درس نمبر۔96
آگے سبق دیکھیے بھئی۔
واَصلُ المبتدایِ اي ما يَنبَغِی اَن يَّكونَ المبتداُ عليهِ اذا لم يَمنَع مانِعٌ التقديمُ على الخبرِ لفظًا لانَّ المبتدَأ ذاتٌ والخَبَرَ حالٌ مِّن اَحوالِها والذاتُ مقدَّمَةٌ على احوالِها ومِن ثَمَّ اي ومِن اَجلِ اَنَّ الاَصلَ فی المبتدایِ التقديمُ لفظًا جازَ قولُهم فی دارِهِ زيدٌ مَّعَ كونِ الضميرِ عائِدًا الى زيدٍ المُتاَخِّرِ لفظًا لِّتَقَدُّمِهِ رُتبَةً لِّاَصالَةِ التَقدِيمِ
گزشتہ سبق میں ہم نے خبر کے بارے میں پڑھنا شروع کیا تھا اور صاحبِ جامی نے آپ کو بتلایا تھا کہ خبر وہ اسم ہے جو خالی ہو عواملِ لفظیہ سے اور پھر اس پر اشکال ہوا تھا کہ خبر تو کبھی کبھار جملہ بھی ہوتی ہے اور آپ نے تو کیا فرمایا کہ خبر وہ اسم ہے جو خالی ہو عواملِ لفظیہ سے، تو اس کا جواب میں نے ذکر کیا تھا کہ خبر کبھی کبھار جملہ ہوتی ہے تو وہ حقیقتاً تو اسم نہیں لیکن حکماً اسم ہے، یعنی وہ اسم کے حکم میں ہے اور اسم کے حکم میں ہے بایں لحاظ کہ اس کو اسم کے ساتھ تعبیر کیا جا سکتا ہے، جیسے زیدٌ ابوہُ قائمٌ۔ یہ جو ابوہ قائمٌ ہے، یہ خبر ہے زیدٌ کی اور یہ قائمُ الابِ کی تاویل میں ہے بھئی، تو گویا یوں کہا گیا زیدٌ قائمُ الابِ کہ زید قائم الاب ہے بھئی، تو دیکھو جملے کی تعبیر مفرد کے ساتھ، اسم کے ساتھ کر دی گئی، تو یہ حقیقتاً تو اسم نہیں لیکن تاویلاً دیکھو اسم ہے۔
اور پھر اس کے بعد آگے المسندُ بہِ آیا تھا بھئی اور اس پر ہم نے طویل بحث کی تھی بھئی۔
تو یہاں دیکھو المسندُ بہِ آیا متن میں کہ خبر وہ اسم ہے جو خالی ہو عواملِ لفظیہ سے اور مسند بہ ہو اور آگے صاحبِ جامی نے اس کی تفسیر کی ای ما یوقعُ بہِ الاسنادُ، یعنی وہ اسم جس کے ذریعے اسناد کو واقع کیا جائے، جیسے دیکھو لفظِ زید اکیلا ہے، تو یہاں کوئی اسناد نہیں۔ پھر میں ایک اور لفظ قائمٌ لایا اور اس قائمٌ کے ذریعے میں نے اسناد کر دیا، یعنی اس کو زید کے ساتھ جوڑ دیا، زید پر قیام کا حکم لگا دیا، تو کلام کیا بن گیا؟ زیدٌ قائمٌ، تو دیکھو قائمٌ کے ذریعے اسناد کیا گیا۔
یہ ہے ما یوقعُ بہِ الاسنادُ، وہ اسم جس کے ذریعے اسناد کیا گیا۔ تو بہرحال بات یہ چل رہی تھی کہ متن میں تو آیا المسندُ بہِ، تو صاحبِ جامی نے اس کی تفسیر ما یوقعُ بہِ الاسنادُ کے ساتھ کیوں کی؟
تو اشکال یہاں اصل میں یہ ہوتا تھا کہ المسندُ، یہ تو خود متعدی ہے بھئی، تو اسی کے اندر ہوَ ضمیر نائب الفاعل کی موجود ہے، تو پھر آگے اس کے ساتھ بہِ کو کیوں ذکر کیا گیا؟ یہ بہِ تو متعدی بنانے کے لیے لاتے ہیں اور المسندُ جب خود متعدی ہے، تو بہِ کے ذریعے اس کو متعدی کرنے کی کوئی حاجت نہیں، تو یہ بہِ تو زائد ہے، بیکار ہے بھئی۔
تو بعض شارحین نے پھر اس کا جواب دیا کہ المسندُ بہِ کے اندر تضمین ہے بھئی، تضمین۔ تضمین اسے کہتے ہیں کہ ایک فعل کے اندر دوسرے فعل کا معنی ملحوظ ہو اور آگے آنے والا صلہ، یعنی حرفِ جار جو ہے، وہ اس پر دلالت کر رہا ہو، تو اب اسناد کا صلہ تو بہِ نہیں آتا، لہٰذا معلوم ہوا اس کے اندر وقعَ یقعُ کا معنی ملحوظ ہے اور وقعَ یقعُ تو لازم ہے، اس کے لیے تو مفعول نہیں آتا، تو اس کو پھر بہِ کے ذریعے، یعنی با کے ذریعے متعدی کرتے ہیں۔
تو المسندُ بہِ کے اندر معلوم ہوا کہ یقعُ کا معنی ملحوظ ہے اور یہ بہِ اس یقعُ پر دلالت کر رہا ہے اور میں نے بتایا تھا تضمین کے اندر آپ یہ نہ سمجھیں کہ ذکر تو المسندُ ہے اور معنی یقعُ کا ملحوظ ہے اس کے اندر، یعنی مسند کا اپنا معنی ہے ہی نہیں، نہیں، پھر تو یہ مجاز بن جائے گا بھئی کہ ایک فعل دوسرے فعل کے معنی میں ہے۔
تو یہ مجاز نہیں ہے بلکہ مسند، یعنی اسناد کا اپنا معنی بھی ملحوظ ہے اور یقعُ کا معنی بھی یہاں ملحوظ ہے بھئی۔
تو وہ فرماتے ہیں کہ یہ اسی لیے صاحبِ جامی نے ای ما یوقعُ بہِ الاسنادُ کے ساتھ اس کی تفسیر کی، یعنی یوقعُ کو نکال کر بتلا دیا کہ المسندُ کے اندر یوقعُ فعل کا معنی ملحوظ ہے۔
لیکن میں نے بتایا کہ یہ تقریر درست نہیں بھئی، اس لیے کیونکہ جب جہاں تضمین ہو، تو وہاں پر یا تو عطف کے ذریعے اس کی تفسیر کی جاتی ہے، دوسرے فعل کو بھی عطف کے ساتھ ذکر کر دیا جاتا ہے یا دو فعلوں میں سے ایک کو اسی طرح رکھتے ہیں اور ایک کو حال بنا کر لے آتے ہیں، دونوں کو ذکر کرتے ہیں، لیکن یہاں پر ایسا نہیں ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ مسند کے اندر یوقعُ کا معنی ملحوظ ہے اور یوقعُ تو بہِ کے ذریعے متعدی ہوتا ہے، حالانکہ یہاں پر تو الاسنادُ جو ہے، وہ نائب الفاعل بن رہا ہے یوقعُ کا، ما یوقعُ بہِ الاسنادُ۔
ما وہ چیز یا وہ اسم یوقعُ بہِ الاسنادُ جس کے ذریعے اسناد کو واقع کیا جائے۔ تو یوقعُ کا تو نائب الفاعل الاسنادُ آ رہا ہے، بہِ تو پھر بھی اس کے لیے نائب الفاعل نہیں بنا۔
حالانکہ جنہوں نے کہا کہ یہاں تضمین ہے، ان کے نزدیک یہ بہِ کیوں لائے؟ یوقعُ کو متعدی کرنے کے لیے، کیونکہ یوقعُ تو فعلِ لازم تھا، اب فعلِ مجہول بنایا، تو فعلِ مجہول کے لیے کیا کرتے ہیں؟ مفعول بہ کو نائب الفاعل بناتے ہیں اور وقعَ یقعُ کا تو مفعول بہ آتا ہی نہیں، تو پھر بہِ کے ذریعے متعدی کر دیا گیا، تو یہ جو بہِ میں ہا ضمیر ہے، یہ مفعول بہ غیر صریح ہوئی، کیا ہوئی؟ غیر صریح ہوئی اور پھر یہی کیا بن جائے گی؟ نائب الفاعل بن جائے گی جب فعل کو مجہول بنائیں گے۔ ضربَ زیدٌ عمراً، یہ عمراً کیا ہے؟ مفعول بہ۔ پھر جب ہم ضُربَ بنائیں گے، تو یہی عمراً کیا بن جائے گا؟ نائب الفاعل بن جائے گا، ای ضُربَ عمرٌو اور وقعَ یقعُ کا تو مفعول آتا نہیں، تو اس کو جب فعلِ مجہول بنائیں گے، تو نائب فاعل کس کو بنائیں؟ تو لہٰذا اس کو کس کے ذریعے متعدی کر دیا؟ بہِ کے ذریعے اور میں نے بتایا یہ جو حروفِ جارہ جن پر داخل ہوتے ہیں، یعنی وہ جو مجرور ہوتا ہے، وہ بھی دراصل مفعول بہ ہی ہے۔ ہاں، البتہ وہ مفعول بہ غیر صریح ہے۔
تو یہ بہِ کی ہا ضمیر کیا ہوئی؟ مفعول بہ۔ پھر اسی کو یوقعُ کے لیے کیا بنا دیا گیا؟ نائب الفاعل بنا دیا گیا، لیکن اگر یہ تقریر کی جائے، تو پھر الاسنادُ لانے کا کیا معنی؟ ما یوقعُ بہِ الاسنادُ۔
کہ الاسنادُ تو خود نائب الفاعل بن رہا ہے یوقعُ کے لیے، تو پھر بہِ لانے کی کیا ضرورت ہے؟ بات سمجھ میں آ رہی ہے۔
تو لہٰذا یہ تقریر درست نہیں کہ یہاں تضمین ہے، بلکہ میں نے بتلایا کہ صاحبِ جامی یہاں سے یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ المسندُ کے اندر ضمیر موجود ہے، لیکن وہ ضمیر اسی کے مصدر کو راجع ہے۔ میں نے بتایا تھا بعض اوقات ایک فعل ذکر ہوتا ہے اور اس کے فاعل یا نائب فاعل کا پتہ نہیں چلتا، تو پھر اس کے اندر جو ضمیر ہے، اسی کے مصدر کی طرف راجع کر دیتے ہیں۔
تو لہٰذا تو المسندُ جب بنایا گیا، تو اس کے اندر ضمیر کس کو راجع کر دی؟ اس کے مصدر کو۔ اور الف لام یہاں المسندُ پر الف لام کس معنی میں ہے؟ الذی کے معنی میں ہے، کیونکہ وہ الف لام جو اسمِ فاعل یا اسمِ مفعول کے صیغوں پر داخل ہو، وہ بمعنی الذی ہوتا ہے۔ تو المسندُ کس معنی میں ہوا؟ الذی یُسنَدُ، الذی یُسنَدُ اور اس یُسنَدُ کے اندر ضمیر کس کو راجع کر دی؟ اسی کے مصدر کو راجع کر دی، الذی یُسنَدُ الاسنادُ، یُسنَدُ الاسنادُ اور میں نے بتایا تھا یہ اسنَدَ یُسنِدُ فعل اس کے لیے مفعول آتا ہے، اس کے لیے مفعول آتا ہے، تو جب آپ نے الذی یُسنَدُ کے اندر ضمیر اسی کے مصدر کو راجع کر دی، تو مفعول تو ابھی بھی باقی ہے، اس کو تو آپ نے فعل کے ساتھ جوڑا ہی نہیں، لیکن اب وہ نہیں جڑ سکتا، کیونکہ کیونکہ آپ نے ضمیر کس کو راجع کر دی ہے؟ مصدر کو، تو پھر اس کو جوڑنے کے لیے، یعنی یوں کہیں، یوں کہیں یہ جو یُسنَدُ فعلِ مجہول ہے، اس کے اندر جو ضمیر ہے، نائب فاعل، وہ کس کو راجع کر دی؟ مصدر کو اور وہ مفعول کو ابھی بھی اس سے جوڑنا ہے اور اب اس کو آپ براہِ راست نہیں جوڑ سکتے، تو پھر با کا سہارا لیا گیا، یعنی اس با کو تعدیہ کے لیے لایا گیا، متعدی کرنے کے لیے لایا گیا، تو صاحبِ جامی یہی بتلانا چاہتے ہیں، تو کہ الذی یُسنَدُ کے اندر ہوَ ضمیر اس کے مصدر کو راجع ہے اور پھر بہِ کے ذریعے آگے اس کے مفعول بہ کو بھی جوڑ دیا گیا، بات سمجھ میں آئی کہ نہیں؟
پھر سنو! دیکھو مثلاً دیکھو ضربَ سے ہم مثال بنا لیتے ہیں۔
ضربَ زیدٌ عمراً، یہ عمراً کیا ہے؟ مفعول بہ ہے۔ اب میں اس کو فعلِ مجہول بناتا ہوں، تو فاعل زیدٌ کو حذف کر لوں گا اور کیا کہوں گا ضُربَ عمرٌو، لیکن فرض کرو میں عمراً کو میں نائب الفاعل نہیں بناتا، بلکہ ضُربَ کے اندر ہوَ ضمیر میں اسی کے مصدر کو لوٹا دیتا ہوں، ضُربَ الضربُ، ضُربَ الضربُ۔ اب آگے جو مفعول بہ عمر تھا، وہ تو ابھی بھی موجود ہے، وہ تو ابھی بھی نہیں جوڑا آپ نے فعل کے ساتھ اور اب آپ اس کو نہیں جوڑ سکتے، کیونکہ اس نے نائب الفاعل بننا تھا، لیکن ضمیر آپ نے کس کو لوٹا دی؟ اسی کے مصدر کو، اب اس کو بھی ہم ساتھ جوڑنا چاہتے ہیں، لیکن اب اس کے جوڑنے کی کوئی صورت نہیں، وہ ضمیر اس کے لیے تھی، لیکن آپ نے کس کے لیے استعمال کر لی؟ مصدر کے لیے، تو اب اس کو بھی جوڑنا ہے، تو اب با کے ذریعے متعدی کریں گے، با لے کر آئیں گے، تو کیسے کہیں گے؟ تو کیسے کہیں گے؟ ضُربَ الضربُ، ضمیر اسی کے مصدر کو راجع ہے، ضُربَ الضربُ اور با کے ذریعے متعدی کیا کس کی طرف؟ عمر کی طرف، ضُربَ الضربُ بعمروٍ۔
اور ضُربَ الضربُ کا ترجمہ کس کے ساتھ کریں گے؟
یوقعُ الضربُ، جیسے یہاں آیا، ای یوقعُ الضربُ بعمروٍ۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یوقعُ الضربُ بعمروٍ، یہ ویسے مثال سمجھانے کے لیے میں نے بتایا کہ اس طرح یہاں بھی یہاں بھی اسی طرح ہوا ہے، ای ما یوقعُ بہِ الاسنادُ، یوقعُ الاسنادُ سے کیا بتایا کہ اس کے اندر ضمیر اسی کے مصدر کو راجع، تو پھر معنی کیسے کریں گے؟
میں نے بتایا تھا استغنیٰ عنہ، پھر ضمیر کس کو راجع کی؟ استغنا کو، تو کلام کیا بن گیا؟ استغنی الاستغناءُ، استغنی الاستغناءُ اور پھر ترجمہ کیسے کرتے ہیں؟ یقعُ الاستغناءُ، تو یہاں پر بھی اسی طرح ہوا، المسندُ الاسنادُ یا یوں کہو الف لام کو الذی کے معنی میں لے لو، الذی یُسنَدُ الاسنادُ، الذی یُسنَدُ الاسنادُ اور پھر معنی کیسے کریں گے؟
یوقعُ، میں نے بتایا یقعُ کے ساتھ نہیں، کیونکہ اسناد واقع ہوتا نہیں ہے، اسناد کو واقع کیا جاتا ہے، لہٰذا یہاں یوقعُ لائیں گے، یعنی اوقعَ یوقعُ بابِ افعال سے لے کر آئیں گے، کیونکہ وہ فعلِ متعدی ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔
تو ای یوقعُ الاسنادُ اور اس کے ساتھ پھر بہِ کو جوڑ دیا، کیونکہ وہ مفعول لہ کو بھی ساتھ جوڑنا ہے، بات سمجھ میں آ گئی، تو معلوم ہوا یہ با زائد اور بیکار نہیں ہے، یہ اس کو متعدی بنانے کے لیے ہے، کیونکہ المسندُ کے اندر ہوَ ضمیر اسی کے مصدر کو راجع ہے، وہ نائب الفاعل ہے اور اصل میں جو مفعول تھا، اس کو ابھی بھی جوڑنا ہے، تو کس کے ذریعے جوڑیں گے؟ با کے ذریعے جوڑیں گے، معلوم ہوا یہ با زائد اور بیکار نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں المسندُ بہِ ای ما یوقعُ بہِ الاسنادُ، یعنی وہ اسم جس کے ذریعے اسناد واقع کیا جائے اور میں نے بتایا تھا یہ با استعانت کے لیے بھی آپ بنا سکتے ہیں اور سببيت کے لیے بھی، اگر استعانت کے لیے ہو تو ترجمہ یوں ہوگا، ای ما یوقعُ بہِ الاسنادُ، وہ اسم کہ اس کی مدد سے اسناد واقع کیا جائے یا اگر با کو سببیہ بنائیں، تو ما یوقعُ بہِ الاسنادُ، وہ اسم جس کے ذریعے سے، جس کے سبب سے اسناد واقع کیا جائے۔
اور آگے خبر کی تعریف میں قید آئی تھی، المغایرُ للصفتِ المذکورۃِ کہ وہ وہ خبر کیا ہو؟ اس صفتِ مذکورہ سے مغائر ہو، وہ جو صفت ذکر ہوئی تھی مبتدا کی قسمِ ثانی کے اندر بھئی، اس سے مغائر ہو، اس سے الگ ہو۔
