سبقِ سیزدہم: معرف اور قولِ شارح کا بیان
دو یا زیادہ تصور جانے ہوئے کو ترتیب دے کر کسی نہ جانے ہوئے تصور کو جب معلوم کریں، تو ان دو تصور یا زیادہ کو معرف اور قولِ شارح کہتے ہیں۔ جیسے تم کو حیوان اور ناطق کا علم ہے، ان دونوں کو ملایا تو حیوانِ ناطق ہوا۔ اس سے تم کو انسانِ نامعلوم کی حقیقت کا علم ہو گیا۔ پس حیوانِ ناطق کو انسان کا معرف کہیں گے۔ معرف یا قولِ شارح کی چار قسمیں ہیں: حدِ تام، حدِ ناقص، رسمِ تام اور رسمِ ناقص۔
اچھا بھئی، آج ہم تیرھواں سبق پڑھیں گے جس میں معرف اور قولِ شارح کا بیان ہے بھئی، معرف اور قولِ شارح۔ یہ بات پہلے ذکر ہو چکی ہے لیکن ایک مرتبہ پھر میں ذکر کر دیتا ہوں تاکہ آپ کے ذہن میں تازہ ہو جائے۔ آپ نے پڑھا تھا کہ ہمارا علم دو قسم پر ہے: یا وہ تصور ہے یا تصدیق ہے۔ اور تصدیق جو ہے اس میں بات پوری ہوتی ہے اور اس کو انسان مان بھی لیتا ہے، جبکہ تصور جو ہے اس میں بات پوری نہیں ہوتی اور اگر بات پوری ہو تو پھر اس میں شک ہوتا ہے، یعنی اس کا پورا انسان اعتقاد نہیں کرتا، اس کو تسلیم نہیں کیا، ذہن میں اس کے بارے میں شک ہے، تردد ہے، تو اس میں شک بھی آ گیا، وہم بھی آ گیا اور نیز اسی طرح اس میں جملہ انشائیہ بھی داخل ہے۔ تو جملہ انشائیہ بھی کس میں سے ہے؟ تصور میں سے۔ تو تصدیق میں کیا ہوتی ہے؟ بات پوری ہوتی ہے اور انسان اس کو تسلیم بھی کر لیتا ہے، مان بھی لیتا ہے۔ مثلاً میں کہتا ہوں زید کھڑا ہے، تو میرے ذہن میں یہی اعتقاد ہے، میں نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ وہ کھڑا ہے۔ لیکن اگر میرے ذہن میں اس کے بارے میں شک ہو تو پھر وہ تصدیق نہیں ہو گا بلکہ کیا ہے؟ تصور ہے بھئی، تصور ہے۔
پھر آپ نے پڑھا تھا کہ یہ جو تصور اور تصدیق ہیں یہ دونوں دو دو قسم کے ہیں۔ تصور یا بدیہی ہو گا یا نظری، اسی طرح تصدیق بھی یا بدیہی ہو گی یا نظری۔ اور میں نے بتلایا تھا بدیہی کا معنی یہ ہے جو غور و فکر کے بغیر ہی فوراً سمجھ میں آ جائے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ بدیہی۔ مثلاً میں نے کہا کتاب، آپ فوراً سمجھ گئے۔ میں نے کہا قلم، آپ فوراً سمجھ گئے۔ میں نے کہا آگ، میں نے کہا پانی، درخت۔ دیکھیں جو جو لفظ میں بولتا جا رہا ہوں آپ فوراً سمجھتے جا رہے ہیں، اس میں ذرا بھی غور و فکر نہیں کرنا پڑتا۔ تو وہ چیز یا وہ بات جو فوراً سمجھ میں آ جائے اس کو بدیہی کہتے ہیں۔ اور وہ چیز یا وہ بات جو فوراً سمجھ میں نہ آئے، اس کے لیے غور و فکر کرنا پڑے، دماغ خرچ کرنا پڑے، اس کو نظری کہتے ہیں۔ نظری، ن، ظ، ر، ی، نظری۔ اس کو نظری کہتے ہیں۔
جیسے مثلاً کسی کو آپ جنات کے بارے میں بتلانا چاہتے ہیں، مثلاً اس کو علم نہیں پہلے سے، تو اب آپ اس کو بتاتے ہیں کہ جنات جو ہے وہ ایک مخلوق ہے جس کو اللہ نے آگ سے پیدا کیا ہے اور وہ لطیف ہے، دکھائی نہیں دیتی ہوا کی طرح۔ اب وہ سمجھ گیا کہ جنات کسے کہتے ہیں۔ تو دیکھا، غور و فکر کرنا پڑا، اس کو دماغ خرچ کرنا پڑا، اسے سمجھانا پڑا، پھر جا کر وہ بات کو سمجھا۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ نظری کہتے ہیں۔
تو تصور بھی دو قسم پر ہوا اور تصدیق بھی دو قسم: تصور یا بدیہی ہو گا یا نظری، اور اسی طرح تصدیق بھی یا بدیہی ہو گی یا نظری۔ تو تصورِ بدیہی کس کو کہتے ہیں؟ وہ تصور جس میں غور و فکر نہ کرنا پڑے۔ اور تصورِ نظری کسے کہتے ہیں؟ جس میں غور و فکر کرنا پڑے۔ اسی طرح تصدیقِ بدیہی کسے کہتے ہیں؟ جو تصدیق فوراً سمجھ میں آ جائے، جس میں غور و فکر نہ کرنا پڑے۔ اور تصدیقِ نظری کسے کہتے ہیں؟ جس میں غور و فکر کرنا پڑے۔
اب یہ نظر اور فکر کسے کہتے ہیں، یہ تصورِ نظری، تصدیقِ؟ تو آپ کو انہوں نے بتلایا تھا کہ یہ جو تصور ہیں، یہ بھی دو قسم کے: کچھ ہمیں معلوم ہیں، کچھ مجہول۔ کیا آپ کو دنیا کی ہر چیز کا پتا ہے؟ نہیں، کچھ چیزوں کا پتا ہے اور کچھ چیزوں کا پتا نہیں۔ تو اگر وہ تصور کے قبیل سے ہیں تو جن چیزوں کا آپ کو پتا ہے اس کو کہیں گے تصورِ معلوم، یہ آپ کو معلوم ہیں، اور جن کا آپ کو پتا نہیں اس کو کہیں گے تصورِ مجہول۔ مجہول کا معنی جس کا جس سے آپ لا علم ہیں، جس کا آپ کو پتا نہیں۔ اسی طرح تصدیق بھی دو قسم پر: کچھ وہ ہو گی جن کا آپ کو علم ہے، اس کو کہیں گے تصدیقِ معلوم، اور جس کا آپ کو علم نہیں اسے کہیں گے تصدیقِ مجہول۔
اب آپ کو جن چیزوں کا علم ہے ان کی مدد سے آپ ان چیزوں کو پہچانتے پہچاننے اور جاننے کی کوشش کرتے ہیں جن کا آپ کو علم نہیں۔ جن چیزوں کا آپ کا جن چیزوں کا آپ کو علم نہیں، کیا وہ خود بخود حاصل ہو جائیں گی یا معلوم کے ذریعے ان کو حاصل کرنا پڑے گا؟ ہاں، معلوم کے ذریعے ان کو جاننا پڑے گا۔ جیسے میں نے مثال ذکر کی تھی، آپ کا ایک ساتھی ہے، مثلاً اس کو ہاتھی کا نہیں پتا۔ اب آپ کیا کرتے ہیں؟ اس کو ہاتھی کے بتلاتے ہیں کہ ہاتھی بہت بڑا جانور ہے، اس کا اتنا بڑا جسم ہوتا ہے، اس کا اس طرح کا رنگ ہوتا ہے، اس کی ایک سونڈ ہوتی ہے، موٹی ٹانگیں ہوتی ہیں، تو اب وہ کچھ سمجھ گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو دیکھا، اس کو جسم کا بھی پتا تھا، اس کو ٹانگوں کا بھی پتا، اس کو سونڈ کے بارے میں بھی آپ نے بتلا دیا، اس کو کالے رنگ کا بھی پتا، یہ دیکھا یہ سب چیزوں کا اس کو علم تھا۔ ان چیزوں کو ملایا تو ایک کس چیز کا علم ہو گیا؟ ایک نا معلوم چیز کا علم ہو گیا۔ تو معلوم چیزوں کو ملا کر نا معلوم چیز کو جانا جاتا ہے، اس کو حاصل کیا جاتا ہے۔
تصور کے ذریعے تصور حاصل ہوتا ہے اور تصدیق کے ذریعے تصدیق۔ معلوم تصورات کو دو یا زیادہ کو ملائیں گے تو کیا حاصل ہو گا؟ مجہول تصور حاصل ہو گا۔ اور اسی طرح دو یا زیادہ معلوم تصدیقوں کو ملائیں گے تو مجہول تصدیق آپ کو حاصل ہو گی۔ پھر دہراؤ بھئی، مجہول تصور کو کس کے ذریعے حاصل کریں گے؟ معلوم تصوروں سے۔ اور مجہول تصدیق کو کس سے حاصل کریں گے؟ معلوم تصدیقوں سے۔ حاصل یہ کہ تصور سے تصور کا پتا چلتا ہے اور تصدیق سے تصدیق کا، معلوم سے مجہول کا پتا چلتا ہے۔ اور اس کا طریقہ بھی انہوں نے بتلایا تھا کہ دو یا زیادہ معلوم تصوروں کو ملائیں گے اور ترتیب دیں گے تو پھر آپ کو وہ نا معلوم یا مجہول تصور حاصل ہو جائے گا۔ اسی طرح دو یا زیادہ معلوم تصدیقوں کو ملائیں گے تو آپ کو مجہول تصدیق حاصل ہو جائے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
