سبق نمبر۔11
والثالث في وجوه استعمال ذلك النظم حيث تقسيم الثالث في طرق استعمال ذلك النظم المذكور سابقا من أنه استعمل في معناه الموضوع له أو غيره أو استعمل مع انكشاف معناه أو استتاره وهي أربعة أيضا الحقيقة والمجاز والصريح والكناية.
آج ہم تیسری تقسیم پڑھیں گے بھئی।
والثالث، بتلایا التقسیم الثالث۔ بتلا دیا مولانا کہ یہ الثالث کا موصوف محذوف ہے، أي القسم الثالث। اور قسم پھر کس معنی میں بتلا چکے ہیں پہلے؟ تقسیم کے معنی میں، تو وہ بتلا دیا التقسیم الثالث، یہ تیسری تقسیم ہے في طرق استعمال۔ بتلایا بھئی کہ متن میں جو وجوہ کا لفظ آیا تھا وہ کس معنی میں ہے؟ طرق کے معنی میں ہے، بار بار شارح بتلا رہے ہیں۔ دراصل یہ جو وجہ کا لفظ ہے یہ عام طور پر دلیل کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، تو وجوہ استعمال کا یہ معنی نہیں کرنا استعمال کے دلائل، بلکہ کیا معنی کرنا ہے؟ استعمال کی طرق، اس کے اقسام بھئی।
في طرق استعمال ذلك النظم، اس نظم کے استعمال کے اقسام میں المذكور سابقا، جو کہ پہلے مذکور ہوئی۔ جو کہ پہلے، کون سی نظم پہلے مذکور ہوئی؟ بھئی وہ نظم جو معنی پر دلالت کر رہی ہے، جہاں معنی بھی اس کے ساتھ ملحوظ ہے، صرف نظم نہیں بلکہ اس کے ساتھ اس کا معنى، تو وہ نظم جو دلالت کر رہی ہے معنی پر।
تو یہ اس کے استعمال کے طریقوں میں ہے کہ من أنه استعمل في معناه الموضوع له أو غيره، کہ اس کو استعمال کیا گیا ہے معنی موضوع لہ کے اندر یا اس کے علاوہ میں۔ بھئی ایک معنی وہ ہوتا ہے جس کے لیے لفظ کو وضع کیا جائے بھئی، کل مثال میں نے ذکر کی تھی جیسے اسد کا لفظ کس کے لیے وضع ہے؟ شیر کے لیے وضع ہے۔ لیکن اس کو کبھی کبھار کس معنی کے لیے استعمال کر لیتے ہیں؟ بہادر آدمی کے لیے بھی، تو اسد کا لفظ بولا جائے اور اس سے شیر مراد لیں تو یہ معنی موضوع لہ ہے، اور اسد کا لفظ بولا جائے اور اس سے بہادر، تو یہ معنی غیر موضوع لہ ہے۔ تو لفظ اپنے معنی موضوع لہ میں استعمال ہو تو یہ حقیقت کہلاتا ہے، یہ لفظ کیا کہلاتا ہے؟ حقیقت، اور اگر معنی غیر موضوع لہ میں استعمال ہو تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ مجاز۔
یعنی کہ وہ لفظ استعمال کیا گیا ہے اپنے معنی موضوع لہ کے اندر یا غیر موضوع لہ کے اندر، أو استعمل مع انكشاف معناه أو استتاره، اور استعمال يا استعمال کیا گیا ہے انکشافِ معنی کے ساتھ یا استتارِ معنی کے ساتھ، یعنی اس کا معنی منکشف ہے، واضح ہے، یا مستتر ہے، مستتر ہے، پوشیدہ ہے، چھپا ہوا ہے۔ اگر معنی واضح ہو تو پھر مولانا وہ صریح ہے، اگر معنی واضح نہ ہو تو وہ کنایہ ہے۔
تو یہ تیسری تقسیم ہے مولانا لفظ کے استعمال کے اعتبار سے، وهي أربعة أيضا، اور یہ بھی کتنی قسم پر ہے؟ چار ہے، الحقيقة والمجاز والصريح والكناية، حقیقت ہے، مجاز ہے، صریح ہے اور کنایہ ہے۔ اب وجہِ حصر ذکر کر رہے ہیں:
جی، کہتے ہیں: لأنه إن استعمل في معناه الموضوع له فهو حقيقة، اس لیے کہ لفظ کو اگر استعمال کیا گیا، نظم کو اس کے معنی موضوع لہ کے اندر فهو حقيقة، تو وہ کیا ہے؟ حقیقت ہے، وفي غير الموضوع له فمجاز، یا معنی غیر موضوع لہ میں استعمال کیا گیا تو یہ مجاز ہے، ثم كل منهما إن استعمل بانکشاف معناه، تو پھر ان میں سے اگر ہر ایک کو استعمال کیا گیا معنی کے انکشاف کے ساتھ یعنی معنی کے واضح ہونے کے ساتھ فهو صريح، تو یہ صریح ہے، وإلا فهو الكناية، اور اگر ایسا نہ ہو تو وہ کنایہ ہے، یعنی معنی واضح نہ ہو، غیر واضح ہو یا پوشیدہ ہو۔
کہتے ہیں: فالصريح والكناية يجتمعان مع الحقيقة والمجاز.
تو کہتے ہیں بھئی کہ حقیقت، صریح اور کنایہ جمع ہو جاتے ہیں حقیقت اور مجاز کے ساتھ۔ بھئی کتنی قسمیں بتلائیں یہاں؟ چار: حقیقت، مجاز، صریح، کنایہ۔ ان میں سے جو صریح اور کنایہ ہیں وہ کس کے ساتھ جمع ہو رہے ہیں؟ حقیقت اور مجاز کے ساتھ جمع ہو رہے ہیں بھئی۔ حقیقت جو ہے وہ صریح بھی ہو سکتی ہے اور کنایہ بھی، اور مجاز بھی اسی طرح صریح بھی ہو سکتا ہے اور کنایہ بھی۔ کیونکہ خود بخود وہ معنی موضوع لہ میں استعمال ہو گا تو وہ صریح ہے اگر، حقیقت ہے، اگر معنی غیر موضوع لہ میں استعمال ہو تو وہ مجاز ہے، پھر ان میں سے ہر ایک یا تو انکشافِ معنی کے ساتھ ہو گا یا استتارِ معنی کے ساتھ، تو دیکھو صریح اور کنایہ کس کے ساتھ جمع ہو گئے؟ حقیقت اور مجاز کے۔
تو یہاں اشکال ہوتا ہے بھئی کہ یہ تو تقسیمِ ثالث کی قسمیں ہیں اور قسموں کے، قسم میں تو تباین ہوا کرتا ہے، یہ آپس میں قسیم ہیں اور قسیمین میں کیا ہوا کرتا ہے؟ تباین ہوا کرتا ہے مولانا، یہ اعتراض ہوتا ہے۔ کیونکہ حالانکہ آپ کیا بتلا رہے ہیں، یہ تو آپس میں جمع ہو رہی ہیں، کہتے ہیں: ولذا قال فخر الإسلام، یہ چونکہ آپس میں جمع ہو جاتی ہیں اسی وجہ سے علامہ فخر الاسلام فرماتے ہیں کہ والقسم الثالث في وجوه استعمال ذلك النظم، کہ قسمِ ثالث جو ہے وہ اس نظم کے استعمال کے طریقوں میں ہے وجريانه في باب البيان، اور ان کے جاری ہونا بھئی، اس نظم کا جاری ہونا في باب البيان، کس کے اندر؟ بیان کے باب میں، یعنی ظہورِ معنی کے باب میں، بیان سے کیا مراد ہے؟ ظہور، ظہورِ معنی کے بیان کے باب میں کہ وہ ظہورِ معنی وضوح کے طریقے پر ہے یا استتار کے طریقے پر ہے، کس طرح ہے؟ وضوح کے طریقے پر ہے یا استتار کے طریقے پر ہے، تو گویا یوں کہیں علامہ فخر الاسلام جو ہیں وہ یہ فرما رہے ہیں کہ یہ دراصل ایک تقسیم ہے ہی نہیں، یہ دو تقسیمیں ہیں۔
اشکال کیا ہوتا تھا کہ بھئی ایک قسم کی، یہ تو یہ آپس میں کیا ہیں؟ قسمیں آپس میں قسیم ہوتی ہیں اور قسیم کے درمیان، قسیموں میں کیا ہوتا ہے؟ تباین ہوتا ہے، لیکن یہاں تو تباین نہیں ہے بھئی، یہ تو جمع ہو رہی ہیں آپس میں، تو یہ اعتراض چونکہ ہوتا تھا اسی لیے علامہ فخر الاسلام نے کیا کیا؟ انہوں نے کہا کہ بھئی یہ دراصل ایک تقسیم ہے ہی نہیں، یہ کتنی تقسیمیں ہیں؟ دو تقسیمیں ہیں، تو کس اعتبار سے؟ کہ وہ نظم استعمال کے، والقسم الثالث في وجوه استعمال ذلك النظم، تیسری قسم ہے، انہوں نے یوں فرمایا کہ تیسری قسم ہے کس چیز کے بارے میں؟ اس نظم کے استعمال کے طریقوں میں، اقسام میں۔ اس نظم کے استعمال کے اعتبار سے جو قسمیں ہیں وہ کون کون سی بن گئیں؟ حقیقت اور مجاز، اور اس نظم کا جاری ہونا بیان کے باب میں یعنی ظہورِ معنی کے باب میں کہ وہ نظم جاری ہے کس کے اندر؟ ظہور، یعنی اس سے معنی کا ظہور کس طریقے پر ہو رہا ہے؟ وضوح کے طریقے پر ہو رہا ہے یا استتار کے طریقے پر ہو رہا ہے؟ تو اس اعتبار سے اس کی دو قسمیں بن گئیں: ایک صریح، دوسری کنایہ۔ تو گویا یہاں دو تقسیمیں ہیں مولانا، پہلی تقسیم ہے استعمال کے اعتبار سے اور دوسری تقسیم ہے اس نظم کے بیان، بیان کے باب میں جاری ہونے کے اعتبار سے، بیان کے باب میں جاری ہونے کے اعتبار سے۔
یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا دیکھیے خود بتلا رہے ہیں: فجعل الحقيقة والمجاز راجعين إلى الاستعمال، پس انہوں نے حقیقت اور مجاز کو بنایا کہ یہ لوٹنے والی ہیں استعمال کی طرف، ان کا تعلق کس سے ہے؟ استعمال سے ہے، والصريح والكناية راجعين إلى الجريان، اور صریح اور کنایہ کو انہوں نے بنایا کہ وہ جریان کی طرف لوٹنے والی ہیں یعنی جاری ہونے کی طرف کس اعتبار سے، نظم جاری ہے اس کا معنی واضح ہے یا مستتر ہے تو اس اعتبار سے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اور اسی وجہ سے ولذا جعل صاحب التوضيح، اس کا عطف اسی قال پر ہے، ولذا قال فخر الإسلام ولذا جعل صاحب التوضيح، اور اسی چونکہ یہ جمع ہو جاتی ہیں اسی لیے صاحبِ توضیح نے بنایا كلا من الصريح والكناية قسما من الحقيقة بل المجاز، صریح اور کنایہ دونوں میں سے ہر ایک کو قسم بنایا، کس میں سے قسم بنایا؟ حقیقت اور مجاز میں۔
سمجھ میں آیا؟ تو انہوں نے اس کو حقیقت اور مجاز کی قسیم بنایا ہی نہیں بلکہ کیا کہا؟ یہ تو انہی کی قسم ہے، تو گویا حقیقت دو قسم پر ہو گئی: ایک حقیقتِ صریح، ایک حقیقتِ کنایہ۔ اسی طرح مجاز بھی دو قسم پر ہوا: ایک مجازِ صریح اور ایک مجازِ کنایہ۔
اشکال سمجھ میں آیا؟ دوبارہ سن لیں بھئی، یہاں اشکال یہ ہوتا تھا کہ بھئی یہ تو قسمیں ہیں قسمِ ثالث کی، تقسیمِ ثالث کے اعتبار سے، اور قسمیں آپس میں قسیم ہوتی ہیں اور قسیم کیا ہیں؟ ان میں تباین ہوا کرتا ہے، تو حالانکہ یہ تو آپس میں جمع ہو رہی ہیں بھئی، تو اسی وجہ سے کہتے ہیں علامہ فخر الاسلام نے کہا کہ یہاں دراصل ایک تقسیم ہے ہی نہیں بلکہ کتنی تقسیمیں ہیں؟ دو تقسیمیں ہیں۔ ایک تقسیم ہے استعمال کے اعتبار سے، اس اعتبار سے دو قسمیں ہیں: حقیقت اور مجاز، اور دوسری بیان کے باب میں اس کلام کا جاری ہونا، اس کلام کا چلنا، کہ بیان کے باب میں یہ کلام کس طرح جاری ہے، کیا اس کا معنی واضح ہے یا واضح نہیں ہے، اور اس اعتبار سے کتنی قسمیں ہیں؟ دو قسمیں ہیں: صریح اور کنایہ ہے۔ جبکہ صاحبِ توضیح جو ہیں علامہ صدر الشریعہ، انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا، انہوں نے اس یہ جو صریح اور کنایہ ہے ان کو حقیقت اور مجاز کی قسیم بنایا ہی نہیں بلکہ کیا بنا دیا ان کی؟ ان کی قسمیں بنا دیا، کہ استعمال کے اعتبار سے لفظ کتنی قسم پر ہے؟ دو: حقیقت اور مجاز، پھر یہ حقیقت اور مجاز دو دو قسم پر ہیں، یا تو یہ کیا ہوں گے؟ صریح ہوں گے یا کنایہ ہوں گے۔
بعض علماء نے اور جواب دیا بھئی، بعض علماء نے، وہ فرماتے ہیں بھئی یہی بات پیچھے بھی ہو چکی ہے، دیکھنا، بعض علماء فرماتے ہیں بھئی کہ یہاں پر ان قسموں میں تباینِ اعتباری ہے۔ کیا ہے؟ تباینِ حقیقی تو نہیں لیکن تباینِ اعتباری ہے، یعنی مفہوم کے اعتبار سے ان میں تباین ہے، کس اعتبار سے تباین ہے؟ آپ نے کہا نا بھئی یہ قسیم ہیں اور قسیموں کے درمیان کیا ہوتا ہے؟ تباین، کہتے ہیں یہاں تباینِ اعتباری موجود ہے، کس اعتبار سے تباین؟ کہتے ہیں دیکھیے بھئی:
حقیقت کس کو کہتے ہیں؟ جو اپنے معنی موضوع لہ میں استعمال ہو قطعِ نظر انکشاف اور استتار کے۔ اچھا، مجاز کسے کہتے ہیں؟ تو مجاز کے اندر حیثیت، ہر ایک میں یوں کہیں حیثیت کی قید لگی ہوئی ہے، حقیقت کس حیثیت سے ہے کہ وہ معنی موضوع لہ میں استعمال ہو رہا ہے اور قطعِ نظر ہے کس سے؟ انکشاف اور اس کی طرف کوئی توجہ نہیں اس کے اندر، اور مجاز اس حیثیت سے ہے کہ وہ کس معنی میں استعمال ہو رہا ہے؟ غیر موضوع لہ میں استعمال ہو رہا ہے اور قطعِ نظر انکشاف اور استتار، اور صریح کس اعتبار سے ہے؟ انکشافِ معنی کی حیثیت سے ہے صریح مولانا، قطعِ نظر موضوع لہ یا غیر موضوع لہ کے، اور چوتھا کیا ہے؟ کنایہ، کنایہ کس حیثیت سے ہے؟ استتارِ معنی کی حیثیت سے ہے قطعِ نظر موضوع لہ یا غیر موضوع لہ معنی کے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ اعتباری قید ہے یعنی ان کے مفہوم میں کیا ہے؟ تباین ہے، مفہوم میں تباین ہے، اور یہ بات گزشتہ سبق میں بھی گزری تھی بھئی جہاں پر آیا تھا بھئی: ظاہر، نص، مفسر، محکم، اور بتلایا تھا کہ یہ ظاہر نص کے اندر ہے اور نص مفسر میں ہے اور مفسر کس میں ہے؟ محکم میں ہے، تو بتلایا تھا کہ ہاں واقعی ان کے اندر تباین نہیں ہے اور تباین کس اعتبار سے ہے؟ صرف اعتباری ہے یعنی مفہوم کے اعتبار سے ہے بھئی۔
جی، اب آگے دیکھیے: والرابع في معرفة وجوه الوقوف على المراد، اور چوتھی تقسیم ہے، في معرفة، دیکھیے شرح کے اندر: أي التقسيم الرابع في معرفة طرق وقوف المجتهد على مراد النظم بھئی.
