دیکھیے بھئی، کتاب پر دیکھیے۔
سبق دوازدہم، بارہواں سبق: دو کلیوں میں نسبت کا بیان۔ جاننا چاہیے کہ جس قدر کلیات ہیں، ہر کلی کی دوسری کلی کے ساتھ چار نسبتوں میں سے ایک نسبت ضرور ہو گی۔ وہ چار نسبتیں یہ ہیں: تساوی، تباین، عموم و خصوص مطلق، عموم و خصوص من وجہ۔
تساوی یہ ہے کہ دو کلیوں میں سے ہر کلی دوسری کلی کے ہر ہر فرد پر صادق ہو جیسے انسان و ناطق، کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کے ہر ہر فرد پر صادق ہے۔ ایسی دو کلیوں کو متساویین کہتے ہیں۔ تباین یہ ہے کہ ہر ایک کلی دوسری کلی کے کسی فرد پر صادق نہ ہو جیسے انسان و فرس، کہ انسان فرس کے کسی فرد پر صادق نہیں اور نہ فرس انسان کے کسی فرد پر صادق ہے۔ ایسی دو کلیوں کو متباینین کہتے ہیں۔
آج ہم دو کلیوں میں نسبت کے بارے میں پڑھیں گے۔ آئیے ذرا گزشتہ اسباق کو مختصراً دہرا لیں تاکہ آپ کے ذہن میں گزشتہ باتیں تازہ ہو جائیں۔ آپ نے پڑھا تھا کہ مفہوم وہ شے ہے جو ذہن میں آئے، مثلاً میں نے کہا درخت، ایک خاص صورت آپ کے ذہن میں آ گئی۔ میں نے کہا بہادری، ایک معنی آپ کے ذہن میں آ گیا۔ میں نے کہا سخاوت، آپ سمجھ گئے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔ میں نے کہا تپائی، میں نے کہا سفید، میں نے کہا سیاہ، میں نے کہا سبز، میں نے کہا تندرست، میں نے مثلاً کہا بیمار، تو جو جو میں لفظ دیکھو بولتا جا رہا ہوں، آپ اس کا معنی سمجھتے جا رہے ہیں۔ تو یہ جو جو جو میں لفظ بول رہا ہوں، اس کا جو معنی آپ کے ذہن میں آ رہا ہے، اس کو مفہوم کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ مفہوم۔ تو یہ ان کا معنی اور مفہوم بھئی، جو ذہن میں آئے۔
پھر آپ نے پڑھا کہ یہ مفہوم دو قسم پر ہے: یا یہ مفہوم کلی ہو گا یا جزئی۔ اگر یہ کثیرین پر صادق آئے، یعنی اس میں شرکت ہو سکے، تو اس کو کلی کہتے ہیں، یعنی کئی چیزوں پر بولا جائے۔ مثلاً درخت ہے، تو ایک طرف سامنے یہ بھی درخت ہے، دوسری طرف یہ بھی درخت ہے، تیسری طرف یہ بھی درخت، تو درخت کیسا مفہوم ہے؟ کلی ہے، جو کثیرین پر صادق آ رہا ہے، جس میں شرکت ہو رہی ہے، جو کئی افراد پر بولا جا رہا ہے۔ اسی طرح انسان ہے؛ زید بھی انسان، بکر بھی انسان، خالد بھی انسان، دیکھو تو انسان بھی کیا ہے؟ کلی ہے۔ ایسا مفہوم ہے جو کثیرین پر بولا جا رہا ہے اور کثیرین پر صادق آتا ہے۔
اور جن چیزوں پر یہ مفہوم صادق آئے، ان کو اس کلی کے افراد اور جزئیات کہتے ہیں۔ تو زید کیا ہے؟ انسان کی ایک جزئی ہے، انسان کا ایک فرد ہے۔ بکر بھی کیا ہے؟ انسان کا ایک فرد ہے۔ آپ بھی کیا ہیں؟ انسان کے ایک فرد ہیں۔ تو آپ میں سے ہر ایک انسان کا ایک فرد ہے۔ تو وہ چیزیں جن پر کلی کا مفہوم بولا جائے، جن پر کلی کا مفہوم صادق آئے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ کلی کے افراد اور کلی کے جزئیات۔ تو یہ زید، عمرو، بکر، خالد وغیرہ یہ سب کیا ہیں؟ کلی کے افراد ہیں اور کلی کے جزئیات ہیں۔ افراد بول لیں یا جزئیات بول لیں، دونوں کا ایک ہی معنی ہے۔
اور جزئی وہ مفہوم ہے جو کثیرین پر صادق نہ آئے، جس میں شرکت نہ ہو سکے، جیسے زید۔ دیکھو لفظِ زید صرف ذاتِ زید پر بولا جا رہا ہے، کسی اور پر نہیں۔ میں نے جیسے ہی زید کہا، صرف زید کی صورت آپ کے ذہن میں آئی، بکر یا خالد کی صورت نہیں آئی، تو زید کیا ہے؟ جزئی ہے۔ حتیٰ کہ زید جیسا ایک اور اس کا جڑواں بھئی بھی ہوتا، اس کی شکل، بال، رنگ، سب کچھ زید کی طرح ہوتا، پھر بھی آپ اس کو زید نہ کہتے بلکہ اس کا نام کچھ اور ہوتا، جیسے دو جڑواں بھئی ہوں، ایک کا نام کچھ اور ہوتا ہے، دوسرے کا نام کچھ اور۔ تو معلوم ہوا زید کیا ہے؟ جزئی ہے۔ حتیٰ کہ دوسرا انسان بالکل اس جیسا ہو، پھر بھی اس کو زید نہیں کہیں گے، کچھ اور کہیں گے۔ تو یہ ہے کلی اور جزئی بھئی۔
اس کے بعد آپ نے حقیقت اور ماہیت کے بارے میں پڑھا تھا۔ آپ نے پڑھا تھا کہ کسی چیز کی حقیقت اور ماہیت وہ چیزیں ہیں جن سے مل کر وہ چیز بنے۔ مثلاً انسان، اس کی حقیقت اور ماہیت کیا ہے؟ حیوانِ ناطق۔ حیوان اور ناطق یہ دو پرزے آپس میں ملیں گے، یہ دو چیزیں آپس میں مل جائیں گی، تو انسان ہو گا۔ اگر یہ دو چیزیں نہ ہوئیں یا ان میں سے ایک نہ ہوئی، تو انسان نہیں ہو سکتا۔ انسان کے لیے کیا ضروری؟ یہ دو چیزیں دونوں پائی جائیں بھئی، دونوں پائی جائیں۔ تو وہ چیزیں جن سے مل کر کوئی چیز بنے، اس کو اس چیز کی حقیقت اور ماہیت کہتے ہیں اور ان کے علاوہ اور چیزیں جو کسی چیز میں پائی تو جائیں، لیکن اس پر اس کے وجود کا دارومدار نہ ہو، ان کو عوارض کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ عوارض، یعنی وہ صفات ہیں، جیسے دیکھو ہر انسان، وہ کالا ہو گا یا گورا، لیکن یہ انسان کی صفت ہے۔ کالا، گورا ہونے پر انسان کا دارومدار نہیں۔ اسی طرح ہر انسان، کسی کے بال لمبے ہوں گے، کسی کے چھوٹے ہوں گے، کسی کے ایک رنگ کے ہوں گے، کسی کے دوسرے رنگ کے ہوں گے، لیکن یہ سب صفات ہیں، اس پر انسان کے وجود کا دارومدار نہیں۔ اسی طرح ہر انسان یا عالم ہو گا یا جاہل ہو گا، اسی طرح ہر انسان یا بہادر ہو گا یا بزدل ہو گا، تو یہ سب صفات ہیں، یہ انسان میں، ان میں سے ایک آدھ صفت تو ضرور ہو گی، لیکن ان چیزوں پر اس کے وجود کا دارومدار نہیں، تو ان کو کیا کہتے ہیں؟ عوارض، عوارض۔
تو لہٰذا پھر آپ نے پڑھا کہ کلی کی دو قسمیں ہیں: ایک کلی ذاتی اور ایک کلی عرضی۔ کلی ذاتی آپ نے پڑھا، وہ کلی ہے جو اپنے جزئیات، یا یوں کہہ لو اپنے افراد، وہ کلی ہے جو اپنے جزئیات یا افراد کی پوری حقیقت ہو یا حقیقت کا جزو ہو، اس کو کلی ذاتی کہتے ہیں، جیسے انسان۔ انسان اپنے جزئیات کی پوری حقیقت ہے۔ زید، وہ بھی انسان ہے، بکر، وہ بھی انسان ہے۔ انسان کہہ لو یا حیوانِ ناطق کہہ لو، ایک ہی بات ہے۔ تو انسان کیا ہے؟ اپنے جزئیات کی پوری حقیقت ہے، لہٰذا اس کو کیا کہیں گے؟ کلی ذاتی کہیں گے۔ یا حقیقت کا جزو ہو، مثلاً حیوان، یہ انسان کے لیے کلی ذاتی ہے، کیونکہ ہر انسان کیا ہے؟ حیوانِ ناطق، تو حیوان آ گیا یا نہیں اس کے اندر؟ تو حیوان انسان کے لیے پوری حقیقت تو نہیں، لیکن حقیقت کا جزو ہے۔ اسی طرح صرف ناطق، یہ بھی انسان کی حقیقت کا جزو ہے۔ تو چاہے حقیقت کا جزو ہو، چاہے پوری حقیقت ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ کلی ذاتی۔
