درس نمبر۔104
آگے سبق دیکھیے بھئی، "وقد يحذف الخبر جوازاً أي حذفاً جائزاً لقيام قرينة من غير إقامة شيء مقامه، مثل الخبر المحذوف جوازاً في قولك: خرجت فإذا السبع، فإن تقديره على المذهب الصحيح كما نص عليه صاحب اللباب: خرجت فإذا السبع واقف، على أن يكون إذا ظرف زمان للخبر المحذوف من غير ساد مسده، أي: ففي وقت خروجي السبع واقف".
گزشتہ سبق میں صاحب قافیہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ وہ مبتدا جس کی خبر پر فا کا لانا جائز ہے، اس مبتدا پر اگر لیت اور لعل داخل ہو جائیں تو وہ مانع بنیں گے، یعنی اب فا کا لانا جائز نہیں۔ کیونکہ لیت اور لعل کلام کو خبر کے قبیل سے نکال کر انشا بنا دیتے ہیں، تو اس کلام کی جو مشابہت تھی یا یوں کہیں اس مبتدا اور خبر کی جو مشابہت تھی شرط اور جزا کے ساتھ وہ ختم ہو گئی۔ کیونکہ شرط اور جزا اخبار کے قبیل سے ہیں اور یہ جملہ تو اب کیا بن گیا؟ انشا بن گیا، تو اس کی مشابہت شرط اور جزا کے ساتھ ختم ہوئی تو اب فا کا لانا جائز نہیں بھئی۔
اور پھر بتلایا تھا کہ بعض نحویوں نے ان مکسورہ کو بھی انہی دونوں کے ساتھ ملایا ہے کہ وہ مبتدا جس کی خبر پر فا کا لانا جائز ہے اس پر اگر ان داخل ہو جائے تو وہ ان بھی مانع بنے گا اور اب اس پر فا کا لانا جائز نہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ اور پھر اس قول کی نسبت کی امام سیبویہ کی طرف، کیا کہا؟ "وألحق بعضهم، قيل: هو سيبويه"، دیکھو اس قول کی نسبت کس کی طرف کی گئی ہے؟ "وألحق بعضهم" اور ملایا ہے بعضوں نے ان مکسورہ کو بھی ان دونوں کے ساتھ، یعنی ان مکسورہ بھی مانع بنے گا دخول فا سے۔ اور درمیان میں صاحب جامی نے آپ کو بتلا دیا "قيل: هو سيبويه"، کہا گیا ہے کہ وہ امام سیبویہ ہیں، انہوں نے ان کو لیت اور لعل کے ساتھ ملایا ہے دخول فا سے مانع ہونے میں۔ اور دیکھو قیل کے ساتھ ذکر کیا اس کو "قيل: هو سيبويه"۔ معلوم ہوا یہ کوئی قطعی بات نہیں ہے کہ امام سیبویہ نے ایسا کہا ہے، ہاں ان کی طرف اس قول کی بعضوں نے نسبت کی ہے کہ یہ ان کا قول ہے، خود امام سیبویہ نے اپنی کتاب میں اس کی کوئی تصریح نہیں کی بھئی۔ اس لیے اس کو قیل کے ساتھ ذکر کیا کہ "قيل: هو سيبويه"، کہا گیا ہے کہ وہ قائل کون ہیں؟ امام سیبویہ ہیں بھئی۔
جیسے ان مکسورہ کو لیت اور لعل سے بعضوں نے ملایا ہے، اسی طرح ان اور لکن کو بھی ملایا ہے، تو اس کو ذکر نہیں کیا اور ان کو ذکر کیا، تو اس کی وجہ بھی آگے ذکر کی، وجہ یہ کہ ان کے بارے میں جو قول ہے اس کی نسبت چونکہ امام سیبویہ کی طرف تھی کہ انہوں نے اس کو لیت اور لعل سے ملایا ہے، تو امام سیبویہ کے قول کو اہمیت دیتے ہوئے اس کو ذکر فرمایا اور باقی نحویوں کے قول کو وہ اہمیت نہیں دی اور اس لیے ان اور لکن کو ذکر نہیں فرمایا۔ اور پھر قرآن سے اور فصیح لوگوں کے کلام سے اس کی مثالیں بھی ذکر کیں کہ جس کے اندر ان، ان اور لکن کے داخل ہونے کے باوجود آگے خبر پر فا داخل کی گئی تھی۔
اور پھر آگے انہوں نے بتلایا تھا کہ کبھی کبھار مبتدا کو حذف کر لیا جاتا ہے جب کوئی قرینہ موجود ہو۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ جب بھی کلام کے اندر کسی لفظ کو حذف کیا جائے تو اس پر قرینے کا ہونا ضروری ہے۔ قرینے کی تعریف میں نے کی تھی کہ قرینہ کسے کہتے ہیں؟ "هو أمر يشير إلى المطلوب"، قرینہ وہ چیز ہے جو مطلوب اور مقصود کی طرف اشارہ کر دے۔ کس کا مطلوب اور مقصود؟ متکلم کا۔ یعنی متکلم دیکھو ایک بات آپ کو پہنچانا چاہتا ہے تو وہ اپنے کلام کے اندر مثلاً ایک لفظ کو حذف کرتا ہے تو سننے والے کو تو پتہ ہی نہیں چلے گا کہ یہاں کون سا لفظ ہے، تو لہٰذا وہ حذف اسی وقت اس کے لیے جائز ہوگا جب وہاں کوئی قرینہ ہو جس سے سننے والا فوراً سمجھ جائے کہ یہاں پر یہ والا لفظ محذوف ہے۔ اگر قرینہ نہیں ہوگا تو اسے بات کا معنیٰ ہی پوری طرح سمجھ میں نہیں آئے گا۔ تو جب بھی حذف کیا جائے گا کوئی قرینہ ہونا ضروری ہے، بغیر قرینے کے حذف جائز ہی نہیں۔ اور قرینہ کسے کہتے ہیں؟ "هو أمر يشير إلى المطلوب" بھئی۔
اور میں نے تفصیل بیان کی تھی کہ قرینہ دو قسم پر ہے۔ یاد رکھو قرینہ دو ہی قسم پر ہے، یا قرینہ لفظیہ ہوگا یا غیر لفظیہ، یعنی بعض اوقات ہمیں لفظ ایک چیز کے بارے میں بتا دیتے ہیں اور بعض اوقات لفظوں سے ایک چیز کا پتہ نہیں چلتا لیکن کوئی اور چیز وہاں ہوتی ہے جو ہمیں بتلا دیتی ہے کہ یہاں یہ والا لفظ محذوف ہے۔ تو قرینہ دو ہی قسم پر ہے، یا لفظیہ ہوگا یا غیر لفظیہ، اور اسی غیر لفظیہ کو قرینہ عقلیہ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ عقلیہ کہتے ہیں۔ تو اگر لفظ کے علاوہ کوئی بھی چیز آپ کو متکلم کا مقصود اور مطلوب بتلا دے تو اسے کیا کہتے ہیں؟ قرینہ عقلیہ۔ یا تو وہ لفظ بتائیں گے یا لفظ کے علاوہ کوئی اور چیز ہوگی، تو لفظ کے علاوہ جو بھی قرینہ ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ قرینہ عقلیہ بھئی۔ تو قرینے کی دو ہی قسمیں ہیں، ایک قرینہ لفظیہ اور ایک قرینہ غیر لفظیہ اور اسی غیر لفظیہ کو کیا کہتے ہیں؟ قرینہ عقلیہ۔ یعنی اس میں ہماری عقل ہمیں بتاتی ہے، لفظ نہیں بتاتے۔ بھئی دیکھیے اور کتابوں کے اندر آپ قرینے کے اور بھی نام پڑھتے ہیں، مثلاً کہیں پر قرینہ لفظیہ آتا ہے اور ساتھ قرینہ عقلیہ آئے گا، بعض علماء قرینہ لفظیہ اور اس کے ساتھ قرینہ حالیہ ذکر فرماتے ہیں، بعض قرینہ لفظیہ اور اس کے ساتھ قرینہ معنویہ ذکر فرماتے ہیں، تو طلبہ پریشان ہوتے ہیں کہ پتہ نہیں قرینے کی کتنی قسمیں ہیں بھئی؟ تو یاد رکھنا قرینے کی دو ہی قسمیں ہیں، ایک لفظیہ اور ایک غیر لفظیہ۔ یا قرینہ وہ لفظ ہوگا یا غیر لفظ ہوگا بھئی، اور غیر لفظ ہی کا نام قرینہ عقلیہ ہے بھئی۔ یا قرینہ لفظ ہوگا یا غیر، اسی غیر لفظ کا نام کیا ہے؟ قرینہ عقلیہ۔ ہاں اسی عقلیہ کو کبھی کبھار حالیہ یا معنویہ بھی کہہ دیتے ہیں۔ کیونکہ بعض اوقات کسی جگہ پر اگر قرینہ لفظ نہیں ہے، لفظ کے علاوہ کوئی چیز ہے، وہ غیر لفظ جو ہے اگر وہ حالت ہے تو اس قرینے کو قرینہ حالیہ کہہ دیا جاتا ہے۔ یہ وہی قرینہ عقلیہ ہے لیکن چونکہ یہاں وہ حالت بتلا رہی ہے لہٰذا اس کا نام کیا رکھ دیا؟ قرینہ حالیہ، حالانکہ یہ وہی چیز ہے، قرینہ عقلیہ کہو یا قرینہ حالیہ کہو، وہی چیز ہے، لیکن چونکہ یہاں جو چیز بتانے والی ہے وہ حالت ہے لہٰذا اس کو کیا کہہ دیتے ہیں؟ قرینہ حالیہ کہہ دیتے ہیں۔ یہ ہے، یہ بھی وہی قرینہ عقلیہ ہے۔
مثلاً مثلاً ہم مسجد میں بیٹھے ہیں اور ایک شخص مسجد کے دروازے سے اندر داخل ہوا، میں نے کہا: شیر آگیا۔ اب مجھے بتائیے، یہاں شیر کا کیا معنیٰ؟ بہادر آدمی، مجازی معنیٰ مراد ہے۔ تو دیکھو آپ فوراً سمجھ گئے کہ یہاں شیر بول کر کیا مراد ہے؟ بہادر آدمی مراد ہے، یہاں لفظوں نے نہیں بتایا، دیکھو لفظ تو میں نے کیا کہے؟ شیر آگیا۔ یہ لفظ آپ کو نہیں بتا رہے کہ اس سے کون سا معنیٰ مراد ہے، اس سے تو حقیقی معنیٰ بھی مراد ہو سکتا ہے اور مجازی معنیٰ بھی، لیکن اس وقت شیر تو داخل نہیں ہوا، ایک آدمی اندر داخل ہوا ہے، تو یہ حالت بتلا رہی ہے کہ یہاں شیر بول کر کیا مراد ہے؟ مجازی معنیٰ یعنی بہادر آدمی مراد ہے۔ تو کس چیز نے آپ کو بتلایا؟ عقل نے، تو یہ قرینہ عقلیہ ہی ہے، لیکن کس طرح عقل نے بتایا؟ یہ جو حالت ہے، اس حالت کی وجہ سے عقل نے آپ کو بتلایا کہ اس وقت تو کوئی جنگلی درندہ نہیں اندر داخل ہوا بلکہ کیا داخل ہوا ہے؟ انسان داخل ہوا ہے، تو یہاں بتلایا تو عقل نے ہی لیکن لیکن اس حالت سے پتہ چلا عقل کو، تو یہ قرینہ عقلیہ ہی ہے لیکن اسی کو کیا کہہ دیتے ہیں؟ قرینہ حالیہ کہہ دیتے ہیں۔
اور بعض اوقات معنیٰ ہمیں بتاتا ہے تو اسی قرینہ عقلیہ کو قرینہ معنویہ کہہ دیتے ہیں۔ مثلاً "أكل الكمثرى يحيىٰ"، "أكل الكمثرى يحيىٰ"، اب دیکھو کمثرى امرود یا ناشپاتی کو کہتے ہیں، اور یہاں پر کمثرى اس میں بھی اعراب اعرابِ لفظی منتفی ہے، یہاں بھی اعراب تقدیری، اور یحییٰ کے اندر بھی اعراب تقدیری ہے، لیکن پھر بھی آپ کو پتہ چل رہا ہے کہ اکل کا فاعل کون ہے؟ یحییٰ فاعل ہے اور کمثرى مفعول ہے، کس نے بتایا؟ آپ کی عقل نے آپ کو بتلایا بھئی۔ اس لیے کیونکہ یحییٰ تو امرود کو کھا سکتا ہے لیکن امرود تو یحییٰ کو نہیں کھا سکتا، تو یہ قرینہ آپ کو بتلا رہا ہے کہ کمثرى مفعول ہے اور یحییٰ فاعل ہے بھئی، تو یہ بھی قرینہ عقلیہ ہے۔ لفظوں سے نہیں پتہ چلا، لفظوں کے اندر تو دونوں دونوں اسم مقصور ہیں، دونوں پر اعراب لفظی منتفی ہے، تو معلوم ہوا یہاں قرینہ غیر لفظ ہے اور کس نے بتایا؟ عقل نے بتایا، تو یہ کیا ہے؟ قرینہ عقلیہ ہے، لیکن لیکن چونکہ یہاں معنیٰ سے پتہ چل رہا ہے، کس سے؟ معنیٰ سے پتہ چل رہا ہے، کیونکہ میں نے بتایا یحییٰ تو امرود کو کھا سکتا ہے لیکن امرود تو یحییٰ کو نہیں کھا سکتا، تو اسی قرینہ عقلیہ کو پھر قرینہ معنویہ کہہ دیتے ہیں۔ کیا کہہ دیتے ہیں؟ قرینہ معنویہ کہہ دیتے ہیں۔
تو بس اتنا یاد رکھنا قرینہ دو ہی قسم پر ہے، کبھی قرینہ لفظیہ ہوگا کبھی غیر لفظیہ ہوگا اور اس غیر لفظیہ کا نام عقلیہ ہے، اور اسی عقلیہ کو کبھی کیا کہہ دیتے ہیں؟ حالیہ، اگر وہ حالت سے عقل کو پتہ چلا ہے، اور اسی قرینہ عقلیہ کو کبھی معنویہ کہہ دیتے ہیں اگر وہ معنیٰ سے عقل نے آپ کو بتلایا ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟
