آئیے، کل کے سبق کا دوبارہ خلاصہ سن لیجیے، بھئی! آپ نے پڑھا کہ لفظ "اللہ" علم ہے، زیادہ صحیح قول کے مطابق، اس ذات کا جو واجب الوجود ہے اور جو جمع کرنے والی ہے تمام صفاتِ کمال کو۔
آپ نے پڑھا کہ علماء کے دو گروہ ہیں۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ لفظ "اللہ" علم ہے، نام ہے، جیسے کسی کا نام دنیا میں زید رکھا جاتا ہے، کسی کا بکر، کسی کا خالد، اسی طرح اللہ کی ذات کا نام کیا ہے، علم کیا ہے؟ لفظ "اللہ"۔ یعنی اس میں کوئی تبدیلی وغیرہ نہیں ہوئی، یہ اسی طرح ہے، ابتدا سے۔ صورت سمجھ میں آ گئی، بھئی؟
جبکہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ نہیں، یہ اصل میں کلی تھا، "إلٰهٌ" تھا اور "إلٰهٌ" معبود کو کہتے ہیں اور اس پر پھر الف لام داخل ہوا تو "الْإِلٰهُ" ہوا اور پھر اس میں سے درمیان میں سے "إلٰهٌ" کے ہمزہ کو خلاف القياس حذف کر لیا گیا، بغیر کسی قانون کے۔ تو کیا بن گیا؟ "اللہ"۔ "اللہ" ہوا اور یہ خاص ہے کس کے ساتھ؟ ذاتِ باری تعالی کے ساتھ۔ لیکن بہرحال، یہ کلی تھا، یہ علم نہیں تھا ابتدا میں۔
تو مصنف نے آپ کو بتلایا کہ زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ لفظ "اللہ" علم ہے۔ اور میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ ایک ہے صحیح اور ایک ہے زیادہ صحیح۔ بعض مصنف بعض جگہ فرماتے ہیں: "هٰذَا صَحِيْحٌ"، یہ کیا ہے؟ صحیح۔ اور بعض جگہ کہتے ہیں: "هٰذَا أَصَحُّ"، یہ کیا ہے؟ زیادہ صحیح۔ تو قوت کس کے اندر زیادہ؟ صحیح میں قوت زیادہ ہے، کیونکہ جب صحیح کہہ دیا، اس کا مطلب ہے کہ دوسرا جو قول ہے وہ غیر صحیح ہے، وہ باطل ہے۔ اور جب کہا یہ زیادہ صحیح ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ دوسرا قول بھی صحیح ہے، البتہ یہ اس کے مقابلے میں زیادہ صحیح ہے، بھئی!
چنانچہ انہوں نے آپ کو بتلایا کہ یہ لفظ "اللہ" نام ہے اس ذات کا جو واجب الوجود ہے۔ واجب الوجود کا کیا معنیٰ؟ وہ ذات جو خود بخود ہو، جس کا ہونا ضروری ہو اور جو اپنے وجود میں کسی کی محتاج نہ ہو۔ آپ نے پڑھا کہ تمام کائنات میں وہ چیزیں جن کا اپنا الگ وجود ہے، وہ دو قسم کی ہیں۔ یا تو وہ واجب الوجود ہیں یا ممکن الوجود۔ ممکن الوجود کو ممکنات بھی کہہ لیں، آسان لفظوں میں، ممکنات بھئی، جمع۔
اور واجب الوجود، وہ صرف اللہ کی ذات ہے، بھئی! واجب الوجود کا کیا معنیٰ؟ وہ ذات جس کا ہونا واجب ہے، لازم ہے، ضروری ہے، جو خود بخود ہے اور جو اپنے وجود میں کسی کی محتاج نہیں۔ جبکہ ممکن الوجود، وہ ذات جس کا ہونا، نہ ہونا برابر ہو، اسے کوئی اثر نہیں پڑتا، اور وہ اپنے وجود میں کسی کی محتاج ہو، خود بخود اس کا وجود نہ ہو، بھئی! اس کو کیا کہتے ہیں؟ ممکن۔ اور کائنات میں آپ نے پڑھا، صرف اللہ کی ذات واجب الوجود ہے، باقی تمام چیزیں ممکنات ہیں، بھئی! یہ ممکن الوجود ہیں، بھئی! ممکن الوجود۔
اور میں نے بتلایا کہ منطق اصل میں یونانیوں کا علم تھا اور اس میں صرف عقلی باتیں کی جاتی ہیں۔ لیکن عقل نے بھی ان کو بتلا دیا کہ بھئی، ایک واجب الوجود کو ماننا پڑے گا، اس کے بغیر بات بنتی ہی نہیں ہے، اس لیے کیونکہ ہر ممکن الوجود کے لیے کوئی بنانے والا چاہیے۔ اگر اس کا بنانے والا بھی ممکن الوجود ہے، تو اس کے لیے بھی کوئی بنانے والا چاہیے۔ اگر وہ بھی ممکن الوجود ہے، تو اس کے لیے بھی بنانے والا چاہیے۔ تو یہ سلسلہ چلتا ہی رہے گا اور کہیں بھی نہیں رکے گا اور اس کو تسلسل کہتے ہیں اور تسلسل باطل ہے، بھئی! تسلسل نہیں ہو، ہو ہی نہیں سکتا، محال ہے، ناممکن ہے، بھئی! کہیں نہ کہیں تو بات رکنی چاہیے۔
تو چنانچہ وہ مجبور ہو گئے اور ان کو کہنا پڑا کہ ایک ذات ہے جو واجب الوجود ہے، جو خود بخود ہے، جس کا ہونا ضروری ہے اور جو اپنے وجود میں کسی کی محتاج نہیں۔ اور جو ان چیزوں کو بنانے والی ہے، بھئی! وجود دینے والی ہے۔
