Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-014

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 05 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 13
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
سبق نمبر۔14 ثم إن المصنف ذكر هاهنا من تفريعات الخاص على مذهبه سبع تفريعات، أربع منها ما تم الآن، وثلاث منها ما سيجيء، وأورد بين هذه الأربعة والثلاثة باعتراضين للشافعي رحمه الله تعالى علينا مع جوابيهما على سبيل الجمل المعترضة، فقال: ومحللية الزوج الثاني. ومحللية الزوج الثاني بحديث العسيلة لا بقوله: حتى تنكح زوجاً غيره. جي. کہتے ہیں: ثم إن المصنف ذكر هاهنا من تفريعات الخاص على مذهبه. پھر مصنف نے یہاں پر ذکر کی ہیں خاص کی تفریعات میں سے اپنے مذہب پر، یعنی اپنے مذہب کے مطابق سبع تفريعات، کتنی تفریعات؟ سات بھئی۔ میں پہلے بیان کر چکا ہوں، سات تفریعات کریں گے اس قانون پر بھئی۔ أربع منها ما تم الآن، چار ان میں سے وہ ہیں جو مکمل ہوئیں ابھی بھئی۔ وثلاث منها ما سيجيء، اور تین آئیں گی ابھی۔ چار تفریعات گزر چکی ہیں اور تین آگے آئیں گی۔ وأورد بين هذه الأربعة والثلاثة باعتراضين للشافعي رحمه الله تعالى علينا، اور لے کر آئے ہیں ان چار اور تین کے درمیان امام شافعی رحمہ اللہ کے دو اعتراضات جو ہمارے اوپر ہیں، مع جوابيهما، ساتھ ان دونوں کے جواب کے، على سبيل الجمل المعترضة، جملہ معترضہ کے طریقے پر بھئی۔ جملہ معترضہ اسے کہتے ہیں بھئی جو کلام کے درمیان کوئی ایسا جملہ آ جائے جس کا ماقبل اور مابعد سے کوئی ربط نہ ہو، اسے کیا کہتے ہیں؟ جملہ معترضہ کہتے ہیں۔ مثلاً کلام کے اندر بعض جگہ عبارت میں آ گیا بھئی بزرگ کا نام آیا، اس کے ساتھ "رحمه الله" ہوتا ہے، تو یہ کیا ہے درمیان میں؟ ایک دعا ہے، جملہ معترضہ ہے بھئی۔ تو چار تفریعات گزر گئیں، تین آگے آئیں گی، درمیان میں یہ دو امام شافعی رحمہ اللہ کے دو اعتراضات جو ہم پر انہوں نے کیے ہیں وہ اور ان کے جواب ذکر کریں گے جملہ معترضہ کے طور پر۔ فقال، تو ماتن فرماتے ہیں بھئی: ومحللية الزوج الثاني بحديث العسيلة، زوج ثانی کا محلل ہونا، میں نے بتایا تھا صفت کے صیغوں کے ساتھ کبھی کبھار یاءِ مشدد اور تاء ملا دیتے ہیں اسے مصدر بنانے کے لیے، تو محلل کا کیا معنیٰ؟ حلال کرنے والا، اور محللیت، محلل ہونا، حلال کرنے والا ہونا۔ ومحللية الزوج الثاني، اور زوج ثانی کا محلل ہونا بحديث العسيلة، وہ حدیث عسيلہ کے ذریعے ہے، لا بقوله: حتى تنكح زوجاً غيره، نہ کہ اللہ کے اس قول کے ذریعے: حتى تنكح زوجاً غيره، یہاں تک کہ وہ نکاح کر لے کسی اور خاوند سے بھئی۔ کہتے ہیں: وهو جواب سؤال مقدر يرد علينا من جانب الشافعي رحمه الله، یہ ایک سوالِ مقدر کا جواب ہے جو ہم پر وارد ہوتا ہے امام شافعی رحمہ اللہ کی جانب سے، وتفرير السؤال لا بد فيه من تمهيد مقدمة، اور سوال کی تقریر سے پہلے ضروری ہے ایک مقدمہ کی تمہید بھئی، ایک مقدمہ کو بطورِ تمہید کے ذکر کرنا ضروری ہے بھئی۔ اچھا بھئی، بھئی دیکھیے، مسئلہ یہ ہے کہ کوئی شخص اگر اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے، تو بیوی اس شخص پر حرام ہو جاتی ہے حرمتِ مغلظہ کے ساتھ بھئی۔ اب وہ دوبارہ اس شخص کے ساتھ نکاح نہیں کر سکتی جب تک کہ کسی اور شخص سے نکاح نہ کرے اور وہ شخص پھر اس کے ساتھ صحبت کرے اور اس کے بعد اس کو طلاق دے، تو پھر اب وہ کیا کر سکتی ہے؟ پہلے خاوند کے لیے پہلے خاوند اس سے نکاح کر سکتا ہے بھئی، پہلے خاوند بھئی۔ اب پہلے نے تین طلاقیں دی تھیں، پھر اس نے کسی اور سے، پھر عدت اس نے گزاری، کسی دوسرے سے نکاح کیا، اس نے بھی پھر بھئی بعد میں طلاق دی، پھر اس نے عدت گزاری، اور پہلے شوہر کے ساتھ اس نے نکاح کر لیا، تو بالاتفاق پہلا شوہر تین طلاقوں کا مالک ہو جاتا ہے بھئی۔ پھر کتنی طلاقوں کا مالک ہوا؟ تین طلاقوں کا مالک ہوا بھئی۔ یہ کس صورت میں؟ جب پہلی مرتبہ پہلے نے کتنی طلاقیں دی تھیں؟ تین طلاقیں۔ سمجھ میں آیا؟ تو تین طلاقوں کے بعد اس کے لیے حلال نہیں ہے، کیونکہ قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں؟ حتى تنكح زوجاً غيره، یہاں تک کہ وہ کسی اور خاوند سے نکاح کر لے۔ اب اس میں تو اتفاق ہے ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا، لیکن اگر پہلے خاوند نے ایک یا دو طلاقیں دی تھیں اور پھر اس نے عدت گزار کر کسی اور شخص سے نکاح کر لیا اور اس نے صحبت کی اور پھر طلاق دے دی اور بعد میں اس نے پھر پہلے خاوند سے نکاح کیا، تو یاد رکھیے ہمارے نزدیک وہ خاوند پھر تین طلاقوں کا مالک ہو جائے گا، نئی حلت آ جائے گی بھئی۔ بھئی پہلے وہ دو دے چکا ہے، اب باقی تو ایک ہے، لیکن ہم کہتے ہیں نہیں، اب نئی حلت آ گئی اور نئی حلت میں کتنی طلاقیں آیا کرتی ہیں؟ تین آتی ہیں، لہٰذا خاوند پھر تین طلاقوں کا مالک ہو گیا بھئی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، اب تین طلاقیں نہیں آئیں گی، جتنی ما بقیہ ہیں وہ حاصل ہوں گی اس پہلے شوہر کو۔ اس نے پہلی مرتبہ میں اگر ایک طلاق دی تھی تو باقی دو ہیں، لہٰذا اب اس کے ساتھ نکاح کیا تو یہ کتنی طلاقوں کا مالک ہے؟ صرف دو کا، اور اگر اس نے پہلے دو دی تھیں تو اب نکاح کیا تو اب یہ صرف کتنی طلاقوں کا مالک ہے؟ ایک طلاق کا بھئی، ایک طلاق کا۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ دیکھیے اب یہی بیان کریں گے مقدمے میں۔ وهي، اور وہ مقدمہ یہ ہے کہ: أن الزوج إن طلق امرأته ثلاثاً، کہ خاوند اگر طلاق دے دے اپنی بیوی کو تین طلاقیں، ونكحت زوجاً آخر، اور وہ عورت نکاح کر لے دوسرے خاوند سے، یعنی عدت گزار کر، ثم طلقها الزوج الثاني، پھر اسے زوجِ ثانی کیا کرے؟ طلاق دے دے، یعنی صحبت کے بعد طلاق دے، ونكحها الزوج الأول، اور پھر اس سے زوجِ اول نکاح کر لے، يملك الزوج الأول مرة أخرى، تو مالک ہو جائے گا پہلا خاوند دوسری مرتبہ، ثلاث تطليقات مستقلة، تین مستقل طلاقوں کا، بالاتفاق، بالاتفاق بھئی، یہ جب پہلی صورت میں خاوند نے تین دی تھیں تو بالاتفاق اب پھر تین کا مالک ہوا۔ وإن طلق امرأته ما دون الثلاث، اور اگر اس نے طلاق دی اپنی بیوی کو تین سے کم، من واحدة أو اثنتين، یہ بیان ہے "ما" کا، "ما دون الثلاث" میں "ما" جو آیا بھئی، اس کا کیا ہے؟ بیان۔ اگر اس خاوند نے طلاق دی اپنی بیوی کو ما دون الثلاث، وہ جو کہ تین سے کم ہیں، بھئی وہ کیا ہیں تین سے کم؟ من واحدة أو اثنتين، یعنی کہ ایک یا دو، اس کا ترجمہ "یعنی کہ" کے ساتھ کرتے ہیں، یعنی کہ ایک یا دو، ونكحت زوجاً آخر، اور پھر اس عورت نے نکاح کر لیا دوسرے خاوند سے، ثم طلقها الزوج الثاني، پھر طلاق دے دی اس عورت کو اس کے دوسرے خاوند نے، ونكحها الزوج الأول، اور پھر نکاح اس سے کس نے کر لیا؟ پہلے خاوند نے، فعند محمد والشافعي رحمهما الله تعالى، تو امام محمد اور امام شافعی رحمہما اللہ کے نزدیک، يملك الزوج الأول حينئذ ما بقي، اس صورت میں خاوند مالک ہوگا اس وقت ما بقي، وہ جو کہ باقی ہے، یعنی وہ طلاقیں جو کہ باقی ہیں، پھر من بیانیہ، بھئی کتنی، کیا معنیٰ؟ کہتے ہیں: من الاثنتين أو واحدة، یعنی دو یا ایک۔ اگر پہلے ایک طلاق دی تھی تو اب کتنے کا مالک ہے؟ ما بقي دو کا، اور اگر پہلے دو دی تھیں تو اب ما بقي ایک کا۔ یعنی، تشریح بھی کر رہے ہیں، یعنی: إن طلقها سابقاً واحدة، اگر پہلے ایک طلاق دی تھی، فيملك الآن أن يطلقها اثنتين، تو اب وہ مالک ہے اب کہ وہ طلاق دے اسے دو بھئی، وتصير مغلظة، اور وہ پھر مغلظہ ہو جائے گی، جب دو اور دے دے گا تو کیا بن جائے گی؟ مغلظہ ہو جائے گی۔ وإن طلقها سابقاً اثنتين، اور اگر اس نے پہلے دو طلاقیں دی تھیں، يملك الآن أن يطلقها واحدة لا غير، تو اب وہ مالک ہے کہ اس کو طلاق دے ایک، نہ کہ اس کے علاوہ، ایک دے سکتا ہے اس کے علاوہ یعنی ایک سے زیادہ وغیرہ نہیں دے سکتا۔ وعند أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالى، اور شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک، يملك الزوج الأول، مالک ہوتا ہے زوجِ اول، أن يطلقها ثلاثاً، کہ وہ اسے طلاقیں دے کتنی؟ تین، وہ پھر تین کا مالک ہے۔ ويكون ما مضى، اور وہ جو گزر چکا ہے، کیا بھئی کیا گزر چکا ہے؟ پھر من بیانیہ آیا، من الطلقة والطلقتين، یعنی ایک طلاق اور دو طلاقیں، تو وہ جو گزر چکا ہے، هدراً، وہ کیا ہے؟ باطل ہو گیا، وہ ختم ہو گئیں ایک یا دو طلاقیں جو پہلے دی تھیں، بس اب پھر تین کا مالک بن گیا۔ لأن الزوج الثاني، اس لیے کہ زوجِ ثانی، يكون محللاً إياها للزوج الأول، وہ اس عورت کو حلال کرنے والا ہے، محللاً إياها، اس عورت کو حلال کرنے والا ہے، للزوج الأول، کس کے لیے؟ زوجِ اول کے لیے، بحل جديد، حلِ جدید کے ساتھ، نئی حلت کے ساتھ اس کو حلال کرنے والا ہے، نئی حلت آ گئی بھئی۔ وينهدم ما مضى من الطلقة والطلقتين والطلقات، اور گرا دیتا ہے وہ جو گزر چکی ہیں، یعنی کہ ایک طلاق یا دو طلاقیں اور تین طلاقیں، ایک یا دو یا تین طلاقیں جتنی بھی آئی ہیں وہ ساری کو کیا زوجِ ثانی کیا کر دیتا ہے ان سب کو؟ گرا دیتا ہے، اور ہر صورت میں خاوندِ اول پھر تین طلاقوں کا مالک بن جاتا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو دراصل ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف اس بات میں ہے کہ "حتى"، کہ "حتى تنكح زوجاً غيره"، جی، قرآن میں آیت کس طرح آتی ہے؟ "فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجاً غيره"، کہ جب اس نے تیسری طلاق دے دی "فلا تحل له من بعد"، وہ عورت اس کے لیے اس کے بعد حلال نہیں ہے۔ وہ عورت اس پہلے خاوند کے لیے اب حلال نہیں، "حتى تنكح زوجاً غيره"، یہاں تک کہ وہ عورت کسی اور خاوند سے نکاح کر لے۔ تو جی، تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں "حتى" آیا بھئی، اور "حتى" آتا ہے غایت اور انتہا کے لیے۔ "حتى" یہ بتلاتا ہے کہ ماقبل میں ہے مغیا اور مابعد میں ہے غایت، یعنی ماقبل کی، مابعد جو ہے وہ ماقبل کی انتہا بیان کر رہا ہے یہاں، اس کا پتہ کس سے چلتا ہے؟ "حتى" سے۔ "حتى" کس لیے آتا ہے؟ غایت اور انتہا بتلانے کے لیے، اس سے ماقبل ہوتا ہے مغیا جس کی انتہا بیان کی جائے اسے مغیا کہتے ہیں، اور جس، "حتى" کا مابعد کیا ہوتا ہے؟ غایت۔ یعنی "حتى" یہ بتلاتا ہے، دیکھو بھئی ادھر، یہ "حتى" ہے، یہ اس سے ماقبل ہے، یہ مابعد ہے بھئی۔ "حتى" نے، "حتى" آتا ہے غایت کے لیے، اس نے بتلا دیا کہ یہ جو میرے بعد آ رہا ہے یہ غایت ہے کس کے لیے؟ ماقبل کے لیے، یہ کیا ہے؟ جب یہ آ جائے گا ماقبل کا حکم ختم ہو جائے گا۔ ماقبل کا حکم کیا ہو جائے گا؟ ختم ہو جائے گا۔ تو ماقبل میں کیا حکم تھا؟ "فلا تحل له من بعد"، یہ عورت اس کے بعد اب اس خاوند کے لیے حلال نہیں، جس نے تین طلاقیں، تیسری طلاق دے دی تو یہ عورت اب اس خاوند کے لیے حلال نہیں ہے، یہ حکم تھا، "حتى تنكح زوجاً غيره"، یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح کر لے، جب دوسرے خاوند سے، دیکھو اول میں تھا کہ پہلے خاوند کے لیے عدمِ حلت تھی، اس کے لیے حلال نہیں، تو اس عدمِ حلت جو تھی اس کو مابعد نے آ کر ختم کر دیا، جب دوسرے خاوند سے نکاح کر لے گی تو وہ جو پہلے کی حرمت تھی پہلے پر وہ حرمت ختم ہو جائے گی۔ عدمِ حلت یعنی حرمت ہے نہ بھئی، وہ عورت اس کے لیے حلال نہیں، معلوم ہوا کیا ہے؟ حرام ہے، تو ماقبل میں حرمت بیان ہو رہی ہے اور مابعد کیا کرے گا اس کی؟ انتہا بیان کرے گا، جب دوسرے خاوند سے نکاح کر لے گی تو وہ حرمت کیا ہو جائے گی؟ ختم۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ "حتى" صرف اتنا بتلاتا ہے کہ اس کا مابعد جب پایا جائے گا تو ماقبل والا حکم ختم ہو جائے گا، معلوم ہوا جب یہ نکاح دوسرا پایا جائے گا تو ماقبل کی حرمت ختم ہو جائے گی، ماقبل کی حرمت کیا ہوگی؟ ختم ہو جائے گی، بس اتنا بتلا رہا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ جب دوسرے خاوند سے نکاح کر لے گی صحبت کر لے گا وہ، تو صرف حرمت نہیں ختم ہوگی بلکہ حلت آ جائے گی، دوسرا خاوند کیا کر دیتا ہے؟ وہ محلل ہے، پہلے خاوند کے لیے اس کو کیا کر دیتا ہے؟ حلال کر دیتا ہے۔ فرق سمجھ میں آ رہا ہے؟ امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں کہ "حتى" نے صرف کس چیز کا فائدہ دیا ہے؟ غایت کا، یعنی یہ حرمت کیا ہو جائے گی، یہ جب مابعد والی چیز جب پائی جائے گی یعنی دوسرے خاوند کے ساتھ نکاح پایا جائے گا تو وہ حرمت کیا ہو جائے گی؟ بس، تو وہ صرف انتہائے حرمت بتلا رہا ہے، "حتى" صرف کیا بتلا رہا ہے؟ حرمت ختم ہو جائے گی۔ ہاں، جبکہ شیخین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر حرمت ختم ہوگی اور حلت نئی حلت آ جائے گی، حلال ہو جائے گی عورت اس خاوند کے لیے۔ آپ کہیں گے بات تو ایک ہی ہے، حرمت ختم ہوئی تو کیا آ گئی؟ حلت آ گئی بھئی، فرق سمجھ میں آ رہا ہے؟ وہ کیا کہتے ہیں، صرف کیا ختم ہوگی؟ صرف اتنا پتہ لگ رہا ہے کہ حرمت ختم ہو جائے گی، ہم کہتے ہیں حرمت بھی ختم ہوگی اور حلت آئے گی، حلت آئے گی۔ تو آپ کہیں گے بھئی ایک ہی بات ہے حرمت ختم ہوئی تو کیا آ جاتی ہے؟ حلت، نہیں بھئی، فرق ہے، ثمرہ دیکھا نہیں آپ نے؟ کیسے ثمرہ تھا؟ کہ اگر پہلے خاوند نے ایک یا دو طلاقیں دی ہوں، ٹھیک ہے؟ اور دوسرا خاوند دوسرے خاوند سے نکاح کیا، تو دوسرے خاوند نے دوسرے خاوند کے بعد اب وہ اس کے ساتھ نکاح کرے، پھر پہلے خاوند کے ساتھ نکاح کرے، تو ہمارے نزدیک حلت آتی ہے لہٰذا نئی حلت آئی اور پھر کتنی طلاقوں کا مالک ہوا؟ تین۔ ان کے نزدیک یہ صرف حرمت ختم کرتا ہے، حلت کا یہاں بات ہی نہیں ہے کہ حلت آ جائے، تو حلت تو کوئی نہیں آئی، سمجھ میں آیا؟ لہٰذا اسی طرح جیسے پہلے دو طلاقیں دے دی تھیں اب ایک باقی ہے تو صرف اسی کا مالک ہوگا۔ فرق سمجھ میں آ گیا بھئی؟ یہ ہے ثمرۂ اختلاف بھئی کہ ہمارے نزدیک حلت آ جاتی ہے، خاوندِ ثانی محلل ہے بس۔ خلاصۂ بحث کیا ہے؟ ہمارے نزدیک خاوندِ ثانی محلل ہے، وہ کہتے ہیں نہیں محلل نہ کہو بس صرف اتنا کہو، حرمت اس سے کیا ہو جاتی ہے؟ ختم، اور ثمرۂ اختلاف کہاں نکلے گا؟ بھئی جب تین طلاقیں اگر پہلے نے دی تھیں تو وہ حرمت ختم ہو گئی، وہ پھر تین طلاقیں اس میں تو اختلاف نہیں، لیکن اگر پہلے نے ایک یا دو طلاقیں دی ہوں تو وہ کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کوئی حلت کی بات کی؟ نہیں کی، لہٰذا وہی ما بقیہ طلاقوں کا وہ مالک بنے گا اگر اس نے نکاح، اور ہم نے کیا بات کی کہ خاوندِ ثانی تو کیا ہے؟ محلل ہے، جب محلل ہے تو حلت آئی اور حلت آئی تو کتنی طلاقوں کا مالک بن گیا؟ تین طلاقوں کا وہ پھر مالک بن گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اب دیکھیے بھئی: فاعترض عليه الشافعي رحمه الله، تو اعتراض کیا اس پر امام شافعی رحمہ اللہ نے، بأن المتمسك في هذا الباب، کہ متمسک جو ہے اس باب کے اندر، تمسک کا معنیٰ ہوتا ہے پکڑنا کسی چیز کو، یعنی جس کو بطورِ دلیل کے پکڑا گیا ہے وہ اللہ کا یہ قول ہے، بأن المتمسك، اس لیے وہ جس کو بطورِ دلیل کے پکڑا گیا ہے، في هذا الباب، اس باب کے اندر یعنی یہ تحلیل کے باب میں، هو قوله تعالى، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجاً غيره، اگر اس نے طلاق دے دی اپنی بیوی کو، اس سے تیسری طلاق مراد ہے یاد رکھنا، پس اگر اس نے یعنی تیسری طلاق دے دی خاوند نے اپنی بیوی کو، فلا تحل له من بعد، تو حلال نہیں ہے اس کے لیے اس کے بعد وہ عورت، حتى تنكح زوجاً غيره، یہاں تک کہ وہ عورت نکاح کر لے کسی اور خاوند سے۔ وکلمۃ حتى لفظ خاص وکلمہ حتى کیا ہے؟ خاص لفظ ہے۔ وضع لمعنى الغایۃ والنھایۃ جس کو وضع کیا گیا ہے کس کے لیے؟ غایہ اور نہایہ یعنی انتہا کے لیے وضع کیا گیا ہے یعنی جس کے لیے کسی چیز کی انتہا ہو جاتی ہے۔ فیفھم ان نکاح الزوج الثانی غایۃ للحرمۃ الغلیظۃ پس یہ بات سمجھ میں آتی ہے، یہ بات مفہوم ہوتی ہے کہ زوج ثانی کا جو نکاح ہے یہ غایہ ہے، انتہا ہے۔ کس چیز کی انتہا ہے؟ للحرمۃ الغلیظۃ اس حرمت غلیظہ کی الثابۃ بالتلقات الثلاث بالطلاقات الثلاث جو کیا ہے؟ جو ثابت ہے کس کے ذریعے؟ تین طلاقوں کے ذریعے، تین طلاقوں کے ذریعے جو حرمت غلیظہ آئی تھی بس اس کی غایہ ہے انتہا ہے۔ ولا تاثیر للغایۃ فیما بعدها اور غایہ کی کوئی تاثیر نہیں ہے فیما بعدها، یہاں "ہا" ضمیر بھی غایہ کو راجع ہے، ای فیما بعد الغایۃ۔ غایہ کی کوئی تاثیر نہیں ہے، یہ کوئی اثر نہیں کرے گا بھئی ما بعد غایہ کے اندر۔ کس کے اندر؟ ما بعد غایہ کے اندر۔ بس اس نے صرف اتنا بتلایا کہ حتی تنکح زوجا غیره، جب دوسرے خاوند سے نکاح کر لے گی تو کس چیز کی انتہا ہو گئی؟ وہ جو پہلے حرمت تھی اس کی انتہا ہو گئی بس۔ اس سے زیادہ کسی چیز پر یہ اثر نہیں دکھاتا، اس کے لیے حلت جدید کو ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو اس کا اثر صرف کس چیز کے اندر ہے؟ غایہ کے اندر ہے کہ اس کے ذریعے کیا ہو جائے گی؟ وہ حرمت ختم ہو جائے گی۔ اس سے زیادہ میں یہ اثر لہذا حلت جدید اس سے ثابت نہیں ہوتا، اس سے صرف غایہ ہونے کا پتہ چلتا ہے، محلل ہونے کا پتہ نہیں چلتا۔ فلم یفھم تو یہ بات مفہوم نہیں ہوتی کہ ان بعد النکاح یحدث حل جدید للزوج الاول کہ نکاح کے بعد پیدا ہو جائے گا نیا حل خاوند اول کے لیے۔ خاوند اول کے لیے نئی حلت پیدا ہو جائے گی، یہ اس سے مفہوم نہیں ہوتا۔ ففی هذا ابطال موجب الخاص، تو اس صورت کے اندر خاص کے مقتضیٰ کو باطل کرنا لازم آئے گا۔ کون سا خاص؟ الذی هو حتى، وہ خاص جو کہ حتى ہے۔ تو اس صورت میں وہ خاص جو کہ حتى ہے اس کے مقتضیٰ کو باطل کرنا لازم آئے گا۔ یعنی اگر اپ اس سے کیا مراد لے لیتے ہیں؟ حرمت کے ختم ہونے کے ساتھ ساتھ حلت بھی مراد لیتے ہیں کہ حلت آ جاتی ہے، خاوند ثانی محلل ہو جاتا ہے تو اپ نے خاص کے مقتضیٰ کو باطل کر دیا۔ خاص لفظ ہے یہاں حتى، حتى تو صرف اتنا بتلا رہا ہے کہ ما بعد کیا ہے؟ انتہا ہے ما قبل کے حکم کے لیے، اس سے زیادہ یہ کسی کوئی معنی ادا اور اپ اس کے ساتھ ایک اور معنی بھی کیا کر رہے ہیں؟ بیان کر رہے ہیں، وہ کون سا معنی ہے؟ کہ خاوند ثانی کیا ہے؟ محلل ہے، کیا ہے؟ محلل ہے۔ یہ معنی تو اس سے سمجھ میں، اگر یہ معنی اس سے نکالا جائے یہ تو اپ نے کیا کیا؟ خاص کے مقتضیٰ کو باطل کر دیا، خاص کے مقتضیٰ کو کیا کیا؟ باطل کر دیا کیونکہ خاص تو قطعی ہوتا ہے، وہ کمی، زیادی کا احتمال نہیں رکھتا اور اپ یہاں پر کیا کر رہے ہیں؟ ایک زائد معنی کو ثابت کر رہے ہیں بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ فلما لم یکن الزوج الثانی محللا فیما وجد فیه المغیا، اور جب نہیں ہے خاوند ثانی محلل، جب خاوند ثانی محلل نہیں ہے فیما اس صورت کے اندر وجد فیه المغیا جس کے اندر کیا پایا جائے؟ جس میں مغیا پایا گیا۔ بھئی دیکھو، قرآن میں کیا بیان ہوا؟ فإن طلقها فلا تحل له من بعد، یہ ہے مغیا بھئی، اور حتى کا ما بعد کیا ہے؟ غایہ، اور فإن طلقها سے کون سی طلاق مراد ہے؟ میں نے کیا بتلایا؟ تیسری طلاق، تو مغیا معلوم ہوا تین طلاقیں ہیں، مغیا کیا ہیں؟ تین طلاقیں ہیں۔ تو جب مغیا پایا جائے، جب مغیا پایا جائے یعنی تین طلاقیں پائی جائیں تو اس وقت امام شافعی رحمہ اللہ کی تقریر چل رہی ہے، جب مغیا پایا گیا یعنی تین طلاقیں پائی گئیں تو حتى نے زوج ثانی کے محلل ہونے کا فائدہ دیا؟ ان کے نزدیک بھئی، ان کے نزدیک صرف کس چیز کا فائدہ دے رہا ہے؟ انتہائے حرمت کا فائدہ دے رہا ہے، خاوند ثانی کے محلل ہونے کا کوئی فائدہ دے رہا ہے؟ تو جس وقت مغیا پایا گیا اس وقت حتى نے خاوند ثانی کے محلل ہونے کا فائدہ نہیں دیا تو جس صورت میں مغیا نہ پایا جائے یعنی تین طلاقیں نہ پائی جائیں، دو یا ایک پائی جائے تو اس وقت وہ بطریق اولیٰ محلل ہونے کا فائدہ، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہی بات کر رہے ہیں، کہتے ہیں فلما لم یکن الزوج الثانی محللا جب زوج ثانی محلل نہیں ہے فیما اس صورت کے اندر وجد فیه المغیا جس کے اندر کیا پایا جائے؟ مغیا پایا جائے، مغیا کیا ہے؟ درمیان میں بتلا دیا وهو الطلاقات الثلاث، وہ کتنی طلاقیں ہیں؟ تین طلاقیں ہیں، ففیما لم يوجد المغیا تو اس صورت میں جبکہ مغیا بھی نہ پایا جائے، بھئی وہ کون سی صورت ہے؟ کہتے ہیں وهو ما دون الثلاث، وہ جبکہ وہ صورت جبکہ طلاقیں کیا ہوں؟ تین سے کم ہوں۔ تو جب مغیا کے پائے جانے کی صورت میں خاوند ثانی محلل نہیں ہے تو اس صورت میں جبکہ مغیا نہ پایا جائے اولى ان لا يكون محللا، یہ اولیٰ یہ ہے کہ اس صورت میں بھی وہ محلل، جب مغیا کے پائے جانے کی صورت میں وہ محلل نہیں ہے تو مغیا کے نہ پائے جانے کی صورت میں تو وہ بطریق اولیٰ محلل نہیں ہے بھئی۔ فلا يكون الزوج الثاني محللا إياها للزوج الاول بحل جديد، تو پس ثابت ہو گیا کہ زوج ثانی محلل نہیں ہو گا، حلال کرنے والا نہیں ہو گا اس عورت کو خاوند اول کے لیے حلت جدید کے ساتھ۔ اعتراض سمجھ میں آ گیا بھئی؟ فیقول المصنف رحمه الله فی جوابه‌، تو مصنف رحمہ اللہ جواب دیتے ہیں من جانب أبی حنیفۃ رحمہ اللہ، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی جانب سے کہ ان کون الزوج الثانی محللا إياها للزوج الاول، کہ زوج ثانی کا اس عورت کے لیے محلل ہونا پہلے خاوند کے لیے انما نثبته، یہ "نثبته" ہے بھئی، انما نثبته بحديث العسيلۃ، اس کو ہم حدیث عسیلہ کے ذریعے ثابت کرتے ہیں لا بقوله حتى تنكح، نہ کہ اللہ کے اس قول "حتى تنكح" کے ذریعے کما زعمتم، جیسا کہ تم نے گمان کیا بھئی۔ اپ کا تو اعتراض کس چیز پر مبنی تھا؟ کہ اپ نے حتیٰ کا خاص مقتضیٰ خاص ہے، حتى خاص ہے اور اس کا مقتضیٰ کیا ہے؟ کہ یہ صرف اپنے معنی پر دلالت قطعی طور پر اپنے معنی پر دلالت کرتا ہے، نہ اس میں کسی قسم کی کمی کی جا سکتی ہے اور نہ کسی قسم کی زیادی، اور اے احناف! اپ نے زیادی کی کس طرح؟ کہ حرمت کی انتہا کے ساتھ ساتھ ایک اور معنی یعنی خاوند ثانی کے محلل ہونے کا فائدہ بھی ذکر کیا کہ یہ دے رہا ہے۔ تو ہم جواب دیتے ہیں، نہیں بھئی! ہم اس سے خاوند ثانی کا محلل ہونا اس سے ثابت ہی نہیں کرتے، جب اس سے ثابت ہی نہیں کرتے تو معلوم ہوا اپ کا اعتراض درست نہیں کہ اپ نے خود خاص کے مقتضیٰ کو باطل کر دیا۔ تو اپ کا اعتراض درست نہیں ہے۔ بھئی پھر کس سے ثابت کرتے ہو؟ تو بتلا رہے ہیں بھئی، اس کو ہم حدیث عسیلہ کے ذریعے ثابت کرتے ہیں، وبنانه اور بیان اس کا یہ ہے کہ ان امراۃ رفاعۃ جاءت إلى الرسول عليه السلام، کہ حضرت رفاعہ قرظی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں فقالت، تو کہنے لگیں ان رفاعۃ طلقني ثلاثا، کہ رفاعہ نے مجھے تین طلاقیں دے دیں فنكحت عبدالرحمن بن الزبير، یہ زبیر لفظ ہے بر وزن امیر بھئی، فنكحت عبدالرحمن بن الزبير، پس میں نے نکاح کیا عبدالرحمن بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فما وجدته إلا كهدبة ثوبي هذا، کپڑا تھا ہاتھ میں دوپٹہ وغیرہ، اس کا کنارہ بھئی، بھئی کپڑے کے کنارے پر اپ نے دیکھا ہو گا وہ دھاگے لٹکے ہوتے ہیں خوبصورتی کے لیے بھئی، سمجھ میں آیا؟ ایک طرف بھی اس کے لٹکے ہیں دوسری طرف بھی یا رومال وغیرہ کے کنارے پر وہ دھاگے لٹکے ہوتے ہیں، وہ جھالر سی بھئی، سمجھ میں آئی؟ تو وہ کپڑا ہاتھ میں تھا، اس کی جھالر کی طرف بھئی اشارہ کرتے ہوئے فرمایا فما وجدته، میں نے ان کو نہیں پایا إلا كهدبة ثوبي هذا، مگر اپنے اس کپڑے کی جھالر کی طرح، تعني، یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ وجدته عنينا، میں نے ان کو نامرد پایا ہے، کیا پایا ہے؟ نامرد پایا ہے۔ فقال علیہ السلام، تو حضور علیہ السلام نے فرمایا اتريدين أن ترجعي إلى رفاعۃ، کیا تو چاہتی ہے کہ تو لوٹ جائے رفاعہ کے پاس؟ قالت نعم، کہنے لگی ہاں، فقال لا، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں حتى تذوقي من عسيلته و يذوق من عسيلتك، نہیں یہاں تک کہ تو چکھ لے اس کے شہد میں سے اور وہ چکھ لے تیرے شہد میں سے۔ شہد کا چکھنا یہ کنایہ ہے لذت جماع سے بھئی، لذت سے، یعنی یعنی جب تک وہ تمہارے ساتھ جماع نہ کر لے، تم ایک دوسرے سے جماع کی لذت حاصل نہ کر لو اس وقت تک کیا ہے؟ تم رفاعہ کے پاس واپس نہیں، اس حدیث سے پتہ چلا کہ خاوند ثانی کے لیے صحبت کرنا ضروری ہے پھر ہی، آیت کے ظاہر سے تو صرف کیا پتہ لگ رہا تھا؟ حتى تنكح زوجا غيره، صرف نکاح ہی کر لے پھر طلاق دے دے تو یہ عدت گزار کر کیا کر سکتی ہے؟ پہلے خاوند کے ساتھ پھر نکاح کر سکتی ہے، لیکن حدیث نے بتلایا کہ نہیں بھئی، صرف نکاح کافی نہیں بلکہ اس کا صحبت کرنا بھی، دیکھ نہیں رہے بھئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا وہ فرما رہی ہیں کہ ہاں میں لوٹنا چاہتی ہوں، حضور نے فرمایا لا، نہیں حتى تذوقي من عسيلته و يذوق من عسيلتك، یہاں تک کہ تو چکھ لے اس کے شہد میں سے اور وہ تیرے شہد میں سے چکھ لے بھئی۔ میں نے بتلایا شہد کا چکھنا یہ کنایہ ہے کس سے؟ لذت سے یعنی لذت جماع سے۔ فهذا الحديث مسوق لبيان، پس یہ حدیث جو ہے وہ چلائی گئی ہے یہ بیان کرنے کے لیے انه يشترط وطء الزوج الثاني ايضا، کہ شرط لگائی جائے گی زوج ثانی کی وطی بھی، یعنی زوج ثانی کی وطی بھی شرط ہے، یہ حدیث اس مقصد کے لیے چلائی گئی، لائی گئی بھئی، ولا يكفي مجرد النكاح، اور محض نکاح کافی نہیں ہے كما يفهم من ظاهر الآيۃ، جیسا کہ مفہوم ہوتا ہے ظاہر آیت سے بھئی یعنی حتى تنكح زوجا غيره سے۔ وهذا الحديث مشهور، اور یہ حدیث مشہور ہے، سمجھ میں آیا؟ یہ خبر واحد نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ خبر مشہور ہے، قبله الشافعي رحمه الله ايضا، اس کو امام شافعی رحمہ اللہ نے بھی قبول کیا ہے لاجل اشتراط الوطء، وطی کی شرط کے لیے۔ وطی کی شرط کے لیے انہوں نے بھی کیا کیا ہے اس کو؟ قبول کیا ہے یعنی کہ وطی کی شرط ہے، لگائی جائے گی کہ بغیر صحبت کے صرف نکاح سے عورت حلال نہیں ہو گی۔ والزيادۃ بمثله على الكتاب جائز بالاتفاق، اور زیادی کرنا اس قسم کی حدیث کے ذریعے کتاب اللہ پر جائز ہے بالاتفاق، کیونکہ یہ خبر واحد نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ خبر مشہور ہے۔ وهذا الحديث كما انه يدل على اشتراط الوطء، اور یہ حدیث جیسے کہ یہ دلالت کر رہی ہے وطی کی شرط ہونے پر بعبارۃ النص، کس کے ذریعے؟ عبارۃ النص کے ذریعے کس چیز پر دلالت کر رہی ہے؟ وطی کے شرط ہونے پر، عبارۃ النص ذکر ہوا تھا، جس مقصد کے لیے کلام کو چلایا جائے، جس مقصد کے لیے چلایا جائے، ذکر کیا جائے، لایا جائے وہ نص کہلاتا ہے، کیا کہلاتا ہے؟ نص، اور وہ جو اس کی عبارت ہے وہ عبارۃ النص کہلاتی ہے، کیا کہلاتی ہے؟ عبارۃ النص بھئی۔ تو یہاں عبارۃ النص سے کیا پتہ چلا؟ کس مقصد کے لیے یہ حدیث لائی گئی؟ وطی کے صحبت کے شرط ہو کے ہونے کے لیے کہ وطی کرنا بھی شرط ہے، یہ بیان کرنے کے لیے یہ حدیث لائی گئی ہے، مقصد اس کا یہ ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ یعنی یہ جو حضور نے فرمایا بھئی اس سے اسی مقصد کے لیے فرمایا، کوئی اور مقصد نہیں تھا بھئی، یہی مقصد تھا۔ تو یہ یہ حدیث یہ جیسے کہ دلالت کر رہی ہے عبارۃ النص کے ذریعے وطی کے شرط ہونے پر فكذلك يدل على محللية الزوج الثاني، تو اسی طرح یہ حدیث دلالت کر رہی ہے زوج ثانی کے محلل ہونے پر بھی بإشارۃ النص، کس کے ذریعے؟ اشارۃ النص کے ذریعے، آگے بیان کریں گے کس طرح اشارۃ النص۔ لیکن کیا خاوند ثانی کے محلل ہونے کے لیے یہ حدیث لائے؟ حضور نے یہ اس لیے فرمایا کہ خاوند ثانی کیا ہو گا؟ محلل ہو گا؟ یہ مقصد نہیں، تو معلوم ہوا اب اپ نے پڑھا تھا بھئی کہ جس مقصد کے لیے کلام کو چلایا گیا ہے وہ ہے عبارۃ النص اور اگر ایسا نہیں وہ معنی اس سے سمجھ میں آ رہا ہے لیکن اس مقصد کے لیے کلام کو نہ چلایا گیا ہو تو وہ کیا کہلاتا ہے؟ اشارۃ النص، تو اس سے ایک معنی سمجھ میں آ رہا ہے کہ زوج ثانی محلل ہو گا اگرچہ اس مقصد کے لیے یہ حدیث نہیں لائی گئی تو معنی تو مفہوم ہو رہا ہے، تو یہ معنی پھر کیا کہلاتا ہے؟ کس کے ذریعے ثابت ہے؟ اشارۃ النص سے۔ تو یہ اشارۃ النص کے ذریعے، وذلك، کس طرح؟ دیکھو بھئی، وذلك لانه عليه السلام قال لها، اور یہ اس لیے بھئی کہ حضور علیہ السلام نے اس سے فرمایا اتريدين أن ترجعي إلى رفاعۃ، کیا تو چاہتی ہے کہ تو لوٹ جائے رفاعہ کے پاس؟ "ترجعي" حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بھئی، ترجعي، کہ تو لوٹنا چاہتی ہے؟ ولم يقل، یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا اتريدين أن تنتهي حرمتك، کیا تو چاہتی ہے کہ تیری حرمت ختم ہو جائے؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ترجعي کا لفظ فرمایا، حرمت کے ختم ہونے کو ذکر نہیں فرمایا، والعود هو الرجوع إلى الحالۃ الأولى، اور عود کس کو کہتے ہیں؟ وہ لوٹنا ہے پہلی حالت کی طرف، پہلی حالت کی طرف لوٹنا، وفي الحالۃ الأولى كان الحل ثابتا لها، اور بھئی پہلی حالت میں پہلے خاوند کے لیے حلت ثابت تھی یا ثابت نہیں تھی جب پہلے نکاح تھا ابھی؟ ثابت تھی۔ تو یہاں حضور نے فرمایا لوٹنا چاہتی ہے، معلوم ہوا وہی حلت پھر آئے گی جو پہلی حالت میں پہلی حالت آئی اور پہلی حالت میں تو کیا تھی؟ حلت تھی، تو لہذا اس سے کیا پتہ چلا کہ کیا آئے گی؟ حلت آئے گی، معلوم ہوا خاوند ثانی کیا ہے؟ محلل ہے۔ والعود کہتے ہیں وہ پہلی حالت کی طرف لوٹنے کو وفي الحالۃ الأولى كان الحل ثابتا لها، اور پہلی حالت میں تو کیا تھی اس عورت کے لیے حلت ثابت تھی یعنی وہ خاوند اس کے لیے حلال تھا، فإذا عادت الحالۃ الأولى، پس جب پہلی حالت لوٹ آئے گی تو عاد الحل، پہلی حالت میں تو حل تھا تو عاد الحل، حل کیا ہو گا؟ لوٹ آئے گا وتجدد باستقلاله، اور نیا ہو جائے گا اپنے استقلال کے ساتھ یعنی مستقلاً نیا ہو جائے گا، حلت کیا ہو گی؟ مستقلاً نئی ہو جائے گی۔ وإذا ثبت بهذا النص، جب یہ ثابت ہو گیا اس نص کے ذریعے، میں نے بتایا تھا قرآن اور حدیث کو کیا کہتے ہیں؟ نص، ان کو نصوص کہا جاتا ہے، جب یہ اس نص کے ذریعے یعنی اس حدیث کے ذریعے جب ثابت ہو گیا اس حدیث کے ذریعے، کیا ثابت ہوا؟ الحل، کیا ثابت ہو گیا؟ حلت ثابت ہو گئی فيما عدم فيه الحل، اس صورت کے اندر جبکہ معدوم تھا اس تھا اس کے اندر معدوم تھی اس کے اندر حلت بھئی۔ جس صورت میں کیا تھی؟ بھئی انہوں نے کتنی طلاقیں دی تھیں؟ "إن رفاعۃ طلقني ثلاثا"، فقالت "إن رفاعۃ طلقني"، کتنی طلاقیں دی تھیں؟ تین، تو حلت تھی؟ حلت نہیں رہی تھی بعد میں بھئی۔ تو حلت جب نہیں تھی اس صورت میں اس حدیث سے کیا پتہ چل رہا ہے کہ خاوند ثانی کیا ہے؟ محلل ہے، تو جس صورت میں حلت پوری طرح کیا ہے؟ پوری طرح معدوم نہیں ہے وہاں بطریق اولیٰ کیا آ جائے گی؟ خاوند ثانی کیا بن جائے گا؟ محلل۔ بھئی، دوبارہ سنو، جس صورت میں حلت بالکل ختم ہو گئی تھی اس صورت میں جب خاوند محلل بن رہا ہے تو جس صورت میں حلت پوری طرح ختم ہی نہیں ہوئی یعنی اس نے صرف ایک یا دو طلاقیں دی ہیں تو وہاں خاوند ثانی بطریق اولیٰ کیا بن جائے گا؟ محلل۔ تو کہتے ہیں: "وَإِذَا ثَبَتَ بِهَذَا النَّصِّ الْحِلُّ"—جب ثابت ہو گیا اس نص کے ذریعے، ثابت ہو گئی اس نص کے ذریعے حلت—"فِيمَا عَدِمَ فِيهِ الْحِلُّ"—آگے آ رہا ہے "مُطْلَقًا"، اس کا بھی اسی سے تعلق ہے: "فِيمَا عَدِمَ فِيهِ الْحِلُّ مُطْلَقًا"—جب ثابت ہو گیا، ثابت ہو گئی اس نص کے ذریعے حلت اس صورت میں جبکہ حلت معدوم ہو گئی تھی مطلقا۔ مطلقا کیا ہو گئی تھی؟ معدوم ہو گئی تھی۔ بھئی، وہ کون سی صورت تھی؟ وہ بتایا: "وَهُوَ الطَّلَاقَاتُ الثَّلَاثُ"—کتنی طلاقیں تھیں؟ تین طلاقیں۔ اس وقت حلت مطلقا معدوم تھی، جب اس وقت اس نص کے ذریعے حلت ثابت ہو گئی "فَفِيمَا كَانَ الْحِلُّ نَاقِصًا"—تو اس صورت میں جبکہ حلت کیا ہو؟ ناقص ہو، یعنی پوری طرح ختم بھی نہیں ہوئی، ابھی بھی ناقص حلت باقی ہے۔ تو وہ کون سی صورت ہے؟ "وَهُوَ مَا دُونَ الثَّلَاثِ"—جبکہ وہ طلاقیں تین سے کم ہوں—"فَأَوْلَى أَنْ يَكُونَ الزَّوْجُ الثَّانِي مُتَمِّمًا لِلْحِلِّ النَّاقِصِ"—تو زیادہ اولىٰ ہے کہ زوج ثانی کیا ہو؟ متمم ہو، پورا کرنے والا ہو "لِلْحِلِّ النَّاقِصِ" اس حلت کو جو کہ ناقص تھا "بِالطَّرِيقِ الْأَكْمَلِ" زیادہ کامل طریقے سے۔ تقریر سمجھ میں آ گئی سب کو بھئی؟ ثُمَّ قَالَ الْمُصَنِّفُ رَحِمَهُ اللَّهُ—پھر مصنف رحمہ اللہ نے فرمایا: "وَبُطْلَانُ الْعِصْمَةِ عَنِ الْمَسْرُوقِ بِقَوْلِهِ جَزَاءً لَا بِقَوْلِهِ فَاقْطَعُوا"—اور مسروق کہتے ہیں چوری شدہ بھئی، چوری شدہ مال سے عصمت کا باطل ہو جانا۔ عصمت کہتے ہیں حفاظت کو، حفاظت کو۔ چوری شدہ مال سے، مال مسروق سے حفاظت کا باطل ہو جانا "بِقَوْلِهِ جَزَاءً" وہ اللہ کے قول "جَزَاءً" کے ذریعے ہے "لَا بِقَوْلِهِ فَاقْطَعُوا" نہ کہ اللہ کے قول "فَاقْطَعُوا" سے۔ بائی دیکھیے، مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے۔ مسئلہ یہ کہ ایک شخص نے چوری کر لی اگر اور پھر اس میں وہ پکڑا گیا اور اس کے ہاتھ کو کاٹ دیا گیا۔ تو ہاتھ کاٹنے کے بعد اب جو چوری شدہ مال ہے، اس کے ضمان بھی اس سے لیا جائے گا امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی۔ ہاتھ بھی کاٹیں گے اور اس سے ضمان بھی لیں گے۔ وہ چوری شدہ مال چاہے اس کے پاس خود بخود ہلاک ہوا ہو یا اس نے اسے کیا کیا ہو؟ ہلاک کیا ہو، دونوں صورتوں میں اس سے کیا کیا جائے گا؟ ضمان لیا جائے گا۔ جبکہ ہمارے نزدیک بھئی، کسی صورت میں ضمان نہیں آئے گا۔ جب اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا تو یہ اس کے جرم کی پوری سزا ہو گئی، لہٰذا اب اس پر ضمان نہیں آئے گا بھئی، ضمان نہیں آئے گا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ضمان نہیں آئے گا۔ اختلاف سمجھ میں آ گیا بھئی؟ جی، اب دیکھیے بھئی۔ کہتے ہیں: "وَهَذَا أَيْضًا جَوَابُ سُؤَالٍ مُقَدَّرٍ يَرِدُ عَلَيْنَا مِنْ جَانِبِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى"—یہ بھی ایک سوال مقدر کا جواب ہے جو وارد ہوتا ہے ہم پر امام شافعی رحمہ اللہ کی جانب سے۔ "وَتَقْرِيرُ السُّؤَالِ هَاهُنَا أَيْضًا لَا بُدَّ فِيهِ مِنْ تَمْهِيدِ مُقَدَّمَةٍ"—اور سوال کی تقریر میں جو ہے، یہاں بھی ضروری ہے ایک مقدمہ کی تمہید—"وَهِيَ"—اور وہ یہ—اب مقدمہ شروع کر رہے ہیں—اور وہ یہ کہ "أَنَّ السَّارِقَ إِذَا سَرَقَ شَيْئًا مِنْ أَحَدٍ"—جب اس نے چوری کر لی کسی ایک سے—"وَقُطِعَتْ يَدُهُ فِيهَا"—اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا اس چوری کے اندر—"فَإِنْ كَانَ الْمَسْرُوقُ مَوْجُودًا فِي يَدِ السَّارِقِ"—پس اگر وہ مال مسروق جو تھا وہ موجود تھا سارق، یعنی چور کے قبضے میں—"يُرَدُّ إِلَى الْمَالِكِ بِالِاتِّفَاقِ"—تو لوٹایا جائے گا مالک کو بالاتفاق بھئی۔ بھئی، اگر وہ مال موجود ہے پھر تو امام شافعی رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں: واپس کرنا پڑے گا۔ ہم بھی کیا کہتے ہیں؟ واپس کرنا پڑے گا۔ ہاں، اگر وہ ہلاک یا استہلاک ہو جاتا ہے تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ضمان دینا پڑے گا۔ ہم کہتے ہیں: ضمان نہیں دینا پڑے گا۔ "وَإِنْ كَانَ هَالِكًا"—اور اگر وہ مال ہلاک ہونے والا ہے، یعنی ہلاک ہو گیا ہے—"فَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ يَجِبُ الضَّمَانُ عَلَيْهِ"—تو امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اس پر ضمان واجب ہو گا—"سَوَاءٌ هَلَكَ بِنَفْسِهِ أَوْ اسْتَهْلَكَهُ"—ایک ہے ہلاک، ایک ہے استہلاک بھئی۔ ہلاک کا معنی: خود ہلاک ہونا، اور استہلاک کا معنی: ہلاک کرنا۔ "سَوَاءٌ هَلَكَ بِنَفْسِهِ"—برابر ہے کہ وہ مال خود ہلاک ہوا ہو—"أَوْ اسْتَهْلَكَهُ"—یا اس چور نے کیا کیا ہو اس کو ہلاک کر دیا ہو۔ "وَعِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى لَا يَجِبُ الضَّمَانُ قَطُّ"—اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ضمان واجب نہیں ہو گا کبھی بھی—"إِلَّا عِنْدَ الِاسْتِهْلَاكِ فِي رِوَايَةٍ"—مگر استہلاک کی صورت میں ایک روایت میں۔ یہ ایک روایت ہے بھئی، مشہور روایت جو ہے وہ یہ کہ ضمان آئے گا ہی نہیں، چاہے ہلاک ہو چاہے استہلاک۔ ہاں، ایک روایت میں آتا ہے کہ ہلاک کی صورت میں ضمان نہیں آئے گا، لیکن استہلاک کی صورت میں ضمان... یہی بات کر رہے ہیں کہ امام صاحب کے نزدیک: "لَا يَجِبُ الضَّمَانُ قَطُّ إِلَّا عِنْدَ الِاسْتِهْلَاكِ فِي رِوَايَةٍ"—مگر استہلاک کے وقت ایک روایت کے اندر—"وَذَلِكَ"—یہ جو اس کی وجہ یہ ہے، یہ جو ضمان کا نہ آنا ہے بھئی، چاہے ہلاک ہو چاہے استہلاک، دونوں صورتوں میں—"لِأَنَّهُ"—اس لیے کیونکہ—"حِينَ أَرَادَ السَّارِقُ السَّرِقَةَ"—اس لیے کہ جب ارادہ کیا چور نے چوری کا—"يَبْطُلُ قُبَيْلَ السَّرِقَةِ"—تو باطل ہو جاتی ہے قبيل، تصغیر ہے قبل کی بھئی، تو باطل ہو جاتی ہے چوری سے کچھ پہلے... کیا باطل ہو جاتی ہے؟ "عِصْمَةُ الْمَالِ الْمَسْرُوقِ مِنْ يَدِ الْمَالِكِ"—مال مسروق کی عصمت مالک کے قبضے سے، مالک کے ہاتھ سے، یعنی اس کی حفاظت کیا ہو جاتی ہے مالک کے ہاتھ سے؟ ختم ہو جاتی ہے، باطل ہو جاتی ہے۔ "حَتَّى يَصِيرَ فِي حَقِّهِ مِنْ جُمْلَةِ مَا لَا يَتَقَوَّمُ"—یہاں تک کہ وہ ہو جاتا ہے اس مالک کے حق میں اس جملہ میں سے، اس مجموعے میں سے، "مِنْ جُمْلَةِ مَا" اس جملے میں سے کہ "مَا لَا يَتَقَوَّمُ" جو کہ متقوم نہیں ہے، جس کی قیمت نہیں۔ مالک کی بھئی، چوری سے تھوڑی دیر پہلے بھئی، وہ چور چوری کرنے کے لیے پہنچ گیا بھئی، تو چوری سے بس کچھ پہلے اس مال کی عصمت باطل ہو گئی۔ اس کی حفاظت کیا ہو گئی مالک کے ہاتھ سے؟ باطل ہو گئی، باطل ہو گئی۔ اور مالک کے حق میں وہ مال غیر متقوم کی طرح ہو گیا، ایسا مال جس کی کوئی قیمت ہی نہ ہو بھئی۔ "وَتَتَحَوَّلُ عِصْمَتُهُ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى"—اور منتقل ہو گئی اس کی حفاظت اللہ تعالی کی طرف، اس کی عصمت کس کی طرف منتقل ہو گئی؟ اللہ کی طرف منتقل ہو گئی—"وَهُوَ مُسْتَغْنٍ عَنْ ضَمَانِ الْمَالِ"—اور اللہ تعالی کیا ہیں؟ مال کے ضمان سے مستغنی ہیں۔ دیکھو، ہمارے نزدیک ہلاک ہو یا استہلاک ہو، دونوں صورتوں میں چور کا جب ہاتھ کاٹ دیا گیا تو اس سے ضمان وصول نہیں کیا جائے گا، اس پر ضمان نہیں آئے گا بھئی۔ اور ضمان نہیں آئے گا۔ وجہ اس کی یہ مولانا، انہوں نے بتایا کہ چوری سے کچھ پہلے اس مال کی حفاظت مالک سے کیا ہو جاتی ہے؟ ختم ہو جاتی ہے اور مالک کے لیے یہ کس طرح ہو گیا؟ مال غیر متقوم کی طرح بن گیا۔ کس کی طرح بن گیا؟ مال غیر متقوم کی طرح بن گیا، اور اس کی عصمت اور حفاظت منتقل ہو گئی کس کی طرف؟ اللہ کی طرف بھئی، اللہ کی طرف۔ اب مال ہلاک یا استہلاک کی صورت میں ضمان نہیں آئے گا، کیوں؟ اس لیے کیونکہ مالک کے لیے یہ کس کی طرح ہو چکا ہے؟ مال غیر متقوم کی طرح، اور مال غیر متقوم میں ضمان... اس کی قیمت ہی کوئی نہیں ہے بھئی، اس کا کیا ضمان ہے بھئی! صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اس کے لیے مال غیر متقوم کی طرح ہے، لہٰذا اس کے لیے ضمان نہیں آئے گا بھئی۔ اچھا بھئی، اس کے لیے تو ضمان نہیں آئے گا، لیکن آپ نے کیا کہا کہ یہ عصمت کس کی طرف منتقل ہوئی؟ اللہ کی طرف بھئی۔ تو گویا کہ یہ اب حق اللہ کے طور پر ضمان آنا چاہیے بھئی، یہ مال استہلاک کیا ہے تو اس سے کیا کرنا چاہیے؟ مال کو وصول کرنا چاہیے۔ تو کہتے ہیں بھئی: "وَهُوَ مُسْتَغْنٍ عَنْ ضَمَانِ الْمَالِ"، اللہ تعالی کیا ہیں؟ مال کے ضمان سے مستغنی ہیں، اللہ کو مال کی حاجت نہیں ہے بھئی۔ تو حق اللہ کے طور پر بھی مال کا ضمان نہیں آئے گا اس پر، اور حق مالک کے طور پر بھی اس پر ضمان نہیں آئے گا بھئی۔ مالک کے حق میں کے حق کے طور پر کیوں نہیں ضمان آئے گا؟ کیونکہ اس کے لیے مال غیر متقوم کی طرح یہ ہو چکا ہے، اس لیے کیونکہ چوری سے تھوڑی دیر پہلے اس مال کی عصمت، اس کی حفاظت مالک کے لیے کیا ہو گئی تھی؟ مالک سے ختم ہو گئی تھی اور کس کی طرف منتقل ہو گئی تھی؟ اللہ کی طرف، اور مالک کے لیے یہ کس طرح ہو گیا؟ مال غیر متقوم کی طرح ہو گیا بھئی، اور مال غیر متقوم کے اندر تو ضمان نہیں ہے بھئی، اس کی قیمت ہی کوئی نہیں ہے تو ضمان کس چیز کا آئے گا بھئی! مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ "وَإِنَّمَا يَجِبُ الرَّدُّ"—یہ سوال کا جواب دے رہے ہیں۔ سوال یہ کہ آپ نے کیا کہا؟ مالک کے سے کیا ہو گئی؟ عصمت ختم ہو گئی اور اس کے حق میں یہ مال کس کی طرح ہو گیا؟ مال غیر متقوم کی طرح ہو گیا، تو پھر آپ یہ کیوں کہتے ہیں کہ اگر وہ مال موجود ہوا تو مالک کو واپس کرے گا؟ مالک کو لوٹانا ضروری ہے۔ ابھی نہ ہلاک ہوا ہے نہ استہلاک ہوا ہے، مال اسی طرح موجود ہے، تو ہم کیا کہتے ہیں؟ مالک کو لوٹانا پڑے گا۔ ہاتھ چور کا کاٹ دیا گیا، لیکن وہ مال مالک کو لوٹانا پڑے گا! تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے بھئی، آپ کیسے کہہ رہے ہیں مالک کو لوٹانا پڑے گا؟ ابھی تو آپ نے خود کیا کہا کہ عصمت کیا ہو گئی مالک سے منتقل ہوئی کس کی طرف؟ اللہ کی طرف منتقل ہو گئی، اور مالک کے حق میں یہ کس کی طرح ہو گیا؟ غیر متقوم کی طرح ہو گیا۔ تو جواب دیتے ہیں بھئی: ٹھیک ہے، عصمت تو مالک کی طرف سے ختم ہو گئی، لیکن ملکیت تو ختم نہیں ہوئی، ملکیت ابھی بھی اس کی ہے۔ لہٰذا چونکہ مال موجود ہے اور ملکیت اس کی ہے، چاہے کیا ہے؟ مال غیر متقوم ہے، تو لہٰذا اس کو واپس لوٹانا پڑے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اچھا، تو کہتے ہیں: "وَإِنَّمَا يَجِبُ الرَّدُّ إِذَا كَانَ مَوْجُودًا"—اور کہتے ہیں: یہ واپس لوٹانا واجب ہے، سوال کا جواب دے رہے ہیں کہ واپس کرنا کیوں ضروری پھر؟ کہتے ہیں: "وَإِنَّمَا يَجِبُ الرَّدُّ إِذَا كَانَ مَوْجُودًا"—واپس لوٹانا واجب ہے جب وہ مال کیا ہو؟ موجود ہو—"لِأَنَّهُ لَمْ يَبْطُلْ مِلْكُهُ"—اس لیے کہ اس کی ملکیت باطل نہیں ہوئی بھئی—"وَإِنْ زَالَتْ عِصْمَتُهُ"—اگرچہ اس کی عصمت کیا ہو چکی ہے؟ زائل ہو چکی ہے—"فَلِرِعَايَةِ الصُّورَةِ"—پس صورت کی رعایت کے طور پر، یعنی وہ مال کی جو صورت موجود ہے اس کی رعایت کے طور پر—"قُلْنَا بِوُجُوبِ رَدِّ الْمَالِ"—ہم نے مال کے لوٹانے کے واجب ہونے کا قول کیا—"وَلِرِعَايَةِ الْمَعْنَى"—اور معنی کی رعایت کے لیے بھئی، معنی کیا تھا؟ کہ عصمت کس کی طرف منتقل ہو گئی ہے؟ اللہ کی طرف۔ تو معنی کی رعایت کے طور پر—"قُلْنَا بِعَدَمِ ضَمَانِهِ"—ہم قائل ہوئے کس چیز کے؟ اس مال کے عدم ضمان کے بھئی، کہ اس کا ضمان نہیں آئے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو صورتاً جب مال موجود ہے تو ہم نے کیا حکم لگایا؟ لوٹانا پڑے گا۔ اور جب صورتاً موجود نہیں تو ہم نے معنی کی رعایت رکھی بھئی، اور معنی کیا تھا یہاں؟ کہ وہ تو مالک کی عصمت سے نکل کر کس کے عصمت میں داخل ہوا؟ اللہ کی عصمت میں، اور اللہ مال سے مستغنی ہے، تو ضمان نہیں آئے گا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ پھر لوٹ آئے۔ "وَاعْتَرَضَ عَلَيْهِ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ"—اور اعتراض کیا اس پر امام شافعی رحمہ اللہ نے—"بِأَنَّ الْمَنْصُوصَ عَلَيْهِ فِي هَذَا الْبَابِ هُوَ قَوْلُهُ تَعَالَى: وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا"—کہ منصوص علیہ بھئی، وہ جس پر نص آئی ہے اس باب کے اندر، منصوص علیہ جو ہے اس باب کے اندر، وہ اللہ کا یہ قول ہے: "وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا"—کہ چوری کرنے والا مرد اور چوری کرنے والی عورت، پس کاٹ دو ان دونوں کے ہاتھ بطور بدلہ کے جو انہوں نے عمل کیا۔ "وَالْقَطْعُ لَفْظٌ خَاصٌّ"—تو امام شافعی رحمہ اللہ اعتراض فرما رہے ہیں بھئی، تقریر تمہید پتہ چل گئی ساری بھئی؟ اب اعتراض ان کا ذکر کر رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں: "وَالْقَطْعُ لَفْظٌ خَاصٌّ"—کہ قطع کیا ہے؟ ایک لفظ خاص ہے—"وُضِعَ لِمَعْنًى مَعْلُومٍ"—جس کو ایک معنی معلوم کے لیے وضع کیا گیا ہے—"وَهُوَ الْإِبَانَةُ عَنِ الرُّسْغِ"—اور وہ جدا کرنا ہے کلائی سے، رسغ کہتے ہیں کلائی کو بھئی۔ بھئی قطع ید بھئی ایک خاص، واضح معنی ہے اس کا، کیا معنی ہے؟ کلائی سے جدا کرنا، بس اس معنی پر دلالت کر رہا ہے۔ اور اے احناف! آپ کہتے ہو عصمت منتقل ہو گئی بندے سے، مالک سے کس کی طرف؟ اس پر تو یہ دلالت نہیں کر رہا! یہ آپ نے کہاں سے معنی ثابت کیا اور پھر کہا کہ ضمان نہیں آئے گا، کیونکہ عصمت منتقل ہو گئی تھی کس کی طرف؟ اللہ کی طرف، اور اللہ تو مال سے بے نیاز۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ اعتراض سمجھ میں آیا؟ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں قطع کا لفظ آیا اور قطع کا لفظ خاص ہے، اور خاص اپنے مدلول پر قطعی دلالت کرتا ہے، اس میں کسی قسم کی کمی یا زیادتی کرنا صحیح نہیں، اور آپ یہاں پر زیادی کر رہے ہیں! معنی تو صرف اتنا پتہ چل رہا ہے کہ اس کے ہاتھ کو کاٹ دو، یعنی کلائی سے جدا کر دو، بس یہ معنی ہے اس کا۔ اور یہ جو عصمت آپ کہتے ہیں عصمت منتقل ہو گئی اللہ کی طرف، یہ معنی آپ نے کہاں سے نکالا جس کی وجہ سے پھر آپ کہنے لگے کہ اب ضمان نہیں آئے گا! آپ نے یہ کہا نا عصمت منتقل ہو گئی اللہ کی طرف، اور اسی وجہ سے ضمان نہیں آئے گا۔ تو یہ جو عصمت منتقل ہوئی اللہ کی طرف، یہ یہاں سے پتہ نہیں چل رہا، جب پتہ نہیں چل رہا تو آپ کیا کر رہے ہیں خاص کے مقتضى کو باطل کر رہے ہیں۔ خاص کا مقتضى تو کیا تھا کہ وہ اپنے مدلول پر قطعی طور پر دلالت کرتا ہے، اس میں کمی بھی جائز نہیں، زیادتی بھی جائز نہیں۔ تو کہتے ہیں اس لیے کہ قطع جو ہے ایک لفظ خاص ہے جس کو معنی کے لیے وضع کیا گیا ہے: "وَهُوَ الْإِبَانَةُ عَنِ الرُّسْغِ"—اور وہ کلائی سے جدا کرنا ہے—"لَا دَلَالَةَ لَهُ عَلَى تَحَوُّلِ الْعِصْمَةِ عَنِ الْمَالِكِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى"—اس میں کوئی، اس کی کوئی دلالت نہیں اس بات پر کہ عصمت جو ہے وہ منتقل ہو جاتی ہے مالک سے اللہ تعالی کی طرف—"فَالْقَوْلُ بِبُطْلَانِ الْعِصْمَةِ زِيَادَةٌ عَلَى خَاصِّ الْكِتَابِ"—پس یہ بطلان عصمت کا جو قول ہے، یہ زیادی ہے کتاب اللہ کے خاص پر، یہ زیادتی ہے بھئی، جو کہ آپ کے اپنے قانون کے مطابق درست نہیں۔ "فَأَجَابَ الْمُصَنِّفُ رَحِمَهُ اللَّهُ عَنْ جَانِبِ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى"—تو جواب دیا مصنف نے ان کو، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی طرف سے—"بِأَنَّ بُطْلَانَ الْعِصْمَةِ عَنِ الْمَالِ الْمَسْرُوقِ"—کہ عصمت کا باطل ہو جانا مال مسروق سے—"وَإِزَالَتَهَا مِنَ الْمَالِكِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى"—اور اس کا عصمت کا زائل ہو جانا مالک سے اللہ کی طرف—"إِنَّمَا نُثْبِتُهُ بِقَوْلِهِ تَعَالَى جَزَاءً"—اس کو ہم اللہ تعالی کے قول "جَزَاءً" سے ثابت کرتے ہیں، "جَزَاءً بِمَا كَسَبَا" سے ثابت کرتے ہیں—"لَا بِقَوْلِهِ فَاقْطَعُوا"—"فَاقْطَعُوا" سے ثابت نہیں کرتے۔ جب "فَاقْطَعُوا" سے ثابت ہی نہیں ہے، تو خاص کے معنی میں کوئی زیادتی بھی ہم نے نہیں کی بھئی، وہ تو الگ جگہ سے ثابت ہم کر رہے ہیں۔ اس سے کس طرح کرتے ہیں؟ دیکھیے بھئی: "وَذَلِكَ"—یہ جو ہم اثبات کرتے ہیں "جَزَاءً بِمَا كَسَبَا" سے، کہتے ہیں: "لِأَنَّ الْجَزَاءَ إِذَا وَقَعَ مُطْلَقًا"—اس لیے کہ جزا جب مطلق واقع ہو—"فِي مَعْرِضِ الْعُقُوبَاتِ"—عقوبات کے مقام میں، سزاؤں کے مقام میں جب جزا کا لفظ کیسا آئے؟ مطلق آئے—"يُرَادُ بِهِ مَا يَجِبُ حَقًّا لِلَّهِ تَعَالَى"—تو ارادہ کیا جاتا ہے اس کے ذریعے وہ جو واجب ہوا ہے اللہ کا حق ہو کر، جو کہ بطور اللہ کے حق کے جو واجب ہوا ہے، وہ مراد ہوتا ہے بھئی۔ "وَذَلِكَ لِأَنَّ الْجَزَاءَ إِذَا وَقَعَ مُطْلَقًا فِي مَعْرِضِ الْعُقُوبَاتِ"—اور یہ اس لیے، یعنی یہ جو اثبات ہم کرتے ہیں کس سے؟ "جَزَاءً بِمَا كَسَبَا" سے، یہ جو "جَزَاءً بِمَا كَسَبَا" سے ہم اثبات کرتے ہیں اس لیے "لِأَنَّ الْجَزَاءَ" کیونکہ جزا کا لفظ "إِذَا وَقَعَ مُطْلَقًا" جب وہ کیا ہو؟ مطلق واقع ہو، یعنی اس کے ساتھ کوئی بھی قید نہ ہو "فِي مَعْرِضِ الْعُقُوبَاتِ"—معرض کہتے ہیں جگہ کو—سزاؤں کی جگہ مقام میں—"يُرَادُ بِهِ مَا يَجِبُ حَقًّا لِلَّهِ تَعَالَى"—تو مراد اس کے ذریعے وہ ہوتی ہے، وہ چیز جو واجب ہو اللہ کا حق ہو کر۔ اللہ کا کیا... اللہ کا حق ہو کر۔ بھئی دیکھیے، کہنا یہ چاہتے ہیں کہ جزا کا لفظ جب مطلق آ جائے اور سزاؤں کے مقام میں آئے بھئی، کس کے مقام میں؟ سزا، اور یہاں پر بھی کس چیز کا ذکر ہو رہا ہے؟ سزا کا، کہ چوری کرنے والے کا ہاتھ کاٹا جائے۔ تو وہاں آیا بدلے کے طور پر، تو جزا کا لفظ آیا، جزا کا معنی ہے بدلہ بھئی، بدلہ۔ تو کہتے ہیں: "وَإِذَا ثَبَتَ بِهَذَا النَّصِّ الْحِلُّ"—جب ثابت ہو گیا اس نص کے ذریعے، ثابت ہو گئی اس نص کے ذریعے حلت—"فِيمَا عَدِمَ فِيهِ الْحِلُّ"—آگے آ رہا ہے "مُطْلَقًا"، اس کا بھی اسی سے تعلق ہے: "فِيمَا عَدِمَ فِيهِ الْحِلُّ مُطْلَقًا"—جب ثابت ہو گیا، ثابت ہو گئی اس نص کے ذریعے حلت اس صورت میں جبکہ حلت معدوم ہو گئی تھی مطلقا۔ مطلقا کیا ہو گئی تھی؟ معدوم ہو گئی تھی۔ بھئی، وہ کون سی صورت تھی؟ وہ بتایا: "وَهُوَ الطَّلَاقَاتُ الثَّلَاثُ"—کتنی طلاقیں تھیں؟ تین طلاقیں۔ اس وقت حلت مطلقا معدوم تھی، جب اس وقت اس نص کے ذریعے حلت ثابت ہو گئی "فَفِيمَا كَانَ الْحِلُّ نَاقِصًا"—تو اس صورت میں جبکہ حلت کیا ہو؟ ناقص ہو، یعنی پوری طرح ختم بھی نہیں ہوئی، ابھی بھی ناقص حلت باقی ہے۔ تو وہ کون سی صورت ہے؟ "وَهُوَ مَا دُونَ الثَّلَاثِ"—جبکہ وہ طلاقیں تین سے کم ہوں—"فَأَوْلَى أَنْ يَكُونَ الزَّوْجُ الثَّانِي مُتَمِّمًا لِلْحِلِّ النَّاقِصِ"—تو زیادہ اولىٰ ہے کہ زوج ثانی کیا ہو؟ متمم ہو، پورا کرنے والا ہو "لِلْحِلِّ النَّاقِصِ" اس حلت کو جو کہ ناقص تھا "بِالطَّرِيقِ الْأَكْمَلِ" زیادہ کامل طریقے سے۔ تقریر سمجھ میں آ گئی سب کو بھئی؟ ثُمَّ قَالَ الْمُصَنِّفُ رَحِمَهُ اللَّهُ—پھر مصنف رحمہ اللہ نے فرمایا: "وَبُطْلَانُ الْعِصْمَةِ عَنِ الْمَسْرُوقِ بِقَوْلِهِ جَزَاءً لَا بِقَوْلِهِ فَاقْطَعُوا"—اور مسروق کہتے ہیں چوری شدہ بھئی، چوری شدہ مال سے عصمت کا باطل ہو جانا۔ عصمت کہتے ہیں حفاظت کو، حفاظت کو۔ چوری شدہ مال سے، مال مسروق سے حفاظت کا باطل ہو جانا "بِقَوْلِهِ جَزَاءً" وہ اللہ کے قول "جَزَاءً" کے ذریعے ہے "لَا بِقَوْلِهِ فَاقْطَعُوا" نہ کہ اللہ کے قول "فَاقْطَعُوا" سے۔ بائی دیکھیے، مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے۔ مسئلہ یہ کہ ایک شخص نے چوری کر لی اگر اور پھر اس میں وہ پکڑا گیا اور اس کے ہاتھ کو کاٹ دیا گیا۔ تو ہاتھ کاٹنے کے بعد اب جو چوری شدہ مال ہے، اس کے ضمان بھی اس سے لیا جائے گا امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی۔ ہاتھ بھی کاٹیں گے اور اس سے ضمان بھی لیں گے۔ وہ چوری شدہ مال چاہے اس کے پاس خود بخود ہلاک ہوا ہو یا اس نے اسے کیا کیا ہو؟ ہلاک کیا ہو، دونوں صورتوں میں اس سے کیا کیا جائے گا؟ ضمان لیا جائے گا۔ جبکہ ہمارے نزدیک بھئی، کسی صورت میں ضمان نہیں آئے گا۔ جب اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا تو یہ اس کے جرم کی پوری سزا ہو گئی، لہٰذا اب اس پر ضمان نہیں آئے گا بھئی، ضمان نہیں آئے گا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ضمان نہیں آئے گا۔ اختلاف سمجھ میں آ گیا بھئی؟ جی، اب دیکھیے بھئی۔ کہتے ہیں: "وَهَذَا أَيْضًا جَوَابُ سُؤَالٍ مُقَدَّرٍ يَرِدُ عَلَيْنَا مِنْ جَانِبِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى"—یہ بھی ایک سوال مقدر کا جواب ہے جو وارد ہوتا ہے ہم پر امام شافعی رحمہ اللہ کی جانب سے۔ "وَتَقْرِيرُ السُّؤَالِ هَاهُنَا أَيْضًا لَا بُدَّ فِيهِ مِنْ تَمْهِيدِ مُقَدَّمَةٍ"—اور سوال کی تقریر میں جو ہے، یہاں بھی ضروری ہے ایک مقدمہ کی تمہید—"وَهِيَ"—اور وہ یہ—اب مقدمہ شروع کر رہے ہیں—اور وہ یہ کہ "أَنَّ السَّارِقَ إِذَا سَرَقَ شَيْئًا مِنْ أَحَدٍ"—جب اس نے چوری کر لی کسی ایک سے—"وَقُطِعَتْ يَدُهُ فِيهَا"—اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا اس چوری کے اندر—"فَإِنْ كَانَ الْمَسْرُوقُ مَوْجُودًا فِي يَدِ السَّارِقِ"—پس اگر وہ مال مسروق جو تھا وہ موجود تھا سارق، یعنی چور کے قبضے میں—"يُرَدُّ إِلَى الْمَالِكِ بِالِاتِّفَاقِ"—تو لوٹایا جائے گا مالک کو بالاتفاق بھئی۔ بھئی، اگر وہ مال موجود ہے پھر تو امام شافعی رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں: واپس کرنا پڑے گا۔ ہم بھی کیا کہتے ہیں؟ واپس کرنا پڑے گا۔ ہاں، اگر وہ ہلاک یا استہلاک ہو جاتا ہے تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ضمان دینا پڑے گا۔ ہم کہتے ہیں: ضمان نہیں دینا پڑے گا۔ "وَإِنْ كَانَ هَالِكًا"—اور اگر وہ مال ہلاک ہونے والا ہے، یعنی ہلاک ہو گیا ہے—"فَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ يَجِبُ الضَّمَانُ عَلَيْهِ"—تو امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اس پر ضمان واجب ہو گا—"سَوَاءٌ هَلَكَ بِنَفْسِهِ أَوْ اسْتَهْلَكَهُ"—ایک ہے ہلاک، ایک ہے استہلاک بھئی۔ ہلاک کا معنی: خود ہلاک ہونا، اور استہلاک کا معنی: ہلاک کرنا۔ "سَوَاءٌ هَلَكَ بِنَفْسِهِ"—برابر ہے کہ وہ مال خود ہلاک ہوا ہو—"أَوْ اسْتَهْلَكَهُ"—یا اس چور نے کیا کیا ہو اس کو ہلاک کر دیا ہو۔ "وَعِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى لَا يَجِبُ الضَّمَانُ قَطُّ"—اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ضمان واجب نہیں ہو گا کبھی بھی—"إِلَّا عِنْدَ الِاسْتِهْلَاكِ فِي رِوَايَةٍ"—مگر استہلاک کی صورت میں ایک روایت میں۔ یہ ایک روایت ہے بھئی، مشہور روایت جو ہے وہ یہ کہ ضمان آئے گا ہی نہیں، چاہے ہلاک ہو چاہے استہلاک۔ ہاں، ایک روایت میں آتا ہے کہ ہلاک کی صورت میں ضمان نہیں آئے گا، لیکن استہلاک کی صورت میں ضمان... یہی بات کر رہے ہیں کہ امام صاحب کے نزدیک: "لَا يَجِبُ الضَّمَانُ قَطُّ إِلَّا عِنْدَ الِاسْتِهْلَاكِ فِي رِوَايَةٍ"—مگر استہلاک کے وقت ایک روایت کے اندر—"وَذَلِكَ"—یہ جو اس کی وجہ یہ ہے، یہ جو ضمان کا نہ آنا ہے بھئی، چاہے ہلاک ہو چاہے استہلاک، دونوں صورتوں میں—"لِأَنَّهُ"—اس لیے کیونکہ—"حِينَ أَرَادَ السَّارِقُ السَّرِقَةَ"—اس لیے کہ جب ارادہ کیا چور نے چوری کا—"يَبْطُلُ قُبَيْلَ السَّرِقَةِ"—تو باطل ہو جاتی ہے قبيل، تصغیر ہے قبل کی بھئی، تو باطل ہو جاتی ہے چوری سے کچھ پہلے... کیا باطل ہو جاتی ہے؟ "عِصْمَةُ الْمَالِ الْمَسْرُوقِ مِنْ يَدِ الْمَالِكِ"—مال مسروق کی عصمت مالک کے قبضے سے، مالک کے ہاتھ سے، یعنی اس کی حفاظت کیا ہو جاتی ہے مالک کے ہاتھ سے؟ ختم ہو جاتی ہے، باطل ہو جاتی ہے۔ "حَتَّى يَصِيرَ فِي حَقِّهِ مِنْ جُمْلَةِ مَا لَا يَتَقَوَّمُ"—یہاں تک کہ وہ ہو جاتا ہے اس مالک کے حق میں اس جملہ میں سے، اس مجموعے میں سے، "مِنْ جُمْلَةِ مَا" اس جملے میں سے کہ "مَا لَا يَتَقَوَّمُ" جو کہ متقوم نہیں ہے، جس کی قیمت نہیں۔ مالک کی بھئی، چوری سے تھوڑے دیر پہلے بھئی، وہ چور چوری کرنے کے لیے پہنچ گیا بھئی، تو چوری سے بس کچھ پہلے اس مال کی عصمت باطل ہو گئی۔ اس کی حفاظت کیا ہو گئی مالک کے ہاتھ سے؟ باطل ہو گئی، باطل ہو گئی۔ اور مالک کے حق میں وہ مال غیر متقوم کی طرح ہو گیا، ایسا مال جس کی کوئی قیمت ہی نہ ہو بھئی۔ "وَتَتَحَوَّلُ عِصْمَتُهُ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى"—اور منتقل ہو گئی اس کی حفاظت اللہ تعالی کی طرف، اس کی عصمت کس کی طرف منتقل ہو گئی؟ اللہ کی طرف منتقل ہو گئی—"وَهُوَ مُسْتَغْنٍ عَنْ ضَمَانِ الْمَالِ"—اور اللہ تعالی کیا ہیں؟ مال کے ضمان سے مستغنی ہیں۔ دیکھو، ہمارے نزدیک ہلاک ہو یا استہلاک ہو، دونوں صورتوں میں چور کا جب ہاتھ کاٹ دیا گیا تو اس سے ضمان وصول نہیں کیا جائے گا، اس پر ضمان نہیں آئے گا بھئی۔ اور ضمان نہیں آئے گا۔ وجہ اس کی یہ مولانا، انہوں نے بتایا کہ چوری سے کچھ پہلے اس مال کی حفاظت مالک سے کیا ہو جاتی ہے؟ ختم ہو جاتی ہے اور مالک کے لیے یہ کس طرح ہو گیا؟ مال غیر متقوم کی طرح بن گیا۔ کس کی طرح بن گیا؟ مال غیر متقوم کی طرح بن گیا، اور اس کی عصمت اور حفاظت منتقل ہو گئی کس کی طرف؟ اللہ کی طرف بھئی، اللہ کی طرف۔ اب مال ہلاک یا استہلاک کی صورت میں ضمان نہیں آئے گا، کیوں؟ اس لیے کیونکہ مالک کے لیے یہ کس کی طرح ہو چکا ہے؟ مال غیر متقوم کی طرح، اور مال غیر متقوم میں ضمان... اس کی قیمت ہی کوئی نہیں ہے بھئی، اس کا کیا ضمان ہے بھئی! صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اس کے لیے مال غیر متقوم کی طرح ہے، لہٰذا اس کے لیے ضمان نہیں آئے گا بھئی۔ اچھا بھئی، اس کے لیے تو ضمان نہیں آئے گا، لیکن آپ نے کیا کہا کہ یہ عصمت کس کی طرف منتقل ہوئی؟ اللہ کی طرف بھئی۔ تو گویا کہ یہ اب حق اللہ کے طور پر ضمان آنا چاہیے بھئی، یہ مال استہلاک کیا ہے تو اس سے کیا کرنا چاہیے؟ مال کو وصول کرنا چاہیے۔ تو کہتے ہیں بھئی: "وَهُوَ مُسْتَغْنٍ عَنْ ضَمَانِ الْمَالِ"، اللہ تعالی کیا ہیں؟ مال کے ضمان سے مستغنی ہیں، اللہ کو مال کی حاجت نہیں ہے بھئی۔ تو حق اللہ کے طور پر بھی مال کا ضمان نہیں آئے گا اس پر، اور حق مالک کے طور پر بھی اس پر ضمان نہیں آئے گا بھئی۔ مالک کے حق میں کے حق کے طور پر کیوں نہیں ضمان آئے گا؟ کیونکہ اس کے لیے مال غیر متقوم کی طرح یہ ہو چکا ہے، اس لیے کیونکہ چوری سے تھوڑی دیر پہلے اس مال کی عصمت، اس کی حفاظت مالک کے لیے کیا ہو گئی تھی؟ مالک سے ختم ہو گئی تھی اور کس کی طرف منتقل ہو گئی تھی؟ اللہ کی طرف، اور مالک کے لیے یہ کس طرح ہو گیا؟ مال غیر متقوم کی طرح ہو گیا بھئی، اور مال غیر متقوم کے اندر تو ضمان نہیں ہے بھئی، اس کی قیمت ہی کوئی نہیں ہے تو ضمان کس چیز کا آئے گا بھئی! مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ "وَإِنَّمَا يَجِبُ الرَّدُّ"—یہ سوال کا جواب دے رہے ہیں۔ سوال یہ کہ آپ نے کیا کہا؟ مالک کے سے کیا ہو گئی؟ عصمت ختم ہو گئی اور اس کے حق میں یہ مال کس کی طرح ہو گیا؟ مال غیر متقوم کی طرح ہو گیا، تو پھر آپ یہ کیوں کہتے ہیں کہ اگر وہ مال موجود ہوا تو مالک کو واپس کرے گا؟ مالک کو لوٹانا ضروری ہے۔ ابھی نہ ہلاک ہوا ہے نہ استہلاک ہوا ہے، مال اسی طرح موجود ہے، تو ہم کیا کہتے ہیں؟ مالک کو لوٹانا پڑے گا۔ ہاتھ چور کا کاٹ دیا گیا، لیکن وہ مال مالک کو لوٹانا پڑے گا! تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے بھئی، آپ کیسے کہہ رہے ہیں مالک کو لوٹانا پڑے گا؟ ابھی تو آپ نے خود کیا کہا کہ عصمت کیا ہو گئی مالک سے منتقل ہوئی کس کی طرف؟ اللہ کی طرف منتقل ہو گئی، اور مالک کے حق میں یہ کس کی طرح ہو گیا؟ غیر متقوم کی طرح ہو گیا۔ تو جواب دیتے ہیں بھئی: ٹھیک ہے، عصمت تو مالک کی طرف سے ختم ہو گئی، لیکن ملکیت تو ختم نہیں ہوئی، ملکیت ابھی بھی اس کی ہے۔ لہٰذا چونکہ مال موجود ہے اور ملکیت اس کی ہے، چاہے کیا ہے؟ مال غیر متقوم ہے، تو لہٰذا اس کو واپس لوٹانا پڑے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اچھا، تو کہتے ہیں: "وَإِنَّمَا يَجِبُ الرَّدُّ إِذَا كَانَ مَوْجُودًا"—اور کہتے ہیں: یہ واپس لوٹانا واجب ہے، سوال کا جواب دے رہے ہیں کہ واپس کرنا کیوں ضروری پھر؟ کہتے ہیں: "وَإِنَّمَا يَجِبُ الرَّدُّ إِذَا كَانَ مَوْجُودًا"—واپس لوٹانا واجب ہے جب وہ مال کیا ہو؟ موجود ہو—"لِأَنَّهُ لَمْ يَبْطُلْ مِلْكُهُ"—اس لیے کہ اس کی ملکیت باطل نہیں ہوئی بھئی—"وَإِنْ زَالَتْ عِصْمَتُهُ"—اگرچہ اس کی عصمت کیا ہو چکی ہے؟ زائل ہو چکی ہے—"فَلِرِعَايَةِ الصُّورَةِ"—پس صورت کی رعایت کے طور پر، یعنی وہ مال کی جو صورت موجود ہے اس کی رعایت کے طور پر—"قُلْنَا بِوُجُوبِ رَدِّ الْمَالِ"—ہم نے مال کے لوٹانے کے واجب ہونے کا قول کیا—"وَلِرِعَايَةِ الْمَعْنَى"—اور معنی کی رعایت کے لیے بھئی، معنی کیا تھا؟ کہ عصمت کس کی طرف منتقل ہو گئی ہے؟ اللہ کی طرف۔ تو معنی کی رعایت کے طور پر—"قُلْنَا بِعَدَمِ ضَمَانِهِ"—ہم قائل ہوئے کس چیز کے؟ اس مال کے عدم ضمان کے بھئی، کہ اس کا ضمان نہیں آئے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو صورتاً جب مال موجود ہے تو ہم نے کیا حکم لگایا؟ لوٹانا پڑے گا۔ اور جب صورتاً موجود نہیں تو ہم نے معنی کی رعایت رکھی بھئی، اور معنی کیا تھا یہاں؟ کہ وہ تو مالک کی عصمت سے نکل کر کس کے عصمت میں داخل ہوا؟ اللہ کی عصمت میں، اور اللہ مال سے مستغنی ہے، تو ضمان نہیں آئے گا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ پھر لوٹ آئے۔ "وَاعْتَرَضَ عَلَيْهِ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ"—اور اعتراض کیا اس پر امام شافعی رحمہ اللہ نے—"بِأَنَّ الْمَنْصُوصَ عَلَيْهِ فِي هَذَا الْبَابِ هُوَ قَوْلُهُ تَعَالَى: وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا"—کہ منصوص علیہ بھئی، وہ جس پر نص آئی ہے اس باب کے اندر، منصوص علیہ جو ہے اس باب کے اندر، وہ اللہ کا یہ قول ہے: "وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا"—کہ چوری کرنے والا مرد اور چوری کرنے والی عورت، پس کاٹ دو ان دونوں کے ہاتھ بطور بدلہ کے جو انہوں نے عمل کیا۔ "وَالْقَطْعُ لَفْظٌ خَاصٌّ"—تو امام شافعی رحمہ اللہ اعتراض فرما رہے ہیں بھئی، تقریر تمہید پتہ چل گئی ساری بھئی؟ اب اعتراض ان کا ذکر کر رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں: "وَالْقَطْعُ لَفْظٌ خَاصٌّ"—کہ قطع کیا ہے؟ ایک لفظ خاص ہے—"وُضِعَ لِمَعْنًى مَعْلُومٍ"—جس کو ایک معنی معلوم کے لیے وضع کیا گیا ہے—"وَهُوَ الْإِبَانَةُ عَنِ الرُّسْغِ"—اور وہ جدا کرنا ہے کلائی سے، رسغ کہتے ہیں کلائی کو بھئی۔ بھئی قطع ید بھئی ایک خاص، واضح معنی ہے اس کا، کیا معنی ہے؟ کلائی سے جدا کرنا، بس اس معنی پر دلالت کر رہا ہے۔ اور اے احناف! آپ کہتے ہو عصمت منتقل ہو گئی بندے سے، مالک سے کس کی طرف؟ اس پر تو یہ دلالت نہیں کر رہا! یہ آپ نے کہاں سے معنی ثابت کیا اور پھر کہا کہ ضمان نہیں آئے گا، کیونکہ عصمت منتقل ہو گئی تھی کس کی طرف؟ اللہ کی طرف، اور اللہ تو مال سے بے نیاز۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ اعتراض سمجھ میں آیا؟ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں قطع کا لفظ آیا اور قطع کا لفظ خاص ہے، اور خاص اپنے مدلول پر قطعی دلالت کرتا ہے، اس میں کسی قسم کی کمی یا زیادتی کرنا صحیح نہیں، اور آپ یہاں پر زیادی کر رہے ہیں! معنی تو صرف اتنا پتہ چل رہا ہے کہ اس کے ہاتھ کو کاٹ دو، یعنی کلائی سے جدا کر دو، بس یہ معنی ہے اس کا۔ اور یہ جو عصمت آپ کہتے ہیں عصمت منتقل ہو گئی اللہ کی طرف، یہ معنی آپ نے کہاں سے نکالا جس کی وجہ سے پھر آپ کہنے لگے کہ اب ضمان نہیں آئے گا! آپ نے یہ کہا نا عصمت منتقل ہو گئی اللہ کی طرف، اور اسی وجہ سے ضمان نہیں آئے گا۔ تو یہ جو عصمت منتقل ہوئی اللہ کی طرف، یہ یہاں سے پتہ نہیں چل رہا، جب پتہ نہیں چل رہا تو آپ کیا کر رہے ہیں خاص کے مقتضى کو باطل کر رہے ہیں۔ خاص کا مقتضى تو کیا تھا کہ وہ اپنے مدلول پر قطعی طور پر دلالت کرتا ہے، اس میں کمی بھی جائز نہیں، زیادتی بھی جائز نہیں۔ تو کہتے ہیں اس لیے کہ قطع جو ہے ایک لفظ خاص ہے جس کو معنی کے لیے وضع کیا گیا ہے: "وَهُوَ الْإِبَانَةُ عَنِ الرُّسْغِ"—اور وہ کلائی سے جدا کرنا ہے—"لَا دَلَالَةَ لَهُ عَلَى تَحَوُّلِ الْعِصْمَةِ عَنِ الْمَالِكِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى"—اس میں کوئی، اس کی کوئی دلالت نہیں اس بات پر کہ عصمت جو ہے وہ منتقل ہو جاتی ہے مالک سے اللہ تعالی کی طرف—"فَالْقَوْلُ بِبُطْلَانِ الْعِصْمَةِ زِيَادَةٌ عَلَى خَاصِّ الْكِتَابِ"—پس یہ بطلان عصمت کا جو قول ہے، یہ زیادی ہے کتاب اللہ کے خاص پر، یہ زیادتی ہے بھئی، جو کہ آپ کے اپنے قانون کے مطابق درست نہیں۔ "فَأَجَابَ الْمُصَنِّفُ رَحِمَهُ اللَّهُ عَنْ جَانِبِ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى"—تو جواب دیا مصنف نے ان کو، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی طرف سے—"بِأَنَّ بُطْلَانَ الْعِصْمَةِ عَنِ الْمَالِ الْمَسْرُوقِ"—کہ عصمت کا باطل ہو جانا مال مسروق سے—"وَإِزَالَتَهَا مِنَ الْمَالِكِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى"—اور اس کا عصمت کا زائل ہو جانا مالک سے اللہ کی طرف—"إِنَّمَا نُثْبِتُهُ بِقَوْلِهِ تَعَالَى جَزَاءً"—اس کو ہم اللہ تعالی کے قول "جَزَاءً" سے ثابت کرتے ہیں، "جَزَاءً بِمَا كَسَبَا" سے ثابت کرتے ہیں—"لَا بِقَوْلِهِ فَاقْطَعُوا"—"فَاقْطَعُوا" سے ثابت نہیں کرتے۔ جب "فَاقْطَعُوا" سے ثابت ہی نہیں ہے، تو خاص کے معنی میں کوئی زیادتی بھی ہم نے نہیں کی بھئی، وہ تو الگ جگہ سے ثابت ہم کر رہے ہیں۔ اس سے کس طرح کرتے ہیں؟ دیکھیے بھئی: "وَذَلِك"—یہ جو ہم اثبات کرتے ہیں "جَزَاءً بِمَا كَسَبَا" سے، کہتے ہیں: "لِأَنَّ الْجَزَاءَ إِذَا وَقَعَ مُطْلَقًا"—اس لیے کہ جزا جب مطلق واقع ہو—"فِي مَعْرِضِ الْعُقُوبَاتِ"—عقوبات کے مقام میں، سزاؤں کے مقام میں جب جزا کا لفظ کیسا آئے؟ مطلق آئے—"يُرَادُ بِهِ مَا يَجِبُ حَقًّا لِلَّهِ تَعَالَى"—تو ارادہ کیا جاتا ہے اس کے ذریعے وہ جو واجب ہوا ہے اللہ کا حق ہو کر، جو کہ بطور اللہ کے حق کے جو واجب ہوا ہے، وہ مراد ہوتا ہے بھئی۔ اور جزا کا لفظ جب مطلق آئے اور سزاؤں کے مقام میں آئے تو اس سے مراد جو ہے وہ اللہ کا حق ہوتا ہے بندے کا حق نہیں بھئی۔ کس کا حق ہوتا ہے؟ وہ اللہ تعالی کا حق ہوتا ہے بندے کا حق نہیں۔ بھئی دیکھیے، یہاں کیا آیا کتاب اللہ میں؟ "جَزَاءً بِمَا كَسَبَا"، یہ بدلہ بطور بدلے کے یعنی یہ بدلہ ہے وہ جو انہوں نے فعل کیا، یہ اس فعل کا بدلہ ہے اور جزا کا لفظ مطلق آیا۔ کس کی طرف سے بدلہ ہے؟ یہ نہیں آیا، اللہ کی طرف سے بدلہ ہے یا بندے کی طرف سے۔ اگر ہوتا "جَزَاءً مِنَ اللَّهِ تَعَالَى" تو معلوم ہوا بدلہ کس کی طرف سے ہے؟ اللہ کی طرف سے، یعنی یہ جو سزا آئی ہے یہ کس کے حق کے طور پر ہے؟ اللہ کے حق کے طور پر اسے وصول کی جا رہی ہے، اس کو سزا لگائی جا رہی ہے۔ اور اگر ہوتا "جَزَاءً مِنَ الْعَبْدِ" یہ سزا کس کی طرف سے بدلہ ہے؟ بندے کی طرف سے، معلوم ہوا یہ جو سزا دی جا رہی ہے کس کے حق کے طور پر ہے؟ بندے کے حق کے طور پر۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہاں جزا کا لفظ مطلق آیا، یہاں اس کے ساتھ نہ "مِنَ اللَّهِ" کی قید ہے نہ "مِنَ الْعَبْدِ" کی قید ہے۔ "مِنَ اللَّهِ" کی قید ہوتی تو پتہ لگتا یہ کس کا حق ہے؟ اللہ کا حق ہے جو اس سے وصول کیا جا رہا ہے۔ اور اگر یہ ہوتا "جَزَاءً مِنَ الْعَبْدِ" تو کیا پتہ لگتا؟ یہ بندے کا حق ہے جو اس سے وصول کیا جا رہا ہے، تو یہاں مطلق آیا۔ اور معلوم ہوا جزا مطلق ہے اور جزائے مطلق جب سزاؤں کے مقام میں آئے اور یہ بھی کون سا مقام ہے؟ سزا کا مقام، تو مطلق جزا جب آئے سزا کے مقام میں تو اس کے ذریعے مراد اللہ کا حق ہوتا ہے کہ یہ چیز اللہ کے حق کے طور پر واجب ہے۔ یہ ہاتھ کا کاٹنا... تو بھئی یہاں پر جزا کا لفظ آیا اور جزا کا لفظ مطلق ہے اور جزا کا لفظ جب مطلق آئے سزاؤں کے مقام میں تو اس کے ذریعے کیا مراد ہوتا ہے؟ کہ یہ جو چیز واجب ہو رہی ہے یہ اللہ کے حق کے طور پر واجب ہو رہی ہے، بندے کے حق کے طور پر نہیں ہے۔ تو یہاں بھی جزا کا لفظ مطلق آیا، تو لہٰذا معلوم ہوا یہ جو ہاتھ کا کاٹنا ہے یہ کس کا حق ہے؟ یہ جو ہاتھ اس کا کاٹا جا رہا ہے یہ حق اللہ کے طور پر بھئی، حق اللہ کے طور پر۔ سوال پیدا ہو گا کہ جزا جب مطلق آئے تو اس سے حق اللہ کیوں مراد ہے؟ وجہ یہ بھئی، کیونکہ جزا کا معنی ہے بدلہ بھئی، بدلہ۔ اور علی الاطلاق بدلہ دینے والی ذات اللہ ہی کی ہے بھئی۔ ہر چیز کا بدلہ دینے والی، پورے اور صحیح طور پر بدلہ دینے والی ذات اللہ تعالی ہی کی ہے، اسی لیے دار الآخرت کو دار الجزاء کہا جاتا ہے بھئی، اسی کیونکہ وہاں پر صرف اللہ ہی کی ذات بدلہ دینے والی ہو گی ہر چیز کی بھئی۔ تو یہاں جزا مطلق آیا اور علی الاطلاق بدلہ دینے والی ذات اللہ تعالی ہی کی ہے، تو لہٰذا یہاں معلوم ہوا یہ جو بدلہ ہے یہ کس کے حق کے طور پر ہے؟ اللہ کے حق کے طور پر ہے، بندے کے حق کے طور پر نہیں ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دیکھو یہ اللہ فرما رہے ہیں چوری کرنے والے مرد اور عورت کا ہاتھ ان دونوں کے ہاتھ کاٹ دو "جَزَاءً" بطور بدلہ کے۔ معلوم ہوا یہ بدلہ، یہ کس کا حق ہے؟ اللہ کا حق ہے، کیونکہ جزا کا لفظ کیا آیا یہاں پر؟ مطلق آیا اور سزا کا ذکر ہو رہا ہے اور سزا کے باب میں جب جزا کا لفظ مطلق آ جائے تو کس چیز مراد ہوتی ہے؟ وہ چیز جو اللہ کے حق کے طور پر کیا ہو؟ واجب ہو بھئی۔ "وَإِنَّمَا يَكُونُ حَقًّا لِلَّهِ تَعَالَى"—اچھا، معلوم ہوا یہ جو ہاتھ کا کاٹنا ہے یہ حق عبد نہیں ہے بلکہ یہ کیا ہے؟ اللہ کا حق ہے، کیونکہ یہاں جزا کا لفظ کیسے آیا؟ مطلق آیا بھئی۔ صرف جزا کا لفظ کیا آیا؟ مطلق آیا بھئی۔ تو معلوم ہوا مطلق، اور ضابطہ کیا ہے؟ کہ سزاؤں کے باب میں جب جزا کا لفظ مطلق آئے تو کیا مراد ہوتی ہے اس سے؟ جو اللہ کے حق کے طور پر واجب ہو، اللہ کے حق کے طور پر۔ اور اللہ کے حق کے طور پر یہ سزا تبھی ہو سکتی ہے جب ہم یہ کہیں کہ یہ مال اللہ کی عصمت سے کیا کیا ہے اس نے؟ لیا ہے، مالک کی عصمت سے نہیں۔ بھئی یہ سزا کس کے حق کے طور پر ہے؟ اللہ کے حق کے طور پر۔ معلوم ہوا کس کا مال چوری کیا اس نے؟ اللہ کا مال چوری کیا بھئی، اللہ کی عصمت میں تھا، اسی لیے سزا بھی کس کے حق کے طور پر ہے؟ اللہ کے حق کے طور پر۔ بات ثابت ہو گئی کہ نہیں ہوئی بھئی؟ جب اللہ کے حق کے طور پر ہے تو سزا بھی کس کے حق کے طور پر ہوئی؟ اگر مالک کے حق کے طور پر یہ سزا ہو تو یہ اللہ کے حق کے طور پر ہوئی؟ بھئی اگر ہم یہ کہیں کہ مال ابھی بھی کیا تھا؟ کس کی عصمت میں تھا؟ مالک کی عصمت میں تھا، تو مالک کی عصمت کو ختم کرنا لازم آیا بھئی، کیا؟ مالک کی عصمت کو چور نے ختم کیا، تو سزا بھی کس کے طور پر ہونی چاہیے؟ مالک کی عصمت کو ختم کرنے کی وجہ سے سزا ہونی چاہیے تھی، لیکن یہاں جزا کا لفظ بتلا رہا ہے کہ یہ مالک کی جزا حق کے طور پر نہیں ہے بلکہ کس کے حق کے طور پر ہے؟ اللہ کے حق کے طور پر ہے، اور اللہ کے حق کے طور پر یہ سزا تبھی ہو سکتی ہے جبکہ یہ مال کس کی عصمت میں آ چکا ہو؟ اللہ کی عصمت میں ہو تو سزا بھی اللہ کا حق ہے، اگر مالک کی عصمت میں ہے تو سزا بھی کس کا حق ہے؟ مالک کا حق ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ "وَإِنَّمَا يَكُونُ حَقًّا لِلَّهِ تَعَالَى"—اور یہ جو ہے جزا اللہ کا حق ہو گی—"إِذَا وَقَعَتِ الْجِنَايَةُ فِي عِصْمَتِهِ وَحِفْظِهِ"—جب جنایت واقع ہو اللہ کی عصمت اور اللہ کی حفاظت میں—"وَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ فَقَدْ"—اور جب ایسا ہے، فقط—اچھا۔ تو دیکھو یہ جو معلوم ہوا، یہ جو سزا ہے کس کے حق کے طور پر ہے؟ اللہ کے حق کے طور پر۔ معلوم ہوا مال مالک کی عصمت سے کدھر منتقل ہو چکا ہے؟ اللہ کی عصمت کی طرف منتقل ہوا تو یہ حق اللہ ہوا تو سزا بھی کس کے طور پر آئی؟ حق اللہ کے طور پر آئی۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا "جَزَاءً" کے لفظ نے بتلا دیا کہ عصمت منتقل ہو چکی ہے کس کی طرف؟ اللہ کی طرف منتقل ہو چکی ہے۔ معنی سمجھ میں آئے یا نہیں جزا سے بھئی؟ تو کہتے ہیں: "وَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ"—اور جب اس طرح ہے—"فَقَدْ شُرِعَ جَزَاؤُهُ جَزَاءً كَامِلًا"—تو مشروع ہوئی اس کی جزا بھی کامل جزا کے طور پر۔ تو اس کی جو... اس کا جو بدلہ ہوا وہ بھی کس قسم کا بدلہ ہے؟ بھئی اس لیے کہ جنایت کامل ہے، کیونکہ مال کس کی عصمت سے لیا ہے اس نے؟ اللہ کی عصمت سے، اور تو سمجھ میں آیا؟ اور اللہ کی عصمت ہے کامل، تو معلوم ہوا جرم جو اس نے کیا وہ بھی کس قسم کا ہے؟ کامل جرم ہے، تو اس کی سزا بھی کس قسم کی ہونی چاہیے؟ کامل سزا ہونی چاہیے بھئی، لہٰذا یہ کامل سزا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: "فَقَدْ شُرِعَ جَزَاؤُهُ جَزَاءً كَامِلًا"—تو مشروع ہوئی اس کی جزا بھی کامل جزا ہو کر—"وَهُوَ الْقَطْعُ"—اور وہ کامل جزا کیا ہے؟ ہاتھ کا کاٹنا ہے—"وَلَا يَحْتَاجُ إِلَى ضَمَانِ الْمَالِ"—اور یہ محتاج نہیں ہے ضمان مال کا، یہ پوری سزا ہو گئی بھئی، سمجھ میں آیا؟ اب اس میں ضمان مال کی احتیاج نہیں ہے بھئی۔ "غَايَتُهُ"—آخری حد یہ ہے کہ... یعنی ان کا آخری بات یہ ہے کہ—"أَنَّهُ إِذَا كَانَ الْمَالُ مَوْجُودًا فِي يَدِهِ يُرَدُّ إِلَيْهِ لِأَجْلِ الصُّورَةِ"—کہ جب مال موجود ہو اس چور کے قبضے میں تو لوٹایا جائے گا اس کی طرف صورت کی وجہ سے۔ "وَلِأَنَّ جَزَاءَ"—یہ دوسری بات ذکر کر رہے ہیں بھئی۔ "لِأَنَّ الْجَزَاءَ"—اوپر آیا تھا دو تین سطریں اوپر "لِأَنَّ الْجَزَاءَ إِذَا وَقَعَ مُطْلَقًا"۔ سمجھ میں آیا؟ اسی پر عطف ہے۔ "وَلِأَنَّ الْجَزَاءَ"—اور نیز اس لیے کہ جزا جو ہے—"يَجِيءُ بِمَعْنَى كَفَى"—کس معنی میں آتا ہے؟ "کفیٰ" کے معنی میں آتا ہے کہ کافی ہے—"فَيَدُلُّ"—پس یہ دلالت کرتا ہے—"عَلَى أَنَّ الْقَطْعَ هُوَ كَافٍ لِهَذِهِ الْجِنَايَةِ"—کہ ہاتھ کا کاٹنا وہ کافی ہے اس جنایت کے لیے—"وَلَا يَحْتَاجُ إِلَى جَزَاءٍ آخَرَ"—اور یہ محتاج نہیں ہے کسی دوسرے جزا کا بھی۔ سمجھ میں آیا؟ ضمان مال تو بھئی جزا کیا ہے صرف؟ چوری کی جزا ہاتھ کاٹو۔ تو صرف یہ جزا ہے اور کسی جزا کی ضرورت نہیں، کسی اور بدلے کی کہ مال بھی اس سے وصول کیا جائے۔ تو کہتے ہیں یہ دلالت کرتا ہے کہ ہاتھ کا کاٹنا وہ کافی ہے اس جنایت کے لیے، "وَلَا يَحْتَاجُ إِلَى جَزَاءٍ آخَرَ"—اور یہ محتاج نہیں ہے کسی دوسری جزا کا—"حَتَّى يَجِبَ الضَّمَانُ"—یہاں تک کہ ضمان بھی واجب ہو۔ "هَذَا نَبْذٌ مِمَّا ذَكَرْتُهُ فِي التَّفْسِيرِ الْأَحْمَدِيِّ وَكَفَاكَ هَذَا"—یہ تھوڑا سا ہے، کچھ ہے، نبذ کا معنی کچھ، تھوڑا سا۔ "هَذَا نَبْذٌ مِمَّا"—یہ تھوڑا سا ہے اس میں سے جو میں نے ذکر کیا ہے اپنی تفسیر احمدی کے اندر—"وَكَفَاكَ هَذَا"—اور آپ کے لیے یہ کافی ہے۔ چلیے، بس مولانا۔ "هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ"۔