اسی طرح مثلاً تصدیق کی مثال بھی میں نے ذکر کی تھی: مثلاً آسمان پر کالے بادل چھائے ہوئے ہیں، آپ اپنے ساتھی سے کہتے ہیں: آج آسمان پر کالے بادل چھائے ہوئے ہیں، اور دوسری بات کرتے ہیں: جس دن آسمان پر ایسے کالے بادل چھائے ہوں اس دن بارش ضرور ہوتی ہے۔ دیکھا، ایک تیسری بات کا فوراً اس کو پتا چل گیا۔ کیا؟ بارش ضرور ہو گی۔ دیکھو، میرے دو جملوں پہ غور کرو، ایک تیسری بات آپ کو معلوم ہو گی۔ اس نے پہلے کیا کہا: آج آسمان پر کالے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ آگے کہتا ہے: اور جس دن ایسے کالے بادل آسمان پر چھائے ہوں اس دن بارش ضرور ہوتی ہے۔ نتیجہ کیا نکلا؟ آج بارش ضرور ہو گی۔ دیکھا، حالانکہ یہ تو اس نے نہیں کہا کہ آج بارش ضرور ہو گی، لیکن دو ایسی باتیں کیں، دو ایسی تصدیقیں لے کر آیا جس سے تیسری تصدیق کا خود بخود کیا ہو گیا؟ علم ہو گیا، حالانکہ وہ اس کا پہلے اس کو علم نہیں تھا۔ تو دیکھا، معلوم تصدیقوں کو ملایا تو کیا حاصل ہو گئی ایک مجہول تصدیق جس کا اس کو پہلے علم نہیں تھا۔
تو یہ جو معلوم تصوروں کو ہم تر ملاتے ہیں، ترتیب دیتے ہیں اور مجہول تصور کو اس حاصل کرتے ہیں، تو یہ معلوم توجہ ہے؟ تو یہ معلوم تصوروں کو ملانا، جوڑنا، ترتیب دینا اس کو کہتے ہیں نظر و فکر۔ کیا کہتے ہیں؟ نظر و فکر۔ اسی طرح معلوم تصدیقوں کو جوڑنا اور ترتیب دینا یہ کیا ہے؟ نظر و فکر، جس سے پھر کیا حاصل ہو گی؟ مجہول تصدیق حاصل ہو گی۔ اور اس نظر و فکر میں بعض اوقات انسان سے غلطیاں ہوتی ہیں۔ تو وہ علم جو ان اس نظر و فکر میں غلطیوں سے ہماری حفاظت کرتا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ علمِ منطق، علمِ منطق۔ تو علمِ منطق کیا کرتا ہے؟ نظر و فکر میں غلطیوں سے ہماری حفاظت کرتا ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ پرانی باتیں میں ذکر کر رہا ہوں بھئی۔
نیز آپ نے یہ بھی پڑھا تھا کہ یہ دو یا زیادہ معلوم تصور جن کو ملایا تو کیا حاصل ہوا؟ مجہول تصور۔ تو یہ جو دو یا زیادہ معلوم تصور ہیں جو ہمیں لے جانے والے ہیں آگے کس کی طرف؟ مجہول تصور، تو یہ جو دو یا زیادہ معلوم تصور ہیں ان کو تعریف بھی کہتے ہیں اور ان کو معرف بھی کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ تعریف اور معرف۔ دیکھو تعریف کا معنی پہچان کروانا۔ یہ آگے ایک تیسری چیز کی پہچان کروا رہے ہیں یا نہیں؟ ایک مجہول تصور کی اب آپ کو پہچان تو یہ جو دو تصور ہیں جن کو آپ نے ملایا، جن کو آپ نے ترتیب دیا، ان کو کیا کہیں گے؟ تعریف اور معرف۔ ویسے ہی کہیں گے یا یہ آگے کسی تیسرے کا جب تعارف کروائیں گے پھر کہیں گے؟ جب تعارف کروائیں گے، جب ان کے ذریعے کسی تیسری بات کا پتا چلے گا، تو یہ جو دو تصور تھے یا تین تھے یا چار تھے جن کو آپ نے جوڑا تھا، ملایا تھا، ان کو کہتے ہیں تعریف۔ دوسرا ان کا نام ہے معرف، معرف کا معنی پہچان کروانے والا۔ تو یہ تین یا چار جو ہیں کیا کر رہے ہیں؟ ہمیں اگلے ایک نا معلوم تصور کی پہچان کروا رہے ہیں۔ تو ان کو کیا کہیں گے؟ تعریف، معرف۔ تعریف اور معرف کون سے تصور کو کہیں گے؟ وہ جو مجہول ہمیں ملا یا یہ والے جو پہلے سے معلوم تھے؟ ہاں، یہ جو پہلے سے معلوم تھے جن کو آپ نے جوڑا اور کس کو حاصل کیا؟ مجہول، تو مجہول تو ابھی بعد میں آئے گا، لیکن یہ جو چیزیں جن کو آپ نے جوڑا، دو پرزے ہیں یا تین ہیں یا چار ہیں، ان کو کیا کہیں گے؟ تعریف، اور دوسرا نام کیا ہے؟ معرف۔ تعریف کا کیا معنی؟ پہچاننا، پہچان کروانا۔ اور معرف کا کیا معنی؟ پہچان کروانے والا۔ اسمِ فاعل ہے: عَرَّفَ يُعَرِّفُ تَعْرِیْفًا فَهُوَ مُعَرِّفٌ۔ دیکھا، یہ بابِ تفعیل ہے۔ تو تعریف اسی کا مصدر ہے پہچان کروانا، پہچان کروانا، اور معرف پہچان کروانے والا، پہچان کروانے والا۔
اور نیز یہ جو دو یا تین تصور ہیں جن کو ملایا ہے آپس میں، کیوں ملایا ہے ان کو؟ مجہول کو حاصل کرنے کے لیے۔ تو یہ جو دو یا تین معلوم تصور ہیں جن کو آپ نے ملایا، ان کا ایک نام کیا؟ تعریف، ایک نام کیا؟ معرف، اور ایک نام ان کا ہے قولِ شارح۔ کیا نام ہے؟ قولِ شارح۔ قول کا معنی بات، شارح کا معنی شرح کرنے والی، وضاحت کرنے والی، معنی بیان کرنے والی۔ اس کو تعریف کیوں کہتے ہیں یہ جو دو تین جن کو ملایا؟ کیونکہ یہ ہمیں پہچان کروا رہے ہیں۔ اچھا، ان کو معرف کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ یہ ہمیں پہچان کروا رہے ہیں۔ ان کو قولِ شارح بھی اسی لیے کہتے ہیں۔ قول کا کیا معنی؟ بات، اور شارح کا معنی وضاحت کرنے والی۔ یہ بات جو ہے، یہ جو تین چار چیزیں آپ نے ملائیں، یہ وضاحت کر رہی ہیں ایک تیسری ایک نئی چیز کی، یا یہ معنی بیان کر رہی ہیں ایک نئی چیز کی، یا یہ شرح بیان کر رہی ہیں ایک نئی چیز کی۔ شرح کا معنی وضاحت کرنا، وضاحت اور معنی بیان کرنا۔ تو اس کے کتنے نام ہوئے؟ تین۔ نمبر ایک: تعریف، یہ جو دو یا تین معلوم تصور تھے۔ تعریف کیوں کہتے ہیں اس کو؟ ہاں، یہ پہچان کرواتے۔ اور نیز دوسرا نام کیا؟ معرف، کیونکہ یہ کیا کرتے ہیں؟ پہچان کروانے والے ہیں۔ اور نیز اس کو کیا کہتے ہیں؟ قولِ شارح۔ قول کا کیا معنی؟ بات، شارح کا معنی وضاحت کرنے والا، وضاحت کرنے والی۔ تو یہ جو ہیں ان کو کیا کہیں گے؟ یہ وضاحت کرنے والی بات ہے، یہ معنی کو بیان کرنے والی بات ہے، اس نے کیا کیا ایک اور ایک چیز کا معنی ہمارے لیے ایک چیز کا معنی ہمارے لیے بیان کر دیا، وہ ہمیں سمجھا دی، دیکھو۔
جیسے میں نے ہاتھی کی تعریف کی تھی، ہاتھی کیا تھا؟ اس آپ کے ساتھی کے لیے مجہول تھا، اور اس سے پہلے کئی چیزیں آپ نے ملائیں: وہ بڑا جسم ہوتا ہے، کالا رنگ ہوتا ہے، بڑی ٹانگیں ہوتی ہیں، سونڈ ہوتی ہے۔ یہ چیزیں کیا ہیں؟ معلوم تصور۔ یہ کیا ہیں؟ اور کیا حاصل ہوا وہ جو مجہول تصور تھا؟ ہاتھی۔ تو یہ جو معلوم تصور ہے ان کو کیا کہیں گے پہلا نام؟ تعریف، دوسرا نام؟ معرف، تیسرا نام؟ قولِ شارح۔ یہ شرح کرنے والی بات ہے، یہ کس کی شرح کر رہی ہے یہ بات؟ ہاتھی کی، کیا کر رہی ہے ہاتھی کی؟ شرح، ہاتھی کی وضاحت کر رہی ہیں، ہاتھی کے معنی کو بیان کر رہی ہیں یہ چیزیں جو آپ نے ذکر کی تھیں۔ اب بات سمجھ میں آ گئی؟ اس کے کتنے نام ہو گئے؟ تعریف، معرف اور قولِ شارح بھئی۔
اور آپ نے یہ پڑھا کہ دو یا زیادہ تصدیقوں کو ملاتے ہیں تو ہمیں کیا حاصل ہوتا ہے؟ ایک مجہول تصدیق۔ تو یہ جو دو معلوم یا دو یا زیادہ معلوم تصدیقات تھیں جن کو آپ نے ملایا اور ان سے پھر کیا حاصل ہوئی؟ مجہول، تو یہ جو دو یا تین معلوم تصدیقات ہیں ان کو دلیل اور حجت کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ دلیل اور حجت۔ یہی پہچان کروانے والی چیزیں اگر تصورات ہوں اور پہچان کروا رہی ہوں تصور کی، تو ان کو کیا کہتے ہیں؟ تعریف، معرف اور قولِ شارح۔ اور یہی چیزیں جو پہچان کروانے والی ہیں اگر تصدیقات ہیں اور پہچان آگے کروا رہی ہیں کس کی؟ تصدیق کی، تو پھر ان تصدیقات کو جو پہچان کروانے والی ہیں ان کا کیا نام ہے؟ دلیل اور حجت۔ صرف نام کا فرق ہے۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی؟ ہاں، ایک نام ہے چونکہ وہ تصور ہیں اس لیے ان کا نام وہ رکھا، اور یہ تصدیقات ہیں لہٰذا ان کا نام کیا رکھا؟ دلیل اور حجت رکھا بھئی۔ تفصیل آگے آپ بڑی کتابوں میں پڑھ لیں گے، بس اتنا نام کم از کم یاد رکھیں، کچھ وضاحت میں نے کر دی کہ تعریف، معرف، قولِ شارح کیوں کہتے ہیں۔
