سبق نمبر۔18
ثم لما فرغ المصنف رحمه الله عن بيان الموجب وحكمه أراد أن يبين أنه هل يحتمل التكرار أو لا، فقال: ولا يقتضي التكرار ولا يحتمله، أي لا يقتضي الأمر باعتبار الوجوب التكرار كما ذهب إليه قوم، ولا يحتمله كما ذهب إليه الشافعي رحمه الله. يعني إذا قيل مثلاً: "صلوا"، كان معناه: افعلوا الصلاة مرة، ولا يدل على التكرار عندنا أصلاً.
علماء کہتے ہیں بھئی، ثم لما فرغ المصنف، جب مصنف رحمہ اللہ فارغ ہوئے عن بيان الموجب وحكمه، امر کے حکم اور موجب کے بیان سے، یہ عطف تفسیری ہے بھئی، موجب بھی حکم ہی کو کہتے ہیں پھر واؤ کے ذریعہ حکم کا لفظ لا کر اس کی تفسیر کر دی۔ پھر جب مصنف رحمہ اللہ فارغ ہوئے بھئی امر کے حکم کے بیان سے، أراد أن يبين، تو ارادہ کیا کہ یہ بیان کریں کہ انه هل يحتمل التكرار أو لا، کہ امر جو ہے وہ تکرار کا احتمال رکھتا ہے یا تکرار کا احتمال نہیں رکھتا۔
بھئی یاد رکھیے، یہ بات تو مصنف رحمہ اللہ نے آپ کو بتلا دی کہ امر کا حکم کیا ہے؟ وجوب ہے، وہ وجوب کے لیے آئے گا۔ اب یاد رکھیے، امر کے ساتھ کبھی کوئی قرینہ مل جاتا ہے جو تکرار پر دلالت کرتا ہے، اس صورت میں اس امر سے تکرار آئے گا بھئی۔ یعنی ایک چیز کا بار بار کرنا واجب ہو جائے گا بھئی، کیا ہوگا؟ وجوب تو آ رہا تھا، ساتھ ایک تکرار کا قرینہ بھی آ گیا، وہ بتلا رہا ہے کہ وجوب ایک ہی مرتبہ، ایک ہی مرتبہ نہیں کرنا اس فعل کو، بلکہ اس کو بار بار کرنا ہے بھئی، تو یہ تکرار کا قرینہ اس کے ساتھ تھا اس نے بتلایا۔ اور کبھی اس کے ساتھ ایسا قرینہ ہوتا ہے جو بتلاتا ہے کہ ایک ہی مرتبہ کرنا ہے، تو وہ فعل ایک ہی مرتبہ واجب ہوگا۔
لیکن بحث ہے فعل مطلق، امر مطلق کے اندر بھئی، وہ امر جس کے ساتھ نہ تکرار کا کوئی قرینہ ہو، نہ ایک مرتبہ والا کوئی قرینہ ہو، تو کیا وہ تکرار کا احتمال رکھتا ہے یا نہیں بھئی؟ اس سے بار بار وجوب آئے گا یا ایک ہی مرتبہ فعل کو سرانجام دینا پڑے گا بھئی؟ تو وہ بیان کرنے لگے ہیں بھئی। تو کہتے ہیں: ولا يقتضي التكرار ولا يحتمله، امر تکرار کا تقاضا بھی نہیں کرتا ولا يحتمله اور اس کا احتمال بھی نہیں رکھتا۔
أي لا يقتضي الأمر باعتبار الوجوب التكرار، یعنی تقاضا نہیں کرتا امر وجوب کے اعتبار سے تکرار کا کہ اس سے بار بار وجوب آئے گا یا بار بار نہیں آئے گا، کہتے ہیں نہیں بھئی، وجوب کے اعتبار سے تکرار کا تقاضا نہیں کرتا۔ كما ذهب إليه قوم، جیسے کہ اس کی طرف ایک قوم گئی ہے، بعض علماء اس طرف گئے ہیں۔ ولا يحتمله،
بعض لوگ اس طرف گئے ہیں کہ یہ تکرار کا تقاضا کرتا ہے۔ مصنف فرما رہے ہیں امر تکرار کا تقاضا وجوب کے اعتبار سے نہیں کرتا، جیسے کہ اس کی طرف بعض لوگ گئے ہیں، بعض علماء گئے ہیں، وہ کیا کہتے ہیں کہ امر کیا ہے؟ تکرار کا تقاضا کرتا ہے۔ ولا يحتمله كما ذهب إليه الشافعي رحمه الله، اور تکرار کا احتمال بھی نہیں رکھتا جیسے کہ اس کی طرف امام شافعی رحمہ اللہ گئے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امر تکرار کا تقاضا تو نہیں کرتا، لیکن احتمال رکھتا ہے۔
کس امر کی بات ہو رہی ہے؟ جو مطلق ہو مولانا، جس کے ساتھ کوئی قرینہ نہ ہو۔ يعني إذا قيل مثلاً صلوا كان معناه افعلوا الصلاة مرة، یعنی جب کہا جائے مثال کے طور پر "صلوا"، تو اس کا معنیٰ ہوگا "افعلوا الصلاة مرة"، فعل کرو نماز کا ایک مرتبہ، نماز کا فعل کرو ایک مرتبہ، ولا يدل على التكرار عندنا أصلاً، اور یہ دلالت نہیں کرتا تکرار پر ہمارے نزدیک بالکل بھی بھئی۔
وذهب قوم إلى أن موجبه التكرار، ایک قوم گئی ہے بھئی، یعنی بعض علماء گئے ہیں بھئی اس بات کی طرف کہ اس کا موجب کیا ہے؟ حکم کیا ہے؟ تکرار ہے۔ جی، دلیل ان کی ذکر کرنے لگے ہیں: لأنه لما نزل الأمر بالحج، اس لیے کہ جب حج کا حکم نازل ہوا، قال الأقرع بن حابس، تو حضرت اقرع بن حابس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔
دیکھیے بھئی، پہلے حاشیے میں حدیث دیکھ لیجیے بھئی، ایک نمبر حاشیہ ہے میری کتاب میں بھئی۔
قال الأقرع بن حابس إلى آخره، روى أحمد عن ابن عباس رضی الله عنهما قال، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، قال وہ فرماتے ہیں، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم، کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: يا أيها الناس إن الله كتب عليكم الحج، اے لوگو! اللہ نے تمہارے اوپر حج کو فرض کر دیا ہے۔ فقام الأقرع بن حابس فقال، تو حضرت اقرع بن حابس کھڑے ہوئے فقام کہنے لگے: أفي كل عام يا رسول الله؟ کیا ہر سال میں اے رسول اللہ؟ یعنی کیا ہر سال حج کرنا پڑے گا؟ ہر سال واجب ہوگا؟ تو حضور علیہ السلام نے بھئی پسند نہیں فرمایا ان کے سوال کو بھئی، سمجھ میں آیا؟ صحابہ کو اجازت نہیں تھی زیادہ ہر بات میں سوال پوچھنے کی بھئی۔
چنانچہ بھئی صحابہ موقع ڈھونڈتے تھے کسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی مسئلہ درپیش ہوتا تو چونکہ جانتے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پسند نہیں فرماتے، لیکن باوقات بڑی ضرورت پیش آ جاتی تو اب کیا کریں بھئی؟ تو ضرورت کے تو پوچھنے کی اجازت تھی، لیکن ویسے زائد پوچھنے کی اجازت، اس کو ناپسند فرماتے تھے۔ تو چنانچہ کبھی کوئی دیہاتی آتے بھئی دور سے، تو اس کو صحابہ کہہ دیتے بھئی کہ یوں کرو یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے जरा پوچھو بھئی، یہ پوچھو۔
سمجھ میں آیا؟ دیکھو تو حضور نے اب دیکھو یہاں انہوں نے سوال کیا بھئی کیا اے رسول اللہ! ہر سال حج کرنا پڑے گا؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کو پسند نہیں فرمایا اور کہتے ہیں: قال لو قلتها نعم، حضور فرماتے ہیں بھئی اگر میں "نعم" کہہ دیتا، لوجبت، تو کیا ہو جاتا حج؟ واجب، یعنی ہر سال واجب ہو جاتا بھئی دیکھو، سوال کی وجہ سے کتنا مشکل ہو جاتا مسئلہ بھئی۔ تو واجب ہو جاتا، ولو وجبت لم تعملوا بها ولم تستطيعوا، اور اگر واجب ہو جاتا تو تم اس پر عمل نہ کر سکتے اور نہ ہی اس کی استطاعت رکھتے، والحج مرة، اور حج کیا ہے؟ ایک مرتبہ ہے بھئی۔ فمن زاد فتطوع، جس نے زیادہ کیا اس نے نفلی حج کیا بھئی، تطوع کہتے ہیں نفل کو بھئی، تو حج ایک ہی مرتبہ فرض ہے، زیادہ کرے گا تو وہ زائد نفل حج ہوگا بھئی۔
اچھا، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ حدیث کا پتہ لگ گیا؟ تو کہتے ہیں یہ دلیل ذکر کر رہے ہیں، یہ علماء جنہوں نے کیا کہا؟ امر کس چیز کا تقاضا کرتا ہے؟ تکرار کا، وہ کہتے ہیں: لأنه لما نزل الأمر بالحج، اس لیے کہ جب نازل ہوا حج کا حکم، قال الأقرع بن حابس رضی الله تعالى عنه، تو حضرت اقرع بن حابس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ألعامنا هذا يا رسول الله أم للأبد؟ کیا ہمارے اس سال کے لیے اے رسول اللہ یا ہمیشہ کے لیے؟ کہ یہ حج جو فرض ہے اس سال کے لیے ہے یا ہر سال کے لیے ہمیشہ کے لیے؟
تو دیکھو یہ دلیل ذکر کر رہے ہیں بھئی، بس حدیث کا اتنا حصہ ہی ذکر کیا۔ ففهم التكرار مع أنه كان من أهل اللسان، تو کہتے ہیں دیکھا! حضرت اقرع بن حابس جو ہیں وہ اس امر سے تکرار سمجھے، باوجود اس کے کہ وہ اہل لسان میں سے تھے، وہ اہل، وہ اہل زبان تھے لیکن انہوں نے امر سے کس چیز کو سمجھ لیا؟ تکرار کو سمجھا، تکرار کو سمجھا بھئی۔
جی، معلوم ہوا تو ان کے نزدیک بھئی امر سے کیا آ رہا تھا؟ تکرار آ رہا تھا۔ ثم لما علم أن فيه حرجا عظيما، پھر جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ اس میں تو بڑا عظیم حرج ہے بھئی کہ ہر سال کرنا تو بڑا ہی مشکل کام ہے، أشكال عليه، تو ان پر اشکال ہوا بھئی، اشکال انہیں پیش آیا۔ فسأل، تو انہوں نے کیا کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے؟ سوال کیا۔ تو کہتے ہیں دیکھو حضرت اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ اہل زبان ہیں بھئی، عربی ان کی اپنی زبان ہے اور ان کے سامنے حج کا امر آ گیا اور اس سے انہوں نے کیا سمجھا؟ تکرار سمجھا، معلوم ہوا امر کس چیز کا تقاضا کرتا ہے؟ تکرار کا تقاضا کرتا ہے بھئی۔ اس سے انہوں نے تکرار سمجھا اور پھر انہوں نے دیکھا کہ اس سے تو بڑی مشکل ہو جائے گی، تو چنانچہ انہوں نے سوال کیا۔
جی، ہم جواب دیتے ہیں کہ نہیں بھئی، حضرت اقرع بن حابس نے اس سے تکرار نہیں سمجھا کہ امر، اس وجہ سے ان پر مسئلہ مشتبہ نہیں ہوا، مشکل نہیں ہوا کہ امر سے تکرار آ رہا ہے، بلکہ اس لیے کہ انہوں نے دیکھا کہ تمام عبادتوں کا تعلق ان کے اسباب سے ہے اور اسباب میں تکرار ہوتا ہے اور اسباب میں جب تکرار ہوتا ہے تو عبادت میں بھی تکرار آتا ہے۔ تمام عبادتوں کا، عبادتوں کا تعلق کس سے ہے؟ ان کے اسباب سے ہے، مثلاً ظہر کی نماز ہے بھئی، تو اس کا سبب کیا ہے؟ وقت ہے بھئی، تو جب بھی ظہر کا وقت اگلے دن آئے گا تو ظہر کی نماز کیا ہو جاتی ہے؟ واجب، پھر اگلے دن ظہر کا وقت آیا تو ظہر کی نماز کیا ہو جائے گی؟ واجب، تو دیکھو سبب کے اندر تکرار آیا تو عبادت کو بھی کیا کرنا پڑا؟ بار بار کرنا پڑا بھئی۔
تو انہوں نے دیکھا کہ یہ عبادات کا تعلق ان کے اسباب سے ہے، اسی طرح جیسے روزوں کا تعلق رمضان کے مہینے سے ہے، تو جب بھی رمضان کا مہینہ آتا ہے، کیا کرنا پڑتے ہیں؟ روزے رکھنا پڑتے ہیں، اسی طرح زکوۃ کا تعلق کیا ہے؟ سال سے اور نصاب سے ہے بھئی، تو جب نصاب پر سال پورا ہوگا تو ہر مرتبہ کیا کرنی پڑے گی؟ زکوۃ دینا پڑے گی۔ تو چنانچہ انہوں نے دیکھا کہ عبادتوں کا تعلق ان کے اسباب سے ہے اور اسباب کے اندر تکرار ہے۔ اسباب کے اندر تکرار ہے اور اسی طرح حج کا تعلق بھی وقت سے ہے بھئی، حج ہر وقت نہیں ہوتا بلکہ سال میں مخصوص ایام ہیں انہی کے اندر کیا کیا جاتا ہے حج کو ادا کیا جاتا ہے، تو دیکھا ایک طرف دیکھا کہ حج کا تعلق تو وقت سے ہے اور وقت تو ہر مرتبہ آئے گا، دوسری طرف دیکھا تو حج کا تعلق بیت اللہ سے ہے اور بیت اللہ تو ایک ہی ہے، اس کے اندر تکرار نہیں، تو اب ایک تعلق کو دیکھتے ہیں تو اس اعتبار سے تکرار آتا ہے، دوسرے تعلق کو دیکھتے ہیں تو اس کے اعتبار سے تکرار نہیں آتا، اس لیے بات ان پر مشتبہ ہو گئی اور انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا بھئی، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا کہ نہیں، حج کتنی مرتبہ ہے؟ ایک ہی مرتبہ ہے۔