دیکھیے، شارح کیا کہہ رہے ہیں؟ في معرفة الطرق، متن میں کیا آیا تھا؟ معرفة وجوه، بتلایا وجوہ کس معنی میں ہے؟ طرق کے معنی میں ہے۔ آگے لفظ آیا تھا متن میں الوقوف، شارح کیا بتلاتے ہیں؟ وقوف المجتهد، معلوم ہوا الوقوف کے اندر الف لام جو ہے وہ عوض ہے مضاف الیہ سے، الوقوف کس معنی میں ہے؟ کبھی کبھار ایسا کرتے ہیں بھئی، بعض علماء فرماتے ہیں بھئی ان کا مذہب یہ کہ یہ جو الف لام ہوتا ہے یہ عوض ہوتا ہے مضاف الیہ سے بھئی، تو الوقوف کس معنی میں ہے؟ وقوف المجتهد، تو مجتہد کو آخر سے حذف کیا تھا اور اس کے عوض الوقوف پر کیا لے آئے؟ الف لام بھئی مضاف الیہ، اور بعض کہتے ہیں نہیں بھئی یہ الف لام مضاف الیہ کا عوض نہیں ہوتا بلکہ یہ الف لام عہدی ہوتا ہے، تو الوقوف سے ہر وقوف نہیں مراد بلکہ کون سا وقوف مراد ہے؟ وقوفِ مجتہد مراد ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دو مذہب ہیں بھئی، بعض علماء اس کو کیا کہیں گے کہ یہ عہدی ہے اور بعض کیا کہتے ہیں کہ یہ عوض ہے مضاف الیہ سے، تو تعبیریں الگ الگ ہیں۔
آگے على المراد ہے متن میں، شارح کیا فرماتے ہیں؟ على مراد النظم، على مراد معلوم ہوا یہاں پر بھی الف لام کس سے عوض ہے؟ مضاف الیہ سے، اسی طرح بھئی۔
تو کہتے ہیں چوتھی تقسیم ہے في معرفة طرق وقوف المجتهد، مجتہد کا واقف ہونا، مطلع ہونے کی، مجتہد کے مطلع ہونے کی اقسام کی معرفت میں، کس چیز پر مطلع ہونا مجتہد کا؟ على مراد النظم، نظم کی مراد پر مطلع ہونا، بھئی دیکھیے بھئی نظم ہے اس نظم کی مراد کیا ہے؟ مراد کیا ہے، کس چیز کا ارادہ کیا گیا ہے اس سے؟ اس مراد پر جو مطلع ہونا ہے یہ کون مطلع ہو گا؟ مجتہد، اور مجتہد اس پر مطلع کس طریقے سے ہو گا اس کو جاننا، نظم کی مراد پر مجتہد کا مطلع ہونے کی معرفت بھئی، سمجھ میں آیا؟ اس کی اقسام کی معرفت بھئی۔
وهو وإن كان في الظاهر من صفات المجتهد لكنه يؤول إلى حال المعنى وبواسطته إلى اللفظ، اور وہ یہ اگرچہ ظاہر میں مجتہد کی صفات میں سے ہے لیکن یہ لوٹتا ہے معنی کے حال کی طرف، اور اس کے واسطے سے معنی کے واسطے سے لفظ کی طرف۔
بھئی دیکھیے۔
یہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں، اعتراض یہ کہ ہم یہ اقسام جو پڑھ رہے ہیں وہ نظم کے اعتبار سے ہیں، کس کس کی ہیں؟ نظم کے اعتبار سے، یعنی لفظ اور معنی کے اعتبار سے بھئی، لفظ اور معنی۔ تو لیکن یہ جو آپ نے بتلایا یہ تو کس کی قسمیں ہیں؟ وقوف کی قسمیں ہیں بھئی، مطلع ہونا، مجتہد کا کلام کی مراد پر مطلع ہونا، نظم کی مراد پر مطلع ہونا، تو یہ مطلع ہونا یہ کس کی صفت ہے؟ مطلع کون ہو گا؟ مجتہد، لہٰذا یہ تو مطلع ہونا یہ تو صفت ہے مجتہد کی، تو اس اعتبار سے جو قسمیں ہیں ان کو نظم کی قسمیں قرار دینا صحیح نہیں، کیونکہ یہ تو کس کا کام ہے مطلع ہونا؟ مجتہد کا کام ہے، اعتراض سمجھ میں آیا؟ کہ ہم کس اعتبار سے تقسیم پڑھ رہے ہیں؟ قرآن کے نظم، نظم کی بھئی۔
اور یہاں پر آپ نے بتلایا کہ یہ جو ہے مراد پر مطلع ہونے کے اعتبار سے اقسام ہیں، اور مراد مراد پر مطلع ہونا مجتہد کا کام ہے تو لہٰذا اس کو نظم کی اقسام قرار دینا درست نہیں، کہتے ہیں ہاں بھئی، ٹھیک ہے یہ مجتہد کی صفت ہے، مجتہد کس طریقے سے مطلع ہوتا ہے نظم کی مراد پر، یہ شان مجتہد ہی کی ہے، لیکن یہ لوٹتی ہے معنی کے حال کی طرف یعنی معنی کی طرف لوٹتی ہے، کس کی طرف؟
بھئی دیکھیے، مجتہد کلام کی مراد پر مطلع ہوا کہ یہ معنی کلام سے مراد ہے، یہ معنی سمجھ میں آ رہا ہے، پھر یہ معنی یا تو عبارت النص سے ہو گا، عبارت النص سے سمجھ میں آئے گا يا
اشارۃ النص سے یا یعنی کلام اس معنی پر دلالت کر رہا ہے۔ اس معنی پر جو اس کی کلام کی دلالت ہے یا تو وہ عبارت النص کے طریقہ پر ہوگی یا اشارۃ النص کے۔ توجہ سے سننا بھئی۔ عبارت النص کے طریقہ پر ہوگی یا اشارۃ النص کے طریقہ پر یا دلالت النص کے طریقہ پر یا اقتضاء النص کے طریقہ پر۔
تو مجتہد جو ہے وہ مطلع ہوتا ہے، غور کرتا ہے اور پھر مطلع ہوتا ہے کہ کلام جو ہے اس معنی پر دلالت کس لحاظ سے کر رہا ہے، کس لحاظ سے کر رہا ہے۔ تو یہ مطلع ہونا تو صفت ہوئی کس کی؟ مجتہد کی۔ لیکن یہ بہرحال لوٹتا ہے معنی کی طرف۔ یعنی یہ معنی مفہوم ہو رہا ہے کلام سے، کس طریقہ سے؟ عبارت النص سے۔ یہ کلام مفہوم ہو رہا ہے کس سے؟ عبارت النص یا پھر اشارۃ النص یا دلالت النص یا، یعنی یہ معنی ثابت ہے اس عبارت النص سے ثابت ہے یا اشارۃ النص سے ثابت ہے یا دلالت النص سے یا اقتضاء النص سے، کس اعتبار سے؟ تو یہ کس کی طرف ہم پہنچ گئے بھئی؟ معنی تک پہنچ گئے کہ معنی، یہ معنی ثابت ہے کس طریقہ پر؟ مجتہد تو کون ہوا؟ مجتہد۔
یہ معنی ہے اور وہ معنی کس طرح ہوگا؟ ثابت ہوگا کس سے؟ عبارت النص سے یا اشارۃ النص سے یا دلالت النص سے یا اقتضاء النص سے۔ تو دیکھو معنی تک بات اگئی یا نہیں؟ یعنی یہ معنی ثابت ہو رہا ہے عبارت النص سے یا یہ معنی ثابت ہوگا کس سے؟ اشارۃ النص سے یا یہ معنی ثابت ہوگا دلالت النص سے یا یہ معنی ثابت ہوگا اقتضاء النص سے بھئی۔ تو دیکھو معنی کی اقسام بن گئیں۔ کہ یہ معنی ثابت ہے کہ اول پہلی قسم کیا؟ عبارت۔ دوسری قسم کیا؟ اشارۃ۔ تیسری قسم؟ دلالۃ۔ چوتھی؟ اقتضاء۔ تو دیکھا؟ تو یہ جو مطلع ہونا ہے یہ تو صفت ہے مجتہد ہی کی لیکن بالآخر یہ بات لوٹتی ہے کس کی طرف؟ معنی کی طرف۔ کہ مطلع ہونا پھر یہ لوٹتا ہے معنی کی طرف اور پھر معنی سے کے واسطے سے یہ لوٹتا ہے کس کی طرف؟ لفظ کی طرف کہ اب لفظ کی بات کرتے ہیں ہم۔ یہ لفظ جو ہے اس معنی پر دلالت کر رہا ہے کس طریقہ پر؟ عبارت النص کے ذریعے یا اشارۃ النص کے ذریعے یا دلالت النص کے ذریعے یا اقتضاء النص کے ذریے۔ دیکھو اب لفظ تک ہم چلے گئے۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟
سو بالآخر یہ مع یعنی یہ بات لوٹے گی معنی کے حال کی طرف اور معنی کے واسطے سے کس کی طرف لوٹے گی؟ لفظ کی طرف لوٹے گی بھئی۔
تو کہتے ہیں: "و هو و إن كان في الظاهر من صفات المجتهد" اور یہ اگرچہ ظاہر میں مجتہد کی صفات میں سے ہے "ولكنه يؤول إلى حال المعنى" لیکن یہ لوٹتا ہے معنی کے حال کی طرف۔ کہ یہ معنی ثابت ہے اس طریقہ پر، اس اعتبار سے چار قسم پر ہوا۔ "و بوسطته إلى اللفظ" اور معنی کے واسطے سے کس کی طرف؟ لفظ تک پہنچتے ہیں۔ "ولذا قيل" اور اسی وجہ سے کہا گیا ہے "إن هذا التقسيم للمعنى دون اللفظ" کہ یہ تقسیم معنی کی ہے نہ کہ لفظ کی، کیوں؟ اس لیے کہ یہ کہ جو لفظ تک ہم پہنچے، لفظ تک لوٹے، کس کے واسطے سے لوٹے؟ معنی کے واسطے سے لوٹے۔ سمجھ میں آئی کہ معنی پہلے کس ثابت ہے اس ثابت ہے اور کس طریقہ پر ثابت ہے؟ عبارت النص سے یا اشارۃ النص سے یا دلالت النص سے یا اقتضاء النص سے۔
"و هي أربعة أيضا" اور یہ بھی چار ہیں: "الاستدلال بعبارة النص وبإشارته وبدلالته وبقتضائه" استدلال کرنا عبارت النص سے، اشارۃ النص سے، دلالت النص سے، اقتضاء النص سے۔ "لأن المستدل إن استدل بالنظم" اس لیے کہ استدلال کرنے والے نے استدلال کرنے والے نے اگر استدلال کیا نظم سے "فإن كان مسوقا فهو عبارة النص" اگر وہ نظم چلائی گئی تھی یعنی اسی معنی کے لیے چلائی گئی تھی۔ مسوقا: کیا معنی؟ چلائی گئی۔ "فإن كان مسوقا" اگر وہ چلائی گئی تھی یعنی اسی معنی کے لیے چلائی گئی تھی "فهو عبارة النص" تو وہ کیا کہلاتی ہے؟ تو وہ عبارت النص ہے "وإلا" اور اگر ایسا نہ ہو اسی معنی کے لیے اس کو چلایا نہ گیا ہو "فهو إشارة النص" تو وہ اشارۃ النص ہے۔ "وإن لم يستدل بالنظم" اور اگر مستدل استدلال کرنے والا وہ نظم سے استدلال نہیں کرتا "بل بالمعنى" بلکہ معنی سے استدلال کرتا ہے "فإن كان مفهوما منه بحسب اللغة" تو اگر وہ معنی مفہوم ہو رہا ہے نظم سے "بحسب اللغة" کس اعتبار سے؟ لغت کے اعتبار سے بغیر اجتہاد کے، اجتہاد کا اس میں دخل نہیں ہے۔ یہ معنی بھئی اس نظم سے سمجھ میں آ رہا ہے اور کس حیثیت سے سمجھ آ رہا ہے؟ کس اعتبار سے؟ لغت کے اعتبار سے سمجھ میں آ رہا ہے بھئی۔ جو بھی کلامِ عربی کو سمجھنے والا ہے وہ اس معنی کو اس کلام سے سمجھ رہا ہے۔ یعنی اس میں اجتہاد کا دخل نہیں، اس میں غور و فکر اور کوشش کی ضرورت نہیں۔ بلکہ جس کو بھی لغت آتی ہے وہ اسے سمجھ لیتا ہے۔
تو یہ مولانا دلالت النص ہے۔ دوبارہ دیکھیے کہتے ہیں: "وإن لم يستدل بالنظم بل بالمعنى" اگر وہ استدلال نظم سے نہیں کرتا بلکہ معنی سے کرتا ہے "فإن كان مفهوما منه بحسب اللغة" اگر وہ معنی مفہوم ہو رہا ہے نظم سے لغت کے اعتبار سے یعنی بغیر اجتہاد کے "فهو دلالة النص" تو وہ دلالت النص ہے "وإلا" اور اگر ایسا نہ ہو یعنی لغت کے اعتبار سے وہ معنی سمجھ میں نہیں آ رہا "فإن توقف عليه صحة النظم شرعا أو عقلا فهو اقتضاء النص" تو اگر اس پر موقوف ہے نظم کا صحیح ہونا شرعاً اور عقلاً، شرعی حیثیت سے اور شرعی اعتبار سے اور عقلی اعتبار سے۔ یعنی اگر اس معنی کو ہم وہاں نہیں مانتے تو پھر وہ نظم صحیح نہیں رہتی۔ وہ نظم صحیح ہی یعنی اس نظم کو عقلاً یا شرعاً اس کی صحت کے لیے ضروری ہے کہ اس سے پہلے ایک اور چیز کو مانا جائے۔
