اچھا بھئی، کتاب پر دیکھیے۔ سبق سوم، تیسرا سبق: قضیہ شرطیہ کی بحث۔ قضیہ شرطیہ وہ قضیہ ہے جو دو قضیوں سے مل کر بنے، جیسے اگر سورج نکلے گا تو دن ہو گا۔ سورج نکلے گا ایک قضیہ ہے، اور دن ہو گا دوسرا قضیہ ہے۔ یا جیسے زید یا تو پڑھا ہوا ہے یا ان پڑھ ہے۔ زید پڑھا ہوا ہے ایک قضیہ ہے، اور زید ان پڑھ ہے یہ دوسرا قضیہ ہے۔ اور ان میں سے پہلے قضیہ کو مقدم اور دوسرے کو تالی کہتے ہیں۔ قضیہ شرطیہ کی دو قسمیں ہیں: قضیہ متصلہ، قضیہ منفصلہ۔
اچھا بھئی، آج ہم قضیہ شرطیہ کے بارے میں پڑھیں گے، لیکن پہلے آئیے گزشتہ سبق کا خلاصہ جلدی جلدی کر لیں بھئی۔ گزشتہ سبق میں ہم نے تصدیقات کی بحث شروع کی تھی۔ سب سے پہلے سبق میں مصنف نے آپ کو حجت کے بارے میں بتلایا۔ آپ نے پڑھا تھا کہ دو یا زیادہ معلوم تصدیقوں کو، کہ دو یا زیادہ معلوم تصدیقوں کو ترتیب دی جائے تو وہ ہمیں نامعلوم تصدیق تک پہنچا دیتی ہیں یعنی مجہول تصدیق تک پہنچا دیتی ہیں۔ تو یہ جو دو معلوم تصدیقیں ہیں جو ہمیں کہاں تک پہنچا رہی ہیں؟ مجہول تصدیق۔ تو ان دو معلوم تصدیقوں کو دلیل اور حجت کہتے ہیں۔ اور میں نے بتلایا تھا دلیل کا معنی ہے رہنمائی کرنا، اور حجت کا معنی ہے غالب آنا۔ تو یہ چونکہ دلیل اس لیے کہتے ہیں کیونکہ یہ ہماری اس تیسری تصدیق یعنی مجہول تصدیق تک ہماری رہنمائی کر رہی ہیں، یہ دو معلوم تصدیقات، اس لیے ان کو، ان کو دلیل کہتے ہیں۔ اور ان کو حجت بھی کہتے ہیں کیونکہ اس دلیل کے ذریعے آپ اپنے مخالف پر بحث میں غالب آ جاتے ہیں، آپ اس سے جیت جاتے ہیں، کس کے ذریعے؟ جب آپ دلیل دیں گے تو یہ ظاہر سی بات ہے آپ کی بات ثابت ہو جائے گی اور آپ اس پر غالب آ جائیں گے، آپ جیت جائیں گے۔ تو لہٰذا اسی لیے اس دلیل کا دوسرا نام کیا ہے؟ حجت ہے، حجت۔
اس کے بعد ہم نے قضیوں کے بارے میں پڑھنا شروع کیا تھا۔ مصنف نے آپ کو بتلایا تھا کہ قضیہ وہ مرکب لفظ ہے جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے، یعنی یہ قضیہ جو ہے جملہ خبریہ کا نام ہے۔ جملہ خبریہ بھی کسے کہتے ہیں؟ جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے۔ تو قضیہ کے اندر ہمیشہ کوئی بات کی جاتی ہے، کوئی بات بتلائی جاتی ہے بھئی، بات بتلائی جاتی ہے۔ پھر آپ نے پڑھا تھا اس قضیہ کی دو قسمیں ہیں: ایک قضیہ حملیہ اور ایک قضیہ شرطیہ۔ قضیہ حملیہ وہ ہے جو دو مفرد سے مل کر بنے۔ جس میں ایک وہ چیز ہو جس کے بارے میں بات کی جائے اور دوسری وہ چیز ہے جو بات کی جائے بھئی۔ اور قضیہ شرطیہ جو ہے وہ دو قضیوں سے مل کر بنے گا یعنی اس قضیہ شرطیہ کے اندر کتنے قضیے ہوں گے؟ دو قضیے ہوں گے۔ جبکہ قضیہ حملیہ میں دو قضیے نہیں ہوں گے، دو مفرد ہوں گے، ایک وہ چیز جس کے بارے میں بات کی جائے اور دوسری وہ جو بات کی جائے۔ اور پھر انہوں نے یہ بھی بتلایا کہ اس میں کبھی ایک چیز کے لیے دوسری چیز کا اثبات ہو گا، کبھی ایک چیز کے لیے دوسری چیز کی نفی۔ مثلاً: زید عالم ہے، دیکھو زید کے لیے عالم ہونے کا اثبات ہے، یا زید عالم نہیں ہے، دیکھو اس میں زید سے عالم ہونے کی نفی۔ تو اس قضیہ، قضیہ حملیہ کے اندر اگر ایک شے کا دوسری شے کے لیے اثبات ہو تو اس کو قضیہ موجبہ کہتے ہیں، قضیہ حملیہ موجبہ۔ اور اگر نفی ہو تو اس کو قضیہ حملیہ سالبہ کہتے ہیں بھئی۔
اور پھر انہوں نے یہ بھی آپ کو بتلایا تھا کہ قضیہ حملیہ جو ہے اس میں تین چیزیں ہوں گی: ایک وہ چیز جس کے بارے میں بات کی جائے اس کو موضوع کہتے ہیں۔ ایک وہ چیز، ایک وہ جو بات کی جائے، جو بات اس کو محمول کہتے ہیں، محمول کہتے ہیں۔ اور تیسرا کہ کس طرح کی بات کرنی ہے، ہونے کی یا نہ ہونے کی، اس کو رابطہ کہتے ہیں۔ مثلاً میں کہتا ہوں: زید عالم ہے، کس کے بارے میں بات کی؟ زید، تو زید ہوا موضوع۔ اور کیا بات کی؟ عالم ہونے کی، تو عالم کیا ہوا؟ محمول ہوا۔ اور "ہے"، "ہے" جو کا لفظ جو آ رہا ہے یہ رابطہ ہے، رابطہ۔ یا کبھی نہ ہونے کی بات ہوتی ہے: زید عالم نہیں ہے، تو زید ہوا موضوع، اور عالم یہ ہے محمول، اور "نہیں ہے" یہ کیا ہوا؟ رابطہ ہوا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ رابطہ ہوا۔
اور میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ منطقی کی اصل توجہ قول معقول کی طرف ہوتی ہے۔ جبکہ اسی قول معقول جو ذہن میں آیا اس پر جب ہم تلفظ کریں تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ قول ملفوظ۔ اور اسی قول کو جب ہم لکھیں تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ قول مکتوب۔ تو چاہے قول معقول ہو، چاہے قول ملفوظ ہو، چاہے قول مکتوب ہو، ان تینوں میں اسی طرح یہ تینوں چیزیں ہوں گی، موضوع بھی ہو گا، محمول بھی ہو گا اور رابطہ بھی ہو گا۔ ہاں، بعض اوقات یہ جو رابطہ ہے یہ مقدر ہوتا ہے، لفظوں میں بظاہر نظر نہیں آتا۔ لفظوں میں نظر نہیں، ہوتا ہے لیکن لفظوں میں نظر نہیں آتا جیسے عربی زبان میں رابطہ لفظوں میں نہیں ہوتا۔ عربی میں زبان میں کہیں گے: زید کھڑا ہے۔ جیسے اردو میں ہے زید، زید عالم ہے۔ عربی میں کہیں گے: زید عالم۔ تو زید ہوا موضوع، عالم کیا ہوا؟ محمول، اور جو رابطہ ہے وہ مقدر ہے۔ وہ کیا ہے؟ مقدر ہے یعنی فرض کر لیں موجود ہے، نظر نہیں آ رہا۔ کیونکہ جب جڑیں گے تو بغیر رابطے کے جڑ ہی نہیں سکتے۔ زید الگ لفظ ہے، عالم الگ لفظ ہے، تو زید زید کی ذات کا نام ہے، عالم ہونے کا معنی ہے جاننے والا، تو یہ جاننے والا یہ تو بکر بھی ہو سکتا ہے، خالد بھی ہو سکتا ہے، لیکن آپ نے اس کو کس کے ساتھ جوڑا؟ زید کے، اور زید کے ساتھ تبھی جڑے گا جب بات پوری ہو: زید عالم ہے۔ اگر آپ صرف کہیں: زید عالم، تو دوسرا آپ کو کہے گا بھئی بات تو پوری کریں، عالم ہے یا نہیں ہے؟ تو یہ "ہے" جو ہے جیسے اردو میں رابطہ ہے، عربی زبان میں رابطہ مقدر ہوتا ہے، تو بعض زبانوں میں رابطہ لفظوں میں موجود ہوتا ہے، بعض زبانوں میں رابطہ مقدر ہوتا ہے جیسے عربی کے اندر ہے بھئی۔
