اچھا بھئی، آگے کتاب پر دیکھیے اگلا سبق۔ سبق چہارم: تناقض کا بیان۔
در تناقض ہشت وحدت شرط داں
وحدت موضوع و محمول و مکاں
وحدت شرط و اضافت، جزء و کل
قوت و فعل است، در آخر زماں
جب دو قضیے ایسے ہوں کہ ایک موجبہ ہو دوسرا سالبہ اور ان میں یہ بات بھی ہو کہ ایک کو اگر سچا کہیں تو دوسرے کو ضرور جھوٹا کہنا پڑے، تو ان دونوں کے ایسے اختلاف کو تناقض کہتے ہیں۔ اور ان میں سے ہر ایک قضیے کو دوسرے کی نقیض اور دونوں کو نقیضین کہتے ہیں۔
اچھا بھئی، آج ہم تناقض کے بارے میں پڑھیں گے بھئی۔ تناقض کا معنی ہے مخالفت اور ٹکراؤ۔ تناقض کا کیا معنی ہے؟ مخالفت اور ٹکراؤ۔ آپ بھی دیکھتے ہیں کہ بعض اوقات کوئی آدمی بات کر رہا ہوتا ہے، تو کوئی شخص اسے درمیان میں ٹوکتے ہوئے کہتا ہے کہ آپ کی تو باتوں میں ٹکراؤ ہے، پہلے تو آپ نے کوئی بات کی تھی، اب کوئی اور بات کر رہے ہیں۔ یعنی اس شخص نے کوئی ایسی دو باتیں کر دیں کہ ان میں ٹکراؤ آ رہا ہے، مثلاً ایک دفعہ اس نے کہا ہے: "زید کھڑا ہے" مثلاً، دوسری دفعہ کہتا ہے: "زید کھڑا نہیں ہے"، تو فوراً اس کو دوسرا سننے والا ٹوک دیتا ہے کہ آپ کی باتوں میں کیا ہے؟ ٹکراؤ ہے اور مخالفت ہے بھئی، مخالفت ہے۔ تو تناقض کا کیا معنی ہے؟ مخالف ہونا اور ٹکراؤ بھئی، ٹکراؤ۔
دیکھیے ہم بعض اوقات باتیں کر رہے ہوتے ہیں، ایک شخص کوئی ایک بات کرتا ہے، تھوڑی دیر بعد کوئی اور بات کرتا ہے، تو سننے والے فوراً اس کو ٹوک دیتے ہیں کہ آپ کی باتیں تو ایک دوسرے کے، آپ کی باتوں میں تو ٹکراؤ ہے، کچھ دیر پہلے آپ ایک بات کر رہے تھے اب دوسری بات کر رہے ہیں۔ تو یہ دو باتوں کے درمیان ٹکراؤ جو ہے اس کو تناقض کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ تناقض کہتے ہیں۔
تو دو باتوں کے اندر ٹکراؤ ہے یا ٹکراؤ نہیں بھئی، اس کا پتہ کیسے چلے گا؟ تو منطق والوں نے اس کے لیے باقاعدہ کچھ اصول مقرر کیے بھئی۔ کیونکہ بحث و مباحثہ ہوتا ہے اس میں ان چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے کہ آپ کے ساتھ ایک آدمی بحث کر رہا ہے اور آپ اس کو کہتے ہیں یا وہ آپ کو کہتا ہے کہ آپ کی باتوں میں ٹکراؤ ہے، تو وہ کون سی چیزیں ہیں جن کو دیکھا جائے گا، جن کو مدنظر رکھا جائے گا اس بات میں کہ دو باتوں میں ٹکراؤ ہے یا ٹکراؤ نہیں بھئی۔
مثلاً بھئی، قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى﴾ کہ اے مومنو، تم نماز کے قریب نہ جاؤ نشے کی حالت میں، نشے کی حالت میں۔ تو اس میں سے اگر صرف ﴿لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ﴾ کو دیکھیں: اے مومنو، نماز کے قریب نہ جاؤ، اور دوسری جگہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ﴾ اور نماز قائم کرو۔ تو بظاہر اگر صرف ایک اس پہلی آیت کے پہلے حصے کو صرف دیکھا جائے: ﴿لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ﴾ تم لوگ نماز کے قریب نہ جاؤ، اور دوسری آیت کو دیکھا جائے: ﴿وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ﴾ اور تم لوگ نماز قائم کرو، تو بظاہر دونوں میں ٹکراؤ محسوس ہوتا ہے۔ کیا محسوس ہوتا ہے؟ ایک میں کہا جا رہا ہے نماز قائم کرو، دوسرے میں کہا جا رہا ہے: ﴿لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ﴾ تم لوگ نماز کے قریب بھی نہ جاؤ۔ تو بظاہر ٹکراؤ محسوس ہوتا ہے۔ لیکن دیکھا جائے تو پہلی آیت کے ساتھ اس کا ایک حصہ ملانا پڑے گا پھر بات، پھر بات واضح ہو گی اور پتہ چلے گا کہ ٹکراؤ نہیں ہے۔ پہلی آیت میں کیا کہا گیا؟ ﴿لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى﴾ کہ نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ۔ یعنی معلوم ہوا ویسے نہیں نماز سے روکا جا رہا، ویسے تو یہی حکم ہے: ﴿أَقِيمُوا الصَّلَاةَ﴾ تم لوگ کیا کرو؟ نماز قائم کرو۔ ہاں البتہ اگر تم نشے کی حالت میں ہو، کسی نے نشہ کیا ہو، شراب وغیرہ پی ہو، تو اس وقت وہ نماز کے قریب نہ جائے کیونکہ اسے علم نہیں نشے کی حالت میں کہ وہ کیا کر رہا ہے، کیا بول رہا ہے بھئی۔
تو دیکھا، تو بظاہر اگر صرف آیت کے اس حصے کو دیکھا جائے: ﴿لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ﴾ اور دوسری طرف دیکھا جائے: ﴿وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ﴾ تو ان دونوں میں کیا محسوس ہوتا ہے؟ ٹکراؤ محسوس ہوتا ہے، لیکن وہاں پر اگر ﴿وَأَنْتُمْ سُكَارَى﴾ کی قید کو ساتھ ملا دیا جائے پھر کوئی ٹکراؤ نہیں۔ معلوم ہوا کہ عام حکم یہی ہے نماز قائم کرو، لیکن نشے کی حالت میں کیا کیا جا رہا ہے؟ نماز سے روکا جا رہا ہے، تو دونوں میں کوئی ٹکراؤ نہیں۔ جو روکا جا رہا ہے وہ اور حالت میں ہے، اور جو حکم دیا جا رہا ہے وہ اور حالت میں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
ہاں، اس پر ایک اشکال آپ کے ذہن میں آئے گا کہ نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ، بھئی نشہ تو حرام ہے ویسے ہی، اس حکم کا کیا معنی؟ بھئی یاد رکھیے، یہ جو اسلام کے احکامات ہیں یہ اکٹھے سارے نازل نہیں ہوئے بھئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ احکامات 23 سال کے عرصے میں آہستہ آہستہ نازل ہوتے رہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں تشریف لائے تو اس وقت لوگوں میں بہت سی خرابیاں پھیلی ہوئی تھیں، ان میں سے ایک خرابی یہ تھی کہ ان کے ہاں شراب عام تھی، وہ عام شراب سب پیا کرتے تھے بھئی۔ ہاں، اس زمانے میں بھی کچھ نیک لوگ ہوتے تھے، وہ شراب سے اپنے آپ کو بچا کر رکھتے تھے کہ شراب تو ایسی چیز ہے کہ انسان کو ہوش ہی نہیں رہتا کہ وہ کیا بول رہا ہے اور کیا کر رہا ہے بھئی، تو وہ اس وقت بھی اپنے آپ کو شراب سے بچاتے تھے۔ لیکن عام طور پر باقی عام لوگ سب کیا کرتے تھے؟ وہ شراب پیتے تھے اور ان کے ہاں اس کو کوئی عیب سمجھا ہی نہیں جاتا تھا، بلکہ جو جتنی زیادہ شراب پیتا اور زیادہ وہ اس پر فخر کرتا تھا۔
تو جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اسلام لے کر آئے اور لوگوں کو اسلام کی دعوت دی تو ایک دم ان چیزوں سے نہیں منع کیا گیا بلکہ بتدریج، آہستہ آہستہ ان چیزوں سے روکا گیا۔ پہلے آہستہ آہستہ بتلایا گیا کہ شراب بری چیز ہے، پھر آہستہ آہستہ اس سے دور رہنے کا حکم دیا گیا، اور پھر آہستہ آہستہ اس کو بالکل ہی کیا کر دیا گیا؟ منع کر دیا گیا۔ جیسے دیکھو، اس آیت کے اندر منع کیا گیا کہ اے مومنو، جب تم نشے کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب نہ جاؤ، تو یہ اس زمانے کا حکم ہے، اس زمانے کا جبکہ ابھی شراب حرام نہیں ہوئی تھی۔ اور اس میں دیکھو شراب کی برائی کی طرف واضح اشارہ کیا جا رہا ہے کہ جب نشے کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب نہ جاؤ۔ معلوم ہوا یہ شراب پینا اور یہ نشہ، یہ کوئی اچھی چیز نہیں ہے بھئی۔
بات چل رہی تھی دو باتوں کے درمیان ٹکراؤ اور مخالفت بھئی۔ دو باتوں کے اندر ٹکراؤ اور مخالفت کب ہو گی؟ مناطقہ نے اس پر غور کیا اور کچھ چیزیں جمع کیں کہ یہ چیزیں جب دونوں باتوں میں ہوں گی تو پھر ان میں ٹکراؤ ہے، اگر یہ چیزیں دونوں باتوں میں نہیں تو پھر ان میں ٹکراؤ بھی نہیں ہے بھئی، ٹکراؤ بھی نہیں ہے۔ اور وہ انہوں نے آٹھ چیزیں جمع کیں، آٹھ۔