تو انہوں نے آپ کو بتلایا کہ مبتدا کو کبھی حذف کر لیا جاتا ہے جب قرینہ موجود ہو بھئی، اور یہ حذف جوازاً ہوتا ہے۔ جیسے کہ مستہل کا قول "الهلال والله"، یہ اصل میں کیا ہے؟ "هذا الهلال والله"، تو مبتدا محذوف ہے اور خبر مذکور ہے۔ تو پھر یہاں اشکال ہوا تھا "كقول المستهل الهلال والله" کہ اے صاحب قافیہ، آپ نے تو مثال ذکر کرنی تھی اس مبتدا کی جس کو حذف کرنا جائز ہے لیکن یہ جو قول مستہل ہے "الهلال والله"، یہ الہلال تو خبر ہے، تو آپ نے تو مثال میں خبر کو ذکر کر دیا، حالانکہ ذکر کس کو کرنا تھا؟ اس مبتدا کو جس کو حذف کرنا جائز ہے۔ تو صاحب جامی نے "كقول المستهل" کے بعد عبارت نکال کر بتلایا تھا کہ بھئی یہ اسی مبتدا کی مثال ہے جس کو جوازاً حذف کیا جاتا ہے۔ اور میں نے بتلایا تھا کہ یہ "كقول المستهل" یہ کیا ہے؟ خبر، اور اس کے لیے مبتدا کیا محذوف ہے؟ یہ کس چیز کی مثال ذکر کی جا رہی ہے؟ اس مبتدا کی جس کو حذف کرنا جائز ہے، تو عبارت گویا یہ بن گئی کہ وہ مبتدا جس کو حذف کیا جاتا ہے جوازاً "كقول المستهل"، وہ کس کی طرح ہے؟ قول مستہل کی طرح ہے "الهلال والله"۔ بھئی اس کے اندر تو خبر ذکر ہے تو میں نے بتایا تھا کاف کے بعد یہاں پر مبتدا کا لفظ نکال لیں بھئی، "كمبتدأ قول المستهل"، کہ وہ مبتدا جس کو جوازاً حذف کیا جاتا ہے وہ مثل ہے اس مبتدا کے جو محذوف ہے کس کے اندر؟ قول مستہل "الهلال والله"۔ وہ مبتدا جو "الهلال والله" کے اندر محذوف ہے، وہ مبتدا مثال ہے اس مبتدا کی جس کو جوازاً حذف کیا جاتا ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟
اور پھر انہوں نے یہ بھی آپ کو بتلایا کہ "الهلال والله" میں مبتدا محذوف ہے، اس کو حذف خبر کے باب سے ہم نہیں بنا سکتے کہ الہلال کو مبتدا بنا دیں اور ھذا محذوف خبر نکال لیں۔ بلکہ ھذا مبتدا یہاں محذوف ہے اور الہلال اس کی خبر ہے۔ وجہ یہ کہ یہاں پر یہاں پر وہ جو مستہل ہے، وہ جو بولنے والا ہے متکلم ہے، وہ نفس چاند کی خبر دینا چاہتا ہے، نفس ہلال کی خبر دینا چاہتا ہے، اور وہ جو لوگ وہاں موجود ہیں وہ بھی ہلال ہی کو طلب کر رہے ہیں، تو جس بات کی خبر دینا ہے اور جس بات کو طلب کیا جا رہا ہے اس کو خبر ہی کی صورت میں لایا جائے گا۔ کیونکہ مبتدا جو ہوتا ہے وہ تو معلوم ہوتا ہے، مبتدا کیا ہوتا ہے؟ معلوم ہوتا ہے، اور خبر معلوم نہیں ہوتی، تو جو چیز معلوم نہیں ہے اس کو خبر بنا کر لائیں گے بھئی۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟
تو اگر آپ اس کو "الهلال هذا" کی تقدیر پر لیتے ہیں، یعنی الہلال کو مبتدا بناتے ہیں اور ھذا خبر محذوف نکال لیتے ہیں، توجہ ہے؟ پھر تو سارا معنیٰ ہی خراب ہو جائے گا۔ کیونکہ الہلال کو مبتدا بنایا اور مبتدا تو وہ ہوتا ہے جو معلوم ہوتا ہے، اس پر آگے کوئی حکم پھر لگایا جاتا ہے، تو پھر تو کلام کا معنیٰ یہ بن جائے گا یہ جتنے لوگ کھڑے ہوئے ہیں ان کو چاند معلوم ہے، چاند ان کو نظر آ رہا ہے، لیکن صرف تعیین نہیں ہو رہی یہ دو تین چیزوں میں سے کون سا والا چاند ہے بھئی، تو اس وقت پھر کہا جائے گا "الهلال هذا"، چاند یہ والا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو لہٰذا یہاں ھذا مبتدا ہی کو محذوف نکالیں گے کس وجہ سے؟ کیونکہ نفس ہلال کی خبر دینا مقصود ہے، اور وہ لوگ ہلال ہی کو طلب کر رہے ہیں، معلوم ہوا ہلال کا علم ان کو نہیں، تو جس بات کا علم نہیں جو بات آپ ان کو بتانا چاہتے ہیں اس بات کو اس چیز کو خبر ہی کی صورت میں لایا جائے گا، لہٰذا کہا جائے گا "هذا الهلال والله"، یہ چاند ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟
اور اس کے بعد صاحب جامی نے آپ کو بتلایا تھا کہ بعض جگہیں ایسی ہیں جہاں مبتدا کو حذف کرنا واجب ہے بھئی۔ اور وہ کون سی جگہ ہے؟ جہاں صفت کو جہاں صفت کو وصفیت سے کاٹ کر اس پر رفع پڑھ دیا جاتا ہے۔ صفت کا اعراب تو موصوف کے مطابق ہونا چاہیے لیکن جب آپ اس کو صفت کو کاٹ کر اس پر رفع پڑھ دیتے ہیں، یعنی اس کو خبر بنا دیتے ہیں اور اس کا مبتدا محذوف ہوتا ہے وہاں پر۔ جیسے "بسم الله الرحمن الرحيم"، تو یہ اصل میں کیا ہے؟ "هو الرحمن الرحيم"، یہاں ھو کو حذف کرنا واجب ہے۔ اور یہ کس لیے کیا جاتا ہے؟ مدح، ذم یا ترحم کی بنا پر۔ تو یہاں پر جب موصوف کا اعراب ایک ہے اور آگے صفت کا اعراب موصوف کے مطابق نہیں آتا، اس پر رفع آ جاتا ہے، تو سننے والا چونک اٹھتا ہے کہ بھئی موصوف تو مثلاً موصوف تو مجرور ہے، صفت کو تو مجرور ہونا چاہیے تھا لیکن اس پر رفع پڑھا جا رہا ہے، تو وہ سمجھ جاتا ہے یہ مدح کی بنا پر اس پر رفع پڑھا جا رہا ہے۔ تو مدح کی بنا پر پھر رفع پڑھا جاتا ہے اور یہ خبر ہوتی ہے مبتدائے محذوف کی، "أي: هو الرحمن، هو الرحيم"، چاہے الگ الگ مبتدا دونوں کے لیے نکال لیں، چاہے ایک ہی نکال لیں دونوں کے لیے۔ پھر اس مبتدا کو حذف کرنا واجب ہے، اس کو ذکر نہیں کیا جائے گا، کیونکہ اگر درمیان میں آپ ھو لے آئے، "بسم الله هو الرحمن الرحيم"، پھر تو کسی کو پتہ نہیں چلے گا کہ یہ الرحمن پہلے صفت تھی اب اس کو صفت سے کاٹ کر خبر بنایا گیا ہے، کیونکہ درمیان میں ھو آگیا، سیدھی ترکیب ہوگی: ھو مبتدا، الرحمن خبر۔ لیکن جب ھو محذوف ہے تو اب بظاہر یہی لگ رہا تھا یہ صفت ہے لیکن آپ نے اس پر کیا پڑھ دیا؟ رفع، تو پھر یہ اعراب کا جو اختلاف ہے یہ اشارہ کر دے گا کہ یہ مدح یا ذم یا ترحم کی بنا پر کیا جا رہا ہے بھئی۔
اور میں نے یہ بھی بتلایا تھا کہ مدح، ذم اور ترحم کی بنا پر نصب کا پڑھنا بھی جائز ہے بھئی، "بسم الله الرحمن الرحيم"، اور اس صورت میں پھر یہ جو نصب آیا ہے وہ فعل محذوف کی وجہ سے آیا ہے اور وہ فعل کیا ہے؟ "أعني"، اور یہ جو صفت ہے یہ اس کے لیے مفعول بنے گی، "أعني الرحمن"، أعني فعل، أنا ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر فاعل اور الرحمن مفعول بہ بھئی۔ اور یہاں أعني کو بھی حذف کرنا واجب ہے، اگر أعني کو آپ لفظوں میں ذکر کر دیں گے پھر تو پتہ ہی نہیں چلے گا کہ یہ پہلے وصف تھا اور اب اس کو أعني کے لیے مفعول بہ بنایا گیا ہے، یہ پھر پتہ ہی نہیں چلے گا۔ بات سمجھ میں آگئی؟
اب آئیے بھئی آگے آج کے سبق پر، کہتے ہیں: "وقد يحذف الخبر جوازاً أي حذفاً جائزاً لقيام قرينة من غير إقامة شيء مقامه"۔ جی پہلے متن متن دیکھ لیں۔ کہتے ہیں: "والخبر جوازاً مثل: خرجت فإذا السبع"، اور کبھی کبھار خبر کو جوازاً حذف کیا جاتا ہے، "مثل: خرجت فإذا السبع"، میں نکلا تو اچانک درندہ کھڑا تھا۔ سبع درندے کو کہتے ہیں۔ "خرجت فإذا السبع أي خرجت فإذا السبع واقف" بھئی، اس کی خبر واقف محذوف ہے بھئی۔
اور میں نے آپ کو بتلایا کہ حذف وہیں پر جائز ہے جہاں کوئی قرینہ موجود ہو۔ یاد رکھو، جب ایک لفظ کو حذف کیا جائے تو اس کے لیے قرینے کا ہونا ضروری ہے، قرینہ ہی بتلائے گا کہ یہاں کون سا لفظ محذوف ہے بھئی۔ اور بعض اوقات حذف واجب ہوتا ہے اور واجب وہاں ہوگا حذف جہاں قرینہ بھی موجود ہو، کوئی چیز بتلائے کہ یہاں یہ بات محذوف ہے، یہ لفظ محذوف ہے۔ توجہ ہے؟ قرینہ ہی تو بتلائے گا یہاں کچھ محذوف ہے، قرینہ نہیں تو پھر پتہ ہی نہیں چلے گا۔ تو بعض جگہ حذف جائز ہوتا ہے، وہاں قرینہ ہونا ضروری، اور بعض جگہ حذف واجب ہوتا ہے۔ حذف واجب تب ہوگا جب قرینہ بھی موجود ہو سننے والے کو بتلائے کہ یہاں ایک چیز ایک لفظ محذوف ہے، اور نیز وہاں اس خبر کا قائم مقام بھی کسی کو کر دیا جائے۔
ایک خبر کو آپ نے حذف کر لیا ہے اور دوسری چیز کو اس کا قائم مقام بنا دیا، اس کا نائب بنا دیا، اور نائب تب ہی بناتے ہیں جب اصل نہ ہو بھئی۔ اگر اصل ہو پھر تو نائب نہیں کوئی اس کا بن سکتا۔ تو نائب کب بنایا جاتا ہے؟ جب اصل نہ ہو بھئی، جب اصل ہے پھر نائب بنانے کی کوئی حاجت نہیں۔ تو یہاں پر بھی جب خبر کو وجوباً حذف کیا جائے گا تو ایک تو وہاں قرینہ ہونا چاہیے جس سے سننے والوں کو بھی پتہ چلے کہ یہاں پر یہ خبر محذوف ہے، اور نیز وہاں اس خبر کا کوئی نائب بھی ہونا چاہیے یعنی کسی اور چیز کو خبر کا قائم مقام کر دیا جائے۔ اب جب کسی اور چیز کو خبر کا قائم مقام کر دیا ہے تو اب خبر کو حذف کرنا واجب ہے، اب آپ اس کو ذکر نہیں کر سکتے کیونکہ اس کا نائب موجود ہے، اور نائب اور اصل میں سے ایک آتا ہے، ایک وقت میں دونوں نہیں آتے۔ تو حذف جوازاً کہاں ہوگا؟ جہاں قرینہ تو ہو لیکن کسی کو اس کا قائم مقام نہ بنایا گیا ہو۔ اور حذف وجوباً کہاں ہوگا؟ جہاں قرینہ بھی ہو اور کسی دوسری چیز کو خبر کا نائب بھی بنا دیا جائے۔
تو پہلے جواز والی جگہ انہوں نے ذکر کی، کہتے ہیں: "وقد يحذف الخبر جوازاً مثل: خرجت فإذا السبع"، اور کبھی کبھار خبر کو جوازاً حذف کیا جاتا ہے، جیسے "خرجت" میں نکلا "فإذا السبع" تو اچانک درندہ کھڑا تھا۔ یاد رکھو یہ فإذا، یہ جو إذا آیا اس کو إذا مفاجاتیہ کہتے ہیں۔ مفاجات کا معنیٰ ہے اچانک کسی چیز کا ہونا۔ "خرجت" میں نکلا "فإذا السبع" تو اچانک درندہ کھڑا تھا۔ تو یہ السبع ہے مبتدا، اور واقف اس کی خبر جو ہے وہ حذف ہے جوازاً بھئی، یعنی اس کو ذکر بھی کر سکتے ہیں۔ آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں: "خرجت فإذا السبع"، اس کو حذف کر دیا خبر کو، اور آپ چاہیں تو اس خبر کو ذکر کر دیں: "خرجت فإذا السبع واقف"، یا "خرجت فإذا السبع موجود"، کوئی بھی خبر نکال لیں۔ میں نکلا تو درندہ موجود تھا یا میں نکلا تو درندہ کھڑا تھا بھئی۔ تو یہ إذا مفاجاتیہ ہے، یہ کس معنیٰ میں ہے؟ اچانک کے معنیٰ میں ہے۔ تو یہاں پر یہ إذا جو ہے یہ إذا مفاجاتیہ ہے اور یہ اچانک کے معنیٰ میں ہوتا ہے، اور اس کے بعد مبتدا ذکر ہوتا ہے جس کی خبر کو عموماً حذف کر لیا جاتا ہے، اس لیے کیونکہ إذا مفاجاتیہ وجود پر دلالت کرتا ہے۔ تو جیسے "خرجت فإذا السبع"، تو اس کی خبر محذوف ہے اور اس پر یہ إذا مفاجاتیہ قرینہ موجود ہے، کیونکہ إذا مفاجاتیہ کس پر دلالت کرتا ہے؟ وجود پر بھئی۔