تو لفظ "اللہ" جو ہے، آپ نے پڑھا، وہ نام ہے اس ذات کا جو واجب الوجود ہے اور مستجمع ہے جميعِ صفاتِ کمال کو، یعنی اس میں جمع ہیں تمام صفاتِ کمال۔ آپ نے پڑھا کہ بعض صفات وہ ہیں جن کو کمال سمجھا جاتا ہے، پسند کیا جاتا ہے، عمدہ اور اعلیٰ سمجھا جاتا ہے، جیسے طاقتور ہونا اور قدرت کا ہونا، یہ پسندیدہ ہے یا کمزور اور ضعیف ہونا پسندیدہ ہے؟ طاقتور ہونا۔ بولنا، یہ پسندیدہ ہے یا گونگا ہونا پسندیدہ ہے؟ بولنا پسندیدہ ہے۔ اسی طرح سننا پسندیدہ ہے یا بہرا ہونا پسندیدہ ہے؟ سننا۔ تو کچھ صفات وہ ہیں جو پسندیدہ ہیں اور ان کو قابلِ تعریف سمجھا جاتا ہے اور ان صفات کی کمی کو عیب سمجھا جاتا ہے اور اللہ کی ذات تمام عیوب سے پاک، اللہ کی ذات میں تمام صفاتِ کمال جمع ہیں۔ اللہ قدرت والا بھی ہے، اللہ سننے والا بھی ہے، اللہ جاننے والا ہے، اس کا علم اتنا کامل کہ اسے ہر چیز کا علم ہے، جو ہو چکی ہے اس کا بھی اور جو ہوگا اس کا بھی۔
تو وہ ذات جو واجب الوجود ہے اور تمام صفاتِ کمال اس کے اندر جمع ہیں۔ اور پھر مصنف نے آپ کو بتلایا کہ چونکہ لفظ "اللہ" ان چیزوں پر دلالت کر رہا ہے، کن چیزوں پر؟ کہ وہ ذات کیسی ہے؟ واجب الوجود اور اس میں ساری صفاتِ کمال جمع ہیں۔ ساری کی ساری صفاتِ کمال اس میں جمع۔ تو یہ گویا اسی طرح ہے کہ گویا یوں کہا، مصنف نے تو کہا "الْحَمْدُ لِلّٰهِ"، لیکن دوسرے لفظوں میں یوں سمجھو، گویا اس نے یہ کہہ دیا کہ تمام صفاتِ کمال اللہ کی ذات میں بند ہیں کہ اس وجہ سے کہ وہ ذات ایسی ہے۔
یہاں پر میں نے الف لام کی قسمیں بیان کیں، بھئی! آپ نے پڑھا کہ الف لام دو قسم پر ہے۔ ایک الف لام اسمی اور ایک الف لام حرفی۔ الف لام اسمی وہ ہے جو اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول کے صیغوں پر داخل ہو اور یہ اسم ہے اور اس میں، یہ اسمِ موصول ہے اور بمعنیٰ "الَّذِيْ" کے ہوتا ہے۔ تو "الضَّارِبُ" کس معنیٰ میں ہوا؟ "الَّذِيْ يَضْرِبُ"۔ اور "الْمَضْرُوْبُ"، یہ کس معنیٰ میں ہوا؟ "الَّذِيْ يُضْرَبُ" کے معنیٰ میں ہوا۔
جبکہ اس کے علاوہ، اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول کے صیغوں کے علاوہ، کسی بھی اور لفظ پر جب الف لام آئے تو وہ الف لام حرفی ہوتا ہے۔ اور الف لام حرفی، وہ کسی لفظ کو معرفہ بنانے کے لیے آتا ہے، جیسے "رَجُلٌ" نکرہ تھا، الف لام آ گیا "الرَّجُلُ"، اب یہ کیا بن گیا؟ معرفہ۔ اور یہ جو الف لام حرفی ہوتا ہے، یہ خود تو حرف ہے لیکن یہ لفظ کو معرفہ بنا دیتا ہے اور اس کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ اب اشارہ یا تو جنس کی طرف ہوگا، جنس اور ماہیت جس سے وہ چیز بنی ہے، یا اس کے افراد کی طرف اشارہ ہوگا۔ جیسے "الرَّجُلُ"، "الرَّجُلُ" کے ذریعے یا تو رجل کی جنس اور ماہیت کی طرف اشارہ ہوگا یا رجل کے جو خارج میں افراد پائے جاتے ہیں زید، عمرو، بکر، خالد وغیرہ، ان کی طرف کیا ہوگا؟ اشارہ ہوگا۔
تو اگر اس الف لام حرفی کے ذریعے جنس کی طرف اشارہ ہو، تو اس کو الف لام جنسی کہتے ہیں اور اس کی مثال میں نے ذکر کی تھی: "الرَّجُلُ خَيْرٌ مِنَ الْمَرْأَةِ"۔ جنسِ رجل افضل ہے، کس سے؟ جنسِ امراۃ سے۔ افراد نہیں، افراد نہیں، کیونکہ پھر تو یہ بات غلط ہو جائے گی، کیونکہ بعض عورتیں، وہ نیکی اور تقویٰ میں مردوں سے بڑھ کر ہوتی ہیں، تو وہ تو پھر عورت افضل ہو گئی، کس سے؟ مرد سے۔ تو معلوم ہوا یہاں افراد نہیں مراد، افراد میں بعض عورتیں بھی افضل ہو سکتی ہیں بعض مردوں سے، یہاں جنس مراد ہے، یعنی اس جنس کو اللہ نے فضیلت بخشی ہے۔ آپ بھی دیکھتے ہیں، دنیا کے اندر غلبہ کس کا ہے؟ حکومتیں کس کی ہیں؟ حکومتیں مردوں کے ہاتھوں میں ہیں، طاقتور مرد ہیں۔ عورت تو کمزور ہے، اکیلی سفر بھی نہیں کر سکتی، اس کو خوف ہوتا ہے، بھئی! بات سمجھ میں آ گئی، بھئی؟ تو مردوں، اور اولاد بھی لوگ کس کو پسند کرتے ہیں، بیٹے کو یا بیٹی کو؟ بیٹے کو زیادہ پسند کرتے ہیں، ترجیح دیتے ہیں۔ تو یہ جنسِ رجل کو اللہ نے کیا دی ہے؟ فضیلت نصیب فرمائی ہے۔ تو "الرَّجُلُ خَيْرٌ مِنَ الْمَرْأَةِ"، یہ "الرَّجُلُ" پر جو الف لام آیا، یہ "الْمَرْأَةِ" پر جو الف لام آیا، یہ کون سا الف لام ہے؟ الف لام جنسی ہے۔ جنسِ رجل افضل ہے، کس سے؟ جنسِ عورت سے۔ تو جنس سے، افراد نہیں مراد، جنس مراد ہے۔
