سبق نمبر۔۷
وَنَظِيرُ الْقِيَاسِ الْمُسْتَنْبَطِ مِنَ الْإِجْمَاعِ قِيَاسُ حُرْمَةِ أُمِّ الْمَزْنِيَّةِ عَلَى حُرْمَةِ أُمِّ أَمَتِهِ الَّتِي وَطِئَهَا الْمُسْتَفَادَةِ مِنَ الْإِجْمَاعِ بِعِلَّةِ الْجُزْئِيَّةِ وَالْبَعْضِيَّةِ.
بھئی، اب مثال ذکر کرنے لگے ہیں اس قیاس کی جو مستنبط ہو رہا ہے اجماع سے۔ جو مستنبط ہے اجماع سے، یعنی جس کی علت کا پتہ اجماع سے چلا بھئی۔ پہلے ایک مثال ذکر کی اس قیاس کی جس کا کی علت کا پتہ قرآن سے چلا تھا، پھر اس کے بعد دوسری مثال ذکر کی وہ قیاس جس کی علت کا پتہ حدیث سے چلا، اب تیسری مثال ہے اس قیاس کی جس کی علت کا پتہ اجماع سے چلا بھئی۔
یہ حرمتِ مصاہرت کا مسئلہ ہے، اچھی طرح سمجھ لیجیے، مشکل مسئلہ ہے۔ مشکل مسئلہ ہے۔ بلکہ لکھ لیجیے مولانا۔ لکھ لیجیے بھئی۔
حرمتِ مصاہرت بھئی، جلدی جلدی لکھیے بھئی۔ حرمتِ مصاہرت ص کے ساتھ ہے۔ حرمتِ مصاہرت کہتے ہیں سسرالی رشتے کو۔ سسرالی رشتے۔ حرمتِ مصاہرت کا معنی ہوا سسرالی رشتوں کا احترام۔ سسرالی رشتوں کا احترام۔ یا یوں کہیں سسرالی رشتوں کا حرام ہونا۔ سسرالی رشتوں کی حرمت۔
مختصراً میں آپ کو لکھوا دیتا ہوں، تفصیل پھر بیان کرتا ہوں بھئی۔ لکھیے: خاوند پر بیوی کے اصول و فروع حرام ہیں، اور بیوی پر خاوند کے اصول و فروع حرام ہیں۔ اور بیوی پر خاوند کے اصول و فروع حرام ہیں۔
معلوم ہوا معلوم ہوا، حلال وطی کی وجہ سے حلال وطی کی وجہ سے حرمتِ مصاہرت آتی ہے۔ حرمتِ مصاہرت آتی ہے۔
اسی طرح ہمارے نزدیک حرام وطی یعنی زنا کی وجہ سے بھی یعنی زنا کی وجہ سے بھی حرمتِ مصاہرت آئے گی۔ حرمتِ مصاہرت آئے گی۔ اور زانی و مزنیہ مزنیہ کتاب میں لکھا ہوا ہے، زانی و مزنیہ پر ایک دوسرے کے پر ایک دوسرے کے اصول و فروع حرام ہو جائیں گے۔ اصول و فروع حرام ہو جائیں گے۔
بلکہ دواعیِ زنا بلکہ دواعیِ زنا بلکہ دواعیِ زنا یعنی بوسہ لینے یعنی بوسہ لینے یا چھو لینے یا چھو لینے سے بھی حرمتِ مصاہرت ثابت ہو جائے گی۔ چھو لینے سے بھی حرمتِ مصاہرت ثابت ہو جائے گی۔
کیونکہ دواعیِ زنا لے جانے والے ہیں زنا تک۔ کیونکہ دواعیِ زنا لے جانے لے جانے والے ہیں زنا تک۔ اور زنا پہنچانے والا ہے اولاد تک۔ اور زنا پہنچانے والا ہے اولاد تک۔
آگے الگ سطر میں لکھیے: استحقاقِ حرمت میں استحقاقِ حرمت میں اولاد اصل ہے۔ اولاد اصل ہے۔ استحقاقِ حرمت میں اولاد اصل ہے۔ کیونکہ اولاد کیونکہ اولاد جزو ہے اپنے والدین کا۔ کیونکہ اولاد جزو ہے اپنے والدین کا۔
تو اولاد اپنے والدین میں بھی تو اولاد اپنے والدین میں بھی جزئیت اور اتحاد پیدا کر دیتی ہے۔ جزئیت اور اتحاد پیدا کر دیتی ہے۔ اسی وجہ سے بچے کی نسبت دونوں کی طرف کی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے بچے کی نسبت دونوں کی طرف کی جاتی ہے۔ یعنی ماں کی طرف بھی اور باپ کی طرف بھی۔ یعنی ماں کی طرف بھی اور باپ کی طرف بھی۔
جب بچے نے اپنے والدین میں جزئیت اور اتحاد پیدا کر دیا جب بچے نے اپنے والدین میں جزئیت اور اتحاد پیدا کر دیا تو موطوعہ جزو ہوئی واطی کی۔ موطوعۃٌ جس سے وطی کی گئی ہے۔ تو موطوعہ جزو ہوئی جزو بن گئی واطی۔ واطی وطی کرنے والا۔ تو موطوعہ جزو بن گئی واطی کی۔ اور واطی جزو بن گیا موطوعہ کا۔ اور واطی جزو بن گیا موطوعہ کا۔
تو واطی کے اصول و فروع تو واطی کے اصول و فروع موطوعہ کے اصول و فروع بن گئے۔ تو واطی کے اصول و فروع موطوعہ کے اصول و فروع بن گئے۔ اور موطوعہ کے اصول و فروع اور موطوعہ کے اصول و فروع واطی کے اصول و فروع بن گئے۔ اور اپنے اصول و فروع انسان پر حرام ہوتے ہیں۔ اور اپنے اصول و فروع انسان پر حرام ہوتے ہیں۔ انسان پر حرام ہوتے ہیں۔
تو جس طرح حلال وطی اولاد تک پہنچانے والی ہے تو جس طرح حلال وطی اولاد تک پہنچانے والی ہے، اسی طرح حرام وطی اسی طرح حرام وطی یعنی زنا بھی اولاد تک پہنچانے والا ہے۔ اور اولاد کی وجہ سے حرمتِ مصاہرت آتی ہے۔ اور اولاد کی وجہ سے حرمتِ مصاہرت آتی ہے۔ لہٰذا زنا اور اسبابِ زنا لہٰذا زنا اور اسبابِ زنا کی وجہ سے بھی حرمتِ مصاہرت آئے گی۔ اس کی وجہ سے بھی حرمتِ مصاہرت آئے گی۔
لکھ لیا بھئی؟ جی۔ اب اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں بھئی، حرمتِ مصاہرت۔ حرمتِ مصاہرت کا معنی میں نے بیان کیا کہ سسرالی رشتوں کا احترام۔ بھئی، شریعت نے خاوند کے اصول و فروع بیوی کے لیے حرام قرار دے دیے ہیں اور بیوی کے اصول و فروع خاوند کے لیے حرام ہیں۔ یعنی جب کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کر لیتا ہے، صحبت کر لیتا ہے تو اس کے اصول، اس عورت کے اصول و فروع اس شخص پر حرام ہو گئے۔ اس عورت کے اصول و فروع اس شخص، اس خاوند پر کیا ہو گئے؟ حرام ہو گئے۔ اصول جو اوپر کی طرف ہوتے ہیں، باپ، دادا، اسی طرح ماں، دادی، نانی وغیرہ بھئی۔ اور فروع جو نیچے کی طرف ہوں، اولاد بھئی، بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی، نواسہ، نواسی وغیرہ بھئی۔ اصول جو اوپر کی طرف ہیں: باپ، دادا، نانا وغیرہ اور اسی طرح ماں، نانی، دادی وغیرہ۔ اور فروع جو نیچے کی طرف ہیں بھئی۔
تو جب کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کر لیتا ہے اور اس سے صحبت کر لیتا ہے تو اس عورت کے اصول اور فروع اس خاوند پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہو گئے۔ یعنی یہ شخص کسی وقت اس عورت کو طلاق دے دیتا ہے اور بعد میں اس کا ارادہ بنتا ہے اس عورت کی ماں کے ساتھ نکاح کرنے کا یا اس عورت کی کسی پہلے خاوند سے کوئی بیٹی تھی اس کے ساتھ اس کا نکاح کرنے کا ارادہ بنتا ہے، تو یاد رکھیے یہ جائز نہیں اس کے لیے، سمجھ میں آیا؟ جی۔ کیونکہ یہ اس کی بیوی کے اصول اور فروع ہیں اور نکاح کی وجہ سے، صحبت کی وجہ سے وہ اصول و فروع اس پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کیا ہو گئے؟ حرام ہو گئے، اب کوئی نکاح کی صورت نہیں ہے۔