اب آئیے اج کے سبق پر بھئی۔ دیکھیے بھئی: سبقِ سیزدہم، تیرھواں سبق: معرف اور قولِ شارح کا بیان۔ کس کا بیان ہو گا؟ معرف اور قولِ شارح سمجھ گئے؟ کسے کہتے ہیں؟ وہ جو دو یا زیادہ معلوم تصور ہیں اور ہمیں کہاں تک لے جائیں گے؟ مجہول تصور تک، ان کو کہیں گے۔ تو ان کا ان کی تفصیل اب بیان کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: دو یا زیادہ تصور جانے ہوئے، دو یا زیادہ تصور جانے یوں کریں یہ جانے ہوئے کو ذرا تصور سے پہلے پڑھیں، پھر آپ کو بات سمجھ میں آ جائے گی۔ دو یا زیادہ جانے ہوئے تصور کو ترتیب دے کر، جانے ہوئے یعنی معلوم۔ علم کا کیا معنی ہوتا ہے؟ جاننا، اور معلوم جانا ہوا جس کو جانا گیا ہے۔ دو یا زیادہ جانے ہوئے تصور کو، یعنی معلوم تصور کو ترتیب دے کر کسی نہ جانے ہوئے تصور کو، یعنی مجہول تصور کو جب معلوم کریں تو ان دو تصور یا زیادہ کو معرف اور قولِ شارح کہتے ہیں۔
جیسے تم کو حیوان اور ناطق کا علم ہے۔ بھئی دیکھیے، آپ کو انسان کی حقیقت کا پتا نہیں۔ اب تو منطق میں آپ نے پڑھ لیا، پتا چل گیا۔ لیکن اس سے پہلے آپ کو پتا نہیں تھا۔ تو اب آپ کو مثلاً پہلے میں حیوان کا معنی بتاتا ہوں اور پھر کس کا معنی بتاتا ہوں؟ ناطق کا معنی بتاتا ہوں۔ اب دو چیزیں اب آپ کو معلوم ہیں: حیوان کا بھی پتا ہے اور ناطق کا بھی۔ اب آپ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ انسان جو ہے انسان کیا چیز ہے، اس کی حقیقت کیا ہے؟ تو میں آپ کو کہتا ہوں کہ حیوانِ ناطق ہے۔ کیا ہے؟ آپ کو حیوان کا معنی بھی پہلے سے معلوم ہے، ناطق کا معنی بھی۔ انسان کے معنی پتا نہیں تھا، انسان کی حقیقت کا پتا تو وہ دیکھا، وہ دو معلوم تصوروں کو ملایا تو کس کا پتا چل گیا؟ ایک تیسرے مجہول تصور کا آپ کو پتا چل گیا کہ انسان کس کو کہتے ہیں، کس کو کہتے ہیں؟ حیوانِ ناطق کو کہتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
جیسے تم کو حیوان اور ناطق کا علم ہے، ان دونوں کو ملایا تو حیوانِ ناطق ہوا، اس سے تم کو انسانِ نامعلوم کی حقیقت کا علم ہو گیا۔ وہ جو مجہول انسان تھا آپ کو اس کی حقیقت کا علم ہو گیا۔ پھر سنو، آپ کو انسان کا پتا نہیں۔ اور انسان کی حقیقت کیا؟ حیوانِ اب تو پتا چل چکا، پہلے آپ کو پتا نہیں تھا۔ اب حیوان اور ناطق میں آپ کے لیے پہلے سے مثلاً یہ بھی اگر نہیں معلوم تو پہلے میں ان کو بیان کر دوں گا۔ میں آپ کو بتاؤں گا حیوان کسے کہتے ہیں، حیوان کی کیا تعریف آپ نے پڑھی تھی؟ کہ وہ جسم نامی ہوتا جسم ہوتا ہے اور نامی ہوتا ہے اور حساس ہوتا ہے اور متحرک بالارادہ۔ اب میں نے آپ کو حیوان کی پہچان کروا دی، آپ کو حیوان کا پتا نہیں تھا، اب آپ کو حیوان کا پتا چل گیا۔ پھر میں آپ کو بتاتا ہوں ناطق کے بارے میں کہ ناطق جو ہے ناطق کا معنی ہے بولنے والا، باتیں کرنے والا، یا بعضوں نے لکھا عقل رکھنے والا۔ اب آپ کو باتیں کرنے کا پتا ہے کہ نہیں پتا؟ پتا ہے۔ تو اب آپ کو ناطق کا بھی پتا چل گیا۔ پہلے یہ بھی مجہول تھے لیکن اب آپ کیا ہو گئے؟ معلوم۔ اب حیوان بھی آپ کے لیے معلوم ہے اور ناطق بھی معلوم۔ لیکن انسان ابھی بھی مجہول ہے کہ اس کی حقیقت کیا ہے، انسان کن چیزوں سے بنا ہے؟ تو اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ انسان حیوانِ ناطق ہے۔ آپ کو پتا نہیں تھا انسان کی حقیقت کیا ہے، کیا چیز ہے انسان۔ لیکن آپ کو حیوان کا بھی میں بتا چکا، وہ بھی آپ کو معلوم ہو چکا، آپ کو ناطق بھی میں بتا چکا، وہ بھی آپ کو تو ان دو معلوم چیزوں کو میں نے ملایا اور میں نے کہا: انسان حیوانِ ناطق ہوتا ہے۔ آپ فوراً سمجھ گئے۔ سمجھ گئے کہ نہیں سمجھ گئے؟ کیسے؟ حیوان اور ناطق، کیونکہ آپ کو حیوان کا بھی پتا اور ناطق کا بھی۔ معلوم ہوا انسان کیا ہے؟ ایک حیوان ہے، اور کس طرح کا حیوان ہے؟ ناطق ہے، بولنے والا ہے۔ تو آپ کو انسان کی حقیقت کا پتا چل گیا۔ تو دیکھا، دو معلوم چیزوں کو ملایا اور کس کو جان لیا؟ مجہول کو۔ اب انسان بھی آپ کو معلوم ہو گیا۔ انسان بھی معلوم ہو گیا۔
اب دیکھیے کتاب پر: جیسے تم کو حیوان اور ناطق کا علم ہے، ان دونوں کو ملایا تو حیوانِ ناطق ہوا، اس سے تم کو انسانِ نامعلوم کی حقیقت کا علم ہو گیا۔ پس حیوانِ ناطق کو انسان کا معرف کہیں گے۔ نیز اور کیا نام ہے اس کا؟ حیوانِ ناطق کو انسان کی تعریف کہیں گے، اور کیا کہیں گے؟ حیوانِ ناطق کو انسان کا قولِ شارح کہیں گے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ انسان، یہ قولِ شارح ہے، یہ وہ بات ہے جو انسان کی وضاحت کر رہی ہے۔ حیوانِ ناطق کیا ہے؟ انسان کی وضاحت اور شرح کر رہی ہے۔ شرح کا کیا معنی ہوتا ہے؟ وضاحت کرنا، معنی بیان کرنا۔ ہمیں تو نہیں پتا ہمیں تو پتا نہیں تھا کہ انسان کی حقیقت کیا، لیکن حیوانِ ناطق نے آ کر کیا کیا؟ اس کی حقیقت ہمیں بتلا دی، اس کا وضاحت کر دی، اس کا معنی بیان کر دیا، تو اس کو قولِ شارح کہیں گے۔
یا مثلاً دیکھو، آپ سے آپ اپنے ایک ساتھی کو کرسی کے بارے میں بتلانا چاہتے ہیں کہ کرسی کسے کہتے ہیں، اس کو کرسی کا فرض کرو پتا نہیں ہے، ان کے علاقے میں ہوتی نہیں، وہ ایسی جگہ سے آیا۔ اب آپ اس کو بتلاتے ہیں: کرسی وہ ہوتی ہے جس کے اس طرح پائے ہوں اور اوپر ایک بیٹھنے کی جگہ ہو اور ایک ٹیک لگانے والا حصہ ہو۔ دیکھا، آپ نے سارے پرزے بیان کر دیے یا نہیں کر دیے؟ اور اس کو پایوں کا بھی پتا تھا، پائے کسے کہتے ہیں، اس کو سیٹ، بیٹھنے والی جگہ کا بھی پتا تھا کہ سیٹ کسے کہتے ہیں، اسے ٹیک لگانے کے معنی کا بھی پتا تھا، تو یہ تین چار معنی جس چار چیزیں جن کا اس کو پتا تھا، ان کو آپ نے ملایا تو اس کو کرسی کا پتا چل گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ چیزیں کیا ہوئیں؟ کرسی کی تعریف، کرسی کے لیے معرف، کرسی کے لیے قولِ شارح۔
تو آگے پھر یہ دیکھیے کتاب پر، کہتے ہیں: معرف یا قولِ شارح کی چار قسمیں ہیں: حدِ تام، حدِ ناقص، رسمِ تام اور رسمِ ناقص۔