تو الف لام حرفی کے ذریعے کبھی بار اشارہ ہوتا ہے کس کی طرف؟ جنس کی طرف اور کبھی اشارہ ہوتا ہے افراد کی طرف۔ تو اگر افراد کی طرف اشارہ ہو تو پھر وہاں دو حال ہوں گے: یا تو تمام افراد مراد ہوں گے یا بعض افراد مراد ہوں گے۔ تو اگر تمام افراد مراد ہوں تو اس کو الف لام استغراقی کہتے ہیں، جیسے: "وَالْعَصْرِ ۙ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ"، قسم ہے زمانے کی، "إِنَّ الْإِنْسَانَ" یقیناً تمام انسان خسارے میں ہیں، سوائے ان کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے! تو "الْإِنْسَانَ" پر الف لام آیا، یہ الف لام کیا ہے؟ الف لام استغراقی ہے، الف لام استغراقی ہے۔ اور تمام افراد مراد ہیں، تو اس کا ترجمہ تمام یا کل کے ساتھ کرتے ہیں، تمام افراد۔ کوئی اگر آپ سے پوچھ لے، یہاں تو تمام کا لفظ نہیں ہے، آپ یہ تمام انسان کہاں سے ترجمہ کر رہے ہیں؟ تو آپ کیا جواب میں کہیں گے کہ یہ الف لام کیا ہے؟ استغراقی ہے، یہ اس کا ترجمہ ہو رہا ہے۔
یہ دوسری قسم ہو گئی۔ تیسری قسم الف لام کی یہ ہے کہ تمام افراد کی طرف اشارہ نہیں، بلکہ بعض افراد کی طرف اشارہ ہو۔ تو جب بعض کی طرف اشارہ ہے، تو پھر وہ دو حال سے خالی نہیں: وہ بعض خارج میں متعین ہوں گے یا متعین نہیں؟ اگر وہ خارج میں متعین ہیں تو اس کو کیا کہیں گے؟ الف لام عہدِ خارجی۔ اور اگر خارج میں وہ بعض متعین نہیں تو اس کو کیا کہیں گے؟ الف لام عہدِ ذہنی کہیں گے، بھئی! اور پھر یہ ایک بھی ہو سکتا ہے، یہ متعین، دو بھی، زیادہ بھی۔ جیسے "الرَّجُلُ"، دیکھا؟ وہ ایک آدمی۔ یہ "وہ" کس کا ترجمہ کر رہا ہوں؟ یہ متعین شخص جس کی طرف اشارہ ہو رہا ہے۔ کیا ہے؟ الف لام کے ذریعے کیا ہوتا ہے؟ اشارہ ہوتا ہے نا۔ "رَجُلٌ" کا معنیٰ آدمی، مرد، لیکن جب میں کہوں "الرَّجُلُ"، معلوم ہوا کوئی متعین مرد مراد ہے، تو اس کا ترجمہ کریں گے: وہ مرد، وہ مرد۔
تو لہٰذا، اگر خارج میں افراد متعین ہوں تو وہ الف لام عہدِ خارجی ہے، جیسے "الرَّجُلُ"، یہ ایک کی طرف اشارہ۔ "الرَّجُلَانِ"، کیا ترجمہ کریں گے؟ وہ دو آدمی، دیکھو کوئی متعین ہیں، ان کی طرف اشارہ ہو رہا ہے۔ "الرِّجَالُ"، اب کیا ترجمہ کریں گے؟ وہ سب آدمی، جو جن کی طرف اشارہ ہو رہا ہے، چاہے تین ہیں یا تین سے زیادہ ہیں، بھئی!
تو یہ الف لام عہدِ خارجی ہے، خارج میں افراد متعین، کوئی متعین رجل تھا، اس کی طرف آپ نے "الرَّجُلُ" سے اشارہ کیا۔ خارج میں کوئی دو متعین مرد تھے، "الرَّجُلَانِ" سے آپ نے ان کی طرف اشارہ کیا۔ یا خارج میں کئی آدمی متعین تھے، "الرِّجَالُ" کے ذریعے آپ نے ان کی طرف اشارہ کیا۔ تو یہ الف لام عہدِ خارجی ہے۔ میں نے اس کی مثال ذکر کی تھی، مثلاً میں ذکر کرتا ہوں: "جَاءَنِيْ رَجُلٌ أَمْسِ"، کہ کل رات میرے پاس ایک آدمی آیا تھا، "جَاءَنِيْ رَجُلٌ"، نکرہ لایا، کل میرے پاس کوئی ایک آدمی آیا تھا، کیونکہ آپ اس کو نہیں جانتے، آپ نہیں پہچانتے۔ اب میں اسی کے آدمی کے بارے میں آپ کو کہنا چاہتا ہوں، میں نے اس آدمی کا اکرام کیا۔ تو اب میں الف لام لاؤں گا: "فَأَكْرَمْتُ الرَّجُلَ"، تو میں نے اس آدمی کا اکرام کیا۔ یہ "اس"، یہ کس کا ترجمہ کر رہا ہوں؟ یہ الف لام کا، الف لام کے ذریعے اشارہ ہو رہا ہے، میں نے اس آدمی کا اکرام کیا۔ اگر میں الف لام نہ لاتا، "جَاءَنِيْ رَجُلٌ أَمْسِ"، کل میرے پاس کوئی ایک آدمی آیا تھا، "أَكْرَمْتُ رَجُلًا"، میں نے کسی ایک آدمی کا اکرام کیا، معلوم ہوا یہ کوئی اور ہے اس کی بات، ورنہ اگر اس کی بات ہوتی تو الف لام کے ذریعے میں اشارہ کرتا، کیونکہ ایک دفعہ جب چیز ذکر ہو جائے تو وہ کیا ہو جاتی ہے؟ متعین۔ تو جب میں نے کہا: "جَاءَنِيْ رَجُلٌ أَمْسِ"، کل رات میرے پاس ایک آدمی آیا تھا، "فَأَكْرَمْتُ الرَّجُلَ"، تو میں نے اس آدمی کا اکرام کیا۔ آپ سمجھ گئے یا نہیں کس آدمی کی بات کر رہا ہوں؟ آپ سمجھ گئے، اسی آدمی کی بات ہو رہی ہے جو رات کو آیا تھا۔ حالانکہ نہ آپ نے اس کی شکل دیکھی ہے، نہ آپ کو اس کے نام کا پتہ ہے، نہ آپ کو اس کے کپڑوں کا پتہ ہے، کسی چیز کا نہیں پتہ، لیکن پھر بھی آپ سمجھ گئے یا نہیں سمجھ گئے میں کس آدمی کے بارے میں کہہ رہا ہوں؟ "فَأَكْرَمْتُ الرَّجُلَ"، میں نے اس آدمی کا اکرام کیا۔ آپ سمجھ گئے، جس کا ابھی ذکر ہوا تھا، اس آدمی کی بات ہو رہی ہے۔ تو متعین ہونے کا یہ معنیٰ نہیں ہوتا آپ نے اس کو دیکھا ہو یا آپ کو اس کے نام کا پتہ ہو یا آپ کو اس کی شکل اور کپڑوں کا پتہ ہو، نہیں نہیں۔ متعین ہونے کا معنیٰ یہ ہے کہ آپ سمجھ جائیں کس کی بات ہو رہی ہے اور آپ سمجھ گئے یہاں، جب میں نے کہا: "جَاءَنِيْ رَجُلٌ أَمْسِ"، کل میرے پاس کوئی ایک آدمی آیا تھا، "فَأَكْرَمْتُ الرَّجُلَ"، تو میں نے اس آدمی کا اکرام کیا، آپ بالکل واضح طور پر سمجھ گئے کہ اس آدمی کی بات ہو رہی ہے جو کل رات آیا تھا۔
اور اگر وہ بعض افراد خارج میں متعین نہ ہوں تو اس کو الف لام عہدِ ذہنی کہتے ہیں اور اس کی مثال میں نے ذکر کی تھی، تو جیسے حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا تھا اپنے بیٹوں سے: "فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَأْكُلَهُ الذِّئْبُ"، مجھے خوف ہے کہ یوسف کو کوئی بھیڑیا کھا جائے گا۔ "الذِّئْبُ" پر الف لام آیا، اب اس سے الف لام جنسی مراد نہیں لے سکتے، کیونکہ پھر تو معنیٰ یہ بن جائے گا: مجھے خوف ہے کہ بھیڑیے کی جو جنس ہے اور ماہیت ہے، یعنی جس سے بھیڑیے بنے ہیں، وہ اس کو کھا جائیں گے! حالانکہ جنس نہیں کھاتی بلکہ بھیڑیے کے افراد کھاتے ہیں، بھئی، چیزوں کو۔ اس سے الف لام استغراقی بھی نہیں لے سکتے، "الذِّئْبُ" پر جو الف لام آیا، جنسی بھی نہیں مراد لے سکتے اور استغراقی بھی استغراقی بھی مراد نہیں لے سکتے، کیونکہ اگر استغراقی مراد لیں تو معنیٰ یہ ہو جائے گا کہ مجھے خوف ہے کہ تمام بھیڑیے ان کو کھا جائیں، حالانکہ تمام دنیا کے بھیڑیے تو اکٹھے ہی نہیں ہو سکتے تھے، بھئی! پھر تیسری صورت یہ کہ الف لام سے عہدِ خارجی مراد لے لو، کوئی متعین بھیڑیا وہاں تھا، تو ایسا بھی نہیں تھا، اس، یہ بھی معنیٰ صحیح نہیں بنتا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام یہ کہیں کہ مجھے خوف ہے، وہ جو ایک متعین بھیڑیا ہے، وہ اس کو کھا جائے گا، ایسا بھی نہیں تھا۔ معلوم ہوا یہ الف لام کون سا ہے؟ عہدِ ذہنی۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے جنسِ بھیڑیے کے ایک فرد کا ذہن میں تصور کیا اور الف لام کے ذریعے اس کی طرف اشارہ کر دیا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ الف لام عہدِ ذہنی۔ تو دیکھو، ذہن میں ایک فرد کا تصور کر کے اس کی طرف اشارہ کر دیا۔ اور میں نے بتایا، یہ جو الف لام عہدِ ذہنی ہوتا ہے، اس پر جب الف لام، یہ جب کسی حرف پر، کسی لفظ پر داخل ہوتا ہے تو لفظوں کے اعتبار سے وہ معرفہ بن جاتا ہے، لہٰذا مبتدا بھی بن سکتا ہے، مبتدا بھی، کیونکہ مبتدا میں اصل کیا ہے؟ کیا ہونا چاہیے؟ معرفہ۔ تو مبتدا، لیکن ما، تو مبتدا وغیرہ بھی یہ بن سکے گا، لیکن معنیٰ کے اعتبار سے یہ نکرہ کا نکرہ ہی ہے۔ لہٰذا "الذِّئْبُ" کا ترجمہ "کوئی بھیڑیا" کریں گے یا "ایک و"، کوئی ایک بھیڑیا۔ "فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَأْكُلَهُ الذِّئْبُ"، مجھے خوف ہے کہ اس کو کوئی، اس کو کوئی بھیڑیا کھا جائے گا، دیکھا؟ کوئی بھیڑیا کھا جائے گا، نکرہ والا ترجمہ کر رہا ہوں میں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