جیسے ایک آدمی نے کہا دوسرے کو: بھئی، "أعتق عني عبدك بألف" اپنے غلام کو کیا کرو؟ میری طرف سے ایک ہزار کے بدلے آزاد کر دو۔ اب وہ آزاد کر دیتا ہے تو اس کی طرف سے آزاد ہوگا مثلاً اس نے کفارے کے طور پر اس کو آزاد کرنا تھا تو اس کی طرف سے غلام اس آزاد ہوا اور کفارہ ادا ہو گیا۔ حالانکہ اگر تو معلوم ہوا یہاں پہلے بیع اور توکیل کو ماننا پڑے گا ورنہ یہ نظم صحیح نہیں رہتی، یہ کلام صحیح ہی کیوں؟ اس نے کیا کہا؟ "أعتق عبدك عني" اپنے غلام کو کیا کرو؟ میری طرف سے آزاد کر دو۔ بھئی غلام اس کا ہے، تمہاری طرف سے کیسے آزاد کر دے؟ سمجھ میں آیا؟ "بألف" کتنے کے بدلے؟ ایک ہزار کے بدلے۔ تو "بألف" آیا تو اس سے کیا پتہ چلا؟ عوض کا، لہٰذا ہم یہاں اقتضاءً پہلے اس کلام کو صحیح کرنے کے لیے کیا کریں گے؟ پہلے بیع کو مان لیں گے کہ گویا اس نے ایک ہزار کے بدلے اس سے کیا کیا؟ غلام کو خرید لیا اور پھر اس کو کہا: "أعتق" آزاد کر اسے۔ تو اور اس کے لیے یعنی اس کو وکیل بنا دیا کہ تم کیا کرو اب اس کو؟ آزاد۔ تو لہٰذا اس کلام کے صحیح ہونے کے لیے ہم نے کیا مانا پہلے؟ بیع کو بھی اقتضاءً مانا اور توکیل کو بھی مانا۔ تو اس بیع اور توکیل کا تقاضا کس نے کیا تھا؟ اسی کلام نے "أعتق عبدك عني بألف" اس کے بغیر یہ کلام صحیح ہی نہیں بنتا۔ تو لہٰذا یہاں اس کلام نے اس کا تقاضا کیا تھا تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ اقتضاء النص، جس کا کلام وہ تقاضا کرے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو آگے تفصیل آ جائے گی بھئی، یہ میں نے ویسے مختصراً بیان کر دیا۔ کہتے ہیں: "فإن توقف عليه صحة النظم شرعا أو عقلا" پس اگر اس پر موقوف ہو نظم کا صحیح ہونا شرعاً یا عقلاً "فهو اقتضاء النص" تو وہ اقتضاء النص ہے "وإن لم يتوقف عليه" اور اگر اس پر نظم کا صحیح ہونا موقوف نہ ہو "فهو من الاستدلالات الفاسدة" تو وہ کس میں سے ہے؟ استدلالاتِ فاسدہ میں سے ہے، وہ استدلالات یعنی درست نہیں ہیں۔ "على ما سيجيء إن شاء الله تعالى" بناء بر اس کے کہ جو عنقریب آ جائیں گے۔ آگے تفصیل آ جائے گی استدلالاتِ فاسدہ کی بھئی۔
"وبعد معرفة هذه الأقسام قسم خامس يشمل الكل" اور ان اقسام کو جاننے کے بعد ایک پانچویں قسم ہے جو سب کو شامل ہے۔ "أي بعد معرفة هذه الأقسام" ان اقسام کو جان لینے کے بعد، کتنی اقسام ہیں؟ "العشرين الحاصلة من التقسيمات الأربعة" یہ جو بیس قسمیں جو حاصل ہوئیں چار تقسیمات سے "تقسيم خامس" ان کے بعد ایک پانچویں ایسی تقسیم ہے "يشمل كلا من العشرين" یعنی "كل واحد من العشرين" یہ کلاً میں تنوین عوض ہے مضاف الیہ سے بھئی۔ کہ ان میں ایسی پانچویں قسم ہے جو شامل ہے بیس میں سے ہر ایک کو بھئی، بیس میں سے ہر ایک میں یہ تقسیم ہوگی۔ "وهو أربعة أيضا" اور یہ بھی چار ہیں مولانا: "معرفة مواضعها ومعانيها وترتيبها وأحكامها".
بھئی دیکھیے، پہلے اس کو سمجھ لیجئے آگے شرح میں آسان باتیں ہیں۔ بتلا رہے ہیں کہ آپ نے یہ تقسیمات ساری پڑھ لیں بھئی اور کل کتنی قسمیں بن گئیں؟ بیس قسمیں۔ پھر اس کے بعد ایک پانچویں تقسیم بھی ہے جو ان ساری تقسیمات کو شامل ہے بھئی، ساری تقسیمات کو۔ اور اس کی بھی کتنی قسمیں ہیں؟ چار قسمیں ہیں۔ پہلی قسم کیا ہے؟ معرفۃ مواضعہا: ان اقسام کے مواضع کو جاننا۔ دوسرا کیا ہے؟ ان کے معانی کو جاننا اور ان کی ترتیب کو جاننا اور ان کے احکام کو جاننا۔ ان کے مواضع کو جاننا، آگے بتلائیں گے کہ مواضع سے مراد ان کے مآخذ ہیں اشتقاق کے کہ ان کا اشتقاق کس چیز سے ہوا ہے۔ آسان بات ہے، جیسے خاص کا اشتقاق کس سے ہوا؟ خصوص سے۔ عام کا اشتقاق کس سے ہوا؟ عموم سے۔ سمجھ میں آیا؟ مشترک کا اشتقاق کس سے ہوا؟ اشتراک سے بھئی۔ تو یہ ان کے مواضع ہیں کہ جن سے ان کا اشتقاق ہوا ہو وہ بھی تاکہ ہر ایک کے اس مأخذ کا پتہ ہو ہمیں، اس کا اشتقاق کس سے ہوا۔ یہ ان کے مواضع ہیں اور معانی سے مراد ان کی وہ اصطلاحی تعریفات ہیں کہ ہر ایک کی تعریف جیسے ابھی انہوں نے آگے کیا ذکر کریں گے؟ آگے خاص کی تعریف ذکر کریں گے متن میں کہ "أما الخاص فكل لفظ وضع لمعنى معلوم على الانفراد" ہر وہ لفظ ہے جس کو وضع کیا گیا ہو ایک معلوم معنی کے لیے علی الانفراد، کس طریقہ پر؟ یہ اصطلاحی تعریف۔ تو ہر ایک کی اصطلاحی تعریف، یہ کیا ہے ان کا اس کا معنی ہے۔
پھر اس کے بعد ان کی ترتیب ذکر ہوگی کہ اگر دو قسموں کا آپس میں ٹکراؤ آ جائے تو پھر کس کو ترجیح دیں گے؟ مثلاً کیا بتلایا تھا کہ ظاہر سے قوی کون ہے؟ نص۔ تو ظاہر میں اور نص میں ٹکراؤ آ گیا تو پہلا درجہ کس کا ہے؟ کس کو ترجیح دیں گے؟ نص کو، یہ ترتیب ہے بھئی۔ اور ان کے احکام بھئی، ان کے احکام کا جاننا کہ ان میں سے کون سا قطعی ہے، کون سا ظنی ہے وغیرہ۔ اور یہ ہر ایک میں جاری ہو رہے ہوں گے۔ خاص لے لیں، اس کا بھی کیا کریں گے؟ اشتقاق کس سے ہوا، یہ ہو گیا اس کے موضع بھئی، اس کے مأخذ بھئی۔ دوسرا کیا بیان ہوگا اس کا؟ معنی، معنی سے کیا مراد ہے؟ اس کی اصطلاحی تعریف۔ اور اس کے بعد کیا ذکر ہوگا اس کی؟ ترتیب بھئی۔ اس کے بعد؟ ان کے حکم۔ تو ہر ایک میں یہ چار چیزیں آئیں گی۔ یعنی ہر ایک کا پورا پتہ ان چار چیزوں سے چلے گا کہ اس کے مأخذ کا بھی پتہ چل جائے، اس کی تعریف کا بھی پتہ چل جائے، اس کا ترتیب اس کا مقام اور مرتبے کا بھی پتہ چل جائے اور اس کے حکم کا بھی پتہ چل جائے۔ تو ہر ایک میں ان چار چیزوں کے جاننے سے کیا ہو جائے گی اس کی اس کا پوری طرح پتہ چل جائے گا۔ تو لہٰذا یہ بیس کی بیس قسموں میں یہ چار قسمیں جاری ہوتی ہیں تو اس اعتبار سے کتنی قسمیں ہو گئیں؟ اسی ہو گئیں یعنی۔ یوں کہو کہ احکام کا جاننا موقوف ہوا بیس قسموں پر۔ کتنی قسموں پر؟ بیس قسمیں ابھی بیان کی تھیں بھئی، بتلایا تھا کہ احکام کا جاننا موقوف ہے ان اقسام پر پھر آگے تقسیمات تھیں جو سب کو بتایا۔ تو احکام کا جاننا موقوف ہوا کس پر؟ بیس قسموں پر اور بیس قسموں کا جاننا موقوف ہوا کس پر؟ ان میں سے ہر ایک موقوف ہوا کتنے پر؟ چار پر۔ تو گویا کل کتنی ہو گئیں؟ اسی۔ تو ان بیس کا جاننا موقوف ہوا اسی قسموں پر۔ تو یوں کہہ لو گویا کہ احکام کا جاننا ہی موقوف ہو گیا کتنی قسموں پر؟ اسی قسموں پر۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
دیکھیے اب بھئی: "أي هذا التقسيم أربعة أقسام أيضا" یہ تقسیم بھی چار اقسام ہیں مولانا "معرفة مواضعها" "أي مأخذ اشتقاق هذه الأقسام" یعنی ان اقسام کے اشتقاق کے مأخذ کو جاننا "وهو أن اللفظ الخاص مشتق من الخصوص" مأخذ اشتقاق بتا رہے ہیں اور وہ یہ ہے کہ جیسے کہ لفظ خاص مشتق ہوا ہے خصوص سے "والخصوص وهو الانفراد" خصوص کا کیا معنی ہے؟ انفراد، منفرد ہونا۔ "وأن العام مشتق من العموم" اور یہ کہ عام مشتق ہے عموم سے "وهو الشمول" اور وہ کس کو کہتے ہیں؟ شمول کو کہتے ہیں۔ "وقس عليه" اور اسی پر آپ قیاس کر لیجیے باقی ساری قسموں کو۔ "ومعانيها المفهومات الاصطلاحية" اور ان کے جو معانی ہیں وہ ان کے اصطلاحی مفہوم ہیں بھئی جو ان کی تعریف ذکر کرتے جائیں گے۔ "وهي" اور وہ یہ جیسے "أن الخاص في الاصطلاح" کہ خاص اصطلاح کے اندر "لفظ وضع لمعنى معلوم على الانفراد" وہ لفظ ہے جس کو وضع کیا گیا ہو ایک معلوم معنی کے لیے علی الانفراد، انفراد کے طریقہ پر۔ "والعام" اور اسی طرح عام کی جیسے تعریف ہے کہ "هو ما انتظم جمعا من المسميات" جو شامل ہو مجموعے کو مسمیات میں سے، مفہومات میں سے مفہوم میں سے افراد، یا یوں کہو افراد، مسمیات سے کیا مراد ہے؟ افراد۔ جو شامل ہو مجموعے کو افراد میں سے۔ بھئی عام میں ہمیشہ افراد ہوں گے جبکہ خاص کے اندر افراد نہیں، تو اسی لیے کہا جو شامل ہو افراد کے مجموعے کو۔ "وترتيبها" "أي معرفة" دیکھا لفظ معرفت کے ذریعے بتلا دیا۔ معرفت اور اس کے آگے جو ہے یہ ترتیب کا معنی کر رہے ہیں کہ "أن أيها يقدم عند التعارض" کہ ان میں سے کون مقدم ہے تعارض کے وقت "مثلا إذا تعارض النص والظاهر يقدم النص على الظاهر" جب تعارض آ جائے نص اور ظاہر میں تو مقدم کیا جائے گا نص کو کس پر؟ ظاہر پر۔ اچھا بھئی، یہ پیچھے میں نے کیا بتلایا "وترتيبها أي معرفة" یعنی معرفۃ۔ تو معلوم ہوا یہ ترتیب جو وہ جو پیچھے آیا تھا مولانا متن کے نیچے پہلی سطر میں آیا تھا: "معرفة مواضعها" اسی مواضع پر عطف ہے ترتیب کا۔ تو یہ معرفت کے لیے مضاف الیہ ہوا۔ تو مواضعہا مجرور تھا تو ترتیبہا کو بھی کیا پڑھیں؟ مجرور پڑھیں۔ اسی طرح آگے "وأحكامها" آ رہا ہے: "وأحكامها"، اس کا عطف بھی کس پر ہے؟ مواضع پر ہے یعنی "معرفة أحكامها" ان کے احکام کی معرفت، اس کے ان کی ترتیب کی معرفت، ان کے مواضع کی معرفت۔ اچھا، درمیان میں جو آیا تھا: "ومعانيها المفهومات الاصطلاحية" اس کو عطف کی ضرورت نہیں لیکن اگر آپ عطف کرنا چاہتے ہیں تو پھر اس کو بھی اسی کی طرح کرنا پڑے گا۔ کس طرح؟ معانی کس کے تحت آ جائے گا؟ مواضع کی جگہ، تو کس کے تحت آیا؟ معرفت کے تحت آ گیا یعنی "معرفة معانيها".