اور پھر یہ بھی میں نے بتلایا تھا کہ یہ جو موضوع، محمول اور رابطہ یہ جس طرح قول معقول میں ہیں اسی طرح قول ملفوظ میں اور اسی طرح قول مکتوب میں۔ یہ جو مکتوب ہوتے ہیں نا، مکتوب جو یہ اصل میں نقوش ہیں۔ یہ کیا ہیں؟ نقوش ہیں۔ میں نے ز، ی، د یہ کچھ لکیریں کھینچ دیں، ایک لکیر کی شکل کس جیسی ہے؟ ز جیسی، ایک کی ی ہے، ایک د، ان کے نام ہم نے رکھے ہوئے ہیں، یہ ز کی لکیر ہے، یہ ی ہے، یہ د ہے، یہ ہیں تو لکیریں ہی نا ساری۔ کسی کے نیچے نقطے ہیں، کسی کے نقطے نہیں ہیں، لیکن ہیں ساری قلم کے ذریعے آپ لکیریں کھینچ رہے ہیں۔ ہر زبان والوں نے ایک چیزیں مقرر کی ہوئی ہیں تو یہ اصل میں نقوش ہیں یعنی لکیریں ہیں، اور یہ لکیریں دلالت کرتی ہیں لفظوں پر۔ ان لکیروں کو ہم دیکھتے ہیں تو سمجھ لیتے ہیں کہ یہ کیا لکھا ہے۔ مثلاً لکھا ہوا ہے ز، ی، د، آپ نے فوراً پڑھ لیا: کیا لکھا ہے؟ زید۔ تو اس لکھے ہوئے نے دلالت کی کس پر؟ لفظ زید پر، یہ جو میں زبان سے تکلم کر رہا ہوں۔ وہ تھا لکھا ہوا، نقوش، اور اس نے کس پر دلالت کی؟ اس نے دلالت کی لفظ زید پر، اور پھر لفظ زید جو ہے دلالت کرتا ہے ذات زید پر۔ جب میں نے اس کو پڑھا زید تو ذہن میں پھر کون آیا؟ زید کی ذات آ گئی۔ تو یہ جو نقوش ہیں یہ دلالت کرتے ہیں کس پر؟ لفظ، لفظوں پر، اور لفظ پھر دلالت کرتے ہیں اس مفہوم اور معنی پر بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ اور ان کا کتنا عظیم فائدہ ہے، کتنا عظیم فائدہ ہے ان نقوش کا، اندازہ تو لگائیں۔ ہزاروں، سینکڑوں سال پہلے، سینکڑوں سال پہلے لوگ گزرے ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم گزرے، صحابہ گزرے، انبیاء گزرے، لیکن ان کی باتیں لکھی ہوئی کتابوں میں ہم تک پہنچیں، ہم ان کو پڑھتے ہیں تو پتہ لگتا ہے کہ اچھا، یہ بات لکھی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر یہ فرمایا۔ اگر یہ نقوش نہ ہوتے تو پھر کتنا مشکل ہو جاتا، کیسے ہر چیز کو انسان یاد رکھ سکتا بھئی؟ تو یہ نقوش کی وجہ سے پرانے بزرگوں کی ساری کتابیں، ان کے علم ہم تک پہنچتے ہیں، ان کی باتیں ہم تک پہنچتی ہیں تو بے انتہا قیمتی چیز ہے، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو بہرحال بات چل رہی تھی قضیہ کی بھئی۔ قضیہ حملیہ آپ نے پڑھ لیا کہ اس میں اگر ایک چیز کا دوسری چیز کے لیے اثبات ہو تو اس کو قضیہ حملیہ موجبہ کہتے ہیں اور اگر ایک چیز کی دوسری چیز سے نفی ہو تو اس کو قضیہ حملیہ سالبہ کہتے ہیں۔ ایجاب کا معنی ہے اثبات اور سلب کا معنی ہے نفی۔ پھر آپ نے پڑھا تھا قضیہ حملیہ کی چار قسمیں ہیں: یا وہ قضیہ، قضیہ شخصیہ ہو گا یا شخصیہ کا دوسرا نام کیا ہے؟ قضیہ مخصوصہ۔ قضیہ شخصیہ اور قضیہ مخصوصہ وہ قضیہ حملیہ ہے جس کا موضوع کوئی معین چیز ہو۔ میں نے کہا: زید عالم ہے، دیکھو ایک معین ذات کے بارے میں بات کی۔ میں نے کہا: یہ ہمارا مدرسہ ہے، دیکھو یہ کسی مخصوص مدرسے کی طرف اشارہ کیا، دیکھو معین چیز کی طرف اشارہ ہوا۔ تو یہ کیا ہے؟ قضیہ مخصوصہ۔ مثلاً آپ کہتے ہیں: جامعہ محمد موسیٰ البازی ہمارا مدرسہ ہے، دیکھا؟ جامعہ محمد موسیٰ البازی یہ ایک متعین مدرسے کا نام ہے، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ کیا ہوا؟ قضیہ شخصیہ۔ یا آپ کہتے ہیں: لاہور بڑا شہر ہے، تو دیکھو لاہور کیا ہے؟ ایک متعین شہر کا نام ہے، تو یہ قضیہ شخصیہ یا قضیہ مخصوصہ ہوا۔ جبکہ باقی تین قضیے کی اقسام جو ہیں قضیہ حملیہ کی وہ ایک قضیہ طبعیہ ہے، ایک قضیہ محصورہ ہے اور ایک قضیہ مہملہ ہے۔ ان میں جو موضوع ہو گا وہ کلی ہو گا۔ جیسے میں کہتا ہوں: انسان جاندار ہے۔ دیکھو موضوع کیا ہے؟ انسان، اور انسان کیا کسی معین ذات کا نام ہے یا یہ ایک کلی ہے؟ کلی ہے، زید بھی انسان، بکر بھی انسان، خالد بھی انسان، آپ بھی سب انسان، تو دیکھو کثیرین پر صادق آ رہا ہے، تو انسان کیا ہوا؟ کلی۔ تو قضیہ طبعیہ، قضیہ محصورہ اور قضیہ مہملہ، تینوں کے اندر موضوع کیا ہو گا؟ کلی ہو گا بھئی، کلی ہو گا۔
اب کس کو قضیہ طبعیہ کہیں گے، کس کو قضیہ محصورہ اور کس کو قضیہ مہملہ کہیں گے؟ آپ نے پڑھا تھا: قضیہ طبعیہ وہ قضیہ حملیہ ہے، ہیں سب حملیہ نا، حملیہ کی قسمیں ہیں۔ قضیہ طبعیہ وہ قضیہ حملیہ ہے جس کا موضوع کلی ہو، کیا ہو؟ کلی ہو، کلی تو سارے ہی ہوں گے طبعیہ میں بھی، محصورہ میں بھی اور مہملہ میں بھی۔ تو پھر آگے تفصیل ابھی آ رہی ہے، قضیہ طبعیہ وہ قضیہ حملیہ ہے جس کا موضوع کلی ہو اور حکم کلی کے مفہوم اور ماہیت پر ہو، کلی کے افراد پر حکم نہ ہو۔ کس پر حکم لگایا جائے؟ میں نے بتایا تھا آپ کو کہ یہ جو ہم بات کرتے ہیں: زید کھڑا ہے، عام الفاظ میں کہیں گے میں نے زید کے بارے میں بات کی، لیکن علمی رنگ میں کیا کہیں گے؟ میں نے زید پر حکم لگایا۔ زید عالم ہے، میں نے کس پر حکم لگایا؟ زید پر۔ جامعہ محمد موسیٰ البازی بڑا مدرسہ ہے، میں نے کس پر حکم لگایا؟ جامعہ محمد موسیٰ البازی پر حکم لگایا۔ جو موضوع ہے نا اس کے بارے میں جو آپ بات کر رہے ہیں وہ اس موضوع پر آپ کیا کر رہے ہیں؟ حکم لگا رہے ہیں، کیا کر رہے ہیں؟ حکم لگا رہے ہیں، یا یوں کہیں، یا یوں کہیں وہ جو خبر ہے نا خبر وہ آپ موضوع پر حمل کر رہے ہیں، دونوں کا ایک ہی معنی ہے، حکم لگانا یا حمل کرنا۔ میں نے کہا: زید عالم ہے، میں نے کس کے بارے میں بات کی؟ زید کے بارے میں۔ علمی انداز میں کیا کہو گے؟ میں نے زید پر حکم لگایا، یا آپ یوں کہیں گے کہ عالم ہونے کا حمل کیا گیا کس پر؟ زید پر، دیکھا حمل کیا گیا، اسی لیے تو اس کو محمول کہتے ہیں کہ اس کا حمل کیا گیا ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ مثلاً میں کہتا ہوں: یہ محنتی طالب علم ہے، تو دیکھو جس کی طرف میں نے اشارہ کیا اس پر محنتی طالب علم ہونے کا حمل کر دیا، اس پر محنتی طالب علم ہونے کا حکم لگا دیا، اس کے بارے میں محنتی طالب علم ہونے کی بات کر دی، معنی سب کا ایک ہی ہے، بات کرنا، حمل کرنا اور حکم لگانا، تینوں کا ایک ہی معنی ہے۔ تو لہٰذا قضیہ جو طبعیہ ہے اس کے اندر اس کلی کے مفہوم پر حکم لگایا جائے گا، اس کلی کے افراد پر حکم نہیں ہو گا۔ مثلاً میں کہتا ہوں: انسان نوع ہے۔ دیکھو موضوع کیا ہے؟ کلی، انسان، اور میں نے کیا حکم لگایا؟ نوع ہے۔ یہ یاد رکھو، یہ جو جنس، نوع، فصل وغیرہ ہیں یہ ماہیت اور مفہوم کی صفات ہوتی ہیں، یہ افراد کی صفات نہیں۔ میں کہہ سکتا ہوں: زید نوع ہے؟ نہیں، زید نوع نہیں ہے، زید تو فرد ہے، نوع تو ماہیت ہوتی ہے۔ انسان نوع ہے، یہ اس انسان سے کیا مراد ہے؟ انسان کی ماہیت یعنی حیوان ناطق، وہ کیا ہے؟ ایک نوع ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ میں کہتا ہوں: حیوان جنس ہے۔ حیوان کے افراد نہیں جنس، حیوان کا مفہوم کیا ہے؟ جنس ہے۔ جنس کسے کہتے ہیں؟ وہ کلی ذاتی جو ایسے افراد پر صادق آئے جن کی حقیقتیں کیا ہوں؟ الگ الگ ہوں، تو دیکھو یہ حیوان، حیوان کے مفہوم کے اعتبار سے حیوان کو جنس کہا جا رہا ہے، افراد کے اعتبار سے نہیں۔ اور بعض اوقات حکم جو ہے وہ افراد پر لگایا جاتا ہے۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: انسان بہت طاقتور ہے۔ اب مجھے بتائیے، انسان کی ماہیت طاقتور ہوتی ہے یا افراد طاقتور ہوتے ہیں؟ افراد طاقتور ہوتے ہیں۔ انسان ہنسنے والا ہے۔ مجھے بتائیے، انسان کی حقیقت ہنستی ہے یا اس کے افراد ہنستے ہیں؟ افراد ہنستے ہیں، تو یہ حکم دیکھو افراد پر لگایا جا رہا ہے۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں کہ طالب علم محنتی ہوتا ہے، مثلاً میں کیا کہتا ہوں؟ طالب علم محنتی ہوتا ہے، اب بتائیے طالب علم کی ماہیت محنت کرتی ہے یا طالب علم کے ذات اور وہ افراد محنت کرتے ہیں؟ افراد محنت کرتے ہیں جو خارج اور واقع میں موجود ہوتے ہیں۔ تو یہاں حکم کس پر لگایا گیا؟ افراد پر۔ تو قضیہ طبعیہ میں ماہیت اور حقیقت پر حکم لگایا جائے گا، افراد پر حکم نہیں لگایا جائے گا۔