وذهب الشافعي رحمه الله إلى أن محتملا التكرار، اور امام شافعی رحمہ اللہ اس بات کی طرف گئے ہیں کہ امر کا محتمل کیا ہے؟ تکرار ہے، یعنی وہ تکرار کا احتمال رکھتا ہے۔ کہتے ہیں: لأن اضرب مختصر من أطلب منك ضربا، اس لیے کہ "اضرب" یہ فعل جو ہے یہ مختصر ہے کس سے بھئی؟ "أطلب منك ضربا"، "أطلب منك ضربا" میں تم سے کیا طلب کرتا ہوں؟ ضرب طلب کرتا ہوں، اور "اضرب" کا بھی کیا معنیٰ ہے؟ میں تم سے ضرب طلب کرتا ہوں، تو "اضرب" مختصر ہے "أطلب منك ضربا" سے، وهو نكرة، اور یہاں پر جو مصدر آیا وہ کیا ہے؟ "ضربا"، وہ نکرہ ہے، والنكرة في الإثبات تخص، اور نکرہ اثبات کے اندر خاص ہوتا ہے، ولكنها تحتمل العموم، لیکن وہ کس کا احتمال رکھتا ہے؟ عموم کا احتمال رکھتا ہے۔
یاد رکھیے نکرہ سیاق نفی میں آئے تو وہ عموم کا فائدہ دیتا ہے، اور نکرہ سیاق اثبات میں آئے تو وہ خصوص کا فائدہ دیتا ہے۔ مثلاً میں کہتا ہوں: ما جاءني رجل، ما جاءني رجل، اب "رجل" کیا ہے؟ نکرہ ہے اور کس میں واقع ہوا ہے؟ سیاق نفی میں بھئی، تحت النفی آیا ہے اور نکرہ تحت النفی کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ عموم کا فائدہ دیتا ہے، تو کیا معنیٰ ہوگا؟ میرے پاس کوئی ادمی نہیں آیا، میرے پاس کوئی ادمی نہیں آیا، تو ہر ہر رجل کی نفی ہو گئی۔
ہر ہر رجل کی کیا ہو گئی؟ میرے پاس کوئی ادمی نہیں آیا، بھئی اگر ایک بھی آیا ہو تو یہ کلام غلط ہے یا غلط نہیں بھئی؟ جی؟ غلط ہے! معلوم ہوا اس کلام نے کس چیز کا فائدہ دیا؟ عموم کا فائدہ دیا کیونکہ نکرہ کس کے تحت آیا ہے؟ نفی، اور نکرہ تحت النفی ہو تو کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ عموم، یہ کلام اسی صورت میں صحیح ہوگا جب اس متکلم کے پاس کوئی ایک بھی رجل نہ آیا ہو، اگر کوئی ایک رجل بھی آ جائے تو یہ کلام صحیح، معلوم ہوا اس کلام نے ہر ہر رجل کی نفی کر دی، عموم آ گیا۔
یہ مثال سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اور نکرہ اگر سیاق خصوص، سیاق اثبات میں ہو تو وہ خصوص کا فائدہ دیتا ہے، مثلاً میں کہتا ہوں: جاءني رجل، کیا معنیٰ؟ میرے پاس ایک ادمی آیا، میرے پاس ایک ادمی آیا، تو کتنے پر دلالت کی اس نکرہ نے؟ ایک ادمی پر دلالت کی، تو کس چیز کا فائدہ دیا؟ خصوص کا فائدہ دیا۔
یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ لیکن اس میں عموم کا بھی احتمال ہوتا ہے بھئی، مثلاً میں یہ کہتا ہوں، "جاءني رجل" کا کیا ترجمہ کیا آپ نے؟ میرے پاس ایک ادمی آیا۔ اچھا، مثلاً بھئی، بات کو سمجھنے کے لیے، مثلاً ایک جماعت تھی اس میں مرد بھی تھے، عورتیں بھی تھیں۔ تو میں نے آپ سے پوچھا: کیا وہ سارے آپ کے پاس آئے تھے؟ آپ کہتے ہیں: جاءني رجل، کیا معنیٰ؟ میرے پاس ایک مرد آیا تھا، بس۔ لیکن اگر اپ یوں کہیں: جاءني رجل لا امرأة، کیا ترجمہ ہوگا؟ میرے پاس رجل آئے تھے، جنس رجل آئے تھے، جنس عورت، عموم آ گیا یا نہیں آ گیا بھئی؟ تو یہی نکرہ اب سیاق اثبات میں ہے وہ خصوص کا فائدہ دیتا ہے، لیکن اس میں عموم کا بھی کیا ہوتا ہے؟ احتمال ہوتا ہے بھئی۔
تو یہی بات کر رہے ہیں کہ یہاں پر "أطلب منك ضربا"، یہ "ضربا" کیا ہے؟ مصدر ہے، نکرہ ہے، والنكرة في الإثبات تخص، اور نکرہ جو ہے اثبات کے اندر خاص ہوتا ہے، ولكنها تحتمل العموم، لیکن وہ نکرہ احتمال رکھتا ہے عموم کا بھی، فيحمل عليه بقرينة تقترن بها، تو اس کو پھر اس کو محمول کیا جائے گا بھئی اس عموم پر بھئی، کس پر؟ عموم اور تکرار پر محمول کیا جائے گا، بقرينة تقترن بها، قرینہ نکرہ ہے، نکرہ کے بعد "تقترن" فعل آیا، نکرہ کے بعد فعل آئے تو عموماً اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت بنتا ہے، اور اس صورت میں موصوف سے پہلے کیا لفظ لے آتے ہیں اردو میں؟ ایسا، فيحمل عليه، تو لہٰذا اس امر کو جو ہے تکرار پر محمول کیا جائے گا یا عموم پر محمول کیا جائے گا بقرينة ایسی قرینے کی وجہ سے تقترن بها جو اس کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ تو اس کو احتمال رکھتا تھا، قرینہ بھی ساتھ آ گیا، لہٰذا اب اس سے کیا ثابت ہو جائے گا؟
بائی، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امر تکرار کا تقاضا تو نہیں کرتا لیکن احتمال رکھتا ہے، سمجھ میں آئی بات بھئی؟ احتمال رکھتا ہے، لہٰذا جب کوئی قرینہ آ جائے تو یہ کس چیز کا فائدہ دے دے گا؟ تکرار کا فائدہ دے گا بھئی، تکرار کا۔ تو کہتے ہیں: فيحمل عليه، تو اس کو عموم پر یا تکرار پر محمول کیا جائے گا بقرينة تقترن بها، اس قرینے کی وجہ سے جو اس کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ والفرق بين الموجب والمحتمل أن الموجب يثبت بلا نية والمحتمل يثبت بالنية، کہتے ہیں ایک ہے موجب اور ایک ہے محتمل، ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ موجب وہ ثابت ہوتا ہے بغیر نیت کے، اور محتمل جو ہوتا ہے وہ ثابت ہوتا ہے کس کے ذریعہ؟ نیت کے ذریعہ۔
بائی، موجب بمعنیٰ مدلول کے ہے بھئی، کس معنیٰ میں ہے؟ مدلول کے معنیٰ میں ہے۔ ایک ہے مدلول، ایک ہے محتمل، ایک وہ جس پہ لفظ دلالت کر رہا ہے، اور ایک وہ جس کا لفظ میں احتمال ہے، تو جس پہ دلالت کر رہا ہے وہاں نیت کی کوئی ضرورت نہیں، وہ خود بخود کیا ہو جائے گا؟ بھئی، ایک چیز پہ لفظ جب دلالت کر رہا ہے تو وہ خود بخود کیا ہو جائے گا؟ لفظ کے بولتے ہی وہ ثابت ہو جائے گا، لیکن جس کا احتمال ہے وہ خود بخود ثابت نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے کیا کرنا پڑے گی؟ قرینہ چاہیے، تو نیت کریں گے تو یہ قرینہ آ گیا بھئی، لہٰذا اب کیا ثابت ہو جائے گا؟ وہ محتمل بھی ثابت ہو جائے گا۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ یہی فرماتے ہیں کہ امر کا مدلول تو تکرار نہیں ہے، لیکن اس میں تکرار کا احتمال ہے، اور جب قرینہ آ جائے گا یعنی نیت آ جائے گی تو پھر کیا ثابت ہو جائے گا؟ امر کے لیے تکرار بھی ثابت ہو جائے گا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
کہتے ہیں: ودليلنا سياتي، اور ہماری دلیل عنقریب آ جائے گی، مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں بھئی، آگے آ جائے گی بھئی۔ سواء كان معلقا بشرط أو مخصوصا بوصف أو لم يكن، برابر ہے بھئی کہ یہ
وہ امر جو ہے وہ معلق ہو کسی شرط کے ساتھ یا مخصوص ہو کسی وصف کے ساتھ یا نہ ہو ایسا، بھئی۔ انہوں نے کیا کہا بھئی؟ متن میں کیا بات کی تھی کہ امر تکرار کا تقاضا نہیں رکھتا اور نہ احتمال رکھتا ہے، برابر ہے کہ وہ کسی شرط کے ساتھ معلق ہو یا کسی وصف کے ساتھ مخصوص ہو یا مخصوص اور معلق نہ ہو۔
کہتے ہیں: رد علی بعض اصحاب الشافعی رحمہم اللہ۔ یہ رد ہے بعض اصحاب شافعی رحمہ اللہ پر، فأنہم ذہبوا اس لیے کہ وہ اس بات کی طرف گئے ہیں أنہ إذا کان الأمر معلقا بشرط کقولہ تعالی کہ جب امر کسی شرط کے ساتھ معلق ہو کقولہ تعالی جیسے اللہ تعالی کا قول ہے: وإن کنتم جنبا فاطہروا۔ اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو خوب پاکی حاصل کرو۔ تو فاطہروا امر آیا، اور یہ کیا ہے؟ معلق ہے کس کے ساتھ؟ شرط کے ساتھ، إن کنتم جنبا۔ یہ امر کس کے ساتھ معلق ہے؟ خوب پاکی حاصل کرو، ویسے ہی کہا یا شرط بھی ساتھ آگئی؟ کب؟ اگر تم جنابت کی حالت میں ہو۔
تو اگر تم جنبی ہو تو خوب پاکی حاصل کرو، تو یہ دیکھو امر معلق بشرط آیا۔ أو مخصوصا بوصف یا امر کیا ہو؟ مخصوص بوصف ہو کقولہ تعالی جیسے اللہ تعالی کا یہ قول ہے: والسارق والسارقۃ فاقطعوا أیدیہما۔ چوری کرنے والا مرد اور چوری کرنے والی عورت، پس کاٹ دو ان کے، ان دونوں کے ہاتھ، بھئی۔
تو یہاں دیکھیے، بھئی! فاقطعوا امر آیا، کیا آیا؟ امر آیا، اور یہ مخصوص ہے وصف کے ساتھ۔ یہ قطع کب ہوگی؟ جب چوری کی صفت ہوگی، جب کون سی صفت آئے گی؟ چوری کا فعل کوئی کرے، چوری کی صفت اس میں آئے، بھئی۔
تو کہتے ہیں جی، یتکرر بتکرر الشرط والوصف، تو امر جب کہتے ہیں معلق ہو کسی شرط کے ساتھ یا مخصوص ہو کسی وصف کے ساتھ، تو وہ کیا ہوگا؟ یتکرر، اس میں تکرار آئے گا بتکرر الشرط، شرط کے تکرار کی وجہ سے، والوصف، اور وصف کے تکرار کی وجہ سے، فإن الغسل یتکرر بتکرر الجنابۃ، اس لیے کہ غسل جو ہے وہ مقرر ہوگا جنابت کے مقرر ہونے کی وجہ سے، والقطع یتکرر بتکرر السرقۃ، اور یہ ہاتھ کا کاٹنا یہ اس میں تکرار ہوگا چوری میں تکرار کی وجہ سے۔ کس کی وجہ سے؟ چوری میں تکرار کی وجہ سے۔
وعندنا المعلق بشرط، اور ہمارے نزدیک وہ امر جو معلق ہو کسی شرط کے ساتھ وغیرہ، ہا ضمیر راجع ہے معلق کو، اور جو غیر معلق بشرط ہو، وہ امر جو معلق ہو کسی شرط کے ساتھ یا کسی شرط کے ساتھ معلق نہ ہو، وکذا المخصوص بالوصف وغیرہ، اور اسی طرح وہ امر جو مخصوص ہو کسی وصف کے ساتھ یا مخصوص کسی وصف کے ساتھ نہ ہو، وغیرہ أي غیر المخصوص بالوصف، جو کسی وصف کے ساتھ مخصوص نہ ہو، سواء یہ دونوں کیا ہیں؟ برابر ہیں۔
بھئی انہوں نے بعضوں نے کہا نہ کہ اگر امر کیا ہو؟ کسی شرط کے ساتھ معلق ہوگا تو وہ کیا کرے گا؟ تکرار کا تقاضا کرے گا، تو مقرر ہوگا۔ جب بھی وہ شرط پائی جائے گی وہ امر دوبارہ کیا ہوگا اس میں؟ تکرار آئے گا، دوبارہ وہ واجب ہو جائے گا۔ اور اسی طرح اگر امر کیا ہے؟ مخصوص ہو کسی وصف کے ساتھ، تو جب بھی وہ وصف پایا جائے گا تو وہ امر پھر وجوب کا، فعل کو واجب کرے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ ہمارے نزدیک بھئی چاہے معلق بشرط ہو یا معلق بشرط نہ ہو، مخصوص بالوصف ہو یا مخصوص بالوصف نہ ہو، سارے برابر ہیں۔
سواء یہ سارے برابر ہیں فی أنہ لا يدل على التکرار ولا يحتملہ، اس بات کے اندر کہ یہ تکرار پر دلالت نہیں کرتے اور نہ اس کا احتمال رکھتے ہیں۔
لکنہ یقع علی أقل جنسہ ویحتمل کلہ، لیکن یہ امر جو ہے واقع ہوتا ہے اپنی جنس کے اقل پر، اپنی جنس کے کم ترین پر، ویحتمل کلہ اور اپنی پوری جنس کا بھی احتمال رکھتا ہے۔ کیا کرتا ہے؟ بھئی یاد رکھو یہ جو مصدر ہے یہ اسم جنس ہے اور اسم جنس کا اطلاق ایک فرد پر بھی صحیح ہے، اور پوری جنس کے افراد پر بھی صحیح ہے، اس سے مراد لینا صحیح ہے، بھئی۔