معانیہا، پھر یہاں «اَی» کا لفظ ہونا چاہیے۔ معرفۃ معانیہا اَی المَفہُومَاتِ الاِصطِلَاحِیَّۃِ اور معانی وہ کیا ہیں؟ یعنی کہ مفہومات اصطلاحیہ ہیں، وَہِیَ آگے اس کی خبر آ جائے گی۔
بات سمجھ میں آئی بھئی؟
واحکامہا اور ان کے احکام، یعنی ان کے احکام کی معرفت، کَانَّ اَیَّہَا قَطعِیٌّ وَاَیَّہَا ظَنِّیٌّ کہ ان میں سے کون سا قطعی ہے، کون سا ظنی ہے، وَاَیَّہَا وَاجِبُ التَّوَقُّفِ اور کون واجب، کون سا واجب التوقف ہے، یعنی جس میں توقف کرنا واجب ہے، رک جانا واجب ہے، توقف کیا جائے گا جیسے مولانا متشابہ ہے۔
تو خود بتلا رہے ہیں فَالخَاصُّ قَطعِیٌّ وَالعَامُّ المَخصُوصُ ظَنِّیٌّ کہ خاص جو ہے وہ قطعی ہے اور وہ عام جو مخصوص ہو، یعنی جس سے تخصیص کی جائے، وہ ظنی ہے، وَالمُتَشَابِہُ وَاجِبُ التَّوَقُّفِ اور متشابہ کیا ہے؟ واجب التوقف ہے کیونکہ اس کی مراد پر مطلع ہوا ہی نہیں جا سکتا۔
فَاِذَا ضُرِبَت ہَذِہِ الاَقسَامُ فِی العِشرِینَ جب ضرب دی جائے ان قسموں کو بیس کے اندر، یہ چار قسمیں ہیں ان کو جب بیس میں ضرب دی جائے، تَصِیرُ الاَقسَامُ ثَمَانِینَ تو قسمیں کتنی بن جائیں گی؟ اسی (80) بن جائیں گی، وَالتَّقسِیمَاتُ خَمسَۃً اور تقسیمات کتنی بن جائیں گی؟ پانچ بن جائیں گی۔
وَہَذَا التَّقسِیمُ الخَامِسُ لَیسَ فِی الوَاقِعِ تَقسِیمًا لِلقُرآنِ۔
اچھا، یہاں سے اب وہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ اعتراض یہ کہ آپ نے کیا کہا؟ کہ قسمیں کتنی بن جائیں گی؟ اسی (80)۔ اور تقسیمات کتنی بن جائیں گی؟ پانچ۔ اور پیچھے تو آپ نے حصر کیا تھا۔ کہ چار تقسیمات ہیں بھئی اور اس کی قسمیں کتنی بنائی تھیں؟ بیس (20)۔ تو تقسیمات بھی بڑھ گئیں، قسمیں بھی بڑھ گئیں۔ آپ نے تو کہا تھا چار تقسیمات ہیں، کتنی ہو گئیں؟ پانچ۔ اور آپ نے کیا کہا تھا کتنی قسمیں ہیں؟ بیس قسمیں ہیں اور یہ تو بیس سے، یہ تو اسی ہو گئیں بھئی۔
تو جواب دے رہے ہیں مولانا کہ وَہَذَا التَّقسِیمُ الخَامِسُ لَیسَ فِی الوَاقِعِ تَقسِیمًا لِلقُرآنِ، یہ پانچویں تقسیم جو ہے دراصل قرآن کی تقسیم ہے ہی نہیں، بَل تَقسِیمٌ لِاَسَامِی اَقسَامِ القُرآنِ، بلکہ یہ تو قرآن کی اقسام کے ناموں کی تقسیم ہے۔
اسامی جمع ہے اسم کی۔ قرآن کی اقسام کے جو ہم نے نام رکھے، بھئی وہ خاص، عام، مشترک، مؤول وغیرہ جتنے نام تھے، یہ دراصل کیا ہے؟ ان کی تقسیم ہے۔
مراد یہ ہے کہ وہ جو قرآن کی اقسام تھیں، ان میں سے ہر قسم کی تقسیم ہے۔
ہر قسم...
وہ جو کیا ذکر ہوا تھا؟
قرآن کی جو قسمیں ذکر ہوئیں، کتنی قسمیں ذکر ہوئیں؟ بیس۔ جو بیس قسمیں ذکر ہوئیں، ان میں سے ہر قسم کی جو معرفت ہے، اس معرفت کی کیا ہے؟ تقسیم۔ تو ہر قسم کی معرفت دراصل کتنی چیزوں سے حاصل ہو گی؟ چار چیزوں سے، تو اس کی جو ہر قسم کی جو معرفت ہے، اس کی تقسیم ہے۔ اس معرفت کے اعتبار سے چار قسمیں ہوئیں کہ اس کے موضع کا، ماخذ اشتقاق کا جاننا، اور اس کے معنی کا جاننا، اور اس کے ترتیب کا جاننا، اور اس کے حکم کا جاننا۔
جی، تو بلکہ یہ تقسیم ہے مولانا، قرآن کی اقسام کے ناموں کی، وَمَوقُوفٌ عَلَیہِ عطف ہے مولانا تقسیم پر، بلکہ یہ تقسیم ہے اور بلکہ یہ موقوف علیہ ہے لِتَحقِیقِہَا ان اقسام کے کی تحقیق کے لیے۔ ان اقسام کی تحقیق کس طرح ہو گی بھئی؟ ان چار قسموں سے ہو گی بھئی۔ ان احکام کی تحقیق کس طرح ہو گی؟ ان اقسام کی تحقیق، ان اقسام کی تحقیق کے لیے یہ چار چیزوں کی معرفت یہ موقوف علیہ ہے، وہ ان پر موقوف ہے۔ ان چار چیزوں کا پتہ چلے گا، موقوف علیہ کا پتہ چلے گا، تو موقوف کا بھی پتہ چل جائے گا۔ موضع، معنی، ترتیب اور حکم کا پتہ چلے گا تو اس قسم کی کیا ہو جائے گی پوری؟ تحقیق ہو جائے گی۔ تو ہر قسم کی پوری تحقیق موقوف ہوئی ان چار قسموں پر۔
بات سب کو سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟
تو اسی لیے میں نے کہا بھئی، پہلے ہی آپ کو بتلا دیا کہ دراصل بھئی قرآن کے احکام کا جاننا موقوف ہوا کتنی قسموں پر؟ بیس قسموں پر، اور بیس قسموں کا جاننا موقوف ہوا کتنی قسموں پر؟ ان میں سے ہر ایک موقوف ہوا چار چار پر، تو کل کتنی قسموں پر موقوف ہوئے؟ اسی پر، تو گویا احکام قرآن موقوف ہوئے کتنے قسموں کے جاننے پر؟ اسی قسموں کے جاننے پر۔
تو اسی لیے کہا وَمَوقُوفٌ عَلَیہِ لِتَحقِیقِہَا، ان اقسام کی تحقیق کے لیے یہ کیا ہیں؟ موقوف علیہ ہیں، یعنی وہ اقسام وہ بیس اقسام ان پر موقوف ہیں۔
وَلِہَذَا لَم یَذکُر المَجہُورُ، اسی وجہ سے اس کو... وَلِہَذَا لَم یَذکُرہُ الجُمهُورُ، اسی وجہ سے اس کو ذکر نہیں کیا جمہور نے۔
جمہور نے کیا کیا اس کو ذکر... بھئی اسی لیے، کیونکہ یہ چونکہ کس کی تقسیم نہیں ہے؟ قرآن کی تقسیم نہیں ہے بھئی۔ اس لیے انہوں نے ذکر نہیں کیا، وَاِنَّمَا ہُوَ اختِرَاعُ فَخرِ الاِسلامِ، یہ تو علامہ فخر الاسلام کی اختراع ہے، انہوں نے اس کو اپنا بنایا بھئی خود، وَتَبِعَہُ المُصَنِّفُ رحمہ اللہ اور مصنف نے بھی کیا کیا؟ ان کا اتباع کیا، وَلَکِنَّ فَخرَ الاِسلامِ لَمَّا ذَکَرَ هَذَا التَّقسِیمَ، لیکن علامہ فخر الاسلام نے جب اس تقسیم کو ذکر کیا فِی اَوَّلِ الکِتَابِ اپنی کتاب کی ابتداء میں، سَلَکَ فِی آخِرِہِ عَلَی سُنَّتِہِ، تو وہ چلے اس کتاب کے آخر میں علی سنتہ اپنے طریقے پر، یعنی شروع میں جو ایک طریقہ بیان کر دیا تھا، آخر تک اسی طریقے پر چلے، یعنی ہر قسم میں کیا کیا بیان کرتے گئے؟ اس کا ماخذ بھی اور معنی بھی اور اس کی ترتیب بھی اور اس کے اس کا حکم بھی بیان کرتے گئے۔
دیکھیے یہی بات کر رہے ہیں، فَذَکَرَ کُلًّامِنَ المَوَاضِعِ وَالمَعَانِی وَالتَّرتِیبِ وَالاَحکَامِ فِی کُلٍّ مِنَ الاَقسَامِ، پس ذکر کیا انہوں نے ہر ایک کو، فذکر کلاً، ای کل واحد، پس انہوں نے ذکر کیا ہر ایک کو مواضع، معنی، ترتیب اور احکام میں سے فی کل من الاقسام، ہر ایک ہر ایک قسم میں، وَالمُصَنِّفُ رحمہ اللہ اِنَّمَا ذَکَرَ المَعَانِی وَالاَحکَامَ فَقَط، جبکہ مصنف صرف معانی اور احکام بیان کرتے ہیں، وہ انہوں نے صرف معانی اور احکام کو بیان کیا ہے، وَلَم یَذکُر المَوَاضِعَ اَصلاً، اور مواضع کو انہوں نے یعنی ماخذ اشتقاق کو انہوں نے انہوں نے سرے سے کہیں پر بھی ذکر کیا ہی نہیں، وَذَکَرَ التَّرتِیبَ فِی بَعضِ الاَقسَامِ فَقَط، اور ترتیب کو بھی صرف بعض اقسام میں ذکر کیا ہے۔
یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
خلاصہ بحث، ابھی تک جو ہم نے سبق پڑھا اس کا خلاصہ یہ ہوا کہ ہم نے تیسری تقسیم پڑھی اور وہ تیسری تقسیم نظم کی تھی کس اعتبار سے؟ استعمال کے اعتبار سے، اور اس اعتبار سے کتنی قسمیں بنی تھیں؟ چار قسمیں بنی تھیں بھئی، حقیقت، مجاز اور صریح، صریح اور کنایہ۔ حقیقت کہ لفظ اپنے معنی موضوع لہ میں استعمال ہو، مجاز کہ لفظ اپنے معنی غیر موضوع لہ میں استعمال ہو، پھر ان میں سے ہر ایک دو قسم پر ہے کہ اس کا معنی واضح ہو گا یا مستتر ہو گا، اگر معنی واضح ہے تو وہ کیا ہے؟ صریح ہے، اگر معنی مستتر ہے تو وہ کنایہ ہے، پھر اس پر ایک اشکال ہوتا تھا کہ بھئی یہ تو صریح اور کنایہ جو ہیں، حقیقت اور مجاز کے ساتھ جمع ہو گئے، حالانکہ یہ آپس میں قسیم ہیں اور قسیم ایک دوسرے کے کیا ہوتے ہیں؟ متباین ہوتے ہیں، تو جواب اس کا کہا بھئی یہ چونکہ جمع ہو جاتے ہیں، اسی لیے علامہ فخر الاسلام نے اور طریقہ اختیار کیا، انہوں نے کہا کہ یہ ایک تقسیم دراصل ہے ہی نہیں، یہ کیا ہیں دراصل؟ دو تقسیمیں ہیں، ایک تقسیم ہے استعمال کے اعتبار سے اور دوسری تقسیم ہے بیان کے باب میں اس نظم کے جاری ہونے کے اعتبار سے ہے بھئی، اور جبکہ صاحب توضیح نے یوں کیا کہ پہلے تقسیم کی استعمال کے اعتبار سے کہا دو ہی قسمیں ہیں، حقیقت اور مجاز، پھر حقیقت اور مجاز انکشاف اور استتار کے اعتبار سے کتنی کتنی قسم پر ہیں؟ دو دو قسم پر ہیں بھئی، صریح اور کنایہ۔ بعضوں نے اور جواب دیا، انہوں نے کہا بھئی کہ بھئی یہاں پر تمام یہ جو ہے تباین اعتباری ہے، یعنی ان کے مفہوم آپس میں کیا ہیں؟ متباین ہیں، اس لیے کہ حقیقت کے اندر حقیقت ہے اس حیثیت سے لفظ کہ وہ کس میں استعمال ہو رہا ہے؟ اپنے معنی موضوع لہ موضوع لہ کے اندر قطع نظر انکشاف اور استتار کے، اور مجاز کے اس حیثیت سے ہے کہ لفظ استعمال ہوا ہے اپنے معنی معنی معنی غیر موضوع لہ کے اندر قطع نظر انکشاف اور استتار کے، اور جبکہ صریح کیا ہے؟ کہ لفظ کیا ہو؟ اس کا معنی منکشف ہو قطع نظر موضوع لہ یا غیر موضوع لہ میں استعمال ہونے کے، اور کنایہ کس کو کہتے ہیں؟ کہ لفظ کا معنی مستتر ہو یعنی قطع نظر کہ وہ معنی موضوع لہ میں استعمال ہوا ہے یا غیر موضوع لہ میں۔
