے؟ طريق مستوي اور صراط مستقیم، وہ کوئی لغوی معنی نہیں بیان کر رہے، اگر وہ لغوی معنی بیان کرتے، پھر تو غلط تھا، لیکن انہوں نے تو لغوی معنی ذکر ہی نہیں کیا، انہوں نے کیا ذکر کیا سیدھا سیدھا؟ مرادی معنی ذکر کر دیا۔
کہتے ہیں: وهذا مراد من فسره بالطريق المستوي والصراط المستقيم، اور یہی مراد ہے جنہوں نے اس کی تفسیر کی ہے طريق مستوي کے ساتھ اور صراط مستقیم کے ساتھ۔
ثم المراد به إما نفس الأمر عموماً أو خصوص ملة الإسلام والأول أولى لحصول البراعة الظاهرة بالقياس إلى قسمي الكتاب.
بھئی، میں نے آپ کو پہلے بتلایا تھا کہ یہ تہذیب متن جو ہے علامہ تفتازانی کا، اور اس کے دو حصے ہیں۔
ایک حصے میں منطق ہے، تو ایک حصے میں علمِ کلام ہے بھئی۔
شروع میں میں نے جو احوال لکھوائے تھے، وہاں میں نے ذکر کیا تھا کہ یہ جو تہذیب رسالہ ہے علامہ تفتازانی کا، اس کے دو حصے ہیں، ایک حصہ منطق میں ہے جس کی یہ شرح ہم پڑھ رہے ہیں۔
یہ جو متن ہے اوپر، اور ایک حصہ اس کا علمِ کلام کے اندر ہے، اور علمِ کلام وہ علم ہے جس میں عقیدے کی بحث ہوتی ہے۔
کہ اللہ ایک ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری پیغمبر ہیں، قیامت قائم ہوگی، جنت ہے، جہنم ہے، دیکھا یہ عقیدہ ہے، ایک تو فقہ ہے نا، فقہ میں آپ عمل کے بارے میں پڑھتے ہیں، نماز کیسے پڑھنی ہے، وضو کیسے کرنا ہے، روزہ کیسے رکھنا ہے، حج کیسے کرنا ہے، تو اس میں عمل سے متعلق چیزیں ذکر ہوتی ہیں، یہ ہے علمِ فقہ، اور ایک علم ہے جس میں عقیدے کی بات ہوتی ہے عمل کی بات نہیں، جیسے دیکھو اللہ ایک ہے۔ دیکھو اللہ ایک ہے، اس میں آپ کو کچھ عمل کرنا پڑا؟ نہیں، صرف عقیدہ رکھنا پڑا کہ اللہ ایک ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری پیغمبر ہیں، کچھ کرنا نہیں پڑا آپ کو، صرف عقیدہ رکھنا پڑا۔ اسی طرح آپ کہتے ہیں: جنت موجود ہے، جہنم موجود ہے، اور قیامت قائم ہوگی، یہ ان سب، یہ سب کیا ہیں؟ عقیدے ہیں، تو وہ علم جس کے اندر عقیدے کی بحث ہوتی ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ علمِ کلام۔ تو اس کتاب کے دو حصے، ایک حصے میں کیا ذکر؟ علمِ منطق، اور دوسرے میں کیا ذکر؟ علمِ کلام ذکر ہے۔
اب شارح فرما رہے ہیں کہ اوپر متن میں کیا آیا؟ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جس نے ہمیں ہماری رہنمائی کی سیدھے راستے کی طرف۔
جس نے ہمیں سیدھے راستے پر چلایا، اب اس سیدھے راستے سے کون سا سیدھا راستہ مراد ہے؟
دین کا سیدھا راستہ یا ہر چیز میں سیدھا راستہ؟ اگر صرف دین کے اندر سیدھا راستہ مراد لیں، تو پھر
