اچھا بھئی! ہم تناقض کی بحث پڑھ رہے تھے بھئی۔ آگے سبق دیکھیے کتاب پر۔
ساتویں: کل اور جز میں دونوں قضیے متفق ہوں، یعنی اگر ایک قضیے کا محمول پورے موضوع کے لیے ثابت کیا گیا ہو تو دوسرے قضیے میں بھی اسی خاص جز کے لیے ثابت ہو، اگر ایسا نہ ہوگا بلکہ ایک قضیہ میں تو موضوع کے کل کے لیے محمول ثابت کیا گیا ہو اور دوسرے قضیہ میں موضوع کے جز کے لیے محمول ثابت ہو تو تناقض نہ ہوگا۔ جیسے یوں کہیں: حبشی کالا ہے اور حبشی کالا نہیں۔ تو دونوں قضیوں میں اگر یہ مراد ہے کہ حبشی کا جز کالا ہے اور حبشی کا وہی جز کالا نہیں تو تناقض ہوگا۔ اس لیے کہ اس میں پہلا قضیہ صادق ہے اس لیے کہ دانت اس کے سفید ہوتے ہیں اور دوسرا جھوٹ ہوگا۔
اچھا بھئی! ادھر دیکھیے بھئی۔ ہم تناقض کی بحث پڑھ رہے تھے، تناقض۔ آپ نے پڑھا کہ تناقض کا معنی ہے ٹکراؤ اور مخالفت۔ جب دو قضیے ایسے ہوں کہ ان میں ایک موجبہ ہو اور دوسرا سالبہ ہو اور ایک کو سچا مانیں تو دوسرے کو ضرور جھوٹا ماننا پڑے، تو ان کے اس اختلاف کو تناقض کہتے ہیں۔ تناقض کا معنی ہے ٹکراؤ اور مخالفت۔ تو ان کے اس اختلاف کو تناقض کہتے ہیں اور ان دونوں قضیوں کو ایک دوسرے کی نقیض کہتے ہیں۔ اور تثنیہ کیا ہے؟ نقیضین، تو یہ دونوں قضیے کیا ہوں گے؟ ایک دوسرے کی نقیضین ہوں گے۔ مثلاً میں کہتا ہوں: زید عالم ہے اور پھر کہتا ہوں: زید عالم نہیں ہے، تو دیکھو ایک میں ایجاب ہے، دوسرے میں سلب ہے اور ایک قضیے کو مانیں تو دوسرے کو جھوٹا ضرور ماننا پڑتا ہے۔ اگر آپ کہتے ہیں: زید عالم ہے، حقیقت میں بھی عالم ہے، تو زید عالم نہیں ہے اس قضیے کو کیا ماننا پڑے گا؟ جھوٹا ماننا پڑے گا۔ اور اگر زید عالم نہیں ہے حقیقت میں، تو پھر یہ دوسرے قضیے کو کہ زید عالم نہیں ہے اس کو سچا ماننا پڑے گا اور پہلا قضیہ کہ زید عالم ہے اس کو کیا ماننا پڑے گا؟ جھوٹا۔ تو دو قضیوں کے درمیان اس طرح کے اختلاف کو تناقض کہتے ہیں۔
تو یاد رکھو، تناقض میں ضروری ہے کہ ایک موجبہ ہو تو دوسرا سالبہ ہو اور ایک کو سچا کہیں تو دوسرے کو ضرور جھوٹا ماننا پڑے اور یہ بھی آپ نے پڑھا تھا کہ تناقض کے اندر یہ نہیں ہو سکتا کہ دونوں سچے ہو جائیں یا دونوں جھوٹے ہو جائیں، نہیں! ایک سچا ہوگا تو ایک جھوٹا ہوگا۔ دونوں جھوٹے ہوں تو بھی تناقض نہیں، دونوں سچے ہوں تو بھی تناقض نہیں۔ تو ایک کا سچا ہونا اور ایک کا جھوٹا ہونا ضروری ہے۔ یعنی یوں کہیں دونوں قضیے نہ تو جمع ہو سکیں، یعنی دونوں سچے نہ ہو سکیں اور نہ ہی دونوں اٹھ سکیں، یعنی دونوں جھوٹے بھی نہ ہوں، ایک سچا ہو اور ایک جھوٹا۔ تو ایک کا موجبہ ہونا ضروری اور ایک کا سالبہ ہونا ضروری۔
اور پھر آپ نے پڑھا تھا کہ قضیہ مخصوصہ، وہ قضیہ وہ قضیہ حملیہ جس کا موضوع کیا ہو؟ شخص معین ہو اور ذات معین ہو، اس کو قضیہ مخصوصہ کہتے ہیں اور دو قضیہ مخصوصہ کے درمیان تناقض کے لیے آٹھ وحدتوں کا ہونا ضروری ہے۔ وحدت کا کیا معنی؟ ایک ہونا، اتفاق ہونا۔ تو آٹھ چیزوں میں دونوں قضیوں کا اتفاق ضروری ہے پھر ہی تناقض پایا جائے گا۔ چھ وحدتیں ہم پڑھ چکے گزشتہ سبق میں، آج ساتویں اور آٹھویں وحدت پڑھیں گے بھئی۔ تو یہ آٹھ چیزیں دونوں قضیوں میں ایک جیسی ہوں گی، ان آٹھ چیزوں میں وحدت ہوگی تو پھر دو قضیہ مخصوصہ کے اندر تناقض ہوگا ورنہ تناقض نہیں ہوگا بھئی، تناقض نہیں ہوگا اور یہ آٹھ وحدتیں تو ان کو وحدات ثمانیہ کہتے ہیں۔ وحدات جمع ہے وحدت کی اور ثمانیہ آٹھ کو کہتے ہیں بھئی، تو وحدات ثمانیہ۔ اور یہ اس شعر کے اندر جمع ہیں بھئی شعر کے اندر۔ یہ شعر آج پھر میں اس کا ترجمہ وغیرہ ذکر کر دوں گا جب ہماری یہ بحث پوری ہو جائے اور آپ نے پھر کل یہ دونوں شعر مجھے سنانے ہیں بھئی بہترین انداز میں بغیر اٹکے اور یہ ہر وقت آپ کو یاد ہوں، کیونکہ یہ دو شعر یاد ہو گئے تو پوری بحث آپ کو یاد ہو جائے گی بھئی۔
تو مناطقہ نے غور و فکر کر کے وہ آٹھ چیزیں جمع کیں جن کے درمیان اتفاق اور اتحاد ہوگا تو پھر ہی دو قضیوں کے درمیان تناقض ہو سکتا ہے۔ وہ آٹھ چیزیں، چھ آپ پڑھ چکے۔ پہلی چیز کیا؟ کس چیز میں وحدت اور اتفاق ضروری ہے؟ موضوع دونوں کا ایک ہو۔ زید عالم ہے، زید عالم نہیں ہے، تو پہلے قضیے کا موضوع کون؟ زید، دوسرے کا موضوع بھی زید ہے، تو دیکھو موضوع کے اندر اتحاد ہے تو ان دونوں میں تناقض ہے۔ زید عالم ہے، زید عالم نہیں ہے، ان دونوں میں سے ایک سچا ہے تو ایک جھوٹا ہے۔ پہلے کو سچا مانتے ہو تو دوسرا جھوٹا ہے اور دوسرے کو سچا مانتے ہو تو پہلا جھوٹا ہے بھئی۔ تو دیکھو ایک میں ایجاب ہے اور ایک میں سلب ہے اور دونوں کا موضوع ایک ہے تو تناقض پایا جا رہا ہے۔
دوسری وحدت جو ہے کہ دونوں کا محمول بھی ایک ہو۔ زید عالم ہے، زید عالم نہیں۔ پہلے میں اسی عالم کا اثبات ہے تو دوسرے میں اسی عالم کی نفی ہے۔ تو محمول دونوں میں ایک ہے، اگر محمول بدل جائے تو پھر بھی تناقض نہ رہے گا۔ مثلاً میں کہتا ہوں: زید عالم ہے، زید تاجر نہیں ہے، زید تجارت کرنے والا نہیں ہے۔ تو زید تاجر نہیں ہے، تو میں نے محمول بدل دیا اب تناقض ختم ہو گیا، اس لیے کیونکہ دونوں سچے ہو سکتے ہیں، زید عالم ہو یہ بھی ہو اور زید تاجر نہ ہو یہ بھی ہو جائے، دونوں کیا ہو جائیں؟ سچے ہو جائیں۔ تو دیکھا محمول کے بدلنے سے تناقض کیا ہو گیا؟ ختم۔ یا جیسے اسی طرح موضوع بدل دیں تو بھی تناقض ختم ہو جائے گا: زید عالم ہے، زید عالم نہیں ہے۔ اب ذرا ایک کے موضوع کو بدل دیں: زید عالم ہے، عمرو عالم نہیں ہے۔ اب تو دونوں سچے ہو سکتے ہیں، زید عالم ہو اور عمرو عالم نہ ہو، تو دیکھا موضوع کے بدلنے سے بھی کیا ہوا؟ تناقض ختم۔ تو محمول کے بدلنے سے بھی تناقض ختم اور موضوع کے بدلنے سے بھی تناقض ختم۔
تیسری وحدت جو ہے وہ مکان یا جگہ بھئی۔ جگہ دونوں میں ایک ہی ذکر ہو۔ زید مسجد میں بیٹھا ہے، زید مسجد میں نہیں بیٹھا، دیکھا دونوں میں سے ایک سچا ہو سکتا ہے دونوں سچے نہیں ہو سکتے، یا تو وہ مسجد میں بیٹھا ہے یا نہیں بیٹھا۔ ایک کو مان لو گے تو دوسرے کو جھوٹا ماننا پڑے گا اور ایک میں ایجاب ہے تو دوسرے میں سلب ہے اور دونوں میں جگہ ایک ہے، ایک میں مسجد میں بیٹھنے کا اثبات ہے تو دوسرے میں مسجد میں بیٹھنے کی نفی ہے۔ ہاں! اگر جگہ بدل دو پھر دونوں سچے ہو سکتے ہیں: زید مسجد میں بیٹھا ہے، زید گھر میں نہیں بیٹھا، اب تو بات ٹھیک ہو گئی، مسجد میں بیٹھا ہے تو گھر میں نہیں بیٹھا پھر تو دونوں سچے ہو گئے۔ معلوم ہوا مکان کے اندر بھی اتحاد ضروری ہے۔ تو کتنی وحدتیں ذکر ہو گئیں؟ پہلی وحدت کس میں ہو؟ موضوع میں۔ دوسری؟ محمول میں۔ تیسری؟ مکان میں۔ مکان سے کیا مراد ہے؟ جگہ جگہ، میں نے بتلایا تھا مکان عربی میں جگہ کو کہتے ہیں، یہ اردو والا مکان نہیں، اردو میں تو مکان گھر وغیرہ کو کہتے ہیں بھئی گھر کو۔ تو جگہ بھئی دونوں میں ایک ہو۔ یا یوں کہیں: زید سڑک پر کھڑا ہے، زید سڑک پر کھڑا نہیں، دیکھا سڑک کیا ہے؟ جگہ ہے نا جگہ، تو دونوں میں جگہ ایک ہے اس لیے دونوں میں تناقض ہے۔ زید سڑک پر کھڑا ہے، زید سڑک پر کھڑا نہیں، دونوں سچے نہیں ہو سکتے۔ اگر وہ سڑک پر کھڑا ہے تو دوسرا قضیہ جھوٹا ہو گیا کہ زید سڑک پر کھڑا نہیں اور اگر وہ سڑک پر نہیں کھڑا تو دوسرا قضیہ سچا ہو گیا اور پہلا کیا ہو گیا؟ جھوٹا ہو گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو تناقض کے لیے کیا ضروری؟ کہ دونوں قضیوں میں جگہ بھی ایک ہی مراد، ایک ہی ذکر ہو بھئی ایک ہی مراد ہو۔
