دیکھیے بھئی کتاب پر۔
تصدیقات کی بحث۔
سبقِ اول: حجت کی بحث۔
دو یا زیادہ تصدیق جانی ہوئی کو ترتیب دے کر جب کوئی نہ جانی ہوئی بات معلوم کریں، تو ان جانی ہوئی تصدیق کو حجت اور دلیل کہتے ہیں۔ جیسے مثلاً تم کو اس کا علم ہے کہ انسان ایک جاندار شے ہے اور یہ بھی جانتے ہو کہ ہر جاندار شے جسم والی ہے، تو ان دو باتوں کو جاننے سے یہ تم جان گئے کہ انسان جسم والا ہے۔
سبقِ دوم: قضیوں کی بحث۔
قضیہ وہ مرکب لفظ ہے جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہہ سکیں، جیسے زید کھڑا ہے۔ قضیہ کی دو قسمیں ہیں: قضیہ حملیہ اور قضیہ شرطیہ۔
اچھا بھئی، آج ہم تصدیقات کے بارے میں پڑھیں گے۔ آپ نے پڑھا تھا گزشتہ سبق میں کہ دو یا زیادہ معلوم تصوروں کو ترتیب دے کر ہم کس کو حاصل کرتے ہیں؟ مجہول تصور کو۔ اور وہ جو دو یا زیادہ معلوم تصور ہیں جن جو آپ کو آگے پہنچاتے ہیں مجہول تصور تک، تو وہ جو معلوم تصور ہیں ان کو کیا کہتے ہیں؟ تعریف اور معرف بھی ان کا نام اور قولِ شارح بھی ان کا نام۔ لیکن اگر یہی چیز تصدیق میں آئے کہ دو یا زیادہ تصدیقوں کو ملایا اور انہوں نے آپ کو ایک تیسری تصدیق، ایک مجہول تصدیق تک پہنچا دیا، تو یہ جو معلوم تصدیقات ہیں جنہوں نے آگے مجہول تک پہنچایا، تو یہ جو معلوم تصدیقات ہیں ان کو دلیل اور حجت کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ دلیل اور حجت۔
دلیل دلیل تو نام سے ہی پتہ چل رہا ہے، یہ دلالت سے ہے، دلالت۔ اور دلالت کا کیا معنی؟ رہنمائی کرنا۔ رہنمائی کرنا، پتہ بتلانا۔ ایک چیز کیا کرے؟ دوسری چیز کا پتہ بتلائے، اس کو دلالت کہتے ہیں۔ اسی سے دلیل ہے۔ دلیل وہ چیزیں جو آگے ایک مجہول ایک تیسری چیز تک ہماری رہنمائی کر دے۔ دیکھو، وہ معلوم تصدیقات نے ہماری رہنمائی کی کہاں تک؟ مجہول تصدیق تک، تو اس لیے ان کو دلیل کہتے ہیں۔ اور نیز ان کا دوسرا نام حجت ہے، حجت۔ حجت کا معنی ہے غالب آنا۔ جب آپ دلیل دیتے ہیں تو آپ اپنے مخالف پر غالب آ جاتے ہیں۔ بحث کے اندر اس پر آپ غالب آ جاتے ہیں۔ بحث اسی طرح ہوتی ہے نا؟ وہ اپنی دلیل پیش کرے گا، آپ اپنی دلیل پیش کریں گے۔ تو جب آپ دلیل پیش کریں گے اور منطقی قوانین کے مطابق دلیل ذکر کریں گے، تو آپ اپنے مخالف پر غالب آ جائیں گے۔ تو اس لیے یہ جو معلوم تصدیقات ہیں ان کو جو ہمیں پہنچا رہے ہیں کہاں تک؟ مجہول تصدیق پر، تو ان معلوم تصدیقات کو حجت بھی کہتے ہیں کیونکہ ان کی وجہ سے انسان اپنے مخالف پر بحث کے اندر غالب آ جاتا ہے، اور نیز ان کو دلیل بھی کہتے ہیں کیونکہ یہ ہمیں ہماری رہنمائی کرتی ہیں کہاں تک؟ مجہول تصدیق تک بھئی، ان کی طرف ہماری رہنمائی کرتی ہیں۔
اس کی مثال میں نے ذکر کی تھی: مثلاً آپ کہتے ہیں کہ میں اس مدرسے میں پڑھتا ہوں اور اس مدرسے میں پڑھنے والا ہر طالب علم بڑا منطقی ہے، نتیجہ کیا نکلا کہ میں بھی بڑا منطقی ہوں۔ یا جیسے اس کتاب والے نے مثال دی، مثلاً آپ کہتے ہیں: انسان ایک جاندار ہے۔ ایک انسان ایک جاندار، دیکھو نتیجہ خود بخود اپ کو اپ کے سامنے آ جائے گا: انسان ایک جاندار شے ہے اور ہر جاندار شے جسم والی ہوتی ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ کہ انسان جسم والا ہے۔ انسان ایک جاندار شے ہے اور ہر جاندار شے جسم والی ہوتی ہے، نتیجہ کیا نکلا کہ انسان بھی جسم والا ہے۔ تو دیکھو، یہ دو معلوم تصدیقوں نے آپ کو کہاں تک پہنچا دیا؟ مجہول تصدیق تک پہنچا دیا۔
یا جیسے آپ کہتے ہیں: آج آسمان پر گہرے بادل چھائے ہوئے ہیں اور جس دن آسمان پر گہرے بادل چھائے ہوں اس دن بارش ضرور ہوتی ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ کہ آج بارش ضرور ہو گی۔ دیکھا؟ یہ دو تصدیقوں کو ملایا تو انہوں نے خود بخود ہماری رہنمائی کر دی کہاں تک؟ مجہول تصدیق تک۔ یہ جو معلوم تصدیقات تھیں ان کو تو کیا کہتے ہیں؟ دلیل اور حجت۔ اور وہ جو مجہول تصدیق حاصل ہوئی، یاد رکھیے اس کو نتیجہ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ نتیجہ کہتے ہیں بھئی، نتیجہ۔
تو دیکھیے اب کتاب پر: تصدیقات کی بحث، سبقِ اول: حجت کی بحث۔ دو یا زیادہ تصدیق جانی ہوئی، جانی ہوئی کا کیا معنی؟ معلوم، معلوم۔ دو یا زیادہ تصدیق جانی ہوئی کو ترتیب دے کر جب کوئی نہ جانی ہوئی بات معلوم کریں، تو ان جانی ہوئی تصدیق کو حجت اور دلیل کہتے ہیں۔ حجت کیوں کہتے ہیں؟ حجت کا معنی ہے غالب آنا، کیونکہ اس کے ذریعے آپ اپنے مخالف سے بحث میں غالب آ جاتے ہیں، اپنے مخالف پر بحث میں غالب آ جاتے ہیں، اور نیز اس کو دلیل بھی کہتے ہیں کیونکہ یہ نتیجے تک ہماری رہنمائی کرتی ہیں۔ جیسے مثلاً تم کو اس کا علم ہے کہ انسان ایک جاندار شے ہے اور یہ بھی جانتے ہو کہ ہر جاندار شے جسم والی ہے، تو ان دو باتوں کو جاننے سے یہ تم جان گئے کہ انسان جسم والا ہے۔ انہوں نے دلیل بھی ذکر کر دی اور اس کا نتیجہ بھی ذکر کر دیا۔
آگے دیکھیے: سبقِ دوم، دوسرا سبق: قضیوں کی بحث۔ قضیہ وہ مرکب لفظ ہے جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہہ سکیں، جیسے زید کھڑا ہے۔ اس کو قضیہ کہتے ہیں۔ دیکھو، قضیے کی تعریف کیا کر رہے ہیں؟ وہ مرکب لفظ ہے۔ آپ نے مفرد اور مرکب کے بارے میں پڑھا تھا یا نہیں؟ مرکب کسے کہتے ہیں؟ کہ جزوِ لفظ سے جزوِ معنی پر دلالت کا ارادہ کیا جائے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مرکب۔ یعنی یوں کہو آسان لفظوں میں، کہ دو یا دو سے زیادہ لفظ ہوں اور ہر لفظ اپنے معنی پر دلالت کر رہا ہو اور اس دلالت کا ارادہ بھی کیا جائے۔ تو جملے میں اسی طرح ہوتا ہے نا؟ زید کھڑا ہے یا زید عالم ہے۔ دیکھو، زید کا اپنا معنی، عالم ہونے کا اپنا معنی، اور ہے کا اپنا معنی، اور ہر ایک اپنے اپنے معنی پر دلالت کر رہا ہے اور آپ نے بھی اسی کا ارادہ کیا ہے، تو اس کو کیا کہیں گے کہ یہ مرکب ہے بھئی، مرکب۔
تو کہتے ہیں: قضیہ وہ مرکب لفظ ہے جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہہ سکیں۔ یعنی یہ جملہ خبریہ ہے۔ آپ پڑھ چکے ہوں گے نحو کے اندر کہ جملہ دو قسم پر ہے: ایک جملہ خبریہ اور ایک جملہ انشائیہ۔ جملہ خبریہ وہ ہے جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہہ سکیں، جبکہ جملہ انشائیہ وہ ہے جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا نہ کہہ سکیں۔ مثلاً میں آپ سے پوچھتا ہوں: آپ کا کیا نام ہے؟ کوئی مجھے سچا یا جھوٹا کہہ سکتا ہے؟ نہیں، کیونکہ میں نے تو بات کی ہی کوئی نہیں۔ میں نے تو سوال پوچھا ہے آپ سے، میں نے کوئی خبر دی نہیں، کوئی بات آپ کو بتلائی نہیں۔ ہاں، جب کوئی بات بتلاؤں اس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہہ سکتے ہیں۔ تو یہ تو میں نے سوال کیا اور سوال کس قسم اس سوال کو کیا کہتے ہیں؟ استفہام۔ اور استفہام کس قسم میں سے ہے؟ یہ جملہ انشائیہ۔