اب بات چل رہی تھی "الْحَمْدُ لِلّٰهِ" کی، بھئی! "الْحَمْدُ لِلّٰهِ" میں الف لام جو آیا "حَمْدُ" پر، یہ الف لام اسمی تو نہیں ہے، کیونکہ الف لام اسمی تو وہ ہوتا ہے جو اسمِ فاعل یا اسمِ مفعول پر داخل ہو اور "حَمْدُ" نہ یہ اسمِ فاعل کا صیغہ ہے اور نہ اسمِ مفعول، تو یہ الف لام اسمی نہیں۔ پھر احتمال، پھر کیا احتمال ہوا کہ یہ کون سا، یہ کون سا الف لام ہے؟ حرفی۔ جب الف لام اسمی نہیں تو ظاہر سی بات ہے یہ الف لام حرفی ہے اور الف لام حرفی تو آپ نے پڑھا ہے، وہ چار قسم کا ہوتا ہے: الف لام جنسی ہوتا ہے، استغراقی ہوتا ہے، عہدِ خارجی ہوتا ہے اور عہدِ ذہنی۔ اب یہاں کون سا مراد ہے؟ دیکھیے! آپ کو شارح نے بتلایا کہ یہ الف لام جنسی بھی مراد لے سکتے ہیں اور الف لام استغراقی بھی مراد لے سکتے ہیں، لیکن الف لام عہدِ خارجی بھی نہیں مراد لے سکتے اور الف لام عہدِ ذہنی بھی مراد نہیں لے سکتے۔
اچھا، یہاں پہلے ایک چھوٹی سی بات اور میں نے ذکر کی تھی کہ جو جنس ہے نا، جنس، خارج میں اس کا وجود افراد کے ضمن میں ہوتا ہے۔ جنس کا وجود خارج میں اپنے افراد کے ضمن میں ہوتا ہے، یعنی جب اس جنس کا کوئی فرد پایا جائے تو گویا یہ جنس بھی پائی گئی۔ جیسے دیکھو، انسان، انسان کی حقیقت کیا ہے؟ حیوانِ ناطق۔ جب کوئی دنیا میں انسان پایا جائے گا تو حیوانِ ناطق بھی پایا جائے گا یا نہیں؟ حیوانِ ناطق۔ تو حیوانِ ناطق جنس ہے، حیوانِ ناطق۔ جیسے مثلاً حیوان ہے، حیوان کیا ہے؟ حیوان جنس ہے، دنیا میں جب بھی کوئی حیوان پایا جائے گا تو یہ جنس بھی پائی جائے گی، یہ جنس بھی پائی، یہ یوں کہو ماہیت کہہ لو، ماہیت۔ مثلاً انسان کی ماہیت کیا ہے؟ حیوانِ ناطق۔ جب بھی دنیا میں کوئی انسان پایا جائے گا، مثلاً اگر خالد، خالد پایا جائے تو حیوانِ ناطق پایا گیا یا نہیں؟ جب بکر پایا گیا تو حیوانِ ناطق پایا گیا۔ تو ماہیت اور جنس جو ہے، اس کا وجود خارج میں افراد کے ضمن میں ہوتا ہے، جب بھی اس کا خارج میں فرد پایا جائے تو وہ جنس بھی پائی گئی۔ افراد کے علاوہ اس کا وجود نہیں ہوتا، ایسا نہیں ہو سکتا آپ کو کہیں حیوانِ ناطق علیحدہ مل جائے، انسان نہ ہو اور یہ حیوانِ ناطق ماہیت ہو، نہیں نہیں۔ جنس کا خارج میں وجود ہوتا ہی کس کے ضمن میں ہے؟ افراد کے ضمن میں۔ جب بھی کوئی ایک رجل، کوئی انسان پایا جائے گا، حیوانِ ناطق بھی پایا، خالد پایا جائے تو بھی حیوانِ ناطق پایا گیا، بکر پایا گیا تو بھی حیوانِ ناطق پایا گیا اور اسی طرح عمرو پایا گیا تو بھی حیوانِ ناطق۔ تو جنس کا وجود خارج میں ہوتا ہے، علیحدہ یا اپنے افراد کے ضمن میں؟ اپنے افراد کے ضمن، جب افراد پائے گئے تو جنس بھی پائی گئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو چنانچہ "الْحَمْدُ"، اس سے کہتے ہیں الف لام جنسی مراد لے لیں گے، کیا لے لیں گے؟ الف لام جنسی۔ تو معنیٰ کیا بن گیا؟ جنسِ حمد، "لِلّٰهِ"، خاص ہے اللہ کے ساتھ۔ جنسِ حمد خاص ہے اللہ کے ساتھ۔ تو معنیٰ بن گیا: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، تمام حمدیں اللہ کے لیے ہیں۔
الف لام کون سا لیا؟ جنسی۔ ترجمہ کرو: جنسِ حمد، "لِلّٰهِ"، لام تک، لام اختصاص کے لیے آتا ہے نا، ایک چیز دوسری چیز کے ساتھ خاص ہے: "الْكِتَابُ لِزَيْدٍ"، یہ کتاب کس کی ہے؟ زید کی، یہ کس نے بتایا؟ لام نے بتایا۔ تو یہاں پر بھی آیا: "الْحَمْدُ لِلّٰهِ"، جنسِ حمد خاص ہے کس کے ساتھ؟ اللہ کے ساتھ۔ جب جنسِ حمد خاص ہے اللہ کے ساتھ، تو معنیٰ ہوا: تمام حمدیں خاص ہیں اللہ کے ساتھ، تمام تعریفیں اللہ ہی کی ہیں۔
