آچھا بھئی، دیکھیے بھئی کتاب پر۔
والحمد هو الثناء باللسان على الجميل الاختياري نعمة كان أو غيرها، والله علم على الأصح للذات الواجب الوجود المستجمع لجميع صفات الكمال، ولدلالته على هذا الاستجماع صار الكلام في قوة أن يقال: الحمد مطلقا منحصر في حق من هو مستجمع لجميع صفات الكمال من حيث هو كذلك، فكان كدعوى الشيء ببينة وبرهان ولا يخفى لطفه.
گزشتہ سبق میں شارح نے آپ کو بتلایا تھا کہ علامہ تفتازانی نے اپنی کتاب کو بسم اللہ کے بعد الحمد للہ کے ساتھ شروع کیا دو وجہ سے: ایک تو قرآن کا اتباع کرتے ہوئے اور دوسرا حضور علیہ السلام کی حدیث کی پیروی کرتے ہوئے، کہ حدیث پر عمل ہو جائے۔ اس پر پھر اشکال ہوتا ہے کہ بھئی جیسے حدیث بسم اللہ کے بارے میں آتی ہے ایسے ہی الحمد للہ کے بارے میں بھی آتی ہے۔ تو اگر ایک حدیث پر عمل کیا جائے تو دوسری پر عمل نہیں ہو سکتا۔ تو مصنف نے اگر ایک حدیث پر عمل کیا ہے، یعنی بسم اللہ والی حدیث پر عمل کیا اور بسم اللہ کو شروع میں لے آئے، تو دوسری حدیث پر عمل نہ ہو سکا کیونکہ الحمد للہ تو شروع میں نہ آئی، وہ تو بسم اللہ کے بعد آ گئی۔ تو ان دونوں کے درمیان تطبیق کیسے کی جائے گی؟ توفیق کیسے کی جائے گی؟ یعنی جو بظاہر ان دونوں حدیثوں میں ٹکراؤ معلوم ہو رہا ہے، اس ٹکراؤ کو کیسے ختم کیا جائے گا؟
تو شارح نے آپ کو تین جوابات دیے تھے اور بتلایا تھا کہ دیکھیے بھئی، ابتداء تین قسم پر ہے: ایک ابتداء حقیقی ہے، ایک ابتداء عرفی ہے اور ایک ابتداء اضافی ہے۔ ابتداء حقیقی، نام سے ہی پتہ چل رہا ہے جو حقیقتاً جس سے ابتداء ہو، جو سب سے شروع میں آئے، اس سے پہلے کچھ بھی نہ ہو۔ اور ابتداء اضافی، اضافت سے ہے، اضافت کا کیا معنی ہے؟ نسبت، جو بعض کی نسبت سے شروع میں ہو، باقیوں کی نسبت سے چاہے شروع میں ہو یا نہ ہو۔ اور تیسرا ہے ابتداء عرفی، یہ عرف کا معنی میں نے بتلایا تھا عادت بھئی، طریقہ اور عادت، عام لوگوں کا جو، کی جو عادت اور جو ان کا طریقہ ہے اس کو عرف کہتے ہیں بھئی۔ فقہ کے مسائل میں جگہ جگہ اس کا ذکر آئے گا بھئی۔
تو تیسری ابتداء عرفی تھی کہ جس کو عام لوگ کی عادت میں طریقے میں اس کو ابتداء کہا جاتا ہو، اور آپ جانتے ہیں عام لوگوں کے اندر شروع، شروع کا سارا حصہ کیا کہلاتا ہے؟ اس کو شروع ہی کہا جاتا ہے، اگرچہ اس سے پہلے کئی چیزیں بھی گزر جائیں۔ جب تک کہ وہ مقصد سے پہلے پہلے ہے تو اس سارے کو کیا کہہ دیتے ہیں؟ شروع کہتے ہیں۔ میں نے مثال ذکر کی تھی کہ کئی دن سے آپ کا سبق چل رہا ہو، 8 10 دن بھی گزر گئے ہوں، کوئی آپ سے پوچھتا ہے کتنی کتاب ہوئی آپ کی؟ تو آپ کہتے ہیں ابھی تو ہم شروع میں ہی ہیں، کہتے ہیں یا نہیں کہتے؟ تو یہ سارے کو شروع ہی شمار کیا جاتا ہے، تو جو مقصد سے یعنی پہلے ہے سارا آغاز میں، یہ سارا شروع ہے۔