یا میں کسی کو آواز دیتا ہوں: اے زید! اب مجھے بتائیے، اے زید، کیا اس پر مجھے کوئی سچا یا جھوٹا کہہ سکتا ہے؟ اگر کہے گا تو میں کہوں گا بھئی میں نے تو کوئی بات کی ہی نہیں، میں نے تو زید کو صرف اپنی طرف متوجہ کیا ہے، آواز دی ہے۔ اگر میں نے کوئی بات کی ہوتی پھر آپ مجھے سچا یا جھوٹا کہتے۔ یا دوسری یا مثلاً میں کہتا ہوں: اللہ کی قسم! ابھی میں نے صرف قسم اٹھائی ہے، کیا اس پر کوئی مجھے سچا یا جھوٹا کہہ سکتا ہے؟ نہیں، اس قسم پر کوئی مجھے سچا یا جھوٹا نہیں کہہ سکتا کیونکہ یہ انشاء ہے۔ ہاں، آگے جوابِ قسم اور چیز ہے، اس پر مجھے سچا یا جھوٹا کوئی کہہ سکتا ہے، اور آپ بھی کہتے ہیں، کوئی آدمی قسم بھی اٹھا لیتا ہے پھر بھی آپ کہتے ہیں یہ جھوٹ بول رہا ہے۔ کہتے ہیں یا نہیں کہتے؟ یا آپ کہتے ہیں یہ سچ بول رہا ہے۔ یہ قسم کے اعتبار سے نہیں کہہ رہے آپ اس کو، یہ آپ آگے جوابِ قسم کے اعتبار سے کہہ رہے ہیں، جو آگے قسم کے بعد انسان بات کرتا ہے نا، اس کو جوابِ قسم کہتے ہیں۔ مثلاً آپ کہتے ہیں: اللہ کی قسم، میں کل بازار گیا تھا۔ تو اللہ کی قسم، اس کے اعتبار سے کوئی آپ کو سچا یا جھوٹا نہیں کہتا، ہاں آگے جو آپ نے بات کی کہ میں کل بازار گیا تھا، اس کے اعتبار سے ہو سکتا ہے آپ کو کوئی سچا کہے یا جھوٹا کہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو قسم بھی انشاء کی قسم میں سے۔
تو جملہ خبریہ وہ ہے جس جس میں آپ کسی کو کوئی بات بتلاتے ہیں، کسی کو کوئی خبر دیتے ہیں اور اس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا آپ کہہ سکتے ہیں، تو وہ جملہ خبریہ ہے جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے۔ اور اسی جملہ خبریہ کو منطق میں قضیہ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ قضیہ۔ ق پر زبر ہے، ض کے نیچے زیر ہے اور ی مشدد ہے: قَضِيَّةٌ، قضیۃٌ۔ تو قضیہ وہ مرکب لفظ ہے جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہہ سکیں، مثلاً جیسے زید کھڑا ہے۔ آپ نے کسی کو بتلایا زید کھڑا ہے، تو کوئی دوسرا کہہ سکتا ہے یہ سچ بول رہا ہے یا کہہ سکتا ہے یہ جھوٹ بول رہا ہے۔
اب مجھے آپ بتائیے بھئی، میں آپ سے کہتا ہوں: بارش ہو رہی ہے۔ جی، اس پر سچا یا جھوٹا آپ کہہ سکتے ہیں؟ شاباش، کہہ سکتے ہیں، یہ جملہ خبریہ ہے۔ اور مثال لے لیں: میں مدرسے میں پڑھتا ہوں۔ جی، ہاں تو یہ بھی کیا ہے؟ قضیہ ہے، اس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہہ سکتے ہیں۔ اچھا، مثلاً میں کہتا ہوں: آسمان اوپر ہے۔ اس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہہ سکتے ہیں؟ جی؟ کیوں؟ ہے ہی اوپر، شاباش۔ یا میں کہتا ہوں زمین نیچے ہے، اس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہہ سکتے ہیں؟ نہیں نہیں، یاد رکھو یہ دونوں بھی قضیے ہیں۔ یہ بھی کیا ہے؟ آپ نے واقعے کو نہیں دیکھنا واقعے میں کیا ہے، آپ صرف اس جملے کو دیکھیں۔ ایک آدمی آپ سے کہتا ہے کہ آسمان اوپر ہے، فرض کرو ایک آدمی ایسا ہے جس کو اس بات کا پتہ نہیں ہے کہ آسمان اوپر ہے یا اوپر نہیں، تو ویسے اس لفظ جملے پر غور کرو، اس میں دوسرے کو کوئی بات بتلائی جا رہی ہے یا نہیں بتلائی جا رہی؟ جب بات بتلائی جا رہی ہے، تو بس اس کو قضیہ کہیں گے، چاہے بھئی واقعے کے مطابق ہو، چاہے واقعے کے مخالف۔
اب دیکھو، میں نے کہا آسمان اوپر ہے، اب اس میں جھوٹ کا تو احتمال ہی نہیں ہے، سچ ہی سچ ہے، اور ہم نے کیا کہا تھا؟ قضیہ وہ جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہہ سکیں۔ لیکن یہاں تو سچا ہی کہہ سکتے ہیں، جھوٹا کہہ ہی نہیں سکتے، لیکن آپ واقعے کو نہ دیکھیں کہ واقعے میں واقعی آسمان اوپر ہے، آپ واقعے سے قطع نظر صرف اس جملے پر غور کریں کہ کیا اس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہہ سکتے ہیں یا نہیں۔ یا جیسے دیکھو مثلاً، آپ کہتے ہیں: اللہ ایک ہے۔ اب یہ سچ ہی سچ ہے، اس میں کسی قسم کا جھوٹ نہیں، لیکن یہ قضیہ ہے۔ یہ کیا ہے؟ یہ حالانکہ واقعے کے مطابق ہے، واقعے کے اعتبار سے اس میں جھوٹ کا احتمال نہیں، لیکن واقعے سے قطع نظر واقعے کی طرف نظر نہ کرے کہ واقعے میں کیا ہے، ویسے اس جملے پر غور کریں، اس میں کوئی بات بتلائی جا رہی ہے کہ نہیں بتلائی جا رہی؟ بات تو بتلائی جا رہی ہے، اور اس جب بھی کوئی بات بتلائے تو اس کے کہنے والے کو کیا کہہ سکتے ہیں؟ سچا یا جھوٹا کہہ سکتے ہیں۔ اسی لیے آپ دیکھتے ہیں کافر اس کو رد کرتے ہیں یا نہیں کرتے؟ وہ نہیں مانتے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو قضیے میں آپ یاد رکھیں، آپ نے واقعے کو نہیں دیکھنا، آپ نے صرف اس جملے پر غور کرنا ہے۔
یا مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: زمین اوپر ہے۔ زمین اوپر، اب اس میں تو جھوٹ ہی جھوٹ ہے، سچ کا تو کوئی احتمال ہی نہیں، لیکن قطع نظر واقعے کے، آپ صرف اس جملے پر غور کریں: زمین اوپر ہے۔ اس میں کوئی بات بتلائی جا رہی ہے کہ نہیں بتلائی جا رہی؟ بات بتلائی جا رہی ہے، خبر دی جا رہی ہے، اور ہر خبر کے دینے والے کو سچا یا جھوٹا کہہ سکتے ہیں۔ اس میں واقعے کو آپ نے نہیں دیکھنا کہ یہ واقعے کے مطابق ہے یا مخالف ہے، بس اس لفظوں پہ غور کرنا ہے۔
قضیہ اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟ تو کہتے ہیں: قضیہ وہ مرکب لفظ ہے جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہہ سکیں، جیسے زید کھڑا ہے۔ قضیہ کی دو قسمیں ہیں: قضیہ حملیہ اور قضیہ شرطیہ۔ بھئی دو قسمیں ہیں اس کی: ایک قضیہ حملیہ اور ایک قضیہ شرطیہ۔ قضیہ شرطیہ تو اگلے سبق میں آئے گا، بس اتنا یاد رکھیں، قضیہ شرطیہ میں دو قضیے ہوں گے۔ دو قضیے مل کر قضیہ شرطیہ بنائیں گے۔ کیا کریں گے؟ دو قضیے مل کر کیا کریں گے؟ ایک قضیہ تو اس میں ایک ہی قضیے کے اندر دو قضیے ہوں گے، جبکہ اس کے علاوہ باقی سارے قضیہ حملیہ ہیں۔ قضیہ حملیہ، اس میں دو قضیے نہیں ہوتے، دو حصے ہوتے ہیں، دو مفرد ہوتے ہیں۔ کیا ہوتے ہیں؟ دو مفرد ہوتے ہیں۔ یعنی ایک چیز کے لیے دوسری چیز کا ثبوت ہوتا ہے یا ایک چیز سے دوسری چیز کی نفی ہوتی ہے۔ میں نے کہا: زید عالم ہے۔ دیکھو، ایک ہے زید اور ایک ہے عالم ہونا، میں نے ان دونوں کو جوڑ دیا، یہ دو مفرد تھے، میں نے کیا کیا ان دونوں کو؟ تو قضیہ حملیہ میں دو مفرد ہوتے ہیں، ان کو آپس میں جوڑ دیا جاتا ہے۔ جبکہ قضیہ شرطیہ میں دو مفرد نہیں ہوتے، دو قضیے ہوتے ہیں۔ آگے تفصیل آ جائے گی، مثالیں آ جائیں گی، زیادہ وضاحت کرنے کی ضرورت نہیں، بس اتنا یاد رکھیں کہ قضیہ شرطیہ کتنے قضیوں سے مرکب ہوتا ہے؟ دو قضیوں سے، جبکہ باقی عام قضیے جتنے ہیں وہ سب قضیہ حملیہ کہلاتے ہیں بھئی۔
تو قضیہ حملیہ میں ہمیشہ ایک چیز کا ثبوت ہوتا ہے دوسری چیز کے لیے، یا ایک چیز کی نفی ہوتی ہے دوسری چیز سے۔ مثلاً میں کہتا ہوں: زید عالم ہے۔ دیکھو، زید کے لیے عالم ہونے کا ثبوت ہے، آپ زید کے لیے عالم ہونے کا اثبات کر رہے ہیں۔ اور ایک میں کہتا ہوں: زید عالم نہیں ہے۔ دیکھو، میں زید سے عالم ہونے کی نفی کر رہا ہوں۔ تو قضیہ حملیہ یاد رکھیے، یا تو اس میں ایک چیز کے لیے دوسری چیز کا ثبوت ہو گا اور اس کو قضیہ موجبہ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ قضیہ موجبہ۔ اور یا ایک چیز کی دوسری چیز سے نفی ہو گی اور اس کو قضیہ سالبہ کہتے ہیں۔ یعنی یوں کہو، قضیہ حملیہ میں یا تو اثبات ہو گا یا نفی ہو گی۔ اثبات اور نفی جانتے ہو کہ نہیں جانتے؟ نفی کے اندر نہیں وغیرہ کا لفظ آئے گا، اور اثبات میں ایک چیز دوسری چیز کے لیے ثابت ہو گی، اس کا اثبات کیا جائے گا۔