آپ کہیں گے کہ بھئی، یہ کہاں سے؟ بھئی، دیکھیے! پھر سمجھ لیں اس بات کو۔ جب میں نے کہا: جنسِ حمد خاص ہے کس کے ساتھ؟ اللہ کے ساتھ۔ فرض کرو دنیا میں ۱۰۰ حمدیں ہیں، فرض کر لو، ویسے تو لا تعداد ہے، آپ جو بھی زبان سے حمد کریں وہ حمد ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ فرض کرو حمد کے افراد کتنے ہیں؟ ۱۰۰۔ ۱۰۰ قسم کی تعریفیں ہیں۔ اگر ان ۱۰۰ میں سے ۹۹ تو اللہ کی ہیں یا ساتھ آپ کہیں، یہ ۹۹ تعریفیں کس کی ہیں؟ اللہ کی۔ اور یہ ایک تعریف فرض کرو زید کی ہے، ویسے مثال کے طور پر، یہ ایک تعریف کس کی؟ زید کی۔ اور ہم، مصنف کیا فرما رہے ہیں؟ "الْحَمْدُ لِلّٰهِ"، جنسِ حمد خاص ہے کس کے ساتھ؟ اللہ کے ساتھ، یعنی جو بھی جنسِ حمد ہوگی وہ اللہ ہی کی ہوگی۔ جب آپ نے کہہ دیا ایک حمد کس کی ہے؟ زید، تو یہ ایک حمد جب خارج میں ہے، جب اس، جب یہ ایک حمد ہے تو جنسِ حمد بھی اس کے ضمن میں پائی جا رہی ہے یا نہیں؟ جنسِ حمد بھی اس کے ضمن میں پائی جا رہی ہے، کیونکہ جنس اپنے افراد کے ضمن میں ہوتی ہے۔ تو اس، جب یہ حمد آپ نے زید کے ساتھ کے لیے کر دی، تو جنسِ حمد زید کے لیے بھی ہو گئی یا نہیں ہو گئی؟ پھر تو آپ کی بات درست نہ رہی، آپ تو کہہ رہے تھے جنسِ حمد خاص ہے کس کے ساتھ؟ اللہ کے ساتھ۔ معلوم ہوا حمد کے جتنے بھی افراد ہیں، وہ سارے کس کے ساتھ خاص ہیں؟ اللہ کے ساتھ۔ اگر کسی اور کی حمد اگر آپ کہہ دیتے ہیں یہ کسی اور کی حمد ہے، کسی اور کی حمد ہے، تو جنسِ حمد اس دوسرے کے لیے بھی پائی گئی اور حالانکہ آپ تو کیا کہہ رہے ہیں؟ جنس، جنسِ حمد تو کس کے ساتھ خاص ہے؟ اللہ کے ساتھ خاص ہے، یعنی اسی کی، یعنی اسی کی ذات میں بند ہیں۔ آپ جو بھی تعریف کر لیں، وہ درحقیقت کس کی تعریف ہے؟ اللہ کی۔ تو "الْحَمْدُ لِلّٰهِ"، جنسِ حمد خاص ہے کس کے ساتھ؟ اللہ کے ساتھ۔ یہ تو جنسِ حمد، آسان لفظوں میں کیا ترجمہ بن گیا؟ تمام تعریفیں اللہ کے ساتھ خاص ہیں۔ اگر ایک حمد بھی کسی اور کی پائی گئی جو اللہ کی نہیں، نہیں مانتے آپ، تو پھر تو وہ جنسِ حمد اللہ کے ساتھ خاص نہ رہی، یہ جو فرد ایک دوسرے کے لیے، کسی اور کے لیے آپ ثابت کر رہے ہیں، تو یہ بھی تو جنسِ حمد ہے، یہ تو کیا ہو گئی؟ کسی دوسرے کے لیے ثابت ہو جائے گا تو اختصاص باقی نہیں رہے گا، حالانکہ وہاں "لِلّٰهِ"، لام کس لیے آ رہا ہے؟ اختصاص، کہ جنسِ حمد خاص ہے کس کے ساتھ؟ اللہ کے ساتھ۔ اور جنسِ حمد اللہ کے ساتھ تبھی خاص آپ مان سکتے ہیں جب آپ یہ مانیں کہ ہر فردِ حمد کس کے ساتھ خاص ہے؟ اللہ، کیو، اللہ کے ساتھ خاص ہے، کیونکہ ہر فردِ حمد کے ضمن میں کیا پائی جا رہی ہے؟ جنسِ حمد پائی جا رہی ہے اور وہ سب کے سب کس کے ساتھ خاص ہیں؟ اللہ کے ساتھ۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو "الْحَمْدُ لِلّٰهِ" کا پہلا ترجمہ کیا: جنسِ حمد خاص ہے اللہ کے ساتھ، یعنی تمام تعریفیں خاص ہیں اللہ کے ساتھ۔ تو اس کو الف لام جنسی لینا ٹھیک ہے، اس کو الف لام جنسی بھی لے سکتے ہیں۔ اور اگر اس کو بنا لیں الف لام استغراقی، تو معنیٰ ہو جائے گا: تمام افرادِ حمد خاص ہیں کس کے ساتھ؟ اللہ کے ساتھ، یعنی تمام تعریفیں اللہ کے ساتھ خاص ہیں، یعنی اللہ ہی کی ہیں۔
آپ کسی بھی چیز کی تعریف کر لیں، وہ درحقیقت اللہ ہی کی تعریف ہے، کیوں؟ کیونکہ ساری چیزوں کو وجود دینے والی وہ ذات ہے۔ تو جب بھی کسی چیز کی تعریف کریں تو اس کے اندر جو صفت یا جس بات کی آپ تعریف کر رہے ہیں، وہ صفت اس کے اندر کس نے رکھی؟ اللہ کی ذات نے، تو وہ حمد گویا کس کی ہوئی؟ اللہ ہی کی ہوئی۔ اسی لیے کہا: جنسِ حمد خاص ہے اللہ کے ساتھ، آپ جس کی مرضی تعریف کر لیں وہ درحقیقت آپ کس کی تعریف کر رہے ہیں؟ اللہ کی۔ اور تمام افرادِ حمد خاص ہیں کس کے ساتھ؟ اللہ کے ساتھ، آپ جو بھی حمد بیان کریں، وہ درحقیقت کس کی حمد ہے؟ اللہ کی حمد ہے۔
تو "الْحَمْدُ" میں الف لام جنسی بھی لے سکتے ہیں اور الف لام استغراقی بھی اور دونوں کا ایک ہی ترجمہ ہوگا کہ تمام تعریفیں کس کے ساتھ ہیں خاص؟ اللہ کے ساتھ، چاہے یوں ترجمہ، چاہے ایک میں کہہ دیں جنسِ حمد خاص ہے اللہ کے ساتھ، معنیٰ آپ اس کا بھی اچھی طرح سمجھ گئے۔