تو ابتداء گویا تین قسم کی ہو گئی: حقیقی، اضافی اور عرفی۔ اور پھر جواب دیا تھا کہ بسم اللہ والی جو حدیث ہے ہم اس کو محمول کرتے ہیں ابتداء حقیقی پر، وہاں جو حدیث میں آیا نہ لم يبدأ فيه، تو وہاں جو ابتداء کا ذکر آ رہا ہے وہاں کون سی ابتداء مراد ہے؟ ابتداء حقیقی مراد ہے۔ اور جو الحمد للہ والی حدیث میں لم يبدأ یعنی ابتداء کا جو ذکر آ رہا ہے، اس سے ہم مراد لیتے ہیں ابتداء اضافی، ابتداء اضافی۔ تو دیکھا، اب دونوں حدیثوں میں ٹکراؤ ختم ہو گیا۔ ٹکراؤ اس لیے معلوم ہو رہا تھا کہ یوں لگتا تھا ایک سے بھی ابتداء حقیقی مراد ہے، دوسرے سے بھی ابتداء حقیقی، لیکن ہم نے بتا دیا ایک میں ابتداء سے مراد کیا ہے؟ ابتداء حقیقی، دوسری میں کیا مراد ہے؟ ابتداء اضافی، تو دونوں میں ٹکراؤ ہے ہی نہیں، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو دونوں پر عمل ہو رہا ہے، بسم اللہ سے حقیقتاً ابتداء ہے، اور الحمد للہ، الحمد للہ میں اضافتاً ابتداء ہے، باقی ساری کتاب کی نسبت سے کیا ہے؟ ابتداء ہے۔ تو دونوں پر عمل ہو گیا یا نہیں؟ ٹکراؤ ختم ہو گیا۔ یا دوسری صورت یہ کہ بسم اللہ والی حدیث کو ہم محمول کرتے ہیں ابتداء حقیقی پر ہی، جبکہ الحمد للہ والی حدیث کو ہم محمول کرتے ہیں ابتداء عرفی پر بھئی۔ تو دیکھو اب بھی اشکال ختم ہو گیا، احادیثوں میں تطبیق آ گئی، تعارض ختم ہو گیا، پتہ چلا بسم اللہ والی حدیث میں کون سی ابتداء مراد؟ ابتداء حقیقی، اور الحمد للہ والی حدیث میں ابتداء عرفی مراد ہے، تو دونوں میں ٹکراؤ ہے ہی نہیں، دونوں پر اس وقت عمل ہو رہا ہے، بسم اللہ بالکل آغاز میں ہے اور الحمد للہ جس کو عرف میں ابتداء ہی کہتے ہیں تو دونوں پر عمل ہو گیا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟
اور تیسرا جواب یہ دیا تھا کہ دونوں سے ابتداء عرفی مراد ہے۔ ابتداء عرفی، تو عرف میں جو شروع میں آئے، چاہے اس سے پہلے کچھ اور ہو یا کچھ اور نہ ہو، مقصود وغیرہ سے کتاب کے مسائل سے جو پہلے آ جائے اس سارے کو شروع کہتے ہیں۔ تو بسم اللہ بھی شروع میں ہے اور الحمد للہ بھی شروع ہی میں ہے، تو دیکھیے تعارض نہ رہا بھئی، جواب ہو گیا، تو تین جوابات دیے بھئی، تین جوابات۔
اس کے بعد حمد کی بحث آئی تھی بھئی، حمد کی۔ اور آپ نے پڑھا تھا کہ الحمد هو الثناء باللسان على الجميل الاختياري نعمة كان أو غيرها، کہ حمد جو ہے وہ زبان سے تعریف کرنا ہے، کس پر؟ على الجميل، أي على الوصف الجميل، کس پر؟ کسی اچھے وصف پر، الاختياري، وہ وصف کیسا ہو؟ اختیاری ہو، اپنے اختیار سے ہو، نعمة كان أو غيرها، چاہے وہ نعمت ہو یا نعمت نہ ہو، یعنی انعام و احسان ہو یا انعام و احسان نہ ہو وہ وصف بھئی۔
تو یہ حمد ہے، تو بتلایا حمد کے اندر، حمد کے اندر کتنی قیدیں معتبر ہیں؟ تو حمد میں کتنی قیدیں آ گئیں؟ چار چیزیں آ گئیں۔ نمبر ایک کیا؟ کہ تعریف کس سے ہو؟ زبان سے ہو۔ دوسرا؟ اچھے وصف پر ہو۔ تیسرا؟ اختیاری ہو، اور چوتھا؟ انعام ہو یا انعام نہ ہو، انعام ہو یا نہ ہو اس کو تو بے شک رہنے ہی دیں، نکال ہی دیں، کیونکہ انعام ہو وہ بھی صورت ہے، انعام نہ ہو وہ بھی اس میں داخل ہے، تو ذکر ہی نہ کرو، ذکر نہ کرو گے تو بھی دونوں صورتیں داخل ہو جائیں گی۔ بھئی اختیاری کی قید لگائی نہ، تو کیا نکل گیا؟ غیر اختیاری نکل گیا، اختیاری کی قید لگائی تو؟ جب آپ قید ہی نہیں لگائیں گے تو کوئی چیز نکلے گی بھی نہیں، نعمة كان أو غير نعمت، نعمة كان أو غيرها، أي غير نعمت۔