پھر اس کے بعد بتلایا، چوتھی تقسیم تھی بھئی کہ مراد نظم کی مراد پر مطلع ہونے کے طریقوں کے بارے میں تھی، اس پر اشکال ہوا تھا کہ بھئی یہ تو مجتہد کا کام ہے مطلع ہونا، لہٰذا اس کو نظم کی اقسام بنانا صحیح نہیں، کہتے ہیں بھئی ٹھیک ہے یہ مجتہد کی شان ہے کہ مجتہد اس بات پر مطلع ہوتا ہے کہ اس نظم سے یہ مراد ہے، لیکن وہ مراد کا پتہ کیسے چلا؟ یا تو کس طریقے پر ہو گا؟ عبارت النص سے یا اشارۃ النص سے یا دلالۃ النص سے یا اقتضاء النص سے، تو مجتہد اس پر مطلع ہوا، یعنی یہ معنی ثابت ہے کس سے؟ نظم سے، تو ہم کس تک پہنچ گئے؟ جب مجتہد اس پر مطلع ہوا، تو معلوم ہوا یہ معنی اس نظم سے کیا ہو رہا ہے؟ ثابت ہو رہا ہے، کس طریقے پر ثابت ہو رہا ہے؟ یا عبارت النص کے طریقے پر یا اشارۃ النص کے طریقے پر یا دلالۃ النص کے طریقے پر یا اقتضاء النص کے طریقے پر، اور پھر معنی سے کہاں تک ہم پہنچ گئے؟ لفظ تک بھئی کہ یہ لفظ دلالت کر رہے ہیں اس معنی پر کس طریقے پر؟ عبارت النص کے طریقے پر یا اشارۃ النص کے طریقے پر یا دلالۃ النص یا اقتضاء النص کے طریقے پر، کہتے ہیں اسی لیے اس کو کہا گیا ہے کہ یہ معنی کی قسم ہے، اس لیے کہ یہاں لفظ تک ہم کس کے واسطے سے پہنچے؟ معنی کے واسطے سے پہنچے۔
پھر اس کے بعد بتلایا تھا جی ان کا ان کی وجہ حصر ذکر کی کہ استدلال کرنے والا اگر نظم سے استدلال کرے، تو اگر نظم اسی کے لیے چلائی گئی ہے، اسی معنی کے لیے چلائی گئی ہے، اس کو ذکر کیا گیا ہے، تو وہ عبارت النص ہے، اور اگر معنی کے لیے نہیں چلائی گئی تو وہ اشارۃ النص ہے، پھر اگر وہ استدلال کرتا ہے نظم سے نہیں کرتا بلکہ کس سے کرتا ہے؟ معنی سے کرتا ہے، تو اگر وہ معنی نظم سے سمجھ میں آ رہا ہے لغت کی حیثیت سے بغیر کسی اجتہاد کے دخل کے، تو یہ کیا ہے؟ تو یہ دلالۃ النص ہے، اور اگر ایسا نہ ہو، یعنی لغت کے اعتبار سے وہ معنی سمجھ میں نہیں آ رہا، بلکہ نص کیا کر رہی ہے؟ اس کا تقاضا کر رہی ہے، اپنے صحیح ہونے کے لیے اس کا تقاضا کر رہی ہے، تو یہ کیا ہے؟ اقتضاء النص ہے، اور اگر نص کی صحت اس پر موقوف نہیں ہے تو پھر وہ کس میں سے ہے؟ استدلالات فاسدہ میں سے، یعنی ان کو کوئی اعتبار نہیں، پھر اس کے بعد بتلایا تھا ان کے علاوہ ایک پانچویں قسم اور بھی ہے جس کے اندر ہم کیا جانیں گے؟ ان اقسام کے مواضع اور ان کے معانی اور ان کی ترتیب اور ان کے احکام کو جانیں گے بھئی، مواضع سے کیا مراد ہے؟ بتلایا مواضع سے مراد ان کے ماخذ ہیں بھئی کہ ان کا اشتقاق کس سے ہوا ہے، معانی سے مراد ان کی وہ اصطلاحی تعریفیں ہیں، اور ترتیب سے مراد یہ کہ ان میں اگر تقابل آ جائے دو قسموں میں تو کس کو ترجیح دیں گے، اور احکام سے مراد کیا ہے؟ ان کے احکام مراد ہیں بھئی کہ کون سا قطعی ہے، کون سا ظنی ہے وغیرہ، اور پھر بتلایا بھئی کہ یہ جو ماتن نے کہا نا کہ یہ اسی (80) قسمیں ہیں اور پانچ تقسیمات ہوئیں، تو وجہ حصر درست نہ رہی، تو بتلایا آپ کو بھئی کہ یہ دراصل قرآن کی تقسیم ہے ہی نہیں، بلکہ قرآن کی جو اقسام ہیں، ان میں سے ہر ایک کی معرفت کی کیا ہو رہی ہے یہ دراصل؟ تقسیم ہو رہی ہے، تو یوں کہیں گے بھئی کہ قرآن کے احکام کا جاننا موقوف ہوا کس پر؟ بیس (20) قسموں پر، اور بیس قسموں کا جاننا موقوف ہوا کتنے پر؟ ان میں سے ہر ایک موقوف ہوئی کتنی پر؟ چار پر، تو گویا بیس کل کے کل کتنے پر موقوف ہوئے؟ اسی (80) پر موقوف ہوئے، تو گویا احکام قرآن کا جاننا کس پر موقوف ہوا؟ اسی قسموں پر، اس اعتبار سے انہوں نے اسی قسمیں کہا اور انہی بیس کو کیا بنا دیا؟ اسی بنا دیا، ورنہ تو دراصل یہ قرآن کی اقسام ہیں ہی نہیں بھئی۔
اور پھر آپ کو آخر میں یہ بتلایا کہ بھئی یہ جو ہے علامہ فخر الاسلام کا طریقہ ہے، لیکن انہوں نے اپنی کتاب کو جب اس میں اس کتاب میں اس طریقے کو اختیار کیا تو شروع سے آخر تک اسی طرح چلتے رہے، جبکہ مصنف نے کیا کیا ہے؟ ہر جگہ پر ان چاروں کی رعایت نہیں رکھی، بعض جگہ تو ذکر کیا، بعض کو بالکل سرے سے ذکر کیا ہی نہیں ہے بھئی۔
ثُمَّ لَمَّا فَرَغَ المُصَنِّفُ رحمہ اللہ عَن بَیَانِ عَن بَیَانِ اِجمَالِ التَّقسِیمِ شَرَعَ فِی بَیَانِ تَفَاصِیلِ الاَقسَامِ، پھر جب مصنف رحمہ اللہ فارغ ہو گئے مولانا تقسیم کے اجمال کے بیان سے، تو شروع ہو گئے بھئی اقسام کی تفصیل کے بیان میں۔ اب تفصیل سے بھئی، پہلے اجمالاً سارے بیس قسمیں بیان کر دیں، اب ہر ایک کو کیا کریں گے؟ تفصیل ہر ایک کی کریں گے بھئی، تعریف، حکم، مثالیں وغیرہ۔
فَقَالَ، تو فرماتے ہیں: اَمَّا الخَاصُّ فَکُلُّ لَفظٍ وُضِعَ لِمَعنًی مَعلُومٍ عَلَی الاِنفِرَادِ، خاص وہ ہر وہ لفظ ہے، وُضِعَ لِمَعنًی مَعلُومٍ جس کو کیا کیا گیا ہو؟ وضع کیا گیا ہو ایک معلوم معنی کے لیے، عَلَی الاِنفِرَادِ کس طریقے پر؟ انفرادی کے طریقے پر، انفراد کے طریقے پر۔
معلوم ہوا خاص ہر وہ لفظ ہے جس کو کسی معلوم معنی کے لیے وضع کیا گیا ہو۔ یہ متن ہے مولانا، اس پر اشکال ہوتا ہے، اعتراض ہوا بھئی کہ آپ نے کہا معنی معلوم کے لیے وضع ہو، تو اس سے خاص العین خارج ہو گیا، کیونکہ خاص العین جیسے اس کی مثال آگے ذکر کریں گے، جیسے زید ہے۔
وہ کیا ہے؟ خاص العین ہے بھئی خاص العین ہے، وہ تو اس سے خارج ہو گیا کیونکہ وہ تو معنی کا نام نہیں، اور آپ نے تو کیا کہا؟ خاص کس کی ہر وہ لفظ ہے جس کو وضع کیا گیا ہو کسی معنی معلوم کے لیے، تو جواب یہ ہے مولانا یاد رکھیے کہ معنی یہاں معنی سے مراد ہے مفہوم بھئی، معنی سے کیا مراد ہے؟ مفہوم، اور مفہوم عام ہے چاہے وہ عین ہو یا معنی ہو۔
چاہے وہ عین ہو یا معنی۔ عین کہتے ہیں محسوس چیز مولانا۔
محسوس چیز جو نظر آئے بھئی۔
یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
اشکال کیا ہوا کہ آپ نے معنی کا لفظ ذکر کیا تو اس سے کون خارج ہو گیا؟ خاص العین خارج ہو گیا، حالانکہ وہ بھی کیا ہے اس میں؟ داخل ہے، لیکن آپ کی تعریف جامع نہ رہی، تو جواب دیا کہ معنی کس سے کیا مراد ہے؟ مفہوم مراد ہے، اور مفہوم عام ہے وہ عین کو بھی شامل ہے اور معنی کو بھی شامل ہے۔
فَقَولُہُ کُلُّ لَفظٍ، یہاں سے فوائد قیود ذکر کریں گے بھئی، شرح کے اندر یاد رکھیے فوائد قیود ذکر کریں گے اور پھر دو اعتراضات کے جواب دیں گے بھئی۔
تو فَقَولُہُ کُلُّ لَفظٍ بِمَنزِلَۃِ الجِنسِ لِکُلِّ اَلفَاظٍ وَالبَاقِی کَالفَصلِ، پس ماتن کا یہ قول جو ہے «کل لفظ» یہ جنس کے درجے میں ہے لکل الفاظ تمام الفاظ کے لیے، کیونکہ کل کل لفظ کے اندر کیا ہو گئے، کیا ہوا؟ سارے الفاظ کیا ہوئے اس میں؟ داخل ہو گئے، وَالبَاقِی کَالفَصلِ اور باقی کس کی طرح ہیں؟ فصل کی طرح ہیں۔
فَقَولُہُ وُضِعَ لِمَعنًی یُخرِجُ المُهمَلَ، انہوں نے کیا کہا؟ ہر لفظ ہے۔
تو وہ با معنی لفظ بھی داخل ہو گئے اس میں، اور مہمل لفظ بھی کیا ہوئے جن کا کوئی معنی نہ ہو، وہ بھی اس کے اندر داخل، لیکن آگے جب فَقَولُہُ وُضِعَ لِمَعنًی کہا کہ جس کو کسی معنی کے لیے وضع کیا گیا ہو، تو یہ قید یُخرِجُ المُهمَلَ کیا کر دیتی ہے؟ مہمل لفظ کو خارج کر دیتی ہے جس کو کسی معنی کے لیے وضع نہ کیا گیا ہو۔
وَقَولُہُ مَعلُومٌ اِن کَانَ مَعنَاہُ مَعلُومُ المُرَادِ، اچھا کیا ذکر کیا تھا؟ وُضِعَ لِمَعنًی مَعلُومٍ، تو یہ معلوم سے کیا مراد ہے؟ اس میں دو احتمال ہیں بھئی، یا تو اس سے مراد معلوم المراد ہے یا اس سے مراد معلوم البيان ہے۔
اگر اس سے اس کا معنی کیا ہو، اس سے مراد اس کا معنی ہو معلوم المراد، تو پھر مشترک اس سے نکل جائے گا۔
بھئی چار قسمیں ہیں نا، خاص، عام، مشترک اور مؤول۔
اچھا، تو اب ان کو بھی تو نکالنا ہے بھئی، یہ تعریف ان کو شامل نہ ہو، تو اگر معلوم سے مراد معلوم کا معنی یا تو معلوم المراد ہو گا، یعنی جس کی مراد معلوم ہو۔
یہ اس کا معنیٰ کیا ہو گا؟ معلوم البيان۔