اور جبکہ اس کے مقابلے میں کلی عرضی ہے، کلی عرضی وہ ہے جو اپنے جزئیات اور افراد کی نہ پوری حقیقت ہو اور نہ حقیقت کا جزو ہو، جیسے مثلاً ضاحک بھئی، ضحک کا معنی ہے ہنسنا۔ ہر انسان میں اللہ نے صلاحیت رکھنی رکھی ہے ہنسنے کی۔ تو ہر انسان ضاحک ہے، کیا ہے؟ ضاحک۔ ضاحک کا یہ معنی نہیں کہ ہنس رہا ہنسنا ضروری ہے، ہنسے گا تو پھر ضاحک ہے، نہیں۔ اس میں چاہے وہ ہنسے چاہے نہ ہنسے، لیکن اس میں صلاحیت ہے یا نہیں ہنسنے کی؟ جب صلاحیت ہے تو بس اس کو کیا کہیں گے؟ یہ ضاحک ہے، کیونکہ اس میں ہنسنے کی صلاحیت، تو ہر انسان ضاحک ہے، لیکن کیا اس ضاحک ہونے پر انسان کے وجود کا دارومدار ہے؟ نہیں۔ انسان کے وجود کا دارومدار تو کس پر ہے؟ حیوانِ ناطق پر ہے، ضاحک پر نہیں، تو یہ لہٰذا یہ ضاحک، اس کو کیا کہیں گے؟ کلی عرضی کہیں گے بھئی، کلی عرضی۔
اس کے بعد آپ نے ذاتی اور عرضی کی قسمیں پڑھیں، یعنی کلیاتِ خمسہ۔ نام سے ہی پتا چل رہا ہے، کلیاتِ خمسہ، کتنی کلیات؟ پانچ کلیات۔ تو ذاتی کی تین قسمیں ہیں اور عرضی کی دو قسمیں، کل پانچ قسمیں ہوئیں۔ کلی ذاتی کی تین قسمیں کون سی؟ جنس، نوع اور فصل۔ آپ نے پڑھا تھا جنس وہ کلی ذاتی ہے، دیکھو شروع سے ہی بتا دیا، کلی ذاتی ہے۔ جب کہہ دیا کلی ذاتی ہے، معلوم ہوا اس پر اس کے وجود کا دارومدار ہے۔ تو جنس وہ کلی ذاتی ہے جو ایسے جزئیات پر یا ایسے افراد پر بولی جائے جن کی حقیقتیں الگ الگ ہوں، جیسے حیوان۔ حیوان کس پر بولا جاتا ہے؟ انسان پر بھی، گدھے پر بھی، گھوڑے پر بھی، بیل پر بھی اور سب کی حقیقتیں کیا ہیں؟ الگ الگ ہیں۔
اور اگر ایسی کلی ذاتی ہو جو ایسے افراد پر بولی جائے جن کی حقیقت ایک ہی ہو، اس کو نوع کہتے ہیں، جیسے انسان۔ انسان جتنے بھی ہیں، سب کی حقیقت ایک ہی ہے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ نوع کہیں گے۔ یا جیسے گھوڑا، گھوڑا جتنے بھی گھوڑے ہیں، سب کی حقیقت ایک ہی ہے، تو گھوڑا بھی نوع ہے۔ اسی طرح گدھا، یہ بھی کیا ہے؟ نوع۔ گائے، یہ بھی کیا ہے؟ نوع۔
اس کے بعد فصل، فصل آپ نے پڑھا وہ کلی ذاتی ہے جو ایسے افراد پر بولی جائے جن کی حقیقت ایک ہو اور دوسری حقیقتوں سے آ کر اس حقیقت کو جدا کر دے، تو اس کو فصل کہتے ہیں۔ تو فصل نام سے ہی پتا چل رہا ہے، فصل کا معنی جدا کرنا، الگ کرنا۔ تو وہ چیز جو دوسری چیزوں میں سے ایک چیز کو جدا کر دے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ فصل کہتے ہیں۔ تو لہٰذا فصل کی کیا تعریف کی؟ وہ کلی ذاتی ہے جو ایسے جزئیات پر بولی جائے جن کی حقیقت ایک ہی ہو اور دوسری حقیقتوں سے اس حقیقت کو جدا، جیسے ناطق۔ ناطق کیا کرتا ہے؟ دوسرے حیوانات سے انسان کو الگ۔ جب آپ نے کہا حیوان، تو اس میں انسان کے ساتھ ساتھ گھوڑا، گدھا، بیل وغیرہ سب آ گئے۔ لیکن جب آپ نے صرف ناطق کہا، تو اس ناطق نے باقی حیوانات سے انسان کو الگ کر دیا، جدا کر دیا، تو اس کو فصل کہیں گے۔
اس کے بعد آپ نے پڑھا تھا کلی عرضی کی دو قسمیں ہیں: ایک خاصہ اور ایک عرضِ عام۔ خاصہ، خاصہ کی بعینہٖ وہی تعریف ہے جو نوع کی تھی، کس کی تھی؟ نوع کی۔ نوع کی کیا تعریف تھی؟ وہ کلی ذاتی ہے جو ایسے جزئیات پر بولی جائے جن کی حقیقت ایک ہو۔ خاصہ کی بالکل یہی تعریف ہے، لیکن خاصہ کے شروع میں کلی عرضی کہنا ہے، کلی ذاتی نہیں کہنا۔ تو خاصہ وہ کلی عرضی ہے جو ایسے جزئیات، ایسے افراد پر بولی جائے جن کی حقیقت ایک ہو، جیسے ضاحک۔ دیکھو ضحک یہ انسان کا خاصہ ہے، اللہ نے انسان کو ہنسنے کی صلاحیت دی ہے۔ جب بھی وہ کوئی عجیب چیز دیکھتا ہے، اس کو تعجب لاحق ہوتا ہے اور وہ ہنس پڑتا ہے۔ اور یہ اور حیوانات میں نہیں۔ اور یہ ضحک، ہنسنے پر کیا انسان کا دارومدار ہے؟ نہیں، تو یہ کلی عرضی ہوئی، اور نیز اور حیوانات میں یہ پایا جاتا ہے؟ نہیں، تو یہ کیا ہوا؟ خاصہ، ایک ہی حقیقت، یعنی انسان کے ساتھ یہ خاص ہے۔
اور اگر ایسی کلی ذاتی ہو جو مختلف قسم کی حقیقتوں کے افراد میں پائی جائے، تو اس کو عرضِ عام کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ عرضِ عام۔ دیکھا؟ عام ہے، اور چیزوں میں بھی پائی جا رہی ہے، نام سے ہی پتا چل رہا ہے۔ جیسے ماشی، ماشی کا کیا معنی؟ چلنے والا، اپنے پاؤں پر چلنے والا۔ تو ماشی وہ انسان بھی ہے، گھوڑا بھی ہے، گدھا بھی ہے، گائے، بیل، بکری، سب ہیں بھئی، اور یہ کسی کی حقیقت میں داخل نہیں۔ تو یہ ایسی کلی عرضی ہے جو ایسے جزئیات اور افراد پر بولی جاتی ہے جن کی حقیقتیں مختلف ہیں۔ تو یہ اس کو کیا کہیں گے؟ عرضِ عام کہیں گے بھئی۔
اس کے بعد ہم نے ماہو کے بارے میں پڑھا تھا، ماہو۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ ماہو یہ مناطقہ کی اصطلاح ہے کہ وہ ماہو کے ذریعے حقیقت کا سوال کرتے ہیں اور ای شیءٍ کے ذریعے فصل کا سوال کرتے ہیں۔ اصطلاح کسے کہتے ہیں؟ میں نے آپ کو بتلایا تھا۔ اصطلاح کہتے ہیں کہ کسی علم، خاص علم والوں کا کسی ایک لفظ کو خاص معنی کے ساتھ جوڑ دینا۔ مثلاً اسم، اسم کا ویسے معنی تو ہے نام۔ اسم کا کیا معنی ہے؟ نام۔ اردو میں بھی آپ استعمال کرتے ہیں، لوگ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں: آپ کا کیا اسم ہے؟ آپ کا کیا نام ہے؟ مختلف جگہوں پر یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ لیکن علمِ نحو والوں نے اس لفظ کو خاص کر دیا، اس کی بڑی لمبی تعریف انہوں نے کی کہ اسم وہ کلمہ جو اپنے معنی پر خودبخود دلالت کرے اور اس کے ساتھ تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ بھی ملا ہوا نہ ہو، تو دیکھو اتنی لمبی تعریف کیوں انہوں نے اسم کی؟ اب عام لوگوں کو اس کا پتا نہیں، لیکن نحو کے اندر جب بھی اسم بولیں، وہ والا جو تعریف جو کی، وہ مراد ہوتا ہے۔ تو یہ ان کی اصطلاح ہے۔
