سبق نمبر۔۶
والمصنف رحمه الله ذكر أحوال الأدلة في صدر الكتاب وأحوال الأحكام في آخره بعد الفراغ عنها. فقال، فقال اعلم أن أصول الشرع ثلاثة والأصول جمع اصل وهو ما يبتنى عليه غيره. والمراد بها هاهنا الأدلة. والشرع إن كان بمعنى الشارع فاللام فيه للعهد، أي الأدلة التي نصبها الشارع دليلاً.
گزشتہ سبق کے آخر میں آپ کو شارح نے بتلایا تھا کہ علم اصول فقہ کا موضوع مختار قول کے مطابق ادلہ اور احکام دونوں ہیں بھئی۔ ادلہ اس اعتبار سے کہ وہ مثبت ہیں اور احکام اس اعتبار سے کہ وہ مثبت ہیں بھئی۔
اب آپ کو بتلا رہے ہیں بھئی کہ یہ دونوں چیزیں ہیں اور آگے مصنف احوال ادلہ بیان کرنے لگے ہیں اور پھر بعد میں آخر میں کیا کریں گے جب ادلہ سے فارغ ہو جائیں گے تو اس کے بعد کسے بیان کریں گے؟ احکام کو بیان کریں گے بھئی۔ تو دونوں چیزیں بیان ہوں گی، یہ نہیں کہ صرف ادلہ یہاں بیان کریں گے، بلکہ شروع میں ادلہ بیان کریں گے اور اس کے بعد آخر میں احکام بیان ہوں گے۔
کہتے ہیں: والمصنف رحمه الله ذكر أحوال الأدلة في صدر الكتاب مصنف رحمہ اللہ نے ذکر کیے ہیں ادلہ کے احوال کتاب کے شروع میں وأحوال الأحكام في آخره اور احکام کے احوال کتاب کے آخر میں بعد الفراغ عنها ادلہ سے فارغ ہو جانے کے بعد۔ فقال تو مصنف فرماتے ہیں بھئی ادلہ کے احوال اب ذکر کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: اعلم أن أصول الشرع ثلاثة جان لے تو کہ اصول شرع تین ہیں بھئی۔ اصول شرع کتنے ہیں؟ تین ہیں بھئی۔
یہ متن تھا۔ آگے شرح آ رہی ہے بھئی۔ تو آگے جو شرح ہے الكتاب والسنة وإجماع الأمة سے پہلے تک اس شرح کے اندر دو بحثیں کریں گے اور پھر ایک اعتراض کا جواب دیں گے بھئی۔
پہلی بحث اصول کے متعلق کریں گے اور دوسری بحث لفظ شرع کے بارے میں کریں گے۔ متن میں کیا آیا؟ أصول الشرع. تو پہلی بحث کس کے بارے میں کریں گے؟ اصول کے بارے میں۔ دوسری بحث کریں گے شرع کے بارے میں، اور تیسرا جو ہے ایک اعتراض کا جواب ذکر کریں گے۔
تو پہلی بحث کرنے لگے ہیں اصول کے بارے میں۔ اصول کے صیغے کی تحقیق کر رہے ہیں، بتلا رہے ہیں: والأصول جمع اصل کہ اصول جو ہے یہ جمع ہے اصل کی۔ تو اس کا مفرد اصل آتا ہے، یہ جمع ہے اس کی۔
اصل کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: وهو ما يبتنى عليه غيره وہ چیز ہے جس پر دوسری چیز کی بنا ہوتی ہے بھئی۔ وہ چیز جس پر دوسری چیز کی بنا کی جائے، تعمیر کی جائے تو یہ چیز کیا کہلاتی ہے؟ اصل کہلاتی ہے بھئی، اصل۔ یعنی جسے بنیاد کہتے ہیں اردو میں۔
والمراد بها هاهنا الأدلة اور اس اصل سے یہاں کیا مراد ہے؟ ادلہ مراد ہیں بھئی، ادلہ بھئی۔ تو یہاں ادلہ کی بحث ہوگی اور ان پر بنیاد ہے کس کی؟ احکام کی بھئی۔
والشرع إن كان یہاں سے دوسری بحث شروع ہو رہی ہے شرع کے بارے میں بھئی۔
اوپر متن میں آیا بھئی أصول الشرع. اور شرع کا لغت میں معنی ہے اظہار بھئی، ظاہر کرنا۔ تو یہ کیا معنی ہوا بھئی أصول أن أصول الشرع کہ ظاہر کرنے کے ادلہ ثلاثة کتنے ہیں؟ تین بھئی۔