یعنی اس کا معنیٰ ظاہر ہو یوں کہیں۔ کیا ہو اس کا معنیٰ؟ ظاہر ہو، معلوم ہو،
تو اگر معلوم المراد لیں تو پھر اس سے مشترک نکل جائے گا۔ اس لیے کہ مشترک کی مراد معلوم نہیں ہوتی بھئی، اس لیے کہ مشترک تین چار معانی کے لیے ہے بھئی۔ کسی ایک معنیٰ کو بھی اس سے ارادہ، ہاں جملے میں استعمال ہو، وہ بعد کی بات ہے۔ ہم ویسے کہہ رہے ہیں ایک لفظِ مشترک ہے، اس کے تین چار معانی آتے ہیں، تو اس کی مراد معلوم ہوتی ہے کہ کون سا معنیٰ ہے؟ نہیں، کوئی بھی لے سکتے ہیں موقع کے مطابق بھئی۔ تو ویسے اس کی مراد متعین نہیں ہوتی کہ کون سا معنیٰ اس کا ہے بھئی۔ ہر معنیٰ کے لیے اس کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔
تو لہٰذا جب اگر اس سے مراد کیا لیں معلوم سے؟ معلوم المراد، تو کون نکل گیا؟ مشترک، کیونکہ مشترک معلوم المراد نہیں ہوتا۔ اور اگر اس میں کا معنیٰ کیا کریں؟ معلوم البيان کریں، تو پھر اس سے مشترک نہیں نکلتا۔ اس لیے کہ مشترک کے تین چار معانی آ گئے، لیکن وہ چاروں واضح ہیں۔
تو وہ سارا مشترک کیا ہوا؟ معلوم البيان تو ہے، تو جو معلوم البيان کی قید لگائی تو مشترک خارج نہیں، کیونکہ وہ کیا ہے؟ معلوم البيان۔ یعنی اس کا معنیٰ کیا ہے؟ واضح ہے۔ مثلاً اس کا یہ بھی معنیٰ ہے، یہ بھی معنیٰ ہے، یہ بھی معنیٰ ہے، یہ بھی معنیٰ ہے، ہر معنیٰ اس کا کیا ہے؟ واضح ہے۔ تو معلوم البيان کہیں تو وہ نہیں نکلتا، لیکن معلوم المراد کہیں تو وہ کیا ہو جاتا ہے؟ نکل جاتا ہے۔
اچھا تو کہتے ہیں: "وقولهم معلوم إن كان معناه معلوم المراد"، اگر اس کا معنیٰ معلوم المراد ہے، "فيخرج منه المشترك"، تو تعریف سے جو ہے مشترک خارج ہو جائے گا، "لأنه غير معلوم المراد"، اس لیے کہ وہ غیر معلوم المراد ہے۔ "وإن كان معناه معلوم البيان"، اور اگر معلوم کا معنیٰ کیا ہے؟ معلوم البيان ہے، "لم يخرج المشترك منه"، تو پھر اس سے مشترک خارج نہیں ہوتا۔ پھر کیسے نکلے گا؟ کہتے ہیں: "ويخرج من قوله على الانفراد"، وہ کس کے ذریعے نکل جائے گا؟ انفراد کے قول کے ذریعے نکل جائے گا، ماتن کا جو قول "على الانفراد" تھا۔ کیوں؟ "لأن معناه حينئذ أن يكون المعنى منفردا عن الأفراد"، کہ اس صورت میں معنیٰ یہ ہو گا کہ وہ معنیٰ جو ہے، کہ ہاں، دیکھیے دوبارہ اوپر تعریف دیکھیے، ہر وہ لفظ ہے جس کو کیا کیا گیا ہو؟ وضع کیا گیا ہو ایک معلوم معنیٰ کے لیے "على الانفراد"، کس طریقے پر؟ انفراد کے طریقے پر، یعنی وہ معنیٰ کیا ہو؟ "منفردا عن الأفراد"، افراد سے منفرد، یعنی اس میں افراد نہ ہوں، اس میں افراد نہ ہوں۔
اور "وعن معنى آخر"، اور کس سے منفرد ہو وہ؟ کسی دوسرے معنیٰ سے۔
تو افراد، افراد بھی اس میں نہ ہوں، کوئی دوسرا معنیٰ بھی اس میں نہ ہو۔ تو جب منفردًا، تو یہ "منفردا عن الأفراد" کو بھی شامل ہوا اور "منفردا عن معنى آخر" کو بھی، دونوں صورتیں آ گئیں، تو "منفردا عن الأفراد" کے ذریعے کون نکلا؟ افراد کس میں ہوتے ہیں؟ عام کے اندر، تو "منفردا عن الأفراد" کے ذریعے کون نکل گیا؟ عام۔ اور "منفردا عن معنى آخر"، دوسرے معنیٰ سے بھی منفرد ہو، اکیلا ہو، دوسرا معنیٰ بھی اس کا کوئی نہ ہو، تو پھر اس کے ذریعے کون نکل گیا؟ مشترک، کیونکہ اس کے کئی معانی آتے ہیں، وہ اکیلا نہیں ہوتا دوسرے معنیٰ سے۔ تو کہتے ہیں: "فيخرج عنه المشترك والعام جميعا"، تو اس کے ذریعے مشترک اور عام کیا، دونوں نکل گئے۔
جی یہاں تک بحث تھی مولانا فوائدِ قیود بھئی۔ اب آگے ذکر دو اعتراضات کے جواب دے رہے ہیں بھئی، آسان اعتراض ہے بھئی۔
اچھا، پہلے شارح کا ایک اعتراض سمجھ لو۔ اس شارح پر ایک اعتراض ہوتا ہے۔ جیسے متن پر ایک اعتراض ہوا تھا، کیا ہوا تھا اعتراض؟ کہ معنیٰ کا لفظ ذکر کیا تو اس سے خاص العین نکل گیا تھا، جواب کیا دیا تھا؟ کہ معنیٰ سے کیا مراد ہے؟ مفہوم، اور مفہوم شامل ہے عین کو بھی اور معنیٰ کو بھی شامل ہے، تو خاص العین داخل رہا۔
اب شارح پر بھی ایک اعتراض ہوتا ہے، شارح میں انہوں نے پہلی سطر میں کہا "بمنزلة الجنس"، کہ "كل لفظ" کس کے درجے میں ہے؟ جنس کے درجے میں ہے۔ آگے کہا "والباقي كالفصل"، اور باقی کس کی طرح ہے؟ بھئی کہنا تو یہ چاہیے تھا کہ "كل لفظ" جنس ہے، لیکن یہ نہیں کہا جنس ہے بلکہ کیا کہا؟ جنس کے درجے میں ہے۔ اور باقی کے بارے میں کہا وہ فصل کی طرح ہے، حالانکہ کہنا کیا چاہیے تھا؟ باقی کیا ہے؟ فصل ہے۔
جی تو جواب دیا بعض علماء نے اس کا یہ کہ بھئی، ایک ہے حقائقِ موجودہ ایک ہوتے ہیں، اور ایک ہے حقائقِ اعتباریہ۔ بعض حقیقتیں وہ ہیں جو خارج میں موجود ہیں، جیسے انسان کیا ہے؟ حیوانِ ناطق ہے اور اس کے یہ خارج میں موجود ہے۔ اور کچھ حقیقتیں کیا ہیں؟ جن کا ہم اعتبار کرتے ہیں، معتبر کے اعتبار پر موقوف ہیں۔ آپ اعتبار کرتے ہیں تو وجود ہے، آپ اعتبار نہیں کرتے تو وجود نہیں۔ جیسے خاص، عام وغیرہ بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ خاص، عام کا آپ اعتبار کرتے ہیں، اس کی تعریف کرتے ہیں، اس کو کہتے ہیں، آپ نے اس کا اعتبار کیا تو ہے، اعتبار نہیں کیا تو معتبر کے کس پر موقوف ہیں؟ معتبر کے، بھئی انسان کے بارے میں آپ اعتبار کریں یا نہ کریں، اس کا وجود ہے یا نہیں؟ اس کا وجود ہے۔ اور کچھ چیزیں ایسی ہیں جو معتبر کے اعتبار پر موقوف ہوتی ہیں، وہ اعتبار کریں، اس کا اعتبار کیا جائے تو ہے، اعتبار نہ کرو تو اعتبار ہی نہیں کیا تو اس کا وجود بھی نہیں ہے۔ تو لہٰذا حقیقتیں دو قسم پر ہیں۔ کچھ حقیقتیں کیا ہیں؟ موجود، اور کچھ حقیقتیں کیا ہیں؟ اعتباری ہیں۔ تو جو حقیقتِ، جو حقیقتیں موجود ہیں ان میں تو ان کی تعریف میں تو جنس اور فصل حقیقتاً ہوتے ہیں، اور جو حقیقتِ اعتباریہ ہے اس کے اندر جنس اور فصل حقیقتاً نہیں ہے بھئی، وہ بھی، وہ جنس اور فصل بھی کیا ہیں؟ اعتباری ہیں۔ اسی لیے کہا کہ یہ جنس کے درجے میں ہے، کیونکہ وہ جنس حقیقتاً نہیں بلکہ کس قسم کی جنس ہے؟ اعتباری ہے۔ اسی طرح وہ فصل کی طرح ہے، کیونکہ وہ فصل بھی حقیقی نہیں ہے بلکہ کس قسم کی ہے؟ اعتباری ہے۔ جواب سمجھ میں آیا؟ دوبارہ سن لو بھئی، اعتراض یہ ہوتا تھا کہ شارح کو کہنا چاہیے تھا کہ "كل لفظ" جنس ہے، لیکن انہوں نے کیا کہا؟ یہ جنس کے درجے میں ہے۔ انہیں کہنا چاہیے تھا باقی فصل ہے، لیکن انہوں نے کیا کہا؟ باقی فصل کی طرح ہے۔ جواب دیا کہ حقیقتیں دو قسم پر ہیں، کچھ حقائق موجود ہیں اور کچھ حقائق اعتباری ہیں۔ حقائقِ موجودہ کے اندر جنس اور فصل حقیقتاً ہوتے ہیں اور حقائقِ اعتباریہ کے اندر جنس اور فصل کیا ہوتے ہیں؟ اعتباری ہوتے ہیں حقیقتاً نہیں، تو جب وہ حقیقتاً نہیں ہیں تو وہ جنس اور فصل بھی حقیقتاً نہ ہوئے بلکہ وہ جنس اور فصل کے درجے میں ہوئے، ان کی طرح ہوئے بھئی۔
أچھا آگے اب اعتراض کا جواب دے رہے ہیں کہ بھئی پیچھے ماتن نے کیا کہا تھا؟ لفظ نہیں استعمال کیا تھا بلکہ کیا لفظ استعمال کیا تھا اس کی جگہ؟ نظم، یہاں کہا "كل لفظ"، بھئی یہاں بھی کیا کہنا چاہیے تھا؟ نظم بھئی، تو جواب دے رہے ہیں بھئی، دو جواب ذکر کریں گے۔ کہتے ہیں: "وإنما ذكر اللفظ هاهنا دون النظم جريا على الأصل"، یہاں پر لفظ کو ذکر کیا نہ کہ نظم کو، "جريا على الأصل"، اصل پر چلتے ہوئے، کس پر چلتے ہوئے؟ اصل پر چلتے ہوئے کہ اصل میں لفظ کہتے ہیں تو لفظ ہی کہا اور وہاں بطورِ ادب کے کیا کہا تھا؟ نظم۔
دوسرا جواب: "ولأن الظاهر"، اور اس لیے کہ ظاہر یہ ہے "أن هذه الأقسام ليست مختصة بالكتاب"، کہ یہ اقسام کتاب اللہ کے ساتھ مختص نہیں، "بل يجري في جميع کلمات العرب"، بلکہ یہ جاری ہوتی ہیں تمام کلماتِ عرب کے اندر بھئی، کس کے اندر؟ خاص، عام، مشترک وغیرہ کس میں جاری ہوتی ہیں؟ تمام کلماتِ عرب میں۔ تو پہلے جو تھا وہ لفظ کا جو ذکر آیا تھا وہ صرف کس کے ساتھ تھا تعلق اس کا؟ کتاب اللہ، تو وہاں ادب کے طور پر نظم کہا، اور یہ تو کتاب اللہ کے ساتھ خاص ہی نہیں ہے، یہ تو کیا ہے؟ عام ہے، لہٰذا اس کے لیے وہی عام لفظ کا استعمال کر لیا لفظ بھئی۔