اسی طرح میں نے اور مثال ذکر کی تھی تصور۔ آپ اردو میں بھی بولتے ہیں ذرا کہ آپ تصور کریں، تصور کا معنی ہے سوچنا، فکر کرنا، ذہن میں کوئی چیز لانا، خیال کرنا، یہ اردو میں استعمال ہوتا ہے تصور۔ لیکن تصور علمِ منطق میں کسے کہتے ہیں؟ آپ نے پہلے سبق کے اندر تعریف پڑھی تھی کہ تصور کسے کہتے ہیں؟ جس میں وہ جس میں ایک شے کے لیے دوسری شے کا ثبوت یا نفی نہ ہو، یعنی تصدیق نہ ہو، وہاں آپ نے لمبی تعریف پڑھی تھی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ علمِ منطق والوں کی اصطلاح ہے۔
تصدیق، تصدیق کا اردو میں معنی ہوتا ہے، کیا معنی ہوتا ہے تصدیق کا؟ مان لینا۔ اقرار کر لینا۔ لیکن منطق میں کسے کہتے ہیں تصدیق؟ کہ جس میں بات پوری ہو کہ ایک شے کے لیے دوسری شے کا ثبوت ہو یا ایک شے سے دوسری شے کی نفی ہو بھئی۔
تو اس کو اصطلاح کہتے ہیں جو خاص علم والے یا فن والے کسی لفظ کو ایک معنی کے ساتھ جوڑ دیں۔ تو یہاں بھی علمِ منطق والوں کی اصطلاح ہے، یعنی ان کے نزدیک ماہو کے ذریعے جب بھی سوال کیا جائے گا تو حقیقت کے بارے میں پوچھا جائے گا، اور اگر فصل کے بارے میں آپ پوچھنا چاہ رہے ہیں علمِ منطق میں تو ای شیءٍ کے ذریعے سوال کریں گے۔ عام عربی میں یہ نہیں ہے، لیکن علمِ منطق کی اصطلاح ہے، ان میں جب حقیقت کے بارے میں پوچھنا ہو تو کس سے سوال کریں گے؟ ماہو سے۔ اور اگر آپ نے فصل کے بارے میں پوچھنا ہے تو کس سے سوال کریں گے؟ ای شیءٍ کے ذریعے سوال کریں گے بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟
اور پھر آپ نے پڑھا تھا کہ جنسیں کئی ہوتی ہیں، مثلاً دیکھو انسان کے اوپر جنس کیا ہے؟ حیوان۔ جنس کسے کہتے ہیں؟ جو ایسے افراد پر بولی جائے جن کی حقیقتیں الگ الگ ہوں۔ تو حیوان کے اندر انسان، گھوڑا، گدھا وغیرہ اور ان سب کی حقیقتیں الگ ہیں۔ تو انسان کے جنس کیا ہے؟ حیوان، حیوان۔ حیوانِ ناطق یہ تو اس کی ایک پوری حقیقت ہے، یہ تو نوع بن گئی۔ تو یہ کیا ہے؟ انسان کے لیے حیوان کیا ہے؟ جنس۔
اور پھر اس حیوان کے اوپر میں نے بتلایا تھا جنس کیا ہے؟ جسمِ نامی۔ کیا ہے؟ جسمِ نامی۔ جسمِ نامی سے اوپر جنس کیا ہے؟ جسمِ مطلق، یا صرف جسم کہہ لو۔ اور جسمِ مطلق سے اوپر جنس کیا ہے؟ جوہر بھئی، جوہر۔
جوہر، اس میں وہ سب چیزیں آ گئیں جن کا وجود ہے۔ جن کا وجود ہے۔ پھر یہ جوہر دو قسم پر ہے: کچھ جن کا جسم ہو گا، کچھ وہ چیزیں جن کا جسم نہیں۔ کچھ چیزیں جن کا جسم ہے، جیسے یہ سب جو چیزیں آپ کو نظر آ رہی ہیں، ان سب کا کیا ہے؟ درخت ہیں، پتھر ہیں، پہاڑ ہیں، انسان ہیں، جانور ہیں، ان سب یہ سب ان کا جسم آپ دیکھ رہے ہیں، تو یہ جسم والے ہیں۔ اور کچھ چیزیں ہیں جن کا وجود تو ہے، لیکن ان کا جسم نہیں ہے، جیسے ہوا، ہوا کیا ہے؟ موجود ہے، آپ محسوس بھی کرتے ہیں، لیکن ہوا کا جسم نہیں ہے۔
جسم کسے کہتے ہیں؟ میں نے آپ کو بتلایا تھا: جسم وہ چیز جس کی لمبائی، چوڑائی اور گہرائی ہو۔ وہ چیز جس کی لمبائی، چوڑائی اور گہرائی ہو۔ دیکھو یہ میز آپ کے سامنے پڑی ہے، اس کی کچھ لمبائی ہے، کچھ چوڑائی ہے اور کچھ گہرائی کہہ لیں یا اونچائی کہہ لیں بھئی، ایک ہی چیز ہے۔ تو یہ اسی طرح یہ تکیہ ہے، اس کی بھی کچھ گہرائی، لمبائی اور چوڑائی ہے۔ صوفہ ہے اور یہ پنکھا ہے، ہر ہر چیز کی بھئی۔ تو ان سب کی کیا ہے؟ کچھ لمبائی، گہرائی اور چوڑائی، اس کو جسم کہتے ہیں۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ جسم کہتے ہیں۔
تو جوہر جو ہے یہ دو قسم کا ہوا: ایک وہ جوہر، وہ چیزیں جن کا جسم ہے، کچھ وہ چیزیں جن کا جسم نہیں۔ یہ جو آپ پتھر وغیرہ چیزیں دیکھ رہے ہیں، ان کا جسم ہے کیونکہ ان کی لمبائی ہے، کچھ نہ کچھ چوڑائی ہے اور کچھ نہ کچھ گہرائی ہے۔ اور کچھ وہ چیزیں ہیں جن کا وجود تو ہے لیکن جسم نہیں، جیسے ہوا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اللہ کی ذات کے لیے جسم نہیں ہے بھئی، کیونکہ جس چیز کے لیے جسم ہو گا وہ قدیم نہیں ہو سکتی، وہ حادث ہو گی، اور اللہ کی ذات اور صفات قدیم۔ قدیم وہ اردو والا نہیں، اردو میں تو قدیم کا معنی ہے پرانا، نہیں نہیں، قدیم یہ اصطلاحی لفظ ہے۔ قدیم کا معنی وہ چیز جس پر کبھی بھی عدم نہ آیا ہو، یعنی کبھی بھی ایسا زمانہ نہیں آیا کہ جس میں اس چیز کا وجود نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ہیں، کبھی کوئی ایسا زمانہ نہیں جس میں اللہ کی ذات اور اللہ کی صفات کا وجود نہ ہو، تو اللہ ہمیشہ سے ہیں، اسی طرح اللہ کی صفات بھی ہمیشہ سے ہیں، یعنی اللہ ہمیشہ سے سمیع ہیں، سننے والے ہیں، اللہ ہمیشہ سے بصیر ہیں، دیکھنے والے ہیں، اللہ ہمیشہ سے کلام کرنے والے ہیں، تو جب سے اللہ کی ذات ہے، اللہ کی تمام صفات بھی ہیں بھئی۔ تو اللہ کی ذات بھی قدیم اور اللہ کی صفات بھی قدیم۔
جبکہ اللہ کے علاوہ اور جتنی چیزیں ہیں وہ حادث ہیں، چاہے وہ آسمان ہوں، چاہے عرش ہو، چاہے کرسی ہو، چاہے انسان، جنات، فرشتے، جنت، جہنم، سب چیزیں کیا ہیں؟ حادث۔ حادث کا معنی ہے کہ ایک زمانہ ایسا تھا کہ ان چیزوں کا وجود نہیں تھا بھئی۔ یہ عرش، ایک زمانہ تھا اس کا وجود نہیں تھا، یہ کرسی، ایک زمانہ تھا کہ اس کا وجود نہیں تھا، اسی طرح آسمان، جنت، جہنم، انسان، حیوان، ایک زمانہ تھا ان چیزوں کا وجود نہیں، تو یہ جتنی مخلوقات ہیں، ساری کیا ہیں؟ حادث ہیں، پھر ان کو اللہ نے پیدا فرمایا بھئی۔ تو قدیم صرف اللہ کی ذات اور اللہ کی صفات، باقی سب چیزیں کیا ہیں؟ حادث ہیں۔