تو گویا یوں سمجھو، آسان لفظوں میں یوں سمجھو کہ حمد میں تین قیدیں ہیں بس، تین قیدیں ہیں، کیا؟ زبان سے تعریف ہو، اور اچھے وصف پر ہو، اور اختیاری ہونا چاہیے وہ، تو تین قیدیں ہیں۔ چوتھی قید نعمة أو غير نعمت اس کی ضرورت ہی نہیں ہے بھئی، دونوں صورتوں میں چاہے نعمت ہو یا نہ ہو دونوں کس میں آ گئے؟ وہ حمد کے اندر آ گئے بھئی۔
اور مدح آپ نے پڑھا تھا هو الثناء باللسان على الجميل، على الجميل نعمة كان أو غيرها، یہاں سے بھی بے شک نعمة كان أو غيرها کو ختم کر دیں کیونکہ دونوں داخل ہیں اس کے اندر بھئی۔ تو گویا مدح کے اندر صرف دو قیدیں آ گئیں، کون کون سی؟ زبان سے ہو اور دوسرا اچھے وصف پر ہو بس، اختیاری ہو یا غیر اختیاری کوئی بات نہیں، دونوں صورتیں داخل ہیں، نعمت کے مقابلے میں ہو یا غیر نعمت کے مقابلے میں، دونوں اس میں داخل ہیں بھئی۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ تیسرا آپ نے آخر میں پڑھا تھا شکر کے بارے میں، شکر آپ نے پڑھا کہ شکر زبان سے بھی ہو سکتا ہے، شکر دل سے بھی ہو سکتا ہے اور شکر اعضاء سے بھی ہو سکتا ہے ہاتھ پاؤں وغیرہ سے بھئی۔ تو اسی لیے وہاں ثناء کا لفظ نہیں لائے، بلکہ وہاں فعل لے کر آئے، کیا لے کر آئے؟ هو فعل ينبئ، تاکہ یہ فعلِ لسان، زبان سے جو تعریف کریں وہ کیا ہوا؟ فعلِ لسان، یعنی وہ ثناء، ثناء کو بھی یہ شامل ہو جائے، دل کے فعل کو بھی شامل ہو جائے اور اعضاء کے فعل کو بھی شامل، اسی لیے وہاں ثناء کا لفظ نہیں لائے کیونکہ ثناء کہتے پھر تو صرف زبان سے ثناء ہوتی ہے بھئی، تو وہاں فعل کا لفظ لائے۔
تو شکر ہمیشہ یاد رکھو انعام کے مقابلے میں ہوتا ہے، کسی نے آپ کے ساتھ اچھائی کی اور آپ بدلے میں اس کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں، اس کا احترام کرتے ہیں، اس کی عزت کرتے ہیں، اس کی تعریف کرتے ہیں، یہ سارا شکر میں داخل ہے کیونکہ یہ سارا کس کے مقابلے میں آ رہا ہے؟ انعام و احسان کے مقابلے میں آ رہا ہے۔ اور پھر یہ زبان سے بھی ہو سکتا ہے، دل سے بھی ہو سکتا ہے اور اعضاء سے بھی ہو سکتا ہے۔ زبان سے کیسے شکر ہوگا؟ کہ آپ اس شخص کی تعریف کر دیں کہ وہ بڑا اچھا آدمی ہے۔ اور یہ آپ نے ویسے تعریف کی یا اس نے احسان کیا تھا؟ احسان، لہذا معلوم ہوا یہ شکر ہے۔
اور ہاں، حمد ہے یا نہیں؟ زید بڑا سخی آدمی ہے، بڑا اچھا آدمی ہے، جی، یہ کیا ہے؟ حمد بھی ہے، کیونکہ زبان سے کر رہے ہیں، اور اچھے وصف پر کر رہے ہیں، اور وصف بھی کیسا ہے؟ اختیاری وصف ہے، اس نے آپ کے ساتھ احسان کیا، اپنے اختیار سے احسان کیا ہے۔ تو یہ حمد بھی ہے، اور مدح بھی ہے یا نہیں؟ مدح بھی ہے، کیونکہ مدح میں تو صرف دو شرطیں تھیں، کیا؟ زبان سے ہو اور دوسرا اچھے وصف پر ہو، تو یہ بھی زبان سے اور اچھے وصف پر ہے۔
ہاں، لیکن شکر جو ہے وہ دل سے بھی ہو سکتا ہے، جبکہ حمد اور مدح دل سے نہیں ہو سکتے، اس میں ثناء ضروری ہے، یعنی زبان سے ضروری ہے۔ تو شکر دل سے بھی ہو سکتا ہے، دل سے شکر کا کیا معنی؟ کہ اس شخص کے بارے میں، اس ذات کے بارے میں آپ کے دل میں اچھا اعتقاد آئے کہ وہ اچھا ہے، نیک ہے، سخی ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ دل کا شکر ہوا، فعلِ قلب ہوا، فعلِ قلب۔