جبکہ قضیہ محصورہ اور قضیہ مہملہ میں افراد پر حکم لگایا جائے گا۔ مثلاً: انسان جاندار ہے۔ یہ کس پر حکم؟ افراد۔ اب پتہ کیسے چلے گا یہ مہملہ ہے یا یہ محصورہ ہے؟ میں نے بتایا تھا محصورہ، محصورہ حصر سے ہے، حصر، جس میں حصر کیا گیا ہو، حصر کا معنی ہے بند کرنا، جس میں بند، افراد کو بند کیا گیا ہو کہ یہ ساروں کی بات چل رہی ہے یا بعض کی بات چل رہی ہے، یہ اس میں بیان کیا گیا ہو یعنی اس میں سور ذکر ہو، کیا ذکر ہو؟ آپ کو میں نے بتلایا تھا کہ سب، کل، تمام، دیکھو یہ سور ہیں۔ یہ تمام افراد کا احاطہ کر، مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: تمام طالب علم محنتی ہیں۔ دیکھو اس لفظ تمام نے تمام طلبہ کا کیا کر لیا؟ احاطہ کر لیا اور سب پر کیا حکم لگ گیا؟ کہ سب طلبہ کیا ہیں؟ محنتی۔ اور اگر میں کہوں: بعض طلبہ محنتی ہیں، تو اس لفظ بعض نے کیا کیا؟ افراد کی تعداد بتلا دی کہ یہ جو حکم لگایا جا رہا ہے محنتی ہونے کا، سارے طلبہ پر نہیں ہے بلکہ بعض طلبہ۔ تو یہ جو لفظ، یہ جو کل کو بیان کرے یا بعض کو بیان کرے، اس کو سور کہتے ہیں، اس کو کیا کہتے ہیں؟ سور کہتے ہیں۔ میں نے بتلایا تھا سور جو ہے قدیم زمانے میں جو شہر کے گرد حفاظت کے لیے ایک دیوار بنائی جاتی تھی تاکہ دشمن کسی طرف سے حملہ نہ کر سکے اور ڈاکوؤں وغیرہ سے حفاظت رہے، تو اس دیوار کو سور کہا جاتا تھا۔ جس طرح وہ دیوار پورے شہر کا کیا کر لیتی تھی؟ احاطہ، اسی طرح یہ جو کل یا بعض کا لفظ آیا، یہ بھی موضوع کے افراد کو گھیر لیتا ہے اور بتا دیتا ہے کہ سارے افراد مراد ہیں یا کچھ افراد مراد ہیں۔ میں نے کہا: تمام طلبہ، کتنے افراد مراد ہوئے؟ تمام طلبہ مراد ہوئے، دیکھو سب کا احاطہ ہو گیا، سب اس میں آ گئے۔ اور اگر میں نے کہا: بعض طلبہ، تو سب کا احاطہ کیا یا بعض کا؟ تو دیکھا اس نے بعض طلبہ کا احاطہ کر دیا اور بتلا دیا کہ بعض مراد ہیں، سارے مراد نہیں، اور یہ حکم بعض پر لگایا جا رہا ہے۔ تو یہ اس میں سور آئے گا۔ تو جس قضیے میں سور آئے اس کا دوسرا نام مسوَّرہ ہے، کیا ہے؟ مسوَّرہ۔ س کے ساتھ ہے، و مشدد بھئی، مسوَّرہ۔ اور قضیہ محصورہ بھی اس کا نام ہے، حصر کا معنی بھی بند کرنا۔ جیسے وہ جو سور تھا وہ دیوار تھی، شہر کو کیا کر لیتی تھی ہر طرف سے؟ بند کر لیتی تھی، تو دیکھو حصر کے اندر بھی جب کل یا بعض آ گیا اس نے اس کو کیا کر دیا؟ موضوع کو اس میں بند کر دیا، بتا دیا کہ اس کے سارے افراد اس میں آئے ہیں یا بعض آئے ہیں۔ تو حصر کا معنی کیا ہے؟ بند کرنا، بند کرنا۔ تو اس قضیے کا کیا نام؟ محصورہ، اور دوسرا نام کیا؟ مسوَّرہ۔ اور اس میں بیان ہوتا ہے کہ حکم سارے افراد پر ہے یا بعض افراد پر ہے، کوئی ایک لفظ ذکر ہو گا جو ہمیں بتلائے گا۔ مثلاً میں نے کہا: انسان جاندار ہے، اب میں کہتا ہوں: سارے انسان جاندار ہیں، دیکھو کس پر حکم لگایا؟ ساروں پر، دیکھا یہ سور آ گیا: سارے انسان۔ یا میں کہوں: سب انسان جاندار ہیں، یا میں کہوں: کل انسان کیا ہیں؟ جاندار ہیں۔ تو جو بھی ایسا لفظ جو ہمیں بتلا دے کہ یہاں کل افراد مراد ہیں یا بعض افراد مراد ہیں، اس کو سور کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ سور کہتے ہیں۔
اور پھر آپ نے پڑھا تھا کہ اس، یہ جو محصورہ ہے اس کی چار قسمیں ہیں: یا تو اس میں ایجاب ہو گا یا سلب، پھر ایجاب یا سلب جو ہے بعض افراد کے لیے ہو گا یا کل افراد کے لیے۔ تو دونوں کی دو دو صورتیں ہو گئیں، کتنے بن گئے؟ چار۔ مثلاً میں کہتا ہوں، مثلاً میں کہتا ہوں: ہر انسان جاندار ہے۔ ایجاب ہے یا نفی ہے؟ ایجاب ہے۔ اور کلیہ ہے یا جزئیہ ہے؟ کلیہ جس میں کل افراد کا ذکر ہو اور جزئیہ جس میں بعض کا ذکر ہو۔ تو ہر انسان جاندار ہے، کلیہ ہے یا جزئیہ ہے؟ کلیہ، تو یہ کیا ہوا؟ موجبہ کلیہ۔ اور اگر میں کہوں: بعض انسان جاندار ہیں، یہ کیا ہوا؟ جزئیہ، تو یہ موجبہ جزئیہ۔ اور اگر میں کہوں: کوئی انسان پتھر نہیں ہے، ہر انسان سے دیکھو کوئی انسان، سب سے میں نے پتھر ہونے کی کیا کر دی؟ نفی کر دی، تو سالبہ ہوا، کیا ہوا؟ سالبہ۔ اور کلیہ ہے یا جزئیہ؟ کلیہ، تو یہ سالبہ کلیہ ہوا۔ اور اگر میں کہوں: بعض انسان پتھر نہیں ہیں، بعض انسان تو یہ مجھے بتائیے موجبہ ہے، سالبہ ہے؟ سالبہ ہے، نفی کا لفظ آ رہا ہے۔ اور ہر انسان سے پتھر ہونے کی نفی ہے یا بعض سے نفی ہے؟ جب بعض سے ہے تو اس کو کیا کہیں گے؟ جزئیہ، تو یہ کیا ہوا؟ سالبہ جزئیہ۔ تو گویا چار قسمیں بن گئیں: موجبہ کلیہ اور موجبہ جزئیہ، سالبہ کلیہ اور سالبہ جزئیہ۔ اور میں نے جو مثال ذکر کی: بعض انسان پتھر نہیں ہیں، آپ یہ نہ کہیں کہ یہ جو بات ٹھیک نہیں ہے۔ بھئی میں نے باقیوں کے بارے میں بات ہی نہیں کی کہ باقی انسان پتھر ہیں یا نہیں۔ میں نے صرف کس کے بارے میں بات کی؟ بعض انسانوں کے بارے میں کہ وہ پتھر نہیں ہیں۔ بعض انسانوں کے پتھر نہ ہونے کا یہ معنی نہیں کہ باقی پتھر ہیں، نہیں باقیوں کے بارے میں تو میں نے بات ہی نہیں کی۔ میں نے صرف بعض کے بارے میں بات کی اور میں نے ٹھیک بات کی یا غلط بات کی؟ بات ٹھیک ہے، جو جن جن کے بارے میں میں کہہ رہا ہوں وہ پتھر نہیں ہیں۔ باقی؟ باقی بھی پتھر نہیں لیکن میں نے ان کا ذکر ہی نہیں کیا، میں نے کب کہا کہ وہ پتھر ہیں؟ تو باقیوں کے بارے میں تو میں خاموش ہوں، میں نے تو ان کے بارے میں کوئی بات ہی نہیں کی، لہٰذا آپ یہ نہ کہیں غلط ہے بلکہ یہ کیا ہے؟ صحیح ہے، جن کے بارے میں میں نے بات کی ان کے بارے میں ٹھیک ہے بھئی۔
اور میں نے یہ بھی بتایا تھا کہ قضیے کے اندر آپ نے یہ بھی نہیں دیکھنا کہ یہ سچا ہے یا جھوٹا ہے، بس واقع کو نہیں دیکھنا کہ واقع کے اعتبار سے یہ سچا ہے یا جھوٹا، نفس الامر میں دیکھو کہ جو بات کی گئی ہے اس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہہ سکتے ہیں یا نہیں۔ مثلاً ایک آدمی کہتا ہے: آسمان نیچے ہے۔ اب اس میں تو جھوٹ ہی جھوٹ ہے، سچ کا احتمال نہیں، لیکن پھر بھی اس کو قضیہ کہیں گے کیونکہ واقع کو نہ دیکھیں، ویسے دیکھیں کوئی کسی کو کہے آسمان نیچے ہے، اس کے کہنے والے کو سچا بھی کہا جا سکتا ہے اور جھوٹا بھی کہا جا سکتا ہے۔ ایک آپ اگر کہیں گے یہ جھوٹ بول رہا ہے، ہو سکتا ہے کوئی احمق، بے عقل کہے کہ یہ سچ بول رہا ہے، کہہ سکتا ہے یا نہیں کہہ سکتا؟ یا میں کہتا ہوں: زمین اوپر ہے۔ اب دیکھو اس میں جھوٹ ہی جھوٹ ہے، سچ کا کوئی احتمال نہیں، لیکن واقع ہی کو نہ دیکھو کہ واقع میں تو یہ غلط ہے۔ نفس الامر میں یہ بات کسی کو کہی جائے کہ زمین اوپر ہے، وہ اس کو سچا یا جھوٹا، یا جیسے میں نے اور مثال ذکر کی تھی تاکہ اور وضاحت ہو جائے، مثلاً آپ کہتے ہیں: اللہ ایک ہے۔ اب یہ واقع کے مطابق ہے، سچ ہی سچ ہے، جھوٹ کا کوئی احتمال نہیں، لیکن پھر بھی اس کو قضیہ کہیں گے کیونکہ اس میں ایک بات بتلائی گئی ہے اور جب بھی کوئی بات بتلائی جائے اس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا، اور یہی وجہ تو ہے کہ کفار ہمیں کہتے ہیں کہ تم جھوٹ بولتے ہو، ایسا نہیں ہے۔ دیکھا؟ اگرچہ واقع کے مطابق ہے، لیکن دیکھا کہنے والے کو اہل ایمان کہتے ہیں کہ آپ سچ کہہ رہے ہیں لیکن اسی بات پر کافر کیا کہتا ہے؟ آپ جھوٹ بول رہے ہیں، اللہ ایک نہیں ہے۔ دیکھا؟ نفس الامر کو، واقع کو نہیں دیکھنا بلکہ صرف کس کو دیکھنا ہے؟ اس بات کو دیکھنا ہے کہ اس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے تو اس کو قضیہ کہتے ہیں۔