یہ اشارہ ہوا علمِ کلام کی طرف، کیونکہ علمِ کلام میں کیا ذکر کریں گے وہ؟ جو درست عقیدے ہیں، وہ ذکر کریں گے، جن کے وہ عقیدے ہوں گے، وہ سیدھے راستے پر ہے، جن کے وہ عقیدے نہیں، وہ سیدھے راستے پر نہیں۔
تو اگر سیدھے راستے سے کون سا سیدھا راستہ مراد لیں؟
دین والا، تو صرف کس کی طرف اشارہ؟ علمِ کلام کی طرف، جس نے، دیکھو یہ کتاب کا خطبہ چل رہا ہے۔
اللہ کی حمد و ثنا بیان کر رہے ہیں مصنف اوپر متن میں۔
اور خطبے کے اندر کس کی طرف اشارہ کر دیا؟ آگے آنے والے اپنی کتاب کی طرف، اور کتاب کے کتنے حصے؟ دو حصے، اور تو یہاں سیدھا راستہ ذکر کیا، اور سیدھا راستہ کس میں مراد ہے؟ دین کے اندر۔
تو دین کے اندر سیدھا راستہ کس حصے میں ذکر ہوگا؟ علمِ کلام میں، تو اس میں صرف اشارہ ہو رہا ہے کس کی طرف؟ علمِ کلام کی طرف، اور اگر آپ سیدھا راستہ لیں ہر چیز میں،
دنیاوی کاموں کے اندر بھی سیدھا راستہ، کہ اس طریقے سے کرو تو یہ ٹھیک ہے، جیسے حساب میں آپ پڑھتے ہیں دو اور دو کتنے ہوتے ہیں؟ چار، اور ایک آدمی کہتا ہے نہیں، دو اور دو کیا ہوتے ہیں؟ پانچ، مجھے بتائیے، سیدھے راستے پر کون ہے؟ چار، جو چار کہہ رہا ہے، اب یہ کوئی دینی بات نہیں ہے، دنیاوی بات ہے۔
تو جیسے دین کے اندر سیدھا راستہ ہے، اسی طرح دنیاوی چیزوں میں بھی کیا ہے؟ سیدھا راستہ، یعنی ٹھیک طریقہ ہے۔ تو اگر ہم اس صراط مستقیم سے صرف دینی راستہ مراد لیں، تو یہ کس کی طرف اشارہ ہوا؟ صرف علمِ کلام، اور اگر ہر چیز میں سیدھا راستہ مراد لیں، تو پھر تو اس میں منطق بھی آ گئی۔
علمِ کلام بھی آ گیا، ہر چیز آ گئی، تو کتاب کی دونوں قسموں کی طرف کیا ہو جائے گا؟ اشارہ، اور کیا بہتر ہے؟ کتاب کے ایک حصے کی طرف اشارہ بنایا جائے یا دونوں کی طرف اشارہ بنایا جائے؟
دونوں کی طرف اشارہ بنایا جائے، کہ وہ اللہ جس نے ہمیں سیدھا راستہ، سیدھے راستے پر چلایا، دین کے اعتبار سے بھی اور دنیا کے اعتبار سے بھی، یعنی منطق اور باقی علوم کے اندر بھی جو ہیں، ان میں بھی ہمیں ٹھیک ٹھیک باتیں ہمیں اللہ نے ہمارے دل میں ڈالیں اور ہمیں سمجھائیں۔
یہاں ایک اور لفظ یاد رکھیں: براعتِ استہلال۔
براعت، لفظی معنی یاد رکھیں، براعت کا معنی ہے اونچا ہونا، بلند ہونا۔ استہلال کہتے ہیں آغاز کو۔
استہلال کسے کہتے ہیں؟ آغاز کو، مہینے کے شروع میں جو چاند نظر آتا ہے، اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ ہلال کہتے ہیں۔ تو استہلال کا معنی آغاز، براعتِ استہلال، یہ ایک، ایک صنعت ہے علمِ بلاغت کی کہ آپ کتاب کے خطبے میں ایسے لفظ لے کر آئیں جس سے آگے آنے والے کتاب کی مقصود، آگے آنے والے مقصود کی طرف کیا ہو جائے؟ اشارہ۔