مثلاً آپ نے کہا: جاءنی رجل، کیا معنی؟ میرے پاس ایک مرد آیا، لیکن اس سے تمام جنس رجل کے مرد مراد لینا بھی صحیح ہے، صحیح ہے، بھئی۔ کہ وہ سارا مجموعہ کیا ہو؟ اس سے مراد لے لیا جائے۔ تو یہ جو اسم جنس آگے آپ کو بتلائیں گے، دراصل یہ فرد ہے مولانا۔ فرد کسے کہتے ہیں؟ جو صرف ایک کو شامل ہوتا ہے، ایک سے زیادہ کو شامل نہیں ہوتا۔ تو یہ اسم جنس ہے اور اسم جنس فرد ہے، تو وہ ایک ہی کو شامل ہوگا، ایک سے زیادہ کو شامل، لیکن اس میں، اس اسم جنس کے افراد دو قسم پر ہیں۔ ایک تو فرد حقیقی ہے، ایک فرد ہو اس کا صرف، یہ کیا ہے؟ فرد حقیقی ہے، اور ایک یہ کہ اس جنس، ساری جنس کے تمام افراد کیا ہوں؟ ان کا مجموعہ، یہ بھی بعینہٖ اعتبار کہ یہ ایک ہی جنس ہے، یہ ایک ہے مولانا، یہ کیا ہے؟ تو یوں کہیں مولانا، اس کے دو قسم کے فرد ہو گئے، بھئی۔ ایک فرد حقیقی اور وہ کیا ہے؟ ایک، اور ایک فرد حکمی یعنی حکماً کیا ہے وہ؟ حقیقتاً تو وہ ایک فرد نہیں ہے ساری جنس کے افراد کا مجموعہ، لیکن وہ کیا کر دیا؟ جنس کے تمام افراد کا کیا بنا دیا؟ ایک مجموعہ، کیا بنا دیا؟ مجموعہ بنا دیا، اور یہ مجموعہ ایک ہیں یا زیادہ ہیں، بھئی؟ ایک ہی مجموعہ ہے، بھئی، ایک ہی جنس ساری مراد ہے، باقی اور کوئی جنس مراد نہیں ہے۔
تو لہذا معلوم ہوا، بھئی، اس کا اطلاق کم سے کم کتنے پر ہوتا ہے؟ اس کے افراد، یہ فرد ہے، اور کتنے فرد کتنی قسم پر ہوئے؟ ایک فرد حقیقی اور ایک فرد حکمی۔ فرد حقیقی کیا ہے؟ ایک، اور فرد حکمی کیا ہے؟ اس جنس کے تمام افراد کا مجموعہ، یہ بھی کیا ہے؟ فرد حکمی ہے کہ ایک مجموعہ ہے۔
تو یہی بات کر رہے ہیں، کہتے ہیں: لیکن امر تکرار کا احتمال تو نہیں رکھتا، لکنہ یقع علی أقل جنسہ ویحتمل کلہ، لیکن وہ واقع ہوتا ہے اپنی جنس کے اقل پر، جنس کے کم ترین پر اور وہ کیا ہے؟ ایک۔ ویحتمل کلہ اور پوری جنس کا بھی وہ احتمال رکھتا ہے، یعنی پورا جنس کے افراد کے مجموعے کا بھی۔
کہتے ہیں: استدراک من قولہ، یہ استدراک ہے ماتن کے اس قول سے: ولا یحتملہ۔ بھئی ماتن نے کیا کہا تھا؟ امر تکرار کا احتمال نہیں رکھتا۔ استدراک کہتے ہیں ماقبل کلام سے جو وہم پیدا ہو اس وہم کو دور کرنا، یہ کیا کہلاتا ہے؟ استدراک، بھئی، استدراک۔
تو یہاں بھی ماتن نے جب کہا کہ امر تکرار کا احتمال نہیں رکھتا، تو سوال پیدا ہوا، بھئی، کہ پھر تو جب خاوند مثلاً اپنی بیوی سے کوئی کہے: طلقي نفسک، تو کیا کر؟ اپنے نفس کو طلاق دے دے۔ تو یہاں طلقي امر آیا اور امر جو ہے وہ تکرار کا احتمال نہیں رکھتا، لہذا اس سے کتنی طلاق واقع کر سکتی ہے وہ عورت؟ ایک ہی طلاق واقع کر سکتی ہے۔
لیکن فقہاء نے لکھا ہے اگر وہ عورت خاوند نے تین کی نیت کی ہے تو وہ عورت تین طلاقیں بھی واقع کر سکتی ہے۔ تو بھئی، جب امر تکرار کا احتمال نہیں رکھتا اور فقہاء فرما رہے ہیں کہ طلقي نفسک کے ذریعے اگر خاوند تین کی نیت کر لے تو کیا ہوتا ہے؟ تین واقع ہو جاتی ہیں، حالانکہ تین کو واقع نہیں ہونا چاہیے۔
تو اس کا جواب دیں گے اب، بھئی۔ اس کا جواب دیا ماتن نے: لکنہ یقع علی أقل جنسہ ویحتمل کلہ، لیکن وہ امر واقع ہوتا ہے اپنی جنس کے کم ترین یعنی ایک پر اور احتمال کس کا رکھتا ہے؟ ساری جنس کا۔
تو کہتے ہیں: یہ استدراک من قولہ: ولا یحتملہ، یہ ولا یحتملہ کے قول جو آیا ماتن کا اس سے استدراک ہے۔ کأن قائلا یقول، گویا کہ ایک کہنے والا یہ کہتا ہے کہ لما لم یحتمل الأمر التکرار عندکم، کہ جب امر تکرار کا احتمال نہیں رکھتا تمہارے نزدیک، اے احناف! فکیف یصح عندکم نیۃ الثلاث فی قولہ طلقي نفسک؟ تو تین کی نیت کرنا کیسے صحیح ہو جائے گا کسی خاوند کے اس قول کے اندر: طلقي نفسک، تو کیا کر اپنے نفس کو طلاق دے دے؟ اعتراض سمجھ میں آیا، بھئی؟ تو تین کی نیت کیسے، بھئی؟ نیت تو اس چیز کی صحیح ہوتی ہے جس کی جس کا لفظ احتمال بھی رکھتا ہو۔ جب لفظ ایک تین طلاقوں کا یعنی اس تکرار کا احتمال ہی نہیں رکھتا تو اس سے تین طلاقیں کیسے آئیں گی؟ تین میں تو تکرار ہے، تین میں تو کیا ہے؟ تکرار ہے، اور آپ نے کیا کہا؟ امر تکرار کا احتمال جب تکرار کا احتمال نہیں رکھتا تو تین جو ہے اس کو اس ایک امر کے ذریعے تین طلاقوں کو کیسے ثابت کرتے ہو تم، بھئی؟ یہ تو ثابت نہیں ہونی چاہئیں۔
فیقول، تو ماتن کہتے ہیں، بھئی، کہتے ہیں ماتن نے یہ اس وہم کا جواب دیا اس متن میں۔ فیقول، پس ماتن فرماتے ہیں کہ إن الأمر یقع علی أقل جنسہ، کہ امر کیا ہوتا ہے؟ وہی ماتن کے قول کی تشریح کر رہے ہیں۔ ماتن یہ کہتے ہیں کہ إن الأمر یقع علی أقل جنسہ، کہ امر واقع ہوتا ہے کس پر؟ اپنی جنس کے اقل پر، وهو الفرد الحقیقی، اور وہ کیا ہے؟ فرد حقیقی یعنی ایک ہے۔ ویحتمل کل الجنس، کہ وہ اور احتمال رکھتا ہے پوری جنس کا، وهو الفرد الحکمی، اور وہ کیا ہے؟ فرد حکمی ہے، یعنی وہ سارا مجموعہ کہ وہ سارا مجموعہ ایک جنس ہے اجناس میں سے، بھئی۔
وہ فرد حکمی ہے اور وہ یہاں کیا ہے؟ أي الطلاقات الثلاث، یعنی کہ وہ تین طلاق۔ بھئی، طلاقیں ہیں ہی کتنی زیادہ سے زیادہ؟ تین طلاقیں ہیں، تو یہ پوری جنس کا مجموعہ ہو گیا۔ تو طلقي جو ہے امر آیا اور یہ کس کو کس پر دلالت کرتا ہے؟ فرد حقیقی پر، کس پر دلالت کرتا ہے؟ لہذا اس سے ایک طلاق تو ثابت ہوئی ہی، ایک طلاق کا وہ واقع عورت کر سکتی ہے اپنے اوپر، لیکن پوری جنس کا بھی تو یہ احتمال رکھتا ہے، کیونکہ ایک طلاق تو ہے اس کا فرد حقیقی اور تین طلاقیں اس کا کیا ہے؟ یعنی پورا ایک مجموعہ ہے، ایک سارا مجموعہ یعنی ایک جنس ہے، بھئی۔
وہ تو وہ فرد حکمی ہے، یعنی الطلاقات الثلاث، یعنی تین طلاقیں، لا من حیث إنہ عدد بل من حیث إنہ فرد، اس حیثیت سے نہیں کہ یہ عدد ہے بلکہ اس حیثیت سے کہ یہ فرد ہے۔ یاد رکھیے! فرد وہ ہے جس میں ترکیب نہیں ہوتی، جو مرکب نہیں ہوتا مولانا، جو کس پر دلالت کرتا ہے؟ ایک پر، اس میں ترکیب ہے؟ یہ مرکب ہے؟ نہیں، یہ تو کس پر دلالت کر رہا ہے صرف؟ ایک چیز کو، ایک چیز پر دلالت کر رہا ہے۔ اور ایک ہے عدد، عدد وہ ہے جس کے اندر ترکیب ہوتی ہے، جو مرکب ہوتا ہے، جو افراد پہ دلالت کرتا ہے۔ تو یہاں پر، بھئی، طلقي نفسک کہا اور اس کے ذریعے خاوند اگر تین طلاقوں کی نیت کرتا ہے تو عورت کتنی طلاقیں اپنے اوپر واقع کر سکتی ہے؟ تین طلاقیں واقع کر سکتی ہے، تو اس سے تین طلاقیں وہ واقع کر سکتی ہے لیکن اس حیثیت سے نہیں کہ یہ عدد ہے بلکہ کس حیثیت سے کہ یہ فرد حکمی ہے، یہ کیا ہے؟ یعنی پوری جنس کا مجموعہ ہے، چنانچہ دو واقع کرنا چاہے، بھئی، خاوند کس کی نیت کرے؟ دو کی نیت کرے مولانا، تو عورت دو واقع نہیں کر سکتی، کیوں؟ کیونکہ اس لیے کہ وہ وہ نہ تو فرد حقیقی ہے اور نہ فرد حکمی ہے۔ اور امر تو صرف کس کے امر کا مدلول کیا ہے؟ فرد حقیقی، ایک، لیکن اس کے میں احتمال کس کا ہے؟ فرد حکمی کا بھی یعنی ساری جنس کا بھی، اور دو طلاقیں یہ تو نہ فرد حقیقی ہے اور نہ فرد حکمی ہے، لہذا اس کی نیت کر بھی لے تو اس کی نیت درست نہیں، بھئی، وہ جب احتمال ہی نہیں رکھتا تو نیت سے کیا فرق پڑتا ہے؟ ہاں، تین کا احتمال تھا کیونکہ پوری جنس ہی کتنی ہے طلاق کی؟ تین، بھئی، تو لہذا اس کی جب نیت کی تو وہ کیا ہو جائے گی؟ ثابت ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے، بھئی؟
یہی بات کر رہے ہیں کہ لا من یعنی تین طلاقیں ہیں لا من حیث إنہ عدد، اس حیثیت سے نہیں کہ یہ عدد ہے، بل من حیث إنہ فرد، بلکہ اس حیثیت سے کہ یہ کیا ہے؟ فرد ہے، یعنی کون سا فرد ہے؟ فرد حکمی ہے۔ ولا من حیث إنہ مدلولہ، اور اس حیثیت سے بھی نہیں یہ تین طلاقوں پر طلاقیں اس سے ثابت ہوں گی کہ یہ اس کا مدلول ہے۔ بل من حیث إنہ منوی، بلکہ اس حیثیت سے کہ یہ کیا ہے؟ اس کی نیت کی گئی ہے، سمجھ میں آئی بات، بھئی؟ اس کا احتمال تھا، نیت کر لی گئی تو قرینہ آ گیا، تو اب کیا ہو جائیں گی؟ تین طلاقیں اس سے ثابت ہو جائیں گی۔ مدلول تو اس کا کیا تھا امر کا؟ فرد حقیقی، مدلول کیا ہے؟ فرد حقیقی ہے، جی، اور محتمل کیا ہے؟ فرد حکمی یعنی پوری جنس کا مجموعہ، بھئی۔
دیکھا، بھئی، وہ لا من حیث إنہ مدلولہ، یہاں آ گیا، میں نے اوپر بتلایا تھا موجب کا کیا معنی کریں؟ مدلول کہ جس پر وہ دلالت کرتا ہے۔
وإلیہ أشار، اور اسی کی طرف اشارہ کیا ہے بقولہ اپنے اس قول کے ذریعے ماتن نے: حتی إذا قال لہا طلقي نفسک، یہاں تک کہ اگر جب خاوند نے کہا اپنی بیوی سے کہ تو اپنے آپ کو طلاق دے دے أنہ یقع علی الواحد، تو وہ امر کتنے پر واقع ہوگا؟ ایک طلاق پر إلا أن ینوي الثلاث، مگر یہ کہ خاوند کتنے کی نیت کر لے؟ تین کی، تو اب تین پر بھی واقع ہو جائے گا اور وہ تین طلاقیں واقع کر سکتی ہے۔ کیوں؟ کہتے ہیں: لأن الواحد فرد حقیقی متيقن، اس لیے کہ واحد جو ہے وہ تو فرد حقیقی ہے، یقینی ہے، والثلاث فرد حکمي محتمل، اور ثلاثہ کیا ہے؟ فرد حکمی ہے جس کا کہ احتمال ہے۔ ولا تعمل نیۃ الثنتین، اور دو طلاق کی نیت عمل نہیں کرے گی إلا أن تکون المرأۃ أمۃ، مگر یہ کہ وہ عورت کیا ہو؟ باندی ہو۔
بھئی، دو کی نیت کرے گا تو وہ نیت کوئی عمل نہیں کرے گی، دو طلاقیں اس سے ثابت نہیں ہوں گی، ہاں باندی ہو تو پھر دو طلاقیں ثابت ہو جائیں گی۔ بھئی، باندی کی آزاد عورت کی تو تین طلاقیں ہیں، باندی کی کتنی طلاقیں ہیں؟ دو، تو دو جو طلاقیں باندی کے لیے نیت کی اور ثابت ہوئیں وہ اس حیثیت سے نہیں کہ وہ عدد ہے بلکہ اس حیثیت سے کہ وہ کیا ہے؟ فرد حکمی ہے یعنی کل جنس ہے، سمجھ میں آئی بات، بھئی؟ کل جنس ہے۔
أي لا تصح نیۃ الثنتین فی قولہ طلقي نفسک، یعنی صحیح نہیں نیت دو طلاقوں کی نیت کرنا خاوند کے اس قول کے اندر: طلقي نفسک، لأنہ عدد محض، اس لیے کہ دو کیا ہے؟ وہ عدد محض ہے، لیس بفرد حقیقی ولا حکمي، نہ وہ فرد حقیقی ہے اور نہ حکمی ہے،ولیس مدلولا للفظ ولا محتملا لہ، اور نہ تو وہ لفظ کا مدلول ہے اور نہ اس کا محتمل ہے۔ إلا إذا کانت تلک المرأۃ أمۃ، مگر اس وقت جبکہ وہ عورت باندی ہو لأن الثنتین فی حقہا کالکلاث فی حق الحرۃ، اس لیے کہ دو طلاقیں اس باندی کے حق میں جیسے کہ تین ہوتی ہیں آزاد عورت کے حق میں، یہ اسی طرح ہے، بھئی، سمجھ میں آیا، بھئی؟ جیسے اس آزاد عورت کے حق میں تین ہوتی ہیں تو باندی کے حق میں دو ہیں۔ فہو واحد حکمي، تو یہ کیا ہے؟ واحد حکمی ہے کالکلاث فی حقہا، جیسے کہ تین طلاقیں کیا ہیں؟ واحد حکمی ہیں فی حقہا، کس کے حق میں؟ آزاد عورت کے حق میں۔
وأما إذا قال طلقي نفسک ثنتین، یہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں، بھئی۔ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ بھئی آپ کی تقریر سے اتنا ہمیں پتہ لگ گیا کہ امر جو ہے وہ تکرار کا احتمال نہیں رکھتا، ہاں وہ دلالت کرتا ہے اقل جنس پر، البتہ کل جنس کا بھی وہ احتمال رکھتا ہے۔ تو امر کا مدلول کیا ہوا؟ اقل جنس، اور محتمل کیا ہوا؟ کل جنس، بھئی۔