اسی طرح اس بیوی کے لیے خاوند کے اصول و فروع ہمیشہ کے لیے حرام ہو گئے۔ یہ عورت اس کو خاوند فرض کریں طلاق دے دیتا ہے، بعد میں اس عورت کا ارادہ بنتا ہے کہ اس خاوند کے باپ سے کیا کر لے؟ نکاح کر لے، یا اس خاوند کا دوسری بیوی سے کوئی بیٹا تھا اس کے ساتھ کیا کرنا چاہتی ہے؟ نکاح، نہیں کر سکتی، کوئی صورت نہیں، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہ کیا ہو چکے اس پر؟ حرام ہو چکے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دیکھو، معلوم ہوا حلال صحبت کرنے کی وجہ سے دونوں کے اصول و فروع ایک دوسرے پر کیا ہو گئے؟ حرام ہو گئے۔ حرام ہو گئے۔
تو جیسے حلال وطی کی وجہ سے ایک دوسرے کے اصول و فروع حرام ہو جاتے ہیں، اسی طرح جو حرام وطی ہے، احناف کے نزدیک حرام وطی یعنی زنا کی وجہ سے بھی زانی اور مزنیہ کے اصول و فروع ایک دوسرے پر حرام ہو جاتے ہیں۔ ایک شخص ایک عورت کے ساتھ زنا کر لے اور پھر بعد میں اس کی ماں کے ساتھ یا اس عورت کی بیٹی ہے کوئی اس سے نکاح کرنا چاہتا ہے، کوئی صورت نہیں۔ یا یہ عورت اس شخص کے اس کے جس کے ساتھ زنا کیا ہے اس کے والد یا اس کا کوئی بیٹا ہے اس سے نکاح کرنا چاہتی ہے، کوئی صورت نہیں، کیونکہ یہاں کیا آ چکی؟ حرمتِ مصاہرت آ چکی ہے، اصول و فروع ایک دوسرے پر حرام ہو چکے ہیں۔ یہ احناف کا مذہب ہے عند الاحناف بھئی۔
بلکہ ہمارے نزدیک زنا کے علاوہ جو دواعیِ زنا ہیں، یعنی وہ چیزیں جو زنا تک لے جانے والی ہیں، زنا تک پہنچانے والی ہیں، وہ ان سے بھی حرمتِ مصاہرت آ جائے گی۔ مثلاً بوسہ لے لیا کسی عورت کا یا اس کو شہوت سے ہاتھ لگا دیا، بس مولانا! فوراً حرمتِ مصاہرت آ گئی، اب اس عورت کے اصول اور فروع اس مرد کے لیے حرام ہو گئے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کیونکہ یہ دواعیِ زنا پہنچانے والے ہیں زنا تک، یہ کہاں تک پہنچا دیتے ہیں انسان کو؟ زنا تک پہنچا دیتے ہیں اور زنا پہنچا دیتا ہے انسان کو اولاد تک بھئی۔ صحبت سے کیا حاصل ہوتی ہے؟ اولاد۔ تو جیسے حلال وطی سے اولاد حاصل ہوتی ہے، اسی طرح زنا سے بھی، یہ بھی کہاں تک پہنچانے کا باعث بن سکتا ہے؟ اولاد تک، اور اولاد حرمتِ استحقاق میں اصل ہے۔ اس کو حرام ہونا چاہیے انسان پر کیونکہ یہ اسی کا جزو ہے، تو دیکھو، اسی لیے شریعت نے اپنی ہی بیٹی کے ساتھ نکاح کو حرام قرار دیا بھئی، یا عورت کے لیے اپنے ہی بیٹے کے ساتھ نکاح کو حرام قرار دیا ہے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے، کیوں؟ کیونکہ یہ اسی کا جزو ہے۔ اور جزو انسان پر حرام ہوتا ہے۔ عورت کا بیٹا ہے تو وہ اسی کا جزو ہے، اسی سے اس کی پیدائش ہوئی ہے اور خاوند کے کسی آدمی کی کوئی بیٹی ہے تو وہ اسی کا جزو ہے اور انسان پر اس کا جزو کیا ہوتا ہے؟ حرام ہوتا ہے۔
تو اولاد حرمتِ استحقاق میں اصل ہے، اصل میں یہ حرمت کے مستحق ہے، انسان پر کیا ہو؟ حرام ہو جیسے کہ شریعت نے حرام قرار دیا ہے۔ اور یہ اولاد جو ہے، یہ میاں بیوی کے درمیان جزئیت اور اتحاد پیدا کر دیتا ہے، واطی اور موطوعہ میں اتحاد پیدا کر دیتا ہے۔ کس طرح اتحاد پیدا کرتا ہے؟ بھئی، کیونکہ یہ جو اولاد ہے، یہ جزو ہے خاوند کا بھی یعنی واطی کا بھی اور موطوعہ کی بھی۔ واطی کا بھی جزو اور موطوعہ کا بھی جزو بھئی، دونوں کے ملنے سے ہی اولاد پیدا ہوئی ہے تو یہ دونوں کا جزو ہے۔ تو اولاد میں بی اولاد جزو ہے بیوی کی بھی اور اولاد جزو ہے خاوند کی بھی، اسی لیے تو دونوں کی طرف نسبت کرتے ہیں کہ یہ بچہ مثلاً زید کا ہے، باپ کی طرف نسبت کر دیتے ہیں، یا کبھی ماں کی طرف نسبت کر دیتے ہیں، کوئی پوچھتا ہے یہ کس کا بچہ ہے؟ کہتے ہیں یہ فلاں عورت کا بچہ ہے۔ تو دونوں کی طرف نسبت کی جاتی ہے یعنی یہ دونوں کا جزو ہے۔
اولاد جزو ہے خاوند کا، یہ واطی کا بھی اور موطوعہ کا بھی، تو اس اولاد میں دونوں کے جزو اکٹھے ہو گئے۔ دونوں کے جزو کیا ہوئے؟ اکٹھے ہو گئے۔ اب دیکھیے، فرض کریں بیوی کی طرف نسبت کرتے ہیں، میں نے آپ سے پوچھا: یہ کس کی اولاد ہے؟ آپ نے کہا: یہ فلاں عورت کی اولاد ہے۔ لیکن تو یہ فلاں عورت کی اولاد ہے
اور اس میں اولاد میں خاوند کا بھی جز ہے یا جز نہیں؟ ہے خاوند کا بھی جز ہے۔ تو یہ عورت کی اولاد ہے اس کا جز ہے اور اس کے اندر خاوند کا بھی جز ہے تو دونوں کے جز کیا ہو گئے؟ اکٹھے ہو گئے۔
تو خاوند بیوی کا جز بن گیا اور بیوی خاوند کا جز بن گئی۔ یہ اولاد کس کی؟ فلاں عورت کی اور یہ اس عورت کی اولاد ہے تو اس میں ایک جز کیا ہے؟ خاوند کا بھی ہے تو خاوند بیوی کا جز بن گیا۔
اور پھر آپ پوچھتے ہیں یہ اولاد کس کی ہے؟ باپ کی طرف نسبت کرتے ہیں بھئی یہ زید کی اولاد ہے لیکن اس میں تو کس کا جز ہے؟ بیوی کا بھی، تو بیوی کس کا جز بن گئی؟ دونوں کے جز اکٹھے ہو گئے اولاد کے اندر دونوں ایک دوسرے کے جز بن گئے ان میں جزئیت اور بعضیت آ گئی، اتحاد آ گیا، ایک ہی ذات میں دونوں کے جز کیا ہو گئے؟ اکٹھے ہو گئے تو دونوں ایک دوسرے کے کیا بن گئے؟ جز بن گئے۔ جز بن گئے۔
تو جب ایک دوسرے کے جز بن گئے اکٹھے ہو گئے تو اب جو خاوند کے اصول و فروع تھے وہ بیوی کے بھی اصول و فروع بن گئے۔ تو اولاد میں دونوں کے جز اکٹھے ہو گئے ان میں اتحاد آ گیا آپس میں مل گئے تو اب بیوی کے اصول و فروع کس کے اصول و فروع بن گئے؟ خاوند کے بھی اصول و فروع بن گئے اور خاوند کے اصول و فروع جو ہیں وہ بیوی کے بھی اصول و فروع بن گئے۔ بھئی اولاد میں دونوں کے جز اکٹھے ہوئے یا نہیں ہوئے؟ اکٹھے ہو گئے۔
جب اکٹھے ہو گئے تو ایک کے جو اصول و فروع ہیں، کچھ ایک جز کے اصول و فروع ہیں کچھ دوسرے جز کے، جب اکٹھے ہو گئے تو ایک تو اپنے اصول و فروع تھے ہی، دوسرے بھی اسی کے اصول و فروع بن گئے یا نہیں بن گئے؟ بن گئے۔ بات سمجھ بھی آ رہی ہے یا ویسے سر ہلا رہے ہیں؟ تو دونوں میں جزئیت اور اتحاد آیا لہٰذا ایک کے اصول و فروع دوسرے کے بھی اصول و فروع بن گئے۔
تو اولاد کے اندر دیکھو وطی جز بن گیا موطوءہ کا اور موطوءہ جز بن گئی وطی کی، دونوں میں جزئیت اور اتحاد آیا۔ جب دونوں میں اتحاد آ گیا تو ایک کے اصول و فروع تو تھے ہی دوسرے کے اصول و فروع بھی اس کے اصول و فروع بن گئے کیونکہ اتحاد آ چکا ہے۔ اور دوسرے کے اپنے اصول و فروع تھے ہی، پہلے کے جو اصول و فروع تھے وہ بھی اس کے بھی کیا بن گئے؟ کیونکہ دونوں میں کیا آ چکا؟ اتحاد آ چکا، جب ایک ہو گئے تو ایک دوسرے کے اصول و فروع بھی ایک دوسرے کے اصول و فروع بن گئے۔