تو بتلائیں گے بھئی کہ یہ شرع مصدر ہے اور مصدر کبھی اسم فاعل کے معنی میں لے لیتے ہیں اور اس کو کبھی اسم مفعول کے معنی میں بھی لے لیتے ہیں، تو یہاں پر بھی شرع کو اسم فاعل کے معنی میں بھی لے سکتے ہیں اور اسم مفعول کے معنی میں بھی لے سکتے ہیں۔ تو شرع بمعنی اسم فاعل کے ہو تو کیا آئے گا اسم فاعل؟ شارع، شارع کے معنی میں ہوگا۔ اور اگر شرع اسم مفعول کے معنی میں ہو تو کیا اسم مفعول بنے گا؟ مشروع، تو شرع بمعنی مشروع کے ہوگا بھئی۔
پھر اس کے بعد یاد رکھیے یہ بھی آپ کو بتلائیں گے کہ اس میں الف لام کون سا پھر مراد لیں گے، تو الف لام کی قسمیں پہلے یاد رکھیے بھئی۔ یاد رکھیے الف لام دو قسم پر ہے: ایک الف لام اسمی ہے اور ایک الف لام حرفی ہے۔ الف لام اسمی وہ ہے جو اسم فاعل اور اسم مفعول پر داخل ہوتا ہے اور یہ دراصل اسم موصول ہے بھئی، جو الف لام کی صورت میں آیا ہے، لیکن ہے کیا؟ اسم موصول ہے بھئی، اسم، اسم ہے بھئی، حرف ہے ہی نہیں بھئی یہ، سمجھ میں آیا؟ اسی لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ الف لام اسمی کہتے ہیں بھئی، تو یہ اسم فاعل، اسم مفعول پر داخل ہوتا ہے۔
لیکن یہاں تو شرع نہ اسم فاعل ہے اور نہ اسم مفعول ہے بھئی، معلوم ہوا یہ الف لام اسمی نہیں، تو پھر کون سا الف لام ہوگا؟ الف لام حرفی۔ پھر الف لام حرفی یاد رکھیے چار قسم پر ہے۔
ایک الف لام جنسی ہے، ایک الف لام استغراقی ہے، ایک الف لام عہد خارجی ہے اور ایک الف لام عہد ذہنی ہے بھئی۔
تو یہ جو الف لام حرفی ہے، اس کو کسی لفظ کو معرفہ بنانے کے لیے لاتے ہیں اور اس کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ یہ تعبیر یاد رکھنا، اس الف لام حرفی کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے؟ کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔
پھر اشارہ یا تو کسی چیز کی جنس اور ماہیت کی طرف ہوگا، یعنی اس چیز کی حقیقت کی طرف اشارہ ہوگا، یا اس چیز کے افراد کی طرف اشارہ ہوگا۔ اگر اس چیز کی حقیقت کی طرف اشارہ ہو تو یہ الف لام جنسی کہلاتا ہے۔ اور اگر اس کے افراد کی طرف اشارہ ہو تو پھر تمام افراد کو اشارہ ہوگا یا بعض افراد کو؟ اگر تمام افراد کی طرف اشارہ ہو تو یہ الف لام استغراقی ہے۔ اگر بعض افراد کی طرف اشارہ ہے تو پھر وہ بعض متعین ہوں گے یا غیر متعین ہوں گے؟ اگر وہ بعض متعین ہیں تو یہ الف لام عہد خارجی کہلاتا ہے، اور اگر وہ بعض غیر متعین ہیں تو یہ الف لام عہد ذہنی کہلاتا ہے بھئی۔
تو یہ تو پتہ چل گیا کہ شرع کے اندر الف لام اسمی نہیں ہے، بلکہ کون سا ہے؟ الف لام حرفی ہے۔ اور حرفی کے ذریعے یا تو اشارہ جنس کی طرف ہوتا ہے یا تمام افراد کی طرف یا بعض متعین کی طرف یا بعض غیر متعین۔ تو یہاں کون سے، کس کی چیز کی طرف اشارہ ہے بھئی؟ دیکھیے، یہاں جنس کی طرف اشارہ، جنس اور ماہیت کی طرف اشارہ نہیں ہوتا بھئی۔
کیوں؟ کیونکہ أصول الشرع کس معنی میں ہم نے لے لیا؟ أصول الشارع، کس معنی میں؟ کیونکہ شرع کو کس معنی میں لیا؟ شارع کے معنی میں لیا۔ تو یعنی مراد یہ ہے، وہ اصول، وہ ادلہ جنہیں شارع نے قائم کیا ہو۔