اور نیز میں نے آپ کو بتلایا تھا جہاں پر بحث آئی تھی کہ نکرہ بھی کبھی کبھار مبتدا واقع ہوتا ہے تو اس کے اندر تخصیص ضروری ہے اور تخصیص کے چھ طریقے صاحب قافیہ نے ذکر کیے تھے۔ اور بحث کے آخر میں میں نے بتلایا تھا کہ چند جگہیں ایسی ہیں جہاں پر علمائے نحو فرماتے ہیں کہ نکرہ بھی مبتدا بن سکتا ہے، وہاں کسی تخصیص وغیرہ کو دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ ان میں سے ایک تو مقام دعا اور بددعا ہے، "سلام عليك"، یہ مقام دعا ہے لہٰذا سلام نکرہ مبتدا واقع ہو سکتا ہے۔ اسی طرح مقام بددعا ہو جیسے "ويل لك"، یہ ویل کیا ہے؟ نکرہ محض ہے لیکن مبتدا بن رہا ہے کیونکہ مقام بددعا ہے۔ اور اسی طرح جب ایک لفظ بول کر افراد مراد نہ ہوں حقیقت مراد ہو تو وہاں بھی نکرہ مبتدا بن سکتا ہے، جیسے "رجل خير من المرأة"، جنس رجل حقیقت رجل حقیقت امراۃ سے افضل ہے۔ یہاں افراد نہیں مراد، اس لیے کیونکہ اگر افراد مراد لیے جائیں پھر تو یہ کلام درست نہ رہے گا، اس لیے کیونکہ ایک ایمان والی عورت ہے اور ایک کافر مرد ہے تو ظاہر سی بات ہے ایمان والی عورت اس سے افضل ہے بھئی، جبکہ یہاں تو کیا کہا گیا؟ "رجل خير من المرأة" کہ رجل بہتر ہے کس سے؟ عورت سے۔ تو یہاں معلوم ہوا رجل سے حقیقت رجل مراد ہے یہ جنس مراد ہے، اس جنس رجل کو اللہ نے جنس امراۃ پر فضیلت بخشی ہے۔ تو دیکھو یہاں رجل بول کر لفظ بول کر حقیقت اور ماہیت مراد ہے، افراد مراد نہیں، لہٰذا یہاں پر بھی نکرہ مبتدا بن سکتا ہے، چنانچہ رجل نکرہ محض مبتدا بنا۔
اسی طرح ایک مقام تھا إذا مفاجاتیہ بھئی، اس کے بعد، میں نے بتایا تھا إذا مفاجاتیہ کے بعد بھی نکرہ محض مبتدا بن سکتا ہے بھئی۔ تو یہاں تو آیا "خرجت فإذا السبع"، السبع پر الف لام ہے لیکن اگر الف لام نہ ہو پھر بھی درست ہے یہ کلام: "خرجت فإذا سبع واقف" یا "خرجت فإذا سبع"، خبر کو چاہے ذکر کریں چاہے حذف کر دیں، دونوں جائز ہیں۔ اور قرینہ کیا موجود ہے کہ یہ إذا مفاجاتیہ کس پر دلالت کرتا ہے؟ وجود پر دلالت کرتا ہے بھئی۔
دیکھیے بھئی اب شرح کے ساتھ، کہتے ہیں: "وقد يحذف الخبر جوازاً"، اور کبھی کبھار خبر کو جوازاً حذف کر لیا جاتا ہے، "أي حذفاً جائزاً"، جی کیا بتلانا چاہتے ہیں صاحب جامی؟ متن میں تو آیا "جوازاً"، صاحب جامی فرما رہے ہیں: "أي حذفاً جائزاً"، کیا بتلانا چاہتے ہیں؟ کہ یہ یہ مفعول مطلق ہے باعتبار موصوف محذوف کے، "أي حذفاً جوازاً"، حذفاً جواز، اور پھر حذف تو ہے ذات، اور جواز کیا ہے؟ صفت، کیونکہ مصدر ہے، اور مصدر کا حمل تو ذات پر صحیح نہیں، تو پھر مصدر کو اسم فاعل یا اسم مفعول کے معنیٰ میں لے لیتے ہیں کیونکہ اسم فاعل یا اسم مفعول وہ ذات مع الوصف پر دلالت کرتا ہے۔ دیکھو عدل کا کیا معنیٰ؟ عدل کرنا، انصاف کرنا۔ دیکھو اس میں ذات پر دلالت نہیں ہے، بس ایک وصف ذکر ہو رہا ہے۔ اور عادل کا کیا معنیٰ؟ عدل کرنے والا، یعنی ایک ذات ہے جو عدل کے ساتھ موصوف ہو رہی ہے۔ اسی طرح ضارب کا کیا معنیٰ؟ ایک ذات ہے جو ضرب لگانے والی ہے۔ مضروب کا کیا معنیٰ؟ ایک ذات ہے جس پر ضرب واقع ہوئی ہے۔ تو یہ جو اسم فاعل ہے اسم مفعول ہے اور یہ جو صفت کے صیغے ہیں، یہ ذات مع الوصف پر دلالت کرتے ہیں۔ تو یہاں پر بھی حذفاً موصوف جو ہے وہ ذات ہے۔ مصدر ہے لیکن مصدر سے جب خبر دی جائے یا اس کو موصوف بنایا جائے تو وہ کس کے درجے میں ہے؟ ذات کے درجے میں ہے۔ کیا معنیٰ ذات کے درجے میں؟ ایک ذات وہ ہے جس کا خارج میں الگ وجود ہو، یہ یہاں وہ مراد نہیں ہے بلکہ ذات سے یہاں کیا مراد ہے؟ جس کے بارے میں خبر دی جا سکے۔ مصدر کے بارے میں بھی خبر دی جا سکتی ہے، لہٰذا جب اس کو یہاں موصوف بنایا تو یہ ذات کے درجے میں ہوا، اور جب ذات کے درجے میں ہوا تو آگے جوازاً جو مصدر ہے وہ تو صفت ہے، صرف وصف محض ہے، اور وصف محض کا حمل تو ذات پر نہیں ہو سکتا، تو پھر جوازاً کو کس معنیٰ میں لے لیا؟ جائزاً یعنی اسم فاعل کے معنیٰ میں لے لیا۔ اب یہ بھی ذات مع الوصف پر دلالت کر رہا ہے، تو اب اس کا صفت بننا صحیح، "حذفاً جائزاً"، یعنی ایسا حذف جو جائز ہے بھئی۔ تو معلوم ہوا یہ جوازاً مفعول مطلق ہے باعتبار موصوف محذوف کے، یعنی اس کا جو موصوف محذوف ہے وہ ہے اصل میں مفعول مطلق بھئی۔
تو کہتے ہیں: "وقد يحذف الخبر جوازاً"، اور کبھی کبھار خبر کو جوازاً حذف کر لیا جاتا ہے، "أي حذفاً جائزاً"، یعنی ایسا حذف ہے جو جائز ہوتا ہے، "لقيام قرينة"، قرینہ قائم ہوتے وقت بھئی، یہ لام کس معنیٰ میں ہے؟ وقت۔ قرینہ قائم ہوتے وقت اس کو حذف کر لیا جاتا ہے، اور یہ حذف کیسا ہے؟ جائز ہے، "لقيام قرينة" قرینہ قائم ہوتے وقت، "من غير إقامة شيء مقامه"، بغیر اس کے کہ کسی دوسری چیز کو اس کا قائم مقام کر دیا جائے، یعنی کسی دوسری چیز کو اس کا قائم مقام کیے بغیر ہی حذف کیا جاتا ہے۔ یہ قید کیوں لگائی؟ حذف وجوباً کو نکالنے کے لیے، کیونکہ حذف وجوباً میں بھی قرینہ تو ہوتا ہے لیکن وہاں کسی دوسری چیز کو اس کا قائم مقام کر دیا جاتا ہے، تو وہاں حذف واجب ہوتا ہے، اور یہاں قرینہ تو موجود ہے لیکن اس محذوف کا قائم مقام کسی کو نہیں بنایا گیا تو معلوم ہوا یہ حذف جائز ہے، واجب نہیں۔ یہ معنیٰ ہے "من غير إقامة شيء مقامه"، کسی دوسری چیز کو اس کا قائم مقام کیے بغیر، "مثل الخبر المحذوف جوازاً في قولك: خرجت فإذا السبع"، جیسے کہ وہ خبر جو محذوف ہے جوازاً آپ کے اس قول میں: "خرجت فإذا السبع"۔
بھئی متن میں تھا "مثل خرجت فإذا السبع"، اور صاحب جامی نے درمیان میں مثل کے بعد عبارت نکالی: "مثل الخبر المحذوف جوازاً في قولك"، یہ پھر وہی اعتراض کا جواب دینا چاہتے ہیں جو "كقول المستهل الهلال والله" پر ہوا تھا کہ یہاں بات کس کی چل رہی ہے؟ وہ خبر جس کو حذف کرنا جائز ہے۔ توجہ ہے؟ اور مثال کیا دی؟ "خرجت فإذا السبع"، میں نکلا تو اچانک درندہ تھا، یہ إذا کون سا ہے؟ مفاجاتیہ، اور السبع ہے مبتدا، اور واقف خبر محذوف ہے۔ تو عبارت میں جو ذکر ہے السبع، یہ خبر ہے یا مبتدا؟ یہ مبتدا ہے، یہ مبتدا ہے، خبر تو محذوف ہے۔ تو بات چل رہی ہے اس خبر کی جس کو جوازاً حذف کیا جاتا ہے، اور مثال کیا دے رہے ہیں؟ "خرجت فإذا السبع"، یہ تو مبتدا کی مثال ہے بھئی۔ مبتدا ذکر ہے، اس کے اندر تو خبر ذکر ہی نہیں ہے۔ تو صاحب قافیہ بات کس کی کر رہے ہیں؟ وہ خبر جس کو جوازاً حذف کیا جاتا ہے، اور مثال جو ذکر کی اس میں تو مبتدا ذکر ہے، خبر تو اس میں ذکر ہی نہیں، تو یہ مثال ممثل لہ کے مطابق نہیں۔ تو صاحب جامی اس کا جواب دے رہے ہیں کہ نہیں بھئی، مثال ممثل لہ کے مطابق ہے۔ کس طرح؟ کہ یہ جو قول ہے اس کے اندر جو خبر محذوف ہے، "خرجت فإذا السبع واقف"، یہ واقف یہاں کیا ہے؟ محذوف، تو یہ جو خبر اس کلام کے اندر محذوف ہے، یہ حذف خبر جوازاً کی مثال ہے، یعنی یہ مثال ہے اس خبر کی جس کو جوازاً حذف کیا گیا ہے۔ آپ چاہیں حذف کریں، چاہیں حذف نہ کریں۔ بات سمجھ میں آگئی؟
تو کیا اعتراض ہوا؟ کہ بات کس کی چل رہی ہے؟ وہ خبر جو محذوف ہو جوازاً، اور مثال آپ نے کیا دی؟ "خرجت فإذا السبع"، اس کے اندر تو سبع مبتدا ہے، آپ نے تو مثال میں مبتدا کو ذکر کر دیا، حالانکہ کس کو ذکر کرنا چاہیے تھا؟ وہ خبر جو جوازاً محذوف ہو، تو وہ تو آپ نے ذکر ہی نہیں کی، تو صاحب جامی بتلا رہے ہیں نہیں بھئی یہ اسی کی مثال ہے، اس مثال میں، توجہ ہے؟ اس مثال میں وہ جو خبر محذوف ہے، وہ خبر محذوف جوازاً کی مثال ہے۔ تو کہتے ہیں: "مثل الخبر المحذوف"، تو دیکھو صاحب جامی الخبر المحذوف کا لفظ یہاں لے آئے، "مثل الخبر المحذوف جوازاً في قولك: خرجت فإذا السبع، فإن تقديره على المذهب الصحيح كما نص عليه صاحب اللباب"، اس لیے کیونکہ اس قول کی تقدیر جو ہے وہ مذہب صحیح کے مطابق "كما نص عليه صاحب اللباب"، جیسے کہ اس کی تصریح کی ہے صاحب لباب نے۔
صاحب لباب، ان کا ذکر پہلے بھی گزر چکا ہے جہاں صاحب قافیہ نے کلام کی بات کی تھی وہاں صاحب جامی نے ان کا ذکر فرمایا تھا۔ صاحب لباب یہ بہت بڑے نحوی گزرے ہیں بھئی، اور ان کا نام تاج الدین محمد ابن محمد ہے، اور ان کی وفات ہوئی ہے 684 ہجری میں۔ 684 ہجری میں ان کی وفات ہوئی ہے اور انہوں نے کئی بڑی قیمتی کتابیں لکھیں، بہت بڑے نحوی تھے، اور سب سے زیادہ شہرت جو حاصل ہوئی ان کی کتاب لباب الاعراب کو بھئی، لباب الاعراب کو، اور اسی سے یہ مشہور ہیں صاحب لباب کے نام سے بھئی۔ تو یہ ان کا نام کیا ہے؟ علامہ تاج الدین محمد ابن محمد الاسفرائینی بھئی، تو علامہ تاج الدین اسفرائینی کہتے ہیں ان کو بھئی۔