اور پھر اس کے بعد آپ نے قضیہ مہملہ کے بارے میں پڑھا تھا۔ قضیہ مہملہ میں بھی، ادھر توجہ ہے بھئی؟ قضیہ مہملہ میں بھی حکم افراد پر ہوتا ہے، کس پر؟ مثلاً میں کہتا ہوں: انسان جاندار ہے۔ مجھے بتائیے، انسان کی حقیقت جاندار ہوتی ہے یا اس کے افراد جاندار ہیں؟ یہ ظاہر سی بات ہے اس کے افراد جاندار ہیں، لیکن کتنے افراد جاندار ہیں؟ یہ نہیں بیان کیا گیا، تو اس کو قضیہ مہملہ کہیں گے۔ کیا کہیں گے؟ قضیہ مہملہ۔ تو قضیہ محصورہ، توجہ ادھر دیکھو، قضیہ محصورہ میں بھی افراد پہ حکم اور قضیہ مہملہ میں بھی افراد۔ لیکن قضیہ محصورہ میں حصر ہوتا ہے، بند کیا ہوتا ہے یعنی بتایا گیا ہوتا ہے کہ یہ حکم سارے افراد پر ہے یا بعض پر ہے، جبکہ قضیہ مہملہ میں یہ بیان نہیں ہوتا۔ دیکھو، انسان جاندار ہے، یہ کیا ہے؟ قضیہ مہملہ۔ لیکن اگر اسی کے ساتھ میں لگا دوں: ہر انسان جاندار ہے، اب کیا بن گیا؟ اب یہ محصورہ بن گیا۔ یا میں کہہ دوں: بعض انسان جاندار ہیں، یہ کیا بن گیا؟ قضیہ محصورہ۔ تو حکم دونوں میں افراد پر ہے لیکن مہملہ میں یہ نہیں بیان ہوتا کہ بعض پر حکم ہے یا کل پر، جبکہ محصورہ میں یہ بیان ہوتا ہے۔ جبکہ قضیہ طبعیہ میں کس پر حکم ہوتا ہے؟ حقیقت اور ماہیت اور مفہوم پر حکم ہوتا ہے، افراد پر حکم نہیں۔ تو لہٰذا قضیہ محصورہ کو تو آپ آرام سے پہچان لیں گے، محصورہ میں سور ذکر ہو گا کہ یہ حکم سب پر ہے یا بعض، آپ محصورہ کو فوراً پہچان لیں گے۔ البتہ قضیہ طبعیہ اور قضیہ مہملہ میں مشکل پیش آتی ہے، ان کو کیسے پہچانیں؟ انسان نوع ہے۔ انسان جاندار ہے۔ انسان نوع ہے، یہ طبعیہ ہے۔ انسان جاندار ہے، یہ مہملہ ہے۔ اب کیسے فرق کریں گے دونوں میں؟ میں نے بتلایا تھا، طریقہ بتلایا تھا کہ آپ وہاں پر کل اور بعض لگائیں، اگر کل اور بعض لگانے سے بھی بات ٹھیک رہتی ہے تو اس کا مطلب ہے یہ مہملہ ہے، کیونکہ کل اور بعض ہونا یہ افراد میں ہوتا ہے نا، مفہوم میں تو نہیں، مفہوم تو ایک ہی ہوتا ہے، کہ یہ حکم سارے افراد پر ہے یا بعض افراد پر ہے۔ تو اگر مثلاً میں کہتا ہوں: انسان نوع ہے، مجھے بتائیے ادھر کل اور بعض لگا سکتے ہیں؟ ہر انسان نوع ہے، کیا ہر انسان نوع ہے؟ نہیں نہیں، نوع یہ حقیقت اور ماہیت ہے، ہر فرد نوع نہیں۔ یا میں کہتا ہوں: بعض انسان نوع ہیں۔ مثلاً زید کیا ہے؟ نوع ہے، یہ بات درست بنتی ہے؟ نہیں، زید تو نوع نہیں ہے بھئی، نوع تو کس کو کہتے ہیں؟ وہ مفہوم جو کثیرین پر صادق آئے اور ان سب کی حقیقت کیا ہو؟ ایک ہو، دیکھا؟ تو یہاں کل اور بعض کا حکم لگانا بات ہی نہیں بن رہی، اور جبکہ دوسری طرف انسان جاندار ہے، وہاں آپ نے کہا: سب انسان جاندار ہیں، یا آپ نے کہہ دیا: بعض انسان جاندار ہیں، دیکھو بات ٹھیک ہے، معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ قضیہ مہملہ ہے۔ اور وہ جو انسان نوع ہے وہ کیا تھا؟ قضیہ طبعیہ۔ فرق اب آپ کر لیں گے؟ قضیہ طبعیہ میں اور قضیہ مہملہ میں کیسے فرق کریں گے؟ کہ اگر، فرق کیسے کریں گے؟ کل اور بعض کو ساتھ لگا کر دیکھو، کس کو؟ اگر کل اور بعض ساتھ لگانے سے بھی بات ٹھیک رہتی ہے تو معلوم ہوا یہ قضیہ کون سا ہے؟ مہملہ ہے، اور اگر کل اور بعض لگانے سے بات ٹھیک نہیں رہتی تو سمجھ جائیں یہ کون سا قضیہ ہے؟ قضیہ طبعیہ ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
اب آئیے بھئی آج کے سبق پر۔ قضیہ شرطیہ کے بارے میں ہم پڑھیں گے آج بھئی۔ آپ نے پڑھا: قضیہ شرطیہ، توجہ سے بھئی، یہ منطق ہے، بڑا دلچسپ فن ہے، انسان اس کو سیکھ لے اچھی طرح، لطف آتا ہے اس کا بھئی۔ اس میں ساری عقلی باتیں ہیں کہ ہماری عقل میں کس کس طرح کی باتیں آتی ہیں، یہ سب یہ جو ہمارے ذہن میں باتیں آتی ہیں نا انہی کے نام رکھے ہوئے ہیں۔ کبھی ایک چیز بات آتی ہے، کبھی دو باتیں جڑی ہوئی آتی ہیں، ایک بات آئے تو اس کا نام قضیہ حملیہ ہے، دو باتیں جڑی ہوئی آئیں تو اس کا نام قضیہ شرطیہ ہے۔ تو بس ان کے نام الگ الگ رکھ دیے۔
اچھا، آپ نے پڑھا قضیہ شرطیہ وہ قضیہ ہے جو دو قضیوں سے مل کر بنے۔ جو کس سے مل کر بنے؟ دو قضیوں، توجہ سے، ادھر دیکھو بھئی، کتاب پر نہ دیکھو۔ قضیہ شرطیہ وہ قضیہ ہے جو دو قضیوں سے مل کر بنے۔ اگر ان دو قضیوں کے اندر جوڑ اور ربط کو بیان کیا جائے تو اس کو قضیہ شرطیہ متصلہ کہتے ہیں۔ کیا کیا جائے؟ ادھر دیکھو، ایک یہ قضیہ ہے، ایک یہ دو قضیے ہیں، ان دونوں کو میں نے کیا کیا؟ جوڑ دیا۔ اگر اس، ان دونوں کے درمیان جوڑ اور ربط کو بیان کیا جائے تو اس کو قضیہ متصلہ کہیں گے۔ کیا کہیں گے؟ قضیہ متصلہ۔ یا چلیں، پھر یہ میں آگے بیان کرتا ہوں۔
قضیہ شرطیہ کسے کہتے ہیں؟ جو دو قضیوں سے مل کر مرکب ہو یعنی اس میں ایک قضیہ نہیں ہو گا، کتنے ہوں گے؟ دو قضیے ہوں گے۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: اگر سورج نکلا ہوا ہے تو دن موجود ہے۔ اگر، دیکھو دو قضیے ہیں، کیسا پہلا قضیہ کیا؟ اگر سورج نکلا ہوا ہے، اور دوسرا قضیہ کیا؟ دن موجود ہے، دیکھو یہ دو قضیے۔ اور بعض اوقات دوسری صورت ہو گی، مثلاً میں کہتا ہوں: یہ عدد یا تو طاق ہے یا جفت ہے۔ طاق اور جفت جانتے ہو؟ جی؟ طاق جس میں جوڑے نہ بن سکیں: ایک، تین، پانچ، سات، نو، گیارہ، یہ سب عدد کیا ہیں؟ طاق ہیں، اور اگر جوڑے بن سکیں یعنی دو سے تقسیم ہو سکیں اس کو جفت کہتے ہیں: دو، چار، چھ، آٹھ، دس، بارہ، یہ سب کیا ہیں؟ جفت۔ سمجھ گئے کہ نہیں سمجھ گئے؟ اچھا، تو یہ جو مثلاً میں کہتا ہوں: یہ عدد یا تو طاق ہے یا جفت ہے، دیکھو دو قضیے ہو گئے۔ یہ عدد یا تو طاق ہے، ایک قضیہ، دوسرا قضیہ؟ یا جفت ہے، اس کو پورا کر لو، یا یہ عدد جفت ہے، دو باتیں کی گئیں نا، یہ عدد یا کیا ہے؟ طاق ہے، یا یہ عدد کیا ہے؟ جفت ہے۔ تو کتنے قضیے ہوئے؟ دو۔ اب چونکہ یہ عدد دو دفعہ آ رہا تھا تو اس کو ایک دفعہ ختم کر دیا: یہ عدد یا طاق ہے یا جفت ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کتنے قضیے ہیں دراصل؟ دو۔ یا مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: یا زید عالم ہے یا جاہل ہے۔ تو زید عالم ہے ایک قضیہ، اور زید جاہل ہے دوسرا قضیہ۔ آپ یہ نہ کہیں کہ اس میں تو زید دو دفعہ نہیں آ رہا، بھئی دوسری دفعہ ہم ذکر نہیں کرتے ہوتا تو ہے نا، جاہل کس کے جاہل ہونے کی بات کی جا رہی ہے؟ زید ہی کے، تو لہٰذا زید، یا زید عالم ہے یا جاہل ہے، کون جاہل ہے؟ زید ہی جاہل ہے، تو گویا یوں ہوا، بات یوں ہو گئی: یا زید عالم ہے یا زید جاہل ہے۔ تو کتنے قضیے ہو گئے؟ دو قضیے ہو گئے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو قضیہ شرطیہ میں ہمیشہ کتنے قضیے ہوں گے؟ دو۔ بہت بڑی دلچسپ بحث ہے، توجہ سے سنو بھئی، آپ خود کہیں گے کہ منطق بڑی بڑا پرلطف فن ہے بھئی۔