اچھا، معلوم ہوا اس میں عدد کا احتمال ہے؟ اس میں عدد کا سرے سے کوئی احتمال ہی نہیں، لیکن خاوند اپنی بیوی سے کہتا ہے کوئی: طلقي نفسک ثنتین، تو دے دے اپنے نفس کو دو طلاقیں۔
کتنی طلاقیں؟ دو، تو وہ عورت اپنے اوپر دو طلاقیں واقع کر سکتی ہے۔
اے احناف، بھئی! تم کیا کہتے ہو کہ اگر کوئی خاوند اپنی بیوی کو یوں کہے گا: طلقي نفسک ثنتین، تو اپنے نفس کو کتنی طلاقیں دے دے؟ دو طلاقیں دے دے، تو وہ عورت کیا کر سکتی ہے؟ دو طلاقیں واقع کر سکتی ہے۔ تو یہ جو لفظ ہے نہ: طلقي نفسک ثنتین، یہ دو تفسیر ہوا کس کی؟
وہ امر جو ہے وہ معلق ہو کسی شرط کے ساتھ یا مخصوص ہو کسی وصف کے ساتھ یا نہ ہو ایسا، بھئی۔ انہوں نے کیا کہا بھئی؟ متن میں کیا بات کی تھی کہ امر تکرار کا تقاضا نہیں رکھتا اور نہ احتمال رکھتا ہے، برابر ہے کہ وہ کسی شرط کے ساتھ معلق ہو یا کسی وصف کے ساتھ مخصوص ہو یا مخصوص اور معلق نہ ہو۔
کہتے ہیں: رد علی بعض اصحاب الشافعی رحمہم اللہ۔ یہ رد ہے بعض اصحاب شافعی رحمہ اللہ پر، فأنہم ذہبوا اس لیے کہ وہ اس بات کی طرف گئے ہیں أنہ إذا کان الأمر معلقا بشرط کقولہ تعالی کہ جب امر کسی شرط کے ساتھ معلق ہو کقولہ تعالی جیسے اللہ تعالی کا قول ہے: وإن کنتم جنبا فاطہروا۔ اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو خوب پاکی حاصل کرو۔ تو فاطہروا امر آیا، اور یہ کیا ہے؟ معلق ہے کس کے ساتھ؟ شرط کے ساتھ، إن کنتم جنبا۔ یہ امر کس کے ساتھ معلق ہے؟ خوب پاکی حاصل کرو، ویسے ہی کہا یا شرط بھی ساتھ آگئی؟ کب؟ اگر تم جنابت کی حالت میں ہو۔
تو اگر تم جنبی ہو تو خوب پاکی حاصل کرو، تو یہ دیکھو امر معلق بشرط آیا۔ أو مخصوصا بوصف یا امر کیا ہو؟ مخصوص بوصف ہو کقولہ تعالی جیسے اللہ تعالی کا یہ قول ہے: والسارق والسارقۃ فاقطعوا أیدیہما۔ چوری کرنے والا مرد اور چوری کرنے والی عورت، پس کاٹ دو ان کے، ان دونوں کے ہاتھ، بھئی۔
تو یہاں دیکھیے، بھئی! فاقطعوا امر آیا، کیا آیا؟ امر آیا، اور یہ مخصوص ہے وصف کے ساتھ۔ یہ قطع کب ہوگی؟ جب چوری کی صفت ہوگی، جب کون سی صفت آئے گی؟ چوری کا فعل کوئی کرے، چوری کی صفت اس میں آئے، بھئی۔
تو کہتے ہیں جی، یتکرر بتکرر الشرط والوصف، تو امر جب کہتے ہیں معلق ہو کسی شرط کے ساتھ یا مخصوص ہو کسی وصف کے ساتھ، تو وہ کیا ہوگا؟ یتکرر، اس میں تکرار آئے گا بتکرر الشرط، شرط کے تکرار کی وجہ سے، والوصف، اور وصف کے تکرار کی وجہ سے، فإن الغسل یتکرر بتکرر الجنابۃ، اس لیے کہ غسل جو ہے وہ مقرر ہوگا جنابت کے مقرر ہونے کی وجہ سے، والقطع یتکرر بتکرر السرقۃ، اور یہ ہاتھ کا کاٹنا یہ اس میں تکرار ہوگا چوری میں تکرار کی وجہ سے۔ کس کی وجہ سے؟ چوری میں تکرار کی وجہ سے۔
وعندنا المعلق بشرط، اور ہمارے نزدیک وہ امر جو معلق ہو کسی شرط کے ساتھ وغیرہ، ہا ضمیر راجع ہے معلق کو، اور جو غیر معلق بشرط ہو، وہ امر جو معلق ہو کسی شرط کے ساتھ یا کسی شرط کے ساتھ معلق نہ ہو، وکذا المخصوص بالوصف وغیرہ، اور اسی طرح وہ امر جو مخصوص ہو کسی وصف کے ساتھ یا مخصوص کسی وصف کے ساتھ نہ ہو، وغیرہ أي غیر المخصوص بالوصف، جو کسی وصف کے ساتھ مخصوص نہ ہو، سواء یہ دونوں کیا ہیں؟ برابر ہیں۔
بھئی انہوں نے بعضوں نے کہا نہ کہ اگر امر کیا ہو؟ کسی شرط کے ساتھ معلق ہوگا تو وہ کیا کرے گا؟ تکرار کا تقاضا کرے گا، تو مقرر ہوگا۔ جب بھی وہ شرط پائی جائے گی وہ امر دوبارہ کیا ہوگا اس میں؟ تکرار آئے گا، دوبارہ وہ واجب ہو جائے گا۔ اور اسی طرح اگر امر کیا ہے؟ مخصوص ہو کسی وصف کے ساتھ، تو جب بھی وہ وصف پایا جائے گا تو وہ امر پھر وجوب کا، فعل کو واجب کرے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ ہمارے نزدیک بھئی چاہے معلق بشرط ہو یا معلق بشرط نہ ہو، مخصوص بالوصف ہو یا مخصوص بالوصف نہ ہو، سارے برابر ہیں۔
سواء یہ سارے برابر ہیں فی أنہ لا يدل على التکرار ولا يحتملہ، اس بات کے اندر کہ یہ تکرار پر دلالت نہیں کرتے اور نہ اس کا احتمال رکھتے ہیں۔
لکنہ یقع علی أقل جنسہ ویحتمل کلہ، لیکن یہ امر جو ہے واقع ہوتا ہے اپنی جنس کے اقل پر، اپنی جنس کے کم ترین پر، ویحتمل کلہ اور اپنی پوری جنس کا بھی احتمال رکھتا ہے۔ کیا کرتا ہے؟ بھئی یاد رکھو یہ جو مصدر ہے یہ اسم جنس ہے اور اسم جنس کا اطلاق ایک فرد پر بھی صحیح ہے، اور پوری جنس کے افراد پر بھی صحیح ہے، اس سے مراد لینا صحیح ہے، بھئی۔
مثلاً آپ نے کہا: جاءنی رجل، کیا معنی؟ میرے پاس ایک مرد آیا، لیکن اس سے تمام جنس رجل کے مرد مراد لینا بھی صحیح ہے، صحیح ہے، بھئی۔ کہ وہ سارا مجموعہ کیا ہو؟ اس سے مراد لے لیا جائے۔ تو یہ جو اسم جنس آگے آپ کو بتلائیں گے، دراصل یہ فرد ہے مولانا۔ فرد کسے کہتے ہیں؟ جو صرف ایک کو شامل ہوتا ہے، ایک سے زیادہ کو شامل نہیں ہوتا۔ تو یہ اسم جنس ہے اور اسم جنس فرد ہے، تو وہ ایک ہی کو شامل ہوگا، ایک سے زیادہ کو شامل، لیکن اس میں، اس اسم جنس کے افراد دو قسم پر ہیں۔ ایک تو فرد حقیقی ہے، ایک فرد ہو اس کا صرف، یہ کیا ہے؟ فرد حقیقی ہے، اور ایک یہ کہ اس جنس، ساری جنس کے تمام افراد کیا ہوں؟ ان کا مجموعہ، یہ بھی بعینہٖ اعتبار کہ یہ ایک ہی جنس ہے، یہ ایک ہے مولانا، یہ کیا ہے؟ تو یوں کہیں مولانا، اس کے دو قسم کے فرد ہو گئے، بھئی۔ ایک فرد حقیقی اور وہ کیا ہے؟ ایک، اور ایک فرد حکمی یعنی حکماً کیا ہے وہ؟ حقیقتاً تو وہ ایک فرد نہیں ہے ساری جنس کے افراد کا مجموعہ، لیکن وہ کیا کر دیا؟ جنس کے تمام افراد کا کیا بنا دیا؟ ایک مجموعہ، کیا بنا دیا؟ مجموعہ بنا دیا، اور یہ مجموعہ ایک ہیں یا زیادہ ہیں، بھئی؟ ایک ہی مجموعہ ہے، بھئی، ایک ہی جنس ساری مراد ہے، باقی اور کوئی جنس مراد نہیں ہے۔
تو لہذا معلوم ہوا، بھئی، اس کا اطلاق کم سے کم کتنے پر ہوتا ہے؟ اس کے افراد، یہ فرد ہے، اور کتنے فرد کتنی قسم پر ہوئے؟ ایک فرد حقیقی اور ایک فرد حکمی۔ فرد حقیقی کیا ہے؟ ایک، اور فرد حکمی کیا ہے؟ اس جنس کے تمام افراد کا مجموعہ، یہ بھی کیا ہے؟ فرد حکمی ہے کہ ایک مجموعہ ہے۔
تو یہی بات کر رہے ہیں، کہتے ہیں: لیکن امر تکرار کا احتمال تو نہیں رکھتا، لکنہ یقع علی أقل جنسہ ویحتمل کلہ، لیکن وہ واقع ہوتا ہے اپنی جنس کے اقل پر، جنس کے کم ترین پر اور وہ کیا ہے؟ ایک۔ ویحتمل کلہ اور پوری جنس کا بھی وہ احتمال رکھتا ہے، یعنی پورا جنس کے افراد کے مجموعے کا بھی۔
کہتے ہیں: استدراک من قولہ، یہ استدراک ہے ماتن کے اس قول سے: ولا یحتملہ۔ بھئی ماتن نے کیا کہا تھا؟ امر تکرار کا احتمال نہیں رکھتا۔ استدراک کہتے ہیں ماقبل کلام سے جو وہم پیدا ہو اس وہم کو دور کرنا، یہ کیا کہلاتا ہے؟ استدراک، بھئی، استدراک۔
تو یہاں بھی ماتن نے جب کہا کہ امر تکرار کا احتمال نہیں رکھتا، تو سوال پیدا ہوا، بھئی، کہ پھر تو جب خاوند مثلاً اپنی بیوی سے کوئی کہے: طلقي نفسک، تو کیا کر؟ اپنے نفس کو طلاق دے دے۔ تو یہاں طلقي امر آیا اور امر جو ہے وہ تکرار کا احتمال نہیں رکھتا، لہذا اس سے کتنی طلاق واقع کر سکتی ہے وہ عورت؟ ایک ہی طلاق واقع کر سکتی ہے۔
لیکن فقہاء نے لکھا ہے اگر وہ عورت خاوند نے تین کی نیت کی ہے تو وہ عورت تین طلاقیں بھی واقع کر سکتی ہے۔ تو بھئی، جب امر تکرار کا احتمال نہیں رکھتا اور فقہاء فرما رہے ہیں کہ طلقي نفسک کے ذریعے اگر خاوند تین کی نیت کر لے تو کیا ہوتا ہے؟ تین واقع ہو جاتی ہیں، حالانکہ تین کو واقع نہیں ہونا چاہیے۔
تو اس کا جواب دیں گے اب، بھئی۔ اس کا جواب دیا ماتن نے: لکنہ یقع علی أقل جنسہ ویحتمل کلہ، لیکن وہ امر واقع ہوتا ہے اپنی جنس کے کم ترین یعنی ایک پر اور احتمال کس کا رکھتا ہے؟ ساری جنس کا۔
تو کہتے ہیں: یہ استدراک من قولہ: ولا یحتملہ، یہ ولا یحتملہ کے قول جو آیا ماتن کا اس سے استدراک ہے۔ کأن قائلا یقول، گویا کہ ایک کہنے والا یہ کہتا ہے کہ لما لم یحتمل الأمر التکرار عندکم، کہ جب امر تکرار کا احتمال نہیں رکھتا تمہارے نزدیک، اے احناف! فکیف یصح عندکم نیۃ الثلاث فی قولہ طلقي نفسک؟ تو تین کی نیت کرنا کیسے صحیح ہو جائے گا کسی خاوند کے اس قول کے اندر: طلقي نفسک، تو کیا کر اپنے نفس کو طلاق دے دے؟ اعتراض سمجھ میں آیا، بھئی؟ تو تین کی نیت کیسے، بھئی؟ نیت تو اس چیز کی صحیح ہوتی ہے جس کی جس کا لفظ احتمال بھی رکھتا ہو۔ جب لفظ ایک تین طلاقوں کا یعنی اس تکرار کا احتمال ہی نہیں رکھتا تو اس سے تین طلاقیں کیسے آئیں گی؟ تین میں تو تکرار ہے، تین میں تو کیا ہے؟ تکرار ہے، اور آپ نے کیا کہا؟ امر تکرار کا احتمال جب تکرار کا احتمال نہیں رکھتا تو تین جو ہے اس کو اس ایک امر کے ذریعے تین طلاقوں کو کیسے ثابت کرتے ہو تم، بھئی؟ یہ تو ثابت نہیں ہونی چاہئیں۔
فیقول، تو ماتن کہتے ہیں، بھئی، کہتے ہیں ماتن نے یہ اس وہم کا جواب دیا اس متن میں۔ فیقول، پس ماتن فرماتے ہیں کہ إن الأمر یقع علی أقل جنسہ، کہ امر کیا ہوتا ہے؟ وہی ماتن کے قول کی تشریح کر رہے ہیں۔ ماتن یہ کہتے ہیں کہ إن الأمر یقع علی أقل جنسہ، کہ امر واقع ہوتا ہے کس پر؟ اپنی جنس کے اقل پر، وهو الفرد الحقیقی، اور وہ کیا ہے؟ فرد حقیقی یعنی ایک ہے۔ ویحتمل کل الجنس، کہ وہ اور احتمال رکھتا ہے پوری جنس کا، وهو الفرد الحکمی، اور وہ کیا ہے؟ فرد حکمی ہے، یعنی وہ سارا مجموعہ کہ وہ سارا مجموعہ ایک جنس ہے اجناس میں سے، بھئی۔
وہ فرد حکمی ہے اور وہ یہاں کیا ہے؟ أي الطلاقات الثلاث، یعنی کہ وہ تین طلاق۔ بھئی، طلاقیں ہیں ہی کتنی زیادہ سے زیادہ؟ تین طلاقیں ہیں، تو یہ پوری جنس کا مجموعہ ہو گیا۔ تو طلقي جو ہے امر آیا اور یہ کس کو کس پر دلالت کرتا ہے؟ فرد حقیقی پر، کس پر دلالت کرتا ہے؟ لہذا اس سے ایک طلاق تو ثابت ہوئی ہی، ایک طلاق کا وہ واقع عورت کر سکتی ہے اپنے اوپر، لیکن پوری جنس کا بھی تو یہ احتمال رکھتا ہے، کیونکہ ایک طلاق تو ہے اس کا فرد حقیقی اور تین طلاقیں اس کا کیا ہے؟ یعنی پورا ایک مجموعہ ہے، ایک سارا مجموعہ یعنی ایک جنس ہے، بھئی۔