مثلاً میں آپ اب مجھے بتائیے، کون سا کس میں اثبات ہے، کس میں نفی۔ ہوا چل رہی ہے۔ اثبات ہے۔ بارش ہو رہی ہے۔ اثبات۔ دھوپ نکلی ہوئی ہے۔ اثبات۔ زید کل یہاں آئے گا۔ اثبات۔ جی؟ زید کل یہاں آئے گا، اثبات ہی ہے نا، نفی تو نہیں ہے، نہیں کا کوئی لفظ آ رہا ہے؟ ہاں، زید کل یہاں نہیں آئے گا، یہ کیا ہے؟ نفی ہے۔ آپ یہ نہ کہیں یہ مستقبل کی بات ہو رہی ہے، بھئی مستقبل کے اعتبار سے بھی ایک آدمی کو سچا یا جھوٹا آپ کہتے ہیں یا نہیں؟ ایک آدمی کہتا ہے میں کل اپ سے ملنے آؤں گا، آپ دوسرے کو کہتے ہیں یہ جھوٹ بول رہا ہے، یہ ہمیشہ وعدہ کر کے پورا نہیں کرتا، تو دیکھا، مستقبل کے اعتبار سے بھی۔ تو بات چاہے ماضی کی ہو، چاہے حال کی ہو، چاہے مستقبل کی ہو، تینوں کے اعتبار سے کسی کو سچا یا جھوٹا آپ کہہ سکتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟
تو لہٰذا اثبات وہ ہو گا جس میں نہیں وغیرہ نہ ہو، اور نفی وہ جس میں نہیں وغیرہ ہو۔ مثلاً میں کہتا ہوں ہوا نہیں چل رہی، یہ کون سا قضیہ ہے؟ اس میں نفی ہے۔ اچھا، بارش نہیں ہو رہی۔ نفی ہے، شاباش۔ تو زید کھڑا ہے، یہ کیا ہے؟ اثبات۔ زید عالم نہیں ہے۔ نفی ہے، شاباش۔ تو جس میں جس قضیے میں اثبات ہو اس کو کہتے ہیں قضیہ موجبہ۔ کیا کہتے ہیں؟ موجبہ، موجبہ۔ اَوْجَبَ، آپ تو صرفی ہیں بھئی، اَوْجَبَ يُوْجِبُ اِيْجَابًا فَهُوَ مُوْجِبٌ، یہ اسمِ فاعل ہے، اور اسی سے مؤنث کا صیغہ کیا بن گیا؟ موجِبۃٌ، موجبہ۔ یہ کیا ہے؟ مؤنث۔ قضیہ کے آخر میں گول تا ہے یا نہیں؟ تو قضیہ مؤنث ہوا، تو اس کی صفت بھی کیا آئے گی؟ موجب نہیں آئے گی بلکہ موجبہ آئے گی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ آپ پڑھ چکے ہوں گے یا نحو میں پڑھیں گے کہ مذکر کے لیے مذکر صفت لاتے ہیں، مؤنث کے لیے مؤنث صفت لاتے ہیں۔
تو جس قضیے میں اثبات ہو یا ایجاب ہو، ایجاب اور اثبات کا ایک معنی ہے۔ ایجاب کا کیا معنی؟ اثبات، ثابت کرنا۔ اور اثبات کا معنی بھی ثابت کرنا، دونوں کا ایک ہی معنی ہے۔ جیسے سلب اور نفی کا ایک معنی ہے۔ سلب کا معنی نفی کرنا۔ سلب کا کیا معنی؟ نفی کرنا۔ اسی سے قضیہ سالبہ ہوا جس میں نفی کی جا رہی ہے، اور قضیہ موجبہ جس میں کیا کیا جا رہا ہے؟ اثبات کیا جا رہا ہے۔ تو لہٰذا قضیہ حملیہ کسے کہتے ہیں؟ جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے۔ واقعے سے قطع نظر، واقعے کو نہیں دیکھنا کہ واقعے کے اعتبار سے یہ کیا ہے، بس صرف یہ دیکھیں کہ اس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے، وہ قضیہ ہے۔ اور پھر اگر دو مفردوں سے مل کر بنا ہے تو وہ قضیہ حملیہ ہے، اور اگر دو قضیوں سے مل کر بنا ہے تو وہ قضیہ شرطیہ۔ اور قضیہ حملیہ کے اندر پھر ایک چیز کا دوسری چیز کے لیے ثبوت ہو گا یا ایک چیز کی دوسری چیز سے نفی۔ اگر ایک چیز کا ثبوت ہو دوسری چیز کے لیے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ دہراؤ بھئی زبان سے: قضیہ موجبہ۔ کیا کہتے ہیں؟ قضیہ موجبہ۔ موجبہ یعنی مثبتہ۔ ایجاب اور اثبات کا ایک معنی ہے، ایجاب کا کیا معنی؟ اثبات، ثابت کرنا، ثابت۔ تو جس قضیے میں اثبات ہو قضیہ حملیہ میں، اس کو کیا کہتے ہیں؟ قضیہ موجبہ۔ اور اگر اس میں نفی ہو قضیہ حملیہ میں، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ قضیہ سالبہ۔ پھر دہراؤ بھئی، اگر قضیہ حملیہ میں اثبات ہو تو اس کا کیا نام ہے؟ قضیہ موجبہ۔ اور اگر اس میں نفی ہو تو اس کا کیا نام ہے؟ قضیہ سالبہ۔
تو قضیہ حملیہ اگر اس میں ایک چیز کا اثبات ہو دوسری چیز کے لیے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ قضیہ موجبہ، یا یوں کہو قضیہ حملیہ موجبہ۔ اور اگر اس میں ایک چیز سے دوسری چیز کی نفی ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ قضیہ سالبہ کہتے ہیں۔ ایجاب کا معنی اثبات اور سلب کا معنی نفی۔ پھر دہراؤ: ایجاب کا معنی اثبات اور سلب کا معنی نفی۔
یاد رکھیے، جب بھی آپ کسی چیز کے بارے میں بات کرتے ہیں، جب بھی آپ کسی چیز کے بارے میں کسی کو کوئی بات بتلاتے ہیں یا خبر دیتے ہیں تو وہاں تین چیزیں ہوتی ہیں۔ کتنی چیزیں ہوتی ہیں؟ تین۔ جب بھی آپ کسی کو کوئی بات بتلاتے ہیں یا کوئی خبر دیتے ہیں، وہاں تین چیزیں ہوتی ہیں۔ ایک وہ چیز جس کے بارے میں آپ بات کرتے ہیں یا خبر دیتے ہیں۔ مثلاً میں نے کہا: زید عالم ہے۔ کس کے بارے میں بات کر رہا ہوں؟ زید کے۔ کس کے بارے میں خبر دے رہا ہوں؟ زید کے بارے میں۔ تو ایک یہ چیز۔ دوسری جو آپ نے بات کرنی ہے، جو آپ نے خبر دینی ہے، یعنی عالم ہونا، عالم۔ اور تیسرا کہ کس طرح کی بات اور کس طرح کی خبر دینی ہے، ہونے کی یا نہ ہونے کی؟ زید عالم ہے یا زید عالم نہیں ہے۔ تو کتنی چیزیں ہوں گی؟ تین۔ جب بھی آپ بات کرتے ہیں جب بھی آپ کسی چیز کے بارے میں کسی کو بات بتلائیں یا کسی چیز کے بارے میں کسی کو خبر دیں، تو وہاں کتنی چیزیں ہوتی ہیں؟ تین چیزیں۔ پہلی چیز کیا؟ وہ چیز جس کے بارے میں بات کریں یا جس کے بارے میں خبر دیں۔ اور دوسرا وہ جو بات کریں یا وہ جو خبر دیں۔ اور تیسرا وہ کہ کس طرح کی خبر دینی ہے، ہونے کی یا نہ ہونے کی۔
تو وہ چیز جس کے بارے میں آپ بات بتلاتے ہیں، جس کے بارے میں آپ خبر دیتے ہیں، اس کو موضوع کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ موضوع۔ یہ آگے کتاب میں بھی آ رہا ہے: م، و، ض، و، اور ع، موضوعٌ۔ اور وہ جو آپ بات بتلاتے ہیں اور خبر دیتے ہیں، اس کو منطق میں محمول کہتے ہیں: م، ح، م، و، ل، محمول بھئی۔ اور وہ جو ہونا ہونا بتلاتے ہیں یا نہ ہونا، اس کو رابطہ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ رابطہ کہتے ہیں۔
تو جب بھی آپ کسی چیز کے بارے میں کسی کو بات بتلائیں یا کسی چیز کے بارے میں کسی کو خبر دیں، وہاں کتنی چیزیں ہوں گی؟ تین۔ نمبر ایک: جس کے بارے میں بات کی جائے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ موضوع۔ اور دوسری: وہ جو بات کی جائے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ محمول۔ اور کس طرح کی بات اپ کرتے ہیں، ہونے کی یا نہ ہونے کی، اس کو کیا کہتے ہیں؟ رابطہ، رابطہ۔
بھئی، آپ کو یہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ ایک ہے قولِ معقول، ایک ہے قولِ ملفوظ۔ جب بھی آپ کوئی بات کرتے ہیں، بات پہلے آپ کے ذہن میں آتی ہے اور پھر آپ اس کو زبان سے ادا کرتے ہیں۔ تو جب تک بات ذہن میں ہے، اس کو کیا کہیں گے؟ وہ قولِ معقول ہے۔ اور جو زبان سے ادا کر رہے ہیں، اس کو کیا کہتے ہیں؟ قولِ ملفوظ کہتے ہیں۔ یاد رکھیے، یہ جو منطق کی جتنی بحثیں ہم پڑھ رہے ہیں، یہ ساری قولِ معقول کے اعتبار سے ہیں۔ کس اعتبار سے ہیں؟ یہ ساری قسمیں اور تقسیم وغیرہ قولِ معقول کے اعتبار سے ہیں۔ لیکن چونکہ قولِ ملفوظ اسی قولِ معقول پر دلالت کرتا ہے، تو لہٰذا اس قولِ ملفوظ پر بھی یہی حکم یہی نام اس کے بھی رکھ دیے جاتے ہیں۔
