بحث ثانی: علم منطق کی تعریف، موضوع اور غرض و غایت کے بیان میں۔ علم منطق کی تعریف، موضوع اور غرض و غایت کے بیان میں۔
علم منطق کی تعریف، علم منطق کی تعریف: المنطق هو علم، المنطق هو علم، المنطق هو علم بقوانين، بقوانين، یہ نون پر زبر ہے زبر۔ المنطق هو علم بقوانين تعصم، تا دو نقطوں والی ہے، ع، ص، م، تعصم۔ تعصم، المنطق هو علم بقوانين تعصم مراعاتها، مراعاتها، الذهن، الذهن، ذ، ه، ن، الذهن، عن الخطإ، عن، عن الخطإ، الخطإ، ط کے ساتھ ہے بھئی ص، ض۔ الخطإ، الخطإ کیسے لکھا؟ الف، لام، خ، ط، الف اور الف کے اوپر ہمزہ لکھنی ہے، الف سے آگے ہمزہ نہیں لکھنی۔ الخطإ، یہ تو ہمزہ الف کے بعد چلی گئی، میں نے الخطإ نہیں کہا، میں نے کیا کہا؟ الخطإ، جی۔
المنطق هو علم بقوانين تعصم مراعاتها الذهن عن الخطإ في الفكر، في الفكر، الفكر، ف، ك، چھوٹا اور ر۔ لکھی تعریف بھئی؟ پھر سن لیں۔ المنطق هو علم بقوانين تعصم مراعاتها الذهن عن الخطإ في الفكر۔ یعنی علم منطق، یعنی علم منطق ایسے قوانین کے جاننے کا نام ہے، ایسے قوانین کے جاننے کا نام ہے کہ جن کی رعایت رکھی جائے، کہ جن کی رعایت رکھی جائے، یعنی جن کا یعنی ان کا لحاظ رکھا جائے، یعنی ان کا لحاظ رکھا جائے، تو یہ نظر و فکر میں، تو یہ نظر و فکر میں ذہن کو غلطی سے بچاتے ہیں، ذہن کو غلطی سے بچاتے ہیں۔
بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ کہ منطق، یہ کچھ قوانین کا نام ہے، ایسے قوانین جن کا اگر آپ خیال رکھیں، تعصم، عصم يعصم کا معنیٰ بچانا، مراعاة رعایت بھئی، خیال، لحاظ۔ کہ ان کا ان کا خیال رکھنا یعنی ان کا لحاظ رکھنا یہ بچاتا ہے الذهن کس کو؟ ذہن کو، عن الخطإ غلطی سے، في الفكر کس میں؟ فکر، نظر و فکر، یاد رکھیے نظر ظ کے ساتھ ط، ظ، ن، ظ، ر۔ اور فکر، دونوں کا ایک معنیٰ ہے۔ اور نظر و فکر آگے تعریف آجائے گی انشاء اللہ، مفصل بحث آجائے گی، کہ معلوم تصورات معلوم چیزوں کو ملا کر مجهول چیز تک پہنچنا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ نظر اور فکر، یہ انشاء اللہ آگے تعریف آجائے گی۔ بس اتنا یاد رکھیں کہ یہ جو منطق ہے نا منطق، یہ نظر و فکر میں غلطی سے ہماری حفاظت کرتا ہے۔ حاصل معنیٰ سمجھ میں آگیا؟ منطق کیا ہے؟ ایسے قوانین کا نام ہے کہ جو نظر و فکر میں غلطی سے ہماری حفاظت کرتے ہیں، بات سمجھ میں آگئی۔
آگے بھئی! علم منطق کا موضوع، علم منطق کا موضوع: موضوع المنطق، موضوع المنطق، المعلومات المعلومات، المعلومات، لمبی تا ہے آخر میں۔ المعلومات التصورية، ص کے ساتھ ہے، تا دو نقطوں والی، ص، و، ر، يا اور گول تا۔ المعلومات التصورية والتصديقية، گول تا اس میں بھی آئے گی، تصدیقیہ ص ہے ص۔ تا دو نقطوں والی، ص، د، يا، ق دو نقطوں والا اور پھر يا اور گول تا۔ المعلومات التصورية والتصديقية من حيث، من حيث، حيث ح، يا اور ث ہے ث۔ ب، ت، ث، من حيث أنها، أنها موصلة، م، و، ص، ل، گول تا۔ م، و، ص، ل، گول تا، موصلة إلى، إلى المجهول، المجهول التصوري، ت اور ص ہے اس میں، و، ر اور يا ہے يا، یہاں پر گول تا نہیں ہے۔ التصوري والتصديقي، والتصديقي۔