بات چلی تھی اس سے کہ اللہ کے لیے جسم نہیں، اس لیے کیونکہ اللہ کے لیے اگر آپ جسم مانیں گے تو اللہ کی ذات کا حادث ہونا لازم آئے گا، کیونکہ جو چیز جسم والی ہوتی ہے، جو چیز جسم، وہ مرکب ہوتی ہے، اور جو چیز مرکب ہوتی ہے وہ محتاج ہوتی ہے، اور جو محتاج ہو وہ اللہ، یعنی رب نہیں ہو سکتا بھئی۔ تو لہٰذا اللہ کی ذات کے لیے جسم نہیں ہے بھئی، جسم نہیں ہے، ورنہ اگر جسم کو مانا جائے تو اللہ کی ذات کا حادث ہونا لازم آتا ہے، اور اللہ کی ذات حادث ہے یا قدیم ہے؟ اللہ کی ذات قدیم ہے، لہٰذا اللہ کے لیے جسم نہیں ہے بھئی۔ تو اللہ کی ذات قدیم اور اللہ کی صفات بھی قدیم۔
اچھا، بات میں کر رہا تھا جوہر، جوہر میں دو طرح کی چیزیں ہیں: کچھ وہ ہیں جن کا جسم ہے، کچھ وہ چیزیں ہیں جن کا وجود تو ہے لیکن جسم نہیں، جیسے ہوا ہے اور جیسے اللہ کی ذات ہے بھئی۔ تو جب ہم نے کہا جوہر، اس میں سب چیزیں آ گئیں، چاہے ان کا جسم ہو، چاہے جسم نہ ہو۔ تو گویا جوہر کے افراد دو طرح کے ہوئے: کچھ چیزیں جوہر میں وہ ہیں جن کا جسم ہے اور کچھ وہ ہیں جن کا جسم نہیں۔
پھر جسم میں ہم آ گئے، یہ جو جسم ہے اس کے اندر پھر دو طرح کی چیزیں ہیں: کچھ کے لیے جسمِ نامی ہے، وہ بڑھتا ہے وقت کے ساتھ ساتھ، جیسے درخت ہیں، حیوانات ہیں، ان کے بچے شروع میں چھوٹے ہوتے ہیں پھر آہستہ آہستہ بڑے ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح درخت ہے، بیج سے اگتا ہے اور آہستہ آہستہ بڑا ہوتا چلا جاتا ہے، تو یہ جسمِ نامی ہیں۔ تو جسم دو طرح کے ہوئے: کچھ جسمِ نامی ہیں، کچھ غیرِ نامی ہیں، جیسے پتھر وغیرہ، یہ غیرِ نامی ہیں، یہ جتنے ہیں اتنے ہی رہتے ہیں، یہ بڑھتے نہیں۔ تو جسم کتنی قسم کے ہو گئے؟ دو، کچھ نامی اور کچھ غیرِ نامی۔
اچھا، پھر جسمِ نامی جو ہیں، جسمِ نامی، وہ دو قسم کے ہو گئے: کچھ حیوان ہیں اور کچھ غیرِ حیوان۔ حیوان کون؟ اس میں انسان، گھوڑا، گدھا وغیرہ سب حیوانات آ گئے۔ اور کچھ غیرِ حیوان ہیں، اس میں درخت آ گئے۔
پھر حیوان کے آگے تقسیم ہے، حیوان کے اندر کوئی حیوانِ ناطق ہے، کوئی صاہل ہے، کوئی ناعق ہے، کوئی ذو خوار ہے، کوئی ذو رغاء ہے بھئی۔
تو حیوان کیا ہے؟ جنس۔ یہ جنس کس کو کہتے ہیں؟ توجہ ہے؟ ایسی کلی جو ایسے افراد پر بولی جائے جن کی حقیقتیں الگ الگ، تو حیوان میں جو جو چیزیں ہیں ان کی حقیقت ایک ہے یا الگ الگ ہے؟ الگ الگ ہے، تو یہ حیوان جنس ہوئی۔ اس حیوان سے اوپر کون سی جنس ہے؟ جسمِ نامی، جسمِ نامی، اور پھر جسمِ نامی سے اوپر کون سی جنس ہے؟ جسمِ مطلق، یا صرف جسم کہہ لو یا جسمِ مطلق۔ مطلق کا میں نے بتلایا تھا آزاد، یعنی جس میں کسی قسم کوئی کی کسی قسم کی کوئی قید نہ ہو۔ دیکھو جسمِ نامی اس کے اندر نامی کی قید موجود ہے، ہر جسم کو جسمِ نامی نہیں کہہ سکتے بلکہ صرف اسی جسم اسی جسم کو جسمِ نامی کہیں گے جس میں بڑھنے کی صلاحیت، کیونکہ اس میں نامی کی قید موجود ہے۔ اور جبکہ جسمِ مطلق وہ مطلق ہے، اس میں کسی قسم کی قید نہیں، اس میں ہر طرح کے جسم آ گئے، چاہے نامی ہو، چاہے نامی نہ ہو۔ تو اس کو جسمِ مطلق بھی کہہ دیتے ہیں اور صرف جسم بھی کہہ دیتے ہیں، تو چاہے جسم کہہ دو چاہے جسمِ مطلق کہہ دو، ایک ہی بات ہے۔ اور پھر اس جسم سے اوپر جنس کون سی ہے؟ جوہر ہے۔
توجہ ہے سب کی بھئی؟ پھر بتلاؤ ترتیب مجھے بھئی: انسان کے لیے جنس کیا سب سے قریب؟ حیوان بھئی، حیوان۔ اس حیوان سے اوپر جنس کیا؟ جسمِ نامی۔ جسمِ نامی سے اوپر جنس؟ جسمِ مطلق۔ اور جسمِ مطلق سے اوپر جنس؟ جوہر۔ جوہر میں تمام کائنات کی چیزیں آ گئیں جن کا وجود ہو بھئی۔
اچھا، اب یہ تو ہم جا رہے تھے نیچے سے اوپر کی طرف، اب ذرا اوپر سے نیچے کی طرف آتے ہیں۔ جوہر، جوہر میں کون کون سی چیزیں آئیں؟ سب کیا کیا ہیں؟ جن کا وجود ہے لیکن وہ دو طرح کی ہیں، جوہر میں دو چیزیں آ گئیں: ایک جسم والی، ایک بغیر غیرِ جسم والی۔ اچھا، پھر جسم پہ آ جاؤ نیچے، اب جسم کے اندر کیا کیا آئیں؟ دو طرح کی چیزیں، کون کون سی؟ جسم کے اندر دو طرح کی چیزیں آ گئیں، کون سی؟ کچھ نامی ہیں، کچھ غیرِ نامی ہیں۔ اچھا، پھر نامی کے اندر دو طرح کی چیزیں آ گئیں، کون کون سی؟ کچھ حیوان ہیں، کچھ غیرِ حیوان ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ پھر اوپر سے چلتے ہیں، دوبارہ بتائیں: جوہر، اس میں کیا کیا آئے؟ دو طرح کی چیزیں ہیں، کون کون سی؟ کچھ جسم والی، کچھ غیرِ جسم والی۔ پھر اس جسم میں آ گئے ہم نیچے، اب جسم میں کتنی طرح کی چیزیں ہیں؟ دو، کون کون سی؟ کچھ نامی ہیں، کچھ غیرِ نامی ہیں۔ اچھا، پھر جسمِ نامی کے اندر دو طرح کی چیزیں آ گئیں، کون کون سی؟ کچھ حیوان ہیں، کچھ غیرِ حیوان ہیں۔
تو لہٰذا ماہو کے ذریعے کسی چیز کی حقیقت کا سوال کیا جاتا ہے اور ای شیءٍ کے ذریعے کسی چیز کے فصل کا سوال کیا جاتا ہے، فصل کا۔ تو جب یاد رکھیے آپ نے پڑھا تھا، ماہو کے ذریعے اگر ایک چیز کا سوال کیا جائے: الانسان ما ہو؟ انسان کیا چیز ہے؟ تو جواب میں اس کی پوری حقیقت ذکر کرتے ہیں، اور انسان کی پوری حقیقت کیا؟ حیوانِ ناطق۔ تو آپ جواب میں کہیں گے: الانسان حیوان ناطق، یا اردو میں کہہ رہے ہیں: انسان حیوانِ ناطق ہے۔
اسی طرح اگر میں پوچھوں: الفرس ما ہو؟ فرس کیا چیز ہے؟ گھوڑا کیا چیز ہے؟ آپ جواب میں کیا کہیں گے؟ حیوان صاہل، ص، ا، ہ، ل، صاہل ہنہنانے والا، گھوڑے کی وہ جو آواز ہے ہنہنانا، حیوانِ صاہل۔
اسی طرح اگر میں پوچھوں کہ: الغنم ما ہو؟ غنم کیا چیز ہے؟ بھیڑ بکری کو کہتے ہیں۔ تو آپ کیا کہیں گے؟ حیوان ذو رغاء، حیوان ذو۔ اور اگر میں پوچھوں: البقر ما ہو؟ گائے بیل کیا چیز ہے؟ آپ کیا کہیں گے؟ حیوان ذو خوار، حیوان ذو خوار۔