تیسری کہ زمانہ بھی ایک ہو دونوں میں، زمانے کے اندر بھی وحدت ہو۔ زید رمضان میں روزے رکھتا ہے، زید رمضان میں روزے نہیں رکھتا، دیکھو ان میں تناقض ہے کیونکہ اس میں دونوں میں ایک ہی زمانہ ذکر ہے رمضان کا اور ایک میں ہے کہ اس رمضان میں روزے رکھتا ہے، دوسرے میں ہے وہ رمضان میں روزے نہیں رکھتا، تو دونوں میں سے ایک سچا ہے اور ایک جھوٹا۔ اگر وہ رمضان میں روزے رکھتا ہے تو دوسرا قضیہ جھوٹا ہوا اور اگر وہ نہیں رکھتا تو دوسرا سچا ہوا اور پہلا جھوٹا ہوا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی سب کو اچھی طرح؟ تو چوتھی وحدت کیا کہ دونوں کے اندر زمانہ بھی ایک ہو۔
پانچویں وحدت، قوت اور فعل کے اندر وحدت ہونی چاہیے۔ میں نے بتلایا تھا قوت کا معنی ہے صلاحیت، قابلیت، استعداد۔ تینوں کا ایک معنی ہے: صلاحیت، استعداد، قابلیت اور قوت، سب کا ایک معنی۔ مثلاً زید خاموش بیٹھا ہے لیکن میں آپ سے کہتا ہوں: زید کاتب ہے، معنی کیا ہے؟ زید لکھنے والا ہے، زید؟ تو زید کاتب ہے، زید لکھنے والا ہے۔ اب مجھے بتائیے، زید اس وقت کوئی لکھ رہا ہے؟ نہیں، اس وقت تو نہیں لکھ رہا لیکن میں مراد لیتا ہوں صلاحیت بھئی کہ زید لکھنے والا ہے یعنی اس میں لکھنے کی صلاحیت ہے اور یہ میری بات درست ہے یا غلط ہے؟ ہاں، تو اب بالکل اگرچہ وہ اطمینان سے بیٹھا ہے، اس وقت نہیں لکھ رہا لیکن پھر بھی میری بات صحیح ہے کیونکہ میں نے یہ نہیں مراد لیا کہ وہ اس وقت لکھ رہا ہے بلکہ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں لکھنے کی صلاحیت ہے بھئی۔ تو معلوم ہوا زید لکھنے والا ہے بالقوۃ، کیا مراد ہے میری؟ بالقوۃ مراد ہے۔ اور اگر بالفعل ایک کام کو ایک شخص کر رہا ہو تو یعنی اسی وقت کر رہا ہو تو اس کے لیے بالفعل کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اگر زید اس وقت باقاعدہ کتابت کر رہا ہے، لکھ رہا ہے تو میں کہوں گا: زید کاتب ہے بالفعل، کیا کہوں گا؟ یعنی اس وقت بالفعل وہ کتابت کر رہا ہے، کتابت کا فعل سرانجام دے رہا ہے۔ تو فعل کا کیا معنی؟ باقاعدہ اس کام کو اس وقت کر رہا ہو۔ اور بالقوۃ کا کیا معنی؟ کہ اس میں صلاحیت ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟
مثلاً ایک چھوٹا بچہ ہے، چھ ماہ کا ہے، ابھی چل بھی نہیں سکتا لیکن میں کہتا ہوں: یہ بچہ دوڑنے والا ہے، کیا معنی دوڑنے والا ہے؟ یعنی اس میں صلاحیت ہے تو میری میرا کلام صحیح۔ اور اگر میں مراد یہ لوں دوڑنے والا ہے، یعنی اس وقت یہ دوڑ رہا ہے تو میرا کلام صحیح نہیں، تو اس وقت جو میں بات کر رہا ہوں بھئی یہ بچہ دوڑنے والا ہے تو کون سا دوڑنا مراد ہے؟ بالقوۃ مراد ہے، یعنی اس میں صلاحیت ہے، یعنی یہ بڑا ہو کر دوڑے گا بھئی۔ اور اگر ایک بچہ واقعی دوڑ رہا ہو، تین چار سال کا ہے وہ واقعی دوڑ رہا ہے اور میں اس وقت کہتا ہوں: یہ بچہ دوڑنے والا ہے، تو یہ کون سا دوڑنا مراد ہے؟ بالفعل، یہ دوڑنے والا یہ یہ بچہ دوڑ رہا ہے تو یہ بالفعل مراد ہے۔ تو بالقوۃ کا کیا معنی ہوتا ہے؟ صلاحیت ہونا، اور بالفعل کا کیا معنی ہوتا ہے؟ کہ وہ اسی وقت کیا کر رہا ہو؟ اس فعل کو کر رہا ہو بھئی، کر رہا ہو۔ تو لہٰذا بالقوۃ اور بالفعل کے اندر بھی اتحاد ضروری ہے۔ توجہ ہے؟ دو قضیوں میں تناقض کے لیے ضروری ہے کہ ان میں بالقوۃ اور بالفعل کے اندر کیا ہو؟ اتحاد، یعنی اگر ایک میں بالقوۃ کا ذکر ہے تو دوسرے میں بھی بالقوۃ ہی کی نفی ہونی چاہیے، ایک میں اگر بالفعل کا اثبات ہے تو دوسرے میں بھی بالفعل ہی کی نفی ہونی چاہیے، یہ نہیں کہ ایک میں تو بالقوۃ مراد ہو اور دوسرے میں بالفعل مراد ہو ورنہ تو پھر دونوں سچے ہو جائیں گے۔ مثلاً میں کہتا ہوں: وہ چھوٹا سا بچہ ہے بھئی، چھ ماہ کا ہے وہ چل نہیں سکتا، میں کہتا ہوں: یہ بچہ دوڑنے والا ہے بالقوۃ، میرا کلام صحیح ہے یا غلط؟ اور میں کہتا ہوں: یہ بچہ دوڑنے والا نہیں ہے بالقوۃ، یہ دیکھا اب دونوں میں تناقض آ گیا۔ یا تو یہ بچہ دوڑنے والا ہے بالقوۃ، یعنی اس میں دوڑنے کی صلاحیت ہے اور یہ بچہ دوڑنے والا نہیں ہے بالقوۃ، یعنی اس میں دوڑنے کی صلاحیت نہیں، تو دونوں میں سے ایک بات سچی ہو سکتی ہے دونوں باتیں سچی نہیں ہو سکتیں، کیونکہ دونوں میں بالقوۃ کا ذکر ہے، جب دونوں میں بالقوۃ کا ذکر ہے تو ایک میں نفی ہے، ایک میں اثبات ہے، ایک وقت میں ایک چیز ہو سکتی ہے دونوں نہیں ہو سکتیں، یہ نہیں ہو سکتا اس میں صلاحیت ہو بھی اور صلاحیت نہ بھی ہو، ایسا نہیں ہو سکتا، یا تو صلاحیت ہوگی یا نہیں ہوگی۔ ہاں! لیکن اگر میں بدل دوں، ایک میں میں بالقوۃ مراد لے لوں، ایک میں بالفعل، پھر تو دونوں بھی سچے ہو سکتے ہیں۔ مثلاً میں کہتا ہوں: یہ بچہ دوڑنے والا ہے بالقوۃ، یہ بچہ؟ یعنی اس میں دوڑنے کی صلاحیت ہے۔ اور یہ بچہ دوڑنے والا نہیں ہے بالفعل، یعنی اس وقت نہیں دوڑ رہا، اب تو دونوں باتیں سچ ہو گئیں۔ پہلی کا کیا معنی ہے؟ اس میں دوڑنے کی صلاحیت ہے۔ دوسرے کا کیا معنی ہے؟ اس وقت یہ دوڑ نہیں رہا، تو دونوں سچی ہو گئیں۔ تو لہٰذا ضروری ہے کہ تناقض کے لیے ضروری ہے کہ دونوں قضیوں میں قوت اور فعل کے اندر اتحاد ہو، اگر ایک میں قوت کا اثبات ہے تو دوسرے میں بھی قوت ہی کی نفی ہو۔ یا یوں کہو، ایک میں اگر قوت کا ذکر ہے تو دوسرے میں بھی قوت کا ذکر ہو، ایک میں اگر فعل کا ذکر ہے تو دوسرے میں بھی فعل ہی کا ذکر ہو۔ اچھی طرح بات سمجھ میں آ گئی؟
اور چھٹی چیز جس میں وحدت ضروری ہے وہ شرط ہے، وہ شرط ہے، یعنی ایک قضیے میں جس شرط کا ذکر ہو، دوسرے میں بھی اسی شرط کا ذکر ہونا چاہیے، ذرا بھی تبدیلی نہ ہو بھئی ورنہ تناقض نہ رہے گا۔ مثلاً میں کہتا ہوں: زید کے پاؤں حرکت کرتے ہیں اگر وہ چلتا ہے، زید کے پاؤں؟ اگر وہ چلتا ہے، دیکھو اگر کے ساتھ کیا ذکر کرتے ہیں؟ شرط، تو میں نے کیا شرط ذکر کی؟ اگر وہ چلتا ہے۔ اب میں دوسرے میں نفی لے آتا ہوں اور شرط وہی رکھتا ہوں: زید کے پاؤں حرکت نہیں کرتے اگر وہ چلتا ہے، پہلے میں کیا تھا؟ پاؤں حرکت کرتے ہیں اور دوسرے میں کیا ہے؟ پاؤں حرکت نہیں کرتے، ان دونوں میں تناقض ہوگا جب کہ شرط ایک ہو۔ اور شرط دونوں میں ایک ہے، کیا؟ اگر وہ چلتا ہو۔ پہلے میں بھی اگر وہ چلتا، پاؤں پہلے میں کیا ہے؟ پاؤں حرکت کرتے ہیں، شرط کیا ہے؟ اگر وہ چلتا ہو، اور دوسرے میں کیا ہے؟ پاؤں حرکت نہیں کرتے اگر وہ چلتا ہو، دیکھو شرط دونوں میں ایک جیسی ہے۔ البتہ ایک میں اثبات ہے دوسرے میں نفی، آپ کہیں گے دونوں چیزیں تو نہیں ہو سکتیں، اس کے پاؤں حرکت کرتے ہیں یا پاؤں حرکت نہیں کرتے، ایک وقت میں ایک ہی چیز ہو سکتی ہے، چلتے وقت یا تو پاؤں حرکت کریں گے یا حرکت نہیں، ایک چیز ہو سکتی ہے اور چلتے ہوئے تو پاؤں حرکت کرتے ہیں، معلوم ہوا دوسرا قضیہ کیا ہو گیا؟ جھوٹا ہو گیا۔ صورت سمجھ میں آئی کیونکہ دونوں میں کیا ہے؟ شرط ایک ذکر ہے۔