اور اصول و فروع تو انسان پر کیا ہوتے ہیں؟ حرام۔ اس عورت پر اپنے والد کے ساتھ نکاح حرام تھا ہمیشہ کے لیے، اپنے سگے بیٹے کے ساتھ نکاح ہمیشہ کے لیے حرام تھا، اب خاوند کے ساتھ اتحاد آیا تو خاوند کے اصول و فروع بھی اس پر ہمیشہ کے لیے کیا ہو گئے؟ حرام ہو گئے۔ خاوند کے والد کے ساتھ اب یہ کبھی نکاح نہیں کر سکتی خاوند سے چاہے طلاق بھی لے لے، خاوند کے بیٹے کے ساتھ اب کبھی نکاح نہیں کر سکتی چاہے خاوند سے طلاق لے لے کیونکہ وہ اس کے بھی کیا بن چکے اصول اور فروع۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ ہاں تو دونوں میں اتحاد آ چکا لہٰذا اب ایک کے اصول و فروع دوسرے کے بھی اصول و فروع ہوئے اور دوسرے کے اصول و فروع پہلے کے بھی اصول و فروع ہوئے۔ تو اپنے اصول و فروع تو پہلے ہی حرام تھے اب دوسرے کے بھی اپنے ہی بن گئے وہ بھی حرام ہو گئے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی جی۔
اور یہ اصول و فروع، جزئیت اور اتحاد کس کی وجہ سے آیا؟ اولاد کی وجہ سے۔ تو یہ وطی پہنچا، اولاد ہونا ضروری نہیں ہے لیکن امکان تو ہے اور اولاد میں پھر کیا آ جائے گی؟ جزئیت اور بعضیت، اتحاد آ جائے گا۔
تو جب یہ وطی پہنچانے والی ہے اولاد تک، چاہے نہ پہنچائے، نہ ہو اولاد لیکن پہنچانے والی تو ہے امکان تو ہے، اس کے، اسی وطی کی وجہ سے کیا حاصل ہوتی ہے؟ اولاد۔ تو لہٰذا اسی وطی سے گویا کیا آ گیا؟ جزئیت اور اتحاد آ گیا بھئی۔ تو سبب کو کس کے قائم مقام گویا کر دیا گیا؟ مسبب کے۔
تو جس طرح حلال وطی اولاد تک پہنچاتی ہے اور خاوند اور بیوی میں جزئیت اور اتحاد پیدا کر دیتی ہے اور دونوں پر ایک دوسرے کے اصول و فروع حرام ہو جاتے ہیں، اسی طرح حرام وطی بھی واطی اور حرام وطی بھی اولاد تک پہنچانے کا باعث ہے، تو یہ حرام وطی بھی واطی اور موطوءہ میں جزئیت اور بعضیت پیدا کر دے گی لہٰذا زانی اور مزنیہ پر ایک دوسرے کے اصول و فروع کیا ہو جائیں گے؟ حرام ہو جائیں گے بھئی۔
یہاں تک بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ یہ ہے حرمتِ مصاہرت کا مسئلہ بھئی۔ تو عند الاحناف کسی عورت کو شہوت سے ہاتھ لگا دیا بغیر حائل کے تو اس صورت میں بھی ایک دوسرے پر کیا ہو جائیں گے اصول و فروع؟ حرام ہو جائیں گے بھئی، اصول و فروع۔
اس پر پھر ایک اشکال ہو آئے گا آپ کے ذہن میں، ابھی آپ نے پڑھا کہ انسان پر اپنی اولاد حرام ہے کیونکہ یہ اسی کا جز ہے، تو اپنا جز انسان پر کیا ہوتا ہے؟ حرام۔ اور حلال وطی کی تو میاں بیوی میں بھی کیا آ گیا؟ جزئیت اور اتحاد آ گیا دونوں ایک دوسرے کا جز بن گئے۔ جب ایک دوسرے کا جز بن گئے تو جز تو انسان پر حرام ہوتا ہے تو ایک ہی وطی کے بعد میاں بیوی کو ایک دوسرے پر حرام ہو جانا چاہیے بھئی۔ اشکال سمجھ میں آیا؟ کہ یہ وطی جو ہے یہ کیا پیدا کر دے گی؟ جزئیت اور اتحاد، دونوں ایک دوسرے کا جز بن گئے اور جز تو انسان پر حرام ہوتا ہے تو میاں بیوی کو بھی ایک دوسرے پر کیا ہو جانا چاہیے؟ حرام ہو جانا چاہیے۔
جواب یہ مولانا کہ یہ حکم پہلے سے معلوم ہے، ہم بات کر رہے ہیں قیاس کی اور قیاس وہاں کیا جاتا ہے جہاں حکم پہلے سے معلوم نہ ہو اور میاں بیوی ایک دوسرے پر حرام ہوتے ہیں، شریعت نے کوئی حکم دیا ہے؟ نہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی دیکھ لیں کہیں کی حکم لگایا گیا ہو کہ میاں بیوی ایک صحبت کے بعد ایک دوسرے پر حرام ہو گئے۔ تو یہ حکم تو پہلے سے معلوم تھا ہمیں کہ میاں بیوی ایک دوسرے پر حرام نہیں ہوتے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ لیکن ہم نے قیاس صرف کہاں کیا ہے؟ کہ حلال وطی کی وجہ سے اصول و فروع تو حرام ہو جاتے ہیں تو حرام وطی کی وجہ سے بھی اصول و فروع حرام ہوں گے یا نہیں، اس حکم کا پتہ نہیں تھا تو اس کے لیے ہم نے قیاس کیا بھئی، اس کے لیے ہم نے قیاس کیا۔
ہاں پھر اس کے آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا کہ پھر اس کی وجہ کیا ہے؟ میاں بیوی کو ایک دوسرے پر حرام کیوں نہیں، حرام تو یہ تو ظاہر ہے کہ شریعت نے حرام قرار نہیں دیا، تو اس کی وجہ کیا ہے؟ وجہ اس کی مولانا بناء بر ضرورت کے۔ بناء بر ضرورت کی بناء پر حرام قرار نہیں دیا گیا بھئی۔ بقاء نسل کے لیے تاکہ نسل باقی رہے بھئی، اگر حرام قرار دے دیا جاتا پھر تو نسل ہی باقی نہ رہتی۔ تو حکم تو پہلے سے ہی ہمیں معلوم ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے پر حرام نہیں، ہاں پھر وجہ علماء نے یہ ذکر کی کہ یہ کس وجہ سے حرام نہیں؟ بناء بر ضرورت کے، صرف علت بیان کی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو یہ تو پہلے سے معلوم ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے پر حرام نہیں۔ ہاں پھر انسان علماء نے غور کر کے اس کی وجہ نکالی کہ کیا وجہ ہے کیوں نہیں حرام قرار دیا گیا، یہ علت تو پھر وہاں بھی موجود ہے، تو اس کی علت انہوں نے یہ بیان کی کہ یہ ضرورت کی بناء پر اور وہ ضرورت کیا ہے؟ بقاء نسل، نسل کو باقی رکھنا ورنہ تو نسل ہی باقی نہ رہے گی بھئی اگر ایک ہی صحبت پر میاں بیوی ایک دوسرے پر حرام ہو جائیں بھئی۔
اچھا تو حرمتِ مصاہرت کا مسئلہ آپ سب کو سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ ہے حرمتِ مصاہرت اور اس پر اعتراض اس کا جواب سمجھ میں آیا کہ خاوند اور بیوی جب ایک دوسرے کا جز ہو گئے تو انہیں بھی کیا ہونا چاہیے؟ ایک دوسرے پر حرام ہو جانا چاہیے، یہ جواب دیا گیا کہ یہاں ضرورت کی بناء پر قیاس کو ترک کر دیا گیا اور وہ ضرورت کیا ہے؟ بقاء نسل، نسل کو باقی رکھنے کے لیے۔
اب کتاب پر دیکھیے، کہتے ہیں: ونظير القياس المستنبط من الإجماع، اس قیاس کی نظیر جو مستنبط ہے، ماخوذ ہے اجماع سے، وہ کونسا قیاس ہے؟ قياس حرمة أم المزنية، یہ مزنیہ لفظ ہے مولانا، زانیہ سارے عام طور پر میں نے سنا ہے جس سے بھی سنا ہے، مزنیہ اس لیے کہ یہ زنى يزني، رمى يرمي کی طرح ہے، زنى يزني زناء فهو زان، رمى يرمي رميا فهو رام، پھر آگے کیا آتا ہے؟ ورمي يرمى رميا فذاك مرمي، اسی طرح وزني يزنى فذاك فذاك مزني بھئی، جس کے ساتھ زنا کیا گیا۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ میم کے فتحہ کے ساتھ ہے۔ قياس حرمة أم المزنية على حرمة أم أمته التي وطئها.
