Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح التهذيب · dars-013

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Noman Ahmad
📍 Location Peshawar, Pakistan
📅 Approved Date 04 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 13
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
دیکھیے بھئی، کتاب پر آگے سبق۔ قوله الذي هدانا، الهداية قيل هي الدلالة الموصلة، أي الإيصال إلى المطلوب. وقيل هي إراءة الطريق الموصل إلى المطلوب. والفرق بين هذين المعنيين، أن الأول يستلزم الوصول إلى المطلوب، بخلاف الثاني. فإن الدلالة على ما يوصل إلى المطلوب، لا تلزم أن تكون موصلة إلى ما يوصل، فكيف توصل إلى المطلوب؟ دیکھیے متن بھئی اوپر۔ متن میں آیا تھا: الحمد لله الذي هدانا سواء الطريق. تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جس نے چلایا ہمیں سیدھے راستے پر۔ یوں کہیں، جس نے ہمیں ہدایت دی سیدھے راستے کی۔ تو متن میں آیا تھا ہدایت کا لفظ، تو شارح اب اس کی تشریح کریں گے۔ تو شرح میں دیکھیے، شارح فرماتے ہیں: قوله الذي هدانا، کہ مصنف کا قول الذي هدانا۔ اب اس میں هدانا، یہ ہدایت سے ہے، تو اب اس کا معنی بیان کرنے لگے ہیں۔ بئی، پہلے اس کو سمجھ لیں، ادھر دیکھیے بھئی۔ ہدایت کا معنی ہے رہنمائی کرنا، دلالت کرنا۔ رہنمائی کرنا۔ تو بعض علماء فرماتے ہیں کہ ہدایت کا معنی ہے ایسی دلالت جو مطلوب تک پہنچا دے۔ یعنی یوں کہو، إيصال إلى المطلوب ہے۔ اس کا معنی کیا ہے؟ إيصال إلى المطلوب۔ جبکہ علماء کا دوسرا گروہ کہتا ہے کہ ہدایت کا معنی ہے إراءة الطريق، یعنی راستہ دکھانا ਜੋ کہ مطلوب تک پہنچانے والا ہو۔ مثلاً دیکھیے، مثال سے خوب اچھی طرح وضاحت ہوگی۔ آپ سے کسی آدمی نے پوچھا کہ میں فلاں مسجد جانا چاہتا ہوں، آپ میری رہنمائی فرمائیں۔ تو ایک صورت یہ ہے کہ آپ اس آدمی کا ہاتھ تھامتے ہیں، اس کو لے کر چل پڑتے ہیں اور سیدھا اس کو مسجد لے جا کر پہنچا دیتے ہیں۔ تو دیکھو، آپ نے رہنمائی کی اور کیسی رہنمائی کہ اس کے مطلوب اور مقصود تک اسے پہنچا دیا۔ یہ ہے إيصال إلى المطلوب۔ کیا ہے؟ أَوْصَلَ يُوْصِلُ إيصال کا معنی ہے پہنچانا۔ تو جس چیز کے بارے میں وہ پوچھ رہا تھا، آپ نے عین اس چیز تک اس کو پہنچا دیا۔ تو یہ ہے إيصال إلى المطلوب۔ اور ایک معنی ہے دلالت کا إراءة الطريق بھئی۔ إراءة الطريق کا معنی ہے راستہ دکھانا۔ أَرَى يُرِي إراءة کا کیا معنی ہے؟ راستہ دکھانا۔ أَرَى يُرِي إراءة کا معنی ہے دکھانا، تو إراءة الطريق، طريق راستے کو کہتے ہیں۔ إراءة الطريق راستہ دکھانا، وہ راستہ الموصل إلى المطلوب جو تو کہاں تک پہنچتا ہو؟ مطلوب تک۔ تو دیکھو، پہلے علماء فرماتے ہیں کہ دلالت کا معنی ہے إيصال إلى المطلوب، مطلوب تک پہنچا دینا۔ جبکہ علماء کا دوسرا گروہ کہتا ہے کہ دلالت کا معنی ہے إراءة الطريق۔ إراءة الطريق، مثلاً کسی نے آپ سے پوچھا مسجد کہاں ہے فلاں مسجد؟ آپ نے اس کو وہیں سے کھڑے کھڑے اشارہ کر کے بتایا کہ وہ سامنے جو سڑک ہے، اس سڑک پر آپ سیدھا چلیں تو آپ اس مسجد تک پہنچ جائیں گے۔ آپ اس مسجد تک پہنچ جائیں گے۔ دیکھو، اس میں آپ نے اس کو مسجد تک نہیں پہنچایا، بلکہ آپ نے اس راستے تک بھی نہیں پہنچایا جو مسجد کی طرف جا رہا ہے۔ آپ نے دور سے وہ راستہ دکھا دیا کہ یہ راستہ ہے، یہ کہاں تک جاتا ہے؟ مسجد تک۔ تو دیکھا، یہ ہے إراءة الطريق، راستہ دکھانا۔ الطريق، وہ راستہ، الموصل إلى المطلوب جو کہاں تک پہنچانے والا ہے؟ مطلوب اور مقصود تک پہنچانے والا۔ تو ہدایت کا ایک معنی کیا ہوا؟ إيصال إلى المطلوب، مطلوب تک پہنچا دینا۔ اور ایک معنی کیا ہوا؟ إراءة الطريق کہ وہ راستہ دکھا دینا جو مطلوب تک پہنچانے والا ہو۔ تو اب دونوں میں فرق کیا ہوا؟ کہ ایک میں جس کو، جس کی رہنمائی کی وہ اپنے مطلوب تک پہنچ گیا۔ جب آپ اس کو ہاتھ سے تھام کر لے کر گئے مسجد تک، تو مطلوب تک پہنچ گیا یا نہیں پہنچ گیا؟ جی، پہنچ گیا۔ وہ اس تک مطلوب تک پہنچ گیا، جبکہ دوسرے معنی کے مطابق مطلوب تک تو چھوڑو، وہ جو راستہ جو آپ نے دکھایا ہے، پتہ نہیں یہ اس تک بھی پہنچتا ہے یا نہیں؟ آپ نے تو اس کو کہا وہ سامنے جو سڑک ہے وہ جا رہی ہے مسجد تک، یہ آپ کے سامنے چل پڑا۔ اگر یہ اسی سڑک تک پہنچ گیا پھر تو چلیں وہ سڑک تک پہنچ گیا، پھر سڑک پہنچا دے گی اس کو، لیکن ہو سکتا ہے وہ اس سے پچھلی سڑک پر ہی مڑ جائے، یا اس سے اگلی سڑک کی طرف چلا جائے؟ تو اس دوسرے معنی میں، إراءة الطريق میں اس راستے تک پہنچنا بھی ضروری نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے اس راستے تک پہنچے، ہو سکتا ہے اس راستے تک بھی نہ پہنچے۔ جب راستے تک ہی نہیں پہنچنا ضروری، تو منزل تک پہنچنا ضروری ہے اس میں؟ نہیں، پہلے میں کیا تھا؟ منزل تک پہنچنا ضروری ہے، کیونکہ اس میں آپ باقاعدہ ہاتھ تھام کر آپ نے مسجد تک پہنچا دیا، منزل تک پہنچا دیا۔ تو اس میں منزل تک پہنچنا ضروری، اور اس دوسرے میں منزل تو چھوڑو، اس راستے تک بھی پہنچنا ضروری نہیں ہے جو کہاں تک لے جانے والا ہے؟ منزل تک بھئی۔ فرق سمجھ آیا کہ نہیں آیا؟ کیا؟ پہلا معنی کیا ہے؟ إيصال إلى المطلوب۔ دوسرا کیا ہے؟ إراءة الطريق۔ إيصال إلى المطلوب میں منزل تک پہنچنا لازمی ہے، ضروری ہے، وہ منزل تک پہنچے گا۔ اور دوسرے میں منزل تک نہیں پہنچنا، منزل تک پہنچنا ضروری نہیں، بلکہ منزل تو چھوڑو، اس راستے تک بھی پہنچنا ضروری نہیں ہے، پتہ نہیں وہ اسی راستے تک پہنچتا بھی ہے یا اس سے اگلی یا پچھلے راستے پر ہی مڑ جاتا ہے؟ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ دونوں میں فرق ہے بھئی۔ اب دیکھیے کتاب پر۔ کہتے ہیں: الهداية، کہ ہدایت جو ہے، قيل، کہا گیا ہے، هي الدلالة الموصلة، یہ ایسی، یہ وہ دلالت ہے الموصلة جو پہنچانے والی ہو۔ یہ وہ دلالت ہے جو دلالت تو جانتے ہیں نا؟ دلالت کسے کہتے ہیں؟ کہ ایک چیز ایسی ہو کہ اس سے آپ کو دوسری چیز کا علم ہو جائے، تو اس کو دلالت کہتے ہیں۔ جیسے آسان مثال میں ہمیشہ ذکر کرتا ہوں، آپ نے کمرے میں دھوپ دیکھی، اس دھوپ نے آپ کو کس چیز کی خبر دے دی؟ کہ باہر سورج نکل آیا ہے۔ تو دیکھو، دیکھا آپ نے دھوپ کو اور پتہ آپ کو چلا سورج کا، ایک چیز نے خبر دی آپ کو دوسری چیز کی، اس کو دلالت کہتے ہیں۔ یا جیسے آپ نے باہر آواز سنی گاڑی کی، تو آپ کو پتہ چل گیا کہ گاڑی آ گئی ہے۔ تو دیکھو، یہ آواز نے دلالت کی کس پر؟ گاڑی پر۔ تو دلالت اسے کہتے ہیں کہ ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ چلے۔ تو یہاں پر بھی کہہ رہے ہیں، ہدایت جو ہے، هي الدلالة الموصلة، وہ ایسی دلالت ہے الموصلة جو پہنچانے والی ہے، یعنی منزل تک پہنچانے والی ہے۔ أي الإيصال إلى المطلوب، یعنی مطلوب تک پہنچانا۔ بھئی، وہ ایسی دلالت جو منزل تک پہنچانے والی ہو۔ توجہ ہے؟ جب کوئی ایسی رہنمائی، ایسی رہنمائی کرے جو منزل تک پہنچانے والی ہے، تو منزل تک پہنچنا لازمی ہوگا یا نہیں؟ جی، ہوگا۔ ہاں، جب یہ اگر پہنچتا ہی نہیں ہے، تو پھر تو یہ دلالت پہنچانے والی ہی نہیں ہے۔ جب دلالت ہی ایسی ہے جو کہاں تک پہنچانے والی ہے؟ منزل تک، تو منزل تک پہنچنا اس کے ساتھ لازم۔ جب وہ اس کے ساتھ لازم ہے، اسی لیے اس کا معنی لازم کے ساتھ کر دیا: أي الإيصال إلى المطلوب۔ ہدایت کا کیا معنی کر دیا پہلے گروہ کے مطابق؟ پہلے گروہ والے تو کہتے ہیں نا، اس کا معنی ہے الدلالة الموصلة، ایسی دلالت جو پہنچا کہاں تک؟ منزل تک۔ جب ایسی دلالت آپ کریں گے جو منزل تک پہنچانے والی، تو اس کے ساتھ لازم، کیا؟ منزل تک تو پہنچے گا وہ۔ منزل تک پہنچے گا تو یہ ایسی دلالت ہوئی نا، منزل تک نہ پہنچائے، یہ تو ایسی دلالت ہی نہ ہوئی جو منزل تک پہنچانے والی ہو۔ تو یہ الدلالة الموصلة اس کے ساتھ لازم ہے، کیا؟ إيصال إلى المطلوب لازم ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے کہ مشکل ہو گئی؟ الدلالة الموصلة، ایسی دلالت جو منزل تک پہنچانے والی۔ جب یہ دلالت ایسی ہے جو منزل تک پہنچانے والی ہے، تو اس کے ساتھ کیا لازم؟ منزل تک پہنچنا بھی لازم۔ تو وہ جب، تو لازم کے ساتھ ہی، جب منزل تک پہنچنا لازم ہے، تو اسی کے ساتھ اس کا معنی کر دیا کہ ہدایت کا معنی ہی کیا ہے؟ إيصال إلى المطلوب، مطلوب تک پہنچانا۔ اصل میں تو یہ ہے پہنچانے والی دلالت، لیکن معنی کیا کر دیا؟ إيصال إلى المطلوب، مطلوب تک پہنچانا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ لازم ہے اس کے ساتھ، اسی کے ساتھ اس کا معنی کر دیا، کیونکہ جب بھی دلالت موصلہ پائی جائے گی، إيصال إلى المطلوب ضرور پایا جائے گا۔ پھر توجہ کرو، جب بھی دلالت موصلہ پائی جائے گی، إيصال إلى المطلوب ضرور، اگر إيصال إلى المطلوب نہ ہوا، تو دلالت موصلہ ہوئی؟ نہیں، پھر تو دلالت موصلہ ہی نہ ہوئی، تو دلالت موصلہ کے ساتھ کیا لازم؟ إيصال إلى المطلوب اس کے ساتھ لازم ہے۔ جیسے سورج کے ساتھ دھوپ لازم ہے، سورج نکلے گا تو دھوپ ضرور ہوگی، یہ نہیں ہو سکتا کہ سورج نکلے اور دھوپ نہ ہو۔ تو لہٰذا، جب بھی دلالت موصلہ ہوگی، کیا لازم؟ إيصال إلى المطلوب لازم ہے۔ اصل معنی تو ہے ہدایت کا، یہ علماء جو بیان کرتے ہیں، دلالت موصلہ، لیکن اس دلالت موصلہ کے ساتھ کیا لازم؟ إيصال المطلوب بھی لازم ہے، تو اسی کے ساتھ ترجمہ کر دیا، کہہ دیا: أي، یعنی کہ أي الإيصال إلى المطلوب، کہ اس ہدایت کا پہلے علماء نے کیا معنی بیان کیا ہے؟ إيصال إلى المطلوب، مطلوب تک پہنچانا بھئی۔ اب بات فرق، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ دوبارہ دیکھیے، کہتے ہیں: الهداية، ہدایت جو ہے، قيل، کہا گیا ہے، هي الدلالة الموصلة، وہ دلالت ہے جو منزل تک پہنچانے والی ہو، أي الإيصال إلى المطلوب، یعنی مطلوب تک پہنچانا۔ وقيل، اور کہا گیا ہے، دوسرا گروہ علماء کا، وہ فرماتے ہیں: هي، هي ضمیر ہدایت کو راجع ہے دونوں جگہ۔ هي، کہ ہدایت جو ہے، إراءة الطريق، یہ وہ راستہ دکھانا ہے۔ الطريق معرفہ ہے نا، وہ راستہ، الموصل إلى المطلوب، جو پہنچانے والا ہو کہاں تک؟ مطلوب۔ هي إراءة الطريق الموصل إلى المطلوب، کہ یہ وہ راستہ دکھانا ہے جو پہنچانے والا ہو مطلوب تک۔ والفرق بين هذين المعنيين، اور فرق ان دو باتوں میں یہ ہے، أن الأول، کہ پہلا معنی جو ہے، کون سا؟ إيصال إلى المطلوب۔ یہ دو معنی آپ نے اسی طرح ذکر کرنے ہیں۔ پہلا معنی ہے إيصال إلى المطلوب اور دوسرا معنی ہے إراءة الطريق۔ إيصال إلى المطلوب میں مطلوب تک پہنچ جاتا ہے انسان، اور إراءة الطريق میں مقصود اور منزل تک پہنچنا ضروری نہیں۔ یہی بیان کریں گے۔ کہتے ہیں: والفرق بين هذين المعنيين، اور فرق ان دو باتوں میں یہ ہے، أن الأول، کہ پہلا معنی، کون سا پہلا معنی؟ إيصال إلى المطلوب۔ يستلزم، اس کے ساتھ لازم ہے، الوصول إلى المطلوب، مطلوب تک پہنچنا۔ پہلے کے ساتھ لازم ہے مطلوب تک پہنچنا، بخلاف الثاني، برخلاف معنی ثانی کے، کہ اس میں مطلوب تک پہنچنا ضروری نہیں۔ فإن الدلالة، اس لیے کیونکہ دلالت کرنا، على ما، یہ علی ما، یہ جو ما آ رہا ہے نا ما، اس سے مراد ہے راستہ، الطريق بھئی۔ ما سے کیا مراد ہے؟ راستہ، طريق۔ نیچے لکھا بھی ہوا ہے: أي الطريق بھئی۔ اسی طرح دیکھیے، آگے بھی ایک آ رہا ہے: إلى ما يوصل، آ رہا ہے؟ مل گیا بھئی؟ یہ ایک اور ما بھی آ رہا ہے، اس سے بھی مراد ہے الطريق، یعنی راستہ۔ لہٰذا اس ما کی جگہ میں ترجمہ کرتے ہوئے راستہ کا لفظ بول، راستے کا لفظ بولوں گا، ٹھیک ہے؟ بخلاف الثاني، برخلاف دوسرے معنی کے، یعنی إراءة الطريق کے۔ فإن الدلالة، اس لیے کیونکہ دلالت کرنا، على ما، اس راستے پر، يوصل إلى المطلوب، جو کہاں تک پہنچانے والا ہے؟ مطلوب تک۔ میں نے آپ کو دور سے راستہ دکھا دیا، تو میں نے دلالت کر دی اس راستے پر جو کہاں تک پہنچانے والا ہے؟ مطلوب تک۔ تو اس میں کیا آپ کا منزل تک پہنچنا ضروری ہے؟ نہیں، بلکہ اس میں تو اس راستے تک بھی پہنچنا ضروری نہیں ہے، کیونکہ میں نے آپ کو دور سے دکھایا ہے، ہو سکتا ہے آپ اسی راستے تک پہنچ جائیں، ہو سکتا ہے اس سے آگے نکل جائیں، ہو سکتا ہے اس سے پیچھے ہی آپ مڑ جائیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اس لیے کیونکہ دلالت کرنا، على ما، اس راستے پر، يوصل إلى المطلوب، جو مطلوب تک پہنچانے والا ہے، لا تلزم، اس کے ساتھ لازم نہیں ہے، أن تكون موصلة، کہ یہ دلالت کیا ہو؟ پہنچانے والی ہو۔ اس کے ساتھ لازم نہیں ہے کہ یہ دلالت پہنچانے والی ہو، إلى ما يوصل، اس راستے تک جو پہنچانے والا ہے۔ اس دلالت میں اس راستے تک پہنچنا بھی ضروری نہیں، فكيف توصل إلى المطلوب؟ تو یہ مطلوب تک کیسے پہنچا سکتی ہے؟ یعنی اس کے تک پہنچانا کیسے ضروری ہو سکتا ہے؟ جی، تو دلالت کے دو معنی بیان ہوئے، ایک کیا؟ إيصال إلى المطلوب، اور اس میں منزل تک پہنچنا ضروری، منزل تک پہنچنا لازم۔ اور دوسرا کیا ہے؟ إراءة الطريق، اس میں منزل تک پہنچنا ضروری نہیں، لازم نہیں۔ اب کہتے ہیں کہ دونوں معانی پر اعتراض ہوتے ہیں۔ قرآن میں ہدایت کا لفظ آتا ہے جگہ جگہ، بعض جگہ اگر ہم ہدایت کا پہلا معنی کریں تو ٹھیک ہوتا ہے، دوسرا کریں تو وہ ٹھیک نہیں ہوتا۔ اور بعض جگہ ہے، وہ دوسرا معنی ٹھیک ہوتا ہے اور پہلا معنی ٹھیک نہیں رہتا۔ تو یوں، تو آسان لفظوں میں یوں کہو، بعض جگہ پہلے مع، بھئی علماء کے دو گروہ ہیں نا، بعضوں نے ایک معنی بیان کیا، بعضوں نے دوسرا۔ تو بعض جگہ جہاں دوسرا معنی ٹھیک ہوتا ہے اور پہلا ٹھیک نہیں، پہلا معنی ٹھیک نہیں، تو وہاں پہلے گروہ پر اعتراض ہوتا ہے کہ آپ نے تو کہا تھا دلالت کا معنی کیا ہے؟ إيصال إلى المطلوب، یہاں إيصال إلى المطلوب بنتا ہی نہیں ہے، یہاں تو إراءة الطريق بن رہا ہے۔ اور بعض جگہ ایسی ہیں جہاں پر معنی کون سا بنتا ہے؟ إيصال إلى المطلوب بن رہا ہے، تو وہ پھر دوسرے گروہ پر اعتراض ہوتا ہے کہ آپ نے تو معنی بیان کیا تھا کیا؟ إراءة الطريق، یہاں تو إراءة الطريق نہیں بن رہا ہے، یہاں تو کیا بن رہا ہے؟ إيصال إلى المطلوب بن رہا ہے۔ تو دونوں گروہوں پر یوں کہیں، دونوں معانی پر اعتراض ہوتا ہے۔ بعض جگہ پہلا معنی ٹھیک نہیں بنتا، بعض جگہ دوسرا معنی ٹھیک نہیں بنتا۔ والأول منقوض، اور پہلا معنی جو ہے، منقوض، اس پر اعتراض کیا گیا ہے۔ نقض کہتے ہیں اعتراض کو، نقض کسے کہتے ہیں؟ اعتراض۔ نقض کا ویسے معنی ہے توڑنا، توڑنا، تو منقوض جس کو توڑا گیا۔ والأول منقوض، تو پہلا معنی کیا ہے؟ اس کو توڑا گیا ہے، یعنی اس پر اعتراض کیا گیا ہے، کیونکہ اعتراض میں بھی یہی ہوتا ہے نا کہ آپ مخالف کی بات کو کیا کرتے ہیں؟ رد کرتے ہیں اس۔ والأول منقوض، اور پہلے معنی پر اعتراض کیا گیا ہے، بقوله تعالى، اللہ تعالی کے اس قول کے ساتھ: وأما ثمود فهديناهم فاستحبوا العمى على الهدى. تو قوم ثمود جو ہے، قوم ثمود آپ جانتے ہیں حضرت صالح علیہ السلام کی قوم، تو قوم ثمود جو ہے، اللہ فرما رہے ہیں، تو قوم ثمود جو ہے، فهديناهم، ہم نے ان کو ہدایت دی، فاستحبوا العمى، تو انہوں نے پسند کیا عمى، اندھے پن کو، یعنی گمراہی کو۔ گمراہی کو کس کے ساتھ تعبیر کیا گیا؟ اندھے پن کے ساتھ، اندھا ہونا۔ تو انہوں نے پسند کیا اندھے پن کو، على الهدى، ہدایت، یعنی ایمان پر، سیدھے راستے پر۔ کس کو پسند، ترجیح دی؟ کس کو پسند کیا؟ گمراہی کو۔ اللہ فرما رہے ہیں کہ ہم نے قوم ثمود کو ہدایت دی، فهديناهم، ہم نے ان کو ہدایت دی، فاستحبوا العمى، تو انہوں نے اندھے پن کو، عمى کا کیا معنی؟ اندھا پن، اندھا ہونا، تو انہوں نے اندھے پن، یعنی گمراہی کو پسند کیا، على الهدى، کس کے مقابلے میں؟ ہدایت کے مقابلے میں انہوں نے اندھے پن کو، یعنی گمراہی کو پسند کیا اور گمراہی پر رہے بھئی۔ تو یہاں اشکال ہوتا ہے کہ اللہ فرما رہے ہیں: فهديناهم، ہم نے ان کو ہدایت دی۔ یہاں اب پہلا معنی اگر کیا جائے، إيصال إلى المطلوب، تو بات درست نہیں بنتی بھئی۔ معنی یہ ہو جائے گا، اللہ فرما رہے ہیں، قوم ثمود کو ہم نے مطلوب تک، یعنی ایمان تک پہنچا دیا تھا، کہاں تک؟ ایمان تک پہنچا دیا تھا، سیدھے راستے تک پہنچا دیا تھا، اور پھر انہوں نے کیا کیا؟ کس کو پسند کیا؟ اندھے، یعنی گمراہی کو پسند کیا ہدایت کے مقابلے میں۔ اور یہ معنی یہاں درست نہیں بنتا بھئی، کیونکہ ایمان تو ایک ایسی عظیم چیز ہے، جب یہ دل کے اندر اتر جائے، پھر انسان کے چاہے ٹکڑے ٹکڑے بھی کر دیے جائیں، وہ اس سیدھے راستے کو کبھی نہیں چھوڑتا۔ اور پھر قوم ثمود کی بات ہو رہی ہے، قوم ثمود کی، اور قوم ثمود تفاسیر اور تاریخ کی کتابوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ایمان نہیں لائے تھے بھئی، ایمان نہیں، تو یہاں یہ معنی کیا ہی نہیں جا سکتا کہ ہم نے ان کو مقصود تک، یعنی ایمان تک پہنچا دیا تھا، یعنی وہ ایمان لے آئے تھے، پھر انہوں نے کیا کیا، ایمان کے بعد دوبارہ کس کو اختیار کیا؟ گمراہی کو اختیار کیا۔ تو معنی یہ بن جائے گا، پہلے وہ ایمان لے آئے اور پھر کس طرف چلے گئے؟ گمراہی کی طرف، کیونکہ کون سا معنی کر رہے ہیں ہدایت کا؟ إيصال إلى المطلوب۔ إيصال إلى المطلوب کا کیا معنی؟ مطلوب اور مقصود تک پہنچا دینا، اور مطلوب اور مقصود کیا تھا؟ انبیاء کو کس لیے بھیجا گیا تھا ان کی طرف؟ کہ وہ ایمان تک پہنچ جائیں، سیدھے راستے پر آ جائیں، تو اور ایک دفعہ سیدھے راستے پر آنے کے بعد پھر گمراہی کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کیونکہ میں نے بتایا ایمان جب ایک دفعہ دل میں جاگزیں ہو جائے، پھر انسان اس سے کبھی بھی چھوڑنا گوارا نہیں کرتا بھئی۔ تو یہاں کون سا معنی درست نہیں بنتا؟ إيصال إلى المطلوب درست نہیں بنتا۔ تو دوبارہ دیکھیے، کہتے ہیں: والأول منقوض، اور پہلے معنی پر اعتراض کیا گیا ہے، بقوله تعالى، اللہ تعالی کے اس قول کے ساتھ: وأما ثمود فهديناهم فاستحبوا العمى على الهدى، تو قوم ثمود جو ہے، تو ہم نے ان کو ہدایت دی، تو انہوں نے گمراہی کو پسند کیا ہدایت پر۔ تو یہ پہلے معنی پر اعتراض ہوتا ہے، اللہ کے اس قول کے ساتھ، إذ لا يتصور الضلالة بعد الوصول إلى الحق، اس لیے کیونکہ تصور نہیں کیا جا سکتا گمراہی کا، بعد الوصول إلى الحق، حق تک پہنچنے کے بعد۔ حق تک جب کوئی پہنچ جائے، حق دل میں اتر جائے، اس کے بعد گمراہی کا تصور نہیں کیا جا سکتا بھئی، نہیں کیا جا سکتا۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ بعض لوگ مرتد بھی تو ہو جاتے ہیں، مرتد بھی ہو جاتے ہیں، دین اسلام کو چھوڑ دیتے ہیں۔ تو یاد رکھیے بھئی، یاد رکھیے، مرتد جو ہوتا ہے، دراصل ایمان نے اس کے دل میں جگہ ہی نہیں پکڑی، ایمان اس کے دل میں داخل ہی نہیں ہوا، اگر ایمان داخل ہوا ہوتا تو وہ کبھی بھی مرتد نہیں ہو سکتا تھا۔ وہ صرف ظاہراً ظاہراً مسلمان تھا، ایمان اس کے دل میں نہیں تھا بھئی۔ اور اگر وہ پھر بھی کہتے ہیں کہ نہیں، بظاہر تو مسلمان تھا نا، جیسا بھی تھا، بظاہر تو مسلمان تھا۔ تو آپ کی یہ بات کیسے مان لی جائے کہ ہدایت کے بعد گمراہی نہیں ہو سکتی، مرتد ہو جاتا ہے، دیکھو ہدایت کے بعد کیا آ گئی؟ گمراہی، ظاہر میں تو مسلمان تھا، چاہے دل میں ایمان نہ بھی ہو۔ تو یہ جواب دیا جا سکتا ہے کہ یہاں بات ہو رہی ہے بالخصوص قوم ثمود کی بھئی، اور قوم ثمود کے کتب تفاسیر اور کتب تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ایمان لائے ہی نہیں تھے، وہاں ایسا نہیں تھا کہ ایمان لائے ہوں اور پھر کیا ہو گئے ہوں؟ مرتد ہو گئے ہوں، نہیں، وہ ایمان لائے ہی نہیں تھے۔ جب ایمان لائے ہی نہیں، تو إيصال إلى المطلوب پایا گیا؟ نہیں، إيصال المطلوب پایا ہی نہیں گیا، تو لہٰذا یہاں ہدایت کا إيصال إلى المطلوب معنی کیا ہی نہیں جا سکتا۔ یہاں، یہاں ہدایت کا معنی إراءة الطريق کرنا پڑے گا۔ اللہ فرماتے ہیں، قوم ثمود جو ہے، فهديناهم، ہم نے کیا کیا ان کو؟ سیدھا راستہ دکھایا، پہنچایا نہیں، سیدھا راستہ دکھایا، فاستحبوا العمى على الهدى، تو انہوں نے گمراہی کو پسند کیا ہدایت کے مقابلے میں۔ یہ معنی إذ لا يتصور الضلالة بعد الوصول إلى الحق، اس لیے کیونکہ تصور نہیں کیا جا سکتا گمراہی کا حق تک پہنچنے کے بعد۔ والثاني منقوض، اور ہدایت کا دوسرا معنی اس پر اعتراض ہوتا ہے، بقوله تعالى، اللہ تعالی کے اس قول کے ساتھ: إنك لا تهدي من أحببت. اے پیغمبر! إنك، یقیناً آپ، لا تهدي، وہ ہدایت نہیں دے سکتے، من أحببت، جس کو آپ پسند کریں۔ یعنی آپ إيصال إلى المطلوب نہیں کر سکتے جسے آپ چاہیں۔ اے پیغمبر! جسے آپ چاہیں، آپ اسے مطلوب اور مقصود تک پہنچا دیں۔ آپ ایسا نہیں کر، ہدایت دینا اللہ کے اختیار میں ہے، یعنی منزل تک پہنچانا۔ یہ شان نزول اس آیت کا یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب چچا، حضرت ابو طالب، جنہوں نے حضور علیہ السلام کی بے انتہا مدد کی، اور ان کے موت کا وقت آیا، تو اس وقت حضور علیہ السلام ان کو بار بار تلقین فرما رہے تھے کہ اے چچا! ایمان لے آئیں۔ دوسری طرف ابو جہل وغیرہ بھی پاس آئے ہوئے تھے، تو وہ ان کو کہتے تھے، کیا تم اپنے دادا کے دین کو چھوڑ دو گے؟ تو چنانچہ ابو طالب ان کی باتوں میں آ گئے اور انہوں نے آخر دم تک ایمان نہیں لائے اور کہا کہ میں اپنے دادا ہی کے دین پر ہوں، میں اس کو نہیں چھوڑتا۔ چنانچہ اسی حالت میں انتقال ہو گیا۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ غمگین ہو گئے بھئی، بہت زیادہ، کہ میں اپنے محبوب چچا، جنہوں نے میری اتنی مدد کی، ابو طالب کی وجہ سے کوئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف نہیں پہنچا سکتا تھا بھئی۔ وہ بڑے معتبر قریش کے بڑے تھے اور کسی کی ہمت اور جرات نہیں تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تکلیف پہنچاتا بھئی۔ تو سمجھ میں آیا؟ اس وقت قومی غیرت بڑی چیز ہوتی تھی بھئی، کوئی قومی گوارا نہیں کرتی تھی کہ کوئی اور ہمارے کسی آدمی پر ہاتھ اٹھائے یا تکلیف دے بھئی۔ تو جب ان کا انتقال ہو گیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم بڑے غمزدہ ہوئے، تو اس پر تسلی دینے کے لیے اللہ کی طرف سے آیات اتریں بھئی۔ تو اللہ کیا فرماتے ہیں؟ اے پیغمبر! إنك لا تهدي من أحببت، آپ ہدایت نہیں دے سکتے جسے آپ چاہیں۔ یعنی آپ کا کام صرف راستہ دکھانا ہے، لیکن منزل تک پہنچانا یہ آپ کا اختیار میں نہیں، یہ ہمارا کام ہے کہ کس کو منزل تک پہنچانا ہے اور کس کو منزل تک نہیں پہنچانا۔ تو اللہ منزل تک ضرور پہنچاتے ہیں، لیکن اسی کو جو منزل تک، یعنی سیدھے راستے تک پہنچنا چاہتا ہے، اور جو نہیں پہنچنا چاہتا، اللہ بھی اس کو سیدھے راستے تک نہیں پہنچاتے۔ تو تو کہتے ہیں، دوسرے معنی پر اعتراض کیا گیا ہے اللہ کے اس قول کے ساتھ: إنك لا تهدي من أحببت، کہ آپ ہدایت نہیں دے سکتے جسے آپ پسند کریں، جسے آپ چاہیں۔ تو لا تهدي آیا، یہاں ہدایت کا کون سا معنی ہے؟ إيصال إلى، ہاں؟ یہاں کیا معنی ہے؟ کس طریقہ، کس پر اعتراض ہو رہا ہے؟ دوسرے پر۔ ہاں، یعنی إراءة الطريق یہاں نہیں کر سکتے، کیونکہ پھر تو معنی یہ بن جائے گا، اے پیغمبر! آپ راستہ نہیں دکھا سکتے جسے آپ چاہیں، حالانکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا تو کام ہی کیا تھا؟ راستہ دکھانا تھا کہ بھئی یہ سیدھا راستہ ہے، اس پر آ جاؤ، اس پر چلو۔ تو لہٰذا، یہاں، تو إراءة الطريق نہیں کر سکتے، تو یہاں کون سا معنی کرنا پڑے گا؟ إيصال إلى المطلوب کرنا پڑے گا۔ بہرحال بات یہ چل رہی ہے کہ یہاں إراءة الطريق والا معنی درست نہیں ہوتا۔ والثاني منقوض بقوله تعالى، اور دوسرا معنی جو ہے اس پر اعتراض ہوتا ہے اللہ کے اس قول کے ساتھ: إنك لا تهدي من أحببت، کہ آپ ہدایت نہیں دے سکتے جسے آپ پسند کریں، جسے آپ چاہیں۔ فإن، تو یہاں کون سا معنی نہیں کر سکتے؟ إراءة الطريق نہیں کر سکتے، کیوں؟ فإن النبي عليه السلام، کیونکہ حضور علیہ السلام جو ہیں، كان شأنه إراءة الطريق، حضور کی شان ہی إراءة الطريق تھی، تو حضور کا کام ہی راستہ دکھانا تھا، لیکن یہاں إراءة الطريق والا معنی درست نہیں ہوتا کہ آپ سیدھ، آپ راستہ نہیں دکھا سکتے؟ یہ تو بات بنتی ہی نہیں۔ تو یہاں ہم کیا معنی کرنا پڑے گا؟ إيصال إلى المطلوب۔ آگے شارح فرماتے ہیں، کہتے ہیں: والذي يفهم من كلام المصنف رحمه الله تعالى في حاشية الكشاف، اچھا، مصنف، شارح آپ کو بتلائیں گے کہ یہ علامہ تفتازانی جو ہیں نا، انہوں نے کشاف کا حاشیہ بھی لکھا ہے۔ کشاف کا، یاد رکھیے کشاف عظیم تفسیر ہے قرآن کی جو علامہ زمخشری نے لکھی۔ قرآن کی عظیم ترین تفاسیر میں سے عظیم ترین تفسیر ہے علامہ زمخشری نے لکھی، اور قیامت تک آنے والے جتنے مفسرین ہیں وہ اس تفسیر کے محتاج ہیں، یعنی جو بھی عالم تفسیر لکھنا چاہے اس کو تفسیر کشاف کو دیکھنا پڑتا ہے بھئی، دیکھنا پڑتا ہے، ایسی عظیم تفسیر لکھی علامہ زمخشری نے۔ علماء اور یہ معتزلی تھے بھئی، یہ گمراہ فرقہ گزرا ہے۔ علماء فرماتے ہیں، ممکن ہے عین ممکن ہے، ہو سکتا ہے قیامت کے دن علامہ زمخشری اللہ کے دربار میں اپنی یہ تفسیر اٹھائے ہوئے حاضر ہوں کہ اے اللہ! میں نے ایک ایسی تفسیر لکھی تھی آپ کی کتاب کی کہ قیامت تک آنے والے تمام علماء اس کے محتاج تھے، اے اللہ! میری اس تفسیر کی وجہ سے میری مغفرت فرما دیجیے۔ تو اس کشاف پر علامہ تفتازانی نے حاشیہ لکھا ہے، حاشیہ لکھا ہے، اور وہاں وہ بیان کرتے ہیں کہ لفظ ہدایت مشترک ہے ان دونوں معانی میں۔ لفظ ہدایت کیا ہے؟ یعنی دونوں معنی کے لیے استعمال ہوتا ہے، اس کا معنی إيصال إلى المطلوب بھی کبھی ہوتا ہے، کیا جاتا ہے اور کبھی إراءة الطريق بھی کیا جاتا ہے۔ تو کہیں پر اس کا معنی إيصال إلى المطلوب کرنا پڑے گا، وہاں إراءة الطريق صحیح نہیں ہوگا، اور کہیں پر إراءة الطريق کرنا پڑے گا، وہاں إيصال إلى المطلوب، تو یہ استعمال دونوں معانی کے اندر ہوتا ہے۔ اب اشکال ختم ہو گیا یا نہیں بھئی؟ تو پہلے تو علماء کے دو گروہ تھے نا، وہ ایک ایک معنی بیان کرتا تھا، دوسرا دوسرا۔ علامہ تفتازانی نے کیا بتایا؟ دونوں معانی کے لیے یہ استعمال ہوتا ہے بھئی۔ تو دیکھیے کتاب پر: والذي يفهم من كلام المصنف رحمه الله في حاشية الكشاف، اور وہ بات جو سمجھ میں آتی ہے مصنف رحمہ اللہ کے کلام سے کشاف کے حاشیے میں، هو، وہ یہ ہے، أن الهداية لفظ مشترك بين هذين المعنيين، کہ لفظ ہدایت جو ہے، یہ مشترک ہے۔ کہ ہدایت جو ہے، ہدایت کا لفظ مشترک ہے ان دو معنی کے درمیان۔ وحينئذ، اور اس وقت، یہ حا جو ہے نا، وحينئذ مخفف ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو میں نے بتلایا بعض لفظوں کو مختصر لکھ دیتے ہیں، اصل میں ہے یہ وحينئذ، یعنی اس وقت، اس وقت۔ وحينئذ يظهر اندفاع كلا النقضين، وحينئذ يظهر اندفاع كلا النقضين، اور اس وقت ظاہر ہو جاتا ہے، اندفاع کا معنی ہے دور ہونا، ختم ہو جانا، دفع ہو جانا، اٹھ جانا۔ كلا النقضين، دونوں اعتراضات۔ اور اس وقت ظاہر ہو جاتا ہے دونوں اعتراضوں کا، اعتراضوں کا ختم ہونا، ظاہر ہو جاتا ہے۔ دونوں اعتراض اٹھ جاتے ہیں اور ختم ہو جاتے ہیں، جب ہدایت، جب علامہ تفتازانی کی یہ بات مان لی جائے۔ یہ معنی ہے: وحينئذ، اندفاع کا ہمزہ وصلی ہے، درمیان میں گر جائے گا۔ وحينئذ يظهر اندفاع كلا النقضين، اور اس وقت دونوں اعتراضوں کا اعتراضوں کا ختم ہونا ظاہر ہو جاتا ہے۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ و يرتفع الخلاف من بين، اور اس وقت جو ہے اٹھ جاتا ہے الخلاف من بين، اختلاف جو ہے من بين، بیچ میں سے۔ علماء کے دو گروہوں کے بیچ میں سے اختلاف کیا ہے؟ اٹھ جاتا ہے، یعنی ختم ہو جاتا ہے۔ وہ ایک بیان، وہ ایک گروہ ایک معنی بیان کر رہا تھا، دوسرا گروہ دوسرا معنی بیان کر رہا تھا۔ علامہ تفتازانی بتلاتے ہیں کہ نہیں، یہ دونوں معانی کے لیے یہ استعمال ہوتا ہے، تو اختلاف کیا ہوا؟ اٹھ، ختم ہو گیا، اٹھ گیا بھئی۔ یہ معنی ہے: و يرتفع الخلاف من بين، اور اختلاف اٹھ جاتا ہے بیچ میں سے، یعنی ختم ہو جاتا ہے۔ ومحصول كلام المصنف، جی، اب حاصل کلام بیان کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں، علامہ تفتازانی کا وہ حاشیہ پڑھیں تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لفظ ہدایت دو مفعول چاہتا ہے۔ کتنے مفعول؟ دو مفعول۔ جیسے مثلاً میں کہتا ہوں: ضربت زيداً، یہ زيداً کیا ہے؟ مفعول، تو یہ ضربت ایک ہی مفعول چاہتا ہے، لیکن بعض افعال ہوتے ہیں وہ دو مفعول چاہتے ہیں، دونوں کو نصب دیتے ہیں۔ مثلاً: سميت الرجل زيداً، سميت، میں نے نام رکھا، الرجل، اس آدمی کا، کیا نام رکھا؟ زيداً، دوسرا مفعول بھی آ گیا۔ تو سميت کی تاء کیا ہے؟ فاعل۔ الرجل، منصوب ہے، یہ کیا ہے؟ مفعول اول، اور زيداً، یہ کیا ہے؟ مفعول ثانی۔ تو یہ آپ معانی پر، افعال کے معنی پر غور کریں گے آپ کو خود ہی پتہ چل جائے گا کہ بعض افعال کتنے مفعول چاہتے ہیں؟ دو۔ ضرب ایک ہی مفعول چاہتا ہے، دیکھیے: ضربت زيداً، ایک ہی مفعول آ جائے، بات پوری ہو گئی یا نہیں؟ میں نے زید کی پٹائی کی۔ یہاں دوسرے تیسرے مفعول کی ضرورت نہیں، ایک مفعول آ جائے، دیکھو ضرب کا وجود پایا جائے گا۔ ضرب کے لیے ایک ضارب چاہیے اور ایک مضروب چاہیے، تو ایک ہی مضروب سے ضرب ہو جائے گی یا دو تین چاہیے؟ ایک ہی سے ضرب پائی جائے گی، ایک ضارب ہونا چاہیے اور ایک مضروب، تو ضربت زيداً، یہ ایک ہی مفعول چاہتا ہے۔ لیکن سميت، وہاں ایک سے بات پوری نہیں ہوتی۔ سميت الطفل، میں نے اس بچے کا نام رکھا، آپ چپ ہو گئے، خاموش ہو گئے، دوسرے فوراً پوچھیں گے بھئی کیا نام رکھا؟ بات تو آپ پوری کریں، تو یہاں دوسرا مفعول بھی چاہیے: سميت الطفل زيداً، میں نے اس بچے کا نام زید رکھا۔ یا دوسری مثال دیکھ لو، اور واضح ہوگی: أعطيت زيداً درهماً، میں نے دیا زيداً، زید کو، درهماً، ایک درہم۔ تو یہاں بھی دیکھو کتنے مفعول چاہیے؟ دو مفعول چاہیے، کس کو دیا؟ اور کیا دیا؟ دونوں مفعول چاہیے: أعطيت، میں نے کس کو دیا؟ زيداً، اور کیا دیا؟ درهماً، تو دو مفعول چاہیے، جہاں ایک مفعول ذکر کریں گے تو بات پوری ہی نہیں ہوگی۔ تو لہٰذا یہ جو بعض افعال ہوتے ہیں ان کے معانی پر آپ غور کر لیں گے، وہ عموماً افعال ایک ہی مفعول چاہتے ہیں، بعض تھوڑے سے ہیں جو دو مفعول چاہتے ہیں، تو یہ ہدایت بھی دو مفعول چاہتا ہے۔ کتنے مفعول چاہتا ہے؟ دو مفعول چاہتا ہے۔ لیکن یہ جو دو مفعول ہیں، بعض اوقات دونوں براہ راست آتے ہیں، دونوں کو یہ نصب دیتا ہے۔ اور بعض اوقات دوسرے مفعول پر، دوسرے مفعول پر إلى یا لام داخل ہوتا ہے۔ کیا داخل ہوتا ہے؟ إلى یا لام داخل ہوتا ہے۔ جیسے دیکھو: اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ، اهْدِ، اے اللہ! آپ ہمیں ہدایت دیجیے۔ اے اللہ! آپ ہدایت دیجیے، نا، یہ مفعول ساتھ آ گیا۔ کس کو؟ ہمیں، اهْدِ نَا، یہ مفعول اول ہے، اور الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ، یہ کیا ہے؟ مفعول ثانی، اور الصراط المستقیم پر کوئی إلى آیا؟ إلى اس پر داخل الصراط المستقیم ہے یا إلى الصراط المستقیم ہے؟ الصراط المستقیم، تو یہاں دیکھو إلى نہیں ہے، اور لام بھی نہیں ہے، للصراط المستقیم ہے؟ نہیں، تو دیکھو دونوں مفعولوں کو اهْدِ نصب دے رہا ہے، اهْدِ، یہ نا کیا ہے؟ اهْدِنَا، یہ نا کیا ہے؟ مفعول اول، اور الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ، یہ کیا ہے؟ مفعول ثانی۔ لیکن اسی مفعول ثانی پر کبھی إلى داخل ہو جاتا ہے، اور کبھی اسی مفعول ثانی پر لام جارہ بھی داخل ہو جاتا ہے۔ تو یہ آپ کو بتلائیں گے کہ علامہ تفتازانی اس حاشیے میں اپنے فرماتے ہیں، ان کا حاصل کلام یہ ہے کہ اگر ہدایت متعدی ہو جائے دوسرے مفعول کی طرف بغیر إلى اور لام کے، بغیر إلى اور لام کے، تو پھر اس کا معنی ہوتا ہے إيصال إلى المطلوب۔ کیا؟ إيصال إلى، اور اگر ہدایت متعدی ہو جائے مفعول ثانی کی طرف بواسطہ إلى کے یا بواسطہ لام کے، تو پھر اس کا معنی کریں گے إراءة الطريق۔ تو دیکھا، انہوں نے پہچان بھی بتلا دی کہ کہاں اس کا معنی، یہ تو بتلا دیا تھا کہ لفظ ہدایت کیا ہے؟ دونوں معانی میں مشترک استعمال ہوتا ہے، اس، یہ إيصال إلى المطلوب کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور إراءة الطريق کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، لیکن کہاں کون سا معنی کرنا ہے اس کے لیے باقاعدہ ضابطہ بھی بتا دیا کہ ہدایت کتنے مفعول چاہتا ہے؟ دو۔ پہلے کی طرف تو یہ متعدی ہوتا ہے بغیر واسطے کے، دوسرے کی طرف کبھی بغیر واسطے کے اور کبھی اس پر کیا آ جاتا ہے؟ إلى یا لام۔ اگر دوسرے کی طرف بغیر إلى یا لام کے متعدی ہو، یعنی اس کو نصب دے، نصب دے، تو پھر کون سا معنی کریں گے؟ إيصال إلى المطلوب کریں گے، اور اگر دوسرے مفعول پر کیا آ جائے؟ إلى یا لام، یعنی وہ پھر مجرور ہو جائے، تو پھر اس صورت میں اس کا معنی کیا کریں گے؟ إراءة الطريق۔ اگر دوسرے مفعول کی طرف بغیر واسطے کے متعدی ہو تو؟ کیا معنی کریں گے؟ إيصال إلى المطلوب، اور اگر إلى یا لام کے ساتھ ہو تو؟ إراءة الطريق کریں گے۔ دیکھیے بھئی، کتاب پر۔ ومحصول كلام المصنف في تلك الحاشية، اور مصنف کے کلام کا حاصل جو ہے اس حاشیے میں، وہ یہ ہے، أن الهداية تتعدى إلى المفعول الثاني، کہ ہدایت، کہ ہدایت کا لفظ متعدی ہوتا ہے مفعول ثانی کی طرف، تارة، کبھی کبھار، متعدی ہوتا ہے کس کی طرف؟ مفعول ثانی کی طرف کبھی کبھار، بنفسه، خود بخود، یعنی درمیان میں إلى یا لام نہیں آتا، وہ کبھی خود بخود متعدی ہوتا ہے، نحو، مثال کے طور پر: اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ، اے اللہ! اے اللہ! ہماری، ہمیں ہدایت دے دے سیدھے راستے کی، کون سا معنی کریں گے؟ إيصال إلى المطلوب، کیونکہ نا مفعول اول ہے اور الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ یہ کیا ہے؟ مفعول ثانی ہے، اور اس پر نہ لام داخل ہے اور نہ إلى۔ و تارة، کبھی کبھار یہ متعدی ہوتا ہے خود بخود، وتارة بإلى، اور کبھی کبھار یہ متعدی ہوتا ہے إلى کے ساتھ، نحو، مثال کے طور پر: وَاللَّهُ يَهْدِي مَن يَشَاءُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ، اور اللہ ہدایت دیتے ہیں من يشاء، جسے چاہتے ہیں۔ تو من يشاء، یہ موصول صلہ مل کر یہ کیا ہے؟ مفعول اول، اور إلى صراط مستقیم، دیکھو صراط مستقیم پر کیا آ گیا؟ إلى، اور اللہ ہدایت دیتے ہیں جسے چاہتے ہیں سیدھے راستے کی، یہ إلى کے ساتھ مثال۔ وتارة باللام، اور کبھی ہدایت متعدی ہوتا ہے مفعول ثانی کی طرف باللام، کس کے ساتھ؟ لام کے ساتھ، نحو، مثال کے طور پر: إِنَّ هَٰذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ، للتي، أي للتي، سے مراد ہے راستہ، أي الطريقة التي، الطريقة۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اور أقوم کا معنی ہے سیدھا، سیدھا। إِنَّ هَٰذَا الْقُرْآنَ، یقیناً یہ قرآن جو ہے، يهدي، ہدایت دیتا ہے، ہدایت کرتا ہے، للتي، اس راستے کی طرف۔ الناس مفعول اول محذوف ہے: إِنَّ هَٰذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي، یہ قرآن جو ہے، يهدي الناس، رہنمائی کرتا ہے، کس کی؟ لوگوں کی، للتي، أي للطريقة التي، اس راستے کی طرف، هي أقوم، جو سیدھا۔ تو دیکھو، یہاں الناس مفعول اول ہے اور الطريقة التي هي أقوم، یہ کیا ہے؟ مفعول ثانی، اور اس پر کیا داخل ہے؟ لام۔ فمعناها، تو اس ہدایت کا معنی جو ہے، على الاستعمال الأول، پہلے استعمال پر، هو الإيصال، وہ کیا ہے؟ إيصال إلى المطلوب۔ وعلى الثانيين، اور دوسرے دو استعمالوں پر اس کا معنی جو ہے، إراءة الطريق، کیا ہے؟ إراءة الطريق ہے۔ آئیے پھر ذرا ان مثالوں کو دیکھ لیں۔ ضابطہ سمجھ میں آ گیا؟ اگر مفعول ثانی کی طرف بغیر واسطے کے متعدی ہوا تو؟ إيصال إلى المطلوب، اور اگر إلى یا لام کے ساتھ ہوا تو؟ إراءة الطريق۔ لہٰذا، آئیے پہلی مثال جو آئی تھی: وأما ثمود فهديناهم فاستحبوا العمى على الهدى، تو قوم ثمود جو ہے، پس ہم نے ان کو ہدایت دی، تو یہاں کیا معنی کریں گے؟ جی، غور کریں۔ جی، ہدایت کا کون سا معنی کریں گے یہاں؟ ہاں، یہاں کیا معنی کریں گے؟ إراءة الطريق، اور جب إراءة الطريق کریں گے، تو اس وقت پھر إلى یا لام آئے گا، کیا آئے گا؟ إلى یا لام، تو فهديناهم، یہ هم کیا ہے؟ مفعول اول، اور إلى الحق، یہ مفعول ثانی یہاں یوں نکالیں گے۔ باقی قوم ثمود جو ہے، فهديناهم، ہم نے ان کی رہنمائی کی، إلى الحق، کس طرف؟ حق کی طرف۔ دیکھا، إلى کے ساتھ لے ائے۔ محذوف نکالنا ہے نا، ایک مفعول ذکر، عبارت میں کبھی مفعول کو ذکر کیا جاتا ہے کبھی حذف کیا جاتا ہے، تو یہاں مفعول، مفعول اول تو هم ہے، ہم نے ہدایت دی ان کو، یعنی قوم ثمود والوں کو، کس طرف کو ہدایت دی؟ کس چیز کی ہدایت دی؟ وہ آگے حق نے آنا ہے، الحق۔ اب اگر الحق کو ویسے لے آئیں، تو پھر تو معنی کیا کرنا پڑے گا اس ضابطے کے مطابق؟ إيصال إلى المطلوب، حالانکہ یہاں تو إيصال إلى المطلوب معنی، یہاں تو کون سا معنی صحیح ہے؟ تو اس کے لیے پھر إلى یا لام کو لے آؤ، إلى الحق یا للحق، اس کو یہاں محذوف نکال لیں گے۔ فهديناهم إلى الحق، فاستحبوا العمى على الهدى۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اگلی مثال پر آؤ: إنك لا تهدي من أحببت، یہاں ہدایت کا کون سا معنی ہے؟ یہاں إيصال إلى المطلوب ہے۔ کیا ہے؟ اور ضابطہ کیا ذکر ہوا، جب إيصال إلى المطلوب کریں گے، تو یہ مفعول ثانی کی طرف متعدی ہوگا بغیر إلى یا لام کے، تو پھر یہاں دو مفعول نکالیں گے: إنك لا تهدي الحق، آپ رہنمائے، ہدایت نہیں دے سکتے حق کی، من أحببت، جس کو آپ چاہیں۔ تو مفعول ثانی پہلے آ گیا: الحق، اور من أحببت، یہ کیا ہے؟ مفعول اول ہے، مؤخر ہو گیا۔ تو إنك لا تهدي، تو الحق نکالیں گے بغیر إلى اور بغیر لام کے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کیسے ہو جائے گا کلام؟ إنك لا تهدي الحق من أحببت، اور یہ من أحببت، یہ مفعول ثانی، نہیں، یہ مفعول اول ہے، جس کو ہدایت دینی ہے وہ پہلے، اور جس چیز کی ہدایت دینی ہے وہ بعد میں، تو خیر ترتیب بدل بھی دیں، پتہ تو چل رہا ہے نا، من أحببت، وہ ہیں جن کو ہدایت دینے کی بات ہو رہی ہے، اور الحق وہ ہے جس کے ہدایت دینے کی بات ہو رہی ہے۔ اگلی مثال کیا تھی؟ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ، نا مفعول اول اور الصراط المستقيم مفعول، یہاں إلى یا لام ہے؟ نہیں، تو کیا معنی؟ إيصال إلى المطلوب۔ اهْدِنَا، ہم ہر روز نماز میں دعا کرتے ہیں: اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ، اے اللہ! ہمیں سیدھے راستے تک پہنچا دے، یہ نہیں کہ سیدھا راستہ ہمیں دکھا دے، نہیں، ہمیں منزل تک پہنچا دے، دیکھا، منزل تک پہنچ۔ وتارة، اگلی مثال کیا تھی؟ وَاللَّهُ يَهْدِي مَن يَشَاءُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ، اور اللہ ہدایت دیتے ہیں من يشاء، یہ کیا ہے؟ مفعول اول، یہ من ہے، من يشاء تو اس کا صلہ ہے، تو موصول صلہ مل کر مفعول اول، اور إلى صراط مستقیم، دیکھو صراط مستقیم پر کیا آ گیا؟ إلى، اور اللہ ہدایت دیتے ہیں جسے چاہتے ہیں سیدھے راستے کی، یہ إلى کے ساتھ مثال۔ وتارة باللام، اور کبھی کبار لام آتا ہے: إِنَّ هَٰذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي، میں نے بتایا الناس یہاں مفعول اول محذوف ہے، کہ یہ قرآن جو ہے رہنمائی کرتا ہے الناس، لوگوں کی، للتي هي أقوم، اس راستے کی طرف جو سیدھا ہے۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ لیکن علامہ تفتازانی کے اس ضابطے پر بھی اعتراض ہوتا ہے، یہ ضابطہ بھی ہر جگہ منطبق نہیں ہوتا بھئی، مثلاً دیکھیے، قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: إنا هديناه السبيل، ہاں، یہ مثال لکھ لیں، یہ مثال لکھ لیں: إنا هديناه، هدينا، نا کے ساتھ الف نہیں ہے، کھڑی زبر ہے نون پر، کھڑی زبر ہے۔ قرآن کا اپنا رسم الخط ہے، تو یہ هديناه، نون کے ساتھ ہاء کو جوڑ کے لکھنا ہے، اور نون پر کھڑی زبر ڈال دیں۔ إنا هديناه السبيل، لام پر زبر آئے گی، السبيل، إما شاكراً، إما شاكراً وإما كفوراً، وإما كفوراً۔ تو دیکھیے، اس سے ماقبل جو ہے اللہ فرماتے ہیں: ہم نے انسان کو پیدا کیا، آگے فرماتے ہیں، بس صرف سن لیں بس آیت لکھ لی، ہم نے انسان کو پیدا کیا، آگے اللہ کیا فرماتے ہیں؟ إنا هديناه السبيل، یقیناً ہم اس کو راستہ دکھاتے ہیں، ہم اس کو راستے کی ہدایت کرتے ہیں، یعنی راستہ، سیدھا راستہ اس کو دکھاتے ہیں، إما شاكراً وإما كفوراً، پھر یا تو وہ شکر گزار بنتا، اس حال میں کہ یا تو وہ شکر گزار ہوتا ہے یا ناشکرا ہوتا ہے۔ شکر گزار ہوتا ہے، یعنی سیدھے راستے پر آ جاتا ہے، ہدایت، ایمان قبول کر لیتا ہے، وإما كفوراً، یا کیا کرتا ہے؟ ناشکرا ہوتا ہے، یعنی گمراہی پر ہی چلتا رہتا ہے۔ تو دیکھیے: إنا هديناه السبيل، هديناه، یہ ہاء ضمیر راجع ہے انسان کو، یہ ہے مفعول اول، اور السبيل، یہ کیا ہے؟ مفعول ثانی، تو ہدایت متعدی ہو رہا ہے کس کی طرف؟ مفعول ثانی کی طرف بغیر إلى اور بغیر لام کے، تو معنی ہونا چاہیے ہدایت کا إيصال إلى المطلوب، لیکن یہاں إيصال إلى المطلوب نہیں ہے، بلکہ کیا ہے؟ إراءة الطريق، کیونکہ آگے اللہ خود فرما رہے ہیں کہ یا تو وہ اس کیا ہوتا ہے؟ شکر گزار ہوتا ہے یا کیا ہوتا ہے؟ ناشکرا، اگر إيصال إلى المطلوب ہو، پھر تو شکر گزار ہونا چاہیے بس صرف، بات سمجھ، تو معلوم ہوا یہ، یہ علامہ تفتازانی نے جو ضابطہ ذکر کیا، یہ اکثری تو ہو سکتا ہے، اکثر جگہ تو کام دے سکتا ہے، لیکن یہ کلی نہیں ہے کہ ہر جگہ پر ہی ایسا ہو، جیسے اس مثال آیت میں آپ نے دیکھا کہ یہ ہدایت متعدی ہے مفعول ثانی کی طرف بغیر واسطے کے، تو معنی تو إيصال إلى المطلوب ہونا چاہیے، لیکن اس کا معنی یہاں کیا ہے؟ إراءة الطريق ہے، اسی لیے آگے اللہ کیا فرما رہے ہیں: إما شاكراً وإما كفوراً، إما كفوراً۔ چلیے، اچھی طرح بحث ساری سمجھ میں آ گئی؟ حاصل کلام یہ سن، پھر خلاصہ سبق پھر سن لیجیے۔ کہ متن میں لفظ ہدایت آیا تھا، شارح نے آپ کو بتلایا کہ یہ ہدایت جو لفظ ہے، اس کے بارے میں علماء کے دو گروہ ہیں، بعض علماء فرماتے ہیں ہدایت کا معنی ہے إيصال إلى المطلوب، اور بعض علماء فرماتے ہیں کہ ہدایت کا معنی ہے إراءة الطريق، اور دونوں معانی میں فرق یہ ہے کہ إيصال إلى المطلوب میں مقصود اور مطلوب تک پہنچنا لازمی ہے، ضروری ہے، جبکہ إراءة الطريق میں منزل تک پہنچنا تو الگ، راستے تک پہنچنا بھی ضروری نہیں ہے بھئی۔ اور پہلے معنی پر بھی اعتراض ذکر کیا کہ یہ معنی فلاں جگہ ٹھیک نہیں بیٹھتا، اور پھر دوسرے معنی پر بھی اعتراض کیا کہ فلاں آیت میں یہ دوسرا معنی ٹھیک نہیں ہوتا، اور پھر اس کا جواب ذکر کیا کہ علامہ تفتازانی نے اس کا حل ذکر کیا ہے، اس کا جواب دیا ہے کشاف کے حاشیے میں، اور وہ فرماتے ہیں کہ یہ ہدایت کا لفظ دو مفعول چاہتا ہے، اور دوسرے مفعول کی طرف کبھی یہ خود بخود متعدی ہوتا ہے اور کبھی إلى کے ساتھ اور کبھی لام کے ساتھ، جب دوسرے مفعول کی طرف یہ خود بخود متعدی ہو، بغیر واسطے کے، تو پھر اس کا معنی کریں گے إيصال إلى المطلوب، اور جب یہ دوسرے مفعول کی طرف متعدی ہو إلى یا لام کے ساتھ، تو اس کا معنی کیا کریں گے؟ تو پھر اس کا معنی کریں گے إراءة الطريق، لیکن میں نے آپ کو بتلایا کہ یہ جو ضابطہ ہے، یہ بھی کلی نہیں، اکثری تو ہو سکتا ہے، کلی نہیں، جیسے کہ اس پر اعتراض ہوتا ہے: إنا هديناه السبيل إما شاكراً وإما كفوراً، کہ یہاں پر متعدی ہے دوسرے مفعول کی طرف ہدایت بغیر واسطے کے، لیکن پھر بھی یہاں إيصال إلى المطلوب والا معنی درست نہیں ہوتا، بلکہ کون سا معنی کرنا پڑے گا؟ إراءة الطريق والا، کہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم اس کو راستہ دکھا دیتے ہیں، پھر وہ سیدھے راستے پر آتا ہے یا تو شکر گزار بندہ بن جاتا ہے، یا سیدھے راستے پر نہیں آتا اور ناشکرا ہی رہتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المراد، والله أعلم بحقيقة الكلام۔ یہ شرح تہذیب بڑی پیاری کتاب ہے، بڑی پیاری کتاب بھئی۔ بڑی مشکل ابحاث بھی ہیں، لیکن عجیب پرلطف کتاب ہے بھئی، طالب علمی کے اندر جب یہ کتاب پڑھی تھی، آج تک جو جن کتابوں کے پڑھنے کا لطف آیا، اور مجھے آج بھی یاد آتا ہے اور تو وہ ان کتابوں میں سے یہ شرح تہذیب بھی ہے، بڑی پرلطف کتاب ہے، بڑی پرلطف۔