وہ تو وہ فرد حکمی ہے، یعنی الطلاقات الثلاث، یعنی تین طلاقیں، لا من حیث إنہ عدد بل من حیث إنہ فرد، اس حیثیت سے نہیں کہ یہ عدد ہے بلکہ اس حیثیت سے کہ یہ فرد ہے۔ یاد رکھیے! فرد وہ ہے جس میں ترکیب نہیں ہوتی، جو مرکب نہیں ہوتا مولانا، جو کس پر دلالت کرتا ہے؟ ایک پر، اس میں ترکیب ہے؟ یہ مرکب ہے؟ نہیں، یہ تو کس پر دلالت کر رہا ہے صرف؟ ایک چیز کو، ایک چیز پر دلالت کر رہا ہے۔ اور ایک ہے عدد، عدد وہ ہے جس کے اندر ترکیب ہوتی ہے، جو مرکب ہوتا ہے، جو افراد پہ دلالت کرتا ہے۔ تو یہاں پر، بھئی، طلقي نفسک کہا اور اس کے ذریعے خاوند اگر تین طلاقوں کی نیت کرتا ہے تو عورت کتنی طلاقیں اپنے اوپر واقع کر سکتی ہے؟ تین طلاقیں واقع کر سکتی ہے، تو اس سے تین طلاقیں وہ واقع کر سکتی ہے لیکن اس حیثیت سے نہیں کہ یہ عدد ہے بلکہ کس حیثیت سے کہ یہ فرد حکمی ہے، یہ کیا ہے؟ یعنی پوری جنس کا مجموعہ ہے، چنانچہ دو واقع کرنا چاہے، بھئی، خاوند کس کی نیت کرے؟ دو کی نیت کرے مولانا، تو عورت دو واقع نہیں کر سکتی، کیوں؟ کیونکہ اس لیے کہ وہ وہ نہ تو فرد حقیقی ہے اور نہ فرد حکمی ہے۔ اور امر تو صرف کس کے امر کا مدلول کیا ہے؟ فرد حقیقی، ایک، لیکن اس کے میں احتمال کس کا ہے؟ فرد حکمی کا بھی یعنی ساری جنس کا بھی، اور دو طلاقیں یہ تو نہ فرد حقیقی ہے اور نہ فرد حکمی ہے، لہذا اس کی نیت کر بھی لے تو اس کی نیت درست نہیں، بھئی، وہ جب احتمال ہی نہیں رکھتا تو نیت سے کیا فرق پڑتا ہے؟ ہاں، تین کا احتمال تھا کیونکہ پوری جنس ہی کتنی ہے طلاق کی؟ تین، بھئی، تو لہذا اس کی جب نیت کی تو وہ کیا ہو جائے گی؟ ثابت ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے، بھئی؟
یہی بات کر رہے ہیں کہ لا من یعنی تین طلاقیں ہیں لا من حیث إنہ عدد، اس حیثیت سے نہیں کہ یہ عدد ہے، بل من حیث إنہ فرد، بلکہ اس حیثیت سے کہ یہ کیا ہے؟ فرد ہے، یعنی کون سا فرد ہے؟ فرد حکمی ہے۔ ولا من حیث إنہ مدلولہ، اور اس حیثیت سے بھی نہیں یہ تین طلاقوں پر طلاقیں اس سے ثابت ہوں گی کہ یہ اس کا مدلول ہے۔ بل من حیث إنہ منوی، بلکہ اس حیثیت سے کہ یہ کیا ہے؟ اس کی نیت کی گئی ہے، سمجھ میں آئی بات، بھئی؟ اس کا احتمال تھا، نیت کر لی گئی تو قرینہ آ گیا، تو اب کیا ہو جائیں گی؟ تین طلاقیں اس سے ثابت ہو جائیں گی۔ مدلول تو اس کا کیا تھا امر کا؟ فرد حقیقی، مدلول کیا ہے؟ فرد حقیقی ہے، جی، اور محتمل کیا ہے؟ فرد حکمی یعنی پوری جنس کا مجموعہ، بھئی۔
دیکھا، بھئی، وہ لا من حیث إنہ مدلولہ، یہاں آ گیا، میں نے اوپر بتلایا تھا موجب کا کیا معنی کریں؟ مدلول کہ جس پر وہ دلالت کرتا ہے۔
وإلیہ أشار، اور اسی کی طرف اشارہ کیا ہے بقولہ اپنے اس قول کے ذریعے ماتن نے: حتی إذا قال لہا طلقي نفسک، یہاں تک کہ اگر جب خاوند نے کہا اپنی بیوی سے کہ تو اپنے آپ کو طلاق دے دے أنہ یقع علی الواحد، تو وہ امر کتنے پر واقع ہوگا؟ ایک طلاق پر إلا أن ینوي الثلاث، مگر یہ کہ خاوند کتنے کی نیت کر لے؟ تین کی، تو اب تین پر بھی واقع ہو جائے گا اور وہ تین طلاقیں واقع کر سکتی ہے۔ کیوں؟ کہتے ہیں: لأن الواحد فرد حقیقی متيقن، اس لیے کہ واحد جو ہے وہ تو فرد حقیقی ہے، یقینی ہے، والثلاث فرد حکمي محتمل، اور ثلاثہ کیا ہے؟ فرد حکمی ہے جس کا کہ احتمال ہے۔ ولا تعمل نیۃ الثنتین، اور دو طلاق کی نیت عمل نہیں کرے گی إلا أن تکون المرأۃ أمۃ، مگر یہ کہ وہ عورت کیا ہو؟ باندی ہو۔
بھئی، دو کی نیت کرے گا تو وہ نیت کوئی عمل نہیں کرے گی، دو طلاقیں اس سے ثابت نہیں ہوں گی، ہاں باندی ہو تو پھر دو طلاقیں ثابت ہو جائیں گی۔ بھئی، باندی کی آزاد عورت کی تو تین طلاقیں ہیں، باندی کی کتنی طلاقیں ہیں؟ دو، تو دو جو طلاقیں باندی کے لیے نیت کی اور ثابت ہوئیں وہ اس حیثیت سے نہیں کہ وہ عدد ہے بلکہ اس حیثیت سے کہ وہ کیا ہے؟ فرد حکمی ہے یعنی کل جنس ہے، سمجھ میں آئی بات، بھئی؟ کل جنس ہے۔
أي لا تصح نیۃ الثنتین فی قولہ طلقي نفسک، یعنی صحیح نہیں نیت دو طلاقوں کی نیت کرنا خاوند کے اس قول کے اندر: طلقي نفسک، لأنہ عدد محض، اس لیے کہ دو کیا ہے؟ وہ عدد محض ہے، لیس بفرد حقیقی ولا حکمي، نہ وہ فرد حقیقی ہے اور نہ حکمی ہے،ولیس مدلولا للفظ ولا محتملا لہ، اور نہ تو وہ لفظ کا مدلول ہے اور نہ اس کا محتمل ہے۔ إلا إذا کانت تلک المرأۃ أمۃ، مگر اس وقت جبکہ وہ عورت باندی ہو لأن الثنتین فی حقہا کالکلاث فی حق الحرۃ، اس لیے کہ دو طلاقیں اس باندی کے حق میں جیسے کہ تین ہوتی ہیں آزاد عورت کے حق میں، یہ اسی طرح ہے، بھئی، سمجھ میں آیا، بھئی؟ جیسے اس آزاد عورت کے حق میں تین ہوتی ہیں تو باندی کے حق میں دو ہیں۔ فہو واحد حکمي، تو یہ کیا ہے؟ واحد حکمی ہے کالکلاث فی حقہا، جیسے کہ تین طلاقیں کیا ہیں؟ واحد حکمی ہیں فی حقہا، کس کے حق میں؟ آزاد عورت کے حق میں۔
وأما إذا قال طلقي نفسک ثنتین، یہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں، بھئی۔ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ بھئی آپ کی تقریر سے اتنا ہمیں پتہ لگ گیا کہ امر جو ہے وہ تکرار کا احتمال نہیں رکھتا، ہاں وہ دلالت کرتا ہے اقل جنس پر، البتہ کل جنس کا بھی وہ احتمال رکھتا ہے۔ تو امر کا مدلول کیا ہوا؟ اقل جنس، اور محتمل کیا ہوا؟ کل جنس، بھئی۔
اچھا، معلوم ہوا اس میں عدد کا احتمال ہے؟ اس میں عدد کا سرے سے کوئی احتمال ہی نہیں، لیکن خاوند اپنی بیوی سے کہتا ہے کوئی: طلقي نفسک ثنتین، تو دے دے اپنے نفس کو دو طلاقیں۔
کتنی طلاقیں؟ دو، تو وہ عورت اپنے اوپر دو طلاقیں واقع کر سکتی ہے۔
اے احناف، بھئی! تم کیا کہتے ہو کہ اگر کوئی خاوند اپنی بیوی کو یوں کہے گا: طلقي نفسک ثنتین، تو اپنے نفس کو کتنی طلاقیں دے دے؟ دو طلاقیں دے دے، تو وہ عورت کیا کر سکتی ہے؟ دو طلاقیں واقع کر سکتی ہے۔ تو یہ جو لفظ ہے نہ: طلقي نفسک ثنتین، یہ دو تفسیر ہوا کس کی؟
میں بھی کیا ہوتی ہیں؟
مکرر ہوتی ہیں، ان میں بھی تکرار آتا ہے۔ امر کی وجہ سے ان میں تکرار نہیں۔
تو فايان وجد الوقت وجبت الصلاة، پس جب بھی وقت پایا جائے گا، اس عبادت کا وقت جب بھی پایا جائے گا وجبت الصلاة، تو نماز کیا ہو جائے گی؟ واجب ہو جائے گی، ومتی یاتی رمضان، اور جب بھی رمضان آئے گا يجب الصيام، تو روزے کیا ہو جائیں گے؟ واجب ہو جائیں گے، کیونکہ اس کا سبب وقت ہے، تو جب وہ وقت آئے گا، سبب آیا تو مسبب بھی اب چاہیے۔ بھئی!
ومهما قدر على ملك المال، اور جب بھی وہ کوئی شخص وہ قادر ہوا بھئی مال والا على ملك المال کس پر بھئی؟ مال کی ملکیت پر، یعنی نصاب کے بقدر مال کی ملکیت پر قادر ہوا وجبت الزكاة، تو زکوۃ کیا ہو جائے گی؟ واجب ہو جائے گی۔ ولہذا بھئی! ہم نے کیا کہا؟ کہ عبادتوں میں تکرار کس وجہ سے آتا ہے؟ اسباب میں تکرار کی وجہ سے عبادتوں میں تکرار آتا ہے۔ تو اسباب میں تکرار آتا ہے، جب سبب میں تکرار آیا تو مسبب میں بھی کیا چاہیے؟ تکرار چاہیے۔ اگر سبب ایک ہوتا تو مسبب بھی ایک ہوتا، جیسے حج ہے مولانا، حج کا سبب بیت اللہ ہے بھئی، حج کا سبب کیا ہے؟ بیت اللہ ہے بھئی، خانہ کعبہ ہے، اور بیت اللہ ایک ہے۔ تو سبب ایک ہے تو مسبب بھی ایک ہے، وہاں تکرار نہیں، اسی لیے زندگی بھر میں صرف ایک ہی حج فرض ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو دیکھا آپ نے بھئی! جن عبادتوں کے اسباب کے اندر تکرار ہے وہ عبادتیں بھی کیا ہیں؟ مکرر ہیں اور جن کے اسباب کے اندر تکرار نہیں وہ عبادتیں بھی مکرر نہیں۔ معلوم ہوا عبادتوں کے اندر جو تکرار آتا ہے وہ کس کی وجہ سے آتا ہے؟ ان کے اسباب میں تکرار کی وجہ سے آتا ہے، امر کی وجہ سے نہیں ہے، کیونکہ امر تکرار کا احتمال نہیں رکھتا۔
دیکھا! حج کا سبب ایک ہے تو اس حج کے اندر تکرار نہیں، کہتے ہیں ولہذا لم يجب الحج في العمر إلا مرة لأن البيت واحد لا تكرار فيه، اور اسی وجہ سے حج واجب نہیں ہوتا عمر میں مگر ایک ہی مرتبہ، اس لیے کہ بیت اللہ وہ ایک ہی ہے لا تكرار فيه، اس میں تکرار نہیں ہے۔
لا يقال، یہ اعتراض نہ کیا جائے کہ إن الوقت سبب لنفس الوجوب، کہ وقت تو سبب ہے کس کے لیے؟ نفس وجوب کے لیے والامر إنما هو سبب لوجوب الاداء، اور امر جو ہے وہ سبب ہے وجوب ادا کے لیے، بھئی ایک ہے نفس وجوب، ایک ہے وجوب ادا۔ مثلاً آپ کسی کے ساتھ عقد کرتے ہیں کہ یہ کتاب میں نے آپ کو 100 روپے میں فروخت کر دی، اس نے قبول کر لیا کہ میں نے یہ کتاب آپ سے 100 روپے میں خرید لی، تو عقد ہو گیا، عقد ہوتے ہی آپ اس کتاب کے مالک بن گئے، خریدار کیا بن جاتا ہے؟ مالک، بے شک کتاب دوسرے کے قبضے میں ہے لیکن جس نے خریدی ہے یہ ایجاب و قبول کرتے ہی وہ اس کتاب کا مالک بن گیا اور جب مالک بنا تو بدلے میں اس پر بھی اس کے پیسے واجب ہو گئے۔
دوسرے کی چیز کا یہ مالک ہوا ہے تو اس کے ذمے بھی کیا آ گئے؟ پیسے اس پر واجب ہو گئے بھئی! لیکن یہ پیسے ادا کب کرے گا؟ کہتے ہیں جب طلب آئے گی دوسرے کی طرف سے، دوسرا طلب بھی کرے، دو بھئی لاؤ میرے پیسے دے دو 100 روپے اس کتاب کے، تو اس وقت پھر ادائیگی واجب ہو جائے گی۔ تو عقد کرتے ہی کیا وجوب آیا؟ اس کو کیا کہتے ہیں؟ نفس وجوب، اور مطالبے کے بعد ادائیگی واجب ہوئی تو اس کو کہتے ہیں وجوب ادا، ادا بھی واجب ہو گئی، ادائیگی بھی کیا ہو گئی؟ واجب، تو ایک ہے نفس وجوب اور ایک ہے وجوب ادا۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو عقد کرتے ہی کیا آیا؟ نفس وجوب، اور وجوب ادا کب آئے گا؟ جب مطالبہ ہو گا، امر آئے گا أَدِّ إِلَيَّ کہ مجھے ادا کر دو۔ تو اسی طرح یہاں، نماز کا سبب وقت ہے تو جب بھی وقت آئے گا تو نفس وجوب آ جائے گا، ظہر کا جیسے ہی وقت آئے گا فوراً اس ظہر کی نماز انسان پر واجب ہو جائے گی۔
طلب فعل امر کے ذریعے آئے گی، تو امر کے ذریعے وجوب ادا آتی ہے، یعنی طلب آتی ہے اس چیز کی کہ اب اس کو کیا کر دو؟ ادا کرو، اس سبب کی وجہ سے جو عبادت تم پر واجب ہو چکی ہے اب اس کو کیا کر دو؟ ادا کر دو، تو یہ طلب کس کے ذریعے آئے گی؟ امر کے ذریعے، تو سبب کے ذریعے نفس وجوب تو آتا ہے لیکن طلب نہیں آتی، طلب کس کے ذریعے آئے گی؟ امر کے ذریعے، تو معلوم ہوا کہ سبب امر سے بے نیاز نہیں، جب بھی سبب ہے ساتھ امر کا ہونا ضروری۔ بھئی اسباب میں تکرار آ رہا ہے لیکن ان سے کیا آتا ہے صرف؟ نفس وجوب، طلب تو نہیں ہے کہ اس کو ادا بھی کرو، تو طلب کے لیے کیا ضروری ہے؟ امر، تو معلوم ہوا صرف سبب کے اندر تکرار کافی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ امر میں بھی کیا ہونا چاہیے؟ تکرار، امر بھی ساتھ ہونا چاہیے تاکہ طلب بھی آ جائے، کیا آ جائے؟ طلب، اعتراض سمجھ میں آیا بھئی؟ کیونکہ صرف نفس وجوب سے بات نہیں بنتی بلکہ کیا ضروری ہے اس کے ساتھ وجوب ادا، اور وجوب ادا تو کس سے آئے گا؟ امر کے ذریعے آئے گا۔
فرق سمجھ میں آیا نفس وجوب اور وجوب ادا میں؟ تو نفس وجوب اور چیز ہے وجوب ادا اور چیز ہے۔ تو یہ اعتراض کرنے والا کہتے ہیں یہ کوئی یہ اعتراض نہ کرے کہ نفس وجوب سبب کی وجہ سے تو کیا آئے گا؟ نفس وجوب آئے گا، اور وجوب ادا کس کے ذریعے آئے گا؟ طلب یعنی امر، طلب کس میں ہے؟ امر میں، تو وجوب ادا امر کے ذریعے آئے گی، تو معلوم ہوا پھر تکرار آ گیا۔