تو صاحبِ جامی نے آپ کو بتلایا تھا کہ اس قید کے بغیر بھی تعریف پوری ہو سکتی ہے، اگر آپ المسندُ بہِ سے کیا مراد لے لیں؟ المسندُ بہِ الی المبتدا مراد لے لیں۔
خبر وہ اسم ہے جو عواملِ لفظیہ سے خالی ہو اور مسند بہ ہو کہ مسند بہ سے آپ کیا مراد لے لیں؟ المسندُ بہِ الی المبتدا مراد لے لیں، یعنی الی المبتدا کی قید یہاں ملحوظ رکھ لیں، تو خبر وہ اسم ہے جو خالی ہو عواملِ لفظیہ سے اور مسند بہ ہو مبتدا کی طرف۔
اس قید کے ذریعے مبتدا کی قسمِ اول بھی نکل گئی، مبتدا کی قسمِ ثانی بھی نکل گئی۔
کیا کہا؟ جو مسند بہ ہو کس کی طرف؟ مبتدا کی طرف، تو مبتدا کی قسمِ اول وہ تو مسند الیہ ہے، وہ بھی نکل گئی اور مبتدا کی قسمِ ثانی مسند بہ ہے، لیکن وہ مسند بہ الی المبتدا نہیں ہے بلکہ وہ مسند بہ الی الی الفاعل ہے، وہ اپنے فاعل یا نائب الفاعل کی طرف مسند بہ ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دونوں اس مسند بہ کی قید کے ذریعے نکل جائیں گے، اگر آپ المسندُ بہِ سے المسندُ بہِ الی المبتدا مراد لے لیں۔
یا دوسری صورت یہ ہے کہ المسندُ بہِ کے اندر یوں کہیں کہ یہ با الیٰ کے معنی میں ہے۔ یعنی اصل میں تھا المسندُ الیہِ، پھر الیٰ کو تعبیر کس سے کر دیا صاحبِ قافیہ نے؟ با سے، تو المسندُ الیہِ تھا اور یہ الیہِ کی ہا ضمیر راجع ہے مبتدا کو اور میں نے بتایا حروفِ جارہ ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوتے ہیں، تو گویا یہاں پر بھی با کس معنی میں ہے؟ الیٰ کے معنی میں، تو اصل میں یوں ہے المسندُ الیہِ، خبر وہ اسم ہے جو خالی ہو عواملِ لفظیہ سے، المسندُ الیہِ اور جس کا اسناد کیا گیا ہو الیہِ، کس کی طرف؟ مبتدا کی طرف، کس کی طرف؟ مبتدا کی طرف جس کا اسناد کیا گیا ہو، معلوم ہوا یہ بہِ زائد نہیں، یہ با بہِ بمعنی الیہِ کے ہے بھئی اور اس صورت میں بھی دیکھو مبتدا کی دونوں قسمیں نکل گئیں۔
خبر وہ ہے جو مسند ہو کس کی طرف؟ مبتدا کی طرف، جب مسند ہے تو مبتدا کی قسمِ اول بھی نکل گئی، کیونکہ وہ تو مسند بہ ہے ہی نہیں، وہ تو مسند الیہ ہے اور دوسری قسم بھی نکل گئی، کیونکہ وہ کیونکہ وہ بھی مسند الی المبتدا نہیں ہے، وہ تو خود مبتدا ہے، وہ تو مسند الی الفاعل ہے بھئی، لہٰذا وہ بھی نکل گئی۔ تو المسندُ بہِ اصل میں کیا تھا؟ المسندُ الیہِ تھا اور الیہِ کی ہا ضمیر مبتدا کو راجع تھی، لیکن سوال کہ پھر صاحبِ قافیہ نے الیٰ کو با کے ساتھ کیوں بدل دیا؟ مسند الیہ کے بجائے مسند بہ کیوں کہا؟ کہتے ہیں تاکہ اشتباہ واقع نہ ہو، کیونکہ مبتدا کی قسمِ اول میں بھی مسند الیہ آیا تھا، یہاں بھی مسند الیہ آ جاتا، تو دونوں میں اشتباہ ہوتا، لہٰذا اس ثانی مسند الیہ کو انہوں نے کس سے بدل دیا؟ مسند بہ سے بدل دیا۔
تو کہتے ہیں اس صورت میں چاہے آپ الی المبتدا کی قید ملحوظ مان لیں، یعنی وہ مراد لے لیں المسندُ بہِ الی المبتدا یا چاہے آپ اس با کو الیٰ کے معنی میں لے لیں، دونوں صورتوں میں مبتدا کی قسمِ اول بھی نکل جاتی ہے اس قید کے ذریعے اور مبتدا کی قسمِ ثانی بھی نکل جاتی ہے، تو پھر آگے المغایرُ للصفتِ المذکورۃِ، یہ قید لانے کی کوئی حاجت نہیں، ہاں! یہ تاکید بن جائے گی، کیا بن جائے گی؟ تاکید، یعنی وہ بات جو پہلے ضمناً معلوم ہو رہی تھی، اسی کو صراحتاً بھی ذکر کر دیا، تو ایک چیز کو جب دوبارہ ذکر کیا جائے، تو وہ کیا کہلاتی ہے؟ تاکید کہلاتی ہے، تو مسند بہ سے ہی پتہ چل گیا تھا کہ مبتدا کی قسمِ ثانی اس سے نکل چکی ہے، لیکن آگے پھر صراحتاً بھی کہہ دیا، المغایرُ للصفتِ المذکورۃِ کہ خبر جو ہے، وہ صفتِ مذکورہ سے مغائر ہو، تو وہ جو ضمناً معلوم ہوا تھا، اس کو صراحتاً بھی ذکر کر دیا، بات اور زیادہ واضح ہو گئی اور یہ یہ تاکید ہے اسی کے لیے بھئی۔
یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی۔ اور پھر انہوں نے آخر میں بتایا تھا کہ مبتدا اور خبر دونوں کے اندر عامل ابتداء ہے اور ابتداء کہتے ہیں اسم کا خالی ہونا عواملِ لفظیہ سے اور اس طور پر کہ اس کا اسناد کسی کی طرف کیا جائے یا اس کی طرف کسی کا اسناد کیا جائے، تو اب اس میں مبتدا کی دونوں قسمیں بھی داخل ہو گئیں اور خبر بھی، یہ تینوں جو ہیں عواملِ لفظیہ سے خالی ہیں اور ان تینوں میں سے ہر ایک یا تو مسند ہے یا مسند الیہ ہے بھئی، باقی اور کسی جگہ یہ ابتداء عامل نہیں، جبکہ بعض دوسرے علماء فرماتے ہیں، ان کا مذہب الگ ہے، ان میں سے بعض فرماتے ہیں کہ ابتداء صرف مبتدا میں عامل ہے اور خبر کے اندر پھر خود مبتدا عامل ہے، اس خبر کے اندر ابتداء عامل نہیں، جبکہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ ابتداء کسی میں بھی نہیں عامل، مبتدا کے اندر خبر عامل ہے اور خبر کے اندر مبتدا عامل ہے، دونوں ایک دوسرے میں عامل ہیں بھئی، تو کہتے ہیں اگر یہ جو دوسروں کے قول کو لیا جائے دوسروں کے قول کو، چاہے جو صرف ابتداء کو مبتدا میں عامل مانتے ہیں یا چاہے دوسرا قول لیا جائے کہ دونوں ایک دوسرے میں عامل ہیں، دونوں قولوں کی بناء پر صاحبِ قافیہ کی تعریف میں یہ داخل نہیں، کیونکہ صاحبِ قافیہ نے تو بتلا دیا کہ مبتدا اور خبر دونوں کے اندر عاملِ لفظی نہیں ہوتا، معلوم ہوا دونوں میں عامل ابتداء ہے، تو یہ بصریین کا یہی مذہب ہے اور صاحبِ قافیہ نے بھی اس کو ترجیح دی ہے بھئی۔
اب دیکھیے بھئی آج کا سبق!
کہتے ہیں واصل المبتدإ اي ما ينبغي ان يكون المبتدأ عليه اذا لم يمنع مانع۔
واصل المبتدإ پہلے متن متن دیکھ لیں۔ کہتے ہیں واصل المبتدإ التقديم اور مبتدا میں اصل جو ہے وہ تقديم ہے بھئی۔ مبتدا میں اصل تقديم ہے۔ یاد رکھو مبتدا کے اندر اصل یہ ہے کہ وہ مقدم ہونا چاہیے اور خبر کے اندر اصل یہ ہے کہ وہ مؤخر ہونی چاہیے بھئی۔ مؤخر ہونی چاہیے۔
آسان لفظوں میں میں نے اپ کو بتلایا تھا مبتدا اسے کہتے ہیں جس کے بارے میں بات کی جائے اور خبر وہ جو بات کی جائے اس کو خبر کہتے ہیں۔ تو جس کے بارے میں بات کی جائے پہلے اس کو ذکر کرنا چاہیے اور پھر اس کی خبر کو ذکر کرنا چاہیے بھئی۔ تو لہذا مبتدا میں اصل کیا ہے کہ وہ مقدم ہونا چاہیے اور خبر میں اصل یہ ہے کہ وہ مؤخر ہونی چاہیے اور نیز یاد رکھنا مبتدا میں اصل یہ ہے کہ وہ معرفہ ہونا چاہیے اور خبر میں اصل یہ ہے کہ وہ نکرہ ہونی چاہیے۔
تو کہتے ہیں واصل المبتدإ التقديم اور مبتدا کے اندر اصل جو ہے تقديم ہے یعنی اس کو مقدم کرنا۔ ومن ثم جاز في داره زيد اور اسی وجہ سے في داره زيد جائز ہے، یہ والا قول جائز ہے بھئی۔ وامتنع صاحبها في الدار اور یہ قول ممتنع ہے یعنی جائز نہیں ہے صاحبها في الدار۔
بھئی في داره زيد یہ کہنا جائز ہے اور صاحبها في الدار کہنا جائز نہیں بھئی۔ في داره زيد یہ کہنا جائز ہے، اب اس کی ترکیب سمجھ لیں بھئی۔ دیکھو في داره زيد اس کے اندر یہ في داره یہ خبر مقدم ہے کیونکہ یہ جار مجرور ہے اور میں نے اپ کو بتلایا تھا کہ جار مجرور جب بھی کلام میں آئے تو وہ کبھی بھی مبتدا نہیں بنتے، وہ ہمیشہ خبر بنتے ہیں۔ تو في داره یہ خبر مقدم ہے اور زيد مبتدا مؤخر ہے بھئی۔
اب دیکھو في داره کے اندر ها ضمیر ہے خبر کے اندر اور یہ لوٹ رہی ہے زید کی طرف۔ کس کی طرف؟ زید کی طرف۔ تو اس صورت میں یہ اضمار قبل الذکر لازم آ رہا ہے، ضمیر پہلے آ گئی اور مرجع بعد میں۔ تو یہ لفظوں کے اعتبار سے اضمار قبل الذکر ہے، لفظوں کے اندر ها ضمیر پہلے ہے اور زید مؤخر ہے لیکن رتبے کے اعتبار سے زید مقدم ہے بھئی في داره پر، اس لیے کیونکہ زید مبتدا ہے اور في داره خبر ہے اور مبتدا کا رتبہ خبر پر مقدم ہوتا ہے۔ تو لہذا یہاں في داره کے اندر جو ها ضمیر ذکر کی اس میں اضمار قبل الذکر لفظا تو لازم آیا لیکن رتبةً لازم نہیں آیا اور یہ جائز ہے۔ اگر اضمار قبل الذکر لفظا بھی ہو اور رتبةً بھی ہو وہ تو جائز نہیں، لیکن صرف لفظا ہو تو پھر جائز ہے بھئی۔
تو لہذا یہ اضمار قبل الذکر لفظا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ وامتنع صاحبها في الدار اور یہ قول ممتنع ہے صاحبها في الدار۔ یہ ترکیب جائز نہیں۔ وجہ یہ کہ اس ترکیب میں دیکھو صاحبها یہ ہے مبتدا اور في الدار یہ ہے خبر اور صاحبها کے اندر ها ضمیر ہے اور یہ ها ضمیر الدار کو راجع ہے جو خبر کے اندر آ رہا ہے۔ تو ضمیر پہلے آ گئی اور مرجع بعد میں اور لفظوں کے اعتبار سے بھی یہ اضمار قبل الذکر ہے، لفظوں میں بھی ضمیر پہلے اور الدار مؤخر، اور رتبے کے اعتبار سے بھی الدار مؤخر ہے کیونکہ الدار خبر کے اندر آ رہا ہے اور خبر رتبے کے اعتبار سے مؤخر ہوتی ہے۔ تو صاحبها کے اندر یہ جو ها ضمیر آئی اس کے اندر اضمار قبل الذکر لفظا بھی ہے اور رتبةً بھی ہے اور یہ جائز نہیں ہے۔
تو کہتے ہیں ومن ثم اور اسی وجہ سے جاز جائز ہے یہ قول في داره زيد، یہ تو جائز ہے وامتنع صاحبها في الدار اور صاحبها في الدار ممتنع ہے بھئی۔ کوئی اپ سے اگر کہے صاحبها في الدار کی ترکیب کیجیے، یاد رکھیے اپ کہیں گے کہ یہ کلام جائز ہی نہیں ہے عرب کے قوانین اور ضوابط کے مطابق جائز ہی نہیں لہذا اس کی ترکیب بھی نہیں ہو سکتی بھئی کیونکہ اس میں اضمار قبل الذکر ہے لفظا بھی اور رتبةً بھی۔
اب شرح کے ساتھ دیکھیے۔ کہتے ہیں واصل المبتدإ اي ما ينبغي ان يكون المبتدأ عليه اذا لم يمنع مانع۔ یہاں سے اصل کا معنی بیان کر رہے ہیں۔ اصل کے کئی معانی آتے ہیں۔ اصل کا معنی بنیاد بھی، جیسے دیکھو مکان تعمیر کیا جاتا ہے تو پہلے بنیاد بنائی جاتی ہے مکان کی۔ بنیاد مضبوط ہوگی تو مکان بھی مضبوط ہوگا، بنیاد کمزور ہوگی تو مکان بھی کمزور ہوگا۔ اسی طرح دیکھو درخت جو ہے وہ جڑوں اور تنے پر قائم ہوتا ہے تو جڑیں اور تنا جو ہے یہ درخت کے لیے اصل ہیں بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ اور اسی طرح اصل قانون کو بھی کہتے ہیں، تو اصل کے کئی معانی آتے ہیں۔ یہاں کیا معنی ہے اصل کا؟ صاحب جامعی بتلا رہے ہیں یہاں اصل کا معنی ہے مناسب۔ اصل المبتدإ یعنی مبتدا کے مناسب یہ ہے کہ اس کو مقدم کرنا چاہیے۔ نہ تو اصل یہاں بنیاد کے معنی میں ہے اور نہ قانون کے معنی میں بلکہ یہ مناسب کے معنی میں ہے۔
تو کہتے ہیں واصل المبتدإ، مبتدا کی اصل اي ما ينبغي، دیکھا یہ اصل کا معنی کر رہے ہیں، اي ما ينبغي ان يكون المبتدأ عليه یعنی وہ حالت کے مناسب ہے کہ مبتدا اس پر ہو۔ اذا لم يمنع مانع، جب کوئی مانع نہ ہو۔ جب کوئی مانع نہ ہو تو وہ حالت جو مبتدا کے مناسب ہے اس پر مبتدا ہو، التقديم وہ اس کو مقدم کرنا ہے کہ وہ مقدم ہونا چاہیے بھئی۔ ہاں اگر کوئی مانع آ جائے پھر الگ بات ہے پھر مؤخر بھی ہو سکتا ہے جیسے في الدار رجل۔
في الدار رجل، دیکھو في الدار یہ خبر مقدم ہے اور رجل مبتدا مؤخر ہے لیکن یہاں پر في الدار کو مقدم کرنا واجب ہے۔ توجہ ہے؟ اس لیے کیونکہ رجل نکرہ ہے، نکرہ ہے اور نکرہ محضہ مبتدا نہیں بنتا کیونکہ مبتدا یا تو معرفہ ہونا چاہیے یا اس میں تخصیص ہونی چاہیے تو یہاں پر في الدار کو مقدم کریں گے اس سے رجل کے اندر تخصیص آ جائے گی۔ تو اب یہاں پر دیکھو مبتدا کے اندر اصل تو یہ ہے اس کو مقدم ہونا چاہیے لیکن في الدار رجل کے اندر رجل مبتدا ہے اور اس کو مقدم کرنا جائز ہی نہیں بھئی، اس کو مؤخر ہی رکھیں گے۔ اسی لیے صاحب جامعی نے کہا اي ما ينبغي ان يكون المبتدأ عليه یعنی وہ حالت کے مناسب یہ ہے کہ مبتدا اس حالت پر ہو اذا لم يمنع مانع جب کوئی مانع نہ ہو جبکہ في الدار رجل میں مانع موجود ہے۔ کیا مانع؟ کہ وہاں رجل نکرہ ہے اور مبتدا میں اصل کیا ہے؟ معرفہ ہونا چاہیے، تو رجل مبتدا بن ہی نہیں سکتا جب تک في الدار کو اس پر مقدم نہیں کریں گے۔