مثلاً دیکھو، مثلاً دیکھو: انسان ایک کلی ہے۔ انسان کیا ہے؟ کلی۔ زید بھی انسان، عمرو بھی انسان، بکر بھی انسان، تو انسان کیا ہے؟ کلی۔ لیکن انسان کا لفظ نہیں کلی، انسان کا مفہوم جو آپ کے ذہن میں ہے وہ کلی ہے۔ کلی اور جزئی ہونا کس کا کس میں ہوتا ہے؟ کلی اور جزئی مفہوم ہوا کرتا ہے۔ تو انسان کا جو مفہوم ہے وہ کلی ہے، لیکن اسی لفظِ انسان کو بھی پھر کلی کہہ دیتے ہیں کیونکہ انسان اسی مفہوم پر دلالت کر رہا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
یا جیسے زید، میں نے لفظِ زید بولا تو آپ کے ذہن میں زید کی ذات آ گئی۔ تو یہ ہے زید کا مفہوم۔ یہ کیا ہے؟ زید کا مفہوم۔ اور یہ جزئی ہے، یہ مفہوم کیا ہے؟ جزئی ہے۔ تو جزئی ہونا یہ اس مفہوم کو کہیں گے، لیکن چونکہ لفظِ زید اسی مفہوم پر کیا کر رہا ہے؟ دلالت، تو اس لفظِ زید کو بھی پھر جزئی کہہ دیا جاتا ہے، حالانکہ درحقیقت کلی اور جزئی لفظ نہیں ہوتے بلکہ کلی اور جزئی مفہوم ہوتے ہیں۔ تو کلی اور جزئی ہونا یہ مفہوم ہوتا ہے، لیکن اس مفہوم پر جو لفظ دلالت کرے اس کو بھی کلی اور جزئی کہہ دیا جاتا ہے کیونکہ وہ اسی مفہوم پر کیا کر رہا ہے؟ دلالت کر رہا ہے۔ تو انسان کلی ہے، درحقیقت انسان کا لفظ نہیں کلی بلکہ انسان کا مفہوم کلی ہے، لیکن لفظِ انسان کو بھی کیا کہہ دیا جاتا ہے کہ انسان کلی ہے۔ اسی طرح زید کا مفہوم جزئی ہے، لیکن لفظِ زید کو بھی کیا کہہ دیا جاتا ہے؟ جزئی کہہ دیا جاتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو منطقی کی اصل توجہ قولِ معقول کی طرف ہوتی ہے، لیکن وہ قولِ ملفوظ سے بھی اس کو بحث کرنا پڑتی ہے کیونکہ عقل میں آنے والی بات کو دوسرے تک پہنچانے کے لیے لفظوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ جب تک بات آپ کی عقل میں ہے، دوسرے کو کچھ پتہ نہیں چلے گا اس کا، لیکن جب آپ لفظوں کے ذریعے دوسرے کو بتلائیں گے تو اب اس کو بات کا پتہ چلے گا۔ تو لہٰذا منطقی کو مجبوراً پھر کس سے بحث کرنا پڑتی ہے؟ قولِ قولِ ملفوظ سے بھی بحث کرنا پڑتی ہے۔ تو قولِ معقول وہ ہے جو ذہن میں ہے۔ قولِ ملفوظ وہ ہے جو ہم زبان سے ادا کریں، جس پر ہم تلفظ کریں، جس کو ہم بولیں۔ اور ایک قولِ مکتوب ہے، اسی بات کو جب ہم لکھ لیتے ہیں، تو دیکھو لکھے ہوئے حروف بھی اسی پر دلالت کرتے ہیں یا نہیں کرتے؟ جیسے جیسے زید کھڑا ہے، دیکھو یہ لکھا ہوا یہ قولِ مکتوب ہے بھئی۔ تو اس اعتبار سے گویا قضیہ تین قسم پر ہو گیا: ایک قضیہ معقولہ، ایک قضیہ ملفوظہ، اور ایک قضیہ مکتوبہ بھئی، لکھا ہوا بھئی، لکھا ہوا۔
اب یاد رکھیے، دیکھو مثلاً میں نے آپ سے کہا: زید عالم ہے۔ میں نے ذہن میں دو چیزوں کا تصور کیا: ایک زید کا اور ایک عالم ہونے کا، اور پھر اس عالم ہونے کو میں نے زید کے ساتھ جوڑ دیا۔ تو یہ جو عالم ہونے کو میں نے زید کے ساتھ جوڑا، اس کو کہتے ہیں رابطہ۔ کیا کہتے ہیں؟ رابطہ۔ دیکھو، ربط آ گیا یا نہیں؟ جڑ گئے یا نہیں؟ ربط کا کیا معنی ہوتا ہے؟ جوڑ جڑنا بھئی۔ تو ربط کا کیا معنی ہے؟ جڑ جانا۔ تو دیکھو دونوں میں ربط آ گیا، لیکن پھر یہ ربط کبھی اثبات والا ہوتا ہے کبھی نفی والا، یعنی یا تو دوسری چیز کا پہلی چیز کے لیے اثبات ہو گا یا نفی ہو گی۔ تو لہٰذا جب الفاظ جب زبان سے ہم ادا کریں گے، تو بعض زبانوں میں یہ رابطہ الگ ہمیں نظر آئے گا، بعض زبانوں کے اندر الگ لفظ نہیں۔ جیسے عربی زبان میں رابطہ لفظوں میں نہیں ہوتا۔ عربی میں زبان میں کہیں گے: زید کھڑا ہے۔ عربی، جیسے اردو میں ہے زید زید عالم ہے، عربی میں کہیں گے: زَيْدٌ عَالِمٌ۔ تو زید ہوا موضوع، عَالِمٌ کیا ہوا؟ محمول۔ اور جو رابطہ ہے وہ مقدر ہے۔ وہ کیا ہے؟ مقدر ہے، یعنی فرض کر لیں موجود ہے، نظر نہیں آ رہا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
کیونکہ جب تک جڑیں گے جب جڑیں گے تو بغیر رابطے کے جڑ ہی نہیں سکتے۔ زید الگ لفظ ہے، عالم الگ لفظ ہے۔ تو زید زید کی ذات کا نام ہے، عالم ہونے کا معنی ہے جاننے والا۔ تو یہ جاننے والا یہ تو بکر بھی ہو سکتا ہے، خالد بھی ہو سکتا ہے، لیکن آپ نے اس کو کس کے ساتھ جوڑا؟ زید کے، اور زید کے ساتھ تبھی جڑے گا جب بات پوری ہو: زید عالم ہے۔ اگر آپ صرف کہیں زید عالم، تو دوسرا آپ کو کہے گا بھئی بات تو پوری کریں، عالم ہے یا نہیں ہے؟ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ ہے جو ہے جیسے اردو میں رابطہ ہے، عربی زبان میں رابطہ مقدر ہوتا ہے۔ تو بعض زبانوں میں رابطہ لفظوں میں موجود ہوتا ہے، بعض زبانوں میں رابطہ مقدر ہوتا ہے جیسے عربی کے اندر ہے بھئی۔
اچھا چلیے چلیے، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ قضیہ حملیہ کسے کہتے ہیں؟ جو دو مفرد سے مل کر بنے، ایک چیز کا دوسری چیز کے لیے اثبات ہو یا ایک چیز کی دوسری چیز سے نفی نفی ہو بھئی، نفی ہو۔
اچھا، پہلے ذرا کتاب پر دیکھ لیجیے:
قضیہ وہ مرکب لفظ ہے جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہہ سکیں، جیسے زید کھڑا ہے۔ قضیہ کی دو قسمیں ہیں: قضیہ حملیہ اور قضیہ شرطیہ۔ قضیہ حملیہ وہ قضیہ ہے جو دو مفرد سے مل کر بنے اور اس میں ایک شے کا دوسری شے کے لیے ثبوت ہو، جیسے زید کھڑا ہے، کہ اس میں زید کے لیے کھڑا ہونا ثابت کیا گیا ہے، یا ایک شے سے دوسری شے کی نفی ہو، جیسے زید عالم نہیں، کہ اس میں زید کے عالم ہونے کی نفی کی گئی ہے۔ اول کو موجبہ اور دوسرے کو سالبہ کہتے ہیں۔ قضیہ حملیہ کے جزوِ اول کو موضوع اور دوسرے جزو کو محمول کہتے ہیں۔ موضوع وہ جس کے بارے میں بات کی جائے اور محمول وہ جو بات کی جائے۔ اور جو ان دونوں کے درمیان نسبت ہے اس پر جو لفظ دلالت کرے اس کو رابطہ کہتے ہیں، جیسے زید کھڑا ہے، اس قضیہ میں زید موضوع ہے اور کھڑا محمول ہے اور لفظِ ہے رابطہ ہے۔
آگے بھئی، قضیہ حملیہ کی چار قسمیں ہیں بھئی: قضیہ مخصوصہ، قضیہ طبعیہ، قضیہ محصورہ اور قضیہ مہملہ۔
جی، آسان ہیں بھئی، آسان۔ یاد رکھیے، قضیہ مخصوصہ، اسی کا دوسرا نام ہے قضیہ شخصیہ بھی۔ قضیہ مخصوصہ اور قضیہ شخصیہ۔ قضیہ مخصوصہ وہ قضیہ ہے جس کا موضوع کوئی معین چیز ہو۔ قضیہ مخصوصہ کون سا قضیہ ہے؟ کوئی معین چیز ہو۔ مثلاً: زید تمہارا دوست ہے۔ دیکھو، موضوع کیا ہے؟ زید، اور زید کیا ہے؟ ایک معین ذات کا نام ہے، ایک معین چیز کا۔ اور: یہ ہمارا مدرسہ ہے۔ دیکھو، یہ کسی متعین کی طرف اشارہ ہوا یا نہیں ہوا؟ لہٰذا یہ بھی کیا ہے؟ قضیہ مخصوصہ یا قضیہ شخصیہ۔ یا: لاہور ایک بڑا شہر ہے۔ دیکھو، لاہور کیا ہے؟ ایک متعین شہر کا نام ہے، تو یہ بھی قضیہ مخصوصہ یا قضیہ شخصیہ ہوا۔ یعنی یوں کہو، قضیہ مخصوصہ یا قضیہ شخصیہ اس کا موضوع جزئی ہو گا۔ توجہ ہے؟ قضیہ مخصوصہ یا قضیہ شخصیہ، اس کا موضوع جزئی ہو گا، کلی نہیں ہو گا۔ دیکھو، لاہور کیا ہے؟ ایک جزئی ہے۔ کیا ہر شہر کو لاہور کہہ سکتے ہیں؟ نہیں۔ کیا ہر آدمی کو زید کہہ سکتے ہیں؟ نہیں، ایک جزئی ہے، ایک متعین ہے، اسی کو کہیں گے۔ تو جو بھی کسی متعین جس کا موضوع متعین ہو، وہ قضیہ مخصوصہ اور قضیہ شخصیہ ہے۔ اور اس کی کوئی مثال دو بھئی قضیہ شخصیہ کی؟ قرآن اللہ کی آخری کتاب ہے۔ دیکھا؟ قرآن ایک خاص کتاب کا نام ہے، تو یہ کیا ہوا؟ قضیہ مخصوصہ یا دوسرا نام کیا ہوا؟ قضیہ شخصیہ۔ یا: تیسیر المنطق بڑی دلچسپ کتاب ہے۔ دیکھا؟ تیسیر المنطق یہ کیا ہے؟ ایک خاص، ایک متعین کتاب کا نام ہے، تو یہ کیا ہوا؟ قضیہ مخصوصہ اور قضیہ شخصیہ۔