تو کہتے ہیں: "فإن تقديره على المذهب الصحيح كما نص عليه صاحب اللباب"، کہتے ہیں اس قول کی تقدیر جو ہے مذہب صحیح پر "كما نص عليه صاحب اللباب"، جیسے کہ اس پر تصریح کی ہے صاحب لباب نے۔ نص علیہ کا معنیٰ ہے کسی چیز پر تصریح کرنا بھئی، یعنی صاف لفظوں میں ایک بات کو ذکر کرنا۔ ایک بعض اوقات ایسا ہوتا ہے ایک چیز کسی کلام سے اشارۃً معلوم ہو رہی ہوتی ہے، اور ایک ہے صاف لفظوں میں ایک بات کو ذکر کرنا کہ اس کلام کی تقدیر یہ ہے: "خرجت فإذا السبع واقف"، صاف لفظوں میں بیان کرنا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ تصریح بھئی۔ تو جیسے اس پر تصریح کی ہے صاحب لباب نے "خرجت فإذا السبع واقف"، اس کلام کی تقدیر کیا ہے؟ "خرجت" میں نکلا "فإذا السبع واقف" تو اچانک درندہ کھڑا تھا۔ "على أن يكون إذا ظرف زمان للخبر المحذوف من غير ساد مسده أي ففي وقت خروجي السبع واقف"، بنا پر اس کے کہ إذا جو ہے وہ ظرف زمان ہے للخبر المحذوف خبر محذوف کے لیے، "من غير ساد مسده" بغیر اس کو اس کا قائم مقام کیے ہوئے، "أي ففي وقت خروجي السبع واقف"، یعنی میرے نکلنے کے وقت میں درندہ کھڑا تھا۔
بھئی یہ سمجھ لیں اس کو۔ یاد رکھو یہ جو إذا مفاجاتیہ ہے، اس کے اندر علماء کا اختلاف ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ ظرف زمان ہے۔ ظرف زمان، یاد رکھو یہ إذا جو ہے ظرف زمان ہے، اس کا کیا معنیٰ کرتے ہیں اردو میں؟ جب، جب۔ "آتيك إذا طلعت الشمس"، میں آپ کے پاس آؤں گا جب سورج طلوع ہوگا۔ "آتيك"، میں آپ کے پاس آؤں گا، کب آؤں گا؟ "إذا طلعت الشمس"، جب سورج طلوع ہوگا، دیکھا یہ زمانے کی بات ہو رہی ہے، میں اس زمانے میں آؤں گا جس زمانے میں سورج طلوع ہوگا، یعنی جس وقت میں سورج طلوع ہوگا۔ تو یہ إذا کس لیے آتا ہے؟ زمانے کے لیے، تو لہٰذا یہاں پر بھی یہ جو إذا مفاجاتیہ ہے یہ ظرف زمان ہی ہے۔ "خرجت"، میں نکلا "فإذا السبع واقف"، تو اچانک اس وقت درندہ کھڑا تھا، دیکھا یہ إذا وقت کے معنیٰ میں ہے۔ توجہ ہے؟ جبکہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ إذا مفاجاتیہ یہ ظرف مکان ہے۔ ظرف مکان ہے، یہ جگہ کے لیے آیا ہے یہاں پر۔ تو فرماتے ہیں: "خرجت"، میں نکلا "فإذا السبع واقف"، تو اچانک اس جگہ پر درندہ کھڑا تھا۔ پہلوں نے کیا کہا؟ اس زمانے میں درندہ کھڑا تھا، بعض کیا فرماتے ہیں؟ اس جگہ پر درندہ کھڑا تھا۔ اور اسی طرح بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ جو إذا مفاجاتیہ ہے اس کی صورت تو إذا ظرفیہ کی طرح ہے، إذا جو ظرف آتا ہے زمانے کے لیے، اس کی صورت تو إذا ظرفیہ جیسی ہے لیکن یہ حرف ہے۔ یہ کیا ہے؟ حرف ہے، یہ اسم ہے ہی نہیں، یہ ظرف ہے ہی نہیں، یہ حرف ہے اور اچانک کے معنیٰ میں ہے۔ تو گویا تین قسم کے قول آگئے بھئی، اور اس میں صاحب جامی فرما رہے ہیں کس کو ترجیح دے رہے ہیں؟ جو صاحب لباب نے لکھا، انہوں نے اس کو کیا قرار دیا؟ ظرف زمان قرار دیا ہے۔
اور یاد رکھو یہ جب ظرف زمان ہے تو جب ظرف ہے تو ظرف پر کون سا اعراب آتا ہے؟ ظرف پر، بھئی یہ ظرف حقیقی ہے نا؟ ظرف حقیقی کیا بنتا ہے کلام میں؟ مفعول فیہ بنتا ہے، اس پر نصب آتا ہے، تو اس کا عامل کون ہے؟ کون اس کو نصب دے رہا ہے؟ تو بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ جو خبر محذوف ہے، "فإذا السبع واقف"، یہ واقف یا موجود جو بھی خبر آپ نے نکالی ہے وہ اس کے اندر عامل ہے۔ وہ اس کے اندر عامل ہے، وہ اس کو نصب دے رہی ہے، اور واقف یہ تو اسم فاعل کا صیغہ ہے یا اسی طرح موجود نکال لیں تو وہ اسم مفعول کا صیغہ ہے اور صفت کے صیغے بھی اپنے فعل جیسا عمل کرتے ہیں آپ جانتے ہیں بھئی، تو یہ اس کو نصب دے رہا ہے، یہ اس کے لیے مفعول فیہ ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟
اور جب خبر کو اس کے اندر عامل بنائیں گے، توجہ سے سنو بھئی، جب خبر یعنی واقف کو إذا میں عامل بنائیں گے تو پھر إذا آگے آنے والے جملے کی طرف مضاف نہیں، یہ عموماً مضاف ہوتا ہے، إذا کیا ہوتا ہے؟ مضاف ہوتا ہے، تو یہ إذا آگے آنے والے جملے کی طرف مضاف ہوتا ہے، لیکن جب آپ اس کے اندر واقف کو عامل بنائیں گے تو اس صورت میں پھر اس کو مضاف نہیں بنائیں گے، کیونکہ پھر خرابی لازم آئے گی۔ خرابی کیا؟ کہ إذا مضاف ہو گیا کس کی طرف؟ "السبع واقف" کی طرف، توجہ ہے؟ یہ مضاف ہوا "السبع واقف" کی طرف اور مضاف عامل ہوتا ہے مضاف الیہ کے اندر، تو گویا یہ عامل بن گیا "السبع واقف" کے اندر، اس کو یہ جر دے رہا ہے، اور وہ جو اس کا مجرور ہے اسی کا ایک جز واقف اس کے اندر عمل کر رہا ہے، تو گویا عامل جس کے اندر عمل کر رہا تھا وہ جو معمول ہے، اس معمول ہی کا ایک جز پھر خود اس کے اندر بھی عمل کر رہا ہے، تو دونوں ایک دوسرے میں عمل کرنے والے بن جائیں گے، حالانکہ یہ درست نہیں ہے بھئی کہ دونوں ایک دوسرے میں عمل کریں۔ تو لہٰذا تو جب واقف یعنی خبر کو اس کے اندر عامل بنائیں تو پھر اس کی اضافت نہیں کریں گے، کس کی طرف؟ آگے آنے والے جملے کی طرف۔ چنانچہ اسی لیے صاحب جامی نے دیکھو آگے تفسیر کیا کی: "أي ففي وقت خروجي السبع واقف"، میرے نکلنے کے وقت میں درندہ کھڑا تھا۔ دیکھو یہ وقت کی اضافت "السبع واقف" کی طرف نہیں کی بھئی، یہی بتلانے کے لیے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ ورنہ تو کیا کہنا چاہیے تھا؟ "وقت وقوف السبع" کہنا چاہیے تھا بھئی، "وقت"، اگر یہ مضاف ہوتا تو پھر اس جملے کی طرف اس کو مصدر بنا کر اس کا مضاف الیہ ذکر کرتے۔ تو لہٰذا اس صورت میں پھر یہ مضاف نہیں ہوگا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ جب یہ مفعول فیہ ہے کس کے لیے؟ وہ جو خبر ہے اس کے لیے، تو پھر یہ آگے آنے والے جملے کی طرف مضاف نہیں۔
جبکہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ خبر اس کے اندر عامل نہیں ہے، وہ نصب نہیں دے رہی، بلکہ یہ فا عاطفہ ہے، یہ فا عاطفہ ہے اور اس کے بعد ایک فعل محذوف ہے اور وہ ہے "فاجأت"، "خرجت ففاجأت"، "خرجت ففاجأت" اور إذا کا معنیٰ کر لیں وقت یا زمانے کے ساتھ، إذا کا ترجمہ کس سے کر لیں؟ إذا ظرفیہ ہے نا، وقت یا زمانے کے ساتھ اس کو تعبیر کر دیں اور آگے جملے کی طرف اب اضافت کر دیں، کیا کر دیں؟ اضافت کر دیں، کیونکہ اب وہ واقف عامل نہیں ہے، اب فاجأت جو فعل نکالا ہے وہ اس کے اندر عامل ہے، توجہ ہے؟ تو معلوم ہوا اب إذا کو مضاف اور "السبع واقف" کو مضاف الیہ بنانے میں کوئی خرابی نہیں، کیونکہ واقف اس میں عامل ہے ہی نہیں، فاجأت عامل ہے۔ تو اب آگے آنے والا جملہ ہے اس کی طرف یہ مضاف ہے، اور مضاف الیہ تو مفرد ہوتا ہے اور یہ تو جملہ ہے، تو اس جملے کو مفرد سے بدل دیں، اس جملے کو مفرد سے بدل کر مضاف الیہ بنا دیں، اور جملے کو مفرد سے کیسے بدلتے ہیں؟ مضمون جملہ نکالتے ہیں، مضمون جملہ کیا ہے؟ خبر کا مصدر نکالیں اور مبتدا کی طرف مضاف کر دیں، "السبع واقف"، خبر کیا ہے؟ واقف، واقف کا مصدر نکالیں، وقوف بھئی، وقوف بھئی، اس وقوف کی اضافت کریں السبع مبتدا کی طرف، کیا بن گیا؟ "وقوف السبع"، درندے کا کھڑا ہونا، تو "وقوف السبع" یہ مضمون جملہ نکل آیا، اور اس کی طرف اب إذا کی اضافت کر دیں: "خرجت ففاجأت إذا وقوف السبع"، "خرجت ففاجأت إذا وقوف السبع"، یہ إذا مضاف ہے تو اس جملے کو ہم نے مفرد بنا لیا کیونکہ مضاف الیہ مفرد ہوتا ہے بھئی۔ اور پھر یہ إذا وقت یا زمانے کے معنیٰ میں ہے تو إذا کی جگہ ذرا وقت یا زمانے کا لفظ لے آؤ: "خرجت ففاجأت زمان وقوف السبع"، "خرجت ففاجأت زمان وقوف السبع"، میں نکلا "ففاجأت" تو اچانک میں نے پایا، کیا پایا؟ "زمان وقوف السبع"، درندے کے کھڑے ہونے کا زمانہ۔ درندے کے کھڑے ہونے، تو زمانہ کا لفظ نکالیں یا وقت کا لفظ نکالیں، "خرجت ففاجأت وقت وقوف السبع" یا "زمان وقوف السبع"، جو بھی لفظ نکال لیں، زمانے کا بھی وہی معنیٰ، وقت کا بھی وہی معنیٰ ہے۔
بات سمجھ میں آگئی؟ کیا بات ہوئی کہ إذا مفاجاتیہ یہ بعض کے نزدیک ظرف زمان ہے، بعض کے نزدیک ظرف مکان ہے، اور بعض نے اس کو حرف قرار دیا ہے، وہ کہتے ہیں یہ ظرف ہے ہی نہیں۔ اور صاحب جامی نے کس کو ترجیح دی ہے؟ صاحب لباب کے قول کو اور انہوں نے اس کو ظرف زمان بنایا ہے۔ اور پھر اس کے اندر عامل کیا ہے؟ تو انہوں نے بتلایا کہ اس کے اندر عامل جو ہے وہ آگے جو خبر آ رہی ہے واقف یا موجود جو بھی نکال لیں موقع کے مطابق وہ اس کے اندر عامل ہے، اور جب وہ اس کے اندر عامل ہے تو یہ إذا تو عموماً آگے آنے والے جملے کی طرف مضاف ہوتا ہے، تو پھر تو إذا عامل ہوا اس جملے کے اندر اور اسی جملے کا ایک جز عامل بن جائے گا إذا کے اندر اور یہ تو درست نہیں ہے، تو پھر کہتے ہیں اس صورت میں یہ مضاف نہیں ہے جملے کی طرف، مضاف نہیں ہے، تو اس کے اندر عامل وہ خبر ہے۔ اور بعض علماء کیا فرماتے ہیں؟ کہ اس کے اندر وہ خبر عامل نہیں ہے بلکہ یہ فا عاطفہ ہے اور اس کے بعد ایک فعل محذوف ہے جس کا ماقبل پر عطف ہو رہا ہے، "خرجت ففاجأت"، یہ فاجأت کا عطف کس پر ہے؟ خرجت پر ہے، اور یہ فا کون سی ہے؟ عاطفہ ہے، اور یہ فاجأت کا کیا معنیٰ؟ اچانک ایک چیز کو پا لینا۔ تو "ففاجأت" یہ فعل ہے اور یہ عامل ہے إذا کے اندر، یہ کیا ہے؟ عامل ہے إذا کے اندر، اور یہ إذا اب مضاف ہے آگے آنے والے جملے کی طرف کیونکہ اب وہ جملہ یا اس کا جز اس کے اندر عامل نہیں۔ تو لہٰذا إذا کو زمانے یا وقت کے معنیٰ میں لے لیں، اور آگے آنے والے جملے کا مضمون جملہ نکال لیں یعنی خبر کا مصدر نکال کر اس مبتدا کی طرف مضاف کر دیں، تو کلام کیا بن گیا؟ "خرجت ففاجأت زمان وقوف السبع"، میں نکلا تو اچانک میں نے پایا درندے کے کھڑے ہونے کا زمانہ میں نے پایا، یا وقت کا لفظ لے آئیں: "خرجت ففاجأت وقت وقوف السبع"، میں نکلا تو اچانک میں نے پایا درندے کے کھڑے ہونے کا وقت بھئی۔