تو مبتدا میں اصل کیا؟ مقدم ہونا چاہیے۔ لیکن في الدار رجل میں مقدم نہیں کر سکتے کیونکہ مانع آ گیا کیونکہ اگر اس کو مقدم کریں گے پھر تو اس کا مبتدا بننا ہی صحیح نہیں۔ اسی لیے کہا اذا لم يمنع مانع جب کوئی مانع نہ ہو بھئی۔ تو مبتدا کے اندر اصل جو ہے التقديم، مقدم کرنا ہے علی الخبر، کس پر؟ خبر پر، لفظا، باعتبار لفظوں کے۔ کہ مبتدا میں اصل یہ ہے کہ اس کو لفظوں میں خبر پر مقدم کیا جائے بھئی۔ بھئی رتبے کے اعتبار سے تو مبتدا ہے ہی مقدم کیونکہ اس کے بارے میں بات کی جا رہی ہے۔ تو جس کے بارے میں بات کی جائے وہ پہلے اور جو بات کی جائے وہ بعد میں ہونی چاہیے، تو لہذا رتبے کے اعتبار سے تو مبتدا مقدم ہی ہے، لفظوں کے اندر بھی اس کو خبر پر مقدم ہونا چاہیے یہ مناسب ہے بھئی۔ یہ معنی ہے التقديم علی الخبر خبر پر مقدم کرنا، لفظا، باعتبار لفظوں کے۔
لان المبتدأ ذات، اس لیے کیونکہ مبتدا ذات ہے، والخبر حال من احوالها، اور خبر حال ہے اس کے احوال میں سے، والذات مقدمة على احوالها، اور ذات مقدم ہوتی ہے اپنے احوال پر۔
بھئی دیکھیے، ایک ہے ذات اور ایک ہے اس کے احوال، احوال۔ پہلے ذات کا تصور آئے گا پھر اس کے احوال کا تصور آئے گا۔ یہ نہیں کہ پہلے احوال کا تصور آ جائے اور پھر ذات کا تصور آئے، نہیں نہیں۔ تو پہلے کس کا تصور آئے گا؟ ذات کا اور پھر اس کے احوال کا۔ مثلاً میں نے اپ سے کہا زید سخی ہے تو پہلے اپ کے ذہن میں زید کا تصور آیا اور پھر اس کی حالت یعنی سخاوت کا بھی تصور آیا کہ وہ سخی ہے بھئی۔ دیکھو انہوں نے کہا لان المبتدأ ذات، کیونکہ مبتدا ذات ہے۔
بھئی ذات، یاد رکھو ذات کا ایک معنی آتا ہے کہ وہ چیز جس کا اپنا الگ وجود ہو۔ ایک ہوتی ہے ذات، ایک ہے صفت۔ ذات اور ایک صفت۔ ذات وہ ہے جس کا اپنا الگ وجود ہو اور صفت وہ ہے جس کا اپنا الگ وجود نہ ہو۔ جیسے زید، زید کا اپنا الگ خارج میں وجود ہے اور سخاوت اس کی صفت ہے، سخاوت کا اپنا الگ کوئی وجود نہیں۔ یہ زید ہے تو زید کی سخاوت بھی ہے، زید نہیں تو زید کی سخاوت بھی نہیں ہے۔ یا جیسے سفیدی، سفیدی کا اپنا الگ کوئی وجود نہیں، کوئی چیز ہے یا کپڑا ہے یا کاغذ ہے تو وہ وہ ذات ہے اور سفیدی اس کی صفت ہے۔
تو ذات سے اپ یہ والا معنی نہ سمجھ لینا کہ ذات اسے کہتے ہیں جس کا اپنا الگ وجود ہو۔ نہیں، یہاں ذات کا وہ معنی نہیں یہ جو انہوں نے کہا نہ لان المبتدأ ذات کیونکہ مبتدا ذات ہے بلکہ یہاں ذات کا معنی ہے کہ وہ چیز جس کے بارے میں خبر دی جا سکے اس کو ذات کہیں گے۔ وہ چیز جس کے بارے میں خبر دی جا سکے اس کو ذات کہیں گے۔
جیسے دیکھو، کوئی شخص کہتا ہے العلم حسن، علم اچھی چیز ہے۔ اب دیکھو مبتدا کیا؟ العلم، اور خبر کیا؟ حسن۔ العلم حسن، علم اچھی چیز ہے۔ علم کو مبتدا بنایا اور علم؟ علم کا تو اپنا الگ کوئی وجود نہیں، علم کا معنی تو ہے جاننا۔ توجہ ہے؟ علم کا معنی کیا ہے؟ جاننا۔ دیکھو اس کو اس کا تو اپنا الگ کوئی وجود نہیں، تو اپ کے ذہن میں اشکال آئے گا کہ ہم نے تو جامی میں پڑھا تھا کہ مبتدا ذات ہوتی ہے، ذات تو کسے کہتے ہیں جس کا اپنا الگ وجود ہوتا ہے اور علم کا تو اپنا الگ کوئی وجود نہیں، میں نے بتایا کہ ذات کا یہ معنی یہاں نہیں۔ ذات کا معنی یہ ہے جس کے بارے میں خبر دی جا سکے۔ جو بھی چیز ہو جس کے بارے میں خبر دی جا سکے وہ ذات ہے اور العلم بے شک صفت ہے لیکن اس کے بارے میں خبر دی جا سکتی ہے یا نہیں؟ بلکہ خبر ہم دے رہے ہیں العلم حسن علم کیا ہے؟ اچھی چیز ہے، دیکھو اس کے بارے میں حسن ہونے کی ہم خبر دے رہے ہیں۔ تو جو بھی ایسی چیز ہے چاہے اس کا اپنا الگ خارج میں وجود ہو یا نہ ہو لیکن اس کے بارے میں خبر دی جا سکے اس کو کیا کہتے ہیں؟ اس کو ذات کہتے ہیں بھئی۔
تو کہتے ہیں لان المبتدأ ذات اس لیے کیونکہ مبتدا ذات ہے والخبر حال من احوالها اور خبر جو ہے اس کے احوال میں سے ایک حال ہے والذات مقدمة على احوالها اور ذات مقدم ہوتی ہے اپنے احوال پر۔ بھئی یاد رکھو پہلے ہمارے ذہن میں ذات کا تصور آتا ہے اور پھر اس کی حالت کا تصور آتا ہے، مثلاً زید ہے اور ایک اس کی سخاوت ہے، پہلے ہمارے ذہن میں زید کا تصور آئے گا اور پھر اس کی حالت اور پھر اس کی سخاوت کا تصور آئے گا۔ اسی طرح العلم حسن، پہلے ہمارے ذہن میں علم کا تصور آئے گا کہ علم کا کیا معنی ہے، جاننا، اور پھر اس کے بعد اس کے حسن ہونے کا اس کی حالت کا تصور آئے گا۔ تو ذات کیا ہوتی ہے؟ مقدم ہوتی ہے کس پر؟ اپنے احوال پر بھئی۔
تو انہوں نے اپ کو بتلایا بھئی کہ مبتدا چونکہ ذات ہے اور خبر اس کے احوال میں سے ایک حال ہے اور ذات مقدم ہوتی ہے احوال پر، پہلے ذات کا تصور آتا ہے اور پھر اس کے بعد احوال کا تصور کیا جاتا ہے بھئی۔
تو پھر اس پر اشکال ہوتا ہے کہ قام زيد، قام فعل اور زيد اس کا فاعل۔ قام فعل دیکھو یہ اپنے فاعل کی حالت بیان کر رہا ہے، جیسے مبتدا خبر میں مبتدا ہے ذات اور خبر کیا ہے اس کا حال، تو اسی طرح جملہ فعلیہ کے اندر فعل جو ہے وہ حال ہے اور آگے فاعل کیا ہے ذات ہے۔ تو بھئی جملہ فعلیہ کے اندر تو حال مقدم ہے اور ذات مؤخر ہے۔ اپ نے دلیل کیا ذکر کی؟ کہ چونکہ مبتدا ذات ہے اور خبر حال ہے اور ذات مقدم ہوتی ہے حال پر، تو پھر تو یہ بات جملہ فعلیہ کے اندر بھی جاری ہونی چاہیے، لیکن جملہ فعلیہ میں فعل یعنی حال پہلے آتا ہے اور ذات یعنی فاعل یا نائب فاعل بعد میں آتا ہے، تو اس کا جواب دیتے ہیں نحوی حضرات کہ وہاں پر ایک عارض پیش آ گیا ایک مانع پیش آ گیا اور وہ مانع یہ ہے کہ فعل جو ہے وہ عامل ہوتا ہے اور جو فاعل یا نائب فاعل ہے وہ معمول ہوتا ہے اور عامل مقدم ہوا کرتا ہے اپنے معمول پر، اس لیے وہاں فعل کو مقدم کیا گیا ورنہ ہونا یہی چاہیے تھا کہ پہلے ذات آنی چاہیے اور اس کے بعد صفت۔ تو لہذا وہاں فعل عامل تھا اس لیے اس کو مقدم کر دیا گیا اور فاعل معمول تھا اس کو مؤخر کر دیا گیا جبکہ مبتدا خبر میں ایسا نہیں ہے، تو لہذا مبتدا میں اصل جو ہے وہ مقدم ہونا اور خبر میں مؤخر ہونا ہے بھئی۔
کہتے ہیں ومن ثم، اي ومن اجل ان الاصل في المبتدإ، جی یہاں ثم آیا، یاد رکھو بھئی، یہ میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں، ثم میں نے بتلایا تھا کہ یہ ثم اسم اشارہ ہے، ایک ہے ثم ث کے ضمہ کے ساتھ وہ حرف عطف ہے بھئی اور ایک ہے ثم ث کے فتحہ کے ساتھ، یاد رکھو یہ اسم اشارہ ہے مکان بعید کے لیے، دور کی جگہ کے لیے۔ دور کی جگہ کے لیے تو یہ مکان بعید کے لیے اسم اشارہ ہے بمعنی وہ یا بمعنی وہاں۔ بات سمجھ میں آ رہی؟ وہ یا وہاں کے معنی میں یہ استعمال ہوتا ہے اور پھر اس کے ساتھ کبھی گول تا بھی جوڑ دیتے ہیں اور اس پر بھی زبر پڑھتے ہیں، ثمة۔ تو کہیں پر آئے گا ومن ثمة، اور پھر یہی گول تا جو ہے حالت وقف میں ہا سے بدل جاتی ہے ومن ثمه، ومن ثمه۔ اور کبھی کبھار اس کے ساتھ لمبی تا بھی جوڑ دیتے ہیں اور اس پر بھی زبر پڑھتے ہیں ومن ثمت، اور کبھی اس میں بھی وقف کرتے ہیں لیکن اس میں پھر وہ ہا سے نہیں بدلے گی کیونکہ وہ لمبی تا ہے تو کیسے پڑھیں گے؟ ومن ثمت، ومن ثمت۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ تو حالت وقف میں پھر تا کو ساکن کر دیں گے۔
اور پھر یاد رکھنا کبھی درمیان عبارت میں بھی ثمه آ جاتا ہے، درمیان عبارت میں بھی ثمه آ جائے گا ہا ہوگی بھئی، تو اپ کے ذہن میں اشکال آئے گا بھئی کہ ہا تو اس کے ساتھ نہیں جوڑتے اس کے ساتھ تو کیا جوڑتے ہیں گول تا، اور وہ گول تا حالت وقف میں کس سے بدل جاتی ہے؟ ہا سے بدل جاتی ہے۔ تو یہاں تو وقف نہیں یہ تو درمیان عبارت ہے، یہاں تو ہونا چاہیے تھا ومن ثمة اور انہوں نے کیا لکھا ہے؟ ومن ثمه بھئی، ومن ثمه۔ تو تو کبھی کبھار درمیان عبارت میں بھی کبھی کلام عرب میں درمیان عبارت میں بھی وقف کی طرح لفظ کو پڑھ دیا جاتا ہے، اجراء الوقفي مقام الوصلي کہ وصل کے مقام میں وقف کو جاری کر دیا، وقف کے اندر جس طرح پڑھتے ہیں اسی طرح پڑھ دیا اس کو بھئی۔ تو لہذا اس کو بھی بعض اوقات درمیان عبارت میں ومن ثمه پڑھ دیا جاتا ہے بھئی، تو یہ یہ مقام تو وصل کا تھا یعنی درمیان عبارت ہے لیکن اس کو وقف کے درجے میں اتار کر اسی طرح پڑھ دیا گیا۔
تو یہ ثم کس لیے آتا ہے؟ مکان بعید کے لیے، مکان بعید کے لیے اور یہاں پر یہ مجازی معنی میں استعمال ہے اس لیے کہ ومن ثم اور اسی وجہ سے اس ثم کے ذریعے پیچھے اشارہ ہے وہ جو ذکر کیا کہ مبتدا میں اصل تقديم ہے، مبتدا میں اصل تقديم ہے کہتے ہیں اسی وجہ سے في داره زيد کہنا تو جائز ہے اور صاحبها في الدار کہنا جائز نہیں ہے، تو ومن ثم، ثم کے ذریعے یہاں اشارہ کس کی طرف ہے؟ پیچھے جو حکم بیان ہوا کہ مبتدا میں اصل تقديم ہے اس کی طرف اشارہ ہے اور وہ وہ تو ایک حکم ذکر ہوا وہ تو ایک بات ذکر ہوئی وہ تو جگہ کا نام نہیں اور ثم تو وضع ہے کس کے لیے؟ جگہ کے لیے، مکان بعید کے لیے، تو یہاں پھر یہ مجازی معنی میں استعمال ہے بھئی۔
اور یہ جو ومن ثم یہ جو من آیا، یہ من سببیہ ہے، من اجلیہ ہے، اس کے ذریعے کسی چیز کی سبب اور علت کو ذکر کیا جاتا ہے اسی لیے صاحب جامی نے ومن ثم کی تفسیر کیا کی؟ اي ومن اجل، اجل کے ساتھ ہی یہ بتلانے کے لیے کہ یہ من سببیہ ہے۔
کہتے ہیں ومن ثم، اور اسی وجہ سے، اي ومن اجل ان الاصل في المبتدإ التقديم لفظا، اور اسی وجہ سے کہ مبتدا کے اندر اصل جو ہے وہ لفظا تقديم ہے کہ لفظوں کے اعتبار سے اس کو مقدم کرنا چاہیے، جاز، جائز ہے قولهم، یہ قول في داره زيد۔ في داره زيد جائز ہے بھئی، کیوں جائز ہے؟ في داره کے اندر ها ضمیر زید کو راجع ہے اور زید تو لفظوں میں مؤخر ہے لیکن پھر بھی یہ ترکیب جائز، کیوں جائز؟ کیونکہ زید لفظوں میں تو بے شک مؤخر ہے لیکن رتبے کے اعتبار سے مقدم ہے کیونکہ مبتدا میں اصل تقديم ہے۔
دیکھو عبارت پہ نظر رکھو، صاحبِ قافیہ کی عبارت ہے جَازَ فِي دَارِهِ زَيْدٌ۔ یہ فی دارِہِ زَیدٌ جائز ہے۔ اور صاحبِ جامی نے جازَ کے بعد قولُہم کا لفظ نکالا، جازَ قولُهم في دارِهِ زيدٌ، کہ نحویوں کا یہ قول جائز ہے فی دارِہِ زَیدٌ۔
یہ قولُہم کیوں نکالا؟ دراصل وہ ایک اعتراض کا جواب دینا چاہتے ہیں۔ اعتراض یہاں یہ ہوتا ہے کہ جازَ فعل ہے، اور آگے فی دارِہِ زَیدٌ یہ پورا جملہ اس کے لیے فاعل بن رہا ہے، جائز ہے۔ کیا جائز ہے؟ فی دارِہِ زَیدٌ جائز ہے۔ یہ پورا جملہ کیا بن رہا ہے اس کے لیے جازَ کے لیے؟ فاعل بن رہا ہے، اور آپ نے ابھی ہمیں بتایا تھا چند صفحات قبل کہ فاعل اسم کا نام ہے۔ فاعل کس کا نام ہے؟ اسم کا نام ہے، اور یہاں پر تو فی دارِہِ جملہ فاعل بن رہا ہے حالانکہ جملہ تو فاعل نہیں بن سکتا، فاعل تو کون بنے گا؟ فاعل کے لیے تو اسم ہونا ضروری ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ جیسے انہوں نے بتایا مبتدا بھی کیا ہوتا ہے؟ اسم، خبر بھی کیا ہوتی ہے؟ اسم، اسی طرح جو فاعل گزرا تھا وہ بھی کس کا نام ہے؟ اسم کا، تو یہاں تو پورا جملہ فاعل بن رہا ہے حالانکہ جملہ تو فاعل نہیں بن سکتا، فاعل کے لیے تو اسم ہونا ضروری۔
تو صاحبِ جامی جواب دے رہے ہیں کہ بھئی یہ قول کی تاویل میں ہے۔ یہ فی دارِہِ زَیدٌ کس تاویل میں؟ قول کی تاویل میں ہے، یعنی قول فاعل ہے اس کے جازَ کے لیے، گویا اصل کلام یوں ہے سنو بھئی، جازَ قولُهم، جائز ہے ان کا قول، ہم ضمیر راجع کر لیں عرب کی طرف یا نحویوں کی طرف راجع کر لیں، عرب کا یہ قول جائز ہے فی دارِہِ زَیدٌ یا نحویوں کا یہ قول جائز ہے فی دارِہِ زَیدٌ۔ بھئی دیکھیے قول مصدر ہے بھئی، اور میں نے بتایا تھا مصدر بھی اپنے فعل کی طرح عمل کرتا ہے، اور قالَ فعل، قالَ فعل کے لیے ایک فاعل چاہیے تو ایک مفعول بھی چاہیے، قلتُ میں نے کہا، دیکھو تا ضمیر فاعل ہے، تا ضمیر فاعل، اور میں نے کیا کہا؟ فی دارِہِ زَیدٌ، یہ یاد رکھو یہ جو آگے قالَ کے بعد جو جملہ آتا ہے، یہ دراصل پورا جملہ مفعول بہٖ ہوتا ہے قالَ کے لیے۔ قلتُ میں نے کہا، کیا کہا؟ فی دارِہِ زَیدٌ، یہ فی دارِہِ زَیدٌ یہ پورا جملہ یہ مفعول بہٖ ہے قالَ کے لیے۔ قالَ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہٖ سے مل کر جملہ فعلیہ ہوا، کیا بات ہوئی؟ کہ قالَ کے لیے جیسے ایک فاعل چاہیے، ایک مفعول بھی چاہیے اور مفعول کیا ہوتا ہے؟ وہ جو آگے مقولہ ہوتا ہے، وہ جو بات کی جاتی ہے وہ سارا اس کا مفعول بہٖ ہوتا ہے بھئی۔