اور جبکہ اس کے مقابلے میں قضیہ طبعیہ، قضیہ محصورہ اور قضیہ مہملہ، ان کا موضوع کلی ہو گا، جزئی نہیں ہو گا۔ قضیہ مخصوصہ کا موضوع کیا ہو گا؟ کوئی جزئی ہو گا، کوئی متعین شخص، کوئی متعین چیز ہو گی۔ اور قضیہ طبعیہ، قضیہ محصورہ اور قضیہ مہملہ میں ان کا موضوع کلی ہو گا، جزئی نہیں ہو گا۔ انسان جاندار ہے۔ موضوع کیا ہے؟ موضوع ہے کیا، پہلے یہ تو بتاؤ؟ انسان، اور انسان کلی ہے یا جزئی؟ کلی ہے۔ زید بھی انسان، بکر بھی انسان، عمرو بھی انسان، تو یہ کیا ہے؟ ایک کلی ہے۔ تو جب قضیے کا موضوع کیا ہو؟ کلی ہو، وہ یا تو قضیہ طبعیہ ہو گا یا قضیہ محصورہ ہو گا یا قضیہ مہملہ ہو گا۔ آگے تفصیل مزید آ رہی ہے کہ پھر ان میں کیا کیا فرق ہے۔ تو قضیہ مخصوصہ بہرحال اس کا موضوع کوئی شخصِ معین، کوئی ذاتِ معین یا کوئی معین چیز ہو گی بھئی۔
قضیہ مخصوصہ یا شخصیہ وہ قضیہ حملیہ ہے جس کا موضوع شخصِ معین ہو، جیسے زید کھڑا ہے، کہ اس کا موضوع زید ہے اور وہ شخصِ معین ہے۔ قضیہ طبعیہ وہ قضیہ ہے جس کا موضوع کلی ہو اور حکم کلی کے مفہوم پر ہو، افراد پر نہ ہو۔ بھئی ایک ہوتا ہے ایک ہے مفہوم اور ایک ہے افراد۔ آپ بعض اوقات کوئی بات کرتے ہیں، تو آپ یہ جو بات کرتے ہیں نا، اس کو علمی اصطلاح میں کہتے ہیں حکم لگانا۔ مثلاً میں نے کہا: زید عالم ہے۔ میں نے کیا کہا؟ توجہ ہے؟ زید عالم ہے۔ آسان لفظوں میں تو میں کہوں گا میں نے زید کے بارے میں بات کی۔ کیا کہوں گا؟ زید کے بارے میں بات کی۔ لیکن علمی رنگ میں آپ کہیں گے: میں نے زید پر حکم لگایا۔ میں نے کیا کیا؟ حکم لگانے کا کیا معنی ہے؟ بات کرنا۔ زید عالم ہے، کیا کہیں گے عام لفظوں میں کیا کہیں گے؟ میں نے زید کے بارے میں بات کی، اور علمی انداز میں کیسے کہیں گے؟ میں نے زید پر حکم لگایا، حکم لگایا۔ اب یہ جو حکم لگاتے ہیں، یاد رکھیے موضوع پر آپ حکم لگاتے ہیں۔ موضوع کے بارے میں بات کرتے ہیں نا، تو موضوع پر کیا کرتے ہیں؟ حکم لگاتے ہیں۔ تو یہ حکم کبھی موضوع کے مفہوم کے اعتبار سے حکم لگا رہے ہوتے ہیں آپ، اور کبھی کبھار آپ اس کے افراد کے اعتبار سے حکم لگاتے ہیں۔ کس کے اعتبار سے؟ افراد کے۔
مثلاً میں نے کہا: حیوان نوع ہے۔ حیوان نوع ہے، جی بتائیے، حیوان پر میں نے کیا حکم لگایا؟ نوع ہے۔ تو یہ نوع ہونا، یہ حقیقت اور ماہیت کے اعتبار سے ہے یا افراد کے اعتبار سے؟ حقیقت اور ماہیت۔ دیکھو، یہ حقیقت کے اعتبار سے آپ حکم لگا رہے ہیں کہ حیوان کیا ہے؟ میں نے نوع کہا؟ نہیں، حیوان جنس ہے، آپ کو نہیں پتہ؟ اب تو آپ بڑے منطقی ہو بھئی، کوئی میرے سے سبقتِ لسانی ہو مجھے بتا دیا کرو۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: حیوان جنس ہے۔ حیوان کیا ہے؟ جنس ہے۔ اور ایک میں کہتا ہوں کہ حیوان ہر حیوان مرنے والا ہے۔ اب مجھے بتائیے، مرنے والا ہے، یہ مرتا مرنا یہ حقیقت اور ماہیت مرتی ہے کہ افراد مرتے ہیں؟ افراد مرتے ہیں۔ تو یہ حکم: ہر حیوان مرنے والا ہے، یہ کس اعتبار سے میں حکم لگا رہا ہوں؟ افراد کے اعتبار سے۔ حیوان کے افراد مرتے ہیں، حیوان کی حقیقت نہیں۔ حیوان کی حقیقت تو موجود ہے، وہ اسی طرح رہے گی: جسم نام حساس متحرک بالارادہ، وہ تو ہمیشہ یہی رہے گی۔ تو جو مرتے ہیں یا زندہ ہوتے ہیں، یہ افراد ہوتے ہیں۔ تو ہر حیوان مرنے والا ہے، یہ حکم میں کس کے اعتبار سے لگا رہا ہوں؟ افراد کے۔ اور ایک میں یوں کہتا ہوں: حیوان جنس ہے۔ حیوان جنس، یہ جنس ہونا یاد رکھیے یہ مفہوم کے اعتبار سے ہے۔ کس اعتبار سے ہے؟ مفہوم کے اعتبار سے ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ افراد کے اعتبار سے نہیں۔ مثلاً حیوان کے افراد گائے ہے، تو کیا گائے جنس ہے؟ بیل جنس ہے؟ بکری جنس ہے؟ نہیں۔ تو یہ جنس ہونے کا حکم جو میں کس پر لگا رہا ہوں؟ حیوان پر، یہ کس اعتبار سے ہے؟ مفہوم اور ماہیت کے اعتبار سے ہے، افراد کے اعتبار سے نہیں ہے بھئی۔
اب دیکھیے کتاب پر بھئی:
قضیہ طبعیہ وہ قضیہ ہے جس کا موضوع کلی ہو اور حکم کلی کے مفہوم پر ہو، افراد پر نہ ہو، جیسے انسان نوع ہے۔ اس میں نوع ہونے کا حکم انسان کے مفہوم کے لیے ہے، انسان کے افراد کے لیے نہیں۔ یاد رکھو، یہ جنس، نوع، فصل وغیرہ یہ حقیقت اور ماہیت کی صفات ہیں، افراد کی صفات نہیں۔ تو لہٰذا جب میں نے کہا انسان نوع ہے، تو یہ دراصل میں کس انسان کے افراد پر حکم لگا رہا ہوں یا اس کے مفہوم اور ماہیت پر حکم لگا رہا ہوں؟ مفہوم اور ماہیت پر میں حکم لگا رہا ہوں۔ یا جیسے میں کہتا ہوں حیوان جنس ہے، تو یہ حیوان کے افراد پر حکم ہے یا اس کی مفہوم پر؟ مفہوم اور ماہیت پر یہ حکم ہے۔
یا اسی طرح آپ کہتے ہیں: سائیکل خراب ہو گئی۔ آپ کہتے ہیں یا نہیں؟ ہاں، اب مجھے بتائیے، یہ خراب ہونے کا حکم سائیکل کے مفہوم کے اعتبار سے ہے یا افراد کے اعتبار سے؟ ظاہر سی بات ہے، سائیکل کا مفہوم نہیں خراب ہوا بلکہ کیا چیز خراب ہوئی ہے؟ سائیکل کا ایک فرد آپ کے پاس سائیکل تھی، وہ خراب ہوا ہے۔ فرق سمجھ میں آ رہا ہے سب کو؟ بعض اوقات آپ حکم لگاتے ہیں کس اعتبار سے؟ مفہوم کے اعتبار سے یا ماہیت کے اعتبار سے، اور بعض اوقات آپ حکم لگاتے ہیں کس اعتبار سے؟ افراد کے اعتبار سے حکم لگاتے ہیں۔ مثلاً میں کہتا ہوں: کرسی ٹوٹ گئی۔ جی، یہ کس اعتبار سے میں حکم لگا رہا ہوں؟ شاباش، افراد کے اعتبار سے حکم لگا رہا ہوں۔
اب یاد رکھیے، یاد رکھیے۔ ادھر دیکھو بھئی، قضیہ مخصوصہ یا شخصیہ، اس میں حکم کس پر لگتا ہے، موضوع کیا ہوتا ہے؟ کوئی متعین شخص یا متعین چیز ہوتی ہے۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ قضیہ شخصیہ، اور دوسرا نام کیا ہے؟ قضیہ مخصوصہ۔ اور اگر اگر حکم کسی معین چیز پر نہیں ہے بلکہ کلی پر ہے، تو پھر غور کریں کہ حکم کلی کے مفہوم پر لگا رہے ہیں یا کلی کے افراد پر۔ اگر کلی کے مفہوم پر حکم لگا رہے ہیں، توجہ ہے؟ کلی کے تو اس کو قضیہ طبعیہ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ قضیہ طبعیہ۔ اور اگر افراد پہ حکم لگا رہے ہیں، توجہ ہے؟ تو پھر اگر ساتھ یہ بھی بیان کر دیں کہ یہ حکم سارے افراد کے لیے ہے یا یہ حکم بعض افراد کے لیے ہے، تو اس کو کہتے ہیں قضیہ محصورہ۔ کیا کہتے ہیں؟ اور اگر حکم تو افراد پہ لگا رہے ہیں لیکن یہ نہیں بیان کیا کہ یہ حکم بعض افراد کے لیے ہے یا کل افراد کے لیے، تو اس کو قضیہ مہملہ کہتے ہیں۔
تو قضیہ مہملہ میں بھی افراد پر حکم، توجہ ہے ادھر؟ قضیہ شخصیہ میں کس پر حکم؟ معین چیز پر، معین یعنی جزئی پر حکم۔ اور جبکہ باقی قضیہ طبعیہ، قضیہ محصورہ اور قضیہ مہملہ، اس میں کلی پر حکم ہوتا ہے، کس پر؟ کلی پر۔ اب اگر کلی پر حکم ہے اس کی ماہیت اور مفہوم کے اعتبار سے، تو پھر یہ قضیہ طبعیہ ہے۔ اور اگر افراد پر حکم ہے، تو پھر وہ یا قضیہ محصورہ ہو گا یا قضیہ مہملہ ہو گا۔ قضیہ محصورہ میں بھی افراد پر حکم، قضیہ مہملہ میں بھی افراد پر حکم۔ لیکن فرق یہ ہے، محصورہ میں یہ ذکر ہو گا کہ یہ حکم سارے افراد کے لیے ہے یا بعض کے لیے۔ اگر یہ ذکر نہ ہو، تو وہ قضیہ مہملہ بن جائے گا۔