اور کوئی مثال لے آؤ، کوئی مثال لے آؤ، اس میں شرط لگا دو اگر کے ساتھ، اگر کے ساتھ۔ موسم ٹھنڈا ہو جاتا ہے اگر بارش ہوتی ہے، موسم ٹھنڈا ہو جاتا ہے اگر بارش ہو، موسم ٹھنڈا نہیں ہوتا اگر بارش ہو۔ دیکھو ایک ہی شرط ہے: اگر بارش ہو، دونوں جگہ شرط کیا ذکر ہو رہی ہے؟ بارش، لیکن ایک میں موسم ٹھنڈا ہوتا ہے، ایک میں موسم ٹھنڈا نہیں، آپ کہیں گے دونوں چیزیں تو نہیں ہو سکتیں دونوں میں سے ایک ہو سکتی ہے، موسم ٹھنڈا ہوتا ہے بارش کے ہونے سے یا موسم ٹھنڈا نہیں ہوتا بھئی، تو لہٰذا ان میں تناقض ہے۔ دونوں میں کیا ہے؟ تناقض ہے۔ ہاں! اگر شرط بدل دو پھر تناقض ختم ہو جائے گا، شرط بدل دو تناقض ختم ہو جائے گا۔ موسم ٹھنڈا ہوتا ہے اگر بارش ہو، موسم ٹھنڈا نہیں ہوتا اگر بارش نہ ہو، دیکھا اب تو تناقض نہ رہا بھئی بات ٹھیک ہو گئی، بارش ہو تو موسم کیا ہو جاتا ہے؟ اور بارش نہ ہو تو موسم ٹھنڈا نہیں ہوتا، بات ٹھیک ہو گئی یا نہیں؟ تو کیوں شرط بدل گئی؟ ایک میں تھا اگر بارش ہو، ایک میں شرط بدل دی اور کہہ دیا اگر بارش نہ ہو، شرط بدل گئی۔ حالانکہ ہم نے تو کیا کہا تھا؟ تناقض کے لیے کیا ضروری ہے؟ شرط ایک جیسی ہونی چاہیے، یا جیسے آپ نے دوسری مثال ذکر کی تھی: زید زید کے پاؤں حرکت کرتے ہیں اگر وہ چلتا ہے، زید کے پاؤں حرکت نہیں کرتے اگر وہ چلتا ہے، تو دونوں میں ایک ہی شرط ہے اگر وہ چلتا ہے اس لیے تناقض موجود ہے۔ اگر آپ شرط بدل دیں تو تناقض ختم ہو جائے گا: زید کے پاؤں حرکت کرتے ہیں اگر وہ چلتا ہے، زید کے پاؤں حرکت نہیں کرتے اگر وہ بیٹھا ہو، شرط بدل گئی یا نہیں؟ زید کے پاؤں حرکت کرتے ہیں، کب؟ جب چلتا ہے، بات غلط ہے یا صحیح ہے؟ صحیح۔ دوسری میں ہے: زید کے پاؤں حرکت نہیں کرتے اگر وہ بیٹھا ہو، یہ بھی صحیح ہے، تو دونوں سچ ہو گئے یا نہیں؟ کیوں سچ ہو گئے؟ کیونکہ دونوں میں شرط بدل گئی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اگرچہ ایک میں ذکر ہے پاؤں حرکت کرتے ہیں، دوسرے میں ذکر ہے پاؤں حرکت نہیں، ایک میں پاؤں کے حرکت کرنے کا اثبات ہے تو دوسرے میں پاؤں کے حرکت کرنے کی نفی ہے، ہونا تو تناقض چاہیے تھا لیکن تناقض کیوں نہیں ہوا؟ کیونکہ شرط ایک جیسی نہ رہی بھئی۔ تو معلوم ہوا تناقض کے لیے چھٹی وحدت کس چیز میں ضروری ہے؟ شرط کے اندر بھی وحدت ضروری ہے، دونوں میں ایک ہی جیسی شرط ذکر ہو، جو شرط پہلے قضیے میں ذکر ہے وہی شرط دوسرے میں بھی ذکر ہو بھئی۔
یہ جیسے کتاب میں مثال تھی: زید کی انگلیاں ہلتی ہیں اگر وہ لکھتا ہے، زید کی انگلیاں نہیں ہلتیں اگر وہ لکھتا۔ شرط وہی رکھو، شرط وہی رکھو، زید کی انگلیاں ہلتی ہیں اگر وہ لکھتا ہے، زید کی انگلیاں نہیں ہلتیں اگر وہ لکھتا ہے، آپ کہیں گے دونوں میں سے ایک بات ہو سکتی ہے دونوں تو نہیں ہو سکتیں، لکھتے ہوئے یا تو انگلیاں ہلیں گی یا نہیں ہلیں گی، ایک سچی ہے تو ایک جھوٹی ہے دونوں چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ ہاں! شرط بدل دیں تو پھر تناقض ختم ہو جائے گا: زید کی انگلیاں ہلتی ہیں اگر وہ لکھتا ہو، توجہ ہے؟ زید کی انگلیاں؟ اگر وہ لکھتا ہو، سچا ہے یا جھوٹا؟ سچا۔ زید کی انگلیاں نہیں ہلتیں اگر وہ نہ لکھتا ہو، یہ بھی سچا، دیکھا پہلے میں ہے انگلیاں ہلتی ہیں، دوسرے میں ہے انگلیاں نہیں ہلتیں، تو دونوں میں تناقض ہونا چاہیے لیکن آپ دیکھ رہے ہیں تناقض نہیں ہے۔ پہلے میں کیا ہے؟ انگلیاں ہلتی ہیں، دوسرے میں کیا ہے؟ انگلیاں نہیں ہلتیں، ایک میں انگلیوں کے لیے ہلنے کا اثبات ہے، دوسرے میں انگلیوں سے ہلنے کی نفی ہے لیکن پھر بھی تناقض نہیں ہے، کیوں نہیں ہے تناقض؟ کیونکہ شرط بدل گئی، ایک میں انگلیاں ہلتی ہیں اگر وہ لکھتا ہے، دوسرے میں انگلیاں نہیں ہلتیں اگر وہ نہ لکھتا، تو ہونا تو تناقض چاہیے تھا لیکن شرط بدلی تو تناقض ختم ہو گیا اور شرط ایک جیسی کر دو تو تناقض آ جائے گا۔ انگلیاں ہلتی ہیں اگر وہ لکھتا ہو، انگلیاں نہیں ہلتیں اگر وہ لکھتا ہو، اب تناقض آ گیا کیونکہ دونوں میں شرط کیا ہے؟ ایک جیسی ہے۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟
اب آئیے آج کے سبق کی طرف بھئی، ساتویں اور آٹھویں چیز جن میں وحدت ضروری ہے۔ ادھر دیکھیے بھئی میری طرف، ساتویں چیز جس میں وحدت ضروری ہے وہ کل اور جز ہے۔ وہ کیا ہے؟ کل اور جز۔ یعنی اگر ایک قضیے میں کل موضوع کی بات ہو رہی ہے یعنی موضوع کے سارے افراد کی بات ہو رہی ہے، تو دوسرے قضیے میں بھی موضوع کے سارے افراد ہی کی بات ہونی چاہیے۔ اور اگر ایک قضیے میں موضوع کے کچھ افراد کی بات ہو رہی ہے، تو دوسرے میں بھی موضوع کے کچھ افراد ہی کی بات ہونی چاہیے، یعنی ایک میں اگر کل کا ذکر ہے تو دوسرے میں بھی کل کا ذکر ہونا چاہیے، ایک میں اگر جز، جز یعنی بعض بعض، اور اگر ایک میں جز کا ذکر ہے تو دوسرے میں بھی کس کا ذکر ہونا چاہیے؟ جز، پھر ہی تناقض ہوگا ورنہ تناقض نہیں رہے گا۔
مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں، مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: یہ ساری چادر سفید ہے، یہ ساری چادر؟ سفید ہے۔ تو یہ یہ خاص چادر کی طرف میں نے اشارہ کیا یا نہیں؟ تو یہ قضیہ مخصوصہ ہوا، کیا ہوا؟ اور ہم بھی کن میں تناقض کا بیان پڑھ رہے ہیں؟ قضیہ مخصوصہ میں۔ تو میں نے کہا: یہ چادر ساری سفید یہ ساری چادر سفید، معلوم ہوا میں چادر کے کل کی بات کر رہا ہوں یا جز کی؟ کل کی بات کر رہا ہوں۔ تو یہ ساری چادر سفید ہے اور دوسرے میں میں کہتا ہوں: یہ ساری چادر سفید نہیں ہے، دوسرے میں بھی میں نے کس کی بات کی؟ کل کی، اور ایک میں ایجاب ہے: یہ ساری چادر سفید ہے، دوسرے میں نفی ہے: یہ ساری چادر سفید نہیں ہے، تو ایک میں ایجاب ہے ایک میں ایک میں سلب ہے اور ایک میں کل کا ذکر ہے تو دوسرے میں بھی کل کا ذکر ہے اور اس کی نفی ہو رہی ہے، تو ان دونوں ان دونوں قضیوں میں تناقض ہے، آپ کہیں گے یہ دونوں چیزیں نہیں ہو سکتیں، ایک وقت میں ایک ہی بات ہوگی یا تو ساری چادر سفید ہوگی یرحمک اللہ، یا تو ساری چادر سفید ہوگی یا ساری چادر سفید نہیں ہوگی، یہ نہیں ہو سکتا کہ ساری چادر سفید ہو بھی اور ساری چادر سفید نہ بھی ہو۔ سفید ہونے کا اثبات ساری چادر کے لیے ہے یا کچھ چادر کے لیے؟ اور دوسرے میں سفید ہونے کی نفی ساری چادر سے ہے یا بعض چادر سے ہے؟ ساری چادر سے ہے، اس لیے دونوں میں تناقض ہے، یہ ساری چادر سفید ہے، یہ ساری چادر سفید نہیں۔
اور اگر ایک میں جز کا ذکر ہو، دوسری میں بھی جز کا ذکر ہو تو بھی تناقض ہوگا۔ مثلاً میں کہتا ہوں: اس چادر کا یہ والا کونہ سفید ہے، ایک خاص کونے کی طرف اشارہ کیا، اس چادر کا یہ والا کونہ، اب میں ساری چادر کے سفید ہونے کی بات کر رہا ہوں یا جز کی؟ جز کی، اس چادر کا یہ والا کونہ سفید ہے اور دوسرے میں کہتا ہوں: اس چادر کا یہ والا کونہ سفید نہیں ہے، آپ کہیں گے دونوں نہیں ہو سکتے، جب اسی کونے کی آپ بات کر رہے ہیں یا تو وہ سفید ہوگا یا سفید نہیں، یہ نہیں ہو سکتا کہ سفید ہو بھی اور سفید نہ بھی ہو بھئی، لہٰذا ان میں تناقض ہے۔ پہلی میں کیا کہا؟ اس چادر کا یہ والا کونہ سفید ہے، دوسری میں کیا کہا؟ اس چادر کا یہ والا کونہ سفید نہیں، اسی ایک کونے کی طرف اشارہ کیا تو ان دونوں میں تناقض ہے، تناقض ہے۔ تو دیکھا، تناقض کے لیے کیا ضروری؟ کل اور جز میں بھی اتحاد ضروری، ایک قضیے میں کل کا ذکر ہے تو دوسرے میں بھی کل کا ذکر ہو، ایک میں جز کا ذکر ہے تو دوسری میں بھی جز کا ذکر ہو۔ اگر کل اور جز بدل دیں تو پھر تو پھر تناقض ختم ہو جائے گا۔