بھئی دیکھیے! بیوی کی ماں کا حرام ہونا اس کا پتہ تو قرآن سے چلا، قرآن میں آتا ہے: وأمهات نسائكم، وأمهات نسائكم بھئی، کہ جو عورتیں حرام ہیں ان میں وأمهات نسائكم یعنی تمہاری بیویوں کی جو مائیں ہیں ان کا بھی ذکر آ گیا وہ تم پر حرام ہیں، اور وہاں وطی کی شرط بھی نہیں لگائی گئی، وطی کی شرط بھی نہیں لگائی گئی۔
اب یہ جو باندی ہے، جب انسان اپنی باندی کے ساتھ صحبت کرے تو کیا اس باندی کی ماں بھی اس پر حرام ہے یا حرام نہیں؟ تو اس پر تمام علماء کا اجماع ہے، تمام فقہاء کا اجماع ہے کہ باندی کی ماں بھی، وہ باندی جس کے ساتھ انسان نے وطی کی ہو اس کی ماں بھی کیا ہوتی ہے اس پر؟ حرام ہوتی ہے۔ کیونکہ اس کا ذکر تو قرآن اور حدیث میں نہیں تھا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس پر اجماع ہوا بھئی، ہر ایک کی رائے یہ ہوئی۔ اور علت کیا ذکر کی گئی؟ وہی علت، جزئیت اور بعضیت کی وجہ سے۔
وہ باندی جس کے ساتھ انسان صحبت کر لے اس کی ماں بھی اس پر کیا ہو جاتی ہے؟ حرام، اس پر اجماع کیا گیا اور علت کیا ذکر کی انہوں نے؟ وہی جزئیت اور بعضیت۔ کہ وطی کی وجہ سے دونوں میں کیا آ جائے گی؟ واطی اور موطوءہ میں اتحاد آ جائے گا، ان میں جزئیت اور بعضیت آ جائے گی، ایک دوسرے کا جز بن جائے گا دوسرا پہلے کا جز بن جائے گا بھئی۔
تو اس پر اجماع ہے کہ وہ باندی جس کے ساتھ انسان صحبت کر لے اس کی ماں انسان پر حرام ہوتی ہے اور اس کی علت فقہاء نے کیا بیان کی ہے؟ جزئیت اور بعضیت بھئی۔
تو اس پر اجماع ہوا بھئی، تو اس پر ہم قیاس کرتے ہیں کہ جو مزنیہ ہے، وہ عورت جس کے ساتھ زنا کیا گیا، وہ اس مزنیہ کی ماں بھی زنا کرنے والے پر کیا ہو جائے گی؟ حرام ہو جائے گی کیونکہ یہاں بھی وہی علت ہے جزئیت اور بعضیت والی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ جو ہم نے مزنیہ کی ماں کو قیاس کیا، کس پر قیاس کیا؟ وہ باندی جس کے ساتھ صحبت کی ہے اس کی ماں پر قیاس کیا۔ اور اس باندی کی ماں کا حرام ہونا یہ اس کا پتہ کس سے چلا تھا؟ اجماع سے، تو لہٰذا مزنیہ کی ماں کو قیاس کرنا کس پر؟ ہاں، تو یہ وہ قیاس ہے جو مستنبط ہو رہا ہے کس سے؟ اجماع سے۔ مسئلہ سب کو سمجھ میں آ گیا بھئی؟
تو کہتے ہیں بھئی: قياس حرمة أم المزنية، قیاس کرنا مزنیہ کی ماں کی حرمت کو، على حرمة أم أمته التي وطئها، أمته التي وطئها، وہ باندی جس کے ساتھ کیا کی ہے؟ وطی کی ہے، جی اس کی ماں کی حرمت پر، ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ ترجمہ آخر سے کرنا، وہ باندی جس سے وطی کی ہے اس کی ماں کی حرمت پر قیاس کیا، کس کو قیاس کیا؟ مزنیہ کی ماں کی حرمت کو۔ المستفادة من الإجماع، جو حاصل ہو رہی ہے اجماع سے، کیا حاصل ہو رہی ہے اجماع سے؟ حرمة أم أمته التي وطئها، یہ مستفاد ہو رہی تھی اجماع سے اور اس پر قیاس کیا کس کو؟ حرمت أم المزنية کو، بعلة الجزئية والبعضية، جزئیت اور بعضیت کی علت کی وجہ سے، کہ وہاں پر کیا علت ہے؟ کہ واطی اور موطوءہ کے درمیان جزئیت اور بعضیت آ جاتی ہے یعنی دونوں ایک دوسرے کا جز بن جاتے ہیں، دونوں کے اندر اتحاد آ جاتا ہے۔
وإنما أورد، یہاں سے اب دوسری بحث کر رہے ہیں بھئی، دوسری بحث کس بارے میں ہے؟ کہ ماتن نے جی قیاس کو الگ کیوں ذکر کیا، عبارت کیوں لائے؟ اعتراض ہوتا ہے بھئی کہ اصولِ شرع آپ نے کہا تین ہیں اور پھر کہا اصلِ رابع قیاس ہے، آپ ساروں کو اکٹھا ذکر کر دیتے اور یوں کہہ دیتے کہ اصولِ شرع چار ہیں: کتاب، سنت، اجماعِ امت اور قیاس۔ یہ قیاس کو آپ نے الگ "والاصل الرابع" کہہ کر کیوں ذکر کیا بھئی؟ جواب دے رہے ہیں: وإنما أورد بهذا النمط، نمط کا معنی ہوتا ہے نون پر فتحہ ہے، طرز کو بھئی، طریقے کو۔ وإنما أورد، اور ماتن لائے ہیں اپنے کلام کو، اپنی عبارت کو، بهذا النمط اس طرز پر، ولم يقل اور یہ نہیں انہوں نے کہا کہ أن أصول الشرع أربعة، کہ اصولِ شرع چار ہیں: الكتاب والسنة والإجماع والقياس، یہ انہوں نے نہیں کہا بلکہ اس طرز پر لائے ہیں کہ "والاصل الرابع القياس"، یہ کیوں کیا؟ دو جواب دیں گے مولانا، پہلا جواب: ليكون تنبيها، تاکہ اس بات پر تنبیہ ہو جائے کہ على أن الأصول الأول قطعية، کہ پہلے اصول کیا ہیں؟ قطعی ہیں، والقياس ظني، والقياس ظني، اور قیاس کیا ہے؟ ظنی ہے۔
بھئی پہلے اصول قطعی ہیں اور قیاس ظنی ہے، پہلے اصول جو ہیں یقین کا فائدہ دیتے ہیں کہ قطعی طور پر بات ایسی ہی ہے اس میں کسی قسم کا شک اور شبہ نہیں، جبکہ قیاس ظنی ہے یعنی غالب گمان یہ ہے اس دلیل کی وجہ سے غالب گمان یہ ہے کہ بات اسی طرح ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی غالب گمان۔ تو اسی لیے کہا کہ پہلے اصول چونکہ قطعی تھے اور قیاس ظنی تھا تو یہ فرق سمجھانے کے لیے ان تین کو الگ ذکر کیا اور اس کے بعد قیاس کو الگ ذکر کیا۔
آگے بھئی ایک اور بات بتلانا چاہتے ہیں شارح، بتلانا چاہتے ہیں کہ ہم نے کہا پہلے اصول قطعی ہیں اور قیاس کیا ہے؟ ظنی۔ کہتے ہیں یہ اکثر کے اعتبار سے ہے ورنہ ہمیشہ نہیں، بعض اوقات جو مثلاً سنت کو آپ نے کیا کہا حدیث کیا ہے؟ قطعی ہے، لیکن بعض اوقات حدیث بھی کیا ہوتی ہے؟ ظنی کیونکہ وہ خبرِ واحد ہوتی ہے۔ خبرِ واحد جانتے ہو یا نہیں جانتے بھئی؟ بھئی دیکھیے، یاد رکھیے ایک خبرِ، حدیث کی تقسیم ہے بھئی، ایک تقسیم محدثین کرتے ہیں، ایک فقہاء کرتے ہیں، فقہاء کی تقسیم یہ ہے کہ حدیث تین قسم پر ہے: خبرِ متواتر، خبرِ مشہور اور خبرِ واحد یا خبرِ آحاد بھی کہتے ہیں۔ خبرِ متواتر اسے کہتے ہیں جس کے روایت کرنے والے ہر زمانے میں اتنے زیادہ ہوں کہ جھوٹ پر ان کا اجتماع، عقل سمجھے کہ جھوٹ پر ان کا اجتماع بھئی اتنے لوگ اس بات کو نقل کر رہے ہیں اور اتنے لوگوں کا تو جھوٹ پر متفق ہونا محال ہے معلوم ہوا بات ایسی ہی ہے، یہ یقین کا فائدہ۔ پھر دوسری ہے خبرِ مشہور جس میں نقل کرنے والے اتنے زیادہ نہ ہوں لیکن تین سے کم بھی کسی طبقے میں نہ ہوں، بھئی صحابی سے روایت کی ہے پھر آگے نقل کس نے کیا؟ تابعین نے، تابعی سے کس نے نقل کیا؟ تبع تابعین نے، تو لیکن کسی بھی طبقے میں روایت کرنے والے تین سے کم نہیں ہے بھئی، تین چار پانچ آدمی اسی حدیث کو روایت کر رہے ہیں ہر طبقے کے اندر تو یہ کیا کہلائے گی؟ خبرِ مشہور۔ اور اگر کسی طبقے میں آ کر روایت کرنے والے تین سے کم ہو گئے، دو یا ایک رہ گئے، مطلب اس طبقے میں آ کر صرف روایت کرنے والے اس حدیث کو روایت کرنے والے کتنے ہیں؟ صرف دو ہیں یا صرف ایک ہے، تو پھر یہ کیا کہلاتی ہے؟ خبرِ واحد، خبرِ واحد یا خبرِ آحاد بھئی، اور یاد رکھیے یہ خبرِ واحد جو ہوتی ہے یہ ظن کا فائدہ دیتی ہے، یقین کا فائدہ نہیں دیتی، یہ تھی فقہاء کی تقسیمِ حدیث۔ محدثین اور تقسیم کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں حدیث