بھئی مصنف جب کوئی کتاب لکھتا ہے، تو کیا وہ شروع میں جو خطبہ لکھنا ہے، وہ اس کا مقصود ہوتا ہے یا آگے جو علم کے بارے میں باتیں کرنی ہیں، وہ مقصود ہوتا ہے؟ جو علم کے بارے میں باتیں کرنی ہیں، وہ مقصود، لیکن شروع کس طرح کرتا ہے؟ اللہ کے نام کے ساتھ، اللہ کی صفات کے ساتھ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتا ہے، اور اس کے علاوہ کچھ باتیں اپنی کتاب کے بارے میں ذکر کرتا ہے، تو یہ ہے کتاب کا خطبہ۔
تو خطبہ مقصود نہیں ہوتا، بلکہ آگے آنے والی چیزیں کیا ہوتی ہیں؟ مقصود، لیکن خطبے میں ہی وہ ایسے لفظ استعمال کرتا ہے جس سے آگے آنے والی چیزوں کی طرف اشارہ ہو جاتا ہے، اس کو کہتے ہیں براعتِ استہلال۔
کیا کہتے ہیں؟ براعت کا کیا معنی؟ اونچا ہونا، اور استہلال کا کیا معنی؟ آغاز، یعنی اس کتاب کا آغاز ہی بڑے اونچے درجے کا ہے، کر اللہ کی تعریف رہا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم پہ درود بھیج رہا ہے، اب، لیکن ایسے ایسے لفظ ذکر کر رہا ہے جس سے آگے کتاب کی طرف کیا ہو رہا ہے؟ اشارہ ہو رہا ہے۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ براعتِ استہلال، یعنی کتاب کے آغاز کا ہی اونچے درجے والا ہونا، اعلیٰ ہونا۔
بات سمجھ آ رہی ہے؟ اس کو کہتے ہیں براعتِ استہلال، تو یہاں تو بہرحال براعتِ استہلال نہیں مراد،
البتہ براعت یہاں صرف مناسبت کے معنی میں ہے۔
کس معنی میں ہے؟ ابھی آگے لفظ آئے گا، ابھی وہاں تفصیل پھر کر دوں گا ذکر، یہاں براعت کا لفظ آئے گا مناسبت کے معنی میں، یعنی یہ کتاب کے خطبے میں دیکھو کیا لفظ لائے؟ سواء الطريق، اور سواء الطريق سے اگر سیدھا راستہ صرف کس کا مراد لیں؟ دین کا، تو اس کتاب کے صرف ایک حصے کی طرف اشارہ ہے، اور اگر کیا سیدھا راستہ ہر چیز میں لیں، تو پھر کتاب کے دونوں حصوں کی طرف اشارہ ہو جائے گا، اور بہتر کیا ہے؟ کہ اس کی مناسبت ایک حصے کے ساتھ ہونی چاہیے یا دونوں کے ساتھ؟ دونوں کے ساتھ مناسبت ہونے کے، ہونی چاہیے، اور لہٰذا اس سے عام معنی رکھیں کہ دینی اعتبار سے بھی سیدھے راستے اللہ نے، سیدھے راستے پر ہمیں چلایا، اور دنیاوی اعتبار سے بھی، دنیاوی اور چیزوں کے، یعنی منطق وغیرہ اور چیزوں میں بھی اللہ نے ہمیں سیدھا راستہ نصیب فرمایا۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ براعتِ استہلال تو نہیں، براعتِ استہلال تو میں نے بتایا، ایسے لفظ لانا جس سے کیا ہو جائے؟ آگے آنے والے مقصود کی طرف اشارہ ہو جائے، تو یہاں صرف مناسبت مراد ہے، کیا مراد ہے؟