اور شکر اعضاء و جوارح سے بھی ہو سکتا ہے، مثلاً زید نے آپ کے ساتھ احسان کیا تھا، تو آپ کیا کرتے ہیں؟ زید کی خدمت کر دیتے ہیں، زید کی کچھ خدمت کر دیتے ہیں، اور اس کا کوئی کام وغیرہ کر دیتے ہیں، تو آپ اس زید کی خدمت وغیرہ کر دیتے ہیں، دیکھیے اب یہ خدمت اس سے زید کی تعظیم کا پتہ چل رہا ہے۔ دیکھنے والے دیکھتے ہیں کہ آپ زید کی خدمت کر رہے ہیں، تو دیکھو پتہ چلا آپ زید کی تعظیم کر رہے ہیں، کیا کر رہے ہیں؟ تو کوئی زید کا ایسا کام وغیرہ کریں جس سے زید کی تعظیم پر دلالت ہو جائے تو یہ شکر ہے جوارح کے ساتھ، یعنی اعضاء، ارکان، ارکان اور جوارح کا ایک معنی، ارکان، اعضاء، جوارح، تینوں کا ایک معنی، سب اعضاء کو کہتے ہیں۔
تو دیکھو آپ نے کیا کیا؟ اعضاء کے ساتھ زید کی خدمت کی جس سے زید کی تعظیم پر کیا ہوئی؟ دلالت ہو گئی۔ سمجھ میں آئی بات؟ مثلاً زید بیٹھا ہوا تھا آپ نے اس کے پاؤں دبانا شروع کر دیے، کیا اس میں تعظیم ہے یا نہیں؟ دیکھنے والوں کو پتہ چل رہا ہے آپ زید کی کیا کر رہے ہیں؟ تعظیم اور تکریم کر رہے ہیں بھئی، اور یہ کس کے مقابلے میں ہے؟ احسان کے مقابلے میں ہے، تو لہذا یہ کیا ہے؟ شکر ہے، اور نہ دیکھو اس میں آپ نے زبان سے کچھ کہا، نہ اس میں قلب کا کوئی دخل ہے، بلکہ ہاتھوں کے ساتھ آپ اس کو کیا کر رہے ہیں؟ اس کے پاؤں کو دبا رہے ہیں۔ تو یہ کیا ہے؟ شکرِ اعضاء ہے بھئی، اعضاء کے ساتھ، فعلِ اعضاء ہے بھئی۔
تو لہذا معلوم ہوا حمد جو ہے وہ صرف زبان سے ہو سکتی ہے، تو جس سے حمد ہوگی، جس سے کوئی چیز ادا کی جائے اس کو مورد کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ مورد، یاد رہے گا لفظ بھئی؟ کیا کہتے ہیں؟ مورد، یعنی جس سے کوئی چیز وارد ہو بھئی، آئے بھئی۔
تو حمد کا مورد کیا ہے؟ زبان، حمد کس سے ادا ہوتی ہے؟ زبان سے، تو جس سے ادائیگی ہو اس کو مورد کہتے ہیں، ورود کی جگہ، ظرف کا صیغہ ہے۔ تو حمد کی ادائیگی کس سے ہوتی ہے؟ ادھر دیکھیے بھئی، حمد کی ادائیگی کس سے ہوتی ہے؟ تو یوں کہو، حمد کا مورد کیا ہے؟ زبان ہے۔ اچھا، مدح کا مورد کیا ہے؟ زبان ہے، اور شکر کا مورد کیا ہے؟ شکر کس سے ادا ہوتا ہے؟ زبان سے بھی، اور دل سے بھی، اور اعضاء سے بھی، تو معلوم ہوا شکر مورد کے اعتبار سے شکر عام ہے، اور حمد اور مدح خاص ہیں، کیونکہ شکر کے مورد کیا کیا چیزیں ہیں؟ زبان بھی ہے، اور زبان بھی ہے، قلب بھی ہے، اور اعضاء بھی ہیں، تین تینوں سے شکر ادا ہو سکتا ہے بھئی، تو مورد کے اعتبار سے شکر کیا ہے؟ عام ہے، اور حمد اور مدح کیا ہیں؟ خاص ہیں۔
توجه ہے؟ مورد کے اعتبار سے شکر کیا ہے؟ عام ہے، اس میں عموم ہے، تین چیزوں سے ہو سکتا ہے، لیکن حمد اور مدح خاص ہیں، وہ صرف زبان سے ہی ہوں گے بھئی۔ جبکہ متعلق کے اعتبار سے، متعلق کے اعتبار سے حمد اور مدح عام ہیں، متعلق یعنی جس کے مقابلے میں آئے بھئی، جس کے مقابلے میں یہ حمد یا مدح آئے، اور آپ پڑھ چکے کہ حمد اور مدح یہ انعام کے مقابلے میں بھی ہو سکتے ہیں اور انعام کے بغیر بھی ہو سکتے ہیں، حمد بھی اور مدح بھی، تو معلوم ہوا ان کا متعلق عام ہے، دونوں چیزیں ہیں۔