مثلاً میں کہتا ہوں: انسان جسم والا ہے۔ انسان جسم والا ہے۔ اب مجھے بتائیے، یہ سب سے پہلے تو مجھے یہ بتاؤ، یہ حکم افراد پہ لگا رہا ہوں یا مفہوم پہ لگا رہا ہوں؟ انسان جسم والا ہے۔ جی؟ اچھا، انسان کا مفہوم جسم ہے؟ مفہوم جسم والا ہوتا ہے؟ ہاں، انسان کے افراد جسم والے ہوتے ہیں، مفہوم جسم والا نہیں۔ تو میں نے کہا انسان جسم والا ہے، کس پہ حکم لگایا؟ افراد پر حکم لگایا۔ اچھا، میں نے کوئی بیان کیا ہے کہ کتنا کہ کچھ تمام افراد جسم والے ہیں یا بعض افراد جسم والے ہیں؟ نہیں، تو اس کو قضیہ مہملہ کہیں گے۔ کیا کہیں گے؟ اور اگر میں ساتھ یہ بھی بیان کر دوں کہ تمام انسان جسم والے ہیں، اب یہ کیا بن گیا؟ قضیہ محصورہ۔ یا میں کہہ دیتا ہوں بعض انسان جسم والے ہیں۔ یہ بھی قضیہ محصورہ ہے۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ پھر دہرائیے، پھر دہرائیے: اگر قضیہ حملیہ کا موضوع شخصِ معین ہو، کوئی معین ذات ہو، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ قضیہ مخصوصہ اور قضیہ شخصیہ۔ اور اگر حکم معین چیز نہ ہو بلکہ کلی ہو، کلی پر حکم لگایا جا رہا ہے، تو پھر اگر کلی پر حکم ہے اس کے مفہوم کے اعتبار سے، تو اس کا کیا نام؟ قضیہ طبعیہ۔ اور اگر حکم کلی کے افراد پر ہے اور یہ بھی بیان ہے کہ یہ حکم تمام افراد پر ہے یا بعض پر، تو اس کو کیا کہیں گے؟ قضیہ محصورہ۔ اور اگر یہ بیان نہیں ہے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ قضیہ مہملہ۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو یاد رکھیے، جو قضیہ محصورہ ہے نا محصورہ، اس میں افراد پر حکم ہوتا ہے لیکن ساتھ یہ بھی بیان ہوتا ہے: ہر ہر انسان، ہر ہر چیز، یا بعض چیزیں۔ تو ہر ایک، یا تمام، یا کل، یا بعض، یہ لفظ اس میں آئے گا۔ کیا کیا آئیں گے؟ ہر ہر فرد، یا بعض، یا تمام، یا کل، یا اس طرح کا کوئی بھی لفظ آ جائے گا جس سے پتہ چل رہا ہو گا کہ یہ حکم سارے افراد پہ لگایا جا رہا ہے یا بعض افراد پر۔ اس کو کیا کہیں گے؟ قضیہ محصورہ۔ اور یہ جو لفظ اس کا دوسرا نام مسوَّرہ بھی ہے۔ کیا نام ہے؟ مسوَّرہ۔ م، س، و مشدد ہے اور اس پر زبر ہے، اور ر اور گول تا: مسوَّرہ۔ تو قضیہ محصورہ کا دوسرا نام کیا؟ قضیہ مسورہ۔ یہ جو قضیہ محصورہ ہوتا ہے نا، اس میں مثلاً انسان جاندار ہے۔ انسان جاندار ہے، اس انسان سے پہلے تمام کا لفظ آ جائے گا: تمام انسان جاندار۔ یا کہہ دیں گے: کل انسان جاندار۔ یا آ جائیں گے: بعض انسان، تو یہ کل، بعض، تمام وغیرہ یہ لفظ ائیں گے اور ان لفظوں کو سور کہتے ہیں: س، و، ر۔ کیا کہتے ہیں؟ سور۔ سور اصل میں قدیم زمانے میں شہر کے گرد ایک دیوار بنائی جاتی تھی حفاظت کے لیے، اس کو سور کہتے تھے۔ کیا کہتے تھے؟ سور کہتے تھے۔ تو تو جس طرح وہ دیوار پورے شہر کا احاطہ کر لیتی تھی، پورے شہر کو گھیر لیتی تھی، اسی طرح یہ جو شروع میں لفظ آیا کل یا بعض، اس نے بھی کیا کر لیا؟ موضوع کو گھیر لیا، بتا دیا کہ سارے مراد ہیں یا بعض مراد ہیں۔ تو لہٰذا قضیہ محصورہ میں کل، بعض وغیرہ یا کچھ، اس طرح کا لفظ آئے گا اور اس لفظ کو سور کہتے ہیں۔ اور جس قضیے میں یہ سور آئے، اس کا دوسرا اس کا نام کیا ہے؟ قضیہ مسورہ، یعنی جس جو سور والا ہے، جس میں سور آ رہا ہے۔ یعنی سور والا جس میں سور آ رہا ہے، کل یا بعض وغیرہ کا لفظ۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟
اچھا چلیے، پہلے یہ دیکھ لیں، پھر آگے دیکھتے ہیں۔ قضیہ محصورہ: وہ قضیہ ہے جس کا موضوع کلی ہو۔ دیکھا، طبعیہ میں بھی موضوع کلی تھا اور محصورہ میں بھی موضوع کلی۔ لیکن وہاں حکم تھا کلی کے مفہوم پر، اور یہاں پر آگے لکھا ہوا ہے کہ وہ جس کا موضوع کلی ہو اور حکم کلی کے افراد پر ہو، اور یہ بھی اس میں بیان کیا گیا ہو کہ حکم اس کلی کے ہر ہر فرد پر ہے یا بعض افراد پر، جیسے ہر انسان جاندار ہے۔ دیکھو، اس میں موضوع کلی یعنی انسان ہے، انسان کیا ہے، کلی ہے نا؟ اور حکم جاندار ہونے کا اس کے ہر ہر فرد پر ہے کہ ہر انسان جاندار ہے۔ اور پھر قضیہ محصورہ کی چار قسمیں ہیں اور ان کو محصوراتِ اربعہ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ محصوراتِ اربعہ۔
اچھا، موجبہ اور سالبہ کو پہچان لیا کہ نہیں آپ نے؟ موجبہ کسے کہتے ہیں؟ جس میں ایک چیز کے لیے دوسری چیز کا اثبات۔ اور سالبہ کسے کہتے ہیں؟ جس میں ایک چیز سے دوسری چیز کی نفی ہو۔ اسی طرح اب کلیہ اور جزئیہ بھی سمجھ لو۔ کلیہ: جس میں موضوع کے ہر ہر فرد پر حکم لگایا جائے۔ ہر انسان جاندار ہے، تو ہر انسان پہ حکم لگایا یا بعض پر؟ ہر۔ جب ہر انسان پر ہے تو یہ کلیہ ہوا۔ کیا ہوا؟ کلیہ، یعنی کلی ہے، کل پر حکم لگایا جا رہا ہے۔ اور اگر کہا جائے بعض انسان جاندار ہیں، تو اس کو جزئیہ کہتے ہیں۔ جس میں ہر فرد پر حکم ہو وہ کلیہ، اور جس میں بعض پر حکم ہو وہ جزئیہ۔
اب آپ نے مجھے بتانا ہے کہ کون سا قضیہ کلیہ ہے اور کون سا جزئیہ ہے۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: ہر انسان جاندار ہے۔ کلیہ۔ ہر انسان جاندار ہے۔ کلیہ ہے، شاباش۔ میں کہتا ہوں: بعض جاندار انسان ہیں۔ جزئیہ۔ اچھا، بعض جاندار انسان نہیں ہیں۔ جزئیہ۔ اچھا، ہر پتھر بے جان ہے۔ کلیہ، شاباش۔ اب ساتھ کلی موجبہ اور سالبہ بھی جوڑو۔ موجبہ کلیہ کس کو کہیں گے؟ موجبہ بھی ہو اور کلیہ بھی ہو۔ سالبہ کلیہ کسے کہیں گے؟ سالبہ بھی ہو، نفی بھی ہو اور کلیہ بھی ہو۔ اب آپ نے بتانا ہے، تو یہ محصوراتِ اربعہ یہ ہے۔ تو ان دیکھیے کتاب پر: قضیہ محصورہ کی چار قسمیں ہیں اور ان کو محصوراتِ اربعہ کہتے ہیں: موجبہ کلیہ، موجبہ جزئیہ، سالبہ کلیہ اور سالبہ جزئیہ۔
موجبہ کلیہ وہ قضیہ محصورہ ہے جس میں یہ بیان کیا جائے کہ موضوع کے ہر ہر فرد کے لیے محمول ثابت ہے، جیسے ہر انسان جاندار ہے۔ دیکھیے، ہر انسان جاندار ہے، نفی ہے؟ نہیں، تو یہ موجبہ ہوا۔ اور ہر فرد پر ہے حکم یا بعض پر؟ ہر، تو یہ کون سا ہوا؟ کلیہ۔ تو پورا نام کیا ہوا؟ موجبہ کلیہ، یا یوں کہو: قضیہ حملیہ موجبہ کلیہ، یا قضیہ محصورہ موجبہ کلیہ۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ سب قضیہ حملیہ کی قسمیں ہیں نا، اور یہ چار تو محصورہ کی قسمیں ہیں، تو وہ بھی ساتھ جوڑ سکتے ہیں: قضیہ حملیہ محصورہ موجبہ کلیہ۔
اور آگے دیکھیے: موجبہ جزئیہ: وہ قضیہ محصورہ ہو جس میں یہ بیان ہو کہ موضوع کے بعض افراد کے لیے محمول ثابت ہے، جیسے بعض جاندار انسان ہیں۔ اس میں ایجاب ہے یا سلب ہے؟ بعض جاندار انسان ہیں، اس میں ایجاب ہے یا سلب ہے؟ ایجاب ہے، شاباش، تو موجبہ ہوا۔ اور جزئیہ ہے یا کلیہ ہے؟ بعض جزئیہ ہے، تو یہ کیا ہوا؟ موجبہ جزئیہ۔