تو یہاں پر بھی جازَ کے بعد قولُہم نکالا، مصدر نکال لیا اور مصدر بھی فعل کی طرح عمل کرتا ہے، جیسے فعل فاعل کو رفع دیتا ہے اور مفعول کو نصب، تو اسی طرح قول آیا اور قول مصدر ہے اور میں نے بتایا مصدر کی عموماً اپنے فاعل کی طرف اضافت کر دیتے ہیں۔ مصدر کے ساتھ فاعل کا ذکر ضروری نہیں، کبھی ذکر کیا جاتا ہے کبھی نہیں کیا جاتا، لیکن جب ذکر کیا جائے تو عموماً کیا کر دیا جاتا ہے؟ مصدر کی اپنے فاعل کی طرف اضافت کر دی جاتی ہے، اپنے... تو یہاں پر بھی قول کی ہم ضمیر کی طرف اضافت کر دی، قولُهم ان کا قول، یہ ہم کون ہیں؟ یہ قول کرنے والے ہیں، یہ فاعل ہیں بھئی، تو ہم ضمیر مجرور تو لفظاً ہے لیکن محلاً مرفوع ہے، یہ فاعل ہے کس کے لیے؟ قول کے لیے، توجہ ہے؟ اور فی دارِہِ زَیدٌ یہ سارا جملہ مقولہ ہے قول مصدر کے لیے، یعنی یہ اس کے لیے مفعول بہٖ ہے، تو قول مصدر اپنے مضاف الیہ اور مفعول بہٖ سے مل کر یہ فاعل ہوا جازَ کے لیے۔
بھئی دیکھو فعل اپنے فاعل اور مفعول بہٖ سے مل کر جملہ بنتا ہے، لیکن مصدر اپنے فاعل مفعول بہٖ سے مل کر جملہ نہیں... قول دیکھو مصدر ہے، اس میں کوئی بات پوری ہے؟ نہیں، مصدر کے ساتھ ہزار چیزیں بھی جڑ جائیں یہ مفرد ہے تو مفرد ہی رہے گا بھئی، تو قول کے ساتھ ہم ضمیر مضاف الیہ فاعل کی بھی جوڑ دی اور آگے مفعول بہٖ کو بھی جوڑ دیا پورا مقولہ، لیکن پھر بھی یہ جب قول کے ساتھ جڑ گئے تو یہ کیا بن گئے؟ مفرد، تو قول مصدر اپنے مضاف الیہ اور مفعول بہٖ سے مل کر یہ مصدر فاعل ہوا کس کے لیے؟ جازَ کے لیے، کس کے لیے؟ جازَ کے لیے، تو اشکال کیا ہوتا تھا؟ کہ جازَ کے لیے فی دارِہِ زَیدٌ پورا جملہ فاعل بنا حالانکہ فاعل کا مفرد ہونا ضروری، تو بتلا دیا کہ یہ پورا جملہ کس تاویل میں ہے؟ قول کی تاویل میں ہے کیونکہ یہ قول ہے، یہ کیا ہے؟ قول، اور قول تو مصدر ہے، یہ تو مفرد ہے، اسم ہے اور یہ تو فاعل بن سکتا ہے، تو یہ قول فاعل ہے جازَ کے لیے، یہ جواب دیا کس نے؟ صاحبِ جامی نے۔
یہاں اور بھی تاویل کر سکتے ہیں آپ جو میں پہلے ذکر کر چکا ہوں۔ ایک جواب یہ کہ قول نکالنے کی کوئی ضرورت نہیں، فی دارِہِ زَیدٌ یہ لفظ مراد ہے، کیا مراد ہے؟ لفظ مراد ہے، یعنی یہ هذا اللفظ کی تاویل میں ہے، اور هذا اللفظ یہ تو اسم ہے، یہ تو فاعل بن سکتا ہے، تو گویا کلام یوں ہے، صاحبِ قافیہ نے کیا ذکر کیا؟ جازَ فِي دَارِهِ زَيْدٌ، یہ فی دارِہِ زَیدٌ جائز ہے اور یہ کس تاویل میں؟ هذا اللفظ کی تاویل میں، گویا صاحبِ قافیہ یہ کہہ رہے ہیں جازَ هذا اللفظُ، یہ لفظ جائز ہے، تو دیکھو هذا اللفظُ یہ اسم ہے، یہ فاعل ہے کس کے لیے؟ جازَ کے لیے، توجہ ہے؟ هذا موصوف اور اللفظُ اس کی صفت، بات سمجھ میں آ گئی۔
یا تیسری تاویل آپ یہ کر سکتے ہیں کہ لفظ بول کر جب لفظ مراد ہوتا ہے تو وہ دراصل علم ہوتا ہے، کس کے درجے میں؟ علم کے درجے میں ہوتا ہے، تو گویا وہ جملہ جو نحوی آپس میں استعمال کرتے تھے فی دارِہِ زَیدٌ، ہم نے اس کا نام ہی فی دارِہِ زَیدٌ رکھ دیا، اس کا نام ہی فی دارِہِ زَیدٌ رکھ دیا، تو اب یہ علم ہے اور علم؟ وہ تو اسم ہوتا ہے، تو یہ اسم کی تاویل میں ہے، تو کتنے جواب ہو گئے؟ تین جواب۔ یا تو یہ قول کی تاویل میں ہے یہ جملہ، دوسرا کہ یہ هذا اللفظ کی تاویل میں ہے، اور تیسرا جواب کیا؟ کہ یہ علم ہے بھئی، اور میں نے نشانی بھی بتلائی تھی کہ علم اس کو کہتے ہیں جس کا ترجمہ نہیں کیا جاتا، اب آپ دیکھیے آپ سے کوئی ترجمہ پوچھے، وَمِنْ ثَمَّ جَازَ فِي دَارِهِ زَيْدٌ، کیسے ترجمہ ہو گا؟ وَمِنْ ثَمَّ اور اسی وجہ سے جازَ جائز ہے، کیا جائز ہے؟ فی دارِہِ زَیدٌ، بھئی اس کا ترجمہ کیوں نہیں کرتے؟ کہ زید اپنے گھر میں ہے۔ وَمِنْ ثَمَّ جَازَ فِي دَارِهِ زَيْدٌ، آپ کو تو یوں کہنا چاہیے تھا اور اسی وجہ سے جائز ہے کہ زید اپنے گھر میں ہے، لیکن آپ فی دارِہِ زَیدٌ کا ترجمہ نہیں کرتے بلکہ کیا کہہ رہے ہیں؟ کہ فی دارِہِ زَیدٌ کہنا جائز ہے، دیکھا معلوم ہوا لفظ بول کر لفظ مراد ہے تو یہ علم کی تاویل میں ہے اور علم کا ترجمہ نہیں کیا جاتا۔
تو کہتے ہیں جازَ قولُهم، نحویوں کا یہ قول جائز ہے فی دارِہِ زَیدٌ، معَ كونِ الضَّميرِ عائدًا إلى زيدٍ المُتأخِّرِ لفظًا، باوجود اس کے کہ ضمیر جو ہے وہ لوٹ رہی ہے اس زید کی طرف المتأخِّرِ لفظًا جو لفظوں کے اعتبار سے متاخر ہے، یہ جائز ہے کیوں؟ لتَقَدُّمِهِ رُتْبَةً، بموجب رتبے کے اعتبار سے اس کے مقدم ہونے کے، لإصَالَةِ التَّقْدِيمِ، بموجب تقديم کے اصل ہونے کے کہ اس کے اندر تقديم اصل ہے اس وجہ سے یہ رتبے کے اعتبار سے مقدم ہے۔
وامْتَنَعَ قولُهم، اور ممتنع ہے نحویوں کا یہ قول صَاحِبُهَا فِي الدَّارِ، یہ قول ممتنع ہے، یہاں پر بھی دیکھو امتنَعَ فعل آیا اور صَاحِبُهَا فِي الدَّارِ یہ پورا جملہ اس کا فاعل بن رہا ہے، اور جملہ تو فاعل نہیں بن سکتا فاعل تو مفرد ہوتا ہے، اسم ہوتا ہے، تو بتلایا کہ یہ بھی کس تاویل میں ہے؟ قول کی تاویل میں ہے، یہ اس کے لیے مقولہ بن جائے گا۔ تو گویا اصل میں فاعل قول، لفظِ قول ہے، کیا فاعل ہے؟ لفظِ قول ہے اور صَاحِبُهَا فِي الدَّارِ اس کے لیے مقولہ ہے بھئی، اور دوسری تاویل کیا؟ کہ یہ هذا اللفظ کی تاویل میں ہے، أَي وامْتَنَعَ هذا اللفظُ، تو هذا اللفظ کی تاویل، اور تیسرا یہ کہ یہ علم ہے، علم کے درجے میں ہے بھئی، اور یہ قول ممتنع ہے صَاحِبُهَا فِي الدَّارِ، صَاحِبُهَا فِي الدَّارِ ممتنع ہے، کیونکہ اس کے اندر ہا ضمیر راجع ہے الدار کو اور الدار مؤنثِ سماعی ہے بھئی، یعنی عربی میں مؤنث استعمال ہوتا ہے، اسی لیے اس کی طرف ہا ضمیر مؤنث کی راجع کی بھئی، کیونکہ اس کے اندر اضمار قبل الذکر لازم آیا اور یہ اضمار قبل الذکر لفظاً بھی ہے، لفظوں میں بھی الدار مؤخر، اور رتبةً بھی ہے کیونکہ رتبے میں بھی فی الدار خبر کے اندر واقع ہے اور خبر مؤخر ہوتی ہے بھئی، اور جبکہ صَاحِبُهَا یہ تو مبتدا کے مقام میں ہے، تو یہ ترکیب ممتنع ہے، ممتنع ہے، یعنی جائز نہیں ہے، جائز نہیں ہے یا ضعیف کلام ہے بھئی، تو یہ ممتنع ہے کیوں؟ لعَوْدِ الضَّمِيرِ إلى الدَّارِ، بموجب لوٹنے ضمیر کے الدار کی طرف، وهو في حَيِّزِ الخَبَرِ، اور وہ لفظِ دار جو ہے وهو في حَيِّزِ الخَبَرِ وہ اس خبر کے مقام میں ہے، اس خبر کی جگہ میں ہے الذِي أَصْلُهُ التَّأْخِيرُ، وہ خبر کہ جس کے اندر اصل جو ہے مؤخر کرنا ہے، فَيَلْزَمُ عَوْدُ الضَّمِيرِ إلى المُتَأَخِّرِ لفظًا ورُتْبَةً، تو لازم آتا ہے ضمیر کا لوٹنا اس چیز کی طرف جو متاخر ہے لفظوں کے اعتبار سے بھی اور رتبے کے اعتبار سے بھی، وهو غَيْرُ جَائِزٍ، اور یہ جائز نہیں ہے۔
آگے دیکھیے، کہتے ہیں وقد يَكُونُ المُبْتَدَأُ نَكِرَةً، اور کبھی کبھار مبتدا نکرہ ہوتا ہے۔
یاد رکھیے، مبتدا کے اندر اصل ہے معرفہ ہونا، اور خبر کے اندر اصل ہے نکرہ ہونا۔ مبتدا کو معرفہ ہونا چاہیے، معرفہ معرفت سے ہے، معرفت کا معنی ہے پہچان، یعنی جس کی آپ کو پہچان ہو۔ معرفہ کو معرفہ کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ آپ کو اس کی پہچان ہوتی ہے، مثلاً آپ کا ایک ساتھی ہے زید، زید، میں نے جیسے ہی زید کہا آپ کے ذہن میں فوراً اپنے اس ساتھی کی صورت آ گئی، آپ نے فوراً اس کو پہچان لیا کہ یہ کس کی بات کی جا رہی ہے۔ تو معرفہ کو معرفہ کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ یہ معرفت سے ہے، معرفت کا کیا معنی؟ پہچان، تو معرفہ بھی ایک معین ذات پر دلالت کرتا ہے، یعنی آپ کو اس کی پہچان ہوتی ہے، اگر معین ذات پر وہ دلالت نہ کرے پھر تو وہ معرفہ ہے ہی نہیں کیونکہ آپ کو اس کی معرفت نہیں ہے، اور نکرہ نكارت سے ہے، نكارت کا معنی ہے نہ جاننا، ایک چیز کا مبہم ہونا، چونکہ نکرہ کی آپ کو پہچان نہیں ہوتی وہ مبہم ہوتا ہے اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ نکرہ۔
میں نے کہا کتاب، کوئی آپ کے ذہن میں کتاب کوئی خاص کتاب آئی؟ نہیں، میں نے کہا قلم، کوئی خاص قلم آپ کے ذہن میں آیا؟ نہیں، دیکھا؟ قلم مبہم ہے، کون سا قلم مراد ہے؟ ہر قلم پر یہ صادق آ رہا ہے، اس کی آپ کو پہچان نہیں کون سا قلم مراد ہے، کوئی تعین نہیں یہاں پر، اسی طرح میں نے کہا رجلٌ، دیکھو کوئی خاص معین شخص آپ کے ذہن میں نہیں آیا، تو نکرہ جو ہوتا ہے وہ مبہم ہوتا ہے، اس میں تعین نہیں ہوتی، وہ غیر معین پر دلالت کرتا ہے اسی لیے اس کو نکرہ کہتے ہیں، کیا معنی؟ یعنی آپ کو اس کی پہچان نہیں ہے۔
تو مبتدا میں اصل یہ ہے وہ معرفہ ہونا چاہیے، اور خبر میں اصل یہ ہے کہ وہ نکرہ ہونی چاہیے، وجہ یہ؟ کہ آپ مبتدا خبر کے ذریعے کسی کو کوئی بات بتلانا چاہتے ہیں، مثلاً زیدٌ قائمٌ، زید کھڑا ہے، تو پھر جس کے بارے میں بات بتلانا چاہتے ہیں اس کی مخاطب کو پہچان ہونی چاہیے، کہ مثلاً میں نے کہا زید، اب زید کی اس کو پہچان ہے جس کے بارے میں بات بتلائی جا رہی ہے، اس کی پہچان ہونی چاہیے، اور خبر کے اندر اصل یہ ہے وہ نکرہ ہونی چاہیے، یعنی اس کی پہچان نہیں ہونی چاہیے۔ اگر اس کو پہلے سے ہی پتہ ہے کہ زید قائم ہے، تو زید قائم کہنے کا کوئی فائدہ ہی نہیں، توجہ ہے؟ اگر اس کو پہلے ہی پتہ ہے کہ زید قیام کے ساتھ متصف ہے، تو زیدٌ قائمٌ کہنے کا کوئی فائدہ نہیں بھئی، تو قائمٌ خبر یہ کیسی ہونی چاہیے؟ جس کی مخاطب کو پہچان نہ ہو، یعنی جس کو اس بات کا پتہ نہ ہو، اب ایک شخص ہے اس کو پتہ نہیں تھا، مثلاً دوسری مثال لے لو، زیدٌ عالمٌ، آپ کا ایک ساتھی ہے زید، آپ اس کو جانتے ہیں تعارف ہے، لیکن آپ کو یہ پتہ نہیں تھا کہ یہ عالم ہے، اب میں آپ کو بتاتا ہوں زیدٌ عالمٌ، زید کی آپ کو پہچان تھی اس لیے میں زید کو معرفہ لایا، کیونکہ آپ کو اس کی معرفت ہے، اور اس کے عالم ہونے کا پتہ نہیں تھا میں وہ آپ کو بتلانا چاہتا تھا، تو عالمٌ میں نکرہ لاؤں گا کیونکہ نکرہ کیا ہوتا ہے؟ جس کی مخاطب کو پہچان نہیں ہوتی، اور پھر ہی فائدہ ہو گا کلام کے اندر، دیکھو جب میں نے کہا زیدٌ عالمٌ، اب آپ کو ایک نئی بات کا پتہ چل گیا کہ زید عالم ہے، آپ کو اس بات کا پہلے پتہ نہیں تھا، تو مبتدا میں اصل کیا ہے؟ وہ معرفہ ہونا چاہیے، یعنی آپ کو اس کی پہچان ہونی چاہیے کیونکہ میں اس کے بارے میں بات کرنے لگا ہوں، آپ کو اس کی پہچان ہو گی تو بات سمجھ میں بھی آئے گی، اگر پہچان نہیں تو بات کا فائدہ کوئی نہیں، اور خبر میں آپ کو ایک بات بتلانا چاہتا ہوں، اس کی آپ کو پہچان نہیں ہونی چاہیے، اگر آپ کو اس کے بارے میں پہلے سے ہی پتہ ہے تو اس کو لانے کا فائدہ کوئی نہیں ہو گا بھئی، لہذا خبر میں اصل کیا ہے؟ وہ کیا ہونی چاہیے؟ نکرہ ہونی چاہیے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
پھر یاد رکھو، آپ کو آگے بتائیں گے صاحبِ قافیہ بھی، کہ مبتدا میں اصل تو ہے معرفہ ہونا، لیکن کبھی کبھار نکرہ بھی مبتدا بن جاتا ہے۔ اس میں ضروری ہے کہ نکرہ کے اندر تخصیص پیدا کر دی جائے۔ نکرہ کے اندر تخصیص پیدا کر دی جائے۔
تخصیص کہتے ہیں دیگر احتمالات کو کم کرنا یا دیگر احتمالات کو ختم کرنا، اس کو کہتے ہیں تخصیص بھئی۔ اور جبکہ بعض علماء نے فرق کیا، وہ فرماتے ہیں علمِ نحو کے اندر تخصیص کا معنی ہے دیگر احتمالات کو ختم کرنا، اور علمِ معانی جو ہے جو بڑی نحو ہے، جو علمِ بلاغت ہے، علمِ معانی کے اندر تخصیص کا معنی ہے دیگر احتمالات کو کم کرنا یا دیگر احتمالات کو ختم کرنا بھئی، تو بہرحال یہاں پر بھی تخصیص کا معنی جو وہ ذکر کریں گے، دیگر احتمالات کو کم کرنا یا ختم کرنا، دیگر احتمالات کو کم کرنا یا ختم کرنا، مثلاً دیکھو بھئی، مثلاً میں نے لفظِ غلام کہا، اب دنیا میں فرض کرو 10 لاکھ غلام ہیں، تو یہ لفظِ غلام ان میں سے ہر ایک پر صادق آ سکتا ہے، کہ ہو سکتا ہے یہ والا غلام ہو، ہو سکتا ہے یہ والا غلام، یہ والا غلام، یہ والا غلام، تو گویا اس لفظِ غلام میں 10 لاکھ احتمال ہیں، ہر غلام پر یہ صادق آتا ہے، ہر غلام پر یہ بولا جا سکتا ہے، اور فرض کرو ان میں سے 1 لاکھ غلام مومن ہیں اور باقی غیر مومن ہیں بھئی، تو اب اس کے ساتھ مثلاً میں صفت بڑھا دیتا ہوں غلامٌ مؤمنٌ، یعنی مومن غلام، اب جب میں نے مومن کی صفت لگا دی غلام کے ساتھ، تو اس میں تخصیص آ گئی، پہلے یہ غلام کا لفظ 10 لاکھ پر صادق آ رہا تھا، اور اب جب صفت ساتھ لگا دی تو اب یہ صرف 1 لاکھ غلاموں پر صادق آ رہا ہے، دیکھو احتمالات کم ہو گئے، پہلے لفظِ غلام میں کتنے احتمالات تھے؟ 10 لاکھ، اور جب میں صفت لے آیا غلامٌ مؤمنٌ، اب کتنے احتمال رہ گئے؟ 1 لاکھ، تو دیکھو یہ تخصیص آ گئی، احتمالات کم ہو گئے بھئی، تو یہ معرفہ تو نہ ہوا، لیکن معرفہ کے قریب ہو گیا۔
معرفہ کے قریب ہو گیا، مثلاً دیکھو یہ ہے معرفہ، اور یہ اس سے دوسرے کنارے پر دور نکرہ ہے، معرفہ کسے کہتے ہیں؟ جو ایک معین ذات پہ دلالت کرے، توجہ ہے؟ دیکھو یہ تپائی کے ایک کونے پر فرض کرو یہ ہے معرفہ، اور تپائی کے دوسرے کونے پر ہے نکرہ، معرفہ کسے کہتے ہیں؟ جو ایک معین ذات پر دلالت کرے، اور نکرہ کسے کہتے ہیں؟ جو ذاتِ غیر معین پر دلالت کرے، تو دونوں بالکل الگ الگ چیزیں ہیں، لیکن پھر اس نکرہ کے اندر ہم نے کیا پیدا کر دی؟ تخصیص پیدا کر دی، تخصیص کی وجہ سے تخصیص کی وجہ سے دیگر احتمالات کم ہو گئے، تو یہ جو نکرہ ہے یہ معرفہ تو نہ بنا، لیکن احتمالات کم ہو گئے یہ معرفہ کے قریب آ گیا، جتنے احتمالات کم ہوتے جائیں گے یہ معرفہ کے قریب سے قریب تر ہوتا چلا جائے گا، تو تخصیص کسے کہتے ہیں؟ دیگر احتمالات کو کم کرنا یا ختم کرنا، تو لہذا جب نکرہ کی صفت لائے، تو دیگر احتمالات کم ہو گئے، تو یہ معرفہ تو نہ ہوا لیکن معرفہ کے قریب ہو گیا، وقريبُ الشيءِ في حكمِ الشيءِ ہوتی ہے۔ جو جس چیز کے قریب ہو اس کا وہی حکم ہوتا ہے، تو لہذا جب یہ نکرہ معرفہ کے قریب ہو گیا، تو اب اس کا مبتدا بننا صحیح۔
کوونکہ معرفہ کا مبتدا بننا صحیح تھا اور یہ نکرہ جب تخصیص اس کے اندر آگئی تو یہ بھی معرفہ کے قریب ہو گیا اور اس کا بھی وہی حکم ہو گیا جو معرفہ کا تھا اور معرفہ تو مبتدا بن سکتا تھا، لہذا یہ نکرۂ مخصصہ بھی مبتدا بن سکتا ہے۔
بات سمجھ میں آگئی؟ القریبُ إلی الشئِ فی حکمِ الشئِ، جو جس چیز کے قریب ہوتی ہے اس کا وہی حکم ہوتا ہے، جیسے دیکھو بادشاہ اور اس کا سیکریٹری۔ بادشاہ کا جو سیکریٹری ہے، اس کا حکم بھی بادشاہ کی طرح چلتا ہے اور لوگ اس سے ڈرتے ہیں، کیونکہ وہ بادشاہ کا قریب ہے۔ حتیٰ کہ بڑے وزیر نے بھی بادشاہ سے ملنا ہو تو اس سیکریٹری کے ذریعے وقت لے گا اور پھر ہی بادشاہ سے اس کی ملاقات ہو سکے گی۔
تو دیکھو، سیکریٹری بادشاہ کے قریب ہے اور القریبُ إلی الشئِ فی حکمِ الشئِ ہوتا ہے، لہذا سیکریٹری سے بھی لوگ کس طرح ڈرتے ہیں؟ جیسے بادشاہ سے ڈرتے ہیں۔
تو آپ کو صاحبِ کافیہ بتائیں گے کہ نکرہ میں بھی جب تخصیص آجائے تو پھر اس کا مبتدا بننا صحیح ہے اور تخصیص کے وہ چھ طریقے ذکر کریں گے جو آگے آرہے ہیں۔ دیکھیے بھئی، پہلے متن متن دیکھ لیں۔ کہتے ہیں: وَقَدْ يَكُونُ الْمُبْتَدَأُ نَكِرَةً، اور کبھی کبھار مبتدا جو ہے وہ نکرہ ہوتا ہے۔ یہ "قد" جو ہے نا، کبھی تقلیل کے لیے آتا ہے، یہاں یہ تقلیل کے لیے ہے۔ کبھی کبھار مبتدا نکرہ ہوتا ہے۔
میں نے آپ کو بتایا بھئی، مبتدا کے اندر دو چیزیں اصل ہیں، کیا؟ ایک تو یہ کہ مبتدا کو مقدم ہونا چاہیے اور دوسرا کیا؟ کہ مبتدا میں اصل یہ ہے کہ معرفہ ہونا چاہیے۔ صاحبِ کافیہ نے صرف ایک چیز ذکر کی کہ مبتدا میں اصل یہ ہے اس کو مقدم ہونا چاہیے۔ مبتدا میں اصل یہ ہے کہ وہ معرفہ ہونا چاہیے، اس کو انہوں نے ذکر نہیں کیا لفظوں میں۔ توجہ ہے؟
ہاں، وَقَدْ يَكُونُ الْمُبْتَدَأُ نَكِرَةً، کبھی کبھار مبتدا نکرہ بھی ہوتا ہے، اس عبارت کے ذریعے انہوں نے اشارہ کر دیا کہ مبتدا کے اندر اصل کیا ہے؟ معرفہ ہونا ہے، ہاں کبھی کبھار یہ نکرہ بھی ہوتا ہے۔ معلوم ہوا دونوں چیزیں انہوں نے یہاں ذکر کر دیں بھئی، جو دو اصل ہیں مبتدا میں، اس کا مقدم ہونا بھی اور اس کا معرفہ ہونا بھی۔
کہتے ہیں: وَقَدْ يَكُونُ الْمُبْتَدَأُ نَكِرَةً إِذَا تَخَصَّصَتْ بِوَجْهٍ مَا، اور کبھی کبھار مبتدا نکرہ ہوتا ہے، جب وہ تخصیص پا جائے بِوَجْهٍ مَا کسی وجہ سے۔ جب وہ تخصیص پا جائے کسی بھی وجہ سے۔
مِثْلُ مثال کے طور پر: وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَيْرٌ مِّن مُّشْرِكٍ۔ اب دیکھو اس مثال کے اندر وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَيْرٌ مِّن مُّشْرِكٍ، یہ لام جو ہے وَلَعَبْدٌ پر، یہ لام اس کو لامِ ابتداء کہتے ہیں اور یہ جملے کی تاکید کے لیے آتا ہے۔ جیسے اِنَّ زَیْدًا قَائِمٌ، اِنَّ کس لیے آتا ہے؟ جملے کی تاکید کے لیے آتا ہے۔ اَنَّ تو جملے کو مفرد کے معنی میں کر دیتا ہے، جبکہ اِنَّ جملے کو جملہ ہی رکھتا ہے، البتہ اس میں تاکید اور زور پیدا کر دیتا ہے۔ اسی طرح یہ لام بھی اِنَّ کی طرح کیا کرتا ہے جملے میں؟ تاکید پیدا کرتا ہے، اس میں زور پیدا کر دیتا ہے۔
تو یہاں پر یہ لام تاکید کے لیے ہے، عَبْدٌ یہ ہے مبتدا بھئی۔ عَبْدٌ مبتدا ہے اور یہ دیکھو نکرہ ہے۔ البتہ اس کے آگے صفت مُّؤْمِنٌ ذکر کر دی گئی اور اس کی وجہ سے اس کے اندر تخصیص آگئی اور نکرہ کے اندر جب تخصیص آجائے تو پھر اس کا مبتدا بننا صحیح، اسی لیے عَبْدٌ مُّؤْمِنٌ یہ ہوا مبتدا اور خَيْرٌ مِّن مُّشْرِكٍ یہ ہوئی اس کی خبر بھئی۔
تو یہ تخصیص کا پہلا طریقہ ہے۔ صاحبِ کافیہ نام نہیں بتلائیں گے، نام میں ذکر کرتا جاؤں گا، آپ نے یاد رکھنا ہے۔ تخصیص کے چھ طریقے ہیں اور یہ پہلا طریقہ انہوں نے ذکر کر دیا، اس کو کہتے ہیں تخصیص بالصفت۔ تخصیص بالصفت، صفت کے ذریعے تخصیص بھئی، تخصیص بالصفت۔
اچھا، یہاں عبارت آئی: إِذَا تَخَصَّصَتْ بِوَجْهٍ مَا، جب وہ نکرہ تخصیص پا جائے بِوَجْهٍ مَا کسی بھی وجہ سے۔ یہ جو "مَا" آیا نا بِوَجْهٍ کے بعد، یاد رکھو بھئی، یہ بعض اوقات نکرہ کے بعد اس کو ذکر کیا جاتا ہے۔
تو نکرہ کے بعد، اور بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ اس نکرہ کی صفت بنتا ہے۔ صفت بنتا ہے اور یہ اس کے ابہام کو اور بڑھا دیتا ہے۔ جیسے دیکھو، إِذَا تَخَصَّصَتْ بِوَجْهٍ مَا، ذرا "مَا" کے بغیر ترجمہ سنو: إِذَا تَخَصَّصَتْ بِوَجْهٍ، جب وہ نکرہ تخصیص پا جائے کسی وجہ سے۔
"مَا" کو ہم نے ختم کر دیا۔ إِذَا تَخَصَّصَتْ بِوَجْهٍ، جب وہ نکرہ تخصیص پا جائے بِوَجْهٍ کسی وجہ سے، دیکھو وَجْهٍ نکرہ ہے۔ تخصیص پا جائے وہ نکرہ کسی وجہ سے، اب اس کی صفت "مَا" لائی گئی۔ یہ "مَا" بھی نکرہ ہے اور اس نے اس کے ابہام کو اور بڑھا دیا۔ اب ترجمہ یوں ہوگا: إِذَا تَخَصَّصَتْ بِوَجْهٍ مَا، جب وہ نکرہ تخصیص پا جائے بِوَجْهٍ مَا کسی بھی وجہ سے۔
پہلے کیا ترجمہ تھا؟ جب وہ نکرہ تخصیص پا جائے کسی وجہ سے۔ اب کیا ترجمہ؟ جب وہ نکرہ تخصیص پا جائے کسی بھی وجہ سے، دیکھو اس نے کیا کیا؟ اس کے ابہام کو اور زیادہ بڑھا دیا بھئی، اس کے عموم کو اور زیادہ بڑھا دیا بھئی۔ تو بِوَجْهٍ یہ ہے موصوف اور یہ "مَا" بمعنی شَیْءٍ کے، یہ نکرہ یہ اس کی صفت ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟
تو بِوَجْهٍ یہ مجرور ہے با جارہ کی وجہ سے اور "مَا" اس کی صفت ہے اور صفت کا وہی اعراب ہوتا ہے جو موصوف کا، تو یہ "مَا" بھی محلاً مجرور ہے، یہ مبنی ہے محلاً مجرور ہے بھئی۔
جبکہ بعض علماء فرماتے ہیں نکرہ کے بعد یہ "مَا" زائد آتا ہے اور یہ اس کے اندر تاکید پیدا کر دیتا ہے، اس کے اندر جو ابہام تھا، نکرہ میں کیا ہوتا ہے؟ ابہام، میں نے کہا رَجُلٌ، آپ کو کوئی پتہ چلا کون سا رَجُلٌ مراد ہے؟ نہیں، تو نکرہ میں ابہام ہوتا ہے۔ یہ "مَا" یہ "مَا" نکرہ کے بعد بڑھاتے ہیں اور یہ صفت نہیں ہوتا، یہ زائد ہے۔ یہ کیا ہے؟ زائد ہے اور یہ صرف اس کے اندر جو ابہام ہے، اس کو پکا کر رہا ہے۔ پہلی تعریف کیا کی تھی؟ کہ یہ "مَا" صفت ہے اور یہ ابہام کو اور بڑھا دیتا ہے۔ اور بعض علماء کیا فرماتے ہیں؟ کہ یہ صفت نہیں، یہ زائد ہے۔ توجہ ہے؟ یہ ویسے بڑھاتے ہیں نکرہ کے بعد، اپنے معنی کا فائدہ نہیں دیتا، لیکن میں نے بتایا کہ حروفِ زائد بھی کیا کرتے ہیں؟ تاکید کا فائدہ، تو یہ یہاں تاکید پیدا کر رہا ہے بھئی۔ یعنی اسی کے اندر جو ابہام ہے، اس کو پکا کر رہا ہے۔
دوبارہ دیکھیے شرح کے ساتھ، کہتے ہیں: وَقَدْ يَكُونُ الْمُبْتَدَأُ نَكِرَةً، اور کبھی کبھار مبتدا جو ہے وہ نکرہ ہوتا ہے۔ وَإِنْ كَانَ الْأَصْلُ فِيهِ أَنْ يَكُونَ مَعْرِفَةً، اگرچہ مبتدا میں اصل یہ ہے کہ وہ معرفہ ہو، لِأَنَّ لِلْمَعْرِفَةِ مَعْنًى مُعَيَّنًا، اس لیے کیونکہ جو معرفہ ہوتا ہے، اس کا ایک معین معنی ہوتا ہے۔ معرفہ کا ایک معین معنی ہوتا ہے، وہ ایک معین ذات اور معین چیز پر دلالت کرتا ہے۔ وَالْمَطْلُوبُ الْمُهِمُّ الْكَثِيرُ الْوُقُوعِ فِي الْكَلَامِ، اور وہ جو مطلوب ہوتا ہے، المہم کا معنی اہم، اہم۔ الکثیر الوقوع جو کثرت سے واقع ہو بھئی۔ کہتے ہیں: وَالْمَطْلُوبُ الْمُهِمُّ الْكَثِيرُ الْوُقُوعِ فِي الْكَلَامِ إِنَّمَا هُوَ الْحُكْمُ عَلَى الْأُمُورِ الْمُعَيَّنَةِ، وہ حکم لگانا ہے امورِ معینہ پر۔
بھئی، آپ اگر اپنے کلام میں بھی غور کر لیں۔ میں نے بتایا، مبتدا کے اندر اصل کیا ہے؟ وہ معرفہ ہو اور خبر میں اصل کیا ہے؟ نکرہ ہو۔ اور آسان لفظوں میں، مبتدا وہ ہے جس کے بارے میں بات کی جائے اور خبر وہ ہے جو بات کی جائے۔ آپ اگر اپنے کلام میں بھی غور کر لیں، آپ اکثر جو باتیں کرتے ہیں، کسی معین چیز کے بارے میں کرتے ہیں۔ کس کے بارے میں؟ معین، تو ہم جو حکم لگاتے ہیں، اکثر اکثر اکثر ہم معین چیزوں پر حکم لگاتے ہیں۔ غیر معین پر بہت کم ہم حکم لگاتے ہیں۔
تو معلوم ہوا، متکلم کا اہم مطلوب کیا ہوتا ہے؟ کہ وہ حکم اکثر کس پر لگاتا ہے؟ معین چیز پر حکم لگاتا ہے۔ یہ معنی ہے وَالْمَطْلُوبُ الْمُهِمُّ، اور وہ جو مطلوب ہوتا ہے اہم ہوتا ہے، اور وہ جو اہم مطلوب ہے، کس کا اہم مطلوب؟ متکلم کا، کس کا؟ متکلم بات کر رہا ہے نا، متکلم حکم لگائے گا، تو اس کا اہم مطلوب کیا ہوتا ہے؟ وہ کس پر حکم لگاتا ہے؟ معین پر یعنی معرفہ پر۔ تو کہتے ہیں: وَالْمَطْلُوبُ الْمُهِمُّ الْكَثِيرُ الْوُقُوعِ، یہ سمجھ لو بھئی، الْكَثِيرُ الْوُقُوعِ، الکثیر ہے مضاف، الوقوع ہے مضاف الیہ۔ الکثیر مضاف، الوقوع مضاف الیہ، اس پر آپ کے ذہنوں میں اشکال آئے گا کہ یہ تو مضاف پر بھی الف لام داخل ہے۔ مضاف پر بھی الف لام داخل ہے، حالانکہ مضاف تو نکرہ ہوتا ہے اور اس کی اضافت کی جاتی ہے معرفہ کی طرف اور پھر اس کو معرفہ بناتے ہیں۔ تو یاد رکھنا، صفت کا صیغہ جب مضاف ہو رہا ہو تو اس پر الف لام کا لانا جائز ہے بشرطیکہ آگے مضاف الیہ پر بھی الف لام داخل ہو بھئی۔ توجہ ہے؟ الکثیر پر یہ مضاف ہے، اس پر بھی الف لام لانا جائز بشرطیکہ آگے جو مضاف الیہ ہے، اس پر بھی الف لام ہو اور یہاں آپ دیکھ رہے ہیں کہ جو مضاف الیہ الوقوع ہے، اس پر بھی الف لام داخل ہے۔
تو کہتے ہیں: وَالْمَطْلُوبُ الْمُهِمُّ الْكَثِيرُ الْوُقُوعِ فِي الْكَلَامِ إِنَّمَا هُوَ الْحُكْمُ عَلَى الْأُمُورِ الْمُعَيَّنَةِ، اور وہ جو اہم مطلوب ہے اور کثیر الوقوع ہے کلام کے اندر، وہ حکم لگانا ہے امورِ معینہ پر۔ وَلَكِنَّهُ لَا يَقَعُ نَكِرَةً عَلَى الْإِطْلَاقِ بَلْ إِذَا تَخَصَّصَتْ تِلْكَ النَّكِرَةُ بِوَجْهٍ مَا، یہاں سے آگے انہوں نے کیا بتایا متن میں؟ وَقَدْ يَكُونُ الْمُبْتَدَأُ نَكِرَةً، کبھی کبھار مبتدا نکرہ بھی ہوتا ہے۔ آگے اب صاحبِ جامی بتلا رہے ہیں کہ بھئی نکرہ مبتدا تو بنتا ہے لیکن علی الاطلاق نہیں، یعنی ہر نکرہ مبتدا نہیں بنتا، بَلْ إِذَا تَخَصَّصَتْ بِوَجْهٍ مَا بلکہ جب وہ تخصیص پا جائے کسی وجہ سے تو جب تخصیص آئے گی تو وہ نکرہ معرفہ کے قریب ہو گیا، تو اور القریبُ إلی الشئِ فی حکمِ الشئِ ہوتی ہے، لہذا معرفہ تو مبتدا بنتا ہے تو اب یہ نکرۂ مخصصہ بھی مبتدا بن سکتا ہے۔
تو کہتے ہیں: وَلَكِنَّهُ لَا يَقَعُ نَكِرَةً، لیکن مبتدا جو ہے وہ نکرہ ہو کر واقع نہیں ہوتا عَلَى الْإِطْلَاقِ بھئی، یعنی بغیر کسی قید کے نکرہ مبتدا واقع ہو جائے، ایسا نہیں ہے۔ بَلْ إِذَا تَخَصَّصَتْ تِلْكَ النَّكِرَةُ، بلکہ جب تخصیص پا جائے تِلْكَ النَّكِرَةُ وہ نکرہ۔ بھئی، تَخَصَّصَتْ کے بعد تِلْكَ النَّكِرَةُ صاحبِ جامی لے کر آئے۔ تو یہ ضمیر کا مرجع بتلانا چاہتے ہیں کہ تَخَصَّصَتْ کے اندر هِیَ ضمیر کس کو راجع؟ نکرہ کو راجع۔ توجہ ہے؟ اور تَخَصَّصَتْ کے بعد تِلْكَ النَّكِرَةُ نکال کر ایک تو ضمیر کا مرجع بتلایا اور دوسرا یہ بتلا دیا کہ پیچھے نکرہ ذکر تھا، اور نکرہ کا لفظ دیکھو عبارت میں کیا تھا؟ نکرہ تھا یا معرفہ تھا؟ نکرہ لفظ تھا یا النَّكِرَةُ تھا؟ جی عبارت پہ دیکھو، وَقَدْ يَكُونُ الْمُبْتَدَأُ نَكِرَةً، یہ نکرہ کا لفظ عبارت میں نکرہ ہے بھئی، اس پر الف لام داخل نہیں۔ جب یہ نکرہ ہے، لیکن ایک دفعہ جب ایک چیز ذکر ہو جائے تو وہ متعین ہو جاتی ہے یعنی معرفہ ہو جاتی ہے، اسی لیے آگے کہا: إِذَا تَخَصَّصَتْ تِلْكَ النَّكِرَةُ، دیکھو اب معرفہ لے آئے، کیا لے آئے؟ معرفہ۔ تَخَصَّصَتْ نَكِرَةٌ نہیں کہا۔ توجہ ہے؟ کیا بتلانا چاہتے ہیں؟ کہ تَخَصَّصَتْ میں هِیَ ضمیر کس کو راجع ہے؟ تو بتلایا کہ وہ نکرہ کو راجع، تو کہنا تو یوں چاہیے تھا: إِذَا تَخَصَّصَتْ نَكِرَةٌ، کیونکہ پیچھے کیا آیا تھا؟ نکرہ، لیکن صاحبِ جامی نے کیا کہا؟ تِلْكَ النَّكِرَةُ، معرفہ لے آئے، بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ جب ایک دفعہ چیز ذکر ہو جائے تو وہ کیا ہو جاتی ہے؟ متعین ہو جاتی ہے، معرفہ ہو جاتی ہے، لہذا اب تِلْكَ النَّكِرَةُ وہ معرفہ لے کر آئے۔ تِلْكَ اسمِ اشارہ اور یہ موصوف اور النَّكِرَةُ اس کی صفت، تو وہ والا نکرہ یعنی جس کا ابھی پیچھے ذکر ہوا تھا۔ جیسے دیکھو، میں آپ سے کہتا ہوں: جَاءَنِیْ رَجُلٌ اَمْسِ، اَمْسِ گزشتہ کل۔ جَاءَنِیْ رَجُلٌ اَمْسِ، گزشتہ کل میرے پاس ایک آدمی آیا تھا۔ رَجُلٌ میں نکرہ لایا، کیوں؟ کیونکہ آپ اس کو نہیں جانتے، نہ آپ کو اس کے نام کا پتہ، نہ آپ کو اس کے شکل کا پتہ، نہ آپ کو اس کے کپڑوں کا پتہ، کسی چیز کا پتہ نہیں۔ تو جب آپ کو پہچان نہیں تو میں کیا کہوں گا؟ تو پھر میں کیا لاؤں گا؟ نکرہ ہی لاؤں گا۔ جَاءَنِیْ رَجُلٌ اَمْسِ، دیکھو رَجُلٌ میں نکرہ لایا، لیکن ایک دفعہ جب چیز ذکر ہو جائے تو وہ کیا ہو جاتی ہے؟ متعین، تو آگے میں کہتا ہوں: فَأَكْرَمْتُ الرَّجُلَ، تو پھر میں نے اس آدمی کا اکرام کیا۔ یا فَأَكْرَمْتُ ذٰلِكَ الرَّجُلَ، میں نے اس آدمی کا اکرام کیا۔ توجہ ہے؟ تو اب یہ آگے معرفہ میں لے آیا، پہلے رَجُلٌ نکرہ تھا، اب أَكْرَمْتُ الرَّجُلَ میں معرفہ لے آیا، کیوں معرفہ لایا؟ کیونکہ ایک دفعہ جب چیز ذکر ہو جائے تو وہ کیا ہو جاتی ہے؟ متعین۔ کیا معنی متعین؟ متعین ہونے کا یہ معنی نہیں ہے کہ آپ کو اس آدمی کے نام کا پتہ ہے یا کچھ نہیں بھئی، نام وغیرہ کا تو ابھی بھی آپ کو نہیں پتہ، نہ آپ نے اس کو دیکھا ہے، نہ آپ کو اس کے نام کا پتہ، نہ اس کے کپڑوں کے رنگ کا پتہ، نہ شکل و صورت کا پتہ، میں ابھی بات کر رہا ہوں، جَاءَنِیْ رَجُلٌ اَمْسِ گزشتہ کل میرے پاس ایک آدمی آیا تھا، فَأَكْرَمْتُ الرَّجُلَ تو میں نے اس آدمی کا اکرام کیا، دیکھو میں نے اس آدمی کہا، آپ سمجھ گئے یا نہیں سمجھ گئے؟ کس آدمی کی بات ہو رہی ہے؟ جس کا میں نے ابھی ذکر کیا تھا۔ تو ایک دفعہ جب چیز ذکر ہو جائے تو وہ متعین ہو جاتی ہے، تو یہاں پر بھی صاحبِ جامی تِلْكَ النَّكِرَةُ لائے، حالانکہ پیچھے نکرہ کا لفظ نکرہ تھا اور آگے کیا لائے؟ معرفہ لائے کہ ایک دفعہ جب نکرہ ذکر ہو گیا، اب وہ کیا ہو گیا؟ متعین ہو گیا بھئی۔
تو کہتے ہیں: بَلْ إِذَا تَخَصَّصَتْ تِلْكَ النَّكِرَةُ بِوَجْهٍ مَا، بلکہ جب تخصیص پا جائے وہ نکرہ بِوَجْهٍ مَا کسی بھی وجہ سے مِنْ وُجُوهِ التَّخْصِيصِ تخصیص کی وجہوں میں سے، جب وہ نکرہ تخصیص پا جائے بِوَجْهٍ مَا مِنْ وُجُوهِ التَّخْصِيصِ تخصیص کی وجوہ میں سے کسی بھی وجہ سے، تخصیص کے طریقوں میں سے کسی بھی طریقے سے وہ تخصیص پا جائے إِذْ بِالتَّخْصِيصِ يَقِلُّ اشْتِرَاكُهَا، اس لیے کیونکہ تخصیص کی وجہ سے يَقِلُّ اشْتِرَاكُهَا اس نکرہ کا اشتراک قلیل ہو جائے گا۔
نکرہ کا اشتراک قلیل ہو جائے گا، جیسے میں نے مثال ذکر کی، غلام کا لفظ ہے، دنیا میں 10 لاکھ غلام ہیں اور ان میں سے 1 لاکھ مومن ہیں، تو جب میں نے کہا غلام، تو یہ کتنے پر صادق آ رہا ہے؟ 10 لاکھ پر، اور جب میں نے کہا غُلَامٌ مُؤْمِنٌ، اب یہ کتنے پر صادق آ رہا ہے؟ 1 لاکھ پر، تو دیکھو اس کا اشتراک کم ہو گیا۔ إِذْ بِالتَّخْصِيصِ يَقِلُّ اشْتِرَاكُهَا، اس لیے کیونکہ تخصیص کی وجہ سے نکرہ کا اشتراک قلیل ہو جاتا ہے فَتَقْرُبُ مِنَ الْمَعْرِفَةِ، تو یہ نکرہ جو ہے معرفہ کے قریب ہو جاتا ہے۔
مِثْلُ قَوْلِهِ تَعَالَى، جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَيْرٌ مِّن مُّشْرِكٍ، جی اس کے اندر عَبْدٌ نکرہ ہے اور مُّؤْمِنٌ صفت کے ذریعے اس میں تخصیص آگئی، تو اس کا مبتدا بننا صحیح۔ یہ تخصیص کا پہلا طریقہ ہے اور اس کا کیا نام ہے؟ تخصیص بالصفت بھئی۔
دیکھیے، کہتے ہیں: فَإِنَّ الْعَبْدَ مُتَنَاوِلٌ لِلْمُؤْمِنِ وَالْكَافِرِ، اس لیے کیونکہ عبد کا لفظ یہ شامل ہے مومن کو بھی اور کافر کو بھی۔ بھئی، عبد کا لفظ بولا جائے، یعنی غلام، یہ تو مومن غلام ہو چاہے کافر ہو، سب پر صادق آتا ہے۔ تو کہتے ہیں: فَإِنَّ الْعَبْدَ مُتَنَاوِلٌ لِلْمُؤْمِنِ وَالْكَافِرِ، اس لیے کیونکہ عبد کا جو لفظ ہے، وہ شامل ہے مومن کو بھی اور کافر کو بھی، وَحَيْثُ وُصِفَ بِالْمُؤْمِنِ، اور چونکہ اس کو موصوف کر دیا گیا بِالْمُؤْمِنِ کس لفظ کے ساتھ؟ مومن کے لفظ کے ساتھ، تَخَصَّصَ بِالصِّفَةِ، تو اس نے تخصیص حاصل کر لی صفت کی وجہ سے، اس عبد کے لفظ نے تخصیص پا لی، تخصیص حاصل کر لی صفت کی وجہ سے، فَجُعِلَ مُبْتَدَأً، تو اس کو مبتدا بنا دیا گیا وَخَيْرٌ خَبَرُهُ، اور خَيْرٌ کو اس کی خبر بنا دیا گیا۔ میں نے بتایا تھا گزشتہ سبق میں کہ جَعَلَ دو مفعول چاہتا ہے: جَعَلْتُ الطِّيْنَ كَأْسًا، میں نے مٹی کو گلاس بنا دیا۔ میں نے مٹی اور گارے سے کیا بنا دیا؟ گلاس بنا دیا۔ جَعَلْتُ، یہ تا فاعل ہے اور الطِّيْنَ مفعولِ اول اور كَأْسًا مفعولِ ثانی۔ پھر جب اسی جَعَلَ سے فعلِ مجہول بنائیں گے، تو ایک مفعول نائب الفاعل بن جائے گا اور دوسرا اسی طرح منصوب رہے گا۔ توجہ ہے؟ لہذا یہاں پر بھی اسی طرح ہے: فَجُعِلَ مُبْتَدَأً، جُعِلَ کے اندر هُوَ ضمیر جو راجع ہے کس کو؟ لفظِ عبد کو، فَجُعِلَ، اس کو یعنی لفظِ عبد کو بنا دیا گیا مُبْتَدَأً، کیا بنایا گیا؟ مبتدا۔
تو اب آپ کہیں گے کہ جُعِلَ تو فعل مجہول ہے۔ فعل مجہول کے لیے یہ مفعول آگے منصوب کیسے آیا؟ وہ تو نائب الفاعل بن جاتا ہے۔ تو میں نے بتایا دو مفعول تھے بھئی، دو میں سے ایک کیا بن چکا؟ نائب الفاعل بن چکا ہے لیکن دوسرا اسی طرح منصوب رہے گا۔ فجُعِلَ مبتدءً تو اس عبد کو مبتدا بنا دیا گیا۔ وخیرٌ خبرَہٗ یہ خیرٌ کا عطف ہے جُعِلَ کے اندر جو ھو ضمیر ہے۔
تو یہ بھی جُعِلَ کا نائب الفاعل ہے۔ اور خبرَہٗ اس کا عطف کس پر ہے؟ مبتدءً پر، یہ بھی وہ دو مفعول ہیں جُعِلَ کے بھئی۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ تو خیرٌ نائب الفاعل بن گیا اور خبرَہٗ اسی طرح منصوب رہے گا۔ تو کہتے ہیں وخیرٌ خبرَہٗ اور خیرٌ کو اس کی خبر بنا دیا گیا۔ ومثلُ قولک اور جیسے کہ آپ کا یہ قول ہے: أ رجلٌ فی الدارِ أمِ امرأۃٌ؟
یہ تخصیص کا دوسرا طریقہ آگیا بھئی، تخصیص کا دوسرا طریقہ۔ اس کا نام ہے تخصیص بعلم المتکلم۔ تخصیص بعلم المتکلم، یہاں علم متکلم کی وجہ سے تخصیص آگئی کہ متکلم کو ایک بات کا علم ہے بھئی۔ اور یہ تخصیص بعلم المتکلم کہاں آتی ہے؟ تو یاد رکھنا تخصیص بعلم المتکلم وہاں آتی ہے جہاں ہمزہ استفہام آئے مع ام متصلہ کے۔
جہاں کیا آئے؟ ہمزہ استفہام مع ام متصلہ، یہ جو ام آرہا ہے نا أ رجلٌ فی الدارِ أمِ امرأۃٌ؟ یہ جو ام آیا یاد رکھو یہ ام آگے چل کر صاحب قافیہ آپ کو بتلائیں گے کہ یہ ام دو قسم پر ہے۔ ایک ام کو ام متصلہ کہتے ہیں، ایک ام کو ام منقطعہ کہتے ہیں۔
ام متصلہ اس کے ذریعے دو چیزوں کے درمیان تعیین کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے اور ام منقطعہ، دیکھو انقطع ینقطع کے معنی کٹ جانا۔ ام منقطعہ وہ ہوتا ہے جس کے اندر ام سے پہلے ایک بات کی جاتی ہے اور ام کے بعد دوسری بات کی جاتی ہے، تو دونوں باتیں دیکھو ایک دوسرے سے منقطع ہیں، کٹی ہوئی ہیں۔
ام سے پہلے ایک بات، ام کے بعد کوئی اور بات یعنی پہلی بات کو بالکل چھوڑ دیا جاتا ہے آگے ایک اور الگ بات کر دی جاتی ہے تو اس کو کہتے ہیں ام منقطعہ۔ اور ام متصلہ یہ ہے جو یہاں عبارت میں آیا، اس کے اندر ام سے پہلے اور ام کا ما بعد ایک دوسرے سے کٹے ہوئے نہیں ہیں، ایک دوسرے سے منقطع نہیں ہیں بلکہ اس کے ذریعے دو چیزوں کے درمیان تعیین کا سوال کیا جاتا ہے۔ یعنی ایک ہی بات پوچھی جاتی ہے۔
تو جہ ہے؟ اس کو کیا کہتے ہیں؟ ام متصلہ۔ مثلاً جیسے یہاں آیا: أ رجلٌ فی الدارِ أمِ امرأۃٌ؟ کیا آدمی ہے اس گھر میں یا عورت؟ کیا اس گھر میں آدمی ہے یا عورت؟ یہ آپ سوال کرتے ہیں اور یاد رکھو اس کے ذریعے وہی شخص سوال کرے گا جس کو اتنا پتا ہو کہ اس گھر میں آدمی یا عورت میں سے کوئی ہے۔
آدمی یا عورت میں سے ہے، کوئی اور چیز نہیں ہے اس گھر کے اندر، آدمی یا عورت ہی ہے۔ اب اتنا تو اس کو پتا ہے کہ ان دونوں میں سے ایک ہے لیکن اس کو تعیین نہیں، اس کو متعین طور پر پتا نہیں کہ آدمی ہے یا عورت۔ تو اب وہ آپ سے سوال کرتا ہے: أ رجلٌ فی الدارِ أمِ امرأۃٌ؟ کیا اس گھر کے اندر آدمی ہے یا عورت؟
تو اب آپ جواب میں نعم یا لا نہیں کہہ سکتے۔ نعم کا کیا معنی؟ ہاں! یعنی اس گھر میں آدمی یا عورت ہی ہے۔ بھئی نعم کہنے کا تو کوئی فائدہ ہی نہیں، اتنا تو اس کو بھی پتا ہے کہ آدمی یا عورت ہی میں سے ایک ہے۔ تو آپ کے نعم نے کوئی اور فائدہ دیا؟ نہیں، یہ تو اس کو پہلے ہی پتا تھا کہ آدمی یا عورت میں سے ایک ہے۔ لہذا یہاں نعم کے ساتھ جواب نہیں دیا جا سکتا یا لا کے ساتھ جواب نہیں دے سکتے بلکہ تعیین کرنا پڑے گی۔
اتنا اس کو بھی پتا ہے ان دو میں سے ایک ہے، اب وہ صرف تعیین کے لیے سوال کر رہا ہے کہ مجھے متعین کر کے بتا دو کہ ان دونوں میں سے کون ہے اس گھر کے اندر۔ اور نیز لا کے ساتھ بھی جواب نہیں دیا جا سکتا اس لیے کیونکہ اگر آپ کہتے ہیں کہ نہیں ان دونوں میں سے کوئی بھی نہیں ہے تو اس صورت میں تو متکلم کا علم غلط ہو جائے گا حالانکہ متکلم کو علم ہے کہ انہی دو چیزوں میں سے کوئی ایک چیز اس گھر میں ہے بھئی۔
یا جیسے دوسری مثال لے لو: أ زیدٌ فی الدارِ أم عمرٌو؟ کیا اس گھر میں زید ہے یا عمر ہے؟ آپ کہتے ہیں نعم! بھئی نعم جواب دینے کا فائدہ ہی کوئی نہیں، یہ تو اس کو پہلے بھی پتا ہے، وہ صرف تعیین چاہتا ہے، یہ مجھے بتاؤ زید ہے یا عمر؟ مجھے اتنا تو مجھے بھی پتا ہے کہ ان دو میں سے ایک ہے لیکن کون سا والا اس گھر کے اندر ہے مجھے وہ تعیین کر کے بتا دو۔
تو لیکن یہاں زید اور عمر کی مثال ذکر نہیں کی بلکہ رجل اور امرأة کو ذکر کیا کیونکہ بات کس کی چل رہی ہے؟ نکرہ کی جس کو مبتدا بنایا جائے تخصیص کی وجہ سے اور زید اور عمر تو معرفہ ہیں بھئی۔ تو یہاں اس نکرہ کی بات کی جو تخصیص کی وجہ سے مبتدا بن سکے۔ تو أ رجلٌ فی الدارِ أمِ امرأۃٌ؟ اس کے اندر رجلٌ نکرہ ہے اور یہ مبتدا بن رہا ہے اور آگے أمِ امرأۃٌ، امرأة کا عطف بھی اسی رجل پر ہے بھئی۔
تو یہاں تخصیص آگئی بھئی اور تخصیص کس کی وجہ سے آئی؟ علم متکلم کی وجہ سے کہ اس کو اتنا علم ہے کہ انہی دو میں سے کوئی ایک چیز ہے بھئی۔ تو اس تخصیص کا کیا نام؟ تخصیص بعلم المتکلم بھئی! اور یہ کہاں آتی ہے؟ جہاں ہمزہ استفہام آئے ام متصلہ کے ساتھ بھئی۔
تو کہتے ہیں ومثلُ قولک اور جیسے کہ آپ کا یہ قول ہے: أ رجلٌ فی الدارِ أمِ امرأۃٌ؟ کیا کوئی آدمی ہے اس گھر میں یا عورت؟ فإن المتکلم بہٰذا الکلامِ یعلمُ اس لیے کیونکہ وہ شخص جو متکلم ہے اس کلام پر یعنی وہ شخص جو یہ کلام کرنے والا ہے یعلمُ وہ جانتا ہے أن أحدہما فی الدارِ کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک اس گھر میں ہے فیسألُ المخاطبَ عن تعیینہِ تو وہ مخاطب سے سوال کرتا ہے عن تعیینہِ اس کی تعیین کے بارے میں۔
کہ کون ہے اس گھر کے اندر ان دو میں سے۔ فکأنہ قال تو گویا کہ اس نے یوں کہا: أيٌّ من الأمرینِ المعلومِ کونُ أحدہما فی الدارِ کائنٌ فیہا؟ جی یہ عبارت سمجھ لیں بھئی، یہ مشکل عبارت ہے بھئی۔
سب سے پہلے یاد رکھو، یاد رکھو ایک ہے صفت بحالہٖ اور ایک ہے صفت بحال متعلقہٖ۔ ایک ہے صفت بحالہٖ اور ایک ہے صفت بحال متعلقہٖ، یہ ایک دو مثالیں ذرا اپنے سامنے کاپی پر لکھیے پھر آپ کو بات سمجھ میں آئے گی بھئی، لکھیے بھئی: جائني رجلٌ عالمٌ۔ جائني رجلٌ عالمٌ۔
جی اب ترکیب پہ ذرا نظر رکھو، جاء فعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، رجلٌ مرفوع لفظاً موصوف، مرفوع کیوں؟ کہ یہ فاعل ہے جاء کے لیے، اور عالمٌ مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل، مرفوع کیوں؟ کیونکہ یہ صفت ہے، رجل ہے موصوف اور عالم ہے اس کی صفت اور موصوف صفت کا اعراب ایک ہی ہوتا ہے، تو عالمٌ مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل، اس کے اندر ھو ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع؟
شاباش! یہ ضمیر رجل کو راجع ہے اس لیے کیونکہ صفت کو موصوف سے جوڑتے ہیں اور یہ صفت جو ہے شبہ جملہ ہے، شبہ جملہ اور جس طرح جملے کو کسی چیز سے جوڑنا ہو تو ربط ضروری اسی طرح شبہ جملے کو بھی کسی چیز سے جوڑنا ہو تو ربط ضروری ہے۔ تو عالمٌ اسم فاعل جو ہے وہ اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت، موصوف صفت مل کر یہ فاعل ہوا جاء کے لیے، جاء فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ جائني رجلٌ عالمٌ، آیا میرے پاس ایسا آدمی جو کہ عالم ہے، یا یوں کہیں: میرے پاس عالم آدمی آیا۔
میرے پاس عالم آدمی آیا، اب ذرا لفظوں پہ ذرا غور کرو، رجلٌ ہے موصوف اور عالمٌ ہے اس کی صفت۔ اور مجھے بتائیے یہ عالم ہونے کا معنی رجل میں ہے یا کسی اور چیز میں؟ رجل ہی میں ہے تو اس کو کہتے ہیں صفت بحالہٖ۔ یہ لفظ لکھ لو بھئی: الصِفَۃُ بِحَالِہٖ، یہ لفظ لکھیں ذرا اپنے سامنے۔ الصِفَۃُ بَالِہٖ۔
الصِفَۃُ بِحَالِہٖ اور یہ ھا ضمیر راجع ہے موصوف کو یعنی الصِفَۃُ بِحَالِ المَوصُوفِ، یعنی وہ صفت جو اپنے موصوف کی حالت بیان کرتی ہے۔ رجلٌ عالمٌ، رجلٌ موصوف تھا اور عالمٌ اس کی صفت ہے اور یہاں عالم ہونے کا معنی کس کے اندر ہے؟ رجل کے اندر ہے تو یہ عالم ہونا اپنے موصوف کی حالت بیان کر رہا ہے۔ یہ لفظِ عالم کس کی حالت بیان کر رہا ہے؟ رجل کی کہ رجل عالم ہے، کوئی اور عالم نہیں۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ صفت بحالہٖ، اور یہ ھا ضمیر کس کو راجع؟ موصوف کو یعنی صفت بحال الموصوف یعنی وہ صفت جو اپنے موصوف کی حالت بیان کرے۔
اسی طرح دوسری مثال لکھیے: زیدٌ عالمٌ۔ زیدٌ عالمٌ۔
ترکیب کیجیے: زیدٌ مرفوع لفظاً مبتدا، عالمٌ مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل، اس کے اندر ھو ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جو کس کو راجع؟ زید کو کیونکہ خبر کو مبتدا سے جوڑتے ہیں، تو اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر یہ خبر زید کے لیے، اور مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ اب اس میں بھی دیکھو، یہ عالمٌ لفظوں میں خبر کس کی؟ زیدٌ عالمٌ میں عالمٌ لفظوں میں خبر کس کی؟ زید کی، اور معنی میں بھی یہ زید کی خبر ہے، یہ عالم ہونے کی صفت کس میں پائی جا رہی ہے؟ زید میں پائی جا رہی ہے کہ زید عالم ہے، تو یاد رکھو یہ بھی صفت بحالہٖ ہے۔
یہ جو زیدٌ عالمٌ میں عالمٌ آیا، یہ بھی کیا ہے؟ صفت بحالہٖ ہے۔ آپ کہیں گے یہ تو صفت نہیں ہے، یہ تو خبر ہے۔ تو یاد رکھنا بھئی، خبر بھی صفت ہی ہوتی ہے۔ یہ خبر بھی صفت ہی ہوتی ہے۔ بھئی پچھلا جملہ کیا آیا تھا؟ جائني رجلٌ عالمٌ، میرے پاس ایسا آدمی آیا جو کہ عالم ہے، تو عالم ہونے کا معنی کس میں تھا؟ اسی رجل میں تھا، تو وہ صفت بحالہٖ ہے۔ اسی طرح جب میں نے کہا زیدٌ عالمٌ، زید عالم ہے، اس سے بھی کیا پتا چلا کہ عالم ہونے کا معنی کس میں ہے؟ زید میں ہے، تو یہ جو خبر ہوتی ہے یہ بھی دراصل صفت ہوتی ہے۔
یہ بھی یہ دراصل صفت ہے، ہاں چونکہ آپ کو پتا نہیں تھا اس لیے میں خبر کی صورت میں لایا، جب آپ کو پتا لگ گیا اب یہ صفت بن گئی۔ تو ہر صفت قبل العلم خبر ہوگی اور بعد العلم صفت بن جائے گی۔
آپ کو پتا نہیں تھا کہ زید عالم ہے۔ تو یہ قبل العلم اب میں زیدٌ عالمٌ میں عالمٌ کو خبر کی صورت میں لاؤں گا کیونکہ آپ کو علم نہیں ہے، آپ کو خبر نہیں ہے۔ اور جب آپ کو ایک دفعہ پتا چل گیا اب یہ صفت بن جائے گی، اب میں آپ سے کہوں گا: جائني زیدٌ العالِمُ، میرے پاس وہ زید آیا جو عالم تھا، زیدٌ موصوف، العالِمُ اس کی صفت۔ تو یہ عالم جب تک آپ کو پتا نہیں تھا، جب میں نے ذکر کیا تو کس صورت میں ذکر کیا؟
خبر کی صورت میں، اور جب آپ کو پتا لگ گیا اب وہ کیا بن گئی؟ صفت بن گئی، اب میں اس کو صفت کے طور پر ذکر کروں گا کہ جائني زیدٌ العالِمُ، وہ زید جو عالم ہے۔ تو حاصلِ کلام کیا؟ کہ خبر جو ہوتی ہے وہ بھی دراصل کیا ہوتی ہے؟ صفت۔ ہاں وہ قبل العلم خبر ہے وہی صفت اور بعد العلم وہ کیا ہے؟ صفت ہے بھئی، تو یہ بھی صفت بحالہٖ ہے، زیدٌ عالمٌ میں یہ جو عالمٌ ہے یہ بھی کیا ہے؟ صفت بحالہٖ ہے یعنی یہ اپنے موصوف کی حالت بیان کر رہی ہے، یعنی مبتدا کی۔
اور کبھی کبھار صفت جو ہے بحال متعلقہٖ ہوتی ہے جیسے اس کی مثال لکھیے بھئی، لکھیے بھئی: جائني رجلٌ عالمٌ أبُوہُ۔ جائني رجلٌ عالمٌ أبُوہُ۔
ترکیب کیجیے: جاء فعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، رجلٌ مرفوع لفظاً موصوف، عالمٌ مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل، یہ مرفوع کیوں ہے؟ کیونکہ یہ صفت ہے رجل کی، جی تو عالمٌ مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل، آگے؟ یہ أبُوہُ آگے کیا بنے گا؟
ہاں، مضاف مضاف الیہ مل کر یہ کیا بنیں گے؟ یہ عالمٌ کے لیے فاعل بنیں گے، جیسے فعل کے لیے فاعل کبھی اسم ظاہر آتا ہے کبھی ضمیر، صفت کے صیغے کے لیے بھی فاعل کبھی اسم ظاہر آتا ہے اور کبھی ضمیر، تو یہ أبُوہُ یہ مضاف مضاف الیہ مل کر یہ اسمِ ظاہر فاعل بن گیا عالمٌ کے لیے، اب عالمٌ کے اندر کوئی ضمیر نہیں، تو عالمٌ مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل، أبُوہُ میں أبو مرفوع لفظاً مضاف، مرفوع کیوں؟ کیونکہ یہ فاعل ہے، فاعل مرفوع ہوتا ہے۔ اور یہ مضاف ہے آپ کو کیسے پتا چلا؟
کیونکہ یہ اسم کے ساتھ ضمیر متصل ہے، جس اسم کے ساتھ بھی ضمیر متصل آجائے وہ آپس میں کیا بنتے ہیں؟ مضاف مضاف الیہ۔ ھا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، اور یہ کس کو راجع؟ ھا ضمیر رجل کو راجع ہے کیونکہ ربط دینا ہے، ربط دینا ہے اور تو کوئی ضمیر ہے نہیں، اور عالمٌ أبُوہُ اس سارے نے صفت بننا ہے کس کی؟ رجل کی، اور عالمٌ کے اندر تو ھو ضمیر تھی نہیں تو اب ربط تو ابھی بھی نہیں آیا تو اب یہ ھا ضمیر رجل کو راجع ہے۔
جی، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ فاعل ہوا عالمٌ کے لیے، عالمٌ صیغہ اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت، موصوف صفت مل کر فاعل ہوا بھئی، اور فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا: جائني رجلٌ عالمٌ أبُوہُ، ترجمہ سنو: آیا میرے پاس ایسا آدمی عالمٌ أبُوہُ کہ عالم ہے اس کا ابو، کہ عالم ہے اس کا ابو۔ اب دیکھو، دیکھو یہ عالمٌ صفت کس کی؟ لفظوں میں صفت کس کی؟ رجل کی، رجل موصوف ہے اور عالمٌ أبُوہُ سارا اس کی صفت۔
تو عالمٌ لفظوں میں تو صفت ہے رجل کی، لیکن معنی کے اعتبار سے آپ دیکھیں، یہ عالم ہونے کا معنی رجل میں پایا جا رہا ہے یا اس کے ابو میں؟ اس کے ابو میں، تو یہ صفت بحالہٖ نہیں ہے بلکہ یہ صفت بحال متعلقہٖ ہے۔ جی، یہ لفظ بھی لکھیں اب اس کے یہاں پر: الصِفَۃُ بِحَالِ مُتَعَلِّقِہٖ۔ الصِفَۃُ بِحَالِ مُتَعَلِّقِہٖ۔
اور یہ متعلقہٖ کی ھا ضمیر راجع ہے موصوف کو۔ الصِفَۃُ بِحَالِ مُتَعَلِّقِہٖ، وہ صفت جو اپنے موصوف کے متعلق کی حالت بیان کرے، توجہ ہے؟ صفت بحالہٖ کا کیا معنی تھا؟ وہ صفت جو اپنے موصوف کی حالت بیان کرے اور صفت بحال متعلقہٖ کیا معنی؟ وہ صفت جو اپنے موصوف کے متعلق کی حالت بیان کرے۔ یہاں پر بھی عالمٌ لفظوں میں تو صفت ہے رجل کی، لیکن معنی کے اعتبار سے وہ رجل کی حالت نہیں بیان کر رہی بلکہ رجل کے متعلق یعنی اس کے ابو کی حالت بیان کر رہی ہے، اور آدمی کا باپ اس کا متعلق ہے یعنی اس کے ساتھ اس کا تعلق ہے بھئی، وہ اس کا باپ ہے بھئی۔
تو صفت کتنی قسم پر ہوگئی؟ ایک صفت بحالہٖ اور ایک صفت بحال متعلقہٖ۔ صفت بحالہٖ کسے کہتے ہیں؟ کہ جو لفظوں میں جس کی صفت ہو معنی میں بھی اسی کی صفت ہو۔ پہلی مثال پہ ذرا نظر رکھو: جائني رجلٌ عالمٌ، جائني رجلٌ عالمٌ، عالمٌ لفظوں میں کس کی صفت؟ رجل کی، اور معنی میں بھی رجل کی صفت ہے، یہ عالم ہونے کا معنی اسی رجل میں پایا جا رہا ہے۔ اور دوسری صفت پہ نظر رکھو: جائني رجلٌ عالمٌ أبُوہُ، یہ عالمٌ لفظوں میں صفت کس کی؟ رجل کی، لیکن معنی میں صفت کس کی ہے؟ ابو الرجل کی، اس آدمی کے باپ کی صفت۔
تو صفت گویا دو قسم پر ہوگئی: ایک صفت بحالہٖ اور ایک صفت بحال متعلقہٖ۔ یہ تو تھا صفت میں، اور اسی طرح میں نے بتایا خبر بھی صفت کے درجے میں ہے لہذا وہاں بھی کیا مثال بن جائے گی؟ زیدٌ عالمٌ أبُوہُ، وہاں بھی أبُوہُ لے آئیں۔ تو اب عالمٌ لفظوں میں خبر کس کی؟ زیدٌ عالمٌ أبُوہُ، یہ عالمٌ لفظوں میں خبر کس کی؟ زید کی، یعنی لفظوں میں یہ صفت بن رہی ہے زید کی لیکن معنی میں صفت کس کی ہے؟ زید کے ابو کی!