اور شکر صرف کس کے مقابلے میں آئے گا؟ انعام کے مقابلے میں آئے گا، بغیر انعام کے وہ شکر نہیں کہلائے گا، تو شکر کا متعلق، شکر متعلق کے اعتبار سے خاص، اور حمد اور مدح متعلق کے اعتبار سے عام، توجہ ہے؟
تو مورد کے اعتبار سے کون عام اور کون خاص؟ شکر عام، اور حمد اور مدح خاص، اور متعلق کے اعتبار سے کون عام اور کون خاص؟ شکر خاص، اور حمد اور مدح عام ہیں، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
اور پھر ان میں آپس میں نسبتیں بھی دیکھ لو بھئی، نسبتیں دیکھ لو۔ حمد اور مدح، حمد اور مدح، ان دونوں میں کیا فرق ہے؟ صرف اختیاری اور غیر اختیاری کا فرق ہے، حمد ہمیشہ اختیاری وصف پر ہوگی، جبکہ مدح اختیاری پر بھی ہو سکتی ہے اور غیر اختیاری، معلوم ہوا حمد خاص ہے، صرف اختیاری پر ہے، اور مدح کیا ہے؟ عام ہے، چاہے اختیاری پر ہو چاہے غیر اختیاری پر ہو، تو ان دونوں میں عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہے، آپ پڑھ چکے بھئی۔ عموم و خصوص مطلق یاد ہے یا بھول گئے بھئی؟ عموم و خصوص مطلق کسے کہتے ہیں؟ کہ پہلی کلی دوسری کلی کے ہر فرد پر صادق آئے، لیکن دوسری کلی پہلی کلی کے ہر فرد پر صادق نہ آئے، نہ آئے بھئی، آپ پڑھ چکے، دوبارہ سن لیں۔
آپ نے پڑھا ہے کہ کوئی سی دو کلیاں لے لیں، کلی جو کثیرین پر بولی جائے، تو اس میں ان میں چار نسبتوں میں سے ایک نسبت ضرور ہوگی: یا ان میں تساوی کی نسبت ہوگی، یا تباین کی نسبت ہوگی، یا عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہوگی، یا عموم و خصوص من وجہ کی نسبت ہوگی بھئی، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
تساوی کسے کہتے تھے؟ تساوی نام سے ہی پتہ چل رہا ہے، برابر، باہم ایک دوسرے کے برابر ہونا، یعنی ایک کلی جس پر صادق آ رہی ہے، دوسری کلی بھی اس پر صادق آ رہی ہے، دونوں برابر ہیں۔ تساوی کہ پہلی کلی دوسری کلی کے ہر فرد پر صادق آئے اور دوسری کلی پہلی کلی کے ہر فرد پر صادق آئے، یا یوں کہیں پہلی کلی جس جس پر صادق آئے، دوسری کلی بھی اس پر صادق آئے، جیسے، جیسے دیکھو، انسان اور ناطق بھئی، انسان اور ناطق، جو بھی انسان ہے وہ کیا ہے؟ ناطق ہے، اور جو بھی ناطق ہے وہ کیا ہے؟ انسان ہے، دیکھا دونوں ایک دوسرے کے برابر ہیں، دنیا میں کوئی ایسی چیز آپ کے نہیں ملے گی جو ناطق تو ہو لیکن انسان نہ ہو۔
تو یہ ہے تساوی، اور ایک ہے تباین کہ پہلی کلی دوسری کے کسی فرد پر صادق نہ آئے اور دوسری پہلی کے کسی فرد پر صادق نہ آئے، جیسے انسان اور پتھر، کوئی انسان پتھر نہیں، اور کوئی پتھر انسان نہیں، تو دونوں کہیں بھی جمع نہیں ہوتے کہ ایک ہی چیز انسان بھی ہو اور پتھر بھی ہو، ایسا کہیں پر بھی نہیں ہے، تو یہ ہے تباین کی نسبت بھئی، کیا ہے؟ تباین۔
اور ایک ہے عموم و خصوص مطلق، عموم و خصوص مطلق یہ ہے کہ پہلی کلی دوسری کلی کے ہر فرد پر صادق آئے، لیکن دوسری کلی پہلی کے ہر فرد پر صادق نہ آئے، اور اس کی مثال آپ نے پڑھی تھی، انسان اور حیوان، جو بھی انسان ہے وہ حیوان ضرور ہے، لیکن جو بھی حیوان ہو وہ انسان نہیں ہوگا، بعض حیوان انسان ہیں اور بعض نہیں، تو ان دو میں سے کون سی نسبت ہے؟ عموم و خصوص مطلق، دیکھو یہ جو عموم و خصوص مطلق ہوتا ہے نا، اس میں ایک کلی بڑی ہوتی ہے، ایک چھوٹی، اور چھوٹی کلی اسی کے اندر داخل ہوتی ہے۔ انسان کس کے اندر داخل ہے؟ حیوان کے اندر ہی داخل ہے، جب آپ حیوان شمار کریں گے، انسان بھی اس کے اندر آ جائیں گے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ان میں کون سی نسبت؟ جب ایک کلی بڑی ہو اور ایک چھوٹی ہے جو اسی کے اندر داخل ہے، تو یہ کون سی نسبت ہوتی ہے؟ عموم و خصوص مطلق، اور چوتھی نسبت ہے عموم و خصوص من وجہ کہ جس میں، جس میں ایک کلی پہلی کے بعض افراد پر صادق آئے بعض پر صادق نہ آئے، اور دوسری کلی پہلی کے بعض افراد پر صادق آئے اور بعض پر صادق نہ آئے، اور یاد رکھو کہ یہاں پر پھر تین قسم کی چیزیں بن جاتی ہیں۔
کتنی قسم کی؟ تین چیزیں: ایک قسم وہ جس میں صرف پہلی کلی ہوگی، دوسری نہیں، دوسری وہ جس میں صرف دوسری کلی ہوگی، پہلی نہیں، اور تیسری وہ چیز جہاں دونوں جمع ہو رہی ہیں، جس میں دونوں کیا ہیں؟ جمع ہو رہی ہیں، جیسے حیوان اور ابيض آپ نے پڑھا تھا، حیوان اور ابيض، دیکھو بعض چیزیں حیوان ہوں گی لیکن ابيض نہیں ہوں گی، جیسے کالی بھینس، حیوان تو ہے لیکن سفید نہیں ہے، اسی طرح بعض چیزیں سفید ہوں گی لیکن حیوان نہیں، جیسے سفید دیوار، سفید چادر، سفید کپڑا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ سفید تو ہے لیکن حیوان نہیں، اور بعض جگہ یہ دونوں اکٹھی ہو جائیں گی کہ حیوان بھی ہوگا اور ابيض بھی ہوگا، جیسے سفید بطخ، تو وہ حیوان بھی ہے اور ابيض یعنی سفید بھی ہے۔
تو یہ عموم و خصوص من وجہ کے اندر تین مادے ہوتے ہیں، کتنے مادے؟ یعنی تین قسم کی چیزیں بن جاتی ہیں، تین مادے ہوتے ہیں: دو افتراق والے مادے ہوتے ہیں، جہاں دونوں الگ الگ ہوتے ہیں، ایک میں ایک کلی ہے، دوسرے میں دوسری کلی، اور ایک اجتماع والا مادہ ہے جہاں دونوں کیا ہو رہے ہیں؟ اکٹھے ہو رہے ہیں بھئی، اچھی طرح بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دو کلیوں میں کتنی نسبتیں ہو سکتی ہیں؟ چار: نمبر ایک تساوی، نمبر دو تباین، نمبر تین عموم و خصوص مطلق اور نمبر چار عموم و خصوص من وجہ۔
اب آئیے بھئی، یہاں ہم نے پڑھا حمد، مدح اور شکر، تو ان میں ہم نسبتیں دیکھ لیتے ہیں۔ حمد اور مدح، حمد اور مدح، اس میں کون سی نسبت ہے بھئی؟ حمد کیا ہوگی؟ اختیاری، اور مدح کیا ہوگی؟ اختیاری بھی ہو سکتی ہے اور غیر اختیاری۔ ادھر دیکھو، جب مدح اختیاری بھی ہو سکتی ہے اور غیر اختیاری، تو اختیاری ہوئی تو وہ کیا ہوئی؟ حمد بھی ہوئی، تو حمد اسی کے اندر آ گئی یا نہیں آ گئی؟ مدح کے اندر ہی حمد بھی آ گئی، کیونکہ مدح کی دو صورتیں بن گئیں: کبھی اختیاری ہوگی، کبھی وہ وصف اختیاری ہوگا، کبھی غیر، اور جب اختیاری ہوگا تو اسی کو حمد بھی تو کہتے ہیں، تو حمد کس کے اندر داخل ہے؟ مدح کے اندر ہی داخل ہے، تو مدح کا دائرہ وسیع، اس میں اختیاری وصف بھی داخل، غیر اختیاری بھی داخل، جبکہ حمد کے اندر صرف کون سا وصف داخل؟ اختیاری صرف داخل، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟
تو جب، تو معلوم ہوا حمد کا، مدح کا دائرہ وسیع، اور حمد کا دائرہ تنگ، یا یوں کہو حمد مدح ہی کے اندر داخل ہے، حمد کیا ہے؟ مدح ہی کے اندر داخل ہے۔ تو جب حمد مدح ہی کے اندر داخل ہے، معلوم ہوا ایک کلی بڑی ہے، ایک چھوٹی ہے جو اسی کے اندر داخل ہے، اور جہاں بھی ایسا ہو وہاں کون سی نسبت ہوتی تھی؟ عموم و خصوص، جیسے انسان اور حیوان، وہاں کون سی نسبت تھی؟ عموم و خصوص مطلق کی نسبت تھی، تو یہاں بھی عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہے دونوں کے اندر۔
پھر دیکھ لو، مثال سے اور بات واضح ہو جائے گی۔ میں نے زید کی تعریف کی، کس پر؟ اس کی سخاوت پر، تو یہ کیا ہے؟ حمد ہے، اور مدح بھی ہے یا نہیں؟ مدح بھی ہے۔ اور میں نے زید کی تعریف کی اس کے حسن و جمال پر، یہ حمد ہے؟ نہیں، کیونکہ اختیاری نہیں، یہ تو اللہ نے حسن دیا ہے، اور مدح ہے، دیکھا؟ تو دیکھو، میں نے دو قسم کی تعریفیں کیں زید کی، اور ان دو میں سے دونوں مدح ہیں۔ سخاوت پہ تعریف وہ بھی مدح، اور حسن و جمال پہ تعریف وہ بھی مدح، لیکن ان دو میں سے ایک حمد ہے، ایک حمد نہیں ہے، سخاوت پر جو تعریف کی وہ حمد ہے، اور جو حسن و جمال پر کی وہ حمد نہیں ہے، تو دیکھا مدح کے اندر دونوں صورتیں آ گئیں، معلوم ہوا مدح کا دائرہ وسیع ہے، اس میں اختیاری اوصاف بھی داخل اور غیر اختیاری بھی داخل ہو گئے، جبکہ حمد کا دائرہ تنگ ہوا، حمد اسی کے اندر آ گئی، حمد کیا آ گئی؟ اس کے اندر دو صورتیں تھیں نا، اختیاری بھی اور غیر اختیاری، اور اختیاری ہی کو کیا کہتے ہیں؟ حمد بھی کہتے ہیں، تو حمد اسی کے اندر آ گئی، تو گویا حمد چھوٹی کلی ہوئی اور مدح کیا ہوئی؟ بڑی کلی، اور چھوٹی اسی کے اندر داخل ہے، تو اس صورت میں یہ جو دونوں میں نسبت ہوتی ہے وہ کیا کہلاتی ہے؟ عموم و خصوص مطلق کہلاتی ہے، کہ جس میں ایک کلی دوسری کلی کے ہر فرد پر صادق آئے، جو بھی حمد ہے وہ کیا ہے؟ مدح ہے، دیکھا؟ ایک کلی دوسری کے ہر فرد پر صادق، لیکن دوسری کلی پہلی کے ہر فرد پر صادق نہیں، جو بھی مدح ہے وہ حمد نہیں ہے، بعض ہے، بعض نہیں، تو دوسری کلی پہلی کے ہر فرد پر صادق نہیں آ رہی، بعض پر صادق آ رہی ہے، بعض پر صادق نہیں آ رہی، اچھی طرح بات سمجھ میں آ گئی؟
اور شکر کے ساتھ دیکھیں ان کو ذرا، شکر کے ساتھ ان کی کیا نسبت ہے؟ تو شکر میں دیکھیں، شکر میں کیا تھا؟ شکر کیا تھا؟ شکر وہ زبان، قلب اور اعضاء تینوں سے ہو سکتا ہے، جبکہ حمد اور مدح صرف کس سے ہیں؟ وہ صرف زبان سے ہوتی ہیں، صرف زبان سے، تو لہذا صرف زبان سے ہوتی ہیں۔ تو معلوم ہوا شکر اگر زبان سے ہو، کس سے ہو؟ زبان سے ہو، اور وصفِ اختیاری پر، اور، اور اختیاری پر ہی ہوگا کیونکہ کسی نے آپ کے ساتھ احسان کیا اور احسان اختیار سے ہی کرتا ہے نا آدمی؟ ہاں، تو شکر تو ہمیشہ اختیاری وصف کے مقابلے میں آئے گا، لیکن یہ زبان سے بھی ہو سکتا ہے، دل سے بھی ہو سکتا ہے اور اعضاء سے بھی ہو سکتا ہے، لہذا آپ نے زبان سے کسی کی تعریف کی، یہ شکر ہے، اور حمد بھی ہے، اور مدح بھی ہے، اور آپ نے دل سے یا اعضاء سے کسی کا شکر ادا کیا، تو یہ شکر تو ہے لیکن حمد اور مدح نہیں ہے، حمد اور مدح نہیں ہے۔
