Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-020

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 05 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 21
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
سبق نمبر۔20 ثم هاهنا سؤال مشهور لهم علينا، وهو أنه إن نذر أحد أن يعتكف شهر رمضان فصام ولم يعتكف لمرض منع من الاعتكاف، لا يقضي اعتكافه في رمضان، في رمضان آخر بل يقضيه في ضمن صوم مقصود، وهو صوم النفل. آگے جو متن آ رہا ہے، وہ دراصل شوافع کے ایک اعتراض کا جواب ہے بھئی۔ ان کے ایک اعتراض کا جواب ہے، اور وہ اعتراض یہ ابھی سے ذکر کر رہے ہیں بھئی متن سے پہلے ہی وہ اعتراض ذکر کریں گے۔ اعتراض سے پہلے یہ بات سمجھ لیں کہ جب کوئی شخص اعتکاف کی منت مانے، تو منت کے پورا ہو جانے کے بعد یہ اعتکاف کیا ہو جائے گا اس پر؟ واجب ہو جائے گا۔ اور اعتکافِ واجب جو ہے وہ بغیر روزے کے نہیں ہوتا، اس کے ساتھ روزے کا ہونا ضروری ہے۔ ویسے نفلی اعتکاف، مسجد میں جاتے ہیں، آپ اعتکاف کی نیت کر لیتے ہیں، جب بھی داخل ہوں، نیت کر لیا کریں، الگ ثواب آپ کو ملتا رہے گا بھئی، جس مسجد میں بھی جائیں۔ اور لیکن اعتکافِ واجب جو، تو یہ نفلی اعتکاف تو بغیر روزے کے صحیح ہے، اور اس کی کوئی مقدار بھی متعین نہیں ہے، لیکن واجب اعتکاف جو ہے وہ روزے کے ساتھ ہونا چاہیے۔ تو جب ایک شخص نے اعتکاف کی منت مانی، تو ساتھ ہی اس کے گویا کہ کس کی منت بھی مان لی؟ روزے کی بھی منت مان لی، تو یہ کہلائیں گے صومِ مقصود بھئی، یعنی جن کا ارادہ کیا گیا ہے۔ اعتکاف کے ساتھ ان کا بھی ارادہ ہو گیا یا نہیں ہو گیا؟ تو یہ ہیں صومِ مقصود بھئی۔ اب شوافع اعتراض کرتے ہیں کہ اے احناف! تم کہتے ہو قضا کا بھی وہی سبب ہوتا ہے جو ادا کا سبب تھا، تو لہٰذا ایک شخص نے منت مانی کہ میں اس رمضان کے اندر اعتکاف کروں گا، مثلاً پانچ دن کا اگر فلاں تاریخ سے فلاں تک اگر میرا یہ کام ہو گیا۔ تو اگر وہ اس کا وہ کام ہو گیا، تو اس پر وہ اعتکاف واجب ہوا، ان ایام کے اندر وہ رمضان میں کر، نہیں کر سکا، روزے تو اس نے رکھ لیے اور اعتکاف نہ کر سکا کسی مانع کی وجہ سے، تو اس پر اس اعتکاف کی قضا واجب ہے۔ اور آپ نے کیا کہا؟ کہ قضا کا سبب بھی وہی ہوتا ہے جو ادا کا سبب، تو لہٰذا اس اعتکاف کو اگلے رمضان میں وہ کرنا چاہے تو اس میں جائز ہونا چاہیے، لیکن آپ کہتے ہیں اگلے رمضان میں وہ نہیں کر سکتا، بلکہ اس رمضان کے بعد اس کو الگ روزے رکھ کر کیا کرنا پڑے گا؟ ان اعتکاف کرنا پڑے گا، اگلے رمضان میں نہیں کر سکتا۔ معلوم ہوا قضا کا سبب اور ہے، ادا کا سبب اور۔ ادا کے اندر تو الگ روزے نہیں آ رہے تھے، اسی رمضان کے روزوں میں اس نے کر لیا بھئی۔ صومِ مقصود کوئی الگ آئے؟ رمضان کے روزے تو تھے ہی واجب پہلے سے، اعتکاف کے ساتھ کوئی الگ روزے آئے؟ نہیں، اور آپ قضا میں کہہ رہے ہیں باقاعدہ الگ روزے رکھنا پڑیں گے، تو معلوم ہوا ادا کا سبب اور ہے، قضا کا سبب اور ہے۔ تو اس کا جواب پھر دیں گے۔ پہلے اعتراض دیکھ لیں: ثم هاهنا سؤال مشهور لهم علينا، پھر یہاں پر ایک مشہور سوال ہے ان شوافع کا ہمارے اوپر، وهو أنه إن نذر أحد، وہ یہ کہ منت مانی اگر کسی ایک نے، أن يعتكف شهر رمضان، کہ وہ اعتکاف کرے گا رمضان کے مہینے میں، فصام ولم يعتكف، اس نے روزے تو رکھے اور اعتکاف نہ کر سکا، لمرض، کسی مرض کی وجہ سے، منع، دیکھو مرض نکرہ ہے، اس کے بعد منع فعل آیا، یہ اس کی کیا بنے گا؟ صفت بنے گا، نکرہ کے بعد فعل آئے تو اس کی صفت بنتا ہے، اور موصوف صفت کا ترجمہ موصوف سے پہلے 'ایسا' کا لفظ لے آئیں، دیکھیے ترجمہ: ولم يعتكف لمرض منع من الاعتكاف، اور وہ اعتکاف نہ کر سکا ایک ایسے مرض کی وجہ سے جس نے اسے منع کر دیا تھا اعتکاف سے، فلا يقضي اعتكافه في رمضان آخر، تو وہ قضا نہیں کرے گا اس اعتکاف کی دوسرے رمضان میں، بل يقضيه في ضمن صوم مقصود، بلکہ اس کی قضا کرے گا کس کے اندر؟ صومِ مقصود کے ضمن میں، وہ بھئی وہ صومِ مقصود کیا ہے؟ کہتے ہیں: وهو صوم النفل، وہ صومِ نفل ہے۔ یاد رکھیے! رمضان سے جب رمضانِ متعین مراد ہو، تو یہ غیر منصر ف ہے، علمیت اور الف نون زائدتان کی وجہ سے۔ لیکن اگر اگلے کو بھی رمضان کہہ رہے ہیں آپ، تو معلوم ہوا کوئی متعین نہ رہا مہینہ، تو اس صورت میں وہ منصر ف ہو جایا کرتا ہے، اسی لیے میں نے 'رمضانٍ آخر' پڑھا بھئی، ورنہ کیا ہونا چاہیے تھا؟ 'رمضانَ'۔ تو اسی جیسے 'عمر' کا لفظ بھئی، غیر منصر ف ہے، لیکن اگر دو تین کا نام عمر ہو جائے، پھر یہ معرفہ نہ رہا، معرفہ تو کہتے ہیں کسی متعین ذات پر دلالت کرے، اس صورت میں اب یہ متعین ذات پر دلالت نہیں کرتا، تو غیر منصر ف، تو اس میں علمیت ختم ہو گئی، اور جب الف نون زائدتان کے لیے علمیت بھی شرط تھی، تو وہ الف نون زائدتان بھی اپنا اثر نہیں دکھائے گا، تو یہ غیر منصر ف ہو جائے گا، جیسے میں کہتا ہوں: جاءني عمرُ، یہ غیر منصر ف ہے۔ لیکن اگر دو تین کا نام رکھا، مثلاً دو کا نام رکھا، میں کہتا ہوں: جاءني عمرٌ آخرُ، میرے پاس دوسرا عمر آیا، اب منصر ف ہے، کیوں؟ کہ 'آخر' بتلا رہا ہے کہ معلوم ہوا ایک کا نام نہیں ہے عمر، کتنے کا نام ہے؟ دو یا تین کا، میرے پاس دوسرا عمر آیا، تو اس صورت، لہٰذا ورنہ غیر منصر ف پڑھتے۔ اچھا! تو اس کی قضا کرے گا وہ صومِ مقصود کے ضمن میں اور وہ صومِ نفل ہے، ولو كان القضاء واجباً، اگر قضا واجب ہوتی، بالسبب الذي أوجب الأداء، اسی سبب کے ذریعے جس نے ادا کو واجب کیا تھا، اور وہ کیا تھا؟ وهو قوله تعالى، وہ یہ قول تھا: وليوفوا نذورهم، "چاہیے کہ وہ اپنی منتیں پوری کریں۔" تو اگر ادا کا وہی سبب قضا کا وہی سبب ہوتا جو ادا کا تھا، لوجب أن يصح القضاء في رمضان الثاني، تو صحیح ہوتی قضا کس کے اندر؟ دوسرے رمضان میں قضا صحیح ہونی چاہیے تھی، كما صح الأداء في رمضان الأول، جیسے کہ ادا صحیح تھی کس کے اندر؟ رمضانِ اول کے اندر، كما هو مذهب زفر رحمه الله، جیسے کہ مذہب ہے امام زفر رحمہ اللہ کا، وہ فرماتے ہیں اگلے رمضان میں قضا کر سکتا ہے۔ تو قضا جیسے ادا اس رمضان میں صحیح تھی، تو قضا بھی اگلے رمضان میں صحیح ہونی چاہیے، جیسے کہ امام زفر کا مذہب ہے، أو يسقط القضاء أصلاً، یا سے قضا کو ساقط ہی ہو جانا چاہیے تھا، کیوں؟ لعدم إمكان الصوم الذي هو شرطه، اس لیے کہ وہ امکان ہی نہ رہا اس روزے کا جس کی اس نے شرط لگائی تھی، كما هو مذهب أبي يوسف، جیسے کہ مثلاً امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس رمضان کے اندر اعتکاف نہ کر سکا تو ختم، قضا ہے ہی نہیں سرے سے، کیوں؟ کیونکہ اس نے اعتکاف اسی رمضان کے ایک روزوں کی بات کی تھی، اور یہ رمضان تو گزر گیا، اور شرط ختم تو مشروط بھی ختم بھئی، اب وہ ہو ہی نہیں سکتے، اس رمضان کے روزے گزر گئے ایک دفعہ، تو اب اس بعد میں جو بھی رکھے گا وہ اس رمضان کے روزے تو نہ ہوں گے، تو لہٰذا قضا آئے گی نہیں۔ یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا۔ تو شوافع کا اعتراض چل رہا ہے، وہ کہتے ہیں: فعلم، پس اس سے یہ بات معلوم ہوئی، أن سبب القضاء التفويت، کہ قضا کا سبب تفویت ہے، جیسا ہم نے کہا تھا، وہ تفویت ہے، والتفويت مطلق عن الوقت، اور تفویت تو کیا ہے؟ وقت سے مطلق ہے، اس میں وقت کی کوئی قید نہیں ہوتی، فينصرف إلى الكامل، اور المطلق إذا يطلق يراد به الفرد الكامل، تو لہٰذا یہ مطلق، یہ تفویت مطلق ہے، تو لہٰذا یہ پھر جائے گی کس کی طرف؟ فردِ کامل کی طرف، وهو الصوم المقصود، اور وہ کیا ہے؟ صومِ مقصود ہے، کہ اعتکاف کو الگ اس کو ہونا ہی کس کے ساتھ چاہیے؟ الگ روزوں کے ساتھ ہونا چاہیے ہونا۔ اعتراض سمجھ میں آیا؟ شوافع کہہ رہے ہیں کہ معلوم ہوا کہ اس کا سبب تفویت ہے بھئی، اور تفویت اس میں تو کسی وقت کی قید نہیں، تو یہ مطلق ہے، اور جب مطلق ہو تو المطلق ينصرف إلى الفرد الكامل، تو یہ بھی فردِ کامل کی طرف پھر جائے گا، اور فردِ کامل کیا ہے؟ اعتکاف کو کس طرح ہونا چاہیے؟ اس کے ساتھ الگ باقاعدہ روزے اپنے ہونے چاہئیں اس کے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ اپنے فردِ کامل کی طرف یا اپنے اپنے الگ روزوں کی طرف پھر جائے گا، باقاعدہ الگ روزے رکھ کر یہ اعتکاف کرنا پڑے گا، اور وہ صومِ مقصود ہے، فأجاب المصنف عنه بقوله، مصنف نے جواب دیا اس کا اپنے اس قول کے ذریعے: مصنف جواب یہ دیں گے، ابھی سے سمجھ لیں، کہ بھئی جب اس نے منت مانی تھی کہ میں اس رمضان میں کیا کروں گا؟ اعتکاف کروں گا۔ تو اعتکاف کی جب منت مانی جائے، اس کے ساتھ روزے خود بخود آ جاتے ہیں۔ تو یہاں بھی ہم نے یہ نہیں کہا کہ روزے آئے ہی نہیں سرے سے، روزے باقاعدہ ابتدا سے آ رہے تھے، لیکن چونکہ یہ آگے رمضان کی فضیلت بہت زیادہ ہے، یہ تو اتنا با برکت مہینہ ہے کہ اس کے اندر نفلوں کا درجہ بھی کس کے برابر ہے؟ فرضوں کے برابر ہے، اتنا مقدس مہینہ آ رہا تھا، اس لیے ہم نے صومِ اصلی سے عدول کر لیا رمضان کے روزوں کی طرف، اور اس میں اجازت دے دی اعتکاف کی، ورنہ اجازت نہیں ہونی چاہیے تھی، باقاعدہ الگ روزے ہی رکھنے چاہئیں تھے اس کے، لیکن ہم نے اس رمضان کے شرف کی وجہ سے کیا کیا؟ اس کو رمضان میں اعتکاف کی اجازت دے دی۔ تو لیکن اس نے رمضان میں اس کا وہ اعتکاف کر نہیں سکا، تو اب پھر صورت اپنے اصل کی طرف لوٹ جائے گی، اور اصل میں تو کیا ہو رہا تھا؟ الگ روزے آ رہے تھے، تو اب وہ الگ روزوں کے ساتھ اعتکاف واجب ہو جائے گا بھئی، تو گویا کہ اللہ کی طرف سے حکم اب آ گیا کہ اب باقاعدہ الگ روزے رکھو اور اس میں کیا کرو؟ اعتکاف کرو۔ اور ہم کہتے ہیں اگلے رمضان میں نہیں رکھ سکتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ اگلا رمضان بڑی دور ہے، پتہ نہیں اس وقت تک یہ زندہ رہتا ہے یا زندہ نہیں رہتا بھئی، تو اتنی دور قضا کو کر دیا جائے اتنا لمبا عرصہ جس میں زندگی اور موت دونوں کا برابر امکان ہے، زندہ رہنے کا امکان ہے تو مرنے کا بھی اتنا ہی امکان ہے، لہٰذا اس لیے الگ روزے رکھنا پڑیں گے۔ اور اگر الگ روزے، پھر دوسرا چلو زندگی ہو گئی، اگلا رمضان آ گیا، ہم کہتے ہیں اب اس میں نہیں رکھ سکتا، کیوں؟ کیونکہ اللہ کی طرف سے حکم آ چکا تھا ایک دفعہ، کیا؟ کہ اب الگ روزے رکھ کر باقاعدہ کیا کرو؟ اس میں اعتکاف رکھو، اعتکاف کرو، تو اب اللہ کے اس حکم میں دوبارہ تبدیلی نہیں آئے گی بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ کہتے ہیں: وفيما إذا نذر، اور اس صورت میں جب ایک شخص نے منت مانی، أن يعتكف هذا رمضان، کہ وہ اعتکاف کرے گا اسی رمضان کے مہینے میں، الشه، أن يعتكف شهر رمضان، غیر منصر ف ہے، اسی رمضان کے مہینے میں، متعین رمضان کی بات کی، فصام ولم يعتكف، اس نے روزے رکھے اور اعتکاف نہیں کیا، إنما وجب القضاء بصوم مقصود، تو قضا واجب ہو جائے گی صومِ مقصود کے ساتھ، لعود شرطه إلى الكمال، اس وجہ سے کہ شرط لوٹے گی کس کی طرف؟ اپنے کمال کی طرف، لا لأن القضاء وجب بسبب آخر، اس وجہ سے نہیں کہ قضا کسی اور سبب سے واجب ہوئی ہے، بلکہ اس وجہ سے کہ شرط لوٹے گی کس کی طرف؟ اپنے کمال کی طرف، اور کامل روزے کیا ہیں؟ کہ باقاعدہ اس کے ساتھ الگ رکھے جائیں، اسی کے روزے ہوں۔ يعني في صورة نذر، نذر، نذر، اس نذر، منت کی صورت میں، أن يعتكف هذا رمضان، کہ وہ اعتکاف کرے گا اسی رمضان کے اندر، المعهود، یہ رمضان المعهود، یہ جو رمضان ہے متعین، فصام ولم يعتكف، اس نے روزے رکھے اور اعتکاف نہ کیا، لمانع مرض، مرض کے مانع کی وجہ سے، إنما وجب القضاء بصوم مقصود، تو قضا واجب ہو گی صومِ مقصود کے ساتھ، وهو النفل، اور وہ کیا ہے؟ وہ نفل ہے، یعنی نفلی روزے ہیں، لعود شرط الاعتكاف إلى الكمال، اس لیے کیونکہ اعتکاف کی جو شرط ہے وہ لوٹ جائے گی کمال کی طرف، کس کی طرف؟ کمال، یعنی کامل شرط روزے کس قسم کے ہونے چاہئیں؟ الگ سے اس کے لیے باقاعدہ ہونے چاہئیں۔ وہ جی، وهو صوم النفل، اور وہ نفلی روزے ہیں، لا لأن القضاء وجب بسبب آخر، اس وجہ سے نہیں کہ قضا کسی اور سبب سے واجب ہوئی ہے، كما زعمتم، جیسے کہ اے فریقِ مخالف! آپ نے گمان کیا۔ وتقريره، اور تقریر اس کی یہ ہے، أن الاعتكاف لا يصح إلا بالصوم، کہ اعتکاف صحیح نہیں ہوتا مگر روزے کے ساتھ ہی، یعنی اعتکافِ واجب کی بات ہو رہی ہے، وہ صحیح نہیں ہوتا بغیر روزے کے، فإذا نذر بالاعتكاف، جب اس نے منت مانی اعتکاف کی، فقد نذر بالصوم، تو اس نے روزے کی بھی منت مان لی، فكان ينبغي أن يجب الصوم المقصود ابتداءً، تو مناسب یہی تھا کہ روزہ صومِ مقصود واجب ہو جائے ابتدا سے ہی، بمجرد نذر الاعتكاف، محض اعتکاف کی منت سے ہی، ولكن شرف رمضان الحاضر عارضه، لیکن اس آنے والے حاضر رمضان کا شرف جو ہے وہ عارض آ گیا، وہ پیش آ گیا، لأن العبادة في رمضان أفضل من العبادة، اس لیے کیونکہ عبادت جو ہے رمضان کے اندر وہ افضل ہے عبادت سے، اس عبادت سے، التي في غيره، جو اس رمضان کے علاوہ میں ہو، فانتقلنا من الصوم الأصلي المقصود، پس ہم منتقل ہو گئے اس صومِ اصلی سے جو مقصود تھا، إلى صوم رمضان، اس رمضان کے مہینے کے روزوں کی طرف، لهذا الشرف العارض، اس شرفِ، یہ شرف جو پیش آیا اس کی وجہ سے، ولما فات شرف رمضان، اور جب اس رمضان، یہ رمضان کا شرف فوت ہو گیا، یعنی گزر گیا، عاد الصوم إلى كماله، تو لوٹ آئے گا روزہ اپنے کمال کی طرف، وهو الصوم المقصود الأصلي، اور وہ کیا ہے؟ صومِ مقصود جو اصلی ہے بھئی، یعنی اصل میں آ، واجب ہوا۔ أعني صوم النفل، یعنی کہ نفل روزہ، فكأنه صدر حكم من الله تعالى، پھر گویا کہ اللہ کی طرف سے یہ حکم صادر ہو گیا، کیا حکم؟ صوموا النفل واعتكفوا فيه، "روزے رکھو اور اس میں کیا کرو؟ اعتکاف کرو۔" والحياة إلى رمضان الثاني موهوم، اور باقی زندگی جو ہے اگلے رمضان تک وہ موہوم ہے، وہمی ہے، یعنی یقینی نہیں، لأنه وقت مديد، اس لیے کیونکہ وہ اتنا لمبا وقت ہے، يستوي فيه الحياة والممات، جس میں زندگی اور موت دونوں برابر ہیں، ثم إذا لم يصم صوماً مقصوداً، پھر اگر اس نے صومِ مقصود نہ رکھے، رمضان کے بعد بھی اس نے الگ روزے نہیں رکھے، وجاء رمضان الثاني، اور پھر دوسرا رمضان بھی آ گیا، لم ينتقل حكم الله تعالى إلى هذا رمضان الثاني، تو اللہ کا حکم پھر منتقل نہیں ہو گا کس کی طرف؟ اس دوسرے رمضان کی طرف، اللہ نے حکم دے دیا کہ الگ روزے رکھو۔ وإنما قال "فصام ولم يعتكف"، ماتن نے قید لگائی تھی کہ روزے رکھے اور اعتکاف نہ کرے، پھر الگ روزے رکھنا پڑیں گے۔ ہاں! اور اگر اس نے روزے بھی نہیں رکھے رمضان کے بیماری کی وجہ سے، تو پھر اسی رمضان کے روزوں کی قضا کے اندر کیا کر سکتا ہے؟ وہ اعتکاف کر سکتا ہے۔ تو وإنما قال "فصام ولم يعتكف"، ماتن نے کہا کہ اس نے روزے رکھے اور اعتکاف نہیں کیا، لأنه إذا لم يصم لمرض منع من الصوم، اس لیے کیونکہ اگر اس نے روزے بھی نہ رکھے کسی ایسے مرض کی وجہ سے جس نے روزے سے بھی روک دیا تھا، فحينئذ يجوز الاعتكاف في قضاء رمضان البتة، تو پھر اس صورت میں تو اعتکاف جائز ہو جائے گا اس رمضان کی قضا میں قطعی طور پر۔ ثم شرع المصنف رحمه الله في بيان تقسيم الأداء والقضاء إلى أنواعهما، پھر شروع ہوئے مصنف رحمہ اللہ ادا کی تقسیم کے بیان کے اندر اور قضا کی تقسیم کے بیان میں، إلى أنواعهما، ان کی اقسام کی طرف، فقال، پس فرمایا: والأداء أنواع: كامل، وقاصر، وما هو شبيه بالقضاء، "اور ادا کئی قسم پر ہے: کامل، اور قاصر، اور ایک وہ ادا ہے جو مشابہ بالققضا ہے۔" وفي هذا التقسيم مسامحة، اور شارح فرما رہے ہیں کہ اس تقسیم کے اندر مسامحت ہے، لأن الأقسام لا تقابل بينها، اس لیے کیونکہ اقسام کے آپس میں ان میں تقابل نہیں ہے، حالانکہ اقسام میں کیا ہوتا ہے؟ تقابل ہوتا ہے۔ کلمہ اسم ہے، فعل ہے، حرف ہے۔ اسم کس کو کہتے ہیں؟ جس کا اپنا معنی مستقل ہو، اور وہ تین زمانوں میں سے کسی کوئی زمانہ اس کے ساتھ ملا ہوا نہ ہو، تو جب کہا معنی مستقل ہو، تو فعل، حرف نکل گیا کیونکہ اس کا اپنا معنی مستقل نہیں ہوتا، تو تقابل آ گیا۔ اور جب کہا کہ اس کے ساتھ زمانہ بھی ملا ہوا ہو، تو فعل نکل گیا کیونکہ اس میں ساتھ کیا ملا ہوتا ہے؟ زمانہ، تو اس کے ساتھ بھی تقابل آ گیا۔ تو قسمیں جو ہوتی ہیں ان میں آپس میں تقابل ہوا کرتا ہے بھئی، لیکن یہاں جو قسمیں ہیں ان کے درمیان تقابل نہیں ہے بھئی، ان کے درمیان تقابل نہیں، اس لیے کیونکہ آگے آپ کو بتائیں گے کہ کامل وہ ہے، کامل ادا وہ ہے جس کو مشروع طریقے پر ادا کیا جائے، یعنی جیسے شریعت نے حکم دیا اسی طریقے پر ادا کرے، اور قاصر وہ ہے جس کو اس طریقے پر ادا نہ کرے، تو کامل اور قاصر کے اندر تو کیا آیا؟ تقابل آیا، لیکن آگے تیسری قسم ہے وما هو شبيه بالقضاء، وہ ادا جو قضا کے مشابہ ہو۔ وہ ادا جو قضا کے، اس کا تقابل ان دونوں سے نہیں بنتا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ وہ ادا جو قضا کے مشابہ ہو، تو کامل سے کوئی یا قاصر سے کوئی تقابل آیا؟ کامل کسے کہتے تھے؟ جو مشروع طریقہ کے مطابق ہو۔ اور قاصر کسے کہتے تھے؟ جو مشروع طریقہ کے مطابق نہ ہو، اور وہ تیسری کیا ہوئی؟ جو قضا کے مشابہ ہو۔ تو اس میں تو دونوں احتمال آگئے۔ اگر وہ مشروع طریقہ کے مطابق ہوئی تو وہ اداء کامل میں داخل ہو جائے گی، اگر مشروع طریقہ کے مطابق نہ ہوئی تو کس میں داخل ہو جائے گی؟ اداء قاصر میں۔ تو اس کے ساتھ ان دونوں کا تقابل معلوم نہیں ہوتا۔ ہاں، ان دونوں کا آپس میں تو تقابل ہے اس کے ساتھ تقابل نہیں، تو شارح فرما رہے ہیں تو مصنف سے مسامحت ہوئی ہے۔ وینبغی، تو کہتے ہیں ہاں، تو اور علماء یوں تقسیم کرتے ہیں۔ اداء مطلق اس کی تقسیم کرتے ہیں۔ اداء مطلق دو قسم پر ہے، ایک اداء محض ہے، ایک اداء مشابہ بالقضاء ہے۔ ایک اداء محض ہے اور ایک اداء مشابہ بال۔ اداء محض وہ ہے جو قضا کے مشابہ نہ ہو اور اداء مشابہ بال قضاء وہ ہے جو قضا کے مشابہ ہو، تو تقابل آگیا یا نہیں آگیا؟ پھر اس اداء محض کی آگے تقسیم کرتے ہیں کہ یہ دو قسم پر ہوگی، یا اداء کامل ہوگی یا اداء قاصر ہوگی۔ تو اس طرح تین قسمیں بناتے ہیں۔ شار، ماتن نے ابتداء سے ہی تین قسمیں بنا دیں بھئی، تو اس عبارت میں کیا ہے؟ مسامحت ہے۔ تو جواب یہ مولانا، کہ بھئی مصنف کی یہی مراد ہے بات انہوں نے مختصر کر دی، پہلے تقسیم محض کی طرف اداء محض بناتے اور پھر اداء مشابہ بالقضاء بناتے، پھر اس کی تقسیم اداء محض کی کرتے کامل کی طرف اور قاصر کی طرف، تو نتیجہ پھر کیا نکلنا تھا؟ تین ہی قسمیں بننی تھیں، انہوں نے ابتداء سے ہی بتا تین قسمیں بنا دیں۔ تو مراد ان کی بھی یہی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں وینبغی أن یقول کہ اور مناسب یہ تھا کہ مصنف یوں کہتے والاداء أنواع کہ ادا کئی قسم پر ہے، اداء محض ایک اداء محض ہے۔ وہو نوعان کامل وقاصر، اس کو जरा نکال دو۔ ایک اداء محض ہے، وإداء ہو شبہ بالقضاء اور دوسری کیا ہے؟ اداء مشابہ بالقضاء۔ یہ دو قسمیں ہیں اور پھر اداء محض کی تقسیم ہوتی تھی کس کی طرف؟ کامل اور قاصر کی طرف۔ اس کے بیچ میں ذکر کر دیا کہ وہو نوعان کامل وقاصر، وہ دو قسم پر ہے کامل اور قاصر بھئی۔ ویعنى بالاداء المحض، اچھا کتنی قسمیں اولاً بنائیں؟ ایک اداء محض اور ایک اداء مشابہ بالقضاء۔ تو اب اداء محض کسے کہتے ہیں؟ وہ ذکر کرنے لگے، ویعنى بالاداء المحض اور مراد جو ہے اداء محض کے ذریعے ما لا يكون فيه شبہ بالقضاء بوجه من الوجوه، کہ جس کے اندر مشابہت نہ ہو قضا کے ساتھ وجوہوں میں سے کسی بھی وجہ سے، یعنی کسی بھی اعتبار سے اس کی قضا کے ساتھ مشابہت نہ ہو۔ یہ شبہ لفظ پڑھنا، شبہ نہ پڑھنا۔ ایک ہے شبہ، ایک ہے شبہ۔ شبہ کا معنی ہوتا ہے مثل، اور شبہ یہ مصدر ہے بمعنی مشابہ ہونا، مشابہت کے بھئی، مشابہت کے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو شبہ یہ مصدر ہے اور شبہ اس کا معنی مثل ہوتا ہے اور شبہ مصدر کس معنی میں ہے؟ مشابہت کے معنی میں ہے۔ آپ خود یہاں معنی کرکے دیکھ لیں، اداء محض وہ ہے لا يكون فيه شبہ بالقضاء ذرا کریں۔ اس کے، اس کے اندر نہ ہو شبہ بالقضاء، قضا کے مثل، ترجمہ نہیں بنتا بھئی۔ اور شبہ پڑھیں، کہ اس کے اندر نہ ہو شبہ بالقضاء، قضا کے ساتھ مشابہت۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اسی طرح آپ نے ایک لفظ سنا ہے وجہ شبہ۔ وجہ شبہ سنا ہے یا نہیں؟ یہ وجہ شبہ لفظ نہیں ہے، وجہ شبہ ہے لفظ بھئی، وجہ شبہ۔ اسی کو آپ کہتے ہیں وجہ تشبیہ، کہتے ہیں یا نہیں؟ اور تشبیہ بھی کیا ہے؟ مصدر ہے، تشبیہ شبہ یشبہ مصدر ہے، تو یہاں مصدر والا ہی لفظ چاہیے اور وہ شبہ ہے یا شبہ ہے؟ شبہ، تو وجہ شبہ بھئی، مشابہت کی وجہ، مشابہت کرو، شبہ کا ترجمہ مشابہت، مشابہت کی وجہ۔ اور اگر آپ شبہ کہتے ہیں تو اس کا معنی تو ہے مثل، وجہ شبہ، کیا معنی؟ مثل کی وجہ، حالانکہ مثل یہ ترجمہ بنتا ہی نہیں یہاں۔ تو کہتے ہیں ما لا يكون فيه شبہ بالقضاء، وہ ہے جس کے اندر مشابہت نہ ہو قضا کے ساتھ بوجه من الوجوه، کسی بھی اعتبار سے لا من حيث تغیر الوقت، نہ تو وقت کے بدلنے کے اعتبار سے ولا من حيث التزامه اور نہ التزام کی حیثیت سے۔ بھئی دیکھیے آگے تفصیل ہر ایک کی مثالیں آ جائیں گی اور بھی وضاحت ہو جائے گی، یہی پر یہ بات سمجھ لیجیے۔ التزام، بھئی ایک آدمی آیا اس نے امام کے ساتھ نماز شروع کی ابتداء سے ہی، درمیان میں اس کو حدث لاحق ہو گیا، چنانچہ وضو ٹوٹ گیا وہ چلا گیا، سیدھا گیا وضو کرکے واپس آیا اور پھر نماز میں شامل ہوا بھئی، شامل ہوا۔ بلکہ یوں نہ کہیں، پھر اس نے اسی نماز پر بناء کی۔ امام سلام پھیر چکا تھا، جب یہ واپس پہنچا تو امام سلام پھیر چکا تھا، اس نے اسی نماز پر بناء کی اور دو رکعتیں اس کی چھوٹ گئی تھیں، وہ اس نے الگ پڑھ لیں بھئی۔ تو یہ جو شخص جو اس طرح جس کا وضو ٹوٹا اور وہ پھر گیا وضو کرکے آیا، اس کو کہتے ہیں لاحق بھئی، کیا کہتے ہیں؟ لاحق۔ لاحق، ایک ہوتا ہے مسبوق، مسبوق اسے کہتے ہیں جس کی شروع سے ایک دو رکعتیں رہ چکی ہوں پھر آکر امام کے ساتھ شریک ہوتا ہے، یہ ہے مسبوق بھئی، جس سے کچھ نماز پہلے نکل چکی ہے۔ اور ایک ہے لاحق، جو شروع سے تو پہلی رکعت سے شامل ہوا تھا، لیکن پھر بعد میں وضو ٹوٹنے کی وجہ سے گیا اور وضو کرکے آیا اس دوران نماز کچھ نکل گئی، اس کو کیا کہیں گے؟ لاحق۔ تو یہاں لاحق کی وہ صورت بنانی ہے کہ امام سلام پھیر چکا ہو بھئی، پھر اس کے بعد آکر یہ بقیہ دو رکعتیں پڑھتا ہے ان کا، اور یہ جو واپس گیا وضو کرنے کے لیے، یاد رکھیے یہ اس وقت بھی گویا کہ حالت نماز میں ہے، لہذا نماز کے منافی کوئی کام کیا تو پھر اس پر بناء نہیں کرسکے گا، پھر نئے सिरे سے پڑھنا پڑے گی۔ لہذا اگر درمیان میں اس نے کسی سے کلام کر لیا، بس اب بناء نہیں کرسائتا، نماز گویا کہ ٹوٹ گئی، اب پھر کیا کرے؟ نئے सिरे سے پھر شروع سے پڑھے نماز، یا اس نے کچھ کھا پی لیا تو نماز کے منافی کام کیا، تو پھر نئے सिरे سے نماز پڑھنا پڑے گی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو اب دیکھیے یہ جو لاحق ہے، لاحق نے اپنے آپ کو کس بات اپنے اوپر کیا چیز لازم کی تھی؟ کس چیز کا التزام کیا تھا اس نے؟ کہ میں امام کے ساتھ نماز پڑھوں گا، کیا کروں گا؟ جب امام کے ساتھ شریک ہو گیا تو اس کا معنی یہی ہے نہ کہ اس نے اپنے اوپر کیا گویا لازم کر لیا ہے؟ کہ میں امام کے ساتھ نماز پوری کروں گا، لیکن درمیان میں جب وضو ٹوٹ گیا یہ وضو کرکے آیا، امام سلام پھیر چکا، اب یہ بقیہ نماز پڑھ رہا ہے، تو کیا جس طرح اس نے اپنے اوپر التزام کیا تھا اسی طرح پڑھ رہا ہے؟ اس طرح نہیں پڑھ رہا جس طرح اپنے آپ کو اس نے پابند کیا تھا اس طریقے پر نہیں پڑھ رہا یہ تو، تو یہ ہے اداء مشابہ بالقضاء، اس کو کیا کہیں گے؟ ہے تو ادا، اپنے وقت کے اندر ہے، لیکن مشابہ بالقضاء بایں اعتبار ہے کہ جس طرح اپنے اوپر اپنے لیے اس نے التزام کیا تھا اس طریقے پر ادا نہیں کر رہا، تو اس کو کیا کہیں گے؟ اداء مشابہ بالقضاء۔ تو یہی بات کر رہے ہیں کہ اداء محض وہ ہے جس کے اندر قضا کے ساتھ کسی بھی اعتبار سے مشابہت نہ ہو، نہ تو وقت کے بدلنے کے اعتبار سے، قضا کے اندر بھئی ظہر کی نماز ظہر کا وقت نکل گیا بعد میں آپ پڑھتے ہیں تو ہم اس کو قضا کہتے ہیں، کیونکہ کیا ہو چکا؟ وقت نکل چکا ہے، وقت بدل چکا ہے، تو جو اداء محض ہے اس کے اندر تغیر وقت کے اعتبار سے بھی قضا کے ساتھ مشابہت نہ ہو، یعنی اس میں وقت بھی نہ نکلا ہو وہی وقت ہو، اور ولا من حيث التزامه، اور اس شخص کے التزام کے اعتبار سے بھی اس میں کوئی تبدیلی تبدیلی نہ ہو بھئی، یعنی جس طرح التزام کیا تھا اسی طرح پڑھ رہا ہو، تو پھر یہ ہے اداء محض بھئی، لاحق خارج ہوا بھئی، وہ تو اس طریقے پر نہیں کر رہا۔ ویعنى بالشبيه بالقضاء اور مشابہ بالقضاء کے ذریعے ما، وہ مراد وہ ہے فيه شبہ به، جس کے اندر مشابہت ہو کس کے ساتھ؟ قضا کے ساتھ، کس کے ساتھ مشابہت ہو؟ قضا کے ساتھ مشابہت ہو من حيث التزامه، کس اعتبار سے؟ التزام کے اعتبار سے بھئی، کہ جیسے التزام کیا تھا اس طرح نہیں کر رہا۔ ویعنى بالكامل اور کامل کے ذریعے مراد جو ہے ما يؤدى على الوجه الذي شرع عليه، کہ ادا کیا جائے اسی طریقے پر جس طریقے پر اس پر مشروع ہوئی تھی، جس طریقے پر مشروع ہوئی تھی۔ وبالقاصر ما هو خلافه اور قاصر کے ذریعے مراد وہ ہے جو اس کے خلاف ہو بھئی، یعنی جو مشروع طریقے پر نہ ہو۔ کالصلاة بجماعة، جیسے جماعت کے ساتھ نماز، یہ ہے اداء کامل کی مثال، مثال للاداء الكامل، یہ مثال ہے اداء کامل کی، فانه اداء على حسب ما شرع، کیونکہ یہ ادا ہے اسی اعتبار سے جس جس پر مشروع ہوئی ہے، جس پر نماز کیا ہوئی ہے؟ مشروع ہوئی ہے، فان الصلاة ما شرعت إلا بجماعة، اس لیے کیونکہ نماز مشروع نہیں ہوئی مگر جماعت کے ساتھ ہی، لأن جبريل عليه السلام علم الرسول عليه السلام بالجماعة في يومين، اس لیے کیونکہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے سکھلائی تھی نماز حضور علیہ السلام کو جماعت کے ساتھ فی یومین، دو دن بھئی، دو دن حضرت جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے تھے اور مکہ میں بیت اللہ کے پاس حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے امامت فرمائی بھئی، جبرائیل علیہ السلام امام تھے حضور علیہ السلام مقتدی تھے اور نماز پڑھائی، نماز کا طریقہ انہیں سکھلایا بھئی، تو معلوم ہوا نماز کس طریقے پر مشروع ہوئی ہے؟ جماعت کے ساتھ مشروع ہوئی ہے، اور اب ایک شخص ادا بھی جماعت ہی کے ساتھ کرتا ہے تو اس نے مشروع طریقے پر ادا کی، تو یہ کیا ہے؟ اداء کامل ہے۔ والصلاة منفردا اور نماز اکیلے، یہ کہتے ہیں مثال للاداء القاصر، یہ مثال ہے کس کی؟ اداء قاصر کی، فانه اداء على خلاف ما شرع عليه، اس لیے کیونکہ یہ ادا ہے خلاف اس طریقے کے جس پر نماز مشروع ہوئی ہے، وہ تو جماعت کے ساتھ مشروع ہوئی ہے یہ اس کے خلاف طریقے پر ادا کر رہا ہے تو یہ کیا ہے؟ اداء قاصر۔ ولہذا يسقط وجوب الجهر في الجهرية عن المنفرد، اور اسی وجہ سے وجوب جہر جو ہے وہ ساقط ہو جاتا ہے جہری نمازوں میں منفرد سے، بھئی مغرب کی نماز میں امام جہراً قرائت کرتا ہے، لیکن اگر کسی شخص کی جماعت رہ گئی اور وہ آکر اسی وقت پھر نماز پڑھنا شروع کرتا ہے، تو اب کیا اس کے لیے واجب ہے وہ جہراً ہی قرائت کرے گا؟ آپ کی جماعت رہ جائے آپ جہراً کرتے ہیں قرائت پھر؟ نہیں، ہاں کر سکتا ہے، لیکن واجب نہیں ہے اس کے لیے، امام پر تو واجب تھا، حتیٰ کہ اگر اس نے جہری قرائت نہیں کی تو اسے سجدہ سہو کرنا پڑے گا، اور یہ منفرد پر یہ نہیں ہے، معلوم ہوا اس کی نماز میں کیا آگئی؟ کچھ کمی آگئی بھئی، تو یہ مشروع طریقے پر نہیں ہے، یہ اداء قاصر ہوئی بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ وفعل اللاحق بعد فراغ الإمام اور اسی طرح لاحق کا جو فعل ہے امام کے فارغ ہو جانے کے بعد، یہ وہ تیسری کی مثال آگئی اداء مشابہ بالقضاء، لاحق بھئی جس کی نماز کچھ رہ گئی تھی، اور کب؟ بعد میں کب؟ کونسا فعل اس کا؟ بعد فراغ الإمام، امام جب سلام پھیر چکا ہو اس کے فارغ ہونے کے بعد، حتى لا يتغير فرضه بنية الإقامة، یہاں تک کہ بدلتے نہیں ہیں اس کے فرض اقامت کی نیت کر لینے سے، اس کے فرض جو ہیں اقامت کی نیت کر لینے سے نہیں بدلیں گے، آگے شرح آ رہی ہے بھئی۔ مثال للاداء الشبيه بالقضاء، مثال ہے اس ادا کی جو مشابہ بالقضاء ہے، فإن اللاحق هو الذي التزم الاداء مع الإمام من اول التحريمة، اس لیے کیونکہ لاحق وہ شخص ہے جس نے التزام کیا تھا ادا کرنے کا امام کے ساتھ ہی اول تحریمہ سے ہی، شروع تحریمہ سے ہی اس نے امام کے ساتھ نماز ادا کرنے کا التزام کیا تھا، ثم سبقه الحدث، پھر اس کو حدث لاحق پیش حدث پیش آگیا، فتوضأ، تو اس نے وضو کیا، وأتم بقية الصلاة بعد فراغ الإمام، اور پھر اس نے اپنی باقی نماز کو پورا کیا امام کے فارغ ہو جانے کے بعد، فإن هذا الإتمام اداء، تو یہ جو اس نے نماز کو پورا کیا یہ ہے تو ادا، ادا کس اعتبار سے؟ کہ وقت کے اندر نماز ادا کر رہا ہے، من حيث بقاء الوقت، وقت کے باقی ہونے کی حیثیت سے تو یہ ادا ہی ہے، وشبيه بالقضاء، لیکن یہ قضا کے مشابہ ہے من حيث اس حیثیت سے، انه لم يؤد كما التزم، کہ اس نے ادا اس طرح نہیں کی جیسے اس نے التزام کیا تھا بھئی، اس نے تو کیا التزام کیا تھا؟ پوری نماز امام کے ساتھ پڑھوں گا، اور پوری نماز امام کے ساتھ اس نے نہیں پڑھی بھئی۔ ولما كان معنى الاداء من حيث الأصل ومعنى القضاء من حيث التبع، یہ ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں، سوال یہ کہ آپ نے اس کا کیا نام رکھا؟ اداء مشابہ بالقضاء، آپ نے یوں کیوں نہیں کیا اس کا نام قضاء مشابہ بالاداء؟ یہ کیوں نہیں نام رکھا؟ تو جواب دے رہے ہیں بھئی اصل کے اعتبار سے تو یہ ادا ہی ہے کہ اپنے وقت میں پڑھ رہا ہے، ہاں وصف کے اعتبار سے اس میں قضا کے ساتھ مشابہت آگئی کہ جس طرح کا التزام کیا تھا اس طریقے پر نہیں پڑھ رہا، تو اس اعتبار سے تو وصف کے اعتبار سے اس کو قضا کہا، اصل کے اعتبار سے اس کو ادا کہا، تو نام بھی اصل کے اعتبار سے رکھا جاتا ہے، تو اصل میں تو یہ ادا ہی ہے، اسی لیے ہم نے کہا یہ ادا ہے، لیکن وصف میں کس کے ساتھ مشابہت ہے؟ قضا، اس لیے ہم نے کہا یہ مشابہ بالقضاء ہے۔ ولما كان معنى الاداء من حيث الأصل، اور جب ادا کا معنی جو ہے وہ اصل کی حیثیت سے ہے، ومعنى القضاء من حيث التبع، اور قضا کا جو معنی ہے وہ تبع یعنی وصف کی حیثیت سے ہے، فجعل اداء شبيه بالقضاء، تو اس کو اداء مشابہ بالقضاء بنایا گیا، ولم يجعل قضاء شبیہا بالاداء، اور اس کو قضا مشابہ بالاداء نہیں بنایا گیا، یعنی یہ نام اس کا نہیں رکھا گیا۔ وثمرة كونه اداء ظاهرة، اور اس کے ادا ہونے کا ثمرہ تو ظاہر ہے، ولہذا لم يتعرض لها، لہذا اس کے پیچھے مصنف نہیں پڑے، یعنی اس کو ذکر نہیں کیا۔ اس کے ادا ہونے کا ثمرہ ظاہر ہے، ادا ہونے کا کیا ثمرہ ہے؟ فراغ ذمہ ہو جائے گا، وقت کے اندر ادا کر رہا ہے تو کیا ہو جائے گا؟ فراغ ذمہ ہو جائے گا، بعد میں اس پر اس کی قضا واجب نہیں بھئی۔ اچھا، تو لہذا اس کے پیچھے مصنف نہیں پڑے، وثمرة كونه شبيه بالقضاء، اور اس کے شبہ مشابہ بالقضاء ہونے کا ثمرہ وہ مصنف نے ذکر کیا، حتى لا يتغير فرضه بنية الإقامة، یہ متن میں آیا تھا یا نہیں بھئی؟ یہ ثمرہ ہے اس کے مشابہ بالقضاء ہونے کا، هي وہ یہ، انه لا يتغير فرضه حينئذ بنية الإقامة، کہ اس کا فرض بدلے گا نہیں اقامت کی نیت کر لینے کی وجہ سے، بأن كان، بعید طور پر، خود صورت بتلا رہے ہیں، بأن كان هذا اللاحق مسافرا اقتدى بمسافر، کہ یہ جو لاحق تھا یہ کیا تھا؟ مسافر تھا، اور اس نے اقتداء بھی کس کی کی تھی؟ مسافر، امام اور یہ دونوں مسافر تھے۔ ثم أحدث، پھر اس کو حدث لاحق ہوا، پوری صورت بتائیں گے، فذهب إلى مصره، پھر یہ اپنے شہر چلا گیا للتوضي، وضو کرنے کے لیے، کہاں چلا گیا؟ اپنے شہر چلا گیا بھئی، یہ معنی نہیں ہے گاڑی پکڑی اور بس میں سوار ہوا نکل گیا اپنے شہر کی طرف بھئی، بھئی شہر کے ساتھ ہی تھے، آپ نے پڑھا ہے کہ جیسے جب آپ سفر تین دن کی مسافت کا ارادہ کریں تو شہر کے آخری مکانات سے جدا ہوتے ہی آپ مسافر بن گئے، اب چار کے بجائے دو رکعت پڑھنا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو وہ کتنا فاصلہ بنتا ہے؟ 48 میل؟ 48 میل اور 77، 78 کلومیٹر جو ہے یہ فاصلہ کم از کم ہو، تو اتنے اس سے زائد فاصلے، اتنے یا اس سے زائد فاصلے کی نیت کی اور چل پڑا، تو گھر سے نکلتے ہی مسافر نہیں بنا، بلکہ شہر سے جیسے ہی جدا ہوگا کیا بن جائے گا؟ مسافر بن جائے گا بھئی، تو یہ شہر سے جدا ہوا اور ساتھ ہی ظہر کا وقت تھا، وہیں پر قریب ہی کچھ فاصلے پر انہوں نے کیا کیا؟ ظہر کی نماز شروع کی، تو اس یہ امام بھی مسافر، یہ مقتدی بھی مسافر، اس کو حدث لاحق ہوا، یہ پھر چلا گیا ساتھ جو مکانات تھے اسی کے شہر کے وہاں گیا اور وضو کرکے واپس آیا، اور اس دوران امام نے سلام پھیر دیا ہے، تو اب یہ کیا کرے گا؟ باقی اپنی نماز خود پوری کرے گا، خود پوری کرے گا، اور اس دوران اس کی نیت بدل گئی، اس نے اقامت کی نیت کر لی کہ میں یہاں پر کیا کرتا ہوں؟ اقامت 15 دن کا قیام کرتا ہوں۔ تو کیا اقامت کی نیت کرنے سے اس کے فرضوں پر اثر پڑے گا؟ وہ دو سے چار کی طرف بدل جائیں گے؟ کہتے ہیں نہیں بھئی فرض اسی طرح دو کے دو ہی رہیں گے بھئی۔ کیوں؟ جی؟ یہ ادا کس کے مشابہ ہے؟ قضا کے مشابہ ہے، اور سفر کے اندر ایک آدمی کی نماز دو رکعت والی رہ گئی تھی تو حضر میں قضا بھی کتنی کرے گا؟ دو ہی، اور حضر میں آدمی کی چار رکعت قضا نماز رہ گئی تھی تو سفر میں بھی اس کی قضا کتنی کرے گا؟ چار ہی کرے گا بھئی چار ہی کرے گا۔ تو معلوم ہوا یہ ادا جو اب کرنے لگا ہے یہ مشابہ بالقضا ہے، جبھی اس پر نیت کے بدلنے کا اثر نہیں پڑا کیونکہ قضا پر نیت کے بدلنے کا اثر نہیں پڑتا۔ ایک آدمی کی سفر میں کتنی رکعتیں رہ گئی تھیں؟ دو رکعتیں رہ گئی تھیں، اب وہ ایک شہر میں پہنچ گیا اب اس نے نیت کر لی کہ میں یہاں 15 دن رہوں گا تو دیکھو نیت بدل گئی لیکن نیت کے بدلنے کا قضا پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اب بھی اگر ان جو دو رکعتیں رہ گئی تھیں قضا کتنی کرے گا؟ دو رکعتیں ہی کرے گا۔ معلوم ہوا قضا کے اندر نیت کے بدلنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ادا کے اندر اگر نیت بدل جائے تو ادا ہی بدلنا پڑے گی۔ ظہر کے وقت بھئی نماز شروع کی، دو رکعتیں پڑھ رہا ہے، دو رکعتوں کے اندر ہی اس کی نیت بن گئی کہ میں یہی پر اقامت کرتا ہوں 15 دن کی، تو اب دو نہیں پڑھے گا بلکہ چار پوری کرنا پڑیں گی بھئی۔ تو یہ دیکھو ادا پر اگر نیت کا بدلنا آئے گا تو وہ ادا کو بدل دیتا ہے، اور یہاں یہ شخص جو لاحق دوبارہ آ کر اپنی نماز پوری کر رہا ہے، اس دوران اس کی نیت بدل گئی لیکن نیت کے بدلنے سے فرضوں پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ کیوں نہیں پڑا؟ کیونکہ یہ ادا کس کے مشابہ ہے؟ قضا کے مشابہ ہے، اور قضا پر نیت کے بدلنے سے کوئی اثر نہیں پڑتا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے کہ اس کے فرض نیت اقامت سے نہیں بدلیں گے بھئی جو متن میں آیا تھا۔ تو کہتے ہیں "فَذَهَبَ إِلَى مِصْرِهِ" تو وہ چلا گیا اپنے شہر "لِلتَّوَضُّؤِ" وضو کرنے کے لیے، تو اپنے شہر جیسے ہی گیا نیت کرے یا نہ کرے، مقیم بن گیا یا نہیں بن گیا؟ بن گیا۔ ایک صورت یہ ہے، اپنے شہر جاتے ہی خود بخود مقیم بن گیا وہاں نیت کی بھی نہیں ضرورت لیکن اس سے نماز پہ پھر بھی کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ یہ جو نماز پڑھ رہا ہے وہ کس قسم کی ہے؟ مشابہ بالقضا ہے۔ ایک صورت یہ شہر چلا گیا اپنے شہر۔ دوسری صورت، اپنے شہر کے پاس نہیں تھے کسی اور جگہ پر تھے وہاں وضو کر رہا ہے، وضو کرتے ہوئے درمیان میں کسی وقت اس کی نیت بن گئی کہ میں اسی جگہ پہ جہاں اس وقت ہم ہیں 15 دن رہوں گا۔ تو اب نیت اقامت کر لی بھئی، تو اب یہ نیت کا بدلنا کس پر آیا؟ ادا پر یا قضا کے مشابہ جو مشابہ ہے بالقضا؟ مشابہ بالقضا پر آیا اور قضا پر کوئی اثر نیت کے بدلنے کا نہیں پڑتا، لہٰذا یہاں کتنی پڑھے گا؟ دو ہی پڑھے گا بھئی۔ "أَوْ نَوَى الإِقَامَةَ فِي مَوْضِعِهَا" یا اس نے اقامت کی نیت کر لی اپنی جگہ پر ہی، "ثُمَّ جَاءَ" پھر وہ آیا "حَتَّى فَرَغَ الإِمَامُ" یہاں تک کہ امام فارغ ہو چکا تھا "وَلَمْ يَتَكَلَّمْ" اور اس نے کلام نہیں کیا۔ دیکھا وہ شرط لگا دی "حَتَّى فَرَغَ الإِمَامُ" امام کیا ہو چکا؟ فارغ یعنی سلام پھیر چکا ہے اس کے بعد کی بات ہم کر رہے ہیں، یہ مشابہ بالقضا ہے۔ اگر امام کے ساتھ آ کر مل گیا تو یہ مشابہ بالقضا نہ رہی، یہ تو اسی طریقے پر پڑھ رہا ہے جس طریقے کا اس نے التزام کیا تھا۔ لہٰذا اب اگر نیت بدلی تھی اور تو اس صورت میں فرض بدل جائیں گے بھئی۔ تو یہ بات کون سی ہو رہی ہے؟ امام کیا کر چکا ہو؟ سلام پھیر چکا ہو۔ اور نیز "وَلَمْ يَتَكَلَّمْ" کلام بھی نہ کیا ہو، اگر کلام کیا پھر تو نئے سرے سے پڑھنا پڑے گی پھر اس پر بھی نیت کے بدلنے کا اثر پڑے گا۔ تو اس نے کلام نہیں کیا "وَشَرَعَ فِي إِتْمَامِ الصَّلاَةِ" اور شروع ہو گیا نماز کے پورا کرنے میں، تو کہتے ہیں "فَلاَ يُتِمُّ أَرْبَعًا" یہ چار پورے نہیں کرے گا "بَلْ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ" بلکہ دو رکعتیں پڑھے گا "كَمَا إِذَا كَانَ قَضَاءً مَحْضًا" جیسے کہ قضا محض جو ہے، جیسے کہ قضا محض تھی "لاَ يَتَغَيَّرُ فَرْضُهُ بِنِيَّةِ الإِقَامَةِ" کہ بدلتا نہیں اس میں اس کا فرض اقامت کی نیت کر لینے سے "فَكَذَا هَذَا" تو یہ بھی اسی طرح ہے۔ "فَإِنْ لَمْ يَقْتَدِ بِمُسَافِرٍ" اور اگر اس شخص نے، ہم نے کیا کہا تھا کس کی اقتدا کی؟ مسافر نے مسافر کی، اگر اس نے اقتدا مسافر کی نہیں کی "بَلْ بِمُقِيمٍ" بلکہ کس کی؟ مقیم کی اقتدا کی "أَوْ لَمْ يَفْرُغِ الإِمَامُ بَعْدُ" یا امام فارغ نہیں ہوا تھا اس کے بعد یعنی ابھی بھی نماز ہی میں تھا جب یہ دوبارہ آ کر اس کے ساتھ شامل ہو گیا "أَوْ تَكَلَّمَ ثُمَّ اسْتَأْنَفَ" یا اس نے کیا کر لیا؟ کلام کر لیا اور پھر نئے سرے سے نماز شروع کی "أَوْ كَانَ مِثْلُ هَذَا فِي المَسْبُوقِ دُونَ اللاَّحِقِ" یا اس قسم کی مثال پیش آئی، اس قسم کی بات پیش آئی کس کے اندر؟ مسبوق میں، دون اللاحق، نہ کہ لاحق میں۔ تو ان ساری صورتوں میں "يَصِيرُ فَرْضُهُمْ أَرْبَعًا" اس کے فرض کتنے ہو جائیں گے؟ چار ہو جائیں گے "بِنِيَّةِ الإِقَامَةِ" کس کی وجہ سے؟ اقامت کی نیت کرنے سے اس کے فرض چار بن جائیں گے بھئی، کیونکہ مقیم کی اقتدا کرے گا تو مقیم کی تو اقتدا کرنے پر مسافر کو بھی کتنے پڑھنا پڑتے ہیں؟ چار ہی پڑھنا پڑتے ہیں۔ یا امام ابھی سلام امام نے نہیں پھیرا تھا یہ پھر آ کر شریک ہو گیا تو نیت کا بدلنا کس پر آیا؟ ادا پر یا مشابہ بالقضا پر؟ کیونکہ امام کے بعد جو حصہ ہے وہ تو ٹھیک ہے ہو سکتا ہے مشابہ بالقضا لیکن جو امام کے ساتھ حصہ ہے وہ تو مشابہ بالقضا کسی بھی لحاظ سے نہیں ہے بھئی، تو اس صورت میں ادا پر نیت کا بدلنا پایا گیا اور ادا پر جب نیت بدلے تو وہ اثر ڈالتی ہے اور دو کے بجائے کتنا پڑھنا پڑھیں گے؟ چار। یا تیسری صورت کہ اس نے تکلم کیا اور نئے سرے سے نماز شروع کر پڑے گا یہ، اب جب نئے سرے سے پڑھے گا تو اس سے پہلے یہ نیت بدل چکا ہے تو اب دو نہیں پڑھے گا بلکہ کتنی کرے گا؟ چار پڑھے گا۔ یا مسبوق جو ہے اس کو یہ حالت پیش آ گئی بھئی، مسبوق تو مسبوق تو وہ ہے اس نے تو نماز امام کے ساتھ پڑھنے کا التزام کیا ہی نہیں، ایک یا دو رکعتیں پہلے ہی نکل چکی تھیں، بعد میں آ کر وہ شریک مثلاً ایک رکعت نکل چکی تھی وہ بعد میں آ کر شریک ہوا، تو اب ایک تو اس کو پڑھنی ہی اکیلی ہے، جب وہ اکیلی اب ایک رکعت پڑھ رہا ہے تو اسی طریقے پر پڑھ رہا ہے جس طریقے پر التزام کیا تھا یا اس کے خلاف پڑھ رہا ہے؟ جس طریقے کا التزام کیا تھا اسی طریقے پر پڑھ رہا ہے کیونکہ اس نے التزام ہی یہ کیا تھا کہ ایک نماز ایک رکعت امام کے ساتھ ہے تو ایک نکل چکی ہے وہ بعد میں مجھے اکیلے پڑھنی ہے، تو لہٰذا اس نے التزام بھی ویسا ہی کیا تھا تو یہ ادا ہی ہر لحاظ سے ہے اور ادا پر نیت کا بدلنا پایا گیا اور ادا پر نیت بدلے تو اثر ڈالتی ہے اور اس کو بدل دیتی ہے بھئی، تو اب دو کے بجائے کتنے پڑھے گا؟ چار۔ تو ان ساری یہ تین چار صورتیں جو ذکر کیں سب کے بارے میں کہا "حَتَّى يَصِيرَ فَرْضُهُمْ أَرْبَعًا" یہاں تک کہ ہو جائیں گے ان کے فرض چار "بِنِيَّةِ الإِقَامَةِ" کس کی نیت سے؟ اقامت کی نیت سے۔ "ثُمَّ أَنَّ هَذِهِ الأَقْسَامَ الثَّلاَثَةَ كَمَا تَجْرِي فِي حُقُوقِ اللهِ تَعَالَى تَجْرِي فِي حُقُوقِ العِبَادِ أَيْضًا" پھر جس طرح یہ تین قسمیں جاری ہوتی ہیں حقوق اللہ کے اندر، اسی طرح یہ جاری ہوتی ہیں حقوق العباد کے اندر بھی بھئی۔ ابھی تک جتنی مثالیں ذکر کیں وہ حقوق اللہ کی تھیں بھئی، جماعت کے ساتھ نماز یہ بھی حق اللہ ہے، اکیلے نماز پڑھ رہا ہے نماز ہے بھئی حق اللہ ہے، لاحق امام کے سلام پھیرنے کے بعد نماز پوری کر رہا ہے یہ بھی کیا ہے نماز ہی ہے یہ ہے اللہ کا حق بھئی۔ ہاں حقوق العباد کے اندر بھی یہ قسمیں جاری ہوں گی۔ "وَمِنْهَا رَدُّ عَيْنِ المَغْصُوبِ" "وَمِنْهَا" یہ ضمیر کس کو راجع ہے؟ شرح میں بتلا رہے ہیں "أَيْ وَمِنْ أَنْوَاعِ الأَدَاءِ" ادا کی انواع میں سے ہے، کیا؟ "رَدُّ عَيْنِ المَغْصُوبِ أَيْ رَدُّ عَيْنِ الشَّيْءِ الَّذِي غَصَبَهُ" یعنی لوٹانا عین اسی چیز کو جس کو اس شخص غاصب نے غصب کیا تھا "عَلَى الوَصْفِ الَّذِي" بھئی دیکھو ایک شخص نے کسی کی چیز زبردستی لے لی، غصب کر لی، اٹھا کر لے گیا، تو یہ غاصب ہوا، اور غاصب پر واجب ہے ضروری ہے کہ مالک کو اس کی چیز لوٹائے۔ اب وہ چیز مالک کو لوٹاتا ہے اور اسی وصف پر لوٹاتا ہے جس وصف پر لے کر گیا تھا، یعنی جس حالت پر لے کر گیا تھا اسی حالت پر لے کر واپس کر دیتا ہے، اس میں کسی قسم کی کمی نہیں آتی، تو یہ کیا ہوا؟ یعنی یہ اداۓ کامل ہے، یہ کیا ہے؟ کیونکہ یہ اسی وصف پر واپس کر رہا ہے جس وصف پر واپس کرنا چاہیے تھی اسی وصف پر، جس وصف پر ادا ہونی چاہیے تھی اسی وصف پر کیا ہو رہی ہے؟ ادا بھی ہو رہی ہے لہٰذا یہ کیا ہے؟ اداۓ کامل ہے۔ دیکھیے آگے "أَيْ وَمِنْ أَنْوَاعِ الأَدَاءِ رَدُّ عَيْنِ الشَّيْءِ الَّذِي غَصَبَهُ" اور ادا کی انواع میں سے ہے واپس کرنا ہے عین اس چیز کو جس کو اس غاصب نے غصب کیا تھا "عَلَى الوَصْفِ الَّذِي غَصَبَهُ إِلَى المَالِكِ" اسی وصف پر جس پر اس نے غصب کیا تھا مالک کی طرف "بِدُونِ أَنْ يَكُونَ المَغْصُوبُ مُشْتَغِلاً بِالجِنَايَةِ أَوْ بِالدَّيْنِ" بغیر اس کے کہ وہ مغصوب جو ہے مشغول ہو جنایت کے ساتھ یا دین کے ساتھ "وَبِدُونِ أَنْ يَكُونَ نَاقِصًا بِنُقْصَانٍ حِسِّيٍّ" اور بغیر اس کے کہ وہ ناقص ہو کسی نقصانِ حسی کے ساتھ۔ بھئی دیکھیے ایک صورت یہ تھی کسی نے غلام کسی کا غصب کر لیا بھئی، اب یہ غلام جو تھا یہ مشغول بالجنایت بھی نہیں تھا، مشغول بالدین بھی نہیں تھا، اس میں کوئی ظاہری نقصان بھی نہیں تھا، اس کو اس نے غصب کر لیا۔ لیکن غاصب کے پاس اس غلام نے کسی دوسرے کو قتل کر دیا، تو اب یہ غلام کیا ہوا؟ مشغول بالجنایت ہوا، کیا ہوا؟ مشغول بالجنایت، حالانکہ پہلے یہ مشغول بالجنایت، اب یہ مشغول بالجنایت ہوا مولانا، اس نے جان بوجھ کر اگر قتل کیا ہے تو اسے بھی قصاص میں کیا کیا جائے گا؟ قتل کیا جائے گا۔ تو اب یہ غلام واپس کرتا ہے مولانا، تو کیا یہ غلام اسی وصف پر واپس کر رہا ہے جس پر اس نے غصب کیا تھا یا وصف بدل چکا ہے بھئی؟ وصف بدل چکا ہے، یا اسی طرح اس نے غلام غصب کیا تھا اس غلام نے غاصب کے پاس کسی کا کوئی مالی نقصان کر دیا، جب مالی نقصان کیا تو اس غلام پر اس کا ضمان آئے گا مولانا، تو یہ غلام مشغول بالدین ہو گیا۔ کیا ہوا؟ تو جب اس نے غصب کیا تھا وہ مشغول بالدین نہیں تھا لیکن اب جب واپس کر رہا ہے تو یہ کیا ہو چکا ہے؟ مشغول بالدین، تو وصف کیا ہوا؟ بدل چکا ہے۔ تیسری صورت کہ غلام لے کر گیا تھا یا کوئی اور چیز لے کر گیا تھا، وہ صحیح سالم تھی اس میں کسی قسم کا نقصان نہیں تھا ظاہری بھئی، اس نے کیا کیا اس میں کوئی نقصان پیدا کر دیا، غلام ہے مثلاً اس کا ہاتھ کاٹ ڈالا، اب یہ غلام واپس کرتا ہے تو اس میں کیا آ چکا ہے؟ نقصان، تو اسی وصف پر واپس نہیں کر رہا۔ ہاں اگر اسی وصف پر واپس کرتا ہے کہ وہ غلام مشغول بالجنایت بھی نہ ہو، مشغول بالدین بھی نہ ہو، اور اس میں کسی قسم کا ظاہری نقصان بھی نہ ہو، تو یہ اسی وصف پر ادا کر رہا ہے جس وصف پر ادا چاہیے تھی، تو یہ کیا کہلائے گی؟ اداۓ کامل کہلائے گی۔ تو یہ معنی ہے کہ اسی وصف پر جس پر غصب کیا تھا تو واپس کرنا ہے "إِلَى المَالِكِ" کس کو؟ مالک کو "بِدُونِ أَنْ يَكُونَ المَغْصُوبُ مُشْتَغِلاً بِالجِنَايَةِ أَوْ بِالدَّيْنِ" بغیر اس کے کہ وہ مغصوب مشغول ہو جنایت کے ساتھ یا دین کے ساتھ "وَبِدُونِ أَنْ يَكُونَ نَاقِصًا بِنُقْصَانٍ حِسِّيٍّ" اور بغیر اس کے کہ وہ ناقص ہو کسی نقصانِ حسی کے ساتھ "فَهَذَا نَظِيرُ الأَدَاءِ الكَامِلِ" بس یہ مثال ہے اداۓ کامل کی "لأَنَّهُ أَدَاءٌ عَلَى الوَصْفِ الَّذِي غَصَبَهُ مِنْ غَيْرِ فُتُورٍ" اس لیے کہ یہ ادا کرنا ہے اسی وصف پر جس پر اس نے غصب کیا تھا "مِنْ غَيْرِ فُتُورٍ" فطور کا معنی ہوتا ہے سستی، یہاں مراد کمی ہے، بغیر کسی کمی کے۔ فطور ویسے سستی کو کہتے ہیں، مراد کمی ہے، بغیر کسی کمی کے اسی وصف پر اس نے ادا کیا ہے تو یہ اداۓ کامل ہے۔ "وَمِثْلُهُ تَسْلِيمُ عَيْنِ المَبِيعِ إِلَى المُشْتَرِي" اور اسی کے مثل ہے سپرد کرنا عینِ مبیعہ کو کس کے کس کے سپرد کرنا؟ مشتری کے۔ مشتری کے، بھئی دیکھو آپ نے مجھ سے ایک چیز خریدی اور ایک چیز خریدتے ہیں تو جس حالت پر بیع ہوئی تھی اسی حالت میں، میں کیا کر دیتا ہوں؟ مبیع جس حالت پر تھا اسی حالت میں، میں آپ کے حوالے کرتا ہوں، تو یہ کیا ہے؟ میں اسی وصف پر کیا کر رہا ہوں؟ آپ کے حوالے کر رہا ہوں، اور اگر اس میں کوئی نقصان آ جائے یا وہ غلام تھا ابھی میں نے بیع تو کر لی ہے اور بیع جب کی اس وقت یہ غلام نہ مشغول بالجنایت تھا اور نہ مشغول بالدین، لیکن اس نے میرے پاس کیا کر دیا؟ ابھی آپ کے حوالے میں نے نہیں کیا، سمجھ میں آیا؟ اس غلام نے کیا کیا؟ اس سے پہلے ہی کوئی جنایت کر دی یا کسی کا مالی نقصان کر دیا، اب میں آپ کے سپرد کرتا ہوں، تو کیا یہ میں اسی وصف پر سپرد کر رہا ہوں جس پر سپرد کرنا چاہیے تھا یا کمی آ گئی؟ کمی آ گئی، معلوم ہوا یہ اداۓ کامل، تو لہٰذا اگر اسی وصف پر ادا کرتا ہوں، آپ کے حوالے کرتا ہوں جس وصف پر وہ تھا بیع کے وقت، تو یہ کیا ہے؟ اداۓ کامل ہے۔ تو یہ معنی اسی کے مثل ہے "تَسْلِيمُ عَيْنِ المَبِيعِ إِلَى المُشْتَرِي" عینِ مبیعہ کو سپرد کرنا مشتری کے۔ "وَتَسْلِيمُ بَدَلِ الصَّرْفِ" اور بدلِ صرف کو سپرد کرنا، بھئی بیعِ صرف جانتے ہو یا نہیں جانتے؟ بیعِ صرف کے اندر دونوں طرف سے کیا ہوتے ہیں؟ جنسِ ثمن ہیں، دونوں طرف سونا ہوگا یا دونوں طرف چاندی یا ایک طرف سونا ایک طرف چاندی یا ایک طرف کرنسی ایک طرف سونا وغیرہ یہ ساری کیا ہیں؟ بیعِ صرف ہیں بھئی، اور بیعِ صرف میں آپ نے پڑھا ہے بھئی کہ اسی مجلسِ عقد کے اندر ہی عوضین پر قبضہ ضروری ہوتا ہے، تو سپرد کیا کس نے بدلِ صرف کو، سمجھ میں آیا؟ وہ جو عوض تھا ایک دوسرے پر، وہ اس کے حوالے کیا، اسی مجلس میں کر رہا ہے اور اسی وصف پر کر رہا ہے، کیا کر رہا ہے؟ اسی وصف پر کر رہا ہے جس پر سپرد کرنا چاہیے تھا۔ اسی طرح "وَالمُسْلَمِ فِيهِ" "أَيْ تَسْلِيمُ المُسْلَمِ فِيهِ" بھئی بیعِ سلم آپ جانتے ہیں کسے کہتے ہیں؟ کہ مثلاً کسی کے پاس آپ گئے، پیسے آج دے رہے ہیں چیز وہ آپ کو چھ سات ماہ بعد مثلاً دیتا ہے۔ آپ ایک شخص کے پاس گئے اور اسے پیسے حوالے کیے کہ یہ لو بھئی 10,000 روپے، اس کے مجھے چھ ماہ بعد اس کی گندم دے دینا، دونوں نے ایجاب و قبول کیا بھئی، بیع ہو گئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ ایجاب و قبول کیا، بیع ہو گئی، ثمن آج دیے ہیں اور چیز کب ملے گی؟ کچھ متعین مدت کے بعد ملے گی۔ تو یہ کیا کہلاتی ہے؟ بیعِ سلم کہلاتی ہے۔ اس میں یہ جو مبیع ہوتا ہے یہ جو بعد میں ملے گا اس کو مسلم فیہ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ مسلم فیہ کہتے ہیں، تو کہتے ہیں "وَالمُسْلَمِ فِيهِ أَيْ تَسْلِيمُ المُسْلَمِ فِيهِ" مسلم فیہ کا حوالے کرنا "إِلَيْهِ أَيْ إِلَى المُشْتَرِي" کس کے حوالے کرنا؟ مشتری کے حوالے کرنا "عَلَى الوَصْفِ الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهِ العَقْدُ" اسی وصف پر جس پر کیا واقع ہوا تھا؟ عقد، اسی وصف پر یہ چیزیں حوالے کر دیتا ہے تو یہ ساری کیا ہیں؟ یہ اداۓ کامل ہیں۔ "وَرَدُّهُ مَشْغُولاً بِالجِنَايَةِ" اور اس مغصوب کو واپس کرنا اس حال میں کہ وہ مشغول ہو کس کے ساتھ؟ جنایت کے ساتھ "نَظِيرٌ لِلأَدَاءِ القَاصِرِ" یہ کس کی نظیر ہے؟ اداۓ قاصر کی مثال ہے "أَيْ رَدُّ الشَّيْءِ المَغْصُوبِ" واپس کرنا اس مغصوب چیز کو "حَالَةَ كَوْنِهِ مَشْغُولاً" بتلایا "حَالَةَ كَوْنِهِ" کہ مشغول کا لفظ جو متن میں آیا وہ حال ہے "حَالَةَ كَوْنِهِ مَشْغُولاً بِالجِنَايَةِ" اس حال میں کہ وہ مشغول ہو جنایت کے ساتھ "أَوْ بِالدَّيْنِ" یا کس کے ساتھ؟ دین کے ساتھ "بِأَنْ غَصَبَ عَبْدًا فَارِغًا" بایں طور کہ غصب کیا ایک ایسا غلام جو فارغ ہے جنایت سے بھی اور دین سے بھی یعنی مشغول نہیں ہے ان کے ساتھ۔ صورت بتلا رہے ہیں کہ کس طرح مشغول بالدین واپس کرتا ہے یا مشغول بالجنایت، بایں طور کہ غصب کیا ایک ایسا غلام جو فارغ ہے یعنی فارغ کس کس سے ہے؟ دین اور جنایت سے، "ثُمَّ لَحِقَهُ الدَّيْنُ أَوِ الجِنَايَةُ فِي يَدِ الغَاصِبِ" پھر اس کے ساتھ لاحق ہو گیا، مل گیا اس کے ساتھ دین یا جنایت "فِي يَدِ الغَاصِبِ" کس کے قبضے میں؟ غاصب کے قبضے میں، تو یہ اس کی کس کی مثال ہے؟ اداۓ قاصر کی۔ "وَمِثْلُهُ تَسْلِيمُ المَبِيعِ حَالَةَ كَوْنِهِ مَشْغُولاً بِالجِنَايَةِ" اور اسی کے مثل ہے مبیع کو سپرد کرنا اس حال میں کہ وہ مشغول ہو کس کے ساتھ؟ بھئی جب عقد کیا تھا اس وقت مبیع مشغول بالجنایت نہیں تھا لیکن حوالے کرنے سے پہلے اس غلام نے کیا کر لی؟ جنایت کر لی، اب یہ کیا ہو گیا مشغول بالجنایت، اب اس کو حوالے کرتا ہے مشتری کے تو یہ کیا ہے؟ اس وصف پر ادا نہیں ہے جس وصف پر عقد ہوا تھا بلکہ اس میں کمی آ گئی تو یہ کیا ہے؟ اداۓ قاصر ہے، یا اسی غلام نے حوالے کرنے سے پہلے کسی کا نقصان کر دیا مالی نقصان تو یہ کیا ہوا مشغول بالدین، تو یہ بھی کیا ہے اب حوالے کرے گا تو یہ کیا ہوگا؟ اداۓ قاصر ہے۔ یا یہ غلام تندرست تھا عقد کے وقت، لیکن عقد سپرد، حوالے کرنے سے پہلے بیمار ہو گیا مولانا۔ اب یہ بھی کیا ہے؟ ادائے، اب حوالے کرے گا تو یہ کیا ہے؟ ادائے قاصر، کیونکہ وصف میں کمی آ چکی ہے۔ کہتے ہیں: "ومثلہ تسلیم المبیع حال کونہ مشغولًا بالجنایۃ" اور اسی کی مثل ہے مبیع کو سپرد کرنا اس حال میں کہ وہ مشغول ہو جنایت کے ساتھ، "أو بالدین" یا دین کے ساتھ، "أو بالمرض" یا مرض کے ساتھ۔ "ففی هذا کلہ" تو ان سب کے اندر "إن هلک المغصوب والمبیع فی ید المالک والمشتری بآفۃ"۔ اچھا، بھئی ان ادائے قاصر کر دی ایک آدمی نے۔ غاصب نے کیا کر دی؟ ادائے غلام صحیح اس نے غصب کیا تھا اور جب واپس کیا تو کس قسم کا کیا؟ کہ وہ مشغول بالدین تھا یا مشغول بالجنایت۔ یا عقد کے وقت تو غلام مشغول نہیں تھا لیکن جب حوالے کیا وہ مشغول بالجنایت ہو چکا تھا یا مشغول بالدین ہو چکا۔ ادھا کر دیا۔ پھر یہ غلام مالک کے پاس کسی آفتِ سماوی سے ہلاک ہوا، کیا ہوا؟ کسی آسمانی آفت سے ہلاک ہوا، یعنی مالک کے فعل سے ہلاک نہیں ہوا یا کسی کے فعل سے ہلاک نہیں۔ ہاں، آفتِ سماوی سے یہ ہلاک ہو گیا، تو کہتے ہیں اب اس صورت میں اس غاصب پر کوئی ضمان نہیں آئے گا یا اس بائع پر کوئی ضمان نہیں آئے گا۔ کیوں؟ کیونکہ اس نے تو ادائے قاصر کی تھی، کہتے ہیں بھئی ٹھیک ہے ادائے قاصر تھی لیکن تھی تو ادا۔ کیا تھی؟ تھی تو ادا، اور غلام کس سے ہلاک ہوا ہے؟ آفتِ سماوی سے، لہٰذا ادا ہو گئی، بس بات ختم ہو گئی۔ اب وہ اس پر رجوع، بائع، مشتری بائع پر رجوع نہیں کر سکتا اور مالک غاصب پر رجوع نہیں کر سکتا۔ تو کہتے ہیں: "ففی هذا کلہ" ان سب صورتوں، ان سب میں "إن هلک المغصوب والمبیع فی ید المالک والمشتری" اگر وہ مغصوب اور مبیعہ ہلاک ہو گیا مالک کے قبضے میں اور مشتری کے قبضے میں۔ مغصوب "ید المالک" اس کا تعلق کس سے ہے؟ مغصوب سے۔ مشتری اس کا تعلق کس سے ہے؟ مبیع سے۔ دو مسئلے اکٹھے ذکر کر رہے ہیں۔ تو مالک کے قبضے میں یا مشتری کے قبضے میں وہ چیز ہلاک ہو گئی "بآفۃ سماویۃ" کسی آسمانی آفت کی وجہ سے، "برئت ذمۃ الغاصب" تو غاصب کا ذمہ کیا ہوا؟ "والبائع" اور اسی طرح بائع کا ذمہ بھی بری ہوا، "لکونہ أداءً" کیوں؟ بوجہ اس کے ادا ہونے کے، کیونکہ یہ ادا تو ہے اگرچہ قاصر ہی ہے۔ "ولا دفعہ المالک إلی ولی الجنایۃ" اچھا، بھئی اس غاصب نے غلام جب واپس کیا، ادائے قاصر کے ساتھ کیا، یعنی وہ کیا ہو چکا ہے؟ مشغول بالجنایت ہو چکا ہے یا مشغول بالدین ہو چکا ہے۔ تو اب لہٰذا اس غلام کو ولیِ جنایت کے سپرد کرنا پڑا، اس نے جنایت کی ہے لہٰذا کس کے حوالے کرنا پڑا اس غلام کو؟ جس کی جنایت کی تھی اس کے حوالے کرنا پڑا۔ غلام جنایت کرے تو اس کو حوالے کرنا پڑتا ہے بھئی۔ یا دین، مشغول بالدین تھا، اس غلام کو اب دین کی ادائیگی کے لیے بیچنا پڑا۔ تو اس صورتوں کے اندر بھئی، اب یہ مالک پھر غاصب پر رجوع کرے گا اور غلام کی قیمت اس سے لے گا۔ کیا لے گا؟ قیمت۔ کیونکہ یہ غلام جو ولیِ جنایت کے حوالے کرنا پڑا یا اس کو جو دین میں بیچنا پڑا، تو یہ جنایت اور دین کے ساتھ مشغول کہاں پر ہوا تھا؟ غاصب کے پاس ہوا تھا۔ تو اب اس کے پاس مشغول ہو کر آیا اور پھر مالک کے ہاتھ سے نکل گیا تو گویا اس کے، گویا دیا ہی نہیں گیا۔ یوں ہو گئی بات گویا کہ اس کو دیا ہی نہیں گیا۔ تو غاصب نے وہ چیز گویا غصب کر کے دی نہیں کیونکہ جس وجہ سے ہاتھ سے نکلا وہ سبب کس کے پاس پایا گیا تھا؟ غاصب کے پاس۔ تو گویا یوں سمجھیں گے غاصب کے پاس سے ہی وہ نکل گیا۔ جب غاصب کے پاس سے ہی نکل گیا، مالک کے پاس آیا ہی نہیں، تو مالک کس چیز سے اس نے غصب کی تھی؟ اب وہ تو نہیں دے سکتا، لہٰذا اس کا مثل دینا پڑے گا اور مثل کیا ہے غلام میں اس کی؟ قیمت ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: "ولو دفعہ المالک إلی ولی الجنایۃ" اور اگر حوالے کر دیا مالک نے ولیِ جنایت کے، "أو بیع فی الدین" یا اس غلام کو بیچا گیا دین کے اندر، "رجع المالک علی الغاصب بالقیمۃ" تو مالک رجوع کرے گا غاصب پر قیمت کے ساتھ، "والمشتری علی البائع بالثمن" اور یہی صورت اگر مشتری میں پیش آئے تو مشتری رجوع کرے گا بائع پر کس کے ساتھ؟ ثمن کے ساتھ بھئی، ثمن اس سے واپس لے لے گا کیونکہ غلام کیا ہو گیا؟ اس کے ہاتھ سے نکل گیا۔ اور سبب تو پایا گیا تھا کس کے پاس؟ بائع کے پاس پایا گیا تھا، تو گویا کس کے ہاتھ سے نکلا ہے؟ بائع کے پاس سے غلام نکل گیا، تو اب مشتری نے تو کس کے بدلے بیع کی تھی؟ ثمن کے بدلے، تو وہ ثمن اس سے واپس لے لے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ "وإمھار عبد غیرہ وتسلیمہ بعد الشراء" اور مہر مقرر کرنا کسی دوسرے کے غلام کو اور اس کو سپرد کرنا خریدنے کے بعد، "نظیر للأداء الشبیہ بالقضاء" یہ نظیر، یہ مثال ہے اس ادا کی جو مشابہ ہے قضاء کے ساتھ، تو یہ ادا مشابہ بالقضاء کی مثال ہے۔ انواع چل رہی تھیں ادا کی کہ ادا کتنی قسم پر؟ تین قسم پر، ایک کامل، ایک قاصر اور ایک مشابہ بالقضاء۔ اور تینوں کی مثالیں حقوق اللہ میں ذکر کر دیں، ادائے کامل ہے باجماعت نماز پڑھنا، ادائے قاصر ہے اکیلے وقت کے اندر نماز پڑھنا، اور مشابہ بالقضاء ہے لاحق کی نماز جبکہ امام سلام پھیر چکا ہو۔ یہ کیا ہے؟ ادا، کیونکہ وقت کے اندر ہے لیکن مشابہ بالقضاء ہے کہ جس وصف پر اس نے التزام کیا تھا اس وصف پر نہیں پڑھ رہا۔ اور پھر بتلایا تھا کہ جس طرح یہ ادا کی قسمیں حقوق اللہ میں جاری ہوتی ہیں اسی طرح حقوق العباد میں بھی یہی قسمیں ہیں۔ چنانچہ وہ غلام جس کو کسی نے غصب کر لیا اور پھر بعینہِ اسی وصف پر واپس لوٹایا تو یہ ہے ادائے کامل۔ اور اگر اس کے وصف میں کچھ کمی آ گئی تو یہ ہے ادائے قاصر۔ آج مثال ذکر کر رہے ہیں ادا مشابہ بالقضاء کی حقوق العباد میں سے۔ تو کہتے ہیں: "وإمھار عبد غیرہ" اب دیکھیے، یاد رکھیے، صورت یہ ہے مثلاً ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا اور مہر کسی غلام کو مقرر کیا۔ کوئی معین غلام تھا لیکن وہ اس کا مالک کوئی اور تھا۔ اس نے نکاح کیا عورت کے ساتھ کہ میں تمہارے ساتھ نکاح، میرے ساتھ نکاح کر لو، میں بطورِ مہر کے تمہیں وہ جو زید کا غلام، متعین غلام ہے وہ بطورِ مہر کے دوں گا۔ چنانچہ اس پر دونوں نے عقدِ نکاح کر لیا بھئی۔ اب یہ جو غلام مقرر کیا یہ اس خاوند کا نہیں ہے بلکہ کسی اور کا ہے۔ کس کا ہے؟ کسی اور کا ہے۔ بعد میں وہ خاوند وہ غلام کو خریدتا ہے اور بیوی کے حوالے کر دیتا ہے بطورِ مہر کے، تو یہ عین اسی غلام کو سپرد کر رہا ہے جس کے بارے میں طے ہوا تھا۔ تو یہ ادا ہے، کیا ہے؟ ادا ہے۔ لیکن، لیکن اس اعتبار سے یہ مشابہ بالقضاء ہے کہ یہ دوسرا شخص ہے۔ ذات تو وہی ہے لیکن دوسرا شخص ہے۔ کس اعتبار سے؟ کہ یاد رکھیے شریعت کے اندر تبدلِ ملک سے تبدلِ عین ہوتا ہے۔ ملکیت کے بدلنے سے چیز بھی بدل جایا کرتی ہے۔ سمجھ میں آئی بات؟ مثلاً یہ پہلے مملوک تھا زید کا تو اور شخص تھا۔ جب شوہر نے خریدا تو تبدلِ ملک ہوا، ملکیت بدل گئی، اب خاوند اس کا مالک ہے۔ اور تبدلِ ملک سے تبدلِ عین ہوتا ہے، عین وہ چیز ہی بدل جاتی ہے تو یہ بھی غلام بدل گیا، وہ غلام نہ رہا بھئی۔ اور پھر جب خاوند سپرد کرے گا بیوی کے تو پھر ملکیت بدل گئی تو پھر تبدلِ عین آیا، اب یہ اور شخص ہے بھئی۔ تو لہٰذا اب جب یہ بیوی کو دے رہا ہے تو وہی شخص ہے یا دوسرا شخص ہے؟ دوسرا شخص ہے، یعنی اس کا مثل ہے، اور مثل ادا کرنا یہ کیا ہوتا ہے؟ قضاء۔ تو یہ قضاء کے مشابہ ہے اس اعتبار سے کہ عین اس چیز کو نہیں دے رہا بلکہ اس کا گویا کہ مثل دے رہا ہے۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ جب غلام شوہر نے بیوی کو دیا یہ ادا ہے لیکن قضاء کے ساتھ مشابہ ہے۔ ادا اس اعتبار سے کہ بعینہِ وہی غلام جس کے بارے میں اس نے کہا تھا وہی غلام ہے، وہی ذات ہے، وہی ذات ہے۔ لیکن یہ مشابہ بالقضاء اس اعتبار سے ہے کہ یہاں تبدلِ ملک آ چکا اور تبدلِ ملک سے کیا ہوتا ہے؟ تبدلِ عین کہ وہ چیز بھی بدل جاتی ہے۔ تو گویا کہ وہ چیز نہیں دے رہا اور دے رہا ہے تو اس اعتبار سے یہ قضاء ہے بھئی، مشابہ بالقضاء ہے۔ صورت سب کو سمجھ میں آ گئی؟ اب اسی کی تفصیل بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: "وإمھار عبد غیرہ" اور مہر مقرر کرنا کس کو؟ "عبد غیرہ" اپنے علاوہ کے غلام کو، خاوند کا اپنے علاوہ کسی اور کے غلام کو مہر مقرر کرنا، "وتسلیمہ" اور پھر اس کو سپرد کرنا "بعد الشراء" خریدنے کے بعد، "نظیر للأداء الشبیہ بالقضاء" یہ مثال ہے اس ادا کی جو مشابہ بالقضاء ہے۔ تفصیل خود بیان کر رہے ہیں: "أي أمھر رجل عبد الغير" یعنی مہر مقرر کیا ایک شخص نے کسی دوسرے کے غلام کو "فی نکاح امرأتہ" اپنی بیوی کے نکاح میں، "ثم سلمہ إلیھا بعد الشراء" پھر اس نے وہ غلام سپرد کر دیا اس بیوی کے خریدنے کے بعد، "فھو أداء من حیث إنہ سلم عین العبد الذی وقع علیہ العقد" تو یہ ادا ہے اس حیثیت سے کہ اس نے سپرد کیا ہے عین اسی غلام کو جس پر عقد واقع ہوا تھا، "وشبیہ بالقضاء" اور یہ شبہ بالقضاء ہے "من حیث إن تبدل الملک یوجب تبدل العين حکماً" کہ یہ اور یہ مشابہ بالقضاء ہے اس حیثیت سے کہ ملکیت کا بدلنا یہ یوجب، أي یثبت، یہ ثابت کرتا ہے تبدلِ عین کو حکماً۔ کس کو ثابت کرتا ہے؟ تبدلِ عین کو، اور حکماً یعنی حکم اس پر یہ لگایا دیا جاتا ہے۔ حقیقۃً تو عین نہیں بدلی لیکن حکماً کیا ہو چکی ہے عین؟ اس پر عین کے اس چیز کے بدلنے کا حکم لگا دیتی ہے شریعت بھئی۔ تو اس حیثیت سے کہ ملکیت کا بدلنا یہ ثابت کرتا ہے عین کے بدل جانے کو حکماً۔ "فإذا کان العبد مملوکاً للمالک" پس جس وقت وہ غلام مملوک تھا اس مالک کا، یعنی پہلے مالک کا، "کان شخصاً آخر" تو یہ دوسرا شخص تھا، "ثم إذا اشتراہ الزوج کان شخصاً آخر" پھر جب اس کو خرید لیا خاوند نے تو یہ پھر دوسرا شخص تھا کیونکہ تبدلِ ملک آئی اور تبدلِ ملک سے کیا ہوتا ہے؟ تبدلِ عین کہ وہ چیز بھی بدل جاتی ہے۔ "وإذا سلمہ إلیھا" اور جب وہ اس کے سپرد کر دیتا ہے، یعنی بیوی کے سپرد کر دیتا ہے، "کان شخصاً آخر" تو پھر یہ دوسرا شخص تھا، "والحجۃ فی هذا الباب" بھئی یہ جو ہم نے کہا نا کہ تبدلِ ملک سے تبدلِ عین ہوتا ہے، یہ اس کی دلیل کیا ہے؟ کس طرح اپ کہتے ہیں کہ تبدلِ ملک سے تبدلِ عین ہوتا ہے؟ تو بتلانے لگے اس بارے میں جو دلیل ہے وہ حدیث ہے بھئی۔ وہ حدیث یہ ہے، آگے ذکر کریں گے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ حضرت بریرہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس تشریف لائے۔ حضرت بریرہ رضی اللہ تعالی عنہا یہ باندی تھیں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے ان کو خریدا اور خریدنے کے بعد پھر ان کو آزاد کر دیا بھئی۔ جب آزاد کر دیا تو اب یہ آزاد ہو گئیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس ہی رہا کرتی تھیں اور ان کی خدمت وغیرہ کرتی تھیں بھئی۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ تشریف لائے تو یہ ایک دیگچی کے اندر، ایک برتن کے اندر گوشت پکا رہی تھیں۔ اب گوشت آگ پر رکھا ہوا ہے، دیگچی ابل رہی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو حضرت بریرہ رضی اللہ تعالی عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانے کے لیے کچھ کھجوریں پیش فرمائیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بطورِ مزاح کے فرمایا کہ کیا گوشت میں ہمارا حصہ نہیں ہے؟ کہ گوشت تو پک رہا ہے اور آپ کھجوریں، کھجوریں تو مدینہ میں بہت ملتی تھیں بھئی، یہ تو وہی کی چیز تھی۔ تو کیا گوشت میں ہمارا حصہ نہیں ہے؟ تو حضرت بریرہ رضی اللہ تعالی عنہا نے جواب میں فرمایا کہ یا رسول اللہ! یہ تو مجھ پر، یہ جو گوشت ہے یہ تو مجھ پر صدقہ کیا گیا ہے بھئی۔ کیا کیا گیا ہے؟ تو یہ تو صدقے کا یعنی گوشت ہے، صدقے کا گوشت مجھے کسی نے دیا ہے۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "لکِ صدقۃ ولنا ھدیۃ" تمہارے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔ اس حدیث سے پتہ چلا کہ تبدلِ ملک سے تبدلِ عین ہوتا ہے، یعنی مالک کے پاس تھا اس نے اس چیز اس گوشت کو الگ کر لیا صدقہ کرنے کی نیت سے تو یہ کیا ہے؟ صدقہ تھا، لیکن جب حضرت بریرہ رضی اللہ تعالی عنہا کے حوالے کر دیا تو وہ مالکہ بن گئیں اور مالک بننے سے کیا ہوتا ہے؟ معلوم ہوا تبدلِ عین ہوتا ہے، لہٰذا اب وہ صدقہ نہ رہا، اب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نوش فرمائیں گے تو وہ صدقہ نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اس حدیث سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ تبدلِ ملک سے تبدلِ عین ہوتا ہے۔ پہلے جو چیز صدقہ تھی اس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اب کیا فرما رہے ہیں؟ ہدیہ فرما رہے ہیں بھئی، اور معلوم ہوا اس میں تبدیلی آ چکی اور تبدیلی کس چیز سے آئی ہے؟ ملکیت کے بدلنے سے آئی ہے۔ تو کہتے ہیں: "والحجۃ فی هذا الباب" اور دلیل جو ہے اس باب کے اندر، کس باب میں؟ یہ جو تبدلِ عین ہوتا ہے کس چیز سے؟ تبدلِ ملک سے، اس باب کے اندر جو دلیل ہے کہ وہ یہ ہے کہ "أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دخل علی بریرۃ یوماً" کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ایک دن حضرت بریرہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس، "فقد مت إلیہ تمراً" تو انہوں نے پیش کیں آپ کے سامنے کھجوریں بھئی، "وكان القدر يغلي من اللحم" اور قدر کہتے ہیں ہانڈی کو، غلا یغلی کے معنی ابلنا، جوش مارنا، اور ہانڈی جو تھی وہ جوش مار رہی تھی یعنی ابل رہی تھی گوشت سے، "فقال علیہ السلام" تو حضور علیہ السلام نے فرمایا: "ألا تجعلین لنا نصيباً من اللحم" کیا تو نہیں مقرر کرتی ہمارے لیے حصہ گوشت میں سے؟ یعنی کیا گوشت میں ہمارا حصہ نہیں ہے؟ "فقالت يا رسول الله" تو کہنے لگیں: اے اللہ کے پیغمبر! "إنه لحم تصدق به علي" یہ تو ایسا گوشت ہے جو مجھ پر صدقہ کیا گیا ہے، "فقال علیہ السلام" تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے: "لكِ صدقة ولنا هدية" تمہارے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ، "عنِی إذا أخذتِہ من المالکِ" یعنی حضور کی مراد یہ تھی کہ جب تو نے اس کو لیا تھا اس مالک سے "كان صدقةً عليكِ" تو یہ تم پر صدقہ تھا، "وإذا أعطیتِہ إیانا تصیر ھدیۃً" اور جب تم ہمیں دو گی تو یہ ہدیہ بن جائے گا، "تصیر ھدیۃً لنا" تو یہ ہمارے لیے ہدیہ بن جائے گا، "فعلِم" پس یہ معلوم ہوا، یہ جان لیا گیا "أن تبدل الملک یوجب تبدلاً فی العين" کہ ملکیت کا بدل جانا یہ ثابت کرتا ہے عین میں تبدل کو۔ عین میں تبدیلی کو ثابت کرتا ہے، یعنی عین میں تبدیلی آ جاتی ہے "وعلی هذا يخرج كثير من المسائل" اور اس پر نکلتے ہیں بہت سے مسائل۔ بہت سے مسائل، وہ آگے ذکر کرنے لگے ہیں "حتی تجبر علی القبول" یہاں تک کہ اس عورت کو مجبور کیا جائے گا قبول کرنے پر، یہ متن کا حصہ ہے: "حتی تجبر علی القبول"۔ کہتے ہیں: "تفریع علی كونہ أداءً" یہ اس کے ادا ہونے پر تفریع ہے۔ بھئی خاوند نے وہ غلام لیا، خریدا اور خرید کر اس بیوی کے سپرد کر دیا، تو اب عین وہی غلام دے رہا ہے۔ ذات تو وہی ہے بھئی، تو عین اس بیوی کا یہی عینِ حق ہے۔ لہٰذا اور کسی کو اس کے عینِ حق لینے پر مجبور کیا جا سکتا ہے، اور عین کے ہوتے ہوئے مثل لینے پر کسی کو مجبور نہیں کیا جا سکتا بھئی۔ دیکھو ایک مثال سے اس کی وضاحت ہو جائے گی۔ میرے پاس زید آیا، میرے پاس گندم پڑی ہوئی تھی، اور اس نے کہا مجھے 10 من گندم چاہیے۔ میں نے کہا یہ جو سامنے گندم کا ڈھیر پڑا ہوا ہے، یہ تقریباً 10 من ہی ہے، یہ اتنے پیسوں میں میں آپ کو دے دیتا ہوں۔ اس کے اور میرے درمیان بیع ہو گئی، ایجاب و قبول ہو گیا۔ اب اس نے یہ گندم ابھی اٹھائی نہیں تھی کہ اسی دوران ایک اور شخص اتنی ہی تقریباً گندم اور لے کر آ گیا۔ تو یہ جو دوسری گندم لے کر آیا، وہ بھی اسی گندم کے مثل ہے بھئی۔ لیکن وہ ذرا نئی ہو گئی تھوڑی تو زید کہنے لگا مجھے وہ والی دے دو۔ حالانکہ دونوں ایک ہی نو ہر لحاظ سے ایک طرح ہیں، لیکن زید کیا کہنے لگا؟ مجھے یہ جس کی اس نے بیع کی تھی، وہ نہیں لے رہا بلکہ کہہ رہا ہے مجھے یہ دوسری والی دے دو یہ بھی تو اتنی ہے، وہی قسم ہے، وہی چیز ہے۔ میں نے کہا نہیں بھئی جس کی بیع ہوئی ہے، تمہیں یہی گندم دوں گا دوسری گندم تمہیں نہیں ملے گی بھئی۔ تو اب زید جو ہے، زید یہ گندم نہیں لے رہا وہ والی گندم چاہتا ہے، لیکن اس کا عین حق کون سی گندم ہے؟ وہی پہلے والی گندم ہے۔ لہٰذا اب اگر وہ نہیں لیتا، تو میں قاضی کے پاس جا کر زبردستی قاضی کے ذریعے زید کو مجبور کیا جا سکتا ہے کہ یہی گندم اس کو لینی پڑے گی، جس کی اس نے پہلے بیع کی تھی بھئی۔ کیوںکہ یہ اس کا عین حق ہے، اور جب دوسری گندم وہ لے گا تو وہ عین حق نہیں ہے، بلکہ وہ تو مثل حق ہوا بھئی۔ تو عین حق کے لینے پر کسی کو مجبور کیا جا سکتا ہے، لیکن عین کے ہوتے ہوئے مثل پر کسی کو مجبور نہیں کیا جا سکتا بھئی۔ لہٰذا اب میں اور اس کا ذرا عکس کر لو۔ میں میرے پاس دوسری گندم آئی، میں نے کہا یہ نئی والی لے لو وہ والی چھوڑ دو۔ اس نے کہا نہیں میں تو وہی لوں گا، اب میں قاضی کے پاس جا کر اس کو مجبور نہیں کر سکتا کہ یہ دوسری والی گندم لے پہلی والی چھوڑ دے، کیوں؟ کیونکہ عین کے ہوتے ہوئے مثل کے لینے پر کسی کو مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ تو خلاصہ کلام یہ کہ عین کے لینے پر کسی کو مجبور کیا جا سکتا ہے، یعنی قاضی کے ذریعے بھئی، کس کے ذریعے؟ قاضی کے ذریعے مجبور کیا جا سکتا ہے۔ تو لہٰذا یہ وہ آقا نے یہ غلام خرید لیا، اور خریدنے کے بعد لایا اور بیوی کو کہ یہ لو وہ غلام جو تم سے میں نے مہر کے طور پر مقرر کیا تھا، اب یہ غلام لے لو۔ اس نے نورالانوار پڑی ہوئی تھی، کہنے لگی نہیں میں تو یہ غلام نہیں لیتی، یہ تو اور شخص ہے۔ کیونکہ تبدل ملک آ چکا ہے، پہلے مالک زید تھا، اب مالک تم ہو۔ تو اس نے کیا کیا؟ غلام کو لینے سے انکار کر کہتے ہیں آپ قاضی کے پاس جا کر اس کو مجبور کر سکتے ہیں کہ وہ کیا کرے؟ اسی غلام کو لے۔ معلوم ہوا جب قاضی کے پاس جا کر اس کو مجبور کر سکتے ہیں، اس سے کیا بات سمجھ میں آئی؟ کہ عین اسی کا وہی حق ہے، کیونکہ عین حق کے لینے پر ہی کسی کو مجبور کیا جا سکتا ہے، مثل حق پر عین کے ہوتے ہوئے مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ تو قاضی کے پاس جا کر جب آپ اس کو مجبور کر سکتے ہیں، تو معلوم ہوا یہ اس کا عین حق ہے بھئی، کیا ہے؟ عین حق۔ یہی بات کر رہے ہیں حتی تجبر علی القبول یہاں تک کہ اس عورت کو مجبور کیا جائے گا قبول کرنے پر۔ تفریع علی کونہ ادا یہ تفریع ہے اس غلام کے جو ادائیگی کے، غلام کے دینے کے، اس غلام کے ادا ہونے پر جو غلام اس کو دے رہا ہے بھئی۔ اس کے ادا ہونے کی یہ ادا ہے بھئی، کہ عین وہی چیز دے رہے ہیں تو یہ اسی پر تفریع ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تبھی تو مجبور کیا جا سکتا ہے نا، قبول پر جب یہ ادا ہو۔ اگر قضاء ہو پھر تو مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ تفریع علی کونہ ادا یہ تفریع ہے اس تسلیم کے ادا ہونے پر ای تجبر المرأۃ علی قبول ذالک العبد المہموری۔ یعنی مجبور کیا جائے گا عورت کو اس عبد مہمور، وہ غلام جس کو بطور مہر کے مقرر کیا گیا تھا، بعد التسلیم، بعد سپرد کرنے کے۔ اس بیوی کو کیا کیا جائے گا؟ اس کے قبول کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ وہ من علامۃ کونہ ادا اور یہ اس کے ادا ہونے کی علامت ہے۔ معلوم ہوا مجبور کر رہے ہیں، اور مجبوری مجبور صرف کس میں کیا جاتا ہے؟ ادا کے اندر کس کے اندر؟ ادا کے اندر۔ وہذا بخلاف ما إذا باع عبدا واستحق العبد۔ اور یہ جو جبر جو ہے، ہذا کی جو اشارہ کس کی طرف ہے؟ جبر۔ اور یہ جبر بخلاف اس صورت کے کہ جب بیچا کسی نے کوئی ایسا غلام بیچا اور اس کا کوئی مستحق نکل آیا۔ بھئی صورت مسئلہ یہ ہے: ایک شخص نے ایک غلام دوسرے کو فروخت کر دیا۔ مثلاً میرے پاس ایک غلام تھا، میں نے زید کو وہ فروخت کر دیا۔ فروخت کر دیا۔ ابھی غلام میں نے حوالے نہیں کیا تھا کہ اس غلام کا کوئی مستحق نکل آیا۔ کیا نکل آیا؟ مستحق نکل آیا۔ ایک اور شخص آیا آ کر اس نے کہہ دیا یہ غلام تو میرا ہے، آپ نے کیسے اس کو آگے بیچ دیا؟ پتہ چلا وہ غلام کسی اور کا تھا، जिसको بیچنے والا بیچ رہا تھا۔ अच्छा जब उसने आकर دعوی کیا، پتہ چل گیا ثابت ہو گیا، قاضی کے پاس جانے کی ضرورت پیش آئی یا نہیں پیش آئی، بہرحال یہ پتہ چل گیا کہ غلام دوسرے کا ہے۔ یا بائے نہیں مانتا تو قاضی کے پاس جانا پڑے گا، اور بائے وہیں مان لیتا ہے، تو پھر یہیں پر مسئلہ پتہ لگ گیا کہ غلام کیا ہے؟ کسی دوسرے کا ہے۔ معلوم ہوا یہ کسی اور کا غلام بیچ رہا تھا۔ اچھا بائے نے اس مالک سے کہا، مالک کو پتہ چلا کہ یہ اب غلام اس نے آگے بیچ دیا ہے۔ بائے نے مالک سے کہا کہ یوں کریں، یہ غلام مجھے بیچ دیں۔ اسی بائے نے غلام کو آگے بیچا ہوا ہے، اس کی بیع کی ہوئی ہے۔ اب مالک کو کیا کہتا ہے؟ یہ غلام میرے ہاتھ آپ اتنے پیسوں میں فروخت کر دیں۔ اس نے تسلیم کر لیا اور اس کے ساتھ بیع کر کے غلام اس کے حوالے کر دیا۔ کیا کیا؟ حوالے کر دیا۔ جب اس نے اس سے غلام خرید لیا، تو اب وہ جو دوسرا مشتری تھا، اس نے کہا لاؤ بھئی یہ غلام میرے حوالے کرو، آپ میرے ساتھ اس کی بیع کر چکے ہیں۔ یہ کہتے ہیں نہیں بھئی وہ بیع ختم ہو گئی۔ وہ بیع، یہ غلام میں آپ کے حوالے نہیں کروں گا بھئی۔ تو کہتے ہیں وہ قاضی کے پاس جا کر اس کو مجبور نہیں کر سکتا کہ یہ غلام میرے حوالے کرے، کیوں نہیں کر سکتا؟ وجہ یہ کہ اس بائے نے آگے عقد کیا ہوا تھا، اور یہ غلام اس کا تو تھا نہیں کسی اور کا تھا، تو لہٰذا یہ جو اگلی بیع تھی یہ موقوف تھی مالک کی اجازت پر۔ اتنا تو جانتے ہیں یا نہیں جانتے؟ یہ بیع جو تھی، یہ موقوف تھی مالک کی اجازت پر، اور مالک آیا اور اس نے آ کر غلام اس بائے کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ بائے کے ہاتھ فروخت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اگلی بیع کی اجازت نہیں دی، اگر اگلی بیع کی اجازت دی ہوتی، تو غلام اس کے سپرد کر کے پیسے وصول کر لیتا، لیکن یہ اس بائے کے ہاتھ بیچ رہا ہے، معلوم ہوا اس نے اگلی بیع کی اجازت نہیں دی، اور وہ بیع تو موقوف تھی مالک کی اجازت پر، اور مالک نے جب اجازت نہیں دی تو وہ بیع باطل ہو گئی، فسخ ہو گئی، ختم ہو گئی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا اب وہ مشتری اس بائے کو مجبور نہیں کر سکتا کہ یہ غلام کیا کرو میرے حوالے کرو، میرے حوالے کرو بھئی۔ تو کہتے ہیں ہذا بخلاف ما اذا باع عبدا واستحق العبد اور یہ جبر جو ہے، بخلاف اس صورت کے ہے، جب کسی نے بیچا کوئی غلام واستحق العبد اور اس غلام کا کوئی استحقاق نکل آیا (یعنی کوئی مستحق اس کا نکلا) ثم اشتراہ البائع من المستحق، پھر اس غلام کو خرید لیا بائے نے اس مستحق سے، حیث لا یجور علی تسلیمہ الی المشتری، اس حیثیت سے کہ مجبور نہیں کیا جائے گا اس غلام کو سپرد کرنے الی المشتری، مشتری کی طرف۔ مشتری کے سپرد کرنے پر اس کو مجبور نہیں کیا جا سکتا، کیوں؟ پچھلے مسئلے میں جبر تھا، اور اس میں جبر نہیں۔ کیوں؟ کہتے ہیں لانھ بالاستحقاق ظہر، اس لیے کہ استحقاق نکلنے سے یہ بات ظاہر ہو گئی کہ ان البیع ان البیع کان موقوفاً علی اجازۃ المالک کہ یہ بیع جو تھی، یہ موقوف تھی مالک کی اجازت پر، فإذا لم یجزه، جب اس نے اس کی اجازت نہیں دی، باطل وانفسخ تو بیع کیا ہو گئی؟ باطل ہو گئی اور فسخ ہو گئی۔ بخلاف النکاح، بخلاف نکاح کے کہ وہ فسخ نہیں ہوتا استحقاق مہر کی مستحق نکل آنے سے ولا بانعدامه اور نہ مہر کے معدوم ہو جانے سے، اس پر کوئی اثر نہیں پڑتا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ وہاں کوئی اثر نہیں پڑتا، تو وہاں پر جب وہ غلام دے رہا ہے، غلام اس کا اگرچہ نہیں تھا، اب شخص آخر ہے، لیکن پھر بھی ذات تو وہی ہے، تو عورت کو مجبور کیا جائے گا کہ اسی غلام کو تمہیں لینا پڑے گا، کیونکہ یہ عین وہی غلام ہے۔ اور جبکہ اس مسئلے کے اندر آپ نے دیکھا کہ مستحق نکل آیا تھا، معلوم ہوا یہ غلام اس کا نہیں تھا اور مالک نے اگلی بیع کر لی، معلوم ہوا اس نے پہلی بیع کی اجازت نہیں دی، تو لہٰذا اب بائے کو مجبور نہیں کیا جا سکتا کہ یہ غلام کیا کرو مشتری کے حوالے کرو۔ کر دیتا ہے، دے دیتا ہے وہ اس کی مرضی ہے، الگ بات ہے، مگر مجبور نہیں کیا جا سکتا بھئی۔ فإنہ لا ینفسخ باستحقاق المہر، اس لیے کہ نکاح جو ہے، یہ فسخ نہیں ہوگا استحقاق مہر کی وجہ سے، ولا بانعدامہ اور نہ اس کے معدوم ہو جانے کی وجہ سے، جبکہ بیع کیا ہو گئی تھی؟ فسخ ہو گئی تھی، لیکن نکاح میں اس طرح نہیں بھئی۔ وینفذ اعتاقہ فیہ دون اعتاقھا، اور اس عورت اس مرد کا اعتاق تو نافذ ہوگا اس غلام میں، لیکن اس عورت کا اعتاق اس میں نافذ نہیں ہوگا۔ بھئی، ابھی سپرد نہیں کیا۔ خاوند نے غلام کو خرید لیا، اور غلام کو خریدنے کے بعد اب بیوی اس کو آزاد کرتی ہے، کہتے ہیں غلام آزاد نہیں ہوگا۔ خاوند آزاد کرے تو آزاد ہو جائے گا، لیکن بیوی آزاد کرے تو آزاد نہیں ہوگا وہ غلام، وہ آزاد نہیں۔ کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کہ یہ وہ شخص ہے ہی نہیں۔ اگر وہی شخص ہوتا، تو وہ تو عین ہی بیوی کا حق تھا، لیکن یہ تبدل ملک سے کیا ہو چکا ہے؟ شخص آخر ہو چکا ہے، دوسرا شخص بن چکا ہے، لہٰذا دوسرا شخص ہے، تو یہ عین بیوی کا حق بھی نہیں ہے، جب عین بیوی کا حق بھی نہیں ہے، تو اس کو ملنے سے پہلے ہی یہ اس کو آزاد کرنا چاہے، تو آزاد بھی نہیں کر سکتی۔ اگر عین بیوی کا حق ہوتا، پھر تو بیوی اگر وہ غلام خاوند کے پاس ہی ہوتا، کیا ہوتا؟ جب اس نے عقد کیا تھا خاوند کا اپنا ہی غلام تھا، اس نے عورت سے کہا یہ جو میرا غلام ہے میں تمہیں کیا کروں گا؟ بطور مہر کے دوں گا۔ تو نکاح ہو گیا، اب بیوی کا حق کیا ہے؟ عین یہی غلام ہے، اور بیوی اس کو آزاد کرنا چاہتی ہے، یاد رکھو آزاد ہو جائے گا بھئی۔ کیوں؟ کیونکہ یہ عین حق ہے، اور کوئی تبدل ملک آیا ہے ابھی؟ تبدل ملک نہیں ہے مولانا، ہاں بیوی کا عین حق سے حق اسی کے ساتھ ربط ہو چکا ہے۔ لیکن یہاں پر جو خاوند کے اس نے خریدا ہے آقا سے، تو لہٰذا تبدل ملک آیا، اور جب تبدل ملک آیا تو تبدل عین ہوا، اور معلوم ہوا یہ ایک اور غلام ہے، وہ والا غلام نہیں، عین بیوی کا حق نہیں ہے، جب عین بیوی کا حق نہیں ہے، تو وہ اس کو اس کو ملنے سے پہلے ابھی اس کو ملا نہ ہو، اور یہ اس کو آزاد کرنا چاہے، ایسا نہیں۔ ہاں جب بیوی کے حوالے کر دے، پھر وہ کیا کر سکتی ہے اسے آزاد۔ تو معلوم ہوا آقا کے پاس غلام آ گیا، ابھی بیوی کے سپرد اس نے نہیں کیا، اور بیوی اس کو کیا کرنا چاہتی ہے؟ آزاد، تو وہ آزاد نہیں ہوا، کیوں؟ یہ غلام ہی نہیں ہے۔ تو یہ تفریع انہوں نے کس پر کی؟ کس پر؟ کہ یہ ادا کس کے مشابہ ہے؟ قضاء کے مشابہ ہے، کیونکہ عین بدل چکی ہے، وہ عین وہی غلام نہیں ہے، بلکہ اگر عین وہ غلام ہوتا تو وہ کیا تھا؟ ادا، اور یہ کیا ہے؟ بدل چکا ہے، معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ شبیہ بال تو اسی پر تفریع کی کہ اب آزاد نہیں ہوگا۔ تو کہتی ہے وینفذ اعتاقہ فیه دون اعتاقھا تو خاوند کا اعتاق تو نافذ ہوگا اس غلام کے اندر، نہ کہ اس کی بیوی کا اعتاق۔ تفریع علی کونہ شبیها بالقضائی یہ تفریع ہے اس تسلیم کے شبیہ بالقضاء ہونے پر۔ یعنی ینفذ اعتاق الزوج ایاہ یعنی نافذ ہوگا خاوند کا آزاد کرنا ایاہ اس غلام کو قبل تسلیمیہ الی المراة قبل اس کو سپرد کرنے کے بیوی کے، لان المرأة لا تملکہ اس لیے کہ وہ عورت وہ بیوی جو ہے وہ اس کی مالک نہیں ہے، الا اذا سلم الیہا، مگر جب وہ خاوند کیا کر دے اس کے سپرد کر دے، فقبل التسلیم ہوا ملک الزوج تو تسلیم سے پہلے خاوند کی ملکیت ہے، كما ان قبل الشراء کان ملکا للغير، جیسے کہ وہ خریدنے سے پہلے کسی غیر کی ملکیت تھا۔ ولما کانت ذات العبد موجودة فی کل الحالین، اور جب غلام کی ذات موجود تھی دونوں حالتوں میں، کون سی دونوں حالتیں؟ ایک تھا عقد کا وقت، ایک ہے یہ حوالے کرنے کا وقت۔ عقد کے وقت اور حوالے کرنے کے وقت دونوں کے وقت کیا تھی؟ غلام کی ذات کیا تھی؟ موجود تھی، وہی اسی غلام کی ذات دونوں حالتوں میں ہے، عقد کے وقت بھی، وہی ذات، سپرد کرتے وقت بھی وہی ذات، تو بیں اعتبار یہ ادا ہے۔ بیں اعتبار یہ کیا ہے؟ ادا ہے، اور بیں اعتبار کہ تبدل ملک سے کیا آ چکا؟ تبدل عین، تو یہ کیا ہے؟ شخص آخر ہے، دوسرا شخص بن چکا ہے، لہٰذا دوسرا شخص ہے، تو یہ عین بیوی کا حق بھی نہیں ہے، جب عین بیوی کا حق بھی نہیں ہے، تو اس کو ملنے سے پہلے ہی یہ اس کو آزاد کرنا چاہے، تو آزاد بھی نہیں کر سکتی۔ اگر عین بیوی کا حق ہوتا، پھر تو بیوی اگر وہ غلام خاوند کے پاس ہی ہوتا، کیا ہوتا؟ جب اس نے عقد کیا تھا خاوند کا اپنا ہی غلام تھا، اس نے عورت سے کہا یہ جو میرا غلام ہے میں تمہیں کیا کروں گا؟ بطور مہر کے دوں گا۔ تو نکاح ہو گیا، اب بیوی کا حق کیا ہے؟ عین یہی غلام ہے، اور بیوی اس کو آزاد کرنا چاہتی ہے، یاد رکھو آزاد ہو جائے گا بھئی۔ کیوں؟ کیونکہ یہ عین حق ہے، اور کوئی تبدل ملک آیا ہے ابھی؟ تبدل ملک نہیں ہے مولانا، ہاں بیوی کا عین حق سے حق اسی کے ساتھ ربط ہو چکا ہے۔ لیکن یہاں پر جو خاوند کے اس نے خریدا ہے آقا سے، تو لہٰذا تبدل ملک آیا، اور جب تبدل ملک آیا تو تبدل عین ہوا، اور معلوم ہوا یہ ایک اور غلام ہے، وہ والا غلام نہیں، عین بیوی کا حق نہیں ہے، جب عین بیوی کا حق نہیں ہے، تو وہ اس کو اس کو ملنے سے پہلے ابھی اس کو ملا نہ ہو، اور یہ اس کو آزاد کرنا چاہتی ہے، ایسا نہیں۔ ہاں جب بیوی کے حوالے کر دے، پھر وہ کیا کر سکتی ہے اسے آزاد۔ تو معلوم ہوا آقا کے پاس غلام آ گیا، ابھی بیوی کے سپرد اس نے نہیں کیا، اور بیوی اس کو کیا کرنا چاہتی ہے؟ آزاد، تو وہ آزاد نہیں ہوا، کیوں؟ یہ غلام ہی نہیں ہے۔ تو یہ تفریع انہوں نے کس پر کی؟ کس پر؟ کہ یہ ادا کس کے مشابه ہے؟ قضاء کے مشابه ہے، کیونکہ عین بدل چکی ہے، وہ عین وہی غلام نہیں ہے، بلکہ اگر عین وہ غلام ہوتا تو وہ کیا تھا؟ ادا، اور یہ کیا ہے؟ بدل چکا ہے، معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ شبیہ بال तो اسی پر تفریع کی کہ اب آزاد نہیں ہوگا۔ تو کہتی ہے وینفذ اعتاقہ فیه دون اعتاقھا تو خاوند کا اعتاق تو نافذ ہوگا اس غلام کے اندر، نہ کہ اس کی بیوی کا اعتاق۔ تفریع علی کونہ شبیها بالقضائی یہ تفریع ہے اس تسلیم کے شبیہ بالقضاء ہونے پر۔ یعنی ینفذ اعتاق الزوج ایاہ یعنی نافذ ہوگا خاوند کا آزاد کرنا ایاہ اس غلام کو قبل تسلیمیہ الی المراة قبل اس کو سپرد کرنے کے بیوی کے، لان المرأة لا تملکہ اس لیے کہ وہ عورت وہ بیوی جو ہے وہ اس کی مالک نہیں ہے، الا اذا سلم الیہا، مگر جب وہ خاوند کیا کر دے اس کے سپرد کر دے، فقبل التسلیم ہوا ملک الزوج تو تسلیم سے پہلے خاوند کی ملکیت ہے، كما ان قبل الشراء کان ملکا للغير، جیسے کہ وہ خریدنے سے پہلے کسی غیر کی ملکیت تھا۔ ولما کانت ذات العبد موجودة فی کل الحالین، اور جب غلام کی ذات موجود تھی دونوں حالتوں میں، یعنی عقد میں بھی اور تسلیم میں بھی، و وصف المملوكيت متغیر فیہما، اور مملوکیت کا وصف کیا تھا ان دونوں حالتوں میں؟ متغیر ہے، بدلا ہوا ہے، عقد کے وقت کسی اور کا مملوک تھا، تسلیم کے وقت کسی اور کا مملوک ہے، تو جعل ادا شبیها بالقضاء، تو لہٰذا اس تسلیم کو کیا بنایا گیا؟ جعل ای تسلیم ضمیر تسلیم کو راجع ہے، اس تسلیم کو بنایا گیا ادا شبیها بالقضاء ایسی ادا جو قضاء کے مشابہ ہے، ولم يجعل قضاء شبیها بالادا، اور اس کو ایسی قضاء نہیں بنایا گیا جو مشابہ بالادا ہو۔ یعنی وہی بات ذکر کر رہے ہیں کہ اس کو ہم نے ادا مشابہ بالقضاء کہا، قضاء مشابہ بالادا کیوں نہیں کہا؟ تو کہتے ہیں اسی لیے ہم نے اس کو کیا بنایا؟ ادا مشابہ بالقضاء تو بنایا، قضاء مشابہ بالادا نہیں، رعایة لجانب ذات والاصلی، ذات اور اصل کی رعایت کرتے ہوئے، بھئی دیکھو ذات تو غلام کی وہی ہے، البتہ وصف میں تبدیلی آ چکی ہے، پہلے وصف کیا تھا؟ کسی اور کا مملوک تھا، اب ادا تسلیم کے وقت کسی اور کا، تو وصف میں تو تبدیلی آئی ہے، لیکن ذات اور اصل میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، تو ذات کے اعتبار سے وہی غلام ہے تو ادا ہے، اور وصف کے اعتبار سے اور غلام ہے، تو لہٰذا نام رکھنے میں ہم نے اصل کا اعتبار کیا، کیونکہ اصل ذات ہوتی ہے، اور ذات تو وہی ہے غلام کی، تو اس کو ہم نے ادا کہا، ادا مشابہ بالقضاء، اور قضاء مشابه بالادا نہیں کہا۔ چلیے بس مولانا، ھذا ہو المراد، واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