تو وہ ادلہ جنہیں کس نے قائم کیا ہو؟ شارع نے قائم کیا ہو، تو یہاں پر الف لام جو ہے جنسی مراد نہیں لے سکتے اس لیے کہ کسی چیز کے کسی ذات کی ماہیت اور حقیقت ادلہ کو قائم نہیں کرتی، بلکہ فرد کیا کرتے ہیں ادلہ کو قائم کرتے ہیں۔ تو لہٰذا معلوم ہوا یہاں الف لام جنسی نہیں ہے۔ نیز الف لام استغراقی بھی نہیں، کیونکہ یہ ادلہ جو ہیں تمام شارعین نے قائم نہیں فرمائے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تمام شارعین نے قائم نہیں فرمائے، معلوم ہوا الف لام استغراقی بھی نہیں۔ اب کتنے رہ گئے؟ الف لام عہد خارجی اور الف لام عہد ذہنی۔ الف لام عہد ذہنی بھی نہیں، کیونکہ اس کے ذریعے تو اشارہ ہوتا ہے کسی فرد غیر متعین کی طرف، تو یہ ادلہ جو ہیں کسی شارع غیر متعین نے قائم نہیں فرمائے، بلکہ کس نے قائم فرمائے ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمائے ہیں بھئی۔
تو لہٰذا اس الف لام کے ذریعے ان کی طرف اشارہ ہوا، تو اور جو فرد متعین کی طرف جو جس الف لام کے ذریعے اشارہ ہو، وہ کیا کہلاتا ہے؟ عہد خارجی۔ معلوم ہوا یہ الف لام کون سا ہے؟ عہد خارجی کا ہے بھئی۔
جی، تو یہی بات کر رہے ہیں بھئی، اب وہ شرع کی بحث شروع ہو رہی ہے۔ والشرع إن كان بمعنى الشارع فاللام فيه للعهد پس شرع اگر شارع کے معنی میں ہو تو لام اس کے اندر کیا ہے؟ عہدی ہے، یعنی عہد خارجی ہے۔
اور معنی کیا ہوگا بھئی؟ أن أصول الشارع شارع کے ادلہ تین ہیں۔ کیا معنی شارع کے ادلہ؟ یعنی مراد یہ ہے أي الأدلة التي نصبها الشارع دليلاً، یعنی وہ ادلہ جنہیں شارع نے بطور دلیل کے نصب کیا ہے، بطور دلیل کے قائم کیا ہے، مقرر کیا ہے۔
وإن كان بمعنى المشروع اور اگر شرع مصدر کو کس معنی میں لے لیں؟ مشروع کے معنی میں لے لیں فاللام فيه للجنس تو لام اس میں کون سا ہوگا؟ جنس کا ہوگا، یعنی ادلہ احکام مشروعہ، أي أدلة الأحكام المشروعة، یعنی احکام مشروعہ کی جنس کے ادلہ، کیونکہ الف لام کے ذریعے کس کی طرف اشارہ ہے؟ جنس اور ماہیت کی طرف، تو احکام مشروعہ کی جنس کے ادلہ بھئی۔
افراد کے ادلہ نہیں، بلکہ جنس کے۔ بھئی الف لام جنسی کیوں مراد دیا؟ الف لام استغراقی یا عہدی ذہنی یا عہد خارجی کیوں نہیں مراد لیا؟
بھئی دیکھیے، احکام مشروعہ، احکام مشروعہ کے ادلہ بیان ہو رہے ہیں۔ اب وہ احکام مشروعہ کیا چند غیر متعین مراد ہیں؟ غیر متعین مراد نہیں، تو لہٰذا عہد ذہنی نہیں۔ بعض متعین احکام ان میں سے مراد ہیں؟ بعض متعین بھی مراد نہیں ہیں۔ تمام احکام شرعیہ، وہ بھی مراد نہیں لے سکتے اس لیے کیونکہ کچھ احکام ایسے ہیں جن کے لیے قرآن، سنت اور اجماع دلیل نہیں، بلکہ وہ ان کے لیے دلیل ہے، وہ ان کے لیے مثبت ہے۔ وہ ان کے لیے مثبت ہے۔
جیسے شریعت کا ایک حکم یہ بھی ہے کہ اللہ کی وحدانیت کا اقرار کرو۔
اور ایک حکم یہ بھی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا پیغمبر تسلیم کرو۔