تو دیکھو، اگر سورج نکلا ہوا ہے تو دن موجود ہے، کتنے قضیے ہیں؟ دو قضیے ہیں، معلوم ہوا یہ کون سا قضیہ؟ قضیہ شرطیہ ہے۔ یا میں کہتا ہوں: یا زید عالم ہے یا جاہل ہے، کتنے قضیے؟ دو، معلوم ہوا یہ کون سا قضیہ؟ قضیہ شرطیہ۔ پھر یاد رکھو، اس قضیہ شرطیہ کے اندر جو پہلا قضیہ ہوتا ہے اس کو کہتے ہیں مقدم، اور جو بعد میں دوسرا قضیہ آیا اس کو کہتے ہیں تالی۔ کیا کہتے ہیں؟ تالی، پہلے کو مقدم دوسرے کو تالی۔ یہ کتاب میں لفظ آ رہے ہیں ابھی، پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ تو تالی: ت دو نقطوں والی، ا، ل، ی: تالی بھئی۔ مقدم نام سے ہی پتہ چل رہا ہے، مقدم جس کو آگے کیا گیا ہو، تو یہ جو پہلا قضیہ کیا ہے اس کو آگے کیا گیا ہے، پہلے لایا گیا ہے تو یہ کیا ہے؟ مقدم۔ اور تالی، تلا یتلو کا معنی پیچھے آنا، بعد میں آنا، تو دوسرا قضیہ کیا ہے؟ بعد میں آیا ہے تو اس کا نام کیا ہوا؟ تالی، بعد میں آنے والا۔ مقدم: آگے کیا ہوا، اور تالی: بعد میں آنے والا۔ جیسے قضیہ حملیہ میں پہلے جز کا نام کیا تھا؟ موضوع، دوسرے کا نام کیا تھا؟ محمول۔ اسی طرح یہاں پر جو قضیہ مقدم، یہاں تو یہاں تو مفرد نہیں ہے نا، یہاں تو دو قضیے ہیں، تو جو قضیہ پہلے اس کا نام مقدم، جو قضیہ بعد میں اس کا نام تالی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی اچھی طرح سب کو؟
ائیے اب کتاب پر دیکھیے بھئی۔ سبق سوم، تیسرا سبق: قضیہ شرطیہ کی بحث۔ قضیہ شرطیہ وہ قضیہ ہے جو دو قضیوں سے مل کر بنے، جیسے اگر سورج نکلے گا تو دن ہو گا۔ تو سورج نکلے گا ایک قضیہ ہے، اور دن ہو گا دوسرا قضیہ ہے۔ یا جیسے زید یا تو پڑھا ہوا ہے یا ان پڑھ ہے۔ زید پڑھا ہوا ہے ایک قضیہ ہے، اور زید ان پڑھ ہے یہ دوسرا قضیہ ہے۔ اور ان میں سے پہلے قضیہ کو مقدم اور دوسرے کو تالی کہتے ہیں۔ مقدم کا کیا معنی؟ جس کو آگے کیا ہوا ہے یعنی یوں کہو آسان لفظوں میں پہلے آنے والا، اور تالی: بعد میں آنے والا۔ پھر قضیہ شرطیہ کی دو قسمیں ہیں: قضیہ متصلہ اور قضیہ منفصلہ۔ بھئی قضیہ شرطیہ کی یاد رکھیے دو قسمیں ہیں: ایک متصلہ، ایک منفصلہ۔
متصلہ اتصال سے ہے۔ اتصل یتصل اتصالا فھو متصل۔ اتصل، اتصال کا معنی ہے جڑنا، تعلق ہونا، ربط ہونا۔ اور منفصلہ انفصال سے ہے: انفصل ینفصل انفصالا فھو منفصل۔ دیکھا؟ متصل، اتصل یتصل اتصالا فھو متصل، اسم فاعل ہے، اور قضیہ مذکر ہے یا مؤنث؟ مؤنث ہے، آخر میں کیا ملی ہوئی ہے؟ گول ت جڑی ہوئی ہے، اور گول ت کس کی علامت ہے؟ مؤنث کی، تو قضیہ کا لفظ مؤنث، لہٰذا اس کی صفت بھی کیا لائے؟ مؤنث، متصلۃ، مؤنث لے کر آئے، متصل نہیں لائے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ وہی اسم فاعل ہے لیکن مؤنث کا صیغہ ہے۔ اسی طرح انفصل ینفصل انفصالا فھو منفصل، انفصال کا معنی جدا ہونا، الگ ہونا، تو اسی سے اسم فاعل کیا بنا؟ منفصل، اور پھر مؤنث کا صیغہ بنا دو: منفصلۃ۔ تو قضیہ متصل، قضیۃ متصلۃ اور قضیۃ منفصلۃ، تو یہ متصلہ اور منفصلہ دو قسمیں ہیں، کس کی؟ قضیہ شرطیہ کی۔
بھئی متصلہ نام سے ہی پتہ چل رہا ہے، اتصال کا کیا معنی؟ جڑنا، ملنا۔ یہ دیکھو، یہ قضیہ شرطیہ ہے، اس میں کتنے قضیے؟ دو، یہ پہلا قضیہ اور یہ دوسرا۔ اگر آپ ان دو قضیوں میں جوڑ اور اتصال بتلائیں تو اس کو قضیہ متصلہ کہیں گے۔ اگر سورج نکلا ہو گا تو دن موجود ہو گا، دیکھا؟ دوسرا قضیہ پہلے کے ساتھ جڑا ہوا ہے، سورج نکلے گا تو یقینی بات ہے کیا ہو گا؟ دن ہو گا یا نہیں؟ تو کس کو بیان کیا جا رہا ہے؟ اتصال کو اور جوڑ کو اور ربط کو، کہ پہلا قضیہ ہوا تو دوسرا ضرور ہو گا، اس کو قضیہ متصلہ کہتے ہیں، جس میں کیا بیان کیا جائے؟ جوڑ اور اتصال کو بیان کیا جائے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ قضیہ متصلہ کہتے ہیں۔ اور اگر دو قضیوں کے درمیان انفصال یعنی جدائی کو بتایا جائے تو اس کو قضیہ منفصلہ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ مثلاً: زید یا تو عالم ہے یا زید جاہل ہے، دیکھا؟ دونوں چیزیں اکٹھی ہو سکتی ہیں؟ نہیں، یا زید عالم ہو گا یا جاہل، ایک وقت میں ایک ہی چیز ہے، تو اس میں دیکھو کس کو بیان کیا جا رہا ہے؟ انفصال کو، کہ ان دو قضیوں میں، دیکھو ادھر دیکھو، یہ قضیہ ہے، قضیہ شرطیہ ہے، کتنے قضیے ہیں؟ تو اس میں دو قضیے ہو گئے، پہلا قضیہ کیا؟ زید یا تو عالم ہے۔ دوسرا قضیہ کیا؟ یا جاہل۔ اب مجھے بتائیے، دونوں اکٹھے ہو سکتے ہیں؟ نہیں، معلوم ہوا دونوں میں کیا بیان کیا جا رہا ہے؟ انفصال اور جدائی کو بیان کیا جا رہا ہے، کہ اگر پہلا ہوا تو دوسرا نہیں ہو سکتا اور اگر دوسرا ہوا تو پہلا نہیں ہو سکتا، اس کو یہ کیا ہے؟ انفصال اور جدائی، تو اس کو کیا کہیں گے؟ قضیہ منفصلہ کہیں گے۔ تو قضیہ متصلہ نام سے ہی پتہ چل رہا ہے اس میں کیا بیان کیا جائے گا؟ اتصال اور جوڑ کو بیان کیا جائے گا دو قضیوں کے درمیان، کس کے درمیان؟ دو قضیوں کے درمیان۔ اور قضیہ منفصلہ میں کیا بیان کیا جائے گا؟ انفصال اور جدائی کو بیان کیا جائے گا، کس کے درمیان انفصال اور جدائی؟ دو قضیوں کے درمیان، کس کے درمیان؟ پھر دہرائیں بھئی، قضیہ شرطیہ اس میں کتنے قضیے ہوں گے؟ دو قضیے۔ اگر ان دو قضیوں میں اتصال اور ربط کو بیان کیا جائے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ قضیہ متصلہ، اور اگر انفصال کو بیان کیا جائے؟ قضیہ منفصلہ۔ کس میں انفصال بیان ہو گا؟ دو قضیوں میں۔ کس میں اتصال بیان ہو گا؟ دو قضیوں میں اتصال یا انفصال بیان ہو گا، صورت سمجھ میں آ گئی؟
اور اس میں یاد رکھو، پہچان کیسے ہو گی یہ متصلہ ہے یا منفصلہ؟ بھئی آسان پہچان یہ ہے کہ قضیہ متصلہ میں عموماً "اگر" کا لفظ آئے گا، کیا آئے گا؟ اگر سورج نکلا ہے تو دن ہو گا، دیکھا "اگر" کا لفظ آیا۔ اور قضیہ منفصلہ میں "یا" کا لفظ آئے گا، کیا آئے گا؟ "یا"، زید یا تو عالم ہے یا جاہل ہے، تو "یا" کا لفظ آئے گا۔ تو "اگر" کا لفظ آئے تو ویسے بھی آپ غور کر لینا، اگر اتصال کو بیان کیا جا رہا ہے یا انفصال کو، اس سے بھی، لیکن اگر ویسے مشکل ہو تو "اگر" کے لفظ کے ذریعے آپ آسانی سے پہچان سکتے ہیں، "اگر" کا لفظ آئے تو یہ قضیہ متصلہ، اور "یا" کا لفظ آئے تو منفصلہ ہے۔