تو دیکھو، جب بھی ایک چیز کے بارے میں ماہو کے ذریعے سوال کیا جائے، تو آپ جواب میں اس چیز کی پوری حقیقت ذکر کرتے ہیں۔ اور اگر کئی چیزوں کا سوال کیا جائے، تو جواب میں وہ سارے مشترکہ اجزاء ذکر کرنے ہیں جو ان دونوں میں مشترک ہیں۔ جواب میں وہ سارے اجزاء ذکر کرنے ہیں جو ان دونوں میں مشترک ہیں۔ مثلاً میں نے آپ سے پوچھا: الانسان والفرس ما ہما؟ انسان اور فرس کیا چیز ہیں؟ آپ کیا کہیں گے؟ حیوان۔ حیوان کس کو کہتے ہیں؟ جسم، نامی ہو، حساس ہو اور متحرک بالارادہ ہو۔ تو گویا انسان اور گھوڑے میں یہ چار پرزے مشترک ہیں: دونوں کا جسم ہے، جسم بھی نامی ہے اور دونوں حساس ہیں، چیزوں کو محسوس کرتے ہیں اور دونوں متحرک بالارادہ ہیں۔ اور ان چاروں اجزاء کا ایک ہی نام ہم نے رکھا ہوا ہے اور وہ کیا؟ حیوان بھئی، حیوان۔ لہٰذا جب بھی ماہو کے ذریعے دو یا زیادہ چیزوں کو لے کر سوال کریں، تو جواب میں جو جو چیزیں جو جو اجزاء مشترک ہیں ان سب کو ذکر کریں گے، اس کو تمامِ مشترک کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ تمامِ مشترک کہتے ہیں۔
اب اگر میں آپ سے پوچھوں: الانسان والفرس والشجر ما ہم؟ یہ کیا ہیں انسان، گھوڑا اور درخت؟ یہ کیا ہیں، ان کی حقیقت کیا ہے؟ جی؟ بڑھنے والے، ہاں شاباش، جسمِ نامی ہے، کیا ہے؟ جسمِ نامی۔ درخت بھی جسمِ نامی ہے، گھوڑا بھی جسمِ نامی ہے، انسان بھی جسمِ نامی۔ تو یہ ان کا تمامِ مشترک۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا کہ ماہو کے ذریعے اگر ایک چیز کا سوال کریں تو جواب میں پوری حقیقت، اور اگر دو یا زیادہ چیزوں کو لے کر سوال کریں تو جتنے اجزاء دونوں میں مشترک ہیں ان ساروں کو ذکر کرنا ہے۔
مثلاً میں نے پوچھا: الانسان والفرس ما ہما؟ انسان اور فرس کیا چیز ہیں؟ اگر کوئی ساتھی آپ میں سے کہہ دے: جسمِ نامی، تو بات صحیح نہیں کیونکہ صرف جسمِ نامی نہیں مشترک، دونوں حساس بھی ہیں، دونوں متحرک بالارادہ بھی ہیں، تو پورا ذکر کرنا ہے جو جو چیزیں ہیں، اور وہ سب ہم نے حیوان کہا تو اس میں سب چیزیں آ گئیں۔ تو جب دو یا زیادہ چیزوں کو لے کر ماہو سے سوال کیا جائے تو جواب میں تمامِ مشترک ذکر کریں گے، یعنی جو جو اجزاء مشترک ہیں۔
اسی طرح ای شیءٍ، اس کے ذریعے فصل کا سوال کیا جاتا ہے، کس کا؟ فصل کا۔ مثلاً میں نے پوچھا: الانسان ای حیوان ہو؟ الانسان، توجہ ہے سبق کی طرف؟ الانسان ای حیوان ہو؟ انسان کون سا حیوان ہے؟ ہاں، صرف فصل ذکر کرو۔ حیوانِ ناطق، یہ تو آپ پوری نوع ذکر کر رہے ہیں۔ آپ جواب میں کیا ذکر کر رہے ہیں؟ حیوانِ ناطق۔ بھئی حیوان تو میں نے سوال میں ہی ذکر کر دیا، اس کو ذکر کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ میں یہی تو پوچھ رہا ہوں: الانسان ای حیوان ہو؟ کون سا حیوان ہے؟ تو صرف فصل ذکر کریں: ناطق۔
میں آپ سے پوچھتا ہوں: الفرس ای حیوان ہو؟ صاہل، جی۔ میں پوچھتا ہوں: الحمار ای حیوان ہو؟ گدھا کون سا حیوان ہے؟ ناہق، ن، ا، ہ اور ق دو نقطوں والا۔ الحمار ای حیوان ہو؟ ناہق، کیا ہے؟ ناہق۔
اچھا، الغنم ای حیوان ہو؟ ذو رغاء، شاباش۔ البقر ای حیوان ہو؟ ذو خوار، شاباش۔
تو ای شیءٍ کے ذریعے جب سوال کیا جائے تو جواب میں فصل ذکر کرتے ہیں، ایسی چیز جو دوسری چیزوں سے اس کو جدا کر دے۔
پھر آپ نے آگے جنس اور فصل کی قسمیں پڑھیں۔ آپ نے پڑھا کہ جنس بھی دو قسم پر اور فصل بھی دو۔ جنس بھی یا قریب ہو گی یا بعید، اور اسی طرح فصل بھی یا قریب ہو گی یا بعید۔ جنسِ قریب آپ نے پڑھا تھا، اس کی تعریف کتاب میں انہوں نے کی کہ کسی ماہیت کی وہ جنس ہے کہ اس کے جزئیات، یعنی اس کے افراد میں سے جن دو جزئی، یعنی جن دو افراد یا زیادہ سے سوال کیا جائے، تو جواب میں وہی جنس واقع ہو، جیسے حیوان انسان کی جنسِ قریب ہے کہ حیوان کے افراد میں سے جن دو یا زیادہ سے سوال کریں، جواب میں حیوان ہی ہو گا۔
یہ آخری سبق تھا، یہ پھر سمجھ لو اچھی طرح بھئی۔ آپ نے پڑھا جنس دو قسم پر ہے: ایک جنسِ قریب، ایک جنسِ بعید بھئی۔ یاد رکھیے، ادھر دیکھیے بھئی، جنسِ قریب وہ ہے۔ جنس کسے کہتے ہیں؟ وہ کلی ذاتی جو ایسے جزئیات یا افراد پر بولی جائے جن کی حقیقت الگ الگ ہو، تو اس کو جنس کہتے ہیں۔
تو اگر مثلاً یہ ادھر دیکھیے، یہ ایک جنس ہے، اس کے تحت پانچ چیزیں ہیں، کتنی چیزیں ہیں؟ پانچ۔ اگر ان میں سے کوئی سے جو جو افراد بھی پکڑ کر میں سوال کروں، دو یا دو سے زیادہ، جواب میں ہمیشہ یہی جنس آئے، تو اس کو کہیں گے جنسِ قریب۔ اور اگر جواب میں کبھی یہ جنس آئے کبھی کوئی اور جنس آئے، تو معلوم ہوا یہ جنسِ قریب نہیں ہے بلکہ جنسِ بعید ہے۔
مثلاً دیکھیے، یہ جو حیوان ہے حیوان، یہ انسان کے لیے جنسِ قریب ہے، کیا ہے؟ جنسِ قریب۔ حیوان میں کون کون آئے؟ انسان بھی ہے، گھوڑا بھی ہے، گدھا بھی ہے، گائے، بیل، بکری وغیرہ سارے حیوانات آ گئے۔ اب میں آپ سے سوال کرتا ہوں، اب میں آپ سے سوال کرتا ہوں: الانسان والفرس ما ہما؟ انسان اور فرس کیا چیز ہیں؟ دیکھا، جواب میں حیوان آیا۔ یہ جنس ہے، یہ کیا ہے؟ جنس۔ اچھا، میں کوئی دو اور سے لے کر، الفرس والبقر ما ہما؟ گھوڑا اور گائے کیا چیز ہیں؟ پھر بھی حیوان آیا۔ اچھا، میں کوئی اور دو لے کر سوال کرتا ہوں: الغنم والانسان ما ہما؟ بھیڑ بکری اور انسان کیا چیز ہیں؟ حیوان۔ دیکھا، حیوان کے نیچے جتنی چیزیں ہیں، آپ جن دو کو یا چاہے دو سے زیادہ لے کر سوال کریں، مثلاً میں دو سے زیادہ لے کر سوال کرتا ہوں: الانسان والبقر والغنم ما ہم؟ انسان، گائے، بیل اور بکری کیا چیز ہیں؟ حیوان۔ تو چاہے دو یا دو سے زیادہ، جن دو یا دو سے زیادہ کو لے کر سوال کریں، جواب میں ہمیشہ حیوان آ رہا ہے، معلوم ہوا یہ حیوان انسان کے لیے جنسِ قریب، ان کے ان سب کے لیے کیا ہے جنس؟ ان سب کے لیے جنسِ قریب ہے۔