اور یاد رکھنا، جب آپ فاجأت یہاں فعل محذوف نکالیں گے تو آگے جو إذا ہے یہ اس کے لیے پھر مفعول فیہ نہیں بنے گا بلکہ مفعول بہ بن جائے گا۔ کیا بن جائے گا؟ آپ معنیٰ پہ غور کر لیں، "ففاجأت"، میں نے اچانک پایا، کس چیز کو پایا؟ "وقت وقوف السبع"، درندے کے کھڑے ہونے کے زمانے کو پا لیا، جیسے آپ کہتے ہیں: "وجدت كتاباً"، میں نے کتاب پا لی، تو وجدت کے لیے کتاب کیا ہے؟ مفعول بہ ہے، تو یہاں پر بھی جس چیز کو پایا ہے وہ مفعول بہ ہے، مفعول فیہ نہیں، مفعول فیہ تو اس کو کہتے ہیں جس کے اندر وہ فعل ہوا ہو۔ وہ پانے کا جو زمانہ ہے جس زمانے میں چیز پائی ہے وہ مفعول فیہ بنے گا بھئی، لیکن یہاں یہ نہیں کہہ رہے اس زمانے میں میں نے یہ چیز پائی بلکہ کہہ رہے ہیں میں نے وہ زمانہ پا لیا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہ کیا بن جائے گا؟ مفعول بہ۔ عبارت پر غور کر رہے ہیں؟ معنیٰ سمجھ میں آ رہا ہے؟ مفعول فیہ اور مفعول بہ کے اندر فرق سمجھ میں آ رہا ہے؟ دیکھو مفعول فیہ وہ ہوتا ہے کہ جس کے اندر کوئی فعل کیا جائے، "ضربت زيداً يوم الجمعة"، میں نے زید کی پٹائی کی، کب؟ جمعے کے دن میں پٹائی کی، جمعے کے، وہاں فی بھی آ سکتا ہے، اور یہاں فی نہیں آ سکتا، "وجدت وجدت زمان وقوف السبع"، میں نے کیا پایا؟ درندے کے وقوف کا زمانہ پایا، یہ نہیں آپ کہہ سکتے میں نے درندے کے وقوف کے زمانے میں پایا، "في زمان وقوف السبع" نہیں کہہ سکتے، کیونکہ پھر یہ مفعول چاہے گا بھئی کیا چیز پائی آپ نے درندے کے وقوف کے زمانے میں؟ یہی إذا کیا بن جائے گا؟ اس فاجأت کے لیے مفعول بہ بن جائے گا۔ تو اگر واقف کو إذا کے اندر عامل بنائیں پھر إذا ظرف ہے، اس کے لیے مفعول فیہ ہے بھئی، اور اگر فاجأت کو إذا کے اندر عامل بنائیں پھر إذا جو ہے مفعول فیہ نہیں بنے گا بلکہ مفعول بہ بن جائے گا۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟
اور پھر یہ بھی یاد رکھنا کہ یہ جو خبر ہے اس کو حذف کرنا جائز ہے، خبر کو حذف کرنا جائز ہے۔ جب خبر کو حذف کرنا جائز ہے، اور یہ خبر کس کے اندر عامل ہے؟ إذا کے اندر، توجہ ہے؟ وہ جو صاحب جامی قول ذکر کر رہے ہیں اس کی بات کر رہا ہوں، صاحب جامی کے مطابق یہ إذا کے اندر عامل کون ہے؟ صاحب لباب کے قول کے مطابق إذا کے اندر عامل کون ہے؟ آگے آنے والی خبر عامل ہے، اور اس خبر کو حذف کر دیا، اور آپ جانتے ہیں کہ بعض اوقات خبر کو حذف کر کے ظرف کو اس کا قائم مقام بنا دیتے ہیں۔ "زيد عندي"، اصل میں کیا تھا؟ "زيد عندي"، زید مبتدا ہے، عندي خبر ہے، اور عندي اصل میں کیا تھا؟ "ثابت عندي" تھا، تو اصل خبر کیا تھی؟ ثابت، اور وہی عامل تھی عندي کے اندر بھی، اس کے لیے یہ مفعول فیہ بن رہا تھا۔ پھر اس ثابت خبر کو حذف کر دیا اور عندي ظرف کو اس کا قائم مقام کر دیا، توجہ ہے؟ لیکن یہاں پر ایسا نہیں ہے کہ خبر کو حذف کر دیا ہو واقف کو حذف کر دیا اور إذا کو اس کا قائم مقام بنا دیا۔ کیوں؟ خبر کو جب حذف کیا ہے تو آپ یہ کیوں نہیں کہتے کہ إذا کو اس کا قائم مقام کر دیا؟ "زيد عندي"، اس کے اندر تو آپ کہتے ہیں ثابت کو حذف کر دیا یعنی عامل کو حذف کر دیا اور معمول کو اس کا قائم مقام کر دیا ظرف کو، یہاں آپ یہ نہیں کہتے کہ "فإذا السبع واقف"، واقف عامل ہے اور إذا اس کا مفعول فیہ ہے، اس کا ظرف ہے، عامل کو حذف کر دیا اور إذا کو اس کا قائم مقام بنا دیا۔ کیوں نہیں کہتے؟ وجہ یہ کہ اگر إذا کو اس خبر کا قائم مقام بنا دیں گے تو یہ تو اس کا نائب بن جائے گا، پھر تو خبر کا حذف یہاں واجب ہو جائے گا بھئی، حالانکہ یہاں خبر کا حذف واجب ہے یا جائز ہے؟ جائز ہے، واجب نہیں ہے، بات سمجھ میں آگئی؟
تو دیکھیے بھئی کتاب پر، کہتے ہیں: "فإن تقديره على المذهب الصحيح"، کہ اس کلام کی تقدیر جو ہے مذہب صحیح پر "كما نص عليه صاحب اللباب"، جیسے کہ اس پر تصریح کی ہے صاحب لباب نے کلام کی تقدیر یہ ہے: "خرجت فإذا السبع واقف"، دیکھو واقف خبر محذوف ہے، "على أن يكون إذا ظرف زمان للخبر المحذوف"، بنا پر اس کے کہ إذا جو ہے وہ ظرف زمان ہے للخبر المحذوف اس خبر محذوف کے لیے، یہ اس کے لیے ظرف زمان ہے یعنی مفعول فیہ ہے، "من غير ساد مسده"، بغیر اس کے قائم مقام ہوئے، "من غير ساد مسده" کہہ لیں یا "قائم مقامه" کہہ لیں ایک ہی معنیٰ ہے، "من غير ساد مسده"، بغیر اس کے قائم مقام ہوئے، بغیر اس کے قائم مقام ہوئے، یہ قید کیوں لگائی؟ کیونکہ اگر یہ إذا اس کا قائم مقام ہوتا پھر تو خبر کا حذف واجب ہونا چاہیے تھا، حالانکہ یہ واجب نہیں ہے بھئی۔ "أي ففي وقت خروجي"، دیکھو اب تفسیر کر رہے ہیں، دیکھو مثال میں کیا آیا تھا؟ "فإذا السبع واقف"، اب یہ إذا کو وقت یا زمانے کے معنیٰ میں لے لیں گے اور ظرفیت کے لیے عربی میں کیا آتا ہے؟ فی آتا ہے، تو پہلے فی بھی لے آئیں گے، دیکھو: "أي ففي وقت خروجي"، تو میرے نکلنے کے وقت میں "السبع واقف" درندہ کھڑا تھا۔ معلوم ہوا یہ إذا کون سا ہے؟ ظرف زمان ہے، اسی لیے وقت کے ساتھ اس کی تفسیر کی، تو کہتے ہیں: "أي ففي وقت خروجي"، تو میرے نکلنے کے وقت میں "السبع واقف" درندہ کھڑا تھا۔
یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ آگے دیکھیے: "وقد يحذف الخبر لقيام قرينة وجوباً أي حذفاً واجباً فيما التزم أي في تركيب التزم في موضعه أي موضع الخبر غيره"۔ بھئی اب کچھ وہ جگہیں ذکر کریں گے جہاں خبر کا حذف کرنا واجب ہے۔ اور میں نے بتایا کہ خبر کا حذف جب واجب ہو تو وہاں دو چیزیں ہوں گی، ایک تو کوئی قرینہ ہوگا جو ہمیں بتلائے گا کہ خبر محذوف ہے اور دوسرا وہاں اس خبر کا قائم مقام بھی کسی کو بنایا جائے گا، پھر ہی حذف واجب ہوگا۔ دراصل علمائے نحو نے دیکھا کلام عرب میں غور کرتے ہوئے کہ بعض جگہیں ایسی ہیں کہ عرب وہاں پر مبتدا کو تو لاتے ہیں، خبر کو لاتے ہی نہیں ہیں، خبر کو حذف کر دیتے ہیں۔ توجہ ہے؟ بعض جگہ علمائے نحو کو ایسی ملیں جہاں عرب مبتدا کو تو ذکر کرتے ہیں اور خبر کو ذکر ہی نہیں کرتے۔ انہوں نے تمام عرب کے کلام میں چھان بین کی، تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ایک بھی، ایک بھی فصیح شخص اس خبر کو ذکر نہیں کر رہا۔ معلوم ہوا اس کا حذف واجب ہے، اگر واجب نہ ہوتا تو بعض لوگ تو اس کو ذکر کر دیتے، لیکن انہوں نے دیکھا کہ تمام فصحائے عرب جو ہیں وہ اس خبر کو کیا کرتے ہیں؟ حذف کرتے ہیں، تو وہ حیران ہوئے کہ بھئی کیا وجہ ہے؟ کیوں حذف کرتے ہیں؟ کبھی تو ذکر بھی کرنا چاہیے بھئی۔ تو پھر بالاخر وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ معلوم ہوا خبر کا قائم مقام کسی چیز کو بنا دیا گیا ہے اور جب تک وہ قائم مقام موجود ہے خبر کا حذف واجب ہے بھئی۔ بات سمجھ میں؟ تو چنانچہ اس لیے نحوی حضرات کہنے لگے کہ یہاں پر خبر کا حذف واجب اس لیے ہے کیونکہ اس کا قائم مقام کسی دوسری چیز کو بنا دیا گیا ہے، اور جب قائم مقام یا نائب موجود ہو تو اصل نہیں آ سکتا۔ اسی لیے ایک بھی فصیح و بلیغ شخص عرب کا وہ اس خبر کو اپنے قول میں ذکر نہیں کرتا، ہمیشہ محذوف رکھتا ہے۔ معلوم ہوا کہ اس خبر کا قائم مقام کسی دوسری چیز کو انہوں نے بنا دیا ہے، تو وہ جگہیں انہوں نے تلاش کیں تو وہ چار جگہیں تھیں بھئی، کتنی جگہیں؟ چار جگہیں ہیں جہاں پر خبر کو حذف کرنا واجب ہے، اب وہ چار جگہیں یہ ذکر کریں گے بھئی۔
دیکھیے بھئی پہلے متن متن دیکھ لیں۔ کہتے ہیں بھئی: "ووجوباً"، اور کبھی کبھار خبر کو وجوباً حذف کر لیا جاتا ہے، "فيما التزم"، اس ترکیب کے اندر، "التزم في موضعه غيره"، جہاں لازم پکڑا جائے، التزم کا کیا معنیٰ؟ لازم، فیما اس ترکیب کے اندر جہاں لازم پکڑا جائے "في موضعه"، اس جگہ کے اندر، "غيره"، غیر خبر کو۔ بھئی خبر کی جگہ ہے، خبر کی جگہ پر کسی غیر خبر کو لازم پکڑ لیا، یعنی اس کو اس کا قائم مقام کر دیا بھئی، توجہ ہے؟ معنیٰ سمجھ میں آ رہا ہے؟ خبر کو کیا کر دیا؟ حذف، تو جو خبر کی جگہ تھی اس جگہ کسی اور کو لازم پکڑ لیا یعنی اس کو اس کا قائم مقام کر دیا۔ تو کہتے ہیں: "فيما"، اس ترکیب میں، کس میں؟ اس ترکیب میں۔ ترکیب سے یہ جو آپ ترکیب کرتے ہیں وہ ترکیب مراد نہیں ہے بھئی، یہ جو آپ ترکیب کرتے ہیں اس کو عربی میں اعراب کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ اعراب۔ عرب کے سامنے ترکیب کا لفظ ذکر کریں، ترکیب کا معنیٰ تو ہے جوڑنا، رکب یرکب ترکیب کا معنیٰ ہے لفظوں کو چیزوں کو آپس میں جوڑنا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ اور آپ جو ترکیب کرتے ہیں، آپ تو اس میں لفظوں کا اعراب بتاتے ہیں بھئی، تو اس کے لیے عربی میں اعراب کا لفظ استعمال ہوتا ہے، ترکیب کا لفظ استعمال نہیں ہوتا۔ تو یہاں ما سے مراد صاحب جامی بتائیں گے ترکیب مراد ہے، کیا معنیٰ ترکیب؟ یعنی یہ جو لفظوں کو آپس میں جوڑ کر ایک کلام بنایا گیا ہے، یہ جو ترکیب ہے، یہ جو لفظوں کو آپس میں جوڑا گیا ہے، اس کے اندر خبر کی جگہ پر دوسری چیز کو اس کا قائم مقام بنا دیا گیا ہے، معنیٰ سمجھ میں آ رہا ہے؟ تو کہتے ہیں کبھی کبھار خبر کو وجوباً حذف کر لیا جاتا ہے "فيما" اس ترکیب کے اندر "التزم في موضعه" کہ لازم پکڑا جائے اس خبر کے مقام میں "غيره" غیر خبر کو، غیر خبر کو خبر کا قائم مقام بنا دیا جائے، "مثل: لولا زيد لكان كذا"، جیسے یہ پہلی مثال ہے بھئی۔ چار جگہیں ذکر کریں گے، پہلی مثال کیا؟ "لولا زيد لكان كذا"، دوسری مثال کیا؟ "ضربي زيداً قائماً"، یہ بھی متن میں آ رہا ہے، تیسری جگہ کیا؟ "كل رجل وضيعته"، اور چوتھی جگہ ہے "لعمرك لأفعلن كذا"۔