تو ان میں کون سی نسبت ہے؟ عموم و خصوص من وجہ کی نسبت ہے، عموم و خصوص کس میں؟ حمد، ہاں ایک کو پکڑو نا، حمد اور شکر، حمد اور شکر، حمد اور شکر میں کون سی نسبت؟ جی؟ عموم و خصوص من وجہ ہے، اس لیے کیونکہ حمد انعام کے مقابلے میں بھی ہو سکتی ہے اور انعام کے بغیر بھی ہو سکتی ہے، لیکن شکر تو صرف کس کے ساتھ ہوگا؟ انعام کے مقابلے میں ہوگا، لہذا، لہذا ایک صورت وہ کہ صرف شکر ہو، حمد نہ ہو، عموم و خصوص من وجہ ہے نا؟ تو صرف شکر ہو، حمد نہ ہو، وہ صورت بناؤ۔ دل سے ادا کیا، یہ شکر تو ہے لیکن حمد نہیں، کیونکہ زبان سے نہیں، یا اعضاء سے کسی کی خدمت کی، یہ کیا ہے؟ شکر تو ہے لیکن حمد نہیں۔
شکر اور حمد، تین مادے بھئی، دو مادے افتراق کے ہوں گے، ایک صورت بنے گی صرف شکر ہوگا، حمد نہیں، دوسری صورت صرف حمد ہوگی، شکر نہیں، اور تیسری صورت حمد اور شکر دونوں کیا ہو جائیں گے؟ اکٹھے ہو جائیں گے۔ تو کوئی صورت، پہلی صورت بناؤ، شکر ہو اور حمد نہ ہو، کہ دل سے کیا کرے؟ کسی کی کوئی شکر، شکر ادا کرے یا اعضاء سے شکر ادا کرے، تو یہ شکر تو ہے، حمد نہیں کیونکہ حمد تو صرف زبان سے ہوتی ہے۔ دوسری صورت بناؤ، حمد تو ہو، شکر نہ ہو۔ کسی کی زبان سے تعریف کی، اختیاری وصف پر کی، لیکن بغیر انعام کے کی۔ کس کے؟ بغیر انعام، یہ صرف کیا ہوئی؟ حمد تو ہے لیکن شکر نہیں، کیونکہ شکر تو صرف کس کے مقابلے میں ہوتا ہے؟ انعام۔ تیسری صورت یہ، ایسی صورت بناؤ کہ شکر بھی ہو اور حمد بھی ہو۔ ہاں، کسی نے آپ کے ساتھ سخاوت کی، سخاوت وصفِ اختیاری ہے، اور اس پر آپ نے اس کی کیا کر دی؟ زبان سے تعریف کر دی، تو یہ شکر بھی ہے، کیونکہ انعام کے مقابلے میں ہے، اور حمد بھی ہے، کیونکہ زبان سے ہے اور وصفِ اختیاری پر ہے، اور چاہے یہ انعام کے مقابلے میں ہو یا غیر انعام، دونوں اس میں آ رہی تھیں بھئی۔
اگلی نسبت نکالو، مدح اور شکر کے درمیان، مدح اور شکر، حمد اور مدح میں بھی کتنے، مدح اور شکر میں نسبت بیان کرو بھئی، کون سی نسبت ہوگی؟ عموم و خصوص من وجہ، تو یہاں پر بھی تین مادے ہوں گے: دو افتراق کے اور ایک اجتماع، افتراق کا پہلا مادہ کہ صرف شکر ہو، مدح نہ ہو۔ مثلاً دل سے کسی کی شکر ادا کیا یا اعضاء سے کیا، تو یہ شکر تو ہے لیکن مدح نہیں، دوسری صورت بناؤ، مدح ہو شکر نہ ہو۔ آپ نے زید کی تعریف کر دی اس کے حسن و جمال پر، زبان سے، یہ مدح تو ہے لیکن شکر نہیں، ہاں کیونکہ انعام کے مقابلے میں نہیں ہے، اور یہ وصفِ غیر اختیاری پر ہے، حالانکہ شکر میں اختیاری وصف ہوتا ہے، کیونکہ اس نے آپ کے ساتھ انعام کیا ہوتا ہے اور انعام اختیار سے ہوتا ہے یا بغیر اختیار کے؟ اختیار کے ساتھ۔
اچھا، اور تیسری صورت بناؤ کہ مدح بھی ہو اور شکر بھی ہو۔ کہ آپ نے زید کی سخاوت کی تعریف کر دی زبان سے، جبکہ اس نے آپ کے ساتھ کیا کیا ہے؟ احسان کیا ہے۔ جی، تو یہ کیا ہے؟ مدح بھی ہے اور شکر بھی ہے۔
بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا حمد اور مدح میں کون سی نسبت؟ عموم و خصوص مطلق، عموم و خصوص مطلق، اور شکر اور حمد میں کون سی نسبت؟ عموم و خصوص من وجہ، اور شکر اور مدح میں بھی کون سی نسبت؟ عموم و خصوص من وجہ کی نسبت ہے بھئی۔
یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اچھا، چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