مثلاً میں کہتا ہوں: اس چادر کا یہ والا کونہ سفید ہے، اس چادر کا؟ مثلاً اس چادر کا وہ کونہ سفید ہے، تو اس چادر کا یہ کونہ سفید ہے، میں نے کل کی بات کی یا جز کی؟ جز کی، اور یہ قضیہ سچا ہے، کیا ہے؟ اس چادر کا یہ والا کونہ کیا ہے؟ سفید۔ اب میں دوسرے میں کہتا ہوں: یہ چادر ساری کی ساری سفید نہیں ہے، اب میں سفید کی نفی کر رہا ہوں اور یہ بھی سچ ہے یا جھوٹ ہے؟ یہ بھی سچ ہے، تو دیکھو دونوں سچ ہو گئے یا نہیں؟ ایک میں سفید ہونے کا اثبات کیا: اس چادر کا یہ والا کونہ سفید ہے، دوسرے میں میں نے سفید کی نفی کی: یہ چادر ساری کی ساری سفید نہیں، تو دیکھو محمول دونوں میں ایک ہی ہے، ایک میں سفید ہونے کا اثبات ہے تو دوسرے میں سفید ہونے کی نفی، لیکن پھر بھی تناقض نہیں ہے۔ کیوں نہیں تناقض؟ کیونکہ کل اور جز میں اتفاق نہیں، پہلے قضیے میں جز کا ذکر ہے اور دوسرے میں کل کا ذکر ہے، حالانکہ کل اور جز میں بھی اتفاق ضروری تھا، ایک میں جز کا ذکر ہو تو دوسرے میں بھی جز کا ذکر ہونا چاہیے، ایک میں کل کا ذکر ہے تو دوسرے میں بھی کل کا ذکر ہونا چاہیے۔
یا جیسے حبشی کی مثال جو انہوں نے کتاب میں ذکر کی، مثلاً آپ کہتے ہیں: حبشی کالا ہے، اور دوسرے میں کہتے ہیں: حبشی کالا نہیں ہے۔ حبشی کالا؟ اگر حبشی کالا ہے اس سے جز مراد لیتے ہیں، مثلاً اس کے جلد کا رنگ لے لیں، حبشی کالا ہے۔ بات غلط ہے یا صحیح ہے؟ صحیح ہے، تو ہم اس کی مثلاً جلد لے لیتے ہیں جلد کالی ہے، حبشی کالا ہے۔ اور دوسرے میں میں کہتا ہوں: حبشی کالا نہیں ہے، اس سے بھی جلد ہی مراد لے لیتا ہوں، تو اب دونوں میں تناقض ہے۔ کیونکہ جب میں نے کہا حبشی کالا ہے، سارا حبشی مراد لیا یا اس کا ایک جز مراد لیا؟ جز، سارا نہیں کیونکہ سارے میں تو دانت بھی آ گئے حالانکہ دانت تو اس کے کالے نہیں، آنکھوں کی سفیدی بھی آ گئی وہ بھی کالی نہیں، تو لہٰذا جب میں نے کہا حبشی کالا ہے تو اس کا کوئی خاص جز مراد لیا اور میں نے کہا حبشی کالا نہیں، اس میں اسی خاص جز سے میں نے کالے ہونے کی نفی کر دی تو دونوں میں کیا ہے؟ تناقض ہے۔ تو دیکھا، پہلے میں بھی جز کا ذکر، دوسرے میں بھی جز کا ذکر۔ اور اگر کل اور جز میں اتفاق نہ ہو پھر دونوں سچے بھی ہو سکتے ہیں۔ مثلاً میں کہتا ہوں: حبشی کالا ہے، جز مراد لے لو، کیا مراد لے لو؟ جز، مثلاً اس کی کھال مراد لے لو، حبشی کالا ہے۔ اور دوسری دفعہ کہتا ہوں: حبشی کالا نہیں ہے، اس سے میں سارا مراد لے لیتا ہوں، پورا بدن اس کا حبشی سارا کا سارا کالا؟ یہ درست ہے یا غلط ہے؟ یہ بھی صحیح ہے، اس کے سارا کا سارا تو کالا نہیں ہے دانت سفید ہیں یا نہیں اس کے؟ تو لہٰذا حبشی کالا ہے، یہ بات بھی سچی ہو گئی۔ حبشی کالا نہیں ہے، یہ بات بھی؟ حبشی کالا ہے، کیا مراد لیا؟ اس کا جز مراد لیا، اس کی جلد مراد لے لی، اور حبشی کالا نہیں ہے، اس سے پورا حبشی مراد لے لیا، تو پہلے میں جز کا ذکر، دوسرے میں کل کا ذکر، دیکھا کل اور جز میں اتفاق نہ رہا، جب اتفاق نہ رہا تو تناقض بھی کیا ہوا؟ ختم ہو گیا۔ لہٰذا تناقض کے لیے کیا ضروری؟ کل اور جز میں دونوں میں اتفاق، ایک قضیے میں کل کا ذکر ہے تو دوسرے میں بھی کل کا ذکر ہونا چاہیے۔
آٹھویں چیز جس میں وحدت ضروری ہے وہ اضافت ہے۔ وہ کیا ہے؟ اضافت۔ اضافت کا معنی ہے نسبت، نسبت۔ یعنی ایک چیز کو دوسری چیز سے کبھی جوڑا جاتا ہے، اس کی طرف نسبت کی جاتی ہے۔ مثلاً میں کہتا ہوں: زید کی کتاب، تو میں نے کتاب کی نسبت کس کی طرف کر دی؟ زید کی طرف کر دی، تو یہ اضافت ہوئی، کیا ہوئی؟ اضافت، یہ کا، کے، کی کے ساتھ عموماً نسا اس کے ساتھ اضافت ہوتی ہے: زید کی کتاب۔ کبھی صرف زیر بھی پڑھ دیتے ہیں: کتابِ زید، کتابِ زید، کیا معنی؟ زید کی کتاب۔ زید کا بیٹا، دیکھا اضافت ہو رہی ہے، عمرو کا بیٹا، عمرو کی طرف اضافت ہو رہی ہے۔ زید عمرو کا باپ ہے، زید عمرو کا باپ نہیں ہے۔ توجہ ہے؟ زید عمرو کا باپ ہے، ایک قضیہ، زید عمرو کا باپ نہیں، دونوں میں تناقض ہے، آپ کہیں گے دونوں نہیں ہو سکتے، یا تو وہ عمرو کا باپ ہے یا عمرو کا باپ نہیں ہے، تو ایک سچا ہے تو دوسرا جھوٹا، ان میں تناقض ہے اور تناقض اس لیے کیونکہ دونوں میں نسبت ایک ہے۔ زید کے لیے باپ ہونا ثابت کر رہے ہیں لیکن کس کی نسبت سے؟ زید عمرو کا باپ ہے، زید کے باپ ہونے کا ذکر ہے لیکن کس کے لیے؟ عمرو کے لیے، عمرو کی نسبت سے زید باپ ہے اور دوسرے میں اسی کی تو نفی ہے: زید عمرو کا باپ نہیں، زید سے باپ ہونے کی نفی اور کس کے اعتبار سے؟ عمرو کے، تو دیکھا دونوں میں اضافت ایک جیسی ہے اس لیے ان میں تناقض ہے۔ اگر اضافت بدل دیں تو تناقض ختم ہو جائے گا۔ مثلاً میں کہتا ہوں: زید عمرو کا باپ ہے، زید بکر کا باپ نہیں ہے، اب دونوں سچے ہو سکتے ہیں یا نہیں؟ زید عمرو کا باپ ہو اور بکر کا باپ نہ ہو، تو دونوں سچے ہو سکتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ دو قضیوں کے اندر تناقض تب ہوگا جب کہ وہ اضافت کے اندر بھی ان میں وحدت ہو، ایک میں جس اضافت کا اثبات ہو رہا ہے دوسرے میں اسی اضافت کی نفی ہونی چاہیے کسی دوسری اضافت کی نفی نہ ہو۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟
اچھا بھئی! اب آئیے ذرا کتاب پر دیکھتے ہیں بھئی۔
ساتویں: کل اور جز میں دونوں قضیے متفق ہوں، یعنی اگر ایک قضیے کا محمول پورے موضوع کے لیے ثابت کیا گیا ہو تو دوسرے قضیے میں بھی اسی خاص جز کے لیے ثابت ہو، اگر ایسا نہ ہوگا بلکہ ایک قضیہ میں تو موضوع کے کل کے لیے محمول ثابت کیا گیا ہو اور دوسرے قضیہ میں موضوع کے جز کے لیے محمول ثابت ہو تو تناقض نہ ہوگا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ جیسے یوں کہیں: حبشی کالا ہے اور حبشی کالا نہیں، تو دونوں قضیوں میں اگر یہ مراد ہے کہ حبشی کا جز کالا ہے اور حبشی کا وہی جز کالا نہیں تو تناقض ہوگا۔ حبشی کالا ہے اور حبشی کالا نہیں، اس حبشی کالا ہے کیا مراد لیں؟ مثلاً اس کے دانت مراد لے لیں: حبشی کالا ہے، یعنی اس کے دانت کالے، حبشی کالا، اور دوسرے میں: حبشی کالا نہیں، تو دوسرا صحیح ہوا کیونکہ کیا مراد لے رہے ہیں؟ دانت، اور دانت کالے ہیں؟ نہیں، تو حبشی کالا نہیں ہے یہ تو سچا ہو گیا لیکن پہلا کیا ہو گیا؟ جھوٹا ہو گیا کیونکہ اس کے وہ کیونکہ پہلے میں جس جز کا ذکر ہے دوسرے میں بھی اسی جز کا، پہلے میں دانت مراد ہے تو دوسرے میں بھی کیا مراد ہے؟ دانت ہی مراد ہیں، تو ایک سچا ہو سکتا ہے اور ایک جھوٹا دونوں سچے نہیں ہو سکتے۔
دیکھیے کتاب پر: جیسے یوں کہیں حبشی کالا ہے اور اور حبشی کالا نہیں، تو دونوں قضیوں میں اگر یہ مراد ہے کہ حبشی کا جز کالا ہے اور حبشی کا وہی جز کالا نہیں تو تناقض ہوگا اس لیے کہ اس میں پہلا قضیہ صادق ہے کہ اس لیے کہ دانت اس کے سفید ہوتے ہیں، پھر دیکھیے کتاب پر بھئی: اس لیے کہ اس میں پہلا قضیہ صادق ہے اس لیے کہ دانت اس کے سفید ہوتے ہیں۔ پہلا قضیہ کون سا؟ حبشی کالا ہے۔ حبشی؟ اور اس سے کل حبشی مراد لیا یا اس کا ایک حصہ مراد لیا، جز مراد لیا؟ جز، جب جز مراد لیا تو کہنے کا مطلب یہ ہوا کہ بعض حبشی کالا ہے۔ بعض حبشی؟ اور بات ٹھیک ہے، سارا تو کالا نہیں ہے دانت تو اس کے کیا ہیں؟ سفید، تو جب بعض حبشی کالا ہے یہ قضیہ صادق ہوا یا کاذب؟ صادق، کیا ہوا؟ صادق۔ یہی بات ذکر کر رہے ہیں کہ اس لیے کہ اس میں پہلا قضیہ صادق ہے اس لیے کہ دانت اس کے سفید ہوتے ہیں اور دوسرا جھوٹ ہوگا، کیونکہ جب تناقض ہے تو ایک سچا ہوا تو دوسرا جھوٹا۔