اب آگے دیکھیے شرح میں بھئی: ثم المراد به إما نفس الأمر عموماً أو خصوص ملة الإسلام، پھر اس سواء الطريق کے ذریعے مراد جو ہے، کس کے ذریعے؟ سواء الطريق، اس کے ذریعے مراد جو ہے، إما نفس الأمر عموماً، نفس الأمر کہتے ہیں واقع میں۔
یا تو نفس الأمر عموماً، عام نفس الأمر مراد ہے۔
کیا مراد ہے؟ نفس الأمر عمومی طور پر مراد ہے، یعنی واقع میں جو بھی چیز سیدھی ہے۔
اس میں دین، سیدھا دین بھی آ گیا، اور دنیاوی سیدھی چیزیں بھی آ گئیں۔ تو نفس الأمر، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ ایک یہ ہے کہ ہم اس سے کیا مراد دیں؟ صرف دینِ اسلام مراد دیں، ایک یہ ہے کہ نفس الأمر میں ہر چیز اس سے مراد لے لیں، اور اس میں دین بھی آ گیا، اور دین کے علاوہ چیزیں بھی آ گئیں۔
تو نفس الأمر کا کیا معنی؟ واقع میں، واقع میں۔
ثم المراد به إما نفس الأمر عموماً أو خصوص ملة الإسلام، پھر اس سواء الطريق کے ذریعے مراد جو ہے، یا تو نفس الأمر ہے عمومی طور پر، یعنی عام ہے۔
دنیاوی اور دینی ہر اعتبار سے، نفس الأمر میں جو بھی چیزیں ہیں، وہ سب اس میں آ گئیں۔ دینِ اسلام بھی آ گیا، اور دین کے علاوہ چیزیں بھی آ گئیں۔
تو یا تو اس کے ذریعے مراد نفس الأمر ہے عام عمومی طور پر، یعنی تمام چیزیں واقع کے اندر جو بھی چیزیں ہیں، أو خصوص ملة الإسلام یا خاص طور پر ملتِ اسلام، ملت کا معنی ہے دین، یا خصوصاً دینِ اسلام مراد ہے۔
تو دونوں احتمال ہیں، یا تو اس کے ذریعے کیا مراد؟
خاص طور پر دینِ اسلام، یا
نفس الأمر میں جو بھی چیز ہے، سب اس سے مراد ہیں۔
والأول أولى، اور پہلے معنی، پھر پہلی مراد کیا ہے؟ أولى ہے، بہتر ہے، لحصول البراعة، اس لیے کیونکہ براعت، یعنی مناسبت حاصل ہو جاتی ہے، الظاهرة ظاہری طور پر۔
ظاہری مناسبت حاصل ہو جاتی ہے، یعنی کتاب کے
توجہ ہے؟
والأول أولى، اور پہلا مراد جو ہے وہ اولٰی ہے، پہلا معنی مراد لیں وہ اولٰی ہے، لحصول البراعة الظاهرة، اس لیے کیونکہ ظاہری براعت، یعنی مناسبت حاصل ہو جاتی ہے، بالقياس إلى قسمي الكتاب، اصل میں تھا إلى قسمين،
تثنیہ ہے۔
نون اضافت کی وجہ سے گر گیا، تو یہ، تو اس صورت میں ظاہری براعت حاصل ہو جاتی ہے،
ظاہری براعت، براعت یہاں مناسبت کے معنی میں کر لیں۔
ظاہری مناسبت حاصل ہو جاتی ہے، بالقياس إلى قسمي الكتاب کتاب کی دونوں قسموں کی، کتاب کی دونوں قسموں کے اعتبار سے
مناسبت حاصل
کتاب کی دونوں قسموں کے اعتبار سے کیا حاصل ہو جاتی ہے؟
دوبارہ دیکھیں ترجمہ بھئی: والأول أولى، اور پہلا معنی اولٰی ہے، لحصول البراعة الظاهرة، اس لیے کیونکہ ظاہری براعت حاصل ہو جاتی ہے، بالقياس إلى قسمي الكتاب، کتاب کی دونوں قسموں کے اعتبار سے۔
کتاب کی دونوں قسموں کے اعتبار سے کیا حاصل ہو جاتی ہے؟