یا تو خبر مشهور ہو یا خبر متواتر ہو گی یا خبر آحاد ہوگی، بس۔ خبر متواتر جس کے روایت کرنے والے اتنے زیادہ ہوں کہ عقل ان کے اجتماع علی الکذب کو محال سمجھے اور اگر ایسا نہ ہو تو وہ کیا ہے؟ خبر آحاد ہے۔ پھر خبر آحاد کے آگے تقسیم کرتے ہیں وہ کہ خبر آحاد تین قسم پر ہے خبر مشهور، خبر عزیز اور خبر غریب۔ مشهور، عزیز، غریب۔ مشهور جس کے اندر روایت کرنے والے کسی زمانے میں تین سے کم نہ ہوں۔ عزیز جس کے اندر روایت کرنے والے کسی زمانے کے اندر دو سے کم نہ ہوں اور غریب جس کے اندر کسی نہ کسی زمانے میں یا سب زمانوں میں روایت کرنے والا ایک ہو بئی۔ سمجھ میں آیا؟
تو لہذا یہاں ہم بحث کونسی کتاب پڑھ رہے ہیں؟ اصول فقہ کی، لہذا یہاں خبر واحد سے کونسی خبر واحد مراد ہوگی؟ جو فقہاء کے نزدیک ہے اور ان کے نزدیک خبر واحد وہ ہے جس کے روایت کرنے والے کسی زمانے میں تین سے کم ہوں دو یا ایک ہوں۔ اور یہ کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ ظن کا۔ بئی حدیث تو قطعی ہوتی ہے، وہ تو یقین کا فائدہ دیتی ہے، لیکن اب چونکہ روایت کرنے والے دو ہیں اب اس وجہ سے یقین کا فائدہ نہیں دے گی بلکہ کس کا فائدہ دے گی؟ ظن کا، دیکھا؟ تو بعض اوقات حدیث انہوں نے کہا تھا وہ قطعی ہے لیکن بعض اوقات حدیث بھی کیا ہو جاتی ہے؟ ظنی ہو جاتی ہے۔
اور اسی طرح قیاس کا کہا کہ قیاس ظنی ہے لیکن کبھی کبھار قیاس بھی قطعی ہو جاتا ہے، بئی وہ کب؟ کہتے ہیں جبکہ اس کی علت منصوص ہو، نص میں آئی ہو۔ جیسے بئی وہ گندگی علت بنایا تھا بئی کس کے لیے؟ حرمت لواطت کے لیے، تو یہ اس علت کا پتہ کس سے چلا؟ نص سے، نص بئی قرآن اور حدیث کو کہتے ہیں نص سے پتہ چلا بئی، تو یہ جس نص جس علت کا پتہ نص سے چلے وہ تو قطعی ہے، تو لہذا اس پر جو قیاس کیا جائے وہ بھی کیا ہوگا؟ قطعی ہوگا۔ تو دیکھو قیاس کبھی قطعی بھی ہو جاتا ہے، یقین کا بھی فائدہ دیتا ہے جیسے یہاں تھا۔
سمجھ میں آیا؟ تو لہذا ہم آگے بتلا رہے ہیں کہ یہ جو ہم نے کہا کہ پہلے تین اصول قطعی ہیں اور قیاس ظنی ہے یہ ہمیشہ نہیں ہے بلکہ اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے، اکثر قیاس ظنی ہوتا ہے لیکن کبھی کبھار قطعی بھی ہو جاتا ہے اور یہ تینوں اصول جو ہیں یہ کیا ہیں؟ اکثر قطعی ہیں لیکن کبھی کبھار ان میں ظنی بھی کوئی ہو جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں وهذا باعتبار الأغلب والأكثر، یہ اغلب اور اکثر کے اعتبار سے ہے، اغلب اور اکثر کا ایک معنی۔ وإلا فالعام المخصوص منه البعض، ورنہ وہ عام جس سے مخصوص کر لیا جائے بعض کو، دیکھیے بئی عام قطعی ہے آپ نے پڑھا ہے لیکن اس عام کے اندر عام میں عموم ہوتا ہے، یہ کئی افراد اس میں شامل ہوتے ہیں، لیکن کبھی اس میں خصوص کیا جاتا ہے اور اس حکم سے بعض افراد کو نکال لیا جاتا ہے، تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ عام مخصوص البعض اور عام مخصوص البعض یہ ظنی ہے، یہ قطعی نہیں، تو دیکھو عام تھا قطعی لیکن اس سے جب بعض کی تخصیص کر لی گئی تو یہ کیا بن گیا؟ ظنی بن گیا بئی۔
تو کہتے ہیں فالعام المخصوص منه البعض وخبر الواحد ظني، عام مخصوص البعض اور اسی طرح خبر واحد یہ ظنی ہیں، والقياس بعلة منصوصة قطعي، اور اسی طرح وہ قیاس وہ قیاس جو علت منصوصہ کے ساتھ ہو یعنی وہ علت جو نص میں آئی ہے قطعي، یہ قیاس کیا ہوتا ہے؟ قطعی ہوتا ہے۔ لیکن یہاں پر محشی نے بڑی پیاری بات کی ہے بئی، محشی فرماتے ہیں بئی کہ نہیں بئی اے شارح آپ کی بات درست نہیں ہے، قیاس ہمیشہ ظنی ہوگا اور وہ پہلے تین اصول ہمیشہ کیا ہوں گے؟ قطعی ہی ہوں گے، ہمیشہ کیا ہوں گے؟ قطعی۔ ہاں جو وہ ظنی ہوتے ہیں کسی عارض کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ عام ہمیشہ قطعی ہے لیکن یہ ایک عارض کی وجہ سے کیا بن گیا؟ ظنی اور وہ عارض کیا تھا کہ اس سے بعض کی کیا کر دی گئی ہے؟ تخصیص۔ حدیث ہمیشہ قطعی ہوگی لیکن یہاں پر یہ حدیث جو ہے یہ ظنی بن گئی عارض کی وجہ سے اور وہ عارض کیا ہے؟ کہ کسی زمانے میں اس کے روایت کرنے والے تین سے کم ہیں عارض، اور قیاس ہمیشہ ظنی ہی ہوگا لیکن کسی عارض کی وجہ سے قطعی بھی ہو سکتا ہے جیسے کہ یہ اس کی علت کا پتہ کس سے چلا؟ نص سے چلا اس لیے یہ قطعی ہو گیا۔ سمجھ میں آیا بئی؟ تو انہوں نے تو کہا تھا اکثر اوقات قیاس ظنی ہوتا ہے کبھی قطعی بھی ہو سکتا ہے اور تین اصول ثلاثہ اکثر اوقات کیا ہوتے ہیں؟ قطعی ہوتے ہیں کبھی ظنی بھی ہو سکتے ہیں۔ محشی کہتے ہیں نہیں نہیں، قیاس ہمیشہ ظنی اور اصول ثلاثہ ہمیشہ قطعی ہی ہیں، ہاں کسی عارض کی وجہ سے اصول ثلاثہ میں کوئی ظنی بھی ہو سکتا ہے اور قیاس میں قطعی بھی ہو سکتا ہے۔
تو ایک جواب یہ دے دیا مولانا، پہلا جواب کیا دیا بئی پیچھے؟ کہ یہ جو الگ ذکر کیا اس کی کیا وجہ ہے؟ کہ کیونکہ یہ پہلے تین قطعی ہیں اور قیاس ظنی ہے اس کا پتہ لگ جائے۔ ولأنه سے دوسرا جواب دے رہے ہیں اور اس وجہ سے اس طرح ذکر کیا کہ لما قال کہ ماتن نے جب کہا والأصل کہ بئی ماتن اس کے لیے بعض لوگ قیاس کے منکر ہیں بئی قیاس کو مانتے ہی نہیں ہیں بئی، تو اگر انہی کے ساتھ ذکر کر دیتے قیاس کو کہ اصول چار ہیں ان میں قیاس بھی، تو اس صورت میں بھی ان کی ان کا رد ہو جاتا، منکرین قیاس کا کیا ہو جاتا؟ رد ہوتا لیکن صراحتًا نہیں ہوتا ضمناً ہو جاتا کیونکہ جب اصول میں قیاس کو ذکر کر دیا معلوم ہوا قیاس بھی اصل ہے اور تم تو مانتے نہیں بئی تو ان کا رد ہو گیا۔ لیکن جب کہا والأصل الرابع القياس تو اب صراحتًا ان کا کیا ہو گیا؟ رد، تو اگر اس طرح ذکر کرتے تو ضمناً رد ہوتا اور اگر اس طرح ذکر کیا تو منکرین قیاس کا رد ہوا صراحتًا ہوا۔