مثلاً دیکھو، ایک شخص کہتا ہے کہ "زید عالم ہے" اور پھر تھوڑی دیر بعد کہتا ہے: "زید عالم نہیں ہے"، آپ اس کو فوراً ٹوک دیتے ہیں کہ بھئی ابھی آپ نے کہا تھا "زید عالم ہے"، اب آپ کیا کہہ رہے ہیں "زید عالم نہیں ہے"، یہ تو آپ کی دونوں باتوں میں ٹکراؤ ہے، مخالفت ہے۔ وہ فوراً جواب میں کہے گا: بھئی، میں نے جب کہا تھا "زید عالم ہے" تو میری مراد یہ تھی کہ وہ علم دین کا عالم ہے، اور جب میں نے کہا "زید عالم نہیں ہے" تو مطلب یہ تھا کہ وہ دنیاوی علوم کا عالم نہیں ہے۔ تو دیکھو، جو میں نے عالم ہونے کی بات کی وہ اور علم کے اعتبار سے کی، اور عالم نہ ہونے کی بات کی وہ اور علم کے اعتبار سے بات کی، لہٰذا کوئی ٹکراؤ ہے دونوں میں؟ میں نے پہلے جو کہا تھا عالم ہے وہ تو علوم دینیہ کے اعتبار سے ہے، وہ اب بھی میں کہہ رہا ہوں وہ عالم ہے۔ اور میں نے جو اب نفی کی ہے کس کی کی ہے؟ دنیاوی علوم کی نفی کی ہے، میں نے پہلے کب کہا تھا کہ وہ دنیاوی علوم جاننے والا ہے، تو لہٰذا میری باتوں میں کسی قسم کا کوئی ٹکراؤ نہیں۔ تو دیکھا، حیثیت کے بدلنے سے بات بدل گئی۔ وہاں عالم ہونا اور حیثیت سے تھا اور عالم نہ ہونا اور حیثیت سے ہے۔ عالم ہونا تھا کس حیثیت سے؟ علوم دینیہ کے اعتبار سے، اور عالم نہ ہونا ہے کس اعتبار سے؟ دنیاوی علوم کے اعتبار سے۔ تو دیکھا حیثیت کے بدلنے سے دونوں باتوں میں ٹکراؤ ختم ہو گیا۔ آپ کو بظاہر ٹکراؤ لگ رہا تھا لیکن جب وضاحت ہوئی پتہ چلا ایک میں اور حیثیت مراد ہے، دوسرے میں اور حیثیت مراد ہے، تو معلوم ہوا دونوں باتوں میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ "زید عالم ہے" یہ بھی ٹھیک ہے، اور "زید عالم نہیں ہے" یہ بھی ٹھیک ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو مناطقہ نے غور کیا اور کچھ چیزیں جمع کیں کہ وہ چیزیں دونوں باتوں میں ہوں گی، دونوں جگہ ایک جیسی ہوں گی تو پھر ہم کہیں گے دو باتوں میں ٹکراؤ ہے۔ اور اگر دونوں جگہ وہ ساری چیزیں ایک جیسی نہیں تو پھر ٹکراؤ نہیں ہو گا بھئی۔ وہ آٹھ چیزیں ہیں بھئی، آٹھ چیزیں ہیں۔ کتنی چیزیں ہیں؟ آٹھ چیزیں ہیں۔ چلیں آگے اس کی تفصیل آ رہی ہے بھئی، میں بیان کرتا ہوں۔ سب سے پہلے تو یہ یاد رکھیں بھئی، یاد رکھیں کہ تناقض، تناقض کے اندر ضروری ہے ایک قضیے کے اندر ایجاب ہو تو دوسرے قضیے کے اندر سلب ہو، یعنی ایک موجبہ ہو تو دوسرا سالبہ ہو، یعنی ایک میں ہاں کا حکم ہے تو دوسرے میں نا کا حکم ہو۔ مثلاً "زید عالم ہے" اور "زید عالم نہیں ہے"، تو ایک میں ایجاب ہونا ضروری اور دوسرے میں سلب یعنی نفی کا ہونا ضروری ہے بھئی، نفی کا ہونا۔
اور پھر یہ بھی یاد رکھو، تناقض کے اندر ضروری ہے کہ ایک قضیے کو اگر سچا کہیں تو دوسرے کو جھوٹا کہنا پڑے گا۔ اگر پہلے کو سچا کہیں تو دوسرے کو جھوٹا کہنا پڑے گا، اور اگر دوسرے کو سچا کہیں تو پہلے کو جھوٹا کہنا پڑے گا، یہ لازمی ہے تناقض کے اندر۔ یہ نہیں اگر دونوں سچے ہو جائیں تو پھر بھی تناقض نہیں، یا دونوں جھوٹے ہو جائیں پھر بھی تناقض نہیں۔ تو تناقض میں پہلی کیا شرط ہے؟ کہ ایک موجبہ ہو تو دوسرا سالبہ ہو بھئی۔ اور دوسری شرط کیا ہے؟ کہ ایک سچا، ایک کو سچا کہیں تو دوسرے کو جھوٹا کہنا پڑے، ایسا نہ ہو کہ دونوں سچے ہو جائیں یا دونوں جھوٹے ہو جائیں۔ یعنی دوسرے آسان لفظوں میں یوں کہو: دونوں جمع بھی نہ ہو سکیں اور دونوں اٹھ بھی نہ سکیں، علیحدہ بھی نہ ہو سکیں۔ دونوں جمع بھی نہ ہو سکیں، یہ نہ ہو پہلا قضیہ بھی سچا ہو جائے اور دوسرا بھی کیا ہو جائے؟ سچا ہو جائے، یہ تو دونوں جمع ہو گئے۔ کیا ہو گئے؟ جمع ہو گئے، تناقض کے اندر یہ نہیں ہو سکتا بھئی۔ ایک سچا ہو گا اور دوسرا جھوٹا ہو گا، یہ نہیں ہو سکتا دونوں سچے ہو جائیں۔ اور دونوں ہی اٹھ جائیں، دونوں ہی علیحدہ ہو جائیں، ایسا بھی نہیں ہو سکتا، یعنی پہلا بھی جھوٹا ہو اور دوسرا بھی جھوٹا ہو، ایسا بھی نہیں ہو سکتا۔ تناقض میں لازم ہے ایک سچا ہو تو دوسرا جھوٹا، اور اگر دوسرا سچا ہے تو پہلا جھوٹا ہو۔ تو دونوں جمع بھی نہیں ہو سکتے، کیا معنی؟ دونوں سچے نہیں ہو سکتے، پہلا بھی سچا اور دوسرا بھی سچا۔ اور دونوں اٹھ بھی نہیں سکتے یعنی علیحدہ نہیں ہو سکتے، کیا معنی؟ دونوں دونوں جھوٹے نہیں ہو سکتے، پہلا بھی جھوٹا اور دوسرا بھی جھوٹا ہو ایسا نہیں ہو سکتا۔
تو تناقض میں کیا ضروری؟ کہ ایک قضیہ موجبہ ہو تو دوسرا سالبہ ہو۔ اور دوسرا کیا؟ کہ دونوں جمع بھی نہ ہو سکیں اور دونوں اٹھ بھی نہ سکیں۔ ایک کا سچا ہونا اور دوسرے کا جھوٹا ہونا ضروری ہے بھئی اس کے اندر۔ جیسے میں کہتا ہوں: "زید عالم ہے" اور دوسرا جملہ کہتا ہوں: "زید عالم نہیں ہے"۔ اب ایک ہی علم کے اعتبار سے میں کہہ رہا ہوں۔ پہلے تو کیا تھا؟ میں نے دو مختلف علوم کے اعتبار سے مثال ذکر کی تھی کہ زید جاننے والا ہے کس کو؟ دینی علوم کو، اور نہیں جاننے والا کس کو؟ دنیاوی علوم کو۔ لیکن اب ایک ہی علم رکھیں دونوں میں۔ مثلاً دینی علوم کے اعتبار سے میں کہتا ہوں: "زید عالم ہے"، اور دینی علوم ہی کے اعتبار سے میں کہتا ہوں: "زید عالم نہیں ہے"، اب دونوں میں ٹکراؤ آ گیا، تناقض آ گیا۔ کس طرح؟ "زید عالم ہے" دیکھو اس میں ایجاب ہے، زید کے لیے عالم ہونے کا ثبوت ہے۔ اور دوسرے میں میں کیا کہتا ہوں: "زید عالم نہیں ہے" دیکھو یہ سلب آ گیا، نفی آ گئی، زید سے علوم دینیہ کی نفی کر دی گئی، علوم دینیہ کی نفی کر دی گئی۔ تو ایک میں ایجاب ہے، پہلی شرط پوری، دوسرے میں کیا ہے؟ سلب، ایک موجبہ ہے دوسرا سالبہ۔ اور دوسری کیا شرط تھی؟ ایک سچا ہو تو دوسرا جھوٹا ہو۔ مثلاً بھئی، دونوں میں سے ایک ہی بات ہو گی، یا زید علوم دینیہ جاننے والا ہے یا دینی علوم جاننے والا نہیں ہے۔ اگر جاننے والا ہے تو پہلا قضیہ سچا: "زید عالم ہے"، اور دوسرا قضیہ "زید عالم نہیں ہے" یہ کیا ہوا؟ جھوٹا ہو گیا۔ اور اگر زید علوم دینیہ نہیں جاننے والا، تو پھر دوسرا قضیہ سچ ہو گیا کہ "زید عالم نہیں ہے"، اور پہلا قضیہ "زید عالم ہے" وہ کیا ہوا؟ وہ جھوٹا ہو گیا بھئی۔ توجہ ہے؟ اچھی طرح؟
ایک ہی علم کے اعتبار سے میں بات کر رہا ہوں اب۔ "زید عالم ہے" اور دوسرا قضیہ کیا ہے؟ "زید عالم نہیں ہے"۔ کیا یہ دونوں سچے ہو سکتے ہیں؟ نہیں، کیونکہ ایک علم کے اعتبار سے میں بات کر رہا ہوں، الگ الگ علوم کے اعتبار سے بات نہیں کر رہا۔ مثلاً دینی علوم کے اعتبار سے، تو وہ دینی علوم کو یا تو جاننے والا ہو گا یا نہ جاننے والا ہو گا، دونوں میں سے ایک بات ہو سکتی ہے دونوں باتیں نہیں ہو سکتیں۔ دونوں جمع نہیں ہو سکتیں۔ اور دونوں اٹھ بھی نہیں سکتیں کہ زید علوم دینیہ کا عالم ہو، ایسا بھی نہ ہو، اور عالم نہ ہو، ایسا بھی نہ ہو، دونوں ہی اٹھ جائیں۔ بھئی نہیں، دونوں اٹھ ہی نہیں سکتے، دونوں میں سے ایک بات تو ضرور ماننا پڑے گی، یا زید کو عالم ماننا پڑے گا یا عالم نہ ماننا، کوئی تیسری حالت ہے یہاں؟ نہیں۔ تیسری حالت ہو ہی نہیں سکتی۔ تو دونوں جھوٹے ہو جائیں یہ بھی نہیں ہو سکتا، دونوں سچے ہو جائیں یہ بھی نہیں۔ ایک کو سچا ماننا پڑے گا اور دوسرے کو جھوٹا ماننا پڑے گا بھئی۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟
تو یہ جو قضیے ہیں، یہ دو قضیے بھئی، ادھر دیکھیے بھئی۔ یہ جو دو قضیے ہیں، پہلا کیا؟ "زید عالم ہے" اور دوسرا کیا ہے؟ "زید عالم نہیں"، عالم نہیں ہے۔ دونوں میں سے ایک موجبہ ہے اور دوسرا سالبہ، اور ان میں سے ایک کو سچا مانتے ہیں تو دوسرے کو جھوٹا ماننا پڑتا ہے، لازم بھئی لازم۔ تو یہ دو جو قضیے ہیں ان میں سے ہر قضیہ دوسرے کی نقیض ہے۔ کیا ہے؟ نقیض ہے، یہ سبق میں لفظ آ رہا ہے بھئی، نقیض۔ مثلاً پہلا قضیہ یہ دوسرے قضیے کی نقیض ہے یعنی اس کے مخالف ہے، اس کے اس سے اس کا ٹکراؤ ہے۔ اور دوسرا قضیہ پہلے قضیے کی نقیض ہے یعنی اس کے مخالف ہے، اس کے اس سے اس کا ٹکراؤ ہے بھئی۔ تو یہ دونوں قضیے کیا ہوئے؟ ایک دوسرے کی نقیض ہوئے۔ زبان سے دہراؤ، یہ دونوں قضیے کیا ہوئے ایک دوسرے کی؟ نقیض ہوئے، نقیض ہوئے۔ اور تو دو ہو گئے، پہلا قضیہ بھی نقیض دوسرے کے لیے اور دوسرا قضیہ بھی نقیض پہلے کے لیے، تو دو نقیضیں ہو گئیں، تو اس کو کہیں گے نقیضین بھئی۔ عربی میں تثنیہ بنانے کے لیے کیا کرتے ہیں؟ آخر میں الف نون ملا دیتے ہیں: رجلٌ رجلانِ، رجلانِ کا کیا معنی؟ دو آدمی۔ کتابانِ، الف نون ملا دیا کتاب کے ساتھ، کتابانِ کیا معنی؟ دو کتابیں۔ تو یہ تثنیہ کے لیے الف نون ملاتے ہیں، تو یہ دو نقیضیں ہوئیں، نقیضانِ، کیا ہوئیں؟ نقیضانِ۔ اور پھر یہی الف جو ہے حالت نصبی، جری میں کس سے بدل جاتا ہے؟ یا سے، تو کیا کہیں گے؟ نقیضینِ، کتابینِ، رجلینِ۔ تو یہ دونوں قضیے کیا ہوئے؟ ایک دوسرے کی نقیض ہوئے، تو ان کو کیا کہیں گے آپس میں؟ نقیضین ہیں، یہ قضیے نقیضین ہیں یعنی ایک دوسرے کی نقیض ہیں۔
پھر سنو، ادھر دیکھو۔ یہ پہلا قضیہ ہے: "زید عالم ہے"، یہ دوسرا قضیہ ہے: "زید عالم نہیں ہے"۔ ان دو قضیوں کے اندر جو اختلاف ہے اس اختلاف کو کہتے ہیں تناقض۔ اختلاف کو کیا کہتے ہیں؟ تناقض۔ تناقض کا معنی یہ ہے باہم ایک دوسرے کے مخالف ہونا، باہم ایک دوسرے کے ساتھ ٹکراؤ والا ہونا۔ پہلا قضیے کا ٹکراؤ ہو رہا ہے دوسرے سے، اور دوسرے کا ٹکراؤ ہو رہا ہے کس سے؟ پہلے سے۔ دونوں سچے نہیں ہو سکتے: "زید عالم ہے" یہ بھی سچ ہو جائے، "زید عالم نہیں ہے" یہ بھی سچ ہو، ایسا نہیں ہو سکتا، دونوں میں سے ایک بات کو ماننا پڑے گا اور ایک کو رد کرنا پڑے گا۔ اور دونوں تو دونوں سچے بھی نہیں ہو سکتے اور دونوں جھوٹے بھی نہیں ہو سکتے کہ "زید عالم ہے" اس کو یہ بھی غلط ہو جائے اور "زید عالم نہیں ہے" یہ بھی غلط ہو جائے، نہیں، دونوں میں سے ایک بات تو ضرور ہو گی، یا زید عالم ہے یا عالم نہیں ہے، تیسری کوئی صورت نہیں ہے بھئی۔ تو یہ جو دو قضیوں کے درمیان مخالفت ہے، کیا ہے؟ مخالفت اور ٹکراؤ، اس ٹکراؤ کا نام ہے تناقض۔ اس مخالفت اور ٹکراؤ کا کیا نام ہے؟ تناقض، اور یہ جو دو قضیے ہیں ان میں سے ہر ایک کو کیا کہیں گے؟ نقیض، کہ یہ نقیض ہے دوسرے کی، اور دوسرا والا نقیض ہے پہلے کی، اور دونوں کو کیا کہیں گے؟ نقیضین بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اب دیکھیے ذرا کتاب پر بھئی۔ سبق چہارم: تناقض کا بیان۔ تو تناقض کس کا نام ہوا؟ اس مخالفت کا، اس ٹکراؤ کا۔ تناقض کا بیان:
در تناقض ہشت وحدت شرط داں
تناقض، در تناقض، در کا معنی میں، میں۔ در تناقض: تناقض میں، ہشت وحدت، ہشت کا معنی ہے آٹھ۔ آٹھ وحدتیں۔ وحدت کا معنی ہوتا ہے، ادھر دیکھیے بھئی، وحدت کہتے ہیں اتفاق کو، ایک جیسا ہونا، اتفاق ہونا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ وحدت، وحدت۔ تو وحدت کا معنی ہے ایک ہونا اور اتفاق ہونا بھئی، ایک ہونا۔ مثلاً دیکھو، میں نے کہا: "زید عالم ہے"، "زید عالم ہے"، آپ نے پڑھا کہ قضیہ، قضیہ کسے کہتے ہیں؟ وہ مرکب جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے۔ "زید عالم ہے" اس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہہ سکتے ہیں یا نہیں کہہ سکتے؟ اور "زید عالم نہیں ہے" یہ بھی کیا ہے؟ قضیہ، کیونکہ قضیے کے اندر یا اثبات ہو گا یا نفی ہو گی، دونوں صورتیں ہو سکتی ہیں، موجبہ بھی ہو سکتا ہے اور سالبہ بھی۔ ہاں بس اس کے کہ یہ آپ غور کر لیں کہ اس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے تو وہ قضیہ ہے بھئی۔ تو قضیہ کسے کہتے ہیں؟ وہ مرکب لفظ جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے۔ تو "زید عالم ہے" یہ بھی قضیہ اور "زید عالم نہیں ہے" یہ بھی قضیہ۔
پھر آپ نے پڑھا تھا یہ قضیہ دو قسم پر ہے: یا یہ قضیہ حملیہ ہو گا یا قضیہ شرطیہ۔ قضیہ حملیہ کے اندر ایک مفرد کا دوسرے مفرد کے لیے ثبوت ہو گا یا نفی ہو گی۔ "زید عالم ہے"، زید ایک مفرد اور عالم دوسرا مفرد، اور زید کے لیے عالم ہونے کا ثبوت ہے۔ "زید عالم ہے"، زید کے لیے کس چیز کا ثبوت ہے؟ عالم ہونے کا، تو دیکھو ایک مفرد کے لیے دوسرے مفرد کا ثبوت ہے۔ یا "زید عالم نہیں ہے"، تو دیکھو ایک مفرد سے دوسرے مفرد کی نفی ہے۔ تو قضیہ حملیہ کے اندر ایک مفرد کا ثبوت ہو گا دوسرے مفرد کے لیے یا ایک مفرد کی نفی ہو گی دوسرے مفرد سے۔ تو ایک مفرد کا دوسرے مفرد کے لیے ثبوت ہو گا یا نفی ہو گی۔ تو پہلے جز کو کہتے ہیں موضوع، قضیہ حملیہ کے پہلے جز کو کیا کہتے تھے؟ موضوع، اور دوسرے جز کو کیا کہتے تھے؟ محمول۔ موضوع: جس کے بارے میں بات کی جائے۔ "زید عالم ہے"، میں نے کس کے بارے میں بات کی؟ زید کے بارے میں، تو زید ہوا موضوع۔ اور جو بات کی اس کو کہتے ہیں محمول، تو میں نے کیا بات کی زید کے بارے میں؟ کہ وہ عالم ہے، تو زید ہوا موضوع اور عالم ہوا محمول۔ تو قضیہ حملیہ جو ہے اس کے پہلے جز کو کہتے ہیں موضوع اور دوسرے جز کو کہتے ہیں محمول۔ جبکہ قضیہ شرطیہ وہ دو قضیوں سے مرکب ہوتا ہے، اس میں دو قضیے ہوتے ہیں۔ "اگر محنت کرو گے تو امتحان میں پاس ہو گے"، دیکھا؟ "اگر محنت کرو گے" یہ پہلا قضیہ، "اور تو امتحان میں پاس ہو گے" یہ دوسرا قضیہ ہے بھئی۔ تو قضیہ شرطیہ میں کتنے قضیے ہوتے ہیں؟ دو قضیے، اور پہلے کو کہتے ہیں مقدم اور دوسرے کو کہتے ہیں تالی۔ مقدم یعنی جس کو آگے کیا گیا ہے، پہلے لایا گیا ہے، اور تالی: بعد میں آنے والا، پیچھے آنے والا۔ تو قضیہ شرطیہ کے پہلے جز کو کیا کہتے ہیں؟ مقدم، اور دوسرے جز کو کیا کہتے ہیں؟ تالی کہتے ہیں۔ تو بہرحال یہاں اس وقت تناقض کا بیان چل رہا ہے۔
پھر قضیہ حملیہ جو ہے اس کی آپ نے چار قسمیں پڑھی تھیں، کتنی قسمیں؟ چار۔ یا وہ قضیہ مخصوصہ ہو گا، یا قضیہ طبعیہ ہو گا، یا قضیہ محصورہ ہو گا، یا قضیہ مہملہ ہو گا۔ قضیہ مخصوصہ کسے کہتے تھے؟ وہ قضیہ حملیہ ہے جس کا موضوع کوئی معین شخص یا معین چیز ہو۔ توجہ نہیں ہے میرا خیال سبق کی طرف۔ قضیہ مخصوصہ کسے کہتے ہیں؟ جی؟ قضیہ مخصوصہ وہ قضیہ حملیہ ہے جس کا موضوع کوئی معین شخص یا معین چیز ہو۔ "زید عالم ہے"، اس کا موضوع کون ہے؟ زید، اور زید ایک معین شخص، ایک معین ذات کا نام ہے تو یہ قضیہ مخصوصہ ہوا، کیا ہوا؟ مخصوصہ۔ جبکہ قضیہ طبعیہ اس کے اندر جو موضوع ہے وہ کلی ہوتا ہے، قضیہ محصورہ میں بھی موضوع کیا ہوتا ہے؟ کلی ہوتا ہے، اور قضیہ مہملہ میں بھی موضوع کلی ہے، جیسے: "انسان نوع ہے"، "انسان نوع ہے"، دیکھو انسان ایک کلی ہے، معلوم ہوا یہ قضیہ مخصوصہ نہیں کیونکہ مخصوصہ میں تو موضوع کلی نہیں ہوتا، جزئی ہوتا ہے، ایک معین چیز ہوتی ہے، ایک معین ذات ہوتی ہے۔ تو انسان کیا ہے؟ یہ تو کلی ہے، آپ بھی انسان، زید بھی انسان، بکر بھی انسان۔ تو لہٰذا یہ قضیہ کون سا ہوا؟ قضیہ طبعیہ ہوا بھئی۔