مناسبت۔ کب؟ جبکہ سواء الطريق سے کیا مراد لیا جائے؟
نفس الأمر مراد لیا جائے، عموم کے اعتبار سے، یعنی عام رکھتے ہوئے۔
عام رکھتے ہوئے۔
یہ چلیں پھر دیکھ لیں، لفظی ترجمہ پھر سن لیں: ثم المراد به إما نفس الأمر عموماً أو خصوص ملة الإسلام، پھر سواء الطريق سے مراد جو ہے، یا تو نفس الأمر ہے عمومی طور پر، کیا مراد ہے؟ یعنی دین نہیں مراد صرف، بلکہ نفس الأمر مراد ہے، اس میں سب کچھ آ گیا۔ یا تو اس سے نفس الأمر عمومی طور پر مراد ہے، یعنی عام رکھتے ہوئے اس کو، أو خصوص ملة الإسلام، یا اس سے خاص طور پر دینِ اسلام مراد ہے، والأول أولى، اور پہلا معنی اولٰی ہے، لحصول البراعة الظاهرة بالقياس إلى قسمي الكتاب، تاکہ ظاہری براعت حاصل ہو جائے، یعنی ظاہری مناسبت کیا ہو جائے؟ حاصل ہو جائے، بالقياس إلى قسمي الكتاب، کتاب کی دونوں قسموں کے اعتبار سے۔
کتاب کی دونوں قسموں کے اعتبار سے کیا حاصل ہو جائے؟
براعتِ ظاہری حاصل ہو جائے۔
تو براعت یا چاہے مناسبت کے معنی میں کر لیں، اور جبکہ بعضوں نے براعت کو براعتِ استہلال ہی مراد دیا ہے، تو اس صورت میں بھی براعتِ استہلال ہوگا، اگر ایک کی طرف اشارہ لیں، تو ایک کے اعتبار سے براعتِ استہلال ہے، اور دونوں کی طرف لیں، تو دونوں کے اعتبار سے کیا ہو جائے گی؟ براعتِ استہلال ہو جائے گی، تو جو بھی آپ کو مناسب لگے۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ حاصلِ کلام پھر سن لو آخر میں۔
آج ہم نے متن میں سواء الطريق لفظ آیا تھا، اس کے بارے میں پڑھا۔
بعض شارحین نے اس سواء الطريق کا معنی کیا ہے طريق مستوي اور صراط مستقیم، مصنف نے بتلایا کہ اس کا معنی طريق مستوي، یعنی سیدھا راستہ نہیں ہے، بلکہ سواء الطريق کا معنی ہے وسط الطريق، یعنی درمیانہ راستہ جو یہ منزل تک یقینی طور پر پہنچا دیتا ہے۔
اور لیکن مراد اس سے سیدھا راستہ ہے۔
اور یہ کنایہ ہے، یعنی وسط الطريق بول کر کیا مراد ہے؟ طريق مستوي، تو یہ کنایہ ہے، ملزوم بول کر کس کا ارادہ کیا؟ لازم کا، کیونکہ وسط الطريق کے ساتھ لازم ہے راستے کا سیدھا ہونا، اور سیدھا راستہ ہو، تو اس کے ساتھ لازم ہے وہ کون سا ہوگا؟ درمیان۔ تو یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم ہیں، تو اس لیے ایک بول کر دوسرے کا سے کنایہ کر لیا، تو ذکر تو وسط الطريق ہے، اور مراد کیا ہے؟ سواء الطريق ہے، اور جو دیگر شارحین نے جنہوں نے اس کا معنی طريق مستوي کیا ہے یا صراط مستقیم کیا ہے، ان کو بھی غلط نہ کہیں، کیونکہ انہوں نے کوئی لغوی معنی ذکر نہیں کیا، بلکہ انہوں نے اس کا مرادی معنی ذکر کیا ہے، اور مرادی معنی ہم بھی یہی بیان کر رہے ہیں کہ اس کا مرادی معنی کیا ہے؟ طريق مستوي ہے۔