تو کہتے ہیں ولأنه لما قال، اس لیے کہ جب ماتن نے یہ فرمایا والأصل فرمایا تو كان ردا على منكري القياس قصدا، تو یہ رد ہوا منکرین قیاس پر قصداً وصريحا، ارادے سے اور صراحتًا۔ ولما قال، اچھا یہاں سے ایک اور فائدہ بتلا رہے ہیں کہ کہ کہ ماتن نے کہا والأصل الرابع، تو جو یہ الرابع کا لفظ کہا اس الرابع کے ذریعے بتلا دیا کہ قیاس کا درجہ چوتھا ہے، قیاس کا درجہ چوتھا ہے اور جب تک ان پہلے تین میں حکم موجود ہے قیاس کی کوئی ضرورت، قیاس چوتھے نمبر پر ہے اس کی طرف تب جائیں گے جب ان تین کے اندر ہمیں حکم نہ ملے بئی۔
تو کہتے ہیں ولما قال الرابع، جب ماتن نے الرابع کہا كان دالا، تو یہ دلالت کرنے والا ہے على أن مرتبته بعد الأصول الثلاثة، اس بات پر کہ اس کا مرتبہ اصول ثلاثہ کے بعد ہے، فما دام كان الحكم موجودا، پس جب تک وہ حکم موجود ہے في واحد من الثلاثة، تین میں سے کسی ایک کے اندر لم يحتج إلى القياس، اس وقت قیاس کی حاجت نہیں، جی دوسری بحث مکمل ہوئی۔ سمجھ آیا؟ تو اس میں دو جواب بھی ذکر کر دیے بئی اس اعتراض کے کہ کیوں اس طرح ذکر کیا؟ پہلی وجہ یہ کیونکہ وہ پہلے تین قطعی ہیں اور قیاس کیا ہے؟ ظنی، اور دوسری وجہ یہ تاکہ منکرین قیاس کا صراحتًا کیا ہو جائے؟ رد ہو جائے۔
جی ایک اور جواب بھی بعض علماء نے ذکر کیا بئی، یہ جو صاحب توضیح ذکر فرماتے ہیں، بئی یہ تین جو ہیں یہ مثبتِ حکم ہیں اور قیاس مظہرِ حکم ہے مثبت نہیں ہے۔ ہم کہتے ہیں یہ بات قیاس سے ثابت ہے، بئی قیاس ثابت نہیں کرتا صرف ظاہر کرتا ہے حکم ایسا تھا لیکن ہمیں پتہ نہیں تھا قیاس نے اس کو آ کر کیا کر دیا؟ ظاہر کر دیا۔ ہاں ثابت کس سے کیا ہے؟ جی وہی اصول ثلاثہ، جہاں سے علت آپ نے لی ہے اسی سے وہ کیا ہے حکم ثابت، حکم تو اسی سے ثابت ہے لیکن ظاہر کس نے کیا؟ قیاس نے، تو قیاس کی طرف جو حکم کی نسبت ظاہراً کی جاتی ہے یہ مجازاً ہے، قیاس ثابت نہیں کرتا بلکہ کیا کرتا ہے؟ ظاہر کرتا ہے، تو اس اعتبار سے بھی قیاس ان سے مختلف ہے اس لیے اس کو الگ ذکر کیا۔
ثم لا بأس أن يكون، جی یہاں سے تیسری بحث کر رہے ہیں ایک اعتراض کر رہے ہیں متن پر، اب ایک اعتراض ہوتا ہے اس کا جواب ذکر کرنے لگے ہیں۔ بئی آپ نے کیا کہا؟ کہ یہ چاروں کیا ہیں؟ اصول ہیں، کہتے ہیں بئی یہ چاروں اصول تو نہیں ہیں بعض اعتبار سے یہ چاروں فروع بھی ہیں یہ فروع بھی ہیں بئی، تو ان کو اصول کہنا صحیح نہیں۔ جیسے بئی کتاب اللہ، سنت اور اجماعِ امت اور کتاب اللہ اور سنت یہ فروع ہیں ایمان باللہ اور ایمان بالرسول کی، اللہ اور رسول پر ایمان لائیں گے تو پھر کیا کریں گے؟ کتاب اور سنت کو بھی تسلیم کریں گے، تو کتاب ایمان اللہ اور اس کے رسول پر ایمان یہ اصل ہوا اور کتاب اللہ اور سنت کیا ہوئی اس کی؟ فرع ہوئی، تو دیکھو یہ فرع ہیں اس اعتبار سے اور آپ نے تو متن میں کیا فرمایا تھا؟ یہ اصول ہیں۔ جواب دیں گے مولانا کہ بئی ہم نے حکم کے اعتبار سے بتایا تھا حکم کے اعتبار سے یہ اصل ہیں، اگر کسی اور کے اعتبار سے یہ فرع بھی ہوں تو اس میں کوئی خرابی نہیں ہے بئی۔ اسی طرح اجماع بھی فرع ہے داعی کی اور اسی طرح قیاس وہ ان تینوں کی کیا ہے؟ فرع ہے۔
کہتے ہیں ثم لا بأس، پھر کوئی حرج نہیں کہ أن يكون هذه الأصول فروعا لشيء آخر، کہ یہ اصول جو ہیں فروع ہوں کسی اور چیز کے لیے لأنها كلها أصول بالنسبة إلى الحكم، اس لیے کہ یہ سارے کے سارے اصول ہیں کس کی نسبت سے؟ حکم کی نسبت سے اصول ہیں، ہر چیز کے اعتبار سے اصول نہیں۔ فالكتاب والسنة فرع للتصديق بالله ورسوله، پس کتاب اور سنت جو ہیں وہ فرع ہیں تصدیق باللہ اور تصدیق برسولہ کے یعنی ایمان باللہ کے بئی اور ایمان بالرسول کے، والإجماع فرع للداعي، اور اجماع فرع ہے داعی کی بئی، اجماع فرع ہے داعی، داعی سے مراد وہ دلیلِ ظنی ہے جس کی وجہ سے ہر مجتہد کی رائے یہی بن گئی اور پھر اجماع ہو گیا۔ کوئی نہ کوئی دلیلِ ظنی چاہیے یا نہیں چاہیے مجتہد ایک مسئلے میں ایک رائے پیش کرتا ہے ویسے ہی پیش کر دیتا ہے یا کسی دلیل کے ذریعے پیش کرتا ہے؟ سمجھ میں آیا؟ تو ہر مجتہد کے پاس کوئی نہ کوئی دلیلِ ظنی تھی اور اس کے ذریعے اس نے کیا کیا؟ بتلایا کہ یہ مسئلہ اسی طرح، یہ مسئلہ اسی طرح ہے یہاں تک کہ ساروں کی رائے ایک ہی ہو گئی، تو یہ جو ساروں کی رائے ایک ہوئی اور یہ جو اجماع ہوا یہ خود بخود ہوا یا اس داعی کی وجہ سے ہوا؟ اس دلیلِ ظنی کی وجہ سے ہوا؟ اس داعی اور دلیلِ ظنی کی وجہ سے ہوا، تو لہذا قیاس اس کی فرع ہے، قیاس اس کی فرع ہے، وہ داعی کی وجہ سے یہ اجماع ہوا۔
تو کہتے ہیں والإجماع فرع للداعي، اجماع فرع ہے داعی کی والقياس فرع للثلاثة، اور قیاس ان تینوں کی فرع ہے۔
ووجہ الحصر، یہاں سے چوتھی بحث کر رہے ہیں بئی چوتھی بحث، اس کے اندر وجہِ حصر بیان کریں گے اور اس وجہِ حصر پر ہونے والے ایک اعتراض کا جواب دیں گے بئی، آسان باتیں ہیں دیکھیے بئی۔
ووجہ الحصر، جی پہلے سن لیجیے بئی، بئی ان چار میں کیوں بند کیا؟ آپ نے کہا اصولِ شرع کتنے ہیں کل؟ چار ہیں بئی، چار میں کیوں بند ہے اس کی وجہ کیا ہے؟ بتلائیں گے کہ اس لیے کہ کہ استدلال کرنے والا وہ یا تو استدلال کرے گا وحی سے یا غیرِ وحی سے، اگر وحی سے استدلال کرتا ہے تو وہ وحی متلو ہوگی یا غیرِ متلو، متلو کا معنی جس کی تلاوت کی جائے۔ متلو، کیا معنی جس کی؟ یعنی جس کی نماز میں تلاوت کی جاتی ہے بئی، اور نماز میں کس صرف کس کی تلاوت ہوتی ہے؟ کتاب اللہ کی ہوتی ہے سنت کی تلاوت نہیں، تو لہذا قیاس کرنے والا استدلال کرے گا اہ استدلا جی؟ مجتہد، مجتہد، مجتہد یا تو استدلال کرے گا کس سے؟ وحی سے استدلال کرے گا یا غیرِ وحی سے، اور وحی پھر متلو ہوگی یعنی اس کی تلاوت نماز میں جائز ہوگی یا جائز نہیں، اگر جائز ہے تو وہ کیا ہے؟ کتاب اللہ، اگر غیرِ متلو ہے وہ وحی تو وہ کیا ہے؟ سنتِ رسول۔