الف لام عہدِ خارجی نہیں مراد لے سکتے، الف لام عہدِ خارجی مراد، کیوں؟ "الْحَمْدُ" کا معنیٰ یہ ہو جائے گا: وہ جو ایک حمد ہے، "الْحَمْدُ" مفرد ہے نا، "رَجُلٌ"، "الرَّجُلُ"، "رَجُلٌ" مفرد ہے، اس پر الف لام لاؤ، "الرَّجُلُ"، کیا معنیٰ؟ وہ ایک مرد۔ "الرَّجُلَانِ"، وہ دو مرد۔ "الرِّجَالُ"، وہ سب، تو "الْحَمْدُ"، یہاں حمد کیا ہے؟ مفرد۔ تو وہ الف لام کے ذریعے کیا ہوا؟ الف لام کے ذریعے اشارہ ہوا، "الْحَمْدُ"، وہ والی جو ایک حمد ہے، اگر آپ الف لام عہدِ خارجی مراد لیں نا تو ترجمہ یوں ہوگا: "الْحَمْدُ"، وہ حمد "لِلّٰهِ"، خاص ہے کس کے ساتھ؟ اللہ کے ساتھ، اور یہ کوئی مناسب، یہ اللہ، وہ جو، وہ ذات جو واجب الوجود ہے اور جس میں تمام صفاتِ کمال جمع ہیں، کیا اس کے لیے صرف ایک حمد ہوگی، یہ بات مناسب بنتی ہے؟ نہیں، یہ مناسب نہیں بن، یہ بات ہی نہیں بنتی، بھئی! تو لہٰذا یہ، اس سے الف لام عہدِ خارجی بھی مراد نہیں لے سکتے، بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟
اور الف لام عہدِ ذہنی بھی مراد نہیں لے سکتے۔ الف لام عہدِ ذہنی، "الْحَمْدُ"، لفظوں میں تو معرفہ بن گیا لیکن معنیٰ میں ابھی بھی یہ نکرہ ہے اور ترجمہ ہوگا: کوئی ایک حمد اللہ کے ساتھ خاص ہے۔ کوئی ایک حمد اللہ کے ساتھ خاص ہے۔ اور یہ بھی کوئی مناسب معنیٰ نہیں ہے، وہ ذات جو واجب الوجود ہے اور تمام صفاتِ کمال کو جامع ہے، جامع ہے، کیا اس کے ساتھ صرف کوئی ایک حمد خاص ہوگی؟ نہیں، تو یہ الف لام عہدِ خارجی، اچھی طرح بات سمجھ بھی آ رہی ہے کہ نہیں؟ الف لام عہدِ خارجی بھی مراد نہیں لے سکتے، الف لام عہدِ ذہنی بھی مراد نہیں لے سکتے، وہ بالکل یہ مناسب بنتے ہی نہیں، تو باقی دو ہی صورتیں رہ گئیں: یا اس سے الف لام جنسی مراد لو یا الف لام استغراقی مراد لو۔
تو معنیٰ کیا ہوا؟ تمام تعریفیں خاص ہیں کس کے ساتھ؟ اللہ کے ساتھ۔ اسی خاص کو انہوں نے منحصر کہہ دیا، جب اللہ کے ساتھ خاص ہیں یعنی تمام حمدیں اللہ کی ذات میں بند ہیں۔ جو بھی آپ تعریف کر لیں، کسی کی بھی کر لیں، وہ دراصل کس کی تعریف ہے؟ اللہ کی تعریف ہے، تو تمام تعریفیں بند ہیں، کس کی ذات میں؟ اللہ کی ذات میں۔
اور اللہ کسے کہتے ہیں؟ وہ ذا، وہ علم ہے اس ذات کا جو واجب الوجود ہے اور جو، جس میں تمام صفاتِ کمال جمع ہیں۔ تو مصنف نے کہا تو یہ کہ "الْحَمْدُ لِلّٰهِ"، تمام تعریفیں خاص ہیں اللہ کے ساتھ، لیکن درحقیقت اس نے یوں کہا کہ تمام تعریفیں خاص ہیں، بند ہیں، یعنی خاص، تمام تعریفیں خاص ہیں اس ذات کے ساتھ جو واجب الوجود ہے اور جس میں تمام صفاتِ کمال جمع ہیں، اس کے ساتھ ساری حمدیں خاص ہیں۔ کیوں خاص ہیں؟ کیونکہ وہ ذات ایسی ہے۔ کیسی ہے؟ کہ وہ واجب الوجود ہے اور اس میں تمام صفاتِ، جب وہ ذات ایسی ہے کہ وہ واجب الوجود ہے اور اس میں تمام صفاتِ کمال جمع ہیں تو حمد ہونی بھی اسی کی چاہیے، کسی اور کی حمد نہیں ہونی چاہیے، بھئی! کیونکہ اور کوئی واجب الوجود ہی نہیں ہے اور کوئی ایسی ذات ہی نہیں ہے جس میں ساری صفاتِ کمال جمع ہوں، بھئی!
بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ دعویٰ کیا ہو گیا گویا مصنف کا؟ تمام تعریفیں اللہ، اللہ کے ساتھ، یعنی بند ہیں، تمام تعریفیں اللہ کی ذات میں بند۔ یہ بند ہے، یہ لفظ استعمال کر رہے ہیں: منحصر، بند ہیں، یعنی خاص ہیں، میں نے آسان لفظوں میں بتا دیا۔ تمام حمدیں، تمام تعریفیں خاص ہیں کس کے ساتھ؟ اللہ کے ساتھ، کیوں؟ تمام تعریفیں اللہ کے ساتھ کیوں خاص ہیں؟ کیونکہ، کیونکہ وہ ذات واجب الوجود ہے اور تمام صفاتِ کمال کو جمع کرنے والی ہے، دیکھو دلیل بھی ساتھ آ گئی یا نہیں؟ تمام تعریفیں اللہ کے ساتھ خاص ہیں، دلیل کیا ہے؟ کیونکہ وہ واجب الوجود ہے اور تمام صفاتِ کمال اس میں جمع ہیں اور حمد بھی کیا ہے؟ صفاتِ کمال میں سے ہے، تعریف پسندیدہ ہے یا نہیں؟ کسی کی بھی کی جائے تو حمد بھی صفتِ کمال ہے اور تمام صفاتِ کمال تو کس کے ساتھ خاص ہیں؟ اللہ کے ساتھ، تو یہ حمد بھی، ہر حمد بھی خاص ہو گئی کس کے ساتھ؟ اللہ کے ساتھ خاص ہو گئی۔