اچھا، پہلے یہ سمجھ لیں کہ حد اور رسم کسے کہیں گے۔ بھئی ذاتیات اور عرضیات جانتے ہو کہ نہیں جانتے؟ کلی ذاتی، کلی عرضی، پڑھا تھا یا نہیں؟ اسی ذاتی کی جمع ذاتیات، اسی عرضی کی جمع عرضیات۔ کلی ذاتی کسے کہتے تھے؟ وہ کلی ہے جو اپنے افراد کی پوری حقیقت ہو یا حقیقت کا جزو ہو۔ انسان کی پوری حقیقت کیا؟ حیوانِ ناطق، تو یہ حیوانِ ناطق یہ انسان کے لیے کلی ذاتی ہے۔ یا حقیقت کا جزو ہو، انسان کی حقیقت کا جزو کیا کیا ہے؟ حیوان اور ناطق، تو صرف حیوان یہ بھی انسان کے لیے کلی ذاتی، صرف ناطق یہ بھی انسان کے لیے کلی ذاتی۔ اور پھر یہ کلی ذاتی کی کتنی قسمیں تھیں؟ تین قسمیں: جنس، نوع اور فصل۔ جنس کسے کہتے تھے؟ وہ کلی ذاتی ہے جو ایسے افراد پر بولی جائے جن کی حقیقت الگ الگ ہو، جیسے حیوان، کہ اس کے افراد کی حقیقتیں الگ الگ، اس میں سارے حیوان آ گئے۔ اور نوع جن کی وہ کلی ذاتی ہے جو ایسے افراد پر بولی جائے جن کی حقیقت ایک ہو۔ اور فصل وہ کلی ذاتی ہے جو ایسے جو ایسے افراد پر بولی جائے جن کی حقیقت جن کی حقیقت ایک ہو اور دوسری حقیقتوں سے آ کر اس کو جدا کر دے۔ یہ تین کیا ہیں؟ یہ تینوں کلیاں ذاتی ہیں، کیا ہیں؟ ذاتی۔ لیکن یاد رکھو، جب ذاتی کا لفظ بولا جائے تو اس سے عموماً صرف جنس اور فصل ہوتی ہیں۔ نوع بھی کلی ذاتی ہے لیکن وہ مراد نہیں، جب ذاتی کا لفظ بولا جائے تو مراد کون ہوتی ہیں؟ جنس اور فصل۔ کیا؟ جنس اور فصل۔ اور اسی جنس اور فصل کو ملایا تو نوع بن گئی۔ جنس کیا تھی؟ حیوان، فصل کیا تھی انسان کے لیے؟ ناطق، تو حیوان اور ناطق کو ملایا کیا بن گیا؟ حیوانِ ناطق، نوع بن گئی یا نہیں بن گئی؟ تو نوع تو اسی جنس اور فصل سے مل کر بنتی ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ کلی ذاتی کتنی ہیں؟ تین: جنس، نوع اور فصل۔ لیکن جب بھی ذاتی کا لفظ بولا جائے تو صرف جنس اور فصل مراد لیتے ہیں، نوع مراد نہیں لیتے کیونکہ نوع انہی دونوں سے تو مل کر بنتی ہے، لہٰذا وہ مراد نہیں لیتے۔ لہٰذا میں آپ سے پوچھوں: انسان کے لیے ذاتیات کیا کیا ہیں؟ آپ کیا کہیں گے؟ جنس اور فصل۔ جنس کیا ہے؟ حیوان، آپ کہیں گے حیوان ہے، اور دوسرا کیا ہے؟ ناطق بولیں گے۔
جبکہ عرضیات اس کے اندر کیا تھا؟ وہ کلی عرضی ہے، اس میں ایک خاصہ ہے اور ایک عرضِ عام۔ خاصہ وہ کلی عرضی ہے، توجہ ہے؟ وہ کلی عرضی ہے جو ایسے افراد پر بولی جائے جن کی حقیقتیں جن کی حقیقت ایک ہو۔ جیسے ضاحک، پھر دہراؤ، توجہ نہیں ہے میرا خیال ہے۔ خاصہ وہ کلی عرضی ہے جو ایسے افراد پر بولی جائے جن کی حقیقت ایک ہو، جیسے ضاحک۔ یہ انسان کا خاصہ ہے، خاصہ لفظ ہی بتا رہا ہے یہ خاص ہے ایک قسم کے ساتھ۔ تو ہر انسان کیا ہے؟ ضاحک ہے، ضاحک ہے۔ اور لیکن ہے یہ کلی عرضی، ذاتی نہیں، ذاتی تو وہ ہوتی تھی جو جس سے وہ چیز بنے، جس سے کیا ہو؟ ابھی آپ نے تعریف کی تھی، کلی ذاتی کسے کہتے ہیں؟ جو اپنے افراد کی پوری حقیقت ہو یا حقیقت کا جزو ہو۔ اور انسان کی حقیقت کیا؟ حیوانِ ناطق، ضاحک کوئی آیا اس میں؟ نہیں، تو ضاحک انسان کی صفت تو ہے، انسان میں اللہ نے ہنسنے کی صلاحیت تو رکھی ہے، لیکن یہ اس کی حقیقت کا جزو نہیں ہے۔ یہ اس کی حقیقت کا حصہ نہیں، تو ذاتی وہ ہوتی ہے جو حقیقت کا حصہ ہو۔ اور باقی جو صفات ہوتی ہیں ان کو عرضیات کہتے ہیں۔ مثلاً انسان ہے، حقیقت تو کیا ہے حیوان اور ناطق، لیکن ہر انسان اس کا کوئی نہ کوئی رنگ بھی ہو گا، یا وہ تندرست ہو گا یا بیمار ہو گا، کتنی ہی صفات، وہ لکھنے والا ہو گا، وہ ہنسنے والا ہے، کتنی صفات اللہ نے دی ہیں اس کو، لیکن حقیقت صرف کیا ہے؟ حیوان اور ناطق، باقی ساری صفات ہیں، تو ان کو عرضیات کہیں گے۔ کیا کہیں گے؟ اور پھر یہ صفت اگر ایک ہی قسم کے ساتھ خاص ہو، ایک حقیقت والے افراد کے ساتھ، تو اس کو خاصہ کہتے ہیں۔ اور اگر مختلف حقیقتوں کے افراد میں یہ صفت پائی جائے تو اس کو عرضِ عام کہتے ہیں، جیسے ماشی: پاؤں سے پیدل چلنے والا، پاؤں سے چلنے والا۔ دیکھو، انسان بھی ماشی، گھوڑا، گدھا، گائے، بیل، بکری سب کیا ہیں؟ ماشی ہیں، اپنے پاؤں پر چلنے والے ہیں، اور تو یہ دیکھو صفت ہوئی، اور یہ ان کی ذات ان کی حقیقت کا حصہ ہے؟ نہیں، تو یہ عرضیات ہیں، صفات ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جو حقیقت میں داخل ہو گا اس کو کہیں گے ذاتی، وہ ذاتیات ہیں۔ اور جو حقیقت میں نہیں داخل، صرف صفات ہیں، وہ کیا ہیں؟ عرضیات۔
اب یاد رکھیے، جب آپ سے کوئی شخص کسی چیز کے بارے میں پوچھے تو آپ اس چیز کی تعریف کرتے ہیں، پہچان کرواتے ہیں۔ توجہ ہے؟ آج کا سبق میں بیان کرنے لگا ہوں۔ جب آپ سے کوئی شخص کسی چیز کے بارے میں پوچھے، تو آپ اس چیز کی اسے پہچان کرواتے ہیں، تو آپ اس کو اس چیز کی پہچان کروائیں گے تو اس کو کیا کہیں گے؟ تعریف۔ ساتھی کو آپ کے ساتھی تھا اس کو ہاتھی کا علم نہیں تھا، آپ نے اس کو پہچان کروائی کہ نہیں کروائی؟ تو یہ جو پہچان کروائی، یہ جو تعریف کی آپ نے، یہ جو قولِ شارح آپ نے ذکر کیا، یہ جو معرف آپ نے ذکر کیا، اس کی چار قسمیں ہیں۔ کتنی قسمیں؟ چار۔ یہ جو آپ نے تعریف کی، یہ جو آپ نے پہچان کروائی، یا تو یہ کیا ہو گی؟ یوں کہیں: یا تو یہ تعریف جو آپ نے کی اس میں صرف ذاتیات ذکر ہوں گی۔ کیا ذکر ہوں گی؟ ذاتیات۔ اگر صرف ذاتیات ذکر ہیں تو اس کو حد کہیں گے۔ کیا کہیں گے؟ حد کہیں گے۔ تو اگر آپ نے اس کو پہچان کروائی اس چیز کی ذاتیات کے ذریعے تو اس کو کہیں گے حد۔ یہ جو تعریف ہے، یہ جو قولِ شارح ہے، یہ کیا ہے؟ حد ہے۔ اور اگر آپ نے اس کو پہچان کروائی عرضیات کے ذریعے تو اس کو کہیں گے رسم۔ کتاب میں آ رہا ہے حد اور رسم، دونوں لفظ کتاب میں آ رہے ہیں۔ توجہ ہے؟ ذاتیات کسے کہتے ہیں؟ پھر دہراؤ ذرا۔ ہاں، جو ذاتیات یعنی وہ کلی ذاتی وہ ہے جو اپنے افراد کی پوری حقیقت ہو یا حقیقت کا جزو، تو ذاتیات وہ ہیں جو حقیقت میں داخل ہوتی ہیں، جیسے انسان کے لیے حیوان حیوانِ ناطق: حیوان بھی ذاتی اور ناطق بھی ذاتی۔ تو ایک چیز کی پہچان کروانا اس کی ذاتیات کے ذریعے، یعنی ایسے یوں کہو ان پرزوں سے پہچان کروانا جن سے وہ چیز بنی ہے۔ کسی چیز کی آپ پہچان کروا رہے ہیں اور آپ کیا ذکر کرتے ہیں پہچان کرواتے ہوئے؟ وہ پرزے ذکر کرتے ہیں جن سے وہ چیز مل کر بنی ہے، تو اس تعریف کو کہیں گے حد۔ کیا کہیں گے؟ اور اگر آپ اس چیز کی پہچان کرواتے ہیں عرضیات کے ذریعے، صفات کے ذریعے تو اس کو رسم کہیں گے۔ کیا کہیں گے؟ رسم کہیں گے۔
پھر توجہ کریں۔ آپ سے ایک ساتھی نے مثلاً ہاتھی کے بارے میں پوچھا، اب آپ اس کو ہاتھی کے بارے میں بتلاتے ہیں، تعریف کریں گے، اس کے لیے معرف ذکر کریں گے، قولِ شارح ذکر کریں گے، تعریف، معرف، قولِ شارح، ایک ہی چیز کے تین نام ہیں نا، تو آپ اس کو اس کی پہچان کروائیں گے۔ تو یہ پہچان آپ کس طرح کروائیں گے؟ یا ذاتیات ذکر کریں گے، یعنی وہ پرزے جن سے وہ چیز مل کر بنی ہے، یا اس چیز کی عرضیات، یعنی صفات سے پہچان کروائیں گے۔ دو ہی صورتیں ہیں نا: یا کس سے پہچان کروائیں گے؟ جن سے جن پرزوں سے وہ چیز بنی ہے، یا آپ پہچان کروائیں گے کس کے ذریعے؟ عرضیات یعنی صفات کے ذریعے، تو اگر آپ پہچان کرواتے ہیں یعنی تعریف کرتے ہیں ذاتیات کے ذریعے، تو اس کو کہتے ہیں حد۔ اور اگر آپ پہچان کرواتے ہیں یعنی تعریف کرتے ہیں عرضیات کے ذریعے، تو اس کو کہتے ہیں رسم۔ کیا حاصلِ کلام کیا ہوا؟ جب آپ کسی چیز کی تعریف کریں اگر وہ تعریف میں وہ پرزے ذکر کریں جن سے وہ چیز بنی ہے، یعنی وہ جو اس کی حقیقت میں داخل ہیں، یعنی ذاتیات کے ذریعے، کس کے ذریعے تعریف کریں؟ تو اس کو کیا کہیں گے اس تعریف کو؟ حد کہیں گے۔ اور اگر آپ اس چیز کی پہچان کرواتے ہیں ایسی چیزوں سے جو اس کی صفات ہیں صفات ہیں، عرضیات ہیں، تو اس کو کیا کہیں گے؟ رسم کہیں گے۔ لہٰذا جب بھی آپ سے کسی چیز کی تعریف پوچھی جائے یا آپ کسی چیز کی تعریف ذکر کرنا چاہیں تو دو ہی صورتیں ہیں: یا آپ تعریف کریں گے ذاتیات کے ذریعے یا آپ تعریف کریں گے عرضیات کے ذریعے، ذاتیات کے ذریعے تعریف کریں تو وہ حد ہے اور عرضیات کے ذریعے تعریف کریں تو وہ رسم ہے۔
