Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح التهذيب · dars-002

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Noman Ahmad
📍 Location Peshawar, Pakistan
📅 Approved Date 03 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 29
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
لکھیے بھئی، سب طلبہ لکھیں بھئی سب۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمد لله رب العالمين۔ والصلاة والسلام على خیر خلقه محمد وعلى آله وأصحابه أجمعين۔ جی، نیچے الگ سطر میں لکھیے۔ کتاب شروع کرنے سے پہلے چند مباحث کا جاننا موجب بصیرت، بصیرت ص کے ساتھ ہے۔ موجب بصیرت اور موجب ‏فائدہ تامہ ہے۔ فائدہ تامہ ہے۔ تامہ دو نقطوں والی ت آئے گی بھئی، م مشدد ہے، فائدہ تامہ ہے۔ اور موجب فائدہ تامہ ہے۔ الگ سطر میں لکھیے، بحث اول۔ یہ عنوان ہے بھئی، اسی کے آگے ہی لکھیے، علم منطق کی ضرورت و اہمیت۔ لکھ لیا بھئی؟ جی، الگ سطر میں اب لکھیے۔ اس دنیا میں انسان کی آمد کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے۔ چنانچہ اللہ جل جلالہ قرآن میں ارشاد فرماتے ہیں‎:‎ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ترجمہ‎:‎ اللہ فرماتے ہیں، "میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔‎"‎ جی، آگے نشان لگا دیجیے، ترجمہ ختم ہوا۔ آگے لکھیے، اور عبادت کا طریقہ صرف تین علوم تفسیر، حدیث اور فقہ سے پوری طرح معلوم ہو جاتا ہے۔ شروع زمانہ اسلام میں صرف یہی تین علوم تھے۔ پھر زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ ان تین علوم کو اچھی طرح سمجھنے ‏کے لیے علمائے اسلام نے علم صرف، صرف ص کے ساتھ بھئی، علم صرف، علم نحو اور علم بلاغت کو مدون کیا اور ‏ان کا پڑھنا پڑھانا بھی ضروری قرار دیا۔ آگے الگ سطر لکھیے۔ اسی طرح جب اہل باطل، باطل ط کے ساتھ بھئی، اہل باطل، عقلی دلائل کے ذریعے اصولِ شریعت اور اسلامی عقائد یعنی ‏اللہ کی وحدانیت، رسولوں کے بھیجنے، الٹا نشان پہلے لگائیں، اللہ کی وحدانیت کے بعد بھئی کوما لگائیں، رسولوں کے ‏بھیجنے اور آخرت وغیرہ کے بارے میں لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات، شکوک دونوں چھوٹے کاف ہیں بھئی، ‏شکوک و شبہات پیدا کرنے لگے، تو علمائے اسلام نے شریعتِ اسلامی کا دفاع کرنے اور اہل باطل کو جواب دینے کے ‏لیے علومِ عقلیہ، یعنی منطق و فلسفہ، میں مہارت حاصل کی، اور ان کے درس و تدریس کو ضروری قرار دے دیا۔ اہل باطل سے ٹکر لینے والے علماء کی جماعت میں اگر غور کیا جائے، تو اکثریت انہیں حضرات کی دکھائی دیتی ہے جو ‏علومِ عقلیہ میں بے انتہا مہارت رکھتے تھے۔ بھئی کوئی چھینکے تو زور سے الحمد للہ کہنا چاہیے کہ سب ساتھی سن لیں۔ اونچی آواز سے کہیے بھئی۔ ہاں، اور سب ‏جواب میں کیا کہیں گے؟ یرحمک اللہ۔ یہ ہمیشہ آپ نے یاد رکھنا ہے، اس سنت پر ہم عمل کریں گے تاکہ سال بھر میں آپ ‏اس کے عادی ہو جائیں۔ مقصد یہ ہے کہلوانے کا تاکہ آپ کو عادت ہو جائے۔ تو جہاں کہیں بھی ہوں، الحمد للہ اونچی آواز ‏سے کہنا چاہیے اور باقیوں کو اس کا جواب دینا چاہیے۔ یہاں ہم دین سیکھنے کے لیے جمع ہوئے ہیں، سنتیں سیکھنے کے ‏لیے جمع ہوئے ہیں، دین کو سیکھیں، اس پر عمل کریں، سنتوں پر چلیں۔ تو اور یہ ایک ایسی سنت ہے جو عموماً علماء ‏کے ہاں بھی تقریباً آپ کو متروک دکھائی دے گی بھئی۔ تو یہاں بھی آپ نے اس پر عمل کرنا ہے اور گھر پر، کمرے میں ‏سب کو سکھائیں بھی، بتائیں بھی اور اس پر عمل بھی کریں بھئی۔ جی، کیا لکھا بھئی؟ "علومِ عقلیہ میں بے انتہا مہارت رکھتے تھے۔‎"‎ مثلاً امام رازی، رازی ز کے ساتھ ہے، ز۔ امام رازی رحمہ اللہ تعالیٰ، جی، آگے نشان الٹا کوما لگائیے۔ امام غزالی رحمہ ‏اللہ، پھر کوما لگائیے، الٹا نشان بھئی۔ مولانا قاسم نانوتوی، نانوتوی بھئی، ن و ہے اور پھر ت و ہے، دو نقطوں والی ت، نا ‏نو توی، ت و ی۔ مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ، مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ، وغیرہ۔ آگے لکھیے بھئی۔ آج کل علم منطق سے بے رغبتی کا مرض بڑھتا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ بہت سے اساتذہ بھی اسے ناپسند کرتے ہیں۔ ‏حالانکہ منطق سیکھے بغیر استعداد کمزور اور صلاحیت ناقص رہتی ہے۔ چنانچہ یہ اسی بے رغبتی کا نتیجہ ہے کہ آج درسِ نظامی کی، نظامی ظ کے ساتھ ہے بھئی، جو ص ض ط ظ ہوتی ہے، ظ ‏کے ساتھ، کہ آج درسِ نظامی کی تمام کتابیں مشکل معلوم ہونے لگی ہیں۔ ان کتابوں کو آسان بنانے کا سیدھا سادھا طریقہ ‏یہی ہے کہ منطق کو اچھی طرح سیکھ لیا جائے۔ کیونکہ درسِ نظامی کی اکثر کتابوں میں قدم قدم پر منطقی اصطلاحات، ‏اصطلاح بھئی ص اور ط، ص اور ط آئے گی۔ منطقی اصطلاحات کو ذکر کیا گیا ہے۔ لہٰذا منطق سیکھ لینے سے کوئی بھی ‏کتاب مشکل نہ رہے گی۔ جی، آگے الگ سطر میں لکھیے۔ یاد رکھیے، لکھتے وقت ہمیشہ صفحے کے دونوں طرف تھوڑی تھوڑی جگہ، آدھا پونا انچ، ضرور جگہ چھوڑنی چاہیے، ‏آخری کنارے تک نہ لکھیں بھئی۔ اسی طرح جب بھی کوئی تحریر لکھیں تو اس کے پیرے بنا لیں بھئی، کچھ چند سطروں ‏کے بعد، جہاں ذرا بات مختلف آ رہی ہے تو پھر نئی سطر سے شروع کیا کریں، جب بھی کوئی پرچہ حل کریں یا مضمون ‏لکھیں، جس سے تحریر خوشنما معلوم ہوتی ہے بھئی، اور بات کا سمجھنا اور یاد کرنا بھی۔ الگ سطر لکھیے بھئی، یہ منطق نہ سیکھنے کا ہی اثر ہے کہ کتابوں کو مشکل قرار دے کر کبھی ایک کتاب کو درسِ ‏نظامی سے نکالا جا رہا ہے، تو کبھی دوسری کتاب کو۔ جی، پھر الگ سطر لکھیے۔ اب بھی اگر علم منطق کی طرف بقدر ضرورت توجہ نہ کی گئی، تو درسِ نظامی کا سارا ڈھانچہ خراب ہو جائے گا۔ بلکہ ‏ہم اپنے اسلاف، اسلاف س سے ہے بھئی، ہم اپنے اسلاف اور بزرگوں کے علم کے ایک بڑے حصے کو سمجھنے کے ‏قابل ہی نہ رہیں گے۔ کیونکہ ہمارے بزرگوں کی اکثر کتابیں منطقی اصطلاحات سے بھری ہوئی ہیں۔ چاہے وہ کوئی تفسیر ‏ہو یا حدیث کی شرح، شرح ش ر ح، یا حدیث کی کوئی شرح، بلاغت کی کوئی کتاب ہو یا نحو کی۔ اگر ہم منطق نہیں ‏سیکھیں گے تو بزرگوں کے علوم کے بہت بڑے حصے سے ہم فائدہ ہی نہ اٹھا سکیں گے۔ آگے لکھیے بھئی۔ علم منطق اگرچہ یونانی فلسفیوں کا وضع کیا ہوا علم ہے، لیکن علمائے اسلام نے اس فن کی تہذیب کی، تہذیب ذ کے ساتھ ‏ہے، تہذیب کی اور اس سے تمام خلافِ شرع چیزوں کو نکال دیا۔ چنانچہ اس وقت منطق کی جتنی کتابیں پڑھی پڑھائی ‏جاتی ہیں، وہ سب علمائے اسلام کی لکھی ہوئی ہیں۔ آسان لفظوں میں یوں سمجھیے کہ اب والی منطق خالص اسلامی منطق ہے۔ جس کا مقصد طلباء میں ذہانت، آگے کوما ‏لگائیں، الٹا نشان بھئی۔ جس کا مقصد طلباء میں ذہانت، کوما، بات کرنے اور سمجھنے کی قوت، پھر کوما لگائیں بھئی۔ افہام ‏و تفہیم، لکھ لیا بھئی؟ جی، افہام و تفہیم کا ملکہ اور علوم میں گہرائی پیدا کرنا ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں‎:‎ مَنْ لَمْ يَعْرِفِ الْمَنْطِقَ فَلَا ثِقَةَ لَهُ فِي الْعُلُومِ۔ لکھ لیا بھئی؟ جی، "مَنْ لَمْ يَعْرِفِ"، دیکھو اس کو اس طرح پڑھنا ہے، اعراب لگا لیں بھئی، "مَنْ لَمْ يَعْرِفِ الْمَنْطِقَ"، "مَنْ ‏لَمْ"، یہ نون جو ہے یہ بھی لام ہو جائے گا بھئی، "مَنْ لَمْ يَعْرِفِ الْمَنْطِقَ فَلَا ثِقَةَ لَهُ فِي الْعُلُومِ"، "فَلَا ثِقَةَ لَهُ فِي الْعُلُومِ" یعنی جو ‏منطق نہیں جانتا اس کے علوم میں پختگی نہیں۔ نیز جس طرح علم صرف، صرف ص سے، علم نحو، علم بلاغت وغیرہ کا مقصد قرآن و حدیث کو اچھی طرح سمجھنا ‏ہے، اسی طرح علم منطق کا مقصد بھی قرآن و حدیث کے علم میں گہرائی پیدا کرنا، جی، الٹا نشان لگائیں، دشمنانِ اسلام کا ‏مقابلہ کرنا اور انہیں عقلی دلائل کے ذریعہ جوابات دینا اور اسلام کا دفاع کرنا ہے۔ چنانچہ منطق کے پڑھنے اور پڑھانے کا وہی اجر و ثواب ہے جو علومِ شرعیہ کے پڑھنے پڑھانے کا ہے۔ چنانچہ مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ رسالہ النور، الف لام ن اور نور آگے اوپر، النور، ماہ ربیع الاول سن ‏‏۱۳۶۱ ہجری، ۱۳۶۱، ۱ ۳ ۶ ۱ بھئی، ۱۳۶۱ ہجری میں فرماتے ہیں کہ ہم تو صحیح بخاری کے مطالعہ میں جیسے اجر ‏سمجھتے ہیں، میر زاہد، میر م ی ر اور آگے زاہد ز کے ساتھ، میر زاہد اور امورِ عامہ، امور اور عامہ ع ا م ہ، امورِ عامہ ‏کے مطالعے میں بھی ویسا ہی اجر و ثواب سمجھتے ہیں۔ لکھ لیا بھئی؟ اچھا، یہ جو بات شروع ہوئی "ہم تو"، یہ "ہم" سے پہلے دو الٹے نشان لگائیں بھئی، دو الٹے کو مے لگائیں، ‏یہاں سے مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی بات شروع ہوئی ہے، دو الٹے نشان لگائیں بھئی، اور آخر میں پھر دو ‏الٹے نشان تاکہ واضح ہو جائے کہ یہ ان کا جملہ ہے بھئی۔ "ہم تو صحیح بخاری" سے پہلے بھئی، "ہم" جو تھا، وہاں دو ‏نشان دو کومے لگائیں اور آخر میں "سمجھتے ہیں"، اس کے بعد بھی دو کومے لگائیں۔ آگے لکھیے، میر زاہد اور امورِ عامہ الگ سطر میں لکھ لیں۔ میر زاہد اور امورِ عامہ یہ منطق کی کتابیں ہیں۔ لکھ لیا بھئی؟ بس بھئی۔ تو دیکھو مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کا قول بھی آپ نے پڑھ لیا کہ وہ فرماتے ہیں کہ ان کے مطالعے میں بھی ہم ‏ویسا ہی اجر و ثواب سمجھتے ہیں منطق کی کتابوں کے مطالعے میں جیسا کہ صحیح بخاری کے مطالعے میں سمجھتے ‏ہیں۔ اور وجہ وہی میں نے پیچھے تفصیل سے ذکر کر دی، کیونکہ یہ علوم ان کا مقصد یہ منطق کے سمجھنے کا مقصد ‏پڑھنے کا مقصد کیا ہے؟ یہی قرآن و حدیث کے علوم میں گہرائی پیدا کرنا ہے بھئی، انہی کو اچھی طرح سمجھنا ہے اور ‏اسلام کا دفاع کرنا ہے۔ تو منطق نہایت ضروری علم ہے اور افسوس کی بات ہے کہ آج کل بہت سے علماء اس کے مخالف ہو چکے ہیں بھئی۔ ‏لیکن ایک بات، جو استاد منطق کا ماہر ہوگا، منطق خوب اچھی طرح جاننے والا ہوگا، اس کے سبق کا انداز ہی اور ہوتا ‏ہے، بڑا ہی مرتب سبق ہوتا ہے، بہترین انداز سے سبق سمجھانے والا، پڑھانے والا، اس کی باتوں میں ربط ہوتا ہے، ‏دلائل وغیرہ اور کتابوں کے اندر اس کی بے انتہا مہارت ہوتی ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو منطق انسان سیکھتا ہے، مہارت ہوتی ہے منطق میں، تو پھر بھی وہ کتابوں میں غور و فکر کر کے ‏اپنی طرف سے نئے نئے نکات بیان کرتا ہے، اور جو منطق نہیں جانتا، عموماً وہ صرف باقی کتابوں سے مطالعہ تو کر ‏لے گا، سبق تو اچھی طرح پڑھا لے گا، لیکن اپنی طرف سے کوئی نقطہ بیان کرنا، یہ صرف جو علم منطق کا ماہر ہو ‏عموماً انہی میں اس طرح کی جی بہترین خصوصیات دکھائی دیتی ہیں بھئی۔ چلیے بس بھئی، ‎ ‎هذا هو المرام والله أعلم بحقیقة الکلام۔