تو کہتے ہیں: "وإنما ذكر النظم في التقسيمات"، اور جو نظم کو ذکر کیا تقسیمات، ذکر کیا تھا تقسیمات کے اندر "رعاية للأدب"، وہ کس لیے کیا تھا؟ رعایتِ ادب کے طور پر، "لأن النظم في الأصل جمع اللؤلؤ في السلك"، اس لیے کہ نظم جو ہے اصل کے اندر وہ موتی جمع کرنا ہے، موتی پرونام ہے "في السلك"، کس کے اندر؟ لڑی کے اندر، "بخلاف اللفظ"، برخلاف لفظ کے، "فإنه في اللغة الرمي"، اس لیے کہ وہ لغت میں کس کو کہتے ہیں؟ پھینکنے کو۔ تو یہ معنیٰ مناسب نہیں تھا تو ادب کے طور پر وہاں نظم کہا، کیونکہ صرف کتاب اللہ کی بات تھی، اور یہ کتاب اللہ کی بات نہیں ہے لہٰذا یہاں نظم لانے کی ضرورت نہیں، لفظ ہی کہا۔
جی، "وأما ذكر كلمة "كل" فإنه"، یہ دوسرا اعتراض ہے بھئی، اعتراض یہ کہ متن میں انہوں نے خاص کی تعریف کی اور خاص کی تعریف میں "كل" کا لفظ لے کر آئے۔ کیا لے کر آئے؟ "كل"، حالانکہ "كل" آتا ہے احاطۂ افراد کے لیے، سارے افراد کا کیا کرنے کے لیے؟ احاطہ کرنے کے لیے، اور تعریف کی جاتی ہے ماہیت کی اور حقیقت کی۔ سمجھ میں آیا؟ تو تعریف کی جاتی ہے ماہیت اور حقیقت کی اور "كل" تو آتا ہے کس کے لیے؟ احاطۂ افراد کے لیے، لہٰذا تعریف کے اندر "كل" کا لفظ پسندیدہ نہیں ہے، شارع، تو ماتن نے کیوں ذکر کیا؟ کہتے ہیں: ہاں بھئی، آپ کی بات ٹھیک ہے، "كل" کا لفظ کیا ہے؟ تعریفات میں منطقیوں کے نزدیک ناپسندیدہ ہے، لیکن یہاں پر بھئی عموم پیدا کرنے کے لیے، تمام افراد کا احاطہ کرنے کے لیے کیا کر لیا گیا؟ "كل" کے لفظ کو استعمال کر لیا گیا۔ کہتے ہیں: "وأما ذكر كلمة "كل" فإنه وإن كان مستنكرا في التعريفات"، باقی کلمۂ "كل" کا ذکر کرنا، پس وہ اگرچہ کیا ہے؟ "وإن كان مستنكرا في التعريفات"، اگرچہ وہ کیا ہے؟ ناپسندیدہ ہے تعریفات کے اندر، "في اصطلاح المنطق"، کس کے اصطلاح میں بھئی؟ منطق کی اصطلاح میں، "ولكن القصد هاهنا لبيان الاطراد والضبط"، لیکن ارادہ جو ہے یہاں پر وہ اطراد، اطراد کا معنیٰ عموم پیدا کرنا بھئی، اور ضبط کا معنیٰ جمع کرنا بھئی سب کو، یہاں پر بھئی عموم اور جمع کرنے کے لیے ہے تاکہ تعریف جامع ہو جائے، سارے افراد کو کیا ہو جائے؟ جامع ہو جائے، "وهو إنما يحصل بلفظ "كل""، اور یہ اطراد اور ضبط کس کے ذریعے حاصل ہوتا ہے؟ لفظِ "كل" کے ذریعے۔
"وهو إما أن يكون خصوص الجنس أو خصوص النوع أو خصوص العين"، اور پھر وہ خاص یا، وہ جو خصوص ہے یا تو خصوص الجنس ہو گا یا خصوص النوع ہو گا یا خصوص العين، یا یوں کہو یہ وہ خاص یا تو خاص الجنس ہو گا یا خاص النوع ہو گا یا خاص العين۔ "تقسيم للخاص بعد بيان تعريفه"، شارح فرما رہے ہیں بھئی کہ ماتن نے پہلے تعریف کر دی، اب اس کے افراد بتلانے لگے ہیں بھئی، اس کی تقسیم کر رہے ہیں، تو کہتے ہیں: "تقسيم للخاص بعد بيان تعريفه"، یہ تقسیم ہے خاص کی اس کی تعریف کے بیان کے بعد، "أي الخصوص الذي يفهم في ضمن الخاص"، یہ بھئی ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں۔
اچھا، سمجھ میں آیا بھئی؟ اعتراض کا جواب ہے، اعتراض یہ ہوتا ہے کہ "هو" ضمیر کس کو راجع ہے؟ پیچھے خاص کا ذکر ہوا تھا، کس کا ذکر ہوا تھا؟ خاص، تو "هو" ضمیر اگر خاص کو راجع کریں، تو خاص تو ہے ذات اور آگے خبر آ رہی ہے "خصوص الجنس أو خصوص النوع أو خصوص العين"، اور خصوص ہے مصدر، اور مصدر کا حمل ذات پر صحیح نہیں ہوتا۔ تو اگر "هو" ضمیر کس کو راجع کریں؟ خاص کو، تو پھر حمل صحیح نہیں بنتا، اور اگر "هو" ضمیر راجع کریں خصوص کو، تو پھر بات تو ٹھیک ہو جاتی ہے لیکن پیچھے خصوص کا تو کہیں ذکر ہی نہیں آیا، تو ضمیر بغیر مرجع کے آ گئی۔ ضمیر کیا ہوئی؟ بغیر مرجع کے آئی۔ جواب دے رہے ہیں مولانا کہ "هو" ضمیر خصوص کو راجع ہے اور یہ ضمیر بغیر مرجع کے نہیں ہے، اس لیے کہ پیچھے خاص کا ذکر آیا تھا اور خاص کے ضمن میں کیا آ گیا؟ خصوص بھی سمجھ میں آ گیا، خاص نے اس پر دلالت کر دی۔
تو کہتے ہیں: "أي الخصوص الذي يفهم في ضمن الخاص"، یعنی کہ وہ خصوص جو کہ سمجھ میں آتا ہے کس کے ضمن میں؟ خاص کے ضمن میں، "إما أن يكون خصوص الجنس"، "إما أن يكون خصوص الجنس"، یا تو وہ خصوص الجنس ہو گا، "بأن يكون جنسه خاصا بحسب المعنى"، بعید طور کہ اس کی جنس کیا ہو گی؟ خاص ہو گی، "بحسب المعنى"، کس اعتبار سے؟ معنیٰ کے اعتبار سے اس کی جنس خاص ہو گی، "وإن يكن ما صدق عليه متعددا"، اگرچہ وہ جس پر صادق آ رہا ہے وہ متعدد ہی کیوں نہ ہوں۔
اگرچہ وہ کیا ہوں؟ بھئی، افراد سے قطع نظر مفہوم کو ہم دیکھیں گے اور مفہوم میں تعدد نہیں، مفہوم تو کیا ہے؟ معلوم ہے بھئی۔ مفہوم کیا ہے؟ جیسے رجل آگے آئے گا بھئی، اب رجل، بھئی اس کے افراد تو بہت زیادہ ہیں، لیکن افراد نہیں بلکہ کیا مراد ہے اس کا؟ مفہوم، اور رجل کا ایک ہی مفہوم ہے اس کے اندر تعدد نہیں ہے بھئی۔
رجل کسے کہتے ہیں؟ وہ مذکر بنی آدم میں سے جو صغر کی حد سے آگے نکل جائے، صغر کی حد سے بڑھ جائے بالغ ہو جانے کی وجہ سے۔ رجل کسے کہتے ہیں؟ وہ مذکر بنی آدم میں سے جو صغر کی حد سے بڑھ جائے کس کی وجہ سے؟ بالغ ہو جانے کی وجہ سے بھئی۔
"بأن يكون جنسه خاصا"، بعید طور پر اس کی جنس خاص ہے، "بحسب المعنى"، کس اعتبار سے؟ معنیٰ یعنی مفہوم کے اعتبار سے اس کی جنس خاص ہے، "وإن يكن ما صدق عليه متعددا"، اگرچہ وہ جن پر وہ صادق آ رہا ہے وہ کیا ہیں؟ متعدد ہیں، تو اس سے کوئی حرج نہیں کیونکہ ہم افراد سے وہاں بحث ہی نہیں کر رہے بلکہ اس کے مفہوم سے۔ "أو خصوص النوع"، یا وہ کیا ہو گا؟ خصوص، خصوص النوع ہو گا "على هذه الوتيرة"، اسی طریقے پر، یعنی وہاں بھی نوع کا کیا ہے؟ جیسے جنس کی مثال تو آگے انسان ذکر کریں گے بھئی، سمجھ میں آیا؟ نوع میں رجل ہے بھئی، رجل کیا ہے؟ کس کی مثال ہے؟ خاص النوع کی مثال ہے، اور یہاں پر مفہوم مدِ نظر ہے افراد مدِ نظر نہیں ہیں۔
"أو خصوص العين"، یا وہ خصوص کس قسم کا ہو گا؟ خصوص العين ہو گا، "أي الشخص المعين"، یعنی کیا مراد ہو گا؟ شخصِ معین مراد ہو گا، "وهذا أخص الخاص"، اور یہ اخص الخاص ہے، اسے کیا کہتے ہیں؟ اخص الخاص، جیسے زید، اب یہاں فرد مراد ہے، لیکن ایک ہی فرد ہے یا زیادہ ہیں؟ ایک ہی فرد ہے، تو تعدد آیا؟ نہیں، خصوص الجنس میں مفہوم کا اعتبار ہے، خصوص العين میں بھی کس کا اعتبار ہے؟ مفہوم کا اعتبار ہے، افراد کا اعتبار نہیں، ورنہ جنس کے تو بہت افراد ہوتے ہیں، نوع کے بہت سے افراد ہوتے ہیں، لیکن افراد سے ہماری بحث ہی نہیں ہے ہم تو کس اعتبار سے دیکھ رہے ہیں اس کو؟ مفہوم کے اعتبار سے، مفہوم کے اعتبار سے اس میں تعدد نہیں ہے بھئی۔
جیسے دیکھو بھئی، انسان کسے کہتے ہیں؟ حیوانِ ناطق۔ اب بھئی بتاؤ، اس کے مفہوم میں تعدد ہے؟ کوئی اور مفہوم بھی ہے اس کا؟ نہیں، تو مفہوم میں تعدد نہیں، ہاں افراد تو اس کے بہت زیادہ ہیں، لیکن افراد سے یہاں ہم بحث ہی نہیں کر رہے بلکہ کس اعتبار سے بات کر رہے ہیں؟ مفہوم کے اعتبار سے بات کر رہے ہیں۔
"والجنس عندهم"، اب مولانا جنس اور نوع کی تعریف کر دیں، کریں گے، ایک جنس اور نوع کی تعریف وہ ہے جو مناطقہ کرتے ہیں، ایک جنس اور نوع کی تعریف وہ ہے جو اصولی کرتے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اصولِ فقہ والے، مناطقہ چونکہ بحث کرتے ہیں ان کے مدِ نظر حقیقتیں ہوتی ہیں لہٰذا اس کی جنس کی تعریف یوں کرتے ہیں: "هو كلي مقول على كثيرين مختلفين بالحقائق"، "هو كلي مقول على كثيرين"، وہ کلی ہے جو کثیرین پر بولی جائے، "مختلفين بالحقائق"، وہ مختلف اور وہ جو کثیرین کیا ہیں؟ حقیقتوں کے اعتبار سے مختلف، لیکن اصولی "مختلفين بالحقائق" نہیں کہے گا بلکہ کیا کہے گا؟ "مختلفين بالأغراض"، کہ ان کے اغراض کیا ہوں؟ مختلف ہوں، جب اغراض مختلف ہیں تو احکام بھی کیا ہوں گے؟ بھئی، اصولی کے مدِ نظر احکام ہوتے ہیں اور احکام کس اعتبار سے ہوتے ہیں؟ اغراض کے، جو غرض ہو گی اسی کے مطابق کیا ہوں گے اس کے؟ احکام بھی ہوں گے بھئی، تفصیل آگے آ رہی ہے بھئی۔ اسی طرح نوع کی تعریف بھئی مناطقہ کیا کرتے ہیں؟ "هو كلي مقول على كثيرين متفقين بالحقائق"، وہ کلی ہے جو ایسے کثیرین پر بولی جائے جن کی حقیقتیں متفق ہوں، ایک جیسی ہوں، جیسے مولانا:
حیوان اور انسان، حیوان مناطقہ کے نزدیک کیا ہے؟ جنس، اور انسان کیا ہے؟ نوع ہے بھئی، کیوں؟ کیونکہ انہوں نے کیا کہا مناطقہ جنس کی کیا تعریف کرتے ہیں؟ "هو كلي مقول على كثيرين مختلفين بالحقائق"، اور حیوان کے تحت جو افراد ہیں ان کی حقیقتیں مختلف ہیں، مثلاً انسان بھی حیوان، گھوڑا بھی حیوان