یعنی علم منطق کا موضوع وہ معلوم تصورات، وہ معلوم تصورات اور وہ معلوم تصدیقات ہیں، وہ معلوم تصورات اور وہ معلوم تصدیقات ہیں اس حیثیت سے، اس حیثیت سے کہ وہ ہمیں مجهول تصورات، کہ وہ ہمیں مجهول تصورات اور مجهول تصدیقات تک پہنچا دیں، اور مجهول تصدیقات تک پہنچا دیں۔ اس حیثیت سے کہ وہ ہمیں مجهول تصورات اور مجهول تصدیقات تک پہنچا دیں۔
علم منطق کا موضوع سمجھ میں آیا بھئی؟ معلوم تصورات اور معلوم تصدیقات ہیں، اس حیثیت سے کہ وہ ہمیں کہاں تک پہنچا دیں؟ مجهول تصورات، بھئی معلوم تصورات تو اور بھی ہوں گے، معلوم تصدیقات اور بھی ہوں گی، لیکن سارے معلوم تصورات، سارے معلوم تصدیقات منطق کا موضوع نہیں ہیں، صرف وہ موضوع ہیں جو ہمیں کہاں تک پہنچائیں؟ مجهول، ہاں جو معلوم تصورات اور معلوم تصدیقات وہ ہمیں کہاں تک پہنچانے والے ہیں؟ مجهول تصورات اور تصدیقات تک، وہ ہیں علم منطق کا موضوع، اسی لیے کیا کہا؟ تعریف کیا کی؟ موضوع کیا ذکر کیا؟ معلوم تصورات اور معلوم تصدیقات اس حیثیت سے کہ یہ ہمیں کہاں تک پہنچا دیں؟ مجهول تصورات اور مجهول تصدیقات تک بھئی۔ جی، آگے لکھیے بھئی!
علم منطق کی غرض و غایت، غرض و غایت، غ، ر، ض اور آگے و غایت، غ، ا، يا اور تا۔ علم منطق کی غرض و غایت اور مقصد، اور مقصد: غرض المنطق، غرض المنطق صيانة الذهن، صيانة ص کے ساتھ ہے۔ اور گول تا ہے، گول تا، ص، يا، ا، ن اور گول تا۔ صان يصون صونا وصيانة، ص کے ساتھ۔ سمجھ میں آیا؟ یہ اجوف ہے صان يصون۔ تو صونا بھی اس کا مصدر آتا ہے اور صيانة بھی اس کا مصدر آتا ہے، بچانا، حفاظت کرنا۔ تو غرض المنطق صيانة الذهن، الذهن الف لام کے ساتھ ہے، صيانة الذهن عن الخطإ، عن الخطإ في الفكر، في الفكر۔
لکھ لیا بھئی؟ غرض المنطق صيانة الذهن عن الخطإ في الفكر، یعنی علم منطق کا مقصد، یعنی علم منطق کا مقصد نظر و فکر میں، نظر و فکر میں ذہن کو غلطی سے بچانا ہے، ذہن کو غلطی سے بچانا ہے۔
بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ نظر و فکر میں نے پہلے بھی ذکر کیا دونوں کا ایک معنیٰ ہے، چاہے نظر بول لیں چاہے فکر، چاہے دونوں لفظ استعمال کر لیں، نظر و فکر کا ایک معنیٰ ہے۔ نظر و فکر کا کیا معنیٰ؟ معلوم چیزوں کے ذریعے کہاں تک پہنچنا؟ مجهول چیز تک پہنچنا، یہ کیا ہے؟ نظر اور فکر بھئی، آگے تفصیل بھی آجائے گی۔
تو یہ ہوئی بھئی علم منطق کی تعریف، موضوع اور غرض و غایت۔ علم منطق کی تعریف کیا ہوئی؟ کہ وہ ایسے قوانین کا نام ہے جو نظر و فکر میں انسان کو ذہنی غلطی سے بچاتے ہیں، ان قوانین کا لحاظ رکھو گے، ان کا خیال رکھو گے تو وہ آپ کی حفاظت کریں گے غلطی سے۔ اور غرض کیا ہے؟ ذہن کو غلطی سے بچانا۔ اور موضوع کیا ہے؟ معلوم تصورات اور معلوم تصدیقات اس حیثیت سے کہ وہ کہاں تک پہنچائیں؟ مجهول تصورات اور مجهول تصدیقات تک۔
ہٰذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