پھر اس کے بعد انہوں نے یہ ذکر کیا کہ سواء الطريق سیدھا راستہ، کیا صرف دین کے اعتبار سے سیدھا راستہ مراد ہے؟ یا نفس الأمر کے میں ہر چیز کے اعتبار سے کیا ہے؟ سیدھا راستہ، تو بتلایا کہ دونوں کے، نفس الأمر کے اعتبار سے سیدھا راستہ مراد لیں، یہ اولٰی ہے، بہتر ہے، کیونکہ اس صورت میں کتاب کی دونوں قسموں کے ساتھ اس خطبے کی مناسبت ہو جائے گی۔
ورنہ تو صرف ایک حصے کے ساتھ مناسبت رہے گی، تو اور بہتر کیا ہے کہ دونوں حصوں سے مناسبت ہو یا ایک حصے سے؟ دونوں سے مناسبت ہونی چاہیے۔ یا براعت سے براعتِ استہلال والا معنی ہی بے شک آپ مراد لے لیں کہ کتاب کے دونوں حصوں کے اعتبار سے یہ براعتِ استہلال ہو جائے گا بھئی۔
اچھا بھئی، یہ جو ہے نا نفس الأمر عموماً، نفس الأمر کا معنی ہے واقع میں۔
سیدھے راستے سے یا تو سیدھا راستہ صرف کس میں لیں؟
دین کے اعتبار سے، یا واقع کے اعتبار سے سیدھا راستہ، اور واقع میں
تو دین ہے، اور دین کے علاوہ اور چیزیں بھی ہیں یا نہیں دنیا میں؟ جی، تو جب نفس الأمر کہا، واقع میں جو کچھ بھی ہے، ان سب میں اللہ نے ہمیں سیدھا راستہ دکھایا، تو اس میں صرف دین آیا یا باقی سب چیزیں بھی آ گئیں؟
باقی سب، کیونکہ نفس الأمر میں صرف دین تو نہیں ہے، دنیاوی چیزیں بھی ہیں ساری، تو اگر آپ اس سے سواء الطريق سے سیدھا راستہ یا تو صرف کیا مراد لے سکتے ہیں؟
صرف دینی اعتبار سے، تو پھر اشارہ صرف کس کی طرف ہوگا؟
علمِ کلام کی طرف، جو ایک قسم ہے، وہ جو اس تہذیب کا ایک حصہ ہے صرف اس کی طرف اشارہ، اور اگر آپ اس سے کیا مراد لیں؟ نفس الأمر، واقع کے اعتبار سے، یعنی جو کچھ ہے، ہر چیز میں اللہ نے ہمیں سیدھا راستہ دکھایا، تو اس میں دین کے علاوہ اور چیزیں بھی آ گئیں، دین بھی آ گیا، اور دین کے علاوہ اور بھی سب چیزیں آ گئیں، منطق بھی آ گئی۔
اور اس کتاب کے دو حصے، ایک منطق اور ایک علمِ کلام، تو دونوں آ گئے یا نہیں آ گئے؟ تو اس صورت میں اگر آپ اس سے نفس الأمر عمومی طور پر مراد لیں، پھر منطق اور منطق اور علمِ کلام دونوں کی طرف اشارہ بن جائے گا۔
اور اگر صرف اس سے دینی اعتبار سے سیدھا راستہ مراد لیں، تو صرف اس میں پھر کس کی طرف اشارہ بنے گا؟
علمِ کلام کی طرف اشارہ بنے گا، اور کیا اولٰی ہے؟
کہ دونوں کی طرف اشارہ بنایا جائے، تو اس کو عام رکھا جائے بھئی، نفس الأمر کے اعتبار سے جو کچھ ہے، سب میں اللہ نے ہمیں سیدھا راستہ دکھایا، چاہے وہ دین کا ہو یا دین کے علاوہ اور دنیاوی چیزیں ہو بھئی۔
چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