سالبہ کلیہ وہ قضیہ محصورہ ہے جس دیکھ رہے ہیں کتاب پر؟ سالبہ کلیہ وہ قضیہ محصورہ ہے جس میں یہ ظاہر کیا جائے کہ محمول موضوع کے ہر ہر فرد سے نفی کیا گیا ہے، جیسے کوئی انسان پتھر نہیں۔ ایجاب ہے یا سلب ہے؟ سلب ہے، تو سالبہ ہوا۔ اور بعض انسانوں سے پتھر ہونے کی نفی ہے یا ہر انسان سے؟ ہر انسان۔ جب کہہ دیا کوئی انسان پتھر نہیں، تو ہر ایک سے پتھر ہونے کی نفی کر دی، تو یہ کلیہ ہوا، تو پورا نام کیا ہوا؟ سالبہ کلیہ۔
اور آگے دیکھیے کتاب پر: سالبہ جزئیہ: وہ قضیہ محصورہ ہے جس میں یہ بیان ہو کہ محمول موضوع کے بعض افراد سے سلب کیا گیا ہے، جیسے بعض جاندار انسان نہیں۔ اب دیکھیے، اس میں سلب ہے یا ایجاب ہے؟ سلب، تو سالبہ ہوا۔ اور ہر جاندار سے انسان ہونے کی نفی ہے یا بعض سے؟ بعض سے، تو پھر کیا ہوا؟ سالبہ جزئیہ ہوا، شاباش۔
جبکہ قضیہ مہملہ وہ قضیہ ہے کہ محمول موضوع کے افراد کے لیے ثابت ہے، محمول کس کے لیے؟ اور یہ نہ بیان کیا جائے کہ ہر ہر فرد کے لیے ثابت ہے یا بعض کے لیے، جیسے انسان جاندار ہے۔ میں نے بتایا، محصورہ کے اندر بھی حکم کس پہ لگایا جاتا ہے؟ افراد پر۔ مہملہ میں بھی کس پر لگایا جاتا ہے؟ افراد پر۔ لیکن محصورہ میں کل یا بعض ہونا بیان کیا جائے گا اور مہملہ میں کل یا بعض کو ذکر نہیں۔ انسان جاندار ہے، یہ مہملہ ہے۔ کیا ہے؟ مہملہ۔ جاندار انسان ہے یا انسان کی حقیقت جاندار ہے؟ انسان جاندار ہے۔ انسان کیا ہے؟ جاندار ہے۔ انسان طاقت والا ہے، جی، انسان طاقت والا ہے یا انسان کی حقیقت طاقت والی ہے؟ ہاں، طاقتور ہونا یہ انسان کے افراد طاقتور ہوتے ہیں، کوئی حقیقت طاقتور اور کمزور نہیں ہوتی، حقیقت تو وہی ہے، ہر جگہ رہے گی۔ تو بعض اوقات آپ حکم کس پر لگاتے ہیں؟ افراد پر، بعض اوقات مفہوم اور حقیقت پر۔ تو مفہوم اور حقیقت پر حکم لگائیں تو اس کو کیا کہیں گے؟ قضیہ طبعیہ۔ اور اگر افراد پر حکم لگائیں اور ساتھ افراد بھی ذکر ہوں کہ کتنے ہیں کتنے کل یا بعض، تو اس کو قضیہ محصورہ۔ اور اگر حکم لگائیں تو افراد پر لیکن کل یا جزو ہونا ذکر نہ ہو، تو اس کو اس کو قضیہ مہملہ کہتے ہیں۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟
جی، پھر مختصر خلاصہ سمجھ لیں بھئی۔ آپ نے پڑھا: قضیہ وہ مرکب لفظ ہے جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے۔ پھر یہ دو قسم پر ہے: قضیہ حملیہ اور قضیہ شرطیہ۔ قضیہ حملیہ وہ ہے جو دو مفرد سے مرکب ہو، اور قضیہ شرطیہ وہ ہے جو دو قضیوں سے مرکب ہو۔ اور پھر آپ نے پڑھا قضیہ حملیہ کے اندر تین چیزیں ہوتی ہیں: ایک موضوع، ایک محمول اور ایک رابطہ۔ اور پھر آپ نے پڑھا قضیہ حملیہ کی چار قسمیں ہیں: قضیہ مخصوصہ، قضیہ طبعیہ، قضیہ محصورہ اور قضیہ مہملہ۔ قضیہ مخصوصہ کا دوسرا نام کیا؟ قضیہ شخصیہ، اور یہ اس قضیے کو کہتے ہیں جس کا موضوع شخصِ معین ہو یا ذاتِ معین ہو۔ اور جبکہ باقی تین جو قضیہ حملیہ کی قسمیں ہیں، ان کا موضوع کلی ہوتی ہے، کوئی معین شخص کوئی معین شخص یا معین ذات نہیں ہوتی۔ اور پھر اس میں اگر حکم کلی کے مفہوم پر لگایا جائے، اس کی حقیقت اور ماہیت پر حکم لگایا جائے، تو اس کا نام قضیہ طبعیہ ہے۔ اور اگر حکم افراد پر لگایا جائے اور ساتھ یہ بیان نہ کیا جائے کہ کل افراد مراد ہیں یا بعض، تو اس کا کیا نام ہے؟ قضیہ مہملہ۔ اور اگر یہ ذکر کر دیا جائے کہ کل افراد مراد ہیں یا بعض افراد، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ قضیہ محصورہ۔ اور اس قضیہ محصورہ کا دوسرا نام کیا؟ قضیہ مسورہ۔ کیا نام ہے؟ مسورہ، اس میں سور ذکر ہو گا، یہ جو کل اور جزو پہ جو لفظ دلالت کرے گا اس کو سور کہتے ہیں۔ تو اس کا نام کیا؟ قضیہ مسورہ۔ اور اس قضیہ محصورہ کی چار قسمیں ہیں: نمبر ایک کیا؟ موجبہ کلیہ، دوسرا موجبہ جزئیہ، تیسرا سالبہ کلیہ اور چوتھا سالبہ جزئیہ، شاباش بھئی۔
اچھا، طبعیہ اور اس میں فرق کیسے کریں گے؟ طبعیہ دیکھو، میں نے ابھی کہا: انسان جاندار ہے۔ انسان جاندار ہے، توجہ ہے سب کی؟ قیمتی بات ذکر کرنے لگا ہوں۔ میں نے کہا: انسان جاندار ہے۔ یہ قضیہ طبعیہ ہے یا قضیہ مہملہ ہے؟ انسان جاندار ہے۔ محصورہ تو ہے ہی نہیں نا، کل یا جزو تو ذکر ہی نہیں۔ تو یہ قضیہ مہملہ ہے یا قضیہ طبعیہ ہے؟ خصوصاً اشتباہ بڑا پڑتا ہے اس میں کہ یہ قضیہ طبعیہ ہے یا قضیہ مہملہ ہے۔ تو اس میں یہ دیکھ لیا کرو کہ کل اور جزو پہ حکم لگ سکتا ہے یا نہیں۔ اگر کل اور جزو پہ حکم لگ سکے، تو سمجھ جائیں یہ مہملہ ہے۔ انسان جاندار ہے، آپ کہہ سکتے ہیں: ہر انسان جاندار ہے۔ کہہ سکتے ہیں کہ نہیں کہہ سکتے؟ آپ کہہ سکتے ہیں: بعض انسان جاندار ہیں، کہہ سکتے ہیں۔ لیکن کہا نہیں گیا، معلوم ہوا یہ مہملہ ہے۔ اور اگر آپ یہ نہیں کہہ سکتے ہر انسان جاندار ہے یا بعض اگر نہیں کہہ سکتے کوئی ایسی مثال آ گئی، تو پھر آپ کہہ دیں گے یہ قضیہ مہملہ نہیں ہے کیونکہ اس میں کل جزو ہو ہی نہیں سکتا، یہ کون سا قضیہ طبعیہ ہے۔
مثلاً میں کہتا ہوں: انسان نوع ہے۔ انسان نوع ہے۔ اب آپ نے پتہ چلانا ہے یہ طبعیہ ہے یا مہملہ ہے۔ سور نہیں ذکر نا، سور سے تو آپ فوراً پہچان لیں گے کہ یہ محصورہ ہے، افراد پہ حکم لگایا جا رہا ہے۔ بعض پہ یا کل افراد پہ حکم لگے گا نا؟ تو وہاں تو آپ فوراً محصورہ سے اپ پتہ چلا لیں گے کہ یہ حکم افراد پہ لگایا جا رہا ہے۔ لیکن طبعیہ اور مہملہ میں فرق مشکل ہوتا ہے، کیسے پہچانیں گے؟ میں نے بتایا، اگر ایسا قضیہ ہے جس میں حکم لگایا جا رہا ہے اور کل اور جزو ساتھ ذکر نہیں، تو پھر اس کے ساتھ کل اور جزو کو جوڑ کر دیکھو۔ اگر کل اور جزو اس کے ساتھ جڑتے ہیں، تو سمجھ جاؤ یہ مہملہ ہے۔ یہ کیا ہے؟ مہملہ۔ اور اگر کل اور جزو اس کے ساتھ نہیں جڑتے، تو سمجھ جاؤ یہ کیا ہے؟ طبعیہ ہے۔
میں نے کہا انسان جاندار ہے، تو اس کے ساتھ کل اور جزو جڑتے ہیں یا نہیں جڑتے؟ ہر انسان جاندار ہے، آپ کہہ سکتے ہیں، جڑ رہا ہے۔ بعض انسان جاندار ہیں، یہ بھی جڑ رہا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ بعض انسان جاندار ہیں، آپ یہ نہ کہیں تو انسان تو سارے ہی جاندار ہیں۔ بھئی، باقیوں کی میں نے بات نہیں کی، میں نے کب کہا وہ بے جان ہے؟ میں نے صرف کچھ کے بارے میں کہہ دیا کہ بعض انسان کیا ہیں؟ جاندار ہیں۔ میری بات غلط ہے؟ نہیں، بات میری ٹھیک ہے، باقیوں کے بارے میں میں نے بات نہیں کی۔ ان کے بارے میں خاموش رہنے کا یہ مطلب نہیں کہ میں کہہ رہا ہوں وہ جاندار نہیں ہیں، میں نے کب کہا وہ جاندار نہیں ہیں؟ میں نے صرف اتنا کہا ہے: بعض انسان کیا ہیں؟ جاندار ہیں۔ میری بات ٹھیک ہے یا غلط، مجھے بتائیں؟ بات ٹھیک ہے۔ تو دیکھا، انسان جاندار ہے، اس میں کل پر بھی حکم لگا سکتے ہیں: ہر انسان جاندار ہے، اور بعض پر بھی لگا سکتے ہیں: بعض انسان کیا ہے؟ لہٰذا معلوم ہوا انسان جاندار ہے، یہ قضیہ کون سا ہوا؟ مہملہ ہوا۔ کیا ہوا؟ مہملہ۔ کل اور جزو ذکر ہو سکتے ہیں لیکن ذکر نہیں کیے گئے، اور اگر کل اور جزو نہیں ہو سکتا، تو وہ قضیہ طبعیہ ہے۔