تو یہ ہوا دعوائے شئے بھی اور ساتھ دلیل بھی آ گئی، ساتھ دلیل بھی آ گئی۔ "الْحَمْدُ لِلّٰهِ"، پھر سن لو! "الْحَمْدُ لِلّٰهِ"، تمام تعریفیں خاص ہیں کس کے ساتھ؟ اللہ کے ساتھ، کیوں بھئی، کیوں خاص ہیں؟ کیونکہ اللہ، ا، لفظِ اللہ آیا، کیونکہ وہ ذات ایسی ہے جس میں، جو واجب الوجود ہے اور اس میں تمام صفاتِ کمال تمام صفاتِ کمال اس میں جمع ہیں، جمع ہیں۔ دلیل ساتھ آ رہی ہے؟ اب یوں کرو، لفظِ اللہ، "الْحَمْدُ لِلّٰهِ" جو شروع میں آپ نے کہا، تمام تعریفیں خاص ہیں کس کے ساتھ؟ اللہ، یہاں سے لفظِ اللہ کو اٹھاؤ اور وہ رکھ دو: تمام تعریفیں خاص ہیں اس ذات کے ساتھ جو واجب الوجود ہے اور جس میں تمام صفاتِ کمال جمع ہیں، آگے اب دلیل لاؤ، کیونکہ وہ ذات ایسی ہے، یعنی اس میں وہ واجب الوجود ہے اور اس میں یہ صفاتِ کمال جمع ہیں۔
تو لفظِ اللہ خود ہی ان چیزوں پر دلالت کر رہا ہے، تو دعوے کے ساتھ خود ہی دلیل بھی آ جاتی ہے، تمام حمدیں خاص ہیں اللہ کے ساتھ، تمام حمدیں خاص ہیں اس ذات کے ساتھ جو واجب الوجود ہے اور جس میں تمام صفاتِ کمال جمع ہیں، کیونکہ وہ ذات ایسی ہے۔
سمجھ میں آیا؟ یہ عبارت آپ نے دیکھی: "مِنْ حَيْثُ هُوَ كَذٰلِكَ"، کاف کے ساتھ کاف جڑا ہوا ہے لیکن یہ اس کو پڑھنا ہے "كَذٰلِكَ"، تخفیف کے طور پر ایک دو حرفوں کو کم کر دیا، ذال اور لام کو ختم کیا اور کاف کو کاف کے ساتھ جوڑ دیا، تو پڑھنا کیا ہے؟ "كَذٰلِكَ"۔ اس حیثیت سے کہ کیونکہ وہ ذات ایسی ہے، اس حیثیت سے؟ کیونکہ، ترجمہ کیا کرو؟ کیونکہ وہ ذات ایسی ہے، یا یوں ترجمہ کرو: "مِنْ حَيْثُ هُوَ كَذٰلِكَ"، اس وجہ سے کہ وہ ذات ایسی ہے۔
تو یہ اسی طرح ہوا، گویا کہ چیز کا دعویٰ بھی ہو اور ساتھ اس کی دلیل۔ اس پر پھر اشکال ہوا تھا کہ یوں ق، آپ کو کہنا چاہیے یہ تھا کہ یہ دعویٰ بھی ہے اور ساتھ دلیل بھی ہے، آپ یہ نہیں کہہ رہے یہ دعویٰ ہے اور ساتھ دلیل، آپ کہہ رہے ہیں یہ اس جیسا ہے کہ دعوے کے ساتھ کیا ہو؟ دلیل۔ بھئی، سیدھا سیدھا کہیں یہ دعویٰ اور ساتھ دلیل ہے، آپ کہہ رہے ہیں یہ دعوے اور دلیل جیسا ہے، جیسا نہیں ہے، اس میں تو دلیل ساتھ آ رہی ہے، کہتے ہیں: نہیں نہیں، دعوے کے ساتھ دلیل یہاں ہے نہیں لیکن یہ ہے اسی جیسا، دونوں میں فرق ہے، کیونکہ ایک، آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ "الْحَمْدُ لِلّٰهِ"، تو یہاں دعویٰ ہے، دلیل اس سے سمجھ میں آ رہی ہے، دلیل اس سے، ہاں، غور کریں گے تو سمجھ میں آئے گی، لیکن بہرحال، تو دونوں میں فرق ہے، ایک صریح لفظوں میں آپ دعوے کے ساتھ دلیل بھی ذکر کریں اور یوں کہیں: حمد خاص ہے اس ذات کے ساتھ جو واجب الوجود ہے اور جو اس میں ساری صفاتِ کمال جمع ہیں، کیونکہ وہ ذات ایسی ہے کہ وہ واجب الوجود ہے اور اس میں تمام صفاتِ کمال جمع، تو "کیونکہ" کے ساتھ دلیل الگ ذکر کریں، تو ایک یہ کلام جس میں آپ صراحتاً الگ لفظِ اللہ کا پورا مفہوم بھی اس کے ساتھ ذکر کریں اور ساتھ ساتھ دلیل بھی لے کر آئیں، ایک وہ ہے اور ایک صرف "الْحَمْدُ لِلّٰهِ"، تو یہ "الْحَمْدُ لِلّٰهِ" اس جیسا تو ہے لیکن بالکل اس کے درجے میں نہیں، بالکل وہی چیز نہیں ہے، بھئی!
اسی لیے کہا: "فَكَانَ كَدَعْوَى الشَّيْءِ"، یہ دعوائے شئے ببینہ جیسا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
کیونکہ دونوں میں فرق ہے، ایک یہ ہے کہ آپ دعوے کے ساتھ دلیل کو صراحتاً ذکر کریں اور یوں کہیں کہ ساری حمد خاص، ساری حمدیں خاص ہیں اس ذات کے ساتھ جو واجب الوجود ہے اور جس میں ساری صفاتِ کمال جمع ہیں، دعویٰ بھی ذکر کریں اور دلیل بھی ذکر کریں، کیونکہ وہ ذات واجب الوجود ہے اور اس میں ساری صفاتِ کمال جمع ہیں، تو ایک یہ ہے کہ آپ ساتھ دعویٰ اور دلیل کو الگ الگ ذکر کریں اور ایک یہ کہ "الْحَمْدُ لِلّٰهِ" سے دعوے کے ساتھ دلیل بھی مفہوم ہو، تو دونوں میں فرق ہے، پورے بالکل ایک جیسے نہیں، اسی لیے کہا کہ یہ "كَدَعْوَى الشَّيْءِ"، یہ کس کی طرح ہے؟ دعوائے شئے ببینہ جیسا ہے، بعینہٖ وہ نہیں ہے، بھئی! بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی، بھئی؟
چلیے، بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