یا پہلے قضیے میں یہ مراد لیں کہ حبشی کا کل کالا ہے، یعنی سارا کا سارا وہ کالا ہے اور یہ بات تو صحیح نہیں، ادھر توجہ کریں۔ تو اگر حبشی کالا ہے اس سے مراد لے لیں کل سارا حبشی، تو پھر یہ جھوٹ ہو گیا کیونکہ حبشی سارا تو کالا نہیں ہے اس کے دانت کیا ہیں؟ سفید ہیں، اور دوسرے میں بھی کل ہی کی سے کالے ہونے کی نفی: حبشی کالا نہیں ہے، یعنی سارا کا سارا کالا نہیں، یہ سچا ہو گیا، پہلا جھوٹا ہوا اور دوسرا کیا ہوا؟ سچا، تو ان میں تناقض موجود ہے کیونکہ پہلے میں کالا ہونے کا اثبات تھا کل کے لیے تو دوسرے میں کالا ہونے کی نفی ہے کل سے۔
تو اب دیکھیے کتاب پر: یا پہلے قضیہ میں یہ مراد لیں کہ حبشی کا کل کالا ہے اور دوسرے میں یہ مراد لیں کہ کل کالا نہیں ہے تو تب بھی تناقض ہوگا، اس لیے کہ دوسرا قضیہ سچ ہے اس لیے کہ وہ سارا کالا نہیں ہوتا اور پہلا جھوٹ ہے اس واسطے کہ دانت اس کے سفید ہوتے ہیں۔ اور اگر پہلے قضیے میں یعنی حبشی کالا ہے اس میں یہ مراد لیں کہ ایک جز اس کا کالا ہے، یعنی دانت مراد لے لیں، کیا مراد لے لو؟ دانت۔ آگے دیکھیے کتاب پر: اور دوسرے قضیے میں یعنی حبشی کالا نہیں ہے اس میں یہ مراد لیں یعنی تمام حبشی کالا نہیں، تو دونوں قضیے سچ ہو جائیں گے اور تناقض نہ رہے گا۔ دیکھا کل اور جز میں اختلاف آیا تو دونوں سچے ہو گئے، پہلے میں جز مراد لیا اور دوسرے میں کل مراد لیا۔ پہلے میں کہا حبشی کالا ہے، جز مراد لے لیا اس کی کھال کالی ہے یا اس کے بال کالے ہیں، اور دوسرے میں کہا حبشی کالا نہیں یعنی سارا کا سارا کالا نہیں، تو پھر تو دونوں سچے ہو گئے بھئی تناقض تو ختم ہو گیا، تناقض کیوں ختم ہوا؟ کیونکہ کل اور جز میں دونوں کا اتفاق نہیں ہے۔
آگے دیکھیے کتاب پر: آٹھویں: آٹھویں وہ دونوں قضیے اضافت میں متفق ہوں، یعنی ایک قضیے میں محمول کی جو نسبت جس شے کی طرف ہے اسی شے کی طرف دوسرے قضیے میں ہو، اگر ایسا نہ ہوگا تو تناقض نہ ہوگا۔ مثلاً: زید عمرو کا باپ ہے اور زید عمرو کا باپ نہیں ہے، تو دیکھو ایک میں اضافت کیا ذکر ہے؟ زید سے باپ ہونے کی نفی، لیکن کس کا باپ؟ عمرو کا باپ، عمرو کی طرف نسبت ہے، اور دوسرے میں زید سے باپ ہونے کی نفی ہے اور کس کا باپ؟ عمرو کا باپ، تو دیکھا اضافت دونوں میں ایک ہی ہے لہٰذا اب تناقض ہوگا۔ زید عمرو کا باپ ہے، زید عمرو کا باپ نہیں، ایک بات سچ ہو سکتی ہے دونوں سچی نہیں ہو سکتیں کیونکہ اضافت میں اتفاق ہے۔
آگے کتاب پر دیکھیے: مثلاً زید عمرو کا باپ ہے اور زید عمرو کا باپ نہیں ہے ان میں تناقض ہے، اس لیے کہ دونوں میں محمول یعنی باپ کی نسبت عمرو کی طرف ہے۔ اور اگر یوں کہیں کہ زید عمرو کا باپ ہے اور زید بکر کا باپ نہیں ہے، تو ان دونوں میں تناقض نہ ہوگا کیونکہ یہ دونوں قضیے سچے ہو سکتے ہیں، کیونکہ دونوں میں نسبت کیا ہوئی؟ بدل گئی، ہم نے تو کیا کہا تھا؟ تناقض کے لیے کیا ضروری ہے؟ نسبت میں بھی اتفاق ضروری ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟
آئیے ذرا وہ شعر ذرا پھر کر لیں بھئی سبق کے شروع میں۔ یہ شعر جیسے میں زیر زبر کہیں پڑھوں، آپ نے بالکل اسی طرح مجھے سنانا ہے۔
در تناقض ہشت وحدت شرط دان
تناقض میں آٹھ وحدتیں ان کو شرط جان لے، تو تناقض میں آٹھ وحدتوں کو شرط جان لے۔
وحدتِ موضوع و محمول و مکان
میں نے بتایا تھا یہ واؤ الگ نہیں پڑھنا، موضوع و محمول، موضوع وَ محمول نہیں پڑھنا، وَ محمول واؤ کو الگ کریں، نہیں! بلکہ عین پر کیا پڑھ دو؟ پیش۔
وحدتِ موضوع و محمول و مکان
وحدتِ شرط و اضافت جزو و کل
قوت و فعل است در آخر زمان
یہ شعر آپ نے یاد کرنے ہیں دونوں بھئی۔ تناقض میں آٹھ وحدتیں شرط جان لو، وحدتِ موضوع و محمول و مکان، موضوع، محمول اور مکان میں وحدت۔ موضوع ایک ہونا چاہیے، محمول ایک ہونا چاہیے، مکان دونوں میں ایک ہونا چاہیے۔ وحدتِ شرط و اضافت جزو و کل، شرط میں بھی وحدت ہونی چاہیے، اضافت میں بھی وحدت ہونی چاہیے، جزو و کل میں بھی وحدت ہونی چاہیے۔ قوت و فعل است، اور قوت اور فعل ہے یعنی اس میں بھی وحدت ہونی چاہیے، در آخر زمان، اور آخر میں زمانے میں بھی کیا ہونی چاہیے؟ وحدت ہونی چاہیے۔ یہ معنی نہیں کہ سب سے آخر میں زمانے کے اندر وحدت ہو، یہ ویسے ہی شعر میں کہہ دیا کہ آخر میں یعنی آٹھویں چیز کیا ہے؟ زمانہ ہے، تو اس میں بھی کیا ہونی چاہیے؟ وحدت ہونی چاہیے بھئی، تو یہ آٹھ چیزیں ہیں جن میں وحدت ہونی چاہیے۔ یہ شعر بہترین آپ نے روانی کے ساتھ یاد کرنا ہے بھئی۔
اب آگے پھر دیکھیے سبق بھئی، آخر میں آئیے۔ اچھا، اب دیکھیے بھئی کتاب پر، اس سبق کا بالکل آخری پیرا ہے۔ یہ آٹھ چیزیں ہیں بھئی جن میں دو قضیوں کا متفق ہونا تناقض کے لیے ضروری ہے، یہ وحداتِ ثمانیہ کہلاتی ہیں، کیا کہلاتی ہیں؟ وحداتِ ثمانیہ، آٹھ وحدتیں۔ یہ تو مخصوصہ قضیے کا بیان تھا اور اگر وہ دونوں قضیے محصورہ ہوں تو ان میں بھی ان آٹھ چیزوں میں اتفاق ضروری ہے۔
اچھا بھئی! ادھر دیکھیے بھئی ادھر دیکھیے۔ ابھی تک کس کا بیان چل رہا تھا؟ قضیہ مخصوصہ۔ قضیہ مخصوصہ کسے کہتے ہیں؟ وہ قضیہ حملیہ جس کا موضوع کوئی معین چیز یا معین ذات ہو، جیسے زید، عمرو، بکر وغیرہ یا یہ مسجد، یہ مدرسہ، دیکھو اشارہ ہو رہا ہے کسی خاص اور معین مدرسے یا مسجد کی طرف۔ تو آٹھ وحدتیں ضروری تناقض کے لیے کس قسم کے قضیوں میں؟ قضیہ مخصوصہ میں۔ اور اگر قضیہ دو قضیہ محصورہ ہیں تو ان میں تناقض کے لیے کیا شرطیں ہیں؟ قضیہ محصورہ یاد ہے کہ بھول گئے؟ آپ نے پڑھا تھا، قضیہ محصورہ وہ ہے جس میں موضوع کلی ہو، توجہ نہیں ہے۔ قضیہ محصورہ آپ نے پڑھا تھا بھئی کہ قضیہ بھئی قضیہ حملیہ کی بحث یاد ہے؟ قضیہ حملیہ کسے کہتے تھے؟ قضیہ کسے کہتے ہیں؟ وہ مرکب لفظ جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہہ سکیں، اس کو قضیہ کہتے ہیں۔ پھر یہ جو قضیہ ہے اگر دو مفردوں سے مل کر بنے یعنی ایک مفرد کا دوسرے مفرد کے لیے اثبات ہو یا ایک مفرد کی دوسرے مفرد سے نفی ہو تو اس کو قضیہ حملیہ کہتے ہیں۔ اور اگر دو قضیوں سے مل کر بنے تو اس کو قضیہ شرطیہ کہتے ہیں۔ قضیہ شرطیہ میں دو قضیے ہوتے ہیں: اگر محنت کرو گے تو کامیاب ہو گے، تو دیکھو محنت کرنا یہ ایک قضیہ اور کامیاب ہونا یہ دوسرا قضیہ، تو قضیہ شرطیہ میں دو قضیے ہوتے ہیں لیکن قضیہ حملیہ میں دو مفرد ہوتے ہیں: زید عالم ہے، دیکھا زید ایک مفرد اور عالم دوسرا مفرد بھئی، تو دو مفرد۔