ہاں، ابھی آپ کو گہرائی میں لے کے جاتے ہیں، یہ منطق آپ کے دماغ کو ہلا دے گی بھئی، پتہ چلے گا کہ کس کو بات اچھی طرح سمجھ میں آئی ہے۔ اب دیکھیے بھئی، اب قضیہ جو متصلہ ہے اس میں کیا بیان کیا جائے گا؟ اتصال، اتصال کو۔ اور قضیہ منفصلہ میں کیا بیان کیا جائے گا؟ انفصال کو۔ اب یاد رکھو، یہ جو قضیہ شرطیہ متصلہ، کون سا قضیہ؟ قضیہ شرطیہ متصلہ، اس کے اندر ایجاب ہو گا یا سلب۔ اگر ایجاب ہے تو قضیہ شرطیہ متصلہ موجبہ، کیا ہو گا؟ قضیہ شرطیہ متصلہ موجبہ۔ اور اگر اس میں سلب ہو تو پھر؟ قضیہ شرطیہ متصلہ سالبہ ہو گا۔ اسی طرح منفصلہ کی بھی دو قسمیں ہیں: یا وہ موجبہ ہو گا یا سالبہ ہو گا۔ اب کیسے پتہ چلے گا کہ موجبہ ہے یا سالبہ ہے؟ بھئی آپ معنی پہ غور کر لیں گے۔ دیکھو ادھر دیکھو، یہ دو قضیے ہیں، یہ دو، یہ قضیہ شرطیہ ہے نا تو اس میں کتنے قضیے ہیں؟ دو۔ یہ قضیہ شرطیہ ہے، اس میں یہ دو قضیے ہیں، ان میں اتصال کو بیان کیا جا رہا ہے، کس کو؟ یعنی اگر پہلا قضیہ ہے تو دوسرا بھی ہو گا۔ اگر پہلا پایا جائے، اگر سورج موجود ہے تو دن ہو گا، تو کیا بیان ہوا؟ اتصال بیان ہوا یعنی "اگر" کا لفظ آیا، تو یہ کون سا قضیہ ہوا؟ قضیہ، ابھی موجبہ کی بات نہیں میں نے کی، ابھی صرف یہ بتاؤ منفصلہ ہے یا متصلہ؟ یہ متصلہ ہے۔ اب مجھے بتاؤ، پہلے اگر پہلے قضیے کے ہونے پر دوسرے قضیے کا ثبوت ہو تو یہ موجبہ ہوا، اور اگر پہلے کے ہونے پر دوسرے کی نفی ہو تو یہ سالبہ ہے۔ کیا؟ بھئی یہ دو قضیے ہیں نا، یہ قضیہ شرطیہ ہے، یہ کیا ہے؟ میری طرف دیکھو بھئی، یہ کیا ہے؟ قضیہ شرطیہ، تو اس میں کتنے جز؟ اس میں دو قضیے ہیں، یہ دو قضیے۔ اور ان جب قضیہ متصلہ ہے تو ان دونوں میں کیا بیان کیا جا رہا ہے؟ اتصال ہے، اتصال کا کیا معنی ہوتا ہے؟ اگر پہلا ہو گا تو دوسرا دوسرا بھی ضرور ہو گا۔ اگر پہلا ہو گا، دوسرا بھی ضرور ہو گا۔ اب اس دوسرے کے اندر اگر اثبات ہے تو یہ قضیہ متصلہ موجبہ، اور اگر دوسرے میں نفی ہے تو یہ قضیہ متصلہ سالبہ ہے۔ مثلاً: اگر سورج نکلا ہوا ہے تو دن ہو گا۔ اگر سورج نکلا ہوا ہے، یہ پہلا قضیہ، دن ہو گا، یہ دوسرا۔ یعنی پہلے کو مانو گے تو دوسرے کو بھی ماننا پڑے گا۔ اگر سورج کے نکلنے کو مانتے ہو تو دن کے ہونے کو بھی ماننا پڑے گا۔ اور دن کا ہونا مان رہے ہو یا نہ ہونا؟ ہونا، معلوم ہوا ایجاب ہے، کیا ہے؟ ایجاب۔ تو یہ قضیہ متصلہ موجبہ ہوا۔ اور اگر اس میں نفی ہوتی، مثلاً میں کہتا ہوں: اگر سورج نکلا ہوا ہے تو رات نہیں ہو گی۔ اگر سورج نکلا ہوا ہے تو رات نہیں ہو گی۔ دیکھو پہلا قضیہ کیا؟ سورج نکلا ہوا ہے۔ دوسرا قضیہ کیا؟ رات نہیں ہے، رات نہیں ہے۔ اور دونوں میں جوڑ ہے یا نہیں؟ جب بھی سورج نکلا ہو گا، رات نہیں ہو گی، دونوں پائے جائیں گے۔ پہلے کیا تھا؟ جب بھی سورج نکلا ہو گا، دن ضرور ہو گا یعنی جب پہلے کو مانو گے، دوسرے کو بھی ماننا پڑے گا۔ یہاں بھی اسی طرح ہے، جب پہلے کو مانو گے دوسرے کو بھی ماننا پڑے گا۔ اگر سورج نکلا ہوا ہے تو رات نہیں ہو گی، ماننا پڑے گا یا نہیں؟ کہ سورج نکلا ہو اور رات ہو سکتی ہے؟ نہیں، تو پھر رات نہیں ہو گی۔ تو اب مجھے بتائیے، اگر سورج نکلا ہو، نکلا ہوا ہے تو رات نہیں ہے، تو دوسرے قضیے میں کیا ہے؟ نفی ہے یا اثبات ہے؟ نفی ہے، تو اس کو کہیں گے قضیہ قضیہ متصلہ سالبہ، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟ ہاں، یہ منطق ہے بھئی، ابھی دیکھیں آگے مثالیں آئیں گی آپ کو لطف آ جائے گا بھئی۔
دو قضیوں میں دیکھو اتصال بیان ہو رہا ہے، تو پہلے قضیے کے قضیہ متصلہ میں پہلے قضیے کے ماننے پر دوسرے کو بھی ماننا پڑتا ہے۔ تو اگر پہلے کے ماننے پر دوسرے کے اثبات کو مانا جائے تو وہ قضیہ متصلہ موجبہ، اور اگر دوسرے کے اندر نفی ہے اس نفی کو ماننا پڑے پہلے کے ماننے پر تو اس کو قضیہ متصلہ سالبہ، قضیہ متصلہ سالبہ کہیں گے۔ مثلاً کیا مثال میں نے دی؟ اگر سورج نکلا ہوا ہے تو رات نہیں ہے۔ توجہ ہے؟ میں اب لفظ ذرا بدلنے لگا ہوں، آپ کی توجہ ہونی چاہیے۔ اگر سورج نکلا ہوا ہے تو رات نہیں ہے۔ اسی کو میں یوں کہوں: ایسا نہیں ہے، ایسی بات نہیں ہے کہ سورج نکلا ہو تو رات ہو۔ وہی بات میں کر رہا ہوں لیکن صرف میں نے لفظ بدل دیا ہے۔ ایسی بات نہیں ہے، کیسی بات نہیں ہے؟ کہ سورج نکلا ہو تو رات ہو۔ بلکہ کیا ہو گی؟ دن ہو گا اور یعنی رات نہیں ہو گی، تو بات ٹھیک ہے یا غلط ہے؟ صحیح ہے۔ اور سورج کے ہونے پر رات کے ہونے کی بات کی گئی ہے یا نہ ہونے کی بات کی گئی ہے؟ نہ ہونے۔ تو یہ کون سا قضیہ ہوا؟ قضیہ متصلہ سالبہ، تو صورت سمجھ میں آ گئی؟ ایسی بات نہیں ہے کہ سورج نکلا ہو تو رات ہو، بلکہ رات نہیں ہو گی۔
دوسری مثال دو، دوسری مثال: اگر زید انسان ہے، اگر زید انسان ہے تو گھوڑا نہیں ہے۔ اب پتہ چلے گا بھئی۔ اگر زید انسان ہے تو گھوڑا نہیں ہے۔ بھئی اگر پہلی بات مانتے ہو کہ زید کون ہے؟ انسان، تو پھر دوسری بھی ماننی پڑے گی، جب انسان ہے تو لازمی بات ہے وہ گھوڑا نہیں ہے۔ تو دونوں میں کیا بیان ہو رہا ہے؟ اتصال بیان ہو رہا ہے، کیا ہو رہا ہے؟ اتصال بیان ہو رہا ہے، اور کون سا ہے متصلہ؟ متصلہ سالبہ ہے، یا یوں کہو: ایسی بات نہیں ہے کہ زید انسان ہو تو گھوڑا بھی ہو۔ ایسی بات نہیں کہ زید انسان ہو تو گھوڑا بھی ہو، بلکہ گھوڑا پھر وہ نہیں، تو یہ بھی کون سا ہوا؟ متصلہ سالبہ ہوا، شاباش شاباش۔ اچھی طرح بات سمجھ میں آ گئی؟
اچھا، اب دیکھیے بھئی ذرا کتاب پر۔ قضیہ شرطیہ کی دو قسمیں ہیں: ایک قضیہ متصلہ اور قضیہ منفصلہ۔ شرطیہ متصلہ وہ قضیہ شرطیہ ہے کہ اس میں یہ بات ہو کہ ایک قضیے کے تسلیم کر لینے پر، تسلیم کر لینا یعنی مان لینے پر، ایک قضیے کے مان لینے پر دوسرے قضیے کے ثبوت یا نفی کا حکم ہو۔ اگر ثبوت کا حکم ہو گا تو متصلہ موجبہ کہلائے گا، جیسے اگر زید انسان ہے تو جاندار بھی ہو گا۔ اگر زید انسان ہے تو جاندار بھی ہو گا۔ دیکھو اس قضیہ میں زید کے انسان ہونے پر اس کے جاندار ہونے کا حکم کیا گیا ہے، تو یہ کیا ہوا؟ متصلہ موجبہ۔ اور اگر نفی کا حکم ہو تو متصلہ سالبہ ہو گا، جیسے اگر زید انسان ہے تو گھوڑا نہیں ہے۔ دیکھو اس قضیہ میں زید کے انسان ہونے کی صورت میں اس کے گھوڑا ہونے کی نفی کی گئی ہے۔ یہاں تک بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟
اسی طرح یاد رکھیے قضیہ شرطیہ منفصلہ، قضیہ شرطیہ منفصلہ میں نے آپ کو بتلا دیا، کسے کہتے ہیں؟ جس میں دو قضیوں کے درمیان جدائی اور انفصال کو بیان کیا جائے۔ مثلاً میں کہتا ہوں: یہ عدد یا تو طاق ہے یا جفت ہے۔ یا زید یا تو عالم ہے یا جاہل ہے۔ پھر اس میں بھی اسی طرح ہے، اگر انفصال، ادھر دیکھو، یہ دو قضیے ہیں اور ان کے درمیان جدائی بیان کی جا رہی ہے، تو یہ کون سا قضیہ ہوا؟ منفصلہ، یہ قضیہ شرطیہ ہے، اس کے اندر دو قضیے ہیں اور ان دونوں کے درمیان لفظ "یا" آ رہا ہے، "یا"۔ یا تو زید عالم ہے یا جاہل، تو یہ قضیہ شرطیہ منفصلہ ہوا۔ اب دیکھو، اگر دونوں کے درمیان جدائی کا اثبات ہو، کیا ہو؟ تو یہ قضیہ منفصلہ موجبہ ہے، اور اگر جدائی کا سلب ہو تو پھر یہ قضیہ منفصلہ سالبہ ہے، منفصلہ سالبہ۔ مثلاً میں کہتا ہوں: یا تو زید عالم ہے یا جاہل ہے۔ دیکھو، زید کے عالم ہونے اور جاہل ہونے میں جدائی کو ثابت کیا گیا ہے یا جدائی کی نفی کی گئی ہے؟ جدائی کو ثابت کیا گیا ہے کہ یہ دونوں میں سے ایک وقت میں ایک چیز ہو گی، یا تو وہ کیا ہو گا؟ عالم، یا کیا ہو گا؟ جاہل، دونوں اکٹھے نہیں۔ تو جدائی کو ثابت کیا جا رہا ہے یا ختم کیا جا رہا ہے؟ جدائی کو ثابت کیا جا رہا ہے۔ اور اگر جدائی کو ختم کیا جائے تو پھر یہ قضیہ منفصلہ سالبہ ہو گا۔ مثلاً، مثلاً ایسا نہیں ہے، توجہ ہے؟ ایسا نہیں ہے کہ یا تو سورج نکلا ہو یا دن ہو۔ جی، اب پتہ چلے گا کس کو بات سمجھ میں آئی۔ ایسا نہیں ہے کہ یا تو سورج نکلا ہو یا دن ہو۔ اب دیکھو ذرا تفصیل میں بیان کرتا ہوں، سنو۔ ایک پہلا قضیہ کیا؟ اگر ایسا، ایسا نہیں ہے اس کو تو ذرا ایک طرف رکھ دو: سورج نکلا ہو، دوسری طرف کیا ہے؟ دن ہو۔ اب مجھے بتاؤ، سورج کے نکلنے اور دن کے ہونے میں جدائی ہے یا اکٹھے بھی ہو جاتے ہیں؟ اکٹھے بھی ہو جاتے ہیں، لیکن یہ جو لفظ "یا" بیچ میں آتا ہے، یہ کس لیے آتا ہے؟ جدائی کے لیے آتا ہے، تو میں نے دونوں کے درمیان "یا" لے آیا، پہلا کیا ہے؟ سورج نکلا ہے، دوسرا کیا ہے؟ دن موجود، ان دونوں میں تو جدائی نہیں لیکن میں بیچ میں کیا لے آیا؟ "یا"، اور "یا" کس پہ دلالت کرتی ہے؟ جدائی پر۔ اب اس جدائی کو ختم کرنے کے لیے میں شروع میں نفی لے آیا: ایسا نہیں ہے کہ سورج نکلا ہو یا دن ہو یعنی دونوں الگ الگ ہوں، ایسا نہیں ہے، دونوں اکٹھے بھی ہو سکتے ہیں بلکہ اکٹھے ہوتے ہیں۔ بات سمجھ بھی آئی کہ اوپر سے گزر گئی؟
اور مثال لو: یہ شے، یہ چیز یا تو درخت ہے یا پتھر ہے۔ یہ چیز یا تو درخت ہے یا پتھر، پہلا قضیہ کیا؟ یہ چیز درخت ہے۔ دوسرا قضیہ کیا؟ یہ پتھر ہے۔ مجھے بتاؤ، یہ دو چیزیں اکٹھی ہو سکتی ہیں؟ جی؟ درخت بھی ہو اور پتھر بھی ہو ایک ہی چیز؟ نہیں، جو درخت ہے وہ پتھر نہیں، جو پتھر ہے وہ درخت نہیں۔ تو ان دونوں میں مجھے بتاؤ، یہ چیز یا تو درخت ہے یا کیا ہے؟ پہلا قضیہ کیا؟ یہ چیز درخت ہے۔ دوسرا قضیہ کیا؟ اور بیچ میں کیا لایا؟ "یا"، تو میں نے جدائی کو ثابت کیا یا نفی کی؟ ثابت، تو یہ کیا ہوا؟ قضیہ منفصلہ موجبہ۔ دوسری مثال لیں، دوسری مثال لے لیں۔ ایسا نہیں ہے کہ آپ صرفی و نحوی ہوں یا منطقی ہوں۔ توجہ ہے؟ دماغ حاضر ہیں سب کے؟ ایسا نہیں ہے، ذرا اس "ایسا نہیں" کو ایک طرف رکھ دو، آپ صرفی و نحوی ہیں یا آپ منطقی ہیں۔ اب مجھے بتائیے پہلا قضیہ کیا؟ آپ صرفی و نحوی ہیں۔ دوسرا کیا؟ آپ منطقی ہیں۔ مجھے بتائیے، کیا ان دونوں میں جدائی ضروری ہے، جو صرفی و نحوی ہو وہ منطقی نہیں ہو سکتا؟ ہو سکتا ہے، معلوم ہوا ان میں جدائی نہیں لیکن میں تو بیچ میں "یا" لایا ہوں، آپ صرفی و نحوی ہیں یا منطقی ہیں، تو بیچ میں "یا" لایا ہوں، تو "یا" تو کس پہ دلالت کر رہی ہے؟ جدائی پر، تو اس جدائی کی نفی کے لیے شروع میں میں کیا لے آیا؟ ہاں، ایسا نہیں ہے کہ آپ صرفی و نحوی ہوں یا آپ منطقی ہوں، تو یہ کون سا ہوا؟ پہلے بتاؤ متصلہ ہے، منفصلہ؟ "یا" آ رہا ہے، "یا" آ رہا ہے، "یا" سے ہاں یہ کون سا قضیہ ہے؟ منفصلہ، پھر منفصلہ میں کیا ہے؟ سالبہ ہے، سالبہ ہے، قضیہ منفصلہ سالبہ ہے۔
اچھا، پھر ذرا ان مثالوں پر آؤ۔ ادھر دیکھو: ایسا نہیں ہے کہ اگر سورج، کہ سور، اگر کو اگر نہیں لانا، ایسا نہیں ہے کہ سورج نکلا ہوا ہو یا دن موجود ہو۔ سورج نکلا ہوا ہو یا دن موجود، بتاؤ ان میں جدائی ہے؟ سورج کے نکلنے میں اور دن کے موجود ہونے میں کوئی جدائی ہے؟ نہیں، جب سورج ہو گا دن تو، لیکن میں درمیان میں کیا لایا ہوں؟ "یا" لایا ہوں اور "یا" تو کس پہ دلالت کرتی ہے؟ جدائی پہ، تو لہٰذا میں شروع میں کیا لے آیا؟ نہیں، ایسا نہیں ہے کہ سورج نکلا ہوا ہو یا دن موجود ہو۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یوں کرو، شکل بدل لو، ذرا شکل بدل لو، اس "نہیں" کو وہاں سے اٹھاؤ، پہلے یا دوسرے کے ساتھ جوڑ دو: سورج نہ نکلا ہوا ہو یا، یا دن موجود ہو۔ ہاں، اب بتائیے، اب انفصال ہے کہ نہیں؟ سورج نہیں نکلا، سورج نکلا ہے پھر تو دن ہونا چاہیے۔ تو سورج اور، تو سورج نہیں نکلا، ایک طرف قضیہ کیا بن گیا؟ اور دوسری طرف کیا ہے؟ تو دونوں میں جدائی ہے یا نہیں؟ جدائی ہے، اکٹھے نہیں، سورج نہ نکلا ہو تو دن نہیں ہو سکتا، دونوں الگ ہیں، ایک طرف ہے سورج نہیں نکلا، دوسری طرف ہے، اچھا یوں کرو اس نفی کو اٹھا کر دوسرے کے ساتھ جوڑ دو، کیا تھے قضیہ؟ پھر وہی پہلا قضیہ دہراؤ: ایسا نہیں ہے کہ سورج نکلا ہو یا دن موجود ہو۔ اب ایسا نہیں ہے کو وہاں سے ختم کر دو اور اس "نہیں" کو لے آؤ دوسرے کے ساتھ لا کر جوڑ دو: سورج نکلا ہو یا دن موجود نہ ہو، یا دن موجود نہیں ہے، یوں کر لو۔ سورج، سورج نکلا ہے یا دن موجود نہیں ہے، بات بن گئی یا نہیں بن گئی؟ یا تو سورج نکلا ہوا ہے یا دن بات صحیح ہے کہ نہیں؟ تھک گئے ہیں، تھک گئے ہیں۔
پھر سنو، دوبارہ سے سنو: ایسا نہیں ہے کہ یا تو سورج نکلا ہو یا دن موجود ہو۔ یعنی ان دونوں میں انفصال نہیں ہے۔ اب اس "ایسا نہیں ہے"، اس نفی کو یہاں سے ختم کرو اور ان دونوں میں سے ایک کے ساتھ لا کر جوڑ دو، پہلے پہلے کے ساتھ جوڑ لو پھر دوسرے کے ساتھ جوڑ لو، آپ دیکھیں گے اب بات بالکل واضح ہو گئی۔ سورج نہیں نکلا ہے یا دن موجود ہے۔ سورج نہیں نکلا، جب نہیں نکلا تو پھر کیا ہے؟ سورج نہیں نکلا ہے یا، تو پھر جب سورج نہیں نکلا تو رات ہے نا، تو گویا یوں کہہ لو رات ہے یا دن ہے، بات بن گئی یا نہیں بن گئی؟ نہیں سمجھ میں آئی؟ پھر سنو، پھر سنو: ایسا نہیں ہے کہ یا تو سورج نکلا ہو یا دن ہو۔ تو ان میں سورج کا ہونے اور دن کے ہونے میں میں کیا لے آیا؟ "یا"، اور "یا" تو کس لیے آتی ہے؟ اور حالانکہ اس میں تو جدائی نہیں ہے، سورج نکلا ہو یا دن ہو اس میں سے ایک بات تو نہیں ہو گی، یہ تو دونوں ہوں گی، تو میں تو "یا" لے آیا اور "یا" تو کس لیے آتی ہے؟ جدائی، اور جدائی تو یہاں ہے نہیں تو لہٰذا شروع میں کیا لے آؤ؟ ایسا نہیں، ایسا نہیں ہے کہ سورج نکلا ہو یا دن، "نہ" کیوں لا رہے ہو؟ یا دن ہو، ایسا نہیں ہے کہ سورج نکلا ہو یا دن ہو۔ اچھا، یوں کرو ایسا نہیں ہے، وہاں سے "ایسا نہیں" کو ختم کرو اور پہلے والے کے ساتھ "نہیں" جوڑ دو: سورج نہیں نکلا ہے یا دن ہے۔ سورج نہیں یا دن، ابھی بھی بات نہیں سمجھ میں آ رہی؟ اچھا، اس "سورج نہیں نکلا ہے" اس کو بدل دو کس سے؟ جب سورج نہیں نکلا تو کیا ہے؟ رات، تو یوں کہو: رات ہے یا دن ہے، بات بن گئی یا نہیں بن گئی؟ دیکھا؟ وہی بات تھی دیکھو اسی کو منطقی ذرا مشکل رنگ میں کر رہا ہے۔ اچھا، اب ذرا دوسرے کے ساتھ "نہیں" کو لاؤ، پھر وہی پہلا جملہ لاؤ، پہلا جملہ کیا تھا؟ ایسا نہیں ہے کہ سورج نکلا ہے یا دن موجود ہے۔ اب ایسا نہیں ہے کو ختم کرو اور "نہیں" کو کس کے ساتھ جوڑ دو؟ دن کے ساتھ: سورج نکلا ہے یا دن موجود نہیں ہے۔ سورج نکلا ہے یا دن موجود نہیں ہے۔ اچھا، سورج نکلے، کس کس والے کو بدلنا چاہتے ہو؟ جس کو بھی بدل لو بات ایک ہی ہے۔ پہلے کو بدلنا چاہتے ہو؟ پہلے بناؤ جملہ کیا بنا؟ یہ یاد رکھو بار بار: سورج نکلا ہے یا دن موجود نہیں ہے، ٹھیک ہے؟ پہلے کو بدل لیتے ہیں، ٹھیک ہے۔ سورج نکلا ہو تو کیا ہوتا ہے؟ دن ہوتا ہے۔ دن موجود ہے یا دن موجود نہیں ہے، بات بن گئی یا نہیں بن گئی؟ اچھا چلو اس پہلے کو نہ بدلو، اسی طرح پھر بولو جملہ کیا ہے؟ سورج نکلا ہے یا دن موجود نہیں ہے۔ اچھا، دن موجود نہیں ہے تو پھر کیا ہے؟ رات ہے، تو سورج نکلا ہے یا رات ہے، بات بن گئی یا نہیں بن گئی؟ دیکھا؟ اسی بات کو انہوں نے ذرا مشکل رنگ میں کہا تھا، اچھی طرح بات سمجھ میں آ گئی؟