اور اگر وہ غیرِ وحی سے استدلال کرے تو پھر اس صورت میں وہ رائے ہوگی ایک مجتہدین مجتہد کی یا تمام مجتہدین کی، اگر تمام کی رائے ہو تو یہ اجماع ہے اور اگر بعض کی رائے ہو تو یہ قیاس ہے۔ وجہِ حصر سمجھ میں آ گئی بئی؟ دیکھیے یہی بیان کر رہے ہیں۔
ووجہ الحصر، اور وجہِ حصر في هذه الأربع، ان چار کے اندر حصر کی وجہ یہ ہے أن المستدل لا يخلو، کہ مستدل استدلال کرنے والا یعنی مجتہد لا يخلو، وہ خالی نہیں ہے إما أن يتمسك بالوحي أو بغيره، کہ وہ یا تو استدلال کرے گا وحی کے ذریعے یا غیرِ وحی کے ذریعے، دونوں میں دو دو صورتیں آئیں گی۔ تو وحی کے اندر کہتے ہیں والوحي إما متلو وهو الكتاب، وحی یا تو متلو ہوگی یعنی اس کی تلاوت کرنا جائز ہوگی کس کے اندر؟ نماز میں اور وہ کتاب اللہ ہے أو غيره، یا وہ کیا ہوگی؟ غیرِ متلو ہوگی وهو السنة، اور وہ سنت یعنی حدیث ہے۔ اچھا اور اگر وہ غیرِ وحی سے استدلال کرے تو وہ غیرِ وحی إن كان قول إن كان قول الكل، اگر وہ سب کا قول تھا فالإجماع، تو پھر وہ اجماع ہے وإلا فالقياس، ورنہ وہ قیاس ہے۔
وأما الشرائع من قبلنا، جی یہاں سے ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں۔ سوال یہ اعتراض کرنے والا اعتراض مثلاً کرتا ہے کہ اے صاحبِ کتاب آپ نے کہا کہ شرع کے ادلہ چار ہیں ہمیں آپ کی یہ بات تسلیم نہیں، شرع کے ادلہ چار نہیں ہیں بلکہ چھ سات آٹھ ہیں بئی اس کے ادلہ، اس لیے کیونکہ پچھلی امتوں کا عمل جو ہے وہ بھی ہمارے لیے دلیل بنتا ہے اور ہم اس پر عمل کرتے ہیں، جیسے بنی اسرائیل کو ایک حکم یہ دیا قصاص کا حکم دیا گیا تھا کہ ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت وغیرہ یہ حکم دیا گیا تھا اور یہ اس شریعت کے اندر بھی ہے معلوم ہوا پچھلی شریعتوں کے احکام یا پچھلی شریعتیں بھی ہمارے لیے دلیل ہیں اور اصل ہیں، ان سے بھی احکام ثابت ہوتے ہیں۔
اسی طرح ایک تعاملِ ناس ہے بئی ایک دلیل بئی، لوگ آپس میں اس کا معاملہ کرتے ہوں باہم اس پر عمل کرتے ہوں یہ بھی کس چیز کی ہے؟ کسی چیز کے جائز ہونے کی دلیل ہے بئی، سمجھ میں آیا؟ جی، تو جیسے مولانا چیزیں کرایہ پر دی جاتی ہیں اور کرائے پر لینے والا اس چیز کا مالک ہو جاتا ہے یا صرف اس کے نفع کا مالک ہوتا ہے؟ نفع اور نفع کے بدلے کرایہ پر دینے والا پیسے لیتا ہے مثلاً آپ گاڑی لیتے ہیں تو آپ کرایہ پر تو آپ گاڑی کے مالک نہیں بن کے بن گئے بلکہ آپ صرف اس سے نفع اٹھانے کے مالک بنے ہیں، اور اس کے بدلے وہ پیسے لیتا ہے لیکن بئی پیسے تو اس چیز کے بدلے ہوتے ہیں قیمت تو اس چیز کی ہوا کرتی ہے جس کے اندر بقاء ہو منافع کے اندر تو کوئی بقاء نہیں ہر ہر لمحے میں نئے نئے منافع آتے ہیں اور پچھلے گزرتے چلے جاتے ہیں، تو ایک چیز جو ٹھہرتی نہیں ہے ایک لمحے کے لیے آئی اور پھر گزر بھی گئی آئی اور گزر بھی گئی تو اس کی قیمت کہاں سے ہو گئی؟ قیمت تو اس چیز کی ہوتی ہے جس میں بقاء ہو، آپ بازار سے جاتے ہیں کھانا خرید کر لاتے ہیں بئی بازار میں خریدا کھانا تھا یا نہیں تھا؟ آپ کمرے تک پہنچے کھانا موجود ہے یا نہیں موجود؟ اس میں بقاء ہے۔
تو جو بھی آپ چیز خریدتے ہیں اس میں بقاء ہوتی ہے اس سے لے لیتے ہیں اپنے پاس رکھ لیتے ہیں محفوظ کریں کھائیں استعمال کریں جو بھی لیکن اس میں بقاء ہے، جبکہ منافع میں تو بقاء ہی نہیں ایک ایک لمحے کے منافع بدلتے جا رہے ہیں، اس سیکنڈ کے اندر جو نفع تھے وہ ختم ہو گئے اگلے سیکنڈ والے آ گئے اس سے اگلے سیکنڈ میں وہ پچھلے بھی گزر گئے نئے آ گئے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ مثلاً جیسے آپ ایک مکان کرایہ پر دیتے ہیں ہر مہینے کا ہزار روپیہ مثلاً کرایہ وصول کرتے ہیں، آپ یوں کریں ایک سال تک مکان کرائے پر نہ دیں یہ سارے ایک سال کی رہائش اکٹھی کر لیں پھر دے دینا کسی کو، ایسا ہو سکتا ہے؟ نہیں رہائش گزرتی وہ لمحات گزرتے چلے جا رہے ہیں منافع ختم ہوتے چلے جا رہے ہیں وقت کے ساتھ، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو منافع کے اندر بقاء نہیں تو اس کی پھر قیمت کیسے ہو؟
تو وہاں اور دلیلوں کے ساتھ ایک تعاملِ ناس کی دلیل بھی علماء ذکر کرتے ہیں، سمجھ آیا؟ ایک تو احادیث وغیرہ بھی ہیں اور تعاملِ ناس کہ لوگوں باہم اس کا معاملہ کرتے ہیں معلوم ہوا یہ جائز ہے، یہ کیا ہے؟ لوگ آپس میں معاملہ اس طرح کرتے ہیں کرائے پر دیتے ہیں ہمارے تمام اسلاف اسی طرح کرتے تھے اس کو ان کے سامنے معاملات ہوتے تھے وہ بھی چیزیں کرائے پر لیتے تھے اس قسم کے معاملات کرتے تھے، تو یہ تعاملِ ناس لوگوں سب لوگوں کا تمام مسلمانوں کا باہم ایک چیز پر عمل جاری ہونا یہ بھی اس چیز کے جائز ہونے کی دلیل ہوتی ہے، تو معلوم ہوا تعاملِ ناس سے بھی احکام ثابت ہوتے ہیں بئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تعاملِ ناس سے بھی، تو آپ نے تو کہا تھا چار ہیں ہم نے آپ کو بتایا گزشتہ شریعتوں سے بھی احکام ثابت ہوتے ہیں ہم نے بتلا دیا کہ تعاملِ ناس سے بھی کیا ہوتے ہیں احکام ثابت ہوتے ہیں بئی۔
اسی طرح قولِ صحابی ہے اس سے بھی احکام ثابت ہوتے ہیں۔ ایک مسئلے کے اندر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قول نہیں ہے ان کی حدیث نہیں ہے تو پھر ہم کس کو لے لیتے ہیں؟ صحابی کا قول، صحابی فرماتے ہیں یہ مسئلہ اس طرح ہے ہم
کوئی لے لیتے ہیں، اس مسئلے میں اس طرح۔
فقال، صحابی کے لیے بھی دیکھو، مسئلہ کیا ہوتا ہے؟ احکام ثابت۔ اسی طرح استحسان ہے، اس کو بھی شمار کرنا چاہیے، بھئی! کیا کرنا چاہیے؟ استحسان، کہتے ہیں، بھئی! قیاس کو چھوڑ کر آسان حکم کی طرف جانا، لوگوں کی سہولت کے لیے۔
استحسان کسے کہتے ہیں؟ قیاس کو چھوڑ کر زیادہ آسان حکم کی طرف چلے جانا، اس کو اختیار کر لینا، کس لیے؟ لوگوں کی آسانی کے لیے، اس کو استحسان کہتے ہیں۔ استحسان کا لغوی معنی ہے پسند کرنا، پسند کرنا۔ تو اس کو بھی استحسان اس لیے کہتے ہیں کہ یہ پسندیدہ ہے، بھئی! کہ لوگوں کی آسانی کے لیے کیا کی جائے؟ سہولت کے لیے، مسئلے میں آسانی کی جائے، بھئی! اس لیے اس کو استحسان کہتے ہیں۔ اسے قیاسِ خفی بھی کہتے ہیں، تو اس قیاسِ خفی کی وجہ سے کیا کر دیا جاتا ہے؟ قیاسِ جلی یا قیاسِ ظاہر کو چھوڑ دیا جاتا ہے، بھئی!