ایک دو مثالیں اور لکھ لیں پھر بات آپ کو پوری طرح سمجھ میں آجائے گی۔
زیدٌ عالمٌ بنُوہُ۔
زیدٌ عالمٌ بنُوہُ۔
بنُوہُ، یہ اصل میں تھا بنُون بھئی، یہ جمع ہے ابنٌ کی، ابنٌ کی جمع کیا؟ بنُون، اور پھر اضافت کی وجہ سے نون گر گیا۔
ہا ضمير کی طرف اضافت ہوئی نا، بنوه۔ تو بنون کا کیا معنی؟ بیٹے! تو، زيد عالم بنوه، زید کہ عالم ہیں بنوه اس کے بیٹے- ترجمہ سمجھ میں آرہا ہے؟
تو، زيد عالم بنوه، اس کے اندر جو عالم آیا، یہ لفظوں میں خبر یعنی لفظوں میں صفت ہے کس کی؟ زید کی اور معنیٰ میں یہ صفت ہے کس کی؟ بنوه یعنی زید کے بیٹوں کی، اور آپ دیکھ رہے ہیں بنوه جمع ہے- جمع ہے لیکن عالم مفرد ہے، کیوں؟ ہاں شاباش! کیونکہ جب اسم ظاہر فاعل ہو تو فعل اور صفت کے صیغے کو ہمیشہ مفرد رکھتے ہیں۔
تو جب یہ صفت بحال متعلقہ ہوگی، تو پھر یہ ہمیشہ مفرد رہے گی۔ یہ صفت بحال متعلقہ، تو جب بھی ہوگی یہ مفرد رہے گی کیونکہ آگے اس کا فاعل اسم ظاہر آئے گا اور اسم ظاہر تبھی فاعل بن سکتا ہے جب صفت کا صیغہ مفرد ہو۔ مثلاً اور مثال بناؤ، الزيدان عالم بنوهما۔ الزيدان عالم بنوهما۔
دیکھو، الزيدان یہ ہے مبتدا اور عالم یہ کیا ہے اس کی خبر؟ اور بنوهما یہ کیا ہے؟ بنوهما یہ فاعل ہے کس کے لیے؟ عالم کے لیے۔ الزيدان وہ جو دو زید ہیں، عالم بنوهما ان دونوں کے بیٹے عالم ہیں۔ اب یہاں بنوهما دیکھو جمع ہے اور عالم کو مفرد لائے، کیوں مفرد لائے؟ کیونکہ جب فاعل اسم ظاہر ہو تو فعل یا صفت کے صیغے کو مفرد رکھتے ہیں۔
نیز، آپ غور کریں الزيدان مبتدا ہے تثنیہ اور عالم یہ اس کی خبر ہے لیکن یہ مفرد ہے۔ یہ مفرد ہے۔ تو اب آپ یہ اعتراض نہ کریں کہ تثنیہ کے لیے تو خبر تثنیہ آنی چاہیے، وجہ یہ کہ یہ صفت بحالہ نہیں ہے بلکہ یہ کیا ہے؟ صفت بحال متعلقہ، اور وہ ہمیشہ مفرد رہتی ہے کیونکہ آگے اس کا فاعل اسم ظاہر آرہا ہوتا ہے اور اسم ظاہر تبھی اس کے لیے فاعل بنے گا جب صفت کا صیغہ مفرد ہو۔
تو لہٰذا، یہ جو صفت بحال متعلقہ ہے، یہ اپنے موصوف کے مطابق نہیں ہوتی، یہ ہمیشہ مفرد رہتی ہے۔ موصوف چاہے مفرد ہو، تثنیہ ہو، جمع ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، صفت بحالہ ہمیشہ کیا رہے گی؟ مفرد رہے گی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ ایک اور مثال لکھیے۔ زيد عالمة أمه، زيد عالمة أمه۔
جی، ترکیب کیا ہوگی؟ زید مرفوع لفظاً مبتدا، عالمة مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل، أمه مضاف مضاف الیہ مل کر یہ اس عالمة کا فاعل اور أمه کی ہا ضمیر کس کو راجع؟ زید کو، اس کے ذریعے ربط آگیا خبر کا مبتدا سے۔ خبر کو کس سے جوڑتے ہیں؟ مبتدا سے۔
تو أمه مضاف مضاف الیہ مل کر فاعل، عالمة صیغہ اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا- زيد عالمة أمه، ترجمہ کیا؟ زید کہ عالما ہے اس کی ماں، یعنی زید کی ماں عالما ہے۔
اب دیکھو، اب آپ کے ذہن میں یہ اشکال نہ آئے کہ زید تو ہے مذکر اور عالمة اس کی خبر تو مؤنث ہے، وجہ یہ کہ یہ صفت بحال متعلقہ ہے اور یہ اپنے فاعل کے مطابق مذکر مؤنث آتی ہے۔ فاعل اگر مذکر ہو، أبوه ہو تو عالم لائیں گے اور فاعل مؤنث یعنی أمه ہے تو عالمة مؤنث لائے۔
تو حاصل کلام یہ صفت بحال متعلقہ جو ہے، وہ ہمیشہ مفرد رہے گی چاہے اس کا موصوف مفرد ہو، تثنیہ ہو یا جمع۔ صفت بحال متعلقہ ہمیشہ مفرد رہے گی کیونکہ آگے اس کا فاعل اسم ظاہر آرہا ہے اور فاعل اسم ظاہر ہو تو فعل یا صفت کے صیغے کو ہمیشہ مفرد رکھتے ہیں۔
اور نیز، صفت بحال متعلقہ، وہ مفرد یا مذکر آئے گی اپنے فاعل کے اعتبار سے نہ کہ اپنے موصوف کے اعتبار سے۔ موصوف مذکر ہو اور فاعل مؤنث ہو، تو صفت بحال متعلقہ کو اپنے فاعل کے مطابق مؤنث لائیں گے، جیسے اس مثال میں، زيد عالمة أمه۔ یہ عالمة خبر کس کی؟ زید کی، لیکن اس کا فاعل کیا ہے؟ أمه ہے، وہ مؤنث ہے تو عالمة مؤنث لے کر آئے۔
تو معلوم ہوا صفت بحال متعلقہ، یہ ہمیشہ کیا رہے گی؟ مفرد رہے گی، یہ اپنے موصوف کے مطابق تثنیہ یا جمع نہیں آئے گی اور نیز، یہ اپنے فاعل کے مطابق مذکر یا مؤنث آئے گی۔ اگر اس کا فاعل مذکر ہوا تو یہ صفت مذکر ہوگی، اگر اس کا فاعل مؤنث ہوا تو یہ صفت مؤنث ہوگی۔
ہاں، دو چیزوں کے اندر یہ اپنے موصوف کے مطابق ہوگی، دو چیزوں میں: ایک، تعریف و تنکیر میں۔ موصوف اگر معرفہ ہو تو صفت بھی ہمیشہ کیا ہوتی ہے؟ معرفہ۔ اور دوسرا، اعراب کے اندر۔ موصوف پر جو اعراب ہوتا ہے، وہی اعراب کس پر ہوتا ہے؟ صفت۔
توجہ ہے؟ زيد عالمة أمه، یہ تو ہم نے مبتدا خبر کی مثال کی، کون سی مثال کی؟ مبتدا خبر والی، لیکن ہے یہ بھی صفت ہی۔ موصوف صفت باقاعدہ موصوف صفت ذرا لے آؤ، جاءني رجل عالمة أمه، جاءني رجل عالمة أمه۔ رجل موصوف اور عالمة أمه اس کی صفت۔ اب دیکھو، دونوں کا اعراب ایک ہے، رجل بھی مرفوع اور عالمة بھی مرفوع۔
نیز، نیز، رجل نکرہ اور تو عالمة بھی نکرہ ہے۔ دیکھو، رجل عالمة أمه، یہ صفت بحال متعلقہ ہے۔ یہ اپنے موصوف کے ساتھ مطابق ہوتی ہے دو چیزوں میں: ایک اعراب میں، اور دوسرا تعریف و تنکیر میں۔ اور دو چیزوں کے اندر یہ اپنے موصوف کے مطابق نہیں ہوتی، کون سی دو چیزیں؟ ایک، مفرد تثنیہ اور جمع ہونے میں، یہ اپنے موصوف کے مطابق نہیں ہوگی بلکہ ہمیشہ مفرد رہے گی کیونکہ اس کا فاعل آگے اسم ظاہر آرہا ہے۔ اور نیز، یہ مذکر مؤنث ہونے میں بھی اپنے موصوف کے مطابق نہیں رہے گی بلکہ اپنے فاعل کے مطابق آئے گی۔
یہ تھی صفت بحال متعلقہ، جبکہ ایک ہوتی ہے صفت بحالہ، وہ تمام چیزوں میں اپنے موصوف کے مطابق ہوتی ہے۔ جاءني رجل عالم، رجل پر رفع تو عالم پر بھی رفع، رجل نکرہ تو عالم بھی نکرہ، رجل مفرد تو عالم بھی مفرد، اور رجل مذکر تو عالم بھی- تو یہ صفت مذکر ہوگی۔
پھر دہرائیں، پھر دہرائیں۔ صفت بحالہ، صفت بحالہ کتنی چیزوں میں اپنے موصوف کے مطابق ہوتی ہے؟ چار چیزوں میں: اعراب میں، تعریف و تنکیر میں، مفرد تثنیہ اور جمع ہونے میں، اور مذکر مؤنث ہونے میں- چاروں چیزوں میں صفت بحالہ اپنے موصوف کے مطابق آئے گی اور ایک صفت بحال متعلقہ ہے، وہ دو چیزوں میں اپنے موصوف کے مطابق ہوگی اور دو چیزوں میں مطابق نہیں- کون سی دو چیزوں میں مطابق ہوگی؟ اعراب میں اور تعریف و تنکیر میں۔ اور کن دو چیزوں میں مطابق نہیں ہوگی؟ افراد، تثنیہ اور جمع میں مطابق نہیں ہوگی بلکہ یہ ہمیشہ مفرد رہے گی، اور نیز تذکیر و تانیث میں بھی یہ اپنے موصوف کے مطابق نہیں بلکہ اپنے فاعل کے مطابق ہوگی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ اب آئیے عبارت پر بھئی۔
دیکھیے بھئی، فإن المتکلم بهذا الکلام يعلم، اس لیے کیونکہ یہ کلام کرنے والا متکلم جانتا ہے، أن أحدهما في الدار، کہ ان دونوں میں سے ایک اس گھر میں ہے، فيسأل المخاطب عن تعيينه، تو وہ مخاطب سے پوچھتا ہے اس ایک کی تعین کے بارے میں، فکأنه قال، تو گویا کہ متکلم نے یوں کہا، أي من الأمرين المعلوم کون أحدهما في الدار کائن فيها- میں نے بتایا تھا یہ عبارت مشکل ہے، بھئی اتنی لمبی تقریر کی یہ سمجھانے کے لیے- دیکھو، أي من الأمرين، الأمرين ہے موصوف- الأمرين موصوف، اور المعلوم یہ اس کی صفت ہے۔ الأمرين پر من داخل ہے مجرور ہے، تو المعلوم یہ بھی کیا ہے؟ مجرور۔
اور یاد رکھو، یہ المعلوم یہ صفت بحال متعلقہ ہے، اور اس کی مطابقت ہوتی ہے اپنے موصوف کے ساتھ دو چیزوں میں: ایک اعراب میں، تو دیکھو الأمرين مجرور ہے تو المعلوم بھی کیا ہے؟ مجرور۔ اور نیز، مطابقت ہوتی ہے تعریف و تنکیر میں، الأمرين معرفہ تو المعلوم بھی کیا ہے؟ معرفہ۔ اور دو چیزوں میں مطابقت نہیں ہوتی: ایک افراد، تثنیہ اور جمع میں، الأمرين موصوف ہے تثنیہ، لیکن المعلوم ہمیشہ جو صفت بحال متعلقہ ہے وہ مفرد رہے گا۔ اور نیز، تذکیر و تانیث میں بھی مطابقت نہیں ہوتی بلکہ آگے آنے والے اسم ظاہر کے مطابق تذکیر و تانیث ہوگی، اور المعلوم کا فاعل آگے آرہا ہے کون أحدهما، یہ کون مصدر اس کا فاعل ہے۔
اور کون تو مذکر ہے، اس لیے المعلوم یہ بھی مذکر ہے بھئی۔ اگر یہ مؤنث فاعل ہوتا تو یہ المعلوم کا لفظ بھی کیا ہوتا؟ مؤنث ہوتا بھئی۔ اب دیکھیے، فکأنه قال، گویا کہ متکلم نے یہ کہا، أي من الأمرين، کہ ان دو چیزوں میں سے کون سی ہے؟ ان دو چیزوں میں سے کون سی ہے؟ درمیان کی عبارت چھوڑ دیں، کائن فيها أي ثابت فيها، یہ خبر ہے۔
یہ خبر ہے۔ درمیان میں المعلوم کون أحدهما في الدار، ذرا اس عبارت کو نکال دیں- أي من الأمرين کائن فيها، ان دو چیزوں میں سے کون سی چیز ہے کائن فيها أي ثابت فيها اس گھر میں ثابت؟ ان دو چیزوں میں سے کون سی چیز اس گھر میں ثابت ہے؟ بھئی ان دو چیزوں میں سے، کون سی ہیں یہ دو چیزیں؟ کہتے ہیں المعلوم کون أحدهما في الدار، کہ جن میں سے ایک کا اس گھر میں ہونا معلوم ہے۔ یہ دو چیزیں کہ جن میں سے ایک کا اس گھر میں ہونا معلوم ہے، ان میں سے کون سی چیز کائن فيها اس گھر میں موجود ہے، اس گھر میں ثابت ہے؟ بات سمجھ میں آگئی؟ عبارت سمجھ میں آگئی؟
بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ یہاں تخصیص جو آئی ہے وہ علم متکلم کی وجہ سے آئی ہے۔ متکلم جن دو امروں کا سوال کر رہا ہے، ان دو میں سے ایک کا اس گھر میں ہونا معلوم ہے لیکن وہ کون سا ہے صرف تعین نہیں ہے کہ ہیں ان دونوں میں سے ایک ہی، لیکن تعین نہیں ہے، ذرا آپ مجھے متعین کر کے بتا دیں کون سا والا ہے بھئی۔
فکأنه قال، تو گویا کہ متکلم نے یہ کہا، أي من الأمرين، کہ وہ جو دو امر ہیں، وہ جو دو چیزیں ہیں، المعلوم کون أحدهما في الدار، کہ معلوم ہے ان دونوں میں سے ایک کا اس گھر میں ہونا، وہ دو چیزیں کہ ان دونوں میں سے ایک کا اس گھر میں ہونا معلوم ہے، ان دو چیزوں میں سے کون سی چیز جو ہے کائن فيها أي ثابت فيها، وہ اس گھر میں ثابت ہے؟ أي موجود فيها، اس گھر میں موجود ہے؟ فکل واحد منهما تخصَّص بهذه الصفة، تو ان میں سے ہر ایک جو ہے اس نے تخصیص پا لی، اس نے تخصیص حاصل کر لی بهذه الصفة اس صفت کی وجہ سے۔
دونوں میں سے ہر ایک نے تخصیص حاصل کر لی، دونوں میں سے کیا معنیٰ؟ بھئی آیا نا أ رجل في الدار أم امرأة؟ رجل ہے مبتدا اور أم امرأة، یہ امرأة کا اسی پر عطف ہے بھئی، اور معطوف کا وہی حکم ہوتا ہے جو کس کا ہوتا ہے؟ معطوف علیہ۔ تو معلوم- تو ان دونوں میں سے ہر ایک میں تخصیص آگئی اس صفت کی وجہ سے، کون سی صفت؟
کہ اس گھر میں ان دونوں میں سے ایک کا ہونا معلوم ہے، یا یہ رجل یا یہ امرأة- ان دونوں میں سے ایک کا اس گھر میں ہونا معلوم ہے، یا تو یہ ہے یا یہ ہے، تو گھر میں ہونا معلوم، دیکھو صفت آگئی یا نہیں؟ رجل رجل یا امرأة، ان میں سے ایک کا اس گھر میں ہونا معلوم ہے، تو یہ معلوم ہونا ان کی صفت ہو گئی، بات سمجھ میں آگئی۔
تو کہتے ہیں فکل واحد منهما تخصَّص بهذه الصفة، تو ان دونوں میں سے ہر ایک جو ہے اس نے تخصیص حاصل کر لی اس صفت کی وجہ سے، کون سی صفت؟ کہ ان کا اس گھر میں ہونا معلوم ہے۔ فجُعل رجل مبتدأً، تو رجل کو مبتدا بنا دیا گیا، وفي الدار خبرَه، اور في الدار کو اس کی خبر بنا دیا گیا۔
بس بھئی، حاصل کلام یہ کہ آج ہم نے تخصیص کے دو طریقے پڑھے بھئی۔ تخصیص کے پہلے طریقے کا کیا نام؟ تخصیص بالصفت، کہ یعنی نکرہ کی صفت لا کر اس میں تخصیص پیدا کر دی جائے، اور صفت لانے سے اشتراک کم ہو جاتا ہے۔ اور اسی طرح تخصیص کا دوسرا طریقہ کیا ہے؟ تخصیص بعلم المتکلم، اور یہ تخصیص بعلم المتکلم کہاں آتی ہے؟ جہاں ہمزہ استفہام آئے کس کے ساتھ؟ أم متصلہ کے ساتھ، اور یہاں تخصیص آتی ہے علم متکلم کی وجہ سے۔ بھئی کس طرح علم متکلم کی وجہ سے تخصیص آئی؟ کہ متکلم کو یہ علم ہوتا ہے کہ ان ہی دو چیزوں میں سے کوئی ایک اس گھر کے اندر ہے۔ اب وہ اس سوال کے ذریعے صرف تعین کو طلب کرتا ہے، لہٰذا اس سوال کا جواب نعم یا لا کے ساتھ نہیں دیا جا سکتا بلکہ تعین کے ساتھ ہی جواب دینا پڑے گا۔
اس پر ایک اشکال ہوتا ہے کہ یہ تو تعین متکلم کے نزدیک ہے حالانکہ متکلم کے نزدیک تعین معتبر نہیں، میں جو بھی کلام کروں گا اس کا دار و مدار سننے والے پر ہے کہ وہ اس کا کیا معنیٰ سمجھتا ہے۔
تو متکلم کے نزدیک تعین ہو حالانکہ تعین تو کس کے نزدیک ہونی چاہیے؟ مخاطب کے نزدیک تعین ہو پھر جو ہے اس کا مبتدا بننا صحیح، تو جواب یہ کہ مخاطب کو بھی اس تعین کا علم ہے، وہ جانتا ہے کہ یہ متکلم أم کے ذریعے سوال کر رہا ہے، معلوم ہوا اس کو اتنا علم ہے کہ ان ہی دو چیزوں میں سے کوئی ایک اس گھر میں ہے، اب وہ صرف تعین کو طلب کر رہا ہے۔ تو جس طرح متکلم کے نزدیک یہاں تخصیص ہے، اسی طرح مخاطب بھی جانتا ہے کہ متکلم کو اس بات کا علم ہے تو اس کے نزدیک بھی اس میں تخصیص ہے بھئی، اسی لیے یہ متکلم أم کے ذریعے سوال کر رہا ہے، مخاطب اس بات کو جانتا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ حل ہو گیا سارا؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