آج نفس وجوب آیا ظہر کی نماز کا، تو نفس وجوب آیا تو حکم کیا تھا کہ نماز ادا کرو، آپ نے کیا کی نماز ادا کر دی، اگلے دن پھر ظہر کا وقت آیا تو نفس وجوب آ گیا، تو پھر اسی امر سے پتہ چلا کہ کیا کرو نماز ادا، اسی امر سے پتہ چلا تکرار آ گیا یا نہیں آ گیا؟
تو یہ اعتراض کرنے والا اعتراض کرتا ہے کہ بھئی نفس وجوب تو ٹھیک ہے اسباب سے ہے اور ہر مرتبہ نیا سبب آئے گا، آج کے ظہر کا وقت الگ ہے، کل کے ظہر کا وہ الگ ظہر ہے، تو وہ ٹھیک ہے اسباب میں تو تکرار آ رہا ہے لیکن پھر بھی وجوب ادا کے اندر بھی تکرار وہاں بھی تو تکرار آ رہا ہے، تو معلوم ہوا امر کس چیز کا تقاضا کر رہا ہے؟ تکرار کا تقاضا کرتا ہے۔
کہتے ہیں لا يقال، یہ اعتراض نہ کیا جائے کہ إن الوقت سبب لنفس الوجوب کہ وقت جو ہے وہ سبب ہے نفس وجوب کے لیے والامر إنما هو سبب لوجوب الاداء، اور امر جو ہے وہ سبب ہے وجوب ادا کا فكيف يكون السبب مغنيا عن الامر، تو سبب کیسے بے پروا ہو سکتا ہے، بے نیاز ہو سکتا ہے امر سے؟ سبب کے ساتھ کیا چاہیے؟ امر بھی تو چاہیے، تو سبب تو روز آ رہے ہیں اور امر تو وہی ایک ہی ہے معلوم ہوا اسی سے کیا آ رہا ہے؟ تکرار۔ جواب دینے لگے ہیں، یہ اعتراض نہ کیا جائے لاننا نقول، اس لیے کیونکہ ہم یہ کہتے ہیں إن عند وجود كل سبب يتكرر الامر تقديرا من جانب الله تعالى، اس لیے کہ ہم کہتے ہیں کہ ہر سبب کے پائے جانے کے وقت يتكرر الامر، امر کیا ہوتا ہے؟ مکرر ہوتا ہے تقديرا من جانب الله تعالى، اللہ کی طرف سے تقدیرًا امر آتا ہے، ہر کس وقت بھئی؟ جب بھی سبب، جب بھی سبب پایا جائے گا، تو اس سے آیا نفس وجوب اور پھر کیا چاہیے؟ وجوب ادا، تو گویا تقدیرًا جب سبب آ گیا تو تقدیرًا اللہ کی طرف سے امر بھی آ گیا کہ اب اس عبادت کو ادا کرو، تو اس سے پھر کیا آ جائے گی وجوب ادا آ جائے گی۔
فكان فكان تو یہ یوں کہو مولانا کہ جب بھی سبب پایا جائے گا وہ صلوا امر پھر ہماری طرف متوجہ ہوا کہ نماز کیا کرو؟ پڑھو، تو دوبارہ وہ پھر ہماری طرف متوجہ ہوا تو گویا کہ ایک نیا امر آ گیا۔
فكان تكرار العبادات بتكرر الأوامر المتجددة حكما، تو یہ تو عبادتوں کا تکرار ہے یہ متجدد کا معنی نئے نئے، یہ نئے حُکمًا نئے اوامر کے تکرار کی وجہ سے ہو گا، کس کی وجہ سے عبادتوں میں تکرار کس کی وجہ سے ہو گا؟ حُکمًا جو ہم نے کیا کہا حُکمًا نیا امر آ گیا، تو یہ حُکمًا نئے اوامر جو ہیں ان کی وجہ سے کیا ہے عبادتوں میں تکرار ہے۔
وعند الشافعي رحمه الله تعالى لما احتملت التكرار تملك أن تطلق نفسها ثنتين إذا نوى الزوج، کہتے ہیں بيان لخلاف الشافعي رحمه الله في اصل كلي على وجه يتضمن الخلاف في المسألة المذكورة، بھئی دیکھیے ابھی تک انہوں نے کہیں ذکر کیا تھا متن کے اندر کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک امر تکرار کا احتمال رکھتا ہے، شرح میں تو آپ نے پڑھا تھا کہ امر کیا ہے تکرار کا احتمال رکھتا ہے لیکن متن میں کہیں نہیں آیا تھا، تو مصنف کیا کر رہے ہیں؟ اب امام شافعی رحمہ اللہ کا جو ہمارے ساتھ قانونِ کلی کے اندر اختلاف ہے اس کو بیان کر رہے ہیں اور ساتھ ساتھ اس کے ضمن میں وہ جو جزئی مسئلہ گزرا تھا طلاق والا اس کے اندر بھی اختلاف کو کیا کریں گے؟ بیان، تو امام شافعی رحمہ اللہ جو قانونِ کلی میں ہمارے ساتھ اختلاف کرتے ہیں اس کو بیان کریں گے کس طریقے پر؟ کہ ساتھ ساتھ اس جزئی مسئلے کے اندر بھی اختلاف کو بھی ذکر کر دیں گے بھئی۔
یعنی یوں کہو ثمرہ اختلاف بھی ساتھ ذکر کر دیں گے، کہ ہمارے نزدیک تکرار کا احتمال نہیں رکھتا، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک تکرار کا احتمال، ثمرہ اختلاف کس میں ظاہر ہو گا؟ وہ عورت جسے خاوند نے کہا طلقي نفسك اور اس طلقي کے ذریعے نیت کی دو طلاقوں کی، تو ہمارے نزدیک دو کی نیت ہی صحیح نہیں ہے کیونکہ لفظ اس کا احتمال ہی نہیں رکھتا اور ان کے نزدیک دو کی نیت صحیح ہے کیونکہ کیا ہے لفظ اس کا احتمال رکھتا ہے، تو دیکھا ان کے نزدیک پھر دو ہو جائیں گی ہمارے نزدیک دو کی نیت لغو ہے مولانا۔
تو کہتے ہیں وعند الشافعي رحمه الله، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک لما احتملت التكرار، جب امر تکرار کا احتمال رکھتا ہے تملك أن تطلق نفسها ثنتين، تو عورت مالک ہے اس بات کی کہ وہ طلاق دے اپنے نفس کو، اپنی ذات کو ثنتين دو طلاقیں إذا نوى الزوج، جب خاوند کیا کرے اس میں دو کی نیت کرے، بيان لخلاف الشافعي رحمه الله في اصل كلي، یہ بیان ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے اختلاف کا اصلِ کلی کے اندر یعنی قانونِ کلی کے اندر على وجه، ایسے طریقے پر کہ يتضمن الخلاف في المسألة المذكورة، کہ یہ متضمن ہے اس اختلاف کو بھی جو مسئلہ مذکورہ میں ہے، يعني أن عنده، یعنی امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک لما احتمل كل امر التكرار، جب احتمال رکھتا ہے ہر امر تکرار کا سواء كان امر الشارع أو غيره، برابر ہے کہ وہ امر جو ہے شارع کا امر ہو یا شارع کے علاوہ کا، یعنی ان کے نزدیک یہ ہر امر اسی طرح ہے چاہے شارع کی جانب سے ہو یا غیرِ شارع کی۔
تملك المرأة، تو مالک ہو گی عورت في قوله، خاوند کے اس قول کے اندر طلقي نفسك، تو اپنے آپ کو کیا کر؟ طلاق دے دے، تو دیکھو طلقي، یہ کوئی شارع کا امر تو نہیں ہے یہ تو وہ خاوند کا امر ہے اپنی بیوی کو، لیکن امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ ہر امر کیا ہے تکرار کا احتمال رکھتا ہے، تو لہٰذا چاہے وہ شارع کا حکم ہو چاہے غیرِ شارع کا سب میں یہی بات، لہٰذا یہاں بھی اسی طرح دو طلاقیں نیت کرنا صحیح ہے۔
تملك المرأة، تو جب وہ احتمال تکرار کا رکھتا ہے تو تملك المرأة، تو عورت مالک ہو گی في قوله طلقي نفسك، خاوند کے اس قول کے اندر طلقي نفسك کے اندر عورت مالک ہو گی أن تطلق نفسها ثنتين إذا نوى الزوج ذلك، کہ وہ اپنے نفس کو دو طلاقیں دے دے جبکہ خاوند نے اس کی نیت بھی کی ہو، وإن لم ينو أو نوى واحدة فلها أن تطلق نفسها واحدة، اور اگر خاوند نے کوئی نیت نہیں کی یا ایک کی نیت کی ہے فلها أن تطلق، تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ طلاق دے اپنے آپ کو ایک ہی، تو پھر ایک ہی دے سکتی ہے بھئی۔
ثم أورد المصنف رحمه الله بتقريب بيان الأمر بيان اسم الفاعل لاشتراكهما في عدم احتمال التكرار، تقریب کا معنی یہاں مناسبت کے ہیں بھئی، پھر مصنف لے کر آئے ہیں امر کے بیان کی مناسبت کی وجہ سے، کس چیز کو لے کر آئے ہیں؟ بيان اسم الفاعل، اسمِ فاعل کے بیان، بھئی امر کے بیان کی مناسبت کی وجہ سے کہ امر کے کیا ہے اس کی مناسبت ہے کس کے ساتھ؟ اسمِ فاعل کے ساتھ، تو اس کی مناسبت سے وہ لائے ہیں اسمِ فاعل کا بیان لاشتراكهما في عدم احتمال التكرار، بوجہ دونوں کے شریک ہونے کے تکرار کا احتمال نہ رکھنے میں کہ دونوں شریک ہیں تکرار کا احتمال نہ رکھنے میں، تو اس کی اس کے ساتھ مناسبت ہے بھئی اس لیے اس کو لے کر آئے ہیں۔
ثم أورد المصنف رحمه الله بتقريب بيان الأمر بيان اسم الفاعل لاشتراكهما في عدم احتمال التكرار، پھر لے کر آئے ہیں مصنف بتقريب بيان الأمر، امر کے بیان کی مناسبت سے مصنف لے کر آئے، امر کے بیان کی مناسبت سے کیا لے کر آئے؟ بيان اسم الفاعل، اسمِ فاعل کا بیان لے کر آئے، بھئی کیا مناسبت ہے؟ لاشتراكهما في عدم احتمال التكرار، بوجہ دونوں کے شریک ہونے اس چیز کے اندر کہ دونوں تکرار کا احتمال جیسے امر تکرار کا احتمال نہیں رکھتا ہمارے نزدیک اسی طرح اسمِ فاعل، جیسے اضرب میں احتمال نہیں تھا تکرار کا اسی طرح ضارب کے اندر بھی تکرار کا احتمال نہیں۔
ثم قال، پس متن فرماتے ہیں وكذا اسم الفاعل يدل على المصدر لغة ولا يحتمل العددا، اور اسی طرح اسمِ فاعل جو ہے وہ دلالت کرتا ہے مصدر پر باعتبار لغت کے، جیسے امر کس پہ دلالت کر رہا تھا؟ اضرب کے اندر کیا تھا؟ وہ ضرب پہ دلالت کر رہا تھا، اسی طرح مصدر ضارب بھی کس پر دلالت کرتا ہے؟ ضرب، مصدر پر دلالت کرتا ہے۔
سمجھ میں آیا؟ اضرب کا کیا معنی تھا؟ میں تم سے کیا طلب کر رہا ہوں؟ ضرب کو، اچھا دیکھو ضرب آ گئی، ضارب کا کیا معنی؟ ضرب لگانے والا، ضرب آ گیا یا نہیں بھئی؟ تو ضرب پر دلالت کر رہا، تو اسی طرح اسمِ فاعل جو ہے وہ دلالت کرتا ہے مصدر پر باعتبار لغت کے ولا يحتمل العددا، اور وہ بھی عدد کا احتمال نہیں رکھتا بھئی۔
جی اب آگے کچھ ترکیب بیان کریں گے بھئی۔
کہ وجہِ تشبیہ وغیرہ کس ترکیب میں کیا بنتی ہے، کہتے ہیں فقوله يدل، یہ جو يدل آیا متن کا قول ہے، یہ بيان لوجه التشبيه، یہ وجہِ تشبیہ کا بیان ہے، یہ کس چیز کا بیان ہے؟ انہوں نے کہا نہ اسی طرح ہے اسمِ فاعل، یعنی کس کی طرح ہے؟ امر کی طرح ہے، کس کی طرح ہے؟ امر کی طرح ہے کہ یہ دلالت کرتا ہے کس پر؟ مصدر پر باعتبار لغت کے، جیسے کون دلالت کرتا تھا؟ امر دلالت کرتا تھا مصدر پر لغت کے اعتبار سے، ولا يحتمل، اس کا عطف اسی يدل پر ہے ولا يحتمل العددا، اور یہ اسمِ فاعل عدد کا احتمال نہیں رکھتا، جیسے کہ امر جو ہے وہ عدد کا احتمال نہیں رکھتا، تو يدل کے ذریعے کیا بیان کر رہے ہیں؟ وجہِ تشبیہ، کس چیز میں مشابہت ہے بھئی؟
تو اس کے لیے وجہِ تشبیہ ذکر کر رہے ہیں بھئی ولا يحتمل عطف عليه، اور اس تو يدل بیان ہے وجہِ تشبیہ کا اور لا يحتمل کا اسی پر کیا ہے یہ؟ عطف ہے، تو یہ بھی کیا ہوئی؟ وجہِ تشبیہ ہوئی، تو دو وجہِ تشبیہ آ گئیں بھئی۔
وفي بعض النسخ لا يحتمل بدون الواو، اور بعض نسخوں کے اندر بھئی اس کتاب کے بعض نسخوں میں لا يحتمل بدون الواو، لا يحتمل آیا ہے بغیر واو کے، یہاں پر تو ہے نا ولا يحتمل، بعض نسخوں میں کیا آیا؟ لا يحتمل، تو کہتے ہیں فيكون هو بيان وجه التشبيه، تو اس صورت میں یہ کیا ہو گا؟ وجہِ تشبیہ کا بیان ہو گا وقوله يدل، اور اس سے پہلے جو يدل آیا وقع حالا، وہ کیا واقع ہو گا؟ حال بن کر واقع ہو گا۔
صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ لا يحتمل ہوا وجہ یہ ہو جائے گی وجہِ تشبیہ، اور يدل اس سے کیا بن جائے گا؟ اس کے اندر جو ضمیر ہے اس سے کیا بنے گا؟ حال بنے گا، سمجھ میں آیا؟ کیونکہ صاحبِ قافیہ کے نزدیک حال کس کی حالت بیان کرتا ہے؟ فاعل یا مفعول یا دونوں کی۔