تو لگتا ہے چھٹیوں میں بالکل پاک صاف ہو کر آ گئے ہو بھئی، گزشتہ سبق دہرانا ہے، اس پر نظر ڈال کر آئیں بھئی۔ تو قضیہ طبعیہ کس کو کہتے ہیں؟ جس کا موضوع کلی ہو اور حکم کلی کی حقیقت اور ماہیت پر لگایا جائے، افراد پر نہ لگایا جائے۔ اور اگر حکم افراد پر لگایا جائے اور ساتھ افراد کی تعداد بھی بیان کر دی جائے کہ یہ کل کا حکم ہے یا بعض کا حکم ہے تو اس کو قضیہ محصورہ کہتے ہیں۔ اور اگر حکم تو افراد پر لگایا گیا لیکن افراد کی تعداد نہیں بیان کی گئی کہ یہ حکم سارے افراد کا ہے یا بعض افراد کا ہے تو اس کو قضیہ مہملہ کہتے ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو قضیہ مخصوصہ کس کی قسم ہے؟ قضیہ حملیہ کی، اور قضیہ حملیہ کے کتنے جز ہوتے ہیں؟ دو جز، پہلے کو کیا کہتے ہیں؟ موضوع، دوسرے کو کیا کہتے ہیں؟ محمول کہتے ہیں۔ اور قضیہ مخصوصہ اس کے اندر جو موضوع ہو گا وہ کوئی معین ذات اور معین چیز ہو گی تو اس کو قضیہ مخصوصہ کہتے ہیں۔ تو یہاں پر جو ہم تناقض کی بحث پڑھ رہے ہیں یہ اسی قضیہ مخصوصہ کے بارے میں آپ کو فی الحال بتلا رہے ہیں کہ کسی قضیہ مخصوصہ کے اندر، قضیہ مخصوصہ کے اندر تناقض، کوئی سے دو قضیے مخصوصہ ہوں ان میں تناقض تب ہو گا جب ان میں آٹھ چیزوں میں وحدت ہو۔ کتنی چیزوں میں؟ آٹھ چیزوں میں وحدت ہو، آٹھ چیزیں ایک قضیے میں جیسی ہیں ویسی ہی دوسرے میں بھی ہوں تو پھر ان میں تناقض ہو گا ورنہ تناقض نہیں۔ اور کس کی بات ہو رہی ہے؟ کون سے قضیے کی یہ ساری باتیں چل رہی ہیں؟ قضیہ مخصوصہ۔ قضیہ مخصوصہ کسے کہتے ہیں؟ جس کا موضوع کوئی معین ذات، معین شخص ہو۔ "زید عالم ہے"، زید کیا ہے؟ ایک معین شخص، ایک معین ذات ہے، تو یہ کیا ہوا؟ قضیہ مخصوصہ ہوا، قضیہ مخصوصہ۔
ادھر دیکھیے، میں وحدت کی بات بیان کر رہا ہوں۔ وحدت کا معنی ہے اتفاق ہونا، ایک جیسا ہونا، ایک ہونا، ایک ہونا۔ میں نے کہا: "زید عالم ہے"، موضوع کیا ہے اس قضیے کا؟ زید۔ اور میں نے کہا: "زید عالم نہیں ہے"، اس کا موضوع کیا ہے؟ اس کا بھی زید۔ تو دیکھا یہ دونوں قضیے ایک دوسرے کی نقیض ہیں، ان میں تناقض ہے، لیکن ان دونوں کے اندر موضوع ایک ہونا چاہیے۔ تناقض تب ہی ہو گا، کیا ہو گا؟ تو دونوں کا موضوع ایک ہے یا الگ الگ؟ پہلے کا موضوع بھی زید، دوسرے کا موضوع بھی زید ہے، تو دیکھا معلوم ہوا ان میں ان کے، ان دونوں قضیوں کے موضوع میں وحدت ہے، اتفاق ہے، دونوں ایک ہی چیز ہے۔ پہلے کا موضوع بھی زید دوسرے کا موضوع بھی زید ہے، تو وحدت ہے یا نہیں؟ تو وحدت کا کیا معنی؟ اتفاق ہونا، ایک ہونا، تو دونوں کا موضوع کیا ہے؟ ایک ہے۔
اب آئیے شعر پر بھئی:
در تناقض ہشت وحدت شرط داں
تناقض میں آٹھ وحدتیں جو ہیں شرط داں، دانِستن کا معنی ہے جاننا، اور داں داں اسی سے امر ہے، امر: جان لے، تو جان لے، کہ تناقض میں آٹھ وحدتیں جو ہیں ان کو تو شرط جان لے، تو جان لے کہ اس میں کیا ہے؟ آٹھ وحدتیں شرط ہیں۔ آٹھ وحدتیں ہوں گی تو تناقض ہو گا، آٹھ وحدتیں نہیں تو تناقض بھی نہیں۔ تو معلوم ہوا تناقض کے لیے کیا شرط ہے؟ آٹھ وحدتیں۔
در تناقض ہشت وحدت شرط داں
تناقض میں آٹھ وحدتوں کو تو شرط جان لے، وہ کون سی وحدتیں ہیں وہ بیان کرنے لگے ہیں:
وحدت موضوع و محمول و مکاں
موضوع، محمول اور مکان کی وحدت۔
وحدت موضوع و محمول و مکاں
اس کو اس طرح نہ پڑھنا: وحدت موضوع وَ محمول وَ مکاں، یہ و کو علیحدہ نہیں پڑھنا۔ فارسی کے اندر یہ جو واؤ آئے درمیان میں، یہ اور کے معنی میں ہوتا ہے: وحدت موضوع اور محمول اور مکان، تو یہ واؤ اور کے معنی میں ہوتا ہے اور یہ واؤ جب آئے تو اس کو ماقبل حرف کے پیش سے بدل دیتے ہیں۔ تو موضوع اور محمول کے درمیان کیا ہے؟ واؤ، اس واؤ کو ختم کریں اور اس کی جگہ ع پر پیش پڑھ دیں، کیا پڑھ دیں؟ واؤ سے ماقبل ع ہے نا، موضوع کا ع، اس پر پیش پڑھو: موضوعُ محمول، موضوعُ محمول۔ اسی طرح محمول و مکان ہے تو اس واؤ کو کیا کرو؟ واؤ سے پہلے کیا ہے؟ محمول کا ل ہے، اس ل پر صرف پیش پڑھ دو: محمولُ مکاں۔ طریقہ سمجھ میں آیا بھئی؟ ہاں اگر آپ رک جائیں پھر آپ "وَ محمول" پڑھ سکتے ہیں، لیکن جب ملا کر پڑھیں پھر واؤ کو نہیں علیحدہ پڑھنا بلکہ واؤ کو پہلے ماقبل والے حرف پر پیش کی صورت میں پڑھ دیں۔ تو یوں پڑھیں گے:
وحدت موضوع و محمول و مکاں
وحدت شرط و اضافت، جزء و کل
قوت و فعل است، در آخر زماں
اچھا، اس شعر کا معنی میں بعد میں بیان کروں گا تاکہ آپ کو پہلے ساری باتیں سمجھ میں آ جائیں، پھر آپ کو یہ شعر صحیح طور پر سمجھ میں آئے گا۔ اور اس شعر کو آپ نے زبانی یاد کرنا ہے، خوب یاد کرنا ہے، ایسا نہیں کہ تھوڑی دیر کے لیے کچھ وقت کے لیے یاد ہوا اور پھر بھول جائیں، نہیں، یہ ہر وقت آپ کو یاد ہونا چاہیے کیونکہ اس کے اندر وہ آٹھ کی آٹھ وحدتیں اکٹھی بیان کی گئی ہیں۔ یہ دو شعر آپ یاد کر لیں گے تو آپ کو وہ آٹھ وحدتیں زبانی یاد ہو جائیں گی، باقی تفصیل پھر آپ خود آرام سے بیان کر سکتے ہیں۔
آگے دیکھیے کتاب پر: جب دو قضیے ایسے ہوں کہ ایک موجبہ ہو، دوسرا سالبہ۔ میں نے بھی کیا بتایا تھا؟ تناقض میں کیا ضروری؟ ایک قضیہ موجبہ ہو تو دوسرا سالبہ، تو یہی کہہ رہا، یہی بیان کر رہے ہیں: جب دو قضیے ایسے ہوں کہ ایک موجبہ ہو دوسرا سالبہ اور ان میں یہ بات بھی ہو کہ اگر ایک کو سچا کہیں تو دوسرے کو ضرور جھوٹا کہنا پڑے، تو ان دونوں کے ایسے اختلاف کو تناقض کہتے ہیں۔ ایک کو اگر سچا کہیں تو دوسرے کو، توجہ ہے سبق کی طرف؟ ایک کو اگر کیا کہیں؟ سچا، تو دوسرے کو ضرور جھوٹا کہنا پڑے تو ایسے اختلاف کو تناقض کہتے ہیں۔ اور ان میں سے ہر ایک قضیے کو دوسرے کی نقیض اور دونوں کو نقیضین کہتے ہیں۔ یہاں تک بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟
جیسے "زید عالم ہے" اور "زید عالم نہیں ہے"، یہ دونوں قضیے ایسے ہیں کہ اگر ان میں سے ایک سچا ہو گا تو دوسرا جھوٹا ہو گا، ان کے اس اختلاف کو تناقض کہتے ہیں۔ جن دو قضیوں میں تناقض ہوتا ہے وہ دونوں ایک دم سے نہ جمع ہو سکتے ہیں اور نہ دونوں علیحدہ ہو سکتے ہیں۔ ایک دم سے یعنی ایک وقت میں، ایک وقت میں۔ تو دونوں ایک دم سے یعنی ایک وقت میں نہ جمع ہو سکتے ہیں، کیا معنی جمع ہو سکتے ہیں؟ دونوں سچے ہو جائیں، دونوں سچے ہو جائیں ایسا نہیں ہو سکتا، اور نہ دونوں علیحدہ ہو سکتے ہیں کہ دونوں ہی کیا ہو جائیں؟ جھوٹے ہو جائیں، دونوں ہی اٹھ جائیں، ایسا بھی نہیں ہو سکتا۔ مثلاً دیکھیے کتاب پر، مثلاً مثالِ مذکور میں "زید عالم ہو اور عالم نہ ہو" یہ نہیں ہو سکتا۔ یعنی عالم بھی ہو اور عالم نہ بھی ہو ایسا نہیں ہو سکتا، یعنی دونوں سچے نہیں ہو سکتے۔ اور نہ یہ ہو سکتا ہے کہ زید نہ تو عالم ہو اور نہ عالم نہ ہو، یعنی عالم ہونے کی بھی نفی ہو جائے اور عالم نہ ہونے کی بھی نفی ہو جائے، یعنی دونوں اٹھ جائیں، دونوں جھوٹے ہو جائیں، یہ بھی نہیں ہو سکتا۔
آگے دیکھیے کتاب پر: دو قضیہ مخصوصہ، قضیہ مخصوصہ کسے کہتے ہیں بھئی پہلے ادھر دیکھیے؟ قضیہ مخصوصہ کسے کہتے ہیں؟ جس کا موضوع کوئی معین ذات اور معین چیز ہو۔ اب آئیے کتاب پر: دو قضیہ مخصوصہ یعنی جن کا موضوع خاص شخص ہو، ان میں تناقض جب ہو گا جبکہ وہ دونوں آٹھ چیزوں میں متفق ہوں، آٹھ چیزوں میں ان میں کیا ہو؟ اتفاق ہو۔ یہ وہ وحداتِ ثانیہ کا ذکر آ رہا ہے، آٹھ چیزیں بھئی، ان کو کیا کہتے ہیں؟ وحداتِ ثمانیہ۔ ثمانیہ آٹھ کو کہتے ہیں عربی میں، اور وحدت کی جمع ہے وحدات، تو وحداتِ ثمانیہ، آٹھ وحدتوں کا ہونا ضروری ہے۔ اور وہ آٹھ وحدتیں کون سی ہیں؟ وہ جب آپ وہ دو شعر یاد کر لیں گے آپ کو ساری یاد ہو جائیں گی بھئی۔