اور اگر جواب میں کبھی وہ آئے کبھی نہ آئے، تو معلوم ہوا وہ جنسِ بعید ہے۔ مثلاً حیوان سے اوپر کیا ہے؟ جسمِ نامی۔ اب مثلاً میں انسان کے لیے آپ سے پوچھتا ہوں: الانسان والشجر ما ہما؟ توجہ نہیں ہے سبق کی طرف۔ الانسان والشجر ما ہما؟ انسان اور درخت کیا چیز ہیں؟ جسمِ نامی۔ صورت سمجھ، الشجر والفرس ما ہما؟ دیکھا، جسمِ نامی کے اندر سارے حیوانات بھی آ رہے ہیں اور سارے درخت بھی آ رہے ہیں۔ اور اب میں دو دو یا زیادہ کو لے کر سوال کر رہا ہوں، اگر ہر سوال کے جواب میں جسمِ نامی ہی آئے تو سمجھ جائیں یہ کیا ہے جنسِ قریب، ورنہ یہ کیا ہے جنسِ بعید۔ اب آپ جواب دیتے جائیے: الانسان والشجر ما ہما؟ جسمِ نامی۔ اچھا، الشجر والفرس والبقر ما ہما؟ جسمِ نامی۔ الشجر والغنم والانسان ما ہم؟ جسمِ نامی۔ اچھا، ابھی تک جسمِ نامی جواب میں چل رہا ہے۔ اب میں پوچھتا ہوں: الفرس والانسان ما ہما؟ اب دیکھا، حیوان، جواب بدل گیا۔ انسان انسان بھی کیا ہے؟ جسمِ نامی۔ فرس بھی کیا ہے؟ جسمِ نامی۔ تو اسی کے دو افراد کو میں نے لے کر سوال کیا لیکن جواب بدل گیا، معلوم ہوا جسمِ نامی یہ جنسِ قریب نہیں ہے بلکہ یہ جنسِ بعید ہے۔ تو معلوم ہوا انسان وغیرہ حیوانات سب کے لیے یہ حیوان جنسِ قریب ہے اور جسمِ نامی جنسِ بعید ہے، اور جسمِ مطلق وہ بھی جنسِ بعید ہے، اور جوہر وہ بھی کیا ہے؟ جنسِ بعید ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح بات سمجھ میں آ گئی؟ جنسِ قریب اور جنسِ بعید۔
جنسِ قریب کسے کہتے ہیں؟ کہ اس ماہیت کے کوئی سے دو یا زیادہ افراد کو لے کر سوال کریں اور جواب میں ہمیشہ وہی ماہیت آئے، تو وہ کیا ہے؟ جنسِ قریب۔ اور اگر جواب میں کبھی ایک وہ ماہیت آئے، کبھی جواب میں دوسری ماہیت آئے، تو وہ کیا ہے؟ جنسِ بعید ہے۔
اسی طرح فصل بھی دو قسم پر ہے، آپ نے پڑھا: ایک فصلِ قریب ہے، ایک فصلِ بعید ہے۔ یرحمک اللہ۔ فصل بھی دو قسم پر ہے، ایک فصل، توجہ ہے سبق کی طرف؟ فصل بھی دو قسم پر ہے: ایک فصلِ قریب اور ایک فصلِ بعید۔ ان کی تعریف بھی آسان ہے۔ فصل کا کیا معنی ہے؟ جدا کرنا۔ فصل کیا کرتی ہے؟ ایک ماہیت کو دوسری ماہیتوں سے جدا کر دیتی ہے، تو اس کو فصل کہتے ہیں۔ اب یاد رکھو، ادھر دیکھو، فصلِ قریب وہ ہے جو جدا کرے، کس سے جدا کرے؟ جنسِ قریب میں جو چیزیں ساتھ تھیں ان سے جدا کرے۔ فصلِ قریب کسے کہتے ہیں؟ فصل جدا کرتی ہے نا، کن سے جدا کرے؟ جنسِ قریب میں جو چیزیں ساتھ شریک تھیں، ان سے کیا کرے؟ جدا کرے، تو وہ فصلِ قریب۔ اور اگر جنسِ بعید والوں سے جدا کرے، تو وہ کیا ہے؟ فصلِ بعید۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ پھر سنو، فصلِ قریب کسے کہتے ہیں؟ جو جنسِ قریب والوں سے جدا کرے، آسان تعریف۔ فصلِ قریب کسے کہتے ہیں؟ جو جنسِ قریب والوں سے جدا کرے، اور فصلِ بعید کسے کہتے ہیں؟ جو جنسِ بعید والوں سے جدا کرے، صورت سمجھ میں آ گئی؟
اب دیکھیے مثلاً، میں نے آپ سے پوچھا: الانسان ای حیوان ہو؟ انسان کون سا حیوان ہے؟ دیکھا، ناطق۔ اس ناطق نے انسان، جو کہ حیوان ہے، حیوان کے باقی افراد سے انسان کو کیا کر دیا؟ الگ کر دیا، جدا کر دیا۔ کس میں سے جدا کیا؟ حیوان میں سے، اور حیوان انسان کے لیے کیا ہے؟ جنسِ قریب، جنسِ قریب۔ تو لہٰذا ناطق یہ انسان کے لیے کیا ہوا؟ تو یہ ناطق انسان کے لیے کیا ہے؟ فصل ہے، جدا کر رہا ہے، اور کون سا فصل ہے؟ فصلِ قریب، کیونکہ یہ جنسِ قریب، یعنی حیوان والوں سے جدا کر رہا ہے انسان کو، گائے، بیل، بکری وغیرہ سے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
اور اگر میں آپ سے پوچھوں: الانسان ای جسم نام ہو؟ انسان کون سا جسمِ نامی ہے؟ انسان کون سا جسمِ نامی ہے؟ جسمِ نامی کی میں نے تقسیم آپ کو بتلائی تھی، جسمِ نامی کے نیچے دو قسم کی چیزیں ہیں: کچھ کیا ہیں؟ حیوان ہیں، کچھ کیا ہیں؟ غیرِ حیوان۔ لہٰذا میں نے آپ سے پوچھا: الانسان ای جسم نام ہو؟ انسان کون سا جسمِ نامی ہے؟ آپ جواب میں کہہ سکتے ہیں: حیوان۔ کیا کہہ سکتے ہیں؟ حیوان۔ کس سے جدا کیا؟ غیرِ حیوان سے۔ کس سے جدا کیا؟ غیرِ حیوان سے۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو یہ فصل ہے۔ حیوان انسان کے لیے کیا بن گئی؟ فصل۔ ہے تو جنس، لیکن فصل بھی بن گئی، فصل کا کیا معنی ہوتا ہے؟ جدا کرنا۔ یہ جدا کر رہی ہے کہ نہیں؟ جسمِ نامی ادھر دیکھو، جسمِ نامی کے اندر سارے حیوانات بھی تھے اور درخت بھی تھے۔ کیا تھے؟ درخت بھی تھے اور حیوانات بھی تھے، یعنی یوں کہو، جسمِ نامی میں حیوان بھی تھے اور غیرِ حیوان، یعنی درخت بھی تھے۔ تو جب میں نے کہا الانسان ای جسم نام، انسان انسان کون سا جسمِ نامی ہے؟ تو میں فصل پوچھ رہا ہوں، ای شیءٍ سے سوال کر رہا ہوں نا، تو کوئی ایسی فصل ذکر کر دو کہ یہ کچھ چیزوں سے چاہے جدا ہو جائے، چاہے ساری چیزوں سے جدا ہو جائے، کچھ چیزوں سے جدا ہو جائے۔ مثلاً آپ نے کہہ دیا، میں نے پوچھا انسان کون سا جسمِ نامی ہے؟ آپ نے کہہ دیا حیوان ہے، تو کس سے جدا ہوا؟ غیرِ حیوان، تو کچھ چیزوں سے کیا ہوا؟ جدا ہوا کہ نہیں ہوا؟ تو معلوم ہوا یہ حیوان انسان کے لیے فصل بن گیا، کیا بن گیا؟ فصل بن گیا، کچھ چیزوں سے اس کو جدا کر رہا ہے۔
اور آپ جواب میں حیوان، آپ جواب میں ناطق بھی کہہ سکتے ہیں، کیا کہہ سکتے ہیں؟ ناطق بھی۔ کس سے جدا کرے گا؟ وہ ساری چیزوں سے اس نے جدا کر دیا، جسمِ نامی کے نیچے کیا کیا تھا؟ حیوان اور غیرِ حیوان، اور پھر حیوان کے نیچے کوئی ناطق تھا، کوئی ناہق تھا، کوئی صاہل تھا، کوئی کچھ، مختلف چیزیں تھیں، تو انسان کو ان سب سے کیا کر دیا ناطق نے؟ جدا کر دیا۔
دوبارہ مثال سنو، میں نے ذکر کی تھی مثال بھئی: دیکھو، ایک ہے پاکستان، پھر پاکستان میں چار صوبے ہیں مثلاً، پھر ان چار صوبوں کے ہر صوبے کے اندر کئی کئی ضلعے ہیں، پھر ہر ضلعے کے اندر کئی شہر، گاؤں وغیرہ ہیں، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ پھر شہر کے اندر مختلف علاقے ہیں، پھر مختلف علاقوں کے اندر محلے اور گلیاں ہیں۔ مثلاً فرض کریں، زید سمن آباد میں رہتا ہے۔ سمن آباد لاہور کا ایک علاقہ ہے۔ فرض کرو زید سمن آباد کی کون سے محلہ، کوئی جانتے ہو محلہ؟ جی؟ ہاں، چلو ڈونگی گراؤنڈ کہہ لو۔ ڈونگی گراؤنڈ کے ساتھ جو محلہ ہے وہ ڈونگی گراؤنڈ والا محلہ کہلاتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ گراؤنڈ ہے، ذرا گہری ہے تو اس کا نام ہی کیا ڈل گیا؟ ڈونگی گراؤنڈ۔ تو اس کے ساتھ جو محلہ ہے وہ ڈونگی گراؤنڈ والا محلہ، زید وہاں رہتا ہے۔ اور یہ سارا علاقہ سمن آباد ہے، اور یہ سمن آباد لاہور کا ایک علاقہ ہے، اور لاہور یہ ضلع لاہور کا ایک شہر ہے۔ ضلع لاہور میں کئی گاؤں بھی آ جاتے ہیں، بڑے علاقے کا نام ہے، تو لیکن یہ شہر ہے۔ اور پھر یہ ضلع لاہور صوبہ پنجاب کا ایک ضلع ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ اور صوبہ پنجاب پاکستان کا ایک صوبہ ہے، صوبہ ہے۔
اب اگر میں آپ سے پوچھوں: زید کہاں رہتا ہے؟ آپ جواب میں کہیں: پاکستان میں، آپ کی بات بالکل ٹھیک ہے، کیونکہ غیرِ پاکستان ہندوستان وغیرہ میں نہیں رہتا، ان سے جدا ہو گیا یا نہیں ہو گیا؟ جواب میں یہ بھی ٹھیک۔ اور اگر دوسرا ساتھی جواب میں کہتا ہے کہ وہ پنجاب میں رہتا ہے، یہ جواب بھی ٹھیک ہے، کیونکہ اب نہ صرف ہندوستان والوں سے جدا ہوا بلکہ پاکستان کے اندر بھی باقی صوبوں سے جدا ہو گیا کہ معلوم ہوا کسی اور صوبے میں نہیں رہتا، کس میں رہتا ہے؟ پنجاب۔ اور اگر ایک تیسرا ساتھی جواب میں کہتا ہے کہ وہ ضلع لاہور میں رہتا ہے، تو اس کا بھی جواب ٹھیک ہے۔ میں نے پوچھا زید کہاں رہتا ہے؟ اس نے کہا ضلع لاہور میں رہتا ہے، تو اس نے ہندوستان والوں سے بھی جدا کیا، پھر اس نے پاکستان کے باقی صوبوں سے بھی جدا کیا، پھر پنجاب کے اندر باقی ضلعوں سے بھی جدا کر دیا اور کیا کہا، کس ضلعے میں رہتا ہے؟ لاہور۔
اور اگر آپ جواب میں ضلع لاہور کے بجائے یوں کہہ دیتے: شہرِ لاہور میں رہتا ہے، تو بھی آپ کا جواب صحیح تھا۔ دیکھو یہ فصلیں ہیں، یہ فصل ہے، جدا کرتے جا رہے ہیں۔ آپ نے کہا وہ شہرِ لاہور میں رہتا ہے، دیکھو ہندوستان والوں سے بھی جدا ہو گیا۔ پھر پاکستان کے اندر باقی صوبوں سے بھی جدا ہوا، معلوم ہوا پنجاب والا ہے، اور پنجاب والوں میں سے بھی پھر باقی ضلعوں سے جدا ہو گیا، پھر ضلع لاہور کے اندر تو کئی گاؤں بھی آتے تھے، ان سب سے جدا ہو گیا، پتا چلا اور کسی گاؤں وغیرہ میں بھی نہیں رہتا بلکہ شہرِ لاہور میں رہتا۔ اور اگر آپ جواب میں کہہ دیتے، میں نے کہا زید کہاں رہتا ہے؟ آپ جواب میں کہہ دیں: وہ سمن آباد میں رہتا ہے، تو آپ نے اکثر سے جدا کر دیا، ہندوستان والوں سے بھی جدا ہوا، معلوم ہوا ہندوستان میں نہیں رہتا، پاکستان میں رہتا، اور پاکستان کے باقی صوبوں سے بھی جدا کر دیا، معلوم ہوا کہ باقی صوبوں میں نہیں رہتا، کہاں رہتا ہے؟ پنجاب، اور پھر پنجاب کے باقی ضلعوں سے بھی الگ کر دیا، کسی اور ضلعے میں نہیں رہتا، کس میں رہتا ہے؟ ضلع لاہور میں، اور ضلع لاہور کے باقی سب گاؤں وغیرہ بھی نکال دیے کہ گاؤں وغیرہ میں نہیں رہتا ضلعے کے اندر بلکہ شہرِ لاہور میں رہتا ہے، اور شہرِ لاہور کے باقی علاقے بھی آپ نے نکال دیے کہ کسی اور علاقے میں نہیں رہتا لاہور کے بلکہ کس علاقے میں رہتا ہے؟ سمن آباد میں۔
اور میں نے اگر یہی پوچھا زید کہاں رہتا ہے اور آپ نے جواب میں کہہ دیا: وہ ڈونگی گراؤنڈ والے محلے میں رہتا ہے، تو آپ نے تو سب چیزوں سے جدا کر دیا۔ کیا کر دیا؟ سب چیزوں سے جدا کر دیا، پتا چلا نہ وہ ہندوستان میں رہنے والا ہے اور پاکستان کے کسی اور صوبے میں بھی نہیں رہتا، پنجاب کے کسی اور ضلعے میں بھی نہیں رہتا، لاہور کے کسی اور گاؤں میں بھی نہیں رہتا اور لاہور کے بھی کسی اور علاقے میں نہیں رہتا اور سمن آباد کے کسی اور محلے میں بھی نہیں رہتا، کس محلے میں رہتا ہے؟ ڈونگی گراؤنڈ والے میں۔ تو یہ سب فصل ہیں، یہ کیا ہیں؟ جو بھی آپ جواب میں ذکر کر رہے ہیں دیکھو کچھ نہ کچھ چیزوں سے جدا ہو رہا ہے زید، کچھ میں زیادہ چیزوں سے جدا ہو رہا ہے، کچھ میں کم چیزوں سے۔ جب آپ نے کہا پاکستان میں رہتا ہے، تو صرف ہندوستان وغیرہ دوسرے ملکوں سے جدا ہوا، پاکستان والوں سے جدا نہیں، پاکستان میں جہاں بھی ہو آپ کی بات ٹھیک ہے۔ اور جب آپ نے کہا صوبہ پنجاب میں رہتا ہے، تو پھر پنجاب کے جس علاقے میں بھی ہو لیکن پنجاب والوں سے جدا نہیں ہوا، باقی سب سے کیا ہو گیا؟ جدا۔ صورت سمجھ میں، تو یہ فصل کی مثال ہے۔
لہٰذا اگر میں آپ سے پوچھوں: الانسان ای جوہر ہو؟ انسان کون سا جوہر ہے؟ جوہر ہے یا نہیں انسان؟ جن چیزوں کا بھی وجود ہے وہ سب کیا ہیں؟ جوہر۔ تو میں نے آپ سے پوچھا: الانسان ای جوہر ہو؟ انسان کون سا جوہر ہے؟ تو جوہر کے نیچے دو چیزیں ہیں: جسم اور غیرِ جسم۔ آپ جواب میں کہہ سکتے ہیں کہ: جسم، تو کس سے جدا ہوا انسان؟ غیرِ جسم سے جدا، آپ کا جواب بالکل ٹھیک ہے۔ آپ جواب میں اس سے بھی نیچے گہرائی میں چلے جائیں، آپ جواب میں کیا کہہ سکتے ہیں؟ جسمِ نامی، جسمِ نامی۔ معلوم ہوا آپ نے غیرِ نامی جسم سے بھی آپ نے کیا کر دیا؟ توجہ ہے؟ میں نے آپ سے سوال کیا کیا؟ الانسان ای جوہر ہو؟ انسان کون سا جوہر ہے؟ آپ کیا جواب میں کہہ سکتے ہیں؟ جسم، یہ بھی ٹھیک ہے جواب، آپ نے صرف غیرِ جسم سے جدا کیا۔ آپ اور کیا جواب دے سکتے ہیں؟ جسمِ نامی۔ آپ نے غیرِ جسم سے بھی جدا کیا، جسم میں رکھا اور جسم والوں میں سے پھر غیرِ نامی سے آپ نے کیا کر دیا اس کو؟ جدا کر دیا۔ وہی ترتیب رکھیں جیسے پاکستان، پنجاب، دیکھا ایک ایک نیچے کی طرف ہم جا رہے تھے۔