پھر اس یہ جو قضیہ حملیہ ہے اس کی آپ نے پڑھا تھا چار قسمیں ہیں: یا قضیہ مخصوصہ ہوگا، یا قضیہ طبعیہ ہوگا، یا قضیہ محصورہ ہوگا، یا قضیہ مہملہ۔ قضیہ مخصوصہ کسے کہتے تھے؟ جس کا موضوع کوئی معین چیز یا معین ذات ہو، معین شخص ہو۔ اور جبکہ قضیہ طبعیہ، قضیہ محصورہ اور قضیہ مہملہ ان کا موضوع کلی ہوگا، کیا ہوگا؟ کلی۔ تمام انسان جاندار ہیں، تو موضوع کیا ہوا؟ تمام انسان، اور انسان کلی ہے یا جزئی ہے؟ کلی ہے، زید بھی انسان، بکر بھی انسان، خالد بھی انسان، تو معلوم ہوا یہ قضیہ مخصوصہ نہیں ہے تو پھر یہ باقی میں تین میں سے کسی ایک میں ہوگا: یا یہ قضیہ طبعیہ ہوگا، یا یہ قضیہ محصورہ ہوگا، یا قضیہ مہملہ۔ پھر قضیہ محصورہ کا پہچاننا بڑا آسان ہے کہ اس میں کل یا جز کا ذکر ہوگا، یعنی کل افراد مراد ہیں یا بعض افراد مراد ہیں، یہ کس میں ذکر ہوگا؟ محصورہ۔ حصر کا معنی ہے بند کرنا، یعنی اس میں بھی افراد کو بند کر دیتے ہیں کہ سارے مراد ہیں یا بعض مراد ہیں۔ مثلاً میں کہتا ہوں: ہر انسان جاندار ہے، ہر انسان؟ بتائیے، میں نے جاندار ہونے کا حکم بعض افرادِ انسان پر لگایا یا تمام افرادِ انسان پر؟ تمام افرادِ انسان پر، دیکھو ہر انسان، یہ ہر کا لفظ بتا رہا ہے کہ ہر فرد مراد ہے۔ اور اگر میں کہوں: بعض انسان محنتی ہیں، دیکھو اب یہ محنتی ہونے کا حکم میں کس پر لگا رہا ہوں؟ تمام انسانوں پر یا بعض پر؟ بعض پر۔ تو بس جس قضیے کے اندر تمام یا یا بعض کا ذکر ہو اس کو محصورہ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ محصورہ۔ محصورہ، حصر کا کیا معنی؟ بند کرنا، یعنی اس میں بھی بند کر دیا جاتا ہے، بتلا دیا جاتا ہے کہ اس کے موضوع کے سارے افراد مراد ہیں یا بعض مراد ہیں۔
مثلاً میں بعض یا کل کو ختم کرتا ہوں، صرف یہ کہتا ہوں: انسان محنتی ہیں۔ انسان؟ اب بتائیے، کل کا ذکر ہے یا بعض کا؟ دونوں احتمال ہیں، اس میں تو ذکر ہی نہیں ہے، انسان محنتی ہیں، آپ کہیں گے اس میں ذکر ہی نہیں ہے، کل ہیں یا کہ کل انسان محنتی ہیں یا بعض انسان محنتی ہیں کوئی ذکر نہیں، تو اس کو قضیہ مہملہ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ مہملہ، یعنی جس کے اندر کل اور جز کا ذکر نہیں ہے، ہو سکتا تھا لیکن ذکر نہیں ہے۔ اور اگر کل اور جز کا ذکر ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ محصورہ، کیا کہتے ہیں؟ محصورہ۔ اسی کا میں نے بتلایا تھا دوسرا نام قضیہ مسوّرہ ہے، میم، سین، واؤ مشدد، را اور گول ہا: مسوّرہ۔ کیوں؟ اس کو مسوّرہ، محصورہ کو مسوّرہ کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ اس میں سور ذکر ہوتا ہے۔ سور وہ لفظ جو کل یا جز بتلا رہا ہو۔ میں نے کہا: ہر انسان جاندار ہے، یہ ہر ہر، یہ لفظ کیا بتلا رہا ہے؟ کہ تمام افراد مراد ہیں، تو یہ ہر یہ سور ہوا، کیا ہوا؟ یا اس کے بجائے میں یوں کہہ دوں: تمام انسان جاندار ہیں، یہ تمام کا لفظ کیا ہے؟ سور ہے۔ یا تو یا میں کہوں: بعض انسان جاندار ہیں، تو یہ بعض کا لفظ کیا ہوا؟ سور ہوا، یا کچھ انسان جاندار ہیں، تو ہر یا سب یا تمام یہ سور ہیں اور اسی طرح اگر میں کہوں: بعض یا کچھ، یہ بھی کیا ہے؟ سور ہے، یہ بتلا رہا ہے یا نہیں کہ کل افراد مراد ہیں یا؟ توجہ ہے؟ یہ لفظ جو افراد بتلائے کہ کل مراد ہیں یا بعض، اس کو کیا کہتے ہیں؟ سور کہتے ہیں اور یہ سور جس قضیے میں ذکر ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مسوّرہ، کیا کہتے ہیں؟ اسی کا دوسرا نام کیا ہے؟ محصورہ۔ تو محصورہ میں افراد کے بارے میں بات ہوتی ہے اور ساتھ یہ بھی ذکر ہوتا ہے کہ سارے افراد مراد ہیں یا بعض افراد مراد ہیں۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ قضیہ محصورہ۔ توجہ ہے؟ قضیہ محصورہ۔
اب بات چل رہی ہے تناقض کی، تناقض کے اندر دو قضیہ مخصوصہ کے اندر تناقض کے لیے کتنی چیزوں میں اتحاد ضروری؟ آٹھ چیزوں، آٹھ چیزوں میں اتحاد ضروری اور وہ انہیں وحداتِ ثمانیہ کہتے ہیں۔ اب اگر دو قضیہ محصورہ ہوں، ان میں تناقض کے لیے کیا شرطیں ہیں؟ مثلاً: تمام انسان جاندار ہیں، تمام انسان جاندار نہیں ہیں، تمام انسان؟ تمام انسان جاندار نہیں، دیکھو ایک میں تمام انسانوں کے لیے جاندار ہونے کا اثبات، ایک میں تمام انسانوں سے جاندار ہونے کی نفی، تو یہ کون سا قضیہ ہے؟ تمام انسان جاندار ہیں، قضیہ محصورہ ہے۔ تو دو قضیہ محصورہ میں تناقض کب ہوگا؟ اس کے لیے کیا شرطیں ہیں؟ تو یاد رکھیے، پہلی وہ آٹھ شرطیں یہاں بھی ضروری ہیں جو آٹھ شرطیں کس میں تھیں؟ قضیہ مخصوصہ میں، وہی آٹھ شرطیں یہاں بھی ہونی چاہئیں، ان میں یہاں بھی اتفاق ہونا چاہیے۔ البتہ ایک نویں شرط یہاں زائد ہے، تو یہاں ایک اور شرط بھی آ گئی، ایک اور شرط بھی، ان آٹھ چیزوں میں وحدت بھی ضروری اور ایک اور شرط کا پورا ہونا بھی ضروری۔ توجہ ہے؟ ایک اور شرط کا پورا ہونا بھی ضروری، وہ کیا شرط ہے؟ وہ شرط یہ ہے کہ یہ جو دو قضیے ہیں، جو یہ آپ دیکھ رہے ہیں میری طرف بھئی؟ یہ میرے سامنے دو قضیے پڑے ہیں، یہ دائیں طرف ایک قضیہ محصورہ ہے، یہ دوسری طرف دوسرا قضیہ۔ اب ان دونوں میں کیا لانا چاہتے ہیں، کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ تناقض، کیا با ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ تو ان آٹھ چیزوں میں وحدت ضروری ہے، جو آٹھ چیزیں ایک میں قضیے میں مراد ہیں وہی آٹھ چیزیں دوسرے میں بھی ہونی چاہئیں، یعنی ان میں اتفاق ہونا چاہیے، وحدت ہونی چاہیے۔ البتہ ایک شرط یہاں اور بھی پوری ہونی چاہیے پھر تناقض ہوگا، وہ شرط یہ کہ ان دونوں قضیوں میں سے ایک کلیہ ہو تو دوسرے کو جزئیہ ہونا چاہیے۔ کیا؟ ایک کلیہ ہو تو دوسرا جزئی، اگر پہلا کلیہ ہے تو دوسرے کو جزئیہ ہونا چاہیے اور اگر دوسرا کلیہ ہے تو پہلے کو جزئیہ ہونا چاہیے۔ بات سمجھ بھی آ رہی ہے کہ نہیں؟
دو قضیہ محصورہ میں تناقض کے لیے وہ آٹھ وحدتیں بھی شرط اور ایک شرط اور بھی ہے، وہ یہ کہ دونوں کل اور جز ہونے میں ایک دوسرے کے مخالف ہوں، ایک کلی ہو تو دوسرا جزئی ہو بھئی۔ ایک کلیہ ہو تو دوسرا کیا ہو؟ جزئیہ ہو۔ اور یہ تو آپ پڑھ ہی چکے بھئی، تناقض کے اندر کیا ضروری تھا؟ تناقض کی پہلی شرط آپ نے کیا پڑھی تھی؟ جی؟ نہیں، وہ آٹھ وحدتیں نہیں، آٹھ وحدتوں سے بھی پہلے ایک چیز آپ نے پڑھی تھی کہ دونوں میں ایجاب اور سلب میں مخالفت ہونی چاہیے، ایک موجبہ ہو تو دوسرا سالبہ ہو، وہ یہاں پر بھی آئے گا۔ یعنی محصورہ یہ دو میں ادھر دیکھیے یہ میرے سامنے دو قضیہ محصورہ ہیں تو ان میں ضروری ہے ایک موجبہ ہو تو دوسرا کیا ہو؟ سالبہ، اور وہ آٹھ وحدتیں بھی ہو گئیں، ان آٹھ وحدتوں کو ایک طرف رکھ دیں وہ تو آپ کو پتہ چل گیا یا نہیں؟ اب ان کو بار بار ذکر کرنے کا کی ضرورت نہیں، تو بس یہ دو قضیہ محصورہ ہیں ان میں تناقض کے لیے ضروری ہے ایک موجبہ ہو تو دوسرا سالبہ ہو۔ یہ کوئی نئی شرط نہیں ذکر کر رہے، یہ تو اپ کو پہلے شروع سے ہی ذکر ہو رہی ہے کہ تناقض میں کیا ضروری ہوتا ہے؟ ایک قضیہ موجبہ ہو تو دوسرا سالبہ۔ ہاں! ایک نئی شرط آپ انہوں نے بتلا دی، وہ کیا؟ کہ ایک کلیہ ہو تو دوسرا جزئیہ۔ معلوم ہوا موجبہ کلیہ اگر پہلا محصورہ کیا ہے؟ موجبہ کلیہ، توجہ ہے؟ ایک موجبہ کلیہ ہے تو دوسرے کو کیا ہونا چاہیے؟ سالبہ اور جزئیہ۔ پہلا کیا ہو اگر؟ موجبہ کلیہ، تو دوسرے کو کیا ہونا چاہیے؟ سالبہ جزئیہ۔ اور اگر پہلا ہے موجبہ جزئیہ تو دوسرے کو تناقض کے لیے دوسرے میں کیا ہونا چاہیے؟ پہلا کیا ہے؟ موجبہ جزئیہ، تو دوسرا کیا ہونا چاہیے؟ سالبہ کلیہ، سالبہ کلیہ۔ اور اگر پہلا ہو سالبہ جزئیہ، پہلا کیا ہو؟ سالبہ جزئیہ، تو دوسرا کیا ہوگا؟ موجبہ کلیہ ہوگا، شاباش! اور اگر پہلا ہو سالبہ کلیہ، سالبہ کلیہ، تو دوسرا کیا ہوگا؟ موجبہ جزئیہ ہوگا، بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟
تو محصورہ آپ نے پڑھے تھے چار قسم کے ہیں۔ کتنے قسم کے؟ چار، کیونکہ محصورہ میں یا کل کا ذکر ہوتا ہے یا وہ پچھلے سبق پہ اپ کو لے کے جا رہا ہوں بھئی، آپ نے پڑھا تھا محصورہ کی کتنی قسمیں؟ چار، یا موجبہ ہوگا یا ہاں یا موجبہ ہوگا یا سالبہ اور یا کلیہ ہوگا یا جزئیہ، تو ہر ایک کے ساتھ ایک ایک کو جوڑتے جاؤ: موجبہ کلیہ، موجبہ جزئیہ، موجبہ کلیہ اور موجبہ جزئیہ، پھر سالبہ کلیہ اور سالبہ جزئیہ۔ موجبہ کلیہ کی کوئی مثال دو جو موجبہ بھی ہو اس میں اثبات ہو نفی نہ ہو اور کلی بھی ہو، کوئی مثال دے دو: تمام انسان جاندار ہیں۔ اچھا، اب مجھے مثال دو سالبہ کلیہ کی، سچا ہو جو سچا ہو: کوئی پتھر جاندار نہیں ہے، کوئی پتھر؟ اچھا، اب مجھے بتائیے میں جاندار ہونے کی نفی کر رہا ہوں یا اثبات کر رہا ہوں؟ نفی، تو سالبہ ہوا اور کچھ پتھروں سے جاندار ہونے کی نفی کر رہا ہوں یا ہر پتھر سے؟ ہر پتھر سے، تو نفی میں اس کے لیے اردو میں کوئی کا لفظ بولتے ہیں کوئی، کوئی پتھر جاندار نہیں، معلوم ہوا میں ہر ہر پتھر سے کیا کر رہا ہوں جاندار ہونے کی؟ تو کوئی کا لفظ کس کے لیے آتا ہے؟ کلیہ کے لیے، نفی میں کس کے لیے آتا ہے؟ کلیہ کے لیے۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ میں نے کہا: کوئی پتھر جاندار نہیں ہے، کیا معنی؟ کچھ ہیں یا سارے ساروں میں سے کوئی بھی نہیں ہے؟ کوئی بھی نہیں، اس کے لیے کوئی بھی اللہ کوئی کا لفظ بھی استعمال ہو جاتا ہے۔ تو جب نفی میں کوئی کا لفظ آئے تو وہ کلیہ کی علامت ہے، وہ کلیہ کا سور ہے یوں کہو، کس کا سور ہے؟ کلی۔ اچھا اگر لفظ آئے کل، یہ کس کا سور ہے؟ کلیہ کا یا جزئیہ کا؟ کل کا لفظ آئے کل۔ ظاہر سی بات ہے کلیہ میں کل آئے گا نا، کل کس میں آئے گا؟ تو یہ سور کس کا ہے؟ کلیہ کا۔ اگر تمام کا لفظ آئے، یہ کس کا سور ہے؟ یہ بھی کلیہ کا۔ اگر سب کے سب یہ آ جائے، یہ بھی کس کا سور ہے؟ کلیہ کا۔ اور اگر آ جائے کچھ، یہ کس کا سور؟ یہ جزئیہ کا۔ اگر آ جائے بعض، یہ بھی کس کا؟ جزئیہ کا ہے۔ اور اگر کوئی کا لفظ آئے یہ؟ یہ بھی کلیہ کا ہے، یہ سالبہ میں آئے گا۔ کوئی کس کے لیے آئے گا؟ کلیہ کے سالبہ میں آئے گا لیکن یہ سور کس کا ہے؟ کلیہ کا سور ہے، کوئی پتھر جاندار نہیں ہے، تو میں نے ہر ہر پتھر سے جاندار ہونے کی کیا کر دی؟ نفی کر دی، تو یہ کلیہ کا سور ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟
اچھا بات چل رہی تھی، محصورہ کی چار مثالیں میں آپ سے پوچھ رہا تھا، پہلی: موجبہ کلیہ، پھر مثال دو موجبہ ہو اور کلیہ ہو: تمام انسان جاندار ہیں، تمام درخت بڑھنے والے ہیں، تمام حیوانات سانس لینے والے ہیں، ہر مدرسے میں دین کی تعلیم دی جاتی ہے، دیکھا ہر ایک کی بات کر رہا ہوں تو کلیہ بھی ہے اور اثبات بھی ہے۔ اب مجھے مثال دو سالبہ کلیہ کی، سالبہ کلیہ، جی! کوئی کا لفظ لاؤ کوئی کا لفظ، سالبہ ہو سالبہ ہو اور کلیہ ہو: کوئی پتھر جاندار نہیں ہے، کوئی قلم کتاب نہیں ہے، کوئی انسان پتھر نہیں ہے، اور کوئی درخت پتھر نہیں ہے، جو بھی بنا لیں جو بھی بنا لیں، صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ کیا ہے؟ سالبہ کلیہ۔ اب مجھے مثال دو موجبہ جزئیہ کی، موجبہ جزئیہ، جزئیہ ہونا چاہیے اور اثبات ہو نفی نہ ہو: بعض انسان محنتی ہیں، شاباش! اور کوئی مثال دو: بعض انسان جاندار ہیں، توجہ ہے؟ بعض انسان؟ آپ کہیں گے انسان تو سارے کے سارے جاندار ہیں، بھئی میں نے باقیوں سے میں نے کہا بعض جاندار، جب سارے جاندار ہیں تو بعض بھی جاندار ہوئے یا نہیں؟ میں نے بعض کی بات کی، باقی بعض کے بارے میں میں نے یہ تو نہیں کہا کہ وہ جاندار نہیں ہیں، میں نے بات ہی صرف بعض کی کی، کچھ حصہ فرض کرو آدھے کی بات کر رہا ہوں، میں کیا کہہ رہا ہوں: بعض انسان جاندار، تو وہ والے آدھے جاندار ہیں یا جاندار نہیں؟ جاندار ہیں اور باقی آدھے؟ بھئی میں نے کب کہا ہے کہ وہ جاندار نہیں ہیں، میں نے تو ان کے بارے میں بات ہی نہیں کی، تو میری بات درست ہے یا غلط ہے؟ درست ہے، میں صرف آدھے کی بات کر رہا ہوں باقیوں کی میں نے بات ہی نہیں کی، وہ ہوں یا نہ ہوں میں نے کوئی ذکر ہی نہیں کیا اس کو۔ یا اور مثال دو، موجبہ جزئیہ ہونا چاہیے: بعض درخت بڑھنے والے ہیں، بعض درخت؟ آپ کہیں گے درخت تو سارے ہی بڑھنے والے ہیں، بھئی میں نے باقیوں کی بات ہی نہیں کی، اتنا مجھے بتاؤ بعض درخت بڑھنے والے ہیں میں نے بعض کی بات کی، میری بات درست ہے یا غلط ہے؟ درست ہے، باقیوں کے بارے میں میں نے سکوت کیا۔ یا یوں کہو: بعض جاندار انسان ہیں، اب مجھے بتائیے جاندار تو بہت سارے ہیں لیکن اس میں سے بعض کیا ہیں؟ انسان ہیں، تو یہ کیا ہوا؟ موجبہ جزئیہ۔ اب مجھے مثال دو سالبہ جزئیہ کی، سالبہ جزئیہ کی: بعض جاندار انسان نہیں ہیں، بعض جاندار؟ گائے، بیل، بکری وغیرہ ہیں، تو بعض بعض جاندار انسان نہیں ہیں، یا یوں کہو: بعض انسان پتھر نہیں ہیں، بعض انسان؟ میرا کلام درست ہے یا غلط ہے؟ جی؟ درست ہے۔ بھئی میں نے بعض کی بات کی ہے، مثلاً آدھے کی بات کر رہا ہوں، یہ جو آدھے ہیں تو بعض یہ پتھر نہیں ہیں، میری بات درست ہے یا غلط ہے؟ اور باقی آدھے؟ میں نے کب کہا ہے بھئی باقی آدھے پتھر ہیں، میں نے تو ان کے بارے میں کوئی بات ہی نہیں کی، تو بعض انسان پتھر نہیں ہیں، یہ بھی کیا ہوا؟ سالبہ سالبہ جزئیہ ہوا اور کلام صحیح ہے یا غلط ہے؟ صحیح ہے۔ تو یہ محصورہ کی قسمیں پتہ چل گئیں؟ محصورہ کی کتنی قسمیں؟ چار۔ نمبر ایک: موجبہ کلیہ، نمبر دو: پہلا کیا ہے؟ موجبہ کلیہ، دوسرا موجبہ جزئیہ، پھر سالبہ کلیہ اور سالبہ جزئیہ۔
اب ان چاروں کی نقیضیں کیا آئیں گی؟ ذرا وہ بھی مجھے بتاؤ۔ موجبہ کلیہ، اس کی نقیض کیا آئے گی؟ موجبہ کی نقیض ہو جائے گی سالبہ، اور کلیہ کی نقیض کیا ہو جائے گی؟ ابھی بتایا تناقض کے اندر دو محصورہ کے اندر تناقض کے لیے کیا ضروری ہے؟ کہ کل اور جز میں مخالفت ہو، ایک کلی ہو تو دوسرا جزئی ہونا چاہیے۔ اب مجھے بتائیے، موجبہ کلیہ اس کی نقیض لاؤ: سالبہ جزئیہ۔ تو موجبہ کلیہ کی نقیض کیا آئی؟ سالبہ جزئیہ۔ تو سالبہ جزئیہ کی نقیض کیا آئے گی؟ موجبہ کلیہ۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور سالبہ کلیہ کی نقیض کیا آئے گی؟ موجبہ جزئیہ۔ اور موجبہ جزئیہ کی نقیض کیا آئے گی؟ سالبہ کلیہ۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی اچھی طرح؟
سوال: یہ کیا وجہ ہے؟ موجبہ کی نقیض سالبہ اتی ہے، یہ تو ہمیں پتہ ہے، تو تناقض کے شروع میں کیا بتا دیا تھا؟ دو قضیوں میں سے ایک موجبہ ہو تو دوسرا کیا ہو؟ تو موجبہ کی نقیض تو سالبہ اتی ہے اور سالبہ کی نقیض کیا اتی ہے؟ موجبہ، یہ تو ہمیں پتہ تھا۔ لیکن آپ نے کہا محصورہ کے اندر کیا ضروری ہے؟ ایک کلیہ ہو تو دوسرا جزئیہ اور اگر ایک جزئیہ ہو تو دوسرا کلیہ ہونا، یہ کلی اور جزئی ہونے میں اختلاف کی قید کیوں لگائی مناطقہ نے؟ وجہ سمجھ لو۔ وجہ اس کی یہ کہ اگر دونوں کلی ہوں، تو پھر کبھی تناقض ہوگا کبھی تناقض؟ اسی طرح دونوں جزئی ہوں تو کبھی تناقض ہوگا کبھی تناقض نہیں ہوگا۔ تو حالانکہ منطق کے قوانین عام ہوتے ہیں، وہ ایسے قانون بناتے ہیں مناطقہ جو ہر جگہ پر لگیں، یہ نہیں کہیں تو قانون لگے اور کہیں نہ لگے، ایسا نہیں۔ توجہ ہے؟ مناطقہ کے قوانین کیسے ہوتے ہیں؟ جو ہر جگہ لگنے چاہییں۔ ایک مکمل قانون بنا دیا، ہر جگہ وہ قانون لگاؤ آپ دیکھیں گے کہ اس کے مطابق بات صحیح بن جاتی ہے اور اگر وہ قانون یہ بنا دیں اور قانون کے اندر کچھ چیزیں آ رہی ہیں، کچھ چیزیں اس میں آ ہی نہیں رہیں، تو یہ قانون اس کو وہ ایسے قانون کا وہ اعتبار نہیں کرتے۔ کس قسم کے قانون کا اعتبار کرتے ہیں؟ جو کلی ہونا چاہیے جو ہر جگہ لگنا چاہیے، کوئی جگہ بھی اس سے خارج نہیں۔ تو لہٰذا مناطقہ نے دیکھا کہ دو محصورہ کے اندر تناقض کے لیے ضروری ہے کہ ایک کلیہ ہو تو دوسرا کیا ہونا چاہیے؟ جزئیہ، اور ایک پہلا جزئیہ ہو تو دوسرے کو کیا ہونا چاہیے؟ کلیہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے لہٰذا قید لگا دی کہ کلیہ کی نقیض کیا آئے گی؟ جزئیہ، اور جزئیہ کی نقیض کیا آئے گی؟ کلیہ آئے گی۔