اب آئیے ان میں سے ایک ایک کو سمجھتے جائیں، آسان ہے بھئی۔ ادھر دیکھیے بھئی، ادھر دیکھیے، دو قضیوں میں تناقض تب ہو گا جب کتنی چیزوں میں وحدت پائی جائے؟ آٹھ چیزوں میں، یعنی وحدت پائی جائے یعنی آٹھ چیزیں ایک جیسی ہونی چاہئیں دونوں قضیوں کے اندر، موجبہ میں بھی اور سالبہ میں بھی۔ وہ آٹھ چیزیں کون سی ہیں؟ یاد رکھیے پہلی چیز ہے موضوع، دونوں کا موضوع ایک ہونا چاہیے۔ جیسے "زید عالم ہے"، "زید عالم نہیں ہے"، دیکھو دونوں کا موضوع کیا ہے؟ زید ہے، تو دیکھو موضوع کے اندر وحدت پائی گئی۔ تو "زید عالم ہے" اور "زید عالم نہیں ہے" ان دونوں قضیوں میں کیا ہے؟ تناقض ہے، کیا ہے؟ تناقض ہے، کیونکہ ان کا موضوع ایک ہے۔ موضوع بدل دو، آپ دیکھیں گے تناقض ختم ہو جائے گا۔ "زید عالم ہے"، "عمر عالم نہیں ہے"، اب کوئی ٹکراؤ ہے؟ نہیں، میں نے عالم ہونے کی بات کی وہ زید کی کی، اور عالم نہ ہونے کی بات کی وہ کس کے بارے میں کی؟ عمر، اب کوئی ٹکراؤ نہیں۔ تو دیکھا، تناقض کے لیے کیا ضروری ہے؟ کیا بات ہے، تو پریشان کیوں بیٹھا ہوا ہے؟ اچھی طرح سبق سمجھو، توجہ سے بیٹھو، سمجھ میں آئی بات؟ میں اتنی تفصیل کر رہا ہوں آپ کے لیے کر رہا ہوں، میرا کوئی مقصد نہیں ہے اس میں، زیادہ تفصیل جب میں کرتا ہوں مقصد یہ ہوتا ہے آپ کے ذہن میں بالکل بات جم جائے، اچھی طرح آپ کو سمجھ میں آ جائے، کل جب آپ کسی کے سامنے بیان کریں وہ حیران ہو، اچھا بھئی اس کو تو بہت زبردست یہ چیز آتی ہے۔ یہ ابھی یاد کر لیں گے اگلے سال آپ دیکھ لیں گے، جگہ جگہ ساتھیوں میں کہیں بات ہوتی ہے کچھ ہوتی ہے، آپ دیکھیں گے آپ سب سے بہتر اس کو بیان کر سکتے ہیں، شوق سے بیٹھو اور توجہ سے بیٹھو بھئی۔
تو ان دو قضیوں میں کیا ہے آپس میں؟ تناقض ہے، اور تناقض کے لیے کیا ضروری ہے کہ دونوں کے موضوع ایک ہونا چاہیے، موضوع میں وحدت ہونی چاہیے۔ اگر وحدت نہیں تو پھر دونوں سچے بھی ہو سکتے ہیں اور دونوں جھوٹے بھی ہو سکتے ہیں۔ سچے بھی ہو سکتے ہیں، جیسے "زید عالم ہے"، "عمر عالم نہیں ہے"، دونوں ہو سکتا ہے سچے ہیں، دونوں سچے ہو سکتے ہیں۔ زید عالم ہے، اور عمر عالم نہیں ہے، دونوں سچے ہوں، عالم ہونے کی بات ہوئی تو کس کی؟ زید کی، اور عالم نہ ہونے کی بات ہوئی کس کی؟ عمر کی، تو دونوں سچے ہو سکتے ہیں۔ اور ہو سکتا ہے دونوں ہی جھوٹے ہوں، آپ نے کہا "زید عالم ہے" ہو سکتا ہے وہ عالم نہ ہو، اور آپ نے کہا "عمر عالم نہیں ہے" ہو سکتا ہے عمر کیا ہو؟ عالم، تو دونوں جھوٹے بھی ہو گئے یا نہیں؟ تو دونوں کے سچے ہونے کا بھی احتمال اور دونوں کے جھوٹے ہونے کا بھی احتمال، حالانکہ تناقض میں ایک سچا ہوتا ہے اور ایک جھوٹا، نہ دونوں جھوٹے ہو سکتے ہیں نہ دونوں سچے ہو سکتے ہیں۔ تو معلوم ہوا تناقض کے لیے کیا ضروری؟ موضوع میں وحدت ضروری۔
دوسری وحدت جو ہے وہ محمول کے اندر ہے۔ دونوں کا محمول ایک ہونا چاہیے۔ میں نے کہا "زید عالم ہے" اور پھر کہا "زید عالم نہیں ہے"، تو میں نے زید کے لیے، "زید عالم ہے" زید کے لیے کس چیز کا اثبات کیا؟ عالم ہونے کا، اور میں نے کہا "زید عالم نہیں ہے" میں نے زید سے کس چیز کی نفی کی؟ عالم ہونے کی، تو پہلے میں عالم ہونے کا اثبات کیا، دوسرے میں عالم ہونے کی نفی کی، تو محمول دونوں کا ایک ہے۔ پہلے کا محمول بھی عالم، دوسرے کا محمول بھی عالم، تو پھر معلوم ہوا دو قضیوں میں تناقض تب ہو گا جب ان کا موضوع بھی کیا ہو؟ ایک ہو، اور دونوں کا محمول بھی ایک ہو یعنی اس میں بھی وحدت ہو۔ "زید عالم ہے"، "زید عالم نہیں ہے"، موضوع بھی ایک اور محمول بھی ایک، اس لیے تناقض ہے۔ اگر محمول بدل دو تناقض ختم ہو جائے گا۔ محمول کیا کرو؟ بدل دو، محمول بدل دو تو تناقض کیا ہو جائے گا؟ ختم، دیکھو دیکھو ادھر دیکھیے بھئی، "زید عالم ہے"، "زید عالم نہیں ہے"، تناقض ہے کہ نہیں؟ تناقض ہے۔ پھر دیکھو، "زید عالم ہے"، "زید عالم نہیں ہے"، تناقض ہے کہ نہیں؟ تناقض ہے، کیونکہ پہلے میں عالم ہونے کا اثبات ہے تو دوسرے میں عالم ہونے کی نفی، یعنی دونوں کا محمول ایک ہے۔ محمول کو ذرا بدل دو: "زید عالم ہے"، "زید جاہل نہیں ہے"، دوسرے میں میں نے عالم کی جگہ جاہل محمول لے آیا۔ اب دیکھو، "زید عالم ہے" اس کا کیا معنی؟ زید جاننے والا ہے۔ اور "زید جاہل نہیں ہے" اس کا بھی کیا معنی؟ زید جاننے والا ہے۔ تو دونوں سچے ہو سکتے ہیں یا نہیں؟ اگر زید عالم ہے تو دونوں سچے، اور اگر زید عالم نہیں ہے تو "زید عالم ہے" یہ پہلا بھی جھوٹا، اور "زید جاہل نہیں ہے" یہ بھی جھوٹا کیونکہ زید تو جاہل ہے۔ تو دونوں کیا ہو سکتے ہیں؟ جھوٹے بھی ہو سکتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا دو قضیوں کے اندر تناقض میں کیا ضروری کہ دونوں کا موضوع بھی ایک ہو اور دونوں کا محمول بھی ایک ہو۔ موضوع اگر الگ الگ ہوا تو بھی تناقض نہ رہے گا، محمول اگر الگ الگ ہوا تو بھی تناقض نہ رہے گا۔
قیمتی بحث چل رہی ہے بھئی، یاد رکھیے یہ بحث آپ کو گفتگو میں جگہ جگہ بہت کام آئے گی۔ عموماً باتوں کے اندر لوگ کہہ دیتے ہیں ایک دوسرے کو آپ کی باتوں میں ٹکراؤ ہے، آپ کی باتوں میں ٹکراؤ، تو یہ آپ فوراً اس کو جواب دے سکتے ہیں کہ بھئی ٹکراؤ کے لیے آٹھ شرطیں علمائے منطق نے بیان کی ہیں، میری باتوں میں کوئی ٹکراؤ نہیں، میں نے پہلی بات کی اس اعتبار سے اور دوسری بات کی اس اعتبار سے، تو دونوں میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ تو ٹکراؤ کب پایا جائے گا جب آٹھ چیزیں ایک جیسی ہوں گی، ان میں سے دو چیزیں آپ نے پڑھ لیں: پہلی کیا چیز پڑھی؟ کہ دونوں کا موضوع میں وحدت ہونی چاہیے، نیز دونوں کے محمول میں وحدت ہونی چاہیے۔
تیسری چیز بھئی، دونوں قضیوں میں مکان ایک ہی ذکر ہونا چاہیے۔ مکان کا معنی جگہ، جگہ۔ دونوں قضیوں میں مکان ایک ہونا چاہیے یعنی مکان میں وحدت ہونی چاہیے۔ مثلاً میں کہتا ہوں: "زید گھر میں بیٹھتا ہے" اور پھر میں کہتا ہوں "زید گھر میں نہیں بیٹھتا"، تو دونوں میں تناقض ہے۔ دونوں میں کیا ہے؟ کیونکہ پہلے کے اندر گھر میں بیٹھنے کا اثبات ہے اور دوسرے میں گھر کے اندر بیٹھنے کی نفی ہے۔ تو دیکھیے، تو دونوں قضیوں میں تناقض ہے، ایک میں زید کے لیے گھر میں بیٹھنے کا اثبات ہے اور دوسرے میں زید سے گھر میں بیٹھنے کی نفی۔ تو دونوں کی، میں جگہ ایک ہی ذکر ہو رہی ہے، پہلے میں بھی گھر کے اندر بیٹھنے کا ذکر اور دوسرے میں بھی گھر کے اندر، تو دونوں میں جگہ ایک ہی ہے اس لیے دونوں میں تناقض ہے۔ "زید گھر میں بیٹھتا ہے"، "زید گھر میں نہیں بیٹھتا"، دیکھو دونوں باتوں میں ٹکراؤ ہے، ایک وقت میں تو ایک ہی ہو سکتی ہے، یا وہ بیٹھتا ہے یا نہیں بیٹھتا، یہ تو نہیں ہو سکتا کہ دونوں سچی ہو جائیں۔ دونوں سچی بھی نہیں ہو سکتیں اور دونوں جھوٹی بھی نہیں، ایک ضرور سچ ہے، یا وہ گھر میں بیٹھتا ہے یا وہ گھر میں نہیں بیٹھتا، ایک سچ ہے اور ایک جھوٹ ہے۔ ہاں، اگر اس میں جگہ کو بدل دیں پھر تناقض ختم ہو جائے گا۔ "زید گھر میں بیٹھتا ہے"، "زید مسجد میں نہیں بیٹھتا"، اب کوئی ٹکراؤ نہیں، بیٹھنے کی بات ہو رہی ہے تو کہاں پر؟ گھر میں، اور نہ بیٹھنے کی بات ہو رہی ہے تو کہاں پر؟ مسجد میں، جگہیں ہی الگ ہیں اور دونوں سچ ہو سکتے ہیں یا نہیں؟ گھر میں بیٹھتا اور مسجد میں نہ بیٹھتا ہو تو تناقض تو ختم ہو گیا۔ لہٰذا تناقض کے لیے تیسری شرط کیا ہے؟ تیسری وحدت کون سی ضروری ہے؟ جگہ بھی دونوں میں ایک ہو۔ جگہ بھی دونوں میں ایک ہو۔
چوتھی چیز یہ ہے کہ دونوں قضیوں کا زمانہ بھی ایک ہو۔ اگر زمانہ ایک نہیں ہو گا تو تناقض نہ رہے گا۔ مثلاً میں کہتا ہوں: "زید رمضان میں روزے رکھتا ہے" اور پھر کہتا ہوں "زید رمضان میں روزے نہیں رکھتا"، اب دونوں میں ٹکراؤ ہے، کیونکہ روزے رکھنے کا ذکر کس میں ہے؟ رمضان میں، اور روزے نہ رکھنے کا ذکر بھی کس میں ہے؟ رمضان میں ہے، تو دونوں میں ٹکراؤ ہے بھئی۔ کیونکہ زمانہ ایک ہے۔ آپ کہیں گے بھئی ایک بات ہو سکتی ہے، یا وہ رمضان میں روزے رکھتا ہے یا وہ رمضان میں روزے نہیں رکھتا، دونوں تو نہیں ہو سکتی کہ رکھتا بھی ہے اور نہیں۔ ہاں، اس میں آپ زمانہ بدل دیں تو دیکھیں گے تناقض ختم ہو جائے گا۔ تناقض کیا ہے؟ ختم۔ مثلاً میں کہتا ہوں: "زید رمضان میں روزے رکھتا ہے"، "زید شوال میں روزے نہیں رکھتا"، اب ٹکراؤ ختم ہو گیا، دونوں باتیں سچ ہو سکتی ہیں، رمضان میں روزے رکھتا ہو اور شوال میں روزے نہ رکھتا ہو، دیکھو مہینہ بدل گیا، ایک میں رمضان کے مہینے کا ذکر ہے تو دوسرے میں شوال کے مہینے کا ذکر ہے، زمانہ بدل گیا تو تناقض بھی کیا ہوا؟ ختم ہو گیا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟
اب ذرا کتاب پر دیکھ لیجیے بھئی۔ دوبارہ دیکھیے بھئی آخری سطر جو ہم نے پڑھی تھی: دو قضیہ مخصوصہ یعنی جن کا موضوع خاص شخص ہو، ان میں تناقض جب ہو گا جبکہ وہ دونوں آٹھ چیزوں میں متفق ہوں۔ اول: موضوع دونوں کا ایک ہو، اگر موضوع بدلے گا تو تناقض نہ ہو گا، جیسے "زید کھڑا ہے"، "زید کھڑا نہیں"، ان دونوں میں تناقض ہے۔ اور "زید کھڑا ہے"، "عمر کھڑا نہیں"، دیکھا موضوع بدل دیا۔ تو ان دونوں میں تناقض نہیں ہے، دونوں قضیے سچے ہو سکتے ہیں۔ دوسرے: محمول دونوں کا ایک ہو، اگر محمول ایک نہ ہو گا تو تناقض نہ ہو گا، جیسے "زید کھڑا ہے"، "زید بیٹھا نہیں ہے"، ان دونوں میں تناقض نہیں ہے۔ کیونکہ محمول بدل دیا، پہلے میں ادھر دیکھیے، پہلے میں کیا کہا: "زید کھڑا ہے"، دوسرے میں کہا: "زید بیٹھا نہیں ہے"، تو اثبات تھا کھڑے ہونے کا اور نفی ہے کس کی؟ بیٹھنے کی، تو دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔ "زید کھڑا ہے" فرض کرو اگر زید کھڑا ہے، حقیقت میں زید کیا ہے؟ کھڑا ہے، اور اب آپ کہہ رہے ہیں: "زید کھڑا ہے"، یہ بات سچی ہے یا جھوٹی؟ سچی ہے، جب وہ حقیقت میں کھڑا ہے اور آپ بھی کیا کہہ رہے ہیں؟ "زید کھڑا ہے" تو یہ بات کیا ہوئی؟ سچی، اور پھر آپ کہتے ہیں: "زید بیٹھا نہیں ہے" یہ بھی کیا ہوئی؟ سچی ہو گئی، دونوں سچی ہو گئیں یا نہیں؟ اور اگر وہ بیٹھا ہوا ہے پھر دونوں باتیں کیا ہو جائیں گی؟ جھوٹی ہو جائیں گی، حالانکہ تناقض میں تو کیا ضروری؟ ایک سچی ہو تو دوسری جھوٹی ہو، تو دونوں کا محمول ایک ہونا چاہیے۔ اب آگے پھر کتاب پر دیکھیے: تیسرے وہ دونوں قضیے مکان میں متفق ہوں یعنی دونوں کا مکان ایک ہو، مکان یعنی جگہ، دونوں کا مکان ایک ہو اگر مکان ایک نہ ہو گا تو تناقض نہ ہو گا۔ بھئی اردو میں تو مکان گھر کو کہتے ہیں نا، اردو میں مکان گھر، لیکن یہاں گھر نہیں یہ جگہ کے معنی میں ہے، عربی میں مکان کسے کہتے ہیں؟ جگہ کو۔ یعنی دونوں تو مکان کی جگہ جگہ لگاؤ پھر آپ کو بات صحیح سمجھ میں آئے گی، یعنی دونوں کی جگہ ایک ہو، اگر جگہ ایک نہ ہو گی تو تناقض نہ ہو گا۔ دیکھیے آگے کتاب پر: جیسے "زید مسجد میں بیٹھا ہے" اور "زید گھر میں نہیں بیٹھا"، ان دونوں میں تناقض نہیں ہے۔ کیوں نہیں ہے؟ کیونکہ مکان ایک نہیں، ایک میں مسجد میں بیٹھنے کا ذکر ہے اور دوسرے میں گھر میں بیٹھنے کی نفی ہے، تو دونوں میں تناقض نہیں ہے۔ چوتھے: دونوں قضیوں کا زمانہ ایک ہو، اگر زمانہ ایک نہ ہو گا تو تناقض نہ ہو گا، جیسے "زید دن کو کھڑا ہے" اور "زید رات کو کھڑا نہیں"، ان دونوں میں تناقض نہیں ہے۔ "زید دن کو کھڑا ہے"، "زید رات کو کھڑا نہیں"، تو کھڑے ہونے کا اثبات ہے کس زمانے میں؟ دن میں، اور کھڑے ہونے کی نفی ہے کس زمانے میں؟ رات میں، تو دونوں کا تو زمانہ ہی الگ ہے، اس میں تو کوئی ٹکراؤ ہے ہی نہیں۔ ہاں، اگر ایک ہی زمانہ ہوتا پھر تناقض تھا، جیسے "زید دن میں کھڑا ہے"، "زید دن میں کھڑا نہیں ہے"، تو ان میں پھر تناقض ہوتا بھئی۔
جی، آگے دیکھیے کتاب پر: "زید دن کو کھڑا ہے"، "زید رات کو کھڑا نہیں"، ان دونوں میں تناقض نہیں ہے، دونوں باتیں سچی ہو سکتی ہیں اور جھوٹی بھی ہو سکتی ہیں۔ دونوں ہی سچی ہو جائیں یہ بھی ممکن، اور دونوں ہی جھوٹی ہو جائیں یہ بھی ممکن، کیونکہ زمانہ الگ الگ ہے۔ ایک ہی زمانہ ہو تو پھر ایک سچی ہو گی اور ایک جھوٹی اور ان میں تناقض ہو گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے سب کو؟
اچھا، ادھر دیکھیے میری طرف بھئی، اگلی اگلی چار چیزیں جن میں اتفاق ضروری ہے۔ تو پانچویں چیز جو ہے قوت اور فعل ہے۔ پانچویں چیز کیا ہے؟ قوت اور فعل۔ قوت کا معنی ہے صلاحیت بھئی، صلاحیت۔ اور بالفعل کا معنی ہے کہ باقاعدہ ایک چیز اس وقت ہو رہی ہو تو اس کو کہیں گے بالفعل۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: "زید ضاحک ہے"، زید کیا ہے؟ ضاحک، ضاحک کا کیا معنی؟ ہنسنے والا۔ میں کہتا ہوں: "زید ضاحک ہے"، تو اس میرے کلام کے دو معنی ہو سکتے ہیں: یا تو میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ زید میں ہنسنے کی صلاحیت ہے، اس وقت تو وہ ہنس نہیں رہا لیکن اس میں ہنسنے کی صلاحیت ہے، تو اس کو کہیں گے بالقوہ کہ زید میں کیا ہے؟ زید ضاحک ہے بالقوہ یعنی اس میں ہنسنے کی صلاحیت ہے۔ تو زید اس وقت پھر دیکھیے، زید اس وقت بیٹھا ہے، ہنس نہیں رہا، لیکن میں کیا کہہ رہا ہوں: "زید ضاحک ہے بالقوہ"، کیا معنی؟ کہ زید میں ہنسنے کی صلاحیت ہے، یعنی اللہ نے صلاحیت رکھی ہے، ہنسنا چاہے تو ہنس سکتا ہے۔ تو اس صلاحیت کے لیے بالقوہ کا لفظ بولتے ہیں، کیا لفظ بولتے ہیں؟ بالقوۃ، گول تا ہے آخر میں بھئی، بالقوہ، تو وہ ہا بن جاتی ہے، بالقوہ۔ اور اگر زید اس وقت ہنس رہا ہے باقاعدہ، اب میں کہتا ہوں: "زید ضاحک ہے"، تو کہیں گے "زید بالفعل ضاحک ہے"، کیا ہے؟ یعنی اس فعل کو ابھی وہ کر رہا ہے، کون سا فعل؟ یہ ضحک والا، ہنسی والا۔ تو زید خاموش بیٹھا ہے اور میں نے کہا: "زید ضاحک ہے"، تو یہ کون سا ضاحک مراد ہوا؟ بالقوہ، اور زید اگر ہنس رہا ہے اور میں کہتا ہوں "زید ضاحک ہے"، یہ کون سا ضاحک مراد ہے؟ بالفعل، یعنی اس وقت وہ ہنس رہا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو بالقوہ کا معنی ہوتا ہے صلاحیت ہے ایک چیز میں اگرچہ اس وقت وہ یہ فعل کر نہیں رہی، لیکن اس میں اس چیز کی صلاحیت ہے۔ اور ایک چیز ایک فعل کو کر رہی ہو تو وہاں بالفعل کا لفظ بولتے ہیں۔ مثلاً میں کہتا ہوں: "زید ماشی ہے"، مشی یمشی کا معنی ہے چلنا یعنی پیدل پاؤں سے چلنا، "زید ماشی ہے"۔ میرے اس کلام کے دونوں معنی ہو سکتے ہیں، یا تو میرے کہنے کا مطلب کیا ہے؟ زید ماشی ہے بالقوہ، یعنی اس وقت تو بیٹھا ہوا ہے لیکن اس میں چلنے کی صلاحیت ہے، وہ چل سکتا ہے، اٹھ کر جا سکتا ہے، وہ پیدل چل سکتا ہے۔ اور اگر وہ واقعی میں پیدل چل رہا ہے اور میں کہتا ہوں "زید ماشی ہے"، یہ کون سا ماشی مراد ہوا؟ یہ بالفعل مراد ہوا۔ تو بالقوہ کا کیا معنی؟ اس میں چیز میں صلاحیت ہے اگرچہ اس وقت وہ یہ فعل کر نہیں رہی، اور بالفعل کا کیا معنی ہے؟ کہ وہ یہ فعل کر رہی ہے۔
تو ادھر دیکھیے بھئی، تو پانچویں وحدت بیان ہو رہی ہے۔ یاد رکھیے دو قضیوں میں تناقض تب ہو گا جب وہ قوت اور فعل میں متحد ہوں، ایک میں قوت کا ذکر ہے تو دوسرے میں بھی قوت کا ذکر ہو، ایک میں فعل کا ذکر ہے تو دوسرے میں بھی فعل کا ذکر ہو۔ اگر قوت اور فعل میں اتفاق، اتحاد نہیں تو پھر دونوں سچے بھی ہو سکتے ہیں اور دونوں دونوں جھوٹے بھی ہو سکتے ہیں۔ مثلاً دیکھیے، میں آپ سے کہتا ہوں: "زید ضاحک ہے" اور مراد لیتا ہوں بالقوہ، کیا مراد لیتا ہوں؟ یعنی اس وقت ہنس تو نہیں رہا لیکن اس میں ہنسنے کی صلاحیت ہے، تو میں کہتا ہوں "زید ضاحک ہے" اور پھر کہتا ہوں "زید ضاحک نہیں ہے"، یہاں بھی بالقوہ مراد لیتا ہوں۔ کیا مراد لیتا ہوں؟ بالقوہ۔ تو پہلے کا کیا معنی؟ "زید ضاحک ہے بالقوہ" یعنی اس میں ہنسنے کی صلاحیت ہے۔ دوسرے کا کیا معنی؟ "زید ضاحک نہیں ہے بالقوہ" یعنی اس میں ہنسنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ تو دیکھو دونوں میں تناقض ہے، آپ کہیں گے بھئی ایک بات کریں، دونوں تو سچی نہیں ہو سکتیں، یا تو اس میں ہنسنے کی صلاحیت ہے یا ہنسنے کی صلاحیت نہیں ہے، تو دونوں میں تناقض ہے کیونکہ قوت کے اندر دونوں متفق ہیں، متحد ہیں۔ اور اگر پہلے میں میں فعل مراد لیتا ہوں، مثلاً زید اس وقت ہنس رہا ہے، میں کہتا ہوں: "زید ضاحک ہے بالفعل" اور پھر کہتا ہوں "زید ضاحک نہیں ہے بالفعل"۔ تو "زید ضاحک ہے بالفعل"، کیا معنی؟ اس وقت ہنس رہا ہے۔ اور میں کہتا ہوں "زید ضاحک نہیں ہے بالفعل"، کیا معنی؟ اس وقت وہ نہیں ہنس رہا۔ آپ فوراً کہیں گے بھئی آپ کی باتوں میں ٹکراؤ ہے، دونوں نہیں ہو سکتی، بالفعل یا تو وہ ضاحک ہو گا یا ضاحک نہیں ہو گا، دونوں کام ایک ایک وقت میں نہیں ہو سکتے بھئی۔ تو دیکھا، تو دونوں قضیوں میں تناقض ہے، کیوں تناقض ہے؟ کیونکہ دونوں فعل میں متحد ہیں، پہلے میں فعل کا اثبات ہے تو دوسرے میں فعل کی نفی ہے۔ ہاں، قوت اور فعل بدل دو پھر آپ دیکھیں تناقض ختم ہو جائے گا۔ زید خاموش بیٹھا ہے، زید ہنس نہیں رہا، میں کہتا ہوں: "زید ضاحک ہے بالقوہ"، "زید ضاحک ہے بالقوہ"، کیا معنی؟ ہنسنے کی صلاحیت، ہنس نہیں رہا لیکن اس میں ہنسنے کی صلاحیت ہے۔ تو "زید ضاحک ہے بالقوہ"، دوسرے میں کہتا ہوں: "زید ضاحک نہیں ہے بالفعل"، زید، توجہ ہے ادھر؟ "زید ضاحک نہیں ہے بالفعل"، کیا معنی؟ اس وقت ہنس نہیں رہا۔ جب میں نے پہلا جملہ کہا: "زید ضاحک ہے بالقوہ"، اس وقت ہنس رہا ہے؟ نہیں، اس وقت نہیں ہنس رہا، اس لیے میں نے کہا بالقوہ، "زید ضاحک ہے بالقوہ"، معلوم ہوا اس وقت نہیں ہنس رہا، تو پہلا قضیہ کیا ہوا؟ سچ ہے یا جھوٹ ہے؟ سچ ہے۔ اور دوسرا میں نے کہا: "زید ضاحک نہیں ہے بالفعل"، یہ بھی سچ ہو گیا، دیکھا؟ قوت اور فعل کو بدلا تو دونوں سچے ہو گئے، زید اس وقت نہیں ہنس رہا تو بالقوہ یہ ضاحک ہے، اور بالفعل یہ ضاحک نہیں ہے، دونوں سچے ہو گئے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا دو قضیوں کے اندر تناقض تب ہو گا جب وہ قوت اور فعل میں متحد ہوں، اگر قوت اور فعل میں اختلاف ہو تو پھر دونوں میں تناقض نہ رہے گا۔
یا دوسری مثال جو کتاب میں انہوں نے ذکر کی ہے وہ بھی سمجھ لو۔ مثلاً ایک بوتل شراب کی پڑی ہوئی ہے، آپ کہتے ہیں: یہ شراب نشہ آور ہے بالقوہ۔ یہ شراب کیا ہے؟ بالقوہ، کیا معنی؟ اس میں نشہ لانے کی صلاحیت ہے، لیکن اس وقت تو بوتل میں بند ہے، اس وقت تو کسی کو نشہ اس نے نہیں دیا، تو اس میں البتہ نشہ لانے کی، تو یہ شراب نشہ آور ہے بالقوہ۔ اور پھر اسی شراب کے بارے میں میں کہتا ہوں: یہ شراب نشہ آور نہیں ہے بالقوہ، کیا معنی؟ اس میں نشہ لانے کی صلاحیت نہیں، دیکھو دونوں میں تناقض ہے، آپ کہیں گے بھئی ایک ہی بات آپ کر رہے ہیں، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ نشہ لانے والی بھی ہو اور نشہ نہ لانے والی بھی ہو۔ اور یاد رکھو، یہ جو بالقوہ اور بالفعل ہے اس کو لفظوں میں ذکر نہیں کرتے، سننے والا خود سمجھ جاتا ہے۔ میں کہتا ہوں: زید، زید خاموش بیٹھا ہے، ہنس نہیں رہا اور میں کہتا ہوں: "زید ضاحک ہے"، میں کیا کہتا ہوں؟ زید تو نہیں ہنس رہا لیکن میں کیا کہہ رہا ہوں: "زید ضاحک ہے"، آپ سمجھ گئے، یہ کون سا ضاحک مراد ہے؟ معلوم ہوا بالقوہ والا مراد ہے، بالفعل والا مراد نہیں۔ اور زید ہنس رہا ہے اور میں کہتا ہوں: "زید ضاحک ہے"، آپ سمجھ گئے یہ کون سا ضاحک مراد ہے؟ یہ بالفعل مراد ہے۔ بات سمجھ میں آئی؟ سب کی توجہ ہے؟ یہ بالقوہ اور بالفعل کو عموماً ذکر نہیں کیا جاتا، سننے والا خود سمجھ جاتا ہے۔
تو میں نے کہا: یہ جو بوتل میں شراب ہے یہ نشہ آور ہے، اور پھر میں نے کہا: یہ جو بوتل میں شراب ہے یہ نشہ آور نہیں ہے، تو دونوں میں تناقض تب ہو گا جبکہ دونوں طرف قوت مراد ہو یا دونوں طرف فعل مراد ہو۔ تو دونوں میں تناقض کب ہو گا؟ جب دونوں طرف قوت مراد ہو یا دونوں طرف فعل مراد ہو۔ اگر ایک طرف قوت مراد ہے اور ایک طرف فعل مراد ہے تو پھر دونوں سچے بھی ہو سکتے ہیں اور دونوں جھوٹے بھی ہو سکتے ہیں، دونوں احتمال ہیں۔ میں نے کہا یہ بوتل، یہ جو شراب ہے بوتل میں یہ نشہ آور ہے، اور میں کہتا ہوں یہ بوتل میں جو شراب ہے یہ نشہ آور نہیں ہے، اگر میں دونوں جگہ بالقوہ مراد لوں تو تناقض ہے، آپ کہیں گے یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اس میں شراب، نشہ لانے کی صلاحیت ہے آپ پہلے کہہ رہے ہیں، پھر کہہ رہے ہیں اس میں نشہ لانے کی صلاحیت نہیں، دونوں باتیں نہیں ہو سکتیں، ایک بات ہو گی۔ لیکن اگر میں بدل دوں، مثلاً میں کیا کہوں؟ اس بوتل کی شراب نشہ آور ہے بالقوہ، اور پھر کہوں نہیں، بالقوہ بالفعل کو میں ذکر ہی نہیں کرتا، میں کہتا ہوں: اس بوتل کی شراب نشہ آور ہے، پھر میں کہتا ہوں اس بوتل کی شراب نشہ آور نہیں ہے۔ ایک آدمی فوراً اعتراض کرتا ہے کہ آپ کی باتوں میں تو تناقض ہے، میں کہتا ہوں نہیں، کدھر تناقض ہے؟ اس نے کہا پہلے آپ نے کہا اس بوتل کی شراب نشہ آور ہے، اب کہہ رہے ہو نشہ آور نہیں۔ میں کہوں گا بھئی، میں نے جب کہا تھا نا یہ بوتل کی شراب نشہ آور ہے تو مراد یہ تھا بالقوہ، اس میں صلاحیت ہے، اور آپ مانتے ہیں یا نہیں؟ وہ کہے گا ہاں یہ تو ہم مانتے ہیں۔ اچھا، پھر میں نے جب کہا تھا نشہ آور نہیں ہے تو میری مراد یہ تھی کہ بالفعل یعنی اس وقت یہ نشہ کسی کو نہیں دے رہی کیونکہ کہاں پر بند ہے؟ بوتل کے اندر یہ بند ہے، تو یہ بات بھی دیکھو سچی ہو گئی۔ تو پہلی میں میری قوت مراد تھی اور دوسری میں فعل مراد تھا، اور لہٰذا دونوں قضیے کیا ہو سکتے ہیں؟ سچے ہو سکتے ہیں۔ بات سمجھ بھی آئی؟ تو کیا ضروری ہے دو قضیوں کے اندر تناقض میں؟ کہ قوت اور فعل میں دونوں کیا ہوں؟ متحد ہوں، متحد ہوں۔
چھٹی شرط یہ ہے، دونوں قضیوں کے اندر تناقض کے لیے چھٹی شرط یہ ہے کہ دونوں میں شرط ایک ہو۔ دونوں میں شرط ایک ہو، اگر شرط بدل گئی تو تناقض نہ رہے گا۔ مثلاً میں کہتا ہوں: زید کی انگلیاں ہلتی ہیں اگر وہ لکھتا ہے، زید کی انگلیاں ہلتی ہیں اگر وہ لکھتا ہے، اور پھر کہتا ہوں: زید کی انگلیاں نہیں ہلتیں اگر وہ لکھتا ہے۔ پہلے کیا تھا؟ انگلیاں ہلتی ہیں اگر وہ لکھتا ہے، اور پھر کیا؟ انگلیاں نہیں ہلتیں اگر وہ لکھتا ہے۔ آپ کہیں گے آپ کی باتوں میں ٹکراؤ ہے، تناقض ہے، کیونکہ دونوں میں شرط ایک ہے۔ پہلے میں کہہ رہے ہیں لکھتے ہوئے انگلیاں ہلتی ہیں، دوسرے میں کہہ رہے ہیں لکھتے ہوئے انگلیاں نہیں ہلتیں، یہ تو دونوں نہیں ہو سکتے، ایک وقت میں ایک ہی چیز ہو سکتی ہے۔ تو دونوں میں شرط ایک ہے۔ زید کی انگلیاں ہلتی ہیں اگر، اگر کس لیے آتا ہے؟ شرط کے لیے نا۔ زید کی انگلیاں ہلتی ہیں اگر وہ لکھتا ہے، زید کی انگلیاں نہیں ہلتیں اگر وہ لکھتا ہے، تو شرط ایک ہے اس لیے تناقض ہے۔ شرط بدل دو تو تناقض ختم ہو جائے گا۔ زید کی انگلیاں ہلتی ہیں اگر وہ لکھتا ہے، زید کی انگلیاں نہیں ہلتیں اگر وہ پڑھتا ہے۔ پہلے میں شرط کیا تھی؟ اگر وہ لکھتا ہے، اب میں نے شرط بدل دی دوسرے میں: اگر وہ پڑھتا ہے۔ اب دونوں باتیں سچی ہو سکتی ہیں۔ کیا؟ زید کی انگلیاں ہلتی ہیں اگر وہ لکھتا ہے، تو لکھتے ہوئے انگلیاں ہلتی ہیں۔ اور زید کی انگلیاں نہیں ہلتیں اگر وہ پڑھتا ہے، پڑھتے ہوئے انگلیاں نہیں ہلتیں، تو دونوں سچے ہو سکتے ہیں یا نہیں؟ کیوں سچے ہو گئے؟ کیونکہ دونوں میں شرط بدل گئی۔ تو تناقض کے لیے چھٹی شرط کیا ہے؟ کہ دونوں قضیوں میں شرط ایک ہونی چاہیے پھر تناقض ہو گا، اگر شرط بدل جائے گی تو پھر تناقض نہ رہے گا۔
یا جیسے مثلاً میں کہتا ہوں: زید روزے رکھتا ہے اگر رمضان کا مہینہ ہو، اگر رمضان، زمانے کا نام ہے نا لیکن اب میں اسی کو شرط کی شکل میں لے آیا، کس شکل میں؟ "اگر" کا لفظ لا رہا ہوں اگر: زید روزے رکھتا ہے اگر رمضان کا مہینہ ہو، اور آگے کہوں: زید روزے نہیں رکھتا اگر رمضان کا مہینہ ہو، تو دونوں میں شرط ایک ہے لہٰذا تناقض ہے۔ اور اگر شرط بدل دیں تو تناقض ختم ہو جائے گا۔ ادھر دیکھو، زید روزے رکھتا ہے اگر رمضان کا مہینہ ہو، زید روزے نہیں رکھتا اگر شعبان کا مہینہ ہو۔ اب تو دونوں سچے ہو سکتے ہیں، زید رمضان کے مہینے میں روزے رکھتا ہے اور شعبان کے مہینے میں روزے نہیں رکھتا، تو تناقض ختم، کیوں ختم ہوا؟ کیونکہ دونوں میں شرط کیا ہوئی؟ شرط بدل گئی، شرط میں بھی وحدت ضروری ہے پھر ہی تناقض ہو گا۔
تو کتنی چیزیں اب تک ہم نے پڑھ لیں؟ چھ، آٹھ ہیں آٹھ وحدتیں، چھ وحدتیں ہم نے پڑھ لیں۔ پہلی وحدت کس چیز میں وحدت ضروری؟ موضوع میں۔ دوسرا؟ محمول میں وحدت دونوں قضیوں کے ضروری۔ تیسرا؟ مکان یعنی جگہ کے اندر دونوں میں وحدت ضروری۔ چوتھا؟ چوتھا زمانہ، زمانے کے اندر وحدت ضروری۔ پانچواں؟ قوت اور فعل میں وحدت ضروری، اور چھٹا؟ شرط، شرط کے اندر وحدت ضروری ہے۔
چلیے یہاں تک ذرا پہلے کتاب میں پڑھ لیجیے بھئی۔ دیکھیے کتاب پر: پانچویں قوت اور فعل میں دونوں قضیے ایک ہوں، یعنی ایک قضیے میں اگر یہ بات ثابت کی گئی ہو کہ محمول بالفعل موضوع کے لیے ثابت ہے، تو دوسرے میں یہ بات ثابت کی گئی ہو کہ محمول موضوع کے لیے بالفعل ثابت نہیں، یعنی ایک میں بالفعل کا ذکر ہے تو دوسرے میں بھی کس کا ذکر ہو؟ بالفعل کا۔ آگے دیکھیے کتاب پر: اسی طرح اگر ایک قضیے میں یہ بات ثابت کی گئی ہو کہ محمول موضوع کے لیے بالقوہ ثابت ہے یعنی اس میں یعنی اس میں محمول کے ثابت ہونے کی استعداد و لیاقت ہے، استعداد اور لیاقت دونوں کا معنی ہے صلاحیت، صلاحیت۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ استعداد کا بھی کیا معنی؟ صلاحیت۔ لیاقت کا بھی کیا معنی؟ صلاحیت۔ تو یعنی اس میں محمول کے ثابت ہونے کی استعداد و لیاقت ہے، تو دوسرے قضیے میں یہ بات ہو کہ محمول موضوع کے لیے بالقوہ ثابت نہیں یعنی موضوع میں محمول کے ثابت ہونے کی استعداد و لیاقت نہیں ہے، تب تناقض ہو گا ورنہ نہ ہو گا۔ کہنا یہ وہی بات کہنا چاہتے ہیں جو میں نے کی تھی کہ دونوں میں یا بالفعل کا ذکر ہو یا دونوں میں بالقوہ کا، بالقوہ کا ذکر ہو۔ جیسے یوں کہیں کہ اس بوتل میں جو شراب ہے اس میں نشہ لانے کی قوت ہے اور یہ شراب جو اسی بوتل میں ہے بالفعل نشہ لانے والی نہیں، تو دونوں قضیوں میں تناقض نہ ہو گا۔
توجہ ہے؟ پہلا کیا ذکر کیا انہوں نے کتاب میں؟ کہ اس بوتل میں جو شراب ہے اس میں نشہ لانے کی قوت ہے یعنی صلاحیت ہے، اور دوسرے میں ہے بالفعل نشہ لانے والی نہیں، تو ایک میں کس کا ذکر کیا؟ قوت کا، صلاحیت کا، اور دوسرے میں بالفعل نشہ لانے کی نفی کی، تو ان دونوں میں قضیوں میں تناقض نہیں ہو گا۔ بات سمجھ بھی آ رہی ہے کہ نہیں؟ آگے دیکھیے کتاب پر، تو کہتے ہیں: تو ان دونوں قضیوں میں تناقض نہ ہو گا اس لیے کیونکہ دونوں قضیے سچے ہیں۔ ہاں اگر یوں کہیں کہ اس بوتل کی شراب میں نشہ لانے کی قوت ہے اور اس بوتل کی شراب میں نشہ لانے کی قوت نہیں ہے تو تناقض ہو گا، تو کیونکہ دونوں طرف قوت اور صلاحیت کا ذکر ہے۔ آگے دیکھیے کتاب پر: اس لیے کہ یہ دونوں باتیں ایک دم سے سچی نہیں ہو سکتیں، نشہ لانے کی قوت ہو بھی اور نشہ لانے کی قوت نہ ہو، یا یوں کہیں کہ اس بوتل کی شراب بالفعل نشہ لانے والی ہے اور اس بوتل کی شراب بالفعل نشہ لانے والی نہیں ہے، تو دیکھو دونوں میں کیا ذکر ہے؟ بالفعل، تو اب تناقض آئے گا، تو تب بھی تناقض ہو گا اس لیے کیونکہ یہ دونوں باتیں بھی سچی نہیں ہو سکتیں۔
چھٹے: دونوں قضیوں میں شرط ایک ہو، اگر شرط میں اتفاق نہ ہو گا تو تناقض نہ ہو گا، جیسے "زید کی انگلیاں ہلتی ہیں اگر وہ لکھتا ہو"، "زید کی انگلیاں نہیں ہلتیں اگر وہ اگر وہ نہ لکھتا ہو"، ان میں تناقض نہیں اس لیے کہ شرط ایک نہیں رہی۔ پہلا قضیہ کیا ذکر کیا؟ زید کی انگلیاں ہلتی ہیں، کب؟ اگر وہ لکھتا ہو۔ دوسرے میں کہا: زید کی انگلیاں نہیں ہلتیں اگر وہ نہ لکھتا ہو، دیکھو شرط بدل دی، پہلے میں تھا اگر وہ لکھتا ہو، دوسرے میں شرط کیا کر دی؟ نہ لکھتا ہو، تو شرط ہی بدل دی تو ان میں تناقض نہیں اس لیے کیونکہ شرط ایک نہیں رہی۔
چلیے بس کریں بھئی، اور یہ جو دو اشعار ہیں شروع میں یہ آپ نے یاد کرنے ہیں بھئی، یاد کرنے ہیں۔ دیکھیے ذرا پھر ذرا شعر پر نظر ڈالیں، ان دو شعروں پر نظر ڈال لیں:
در تناقض ہشت وحدت شرط داں
تناقض میں آٹھ وحدتوں کو شرط جان لے،
وحدت موضوع و محمول و مکاں
موضوع، محمول اور مکان کی وحدت،
وحدت شرط و اضافت، جزء و کل
اور شرط کی وحدت، اور اضافت کی وحدت، اور جز اور کل کی وحدت،
قوت و فعل است، در آخر زماں
اور قوت اور فعل کی، قوت اور فعل ہے یعنی اس کی وحدت ہے، در آخر زماں: اور آخر میں زمانہ، زمانے کے اندر بھی وحدت ہے۔ تو اس میں سے چھ آپ نے پڑھ لیے بھئی، اضافت اور جز و کل یہ رہ گئے۔ باقی وحدت شرط بھی آپ نے پڑھ لیا، وحدت وحدت قوت اور فعل، قوت وہی صلاحیت بھئی، صلاحیت، بالقوہ جو ہے، تو قوت اور فعل بھی پڑھ لیا اور زمانے کی وحدت کو بھی پڑھ لیا، تو یہ شعر آپ نے اچھی طرح یاد کر کے آنے ہیں بھئی، اچھی طرح۔ چلیں باقی پھر اگلے سبق میں اس کو مکمل کر لیں گے۔ چلیے بس بھئی، ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