تو اگر، "یا" کس لیے آتا ہے؟ جدائی بیان کرنے کے لیے، تو اگر جدائی کو بیان کیا جائے "یا" کے ساتھ تو اس کو کیا کہیں گے؟ منفصلہ موجبہ، اور اگر جدائی کی نفی کی جائے "یا" کے ساتھ تو؟ منفصلہ کہیں گے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ جیسے ابھی مثال آئی: سورج نکلا ہے یا دن موجود نہیں ہے، یہ کون سا ہوا؟ سالبہ ہوا، نفی آ رہی ہے یا نہیں؟ تو ایک میں نفی آئے گی اس میں سالبہ کے اندر، صورت سمجھ میں آ گئی۔
اب دیکھیے کتاب پر: قضیہ شرطیہ منفصلہ، وہ قضیہ شرطیہ ہے کہ اس میں دو چیزوں کے درمیان علیحدگی اور جدائی کے ثبوت یا نفی کا حکم کیا جائے یعنی ان میں جدائی موجود ہے یا موجود نہیں ہے۔ آگے کتاب پر دیکھیے: اگر جدائی کا ثبوت ہو تو اس کو منفصلہ موجبہ کہتے ہیں، جیسے یہ شے یا تو درخت ہے یا پتھر ہے۔ دیکھو اس قضیہ میں درخت اور پتھر کے درمیان جدائی ثابت کی گئی ہے کہ ایک ہی شے درخت اور پتھر دونوں نہیں ہو سکتی۔ اور اگر جدائی کی نفی کی گئی ہو تو اس قضیہ کو منفصلہ سالبہ کہتے ہیں، جیسے یوں کہیں: یا تو سورج نکلا ہو گا یا دن ہو گا۔ یعنی یہ یوں ہونا چاہیے تھا بھئی: ایسی بات نہیں ہے کہ سورج نکلا ہو گا یا دن ہو گا۔ یعنی ان دونوں باتوں میں جدائی نہیں بلکہ دونوں ساتھ ساتھ ہیں، سورج بھی نکلا ہو اور دن بھی ہو، تو انفصال کی کیا ہو گئی؟ نفی ہو گئی۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟
تو کتاب میں یہ جو مثال ہے: جیسے یوں کہیں یا تو سورج نکلا ہو گا یا دن ہو گا، یہ مثال درست نہیں ہے بھئی۔ سورج نکلا ہو گا یا دن ہو گا، یہ "یا" کیا بیان کر رہی ہے؟ جدائی، اور حالانکہ سورج کے نکلنے اور دن کے ہونے میں کوئی جدائی ہے؟ نہیں، تو پھر یوں ہونا چاہیے: ایسا نہیں ہے کہ یا تو سورج نکلا ہو گا یا دن ہو گا، تو ایسا نہیں ہے یہ شروع میں ہونا چاہیے۔ میرا خیال یہ ہے یہ جو عبارت ہے نا کتاب کی: "یوں کہیں"، عبارت پہ نظر ہے؟ "یوں کہیں"، یہ میرا خیال "کہیں" نہیں ہے، "نہیں" ہے لفظ، کتابت کی غلطی ہے، نہیں۔ "یوں نہیں، یا تو سورج نکلا ہو گا یا دن ہو گا"، ایسا نہیں ہے۔ یوں نہیں کا کیا معنی؟ ایسا نہیں ہے، یوں نہیں ہے کہ یا تو سورج نکلا ہو گا یا دن ہو گا، اب بات ٹھیک ہو گئی یا نہیں؟ تو یہ "کہیں" کے بجائے "نہیں" ہونا چاہیے، تو اس کو "نہیں" ہونا چاہیے۔ یہ "کہیں" کے بجائے کیا ہونا چاہیے؟ "نہیں" کا لفظ ہونا چاہیے۔ دیکھا، آگے خود بھی بتلا رہے ہیں: یعنی ان دونوں باتوں میں جدائی نہیں بلکہ دونوں ساتھ ساتھ ہیں، دیکھا؟ دیکھا جدائی نہیں، معلوم ہوا یہاں "نہیں" کا لفظ موجود ہے لیکن کتابت کی غلطی ہے، اس "نہیں" کو لکھنے والے نے کیا لکھ دیا؟ "کہیں" لکھ دیا۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟
اچھا بھئی، حاصل خلاصہ کلام پھر آخر میں سن لو بھئی، باقی سبق انشاءاللہ کل پڑھ لیں گے۔ آپ نے پڑھا: قضیہ شرطیہ وہ قضیہ ہے جو دو قضیوں، جو دو قضیوں سے مل کر بنے۔ اور ان دو قضیوں کے درمیان یا تو اتصال بیان کیا جائے گا یا انفصال۔ اتصال کا معنی یہ ہے کہ ایک کے ہونے پر دوسرے کا ہونا یا نہ ہونا ہو یعنی ایک کے ہونے پر ماننا پڑے دوسرے کے، ایک قضیے کے ہونے پر دوسرے قضیے کو بھی ماننا پڑے۔ تو اس کو کیا کہیں گے؟ قضیہ متصلہ۔ اور اگر قضیہ شرطیہ کے دو قضیوں کے درمیان انفصال اور جدائی کو بیان کیا گیا ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ قضیہ منفصلہ، یعنی ایک کے ہونے پر دوسرا نہیں ہو گا۔ اور میں نے نشانی بتلائی کہ قضیہ متصلہ کے اندر "اگر" کا لفظ آئے گا عموماً، اور منفصلہ میں "یا" کا لفظ آئے گا۔ اور پھر یہ دو جو قضیے ہیں چاہے متصلہ ہو یا منفصلہ، ان میں سے پہلے قضیے کو کیا کہیں گے؟ مقدم، اور دوسرے کو کیا کہیں گے؟ تالی۔ تو قضیہ متصلہ میں مقدم کو مان لینے پر تالی کو بھی ماننا پڑے گا، اور قضیہ منفصلہ میں مقدم اور تالی میں سے ایک کو مانیں گے تو دوسرے، دوسرا ایک ہو گا تو دوسرا نہیں ہو گا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ کیونکہ وہاں "یا" کا لفظ آ رہا ہے کہ پہلی بات ہے یا دوسری، پہلی بات کو ماننا پڑے گا یا دوسری بات کو ماننا پڑے گا۔
اور پھر آپ نے یہ بھی پڑھا کہ قضیہ شرطیہ متصلہ میں اگر پہلے قضیے کے ماننے پر دوسرے قضیے کے ثبوت کو ماننا پڑے تو اس کو کیا کہیں گے؟ قضیہ متصلہ موجبہ، اور اگر پہلے کے ثبوت پر دوسرے کی نفی کو ماننا پڑے تو اس کو قضیہ متصلہ سالبہ کہیں گے۔ مثلاً میں کہتا ہوں: اگر سورج نکلا ہے تو دن موجود ہے، یہ کون سا قضیہ ہوا؟ متصلہ، اور متصلہ موجبہ۔ اور اگر میں کہوں: اگر سورج نکلا ہے تو رات نہیں ہے، تو یہ کون سا ہوا؟ متصلہ سالبہ ہوا۔ تو اس میں ماننے دونوں پڑیں گے آپ کو، البتہ دوسرے میں اگر ایجاب ہے تو اس کو موجبہ کہیں گے، اگر دوسرے میں نفی ہے تو اس کو سالبہ کہیں گے۔ اور منفصلہ کے اندر بھی اسی طرح ہے، اگر منفصلہ جن دو قضیوں میں انفصال اور جدائی کو بیان کیا جائے، اگر اگر دونوں میں انفصال کا ثبوت ہو، جدائی کو ثابت کیا جائے تو پھر اس کو منفصلہ موجبہ کہیں گے، اور اگر دونوں کے درمیان انفصال کی نفی کی جائے تو اس کو کیا کہیں گے؟ منفصلہ سالبہ۔
انفصال کا ثبوت ہو، جیسے مثلاً میں کہتا ہوں: یہ عدد یا تو طاق ہے یا جفت، یا یوں کہو یہ موسم یا تو سردی کا ہے یا گرمی کا ہے، یا میں کہوں یہ یا تو دن ہے یا رات ہے، تو دیکھو یہ دونوں میں جدائی کو بیان کیا جا رہا ہے کہ دونوں اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ اور اگر جدائی کی نفی کی جائے، مثلاً کہا جائے: ایسا نہیں ہے کہ یا تو سورج نکلا ہو یا دن موجود ہو، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اگر سورج تو ان میں جدائی نہیں ہے، سورج کے نکلنے میں اور دن کے ہونے میں جدائی نہیں، اسی لیے کہا گیا کہ ایسا نہیں ہے کہ یا تو سورج نکلا ہوا ہے یا دن موجود ہے۔ اور پھر میں نے طریقہ بتا دیا کہ اس نفی کو اٹھا کر پہلے کے ساتھ جوڑ لو یا دوسرے کے ساتھ جوڑ لو، اور پھر ترجمہ اس کے مطابق کر کے دیکھ لو آپ کو بات سمجھ، ایسا نہیں ہے کہ یا تو سورج نکلا ہوا ہے یا دن موجود ہے، تو "نہیں" کو سورج کے ساتھ جوڑ لو: سورج نکلا ہوا نہیں ہے یا دن موجود ہے۔ سورج نکلا ہوا نہیں ہے، جب نہیں ہے تو کیا ہوئی؟ رات۔ یا تو رات ہے یا دن ہے، دیکھا؟ تو ایک میں ثبوت ہے، ایک میں کیا ہے؟ نفی ہے، تو یہ کیا ہوا؟ قضیہ منفصلہ، "یا" آ رہا ہے یا نہیں؟ منفصلہ، اور کون سا منفصلہ؟ سالبہ ہے، منفصلہ سالبہ۔ اسی "اگر ایسا نہیں ہے" اس کو ہم نے جوڑ دیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ چلیے باقی انشاءاللہ کل کر لیں گے۔ چلیے بس بھئی، ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