تو یہ پہلا مقام جو ذکر کر رہے ہیں: "مثل: لولا زيد لكان كذا"، بھئی یہاں لولا آیا۔ یاد رکھو لولا دو قسم پر ہے، ایک لولا تحضیضیہ ہے، ضاد ہیں دو اس کے اندر بھئی، تحضیضیہ، حظض یحظض تحضیض کا معنیٰ ہوتا ہے دوسرے کو کسی بات پر ابھارنا، کسی کو کسی بات پر برانگیختہ کرنا۔ تو ایک لولا تحضیضیہ ہے، وہ کسی کو کسی بات پر ابھارنے کے لیے لایا جاتا ہے۔ اور یاد رکھو یہ جو لولا تحضیضیہ ہے یہ ایک جملے پر داخل ہوتا ہے اور وہ جملہ بھی ہمیشہ فعلیہ ہونا چاہیے، کیونکہ ابھارا جو ہے وہ فعل پر جاتا ہے، ذات پر نہیں بلکہ فعل پر ابھارا جاتا ہے۔ مثلاً آپ اپنے ساتھی سے کہتے ہیں: "لولا تضرب زيداً"، "لولا تضرب زيداً"، تو زید کی پٹائی کیوں نہیں کرتا؟ دیکھا آپ اس کو ابھار رہے ہیں کہ مطلب تمہیں زید کی پٹائی کرنی چاہیے بھئی، "لولا تضرب زيداً"، تو یہ لولا کیا ہے؟ تحضیضیہ ہے، ابھارنے کے لیے ہے۔ اور کبھی یہ ماضی پر بھی داخل ہوتا ہے، ماضی پر جب یہ داخل ہو تو پھر ماضی میں تو ابھارنا نہیں ہو سکتا، وہاں پھر دوسرے کو ملامت کرنا مقصود ہوتا ہے، "لولا ضربت زيداً"، دیکھو اب ضربت ماضی ہے، "لولا ضربت زيداً"، تو نے زید کو کیوں نہیں مارا؟ دیکھو ماضی کی بات ہے، تم نے زید کو کیوں نہیں مارا؟ اور ماضی پر ابھارا تو نہیں جا سکتا، وہ تو بات گزر چکی ہے، مطلب دوسرے کو صرف ملامت کر رہا ہے کہ کیوں نہیں مارا تم نے۔ فعل مضارع آئے گا مستقبل کی بات ہوگی تو وہاں ہے ابھارنا، اور ماضی کی بات ہوگی تو پھر اس کا معنیٰ کیا ہے؟ ملامت کرنا۔ تو یہ لولا تحضیضیہ ایک جملے پر داخل ہوتا ہے اور وہ جملہ بھی فعلیہ ہوتا ہے ہمیشہ، کیونکہ ابھارا فعل پر جاتا ہے۔
اور دوسرا لولا امتناعیہ ہے، یہاں پر جو ذکر آ رہا ہے یہ لولا امتناعیہ ہے۔ لولا امتناعیہ، یہ یاد رکھو دو جملوں پر داخل ہوتا ہے اور ان دو جملوں میں سے پہلے جملے کا اسمیہ ہونا ضروری ہے۔ لولا امتناعیہ کتنے جملوں پر داخل ہوتا ہے؟ دو جملوں پر، اور ان میں سے پہلے کا جملہ اسمیہ ہونا ضروری ہے بھئی، اور یہ دلالت کرتا ہے امتناع ثانی پر بوجہ وجود اول کے، کہ ثانی جو ہے، ثانی جملہ جو ہے اس میں جو بات کی گئی ہے وہ ممتنع ہے، کیوں؟ کیونکہ پہلی چیز کا وجود ہے، جو پہلے جملے میں ذکر ہے اس کا وجود ہے۔ جیسے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مشہور قول ہے: "لولا علي لهلك عمر"۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ایک مقدمہ پیش ہوا جس میں ایک عورت کو پیش کیا گیا جس نے زنا کیا تھا بھئی اور وہ شادی شدہ تھی، تو جرم اس کا ثابت ہو گیا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو رجم کرنے کا حکم دیا بھئی۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہاں موجود تھے، فرمانے لگے کہ یا امیر المومنین، اس عورت کا جرم تو ہے اس کو تو سنگسار کیا جائے لیکن یہ حاملہ ہے اور اس کے پیٹ میں حمل ہے بھئی، اور اس حمل کا تو کوئی قصور نہیں، اس بچے کا تو کوئی قصور نہیں ہے، تو اگر اس عورت کو ابھی رجم کریں گے تو وہ بچہ بھی ہلاک ہو جائے گا۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوراً چونک اٹھے اور فرمایا: "لولا علي لهلك عمر"، اگر علی نہ ہوتے عمر تو ہلاک ہو گیا تھا، میری تو اس بات کی طرف توجہ ہی نہیں گئی اور میری وجہ سے پھر اگر ایک جان چلی جاتی تو قیامت کے دن میں اللہ کو کیا جواب دیتا؟ تو اس موقع پر حضرت عمر نے یہ فرمایا: "لولا علي لهلك عمر"، اگر علی نہ ہوتے عمر تو ہلاک ہو گیا تھا۔ تو یہاں دیکھو یہ لولا امتناعیہ ہے، یہ کس لیے آتا ہے لولا امتناعیہ؟ کہ ثانی ممتنع ہے کس کی وجہ سے؟ وجود اول کی وجہ سے۔ "لولا علي"، اصل میں ہے "لولا علي موجود"، اگر علی موجود نہ ہوتے، اور ثانی کیا ہے؟ "لهلك عمر"، تو عمر تو ہلاک ہو گئے تھے، تو ثانی میں ہلاکت عمر ذکر ہے، اور ثانی یعنی ہلاکت عمر ممتنع ہے، کیوں؟ بوجہ وجود اول یعنی وجود علی کے۔ ہلاکت عمر منتفی ہے کس کی وجہ سے؟ وجود علی کی وجہ سے بھئی۔
صحابہ کی آپس میں کتنی محبت تھی، آپ اس کا تصور نہیں کر سکتے۔ یہ سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے شاگرد تھے بھئی، اور ان کے دلوں کو اللہ نے جوڑ دیا تھا بھئی، تو اللہ نے ان کے دلوں کو جوڑ دیا تھا اور یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کا اثر تھا کہ یہ آپس میں اتنی محبت کرتے تھے کہ جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا بھئی۔ تو دیکھو اس جملے میں "لولا علي لهلك عمر"، "لولا علي لهلك عمر"، اس کے اندر ثانی ممتنع ہے منتفی ہے بوجہ وجود اول کے، ہلاکت عمر منتفی ہے وجود علی کی وجہ سے۔ اب دیکھو یہ جو لولا ہے اس کے اندر میں نے بتایا یہ دو جملوں پر داخل ہوگا اور پہلا جملہ ہمیشہ اسمیہ ہوگا، اور یہ جو پہلا جملہ اسمیہ ہے اس کی خبر کو وجوباً حذف کیا جائے گا۔ جیسے دیکھو ایک مثال کتاب میں دی ہوئی ہے: "لولا زيد لكان كذا"، یہ "لولا زيد أي لولا زيد موجود"، زید ہے مبتدا اور موجود اس کی خبر ہے اور اس خبر کو حذف کرنا واجب ہے بھئی، اور "لكان كذا" یہ جواب لولا کہلاتا ہے، یہ جو دوسرا جملہ آتا ہے یہ کیا کہلاتا ہے؟ جواب لولا۔ تو یہاں پر یہ زید کی خبر موجود کو حذف کرنا واجب ہے، حذف کرنا واجب ہے، اس لیے کیونکہ یہاں پر یہ جو جواب لولا ہے یعنی "لكان كذا"، اس کو اس خبر کا قائم مقام کر دیا گیا ہے، اس کو اس خبر کا نائب بنا دیا گیا ہے، اور جب نائب آگیا اب اصل نہیں آ سکتا، لہٰذا اب اس خبر کو ذکر نہیں کیا جا سکتا، توجہ ہے؟
اور قرینہ بھی یہاں پر موجود ہے، اس لیے کیونکہ یہ جو لولا ہے اس کو وضع ہی وجود کے لیے کیا گیا ہے کہ یہ اول کا وجود بتلاتا ہے کہ اول کے وجود کی وجہ سے ثانی منتفی ہے۔ یہ لولا کو وضع ہی کس لیے کیا گیا ہے؟ کہ ایک چیز کے وجود کی وجہ سے ثانی کیا ہے؟ منتفی، تو اس کو وضع ہی وجود کے لیے کیا گیا ہے۔ لہٰذا وہ جو خبر وجود پر دلالت کر رہی تھی، "لولا زيد موجود"، خبر کیا تھی؟ موجود، تو وہ خبر جو وجود پر دلالت کر رہی تھی اس کو حذف کر لیا گیا کیونکہ لولا خود اس پر دلالت کر رہا ہے، کیونکہ لولا کو وضع ہی کس لیے کیا گیا ہے؟ کہ بتلاتا ہے کہ وجود اول کی وجہ سے ثانی ممتنع ہے، تو لولا وجود پر دلالت کرتا ہے، لہٰذا اس کی خبر جو موجود تھی اس کو حذف کر لیا گیا، تو یہ ہے قرینہ، اس کی وجہ سے حذف کیا گیا، اور پھر یہ حذف واجب ہوا کیونکہ "لكان كذا" جو جواب لولا ہے اس کو اس خبر کا قائم مقام کر دیا گیا، بات سمجھ میں آگئی؟
دیکھیے بھئی اب کتاب پر شرح کے ساتھ، کہتے ہیں: "وقد يحذف الخبر"، اور کبھی کبھار خبر کو حذف کر لیا جاتا ہے، "لقيام قرينة"، قرینہ قائم ہوتے وقت، "وجوباً أي حذفاً واجباً"، وجوباً کے بعد "حذفاً واجباً" نکال کر بتلانا چاہتے ہیں کہ یہ وجوباً مفعول مطلق ہے باعتبار موصوف محذوف کے اور پھر یہ وجوباً بمعنیٰ واجباً کے ہے، "أي حذفاً واجباً"، یعنی واجب طور پر، "فيما التزم أي في تركيب التزم"، دیکھا ما کی جگہ ترکیب لے آئے بھئی، ما کی جگہ ترکیب کا لفظ لے آئے، اور نیز ترکیب کا لفظ نکرہ نکالا، بتلانا چاہتے ہیں کہ فیما کے اندر یہ جو ما ہے یہ موصولہ نہیں بلکہ ما موصوفہ ہے۔ تو "فيما التزم أي في تركيب التزم"، یعنی ایسی ترکیب میں جس کے اندر لازم پکڑا گیا ہو "في موضعه أي موضع الخبر"، ضمیر کا مرجع بتلا دیا، خبر کے مقام میں لازم پکڑا گیا ہو "غيره أي غير الخبر"، دیکھو پھر ضمیر کا مرجع بتلا دیا۔ یعنی ایسی ترکیب جس میں خبر کے مقام میں غیر خبر کو لازم پکڑ لیا گیا ہو، "وذلك في أربعة أبواب على ما ذكره المصنف"، اور یہ جو ہے چار بابوں میں ہے بنا بر اس کے جو مصنف نے ذکر فرمایا، یعنی چار جگہیں ہیں جہاں پر خبر کو حذف کرنا واجب ہے۔ "أولها المبتدأ الذي بعد لولا"، اول ان میں سے وہ مبتدا ہے جو لولا کے بعد آئے، "مثل: لولا زيد لكان كذا"، میں نے بتایا لولا زید، یہ زید ہے مبتدا اور اس کی خبر موجود کو حذف کرنا واجب ہے۔ کہتے ہیں: "لولا زيد لكان كذا أي لولا زيد موجود"، دیکھو یہاں خبر محذوف نکال لی، "لأن لولا لامتناع شيء لوجود غيره"، اس لیے کیونکہ لولا جو ہے وہ آتا ہے "لامتناع شيء"، ایک شے کے ممتنع ہونے کے لیے، "لوجود غيره"، اس کے علاوہ کے وجود کی وجہ سے، کہ ایک شے ممتنع ہے کیونکہ اس شے کے علاوہ ایک اور چیز کا وجود ہے۔ اور دیکھیے "لامتناع شيء"، اس کے نیچے لکھا ہے "الثاني"، کہ لولا آتا ہے امتناع ثانی کے لیے، "لوجود غيره"، غیرہ کے نیچے لکھا ہے "الأول"، یعنی اول کے وجود کی وجہ سے، تو غیرہ سے مراد اول ہے۔ "لأن لولا لامتناع شيء لوجود غيره"، اس لیے کیونکہ لولا آتا ہے کہ ایک شے ممتنع ہے اس شے کے غیر کے پائے جانے کی وجہ سے، "فيدل على الوجود"، تو یہ جو لولا ہے یہ جو ہے وجود پر دلالت کرتا ہے، کس پر دلالت کرتا ہے؟ وجود پر دلالت کرتا ہے، "وقد التزم في موضع الخبر جواب لولا"، اور تحقیق لازم پکڑا گیا ہے خبر کے مقام میں جواب لولا، کس کو؟ خبر کی جگہ کس کو قائم مقام کیا؟ جواب لولا کو، تو کہتے ہیں تحقیق لازم پکڑا گیا ہے خبر کے مقام میں لولا کے جواب کو، "فيجب حذفه"، تو لہٰذا اس خبر کو حذف کرنا واجب ہے، "لقيام قرينة"، ایک تو قرینہ قائم ہونے کی وجہ سے، "والتزام قائم مقامه"، اور اس وجہ سے کہ اس کے قائم مقام کا التزام کیا گیا ہے، یعنی لازم پکڑا گیا ہے اس کے قائم مقام کو، "والتزام قائم مقامه"، اور اس کے قائم مقام کو لازم پکڑنے کی وجہ سے کہ ایک چیز کو اس کا قائم مقام کر دیا گیا ہے۔ تو یہ التزام کا عطف ہے قیام پر، اور قیام پر لام جارہ داخل ہے۔
