Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-015

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 05 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 15
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
سبق نمبر۔15 ثم ذكر المصنف رحمه الله تعالى بعد هذا البيان التفريعات الثلاثة الباقية على الحكم، فقال: "ولذلك صح إيقاع الطلاق بعد الخلع". أي ولأجل أن مدلول الخاص قطعي واجب الاتباع، صح عندنا إيقاع الطلاق على المرأة بعد ما خالعها خلافاً للشافعي رحمه الله تعالى. بئی سب سے پہلے خاص کا حکم بیان ہوا تھا۔ اس کے بعد اس پر تفریعات بیان کرنے لگے تھے متن، بئی۔ تو میں نے بتلایا تھا کل سات تفریعات بیان ہوں گی، بئی۔ ان میں سے چار تفریعات بیان کیں اور اس کے بعد امام شافعی رحمہ اللہ کے دو اعتراضات ذکر کیے جو ہم پر وہ کرتے تھے اور ان کے جوابات دیے، بئی۔ اب پھر باقی جو تفریعات ہیں تین، ان کو ذکر کرنے لگے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ثم ذكر المصنف رحمه الله بعد هذا البيان، پھر ذکر کیا مصنف رحمہ اللہ نے اس بیان کے بعد، کس چیز کو ذکر کیا؟ التفريعات الثلاثة الباقية، یہ مفعول ہے کس کے لیے؟ ذكر کے لیے۔ تو التفريعات جمع مؤنث سالم ہے، اس کا نصب کس کے ساتھ آتا ہے؟ کسرہ کے ساتھ، تو التفريعاتِ یہ ہے منصوب ہی، لیکن پڑھنا کس طرح ہے؟ التفريعاتِ، اور الثلاثة الباقية اسی طرح آئیں گے، یہ اس کی صفت ہے، بئی۔ تو التفريعات الثلاثة الباقية على الحكم، باقی کی جو تین تفریعات ہیں حکم پر، وہ بیان کرنے لگے، فقال، تو فرمایا: ولذلك صح إيقاع الطلاق بعد الخلع، اور اسی وجہ سے صحیح ہے طلاق کا واقع کرنا خلع کے بعد۔ اسی وجہ سے کیا معنیٰ، بئی؟ اشارہ کس کی طرف ہے؟ بتلا رہے ہیں: أي ولأجل أن مدلول الخاص قطعي واجب الاتباع، اور اس وجہ سے کہ خاص کا مدلول جو ہوتا ہے وہ قطعی ہوتا ہے، واجب الاتباع، اور کیا ہوتا ہے؟ جب قطعی ہے تو واجب الاتباع ہے، بئی۔ صح عندنا إيقاع الطلاق على المرأة بعد ما خالعها، تو صحیح ہے ہمارے نزدیک طلاق کا واقع کرنا عورت پر بعد اس کے کہ خاوند نے اس سے کیا کیا ہے؟ خلع کیا ہے۔ خلافاً للشافعي رحمه الله تعالى، برخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے۔ وبيانه، بیان اس کا یہ ہے: أن الشافعي رحمه الله يقول: إن الخلع فسخ للنكاح، کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: إن الخلع فسخ للنكاح، کہ خلع جو ہے فسخِ نکاح ہے۔ نکاح کو فسخ کرنا ہے، فلا يبقى النكاح بعده، لہٰذا خلع کے بعد نکاح باقی ہی نہیں رہتا، وليس بطلاق، خلع طلاق نہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک خلع کس چیز کا نام ہے؟ فسخِ نکاح کا نام ہے، اس کے بعد نکاح باقی نہیں رہتا، یہ طلاق کا نام نہیں ہے، فلا يصح الطلاق بعده، لہٰذا اس کے بعد طلاق دینا بھی صحیح نہیں۔ جب نکاح ہی فسخ ہو گیا تو اب طلاق کیسے ہو سکتی ہے؟ تو ان کے نزدیک یہ کس چیز کا نام ہے؟ فسخِ نکاح کا نام ہے۔ جبکہ ہمارے نزدیک خلع طلاق کا نام ہے، اور پھر ان کے نزدیک جب فسخ کا نام ہے، تو فسخ کے بعد طلاق نہیں ہو سکتی، جبکہ ہمارے نزدیک طلاق کا نام ہے، لہٰذا طلاق کے بعد طلاق ہو سکتی ہے۔ وعندنا هو طلاق يصح إيقاع الطلاق الآخر بعده، اور ہمارے نزدیک وہ طلاق ہے، صحیح ہے طلاق، دوسری طلاق کا واقع کرنا اس خلع کے بعد، عملاً بقوله تعالى، اللہ کے اس قول پر عمل کرتے ہوئے: ﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ﴾، پس اگر خاوند نے تیسری طلاق دے دی، طلقها سے کیا مراد ہے؟ تیسری، پس اگر خاوند نے اپنی بیوی کو تیسری طلاق دے دی تو وہ اس کے لیے، وہ عورت اس خاوند کے لیے حلال نہیں ہے اس کے بعد، بئی۔ اچھا دیکھیے! کہتے ہیں: لأن الله تعالى، وذلك لأن الله تعالى، اور اسی وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ جو ہیں، قال أولاً، انہوں نے پہلی مرتبہ، پہلے یہ فرمایا: ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ﴾، کہ طلاق کتنی مرتبہ ہے؟ دو مرتبہ ہے، ﴿فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾، پھر اس کے بعد روک لینا ہے اچھے طریقے سے یا چھوڑ دینا ہے اچھے طریقے سے۔ طلاق دو مرتبہ ہے، اس کے بعد کیا کیا جائے؟ یا تو اچھے طریقے سے روک لیا جائے یا اچھے طریقے سے چھوڑ دیا جائے۔ خود بتلا رہے ہیں ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ﴾ سے کیا مراد ہے؟ أي الطلاق الرجعي اثنان، یعنی طلاقِ رجعی دو ہیں۔ طلاقِ رجعی دو ہیں، یہ بیان کیا جا رہا ہے آیت کے اندر، بئی۔ تو یہ، یعنی کہ زمانہ، بئی، زمانۂ جاہلیت کے اندر ایسا ہوتا تھا، طلاقوں کی کوئی تعداد مقرر نہیں تھی، جتنی طلاقیں دینا چاہتا دیتے رہتے، بئی۔ چنانچہ بیوی کو تکلیف دیتے تھے، جب اس کو اپنے پاس رکھنا اب نہیں رکھنا چاہتے تھے تو اس کو طلاق دے دیتے، پھر جب عدت پوری ہونے لگتی پھر رجوع کر لیتے، پھر اس کے بعد طلاق دے دیتے، پھر عدت پوری ہونے لگتی پھر رجوع کر لیتے، تو اس طرح ساری عمر اس عورت بیچاری کو لٹکائے رکھتے، نہ خود اپنے پاس رکھتے، نہ کسی اور کے ساتھ اسے نکاح کرنے دیتے تھے، بئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ نہیں، بئی، طلاقِ رجعی دو ہیں، دو کے اندر تو رجوع کر سکتے ہو، اس کے بعد دوبارہ رجوع نہیں کر سکتے، یہ معنیٰ ہے کہ ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ﴾، طلاقِ رجعی کتنی ہیں؟ دو ہیں، نہ کہ جاہلیت کی طرح کہ جتنی مرضی دیں، بئی۔ یا تو یہ معنیٰ ہے آیت کا، أو الطلاق الشرعي مرة بعد مرة، یا طلاقِ شرعی ایک مرتبہ کے بعد ایک مرتبہ ہے، بالتفريق، یعنی جدائی کے ساتھ، دون الجمع، نہ کہ جمع کے ساتھ۔ یا یہ مراد ہے آیت کی کہ ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ﴾، مرة کس کو کہتے ہیں، بئی؟ ایک مرتبہ کو، تو طلاق کتنی مرتبہ دینا ہے؟ دو مرتبہ، یعنی طلاق جو کیا ہے؟ طلاقِ سنی یہ ہے کہ بئی اکٹھی طلاقیں نہ دی جائیں، بلکہ کیا کیا جائے؟ الگ الگ طہر میں، الگ الگ طلاقیں، طلاق دی جائے، بئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی، بئی؟ تو یعنی أو الطلاق الشرعي مرة بعد مرة بالتفريق دون الجمع، کہ طلاقِ شرعی ایک مرتبہ کے بعد ایک مرتبہ ہے تفریق کے ساتھ، نہ کہ اکٹھی۔ فبعد ذلك يجب على الزوج، اس کے بعد اس خاوند پر واجب ہے، إما إمساك بمعروف، یا تو روک لینا ہے اچھے طریقے سے، کیا معنیٰ روک لینا؟ أي مراجعة بحسن المعاشرة، یعنی رجوع کر لینا ہے حسنِ معاشرت کے ساتھ، بئی۔ معاشرت کہتے ہیں، بئی، مل جل کر رہنا، بئی، مل جل کر رہنا۔ یعنی اچھے طریقے سے، اچھے برتاؤ سے کہہ لیں، بئی۔ اس کے بعد یا تو رجوع کر لے کس طرح؟ اچھے برتاؤ کے ساتھ اسے رکھے، اچھے برتاؤ کے ساتھ اس کے ساتھ رہے۔ أو تسريح بإحسان، یا کیا کرے؟ چھوڑ دے اچھے طریقے سے، احسان کے ساتھ۔ أي تخليص على الكمال والتمام، تخلیص کا معنیٰ وہی، تسریح کا معنیٰ بیان کر رہے ہیں، چھوڑ دے على الكمال والتمام، کامل اور پورے طریقے پر۔ بئی، دو طلاقیں دی ہیں، یا تو کیا کر لے؟ اچھے طریق، حسنِ معاشرت کے ساتھ کیا کر لے؟ رجوع کر لے، یا پھر کیا کرے؟ اسے اچھے پورے طریقے پر چھوڑ دے، یعنی رجوع نہ کرے، چھوڑ دے اسے پوری طرح، وہ عدت پوری کرے گی، بائنہ ہو جائے گی، اور پھر جس سے مرضی وہ چاہے نکاح کر لے۔ معنیٰ سمجھ میں آیا، بئی؟ اچھا! تو یہ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں۔ ثم ذكر بعد ذلك مسألة الخلع، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ خلع کا مسئلہ ذکر فرماتے ہیں، فقال، پس فرماتے ہیں: ﴿فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ﴾، پس اگر تم ڈرتے ہو، خوف رکھتے ہو اے حاکمو! اے حاکمو! اگر تمہیں یہ خوف ہے، تمہیں یہ ڈر ہے کہ ﴿أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ﴾ کہ یہ دونوں میاں بیوی اللہ کے حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے، ﴿فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا﴾ تو ان دونوں پر کوئی حرج نہیں ہے، ﴿فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ﴾ اس مال کے اندر جو بطورِ فدیہ کے دے دے۔ تو صورت پر کوئی حرج نہیں ہے اس مال میں جو وہ بطورِ فدیہ کے دے دے، یعنی فدیہ دے کر اپنے آپ کو خاوند سے چھڑوا لے۔ سمجھ میں آئی بات، بئی؟ تو دیکھو! پہلے وہ دوسری آیت، پہلے کیا ذکر ہوا تھا؟ ﴿فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾، یہاں تک آیت ذکر ہوئی ہے، آگے پھر مسئلۂ خلع اللہ ذکر فرما رہے ہیں کہ اے حاکمو! اگر تم ڈرتے ہو کہ اللہ کے حدود قائم نہ رکھ سکیں گے، یعنی زوجیت والا تعلق قائم نہ رکھ سکیں گے، تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے، ان دونوں پر کوئی حرج نہیں ہے اس مال میں جو عورت کس طرح دے دے؟ بطورِ، تو عورت بطورِ فدیہ کے مال دے دے، خاوند بطورِ فدیہ کے مال لے لے اور اسے چھوڑ دے، اس میں کوئی حرج نہیں۔ أي فإن خفتم، معنیٰ بھی بتلا رہے ہیں: أي فإن ظننتم يا أيها الحكام، یعنی اگر تمہارا یہ گمان ہے اے حاکمو! ﴿أَلَّا يُقِيمَا﴾ کہ یہ دونوں قائم نہ رکھ سکیں گے، کون دونوں؟ أي الزوجان، یعنی میاں بیوی، ﴿حُدُودَ اللَّهِ﴾ اللہ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے، بحسن المعاشرة والمروءة، مروّت کہتے ہیں احساس کو، بئی، احساس۔ بحسن المعاشرة، حسنِ معاشرت اور حسنِ مروّت کے ساتھ کہ اللہ کے حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے، ﴿فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا﴾ تو ان دونوں پر کوئی حرج نہیں ہے، فيما افتدت المرأة به، اس مال کے اندر جو عورت بطورِ فدیہ کے دے دے، وخلصت نفسها من الزوج، اور چھڑوا دے اپنے آپ کو، خلصت نفسها أي خلصت نفسها، اپنے نفس کو کیا کر دے؟ چھڑوا دے من الزوج خاوند سے، وطلقها الزوج، اور خاوند اسے کیا کرے؟ طلاق دے دے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی، بئی؟ فعلم، تو یہ جان لیا گیا، أن فعل المرأة في الخلع هو الابتداء، کہ عورت کا فعل خلع کے اندر کیا ہے؟ ابتداء ہے، فدیہ دینا ہے، وفعل الزوج، بئی، صرف فدیہ دینے سے عورت چھوٹ جائے گی؟ جی؟ تو معلوم ہوا خاوند کی طرف سے بھی کچھ فعل چاہیے، وہ ذکر کرنے لگے ہیں: وفعل الزوج هو ما كان مذكوراً سابقاً، أعني الطلاق لا الفسخ، اور خاوند کا فعل وہ ہے جو کہ سابق میں پہلے مذکور ہوا، أعني الطلاق، یعنی کہ طلاق ہے، لا الفسخ، فسخ نہیں ہے۔ کیوں فسخ کیوں نہیں ہے، بئی؟ کہتے ہیں: لأن الفسخ يقوم بالطرفين لا بالزوج وحده، اس لیے کہ فسخ تو طرفین کے ساتھ قائم ہوتا ہے، صرف اکیلے خاوند کے ساتھ، عورت، بئی، دیکھو! پہلے دونوں کا ذکر ہوا تھا: ﴿أَلَّا يُقِيمَا﴾، دونوں قائم نہیں رکھ سکیں گے اللہ کے حدود کو۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے، بئی؟ آگے آ رہا ہے صرف عورت کا فعل: ﴿فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ﴾، وہ مال جو عورت بطورِ، تو یہ عورت کا فعل ہوا تو خاوند کا بھی فعل چاہیے، اور خاوند کا فعل کیا ہے؟ طلاق، کیونکہ وہ سابق، خاوند کے لیے بھی ایک فعل کو ثابت کرنا ہے تو بہتر یہ ہے کہ وہی فعل ثابت کیا جائے جو جو پہلے ذکر ہو چکا ہے، اور پہلے کیا ذکر ہوا ہے؟ طلاق ذکر ہوئی ہے، تو خاوند کی طرف سے کیا فعل ہوگا؟ طلاق کا فعل ہوگا، اور خاوند کی طرف سے طلاق کا فعل ہوگا، فسخ نہیں، اس لیے کہ فسخ ایک جانب سے نہیں ہو سکتا، فسخ تو کے لیے تو کیا چاہیے؟ جانبین چاہیے، بئی، لہٰذا فسخ یہاں نہیں ہو سکتا مراد۔ لأن الفسخ يقوم بالطرفين لا بالزوج وحده، اس لیے کہ فسخ جو ہے وہ طرفین کے ساتھ قائم ہوتا ہے، اکیلے خاوند کے ساتھ نہیں، بلکہ طرفین یعنی میاں بیوی دونوں کے ساتھ، وہ دونوں کا فعل ہے، ایک کا فعل نہیں، بئی۔ ثم قال، پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾، پس اگر خاوند نے اسے طلاق دے دی تو وہ عورت حلال نہیں ہے خاوند کے لیے اس کے بعد، یہاں تک کہ وہ نکاح کر لے کسی دوسرے خاوند کے ساتھ۔ دیکھیے! خود ترجمہ بتلا رہے ہیں، کر رہے ہیں، بئی: أي فإن طلق الزوج المرأة ثالثة، اگر طلاق دے دی خاوند نے بیوی کو تیسری، فلا تحل المرأة للزوج، تو عورت حلال نہیں ہے خاوند کے لیے، من بعد الثالثة، تیسری طلاق کے بعد، حتى تنكح زوجاً غيره، یہاں تک کہ وہ دوسرے خاوند سے نکاح کر لے، ووطئها، اور وہ اس عورت کے ساتھ وطی کرے، وطلقها، پھر وہ اسے کیا کرے؟ طلاق دے دے، تو اب وہ پھر اس کے پاس جا سکتی ہے، اس سے پھر نکاح کر سکتی ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی، بئی؟ اب دیکھیے! کہتے ہیں: فالشافعي، پہلے کس چیز کا ذکر آیا قرآن میں؟ ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ﴾ کا ذکر آیا، پھر خلع کا ذکر آیا، پھر کیا آیا؟ ﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ﴾، ترتیب سمجھ میں آ رہی ہے؟ پہلے کس کا ذکر آیا؟ ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ﴾ کا ذکر آیا، اس کے بعد خلع کا ذکر آیا، اس کے بعد ﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا﴾ کا ذکر آیا۔ فالشافعي رحمه الله يقول: إنه متصل بقوله ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ﴾، کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: إنه متصل بقوله ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ﴾، کہ اللہ کا یہ جو قول ہے: ﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا﴾، یہ جڑا ہوا ہے اللہ کے اس قول کے ساتھ: ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ﴾، کس کے ساتھ جڑا ہوا ہے؟ اور درمیان میں فرماتے ہیں کہ جو درمیان میں خلع کا ذکر آیا وہ جملۂ معترضہ کے طور پر آیا، ویسے ہی درمیان میں اللہ تعالیٰ نے خلع کا ذکر کر دیا، اس کا ماقبل اور مابعد سے کوئی تعلق نہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے، بئی؟ تو وہ فرماتے ہیں یہ ﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا﴾ کا تعلق کس سے ہے؟ ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ﴾۔ فالشافعي يقول: إنه متصل بقوله ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ﴾، کہ یہ ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ﴾ کے ساتھ متصل ہے، بئی، حتى تكون هذه الطلقة، هذه الطلقة الثالثة، یہاں تک کہ یہ کون سی طلاق ہو جائے گی؟ تیسری طلاق، بئی، ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ﴾ میں دو طلاقیں آ گئیں، اور ﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا﴾ میں کیا آ گئی؟ تیسری طلاق آ گئی، اور درمیان میں خلع کا ذکر ویسے ہی ہوا، بئی۔ وذكر الخلع فيما بينهما جملة معترضة، اور ذکر کیا گیا خلع کو ان دونوں کے درمیان جملۂ معترضہ کے طور پر، لأنه فسخ، دیکھو! دلیل سنو: لأنه فسخ، اس لیے کہ خلع تو کیا ہے؟ فسخ ہے، لا يصح الطلاق بعده، اس کے بعد تو طلاق صحیح ہی، اور یہاں خلع کے بعد طلاق کا ذکر آ رہا ہے، معلوم ہوا کہ یہ طلاق، خلع کیا ہے؟ درمیان میں الگ ذکر ہے، بئی، خلع الگ ذکر ہے، خلع تو فسخِ نکاح ہے، اس کے بعد تو طلاق ہو نہیں سکتی، اور خلع کے بعد طلاق کا ذکر آ رہا ہے، معلوم ہوا خلع کا اس کے ساتھ تعلق نہیں، ورنہ تو خلع کے بعد تو طلاق ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ ونحن نقول، ہم کہتے ہیں: إن الفاء خاص، فا لفظ کیا ہے؟ خاص ہے، وضع لمعنى مخصوص، جس کو وضع کیا گیا ہے ایک مخصوص معنیٰ کے لیے، وهو التعقيب، اور وہ تعقیب ہے، بئی، ایک چیز کا دوسری چیز کے پیچھے آنا، بعد میں آنا۔ تو دیکھو! ﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا﴾ میں فا آئی ہے، ہم کہتے ہیں، اور فا کس کے لیے آتی ہے؟ تعقیب کے لیے آتی ہے کہ ایک چیز کیا ہے؟ دوسری کے بعد آئی ہے، بئی، وقد عقب هذا الطلاق بالافتداء، اور تحقیق عقب میں لائی گئی ہے یہ والی طلاق افتداء کے، ﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا﴾ سے پہلے کیا مذکور ہے، بئی؟ ہاں، ﴿فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ﴾، تو اس افتداء کے بعد کیا لائی گئی ہے؟ ﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا﴾۔ وقد عقب هذا الطلاق بالافتداء، اور تحقیق یہ طلاق جو ہے افتداء کے عقب میں لائی گئی ہے، فينبغي أن يقع بعد الخلع، تو مناسب ہے کہ یہ واقع ہو کس کے بعد؟ خلع کے بعد، اور خلع کے بعد لائی گئی ہے یہ طلاق، اور درمیان میں اس پر فا داخل کی گئی ہے، اور فا کس کے لیے آتی ہے؟ تعقیب کے لیے، معلوم ہوا یہ طلاق کس کے بعد واقع ہو رہی ہے؟ خلع کے بعد واقع ہو رہی ہے، پتہ چلا خلع فسخ کا نام نہیں، بلکہ کس چیز کا نام ہے؟ طلاق کا، اس لیے کیونکہ طلاق کے بعد طلاق ہو سکتی ہے، فسخ ہوتا تو پھر تو اس کے بعد طلاق ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ فَيَنْبَغِي أَنْ يَقَعَ بَعْدَ الْخُلْعِ، مناسب ہے کہ واقع ہو یہ طلاق خلع کے بعد، وَهُوَ أَيْضًا طَلَاقٌ، اور وہ بھی، خلع بھی کیا ہے؟ طلاق ہے۔ غَايَتُهُ، زیادہ سے زیادہ بھئی... اچھا ہماری کیا تقریر ہوئی بھئی؟ امام شافعی رحمہ اللہ کی تقریر تو یہ تھی کہ الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ آیا، اس کے بعد خلع کا ذکر آیا، پھر اس کے بعد فَإِنْ طَلَّقَهَا کا ذکر آیا۔ تو فرماتے ہیں بھئی! الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ میں دو طلاقیں آ گئیں اور فَإِنْ طَلَّقَهَا میں کون سی طلاق آ گئی؟ تیسری طلاق، اور درمیان میں خلع کس کو... جملہ معترضہ کے طور پر ذکر کر دیا گیا۔ جملہ معترضہ میں نے بتلایا تھا جس کا ماقبل، مابعد سے کوئی ربط نہ ہو، تو درمیان میں خلع کا مسئلہ بھی ویسے ذکر کر دیا گیا بھئی۔ جبکہ ہم کہتے ہیں کہ بھئی! یہاں پر فَإِنْ طَلَّقَهَا میں کیا آئی ہے؟ "فا"، اور "فا" کس لیے آتی ہے؟ تعقیب کے لیے، اور یہ کس کے بعد آئی ہے؟ استعطاء کے بعد آئی ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ استعطاء کے بعد بھی طلاق ہو سکتی ہے۔ معلوم ہوا خلع فسخ کا نام نہیں، ورنہ تو استعطاء وہ تو تھی خلع، اور خلع کے بعد اگر خلع کو فسخ تسلیم کر لیں پھر تو یہ طلاق ہو ہی نہیں سکتی۔ معلوم ہوا خلع طلاق کا نام ہے۔ ہاں، اس صورت میں پھر ہم پہ یہ اعتراض ہوتا ہے۔ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ پھر تو طلاقیں چار ہو گئیں۔ الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ دو، خلع تین، آپ نے کہا وہ بھی طلاق ہے، تین، اور فَإِنْ طَلَّقَهَا چار۔ تو اس کا آگے جواب دیں گے۔ پہلے اعتراض ذکر کریں گے کہ طلاقیں چار پھر تو ہو جاتی ہیں۔ کہتے ہیں: نہیں بھئی! کوئی حرج نہیں، جواب ہم دیتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں: یہ جو الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ کے بعد خلع ذکر ہوا، یہ خلع کوئی الگ طلاق نہیں ہے، انہی دو طلاقوں میں شامل ہے۔ انہی دو طلاقوں میں شامل ہے، یعنی وہ دو طلاقیں جو ہیں وہ رجعی بھی ہو سکتی ہیں اور بطریقِ خلع کے بھی ہو سکتی ہیں۔ تو یہ انہی میں داخل ہے، انہی کا بیان ہو رہا ہے۔ وہ دو طلاقیں کس طرح ہو سکتی ہیں؟ رجعی بھی ہو سکتی ہیں، اور مال کے عوض میں بھی... مال کے عوض میں ہوئی تو خلع، بغیر مال کے عوض میں ہوئی تو... سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو یہ انہی میں داخل ہے، یہ ان سے الگ نہیں ہے۔ جب ان سے الگ نہیں ہے، تو وہ دو طلاقیں خلع انہی میں داخل، اور ان کے بعد یہ پھر کون سی طلاق کا ذکر آ گیا فَإِنْ طَلَّقَهَا میں؟ تیسری طلاق کا ذکر۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ غَايَتُهُ... انتہائی حد یہ ہو گی کہ أَنَّهُ يَلْزَمُ أَنْ تَكُونَ الطَّلَقَاتُ أَرْبَعَةً، کہ طلاقیں کتنی ہو جائیں گی؟ چار۔ اِثْنَتَانِ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ، دو تو اللہ کے اس قول میں آ گئیں: الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ۔ وَالثَّالِثَةُ الْخُلْعُ، اور تیسری خلع۔ وَالرَّابِعَةُ هِيَ هَذِهِ، اور چوتھی یہ والی، یہ جو اوپر گزری فَإِنْ طَلَّقَهَا میں۔ وَلَكِنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ؛ لیکن اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ فَإِنَّ الْخُلْعَ لَيْسَ طَلَاقًا مُسْتَقِلًّا عَلَى حِدَةٍ، اس لیے کہ خلع علیحدہ مستقل طلاق نہیں ہے، بَلْ مُنْدَرِجٌ فِي الطَّلْقَتَيْنِ، بلکہ وہ بھی کیا ہے؟ مندرج ہے کس کے اندر؟ دو طلاقوں کے اندر بھئی! یعنی انہی میں شامل ہے بھئی، انہی کے تحت ہے بھئی۔ فَكَأَنَّهُ قِيلَ: دیکھیے! خود بتلا رہے ہیں کس طرح داخل ہے۔ کہتے ہیں: فَكَأَنَّهُ قِيلَ: گویا کہ یہ کہا گیا کہ الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ، کہ طلاق کتنی مرتبہ ہے؟ دو مرتبہ ہے۔ سَوَاءٌ كَانَتَا رَجْعِيَّتَيْنِ، برابر ہے کہ وہ دونوں کیا ہوں؟ رجعی ہوں۔ فَحِينَئِذٍ يَجِبُ إِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ، تو اس صورت میں واجب ہے... کیا واجب ہے؟ جب دو رجعی طلاقیں ہوں، یعنی بغیر مال کے عوض... مال کے عوض میں نہ ہوں، تو پھر اس کے بعد اختیار ہے: إِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ ہو یا تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ہو۔ أَوْ كَانَتَا، یا وہ دو طلاقیں فِي ظِمْنِ الْخُلْعِ، کس کے ضمن میں ہوں؟ خلع کے ضمن میں ہوں۔ فَحِينَئِذٍ تَكُونُ بَائِنَةً، تو اس صورت میں وہ طلاق کیا ہو گی؟ بائنہ، یا وہ عورت کیا ہو گی؟ بائنہ ہو گی۔ فَإِنْ طَلَّقَهَا، پھر... تو یہ دو طلاقیں تھیں بھئی۔ فَإِنْ طَلَّقَهَا بَعْدَ الْمَرَّتَيْنِ الْمَذْكُورَتَيْنِ فِي مَا قَبْلُ، پس اگر خاوند نے طلاق دے دی ان دو مرتبہ کے بعد جو کہ ماقبل میں مذکور ہوئیں، فَلَا تَحِلُّ لَهُ، تو اس کے لیے یہ... تو وہ عورت حلال نہیں ہے اس کے لیے حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ، یہاں تک کہ وہ عورت کسی دوسرے خاوند سے نکاح کر لے، الْآيَةَ... بھئی! أَيِ الْآيَةُ مَعْلُومَةٌ، مَعْرُوفَةٌ، یا اِقْرَإِ الْآيَةَ۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وَعَلَى هَذَا التَّقْرِيرِ، اور اس تقریر پر شارح فرما رہے ہیں کہ جو ہم نے کی... کیا تقریر کی؟ کہ خلع کوئی الگ طلاق نہیں ہے، بلکہ انہی دو طلاقوں کے تحت داخل ہے۔ تو کہتے ہیں: یہ جو ہم نے تقریر کی، اس تقریر پر اِنْدَفَعَ مَا قِيلَ، دفع ہو گیا وہ جو کہا گیا، یعنی دور ہو گیا وہ جو اعتراض کیا گیا ہے کہ إِنَّهُ يَلْزَمُ أَنْ يَكُونَ الطَّلَاقُ الَّذِي بَعْدَ الْخُلْعِ فَقَطْ حُكْمُهُ عَدَمُ الْحِلِّ لِلَّذِي لَيْسَ كَذَلِكَ۔ بھئی! دیکھیے! پہلے قرآن میں کیا آیا ہے؟ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ۔ اب یہ اعتراض ذکر ہونے لگا ہے الگ بھئی۔ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ، اگر خاوند نے طلاق دے دی اس اپنی بیوی کو، تو وہ عورت اس خاوند کے لیے حلال نہیں۔ اور اس سے پہلے کون سا مسئلہ ذکر ہوا؟ خلع والا، اور درمیان میں کیا لائی گئی؟ "فا"، اور "فا" کس لیے آتی ہے؟ تعقیب کے لیے۔ اور فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ کیا بتلا رہا ہے؟ عدمِ حلت بتلا رہا ہے۔ اس طلاق کے بعد کیا آ جائے گی؟ عدمِ حلت، یعنی کیا آ جائے گی؟ حرمتِ غلیظہ آ جائے گی۔ معلوم ہوا، خلع کے بعد جو طلاق دی ہے اس سے حرمتِ غلیظہ آئے گی، باقی طلاق... باقی طلاقوں سے... باقی کسی صورت میں حرمتِ غلیظہ... اعتراض سمجھ میں آ رہا ہے؟ کہ خلع کا ذکر ہے، خلع کے بعد فَإِنْ طَلَّقَهَا ہے، تو پھر کیا ہوا؟ "فا" آئی اور "فا" کس لیے آتی ہے؟ تعقیب کے لیے۔ تو "فا" کے بعد کیا ذکر ہو رہا ہے کہ اگر طلاق دے دے تو کیا آ گئی؟ حرمتِ غلیظہ آ گئی، یعنی عدمِ حلت آ گئی۔ وہ عورت اب حلال ہی نہیں رہی۔ معلوم ہوا خلع کے بعد طلاق دے تو حرمتِ غلیظہ آئے گی، ویسے کسی اور طریقے سے دے تو حرمتِ غلیظہ... اعتراض سمجھ میں آیا؟ تو لیکن کہتے ہیں: ہماری اس تقریر سے یہ اعتراض دفع ہو چکا ہے، اس لیے کہ ہم نے بتلا دیا خلع کوئی الگ طلاق ہی نہیں ہے، بلکہ تو وہ تو انہی پہلی دو طلاقوں میں شامل ہے، اور تفصیل ہم نے کر دی۔ کہ معنی کیا ہے آیت کا؟ کہ دو طلاقیں دو چاہے رجعی دو یا کس طریقے پر؟ خلع کے طریقے پر، اس کے بعد اگر طلاق دے دی تو حرمتِ... تو یہ جو طلاق دی، چاہے خلع کے بعد ہو چاہے دو رجعی طلاقوں کے بعد ہو، کیا آ جائے گی؟ معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ یہ طلاق جو ہے، یہ دو طلاقوں کے بعد ہو، وہ دو طلاقیں چاہے خلع کے ضمن میں ہوں چاہے کون سی ہوں؟ رجعی ہوں، یعنی یہ تیسری طلاق جب آ جائے گی کیا آ جائے گی؟ حرمتِ... معلوم ہوا یہ تیسری طلاق جو دی ہے، خلع کے بعد بھی ہو سکتی ہے اور دو رجعی طلاقوں کے بعد... دونوں صورتوں میں کیا آ جائے گی؟ حرمتِ... ولہذا یہ اعتراض ختم ہوا۔ اعتراض تو یہی تھا کہ اس سے تو یہ لگتا ہے کہ صرف خلع کے بعد طلاق دو تو حرمتِ غلیظہ آئے گی ورنہ نہیں، کہتے ہیں: ہم نے بتا دیا وہ انہی دو طلاقوں میں داخل ہے، اور اس کے اندر رجعی بھی آ چکی ہیں اور خلع بھی آ گئی، تو اب جس طریقے پر بھی طلاق تیسری آئے گی کیا آ جائے گی؟ حرمتِ غلیظہ۔ جواب سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو کہتے ہیں: وَعَلَى هَذَا التَّقْرِيرِ، اور اس تقریر پر جو ہم نے کی اِنْدَفَعَ مَا قِيلَ، دور ہو گیا وہ جو کہا گیا ہے کہ إِنَّهُ يَلْزَمُ، کہ اس صورت میں جو ہے لازم آتا ہے أَنْ يَكُونَ الطَّلَاقُ الَّذِي بَعْدَ الْخُلْعِ فَقَطْ، کہ وہ طلاق جو خلع کے بعد ہو فقط، حُكْمُهُ عَدَمُ الْحِلِّ، صرف اس کا حکم کیا ہے؟ عدمِ حلت ہے، لِلَّذِي لَيْسَ كَذَلِكَ، نہ کہ وہ طلاق جو اس طرح نہ ہو، یعنی خلع کے بعد نہ ہو، اس کا یہ حکم نہیں، اس میں عدمِ حلت نہیں۔ یہ اعتراض کیا ہو گیا؟ ختم ہو گیا۔ وَإِنَّهُ، اور دوسرا یہ اعتراض: وَإِنَّهُ يَلْزَمُ أَنْ لَا يَكُونَ الْخُلْعُ إِلَّا بَعْدَ الْمَرَّتَيْنِ۔ اور یہ کہ جی! دوسرا اعتراض یہ ہوتا ہے کہ قرآن میں پہلے کس چیز کا ذکر آیا؟ الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ، اس کے بعد کس کا ذکر آیا؟ خلع کا، اور وہاں بھی کیا ہے؟ فَإِنْ خِفْتُمْ، "فا" لائی گئی اور "فا" کس لیے آتی ہے؟ تعقیب کے لیے، تو اعتراض کیا ہوتا ہے؟ اعتراض یہ ہوتا ہے معلوم ہوا دو طلاقوں کے بعد ہی خلع ہو سکتا ہے، ویسے کبھی خلع... حالانکہ خلع تو پہلے ویسے پہلے بھی ہو سکتا ہے دو طلاق سے۔ تو کہتے ہیں: ہماری تقریر سے یہ اعتراض بھی ختم ہوا، اس لیے کیونکہ ہم نے کیا کہا؟ کہ خلع کوئی الگ نہیں ہے، وہ انہی دو طلاقوں کے ضمن میں ہے، انہی کے تحت آ گیا۔ وہ دو طلاقیں چاہے رجعی طریقے پر ہوں یا چاہے خلع کے طریقے پر ہوں، معلوم ہوا خلع کا دو طلاقوں کے بعد ہونا ضروری نہیں ہے، بلکہ ابتداءً بھی خلع ہو سکتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ وَإِنَّهُ يَلْزَمُ، اور یہ بات لازم آتی ہے کہ أَنْ لَا يَكُونَ الْخُلْعُ إِلَّا بَعْدَ الْمَرَّتَيْنِ، کہ خلع نہیں ہو گا مگر دو طلاق... دو مرتبہ کے بعد، یعنی دو طلاقوں کے بعد ہی، عَمَلًا بِقَوْلِهِ تَعَالَى، عمل کرتے ہوئے اللہ کے اس قول پر: فَإِنْ خِفْتُمْ، یہ اس کے بعد آیا تھا "فا" کے ساتھ بھئی۔ تو بتلایا نہیں بھئی، ہم نے کہا یہ اسی میں داخل ہے، یہ الگ نہیں ہے، اس کے بعد اتنی تیسری طلاق نہیں بیان ہو رہی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ وَلَكِنْ يَرِدُ، لیکن یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ أَنَّ هَذَا كُلَّهُ إِنَّمَا يَصِحُّ، کہ یہ سارا کچھ اسی وقت صحیح ہو گا... اعتراض ہوتا ہے یہ سارا کچھ اسی وقت صحیح ہو گا۔ کیا سارا کچھ بھئی؟ بھئی! یہ جو انہوں نے ذکر کیا تھا ہمارا مذہب کہ خلع ہمارے نزدیک کیا ہے؟ طلاق ہے۔ اور خلع کے بعد بھی کیا ہو سکتی ہے؟ طلاق ہو سکتی ہے۔ یہ سارا اس وقت صحیح ہو گا إِذَا كَانَ التَّسْرِيحُ بِالْإِحْسَانِ إِشَارَةً إِلَى تَرْكِ الْمُرَاجَعَةِ، جبکہ تسریح بالاحسان کس کی طرف اشارہ ہو؟ ترکِ مراجعت کی طرف، یعنی وہ خاوند رجوع نہ کرے، اسے پوری طرح چھوڑ دے، وہ عدت اسے پوری کرنے دے، عدت پوری کر کے وہ خود بخود کیا ہو جائے گی؟ بائنہ ہو جائے گی، کیا ہو جائے گی؟ تو اس... تو یہ ساری تقریر اس پر مبنی تھی۔ كَمَا حَرَّرْتُ، جیسے کہ میں نے لکھا، وَأَمَّا إِذَا كَانَ إِشَارَةً إِلَى الطَّلْقَةِ الثَّالِثَةِ، ہاں! باقی اگر یہ اشارہ ہو تیسری طلاق کی طرف... کس طرف اشارہ ہو؟ تیسری طلاق کی طرف، بِنَاءً عَلَى مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ، بناء پر اس کے جو روایت کیا گیا حضور علیہ السلام سے کہ أَنَّهُ قَالَ، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: هُوَ الطَّلَاقُ الثَّالِثُ، یہ تیسری طلاق ہے۔ تیسری طلاق ہے بھئی۔ دیکھیے! یہ حدیث حاشیے میں آپ کے دی ہوئی ہے۔ أَخْرَجَ الْبَيْهَقِيُّ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، کہ ایک شخص آیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس، فَقَالَ، وہ کہنے... اس نے کہا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اے اللہ کے پیغمبر! إِنِّي أَسْمَعُ اللَّهَ يَقُولُ، میں سنتا ہوں اللہ کو کہ وہ یہ فرما رہے ہیں: الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ، یعنی قرآن میں اللہ یہ فرما رہے ہیں، میں تو یہ سنتا ہوں، فَأَيْنَ الثَّالِثَةُ؟ تیسری کہاں ہے؟ دو کا ذکر آیا ہے۔ قَالَ، حضور نے فرمایا: إِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ هِيَ الثَّالِثَةُ، کہ یہی تیسری ہے، إِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ آیا ہے، تو یہ تسریح بالاحسان ہی کیا ہے؟ تیسری طلاق ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ پہلی تقریر جو شارح نے کی اس میں تسریح بالاحسان کا کیا طلاق کا ترجمہ کیا تھا یا عدمِ رجوع ترجمہ کیا تھا؟ عدمِ رجوع، دو طلاقیں دے دی ہیں، اس کے بعد رجوع نہ کرو، عدت خود بخود گزرے گی، عورت خود بخود کیا ہو جائے گی؟ بائنہ ہو جائے گی۔ تو یہ ترجمہ کیا تھا، لیکن کہتے ہیں: اگر اس کے لیے... اس کے ذریعہ کس طرف اشارہ ہو؟ اس کے ذریعہ کیا مراد ہو؟ تیسری طلاق مراد ہو، اس کی طرف اشارہ ہو، فَحِينَئِذٍ، تو اس صورت میں يَكُونُ قَوْلُهُ تَعَالَى: فَإِنْ طَلَّقَهَا... دیکھو بھئی! الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ تھا، اس کے بعد خلع، اس کے بعد فَإِنْ طَلَّقَهَا آیا۔ تو کہتے ہیں... بعض احادیث میں کیا آیا ہے؟ تسریح بالاحسان کا پہلے ہم نے کیا ترجمہ کیا تھا؟ عدمِ رجوع، کہ رجوع نہ کرے، اس کو چھوڑ دے بس اسی طرح۔ کہتے ہیں: یہ ہماری ساری تقریر اس پر مبنی تھی، اور اگر تسریح بالاحسان سے کیا مراد ہو؟ تیسری طلاق مراد ہو، تو تین تو یہ ہو گئیں۔ یہ آگے فَإِنْ طَلَّقَهَا یہ کیا ہے؟ مصنف بتلا رہے ہیں: یہ اسی تیسری کا بیان ہے۔ اسی تیسری کا کیا ہے؟ یا تو اچھے طریقے سے کیا کر لے اسے؟ روک لے، یا اسے اچھے طریقے سے چھوڑ دے، یعنی کیا کرے؟ طلاق دے دے، اسی کا بیان ہو گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اس صورت میں فَحِينَئِذٍ يَكُونُ قَوْلُهُ تَعَالَى: فَإِنْ طَلَّقَهَا بَيَانًا لِذَلِكَ، اس صورت میں اللہ کا قول فَإِنْ طَلَّقَهَا وہ بیان ہو گا اس کے لیے، وَلَا تَعَلُّقَ لَهُ بِمَسْأَلَةِ الْخُلْعِ أَصْلًا، اور اس صورت میں اس کا مسئلہ خلع سے کوئی تعلق نہیں ہو گا، یہ اسی کا بیان ہوا بھئی۔ فَيَكُونُ الْمَعْنَى، تو معنی یہ ہو گا اس صورت میں آیت کا کہ أَنَّ بَعْدَ الْمَرَّتَيْنِ، کہ دو مرتبہ کے بعد، یعنی دو مرتبہ طلاقِ رجعی دینے کے بعد إِمَّا إِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ، یا تو کیا ہے؟ إِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ ہے، بِالْمُرَاجَعَةِ، کس کے ذریعے؟ رجوع کرنے کے ذریعے، أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ، یا کیا ہے؟ اچھے طریقے سے چھوڑ دینا ہے، بِالطَّلْقَةِ الثَّالِثَةِ، کس کے ذریعے؟ تیسری طلاق کے ذریعے، فَإِنْ آثَرَ التَّسْرِيحَ بِالْإِحْسَانِ، آثَرَ يُؤْثِرُ کے معنی ہیں ترجیح دینا، تو خاوند کے پاس دو صورتیں آ گئیں: یا وہ کیا کرے؟ رجوع کر لے، یا کیا کرے؟ اچھے طریقے سے چھوڑ دے، یعنی کیا کرے اسے؟ طلاق دے دے، فَإِنْ آثَرَ التَّسْرِيحَ بِالْإِحْسَانِ، پس اگر اس نے اچھے طریقے سے چھوڑنے کو ترجیح دی، فَطَلَّقَهَا ثَالِثًا، تو اسے کیا کرے؟ تیسری طلاق دے دے... اگر اس نے ترجیح دے دی تسریح بالاحسان کو پس اسے تیسری طلاق دے دی، فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ، الْآيَةَ... ترجمہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ بھئی یہاں پر محشی نے بڑی پیاری بات کی ہے بھئی۔ دیکھیے بھئی! قَوْلُهُ بَيَانًا لِذَلِكَ، شارح کیا فرما رہے ہیں؟ اس صورت میں فَإِنْ طَلَّقَهَا کیا بنے گا؟ بیان بنے گا کس کے لیے؟ تسریح بالاحسان کے لیے۔ أَيْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ، بَيَانٌ... أَيْ قَوْلُهُ بَيَانًا لِذَلِكَ أَيِ التَّسْرِيحِ بِإِحْسَانٍ، ثُمَّ لَا يَذْهَبُ عَلَيْكَ، محشی دیکھو بھئی کیا کہہ رہے ہیں: ثُمَّ لَا يَذْهَبُ عَلَيْكَ، پھر آپ یہ بات نہ بھول جانا کہ أَنَّ مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کا معنی یہ ہے کہ أَنَّ الطَّلْقَةَ الثَّالِثَةَ دَاخِلَةٌ فِي التَّسْرِيحِ بِإِحْسَانٍ، کہ تیسری طلاق تسریح بالاحسان میں داخل ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کی... کیا معنی ہے؟ یہ تسریح بالاحسان تیسری طلاق نہیں ہے، تیسری طلاق اس کے اندر کیا ہے؟ داخل ہے، یہ معنی ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا۔ بھئی! یہ معنی کیوں کیا؟ دیکھیے! خود بتلا رہے ہیں۔ کہتے ہیں: فَإِنَّهُ عِبَارَةٌ عَنْ تَرْكِ الْمُرَاجَعَةِ، اس لیے کہ تسریح بالاحسان کس چیز سے عبارت ہے؟ ترکِ مراجعت سے، رجوع نہ کرنا، چھوڑ دے اچھے طریقے سے، یعنی رجوع نہ کرے، اور یہ رجوع نہ کرنا، وَهُوَ أَعَمُّ، یہ عام ہے مِنَ الطَّلْقَةِ الثَّالِثَةِ، کس سے عام ہے؟ تیسری طلاق سے عام ہے، کیونکہ رجوع نہ کیا جائے۔ دو صورتیں آ گئیں: رجوع نہ کرے، طلاق دے دے، یا رجوع نہ کرے اور طلاق بھی نہ دے، خود ہی عدت گزر کر پوری گزرے گی اور وہ عورت کیا ہو جائے گی؟ بائنہ ہو جائے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: وَهُوَ أَعَمُّ مِنَ الطَّلَّقَةِ الثَّالِثَةِ، اور یہ زیادہ عام ہے طلاقِ ثالث سے، بھئی۔ لَا أَنَّهُ عَلَيْهِ— لَا أَنَّهُ عَلَيْهَا— یہ صرف اسی پر محمول نہیں ہے، یعنی ترکِ مراجعت صرف طلاق کی ایک ہی صورت نہیں ہے کہ آپ کیا کریں، آپ کیا کہیں تسریح باحسان کے کیا معنی ہیں؟ تیسری طلاق۔ اس کا کیا معنی ہے؟ نہیں، کہتے ہیں صرف تیسری طلاق نہیں، کیوں؟ كَيْفَ؟ کیسے ہو سکتا ہے؟ وَلَوْ كَانَ إِشَارَةً إِلَى الطَّلَّقَةِ الثَّالِثَةِ فَقَطْ، اگر یہ صرف تیسری طلاق کو اشارہ ہوتا، لَكَانَ الْمَعْنَى، تو معنی یہ ہو جائے گا کہ أَنَّ الْوَاجِبَ بَعْدَ الطَّلَّقَتَيْنِ، کہ دو طلاقوں کے بعد واجب جو ہے أَحَدُ الْأَمْرَيْنِ، دو کاموں میں سے ایک واجب ہے۔ دو طلاقوں کے بعد دو کاموں میں سے ایک واجب ہے: إِمَّا إِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ، أَيِ الْمُرَاجَعَةُ بِحُسْنِ الْمُعَاشَرَةِ، یا تو رجوع کرنا ہے، امساک بمعروف ہے، یعنی رجوع کرنا ہے حسنِ معاشرت کے ساتھ، أَوْ الطَّلَّقَةُ الثَّالِثَةُ، یا کیا کرو؟ یہ تیسری طلاق ہے، حالانکہ بالاجماع یہاں عورت کو ویسے ہی چھوڑ دے، رجوع نہ کرے، یہ بھی درست ہے۔ بھئی، آیت نے اگر آپ ادھر دیکھو، بھئی، ادھر توجہ کرو۔ آیت میں دو چیزیں ذکر ہو رہی ہیں۔ ایک کیا؟ امساک بمعروف، یعنی اچھے طریقے سے کیا کر لے؟ رجوع کر لے۔ دوسرا کیا ہے؟ تسریح باحسان کا معنی اگر صرف طلاق کے کرو گے تو دو صورتیں آ گئیں۔ کہ دو طلاقیں دینے کے بعد خاوند کے لیے واجب ہے، دو صورتوں میں ایک صورت اختیار کر لے۔ یا تو وہ کیا کر لے؟ رجوع کر لے یا وہ کیا کرے؟ تیسری طلاق دے دے۔ حالانکہ بالاجماع ایک تیسری صورت بھی ہے مولانا، وہ کیا؟ کہ رجوع نہ کرے، بھئی، یہ عورت عدت گزار کے خود بخود کیا ہو جائے گی؟ صورتیں کل کتنی بن گئیں؟ تین۔ دیکھو، ایک صورت یا تو خاوند رجوع کر لے۔ دوسری صورت رجوع نہ کرے، ویسے ہی چھوڑ دے۔ تیسری صورت ہے طلاق دے دے۔ تو کتنی صورتیں بنتی ہیں؟ تین صورتیں بنتی ہیں، بھئی، اور تینوں صورتیں جائز ہیں، لیکن اگر تسریح— تو لہٰذا تسریح باحسان کے میں دو صورتیں آ گئیں۔ تیسری طلاق بھی اس کے تحت آ گئی اور رجوع نہ کرنا، یہ بھی اسی کے اندر آ گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی، بھئی؟ یہ بھی اسی کے اندر آ گیا۔ اس لیے کہ اگر یہ تو معنی ورنہ یہ ہو گا کہ أَنَّ الْوَاجِبَ بَعْدَ الطَّلَّقَتَيْنِ أَحَدُ الْأَمْرَيْنِ إِمَّا إِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَيِ الْمُرَاجَعَةُ بِحُسْنِ الْمُعَاشَرَةِ أَوْ الطَّلَّقَةُ الثَّالِثَةُ، یا تیسری طلاق، صرف یہ دو چیز، دو چیزیں واجب ہیں، ان دو میں سے کوئی ایک واجب ہے، وَهَذَا بَاطِلٌ بِالْإِجْمَاعِ، اور یہ تو بالاجماع کیا ہے؟ باطل ہے، فَإِنَّ لِلْمَرْءِ، اس لیے کہ آدمی کے لیے جائز ہے أَنْ لَا يُرَاجِعَ، کہ وہ رجوع نہ کرے، وَلَا يُطَلِّقَ، اور طلاق بھی نہ دے، رجوع بھی نہ کرے اور طلاق بھی نہ دے، بَلْ لَا يَتَعَرَّضَ، بلکہ پیچھے نہ پڑے، حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا، یہاں تک کہ اس عورت کی عدت گزر جائے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں تسریح با احسان کے اندر یہ کیا ہے؟ حدیث سے کیا پتہ چلا؟ تیسری طلاق کون سی ہے؟ تسریح با احسان ہے۔ شاہ محشی نے بتلایا، معنی یہ ہے کہ یہ اس کے اندر داخل ہے۔ تیسری طلاق اس کے اندر داخل ہے، کیونکہ تسریح با احسان میں دو صورتیں آ جاتی ہیں۔ یا تو طلاق دے دے تیسری یا سرے سے رجوع ہی نہ کرے۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ جی؟ انہوں نے پوچھا کہ پھر حدیث کا کیا جواب ہے؟ تو یاد رکھیے کہ تمام علماء نے یہ تمام مفسرین نے اس کا معنی ترکِ مراجعت ذکر کیا ہے۔ البتہ ایک حدیث میں آ گیا کہ بھئی اس سے کیا مراد ہے؟ تیسری طلاق مراد ہے، تو اس کا جواب بھی حاشیے میں آ گیا، بھئی، کہ یہ تسریح با احسان کے اندر داخل ہے، بھئی۔ یعنی وہ ترکِ مراجعت اور تیسری طلاق دونوں کو کیا ہوا؟ شامل ہوا۔ تیسری طلاق، کیونکہ وہاں تین صورتیں بنتی ہیں، تین صورتیں بن جائیں گی، بھئی، کہ یا تو کیا کرے؟ رجوع کر لے یا ترکِ مراجعت کرے یا کیا کرے؟ تیسری طلاق دے دے۔ اور آیت کے اندر دو ذکر ہوئی ہیں، بھئی: إِمَّا إِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ، یہ تو کیا ہے؟ مراجعت ہے، بھئی، کہ رجوع کر لے۔ یا تسریح با احسان ہے، اس کے اندر دونوں صورتیں آ گئیں، بھئی، کہ یا کیا کرے؟ ترکِ مراجعت کرے، یعنی رجوع نہ کرے یا کیا کر دے؟ تیسری طلاق دے دے، بھئی۔ البتہ پہلا معنی علماء نے راجح لکھا ہے، بھئی۔ یہ ایک حدیث میں آیا تھا، اس کا بھی جواب ہو گیا، بھئی۔ یہ دوسرا معنی ایک حدیث میں آیا تھا، بھئی۔ اسی لیے تو میں نے یہ آپ کو حاشیہ پڑھوایا کہ بتلانا یہ تھا کہ دونوں معنی ہو سکتے ہیں کہ یہ تیسری طلاق بھی اسی کے اندر داخل ہے، یعنی کہ دونوں معنی ہو سکتے ہیں یہاں۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ ترکِ مراجعت بھی اس کا معنی اور تیسری طلاق بھی اس سے، دونوں اس کے اندر داخل ہو گئیں، بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی، بھئی؟ یہ جواب کے طور پر ہی تو میں نے حاشیہ پڑھوایا آپ کو۔ کہتے ہیں: هَذَا خُلَاصَةُ مَا قَالُوا، یہ خلاصہ ہے اس کا جو علماء نے فرمایا ہے، وَالْبَسْطُ فِي التَّفْسِيرِ الْأَحْمَدِيِّ، اور تفصیل جو ہے، کہتے ہیں تفسیرِ احمدی میں مذکور ہے، وہاں آپ دیکھ سکتے ہیں، بھئی۔ وَوَجَبَ مَهْرُ الْمِثْلِ بِنَفْسِ الْعَقْدِ فِي الْمُفَوَّضَةِ، اور واجب ہو گا مہرِ مثل نفسِ عقد ہی کے ذریعے مفوضہ کے اندر، بھئی۔ نفسِ عقد ہی کے ذریعے کیا واجب ہو جائے گا؟ مہرِ مثل واجب ہو جائے گا مفوضہ کے اندر، بھئی۔ کہتے ہیں: عَطْفٌ عَلَى قَوْلِهِ: صَحَّ إِيقَاعُ الطَّلَاقِ، یہ جو ماقبل میں ماتن کا قول آیا تھا: "صَحَّ إِيقَاعُ الطَّلَاقِ"، اسی پر یہ عطف ہے: وَوَجَبَ مَهْرُ الْمِثْلِ۔ اس پورے جملے کا عطف ماقبل والے جملے پر عطف ہے، بھئی۔ وَتَفْرِيعٌ عَلَى حُكْمِ الْخَاصِّ، اور یہ تفریع ہے خاص کے حکم پر، أَيْ وَلِأَجْلِ أَنَّ الْعَمَلَ بِالْخَاصِّ وَاجِبٌ وَلَا يَحْتَمِلُ الْبَيَانَ، اور اس وجہ سے کہ عمل خاص پر واجب ہے، کیونکہ آپ جانتے ہیں خاص کیا ہوتا ہے؟ اپنے مدلول کو قطعی طور پر شامل ہوتا ہے، تو اس پر عمل واجب ہے، وَلَا يَحْتَمِلُ الْبَيَانَ، اور وہ بیان کا احتمال نہیں رکھتا، وَجَبَ مَهْرُ الْمِثْلِ بِنَفْسِ الْعَقْدِ، مہرِ مثل واجب ہو جائے گا نفسِ عقد ہی کے ذریعے، مِنْ غَيْرِ تَأْخِيرٍ إِلَى الْوَطْءِ، وطی تک مؤخر کیے بغیر ہی، فِي الْمُفَوَّضَةِ، کس کے اندر؟ مفوضہ کے اندر، بھئی۔ مفوضہ، یاد رکھو، تفعیل باب سے ہے تفویض سے۔ تفویض کہتے ہیں نکاح کرنا، نکاح کرانا بغیر مہر کے، بھئی، بغیر مہر کے نکاح کرنا، بھئی۔ جی، خود بتلا رہے ہیں آگے کہ یہ مفوضہ پڑھیں گے یا مفوضہ، بھئی؟ ساری تشریح شارح خود کر دیتے ہیں، بھئی۔ کہتے ہیں: وَهُوَ، یہ جو مفوضہ صیغہ آیا، إِنْ كَانَ بِكَسْرِ الْوَاوِ، اگر یہ واؤ کے کسرے کے ساتھ ہو، یعنی کیا پڑھیں؟ مفوضہ پڑھیں، یعنی اپنے آپ کو سپرد کرنے والی، یعنی بغیر مہر کے اپنا نکاح کرنے والی، یوں ہو گیا۔ بغیر مہر کے اپنا— تو دیکھیے، خود بتلا رہے ہیں: فَالْمَعْنَى الَّتِي فَوَّضَتْ نَفْسَهَا بِلَا مَهْرٍ، تو معنی یہ ہو گا وہ عورت جس نے سپرد کر دیا اپنے نفس کو بغیر مہر کے۔ وَإِنْ كَانَ بِفَتْحِ الْوَاوِ، اور اگر واؤ کے فتحہ کے ساتھ ہو یہ صیغہ، تو مفوضہ ہو، یعنی فَالْمَعْنَى الَّتِي فَوَّضَهَا وَلِيُّهَا بِلَا مَهْرٍ، تو معنی ہو گا وہ عورت کہ سپرد کر دیا ہے اسے اس کے ولی نے بغیر مہر کے۔ پہلی صورت میں کیا تھی؟ وہ خود کیا کرنے والی ہے؟ اپنے نفس کو بغیر مہر کے، تو وہ مفوضہ ہوئی۔ اور دوسری صورت کیا کہ اس کے ولی نے کیا کیا ہے؟ اس کو بغیر مہر کے، تو وہ مفوضہ ہوئی، بھئی۔ وَهُوَ الْأَصَحُّ، بھئی، اور یہ زیادہ صحیح ہے، بھئی، یہ مفوضہ، کیوں؟ لِأَنَّ الْأُولَى لَا تَصْلُحُ مَحَلًّا لِلْخِلَافِ، اس لیے کہ جو پہلی ہے، یعنی مفوضہ، جو اپنے نفس کو بغیر مہر کے خود سپرد کرتی ہے، لَا تَصْلُحُ مَحَلًّا لِلْخِلَافِ، وہ محلِ خلاف ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ یعنی ہمارے اور امامِ شافعی کے درمیان، امامِ شافعی رحمہ اللہ کے درمیان وہ محلِ خلاف نہیں بن سکتی۔ کیوں نہیں بن سکتی؟ کہتے ہیں: إِذْ لَا يَصِحُّ نِكَاحُهَا عِنْدَ الشَّافِعِيِّ رحمہ اللہ، اس لیے کہ اس کا نکاح ہی صحیح نہیں ہے امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک۔ یاد رکھیے، امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک عورت خود اپنا نکاح نہیں کر سکتی بلکہ کون کرے گا اس کا نکاح؟ ولی اس کا نکاح کرے گا۔ تو مفوضہ ہوئی جس نے خود اپنے نفس کو بغیر مہر کے سپرد کیا، یعنی خود اپنا نکاح کروایا ہے، تو امامِ شافعی رحمہ اللہ تو اس نکاح کو تسلیم ہی نہیں کرتے۔ جب تسلیم ہی نہیں کرتے تو بات تو چل رہی ہے وجوبِ مہر اور عدمِ وجوبِ مہر کی، تو نکاح ہو گا تو وجوبِ مہر، عدمِ وجوبِ مہر کی ہم بات کریں گے۔ ہمارے نزدیک عقد ہوتے ہی مہر واجب ہو جاتا ہے، چاہے ذکر کرو، چاہے ذکر نہ کرو، نفسِ وجوب یعنی آ جاتا ہے۔ ہاں، وجوبِ ادا، ادائیگی کب واجب ہوتی ہے؟ صحبت یا موت کے وقت، بھئی۔ ادائیگی کب واجب ہے؟ صحبت کے وقت یا موت کے وقت، بھئی۔ تو ہمارے نزدیک نفسِ وجوب کب آتا ہے؟ عقد کرتے ہی۔ عقد کرتے ہی نفسِ وجوب آ گیا کس کا؟ مہر کا۔ نفسِ وجوب اور وجوبِ ادا کی بحث یاد ہے یا نہیں اصولِ شاشی کی، بھئی؟ ایک ہے نفسِ وجوب، ایک ہے وجوبِ— یعنی ادائیگی کا واجب، ادائیگی کا وجوب جو ہے، وہ کس وقت آئے گا؟ وطی یا موت کے وقت، اور نفسِ وجوب کس وقت آ جاتا ہے؟ عقد کرتے ہی۔ جبکہ امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، وجوب جو آئے گا مہر کا، وہ صحبت ہی کے وقت آئے گا، صرف نفسِ عقد سے وجوب نہیں آئے گا۔ ہم کہتے ہیں عقد کرنے سے ہی کیا آ جائے گا؟ نفسِ وجوب۔ وہ کیا کہتے ہیں؟ عقد سے وجوب نہیں آئے گا بلکہ کس وقت وجوب آئے گا؟ صحبت کے وقت آئے گا۔ لیکن یہ یاد رکھیے، یہ اختلاف اس عورت میں ہے جس کا مہر نکاح کے وقت مقرر نہیں کیا گیا یا مقرر نہ کرنے کی شرط لگائی گئی، بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اسی لیے مفو— کیونکہ مفوضہ کا مسئلہ ہے، بھئی، مفوضہ کا۔ ہاں، باقی جس کا نکاح کے وقت ذکر کیا گیا ہے تو اس کا ان کے نزدیک بھی وجوب کس وقت آ جائے گا؟ جس عورت کا مہر نکاح کے وقت ذکر کیا گیا ہے تو اس کا مہر اسی وقت واجب ہو جائے گا، بھئی۔ اچھا، تو اختلاف اس میں ہے کہ جب عقد کیا، جب نکاح ہو گیا تو وجوب مہر کا آیا یا وجوب کب آئے گا؟ صحبت کے وقت آئے گا؟ ہمارے نزدیک وجوب آ گیا، امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ابھی بھی وجوب نہیں آیا بلکہ صحبت کے وقت آئے گا۔ تو مہر آتا کس کے بعد ہے؟ نکاح کے بعد۔ لہٰذا جو عورت اپنا نکاح خود کرے، امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اس کا نکاح ہی نہیں ہوا، جب نکاح ہی نہیں ہوا تو مہر کی بات تو کس کے بعد کی جاتی ہے؟ نکاح کے بعد۔ مہر نکاح ہی جب نہیں ہوا تو مہر کہاں سے آئے گا؟ تو اس مسئلے میں یہ محلِ خلاف بن ہی نہیں سکتا، کیونکہ وہ اس نکاح کو ہی نہیں تسلیم کرتے۔ ہاں، اگر اس کے ولی نے اس کو سپرد کیا ہے تو پھر اس صورت میں ولی نے نکاح کروایا، نکاح ہو گیا۔ اب مہر کی بات آئی، ہمارے نزدیک عقد کرتے ہی کیا آ گیا؟ نفسِ مہر، مہر آ گیا۔ اور امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک صحبت، تو معلوم ہوا اس کو کیا پڑھنا صحیح ہے؟ مفوضہ پڑھنا صحیح ہے۔ لیکن محشی نے لکھا ہے، بھئی، کہ اکثر اصولیین کے نزدیک مفوضہ ہے، بھئی۔ اکثر اصولیین کے نزدیک کیا ہے؟ بھئی، مفوضہ کے بارے میں تو ابھی مصنف رحمہ اللہ نے بتلایا کہ اس کے— وہ تو محلِ خلاف بن ہی نہیں سکتا، اس کا تو نکاح ہی نہیں ہوا امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک۔ کہتے ہیں، بھئی، مفوضہ سے مراد وہ عورت ہے جو اپنے ولی کو کہے کہ میرا نکاح بغیر مہر کے کروا دو۔ مہر کو ذکر ہی نہ کرنا۔ یا شرط لگا دینا کہ مہر ہو گا ہی نہیں۔ سمجھ میں آئی بات، بھئی؟ مہر کو ذکر ہی نہ کرے یا باقاعدہ ذکر کرے، لیکن کیا ذکر کرے کہ مہر ہو گا ہی نہیں؟ تو یہ عورت جو حکم دینے والی ہے اپنے ولی کو کہ میرا نکاح کروا دو بغیر مہر کے، یہ مفوضہ ہے، بھئی۔ یہ کیا ہے؟ کیونکہ ولی کس کے کہنے پر نکاح کروا رہا ہے؟ تو یہ آمر ہوئی، تو گویا دراصل یہ کیا ہے؟ اپنے نفس کو بغیر مہر کے سپرد کر رہی ہے، بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی، بھئی؟ تو اس صورت میں بھی ولی کا ذکر آ گیا درمیان میں کہ اس نے کس کے ذریعے اپنا نکاح کروایا ہے؟ ولی کے ذریعے کروایا ہے، تو نکاح امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی صحیح ہوا، اور تو مفوضہ پڑھنا بھی معلوم ہوا صحیح، اور مفوضہ پڑھنا بھی صحیح، بھئی۔ ہاں، محلِ خلاف پھر اس میں مفوضہ کے اندر دو صورتیں بن گئیں۔ ایک وہ ہے جو خود کیا کرے؟ اپنا نکاح کروائے بغیر مہر کے، اور ایک وہ ہے جو اپنے ولی کے ذریعے نکاح کروائے، یہ دونوں مفوضہ ہیں، لیکن ان میں سے محلِ خلاف کون سا ہے؟ جو اپنے ولی کے ذریعے کروائے نکاح، بھئی۔ جو خود کرے، وہ محلِ خلاف ہی نہیں، کیونکہ اس کا تو نکاح ہی منعقد نہیں ہوا امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ وَتَحْقِيقُهُ، اور تحقیق اس کی یہ ہے کہ أَنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِي فَوَّضَهَا وَلِيُّهَا بِلَا مَهْرٍ، کہ وہ عورت جس کو جس کا نکاح کروا دیا یا سپرد کر دیا اس کے ولی نے بلا مہر، بغیر مہر کے، یعنی مہر کو ذکر ہی نہیں کیا۔ سرے سے نام ہی نہیں لیا مہر کا، أَوْ عَلَى، علی شرط کے لیے آتا ہے، یا اس شرط پر أَنْ لَا مَهْرَ لَهَا، کہ اس کا کوئی مہر یعنی ذکر کر دیا، مہر مہر نہیں ہو گا، بھئی، نکاح میں ذکر کر دیا، شرط لگا دی۔ لَا يَجِبُ الْمَهْرُ لَهَا عِنْدَ الشَّافِعِيِّ رحمہ اللہ تعالی، تو واجب نہیں ہو گا مہر اس عورت کے لیے امامِ شافعی رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک، إِلَّا بِالْوَطْءِ، مگر کس کے ذریعے؟ وطی کے ذریعے، اس وقت مہر واجب ہو گا۔ تو دیکھو، یہ ہے وہ اختلاف آیا، مولانا۔ امامِ شافعی رحمہ اللہ اس پر کیا فرما رہے ہیں؟ کہ مہر ذکر ہی نہیں کیا یا مہر کے نہ ہونے کی شرط لگائی تھی، تو مہر نہیں آئے گا نفسِ عقد سے بلکہ کس وقت آئے گا؟ صحبت کے وقت آئے گا۔ فَلَوْ مَاتَ أَحَدُهُمَا قَبْلَ الْوَطْءِ، اگر مر گئے ان دونوں میں سے کوئی ایک صحبت سے پہلے، لَا يَجِبُ الْمَهْرُ لَهَا عِنْدَ الشَّافِعِيِّ رحمہ اللہ، تو اس عورت کے لیے مہر واجب نہیں ہو گا امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک، بھئی۔ کیونکہ مہر نے کس وقت آنا تھا؟ وطی کے وقت، اور اس سے پہلے ہی کیا ہو گیا؟ ان دونوں میں سے کسی ایک کا انتقال ہو گیا، تو مہر ہے ہی نہیں، بھئی۔ وَعِنْدَنَا يَجِبُ كَمَالُ مَهْرِ الْمِثْلِ عِنْدَ الْعَقْدِ، وَعِنْدَنَا يَجِبُ كَمَالُ مَهْرِ الْمِثْلِ عِنْدَ الْعَقْدِ فِي الذِّمَّةِ، اور ہمارے نزدیک کامل مہرِ مثل واجب ہو جائے گا عقد کے وقت فی الذمہ، اس خاوند کے ذمہ میں واجب ہو جائے گا، عقد کے وقت ہی۔ وَيَجِبُ أَدَاؤُهُ عِنْدَ الْوَطْءِ وَالْمَوْتِ، اور اس کی ادائیگی جو ہو گی، وہ واجب ہو گی وطی اور موت کے وقت، بھئی، یعنی وجوبِ ادا اس وقت آئے گا۔ عَمَلًا بِقَوْلِهِ تَعَالَى، اللہ تعالی کے اس قول پر عمل کرتے ہوئے: وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ، اور حلال کر دیا گیا ہے تمہارے لیے ما وراء ذلكم، ان محرمات کے علاوہ عورتوں کو۔ ذلكم کے ذریعے کس کی طرف اشارہ ہے؟ محرمات، وہ عورتیں جن کے ساتھ نکاح حرام ہے، ان کے ذکر کے بعد اللہ تعالی کیا فرماتے ہیں؟ اور حلال کر دیا گیا ہے اے تمہارے لیے، اے مسلمانوں! تمہارے لیے حلال کر دیے گئے ہیں ما وراء ذلكم، اس کے علاوہ عورتوں کو، أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ، تاکہ تم طلب کرو ان کو اپنے، ان کو طلب کرو اپنے مالوں کے بدلے، مالوں کے بدلے، مالوں کے ذریعے کیا کرو؟ جی، تاکہ تم طلب کرو ان کو اپنے مالوں کے ساتھ۔ اب دیکھئیے بھئی، بتلا رہے ہیں، یہ اُحِلَّ لَکُم کی ترکیب بتلا رہے ہیں۔ کہتے ہیں: فَقَوْلُهُ أَنْ تَبْتَغُوا بَدَلٌ مِنْ وَرَاءِ أ… مِنْ وَرَاءِ ذٰلِکُمْ۔ یہ أَنْ تَبْتَغُوا بدل ہے کس سے؟ وَرَاءِ ذٰلِکُمْ سے۔ اچھا، وَمَفْعُولٌ لَهُ بِتَقْدِیرِ… أَوْ مَفْعُولٌ لَهُ بِتَقْدِیرِ اللَّامِ، یا یہ کیا ہے؟ مفعول لہُ ہے تقدیرِ لام کے ساتھ۔ دیکھئیے لام خود عبارت میں نکال کر بتلائیں گے کہ یہ جو "أن" ہے، اس سے پہلے لام مقدر ہے۔ أَيْ أُحِلَّ لَکُمْ مَا وَرَاءَ الْمُحَرَّمَاتِ لِأَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِکُمْ، بھئی دیکھا؟ "أن" سے پہلے کیا مقدر نکال لیا؟ لام۔ تو دو ترکیبیں ذکر کر دیں۔ ایک ترکیب کے مطابق کیا کیا؟ أَنْ تَبْتَغُوا کو بدل بنایا کس سے؟ تو یہ مَا وَرَاءَ ذٰلِکُمْ سے یہ بدل ہے مولانا۔ اور بدل کا ترجمہ "یعنی" کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ تو دیکھو اوپر پھر اسی آیت کے دیکھو: اور حلال کر دیا گیا تمہارے لیے مَا وَرَاءَ ذٰلِکُمْ، ان محرمات کے علاوہ عورتوں کو تمہارے لیے کیا کر دیا گیا ہے؟ حلال کر دیا گیا ہے، یعنی یہ کہ تم طلب کرو ان کو اپنے مالوں کے ساتھ۔ یعنی انہیں کیا کرو تم اپنے مالوں کے ساتھ؟ اچھا، اور آپ نے قانون پڑھا ہے کہ بدل جو ہوتا ہے وہ تکرارِ عامل کے درجے میں ہوتا ہے۔ کس کے درجے میں ہوتا ہے؟ تکرارِ عامل کے، گویا کہ اس معمول پر عامل دوبارہ داخل ہو رہا ہے۔ تو یہاں مَا وَرَاءَ ذٰلِکُمْ کے اندر عامل کون ہے؟ اُحِلَّ، کون ہے؟ اُحِلَّ۔ تو ایک اور اُحِلَّ، أَنْ تَبْتَغُوا کے لیے نکالنا پڑے گا۔ تو یوں ہوئی بھئی گویا تقدیرِ عبارت: وَأُحِلَّ لَکُمْ مَا وَرَاءَ ذٰلِکُمْ اُحِلَّ لَکُمْ أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِکُمْ۔ تمہارے لیے حلال کر دیا گیا ہے ان محرمات کے علاوہ عورتوں کو، یعنی تمہارے لیے حلال کر دیا گیا ہے کہ تم کیا کرو؟ ان کو طلب کرو کس کے ساتھ؟ اپنے مالوں کے ساتھ۔ دوسری ترکیب کیا بتلائی بھئی؟ کہ مفعول لہُ ہے، کس کے ساتھ؟ تقدیرِ لام کے ساتھ، یعنی لام مقدر ہے بھئی۔ بھئی "أن" اور "أنّ" سے اکثر اوقات لام کو کیا کر لیا جاتا ہے؟ حذف کر لیا جاتا ہے۔ تو یہاں بھی کہتے ہیں، یہاں تقدیراً لام ہے، یہ مفعول لہُ بنے گا دوسری ترکیب کے مطابق۔ اور مفعول لہُ آپ جانتے ہیں بھئی، جو ماقبل فعل کی علت بیان کرتا ہے۔ ضَرَبْتُهُ تَأْدِیْبًا، میں نے اس کی پٹائی کی، کیا مقصد تھا پٹائی کرنے کا؟ ادب سکھانا، تو اس نے علت بیان کر دی فعل کی، تو یہاں پر بھی یہ کیا بنے گا؟ مفعول لہُ بھئی۔ تو یہ صاحبِ قافیہ کے مذہب کے مطابق مفعول لہُ ہے بھئی، اس لیے کہ باقیوں کے نزدیک، جمہور کے نزدیک مفعول لہُ منصوب ہی ہوا کرتا ہے، اس میں لام کبھی بھی نہیں آتا بھئی۔ لام آ جائے تو وہ جار مجرور کہلائے گا بھئی، وہ مفعول لہُ اصطلاح میں نہیں کہلاتا، لیکن صاحبِ قافیہ فرماتے ہیں کہ نہیں، یہ بھی کیا ہے؟ مفعول لہُ ہے بھئی۔ تو کیا ہوا ترجمہ؟ مفعول لہُ علت بیان کرتا ہے۔ اب وہ ترجمہ اب نیچے انہوں نے تقدیرِ لام کے ساتھ عبارت درج کی بھئی، کہتے ہیں: أَيْ أُحِلَّ لَکُمْ مَا وَرَاءَ الْمُحَرَّمَاتِ، ذٰلِکُمْ کے ذریعے کس طرف اشارہ ہے؟ محرمات کی طرف۔ اور حلال کر دی گئی ہیں تمہارے لیے جو ان محرمات کے علاوہ عورتیں ہیں۔ لِأَنْ تَبْتَغُوا، تاکہ تم طلب کرو انہیں اپنے مالوں کے ساتھ، تاکہ تم انہیں اپنے مالوں کے ساتھ طلب کرو۔ فَالْبَاءُ لَفْظٌ خَاصٌّ وُضِعَ لِمَعْنًی مَعْلُومٍ، تو باء یہاں ایک لفظ خاص… باء یہاں لفظ خاص ہے، جس کو وضع کیا گیا ہے ایک معلوم معنی کے لیے، وَهُوَ الْإِلْصَاقُ، اور وہ کیا ہے؟ الصاق ہے۔ الصاق ہے۔ الصاق کا معنی ہے ملانا، جوڑنا۔ ملانا اور جوڑنا۔ تو باء کا معنی ہوا جوڑنا اور ملانا، یعنی وہ ابتغائے… ابتغاءُ النساء سمجھ میں آیا، کس کے ساتھ ملا ہونا چاہیے؟ مال کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ مال کے ساتھ بھئی، دیکھئیے خود آگے تشریح کریں گے۔ وَقِیلَ، تو اس باء پر بھئی، بعضوں نے کیا… علماء نے کیا فرمایا کہ لفظِ باء یہاں پر خاص ہے اور وہ ایک معلوم معنی کے لیے وضع ہے، اور وہ معنی کیا ہے؟ الصاق۔ وَقِیلَ، اور کہا گیا ہے کہ فَالِابْتِغَاءُ لَفْظٌ خَاصٌّ وُضِعَ لِمَعْنًی مَعْلُومٍ، کہ ابتغاء وہ لفظِ خاص ہے جس کو وضع کیا گیا ہے ایک معلوم معنی کے لیے، وَهُوَ الطَّلَبُ، اور وہ کیا ہے؟ طلب ہے، طلب ہے۔ وَعَلٰی کُلِّ تَقْدِیرٍ، اور ہر تقدیر پر، یُوجِبُ، یہ کلام واجب کرتا ہے، أَنْ یَکُونَ ابْتِغَاءُ الْبُضْعِ مُلْتَصِقًا بِالْمَهْرِ ذِکْرًا، کہ یہ جو ابتغائے بضعہ ہے، بضعہ کہتے ہیں فرج المرأة کو بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو ابتغائے بضعہ یعنی مراد نکاح ہے۔ ابتغائے بضعہ مراد کیا ہے؟ نکاح ہے بھئی۔ تو ہر تقدیر پر یہ کلام واجب کرتا ہے کہ ابتغائے بضعہ اس کو ملایا گیا ہو بالمہر، کس کے ساتھ؟ مہر کے ساتھ، ذکراً، بااعتبار ذکر کے، یعنی نکاح میں کیا ہونا چاہیے مہر کو؟ ذکر ہونا چاہیے، تو عقد کے ساتھ مل گیا مہر بھئی، ذکر کے اعتبار سے، لفظوں میں ہی آ گیا۔ فَإِنْ لَمْ یُذْکَرْ فِی اللَّفْظِ، اور اگر مہر کو لفظوں میں ذکر نہ کیا جائے، فَلَا أَقَلَّ مِنْ أَنْ یَکُونَ مُلْتَصِقًا فِی الْوُجُوبِ عَلَی الذِّمَّةِ، تو اس سے کم تو نہیں ہونا چاہیے کہ وہ ابتغائے بضعہ ملایا گیا ہو فِي الْوُجُوبِ عَلَی الذِّمَّةِ، کس چیز کے ساتھ ملایا گیا ہو؟ الوجوب سے مراد ہے وجوبِ مہر، کہ وہ ابتغاء ملایا گیا ہو وجوبِ مہر علی الذمہ کے ساتھ۔ کس کے ساتھ؟ بائی اگر ذکر میں بھئی اتنا تو پتہ لگ گیا کہ باء یہ الصاق کے لیے ہے، کہ ابتغائےنساء یا ابتغائے بضعہ، اس کو کس کے ساتھ ملا ہونا چاہیے؟ مہر کے ساتھ، یا تو لفظوں میں ہی ملنا چاہیے، اس کے نکاح کے ساتھ ہی، اس وقت ہی کس کو ذکر کیا جائے؟ مہر کو ذکر کیا جائے۔ اگر ذکر نہیں کیا، پھر بھی کیا ہونا چاہیے؟ مہر کو اس کے ابتغائے بضعہ کے ساتھ پھر بھی… اور وہ پھر کس طرح ہوگا ملا ہوا؟ لفظوں میں تو نہیں ہے، تو کم از کم اس کا وجوب تو آنا چاہیے۔ تو اب ہم کہیں گے کیا ہوا ہے؟ ابتغائے بضعہ کے ساتھ کیا مل گیا؟ وجوبِ مہر علی الذمہ، یعنی… تو اس سے کم تو نہیں ہونا چاہیے کہ وہ جو ابتغائے بضعہ ہے وہ ملایا گیا ہو فی الوجوب، کس کے اندر؟ وجوبِ مہر کے اندر علی الذمہ، اس خاوند کے ذمہ بھئی، اس خاوند کے ذمہ پر کیا ہونا چاہیے وجوبِ مہر؟ ہونا چاہیے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو معلوم ہوا کہ مفوضہ یا مفوضہ کے اندر مہرِ مثل واجب ہوگا، لیکن کس وقت واجب ہوگا؟ عقد ہی کے وقت واجب ہو جائے گا، کیونکہ لفظِ باء نے دلالت کر دی، باء نے کیا بتلایا؟ الصاق ضروری ہے، ملانا ضروری ہے، لفظوں میں ذکر نہیں کیا تو اب کیا کس طریقے سے الصاق کر دو؟ وجوب کا کے قائل ہو کہ یہاں پر کیا آ چکا ہے؟ وجوبِ مہر آ چکا ہے عقد کے ساتھ ہی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وَلٰکِنْ بِشَرْطِ، یہ ایک اعتراض کا جواب ہے بھئی۔ اعتراض یہ کہ بھئی ایک نکاحِ صحیح ہے، ایک نکاحِ فاسد ہے۔ نکاحِ فاسد مثلاً بھئی بغیر گواہوں ہی کے نکاح کر لیا، سمجھ میں آیا بھئی؟ یا کسی اور کو… کوئی عورت ابھی عدت گزار رہی تھی، اسی عدت میں اس نے کیا کر لیا؟ نکاح کر لیا بھئی، تو یہ نکاحِ فاسد ہے۔ تو نکاحِ فاسد کے اندر یاد رکھو بالاجماع جو مہر آتا ہے، وہ صحبت کے وقت آتا ہے، نفسِ عقد سے نہیں آتا بھئی۔ نفسِ عقد سے مہر واجب نہیں ہوتا بلکہ مہر کس وقت واجب ہوگا؟ صحبت سے۔ تو اعتراض ہوتا ہے بھئی کہ بھئی قرآن میں کیا آیا ہے کہ ابتغائے… ابتغائے بضعہ کس کے ساتھ ملا ہونا چاہیے؟ اموال کے ساتھ ملا ہوا ہونا چاہیے، ابتغائے بضعہ کس کے ساتھ ملا ہونا چاہیے؟ اموال کے ساتھ، یعنی مہر کے ساتھ ملا ہونا چاہیے۔ تو جو نکاحِ فاسد ہے، یہ بھی ابتغائے بضعہ ہے، لیکن یہاں پر آپ کس بات کے قائل ہیں؟ کہ نفسِ عقد سے وجوبِ مہر نہیں آیا بلکہ مہر کب واجب ہوگا جب صحبت کر لے گا۔ تو شارح بتلا رہے ہیں بھئی کہ ابتغاء سے مراد ابتغائے صحیح ہے بھئی، ابتغائے فاسد اس سے مراد نہیں ہے بھئی، تو ابتغائے صحیح کے اندر عقد ہی کے وقت کیا آ جائے گا؟ مہر واجب ہو جائے گا۔ وَلٰکِنْ بِشَرْطِ أَنْ یَکُونَ الِابْتِغَاءُ صَحِیحًا، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ وہ ابتغاء صحیح ہونا چاہیے، حَتّٰی لَوْ کَانَ بِالنِّکَاحِ الْفَاسِدِ، یہاں تک کہ اگر وہ ابتغاء نکاحِ فاسد کے ذریعے ہوا، یَجِبُ التَّرَاخِی إِلَی الْوَطْءِ بِالْإِجْمَاعِ، تو واجب ہے دور کرنا اس کو وطء تک بالاجماع بھئی۔ تراخی کا معنی دوری پیدا… دور کرنا، دو چیزوں کا ایک دوسرے سے دور ہونا بھئی، مراد مؤخر کرنا ہے۔ تو واجب ہے مؤخر کرنا اس کو وطء تک بالاجماع بھئی، کیونکہ وہ ابتغائے… ابتغائے صحیح ہی نہیں ہے اور بات کس کی چل رہی ہے؟ ابتغائے صحیح کی۔ وَکَذَا لَوْ کَانَ، یہ بھی ایک اعتراض کا جواب بھئی، سوال کا جواب۔ سوال یہ کہ بھئی ابتغاء تو مطلقاً آیا، ابتغاء تو مطلقاً آیا اور یہ تو حرام ابتغاء کو بھی شامل ہوا۔ ابتغاء کی جو حرام صورت ہے اس کو بھی شامل ہوا، مثلاً زنا ہے، وہ بھی کیا ہے؟ ابتغائے بضعہ۔ متعہ ہے مولانا، متعہ جانتے ہو کہ نہیں جانتے بھئی؟ کہ کچھ مدت کے لیے کسی عورت سے کیا کیا جائے؟ نکاح کیا جائے، اس میں گواہ بھی ہونے ضروری نہیں، بس وہ کیا کہتا ہے وہ شخص عورت سے کہ أَتَمَتَّعُ بِکِ، کہ میں تجھ سے کیا کروں گا؟ نفع اٹھاؤں گا اتنی مدت تک، اتنے مال کے بدلے، یہ متعہ ہے مولانا متعہ، اور یہ بھی حرام ہے، یہ زنا ہی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اب کوئی زنا ہے، زنا اور متعہ، یہ بھی ابتغائے بضعہ ہے، ابتغائے بضعہ ہے، لیکن یہ تو ملتصق بالمال نہیں ہے بھئی۔ تو جواب دے رہے ہیں بتلا رہے ہیں بھئی کہ یہ تو… یہ ابتغاء سے مراد ابتغاء بطریقِ نکاح مراد ہے، یعنی حلال ابتغاء مراد ہے، حرام ابتغاء مراد ہی نہیں ہے بھئی، وہ درست ہی نہیں ہے، اس میں تو سرے سے مال آئے گا ہی نہیں بھئی۔ کہتے ہیں: وَکَذَا لَوْ کَانَ هٰذَا الِابْتِغَاءُ لَا بِطَرِیقِ النِّکَاحِ، اور اسی طرح اگر یہ ابتغاء… ابتغاء جو ہے نکاح کے طریقے پر نہ ہوا، بَلْ بِطَرِیقِ الْإِجَارَةِ أَوِ الْمُتْعَةِ أَوْ بِطَرِیقِ الزِّنَا، بلکہ اجارہ کے طریقے پر ہوا، یعنی اجرت پر ہوا، أَوِ الْمُتْعَةِ، یا متعہ کے طریقے پر ہوا، أَوْ بِطَرِیقِ الزِّنَا، یا کس طریقے پر؟ زنا کے طریقے پر، فَلَا یَحِلُّ ذٰلِکَ الْفِعْلُ، تو یہ فعل تو حلال ہی نہیں ہے، وَلَا یَجِبُ الْمَالُ أَصْلًا، اور یہاں پر مال سرے سے واجب ہی نہیں ہوگا، وَإِلَیْهِ یُشِیرُ، اور اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ کا یہ قول بھئی، وَإِلَیْهِ یُشِیرُ قَوْلُهُ تَعَالٰی، اسی کی طرف اللہ کا یہ قول اشارہ کرتا ہے: مُحْصِنِینَ غَیْرَ مُسَافِحِینَ۔ اس حال میں کہ… بھئی آیت کس طرح تھی بھئی؟ وَأُحِلَّ لَکُمْ مَا وَرَاءَ ذٰلِکُمْ أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِکُمْ مُحْصِنِینَ غَیْرَ مُسَافِحِینَ۔ جی، اس حال میں کہ تم عفت چاہن… چاہنے والے ہو بھئی، یعنی حرام فعل سے اپنے آپ کو بچانے والے ہو۔ احصان کہتے ہیں پاک دامنی کو، احصان کسے کہتے ہیں؟ پاک دامنی کو، یعنی اس حال میں کہ تم پاک دامن ہو بھئی، یعنی حرام سے اپنے آپ کو بچانے والے ہو۔ تو مُحْصِنِینَ کہہ کر… مُحْصِنِینَ کہہ کر نکاحِ فاسد سے احتراز ہوا بھئی، مُحْصِنِینَ کی قید سے کیا ہوا؟ اس سے نکاحِ فاسد نکل گیا، اس لیے کہ وہ تو کیا ہے؟ حرام ہے، جائز نہیں ہے۔ غَیْرَ مُسَافِحِینَ، اس حال میں کہ تم زنا کا… بدکار نہ ہو، زنا کرنے والے نہ ہو بھئی۔ تو اس کے لیے زنا، اجارہ، متعہ کو کیا کر دیا گیا؟ خارج، کہ تم… کہ تم طلا… کیا؟ آیت کس طرح تھی؟ اور حلال دوبارہ دیکھو آیت، اور حلال کر دیا گیا تمہارے لیے ان محرمات کے علاوہ عورتوں کو، تاکہ تم ان کو طلب کرو اپنے مالوں کے بدلے اس حال میں کہ تم کیا ہو؟ پاک دامن ہو، یعنی انہیں بیویاں بنا کر رکھنے والے ہو، غَیْرَ مُسَافِحِینَ، بدکاری کرنے والے نہ ہو بھئی۔ تو اس غَیْرَ مُسَافِحِینَ کی قید کے ذریعے کس کو نکال دیا؟ زنا، اجارہ، متعہ وغیرہ کو۔ وَفِی هٰذَا الْمَقَامِ إِعْتِرَاضَاتٌ دَقِیقَةٌ، اور اس مقام پر کئی باریک اعتراضات، یا یوں کہو گہرے، کئی گہرے اعتراضات ہیں۔ بَیَّنْتُهَا فِی حَاشِیَةِ التَّفْسِیرِ الْأَحْمَدِیِّ، بیان کیا ہے ان کو میں نے تفسیرِ احمدی کے حاشیے میں۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ بھئی خلاصۂ بحث یہ ہوا کہ وہ عورت جس کا نکاح اس کے ولی نے کیا ہے بغیر مہر ذکر کیے، یا یہ شرط لگائی تھی کہ مہر ہوگا ہی نہیں، ولی نے چاہے خود کیا یا اس عورت کے حکم پر ایسا کیا، یہ کیا ہوئی؟ مفوضہ یا مفوضہ۔ اس کے اندر مہرِ مثل آیا کرتا ہے، تو یہ مہرِ مثل کب آئے گا؟ ہمارے نزدیک یہ مہرِ مثل عقد کرتے ہی آ جائے گا، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ… مہرِ مثل کب آئے گا؟ صحبت کے وقت آئے گا بھئی، صحبت کے وقت، اور ہماری دلیل کیا ہے؟ ہماری دلیل جو ہے یہ باء ہے مولانا باء، کہ جو اللہ تعالیٰ کیا فرماتے ہیں قرآن میں؟ وَأُحِلَّ لَکُمْ مَا وَرَاءَ ذٰلِکُمْ، اور تمہارے لیے حلال کر دیا گیا ان محرمات کے علاوہ عورتوں کو، لِأَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِکُمْ، تاکہ ان کو تم طلب کرو اپنے مالوں کے ساتھ طلب کرو۔ تو یہاں پر باء آئی بھئی، اور باء کیا بتلایا کس لیے آیا کرتی ہے؟ اس کا معنی کیا ہے؟ الصاق ہے، ملانا اور جوڑنا، معلوم ہوا ابتغائے بضعہ کو ملایا گیا ہو کس کے ساتھ؟ مال یعنی مہر کے ساتھ، تو کم از کم لفظوں… لفظوں میں اس کو ذکر ہونا چاہیے، اور اگر لفظوں میں ذکر نہیں ہے تو کم از کم کیا ہونا چاہیے؟ وجوب کے اعتبار سے مہر کو ابتغاء کے ساتھ ملا دینا چاہیے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ہوا کہ یہ… نفسِ عقد سے ہی کیا آ جائے گا؟ وجوب آ جائے گا مہرِ مثل کا بھئی۔ اور پھر بتلایا کہ یہ ابتغاء صحیح طریقے پر ہونا چاہیے، لہٰذا نکاحِ فاسد کیا ہے؟ خارج ہو جائے گا، اور نیز یہ بھی بتلایا کہ ابتغاء سے مراد کیا ہے؟ وہ ابتغاء جو نکاح کے طریقے پر ہو، لہٰذا جو غیرِ نکاح کے طریقے پر ہے وہ بھی کیا ہوا اس سے؟ خارج، اور اسی کی طرف کہتے ہیں اللہ کا یہ قول اشارہ کر رہا ہے بھئی، مُحْصِنِینَ غَیْرَ مُسَافِحِینَ۔ چلئیے بس مولانا، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِیقَةِ الْکَلَامِ۔