Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-012

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 05 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 11
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
سبق نمبر۔12 ولما فرغ المصنف رحمه الله تعالى عن تعريف الخاص وتقسيمه، شرع في بيان حكمه، فقال: وحكمه أن يتناول المخصوص قطعا؛ أي أثره المترتب عليه أن يتناول المخصوص الذي هو مدلوله قطعا بحيث يقطع احتمال غيره. فإذا قلنا: "زيد عالم"، فزيد خاص لا يحتمل غيره احتمالا ناشئا عن دليل. گزشتہ سبق میں ہم نے خاص کی تعریف پڑھی تھی اور اس کے افراد کے بارے میں پڑھا تھا. تو خلاصۂ بحث یہ کہ انہوں نے بتلایا تھا کہ خاص ہر وہ لفظ ہے جس کو وضع کیا گیا ہو ایک معلوم معنی کے لیے علی الانفراد. کس طریقے پر؟ انفراد کے طریقے پر، بھئی. اس پر اشکال ہوتا تھا کہ بھئی انہوں نے معنی کا لفظ ذکر کیا حالانکہ آگے یہ تقسیم کریں گے، قسمیں بتلائیں گے ان میں ایک خاص العين بھی ہے اور خاص العين وہ تو معنی کا نام نہیں ہے بلکہ وہ تو ذات کا نام ہے بھئی. تو میں نے بتلایا تھا کہ یہاں معنی سے کیا مراد ہے؟ مفہوم مراد ہے اور وہ عام ہے، وہ ذات یعنی عین کو بھی شامل ہے اور معنی کو بھی شامل ہے. تو جب عین کو شامل ہوا تو خاص العين اس کے اندر داخل ہو گیا. پھر اس کے بعد شارح نے فوائدِ قیود ذکر کیے تھے اور بتلایا تھا کہ "كل لفظ" یہ جنس کے درجے میں ہے اور باقی الفاظ فصل کے درجے میں ہیں. یہاں شارح پر اعتراض ہوتا تھا کہ آپ نے کہا کہ "كل لفظ" جنس کے درجے میں ہے، آپ کو کہنا چاہیے تھا یہ جنس ہے اور باقی قیودات جو ہیں وہ فصل کی طرح ہیں، آپ کو کہنا چاہیے تھا باقی قیودات فصل ہیں. تو جواب میں نے دیا تھا کہ بتلایا تھا کہ بھئی جو کچھ حقائقِ موجودہ ہیں، کچھ حقائقِ اعتباریہ ہیں. حقائقِ موجودہ کے اندر جنس اور فصل حقیقتاً ہوتے ہیں جبکہ حقائقِ اعتباریہ کے اندر جنس اور فصل حقیقتاً نہیں ہیں بلکہ اعتباری ہیں. تو اسی لیے چونکہ وہ حقیقتاً جنس اور فصل نہیں ہیں اس لیے کہا یہ جنس کے درجے میں ہے اور فصل کی طرح ہے. پھر بتلایا تھا کہ "وضِع لمعنىً" کی قید کے ذریعے مہمل خارج ہو گیا، اس لیے کہ مہمل کو کسی معنی کے لیے وضع نہیں کیا گیا ہوتا. اسی طرح آگے "وضِع لمعنىً معلومٍ"، معلوم کی قید آئی تھی. اب اس کا معنی معلوم المراد ہوگا یا اس کا معنی معلوم البيان ہوگا، بھئی. معلوم المراد یعنی کہ اس کا اس کی مراد معلوم ہو. بھئی دیکھو مشترک کے چار پانچ معانی آتے ہیں، مثلاً دو آ جائیں گے، ایک سے زیادہ ہوں گے، دو ہوں گے، تین ہوں گے، چار ہوں گے یا پانچ معنی ہوں گے. ان میں سے کون سا معنی مراد ہے؟ کون سا معنی مراد ہے؟ تو جب یہ قید لگائی کہ معلوم المراد ہو تو پھر بھی مشترک جو ہے مشترک اس سے پھر اس صورت میں خارج ہو جائے گا اس لیے کہ اس کے معنی کی مراد معلوم نہیں ہوتی. مشترک کے کون سا معنی مراد ہے بھئی؟ کوئی ایک ہے متعین ان میں سے؟ نہیں، وہ تو کسی بھی معنی میں استعمال ہو سکتا ہے. تو لہذا مشترک کے معنی کی مراد معلوم نہیں. اور انہوں نے تو کہا کہ وہ معنی کی مراد کیا ہونی چاہیے؟ معلوم ہونی چاہیے. تو اس قید کے ذریعے مشترک کیا ہو گیا؟ خارج ہو گیا. اور اگر معلوم کا ترجمہ معلوم البيان کے کریں کہ اس کے معنی جو ہے وہ معلوم البيان ہو یعنی اس کا معنی وہ ظاہر ہو، خوب واضح ہو، تو اس صورت میں بھئی مشترک جو ہے وہ خارج نہیں ہوتا. اس لیے کہ مشترک کے دو معنی ہیں، تین ہیں يا چار ہیں لیکن ہیں سارے واضح، بھئی. ان میں کسی قسم کا خفا وغیرہ نہیں ہے، بھئی. تو لہذا اگر معلوم سے معلوم المراد ہو تو اس سے مشترک خارج ہوا اور اگر اس سے معلوم البيان ہے تو اس اس صورت میں اس سے مشترک خارج نہیں. وہ "على الانفراد" کی قید کے ذریعے خارج ہو گیا، کیونکہ "على الانفراد" کا معنی ہے انفرادی طور پر، اکیلا. یعنی اکیلا ہے کس سے؟ انفراد کے طریقے پر ہونا، اب یہ افراد سے بھی انفراد ہو اور دوسرے معنی سے بھی افراد سے اکیلا ہے تو عام خارج ہوا، اس لیے کیونکہ عام افراد سے اکیلا نہیں ہوتا بلکہ اس میں کیا ہوتے ہیں؟ دیگر افراد بھی اس کے ساتھ شامل ہوتے ہیں. اور دوسرے معنی سے کیا ہو؟ اکیلا ہو، یہ بھی اس میں داخل ہوا مشترک خارج ہوا، اس لیے کہ مشترک دوسرے معنی سے اکیلا نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ اس کے تو کئی معانی آتے ہیں دو يا تین يا چار، بھئی. پھر اس کے بعد ایک اعتراض کا جواب دیا تھا بھئی کہ یہاں پر بھئی "لفظ" کہا اور پیچھے "نظم" کہا تو یہاں بھی "نظم" کہنا چاہیے تھا. جواب دیتے ہیں بھئی، دو جواب دیے بھئی، کہ بھئی یہاں اصل پر چلتے ہوئے کیا کیا؟ لفظ استعمال کیا، کیونکہ اصل میں بھی کیا استعمال کیا جاتا ہے؟ لفظ استعمال کیا جاتا ہے، بھئی. اور نیز دوسری بات یہ کہ یہ اقسام کتاب اللہ کے ساتھ خاص نہیں ہیں، بھئی. وہاں تو ہم نے نظم کہا تھا کتاب اللہ کی ہی ادب کی وجہ سے، اور یہاں تو جو اب تقسیم ہو رہی ہے، اقسام بیان ہو رہی ہیں، یہ صرف کتاب اللہ کی اقسام نہیں ہیں بلکہ کس میں جاری ہوتی ہیں؟ پورے کلامِ عرب کے اندر جاری ہوتی ہیں. تو اس لیے یہاں لفظ کو لے کر آئے، بھئی. پھر اس کے بعد ایک اشکال ہوتا تھا کہ بھئی "كل" کا لفظ ذکر کیا اور "كل" کا لفظ استعمال کرنا تعریفات کے اندر پسندیدہ نہیں، اس لیے کہ "كل" کا لفظ جو ہے وہ آتا ہے احاطۂ افراد کے لیے، سارے کے سارے سارے کے سارے، تو اس کے ذریعے افراد کا احاطہ کر لیا جاتا ہے، اور تعریف تو ماہیت کی کی جاتی ہے، بھئی. تو لہذا تعریف کے اندر "كل" کا لفظ "كل" کے لفظ کا استعمال پسندیدہ نہیں، تو اس کا بھی بتلایا بھئی، کہ ہاں بھئی، پسندیدہ نہیں لیکن یہاں پر اس کو استعمال کر لیا تعریف کو جامع بنانے کے لیے تاکہ یہ کیا کر لے؟ اپنے تمام افراد کا احاطہ کر لے، احاطہ کر لے. اس کے بعد اس کے افراد بتلائے تھے بھئی، کہ خاص کے تین افراد ہیں بھئی، تین قسمیں ہیں بھئی، تقسیم کی تھی: ایک خاص الجنس، ایک خاص النوع، ایک خاص العين. اچھا، پھر اس کے بعد انہوں نے شرح میں بتلایا تھا کہ بھئی ایک ہے منطقی جنس اور نوع، اور ایک ہے اصولیین کی جنس اور نوع. مناطقہ جنس کسے کہتے ہیں؟ "هو كلي مقول على كثيرين مختلفين بالحقائق"، اور نوع کسے کہتے ہیں؟ "هو كلي مقول على كثيرين متفقين بالحقائق". تو لہذا جنس کے جو افراد ہوں گے ان کی حقیقتیں مختلف ہوں گی، جبکہ نوع کے جو افراد ہیں ان کی حقیقتیں ایک ہوگی. تو یہاں وہ چونکہ مناطقہ بحث کرتے ہیں حقیقت کے بارے میں، اس لیے تعریف کے اندر بھی کون سی چیز ذکر کی گئی؟ حقیقت کی، حقائق کو ذکر کیا گیا. جبکہ اصولی بحث کرتا ہے غرض سے بھئی، مقصد سے. اور اس تو لہذا ان ان کی تعریف الگ ہے. اصولی تعریف کیا کرتا ہے جنس کی؟ "هو كلي مقول على كثيرين مختلفين بالأغراض"، اور نوع کی تعریف کیا کرتا ہے؟ "هو كلي مقول على كثيرين متفقين بالأغراض"، بھئی. تو لہذا مناطقہ کی جنس اور نوع کی تعریف الگ ہوئی، اصولی کی جنس اور نوع کی تعریف الگ ہوئی. تو لہذا بسا اوقات ایک چیز جو مناطقہ کے نزدیک نوع ہوتی ہے، اصولی کے نزدیک وہ کیا ہوتی ہے؟ جنس ہوتی ہے. جیسے کہ انسان، بھئی. جیسے کہ انسان. مناطقہ کے نزدیک یہ نوع ہے، اور اصولی کے نزدیک یہ جنس، کیونکہ اس کے تحت رجل بھی آتا ہے اور امراۃ بھی آتی ہے، اور دونوں کی اغراض الگ ہیں، بھئی. تو مناطقہ جو ہے وہ حقیقت سے بحث کیا کرتے ہیں اور اصولیین جو ہیں وہ اغراض و مقاصد سے بحث کیا کرتے ہیں. لہذا حیوان یہ مناطقہ کے نزدیک جنس ہے اس لیے کہ یہ ایسے کثیرین پر بولا جاتا ہے جن کی حقیقتیں مختلف ہیں، اور انسان مناطقہ کے نزدیک وہ نوع ہے، کیونکہ یہ ایسے کثیرین پر بولا جاتا ہے جن کی حقیقت کیا ہے؟ ایک. تو اس کے تحت اگرچہ مرد بھی آتا ہے، عورت بھی آتی ہے، لیکن ان سب کی حقیقت کیا ہے؟ وہ حیوانِ ناطق ہیں. جبکہ اصولی نے بحث کرنی ہے اغراض و مقاصد سے، تو اصولی کے نزدیک انسان نوع نہیں بلکہ کیا ہے؟ جنس ہے، کیونکہ اس انسان کے تحت رجل بھی آ گیا اور امراۃ بھی آ گئی. رجل کے اغراض الگ، امراۃ کے اغراض الگ ہیں، بھئی. تو یہ یہ ایسی کلی انسان ایسی کلی ہے جو ایسے کثیرین پر بولا جاتا ہے جن کی جن کے اغراض کیا ہیں؟ مختلف ہیں، بھئی. اغراض مختلف ہیں، بھئی. اور نوع کس کو کہتے ہیں؟ اصولیین کے نزدیک ایسی کلی ہے جو ایسے کثیرین پر بولی جائے جن کی اغراض کیا ہوں؟ متفق ہوں. لہذا رجل یہ کیا ہے اصولیین کے نزدیک؟ نوع ہے، اور امراۃ بھی نوع ہے، بھئی. تو یہ دوستو. تو لہذا ماتن نے پھر تین مثالیں ذکر کی تھیں بھئی، خاص الجنس، خاص النوع، اور خاص العين کی. خاص الجنس کی مثال کیا ذکر کی؟ انسان. خاص النوع کی مثال؟ رجل. اور خاص العين کی مثال؟ زید ذکر کی تھی، بھئی. اس پر اشکال ہوتا ہے کہ ٹھیک ہے بھئی، زید سے تو کوئی معین شخص مراد ہے، اس کے اندر تو یہ ایک ذات پر دلالت کر رہا ہے علی الانفراد، کس طریقے پر؟ انفراد کے طریقے پر، یعنی اکیلے ایک شخص پر دلالت کر رہا ہے. لیکن انسان اور رجل، انسان تو بہت ہیں بھئی، اسی طرح رجل بھی بہت زیادہ ہیں، تو لہذا یہ تو خاص خاص کی مثال ان کو بنانا درست نہیں ہے بھئی، کیونکہ خاص میں کیا ہوتا ہے؟ وہ تو انفراد کے طریقے پر دلالت کرتا ہے بھئی، اس کے اندر شرکت وغیرہ نہیں ہوتی بھئی، افراد نہیں ہوتے، حالانکہ انسان اور رجل کے تو افراد ہیں. میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ بھئی، انسان کا مفہوم جو ہے، رجل کا مفہوم مراد ہے، اور معنی کے اعتبار سے یہ خاص ہیں. انسان کس کو کہتے ہیں؟ حیوانِ ناطق. تو انسان حیوانِ ناطق کو کہتے ہیں، تو دیکھو یہ حیوانِ ناطق یہ معلوم معنی ہے یا نہیں بھئی؟ معلوم معنی ہے. اور صرف اسی معنی پر انسان دلالت کر رہا ہے، کسی اور معنی پر دلالت نہیں کر رہا. تو افراد سے قطع نظر صرف مفہوم ملحوظ ہے. اگر افراد کی طرف چلے گئے پھر تو یہ عام بن جائے گا، خاص نہیں رہے گا، بھئی. اسی طرح رجل جو ہے، رجل کسے کہتے ہیں؟ وہ مذکر بنی آدم میں سے جو صغر کی حد سے آگے نکل جائے، صغر کی حد سے بڑھ جائے بالغ ہونے کی وجہ سے. رجل کسے کہتے ہیں؟ وہ مذکر بنی آدم میں سے جو صغر کی حد سے بڑھ جائے کس کی وجہ سے؟ بالغ ہو جانے کی وجہ سے، بھئی. تو اس کو رجل کہتے ہیں. تو دیکھو رجل کا یہ مفہوم ہے، اس کے علاوہ کوئی اور معنی ہے؟ نہیں. اس کے علاوہ اور کوئی معنی؟ تو رجل کا مفہوم مراد ہے اور اس کے اندر تعدد نہیں ہے، تو رجل کا مفہوم مراد ہوا قطع نظر اس کے افراد کے، افراد کا لحاظ نہیں ہے، بھئی. اچھا بھئی، آگے اب سبق دیکھیے بھئی. ولما فرغ المصنف رحمه الله تعالى عن تعريف الخاص وتقسيمه شرع في بيان حكمه. جب مصنف رحمہ اللہ فارغ ہوئے خاص کی تعریف سے اور اس کی تقسیم سے تو شروع ہو گئے اس کا حکم بیان کرنے میں. فقال: پس فرمایا: وحكمه أن يتناول المخصوص قطعا. حکم خاص کا یہ ہے کہ وہ شامل ہوتا ہے مخصوص کو قطعی طور پر. یعنی وہ جو مخصوص جس پر اس نے دلالت کی ہے، یہ اس کو قطعی طور پر شامل ہوتا ہے. آگے بتلا رہے ہیں: أي أثره المترتب عليه. یہ حکم کا معنی بیان کیا. حکم سے کیا مراد ہوتا ہے؟ اس کا وہ خاص، خاص کے حکم سے مراد خاص کا وہ اثر ہے جو اس پر مرتب ہوتا ہے. بھئی دیکھیے، آپ نے آپ نے زید کہا بھئی، کیا کہا؟ زید کہا. اس نے کس پر دلالت کی؟ شخصِ معین پر، اس شخصِ معین پر دلالت کر دی، تو یہ اس شخصِ معین کو شامل ہوا قطعی طور پر. کوئی اور احتمال ہے یہاں پر؟ کوئی اور احتمال نہیں. تو یہ جو آپ نے لفظِ زید استعمال کیا، اس کو لفظِ زید کہا آپ نے، تو اس کا کیا اثر مرتب ہوا؟ کہ اس نے اس معین ذات پر کیا کیا؟ قطعی طور پر دلالت کر دی اور کسی قسم کا اس میں احتمال نہیں ہے، بھئی. تو یہ اس کا اثر مرتب ہوا. تو یہ معنی ہے خاص کے حکم کا معنی کیا ہے؟ اس کا وہ اثر جو مرتب ہوتا ہے. اور کیا اثر مرتب ہوتا ہے اس کا؟ کہ یہ کیا کرے گا؟ اپنے مدلول کو قطعی طور پر شامل ہو جائے گا. جیسے ہی آپ بولیں گے، آپ کہیں گے، تو یہ فوراً کیا کرے گا؟ اس ذات پر یا اس معنی پر قطعی طور پر دلالت کر دے گا اور کوئی احتمال نہیں ہوگا. بات سمجھ میں آ گئی سب کو، بھئی؟ تو اسی لیے کہا: وحكمه أي أثره المترتب عليه أن يتناول المخصوص الذي هو مدلوله قطعا. اس کا وہ اثر جو اس پر مرتب ہوتا ہے کہ یہ شامل ہوتا ہے اس مخصوص کو جو کہ اس کا مدلول ہے قطعی طور پر. بحيث يقطع احتمال الغير. اس حیثیت سے کہ ختم کر دیتا ہے غیر کے احتمال کو، یعنی وہاں اور کسی چیز کا احتمال پھر نہیں ہو سکتا. فإذا قلنا: زيد عالم. پس جب ہم کہتے ہیں: زيد عالم، تو اس کے اندر زید بھی خاص ہے اور عالم بھی کیا ہے؟ خاص ہے، دیکھیے خود بتلائیں گے. فإذا قلنا: زيد عالم. جب ہم کہتے ہیں: زيد عالم. فزيد خاص. تو زید خاص ہے. لا يحتمل غيره. جو اس کے علاوہ کسی اور کا احتمال. احتمالا ناشئا عن دليل. ایسا احتمال جو پیدا ہونے والا ہو دلیل سے. ایسا احتمال جو کسی دلیل کی وجہ سے آئے. بھئی، میں نے کہا: زيد عالم. زيد عالم. تو اس زید نے کس پر دلالت کی؟ اس معین شخص پر، ذاتِ زید پر دلالت کی. اس کے علاوہ کوئی اور احتمال ہے؟ ہاں، آپ کے ذہن میں آ سکتا ہے، بھئی، ہو سکتا ہے زید بول کر اس کا دوست عمر مراد ہو. آ سکتی ہے یہ بات یا نہیں آ سکتی؟ آ تو سکتی ہے، لیکن یہ جو بات آپ کے ذہن میں آئی، یہ کیا کسی دلیل سے آئی ہے یا ویسے ہی آ گئی ہے؟ ویسے، تو بغیر دلیل کے کوئی احتمال ہے اس کی بات ہم کر ہی نہیں رہے. ہاں، دلیل کے ذریعے کوئی اور احتمال نہیں. لفظِ زید سے صرف کیا مراد ہے؟ ذاتِ زید، اور کوئی احتمال نہیں ہے. یہ معنی ہے کہ "لا يحتمل غيره" کہ یہ اپنے علاوہ کسی اور کو شامل نہیں ہوتا، کسی اور کا احتمال نہیں رکھتا. ایسا احتمال "ناشئا عن دليل" جو کس کے ذریعے پیدا ہو رہا ہو؟ دلیل کے ذریعے. اسی طرح وعالم أيضا خاص. عالم بھی خاص ہے. لم يحتمل غيره. یہ اس کے علاوہ کسی اور کا احتمال نہیں رکھتا. كذلك. اسی طریقے پر. یعنی یہ غیر کا احتمال نہیں رکھتا، ایسا احتمال جو کسی دلیل سے پیدا ہو. کسی دلیل کی بنیاد پر یہ کسی غیر کا احتمال نہیں رکھتا، ہاں ویسے احتمال آ جائے وہ تو الگ بات ہے بھئی. دلیل سے کوئی اور احتمال نہیں آتا. فكل واحد من الكلمتين يتناول مدلوله قطعا. پس دونوں کلموں میں سے ہر ایک جو ہے وہ شامل ہے اپنے مدلول کو قطعی طور پر. مدلول وہ جس پر یہ دلالت کر رہے ہیں بھئی. فثبتت من مجموع الكلام. پس ثابت ہو گیا مجموعۂ کلام سے. زيد عالم، یہ جو مجموعۂ کلام ہے اس سے ثابت ہوا، کیا ثابت ہوا؟ قطعية الحكم بعالم على زيد. آخر سے اب ترجمہ کروں گا: زید پر عالم کے حکم کے قطعی ہونے کا. زید پر جو یہ عالم ہونے کا حکم لگایا گیا ہے، یہ کس قسم کا ہے؟ قطعی ہے. کیوں؟ اس لیے کہ اس کی اس کے اندر زید کا لفظ بھی خاص ہے، وہ صرف ذاتِ زید پر دلالت کر رہا ہے. عالم کا لفظ بھی خاص ہے، عالم کا معنی ہے علم والا، اس کے علاوہ اس کا اور کوئی معنی نہیں. تو یہ قطعی طور پر اس معنی پر دلالت کر رہا ہے. تو جب دونوں لفظ خاص ہوئے تو اس کلام سے جو حکم آیا وہ بھی کس قسم کا ہے؟ قطعی ہے. اور کیا حکم آیا؟ کہ زید پر کیا حکم لگایا گیا ہے؟ عالم ہونے کا حکم لگایا گیا ہے. سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ معنی: فثبتت من مجموع الكلام، پس ثابت ہوا مجموعۂ کلام سے، قطعية الحكم بعالم على زيد، زید پر عالم کے حکم کا قطعی ہونا، یہ ثابت ہوا اس مجموعۂ کلام سے، بهذه الواسطة، اس واسطے سے، یعنی یہ دونوں کیا ہیں؟ خاص ہیں، قطعی ہیں، بھئی. جی، خاص کا ایک حکم بیان کر دیا. کیا حکم تھا؟ کہ یہ اپنے مخصوص کو قطعی طور پر شامل ہوتا ہے. ولا يحتمل البيان، اور یہ بیان کا احتمال بھی نہیں رکھتا. لكونه بينا، اس وجہ سے کہ یہ کیا ہوتا ہے؟ بین ہوتا ہے، واضح ہوتا ہے، بھئی. جب اس میں غیر کا احتمال ہی نہیں ہے تو تو یہ بین ہوا، یہ کیا ہوا؟ بین ہوا، تو لہذا اس کے لیے بیان کی ضرورت بھی نہیں. جب بیان کی ضرورت نہیں، معلوم ہوا یہ بیان کا احتمال، بھئی، بیان کی ضرورت تو وہاں پڑتی ہے نا جب ایک چیز کے اندر اس چیز دو تین چیزوں کا احتمال ہو، اس کا بھی احتمال ہے، اس چیز کا بھی احتمال ہے، اس چیز کا بھی احتمال ہے. جب اور کسی چیز کا احتمال ہی نہیں ہے، معلوم ہوا اس کا معنی بالکل واضح ہے. جب بالکل واضح ہے تو لہذا اب کسی بیان کی ضرورت ہے؟ نہیں، یہ خود بین ہے، اس نے خود اپنے معنی پر واضح دلالت کر دی، لہذا کسی بیان وغیرہ کا محتاج نہیں ہے. بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دو حکم بیان کر دیے: ایک یہ کہ خاص سو ہے، یہ اپنے مخصوص کو قطعی طور پر شامل ہوتا ہے۔ دوسرا یہ حکم بیان کر دیا کہ یہ بیان کا احتمال نہیں رکھتا، کیوں نہیں رکھتا؟ کیونکہ یہ خود کیا ہے؟ بین ہے، واضح ہے۔ جی، اب شارح فرماتے ہیں: ھٰذا حکمٌ اٰخرُ۔ یہ دوسرا حکم ہے۔ مقوِّنٌ للحکم الاولِ، یہ دوسرا حکم ہے جو قوی کرنے والا ہے، تقویت دینے والا ہے پہلے حکم کو۔ پہلا حکم الگ، دوسرا حکم الگ، اور یہ دوسرا کیا ہے؟ پہلے حکم کو تقویت دینے والا ہے، اسی کو قوت دے رہا ہے۔ وکاَنَّہُما متَّحدٰنِ، گویا کہ یہ دونوں متحد ہیں۔ دونوں کیا ہیں؟ دونوں متحد ہیں نہیں ہے حقیقت میں، اسی لیے کہا: وکاَنَّہُما متَّحدٰنِ، گویا کہ کیا ہیں؟ متحد۔ اور گویا کہ متحد کیوں کہا؟ کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ متلازم ہیں مولانا، دوسرے کے لیے وہی پہلا حکم کیا ہوا؟ قوی ہو گیا، اس کو تقویت ہوئی، اور ان میں تلازم ہے بھئی۔ کس طرح تلازم ہے؟ دیکھو بھئی، صرف متن پہ نظر رکھو، میں ان میں تلازم آپ کو سمجھاؤں۔ پہلا حکم کیا بتلایا؟ کہ خاص کیا ہوتا ہے؟ اپنے مخصوص کو یعنی مدلول کو قطعی طور پر شامل ہوتا ہے۔ معلوم ہوا صرف اسی پر دلالت کر رہا ہے، تو یہ کیا ہوا؟ بین ہوا۔ کیا ہوا؟ جب اسی پر دلالت کر رہا ہے تو بین ہوا نا، واضح ہو گیا۔ اور جب بین ہوا، تو اس کے لیے کسی بیان کی ضرورت نہیں، جب بیان کی ضرورت نہیں معلوم ہوا یہ بیان کا احتمال بھی نہیں رکھتا۔ لازم ہے یا نہیں بھئی پہلے حکم کے ساتھ دوسرا؟ چلے تھے پہلے حکم سے، پہنچ گئے دوسرے حکم پر۔ پہلا حکم کیا تھا؟ کہ خاص اپنے مدلول کو یعنی اپنے مخصوص کو قطعی طور پر شامل ہوتا ہے، جب قطعی طور پر اس کو شامل ہے اور کسی کا احتمال نہیں، معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ بین ہے، واضح ہے۔ جب یہ بین ہے تو اس کے لیے کسی بیان کی ضرورت، جب بیان کی ضرورت نہیں ہے معلوم ہوا یہ بیان کا احتمال بھی نہیں رکھتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو پہلے حکم کے ساتھ معلوم ہوا دوسرا لازم ہے، اور دوسرے کے ساتھ پہلا لازم ہے، کس طرح؟ اب دوسرے سے چلیں گے پہلے پہ پہنچیں گے، دیکھو: خاص بیان کا احتمال نہیں رکھتا، خاص بیان کا احتمال کیوں نہیں رکھتا؟ کیونکہ وہ بین ہے، واضح ہے۔ جب واضح ہے معلوم ہوا اس میں اور کسی چیز کا احتمال، جب کسی اور چیز کا احتمال نہیں معلوم ہوا یہ اپنے مدلول کو قطعی طور پر شامل ہے، کسی اور چیز کا احتمال ہے ہی نہیں۔ تو دیکھو دوسرے سے چلے تھے اب کہاں آ کر پہنچ گئے؟ پہلے حکم پر۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اسی لیے ان میں چونکہ تلازم ہے تو شارح نے کہا: وکاَنَّہُما متَّحدٰنِ۔ ولٰکنَّ الاوَّلَ لبیانِ المذہبِ، بھئی جب یہ گویا کہ متحد ہیں تو ان دونوں کو الگ الگ ذکر کیوں کیا بھئی؟ اب وجہ بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ولٰکنَّ الاوَّلَ لبیانِ المذہبِ، لیکن پہلا حکم جو لے کر آئے وہ مذہب کو بیان کرنے کے لیے لائے، لبیان المذہب، الف لام لے کر آئے، المذہب۔ خاص یعنی کس کا مذہب بیان کیا جا رہا ہے؟ احناف کا، کس کا؟ احناف کا۔ تو یہ احناف کے مذہب کو بیان کرنے کے لیے پہلا حکم لائے، والثّانی لنفیِ قولِ الخصمِ، خصم کہتے ہیں فریق مخالف کو، مقابل کو بھئی، اور دوسرا حکم لے کر آئے خصم کے قول یعنی فریق مخالف کے قول کی نفی کے لیے، ولتمہیدِ التفریعاتِ الاٰتیۃِ، اور آنے والی تفریعات کی تمہید کے لیے۔ آگے بھئی تفریعات ذکر کریں گے، یاد رکھنا سات تفریعات مرتب کریں گے آگے بھئی۔ اس خاص کے حکم پر کتنی تفریعات؟ سات تفریعات، یعنی ان سے نکلنے والے احکام بیان کریں گے سات تفریعات، سات احکام بیان کریں گے اس حکم سے، اور ان سات میں سے بھئی یاد رکھنا بھئی، پہلے تین متفرع ہیں، پہلی تین تفریعات ہیں یہ ثانی پر: ولا یحتمل البیان لکونہ بینًا۔ پہلی تین تفریعات اس پر ہوں گی، اور آخری چار تفریعات کس پر ہوں گی؟ ان یتناول المخصوص قطعًا۔ بات سمجھ میں آئی؟ تفریع یاد رکھو، تفریع کا معنی ہے ایک قانون، ایک ضابطے پر مسائل نکالنا بھئی۔ ایک قانون یا ایک ضابطے کے تحت مسائل نکالنا۔ یہ فرعٌ سے ہے بھئی، فرعٌ شاخ کو کہتے ہیں، جیسے ایک تنے سے بہت سی شاخیں نکلتی ہیں، اسی طرح ایک ہی قانون سے بہت سے مسائل نکالنا یہ تفریع کہلاتا ہے تفریع بھئی۔ تو لہٰذا آگے سات چونکہ تفریعات آ رہی تھیں اور ان سات میں سے پہلی تین متفرع ہو رہی تھیں اس حکمِ ثانی پر، تو اس کو بطورِ تمہید کے ذکر کر دیا۔ تو یہ ثانی کو لانے کی دو وجہیں ذکر کر دیں، ایک وجہ یہ کہ اس کے ذریعے کیا کیا فریق مخالف کے قول کو کی نفی کر دی، کیونکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خاص بیان کا احتمال رکھتا ہے، انہوں نے کہہ دیا: لا یحتمل البیان، خاص بیان کا احتمال نہیں رکھتا، تو ان کے قول کی نفی ہو گئی، اور نیز آگے آنے والی تفریعات کے لیے یہ کیا ہو گئی؟ تمہید ہو گئی، کیونکہ پہلی تین اسی پر متفرع ہو رہی ہیں بھئی اس دوسرے حکم پر۔ ای لا یحتمل الخاصُّ بیانَ التفسیرِ، یعنی احتمال نہیں رکھتا خاص مولانا بیانِ تفسیر کا، لکونہ بینًا بنفسہٖ، بوجہ اس کے بین بنفسہ ہونے کے، یعنی یہ اپنی ذات کے اعتبار سے کیا ہوتا ہے؟ بین ہوتا ہے، لہٰذا کسی تفسیر کی اس میں حاجت نہیں۔ فہو مقابلٌ للمجملِ، تو یہ مقابل ہوا مجمل کے۔ مجمل اسے کہتے ہیں جس میں اجمال ہوتا ہے، وہاں تفسیر کی ضرورت پڑتی ہے۔ یا مجمل کی طرف سے بھئی جس نے اس میں اجمال رکھا تھا اس کی طرف سے کیا چاہیے؟ وہاں معنی واضح نہیں ہوتا، غور و فکر سے بھی پتہ نہیں چلتا جب تک جس نے بات کیا وہ اپنی طرف سے اس کی تفسیر نہ کر دے کہ اس کی کیا مراد ہے بھئی، اس کی کیا مراد، تو اس کی جانب سے تفسیر کا ہونا ضروری ہوتا ہے، کس کے اندر؟ مجمل میں۔ معلوم ہوا مجمل کے لیے بیان چاہیے کس کی طرف سے؟ مجمل کی طرف سے، جس نے اجمال رکھا۔ مجمل کے لیے کیا چاہیے؟ بیان چاہیے مجمل کی طرف سے، لیکن خاص کے اندر چونکہ وہ بین ہے تو وہ بیان کا محتاج نہیں، لہٰذا وہاں بیان کا احتمال بھی نہیں ہے۔ تو مجمل اور خاص میں کیا آ گیا؟ تقابل آ گیا، بات سمجھ میں آ گئی؟ اسی لیے کہا: فہو مقابلٌ للمجملِ، تو یہ خاص جو ہے یہ مقابل ہوا مجمل کے، حیث یحتاجُ الٰی بیانِ المجملِ وتفسیرہٖ، اس حیثیت سے کہ یہ مجمل جو ہوتا ہے وہ محتاج ہوتا ہے مجمل کے بیان کا اور اس کی تفسیر کا۔ مجمل کے اندر میں نے بتایا اجمال ہوتا ہے بھئی، معنی پورا واضح نہیں ہوتا، وہاں لغت کے اعتبار سے بھی معنی واضح نہیں ہو رہا، غور و فکر سے بھی بات واضح نہیں ہو رہی، لہٰذا وہاں کیا چاہیے ہوتا ہے؟ کہ جس نے اجمال رکھا ہے وہ خود اپنی طرف سے تفسیر کرے، بیان کرے کیا مراد ہے اس کی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ واما بیانُ التقریرِ، باقی بیانِ تقریر، والتغییرِ، اور بیانِ تغییر جو ہے، فیحتملہ الخاصُّ، تو خاص اس کا احتمال رکھتا ہے، لانہٗ لا ینافی القطعیۃَ، اس لیے کہ وہ قطعی ہونے کے منافی نہیں ہیں بھئی، قطعی ہونے کے منافی نہیں۔ بیانِ تقریر اس کو کہتے ہیں بھئی کہ کلام کے اندر بھئی آپ نے کلام کیا، اس کے ساتھ ہی اور بھی کچھ بھئی لفظ ملا دیے، اس لفظ سے وہی جو پہلے سے حکم ثابت ہو رہا تھا اسی کو پختہ کر دیا، قرَّرَ یُقرِّرُ تقریر کا کیا معنی ہوتا ہے؟ پختہ کرنا۔ تو اس اگلے لفظ نے بھی کیا کیا؟ اسی پہلے معنی کو پختہ کیا، اس کے اندر کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی بھئی۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ مثلاً میں نے کہا: جاءنی زیدٌ، میرے پاس زید آیا۔ آپ کے ذہن میں یہ اشکال وہم ہو سکتا ہے کہ ہو سکتا ہے زید نہ آیا ہو بلکہ کون آیا ہو؟ عمرو اس کا دوست آ گیا، لیکن اس کی کس سے تعبیر کر دیا؟ زید کے لفظ سے تعبیر کر دیا، کیونکہ وہ عمرو اس کا گہرا دوست ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو لہٰذا اب یہ مجاز کا وہم آپ کے دل میں آ سکتا تھا کہ ہو سکتا ہے بھئی زید سے زید کیا ہے؟ یہ لفظ حقیقت نہیں ہے، زید کے لیے نہیں استعمال ہوا بلکہ کس کے لیے استعمال ہوا؟ غیر موضوع لہ یعنی عمرو کے لیے استعمال کیا ہو۔ تو میں اس کے ساتھ ایک اور زید ملا دیتا ہوں اور یوں کہتا ہوں: جاءنی زیدٌ زیدٌ، یہ زیدِ ثانی زیدِ اول کے لیے تاکید ہے، اس نے مجاز کے احتمال کو ختم کر دیا۔ مجاز کے احتمال کو کیا کیا؟ ختم کر دیا۔ تو اس کو کہتے ہیں بیانِ تقریر بھئی، بیانِ تقریر۔ جاءنی زیدٌ سے کیا پتہ چل رہا تھا؟ کون آیا ہے؟ زید، اور اگلے زید نے اسی بات کو کیا کر دیا؟ پختہ کر دیا، تو یہ بیانِ تقریر۔ یا جیسے میں کہتا ہوں: جاءنی القومُ، میرے پاس وہ قوم آئی، آپ کے ذہن میں آ سکتا ہے بھئی ہو سکتا ہے سارے نہ آئے ہوں۔ میں آگے کہتا ہوں: کلہم، وہ سارے کے سارے آئے۔ کیا ہوا؟ سارے کے سارے آئے۔ تو دیکھو اس نے خصوص کا احتمال ختم کر دیا، معلوم ہوا کسی کی تخصیص نہیں، کسی کو اس حکم سے نکالا نہیں گیا، سب کے لیے مجیء ثابت ہے، ساری کے سارے قوم والے میرے پاس آئے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اسی طرح ایک بیانِ تغییر ہے، بیانِ تغییر، تغییر کا معنی بدلنا na سمجھ میں آیا، تو اس میں ماقبل کلام سے جو حکم ثابت ہوا تھا اس میں تغییر آ جاتی ہے، اس میں تبدیلی تھوڑی سی آ جاتی ہے۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ بیانِ تغییر کہتے ہیں۔ مثلاً بھئی، مثلاً میں نے کہا: لفلانٍ علیَّ الفُ درہمٍ، فلاں کے مجھ پر کتنے ہیں؟ ایک ہزار درہم ہیں۔ الا خمسَ مائۃٍ، سوائے کتنے کے؟ پانچ۔ لفلانٍ علیَّ الفٌ الا خمسَ مائۃٍ یا الفُ درہمٍ الا خمسَ مائۃِ درہمٍ، کتنے آئے بھئی؟ پانچ سو، کتنے آئے؟ کیونکہ میں نے ہزار میں سے کتنے کا استثناء کر دیا؟ پانچ سو کا استثناء کر دیا۔ تو یہ جو استثناء ہے یہ بیانِ تغییر ہے، پہلا کلام جو تھا صرف لفلانٍ علیَّ الفُ درہمٍ، یہ تو کیا تقاضا کر رہا تھا؟ کتنے ہونے چاہئیں؟ ہزار، لیکن جب میں نے کہا: الا خمسَ مائۃِ درہمٍ، اس نے کیا کیا؟ پہلے کے معنی کو متغیر کر دیا، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اب کتنے آئے؟ پانچ سو، تو یہ بیانِ تغییر ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: واما بیانُ التقریرِ والتغییرِ فیحتملہ الخاصُّ، باقی بیانِ تقریر اور بیانِ تغییر جو ہے تو خاص اس کا احتمال رکھتا ہے، لانہٗ لا ینافی القطعیۃَ، اس لیے کہ وہ تو قطعی ہونے کے منافی نہیں ہے بھئی۔ فانَّ بیانَ التقریرِ یزیلُ الاحتمالَ الناشئَ بلا دلیلٍ، اس لیے کہ بیانِ تقریر وہ دور، زائل کر دیتا ہے، ختم کر دیتا ہے اس احتمال کو جو پیدا ہوا ہے بغیر کسی دلیل کے، مثلاً آپ کے ذہن میں آیا تھا کہ زید سے کیا مراد ہے شاید؟ عمرو، تو یہ بغیر دلیل کے آیا تھا، تو اس نے اس احتمال کو بیانِ تقریر نے اس احتمال کو ختم کر دیا، فیکونُ محکمًا، تو وہ خاص کیا بن گیا؟ محکم پختہ ہو گیا، کما یقالُ، جیسے کہا جائے جاتا ہے: جاءنی زیدٌ زیدٌ، تو یہ زیدِ ثانی کیا ہے؟ بیانِ تقریر ہے۔ وبیانُ التغییرِ یحتملہٗ کلُّ کلامٍ قطعیًّا کان او ظنِّیًّا، باقی بیانِ تغییر اس کا تو احتمال ہر کلام رکھتا ہے چاہے وہ قطعی ہو چاہے ظنی ہو، کما یقالُ، جیسے کہ کہا جائے بھئی۔ بھئی دیکھو، ایک شخص ہے وہ اپنی بیوی سے کہتا ہے: انتِ طالقٌ، کیا ہوگا؟ طلاق ہو جائے گی، لیکن اگر یوں کہتا ہے: انتِ طالقٌ ان دخلتِ الدارَ، تجھے طلاق ہے اگر تو اس گھر میں داخل ہوئی۔ اب بتائیے طلاق فوراً ہوگی؟ انتِ طالقٌ بھئی دیکھو، ان دخلتِ الدارَ یہ بیانِ تغییر ہے، تو یہ تعلیق بھی بیانِ تغییر کی قبیل سے ہے، استثناء بھی بیانِ تغییر کی قبیل سے ہے، اگر یہ ان دخلتِ الدار نہ ہوتا تو انتِ طالقٌ کا کیا حکم آپ فوراً لگاتے کہ طلاق واقع ہو گئی، اور جب ان دخلتِ الدار ساتھ ملا اس نے پہلے کے حکم میں تبدیلی کر دی کہ وہ طلاق تھی وہ ابھی واقع نہیں ہوئی بلکہ کیا ہو گئی؟ معلق ہو گئی، تو یہ کیا ہے؟ بیانِ تغییر ہے۔ وہکذا بیانُ التبدیلِ یحتملہ الخاصُّ ایضًا، اسی طرح بیانِ تبدیل جو ہے اس کا بھی خاص احتمال رکھتا ہے۔ بیانِ تبدیل یاد رکھیے نسخ کو کہتے ہیں، نسخ کرنا، منسوخ کر دینا، اور یہ شارع کی طرف سے تو درست ہے، شارع کے علاوہ کسی اور کی طرف سے درست نہیں، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد نسخ کا دروازہ بند ہو چکا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو بیانِ تبدیل دراصل نسخ کا نام ہے کہ ایک چیز کو منسوخ کر دیا جائے، اور یہ درست نہیں ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ مثلاً ایک شخص نے اقرار کیا: لفلانٍ علیَّ الفُ درہمٍ الا الفَ درہمٍ، فلاں کے مجھ پر کتنے ہیں؟ ایک ہزار درہم، علاوہ ایک ہزار درہم کے، تو کل جو اقرار کیا تھا وہ کتنے کا تھا؟ ایک، اور استثناء بھی کتنے کا کر رہا ہے؟ ایک ہزار کا، ایک ہزار کا کر رہا ہے، تو ایک ہزار کا استثناء کریں تو کچھ باقی بچتا ہے؟ نہیں، تو لفلانٍ علیَّ الفٌ یہ ہے اقرار، اور الا الفَ درہمٍ یہ کیا کرنا چاہتا ہے؟ اپنے اقرار سے گویا کہ رجوع کرنا چاہتا ہے، اور یہ تو گویا نسخ ہے، اور اقرار جب ایک دفعہ کر لیا جائے تو اس سے رجوع نہیں ہونا درست نہیں ہے اس لیے کہ رجوع کرنا یہ نسخ ہے، اور نسخ تو صرف کس کا کام ہے؟ شارع کا کام ہے، کسی اور کے لیے درست نہیں ہے، لہٰذا یہ بیانِ تبدیل ہوا، معلوم ہوا یہ الا الفَ درہمٍ یہ کیا ہے؟ بیانِ تبدیل، اور یہ آ سکتا ہے، لیکن شارع کے علاوہ کسی اور کی طرف سے درست نہیں ہے بھئی، تو یہ ہزار ہی اس پر رہیں گے سارے کے سارے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ فلا یجوزُ الحاقُ التعدیلِ بامرِ الرکوعِ والسجودِ علیٰ سبیلِ الفرضِ، یہ تفریعات شروع ہو گئیں بھئی۔ پس جائز نہیں ہے الحاقُ التعدیلِ، تعدیلِ ارکان کو ملانا، بامرِ الرکوعِ والسجودِ، رکوع اور سجدے کے حکم کے ساتھ، علیٰ سبیلِ الفرضِ، فرض کے طریقے پر۔ بھئی دیکھیے قرآن میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے بھئی: وارکعوا واسجدوا، رکوع کرو اور سجدہ کرو، معلوم ہوا رکوع بھی فرض، کیونکہ امر آتا ہے وجوب کے لیے، معلوم ہوا رکوع بھی فرض اور سجدہ بھی نماز میں فرض ہے۔ اب ایک چیز ہے تعدیلِ ارکان بھئی کہ رکوع، سجدے اور ارکانِ صلاۃ کو اطمینان سے ادا کرنا، اطمینان سے ادا کرنا۔ تو یہ یہاں پر بھئی کوئی تعدیلِ ارکان کا ذکر ہے؟ تعدیلِ ارکان کا ذکر نہیں، معلوم ہوا یہ قرآن میں جو آیا وہ مطلق رکوع اور سجدے کا ذکر آیا، اور اس پر اب امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بھئی تعدیل بھی فرض ہے، تعدیل بھی کیا ہے؟ یعنی اطمینان سے ارکانِ صلاۃ کو ادا کرنا یہ بھی فرض ہے، تو انہوں نے کیا کیا؟ رکوع اور سجدے کے حکم کے ساتھ کس کو ملا دیا؟ تعدیلِ ارکان کو، اور کس طریقے پر ملایا؟ فرض کے طریقہ پر، جیسے یہ فرض ہیں وہ بھی تعدیلِ ارکان بھی فرض ہیں۔ اب اس پر بتلائیں گے آپ کو کہ نہیں بھئی، فلا یجوز الحاق التعدیل، جائز نہیں ہے تعدیل کو ساتھ ملانا، کس چیز کے ساتھ ملانا؟ بامر الرکوع والسجود، رکوع اور سجدے کے حکم کے ساتھ، علی سبیل الفرض، کس طریقے پر؟ فرض کے طریقے پر، دیکھیے مولانا بالکل صرف ترجمہ ہے، پورا مسئلہ وہ خود بیان کریں گے۔ پہلے کہتے ہیں: شروعٌ فی تفریعاتٍ مختلفٍ فیہا بیننا وبین الشافعیِ رحمہ اللہ، شروع ہو گئے اور یہ شروع ہے مولانا ان تفریعات میں، مختلفٍ لام پر فتحہ پڑھنا بھئی، مختلفٍ فیہا جو مختلف فیہا ہیں ہمارے درمیان اور امام شافعی رحمہ اللہ تعالی رحمت واسعہ کے درمیان بھئی، علیٰ ما ذُکِرَ، بنا بر اس کے جس کو ذکر کیا گیا، بھئی کس کو ذکر کیا گیا؟ من بیان ہے، یعنی من حکمِ الخاصِّ، یعنی کہ خاص کا حکم۔ یہ تفریعات ہیں وہ تفریعات شروع ہو رہی کر رہے ہیں جو ہمارے اور امام شافعی رحمہ اللہ کے درمیان جن میں اختلاف ہے، بنا بر اس کے جو ذکر کیا گیا یعنی کہ وہ جو خاص کا حکم آیا بھئی، اور وہ کیا تھا؟ خود بتلا رہے ہیں دوسرا جز، یعنی: اذا کان الخاصُّ لا یحتمل البیانَ لکونہٖ بینًا بنفسہٖ، کہ جب خاص وہ بیان کا احتمال نہیں رکھتا اس لیے کہ وہ بین بنفسہ ہوتا ہے، اپنی ذات کے اعتبار سے بین ہوتا ہے، واضح ہوتا ہے، فلا یجوزُ الحاقُ تعدیلِ الارکانِ، تو جائز نہیں ہے تعدیلِ ارکان کو ملانا، تعدیلِ ارکان کو ملانا، بھئی تعدیلِ ارکان کیا ہیں؟ کہتے ہیں: وہو الطمانینۃُ، طاء پر ضمہ پڑھنا بھئی پیش، وہو الطمانینۃُ فی الرکوعِ والسجودِ، اور وہ اطمینان کا ہونا ہے رکوع اور سجدے میں، والقومۃِ، اور قومے کے اندر، بعد الرکوعِ، کس کے بعد؟ قومہ کس کے بعد ہوتا ہے بھئی؟ قومہ کسے کہتے ہیں؟ جو رکوع سے ہم کھڑے ہو جاتے ہیں سیدھے اس کو کیا کہا جاتا ہے؟ قومہ۔ اور وہ اطمینان کا ہونا ہے رکوع میں اور سجدے میں اور قومے کے اندر جو رکوع کے بعد ہوتا ہے۔ والجلسۃ بین السجدتین اور اس جلسے کے درمیان جو دو سجدوں کے درمیان ہوتا ہے دو سجدوں میں جو ہم بیٹھتے ہیں اس کو کیا کہتے ہیں؟ جلسہ۔ تو ان میں اطمینان کا ہونا، کس کس چیز میں اطمینان کا ہونا؟ رکوع میں، سجدے میں، وہ قومہ جو کس کے بعد ہے؟ رکوع کے بعد اور وہ جلسہ جو کس کے درمیان ہے؟ دو سجدوں کے درمیان۔ یہ ہے تعدیل ارکان مولانا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ محشین نے یہاں کوئی اور ہی تقریر کی ہے مولانا جو اس مقام کے مناسب نہیں۔ انہوں نے قومہ کا عطف کیا ہے کس کے ساتھ؟ تعدیل ارکان پر کیا ہے بھئی۔ وہ اور تقریر کیا، حاشیے میں بعد میں دیکھ سکتے ہیں لیکن اس مقام کے مناسب نہیں ہے۔ یعنی نہ ماتن یہ بیان کرنا چاہ رہے ہیں اور نہ شارح یہ بیان کرنا چاہ رہے ہیں جو محشین نے تقریر کی ہے۔ تو وہ اطمینان ہے رکوع میں، سجدے میں اور وہ قومہ جو رکوع کے بعد ہوتا ہے اور وہ جلسہ جو دو سجدوں کے درمیان ہوتا ہے۔ یہ کس کی تشریح کی؟ تعدیل ارکان کی۔ ہاں، اچھا اب یہ اس کو بیچ میں سے نکال دو، وهو الطمانینة في الركوع والسجود القومة بعد الركوع والجلسة بين السجدتين، یہ صرف بیچ میں ایک شرح کی تھی اس کو نکال دو، باقی عبارت پھر پیچھے سے پڑھو اس شرح سے، لا يجوز إلحاق تعديل تعديل الأركان بأمر الركوع والسجود، وہی متن بن رہا ہے یا نہیں بھئی؟ جائز نہیں ہے تعدیل ارکان کو ملانا کس کے ساتھ؟ رکوع اور سجدے کے حکم کے ساتھ۔ اب اس کی بھی شرح کریں گے، رکوع اور سجدے کے حکم سے کیا مراد ہیں؟ کہتے ہیں وهو قوله تعالى، وہ اللہ کا یہ قول ہے واركعوا واسجدوا، رکوع کرو تم اور سجدہ کرو تم۔ تو ان کے ساتھ ملانا بھئی کس طریقے پر؟ على سبيل الفرض، فرض کے طریقے پر كما ألحقه به أبو يوسف والشافعي رحمه الله رحمهما الله تعالى، جیسے کہ اس کے ساتھ ملایا ہے امام ابو یوسف اور امام شافعی رحمہ اللہ نے۔ وبيانه، بیان اس کا یہ ہے أن الشافعي رحمه الله يقول، کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں أن تعديل الأركان في الركوع والسجود فرض لحديث أعرابي خفف في الصلاة، کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تعدیل ارکان جو ہے رکوع اور سجدے میں فرض ہے لحديث أعرابي، اس دیہاتی کی حدیث کی وجہ سے، اعرابی دیہاتی۔ یہ ایک صحابی تھے بھئی، دیہاتی صحابی آئے تھے تو اس دیہاتی کی حدیث کی وجہ سے خفف في الصلاة، جس نے کیا کیا تھا؟ نماز میں تخفیف کی تھی، یعنی ہلکی نماز جلدی جلدی ادا کی تھی۔ فقال له، تو اس سے کہا بھئی حضور علیہ السلام نے: قم فصل فإنك لم تصلي، اٹھو بھئی نماز ادا، اٹھو بس نماز ادا کرو اس لیے کہ تم نے نماز نہیں ادا کی۔ هكذا قال له ثلاثا، اسی طرح حضور علیہ السلام نے اس سے فرمایا تین مرتبہ۔ دیکھیے یہ حدیث دی ہوئی ہے آپ کے حاشیے میں، وہاں دیکھ لیجئے ذرا بھئی۔ بھئی دیکھیے یہ پانچ نمبر حاشیے میں پانچ نمبر حاشیے میں ہی آ رہا ہے بھئی، ہاں، کچھ آگے جا کر آتا ہے کہ بما رواہ الشيخان عن أبي هريرة أن رجلا دخل المسجد، کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا۔ مل گئی بھئی حدیث؟ کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا بھئی، یہ ایک صحابی تھے مولانا خلاد ابن رافع رضی اللہ تعالی عنہ ان کا نام ہے بھئی۔ ورسول الله صلى الله عليه وسلم جالس في ناحية المسجد، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے کونے میں بیٹھے ہوئے تھے فصلى، تو اس شخص نے نماز پڑھی ثم جاء فسلم عليه، وہ آیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام کیا بھئی، کتنی عظیم سعادت حاصل کر رہا ہے بھئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کر رہا ہے، ان کو سلام کر رہا ہے بھئی۔ ہم سب کو اللہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام سنتوں پر اے اللہ عمل کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم، تو حضور علیہ السلام نے اس سے فرمایا فرمایا: وعليك السلام، سلام کا جواب دیا اور پھر فرمایا: ارجع فصل فإنك لم تصلي، لوٹ جا پس تو نماز پڑھ اس لیے کہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ صحابہ بھی عجیب لوگ ہیں مولانا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق کی انتہا تو دیکھیے، یہ بھی نہیں پوچھا کیا بات کیوں نہیں ہوئی یا رسول اللہ میں تو پڑھ کر آیا ہوں، بس پیغمبر نے حکم دیا پھر چلا گیا، پھر نماز شروع کر دی۔ فرجع فصلى، پس پھر لوٹے اور نماز پڑھی، ثم جاء، پھر آئے، فسلم، پھر سلام کیا۔ فقال، حضور نے جواب میں وعليك السلام، سلام کا جواب دیا اور پھر فرمایا: ارجع فصل فإنك لم تصلي، تو لوٹ جا پس تو نماز پڑھ اس لیے کہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ فقال في الثالثة أو التي بعدها، پس اس شخص نے کہا تیسری مرتبہ میں یا اس کے بعد میں، یعنی تین دفعہ چلا گیا پھر اس کے بعد چوتھی میں کہا، یہ راوی ذکر کر رہے ہیں شک ہے کہ تیسری یا چوتھی، تیسری مرتبہ میں یا اس تیسری کے بعد اس نے کہا: علمني يا رسول الله، مجھے سکھا دیجیے یا رسول اللہ، سمجھ گئے بھئی میری نماز میں کوئی خرابی ہے، مجھے تو سمجھ میں نہیں آ رہی بھئی۔ فقال، بھئی سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں: إذا قمت إلى إلى الصلاة، جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو فأسبغ الوضوء، وضو کو پورا کر لے، ثم استقبل ثم استقبل القبلة، پھر تو قبلہ رخ ہو جا، قبلے کی طرف رخ کر لے، فكبر، پھر تو تکبیر کہہ، ثم اقرأ ما تيسر معك من القرآن، پھر تو قرأت کر وہ جو تجھے میسر ہو قرآن میں سے، یعنی جو آسان لگے، آسانی سے پڑھ سکے بھئی، جو تجھے یاد ہو وہ پڑھ لے۔ ثم اركع، پھر تو رکوع کر لے حتى تطمئن راكعا، یہاں تک کہ اطمینان سے رکوع کر لے، ثم ارفع، پھر اٹھ جا حتى تستوي قائما، یہاں تک کہ سیدھا کھڑا ہو جائے، ثم اسجد، پھر سجدہ کر حتى تطمئن ساجدا، یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کرنے والا ہو جائے، ثم ارفع، پھر اٹھ سجدے سے حتى تطمئن جالسا، یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جائے، ثم اسجد حتى تطمئن ساجدا، پھر سجدہ کر یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کر لے، ثم ارفع حتى تستوي قائما، پھر اٹھ جا یہاں تک کہ سیدھا کھڑا ہو جائے۔ پوری ایک رکعت کی تفصیل حضور نے بیان فرما دی اور پھر فرمایا: افعل ذلك في صلاتك كلها، اسی طرح کر اپنی ساری کی ساری نماز کے اندر۔ سمجھ میں آیا؟ یہ حدیث آئی مولانا، حدیث آئی بھئی۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں دیکھو بھئی اس حدیث کے اندر اس دیہاتی نے نماز پڑھی بھئی اور نماز ہلکی پڑھی تھی، تعدیل ارکان کے بغیر پڑھی تھی تو حضور نے فرمایا: قم فصل فإنك لم تصلي، کہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ جی معلوم ہوا تعدیل ارکان کیا ہے؟ فرض ہے، فرض ہے بھئی۔ کیونکہ حضور کیا فرما رہے ہیں؟ تو نے نماز ہی نہیں پڑھی اور نماز تو کب نہیں ہوگی جب کیا چیز چھوٹ جائے؟ جب فرض چھوٹ جائے۔ اب متن دیکھیے بھئی، ونحن نقول، ہم جواب دیتے ہیں بھئی، ونحن نقول، ہم جواب دیتے ہیں إن قوله تعالى، کہ اللہ کا یہ قول جو ہے اركعوا واسجدوا خاص، رکوع کرو اور سجدہ کرو تم، یہ خاص ہے وضع لمعنى معلوم، اس کو جس کو وضع کیا گیا ہے ایک معلوم معنی کے لیے، بھئی رکوع اور سجدہ دو چیزیں آئیں یہاں پر، رکوع کا معنی بھی معلوم، سجدے کا معنی بھی معلوم، خود ذکر کر رہے ہیں لأن الركوع هو الانحناء عن القيام، اس لیے کہ رکوع جو ہے وہ جھکنا ہے قیام سے، قیام سے نیچے کی طرف جھک جانا یہ رکوع ہے۔ والسجود هو وضع الجبهة على الأرض، اور سجود جو ہے وہ پیشانی کا رکھنا ہے زمین پر، یہ کیا ہے؟ یہ سجدہ ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو دیکھو یہ رکوع اور سجدے کا ذکر آیا اور ان کو ایک معلوم معنی کے لیے وضع کیا گیا ہے تو یہ خاص ہیں مولانا، والخاص لا يحتمل البيانا، اور خاص جو ہے وہ بیان کا احتمال نہیں رکھتا حتى يقال، یہاں تک کہ یہ کہا جائے إن الحديث لحق بيانا للنص المطلق، کہ یہ حدیث مل جائے گی بیان بن کر مطلق نص کے ساتھ، کہ یہ حدیث کیا ہوگی؟ مل جائے گی بیان بن کر مطلق نص کے ساتھ، فلا يكون إلا نسخا، تو نہیں ہوگا یہ مگر نسخ ہی، یہ کیا ہوگا؟ یہ تو نسخ ہو جائے گا بھئی، اس کو اگر ہم بیان بنا دیں۔ بھئی اس لیے کہ سنو بھئی ادھر دیکھو، رکوع اور سجدے کا ذکر آیا، رکوع کا معنی بھی معلوم، وہ خاص ہے۔ اسی طرح سجدے کا معنی بھی معلوم، وہ بھی کیا ہے؟ خاص، اور خاص کا کیا حکم بیان ہوا پیچھے؟ کہ وہ خاص لا يحتمل البيان، وہ بیان کا احتمال نہیں رکھتا، اس لیے کیونکہ وہ بین ہوتا ہے، اس کا معنی واضح ہوتا ہے تو یہاں بھی رکوع اور سجدے کا معنی واضح ہے، اس میں کسی قسم کے بیان کا احتمال نہیں۔ لہذا اگر ہم یہ کہیں کہ یہ تعدیل ارکان بھی فرض ہے تو ہم نے اس کو کیا بنا دیا؟ بیان بنا دیا، کیا بنا دیا؟ بیان بنا دیا حالانکہ خاص تو بیان کا احتمال نہیں رکھتا۔ اگر آپ اس کو بیان بناتے ہیں تو پھر تو یہ نسخ ہے، بھئی نسخ کیسے ہے؟ رکوع اور سجدہ اپنی جگہ، تعدیل ارکان اپنی جگہ، کوئی نسخ آیا؟ جی؟ ہاں، یہ بات توجہ سے سننا، نسخ ہے یعنی وصفِ اطلاق کا نسخ ہے، نص تو تھی مطلق، اس میں صرف جن دو چیزوں کا ذکر تھا؟ رکوع اور سجدے کا، اور کوئی قید تھی اس کے اندر؟ لیکن جب آپ تعدیل ارکان بڑھا دیں گے تو آپ نے قید بڑھا دی تو مطلق کو کیا کر دیا آپ نے؟ مقید، تو وصفِ اطلاق کیا ہوا؟ اس کو گویا آپ نے منسوخ کر دیا کیونکہ مطلق کو کیا بنا دیا؟ مقید، تو مطلق رہا؟ مطلق تو رہا ہی نہیں، معلوم ہوا آپ نے اس مطلق کو کیا کر دیا؟ مقید کیا تو گویا کہ اس کو کیا کر دیا؟ منسوخ کر دیا، تو یہ نسخ ہے یعنی وصفِ اطلاق کا کیا ہے؟ نسخ ہے۔ تو لہذا اس کو معلوم ہوا بیان نہیں بنا سکتے بھئی ورنہ نسخ لازم آئے گا اور نسخ تو جائز نہیں، وهو لا يجوز بخبر الواحد، تو اور یہ جائز نہیں ہے، کس کے ذریعے؟ نسخ کس کے ذریعے نہیں جائز بھئی؟ خبرِ واحد کے ذریعے، فينبغي أن تراعي منزلة كل من الكتاب والسنة، پس مناسب یہ ہے کہ رعایت رکھی جائے کتاب اور سنت میں سے ہر ایک کے درجے کی، فما ثبت بالكتاب يكون فرضا، پس وہ جو ثابت ہوا ہے کتاب اللہ کے ذریعے وہ فرض ہوگا لأنه قطعي، اس لیے کہ وہ کیا ہے؟ قطعی ہے، وما ثبت بالسنة يكون واجبا، اور وہ جو حدیث سے ثابت ہوا ہے وہ واجب ہوگا لأنه ظني، اس لیے کیونکہ وہ کیا ہے؟ ظنی ہے، کیونکہ یہ حدیث خبرِ واحد ہے اور خبرِ واحد کیا ہوتی ہے؟ ظنی ہوتی ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ خلاصہ بحث کیا ہوا؟ کہ ہم نے ایک ضابطہ بیان کیا تھا کہ خاص جو ہے بیان کا احتمال نہیں رکھتا، خاص بیان کا احتمال نہیں رکھتا، چنانچہ اس پر پہلی تفریع کی کہ جب خاص بیان کا احتمال نہیں رکھتا تو رکوع اور سجدے کے امر کے ساتھ تعدیل ارکان کو بطورِ فرض کے نہیں ملایا جا سکتا بطورِ فرض کے۔ پھر اس کے بعد مسئلے کی وضاحت کی بھئی، سب سے پہلے بتایا تعدیل ارکان کسے کہتے ہیں؟ رکوع، سجدے، قومہ اور جلسے کو کیا کرنا؟ اطمینان سے ادا کرنا، اور پھر بھئی امرِ رکوع اور سجود آیا تھا، وہ بھی وضاحت کر دی، رکوع اور سجدے کے حکم سے کیا مراد ہے؟ اركعوا واسجدوا کا حکم مراد ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں بھئی امام ابو یوسف رحمہ اللہ اور امام شافعی رحمہ اللہ ان کے نزدیک تعدیل ارکان کیا ہے؟ فرض ہے، اور وہ حدیث پیش کرتے ہیں حدیثِ اعرابی جو ہے، یعنی وہ جو خلاد ابن رافع رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث ہے، حدیثِ اعرابی کے نام سے مشہور ہے، اس میں نماز انہوں نے ہلکی پڑھی تھی بھئی، جلدی پڑھی تھی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قم فصل فإنك لم تصلي، اٹھو نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی، اور اس کی نماز بغیر تعدیل ارکان کے تھی، معلوم ہوا تعدیل ارکان فرض ہے جبھی تو حضور فرما رہے ہیں کہ تو نے نماز نہیں پڑھی یعنی تیری نماز نہیں ہوئی۔ یہ ان کی دلیل ہے، ہم جواب میں کہتے ہیں کہ اركعوا واسجدوا خاص ہیں اور خاص کسے کہتے ہیں؟ جو بین ہوتا ہے اور اس میں کسی وہ بیان کا احتمال نہیں رکھتا، تو لہذا اس پر تعدیل ارکان کے ذریعے اس مطلق کو ہم مقید نہیں کر سکتے ورنہ تو کیا لازم آئے گا؟ نسخ لازم آئے گا، یعنی اس کا وصفِ اطلاق منسوخ کرنا پڑے گا اور وہ خبرِ واحد کے ذریعے جائز نہیں ہے۔ تو البتہ یہ بھی نہیں کہ ہم اب ویسے ہی چھوڑ دیں، ہاں ہم پھر بھی عمل کرتے ہیں، دونوں کی رعایت رکھتے ہیں، کتاب اللہ سے جو ثابت ہوا وہ کیا ہے؟ فرض ہے کیونکہ وہ کتاب اللہ قطعی ہے تو اس سے فرض آیا، اور حدیث کے ذریعے یعنی خبرِ واحد کے ذریعے جو ثابت ہوا وہ کیا ہوگا؟ واجب ہوگا۔ یہ بات سمجھ میں آ گئی؟ باقی حدیث، بھئی یہ صرف اصولِ فقہ کے اعتبار سے بحث کریں گے دلائل میں، کس اعتبار سے؟ فقہ، اصولِ فقہ میں ایک حکم اس کا بیان ہوا، اس حکم کے اعتبار سے بس جواب دیں گے، یہ معنی نہیں کہ ہمارے پاس صرف یہی ایک جواب ہے مولانا، ہر مسئلے میں ہمارے پاس بہت دلائل موجود ہیں، قرآن کے بھی اور حدیث کے بھی بھئی، بہت سی احادیث بھی ہمارے پاس دلیل کے طور پر موجود ہیں بھئی، لیکن ساروں کو تو ذکر کرنا مقصود نہیں، یہاں صرف کس انداز میں بحث کریں گے؟ اصولی کے انداز میں بحث کریں گے اور جواب دیں گے اور جواب دے دیا مولانا، سمجھ میں آیا؟ باقی بہرحال آپ کے ذہن میں یہ بات تو آئے گی کہ یہ حدیث میں کیا آیا قم فصل فإنك لم تصلي، تو اس کا بھی جواب مولانا، دیکھیے وہی جہاں حدیث ہم پڑھ رہے تھے اسی سے دو تین سطریں نیچے لکھا ہوگا، ایک اور حدیث آ رہی ہے کہ بعض حدیث میں کچھ لفظ اور بھی زائد آئے ہیں بھئی، وہ کیا ہے؟ وهو قوله عليه السلام، اور حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے، بعض روایات میں یہ لفظ زائد آئے ہیں: فإذا فعلت ذلك فقد تمت صلاتك، حضور فرما رہے ہیں جب تو یہ کر لے گا سارا کچھ، سارا سمجھایا اور پھر فرمایا جب تو یہ سب کر لے گا فقد تمت صلاتك، تو تحقیق تیری نماز پوری ہو گئی، وإن انتقصت منه شيئا، اور اگر تو نے اس میں سے کچھ کمی کر دی کسی چیز کی، انتقصت من صلاتك، تو تو نے اپنی نماز میں کمی کر دی۔ کیا کر دی؟ حضور یہ نہیں فرما رہے کہ نماز ہوئی نہیں بلکہ نماز میں کمی کر دی۔ جب نماز ناقص ہوئی تو معلوم ہوا مکروہ ہو گئی اور حضور علیہ السلام جو اسے بار بار حکم دے رہے تھے، مقصد کیا تھا؟ تاکہ اس کی نماز بغیر کراہت کے اچھے طریقے سے ادا ہو جائے بھئی۔ دیکھا؟ حدیث کے ذریعے بھی جواب آ گیا یا نہیں بھئی؟ چلیے بس مولانا، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