جیسے مثال میں ذکر کر رہا ہوں: انسان نوع ہے۔ اب مجھے بتاؤ، ہر انسان نوع ہے؟ ہر انسان نوع ہے؟ ہر آپ نوع ہیں؟ نوع تو اس کو کہتے ہیں، کس کو کہتے ہیں؟ جو ایک حقیقت والے افراد پر بولا جائے۔ کیا تھا؟ وہ کلی ذاتی ہے جو ایسے جزئیات پر بولی جائے کہ ان جزئیات کی حقیقت کیا ہو؟ ایک ہو۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ہر انسان نوع ہے، یہ کہہ ہی نہیں سکتے۔ ہر انسان یا بعض انسان نوع ہیں، یہ نہیں، کیونکہ نوع ہونے کا حکم افراد کے اعتبار سے نہیں ہے، یہ کس اعتبار سے ہے؟ مفہوم اور حقیقت کے اعتبار سے۔ انسان کی حقیقت کیا ہے کہ وہ نوع ہے، وہ کیا ہے؟ نوع ہے۔
یا اور مثال لے لیں: حیوان جنس ہے۔ حیوان کیا ہے؟ جنس ہے۔ اب مجھے بتائیے، طبعیہ ہے یا مہملہ؟ کیا آپ کہہ سکتے ہیں ہر حیوان جنس ہے؟ کیا گدھا جنس ہے؟ نہیں، گدھا تو فرد ہوا نا، اور جنس اور فصل یہ تو کلی ہے، یہ کیا ہے؟ کلی ہے۔ کیا ہے؟ کلی۔ اور ایک فرد وہ تو جزئی ہو گا۔ نہیں سمجھ میں آ رہی، میرا خیال تھک گئے، سبق کی طرف توجہ ہی نہیں ہے۔ پھر سنو: طبعیہ اور مہملہ میں فرق عموماً مشکل ہوتا ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ اگر وہاں کلیت یا جزئیت کو ذکر کیا جا سکے، تو سمجھ جائیں کلیت اور جزئیت ممکن تھی، پھر بھی ذکر نہیں کی گئی، معلوم ہوا یہ مہملہ ہے۔ کیا ہے؟ مہملہ۔ اور اگر کلیت اور جزئیت کو ذکر کرنا وہاں درست ہی نہ ہو، تو سمجھ جائیں وہ کیا ہے؟ قضیہ طبعیہ ہے۔
مثلاً مثلاً میں نے کہا: حیوان جنس ہے۔ اب یہ حیوان پر جو جنس ہونے کا حکم لگایا جاتا ہے، وہ اس کی ماہیت اور حقیقت اور مفہوم کے اعتبار سے لگایا جا رہا ہے کہ یہ وہ مفہوم ہے جو کثیرین میں مختلف حقیقتوں والے کثیر افراد میں چیزوں میں پایا جا رہا ہے۔ تو جنس، نوع، فصل وغیرہ یہ جو حکم لگائے جاتے ہیں، یہ کس اعتبار سے ہوتے ہیں؟ مفہوم کے اعتبار سے ہوتے ہیں، افراد کے اعتبار سے نہیں ہیں۔ لہٰذا حیوان جنس ہے، تو کیا آپ کہہ سکتے ہیں ہر حیوان جنس ہے؟ نہیں کہہ سکتے۔ بعض حیوان جنس ہیں، یہ بھی نہیں کہہ سکتے۔ لہٰذا معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ قضیہ طبعیہ ہے۔
اچھا، اب مجھے بتائیے: انسان ضاحک ہے۔ انسان ضاحک ہے، مجھے بتائیے یہ طبعیہ ہے یا مہملہ؟ کیا آپ کہہ سکتے ہیں ہر انسان ضاحک ہے؟ کیا آپ کہہ سکتے ہیں بعض انسان ضاحک ہیں؟ ہر انسان ضاحک، ہنسنے والا ہے یا نہیں؟ ہے۔ ہر انسان ہنسنے والا ہے، یا آپ کہہ سکتے ہیں بعض انسان کیا ہے؟ ہنسنے تو حقیقت ہنستی ہے یا انسان کے افراد ہنستے ہیں؟ انسان کے افراد ہنستے ہیں۔ حقیقت تو وہ پرزے کا نام ہے جس سے وہ چیز بنی ہے، اس میں ہنسنا نہ ہنسنے کی کیا بات ہے؟ اس میں طاقتور کمزور ہونے کی کیا بات ہے؟ تو اگر طاقتور ہونے کا حکم لگا رہے ہیں، وہ بھی افراد پر، اگر ضاحک ہونے کا حکم لگا رہے ہیں، وہ بھی کس اعتبار سے ہے؟ افراد کے اعتبار سے ہے۔
اچھا، اور کوئی مثال دیں بھئی۔ انسان محنتی ہے، جی، یہ قضیہ طبعیہ ہے یا مہملہ ہے؟ جی؟ مہملہ ہے۔ محنتی انسان کے افراد ہوتے ہیں، حقیقت نہیں محنتی، حقیقت تو اس کی حیوانِ ناطق ہے۔ اس میں محنتی نہ ہو محنتی ہونے نہ ہونے کا کیا مطلب؟ وہ تو اس کی حقیقت ہے، وہ دو پرزے ہیں جن سے کیا ہے انسان بنا ہے بھئی۔ اچھی طرح بات سمجھ میں آ گئی؟
یہ سوالات دیے ہوئے ہیں کتاب میں آخر میں بھئی، یہ بھی حل کر لیتے ہیں۔ مندرجہ ذیل قضایا میں قضیہ کی اقسام بیان کرو:
نمبر ایک: عمر مسجد میں ہے۔ یہ کون سا قضیہ ہے؟ طبعیہ ہے یا مہملہ ہے؟ جی؟ طبعیہ اور مہملہ میں تو موضوع کلی ہوتا ہے، اور یہاں موضوع کون ہے؟ جزئی ہے، تو یہ کیا ہوا؟ قضیہ مخصوصہ یا قضیہ شخصیہ۔ اور موجبہ ہے یا سالبہ؟ جی؟ ایجاب ہے یا سلب ہے؟ ایجاب ہے، تو قضیہ مخصوصہ موجبہ۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اچھا، حیوان جنس ہے، جی، یہ کون سا قضیہ ہے؟ قضیہ طبعیہ ہے، شاباش۔ جنس ہونا یہ ماہیت کی صفت ہوتی ہے، افراد کی صفت نہیں۔ تو یہ قضیہ طبعیہ ہے بھئی، اور موجبہ ہے یا سالبہ؟ موجبہ ہے بھئی۔
اچھا، ہر گھوڑا ہنہناتا ہے، جی بتائیے۔ جی بولو، قضیہ طبعیہ ہے یا قضیہ مہملہ ہے یا قضیہ محصورہ ہے؟ محصورہ ہے، ہر گھوڑا، دیکھا ہنہناتے افراد ہیں، حقیقت نہیں ہنہناتی اس کی۔ اور کون سی قسم ہے؟ محصورہ کی کون سی قسم ہے؟ موجبہ ہے، سالبہ ہے؟ موجبہ۔ اور کلیہ ہے، جزئیہ ہے؟ کلیہ، تو موجبہ کلیہ ہوا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟
کوئی گدھا بے جان نہیں، جی، کوئی گدھا بے جان نہیں۔ جی، بولو۔ جی؟ شاباش، کوئی گدھا، دیکھو سب سے نفی کی جا رہی ہے۔ کوئی گدھا بے جان، بے جان ہونے کی نفی ہر ہر فرد سے کی جا رہی ہے۔ جب کل یا جزو کا ذکر آ جائے تو سمجھ جائیں یہ کس پر حکم لگ رہا ہے؟ افراد پر۔ تو یہ کون سا قضیہ ہوا؟ قضیہ محصورہ۔ اچھا، محصورہ کی کون سی قسم ہے، موجبہ ہے، سالبہ ہے؟ سالبہ۔ اور کلیہ ہے یا جزئیہ ہے؟ کلیہ ہے، تو سالبہ کلیہ۔ کیا ہوا؟ سالبہ کلیہ۔ بات سب کو سمجھ میں آ رہی ہے؟
آگے ہے: بعض انسان لکھنے والے ہیں، جی، یہ کون سا قضیہ ہے؟ بعض، بعض سے ہی فوراً پتہ چل گیا محصورہ ہے۔ کون سی قسم ہے محصورہ کی، موجبہ ہے یا سالبہ ہے؟ موجبہ ہے، ج کے نیچے زیر پڑھو، موجبہ ہے۔ اور کلیہ ہے، جزئیہ ہے؟ جزئیہ، تو موجبہ جزئیہ۔
بعض انسان ان پڑھ ہیں۔ بعض، محصورہ، اور موجبہ ہے، سالبہ ہے؟ موجبہ ہے۔ اور کلیہ ہے یا جزئیہ ہے؟ جزئیہ، تو موجبہ جزئیہ ہوا۔
ہر گھوڑا جسم والا ہے۔ جی؟ محصورہ ہے، یہ ہر لفظ سے پتہ چل گیا، ہر کا لفظ جو آ رہا ہے۔ محصورہ کون سا ہے، موجبہ ہے، سالبہ ہے؟ موجبہ، اور کلیہ ہے، جزئیہ ہے؟ کلیہ، تو موجبہ کلیہ ہوا۔
کوئی پتھر انسان نہیں۔ محصورہ ہے، شاباش، ہر ہر پتھر سے انسان ہونے کی نفی کی جا رہی ہے، محصورہ۔ اور موجبہ ہے، سالبہ؟ سالبہ، اور کلیہ ہے، جزئیہ ہے؟ کلیہ، تو سالبہ کلیہ۔
ہر جاندار مرنے والا ہے۔ محصورہ، کون سا، موجبہ، سالبہ؟ موجبہ، اور کلیہ ہے، جزئیہ ہے؟ کلیہ، تو موجبہ کلیہ۔
ہر متکبر ذلیل ہے، یہ کون سا ہوا؟ محصورہ، شاباش۔ موجبہ ہے، کلیہ؟ موجبہ، اور کلیہ ہے یا جزئیہ؟ کلیہ، تو موجبہ کلیہ۔ یا یوں کہو، سارے نام شروع میں لے آؤ، یہ کس کون سے قضیہ کی قسم ہے؟ حملیہ ہے یا شرطیہ ہے؟ حملیہ۔ اچھا، پھر حملیہ کی کون سی قسم ہے؟ محصورہ۔ پھر محصورہ کی کون سی قسم ہے؟ موجبہ۔ موجبہ کون سا؟ کلیہ۔ تو گویا یوں کہو: قضیہ حملیہ محصورہ موجبہ کلیہ، یا صرف کہہ دو: قضیہ محصورہ موجبہ کلیہ۔ تو محصورہ بھی ساتھ ذکر کرو تاکہ پتہ چل جائے۔ ویسے بھی یہ جو کلیہ اور جزئیہ جب ساتھ آپ ذکر کر دیں گے اسی سے پتہ چل جائے گا کہ یہ کون سا قضیہ ہے؟ محصورہ ہے کیونکہ کلیہ جزئیہ ہونا محصورہ کی صفت ہے۔
ہر متواضع عزت والا ہے، ہر عاجزی کرنے والا عزت والا ہے، جی، کون سا ہے؟ شاباش، محصورہ ہے۔ موجبہ ہے، سالبہ ہے؟ موجبہ ہے، اور کلیہ ہے، جزئیہ ہے؟ کلیہ ہے۔ تو محصورہ موجبہ کلیہ۔
ہر حریص خوار ہے، حریص حریص لالچی، خوار ہے یعنی ذلیل ہے۔ ہر لالچی ذلیل ہے، جی، کون سا قضیہ؟ محصورہ ہے، اور موجبہ ہے سالبہ ہے؟ موجبہ ہے، اور کلیہ ہے، جزئیہ ہے؟ کلیہ، تو قضیہ محصورہ موجبہ کلیہ۔ اس طرح آپ نے لکھنا ہے جواب۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ قضیہ محصورہ موجبہ کلیہ۔
چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