پھر یہ جو حد ہے اور رسم، یہ دو قسم پر ہے۔ یا تو حد جو آپ ذکر کر رہے ہیں، تعریف جو کر رہے ہیں ذاتیات والی، یا تو اس سے آپ اس چیز کی پوری حقیقت بیان کر دیں گے۔ کیا کریں گے؟ جیسے مثلاً میرے سے کسی نے پوچھا انسان کسے کہتے ہیں؟ میں نے انسان کی پوری حقیقت ذکر کر دی۔ کیا حقیقت ہے انسان کی؟ حیوانِ ناطق، تو میں نے تو پوری حقیقت ذکر کر دی، اس کو کہتے ہیں حدِ تام۔ کیا کہتے ہیں؟ حدِ تام۔ دیکھو میں نے وہ پرزے ذکر کیے جن سے انسان بنا ہے جو اس کی ذات میں داخل ہیں۔ حیوان بھی کیا ہے؟ انسان کی حقیقت میں داخل، ناطق بھی کیا ہے؟ انسان کی تو انسان بنا ہی ان دو پرزوں سے ہے، حیوان اور ناطق سے۔ تو یہ جو دو پرزے ہیں ان کے ذریعے میں نے انسان کی تعریف کر دی، اور پوری حقیقت بیان ہو گئی کہ نہیں ہوئی؟ انسان کی حقیقت بھی کیا ہے حیوانِ اور میں نے بھی پوری حقیقت بیان کر دی: حیوانِ ناطق، تو اس کو کہتے ہیں حدِ تام۔ تام کا معنی پوری، پوری حدِ تام، پوری تعریف، مکمل تعریف۔ اور حد سے آپ کو یہ بھی پتا چل گیا، کیا پتا چلا؟ حد سے، کہ یہ ذاتیات والی تعریف ہے، عرضیات والی نہیں۔ تو پوری تعریف جب میں نے جب میں نے کہا انسان کی آپ نے پوچھا انسان کیا ہے، میں نے کہا حیوانِ ناطق، تو میں نے پوری حقیقت جو انسان کی تھی بیان کر دی اور کیسے کہا؟ حیوانِ ناطق، تو پورے انسان کی حقیقت کا آپ کو پتا چل گیا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ حدِ تام۔ کیا معنی؟ پوری تعریف، کامل تعریف، مکمل تعریف میں نے انسان کی، مکمل پہچان کروا دی آپ کو، مکمل پہچان کروا دی، تو اس کو حدِ تام کہتے ہیں۔
تو مکمل تعریف کر دی اور اس میں کیا کیا ذکر کیا میں نے؟ حیوان اور ناطق۔ حیوان کیا ہے انسان کے لیے؟ حقیقت کا تو جزو ہے لیکن انسان کے لیے یہ جنس ہے، کیا ہے؟ جنس، اور کون سی جنس، قریب یا بعید؟ یہ قریب، تو دیکھا جنسِ قریب۔ اور ناطق کیا ہے انسان کے لیے؟ ناطق فصلِ قریب ہے، بس یوں کہو فصل ہے، کیا ہے؟ فصل ہے۔ تو دیکھو فصل جو ہے تو دیکھو میں نے انسان کی ایسی تعریف کی جو جنسِ قریب اور فصل پر مشتمل ہے۔ کیا تعریف کی؟ جنسِ قریب اور فصل پر مشتمل ہے، تو اس کو حدِ تام کہتے ہیں۔ پوری حقیقت بیان کر دی نا؟ اور پوری حقیقت کس سے بنتی ہے کسی چیز کی؟ اس کی جنس بیان کر دی جائے اور اس کا فصل بیان کر دیا جائے۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ حدِ تام۔ اب پھر دہرائیے: حدِ تام کیا معنی؟ توجہ نہیں میرا خیال ہے آپ حضرات کی، حدِ تام کسے کہتے ہیں؟ پوری تعریف، مکمل تعریف۔ یہ کس سے بنتی ہے؟ جنسِ قریب اور فصل سے۔ اور اس کو حدِ تام کیوں کہتے ہیں؟ حد سے کیا پتا چلا؟ حد سے کیا پتا چلا؟ یہ ذاتیات سے بنی ہے یہ تعریف، یعنی اس میں ذاتیات ذکر ہیں جن سے وہ چیز بنی ہے جو اس کے پرزے ہیں۔ اور تام سے کیا پتا چلا؟ کہ مکمل تعریف ہے، یعنی پوری حقیقت کا پتا چل رہا ہے اس سے، پوری حقیقت اس میں ذکر ہو رہی ہے۔ تو اس کو حدِ تام کہتے ہیں۔
آئیے اب کتاب پر پہلے یہ دیکھ لیں: تو کہتے ہیں معرف یا قولِ شارح کی چار قسمیں ہیں: حدِ تام، حدِ ناقص، رسمِ تام، رسمِ ناقص۔ حدِ تام: کسی شے کی وہ معرف ہے کہ اس شے کی جنسِ قریب اور فصلِ قریب سے مرکب ہو۔ جنسِ قریب اور فصلِ قریب سے، ہاں ٹھیک ہے، فصل میں بھی قریب کا لفظ انہوں نے ذکر کر دیا۔ تو شے کی جنسِ قریب اور فصلِ قریب سے مرکب ہو، جیسے حیوانِ ناطق انسان کی حدِ تام ہے۔ حدِ تام ہے۔ اچھا، گھوڑے کی گھوڑے کی حدِ تام ذکر کرو۔ شاباش، حیوانِ صاہل۔ دیکھو، حیوان اس کے لیے کیا ہے؟ جنسِ قریب، اور صاہل کیا ہے اس کے لیے؟ فصلِ قریب، تو حیوانِ صاہل۔ اچھا، گدھے کی پوری حقیقت گدھے کے لیے حدِ تام ذکر کرو۔ حیوانِ ناہق، ن، ا، ہ اور ق دو نقطوں والا، حیوانِ ناہق بھئی۔ یہ کیا تھی؟ حدِ تام۔
پھر دیکھ لیں: حد کون سی تعریف کو کہتے ہیں؟ جو ذاتیات سے ہو۔ ذاتیات کس کو کہتے ہیں؟ وہ پرزے جن سے کوئی چیز بنی ہو، ان کی حقیقت میں داخل ہو۔ اور حدِ تام کس کو کہتے ہیں؟ مکمل تعریف۔ اور حد سے پتا چلا یہ تعریف کس کے ذریعے ہو گی؟ ذاتیات، اور تام سے کیا پتا چلا؟ کہ مکمل تعریف ہے، کیا معنی مکمل تعریف؟ یعنی اس سے مکمل حقیقت کا پتا چل گیا، اس چیز کی تو یہ پوری تعریف ہے اس چیز کی، مکمل تعریف ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟
آگے ہے حدِ ناقص۔ ادھر دیکھیے، ادھر دیکھو بھئی، حدِ ناقص حد سے پتا چل رہا ہے یہ تعریف بھی ذاتیات سے ہی ہو گی کیونکہ جو تعریف ذاتیات سے ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ حد، اور جو عرضیات سے ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ رسم۔ تو حد یہاں بھی حد کا لفظ آ رہا ہے، معلوم ہوا یہ تعریف بھی ذاتیات سے ہو گی۔ لیکن کس کے ذریعے ہو گی؟ یاد رکھیے، جنسِ بعید اور فصلِ قریب۔ انسان کے لیے جنسِ بعید کیا؟ جسمِ نامی، اور جسم، اور جوہر، صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو یہ سب ہیں، تو حدِ ناقص کی بات کر رہا ہوں، حدِ ناقص وہ ہے جس میں کسی چیز کی تعریف ذاتیات سے کی جائے لیکن کون سی ذاتیات سے؟ جنسِ بعید اور فصلِ قریب۔ فصلِ قریب، فصل قریب ہی رہے گی، جنس بعید ہو جائے گی، جنسِ بعید اور فصلِ قریب، یا صرف فصلِ قریب کے ذریعے تعریف کر دی جائے۔ کس کے ذریعے؟ مثلاً میرے سے کسی نے پوچھا: انسان کیا ہے؟ میں جواب میں کہتا ہوں: وہ جسمِ نامی جو ناطق ہو، یا یوں کہو جسمِ نامی ناطق، جسمِ نامی ناطق۔ اب یہ جسمِ نامی میں نے ذکر کیا، کس کی تعریف پوچھی جا رہی تھی؟ کس کی تعریف پوچھی تھی؟ انسان، میں نے کیا ذکر کیا؟ جسمِ نامی ناطق۔ تو جسمِ نامی کیا ہے انسان کے لیے؟ بڑھنے والا جسم تو ہے، کون کیا چیز ہے؟ جنسِ بعید ہے شاباش، اور ناطق کیا ہے؟ فصلِ قریب۔ تو کچھ پہچان ہو گئی یا نہیں انسان کی؟ کہ وہ کیا ہوتا ہے؟ جسمِ نامی، اور کون سا جسمِ نامی ہے جو ناطق ہے، بولنے والا ہے، باتیں کرنے والا ہے۔ تو جسمِ نامی ناطق یہ انسان، پہچان ہو گئی یا نہیں ہو گئی؟ اتنا آپ کو پتا چل گیا وہ بڑھنے والا جسم ہے، اور نیز یہ بھی پتا چلا وہ باتیں کرتا ہے، تو پہچان ہو گئی۔ لیکن کیا انسان کی پوری حقیقت کا آپ کو پتا چلا؟ نہیں، پوری حقیقت کا تو پتا نہیں چلا۔ لہٰذا یہ حد تو ہوئی کیونکہ ذاتیات کے ذریعے ہو رہی ہے، لیکن یہ کامل ہوئی یا ناقص ہوئی؟ ناقص ہوئی، تو اس لیے اس کو کہیں گے حدِ ناقص، کامل نہیں ہے، پوری نہیں ہے، اس میں نقصان ہے، کمی ہے، ناقص کا کیا معنی؟ جس میں کمی ہو۔ تو یہ حدِ یا صرف میں ناطق کہہ دیتا ہوں، آپ نے میرے سے پوچھا انسان کیا ہے؟ میں نے کہا ناطق۔ صرف فصلِ قریب کو میں نے ذکر کیا۔ تو پوری تعریف ہوئی یا ناقص ہوئی؟ پہچان تو ہو گئی باتیں کرنے والا، باتیں کرنے والا تو صرف انسان ہی ہے، پہچان تو آپ گئے، لیکن کیا پوری حقیقت کا آپ کو پتا چلا؟ پوری حقیقت کا پتا نہیں چلا، تو یہ کون سی حد ہوئی؟ حدِ ناقص۔