سمجھ میں آیا؟ تو وكذا اسم الفاعل، تو اسمِ فاعل عبارت میں ترکیب میں فاعل تو نہیں واقع ہو رہا، مفعول بھی واقع نہیں ہو رہا، ہاں آگے لا يحتمل کے اندر ایک ضمیر ہے۔
جو اسی اسم فاعل کو راجع ہے۔ کس کو راجع ہے؟ ہاں اور وہ ضمیر فاعل ہے، تو اس سے کیا کریں گے اس کو؟ حال بنا دیں گے۔ کیا کریں گے؟ حال بنا دیں گے۔ تو یہ حال کی حالت بیان ہوئی۔ دیکھو اب حال بناؤ ذرا، پہلے ترجمہ دیکھ لو۔ اور اسی طرح اسم فاعل جو ہے "لا يَعْتَمِلُ العَدَدَ" وہ عدد کا احتمال نہیں رکھتا اس حال میں کہ "يَدُلُّ عَلَى المَصْدَرِ لُغَةً" کہ وہ کیا کرتا ہے؟ دلالت کرتا ہے مصدر پر باعتبار لغت کے۔
تو کہتے ہیں "وَقَوْلُهُ يَدُلُّ وَقَعَ حَالاً" یہ حال واقع ہو گا۔ "أَيْ كَذَا اسْمُ الفَاعِلِ لا يَعْتَمِلُ العَدَدَ" اسی طرح اسم فاعل جو ہے وہ احتمال عدد کا نہیں رکھتا "حَالَ كَوْنِهِ يَدُلُّ عَلَى المَصْدَرِ لُغَةً" اس حال میں کہ یہ دلالت کرتا ہے مصدر پر باعتبار لغت کے۔ "فَهُوَ احْتِرَازٌ عَنْ اسْمِ الفَاعِلِ الَّذِي يَدُلُّ عَلَيْهِ اقْتِضَاءً" تو اس کے ذریعے احتراز ہوا اس اسم فاعل سے جو دلالت کرتا ہے مصدر پر اقتضاءً۔
اس کے ذریعے کس سے احتراز ہوا؟ بھئی ماتن نے جو قید لگائی نہ "لُغَةً" باعتبار لغت کے، یہ کس پر دلالت کر رہا ہے؟ مصدر پر۔ تو باعتبار لغت کے یہ مصدر پر دلالت کرتا ہے، تو لغت کی قید کے ذریعے اس اسم فاعل کو نکال دیا جو مصدر پر دلالت کرتا ہے اقتضاءً، تقاضے کے اعتبار سے۔ کس اعتبار سے؟ تقاضے کے اعتبار سے۔
مثلاً ایک شخص ہے وہ اپنی بیوی سے کیا کہتا ہے؟ "أَنْتِ طَالِقٌ" تو طلاق والی ہے۔ فقہاء لکھتے ہیں کہ اس سے طلاق ہو جائے گی۔ کیا ہو جائے گی؟ طلاق ہو جائے گی۔ تو طلاق والی ہے یہ خبر ہے، خبر۔ یہ تو نہیں کہا میں نے تجھے طلاق دے دی، بلکہ کیا کہا؟ تو طلاق والی ہے۔ تو فقہاء کیا لکھتے ہیں؟ اس سے کیا ہو جائے گی؟ طلاق ہو جائے گی۔
کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ خاوند بیوی کو کہہ رہا ہے کہ تو طلاق والی ہے اور خبر دے رہا ہے، اور یہ خبر تبھی صحیح ہو سکتی ہے، بیوی طلاق والی تبھی ہو سکتی ہے جب پہلے خاوند نے اس کو طلاق دی ہو۔ اگر خاوند نے طلاق نہ دی ہو تو یہ طلاق والی ہے؟ نہیں۔ تو لہذا "أَنْتِ طَالِقٌ" اس سے پہلے ایک تتلیق ماننا پڑے گی۔ کیا ماننا پڑے گی؟ "طَلَّقَ يُطَلِّقُ تَطْلِيقاً" کا معنی ہے طلاق دینا۔ اس سے پہلے کیا ماننا پڑے گی "أَنْتِ طَالِقٌ" سے؟ طلاق کا دینا ماننا پڑے گا اپ کو کہ خاوند نے کیا کیا ہے؟ بیوی کو طلاق دی ہے، اسی لیے اب وہ خبر دے رہا ہے "أَنْتِ طَالِقٌ" بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو "أَنْتِ طَالِقٌ" نے بھی ایک مصدر پر دلالت کی اور وہ کون سا مصدر ہے؟ تتلیق۔ کہ وہ اس سے پہلے پایا جائے، اس سے پہلے خاوند نے طلاق دی ہو تو پھر ہی "أَنْتِ طَالِقٌ" ہو سکتی ہے، ورنہ نہیں! تو یہ "أَنْتِ طَالِقٌ" سے تتلیق، اس سے پہلے ایک تتلیق ہمیں سمجھ میں آ گئی کہ اس سے پہلے ایک تتلیق ہوئی ہے، خاوند نے طلاق دی ہے۔ اور یہ تتلیق ہمیں باعتبار لغت کے سمجھ آئی یا باعتبار اقتضاء کے سمجھ میں آئی؟ باعتبار اقتضاء۔ لغت کے اعتبار سے نہیں بھئی! عربی زبان جاننے والا کبھی بھی نہیں بتا سکتا کہ اس سے پہلے تتلیق ہے۔ ہاں، لیکن یہ "أَنْتِ طَالِقٌ" جب خاوند کہہ رہا ہے اور کس کو کہہ رہا ہے؟ اپنی ہی بیوی کو کہہ رہا ہے کہ تو کیا ہے؟ طلاق والی ہے اور یہ تبھی صحیح ہو سکتی ہے، وہ طلاق والی تبھی ہو سکتی ہے جب خاوند نے پہلے اس کو کیا دی ہو؟ طلاق دی ہو! تو معلوم ہوا اس سے پہلے کیا ماننا پڑے گا؟ تتلیق۔ یہ "أَنْتِ طَالِقٌ" تقاضا کر رہا ہے۔
خاوند کے یہ لفظ تقاضا کر رہے ہیں کہ اس سے پہلے کیا ہے؟ تتلیق ہے، یعنی خاوند نے بیوی کو طلاق دی ہے۔ تو یہ جو تتلیق ماقبل میں مصدر کو ماننا پڑا، یہ ثابت ہے کس اعتبار سے؟ اقتضاء۔ تو "أَنْتِ طَالِقٌ" یا "طَالِقٌ" نے تتلیق پر دلالت کی، لیکن باعتبار لغت کے یا باعتبار اقتضاء کے؟ باعتبار اقتضاء کے! تو ماتن نے اوپر قید لگا دی "لُغَةً"، لغت کے اعتبار سے دلالت کرے، اقتضاء کے اعتبار سے دلالت نہ کرے۔ تو یہ اقتضاء والی صورت کو نکال دیا بھئی۔ کس اعتبار سے کرے؟ لغت، عربی زبان کے اعتبار سے دلالت کرے بھئی۔
تو لہذا "طَالِقٌ" ایک تو طلاق پہ دلالت کر رہا ہے۔ بھئی "طَالِقٌ" طلاق، "طَالِقٌ" سے "طَالِقٌ" دو طلاقوں پہ دلالت کر رہا ہے۔ ایک باعتبار لغت کے اور ایک باعتبار اقتضاء کے۔ باعتبار لغت کے "طَالِقٌ" کا کیا معنیٰ؟ طلاق والی، تو طلاق مصدر ہے یا نہیں؟ اچھا "ضَارِبٌ" کا کیا معنیٰ؟ ضرب والا، تو دیکھا مصدر آ گیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو "طَالِقٌ" نے ایک طلاق پر دلالت کی، وہ طلاق ہے لغت کے اعتبار سے۔ "طَالِقٌ" کا معنیٰ طلاق والی، اور طلاق کیا ہے؟ مصدر۔ اور ایک اس "طَالِقٌ" نے تتلیق پر دلالت کی، تو ہماری مراد وہ تتلیق والی مصدر مراد نہیں ہے، بلکہ کون سا مصدر مراد ہے؟ جس پر لغت کے اعتبار سے یہ دلالت کر رہی ہے "طلاق" بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو کہتے ہیں یہ "فَهُوَ" یہ جو "لُغَةً" کی قید ہے "احْتِرَازٌ عَنْ اسْمِ الفَاعِلِ الَّذِي يَدُلُّ عَلَيْهِ اقْتِضَاءً" یہ احتراز ہے اس اسم فاعل سے جو دلالت کرتا ہے "عَلَيْهِ" کس پر؟ مصدر پر "اقْتِضَاءً" کس اعتبار سے؟ اقتضاء کے اعتبار سے۔ "مِثْلُ قَوْلِهِ" جیسے کسی خاوند کا یہ قول اپنی بیوی سے "أَنْتِ طَالِقٌ"، یہ جیسے ہے۔ "فَإِنَّهُ خَارِجٌ عَمَّا نَحْنُ فِيهِ" اسی کیونکہ یہ اس بحث سے خارج ہے جس میں اس وقت ہم ہیں۔ جو بحث ہم کر رہے ہیں، یہ اس سے خارج ہے بھئی۔
"وَسَيَأْتِي بَيَانُهُ" اور عنقریب اس کا بیان بھی آ جائے گا بھئی "اقتضاء النص" کے اندر بھئی۔ تو کہتے ہیں "حَتَّى لا يُرَادَ بِآيَةِ السَّرِقَةِ إِلا سَرِقَةٌ وَاحِدَةٌ" یہاں تک کہ مراد نہیں لیا جائے گا آیت سرقہ کے ذریعے مگر مراد نہیں ہو گا آیت سرقہ کے ذریعے مگر ایک ہی سرقہ۔ کیا مراد ہو گا؟ قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں؟ "وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا" تو "وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ" کون سے صیغے آئے؟ اسم فاعل، اور اسم فاعل کیا کرتا ہے؟ کس پر دلالت کرتا ہے؟ مصدر پر دلالت کرتا ہے۔ اور مصدر کیا ہے؟ فرد ہے۔ اور تو اس کے کتنے فرد کتنی قسم پر ہے پھر؟ دو قسم پر، ایک فرد حقیقی اور ایک فرد حکمی۔ تو فرد حقیقی تو یقینی ہے، فرد حکمی کا کیا ہے؟ احتمال ہے۔ اور فرد حقیقی کیا ہے؟ ایک! تو "وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ" نے کتنے پر دلالت کی بھئی؟ کتنی چوریوں پر؟ ایک ہی چوری پر دلالت کی۔ ساری جنس چوریاں مراد نہیں لے سکتے، اس لیے کیونکہ ان کا پتہ تو کب چلے گا؟ آخر عمر میں پتہ چلے گا! تو اگر وہ مراد لیں تو اس کا مطلب ہے آخر عمر میں کیا کرو جب کیا کیا جائے گا اس کا؟ ہاتھ کاٹا جائے گا، اور یہ تو بالاجماع باطل ہے! سمجھ میں آیا بھئی؟ تو لہذا "وَالسَّارِقُ" میں نے کس مصدر پر دلالت کی؟ سرقہ پر، اور سرقہ سے کیا مراد کون کتنے سرقہ مراد لیں گے؟ ایک ہی، یعنی فرد حقیقی ہی یہاں مراد لے سکتے ہیں، فرد حکمی مراد نہیں لے سکتے۔
تو کہتے ہیں "حَتَّى لا يُرَادَ بِآيَةِ السَّرِقَةِ إِلا سَرِقَةٌ وَاحِدَةٌ" یہاں تک کہ مراد نہیں ہو گا آیت سرقہ کے ذریعے مگر ایک ہی سرقہ۔ "وَبِالفِعْلِ الوَاحِدِ" نیز ہاں تو ایک سرقہ مراد ہوا "وَبِالفِعْلِ الوَاحِدِ لا تُقْطَعُ إِلا يَدٌ وَاحِدَةٌ" اور ایک ہی فعل کی وجہ سے نہیں کاٹا جائے گا مگر ایک ہی ہاتھ بھئی۔ ایک فعل کے ذریعے ایک ہی ہاتھ کاٹا جائے گا۔ "تَفْرِيعٌ عَلَى عَدَمِ احْتِمَالِ اسْمِ الفَاعِلِ التَّكْرَارَ" یہ تفریع ہے مولانا کس بات پر؟ کہ اسم فاعل تکرار کا احتمال نہیں رکھتا۔ "وَإِلْزَامٌ عَلَى الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِيمَا ذَهَبَ إِلَيْهِ" اور یہ الزام ہے امام شافعی رحمہ اللہ پر "فِيمَا ذَهَبَ إِلَيْهِ" اس میں جس کی طرف وہ گئے ہیں، یعنی ان کے مذہب میں۔ ان کے مذہب پر کیا ہے؟ الزام ہے، یعنی ان پر یعنی ان کے خلاف استدلال کیا جا رہا ہے، ان پر اعتراض ہے۔
"بَيَانُهُ" بیان اس کا یہ ہے "أَنَّ الشَّافِعِيَّ رَحِمَهُ اللَّهُ يَقُولُ" امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں "إِنَّ السَّارِقَ تُقْطَعُ يَدُهُ اليُمْنَى أَوَّلاً" کہ چوری کرنے والا جو ہے پہلے اس کے دائیں ہاتھ کو کاٹا جائے گا۔ پھر اگر وہ چوری کر لیتا ہے تو "ثُمَّ رِجْلُهُ اليُسْرَى" پھر اس کے بائیں پاؤں کو کاٹ دیا جائے گا "ثَانِياً" دوسری مرتبہ۔ پھر اگر وہ چوری کر لیتا ہے بعد میں "ثُمَّ يَدُهُ اليُسْرَى" پھر اس کے بائیں ہاتھ کو کاٹا جائے گا "ثَالِثاً" تیسری مرتبہ میں۔ پھر وہ چوتھی مرتبہ اس نے چوری کی اور پکڑا گیا تو "ثُمَّ رِجْلُهُ اليُمْنَى رَابِعاً" تو پھر اس کے دائیں پاؤں کو کاٹ دیا جائے گا چوتھی مرتبہ۔ "لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلامُ" حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے "مَنْ سَرَقَ فَاقْطَعُوهُ فَإِنْ عَادَ فَاقْطَعُوهُ فَإِنْ عَادَ فَاقْطَعُوهُ فَإِنْ عَادَ فَاقْطَعُوهُ" جس نے چوری کی تو اسے کاٹ دو، یعنی اس کے دائیں ہاتھ کو کاٹ دو، پھر اگر وہ لوٹے یعنی پھر چوری کرے "فَاقْطَعُوهُ" پھر اسے کیا کرو؟ کاٹو، قطع کرو، یعنی اس کے بائیں پاؤں کو کاٹا جائے گا۔ "فَإِنْ عَادَ فَاقْطَعُوهُ" اگر وہ پھر لوٹے، پھر چوری کرے تو کیا کرو اس کو؟ کاٹو، یعنی اس کے بائیں ہاتھ کو کاٹو بھئی۔ "فَإِنْ عَادَ" اگر پھر وہ چوری کرے چوتھی مرتبہ "فَاقْطَعُوهُ" تو اس کے دائیں پاؤں کو کاٹو اسے۔
"وَعِنْدَنَا" اور ہمارے نزدیک "لا تُقْطَعُ اليَدُ اليُسْرَى فِي الثَّالِثَةِ" کہ بائیں ہاتھ کو نہیں کاٹا جائے گا "فِي الثَّالِثَةِ" تیسری مرتبہ میں "بَلْ خُلِّدَ فِي السِّجْنِ" بلکہ اس کو ہمیشہ جیل میں رکھا جائے گا "حَتَّى يَتُوبَ" یہاں تک کہ وہ کیا کر لے؟ توبہ کر لے، یعنی اس پر توبہ کے آثار نمایاں ہو جائیں کہ یہ نیک بن گیا ہے، متقی بن گیا ہے بھئی۔
تو ہمارے نزدیک بھئی، پہلی مرتبہ کیا کیا جائے گا؟ چور کے دائیں ہاتھ کو کاٹا جائے گا۔ پھر چوری کی اور پکڑا گیا تو اس کے بائیں پاؤں کو کاٹا جائے گا۔ اور پھر اگر اس نے چوری کی تو اب بائیں ہاتھ کو نہیں کاٹا جائے گا یا دائیں پاؤں کو نہیں، بلکہ اسے کیا کریں گے؟ جیل میں ڈال دیں گے۔