وجہ اس کی یہ کہ اگر دونوں طرف کلی رکھیں، پہلا بھی کلیہ ہو محصورہ اور دوسرا بھی کیا ہو؟ کلی، تو کبھی تناقض ہوگا کبھی نہیں ہوگا، تو قانون ہر جگہ لگا یا کچھ رہ گئے؟ کچھ رہ گئے۔ حالانکہ قانون تو ایسا ہونا چاہیے جو ہر جگہ لگے۔ اور انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ بعض اوقات دونوں جب جزئی ہوں، پہلا محصورہ بھی جزئیہ دوسرا بھی؟ تو کبھی تناقض ہوگا کبھی تناقض نہیں ہوگا، تو یہ بات تو درست نہیں ہے، تناقض تو ہمیشہ قانون ایسا بناؤ جو ہر جگہ لگے، کوئی صورت اس سے باہر نہ ہو۔ مثلاً میں کہتا ہوں، مثلاً میں کہتا ہوں: ہر جاندار انسان ہے، موجبہ ہے یا سالبہ ہے؟ موجبہ ہے۔ کلیہ ہے یا جزئیہ ہے؟ کلیہ، اچھا تو یہ کیا ہوا؟ موجبہ کلیہ، توجہ ہے؟ موجبہ کلیہ، اس کی ذرا نقیض لاؤ اور وہ بھی کلیہ ہی لے کر آؤ ذرا، کیا لاؤ؟ پہلے میں: ہر انسان ہر جاندار انسان ہے، دوسرے میں کہو: جاندار کو موضوع رکھو نا، پہلے میں موضوع ہے تو وہ ہر جاندار انسان ہے، دوسرے میں کیا لکھو؟ ہر جاندار انسان نہیں ہے، یا یوں کہو: کوئی جاندار انسان نہیں ہے۔ توجہ ہے؟ پہلا کیا؟ انسان کو موضوع نہ بناؤ، انسان کو ذرا محمول رکھو، ہر جاندار انسان ہے، مجھے بتائیے یہ سچ ہے یا جھوٹ ہے؟ ہر جاندار ہی انسان ہے؟ نہیں، تو یہ پہلا قضیہ کیا ہوا؟ جھوٹ، اور دوسرا کیا ہے؟ کوئی جاندار انسان نہیں ہے، یہ بھی کوئی کس کے لیے آتا ہے؟ کلیہ کے لیے آتا ہے نا، کوئی جاندار انسان نہیں ہے، یہ بھی جھوٹ ہو گیا، یہ بھی کیا ہوا؟ جھوٹ، کوئی جاندار انسان نہیں ہے؟ یا بعض جاندار کیا ہیں؟ انسان ہیں، تو پہلا بھی جھوٹا کہ ہر جاندار انسان ہے اور دوسرا: کوئی جاندار انسان نہیں ہے یہ بھی کیا ہوا؟ جھوٹا، حالانکہ ایک میں ایک موجبہ ہے، ایک سالبہ ہے، پہلا بھی کلیہ دوسرا بھی کلیہ، تو دونوں کیا بن گئے؟ جھوٹے، معلوم ہوا جب دونوں کلیہ ہوں تو تناقض کبھی ہوگا کبھی تناقض یہاں تناقض ہے؟ دونوں جھوٹے ہو گئے، تناقض میں تو کیا ہوتا ہے؟ ایک سچا ہوتا ہے، ایک جھوٹا ہوتا ہے، دونوں جھوٹے بھی نہیں ہو سکتے دونوں سچے بھی یہاں اب دیکھو ہم نے کوشش کر لی دونوں کو کلیہ رکھا، جب دونوں کو کلیہ رکھا تو تناقض رہا؟ تناقض نہ رہا۔
اور کبھی تناقض رہے گا: ہر انسان پتھر ہے، ہر انسان؟ کلیہ ہے یا جزئیہ ہے؟ کلیہ، اس کی نقیض لاؤ ذرا، اس کو بھی کلیہ ہی رکھو: کوئی انسان پتھر نہیں ہے، پہلا بھی کلیہ دوسرا بھی، اور اب تناقض ہے۔ پہلا کیا؟ ہر انسان پتھر ہے، یہ سچ ہے یا جھوٹ ہے؟ جھوٹ ہے، اور کوئی انسان پتھر نہیں، یہ سچ ہے، اب تناقض آ گیا۔ تو دیکھا، جب ہم دونوں کو کلیہ رکھتے ہیں مناطقہ نے غور کیا، جب دونوں کو کلیہ رکھو تو کبھی تناقض رہتا ہے کبھی تناقض نہیں رہتا، لہٰذا معلوم ہوا یہ قانون کلی نہیں بن سکتا، بعض جگہ یہ لگے گا، اگر آپ یہ کہہ دیں کہ محصورہ میں تناقض کے لیے کیا ضروری؟ دونوں کلیہ کا کلیہ کی نقیض کلیہ آنی چاہیے اور جزئیہ کی نقیض؟ تو پھر تو کبھی تناقض رہے گا کبھی تناقض نہیں، ہم آپ سے کہتے ہیں اس قضیے کی نقیض لاؤ، آپ نقیض لائیں گے تو کبھی تو نقیض ہوگی کبھی وہ نقیض بنے گی ہی نہیں، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو مناطقہ نے کیا غور کیا؟ کہ اگر کلیہ کی نقیض کس کو بنائیں؟ کلیہ ہی کو بنانے کی کوشش کریں، تو کبھی نقیض یعنی تناقض ہوگا کبھی تناقض نہیں ہوگا، تو قانون ان کا ہر جگہ نہیں لگتا، بعض جگہ لگ جاتا ہے وہ نقیض بن جاتی ہے بعض جگہ نقیض نہیں بنتی۔ مثلاً پہلی مثال کیا تھی؟ ہر جاندار انسان ہے، کوئی جاندار انسان نہیں، دونوں جھوٹے ہو گئے حالانکہ تناقض میں تو کیا ضروری؟ ایک سچا۔ اب دونوں کلیاں ہیں لیکن تناقض نہیں اور دوسری ایک اور مثال ہم لے کر آئے: ہر انسان پتھر ہے، کوئی انسان پتھر نہیں ہے، اب یہاں دونوں کلیاں ہیں اور یہاں پر دونوں کے اندر تناقض ہے، تو دونوں کو اگر کلیہ رکھا جائے، دونوں محصورہ کو کیا رکھا جائے؟ کلیہ، پہلے کو بھی کلیہ دوسرا بھی، تو کبھی تناقض ہوتا ہے کبھی تناقض نہیں ہوتا، تو پھر بعض صورتیں تو اس میں داخل ہو جائیں گی بعض صورتیں داخل نہیں، اب اگر ہم یہ کہہ دیں کہ جی تناقض کے لیے ضروری ہے کہ پہلا محصورہ کلیہ ہو تو دوسرا بھی کیا ہونا چاہیے؟ کلیہ ہونا چاہیے، تو یہ قانون عام ہوا؟ ہر صورت اس میں آ گئی؟ ابھی تو صورت بنا دی، دو قضیہ کلیہ تھے ان میں تناقض تھا؟ ایک صورت میں تھا، ایک صورت میں نہیں، لیکن مناطقہ کے قانون ایسے ہوتے ہیں کہ اس میں ساری صورتیں آنی چاہئیں، کوئی ایک بھی اس کے خلاف نہیں آنی چاہیے اور یہاں تو بعض اس کے خلاف آ رہے ہیں، لہٰذا مناطقہ نے غور کیا کہ اگر ایک کلیہ ہو اور ایک جزئیہ ہو پھر ہمیشہ تناقض رہتا ہے، تو انہوں نے قانون یہی بنا دیا کہ کلیہ کی نقیض کیا آئے گی؟ جزئیہ، اور جزئیہ کی نقیض کیا آئے گی؟ کلیہ آئے گی، اب بات ٹھیک ہو گئی۔
مثلاً میں نے کہا: ہر جاندار انسان ہے، کیا کہا؟ اس کی اب نقیض بناؤ اس ضابطے کے مطابق، کلیہ کی نقیض کیا بناتے؟ موجبہ کلیہ کی نقیض کیا بناتے تھے؟ کیا پڑھا آپ نے؟ سالبہ جزئیہ، اب یہ سالبہ جزئیہ والا قانون لگاؤ اور اس کے مطابق بناؤ، پہلا کیا؟ ہر جاندار انسان ہے، کیا کہا؟ موجبہ ہے یا سالبہ ہے؟ موجبہ ہے، اچھا کلیہ ہے یا جزئیہ ہے؟ کلیہ ہے، تو یہ موجبہ کلیہ ہوا۔ موجبہ کلیہ کی نقیض کیا بتائی تھی مناطقہ نے؟ سالبہ جزئیہ، لہٰذا جزئیہ بناؤ اور سالبہ کر دو، جی! انسان کو آگے پیچھے کیوں کرتے ہو؟ موضوع تو وہی رکھو، ہر جاندار انسان ہے، اب موضوع جاندار کو رکھنا ہے اور محمول کس کو رکھنا ہے؟ انسان، پھر سنو: ہر جاندار انسان ہے، اب بناؤ: بعض بعض جاندار انسان نفی بھی تو لاؤ، نفی بھی تو لاؤ، بعض جاندار انسان نہیں ہیں۔
چلیے، میرا خیال ہے آپ تھک گئے ہیں بھئی، کل باقی ان شاء اللہ پھر اس کا بھی تکرار کر لیں گے اور اگلا سبق بھی پڑھ لیں گے اور یہ سوالات بھی حل کر لیں گے۔ تو حاصل کلام یہ کہ دو قضیہ محصورہ کے اندر تناقض کے لیے ضروری ہے کہ اگر ایک کلیہ ہو تو دوسرا کیا ہونا چاہیے؟ جزئیہ۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو لہٰذا موجبہ کلیہ کی نقیض کیا آئے گی؟ سالبہ جزئیہ، اور سالبہ جزئیہ کی نقیض کیا آئے گی؟ موجبہ کلیہ، اور سالبہ کلیہ کی نقیض کیا آئے گی؟ موجبہ جزئیہ، اور موجبہ جزئیہ کی نقیض کیا آئے گی؟ سالبہ کلیہ آئے گی بھئی۔ چلیے کل پھر ان شاء اللہ اس کا مختصر تکرار بھی کر لیں گے اور اگلا سبق بھی پڑھ لیں گے۔ چلیے بس بھئی، ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