لہٰذا اب سنو، حدِ ناقص وہ تعریف ہے جس میں جس میں تعریف میں جنسِ بعید اور فصلِ قریب کو ذکر کریں یا صرف کس کو؟ فصلِ قریب کو۔ پھر دہراؤ: حدِ ناقص کسے کہتے ہیں جس میں؟ جنسِ بعید اور فصلِ قریب کو ذکر کریں یا صرف فصلِ قریب کو ذکر کریں۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ یہی دیکھیے کتاب میں ہے، کتاب پر دیکھیے بھئی: حدِ ناقص: کسی شے کی وہ معرف ہے کہ اس شے کی جنسِ بعید اور فصلِ قریب سے یا صرف فصلِ قریب سے مرکب ہو، اس سے بنی ہوئی ہو۔ جیسے جسمِ ناطق، کسی نے پوچھا مجھ سے انسان کسے کہتے ہیں، میں نے کیا کہا؟ جسمِ نامی ناطق۔ جسمِ نامی کے بجائے کوئی اور جنسِ بعید لے آؤ، جسم لے آؤ، میں نے کہہ دیا جسمِ ناطق، یا میں نے کہہ دیا جوہرِ ناطق۔ تو جسمِ نامی یہ بھی جنسِ بعید، جسم یہ بھی جنسِ بعید، جوہر یہ بھی جنسِ بعید انسان کے لیے۔ تو کوئی ایک جنسِ بعید ذکر کر دو اور ساتھ فصلِ قریب، یا صرف کیا ذکر کر دو؟ فصلِ قریب۔ تو یہ کیا ہے؟ حدِ ناقص۔ تو یہی بیان کر رہے ہیں: جیسے جسمِ ناطق یا صرف ناطق انسان کی حدِ ناقص ہے بھئی۔
آگے آ گیا رسم، رسم۔ رسم کون سی تعریف بھئی، کس تعریف کو رسم کہتے ہیں؟ جو جس میں کیا ذکر ہوں؟ عرضیات ذکر ہوں، وہ تعریف جس میں کیا ذکر ہوں؟ عرضیات ذکر ہوں اس کو رسم کہتے ہیں۔ پھر یہ جو عرضیات یعنی صفات ذکر ہیں، اگر یہ صفات ساری ذکر ہو جائیں، کیا ذکر ہو جائیں؟ ساری صفات اس چیز کی ذکر ہو جائیں، تو اس کو کہیں گے رسمِ تام، یہ پوری پہچان ہے، پوری تعریف ہے، کیا ہے؟ پوری تعریف ہے۔ اور اگر پوری صفات ذکر نہ ہوں تو کہیں گے رسمِ ناقص ہے، کیا ہے؟ رسمِ ناقص۔ بات سمجھ بھی آ رہی ہے کہ نہیں؟ ذاتیات کے ذریعے جو تعریف ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ حد، اور عرضیات یعنی صفات کے ذریعے جو تعریف ہو اسے کیا کہتے ہیں؟ رسم کہتے ہیں۔ اور وہ رسم کتنی قسم پر؟ دو: یا وہ رسمِ تام ہو گی یا رسمِ ناقص۔ رسمِ تام نام سے ہی پتا چل رہا ہے: رسم، تعریف، ایسی تعریف یا پہچان، رسم کا معنی ہے پہچان، علامت، نشانی۔ تو عرضیات کے ذریعے تعریف ہو اسے کیا کہتے ہیں؟ رسم، اور یہ رسم کتنی قسم پر؟ تام یا رسم یا رسم دو قسم پر ہے: یا رسمِ تام ہو گی یا رسمِ ناقص۔ رسمِ تام وہ ہے جس میں پوری پہچان ہو جائے، یعنی ساری صفات اس چیز کی ذکر ہو جائیں، کیا ہو جائیں؟ ساری صفات ذکر ہو جائیں۔ اور رسمِ ناقص جس میں کچھ صفات ذکر ہوں، جس میں کیا ہوں؟ کچھ صفات ذکر ہوں۔
اور رسمِ تام اس میں یاد رکھیے، رسمِ تام وہ تعریف ہے جس میں جنسِ قریب اور خاصہ ذکر ہو، کیا ذکر ہو؟ حدِ تام کیا تھی، حدِ تام؟ جنسِ قریب اور فصلِ قریب، اور رسمِ تام میں جنسِ قریب، جنس تو وہی ہے، اس میں بھی قریب تھی حد میں بھی اور اس میں، جنسِ قریب اور ساتھ کیا ذکر ہو؟ خاصہ ذکر ہو، اور خاصہ یہ ذاتی ہے یا عرضی ہے؟ یہ عرضی ہے، دیکھا تو تعریف کس کے ذریعے ہوئی؟ عرضیات، اور اس کو کیا کہیں گے؟ رسمِ تام۔ تو دیکھیے کتاب پر: رسمِ تام: کسی شے کی وہ معرف ہے کہ اس شے کی جنسِ قریب اور خاصہ سے مل کر بنے، جیسے حیوانِ ضاحک۔ مجھ سے کسی نے پوچھا انسان کیا ہے؟ میں نے کہا حیوانِ ضاحک۔ دیکھو، حیوان جنسِ قریب بھی میں نے ذکر کر دی اور ضاحک انسان میں اللہ نے ہنسنے کی صلاحیت رکھی ہے تو انسان ضاحک ہے، ہنسنے والا۔ وہ ہنسے یا نہ ہنسے لیکن اس میں ہنسنے کی صلاحیت ہے، وہ ضاحک ہے، تو حیوانِ ضاحک۔ اور یہ ضاحک انسان کی حقیقت میں داخل ہے یا اس کی صفت ہے؟ یہ اس کی صفت، تو یہ تعریف میں نے کس کے ذریعے کی؟ عرضیات کے ذریعے، عرضیات کی مدد لی اور اس کے ذریعے میں نے انسان کی آپ کو پہچان، آپ سمجھ گئے۔ حیوانِ ضاحک کس کی بات ہو رہی ہے۔ لیکن کیا پوری حقیقت کا پتا چلا؟ نہیں، لہٰذا اس کو حد تو نہیں کہیں گے، رسم کہیں گے، پہچان ہو گئی۔ رسم کا معنی ہوتا ہے علامت، نشانی، جس سے علامت آپ کو مل گئی، پہچان آپ کو اس کی ہو گئی۔ تو اس کو کہیں گے رسمِ تام۔ کیا کہیں گے؟ رسمِ تام۔
تو دیکھیے کتاب پر: جیسے حیوانِ ضاحک انسان کی رسمِ تام ہے، یعنی پوری پہچان ہو گئی انسان کی۔ اتنا پتا چل گیا حیوان ہے، کیا ہے؟ حیوان، اور پھر یہ بھی پتا چل گیا حیوانات میں سے کون سا والا حیوان ہے جس کی صفت کیا ہے؟ ضاحک ہے، تو پہچان ہو گئی، کیونکہ ضاحک نے کیا کیا؟ ضاحک تو ہر حیوان نہیں ہوتا، تو باقی حیوانات سے الگ ہو گیا یا نہیں ہو گیا؟ تو پوری پہچان کروا دی کہ نہیں کروا دی؟ پوری پہچان کروا دی، جنس کا بھی پتا چل گیا اور اس کی صفت کا بھی پتا چل گیا۔ نیز بھئی اس کو تام کہتے ہیں، پوری رسم، یعنی یوں کہو جس میں ساری صفتیں آ گئیں، کیا ہوئیں؟ بھئی ساری صفتیں کہاں آئی ہیں، صرف ضاحک آیا ہے، ایک صفت آئی نا؟ کیا آئی؟ تو باقی صفتیں تو نہیں، یہ تو کامل پے نہیں بھئی، کامل۔ دیکھو، جنس کا بھی پتا چل گیا اور صفت کا بھی وہ صفت جو اس کو کیا کر رہی ہے؟ باقی چیزوں باقی حیوانات سے الگ، اور نیز جنسِ قریب ذکر ہوئی، جنسِ قریب، جب جنسِ قریب ذکر ہوئی تو اس جنس کے ساتھ جو جو چیزیں لازم تھیں، ضروری تھیں وہ بھی خود بخود سمجھ میں آ گئیں۔ مثلاً میں نے کہا سورج، جیسے ہی میں نے سورج کہا آپ کے ذہن میں سورج کے ساتھ ساتھ روشنی بھی آ گئی یا نہیں؟ آپ کے ساتھ اس کے ساتھ ساتھ ذہن میں دھوپ بھی آ گئی یا نہیں آ گئی؟ دیکھا، میں نے تو روشنی کا ذکر نہیں کیا، میں نے تو دھوپ کا ذکر نہیں کیا، میں نے تو صرف کس کا ذکر کیا؟ یرحمک اللہ۔ میں نے تو صرف کس کا ذکر کیا؟ سورج، لیکن سورج کے سورج کے ساتھ ساتھ جو چیزیں لازم ہیں، جو اس کے ساتھ ضروری ہیں وہ بھی خود بخود ذہن میں آ گئیں، اور وہ کیا؟ روشنی ہوتی ہے، دن ہوتا ہے اور دھوپ ہوتی ہے۔ تو لہٰذا جب حیوان ذکر کیا تو حیوان والی جتنی صفات تھیں وہ بھی خود بخود کیا ہوئیں؟ ذہن میں آ گئیں، لہٰذا صفات ساری گویا صفات آ گئیں یوں سمجھو، اور پھر وہ صفت بھی آ گئی جس نے کیا کیا؟ باقی صفتوں سے اس کو جدا کر دیا، تو اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ رسمِ تام۔ پوری پہچان ہو گئی، لیکن بہرحال بہرحال ذاتیات کے ذریعے پوری پہچان نہیں ہوئی، پوری تعریف تو نہ ہوئی نا؟ پوری تعریف ہوتی، پوری حقیقت کا پتا چلا؟ نہیں، پوری حقیقت کا تو پتا نہیں چلا، پوری حقیقت کا پتا صرف کس میں چل رہا تھا؟ حدِ تام میں، تو اس کا مرتبہ سب سے اونچا ہے، وہ سب سے اعلیٰ تعریف ہے وہ والی۔ آپ سے کسی چیز کا پوچھا جائے اور آپ اس کی ایسی پہچان کروائیں کہ پوری حقیقت اس کے سامنے کھل کر سامنے آ جائے، یہ سب سے اعلیٰ درجہ ہے، باقی اس سے نیچے والی، ہیں تو تعریفیں، ان سب سے کیا ہو رہی ہے؟ پہچان ہو رہی ہے یا نہیں ہو رہی اس چیز کی؟ پہچان تو سب کے ذریعے ہو رہی ہے، لیکن سب سے اعلیٰ درجے کی پہچان کون سی ہے؟ حدِ تام ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟
آگے دیکھیے کتاب پر: رسمِ ناقص: کسی شے کی وہ معرف ہے جو اس کی جنسِ بعید اور خاصہ سے یا صرف خاصہ سے مل کر بنے، جیسے جسمِ ضاحک انسان کی رسمِ ناقص ہے۔ دیکھا، یہ بھی بالکل اسی طرح ہے، رسمِ ناقص کسے کہتے ہیں؟ رسمِ تام میں تو کیا ذکر تھی؟ جنسِ قریب، اور رسمِ ناقص میں جنسِ بعید، اور ساتھ کیا ذکر ہو گا؟ خاصہ۔ تو جنسِ بعید اور خاصے کے ساتھ کسی چیز کی تعریف کرو یا صرف خاصے کے ذریعے تعریف کرو، یہ کیا ہے؟ رسمِ ناقص۔ مثلاً انسان کے لیے ابھی گزرا، رسمِ تام کیا ہے؟ رسمِ تام: جنسِ قریب لاؤ، حیوان، اور خاصہ لاؤ، ضاحک لے آؤ یا کاتب لے آؤ، کاتب لکھنا، یہ بھی صرف کس کی خصوصیت ہے؟ انسان کی، اس کا خاصہ ہے۔ تو مجھ سے کسی نے پوچھا انسان کیا ہے؟ میں نے کہا حیوانِ ضاحک، یا میں نے کہہ دیا حیوانِ کاتب، دیکھا پہچان ہو گئی یا نہیں اپ کو؟ تو لیکن کیا ذاتیات کے ذریعے ہوئی یا عرضیات کے ذریعے؟ لہٰذا اس کو رسم کہیں گے، اور کون سی رسم ہے؟ رسمِ تام ہے کیونکہ جنسِ قریب ذکر ہے اور اور خاصہ ذکر ہے۔ اور اگر مجھ سے کسی نے پوچھا انسان کیا چیز ہے، میں نے پہچان تو کروائی لیکن میں نے جنسِ بعید کو ذکر کیا اور ساتھ کس کو؟ خاصہ، مثلاً میں نے کہہ دیا جسمِ نامی ضاحک، جسمِ نامی ضاحک، اب یہ کیا ہے جسمِ نامی؟ جنسِ بعید ہے، یا میں نے کہہ دیا جسمِ ضاحک، یا میں نے کہہ دیا جوہرِ ضاحک، تو کس سے تعریف کر رہا ہوں؟ جنسِ بعید سے اور خاصہ سے میں تعریف ذکر کر رہا ہوں، یا صرف میں نے خاصہ ذکر کر دیا۔ کسی نے پوچھا انسان کیا ہے؟ میں نے کہا ضاحک، یا میں نے کہہ دیا صرف کاتب، تو صرف کس سے تعریف کر دی؟ خاصہ سے۔ یہ کیا ہے؟ رسمِ ناقص۔ رسمِ ناقص کس کے ذریعے ہو گی؟ جنسِ بعید اور خاصہ سے یا صرف خاصہ سے، اسی لیے کہا: جیسے جسمِ ضاحک انسان کی رسمِ ناقص ہے۔ اسی طرح اگر صرف کیا ذکر کر دو؟ ضاحک، یہ بھی کیا ہے؟ انسان کی رسمِ ناقص۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟
پھر ایک دفعہ مختصراً دہرا لو بھئی: وہ تعریف کتنی قسم کی؟ چار قسم کی ہوتی ہے۔ تعریف کا دوسرا نام کیا؟ معرف، اور تیسرا نام کیا؟ قولِ شارح۔ اچھا، تعریف اگر صرف ذاتیات کے ذریعے کی جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ حد۔ اگر صرف ذاتیات کے ذریعے تعریف ہو اسے کیا کہتے ہیں؟ حد کہتے ہیں۔ اور اگر عرضیات کے ذریعے، ان کی مدد سے کسی کی پہچان کروائیں اس کو کیا کہتے ہیں؟ رسم کہتے ہیں۔ اور حد کا درجہ اعلیٰ یا رسم کا درجہ اعلیٰ؟ حد کا درجہ اعلیٰ کہ اس سے حقیقت کا پتا چلتا ہے، اور پھر ان میں بھی سب سے اعلیٰ درجہ کس کا؟ حدِ تام کا۔ اچھا، تو ذاتیات کے ذریعے جو تعریف ہو وہ حد کہلاتی ہے۔ پھر یہ اگر تعریف میں آپ کسی چیز کی پوری حقیقت ذکر کر دیں، اس کو کیا کہیں گے؟ حدِ تام۔ اور اگر پوری حقیقت نہیں ذکر کریں، نہیں ذکر کرتے تو پھر اس کو کیا کہیں گے؟ حدِ ناقص کہیں گے۔ تو لہٰذا حدِ تام اس میں کیا کیا ذکر ہو گا؟ جی؟ جنسِ قریب اور فصلِ قریب، شاباش۔ اور حدِ ناقص میں کیا ذکر ہو گا؟ جنسِ بعید اور فصلِ قریب یا صرف فصلِ قریب، یہ ہے حدِ ناقص۔ اور رسمِ تام میں کیا ذکر ہو گا؟ جنسِ قریب اور خاصہ ذکر ہو گا۔ اور رسمِ ناقص میں کیا ذکر ہو گا؟ جنسِ بعید اور خاصہ یا صرف خاصہ ذکر ہو گا۔ تو یہ چاروں طریقے ہیں کسی چیز کی پہچان کروانے کے۔ آپ سے کوئی سوال کرے آپ جواب میں کوئی بھی ان میں سے تعریف کر سکتے ہیں، اس سے اس چیز کی اس کو پہچان ہو جائے گی۔ کیا ہو جائے گی؟ لیکن سب سے اعلیٰ درجہ کس کا ہے؟ حد کا ہے، اور حد میں بھی سب سے اعلیٰ درجہ حدِ تام۔ حدِ تام کا درجہ سب سے اعلیٰ کیوں؟ کیونکہ اس سے پوری حقیقت کا پتا چل جاتا ہے، شاباش۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
اور عرضِ عام کو نہیں ذکر کیا۔ سوال: انہوں نے کہا خاصہ سے تعریف کرو، تو یہ بھئی عرضِ عام بھی تو ہے، وہ بھی صفت ہوتی ہے یا نہیں؟ ہوتی ہے۔ لیکن وہ مختلف حقیقتوں میں پائی جاتی ہے جیسے ماشی، ماشی ہر حیوان کیا ہے؟ ماشی ہے۔ تو اس کے ذریعے تعریف کیوں نہیں کرتے؟ آپ نے اس کو ذکر ہی نہیں کیا، نہ حد میں اس کا ذکر ہے نہ رسم میں ذکر ہے اس کا۔ تو کیا تعریف عرضِ عام سے نہیں کی جا سکتی؟ جواب یہ کہ بھئی عرضِ عام اس سے کسی کی پہچان نہیں ہو سکتی۔ میں نے کہا ماشی، پاؤں سے چلنے والا، آپ کے ذہن میں انسان آیا؟ نہیں، اس میں تو حیوان بھی ہے، گھوڑا، گدھا، بکری وغیرہ کئی چیزیں آ گئیں۔ تو یہاں پر تعریف ذکر کی جا رہی ہے، تعریف وہ جس سے کسی چیز کی پہچان ہو جائے، اور عرضِ عام کے ذریعے تو چیز کی پہچان نہیں، اس میں تو کئی چیزیں آ جاتی ہیں، لہٰذا اس کے ذریعے تعریف معتبر نہیں علماء کے نزدیک۔ تعریف کرنی ہے تو یہ چار صورتیں ہیں: یا آپ کسی چیز کی حدِ تام بیان کر دیں پوری حقیقت، یا ذاتیات سے کریں لیکن پوری حقیقت نہیں ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ حدِ ناقص کہتے ہیں، یا آپ عرضیات کی مدد سے ایک چیز کی کسی کو پہچان کرواتے ہیں تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ رسم، اور پھر یہ دو قسم پر ہے: یا تام ہو گی یا ناقص ہو گی۔ اچھی طرح بات سمجھ میں آ گئی؟
ائیے اب ذرا یہ سوالات بھی حل کر لیں۔
ذیل کے معرفات میں معرف کی اقسام بیان کرو:
نمبر ایک: جوہرِ ناطق۔ یہ کس کی تعریف کر رہے ہیں، کس کی پہچان کروانا چاہ رہے ہیں؟ انسان کی۔ اچھا، تو کیا کیا ذکر ہے؟ جوہر، یہ کیا ہے؟ جنسِ بعید، اور ناطق؟ فصلِ قریب۔ تو یہ کون سی یہ ذاتیات ہیں دونوں؟ جی، تو یہ کیا ہوئی؟ حد، اور کون سی حد؟ حدِ ناقص، شاباش۔
اگلا نمبر دو: جسمِ نامی ناطق۔ یہ کس کی پہچان کروا رہے ہیں؟ انسان کی، اس کی تعریف ہے۔ اچھا، یہ کون سی تعریف؟ ذاتیات کے ذریعے کروا رہے ہیں یا عرضیات کے ذریعے؟ ذاتیات کے ذریعے کروا رہے ہیں۔ اچھا، تو کیا کیا کون سی تعریف ہے یہ؟ جسمِ نامی کیا ہے؟ جنسِ بعید، اور ناطق؟ فصلِ قریب، تو یہ کیا ہوئی؟ حدِ ناقص، شاباش۔
جسمِ حساس۔ یہ کس کی تعریف پہچان کروانا چاہ رہے ہیں؟ پتا چلے گا اب کس کو سمجھ میں آئی ہے بات یا نہیں۔ کسی کی پہچان کروانا چاہ رہے ہیں آپ کو، کس چیز کی یہ پہچان کروانا چاہ رہے ہیں؟ شاباش، حیوان کی پہچان کروانا چاہ رہے ہیں۔ آپ سے کسی نے پوچھا: حیوان کسے کہتے ہیں؟ آپ نے کہا: جسم حساس۔ جسم، ذاتی ہے۔ حساس، یہ بھی کیا ہے؟ ذاتی ہے۔ تو یہ تعریف کس کے ذریعے ہوئی؟ ذاتیات کے ذریعے، اور مجھے بتائیے حیوان کے لیے یہ جسم جنسِ قریب ہے یا جنسِ بعید ہے؟ حیوان سے اوپر تو کیا ہے؟ جسمِ نامی، اس سے اوپر کیا ہے؟ جسم، اس سے اوپر کیا ہے؟ جوہر، تو یہ جنسِ قریب ہوئی حیوان کے لیے یا بعید؟ بعید ہوئی، اور حساس کیا ہے اس کے لیے؟ فصلِ قریب ہے، حساس کیا کرتا ہے اس کو؟ درختوں سے الگ کر دیتا ہے یا نہیں کر دیتا؟ ہر حیوان کیا ہے؟ حساس بھی ہے اور متحرک بالارادہ بھی ہے، تو یہ حساس اس کے لیے فصلِ قریب ہے، تو یہ کون سی تعریف ہوئی؟ حدِ ناقص، شاباش۔