اچھا، میں نے پھر پوچھا: الانسان ای جوہر ہو؟ آپ کچھ اور جواب دے سکتے ہیں جس سے اور چیزوں سے، دیکھو، میں نے پوچھا الانسان ای جوہر ہو؟ انسان کون سا جوہر ہے؟ آپ نے کہا جسم، کچھ چیزوں سے الگ ہو گیا کہ نہیں؟ کن سے؟ غیر، کیونکہ جوہر میں تو غیرِ جسم بھی تھیں، تو یہ جسم فصل ہوا انسان کے لیے، کیا ہوا؟ فصل۔ اچھا، اور آپ جواب میں مزید کیا کہہ سکتے ہیں؟ جسمِ نامی بھی کہہ سکتے ہیں، کس سے جدا ہو گیا؟ غیرِ نامی سے یہ جدا ہو گیا، تو یہ بھی فصل ہے۔ اور آپ جواب میں کیا کہہ سکتے ہیں؟ حیوان بھی کہہ سکتے ہیں، کس سے جدا ہو جائے گا؟ غیرِ حیوان سے جدا ہو جائے گا۔ اور آپ جواب میں کیا کہہ سکتے ہیں؟ ناطق بھی کہہ سکتے ہیں، تو سب سے جدا ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ناطق کی مثال لے لو ڈونگی گراؤنڈ والا محلہ، دیکھو سب سے کیا کر دیا؟ جدا کر دیا۔
تو فصل وہ چیز ہے جو دوسری چیزوں سے ایک چیز کو جدا کر دے، جدا۔ تو بس اگر یہ جنسِ قریب والوں سے جدا کرے تو اس کو کیا کہیں گے؟ فصلِ قریب، اور اگر جنسِ بعید والوں سے جدا کرے تو؟ فصلِ بعید۔ اب مجھے بتائیے، میں نے پوچھا: الانسان ای جوہر ہو؟ انسان کون سا جوہر ہے؟ آپ مثلاً جواب میں کیا کہتے ہیں؟ جسم کہتے ہیں، تو کیا یہ فصلِ قریب ہے؟ نہیں، اس نے کس سے جدا کیا؟ غیرِ جسم سے۔ اور یہ جسم اور غیرِ جسم یہ انسان کے لیے جنسِ قریب ہے؟ جنسِ بعید۔ انسان کے لیے جنسِ قریب حیوان ہے، کیا ہے؟ حیوان۔ اس سے اوپر جنسِ بعید کیا ہے؟ جسمِ نامی۔ اس سے اوپر جنس کیا ہے؟ جسمِ مطلق، یہ بھی جنسِ بعید ہے۔ اس سے اوپر کیا ہے؟ جوہر، یہ بھی جنسِ بعید ہے۔ تو انسان کے لیے حیوان جنسِ قریب اور باقی سب جنسِ بعید۔
تو جب میں نے کہا: الانسان ای جوہر ہو؟ انسان کون سا جوہر ہے؟ آپ نے کہا: جسم، تو کس سے جدا کیا؟ غیرِ جسم۔ یہ جنسِ قریب والوں سے جدا کیا یا جنسِ بعید والوں سے؟ وہ جوہر کے کچھ افراد سے الگ کیا صرف، تو یہ جنسِ بعید والوں سے جدا کیا ہے، قریب والوں سے جدا نہیں کیا، کیونکہ جب آپ نے کہا جسم، جسم میں تو پتھر بھی آ گئے، ان سے تو ابھی تک جدا نہیں ہوا۔ اس میں تو باقی حیوانات بھی آ گئے، وہ سب بھی کیا ہیں؟ وہ سب بھی کیا ہیں؟ وہ سب بھی جسم ہیں۔ بھئی جب میں نے کہا الانسان ای جوہر ہو؟ انسان کون سا جوہر ہے؟ آپ نے جواب میں کیا کہا؟ جسم، تو کس سے جدا ہوا؟ غیرِ جسم سے۔ لیکن کیا درختوں سے جدا ہوا؟ نہیں، وہ بھی جسم ہے۔ اور حیوانات سے جدا ہوا؟ نہیں، وہ بھی جسم ہے۔ پتھروں سے جدا ہوا؟ نہیں، وہ بھی جسم ہے۔ تو دیکھا، معلوم ہوا سب سے جدا نہیں ہوا، صرف کس سے جدا ہوا؟ جنسِ بعید والوں سے جدا ہوا۔
یا پھر آپ جواب میں کیا کہہ سکتے ہیں؟ جسمِ نامی۔ جسمِ نامی جب کہیں گے کس سے جدا ہوا؟ غیرِ نامی سے، ٹھیک ہے، پتھروں سے تو جدا ہو گیا، لیکن درختوں اور حیوانات سے جدا نہیں ہوا، تو یہ بھی کیا ہے؟ فصلِ فصلِ بعید ہے۔ اور اگر آپ جواب میں کہتے ہیں: ناطق، تو اس نے سب سے جدا کر دیا، اب انسان کے ساتھ اور کوئی حیوان بھی باقی نہ رہا، تو یہ کیا ہے؟ فصلِ قریب۔
بحث بھی اچھی طرح سمجھ میں آئی کہ نہیں سمجھ میں آئی؟ وہ فصل جو جنسِ قریب والوں سے جدا کرے وہ کیا ہے؟ فصلِ قریب۔ پھر سنو، وہ فصل جو جنسِ قریب والوں سے جدا کرے وہ ہے فصلِ قریب، اور وہ فصل جو جنسِ بعید والوں سے جدا کرے وہ کیا ہے؟ وہ فصلِ بعید ہے۔ صورت اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟
چلیے، آگے تو دو کلیوں میں نسبت کا بیان ہم نے پڑھنا تھا لیکن چلیے آج یہ گزشتہ چیزیں، اچھی طرح سب سمجھ میں آ گئیں؟ جنسِ قریب، جنسِ بعید سمجھ گئے؟ اور فصلِ قریب اور فصلِ بعید۔ جی، اب یہ ذرا پھر کتاب میں بھی تعریف دیکھ لیں: فصل کی بھی دو قسمیں ہیں: ایک فصلِ قریب اور ایک فصلِ بعید۔ فصلِ قریب: کسی ماہیت کا وہ فصل ہے کہ جنسِ قریب میں جو جزئیات، یعنی جو افراد اس ماہیت کے ساتھ شریک ہیں، وہ فصل ان جزئیات سے اس ماہیت کو جدا کر دے، جیسے انسان، بقر و غنم، حمار، فرس، دیکھو حیوان ہونے میں سب شریک ہیں، اور حیوان انسان کی جنسِ قریب ہے، اور ناطق انسان کو بقر و غنم وغیرہ سے جدا کرتا ہے، تو ناطق انسان کے لیے فصلِ قریب۔ اور فصلِ بعید: کسی ماہیت کا وہ فصل ہے کہ جنسِ بعید میں جو جزئیات اس ماہیت کے شریک ہیں، وہ فصل ان جزئیات سے اس، میری تعریف یاد کرو آسان ہے، کتاب میں بڑی لمبی تعریف دی ہے۔
کیا تعریف کی میں نے جنس، فصلِ قریب؟ وہ فصل ہے جو جنسِ قریب والوں سے کسی ماہیت کو جدا کرے، وہ کیا ہے؟ فصلِ قریب۔ اور فصلِ بعید وہ فصل ہے جو جنسِ بعید والوں سے کسی ماہیت کو جدا کرے۔ پھر دہراؤ: فصلِ قریب؟ وہ فصل ہے جو، ہاں، جو یوں کہو، یوں کہو: وہ فصل ہے جو کسی ماہیت کو، کس کو؟ کسی ماہیت کو، جنسِ قریب والوں سے جدا کرے، وہ ہے فصلِ قریب۔ اور فصلِ بعید وہ فصل ہے جو کسی ماہیت کو جنسِ بعید والوں سے جدا کرے۔ پھر دہراؤ، اگر ٹھیک کر دی معلوم ہوا آپ کو سبق سمجھ میں آ گیا۔ فصلِ قریب کسے کہتے ہیں؟ وہ فصل ہے جو کسی ماہیت کو جنسِ قریب والوں سے جدا کرے۔ اور فصلِ بعید کسے کہتے ہیں؟ ہاں شاباش، وہ فصل ہے جو کسی ماہیت کو جنسِ بعید والوں سے جدا کرے۔
جیسے حساس انہوں نے مثال دی ہے، جیسے حساس انسان کا فصلِ بعید ہے کہ جسمِ نامی میں جو انسان کے شریک ہیں، ان سے حساس تمیز دیتا ہے، یعنی جدا کر دیتا ہے۔ تمیز کا کیا معنی؟ جدا، جدا کر دیتا ہے، اور حیوان میں جو شریک ہیں ان سے جدا نہیں کرتا۔ مثلاً دیکھو، میں نے پوچھا: الانسان ای جوہر ہو؟ انسان کون سا جوہر ہے؟ تو جوہر میں تو ساری چیزیں آ گئی تھیں، اب میں فصل پوچھ رہا ہوں۔ آپ جواب میں کہتے ہیں: حساس، انسان کیا ہے؟ حساس۔ تو اس سے کون کون الگ ہو گئے؟ غیرِ حساس چیزیں نکل گئیں اور حساس سب رہ گئیں، اور حساس اس میں تو گھوڑا بھی ہے، گدھا بھی ہے، سارے حیوانات ہیں نا، تو وہ سب بھی کیا ہیں؟ حساس۔ تو سب سے جدا ہوا؟ سب سے جدا نہیں ہوا۔ جنسِ بعید والوں سے تو جدا ہوا، غیرِ حساس نکل گئے، لیکن جنسِ قریب والوں سے جدا نہیں ہوا، تو یہ کیا ہے؟ فصلِ بعید ہے۔
چلیے بس بھئی، کل انشاءاللہ پھر دو کلیوں میں نسبت پڑھیں گے۔ چلیے جی، ہذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