گدھا بھی حیوان، لیکن حقیقتیں مختلف۔ انسان کی حقیقت کیا ہے؟ حیوانِ ناطق۔ گھوڑے کی حقیقت کیا ہے؟ حیوانِ صاہل، ہنہنانے والا حیوان۔ گدھے کی حقیقت کیا ہے؟ حیوانِ ناہق۔ تو دیکھو یہ کلی ہے کثیرین پر بولی جا رہی ہے، اور وہ کثیرین ان کی حقیقتیں آپس میں مختلف ہیں۔
جبکہ انسان مناطقہ کے نزدیک نوع ہے۔ اسی لیے نوع کسے کہتے ہیں؟ وہ کلی مقول علی کثیرین متفقین بالحقائق، جن کی حقیقتیں کیا ہوں؟ متفق ہوں۔ بھئی، یہ مشکل تو نہیں باتیں میں کر رہا، یہ تو اصولِ شاشی میں آپ نے پڑھی ہیں یا نہیں بھئی؟ جی؟ اصولِ شاشی کے شروع میں ہی آتی ہیں بھئی تعریفات وہاں ذکر کرنا پڑتی ہیں۔
تو مناطقہ کیا تعریف کرتے ہیں نوع کی؟ وہ کلی مقول علی کثیرین متفقین بالحقائق، جن کی حقیقتیں ایک ہوں، اور انسان کی حقیقت ایک ہے جتنے بھی انسان ہیں، ان کی کیا حقیقت ہے؟ حیوانِ ناطق۔ تو انسان کیا ہوا مناطقہ کے نزدیک؟ نوع ہوا۔
سمجھ میں آئی بات؟ لیکن اصولِ فقہ والے کیا تعریف کرتے ہیں جنس کی؟ وہ کلی مقول علی کثیرین مختلفین بالأغراض۔ اور نوع کی تعریف کرتے ہیں: وہ کلی مقول علی کثیرین متفقین بالأغراض، جن کی غرض ایک ہو۔
تو وہ انسان جو مناطقہ کے نزدیک نوع تھا، وہ اصولیین کے نزدیک وہ جنس ہے۔ اس لیے کہ انسان کے تحت رجل بھی ہے اور امرأة بھی ہے۔ رجل کے اغراض الگ، امرأة کی غرض الگ، اسی لیے احکام میں بھی کیا آتا ہے دونوں کے؟ فرق آتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
اور رجل اور امرأة، یہ نوع ہیں۔ رجل کے تمام افراد کیا ہیں؟ ان کی غرض ایک ہی ہے، متفقین ہیں بالأغراض، اور امرأة کے سارے افراد کیا ہیں؟ متفقین بالون، سب کی غرض ایک ہے۔ تو رجل بھی اصولیین کے نزدیک نوع، امرأة بھی اصولیین کے نزدیک نوع، اور انسان کیا ہے اصولیین کے نزدیک؟ جنس۔ لیکن مناطقہ کے نزدیک انسان کیا ہے؟ نوع ہے، کیونکہ وہ حقیقت سے بحث کرتے ہیں، اور وہ چاہے رجل ہو یا امرأة، حقیقت تو کیا ہے دونوں کی؟ ایک ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ دیکھیے، یہ ساری بات وہ خود بھی بیان کریں گے۔
کہتے ہیں: "والجنس عندهم عبارة عن كلي مقول على كثيرين مختلفين بالأغراض"، اور جنس جو ہے اصولیین کے نزدیک وہ عبارت ہے ایسے کلی سے جو بولی جائے ایسے کثیرین پر جو مختلف ہوں اغراض کے اعتبار سے، "دون الحقائق"، نہ کہ حقائق کے اعتبار سے، "كما ذهب إليه المنطقيون"، جیسے کہ اس کی طرف مناطقہ گئے ہیں۔ "والنوع عندهم كلي مقول على كثيرين متفقين بالأغراض"، اور نوع اصولیین کے نزدیک ایسی کلی ہے جو بولی جاتی ہے ایسے کثیر افراد پر جو متفق ہوتے ہیں اغراض کے اعتبار سے، "دون الحقائق"، نہ کہ حقائق کے اعتبار سے، "كما هو رأي المنطقيين"، جیسے کہ اس کی کس کی رائے ہے؟ مناطقہ کی رائے ہے۔ "فهم إنما يبحثون عن الأغراض دون الحقائق"، اس لیے کہ وہ بحث کرتے ہیں اغراض سے نہ کہ حقائق سے، "فرُبّ نوع عند المنطقيين جنس عند الفقهاء"، پس بہت سی نوع جو مناطقہ کے نزدیک ہیں، وہ جنس ہیں فقہاء کے نزدیک، "كما يظهر عن الأمثلة التي ذكرها بقوله"، جیسے کہ ظاہر ہوتا ہے ان مثالوں سے جن کو ذکر کیا ماتن نے اپنے اس قول کے ساتھ: "كإنسان ورجل وزيد"، جیسے انسان، رجل اور زید۔
بھئی پیچھے ذکر ہوا تھا خصوص الجنس کا، تو انسان کس کی مثال ہے؟ خاص الجنس کی۔ پیچھے ذکر ہوا تھا خصوص النوع کا، تو یہ رجل کس کی مثال ہے؟ خاص النوع کی، اور پیچھے خصوص العين کا ذکر ہوا تھا، تو زید کس کی مثال ہے؟ خاص العين کی۔
"فالإنسان نظير خاص الجنس"، پس انسان مثال ہے خاص الجنس کی، "فإنه مقول على كثيرين مختلفين بالأغراض"، اس لیے کہ یہ بولا جاتا ہے ایسے کثیرین پر جن کے اغراض کیا ہیں؟ مختلف ہیں۔ بھئی کیسے مختلف ہیں انسان کے اغراض؟ کہتے ہیں: "فإن تحته رجلا وامرأة"، اس لیے کہ اس کے تحت رجل بھی ہے اور امرأة بھی ہے، "والغرض من خلقت الرجل"، اور غرض آدمی کی پیدائش سے، "كونه نبيا"، کہ اس کا نبی ہونا ہے، "وإماما"، اور امام ہونا ہے، نبی ہونا ہے مولانا سمجھ میں آیا؟ مرد کیا ہے؟ اس کی پیدائش کی اغراض میں سے غرض کیا ہے؟ کہ وہ نبی ہو گا، تو انبیاء سارے کس میں سے آئے ہیں؟ مردوں میں سے آئے ہیں، عورتوں میں سے کوئی نہیں، اور امام ہونا ہے بھئی یعنی کہ، کیا کہیں؟ خلیفہ ہونا ہے بھئی، خلیفہ ہو گا۔ عورت کا خلیفہ بننا صحیح نہیں۔
"وشاهدا في الحدود والقصاص"، اور اسی طرح اس کا گواہ بننا ہے حدود اور قصاص میں، بھئی حدود اور قصاص کے مسئلے میں آپ پڑھ چکے ہیں مرد گواہ بن سکتا ہے عورت گواہ نہیں بن سکتی۔
"ومقيما للجمعة"، وہ جمعہ قائم کرنے والا ہو، جمعہ کس پر ہے؟ مردوں پر ہے بھئی، "والأعياد"، جمع ہے عید کی، اور کہ وہ عید قائم کرنے والا ہو، عیدین کی نماز، ونحو، اور اس جیسی چیزیں۔
"والغرض من المرأة كونه مستفرشة"، اور عورت سے غرض جو ہے کہ وہ مستفرشہ ہو، یعنی مرد کے لیے فراش بنے، مرد کے لیے کیا بنے؟ فراش۔ فراش کا معنیٰ ہے کسی عورت کا متعین ہونا کسی مرد کے بچوں کو جنم دینے کے لیے۔ ایک مرد ایک عورت سے نکاح کر لیتا ہے، تو یہ عورت اب اسی مرد کے بچوں کو جنم دینے کے لیے کیا ہو گئی؟ متعینہ ہو گئی، تو یہ اس کی فراش ہے، کیا ہے؟ فراش ہے بھئی۔
سمجھ میں آیا فراش کا معنیٰ بھئی؟ کہ عورت کا متعین ہونا کسی شخص کے بچوں کو جنم دینے کے لیے۔ کہ وہ مستفرشہ ہو گی، "آتية بالولد"، بچے لانے والی، یعنی بچوں کو جنم دینے والی ہو گی، "مدبرة لحوائج البيت"، اور وہ گھر کے جو ضروریات ہیں، ان کی تدبیر کرنے والی ہو گی، گھر کے کام جو ہیں، وغیرہ ذلک، اس کے علاوہ بھئی۔
تو یہ عورت کی غرض یہ ہے کہ وہ مرد کے لیے مستفرشہ ہو، اس کے بچوں کو جنم دینے والی ہو، اس کے گھر کے ضروریات کی تدبیر کرنے والی ہو۔
تو دیکھا دونوں کی غرض الگ الگ ہو گئی، اور یہ کس کے تحت دونوں ہیں؟ انسان کے تحت ہیں، تو دونوں کی غرض الگ، تو انسان ایسی کلی ہے جو بولی جاتی ہے ایسے کثیرین پر جن کی غرض کیا ہے؟ مختلف ہے، تو یہ جنس ہے بھئی۔
"والرجل نظير خاص النوع"، اور رجل جو ہے خاص النوع کی نظیر ہے، "فإنه مقول على كثيرين متفقين بالأغراض"، اس لیے کہ یہ بولا جاتا ہے ایسے کثیرین پر جو متفق ہوتے ہیں اغراض سے اعتبار سے، "فإن أفراد الرجال كلهم سواء في الغرض"، کس لیے کہ مرد جو ہیں، ان کے تمام افراد برابر ہیں غرض کے اندر۔
جی، سمجھ میں آیا؟ غرض میں سارے برابر ہیں۔ اس پر اشکال ہوتا ہے مولانا کہ مجنون بھی اس مرد کی عام کیا ہے؟ مجنون اور غلام کیا ہوئے؟ ان کا حکم تو الگ ہے۔ تو بھئی جواب دیتے ہیں اس کا کہ وہ اس اہلیت بھی ہونی چاہیے۔ اس مرد میں کیا ہے؟ جب اہلیت معتبرہ اس میں ہے، تو پھر بس ساروں کے احکام ایک جیسے ہیں۔ اگر کسی میں اہلیت معتبرہ ہی نہیں ہے وہ تو پھر کوئی عارض، یہ تو ایک عارض ہے جو اس کو لاحق ہوا ہے ورنہ سب کا حکم کیا تھا؟ ایک ہی تھا۔
"وزيد نظير خاص العين"، اور زید خاص العين کی نظیر ہے، "فإنه شخص معين لا يحتمل الشركة"، اس لیے کہ وہ تو ایسا شخص ہے جو معین ہے، اس میں شرکت کا احتمال نہیں ہے، "إلا بتعدد الأوضاع"، مگر وضعوں کے تعدد کی وجہ سے۔
بھئی دیکھیے! آپ نے کیا کہا؟ زید کا لفظ کیا ہے؟ ایک معین شخص پر بولا جاتا ہے؟ نہیں بھئی، بعض اوقات ایک کے والدین نے بھی نام زید رکھا، دوسرے کے والدین نے بھی زید نام رکھا، تیسرے کے والدین نے بھی نام زید رکھا، تو زید میں تعدد آ گیا۔ کیا آ گیا؟ تعدد۔ کہتے ہیں بھئی، وہ ہر ایک کے لیے وضع ہی الگ ہے۔ ایک کے والدین نے اپنے بیٹے کے لیے زید کے لفظ کو وضع کیا، دوسرے نے اپنے کے لیے، تیسرے نے اپنے۔ تو ایک وضع کے اعتبار سے کیا ہے؟ ایک ہی فرد پر یہ بولا جا رہا ہے۔
"وضع لمعنى معلوم"، أي "وضع لشخص معلوم"، یہ کس کے لیے وضع کیا گیا ہے؟ ایک معلوم شخص کے لیے اس کے والدین نے وضع کیا تھا، وہ دوسروں کے لیے انہوں نے وضع ان کے لیے ان کے والدین نے وضع کیا تھا، تو وضعیں متعدد ہو گئیں ورنہ ایک وضع کے اعتبار سے اس کے اندر کسی بھی لحاظ سے تعدد نہیں، ایک ہی شخص پر بولا جاتا ہے۔
بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے بس مولانا، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