آگے دیکھیے: جسم متحرک بالارادہ۔ یہ کس کی تعریف پہچان کس کی تعریف کر رہے ہیں، کس کی پہچان کروا رہے ہیں؟ شاباش، یہ بھی حیوان کی کر رہے ہیں۔ پھر اس میں جسم کیا یہ ذاتیات ہیں یا عرضیات؟ ذاتیات ہیں۔ جسم کیا ہے؟ جنسِ بعید ہے حیوان کے لیے۔ حیوان کے لیے جنسِ بعید ہے، حیوان کے لیے جنسِ قریب کیا ہے؟ حیوان سے اوپر کیا ہے؟ جسمِ نامی، تو حیوان کے لیے جنسِ قریب کیا ہے؟ جسمِ نامی ہے، اور جنسِ بعید کیا ہے؟ جسم، اور جوہر بھی کیا ہے؟ جنسِ بعید ہے۔ اور متحرک بالارادہ یہ کیا ہے حیوان کے لیے؟ فصلِ قریب ہے، تو یہ ایسی تعریف ہوئی جو جنسِ بعید اور فصلِ قریب سے مرکب ہے، تو یہ کیا ہوئی؟ حدِ ناقص، شاباش۔
آگے: حیوانِ صاہل۔ حیوانِ صاہل، یہ کس کی پہچان کروا رہے ہیں؟ گھوڑے کی، اور ذاتیات سے کر رہے ہیں یا عرضیات سے؟ ذاتیات سے، اور کیا کیا ذکر ہے؟ حیوان، یہ اس کے لیے جنسِ قریب ہے، اور صاہل؟ فصلِ قریب ہے، تو یہ کون سی تعریف ہوئی؟ حدِ تام ہوئی، شاباش۔
اور حیوانِ ناہق، یہ کس کی پہچان کروا رہے ہیں؟ گدھے کی، تو یہ کون سی تعریف ہوئی؟ ذاتیات سے ہے یا ذاتیات سے ہے، اور کیا کیا ذکر ہے؟ حیوان گدھے کے لیے جنسِ قریب، اور ناہق؟ فصلِ قریب، تو کون سی تعریف ہوئی؟ حدِ تام، شاباش۔
جسمِ ناہق۔ کس کی پہچان کروا رہے ہیں؟ گدھے کی، اور جسم یہ کیا ہے؟ جنسِ بعید، اور ناہق؟ فصلِ قریب، تو کون سی تعریف ہوئی؟ حدِ ناقص ہوئی، شاباش۔
نمبر آٹھ: حساس۔ کس کی پہچان کروا رہے ہیں؟ شاباش، حیوان کی، اور صرف اور کیا ہے؟ ذاتیات ہیں یا عرضیات ہیں؟ ذاتیات ہیں۔ حیوان کہتے کس کو ہیں؟ جسم نام حساس متحرک بالارادہ، یہ اس کی حقیقت ہے۔ تو حساس کیا ہے؟ اس کی حقیقت میں داخل ہے، تو یہ کیا ہے؟ فصل ہے، یہ کیا ہے؟ فصل ہے، اور صرف فصل کے ذریعے تعریف، یہ کیا ہے؟ حدِ ناقص ہے، کیا ہے؟ حدِ ناقص۔
آگے ہے نمبر نو: ناطق۔ یہ کس کی پہچان کروا رہے ہیں؟ انسان کی، تو یہ کون سی تعریف ہوئی؟ یہ فصلِ قریب ہے، صرف فصلِ قریب سے تعریف کی، کون سی تعریف ہوئی؟ حدِ ناقص، شاباش۔
نمبر دس ہے: الكلمة لفظ وضع لمعنى مفرد۔ کلمہ ایسا لفظ ہے جس کو مقرر کیا گیا ہو کسی مفرد معنی کے لیے۔ یہ تو انہوں نے وہ تعریف ذکر کر دی جو درجہ ثانیہ والے سمجھ سکتے ہیں، اولیٰ والے سمجھ نہیں سکتے۔ بہرحال کلمہ، کلمہ کسے کہتے ہیں؟ آسان لفظوں میں سمجھ لو: کلمہ کہتے ہیں وہ لفظ جس کا کوئی معنی ہو۔ کیا ہو؟ اگر لفظ کا معنی نہیں تو اس کو کلمہ نہیں کہتے، اگر لفظ کا کچھ معنی ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ کلمہ۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: روٹی شوٹی کھائیں گے؟ اب روٹی اس کا تو معنی ہے، اور شوٹی یہ میں نے ویسے ساتھ ملا دیا، اس کا کوئی معنی نہیں۔ تو جس لفظ کا معنی ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ کلمہ، تو روٹی کیا ہے؟ کلمہ، لیکن شوٹی لفظ تو ہے، میں تلفظ کر رہا ہوں یعنی زبان سے بول رہا ہوں یا نہیں؟ جس پر بھی ہم تلفظ کریں اس کو کیا کہتے ہیں؟ لفظ کہتے ہیں، تو شوٹی لفظ تو ہے لیکن کلمہ نہیں۔ تو کلمہ کسے کہتے ہیں؟ وہ لفظ جس کا کچھ معنی ہو۔ اور یہ الكلمة لفظ وضع لمعنى مفرد، اس میں کلمہ کی پوری تعریف کی جا رہی ہے، پوری حقیقت بیان کی جا رہی ہے، اور پوری حقیقت بیان کی جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ حدِ تام، یہ کیا ہے؟ حدِ تام ہے بھئی، حدِ تام ہے۔ دیکھو اس میں لفظ ذکر ہے، یہ جنس ہے اس کے لیے، اور وضع ہو گا کسی مفرد معنی کے لیے، یہ اس کے لیے فصل ہے، کیا ہے؟ فصل ہے، فصل ہے، فصلِ قریب۔ بہرحال بس اتنا یاد رکھیں یہ کیا ہے؟ کلمہ، یہ کلمہ کی تعریف کی جا رہی ہے اور یہ کیا ہے؟ حدِ تام ہے بھئی، حدِ تام ہے۔ باقی انشاءاللہ اگلے سال آپ یہ تعریفات پڑھ لیں گے، یہاں اس کو ذکر نہیں کرنا چاہیے تھا اگرچہ، لیکن بہرحال بعض مدارس میں یہ کتاب درجہ ثانیہ والوں کو پڑھائی جاتی ہے، تو وہ سمجھ سکتے ہیں اس کو۔
اب گیارھواں ہے: الفعل كلمة تدل على معنى في نفسها مقترنا بأحد الازمنة الثلاثة۔ یہ فعل کی تعریف۔ فعل کسے کہتے ہیں؟ ایسا، ادھر دیکھو، فعل وہ کلمہ ہے۔ فعل؟ کلمہ کسے کہتے ہیں؟ وہ لفظ جس کا کچھ معنی ہو۔ تو معلوم ہوا فعل کا بھی کچھ معنی ہو گا، جب وہ کلمہ ہے نا تو کلمہ کہتے ہی کس کو ہیں جس کا کچھ تو فعل جب کلمہ ہے تو اس کا بھی کچھ نہ کچھ معنی ہو گا، یہی بات بیان کر رہے ہیں: فعل وہ کلمہ ہے تدل على معنى جو کہ معنی پر دلالت کرتا ہے فی نفسها ای بنفسها خود بخود، اور مقترناً اس حال میں کہ وہ ملا ہوتا ہے باحد الازمنة الثلاثة تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے کے ساتھ۔ یاد رکھیے، یہ فعل کی حدِ تام ہے۔ کیا ہے؟ پوری جامع مانع تعریف ہے۔ فعل کسے کہتے ہیں؟ وہ کلمہ جو اپنے معنی پر خود بخود دلالت کرے اور تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ بھی اس کے ساتھ ملا ہو، یعنی ماضی، حال یا استقبال۔ جیسے ضَرَبَ کا معنی: پٹائی کی گزشتہ زمانے میں، دیکھو زمانہ ملا ہوا ہے یا نہیں؟ اور يَضْرِبُ: وہ پٹائی کر رہا ہے یا پٹائی کرے گا، دیکھو حال یا استقبال، دو زمانوں میں سے کوئی ایک زمانہ اس کے ساتھ ایک وقت میں ضرور ہوتا ہے، تو اس کو فعل کہتے ہیں۔ تو یہ فعل کی تعریف کر دی کہ فعل وہ کلمہ ہوتا ہے، یعنی اس کا کچھ نہ کچھ معنی ہوتا ہے، اور نیز وہ معنی وہ لفظ اپنے معنی پر خود بخود کیا کرتا ہے؟ دلالت، اور نیز اس کے ساتھ تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ بھی ملا ہوا ہوتا ہے، تو یہ فعل کی تعریف کر دی اور پوری پوری تعریف کی، پوری حقیقت سامنے آ گئی فعل کی، تو یہ کیا ہوئی فعل کے لیے؟ حدِ تام ہو گئی۔
آگے تنبیہ ہے: جو اصطلاحات منطق کی اب تک تم نے تیرہ سبقوں میں پڑھی ہیں، وہ یکجا بطورِ فہرست لکھی جاتی ہیں، ان کو خوب یاد کر لو اور اپس میں تکرار کرو۔ تو یہ ساری تعریفات، یہ جو چیزیں ہیں ہم پڑھ چکے ہیں، اور کل کوشش کرتے ہیں اس میں سے، کل کے سبق میں انشاءاللہ کوشش کریں گے کہ ساری گزشتہ باتوں کا ہم تکرار کر لیں، ٹھیک ہے؟ اب تک جتنے سبق پڑھے ہیں، جلدی جلدی ہم ان کا تکرار کر لیں گے ساری تاکہ آپ کے ذہن میں تازہ ہو جائیں اور پھر اگلے ہفتے سے ہم انشاءاللہ تصدیقات کی بحث شروع کریں گے، تصور کی بحث مکمل ہو گئی، ساری بنیادی باتیں آپ کے سامنے ذکر ہو گئیں۔
چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