اب دلیل ذکر کر رہے ہیں کیوں؟ کہتے ہیں "لِأَنَّ السَّارِقَ اسْمُ فَاعِلٍ" اس لیے کہ سارق جو ہے اسم فاعل ہے "يَدُلُّ عَلَى المَصْدَرِ لُغَةً" یہ دلالت کرتا ہے مصدر پر باعتبار لغت کے "وَالمَصْدَرُ لا يُرَادُ بِهِ إِلا الوَاحِدُ أَوِ الكُلُّ" اور مصدر کے لیے ارادہ نہیں کیا جاتا مگر ایک کا یا ساروں کا۔ ایک یعنی فرد حقیقی، اور سارے یعنی کہ فرد حکمی، وہ مراد ہوتے ہیں۔ "وَكُلُّ السَّرِقَاتِ لا يُعْلَمُ إِلا فِي آخِرِ العُمُرِ" اور سارے سرقات کا تو علم نہیں ہو سکتا مگر اس کی آخری عمر میں "فَصَارَ الوَاحِدُ مُرَاداً بِيَقِينٍ" تو ایک جو ہے وہ یقیناً مراد ہو گیا۔ وہ کیا ہوا؟ یقینی طور پر مراد ہوا۔ "وَبِالفِعْلِ الوَاحِدِ لا تُقْطَعُ إِلا يَدٌ وَاحِدَةٌ" اور ایک فعل کی وجہ سے نہیں کاٹا جائے گا مگر ایک ہی ہاتھ کو۔
"وَأَيْضاً فَاقْطَعُوا دَالٌّ عَلَى القَطْعِ" اور اس لیے بھی کہ "فَاقْطَعُوا" جو ہے وہ دلالت کرنے والا ہے "عَلَى القَطْعِ" کس پر؟ بھئی "فَاقْطَعُوا" امر ہے اور امر بھی کس پر دلالت کرتا ہے؟ مصدر پر، تو یہ بھی دلالت کر رہا ہے قطع پر، یعنی مصدر قطع جو ہے مصدر پر دلالت کر رہا ہے۔ "وَهُوَ أَيْضاً لا يَحْتَمِلُ العَدَدَ" اور یہ بھی جو مصدر ہے اور یہ بھی "لا يَحْتَمِلُ العَدَدَ" عدد کا احتمال نہیں رکھتا "فَلا تَثْبُتُ اليَدُ اليُسْرَى مِنَ الآيَةِ" تو لہذا بایاں ہاتھ ثابت نہیں ہو گا آیت سے، اس سے ہاتھ ثابت نہیں ہو گا بھئی۔ کیونکہ سارق سے سرقہ پر دلالت کی اور اس سے ایک چوری مراد، اور "اقْطَعُوا" نے کس پر دلالت کی؟ قطع پر، اور اس سے بھی کیا مراد ہوئی؟ ایک قطع بھئی۔
کدھر گیا؟ "لا يُقَالُ فَيَنْبَغِي" یہ اعتراض یہ نہ کہا جائے، یعنی یہ اعتراض نہ کیا جائے کہ "فَيَنْبَغِي أَنْ لا تُقْطَعَ الرِّجْلُ اليُسْرَى فِي الكَرَّةِ الثَّانِيَةِ" کہ پھر تو مناسب ہے کہ نہ کاٹا جائے کس کو؟ بائیں پاؤں کو "فِي الكَرَّةِ الثَّانِيَةِ" دوسری مرتبہ میں۔ پھر تو مناسب یہ ہے کہ بائیں پاؤں کو بھی نہ کاٹا جائے، اس لیے کہ "فَاقْطَعُوا" امر ہے اور امر میں کس پر دلالت کی؟ قطع پر، اور قطع کے ذریعے کیا مراد ہے؟ ایک ہی قطع مراد ہے، ایک مرتبہ کاٹنا۔ لہذا اب دوسری مرتبہ میں بائیں پاؤں کو نہیں کاٹنا چاہیے۔
"لِأَنَّنَا نَقُولُ" اس لیے کیونکہ ہم کہتے ہیں، یہ اب جواب دے رہے ہیں اس لیے کیونکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ "إِنَّ الرِّجْلَ غَيْرُ مُتَعَرِّضَةٍ بِهَا فِي الآيَةِ" کہ پاؤں جو ہے وہ غیر متعرض بہا ہے آیت کے اندر، یعنی اس کے درپے نہیں ہوا گیا، اس کے اس کو نہیں چھیڑا گیا، پاؤں کا ذکر ہی نہیں کیا گیا یعنی آیت کے اندر۔ پاؤں کا آیت میں ذکر ہی نہیں کیا گیا "فَلا بَأْسَ أَنْ يَثْبُتَ بِنَصٍّ آخَرَ" تو کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ ثابت ہو جائے دوسری نص کے ذریعے، دوسری نص کے۔ اس کا ذکر ہی چونکہ نہیں تھا لہذا اس کو دوسری نص کے ذریعے ثابت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے بھئی۔
"وَاليَدُ لَمَّا كَانَتْ مُتَعَرِّضَةً بِهَا فِي الآيَةِ" اور ہاتھ جو ہے جب وہ متعرض بہا ہے آیت میں، یعنی اس کے پیچھے پڑا گیا، یعنی اس کا ذکر کیا گیا ہے چونکہ آیت میں "وَتَعَيَّنَ اليُمْنَى مُرَاداً" اور نیز دایاں ہاتھ کیا ہے؟ متعین ہے "مُرَاداً مِنْهَا" اس سے مراد ہونے کے اعتبار سے کہ ایک ہاتھ سے آیت سے کیا ثابت ہوا؟ ایک ہاتھ، اور ایک ہاتھ کون سا ہے؟ کون سا مراد ہے؟ دایاں ہاتھ مراد ہے مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ اجماع، اجماع بھی ہے، سنت حدیثِ قولی بھی آتی ہے، حدیثِ فعلی بھی آتی ہے۔ حدیثِ قولی جس میں حضور علیہ السلام کا قول ذکر ہوتا ہے، حدیثِ فعلی جس میں حضور علیہ السلام کا فعل ذکر ہوتا ہے۔ تو یہ حدیثِ اجماع بھی اس پر ہے کہ اس سے کون سا ہاتھ مراد ہے؟ دایاں ہاتھ۔ حدیثِ قولی میں بھی ذکر آیا، حدیثِ فعلی میں بھی ذکر آیا، اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قرأت جو ہے اس کے اندر "أَيْدِيَهُمَا" کی جگہ "أَيْمَانَهُمَا" آیا ہے، ایمان: دائیں ہاتھ بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اس سے بھی پتہ چلا کہ اس سے اس ایک ہاتھ سے کون سا ہاتھ مراد ہے؟
اچھا۔
"وَتَعَيَّنَ اليُمْنَى مُرَاداً مِنْهَا" اور متعین ہے دایاں ہاتھ اس آیت سے مراد ہونے کے اعتبار سے، "فَلا يَجُوزُ" تو جائز نہیں ہے "أَنْ تَثْبُتَ اليُسْرَى بِخَبَرِ الوَاحِدِ" کہ ثابت ہو بایاں ہاتھ بھی، کس کے ذریعے ثابت ہو؟ خبرِ واحد کے ذریعے "الَّذِي لا تَجُوزُ الزِّيَادَةُ بِهِ عَلَى الكِتَابِ" وہ خبرِ واحد جس کے ذریعے کتاب اللہ پر زیادہ کرنا جائز نہیں ہے۔
جی۔
بھئی دیکھیے، انہوں نے کہا کہ قطع کا ذکر آیا اور قطع سے ایک ہی قطع مراد ہو گی، معلوم ہوا ایک ہی ہاتھ کاٹنا ہے بھئی، اور ایک ہی ہاتھ کاٹنا ہے، کون سا ہاتھ مراد ہے؟ اجماع، حدیثِ فعلی، حدیثِ قولی اور قرأت کے ذریعے پتہ چل گیا حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قرأت کے ذریعے کہ کون سا ہاتھ مراد ہے؟ دایاں ہاتھ۔ سمجھ میں آیا؟ تو لہذا چونکہ آیت میں ذکر ہی ہاتھ کا ہے اور ہاتھ بھی کون سا مراد ہے؟ دایاں ہاتھ مراد ہے۔ لہذا اگر حدیث میں بائیں ہاتھ کا ذکر آیا ہے لیکن وہ خبرِ واحد ہے اور خبرِ واحد کے ذریعے تو کتاب اللہ پر زیادتی جائز، لہذا بائیں ہاتھ کے کاٹنے کو اس ذریعے کتاب اللہ پر زیادتی لازم آئے گی خبرِ واحد کے ذریعے اور یہ درست نہیں ہے۔
باقی، بھئی پھر تو اس صورت میں ایک ہی قطع مراد ہے تو بائیں پاؤں کا کاٹنا بھی نہیں ہونا چاہیے دوسری مرتبہ میں! کہتے ہیں بھئی پاؤں کا آیت میں چھیڑا ہی نہیں گیا، اس کا ذکر ہی نہیں کیا گیا، لہذا اس کو دوسری نص کے ذریعے ثابت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
لیکن محشی نے اس پر بڑی پیاری بات لکھی، کہتے ہیں بھئی اگر بائیں پاؤں کو آیت میں نہیں چھیڑا گیا، تو آیت میں تو بائیں ہاتھ کو بھی نہیں چھیڑا گیا، اس کا بھی ذکر نہیں کیا گیا! تو اس کو بھی نصِ آخر کے ذریعے ثابت کرنے میں کیا حرج ہے؟ اسے بھی کیا کر دیں؟ ثابت کر دیں۔ اور کہتے ہیں بھئی لہذا یہ نہ کہو کہ بائیں پاؤں کا کاٹنا یہ نصِ آخر کے ذریعے یعنی کسی خبرِ واحد سے ثابت ہے، بلکہ یوں کہو اس کا کاٹنا اجماع سے ثابت ہے۔ کس سے؟ اجماع سے، اور اجماع تو کیا ہے؟ قطعی دلیل ہے، اجماع تو قطعی دلیل ہے، لہذا اس کے ذریعے کیا ثابت؟
ثابت ہو جائے گا بائیں پاؤں کا کاٹنا تو؟ ثابت ہو جائے گا لیکن بائیں ہاتھ کا کاٹنا وہ خبر واحد کے ذریعے ہے اور خبر واحد کے ذریعے کتاب اللہ پر زیادتی درست نہیں ہے بھئی۔
جی۔ تو کہتے ہیں: لَا يَجُوزُ بھئی أَنْ تَثْبُتَ اليُسْرَى کہ ثابت ہو جائے دائیں بائیں ہاتھ بھی بِخَبَرِ الوَاحِدِ الَّذِي لَا تَجُوزُ الزِّيَادَةُ بِهِ عَلَى الكِتَابِ اس خبر واحد کے ذریعے جس کے ذریعے کتاب اللہ پر زیادتی جائز نہیں ہے لِأَنَّهُ لَمْ يَبْقَ یہ دلیل ہے مولانا لَا يَجُوزُ أَنْ تَثْبُتَ اليُسْرَى جو اوپر والی سطر میں آیا کہ دائیں بائیں ہاتھ کو ثابت کرنا جائز نہیں، کیوں؟ کہتے ہیں: لِأَنَّهُ لَمْ يَبْقَ المَحَلُّ المُعَيَّنُ الَّذِي تَعَيَّنَ بِالإِجْمَاعِ اس لیے کہ باقی نہیں رہا وہ محل جو متعین تھا جو جو وہ محلِ متعین الَّذِي تَعَيَّنَ بِالإِجْمَاعِ جو کس کے ذریعے متعین ہوا تھا؟ اجماع کے ذریعے متعین ہوا تھا، وہ محل ہی باقی نہیں رہا۔ وہ محل ہی باقی نہیں رہا۔ دوبارہ قطعِ یدِ یمین ہو سکتا ہے؟ دوبارہ دائیں ہاتھ کا کاٹنا ہو سکتا ہے؟ وہ تو ایک ہی مرتبہ کاٹنا ہو سکتا ہے۔ ہاتھ کا ذکر آیا تھا اور ہاتھ کون سا مراد تھا؟ دایاں ہاتھ۔ تو لہذا اب ایک مرتبہ جب دایاں ہاتھ کٹ گیا تو اب وہ محل ہی باقی نہیں رہا جس کو قطع کرنا ہے، جس کو قطع کرنا ہے۔ لہذا اب د- بائیں ہاتھ ثابت نہیں ہو گا کیونکہ بائیں ہاتھ کی بات نہیں چل رہی بلکہ کس کی چل رہی ہے؟ دائیں کی، اور دایاں کٹ چکا ہے اب وہ قطع کا محل ہی باقی نہیں رہا دوبارہ قطع ہو ہی نہیں سکتی بھئی۔
بِخِلَافِ الجَلْدِ، برخلاف کوڑے لگانے کے، کوڑے مارنے کے۔ بھئی یہ ایک اعتراض کا جواب کہ آپ نے کیا کہا؟ کہ "وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا" یہاں سے ایک ہی مرتبہ ہاتھ کا کاٹنا اور وہ بھی کون سے ہاتھ کا کاٹنا؟ دائیں ہاتھ کا کاٹنا ثا- مر- ثابت ہو گا۔ تو اس طرح اس طرح تو دوسری آیت بھی آتی ہے: "الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ" زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والا مرد دونوں میں سے ہر ایک کو کتنے کوڑے لگاؤ؟ 100 کوڑے۔ یہ غیر شادی شدہ کا حکم بیان ہوا بھئی۔
تو لہذا، یہاں بھی اسی طرح زانی اسم فاعل آیا ہے۔ یہاں بھی اسی طرح امر آیا ہے: "فَاجْلِدُوا"۔ سمجھ میں آیا؟ لہذا وہاں پر ایک ہی دفعہ قطع کو آپ مانتے تھے تو یہاں بھی ایک ہی مرتبہ کوڑے لگنے چاہیئں بھئی۔ یہاں بھی کیا ہونا چاہیے؟ ایک ہی مرتبہ کوڑے لگنے چاہیئں، حالانکہ آپ کیا کہتے ہیں کہ ایک دفعہ زنا کیا اور پکڑا گیا تو کیا کرو اس کو کوڑے لگاؤ، پھر زنا کیا اور پکڑا گیا تو دوبارہ کوڑے لگاؤ، تیسری مرتبہ پھر پکڑا گیا تو پھر کوڑے لگاؤ۔ جب وہاں آپ ایک دفعہ قطع کو مانتے ہیں تو یہاں بھی کیا کریں؟ ایک دفعہ ہی کوڑے لگانے کو تسلیم کریں۔ تو جواب دے رہے ہیں بھئی۔
جواب یہ دیتے ہیں بھئی کہ وہ محل ہی باقی نہیں رہا تھا جبکہ یہاں پر کیا ہے وہ جہاں کوڑے لگنے ہیں یعنی بدن، وہ محل اب بھی باقی ہے۔ لہذا اب کیا ہو گا؟ ہر مرتبہ کوڑے لگیں گے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
بِخِلَافِ الجَلْدِ، برخلاف کوڑے لگانے کے، فَإِنَّهُ كُلَّمَا يَزْنِي غَيْرُ المُحْصَنِ اس لیے کہ جب بھی زنا کرے گا غیرِ محسن یعنی غیرِ شادی شدہ، سمجھ آئے محسن پاک دامن بھئی، تو غیرِ شادی شدہ مراد، غیرِ شادی شدہ يُجْلَدُ اس کو کوڑے لگائے جائیں گے لِأَنَّ البَدَنَ صَالِحٌ لِلْجَلْدِ دَائِماً اس لیے کہ بدن جو ہے وہ صلاحیت رکھتا ہے کوڑے کی، جلد کی دَائِماً ہمیشہ بھئی۔ اس پر کیا ہو سکتے ہیں ہمیشہ کوڑے؟ لگائے۔ لیکن قطعِ یمین تو ایک ہی دفعہ ہو سکتا ہے، اب وہ محل ہی باقی نہیں رہا۔ چلیے بس مولانا! ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