تو دیکھو خبر کو وجوباً حذف کیا گیا، قرینہ بھی چاہیے کہ بتلائے یہ چیز حذف ہے اور نیز کوئی قائم مقام بھی چاہیے تاکہ حذف کو وجوباً قرار دیا جائے، بات سمجھ میں آگئی؟ دونوں ذکر کر دیے۔ جی دوبارہ دیکھیں: "فيجب حذفه لقيام قرينة والتزام قائم مقامه"، تو اس خبر کو حذف کرنا واجب ہے قرینہ قائم ہونے کی وجہ سے اور قائم مقام کو لازم پکڑنے کی وجہ سے، "هذا إذا كان الخبر عاماً"، یہ اس وقت ہے جب خبر عام ہو، جب خبر کیا ہو؟ عام ہو۔ بھئی دیکھیے "لولا زيد لكان كذا"، زید کی خبر کا حذف واجب ہے اور وہ کیا ہے؟ موجود، "لولا زيد موجود"، اور یہ موجود کس میں سے ہے؟ افعال عامہ میں سے ہے۔ افعال عامہ مشہور کتنے ہیں؟ چار: کون، ثبوت، وجود، حصول۔ تو دیکھو اس کے اندر وجود بھی ہے بھئی، وجود، تو یہ جب خبر افعال عامہ میں سے ہو پھر تو حذف واجب ہے اور اگر افعال عامہ میں سے نہ ہو پھر حذف واجب نہیں۔ کہتے ہیں: "هذا إذا كان الخبر عاماً"، یہ اس وقت ہے جب خبر عام ہو، یعنی خبر کا حذف واجب ہوگا اس وقت جب وہ عام ہو، "وأما إذا كان خاصاً"، اور اگر خبر جو ہے وہ خاص ہو یعنی افعال خاصہ میں سے ہو، "فلا يجب حذفه"، تو پھر اس خبر کا حذف واجب نہیں، "كما في قوله"، جیسے کہ اس قول کے اندر ہے بھئی ایک شاعر کے قول ہے، شعر: "ولولا الشعر بالعلماء يزري، لكنت اليوم أشعر من لبيد"، "ولولا الشعر بالعلماء يزري"، أزرىٰ يزري کا معنیٰ ہے عیب دار کرنا، عیب دار بنانا۔ "ولولا الشعر بالعلماء يزري"، اور شعر جو ہے اگر وہ علماء کو عیب دار نہ بناتا، اشعار کہنا اگر علماء کو عیب دار نہ کرتا، "لكنت اليوم أشعر من لبيد"، تو آج میں لبید سے بڑا شاعر ہوتا۔ "أشعر من لبيد"، میں زیادہ بڑا شاعر ہوتا من لبید، کس کے مقابلے میں؟ لبید کے مقابلے میں بھئی۔
توجہ ہے؟ لبید جو ہے، لبید یہ عرب کے چوٹی کے شعراء میں سے گزرے ہیں بھئی، لبید ابن ربیعہ بھئی، بلکہ ان کا ایک معلقہ بھی سبعہ معلقات کے اندر شامل ہے۔ عرب کے وہ مشہور و معروف قصیدے جو جو سوق عکاظ میں لٹکائے جاتے تھے، اور اسی طرح بیت اللہ کے ساتھ جو لٹکائے جاتے تھے، جو چوٹی کے شعراء ہوتے تھے جن کے کلام پر پورا عرب فخر کرتا تھا کہ ہماری زبان ایسی فصیح و بلیغ ہے بھئی، تو وہ جو چوٹی کے شعراء تھے وہ جو معلقات تھے ان میں سے ایک معلقہ لبید ابن ربیعہ کا ہے بھئی، یہ بہت بڑا شاعر گزرا ہے عرب کا بھئی۔ اور یاد رکھو یہ یہ صحابی رسول بھی ہیں بھئی، یہ بعد میں ایمان لے آئے تھے، حضور علیہ السلام کا زمانہ انہوں نے پایا اور یہ ایمان لے آئے تھے بھئی، اور ایمان لانے کے بعد پھر تمام زندگی انہوں نے پھر شعر نہیں کہے۔ ایک آدھا کوئی شعر کہا ہے اس کے بعد، اور ان کا انتقال ہوا ہے 41 ہجری میں بھئی، تو ایمان لے آئے اور صحابی ہیں، معلوم ہوا کم از کم 30 سال سے زیادہ حضور علیہ السلام کی وفات کے بعد یہ زندہ رہے، تو پھر حضور کی زندگی میں بھی اور اتنی طویل عمر کے اندر بھی پھر انہوں نے دوبارہ کوئی شعر نہیں کہا بھئی، تو یہ صحابی رسول ہیں بھئی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھئی۔
تو یہ شاعر کیا کہتا ہے؟ "ولولا الشعر بالعلماء يزري"، اگر اشعار کہنا یہ علماء کو عیب دار نہ بناتا ان کو عیب دار نہ کرتا، "لكنت اليوم أشعر من لبيد"، تو آج میں لبید سے بھی بڑا شاعر ہوتا بھئی۔ اب اس کے اندر دیکھو لولا آیا اور اس کے اندر الشعر یہ ہے مبتدا، اور يزري یہ خبر ہے، اور بالعلماء اسی يزري سے متعلق ہے، جار مجرور اسی سے متعلق ہے۔ اور دیکھو یہاں لولا کے بعد جو جملہ آیا اس کی خبر کو ذکر کیا گیا ہے حالانکہ انہوں نے کیا بتایا؟ حذف کرنا واجب ہے، تو دیکھو اس کلام کے اندر لولا جو ہے لولا کے بعد جملہ اسمیہ آیا اور یہ يزري یہ اس کی خبر ہے بھئی، اور یہاں پر دیکھو خبر مذکور ہے حالانکہ انہوں نے کیا بتلایا تھا کہ لولا کی خبر کو حذف کرنا واجب ہے بھئی، تو وجہ اس کی شارح جامی نے ذکر کر دی کہ لولا کے بعد جو مبتدا آئے اگر اس کی خبر افعال عامہ میں سے ہو تو اس کو حذف کرنا واجب ہے کیونکہ لولا خود اس پر دلالت کر رہا ہے، اور اگر افعال عامہ میں سے نہ ہو افعال خاصہ میں سے ہو پھر حذف کرنا واجب نہیں، اور یہاں پر دیکھو يزري یہ افعال عامہ میں سے نہیں ہے بھئی۔
اور یہ بھی یاد رکھیں کہ بعض علماء نے اس شعر کی نسبت امام شافعی رحمہ اللہ کی طرف کی ہے بھئی، کہ یہ کس کا شعر ہے؟ امام شافعی رحمہ اللہ کی طرف، جبکہ بعضوں نے اوروں کی طرف شعر کی نسبت کی ہے، تو حقیقت اللہ ہی جانتے ہیں کہ یہ امام شافعی رحمہ اللہ کا شعر ہے یا کسی اور کا، لیکن بعضوں نے امام شافعی رحمہ اللہ کی طرف اس کی نسبت کی ہے بھئی، کہ وہ فرماتے ہیں کہ اگر یہ جو اشعار کہنا یہ علماء کو عیب دار نہ کرتا تو آج میں لبید سے بھی بڑا شاعر ہوتا بھئی۔ وجہ یہ کہ جو شعراء ہوتے ہیں یہ عموماً جھوٹی باتیں کرتے ہیں بھئی، یہ جس چیز کی تعریف کرنی ہو تو رائی کو اٹھا کر پہاڑ بنا دیتے ہیں، اور جس چیز کی برائی کرنی ہو تو وہ چاہے پہاڑ جتنی بڑی صفت ہی کسی کی کیوں نہ ہو اس کو چھوٹا کر کے رائی جتنا بنا دیں گے بھئی، اور اسی طرح باطل خیالات ذکر کرتے ہیں، عشق و محبت کی اکثر باتیں ذکر کرتے ہیں، تو یہ اس لیے یہ علماء کے لیے پسندیدہ نہیں بھئی۔ ہاں ہمارے علماء بھی اشعار کہتے ہیں لیکن وہ سارے وہ اصلاح سے متعلق اشعار ہوتے ہیں جس سے لوگوں کی اصلاح ہو، اس میں آخرت کی باتیں ہوتی ہیں، آخرت کی طرف لوگوں کو متوجہ کرتے ہیں، دین کی طرف متوجہ کرتے ہیں، اونچے پیغامات دیتے ہیں تو پھر اس قسم کی شاعری یہ ناپسندیدہ نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ اور جیسے قریب کے زمانے میں بہت سے ایسے شعراء گزرے ہیں بھئی، اکبر الہ آبادی بھئی بہت بڑا شاعر گزرا ہے اور وہ تمام اصلاحی باتیں کرتا ہے اپنے اشعار کے اندر۔ اسی طرح علامہ اقبال گزرے ہیں بھئی قریب کے زمانے میں اور کمال کی شاعری ہے، انسان سن کر حیران رہ جاتا ہے، اتنی گہری باتیں اتنی گہری باتیں کہ اس کو سمجھنے کے لیے ہی بہت وقت چاہیے بھئی۔ اور پھر دیکھو علامہ اقبال وہ یورپ کے اندر بھی بڑے سال گزار کر آئے، وہاں اعلیٰ ترین یونیورسٹیوں کے اندر وہ پڑھ کر آئے تھے، لیکن ان کے پورے کلام کو اٹھا کر دیکھ لیں انہوں نے ایک جگہ بھی یورپ کی تعریف نہیں کی، کمال کیا انہوں نے بھئی۔ وہ ذرا بھی ان سے متاثر نہیں تھے۔ تعریف کرتے تھے تو اپنے ہی مذہب کی، اپنے ہی لوگوں کی، اور دکھ کا اظہار کرتے تھے کہ یہ مسلمان سائنس اور تحقیق کے میدان میں پیچھے کیوں رہ گئے بھئی؟ کیوں رہ گئے؟ یہ غیر مسلم کیسے ان سے آگے نکل گئے؟ تو انہوں نے اپنے اشعار کے ذریعے پوری قوم کو بیدار کرنے کی کوشش کی بھئی۔ اشعار میں اگر اچھی بات کی جائے تو وہ پسندیدہ ہے، لیکن عموماً عام شعراء جو ہیں وہ بیکار باتیں ہی کرتے ہوئے آپ کو ملیں گے بھئی۔
جی آگے دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: "هذا على مذهب البصريين"، یہ بصریین کے مذہب پر ہے بھئی۔ یہ جو ذکر ہوا کہ لولا کے بعد کیا آتا ہے؟ مبتدا، اور اس کی خبر کو حذف کرنا واجب ہے کیونکہ جواب لولا کو خبر کا قائم مقام بنا دیا گیا ہے، یہ ساری تقریر کن کے مذہب کے مطابق تھی؟ بصریین کے مذہب کے مطابق۔ "وقال الكسائي: الاسم الواقع بعدها فاعل لفعل مقدر"، جبکہ امام کسائی فرماتے ہیں کہ وہ اسم جو لولا کے بعد واقع ہو وہ فاعل ہوتا ہے فعل مقدر کے لیے، یعنی وہاں فعل مقدر ہے اور یہ اسم اس کا فاعل ہے، "أي لولا وجد زيد"۔ بصرہ والے کیا فرماتے ہیں؟ "لولا زيد"، یہ زید مبتدا ہے اور اس کی خبر موجود محذوف ہے اور اس کا حذف واجب، جبکہ امام کسائی کیا فرماتے ہیں کہ "لولا زيد"، یہ زید مبتدا نہیں ہے بلکہ یہ فاعل ہے اور اس کے فعل کو حذف کرنا واجب ہے۔ وجہ یہ کہ وہ فرماتے ہیں کہ یہ جو لولا آیا نا لولا، یہ لو الگ ہے اور لا الگ ہے، اور لو حروف شرط میں سے ہے اور حرف شرط ہمیشہ فعل پر داخل ہوتا ہے۔ شرط ہمیشہ فعل ہوتی ہے، جزا تو جملہ اسمیہ بھی ہو سکتی ہے اور جملہ فعلیہ بھی، لیکن شرط ہمیشہ جملہ فعلیہ۔ تو یہ لو لا جو آیا یہ لو اور لا سے مرکب ہے، اور لو حرف شرط ہے اور حرف شرط ہمیشہ کس پر داخل ہوتا ہے؟ فعل پر داخل ہوتا ہے۔ جیسے وہاں مثال پیچھے گزری تھی: "وإن أحد من المشركين استجارك"، إن داخل ہوا تھا کس پر؟ أحد پر، تو وہاں ذکر ہوا تھا کہ یہاں إن کے بعد استجارك فعل محذوف ہے اور آگے آنے والا استجارك اس کی تفسیر کر رہا ہے، کیونکہ إن حرف شرط ہے اور وہ اسم پر داخل نہیں ہوتا بلکہ فعل پر داخل ہوتا ہے۔ تو یہاں پر بھی امام کسائی کیا فرماتے ہیں کہ لولا میں یہ لو وہی شرطیہ ہے اور اس کے لیے فعل چاہیے تو فعل یہاں محذوف ہے اور زید اس کے لیے فاعل ہے، "أي لولا وجد زيد"، اگر زید نہ پایا جاتا، اور اس میں لو کی بات میں نے پہلے بھی ذکر کی تھی کہ یہ مثبت کو منفی میں بدل دیتا ہے اور منفی کو مثبت میں، تو یہاں "لا وجد زيد" ہے، یہ منفی ہے، اس کو مثبت میں بدل دے گا کہ یعنی کہ زید موجود ہے، زید کا وجود ہے بھئی۔ تو یہ امام کسائی فرماتے ہیں کہ لو الگ ہے اور لا الگ ہے، جبکہ بصرہ والے نحوی فرماتے ہیں کہ یہ لولا ایک ہی لفظ ہے، یہ کوئی لو اور لا کو ملا کر نہیں جوڑا گیا، یہ لولا ایک ہی کلمہ ہے بھئی، تو اس کے بعد جو آئے گا وہ ہوگا مبتدا اور آگے اس کی خبر محذوف ہوگی۔