تو بعض مسائل میں استحسان بھی دلیل بنتی ہے، جیسے دیکھیے، بھئی! اس کی مثال انھوں نے حاشئے میں ذکر کی ہے کہ بھئی! دیکھو، درندوں کا جھوٹا جھوٹا حرام ہے، کیوں؟ اس لیے کہ درندے جب پیتے ہیں، ان کا لعاب پانی کو لگے گا اور درندے ہیں حرام، تو ان کا گوشت ہوا نجس اور اسی گوشت سے پیدا ہوتا ہے لعاب بھی، تو جب پانی پئیں گے، تو وہ لعاب پانی میں بھی لگے گا، پانی میں آئے گا، بھئی! اور اس جب نجس اس پانی میں مل گئی، تو پانی پر بھی کیا حکم لگا دیں گے؟ حرام ہونے کا۔ اسی طرح، جو شکار کرنے والے پرندے ہیں، بھئی! ان کے جھوٹا بھی کیا ہونا چاہیے؟ قیاس تقاضا کرتا ہے، وہ بھی کیا ہونا چاہیے؟ حرام، کیونکہ شکار کرنے والے پرندے جو ہیں، وہ حرام ہیں۔ معلوم ہوا، ان کا گوشت نجس ہے، جب گوشت نجس ہے، تو ان کا لعاب بھی کیا ہوا؟ نجس، جب وہ پئیں گے، تو وہ لعاب پانی سے ملے گا، تو لہٰذا پانی بھی نجس ہونا چاہیے، تو قیاسِ جلی ان کے جھوٹے کے نجس ہونے کا تقاضا کرتا ہے، لیکن استحساناً ان کے جھوٹے کو پاک قرار دیا گیا، کیوں؟ استحسان استحساناً، بھئی! حکم کو آسان بنایا گیا۔
وجہ کیا؟ کہتے ہیں، بھئی! دراصل پرندے پیتے ہیں چونچ سے اور یہ چونچ جو ہے، یہ ہڈی ہے اور ہڈی کے اندر نجاست سرایت نہیں کرتی، بھئی! اس کے اندر نجاست سرایت نہیں کرتی، تو یہ ہڈی سے پیتے ہیں، تو ہڈی پاک ہے، لہٰذا پاک چیز کے ذریعے پانی پیا انھوں نے، تو اس وجہ سے اب یہ پانی ناپاک نہیں ہوگا۔ تو دیکھو، استحسان کو دلیل بنایا یا نہیں، بھئی؟ تو استحسان کو بھی دلیل بناتے ہیں، اسی طرح اور بھی چیزیں ہیں، تو لہٰذا آپ کا یہ کہنا کہ اصولِ شرع چار ہیں، یہ درست نہیں، اصولِ شرع تو ہم نے ہی ذکر کر دیے، سات اٹھ یا اس سے بھی زیادہ ہونے چاہییں پھر، تو جواب دے رہے ہیں کہ نہیں، بھئی! باقی جتنی بھی چیزیں آپ نے ذکر کیں، وہ انہی چار میں سے کسی کے ساتھ آ کر مل جائیں گی، انہی میں داخل ہیں، بھئی! ان سے علیحدہ چیز نہیں۔ دیکھیے، کہتے ہیں: «واما الشرائع من قبلنا» باقی جو ہم سے پہلے کی شریعتیں ہیں «فملحقة بالكتاب والسنة» وہ ملحق ہیں کتاب اللہ اور سنتِ رسول کے ساتھ۔ بھئی! وہ پہلی شریعتوں جو ہیں، وہ بھی ہمارے لیے دلیل بنتی ہیں، لیکن ویسے دلیل نہیں بنتی، جب ان کا ذکر قرآن یا سنت میں، حدیث میں آ جائے، ان کے حکم کو برقرار رکھا جائے، پھر وہ دلیل بنیں گی، ویسے دلیل نہیں بنے گی۔
اسی طرح «وتعامل الناس ملحق بالإجماع» لوگوں کا تعامل، یہ کس کے ساتھ ملحق ہے؟ اجماع کے ساتھ، جب تمام لوگ یہ معاملہ کر رہے ہیں، معلوم ہوا، کیا ہے؟ اجماع ہے، سمجھ میں آیا، تو یہ اجماع میں داخل ہو گیا اور قولِ صحابی، اور صحابی کا قول بھی آپ نے کہا کہ یہ کیا ہوتا ہے؟ دلیل بنتا ہے، اس کو بھی شمار کرنا چاہیے، کہتے ہیں، بھئی! قولِ صحابی اس کو وہ بھی کبھی قیاس کے ساتھ مل جائے گا اور کبھی سنت کے ساتھ، اس لیے کہ قولِ صحابی دو قسم کا ہو سکتا ہے، جو صحابی کا قول ہے، یا وہ مدرک بالعقل ہوگا یا مدرک بالعقل نہیں، یعنی مدرک بالعقل ہونے کا یہ معنی کہ عقل بھی اس تک خود بخود پہنچتی ہے یا عقل اس تک نہیں پہنچتی، تو غیر مدرک بالعقل ہے۔
مثلاً صحابی نے ایک قول کیا، اب عقل بھی یہی فیصلہ کرتی ہے، معلوم ہوا، یہ قیاس ہے، تو ہم اس کو کس کے ساتھ ملا دیں گے؟ کیونکہ عقل اس تک پہنچ جاتی ہے، معلوم ہوا، صحابی نے بھی کیا کیا ہے؟ قیاس کیا ہے اور اگر وہ ایسی بات کی ہے، صحابی کا قول ایسا ہے کہ عقل تو اس کا فیصلہ نہیں کر سکتی، عقل کبھی بھی اس بات تک نہیں پہنچ سکتی، لیکن صحابی فرما رہے ہیں، اس طرح ہے، معلوم ہوا، انھوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوگا، ورنہ عقل سے تو یہ بات معلوم نہیں ہو سکتی، تو لہٰذا صحابی کا وہ قول جو مدرک بالعقل ہو، وہ کس کے ساتھ مل گیا؟ قیاس کے ساتھ اور وہ قول جو غیر مدرک بالعقل ہے، وہ کس کے ساتھ مل گیا؟ سنت، اگرچہ وہ یہ نہیں کہتا میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، لیکن یہ بات تو اس عقل سے معلوم ہو ہی نہیں سکتی اور وہ یہ بات کر رہے ہیں، معلوم ہوا، یقیناً حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ اسی طرح «والاستحسان ونحوه ملحق بالقیاس» اسی طرح استحسان اور اس جیسی چیزیں جو ہیں، وہ ملی ہیں کس کے ساتھ؟ قیاس کے ساتھ ملائی گئی ہیں۔
تو حاصلِ، تو خلاصۂ بحث یہ ہوا کہ «والاصل الرابع القیاس» کے تحت شارح نے چار بحثیں ذکر کیں، میں نے بتلایا، پہلی بحث قیاس کے بارے میں ہے، تو اس بحث کے اندر آپ نے دیکھا کہ شارح نے ایک اعتراض ذکر کیا اور پھر اس کا جواب ذکر کیا، اعتراض یہ تھا کہ بھئی! قیاس کے ساتھ «المستنبط من هذه الأصول الثلاثة» یہ قید بڑھانی چاہیے تھی، ماتن نے نہیں بڑھائی، مناسب یہ تھا کہ بڑھا لیتے، بھئی! پھر جواب بھی ذکر کر دیا کہ بھئی! مصنف نے کیا کیا؟ شہرت پر ہی اکتفا کر لیا اور پھر آگے قیاس کی نظیریں ذکر کیں، بھئی! مثالیں ذکر کر دیں، وہ قیاس جو مستنبط ہوتا ہے کتاب اللہ سے، وہ قیاس جو مستنبط ہے سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اور وہ قیاس جو مستنبط ہے اجماعِ امت سے، یہ پہلی بحث تھی۔
دوسری بحث کے اندر، بھئی! ایک اعتراض کے دو جوابات ذکر کیے تھے اور ایک فائدہ ذکر کیا، اعتراض یہ تھا کہ اصول کہ اس عبارت کو اس طرز پر کیوں لائے، قیاس کو الگ کیوں ذکر کیا «الأصل الرابع القياس»؟ جی، تو اس کا جواب دیا تھا، بھئی! آپ کو بتلایا تھا کہ پہلے تین جو ہیں، قطعی ہیں اور قیاس ظنی ہے، اس لیے قیاس کو الگ ذکر کیا، دوسرا جواب یہ ذکر کیا تھا، بھئی! کہ قیاس جو ہے، اس کے بعض لوگ انکار کرنے والے ہیں، تو منکرینِ قیاس کا صراحتًا رد کرنے کے لیے کیا کیا؟ اس کو الگ ذکر کیا اور پھر ایک فائدہ ذکر کیا تھا کہ یہ جو «الرابع» کی قید لگائی شارح ماتن نے، اس سے یہ پتہ چل گیا کہ قیاس کا درجہ ان سب سے کم ہے اور قیاس کی ضرورت تب پڑتی ہے، جب ان تین کے اندر ہمیں مسئلہ نہ ملے، بھئی!
پھر اس کے بعد، بھئی! تیسری بحث کی تھی کہ بھئی! آپ ماتن نے ان کو اصول کہا، ان کا ہمیں اصول ہونا قبول نہیں، کیونکہ یہ بعض اعتبارات سے فروع بھی ہیں، تو اس کا جواب دیا تھا، بھئی! کہ فروع اصول یہ احکام کے اعتبار سے ہیں، اگر اور چیزوں کے اعتبار سے فروع بھی ہوں، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، بھئی! ہاں، احکام کے اعتبار سے تو یہ اصول ہی ہیں، پھر اسی بحث میں انھوں نے آپ کو یہ بھی بتلا دیا کہ کس چیز کے اعتبار سے یہ فروع ہیں، بھئی! سمجھ میں آیا؟ کتاب اللہ اور سنت جو ہے، وہ ایمان باللہ اور ایمان بالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی فرع ہے اور اجماع جو ہے، وہ داعی کی فرع ہے اور قیاس جو ہے، وہ ان تینوں کی فرع ہے، یہ بھی بتلایا تھا۔
پھر چوتھی اور آخری بحث کے اندر وجہِ حصر ذکر کی اور وجہِ حصر کے بعد اس پر ایک اعتراض اور اس کا جواب ذکر کیا کہ بھئی! آپ نے چار میں اصول بند کیے، چار نہیں، بلکہ چار سے زیادہ ہیں، یہ کچھ اور چیزیں بھی ہیں، وہ ذکر کیں، شارح نے بتلایا، بھئی! کہ بھئی! یہ اصول چار ہی ہیں اور یہ آگے جتنی چیزیں آپ نے ذکر کیں، یہ انہی میں سے کسی ایک میں داخل ہو جاتی ہیں، بھئی!
چلیے، بس مولانا «هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام».