Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تيسير المنطق · dars-030

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Ghais
📍 Location Lahore, Pakistan
📅 Approved Date 07 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 5
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اچھا بھئی، گزشتہ سبق میں ہم نے شرطیہ منفصلہ کی تین قسمیں، یعنی حقیقیہ، مانعۃ الجمع اور مانعۃ الخلو پڑھنا شروع کی تھیں۔ آئیے ذرا پہلے شروع سے قضایا کی بحث کر لیتے ہیں تاکہ آپ کے ذہن میں یہ سب چیزیں خوب اچھی طرح جم جائیں بھئی۔ میں بار بار تکرار کروا رہا ہوں، مقصد یہی ہے کہ یہ چیزیں ذہن میں خوب اچھی طرح جم جائیں۔ آپ نے پڑھا تھا: قضیہ وہ مرکب لفظ ہے جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے، جیسے زید کھڑا ہے یا آپ کہتے ہیں عمر عالم ہے، یا آپ کہتے ہیں بارش ہو رہی ہے، یا آپ کہتے ہیں سورج چمک رہا ہے۔ دیکھو یہ سب کیا ہیں؟ قضایا ہیں، اور اس میں نفس الامر اور واقعے کو نہیں دیکھنا کہ بعض اوقات کوئی بات واقعے کے اعتبار سے سچ ہی سچ ہوتی ہے وہاں جھوٹ کا احتمال نہیں ہوتا اور بعض باتیں واقعے کے اعتبار سے جھوٹ ہی جھوٹ ہوتی ہیں وہاں سچ کا احتمال نہیں ہوتا۔ آپ نے صرف لفظوں کو دیکھنا ہے کہ ان لفظوں میں کوئی بات بتلائی جا رہی ہے، کوئی خبر دی جا رہی ہے۔ جب یہ بات ہے اور خبر ہے تو یہ قضیہ ہوا اور اس کے کہنے والے کو سچا اور جھوٹا کہہ سکتے ہیں، تو یہ قضیہ ہی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور پھر آپ نے پڑھا تھا کہ قضیہ کی دو قسمیں ہیں: ایک قضیہ حملیہ اور ایک قضیہ شرطیہ۔ قضیہ حملیہ وہ ہے جو دو مفردوں سے مل کر بنے جبکہ قضیہ شرطیہ وہ ہے جو دو قضیوں سے مل کر بنے۔ تو قضیہ حملیہ دو مفردوں سے مل کر بنے گا، اس میں ایک چیز کا اثبات ہو گا دوسری چیز کے لیے، یا ایک چیز کی نفی ہو گی دوسری چیز سے۔ اگر ایک چیز کا اثبات ہو دوسری چیز کے لیے تو اس کو کیا کہیں گے؟ موجبہ، اور اگر ایک چیز کی نفی ہو دوسری چیز سے تو اس کو کیا کہیں گے؟ سالبہ۔ اور پھر اس قضیہ حملیہ کے جزوِ اول کو آپ نے پڑھا کہ موضوع کہتے ہیں اور دوسرے جزو کو محمول کہتے ہیں، اور جو چیز ان دونوں کے درمیان ربط اور جوڑ اور نسبت پر دلالت کر رہی ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ رابطہ۔ مثلاً میں نے کہا: زید عالم ہے، تو موضوع کیا؟ زید، اور محمول کیا؟ عالم، اور یہ جو نسبت پر لفظ ہے دلالت کر رہا ہے یہ کیا ہے؟ رابطہ ہے۔ اور میں نے بتایا تھا کہ بعض زبانوں میں یہ رابطہ لفظوں میں موجود ہوتا ہے اور بعض زبانوں میں یہ لفظوں میں موجود نہیں ہوتا بلکہ مقدر ہوتا ہے یعنی فرض کر لیتے ہیں، لیکن ہوتا ہے، ہوتا ہے لیکن فرض کر۔ تو ذہن کے اندر بھی اسی طرح اس قضیے کی تینوں چیزیں ہوں گی: موضوع بھی ہو گا، محمول بھی ہو گا، رابطہ بھی۔ قولِ ملفوظ میں بھی یہ تینوں ہوں گے اور قولِ مکتوب میں بھی یہ تینوں ہوں گے۔ ہاں، کبھی کبھی قولِ ملفوظ یا مکتوب میں یہ مقدر بھی ہو جائے گا، جیسے عربی زبان میں، آپ کہیں گے: زَيْدٌ عَالِمٌ، تو زیدٌ ہوا موضوع اور عالمٌ ہوا محمول اور رابطہ مقدر ہے، لفظوں میں موجود نہیں۔ تو یہ جو قضیہ حملیہ ہے اس کا پہلا جزو موضوع کہلاتا ہے اور دوسرا کیا کہلاتا ہے؟ محمول کہلاتا ہے۔ مثلاً میں نے کہا: زید عالم ہے۔ تو عام بول چال میں تو یوں کہیں گے: میں نے زید کے بارے میں بات کی، لیکن علمی انداز میں کیا کہیں گے؟ میں نے زید پر حکم لگایا، یا یوں کہیں گے کہ زید پر عالم ہونے کا حمل کیا گیا، یا یوں کہو عالم ہونے کا حکم کیا گیا۔ تو حمل بھی بول دیتے ہیں اور حکم بھی، اسی لیے اس دوسرے جزو کو محمول کہتے ہیں کہ اس کا موضوع پر حمل کیا گیا ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا یہ لفظ جگہ جگہ استعمال ہو گا کہ مثلاً اس موضوع پر اس کا حکم لگایا گیا یا اس کا حمل کیا گیا، تو آپ نے پریشان نہیں ہونا۔ حکم لگایا گیا یا حمل کیا گیا یعنی بات کی گئی، کس چیز کی بات کی گئی؟ وہ جو آگے بات آ رہی ہے، وہ جو محمول ہے اس کا حمل کیا گیا، اس کا حکم لگایا گیا، اس کی بات کی گئی بھئی، بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اس کے بعد آپ نے پڑھا تھا کہ قضیہ حملیہ کی چار قسمیں ہیں: ایک قضیہ مخصوصہ، ایک قضیہ طبعیہ، ایک قضیہ محصورہ اور ایک قضیہ مہملہ۔ قضیہ مخصوصہ یا قضیہ شخصیہ، وہ قضیہ حملیہ ہے جس کا موضوع کوئی معین چیز یا کوئی معین ذات ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ قضیہ مخصوصہ یا قضیہ شخصیہ۔ مثلاً میں کہتا ہوں، آپ کا ایک ساتھی ہے اس کا نام ہے عبد اللہ، میں نے کہا: عبد اللہ کل آپ کو ملنے آئے گا۔ تو دیکھا اس کا موضوع کون ہے؟ عبد اللہ، اور عبد اللہ کیا ہے؟ ایک شخصِ معین ہے، تو یہ کیا ہوا؟ قضیہ شخصیہ ہوا، تو چاہے آپ پورا نام لے لیں قضیہ حملیہ شخصیہ یا قضیہ حملیہ مخصوصہ، اور چاہیں تو صرف اتنا کہہ دیں قضیہ مخصوصہ یا قضیہ شخصیہ، تو بھی کافی ہے کیونکہ قضیہ شخصیہ اور مخصوصہ یہ کس کی قسمیں ہیں؟ قضیہ حملیہ کی۔ پھر قضیہ حملیہ کی دوسری قسم ہے قضیہ طبعیہ۔ آپ نے پڑھا قضیہ طبعیہ وہ قضیہ ہے جس کا موضوع کلی ہو اور کلی کی حقیقت اور کلی کے مفہوم پر حکم لگایا گیا ہو، کلی کے افراد پر حکم نہ لگایا گیا ہو۔ مثلاً میں کہتا ہوں: انسان نوع ہے، یا کہتا ہوں: حیوان جنس ہے، یا میں کہتا ہوں: جسم انسان کے لیے جنسِ بعید ہے۔ جنس قریب ہو یا بعید، تو یہ جنس ہونے کا حکم کس پر لگتا ہے؟ حقیقت اور ماہیت پر لگتا ہے، افراد پر نہیں لگتا بھئی۔ اس کے بعد آپ نے قضیہ محصورہ کے بارے میں پڑھا۔ آپ نے پڑھا کہ قضیہ محصورہ وہ ہے جس کا موضوع کلی ہو اور حکم جو ہے اس کلی کے افراد پر لگایا جائے اور ساتھ یہ بھی بیان کیا جائے کہ یہ حکم تمام افراد پر ہے یا بعض پر، تو اس کو قضیہ محصورہ کہتے ہیں۔ حصر، حصر سے ہے، حصر کا معنی ہے بند کرنا، تو محصورہ جس کو کیا کیا گیا ہے؟ بند، یعنی اس کے افراد پر حکم لگا رہے ہیں اور آپ نے اس کے افراد کو بند کر دیا ہے، بتلا دیا ہے کہ سارے مراد ہیں یا بعض مراد ہیں، تو وہ جو لفظ آیا، وہ جو سور جو کل یا بعض ہونے کو بیان کر رہا ہے اس کو سور کہتے ہیں، تو یہ جو سور کا لفظ ہے یہ کیا کر دیتا ہے؟ اس کے افراد کو بند کر دیتا ہے، بتلا دیتا ہے کہ سارے مراد ہیں یا بعض۔ اور اس قضیہ محصورہ کا دوسرا نام کیا ہے؟ مسوَّرہ بھئی، کہ اس پر سور داخل ہے۔ اور پھر اس قضیہ محصورہ کی چار قسمیں ہیں: یا موجبہ کلیہ ہو گا، یا موجبہ جزئیہ ہو گا، یا سالبہ کلیہ ہو گا، یا سالبہ جزئیہ ہو گا۔ اس کے بعد آپ نے قضیہ مہملہ کے بارے میں پڑھا۔ قضیہ مہملہ وہ قضیہ ہے جس کا موضوع کلی ہو اور حکم اس کلی کے افراد پر لگایا جائے، لیکن یہ نہ بیان کیا جائے کہ کل افراد مراد ہیں یا بعض مراد ہیں۔ تو محصورہ کے اندر تو بیان ہو گا کہ کچھ افراد مراد ہیں یا سارے مراد ہیں، لیکن مہملہ میں یہ بیان نہیں ہو گا۔ اسی طرح طبعیہ کے اندر بھی سور نہیں ہو گا کیونکہ وہاں پر تو حکم افراد پر لگا ہی نہیں رہے، کس پر لگا رہے ہیں؟ حقیقت اور ماہیت پر۔ حاصلِ کلام گویا یوں ہوا کہ طبعیہ کے اندر بھی سور نظر نہیں آ رہا اور مہملہ میں بھی سور نظر نہیں ہے، تو ان دونوں میں فرق کیسے کریں گے؟ بھئی آسان سی بات ہے، میں نے بتلایا تھا کہ سور لے کر آؤ، کل یا بعض کو لے کر آؤ، اگر کل یا بعض لگانے سے بھی وہ بات ٹھیک رہتی ہے تو معلوم ہوا یہ مہملہ ہے، سور ہو سکتا تھا لیکن ذکر نہیں کیا گیا، اور اگر سور لگتا ہی نہیں، بات ہی درست نہیں بنتی، تو سمجھ جائیں یہ قضیہ طبعیہ ہے اور حکم افراد پہ لگا ہی نہیں رہے، جب افراد پہ نہیں لگا رہے تو سارے افراد یا بعض افراد کی وہاں بات ہی نہیں ہو سکتی، تو وہ قضیہ طبعیہ ہو گا۔ فرق سمجھ میں آ گیا بھئی؟ اس کے بعد آپ نے قضیہ شرطیہ کے بارے میں پڑھا تھا۔ آپ نے پڑھا قضیہ شرطیہ وہ ہے جو دو قضیوں سے مل کر بنے اور ان میں سے جو پہلا قضیہ ہو اس کو مقدم کہتے ہیں اور دوسرے کو تالی کہتے ہیں۔ اور اگر اس مقدم اور تالی کے درمیان اتصال کو بیان کیا جائے تو وہ قضیہ شرطیہ متصلہ ہوا، یا یوں کہہ دیں قضیہ متصلہ ہوا، اور اگر مقدم اور تالی میں جدائی اور انفصال کو بیان کیا جائے تو وہ قضیہ منفصلہ ہوا بھئی۔ پھر یہ متصلہ اور منفصلہ یا یہ موجبہ ہوں گے یا یہ سالبہ۔ میں نے طریقہ بتلایا تھا، ادھر دیکھیے بھئی، یہ میرے سامنے ایک قضیہ شرطیہ موجود ہے، سب کو نظر آ رہا ہے بھئی؟ اس میں سے پہلا جز تو اس میں کتنے قضیے ہوں گے؟ دو ہوں گے۔ تو اس کے اندر بھی دو قضیے ہیں: یہ ایک طرف پہلا قضیہ ہے، یہ دوسری طرف دوسرا۔ ان دو قضیوں کے درمیان اگر آپ اتصال کو بیان کر رہے ہیں تو یہ قضیہ متصلہ ہے اور اگر انفصال کو بیان کر رہے ہیں تو یہ قضیہ منفصلہ ہے، اور ان دونوں میں پھر یا یہ موجبہ ہوں گے یا سالبہ۔ اب پتہ چلانا ہے کہ موجبہ کیسے ہو گا اور سالبہ کیسے ہو گا؟ میں نے بتلایا تھا، مثلاً فرض کریں پہلے ہم متصلہ کی مثال لے لیتے ہیں۔ یہ میرے سامنے قضیہ شرطیہ متصلہ ہے۔ قضیہ شرطیہ متصلہ میں کتنے قضیے ہوتے ہیں؟ دو: ایک مقدم اور ایک تالی، اور ان دونوں میں کیا بیان کیا جا رہا ہے؟ اتصال۔ متصلہ نام سے ہی پتہ چل رہا ہے، تو اگر ان دونوں میں اتصال کا اثبات ہو تو یہ موجبہ ہے اور اگر اتصال کی نفی ہو تو یہ سالبہ ہے۔ میں کہتا ہوں: اگر بادل آئیں گے تو بارش ہو گی۔ یہ کیا ہے؟ موجبہ ہے۔ اور میں کہتا ہوں: اگر بارش ہو گی تو گرمی نہیں ہو گی، فرض کریں اگر بارش ہو گی تو گرمی نہیں ہو گی۔ مجھے بتائیے، بارش کے ہونے پر گرمی کا اثبات کیا جا رہا ہے یا گرمی کی نفی کی جا رہی ہے؟ نفی کی جا رہی ہے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ متصلہ سالبہ۔ دیکھو، دونوں میں ہے اتصال ہی، بارش کے ہونے پر گرمی کے نہ ہونے کو جوڑ دیا گیا اس کے ساتھ۔ جب بھی بارش ہو گی تو گرمی بارش کے ہونے پر گرمی کے نہ ہونے کو ماننا پڑے گا، ماننا دونوں کو ہی ہے کیونکہ دونوں میں اتصال ہے۔ بارش کے ہونے کو مانتے ہو تو کس کو ماننا پڑے گا؟ گرمی کے نہ ہونے کو، صورت سمجھ میں آ گئی؟ یا یوں کریں، یوں کریں، یہ جو نہیں ہے اس نہیں کو اٹھا کر شروع میں لے جائیں: ایسا نہیں ہے کہ اگر بارش ہو تو گرمی بھی ہو۔ دیکھا وہ نہیں جو گرمی نہیں ہو گی، وہ نہیں کو اٹھا کر میں کہاں لے گیا؟ شروع میں۔ اب دیکھو بات واضح ہو گئی: ایسی بات نہیں ہے کہ بارش ہو تو گرمی بھی ہو، دیکھا نہیں ہے، یہ نفی کی جا رہی ہے اتصال کی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ سالبہ۔ اسی طرح شرطیہ منفصلہ میں انفصال کو بیان کیا جاتا ہے کہ مقدم اور تالی میں انفصال ہے، جدائی ہے، ان کے درمیان حرفِ یا لاتے ہیں اور یا کس لیے آتا ہے؟ جدائی کے لیے۔ معلوم ہوا اگر پہلی بات کو مانتے ہو تو دوسری کو دوسری کو نہیں مانو گے اور اگر دوسری کو مانتے ہو تو پہلی کو نہیں ماننا پڑے گا کیونکہ دونوں اکٹھی نہیں ہیں۔ مثلاً یا تو سورج نکلا ہوا ہے یا سورج ڈوبا ہوا ہے، ایک ہی بات مانو گے نا ایک وقت میں، یا تو سورج ہو گا یا سورج نہیں ہو گا۔ تو اگر سورج کے ہونے کو مانتے ہو تو نہ ہونے کی نفی کرنا پڑے گی اور اگر نہ ہونے کو مانتے ہو تو پھر ہونے کی نفی کرنا پڑے گی۔ تو دونوں میں انفصال ہے، جدائی ہے۔ اب اس قضیہ منفصلہ میں ایجاب کیسے ہو گا اور سلب کیسے ہو گا؟ میں نے بتایا تھا کہ قضیہ منفصلہ میں غور کر لو، نام سے ہی پتہ چل رہا ہے کہ اس میں کیا ہو گا، کیا بیان ہو گا؟ انفصال۔ اگر مقدم اور تالی میں انفصال کا اثبات کیا جائے کہ ان میں جدائی ہے تو اس کو موجبہ کہیں گے اور اگر انفصال کی، منفصلہ ہے نا تو انفصال ہونا چاہیے یا نہیں ہونا چاہیے؟ ہونا۔ تو اگر انفصال بیان کیا جا رہا ہے تو اس کو کیا کہیں گے؟ موجبہ، اور اگر انفصال اور جدائی کی نفی کی جا رہی ہے تو پھر اس کو کیا کہیں گے؟ سالبہ کہیں گے۔ مثلاً میں کہتا ہوں: یہ چیز یا تو کتاب ہے یا قلم ہے۔ ایک وقت میں ایک ہی ہو سکتا ہے نا؟ تو انفصال آ گیا یا نہیں آ گیا؟ تو انفصال کا اثبات ہوا تو یہ کیا ہے؟ منفصلہ موجبہ۔ اور اگر اس میں نفی لے آؤ، مثلاً ایسا نہیں ہے کہ آپ شاعر ہوں یا آپ کاتب ہوں۔ ایسا نہیں ہے کہ آپ شاعر ہوں یا کاتب ہوں۔ اب مجھے بتائیے، شاعر ہونا اور کاتب ہونا کیا ان دونوں میں جدائی اور انفصال ہے؟ جی؟ نہیں، جمع ہو سکتے ہیں یا نہیں ہو سکتے؟ ایک ہی آدمی شاعر بھی ہو اور کاتب بھی ہو۔ دیکھا، لیکن میں تو درمیان میں یا لے کر آیا، شاعر ہے یا کاتب، اور یا تو اتی ہے کس کے لیے؟ جدائی کے لیے، اور ان میں تو جدائی نہیں، تو شروع میں پھر میں کیا لے آیا؟ ایسا نہیں ہے۔ دیکھا تو میں نے جدائی کی نفی کر دی، تو اس کو کیا کہیں گے؟ شرطیہ منفصلہ سالبہ بھئی۔ اس کے بعد ہم نے شرطیہ متصلہ اور منفصلہ کی دو دو قسمیں اور پڑھی تھیں، وہ الگ تقسیم تھی کہ آپ نے پڑھا کہ شرطیہ متصلہ میں، ادھر دیکھیے، قضیہ شرطیہ متصلہ اس میں کیا بیان کیا جاتا ہے؟ اتصال۔ تو یہ جو مقدم اور تالی میں جو اتصال بیان کیا جا رہا ہے، اگر یہ لازمی ہو، اگر یہ ضروری ہو، اگر یہ ہمیشہ ہوتا ہو، تو اس کو کیا کہیں گے؟ متصلہ لزومیہ، کہ اتصال لازم ہے۔ جیسے اگر سورج نکلے گا تو دن ہو گا۔ اور اگر یہ دو مقدم اور تالی میں جو اتصال بیان کیا جا رہا ہے، اگر یہ لازمی اور ضروری نہیں، ہمیشہ نہیں ہوتا، اتفاقاً ہو گیا ہے، تو پھر اس کو کیا کہیں گے؟ متصلہ اتفاقیہ۔ جیسے آپ کہتے ہیں: اگر زید شاعر ہے تو خالد کاتب ہے۔ اگر زید شاعر ہے تو خالد کاتب، مجھے بتائیے، زید کے شاعر ہونے پر خالد کا کاتب ہونا ضروری ہے؟ نہیں، اتفاقاً ایسا ہو گیا کہ زید شاعر بنا تو خالد کیا بن گیا؟ کاتب۔ تو اس کو کیا کہیں گے؟ قضیہ شرطیہ متصلہ اتفاقیہ کہیں گے، تو چاہے پورا نام لیں: شرطیہ متصلہ اتفاقیہ، یا صرف اتنا کہہ دیں: متصلہ اتفاقیہ۔ اسی طرح شرطیہ منفصلہ کے اندر بھی آپ نے پڑھا دو قسمیں ہیں۔ منفصلہ میں کیا بیان ہوتا ہے؟ انفصال اور جدائی۔ تو یہ جو مقدم اور تالی میں جو انفصال بیان کیا جا رہا ہے، اگر ان دونوں کی ذات ہی ایک دوسرے کے مخالف ہے، ان میں ضد ہے، وہ جمع نہیں ہو سکتیں، ایک ہے تو دوسرا نہیں ہو سکتا اور دوسرا ہے تو پہلا نہیں ہو سکتا، تو اس کو کہیں گے شرطیہ منفصلہ عنادیہ۔ کیا کہیں گے؟ عناد کس کو کہتے ہیں؟ مخالفت، دشمنی اور ضد کو کہتے ہیں، تو ان کی ذات میں ہی مخالفت ہے، دونوں جمع ہو ہی نہیں سکتے۔ مثلاً یہ عدد یا تو طاق ہے یا جفت، تو یہ دونوں جمع ہو ہی نہیں سکتے، کوئی ایک عدد ہو وہ طاق بھی ہو جائے اور جفت بھی ہو جائے ایسا کبھی نہیں ہو سکتا، ایک وقت میں ایک ہی ہو گا۔ تو ان کی ذات میں ہی کیا ہے؟ مخالفت ہے۔ یا جیسے آپ کہتے ہیں: یا تو سردی ہے یا گرمی ہے، یا آپ کہتے ہیں: یا دن ہے یا رات ہے، یا آپ کہتے ہیں: یہ برتن الٹا ہے یا سیدھا ہے۔ الٹا اور سیدھا اکٹھے ہو سکتے ہیں؟ نہیں، الٹا ہے تو سیدھا نہیں، سیدھا ہے تو الٹا۔ یا جیسے آپ کہتے ہیں کہ یہ شخص کافر ہے یا مومن ہے، کافر ہے تو مومن نہیں ہو سکتا اور مومن ہے تو کافر نہیں، تو یہ وہ چیزیں ہیں جن کی ذات ہی میں کیا ہے؟ عناد ہے، مخالفت ہے، تو اس منفصلہ کو کیا کہیں گے؟ منفصلہ عنادیہ۔ اور اگر مقدم اور تالی کی ذات میں ذات جدائی کو نہیں چاہتی، اتفاقاً جدائی آ گئی ہے تو پھر اس کو کیا کہیں گے؟ شرطیہ منفصلہ اتفاقیہ۔ مثلاً: زید یا شاعر ہے یا کاتب ہے۔ اب شاعر اور کاتب ہونے میں تو ان کی ذات میں مخالفت اور ضد اور عناد نہیں، ایک ہی آدمی شاعر بھی ہو سکتا ہے اور کاتب بھی، لیکن اتفاقاً ایسا ہوا کہ زید میں صرف ایک چیز آئی ہے دوسری نہیں، وہ صرف شاعر ہے کاتب نہیں۔ تو اس کو کیا کہیں گے؟ شرطیہ منفصلہ اتفاقیہ۔ یہاں تک بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ اس کے بعد گزشتہ سبق کے آخر میں ہم نے شرطیہ منفصلہ کی ایک نئی تقسیم پڑھی تھی، نئی تقسیم کہ شرطیہ منفصلہ کی تین قسمیں ہیں: منفصلہ حقیقیہ، منفصلہ مانعۃ الجمع اور منفصلہ مانعۃ الخلو۔ دیکھیے، ادھر دیکھیے بھئی، منفصلہ حقیقیہ، منفصلہ کیا پتہ چل رہا ہے کہ مقدم اور تالی میں کیا بیان ہو رہا ہے؟ انفصال۔ تو یہ اگر انفصال ان کی ذات میں ہے، ان کی حقیقت میں ہے اور ایسا پکا انفصال ہے کہ نہ دونوں جمع ہو سکتے ہیں اور نہ ہی دونوں علیحدہ ہو سکتے ہیں، ایک وقت میں ایک ضرور ہو گا، تو اس کو کیا کہیں گے؟ منفصلہ حقیقیہ، یعنی حقیقتاً انفصال ہے یہاں پر، پورے طور پر انفصال ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ مثلاً میں کہتا ہوں: یہ عدد یا تو جفت ہے یا طاق ہے۔ اب یہ جفت اور طاق دونوں اکٹھے نہیں ہو سکتے کہ ایک ہی عدد جفت بھی ہو جائے اور وہی عدد طاق بھی ہو جائے، ایسا نہیں ہو سکتا، اور نیز اٹھ بھی نہیں سکتے، علیحدہ بھی نہیں ہو سکتے، دنیا میں کوئی عدد ایسا نہیں جو نہ جفت ہو اور نہ طاق ہو، ایک ضرور ہو گا: یا جفت ہو گا یا طاق۔ تو یہ: یہ عدد یا تو جفت ہے یا طاق، یہ کون سا قضیہ ہوا؟ قضیہ منفصلہ حقیقیہ ہوا۔ تو منفصلہ حقیقیہ میں کیا ہوتا ہے؟ مقدم اور تالی جمع بھی نہیں ہو سکتے اور دونوں ایک ہی وقت میں علیحدہ بھی نہیں ہو سکتے۔ جبکہ دوسری قسم یہ ہے کہ دونوں جمع نہ ہو سکیں۔ مقدم اور تالی جمع نہیں ہو سکتے، البتہ علیحدہ ہو سکتے ہیں، جیسے آپ کہتے ہیں کہ یہ چیز یا تو کتاب ہے یا قلم ہے۔ یہ چیز یا تو کتاب ہے یا قلم، اب دیکھو کتاب اور قلم جمع نہیں ہو سکتے، ایک چیز اگر کتاب ہے تو وہ قلم نہیں اور اگر قلم ہے تو کتاب نہیں، تو یہ جمع نہیں ہو سکتے۔ ہاں، دونوں علیحدہ ہو سکتے ہیں، ہو سکتا ہے وہ چیز نہ کتاب ہو نہ قلم ہو بلکہ کوئی اور چیز ہو، مثلاً تپائی ہو، یا مثلاً پنکھا ہے، یا مثلاً بلب ہے، تو یہ سب چیزیں دیکھو اس کے علاوہ ہو گئیں۔ تو کتاب اور قلم یہ جمع نہیں ہو سکتے، البتہ علیحدہ ہو سکتے ہیں کہ کوئی چیز نہ کتاب ہو اور نہ قلم ہو، کوئی تیسری چیز ہو۔ اور تیسری قسم آپ نے پڑھی تھی مانعۃ الخلو۔ مانعۃ الخلو میں دونوں قضیے جو ہیں، مقدم اور تالی، علیحدہ نہیں ہو سکتے، ایک ضرور پایا جائے گا۔ ایک ضرور پایا جائے گا، تو علیحدہ ہونا منع ہے، جمع ہونا منع نہیں۔ نام سے ہی پتہ چل رہا ہے، مانعۃ الخلو، خالی ہونا منع ہے۔ اور اس کی کیا مثال پڑھی تھی؟ مثلاً یہ چیز یا تو غیرِ حجر ہے یا غیرِ شجر ہے۔ اب دنیا کی جتنی بھی چیزیں آپ لے لیں، آپ دیکھیں گے وہ ان دونوں میں سے ایک میں ضرور داخل ہو گی۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ دونوں سے نکل جائیں، نہ وہ غیر نہ وہ غیرِ شجر ہو اور نہ وہ غیرِ حجر ہو، ایسا نہیں ہو سکتا، ایک میں ضرور داخل ہو گی۔ مثلاً میں نے مثال ذکر کی تھی کہ آپ غیرِ شجر سے ایک چیز کو ذرا نکالیں، غیرِ شجر سے کون نکلے گا؟ درخت یعنی شجر نکل جائے گا۔ یہ میرے سامنے ایک شجر موجود ہے، نظر آ رہا ہے سب کو بھئی؟ یہ شجر ہے، تو یہ کیا ہوا؟ یہ یہ کس سے نکل گیا؟ غیرِ شجر سے نکل گیا، یہ تو غیرِ شجر نہیں ہے، یہ تو کیا ہے؟ شجر ہے، تو غیرِ شجر سے تو نکل گیا، ٹھیک ہے۔ لیکن یہ بتائیے، یہ حجر ہے یا غیرِ حجر؟ یہ غیرِ حجر ہے، دیکھا اس سے نہیں نکلا، اس سے تو غیرِ حجر سے تو صرف پتھر نکل سکتا ہے، حجر نکل سکتا ہے اور کوئی چیز نہیں۔ تو دیکھا، غیرِ شجر سے تو ہم نے اس کو نکال لیا تھا، درخت تھا اس شجر کو، لیکن غیرِ حجر سے نہیں نکلا۔ اچھا اب چلو یوں کرتے ہیں، غیرِ حجر سے کسی چیز کو نکال لیتے ہیں، غیرِ حجر سے کیا نکلے گا؟ صرف حجر نکل سکتا ہے، دنیا کی ہر چیز غیرِ حجر میں داخل ہے سوائے کس کے؟ حجر کے۔ تو مثلاً میرے سامنے یہ ایک پتھر موجود ہے، یہ کیا ہے؟ حجر ہے یا غیرِ حجر؟ یہ حجر ہے، معلوم ہوا غیرِ حجر نہیں ہے، یہ اس سے نکل گیا ہے، یہ غیرِ حجر نہیں ہے۔ تو کیا غیرِ شجر سے بھی نکلا ہے؟ نہیں، یہ غیرِ شجر ہے، درخت کے علاوہ چیز ہے، تو یہ دیکھا، غیرِ حجر سے تو نکل آیا لیکن غیرِ شجر سے نہیں نکلا، صورت سمجھ میں آ گئی۔ یا انہوں نے اس کی مثال ذکر کی تھی کہ زید پانی میں ہے یا ڈوبنے والا نہیں ہے۔ زید پانی میں ہے یا ڈوبنے والا نہیں ہے، دیکھو، زید پانی میں ہو گا یا ڈوبنے والا نہیں ہو گا۔ دنیا زید کو چھوڑو، کوئی بھی چیز دنیا کی لے لو، یا تو وہ پانی میں ہے یا ڈوبنے والی نہیں ہے، یہ دونوں سے وہ خالی نہیں ہو گی۔ یا تو وہ ڈوبنے والی نہیں ہے، یا اگر ڈوب رہی ہے تو پھر کہاں پر ہے؟ پانی میں ہے، دونوں میں سے ایک چیز تو ضرور ہو گی۔ تو یا تو پانی میں ہو گی یا ڈوبنے والی نہیں ہو گی۔ ہاں، دونوں جمع ہو سکتے ہیں، خالی تو نہیں ہو سکتے لیکن جمع ہو سکتے ہیں۔ ایک چیز پانی میں بھی ہو اور ڈوبے بھی نہیں، مثلاً پانی کے اوپر تیر رہی ہے، تو جمع ہو گئے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو قضیہ حقیقیہ جو ہے، قضیہ منفصلہ حقیقیہ، اس میں یہ دونوں چیزیں جمع ہوں گی، وہ مانعۃ الجمع بھی ہو گا اور مانعۃ الخلو بھی، یعنی اس میں دونوں مقدم اور تالی کا جمع ہونا بھی منع اور دونوں کا علیحدہ ہونا بھی منع، جبکہ مانعۃ الجمع میں دارومدار کس پر ہے؟ جمع ہونے پر، یعنی دونوں جمع نہیں ہو سکتے، علیحدہ علیحدہ، علیحدہ ہونے کی بات نہیں ہے، علیحدہ ہو سکیں یا نہ ہو سکیں ہماری بحث اس سے نہیں، لیکن دونوں کیا ہیں؟ جمع نہیں ہو سکتے، دیکھو نام ہی بتلا رہا ہے: مانعۃ الجمع۔ اور مانعۃ الخلو کا دارومدار کس پر ہے؟ خالی ہونے اور علیحدہ ہونے پر ہے کہ خالی اور علیحدہ نہیں ہو سکتے، جمع ہو سکتے ہیں یا جمع نہیں ہو سکتے اس سے ہماری بحث نہیں، چاہے جمع ہو جائیں، چاہے جمع نہ ہوں، اس سے ہماری بحث نہیں۔ تو مانعۃ الخلو میں دارومدار کس پر ہے؟ خالی ہونے پر، یعنی خالی نہیں ہو سکتے، دونوں میں سے ایک ضرور ہو گا۔ مثلاً ایک اور مثال دیکھ لو: یہ شخص یا تو کافر ہے یا دوزخی نہیں ہے، جہنمی نہیں ہے۔ یہ شخص یا تو کافر ہے یا جہنمی نہیں ہے، دیکھا، دو چیزوں میں سے ایک ضرور پائی جائے گی۔ اگر جہنمی ہے تو کافر ہے، معلوم ہوا پہلی بات پائی گئی، اور اگر جہنمی نہیں ہے تو یہی تو دوسری بات ہو رہی ہے، دوسری پائی جائے گی، دونوں میں سے ایک بھی نہ پائی جائے ایسا نہیں ہو سکتا۔ تو شرطیہ منفصلہ کی کل کتنی قسمیں ہو گئیں یہاں اس تقسیم کے مطابق؟ تین: منفصلہ حقیقیہ، منفصلہ مانعۃ الجمع اور منفصلہ مانعۃ الخلو۔ حقیقیہ میں کیا ہوتا ہے؟ جمع ہونا بھی درست نہیں اور دونوں کا الگ ہونا بھی ممکن نہیں۔ یاد رکھیے، یہ تو کبھی تو واقعے اور نفس الامر کے اعتبار سے ہوتا ہے، واقعے میں، نفس الامر میں، یعنی خارج میں ایسا ہے کہ ایک عدد یا تو طاق ہو گا یا جفت، دونوں جمع نہیں اور دونوں اکٹھے علیحدہ بھی نہیں ہو سکتے، یہ واقعے کے اعتبار سے۔ تو یہ منفصلہ حقیقیہ ہے کس اعتبار سے؟ واقعے کے اعتبار سے، نفس الامر کے، توجہ ہے بھئی، یہ قیمتی بات کر رہا ہوں، واقعے کے اعتبار سے اور نفس الامر کے اعتبار سے۔ کبھی کبھی کہنے والے کے اعتبار سے بھی منفصلہ حقیقیہ ہوتا ہے۔ قائل جو ہوتا ہے نا، بات کرنے والا، یہ جو قضیہ شرطیہ بولے گا، زبان سے ادا کرے گا، کوئی قائل ہو گا نا، کوئی کہنے والا ہو گا، تو کبھی تو ان دونوں میں یہ جو مقدم اور تالی میں نہ یہ جمع ہو سکتے ہیں نہ یہ دونوں علیحدہ ہو سکتے ہیں، یعنی کون سا قضیہ ہے؟ منفصلہ حقیقیہ۔ تو ان میں جو انفصالِ حقیقی ہے یا تو واقعے کے اعتبار سے ہو گا اور نفس الامر کے، یا صرف کبھی قائل کے ارادے کے اعتبار سے ہوتا ہے، کس کے ارادے سے؟ قائل کے ارادے کے اعتبار سے۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں کہ کل آپ نے آنا ہے یا زید نے آنا ہے، دیکھو یا لے کر آیا، تو یہ کون سا ہوا؟ منفصلہ۔ اور یاد رکھو، آپ دونوں بھی نہیں آ سکتے اکٹھے اور ایسا بھی نہیں ہے کہ آپ دونوں میں سے کوئی بھی نہ آئے بلکہ ایک کو ضرور آنا پڑے گا۔ یہ میں نے آپ کو پہلے ہی بتا دیا۔ اب میں آپ سے کہتا ہوں: کل آپ نے آنا ہے یا زید نے آنا ہے، یہ کون سا قضیہ ہوا؟ منفصلہ حقیقیہ، یعنی دونوں اکٹھے بھی نہیں آ سکتے اور جمع بھی نہیں ہو سکتے کہ آپ بھی آ جائیں اور زید بھی آ جائے، اور علیحدہ بھی نہیں ہو سکتے کہ ایسا بھی نہیں کرنا کہ آپ بھی نہ آئیں اور زید بھی نہ آئے، تو یہ منفصلہ حقیقیہ ہوا، لیکن کیا یہ واقعے کے اعتبار سے ہے؟ کیا واقعی میں زید اور آپ کبھی اکٹھے نہیں آ سکتے؟ آ سکتے ہیں، واقعے کے اعتبار سے تو اس میں یہ ان میں انفصال نہیں ہے، لیکن کس کے اعتبار سے انفصال ہے؟ قائل، بات کرنے والا جو ہے اس کے اعتبار سے ان میں انفصالِ حقیقی ہے، نہ یہ دونوں اس کا ارادہ یہ ہے نہ یہ دونوں جمع ہوں اور نہ یہ دونوں علیحدہ ہوں، دونوں میں سے ایک ضرور پایا جائے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اسی طرح مانعۃ الجمع، مانعۃ الجمع، اس میں کیا منع ہوتا ہے؟ جمع منع ہوتا ہے، تو کبھی یہ نفس الامر کے اعتبار سے ہوتا ہے، جیسے جیسے یہ شے یا تو درخت ہے یا پتھر، تو یہ نفس الامر میں ان دونوں کا جمع ہونا منع ہے، نفس الامر میں ایک ہی چیز درخت بھی ہو اور پتھر بھی ہو ایسا نہیں ہو سکتا، لیکن کبھی کبھار یہ صرف قائل کے اعتبار سے ایک چیز مقدم اور تالی میں مانعۃ الجمع ہوں گے، مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: کل آپ آنا یا زید آنا، لیکن دونوں نے نہیں آنا۔ دونوں نے نہیں آنا، دونوں نے نہیں آنا، ایک آئے، اور اگر نہیں آنا تو چاہے دونوں نہ آنا، توجہ ہے؟ میرے کہنے کا مطلب ہے دونوں نے نہیں آنا، جمع نہیں ہونا دونوں نے، دونوں نے نہیں آنا، ایک وقت میں ایک آئے اور چاہے تو ایک بھی نہ آئے، تو صرف کیا منع کیا میں نے؟ جمع ہونے کو۔ تو دیکھو اب میں آپ سے کہتا ہوں کہ کل آپ نے آنا ہے یا زید نے آنا ہے، تو یہ کون سا قضیہ ہوا؟ قضیہ مانعۃ الجمع۔ اور کیا نفس الامر میں آپ کے اور زید کا انا جمع نہیں ہو سکتا یا صرف متکلم کے ارادے کے اعتبار سے ہے؟ یہ صرف متکلم کے ارادے کے اعتبار سے ہے۔ اسی طرح مانعۃ الخلو میں بھی اسی طرح ہے، کبھی دو چیزوں کا علیحدہ ہونا واقعے کے اعتبار سے ممکن نہیں ہو گا اور کبھی صرف قائل کے ارادے کے اعتبار سے ہو گا، قائل کے ارادے سے۔ جیسے میں کہتا ہوں: زید پانی میں ہے یا ڈوبنے والا نہیں ہے، یہ واقعے کے اعتبار سے مانعۃ الخلو ہے، آپ نے پڑھا ہے یا نہیں؟ یہ واقعے کے اعتبار سے کیا ہے؟ دونوں ہی چیزیں نہ پائی جائیں ایسا نہیں ہو سکتا، ایک ضرور ہو گی۔ اور بعض اوقات میں اپنے ارادے کے اعتبار سے مانعۃ الخلو بنا لیتا ہوں، کس طرح؟ کل آپ نے آنا ہے یا زید نے آنا ہے، ایسا نہ ہو کہ دونوں میں سے ایک بھی نہ آئے، ایک نے ضرور آنا ہے۔ ایک نے ضرور آنا ہے، چاہے دونوں بھی آ جانا۔ تو میں جمع ہونے کو نہیں منع کر رہا، صرف کس چیز کو منع کر رہا ہوں؟ خالی اور علیحدہ ہونے کو منع کر رہا ہوں کہ ایسا نہ ہو کہ ایک بھی نہ آئے، ایک نے تو ضرور آنا ہے، دوسرا چاہے آئے چاہے نہ آئے۔ تو اب میں آپ سے کہتا ہوں: کل آپ نے آنا ہے یا زید نے آنا ہے، تو یہ کون سا قضیہ ہوا؟ قضیہ مانعۃ الخلو بھئی۔ تو یہ واقعے کے اعتبار سے مانعۃ الخلو ہے یا قائل کے ارادے کے اعتبار سے مانعۃ الخلو ہے؟ قائل کے ارادے کے اعتبار سے۔ تو یہ بات آپ نے ہمیشہ یاد رکھنی ہے کہ یہ جو حقیقیہ، مانعۃ الجمع اور مانعۃ الخلو ہے، اس میں صرف واقعے کو نہیں دیکھا جائے گا بلکہ بعض اوقات قائل کے ارادے کا بھی لحاظ کیا جائے گا۔ اگر اس کا ارادہ ہے کہ دونوں جمع نہیں ہو سکتے یا دونوں خالی نہیں ہو سکتے یا جمع بھی نہیں ہو سکتے اور خالی بھی نہیں ہو سکتے، تو اسی کے اعتبار سے اس کا نام ہو گا بھئی اور وہی قسم وہ بن جائے گی۔ صورت اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اب دیکھیے بھئی کتاب پر عبارت بھی پڑھ لیں بھئی: شرطیہ منفصلہ کی پھر تین قسمیں ہیں: شرطیہ منفصلہ حقیقیہ، شرطیہ منفصلہ مانعۃ الجمع، شرطیہ منفصلہ مانعۃ الخلو۔ شرطیہ منفصلہ حقیقیہ وہ قضیہ منفصلہ ہے جس کے مقدم اور تالی میں ایسی جدائی اور انفصال ہو کہ دونوں ایک شے میں ایک دم سے نہ جمع ہوں اور نہ دونوں ایک شے سے ایک دم سے علیحدہ ہوں، ایک ہو تو دوسرا ہرگز نہ ہو اور ایک نہ ہو تو دوسرا ضرور موجود ہو، نہ تو یہ ہو گا کہ دونوں ہوں اور نہ یہ ہو گا کہ دونوں نہ ہوں، جیسے یہ عدد یا تو طاق ہے یا جفت ہے، دیکھو ایک عدد یا تو طاق ہو گا یا جفت ہو گا دونوں نہ ہوں گے، اور نہ یہ ہو گا کہ کوئی عدد ایسا ہو کہ نہ طاق ہو اور نہ جفت ہو۔ مانعۃ الجمع وہ قضیہ منفصلہ ہے جس کے مقدم اور تالی ایک دم سے، ایک دم سے یعنی ایک وقت میں، ٹھیک ہے؟ جس کے مقدم اور تالی ایک دم سے یعنی ایک وقت میں ایک شے کے اندر موجود تو نہ ہو سکیں یعنی اکٹھے نہ ہو سکیں، ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی شے ایسی ہو کہ اس میں مقدم اور تالی دونوں نہ ہوں، جیسے یہ شے یا درخت ہے یا پتھر، دیکھو ایک شے درخت اور پتھر نہیں ہو سکتی، ہاں یہ ممکن ہے کہ کوئی شے نہ درخت ہو نہ پتھر ہو جیسے انسان اور فرس۔ مانعۃ الخلو وہ قضیہ منفصلہ ہے جس کے مقدم اور تالی ایک دم سے ایک شے سے علیحدہ تو نہ ہو سکیں، علیحدہ نہ ہو سکیں ایک وقت میں، ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ وہ مقدم اور تالی ایک شے کے اندر جمع ہو جائیں، جیسے زید پانی میں ہے یا ڈوبنے والا نہیں ہے، دیکھو یہ دونوں باتیں ایک دم سے علیحدہ نہیں ہو سکتیں کہ زید پانی میں نہ ہو اور ڈوب جائے، ہاں دونوں جمع ہو سکتی ہیں کہ پانی میں ہو اور ڈوبے نہیں بلکہ تیرتا رہے۔ یہاں تک ساری بحث سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ اب آئیے آگے سوالات بھی حل کر لیں۔ سوالات: ذیل میں لکھے ہوئے قضیوں میں بتاؤ کہ ہر قضیہ کون سی قسم کا ہے، شرطیہ یا حملیہ؟ اور شرطیہ کی کون سی قسم ہے، متصلہ یا منفصلہ؟ اور اسی طرح حملیہ اور متصلہ و منفصلہ کی کون سی قسم ہے؟ تو نمبر ایک ہے: اگر یہ شے گھوڑا ہے تو جسم ضرور ہے۔ یرحمک اللہ۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ اگر یہ شے گھوڑا ہے تو جسم ضرور ہے۔ جی، قضیہ شرطیہ متصلہ، کیسے پتہ چلا؟ اگر سے، تو قضیہ شرطیہ متصلہ۔ ایجاب ہے یا نفی ہے؟ ایجاب، تو قضیہ شرطیہ متصلہ موجبہ۔ اور پھر کون سا ہے، لزومیہ ہے یا اتفاقیہ ہے؟ جی، اگر کوئی چیز گھوڑا ہو تو کیا اس کا جسم ہمیشہ ہو گا؟ جی، کبھی گھوڑا بغیر جسم کے دیکھا ہے آپ لوگوں نے؟ پھر کیا معنی؟ اگر گھوڑا ہے تو جسم ضرور ہو گا، تو معلوم ہوا یہ کون سا ہے؟ لزومیہ ہے، تو یہ قضیہ شرطیہ متصلہ موجبہ لزومیہ ہوا۔ اگلی مثال پر آئیے: یہ شے گھوڑا ہے یا گدھا۔ جی، یہ کون سا ہے؟ شرطیہ منفصلہ ہے، اور موجبہ ہے، سالبہ ہے؟ موجبہ ہے، نفی کا کوئی لفظ نہیں ہے، تو یہ شرطیہ منفصلہ موجبہ۔ اچھا، اور کون سا ہے، اتفاقیہ ہے یا عنادیہ ہے؟ جی؟ اتفاقاً دونوں الگ ہو گئے ہیں یا ان کی ذات ہی الگ الگ ہے؟ جو گھوڑا ہے وہ گدھا نہیں، جو گدھا ہے وہ گھوڑا نہیں، تو کیا ہے؟ عنادیہ ہے، شاباش، تو یہ منفصلہ موجبہ عنادیہ۔ اچھا، اور وہ تین قسموں کے اعتبار سے کیا ہے؟ گھوڑا ہے یا گدھا، یہ دونوں جمع ہو سکتے ہیں؟ نہیں، اچھا دونوں الگ ہو سکتے ہیں؟ جی؟ ہاں، کوئی چیز نہ گھوڑا ہو اور نہ گدھا ہو بلکہ گائے ہو، بیل ہو، انسان ہو، پتھر ہو، تو دونوں جمع تو نہیں ہو سکتے لیکن الگ ہو سکتے ہیں، تو یہ کیا ہوا؟ مانعۃ الجمع، صورت سمجھ میں آ گئی۔ اگلی مثال پر آئیے: یہ شے یا تو جاندار ہے یا سفید ہے۔ جی، شرطیہ، یہ شے یا تو جاندار ہے یا سفید ہے، جی؟ شرطیہ منفصلہ۔ سالبہ ہے یا موجبہ ہے؟ جی؟ موجبہ ہے، شرطیہ منفصلہ موجبہ۔ اور جی، اتفاقیہ ہے یا لزومیہ ہے؟ جی؟ جاندار اور سفید، اکٹھے نہیں ہو سکتے کبھی بھی؟ دونوں ایک جاندار بھی ہو اور سفید بھی ہو، سفید بطخ، اور یا تو کیا بیان کر رہی ہے؟ جدائی، تو یہ جدائی دونوں میں لازمی ہے یا اتفاقی ہے؟ ہاں، تو یہ اتفاقیہ ہوا، تو یہ کیا ہوا؟ شرطیہ منفصلہ موجبہ اتفاقیہ۔ اور وہ جو تین قسمیں ہیں: حقیقیہ، مانعۃ الجمع اور مانعۃ الخلو، وہ بھی تو منفصلہ میں آتی ہیں نا، اس میں سے یہ کون سا بنے گا؟ جی؟ مانعۃ الخلو، آپ نے کیا کہا مانعۃ الخلو؟ مانعۃ الخلو کا مطلب ہے دونوں میں سے ایک ضرور ہو گا، خالی نہیں ہو سکتا۔ کالا پتھر، نہ جاندار ہے، نہ سفید ہے، خالی ہو گیا یا نہیں؟ مانعۃ الجمع، جمع ہونا منع ہے، جی؟ ایک شے جاندار بھی ہو اور سفید بھی ہو، سفید بطخ، پھر، نہ تو یہ مانعۃ الجمع ہے، نہ مانعۃ الخلو ہے، پھر؟ حقیقیہ ہے، اس میں تو دونوں جمع ہوتے ہیں، اس کا معاملہ تو ان دونوں سے بھی زیادہ سخت ہے، وہ تو مانعۃ الجمع بھی ہو گا اور مانعۃ الخلو بھی ہو گا۔ تو پھر یہ ان میں سے قسم ویسے نہیں بن رہی، ہاں اس کا دارومدار کہنے والے پر ہے، قائل پر ہے، کس پر؟ اگر کہنے والے کا ارادہ یہ ہے کہ یہ دونوں چیزیں نہ جمع ہو سکتی ہیں نہ الگ ہو سکتی ہیں، تو یہ حقیقیہ بن جائے گا۔ اگر اس کا ارادہ یہ ہے کہ یہ جمع نہیں ہو سکتیں، علیحدہ تو مانعۃ الجمع بن جائے گا، اور اگر اس کا ارادہ ہے ان سے خالی نہیں ہو سکتے تو پھر یہ مانعۃ الخلو بن جائے گا۔ بہرحال ویسے اس وقت یہ ان تینوں میں سے کوئی بھی نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ بھی آ گئی سب کو؟ اگلی چوتھی مثال ہے: اگر گھوڑا ہنہنانے والا ہے تو انسان جسم ہے۔ کون سا شرطیہ ہے؟ متصلہ ہے۔ موجبہ ہے، سالبہ ہے؟ موجبہ ہے، شاباش۔ اور گھوڑے کے ہنہنانے پر انسان کا جسم والا ہونا لازمی ہے، دونوں میں کوئی ربط اور جوڑ ہمیشہ ہے؟ نہیں، اتفاقاً ایسا ہو گیا کہ گھوڑا ہنہنانے والا ہے تو انسان جسم، تو یہ کیا ہوا؟ اتفاقیہ، تو شرطیہ متصلہ موجبہ اتفاقیہ۔ پانچویں مثال: زید عالم ہے یا جاہل ہے۔ یہ شرطیہ منفصلہ ہے، موجبہ ہے یا سالبہ؟ موجبہ ہے، اور نیز عالم اور جاہل ہونے میں یہ دونوں یہ اتفاقاً انفصال آیا یا ان میں ہمیشہ انفصال ہوتا ہے؟ ان میں ہمیشہ انفصال ہوتا ہے، جو عالم ہوتا ہے وہ جاہل نہیں ہو سکتا، جو جاہل ہے وہ عالم، تو یہ عنادیہ ہوا، منفصلہ، ان کی ذات ہی جدائی کو چاہتی ہے۔ اور نیز ان تین قسموں میں سے یہ کون سی قسم ہے: حقیقیہ، مانعۃ الجمع اور مانعۃ الخلو؟ عالم اور جاہل جمع ہو سکتے ہیں؟ نہیں، تو یہ مانعۃ الجمع بھی ہے۔ دونوں علیحدہ ہو سکتے ہیں، کوئی چیز نہ عالم ہو نہ جاہل ہو؟ نہیں، ان میں سے ایک تو ضرور ہو گا، یا عالم ہو گا یا تو یہ مانعۃ الجمع بھی ہے، مانعۃ الخلو بھی ہے، معلوم ہوا یہ حقیقیہ ہے، یہ کیا ہے؟ حقیقیہ ہے، صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو کیا یہ کون سا قضیہ ہوا؟ شرطیہ منفصلہ موجبہ عنادیہ، اور نیز منفصلہ حقیقیہ۔ عمر بولتا ہے یا گونگا ہے، اگلی مثال، عمر بولتا ہے یا گونگا ہے۔ شرطیہ منفصلہ، موجبہ ہے یا سالبہ؟ موجبہ ہے، اچھا، اور بولنے اور گونگا ہونے یہ جمع ہو سکتے ہیں؟ نہیں، ان کی ذات ہی ایک دوسرے سے جدائی چاہتی ہے، تو یہ کیا ہوا؟ عنادیہ، تو منفصلہ موجبہ عنادیہ۔ اور وہ جو تین قسمیں تھیں اس کے اعتبار سے یہ کیا ہے؟ حقیقیہ ہے، نہ یہ دونوں جمع ہو سکتے ہیں اور نہ یہ دونوں اکٹھے بولنے، ایک ہی چیز بولنے والی بھی ہو اور گونگی بھی ہو، یہ بھی نہیں ہو سکتا، اور دونوں اٹھ بھی نہیں سکتے، علیحدہ بھی نہیں ہو سکتے، نہ بولنے والی ہے اور نہ گونگی ہے، بھئی دونوں میں سے ایک چیز تو ضرور ہو گی، گونگی یعنی خاموش ہے بولتی نہیں ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ اگلی مثال، مثال نمبر سات دیکھیے بھئی: بکر شاعر ہے یا کاتب۔ جی، شرطیہ منفصلہ، موجبہ ہے یا سالبہ؟ موجبہ ہے۔ اور شاعر اور کاتب میں جدائی آ گئی، ان کی ذات ہی جدائی کو چاہتی ہے یا اتفاقاً آ گئی؟ اتفاقاً، تو یہ منفصلہ موجبہ اتفاقیہ ہے بھئی۔ اچھا، اور نیز دونوں میں جدائی آئی تو وہ تین قسموں میں سے کون سی قسم ہے منفصلہ کی؟ کیا شاعر یا کاتب جمع ہو سکتے ہیں؟ ہاں، تو معلوم ہوا مانعۃ الجمع نہیں ہے۔ یہ دونوں الگ ہو سکتے ہیں؟ ہاں، ایک آدمی نہ شاعر ہو نہ کاتب ہو، دونوں الگ بھی ہو سکتے ہیں، تو معلوم ہوا یہ نہ مانعۃ الجمع ہے نہ مانعۃ الخلو، تو معلوم ہوا حقیقیہ بھی نہیں ہے یہ کیونکہ اس میں تو دونوں جمع ہو جاتے ہیں۔ تو پھر یوں کہیں اس کا دارومدار کہنے والے پر ہے، وہ کس کا ارادہ کر رہا ہے اس کے مطابق قسم بن جائے گی، ورنہ ویسے واقعے کے اعتبار سے ان تینوں میں یہ داخل نہیں۔ اگلی مثال دیکھیے، مثال نمبر آٹھ: زید گھر میں ہے یا مسجد میں۔ شرطیہ منفصلہ، ایجاب ہے یا سلب؟ ایجاب، تو شرطیہ منفصلہ موجبہ، اور گھر میں بھی ہو اور مسجد میں بھی ہو جمع ہو سکتا ہے؟ نہیں، تو یہ کون سا ہوا؟ عنادیہ، کیا ہوا؟ گھر میں ہونے اور مسجد میں ہونے میں عناد ہے، ایک وقت میں ایک ہی جگہ ہو سکتا ہے انسان، دونوں جگہ نہیں۔ تو عنادیہ، اور پھر وہ منفصلہ کی تین قسموں میں سے کون سی قسم ہے؟ جی، کیا یہ دونوں جمع ہو سکتے ہیں؟ نہیں، تو یہ کیا ہوا؟ مانعۃ مانعۃ الجمع، مانعۃ الجمع، جمع نہیں ہو سکتے۔ اور علیحدہ ہو سکتے ہیں؟ کیسے؟ نہ گھر میں ہو اور نہ مسجد میں ہو، بازار میں ہو، تو یہ کیا ہوا؟ پھر مانعۃ الجمع، تو یہ شرطیہ منفصلہ موجبہ عنادیہ ہوا اور نیز منفصلہ مانعۃ الجمع ہوا۔ اگلی مثال دیکھیے، مثال نمبر نو: خالد بیمار ہے یا تندرست ہے۔ جی، شرطیہ شرطیہ منفصلہ، موجبہ ہے، سالبہ ہے؟ موجبہ ہے، اور نیز بیماری اور تندرستی ان میں یہ جدائی اتفاقاً آئی ہے یا ہمیشہ جدائی ہے؟ ہمیشہ جدائی ہے، تو یہ ہمیشہ جدائی ہے، تو یہ عنادیہ ہوا، جو بیمار ہے وہ تندرست نہیں، جو تندرست ہے وہ بیمار نہیں، تو یہ عنادیہ ہوا۔ اور نیز وہ جو منفصلہ کی تین قسمیں ہیں اس میں سے کیا ہے یہ؟ بیمار یا تندرست ہونا، یہ جمع ہو سکتے ہیں؟ نہیں، تو یہ مانعۃ الجمع ہے، اور کیا دونوں الگ ہو سکتے ہیں؟ نہ بیمار ہو اور نہ تندرست ہو، نہیں، یہ دو ہی چیزیں ہوتی ہیں: یا بیمار ہوتا ہے یا تو مانعۃ الجمع بھی ہے اور مانعۃ الخلو بھی، اور جب دونوں ہوں تو دراصل یہ کیا ہوتا ہے؟ حقیقیہ، تو یہ منفصلہ حقیقیہ ہے بھئی۔ زید کھڑا ہے یا بیٹھا ہے۔ شرطیہ منفصلہ ہے، موجبہ ہے یا سالبہ؟ موجبہ ہے، اور کھڑے ہونے اور بیٹھنا یہ جمع ہو سکتے ہیں؟ یہ اتفاقاً ان میں جدائی آئی ہے یا ہمیشہ جدائی ہوتی ہے؟ ہمیشہ، تو یہ عنادیہ ہوا: منفصلہ موجبہ عنادیہ۔ اچھا، پھر وہ تین قسمیں جو منفصلہ کی تھیں اس میں سے یہ کیا ہے ذرا دیکھ لو، بتائیے: کھڑا ہونا اور بیٹھنا جمع ہو سکتے ہیں؟ نہیں، تو یہ مانعۃ الجمع ہے۔ اچھا، یہ دونوں الگ ہو سکتے ہیں؟ نہ کھڑا ہو نہ بیٹھا ہو، لیٹا ہوا ہو تو علیحدہ ہو سکتے ہیں، معلوم ہوا یہ صرف کیا ہے؟ مانعۃ الجمع ہے۔ اچھا، گیارہویں مثال دیکھیے: یہ بات نہیں ہے کہ اگر رات ہو گی تو سورج نکلا ہو۔ یہ بات نہیں ہے کہ اگر رات ہو گی تو سورج ہو، تو یہ شرطیہ متصلہ ہے، اگر آ رہا ہے: متصلہ۔ اور ایجاب ہے یا سلب ہے؟ سلب ہے، شروع میں آ رہا ہے: یہ بات نہیں ہے، تو متصلہ سالبہ۔ اور پھر متصلہ سالبہ کی کون سی قسم ہے: لزومیہ یا اتفاقیہ؟ رات کے ہونے پہ سورج کے نکلنے کی ہمیشہ نفی ہوتی ہے یا کبھی کبھار؟ ہمیشہ نفی ہوتی ہے، ایک ہو گا تو دوسرا نہیں ہو سکتا بھئی، تو یہ کیا ہے؟ لزومیہ ہے، تو متصلہ یہ قضیہ شرطیہ متصلہ سالبہ لزومیہ ہے بھئی۔ اگلی مثال دیکھیے، مثال نمبر بارہ: اگر سورج نکلے گا تو زمین روشن ہو گی۔ کون سا شرطیہ ہے؟ شرطیہ متصلہ، ایجاب ہے یا سلب ہے؟ ایجاب، تو شرطیہ متصلہ موجبہ ہے، اور سورج کے نکلنے پر کیا ہمیشہ زمین روشن ہوتی ہے؟ جی، تو یہ کیا ہوا؟ لزومیہ، تو یہ متصلہ موجبہ لزومیہ۔ تیرہ نمبر مثال دیکھیے: اگر وضو کرو گے تو نماز صحیح ہو گی۔ جی، کون سا قضیہ ہے؟ شرطیہ متصلہ، ایجاب ہے یا نفی ہے؟ ایجاب، تو متصلہ موجبہ ہوا۔ اور کیا وضو جب بھی کرو گے تو نماز ٹھیک ہو جائے گی؟ جی، تو معلوم ہوا ان میں لزوم ہے، وضو ہو گا تو نماز ہو گی، وضو نہیں تو نماز بھی نہیں، تو یہ قضیہ شرطیہ متصلہ موجبہ لزومیہ ہے۔ چودہ نمبر مثال بھئی: اگر ایمان کے ساتھ اعمالِ صالحہ کرو گے یعنی نیک اعمال کرو گے، اگر ایمان کے ساتھ، دوبارہ سنو، اگر ایمان کے ساتھ اعمالِ صالحہ کرو گے تو جنت میں جاؤ گے۔ کون سا قضیہ ہے؟ شرطیہ متصلہ، ایجاب موجبہ ایجاب ہے یا نفی ہے؟ ایجاب، تو متصلہ موجبہ، اور کیا ایمان کے ساتھ جب بھی نیک عمل کرو گے تو ہمیشہ جنت میں جاؤ گے؟ جی، تو یہ کیا ہوا؟ لزومیہ، تو یہ قضیہ شرطیہ متصلہ موجبہ لزومیہ ہوا بھئی۔ پندرہ نمبر مثال دیکھیے: آدمی نیک بخت ہے یا بد بخت۔ شرطیہ منفصلہ، ایجاب ہے یا نفی؟ ایجاب ہے، تو پھر موجبہ، منفصلہ موجبہ، کوئی نہیں کا لفظ آ رہا ہے؟ نہیں، تو ایجاب ہے، تو منفصلہ موجبہ، اور کیا یہ دونوں کی ذات میں، نیک بخت اور بد بخت ہونے کی ذات میں جدائی ہے یا اتفاقاً جدائی آ گئی؟ ذات میں ہی جدائی ہے، ایک وقت میں ایک ہی ہو سکتا ہے: یا نیک بخت ہو گا یا بد بخت، تو یہ کیا ہوا؟ عنادیہ، قضیہ شرطیہ منفصلہ موجبہ عنادیہ۔ اور وہ جو تین قسمیں تھیں اس میں سے یہ کیا ہے؟ آئیے دیکھتے ہیں، بتائیے: نیک بخت یا بد بخت جمع ہو سکتے ہیں؟ ایک ہی شخص نیک بخت بھی ہو اور بد بخت بھی ہو؟ نہیں، تو یہ مانعۃ الجمع ہے۔ اچھا، کیا نیک بخت اور بد بخت دونوں علیحدہ ہو سکتے ہیں؟ نہیں، جو بھی ہو گا یا وہ نیک بخت ہو گا یا بد بخت، تیسری کوئی صورت نہیں، تو یہ مانعۃ الخلو بھی ہیں، تو مانعۃ الجمع بھی ہوا، مانعۃ الخلو بھی ہوا، معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ معلوم ہوا یہ حقیقیہ ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی، اچھی طرح؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