یہاں آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا کہ امام کسائی کیا فرما رہے ہیں؟ لولا کے بعد جو اسم واقع ہوگا وہ فاعل ہوگا اور تقدیر کلام کیا ہے؟ "لولا وجد زيد"، بھئی وجد تو فعل مجہول ہے اور زید تو اس کے لیے مفعول ما لم یسم فاعلہ ہے یعنی نائب الفاعل ہے، اور صاحب جامی تو کیا فرما رہے ہیں کہ وہ اسم جو اس کے بعد واقع ہے وہ فاعل ہے بھئی، حالانکہ وہ تو فاعل نہیں بلکہ نائب الفاعل ہے؟ بھئی یہ بات پیچھے بیان ہو چکی ہے بھئی، کہ فاعل اور نائب فاعل ان میں بڑا گہرا تعلق ہے بھئی۔ صاحب قافیہ نے تو اس کو مفعول ما لم یسم فاعلہ قرار دیا یعنی فاعل سے الگ کر دیا، حالانکہ بعض علماء کے نزدیک یہ حقیقتاً فاعل ہی ہے۔ چاہے فاعل ہو چاہے نائب الفاعل، یہ جو نائب الفاعل ہے وہ فرماتے ہیں جیسے شیخ عبد القاہر بھئی بہت بڑے امام گزرے ہیں علم بلاغت کے، اسی طرح علامہ زمخشری، وہ بھی اس نائب الفاعل کو بھی فاعل ہی کہتے ہیں بھئی۔ صرف فرق اتنا ہے، کہتے ہیں ایک یہ فعل معروف کا فاعل ہے اور دوسرا فعل مجہول کا فاعل ہے، صرف اتنا فرق ہے، جبکہ عام نحوی علماء اور جیسے صاحب قافیہ وغیرہ وہ فرماتے ہیں نہیں، دونوں میں تعلق تو ہے، دونوں کے سارے احکام بھی ایک جیسے ہیں، لیکن دونوں ہیں الگ الگ چیزیں، ایک فاعل ہے فعل کرنے والا، ایک مفعول ما لم یسم فاعلہ ہے جس پر فعل واقع ہوا ہے بھئی۔ تو جو مفعول ما لم یسم فاعلہ ہے وہ حقیقتاً نہیں فاعل بلکہ حکماً فاعل ہے، کیا ہے؟ حکماً فاعل ہے، جبکہ شیخ عبد القاہر اور علامہ زمخشری کیا فرماتے ہیں کہ مفعول ما لم یسم فاعلہ وہ حقیقت میں ہی فاعل ہے، وہ اس کا نام فاعل ہی رکھتے ہیں، اس کا کوئی الگ نام رکھتے ہی نہیں ہیں بھئی۔ صرف اتنا فرق ہے ایک کے لیے فعل معروف آتا ہے اور دوسرے کے لیے فعل مجہول آتا ہے۔ تو اس لیے انہوں نے کہا کہ امام کسائی فرماتے ہیں وہ اسم جو اس کے بعد واقع ہو وہ فاعل ہوگا فعل مقدر کے لیے بھئی۔ تو یہ ہے تو نائب الفاعل لیکن شیخ عبد القاہر اور علامہ زمخشری کے مذہب کے مطابق اس کو فاعل ہی کہہ دیا بھئی، کیونکہ بات واضح تھی بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟
آگے دیکھیے: "وقال الفراء: لولا هي الرافعة للاسم الذي بعدها"، امام فراء فرماتے ہیں کہ یہ جو لولا ہے "هي الرافعة"، یہی رفع دینے والا ہے "للاسم الذي بعدها"، اس اسم کو جو اس کے بعد ہے۔ امام فراء فرماتے ہیں: "لولا زيد"، یہ لولا خود رفع دے رہا ہے زید کو، یعنی یہ اسم فعل ہے۔ یہ کیا ہے؟ اسم فعل ہے، اسم ہے باقاعدہ وہ فرماتے ہیں یہ، اسم ہے اور فعل والا معنیٰ ادا کر رہا ہے، جیسے بھئی روید، "رويد زيداً أي أمهل زيداً"، جیسے روید اسم فعل ہے امہل کے معنیٰ میں، شتان فعل ہے، "شتان زيد أي بعد زيد"، تو جیسے یہ اسم فعل ہیں وہ فرماتے ہیں امام فراء کہ یہ لولا بھی اسم فعل ہے، یہ خود زید کو رفع دے رہا ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟
تو کہتے ہیں: "وقال الفراء: لولا هي الرافعة للاسم الذي بعدها"، امام فراء فرماتے ہیں کہ لولا یہی رفع دینے والا ہے اس اسم کو جو اس کے بعد ہے۔ ترکیب پہ نظر ہے؟ "لولا هي الرافعة"، "لولا هي الرافعة"، بھئی دیکھو یہ لولا ہے مبتدا اور لولا سے لفظ مراد ہے، اور جب لفظ بول کر لفظ مراد ہو تو وہ ھذا اللفظ کی تاویل میں ہوتا ہے یعنی معرفہ ہوتا ہے، یا وہ علم کے درجے میں ہوتا ہے اور علم بھی کیا ہے؟ معرفہ۔ اور آگے خبر کیا آئی؟ "الرافعة"، ھیا کو ذرا چھوڑ دیں، الرافعة اس کی خبر تھی، اور وہ بھی معرفہ ہے، وہ بھی معرفہ ہے، اور جب مبتدا کے ساتھ ساتھ خبر بھی معرفہ آ جائے تو پھر تو آپس میں موصوف صفت کا شبہ ہوتا ہے، پڑھنے والا سمجھے گا شاید لولا موصوف ہے الرافعة اس کی صفت، تو پھر درمیان میں کبھی فصل لے آتے ہیں، یہ ھیا فصل ہے۔ یہ ھیا کیا ہے؟ فصل ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ مبتدا اور خبر جب دونوں معرفہ ہوں تو کبھی فصل لاتے ہیں اور کبھی نہیں لاتے، یہاں وہ لے کر آئے ہیں کیونکہ یہاں پر صفت ہونے کا شبہ ہو رہا تھا۔ اور پھر یہ جو ھیا درمیان میں لایا گیا، بعض کہتے ہیں یہ حرف ہے تو وہ اس کا نام فصل رکھتے ہیں، یہ صرف فصل کر رہا ہے کہ یہ آگے الرافعة یہ لولا کی صفت نہیں ہے بلکہ یہ خبر ہے، یہ کس نے بتایا؟ ھیا نے، تو یہ ھیا حرف ہے اور "لا محل له من الإعراب" کیونکہ حرف ہے بھئی، اعراب تو اسم یا فعل پر آتا ہے بھئی۔ تو یہ حرف ہے، تو لولا ہوا مبتدا اور الرافعة کیا ہوئی؟ اس کی خبر۔ جبکہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ جو فصل ہے یہ ضمیر ہی ہوتی ہے، تو ان کے نزدیک یہ ضمیر ہے، اسم ہے، لہٰذا اس کے لیے بھی اعراب ہوگا اور پھر وہ فرماتے ہیں کہ لولا یہاں پر دیکھو کہ لولا کو بنائیں گے مبتدائے اول، اور "هي الرافعة" یہ پورا جملہ اس کی خبر ہے، اور اس کے اندر ھیا مبتدائے ثانی ہے اور الرافعة اس مبتدائے ثانی کی خبر ہے بھئی۔ توجہ ہے؟ اس کی خبر ہے۔ اور یہ کس لیے لائے تھے؟ یہ یہ ھیا کس لیے لائے تھے؟ فصل کے لیے، کیونکہ لولا بھی معرفہ، الرافعة بھی معرفہ، ورنہ تو موصوف صفت کا شبہ ہوتا تھا۔ تو اب یہاں ھیا لے آئے، تو اس پر اشکال ہوتا ہے کہ ھیا ضمیر بھی تو معرفہ ہے اور الرافعة بھی معرفہ ہے تو موصوف صفت کا شبہ تو یہاں بھی ہونا چاہیے؟ تو کہتے ہیں نہیں بھئی آپ پڑھ چکے ہیں ضابطہ: "الضمير لا يوصف ولا يوصف به"، ضمیر نہ موصوف بنتی ہے نہ صفت بنتی ہے بھئی۔ ضمیر نہ موصوف بنتی ہے، ضمیر کی کبھی صفت نہیں لائی جاتی، اور اسی طرح صفت بھی نہیں بنتی بھئی ضمیر بھئی، تو لہٰذا یہاں موصوف صفت کا شبہ نہیں ہوتا۔ تو ان کے نزدیک یہ ھیا کیا ہے؟ مبتدائے ثانی ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟
اور پھر ایک اور بات یاد رکھنا کہ یہ جو فصل لاتے ہیں یا یا یہ جو ضمیر فصل لے کر آتے ہیں یہ ہمیشہ مبتدا کے مطابق ہوگی۔ توجہ ہے؟ اگر مبتدا مذکر ہو تو یہ ضمیر بھی مذکر کی ہوگی، اگر مبتدا مؤنث ہو تو یہ ضمیر بھی مؤنث کی، نیز اگر مبتدا مفرد ہو یا تثنیہ ہو یا جمع ہو تو ضمیر بھی اسی کے مطابق مفرد، تثنیہ یا جمع ہوگی۔ یاد رکھو جہاں اس ضمیر کی مطابقت مبتدا کے ساتھ نہ ہو پھر وہاں آپ اس کو فصل نہیں بنا سکتے بھئی۔ چنانچہ جہاں پر ہم نے مرفوعات شروع کیے تھے وہاں کیا آیا تھا؟ "المرفوعات هو ما اشتمل"، "المرفوعات هو ما اشتمل"، تو وہاں یاد رکھنا المرفوعات کو مبتدا بنائیں آپ اور ما اشتمل کو خبر بنائیں اور ھو کو درمیان میں ضمیر فصل بنائیں: "المرفوعات هو ما اشتمل"، ھو کو فصل بنا دیں اور المرفوعات کو مبتدا بنا دیں اور ما اشتمل، یہ ما کو موصولہ بنا کر وہ بھی معرفہ ہوتا ہے خبر بنا دیں، یہ ترکیب وہاں نہیں کر سکتے۔ کیوں نہیں کر سکتے؟ کیونکہ مبتدا ہے المرفوعات، جمع مؤنث، اور فصل کیا ہے؟ ھو، ھو نہیں ہو سکتا، یہاں ھن لانا پڑے گا۔ کیا لانا پڑے گا؟ ھن لانا پڑے گا کیونکہ یہ ضمیر فصل تب ہی ہوگی تب ہی ہو سکتی ہے جب یہ مبتدا کے مطابق ہو بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟
تو یہاں پر دیکھو "لولا هي الرافعة"، لولا ہے مبتدا اور ھیا فصل آگئی، تو اب آپ کہیں گے یہاں کیسے مطابقت ہے؟ تو یاد رکھو لولا یہ کلمۃ کی تاویل میں لے لیں اس کو، کس تاویل میں؟ کلمہ کی تاویل میں لے لیں، یا یا یہ حرف ہے بھئی، اور میں پہلے ذکر کر چکا کہ حروف جو ہیں عربی زبان میں مذکر بھی استعمال ہوتے ہیں مؤنث بھی، لیکن مؤنث استعمال ان کا زیادہ ہے، تو یہ حرف ہے تو مؤنث ہے لہٰذا ھیا ضمیر واحد مؤنث کی لائے بھئی۔ تو کہتے ہیں: "وقال الفراء"، اور امام فراء فرماتے ہیں: "لولا هي الرافعة للاسم الذي بعدها"، کہ لولا یہی رفع دینے والا ہے اس اسم کو جو اس کے بعد ہے۔ تو امام فراء کے نزدیک تو یہ اسم فعل ہے، کیا ہے؟ اسم فعل ہے، تو میں نے بتایا یا تو اس کو کلمہ کی تاویل میں لے لیں، کلمہ بھی واحد مؤنث ہے اس کے آخر میں گول تا جڑی ہوئی ہے، یا حرف کی تاویل میں اس کو لے لیں بھئی۔
یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ اچھی طرح؟ تو یہ پہلا مقام ہم نے پڑھا جہاں خبر کو حذف کرنا واجب ہے، اور وہ کون سی خبر ہے؟ جو لولا کے بعد جو مبتدا آئے یہ اس کی خبر ہے، اس کو حذف کرنا واجب۔ اس کے لیے قرینہ بھی موجود ہے اور نیز جواب لولا کو اس کا قائم مقام بھی کر دیا گیا، تو لہٰذا اب اس کا حذف واجب ہے، اگر آپ اس کو کلام میں ذکر کریں گے تو یہ آپ عربی کلام کے اعتبار سے غلطی کر رہے ہیں۔ بات سمجھ میں آگئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