یہ حکم ہے یا نہیں شریعت کا؟ ابتداء میں کیا پڑھا جاتا ہے؟ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کلمہ پڑھا جاتا ہے، اس کے اندر کس چیز کا اقرار کروایا گیا؟ توحید، اللہ کی وحدانیت کا اقرار کروایا گیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اقرار کروایا گیا۔ تو شریعت کا اولین حکم یہی ہے کہ اللہ کی وحدانیت کا اقرار کر لو، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اقرار کر لو۔
اس کو مانو گے تو قرآن و حدیث کو آگے پھر مانیں گے۔ تو یہ قرآن و حدیث اور اجماع کے لیے مثبت ہے۔ نہ کہ قرآن و حدیث اس کے لیے مثبت ہیں۔ کلمہ پڑھو گے تو پھر کتاب اللہ کو بھی ماننا پڑے گا، پھر اس کے بعد سنت رسول کو بھی ماننا پڑے گا، سمجھ میں آئی بات بھئی؟ جب اللہ کی وحدانیت کا اقرار کر لو گے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اقرار کر لو گے، تو پھر آگے آئے گا حکم کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جو کتاب لے کر آئے ہیں اس پر چلو، وہ اللہ کی کتاب ہے، اس کو تسلیم کرو۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو باقی احکام اس کے بعد آئیں گے۔ تو یہ جو اللہ کی وحدانیت کا حکم کو قبول کرنے کا حکم ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو قبول کرنے کا حکم ہے، یہ قرآن و حدیث کے لیے مثبت ہیں نہ کہ ان سے ثابت ہوگا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ سب سے مقدم ہے، تو یہ مثبت ہے ان کے لیے نہ کہ وہ اس کے لیے مثبت ہیں بھئی۔
صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ نہ کہ وہ اس کے لیے مثبت ہیں بھئی۔
تو اسی لیے جب نہ الف لام استغراقی لے سکتے ہیں، تمام احکام شرعیہ بھی مراد نہیں لے سکتے، بعض متعین یا بعض غیر متعین بھی مراد نہیں ہے، تو پھر آخری صورت کیا رہ گئی؟ کیا مراد ہے اس سے؟ جنس، احکام شرعیہ کی جنس مراد ہے، احکام مشروعہ۔ تو یہ اسی لیے کہا فاللام فيه للجنس، اس کے اندر لام کون سا ہے؟ جنس کے لیے ہے، أي أدلة الأحكام المشروعة، وہ احکام جو مشروع ہیں، ان کی جنس کے ادلہ۔
والأولى أن يكون الشرع اسماً للدين فلا يحتاج إلى التأويل. اور شارح فرما رہے ہیں کہ اولیٰ یہ ہے کہ شرع کو نہ بمعنی شارع کے لیں، نہ بمعنی مشروع کے لیں، بلکہ کس معنی میں لینا بہتر ہے؟ شرع کو کہ یہ شرع کو نام بنا دیں اس دین کے لیے جس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے بھئی۔
شرع بمعنی دین کے ہو گیا اور الف لام کے ذریعے اس متعین دین کی طرف کیا ہوا؟ اشارہ ہو گیا۔ تو شرع کو مصدر بناؤ ہی نہ، بلکہ اس کو کیا بنا دو؟ اس دین کے لیے نام بنا دو بھئی، نام قرار دے دو۔ تو اب بات خوب واضح ہو جائے گی اور اب کسی تاویل کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ پہلے آپ نے شرع کو کس معنی میں لے لیا؟ شارع کے معنی میں یا مشروع کے معنی میں، اب کسی تاویل کی ضرورت نہیں، شرع بول کر کیا مراد ہے؟ دین اسلام مراد ہے، تو کیا معنی ہوا؟ دین اسلام کے ادلہ تین ہیں۔
یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو کہتے ہیں: والأولى أن يكون الشرع اسماً للدين فلا يحتاج إلى التأويل اولیٰ یہ ہے کہ شرع جو ہے وہ نام ہو اس دین کا فلا يحتاج إلى التأويل تو پھر اس صورت میں یہ محتاج نہیں ہے تاویل کا، اس میں شارع یا مشروع کی تاویل کی ضرورت نہیں۔
جی، یہ دوسری بحث تھی۔ اب بھئی وہ اعتراض کا جواب دینے لگے ہیں۔ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ ماتن نے متن میں أصول الشرع فرمایا، أصول الفقه کیوں نہیں فرمایا بھئی؟
تو جواب دینے لگے ہیں کہ بھئی اصول فقہ اگر فرما دیتے تو اس سے یہ پتہ چلتا کہ یہ فقہ کے ادلہ ہیں۔
کس کے ادلہ ہیں؟ فقہ، یعنی وہ علم جس کا تعلق بندے کے اعمال کے ساتھ ہے، افعال کے ساتھ ہے، اس کے ادلہ ہیں، حالانکہ یہ کتاب اللہ اور سنت وغیرہ صرف اعمال کے ادلہ نہیں ہیں، بلکہ یہ تو عقائد کے بھی ادلہ یہی ہیں بھئی، عقائد کا پتہ بھی انہی سے چلتا ہے اور دین نام ہے عمل اور عقیدے دونوں کا، تو عمل کے لیے جو دلیلیں ہیں وہ بھی یہی چیز، عقیدے کے لیے جو دلیلیں ہیں وہ بھی یہی چیزیں ہیں۔ تو اگر أصول الفقه فرما دیتے تو اس بات کا پتہ نہ چلتا کہ یہ عقیدے کے بھی ادلہ ہیں، تو اس کو شامل کرنے کے لیے کیا لفظ استعمال فرمایا؟ الشرع کا لفظ استعمال فرمایا بھئی۔ تو یہ شرع کہہ کر بتلا دیا، بھئی علم عقائد کا جو علم ہے اسے علم کلام کہتے ہیں جو انشاءاللہ آپ آگے جا کر پڑھیں گے بھئی۔
تو جیسے یہ علم فقہ کے ادلہ ہیں، اسی طرح علم کلام کے بھی ادلہ ہیں، تو اگر أصول الفقه کہہ دیتے تو اس سے تو صرف یہ پتہ چلتا کہ یہ کس کے ادلہ ہیں؟ فقہ کے، یہ پتہ نہ چلتا کہ یہ علم کلام کے بھی ادلہ ہیں۔ لیکن جب ایسا لفظ استعمال فرما دیا جو عقیدے اور عمل دونوں کو شامل ہے، تو معلوم ہوا جیسے یہ عمل کے دلائل ہیں، اسی طرح عقیدے کے بھی دلائل ہیں۔
وإنما لم يقل أصول الفقه ماتن نے اصول فقہ نہیں فرمایا لأن هذه الأصول كما أنها أصول الفقه فكذلك هي أصول الكلام أيضاً اس لیے کہ یہ اصول جیسے یہ فقہ کے اصول ہیں، اسی طرح یہ کلام کے بھی اصول ہیں۔
الكتاب والسنة وإجماع الأمة
اور وہ تین اصول شرع کون کون سے ہیں؟ کتاب ہے، سنت ہے اور اجماع امت ہے بھئی۔
آگے جو شرح آ رہی ہے اس کے تحت، یاد رکھیے اس میں صرف دو باتیں ذکر کریں گے۔ ایک ترکیب بتلائیں گے کہ یہ الكتاب والسنة وإجماع الأمة ترکیب میں کیا واقع ہو رہے ہیں، اور پھر ان کی مراد بتلائیں گے کہ ان سے مراد کیا ہے؟ الکتاب سے پوری کتاب مراد ہے یا کچھ حصہ مراد ہے؟ السنہ سے پوری احادیث مراد ہیں یا کچھ احادیث مراد ہیں بھئی؟ تو وہ مراد بتلائیں گے۔
تو پہلے ترکیب کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: بدل من ثلاثة یہ جو الكتاب والسنة وإجماع الأمة ہے، یہ بدل ہے کس سے؟ ثلاثة سے جو پیچھے ثلاثة آیا تھا بھئی۔
اور آپ جانتے ہیں بھئی کہ مبدل منہ اور بدل کا اعراب ایک ہوا کرتا
یہ ایک ترکیب، دوسری، کہتے ہیں: «أَوْ بَيَانٌ لَهُ»، یا یہ تین کیا ہے؟ اس «ثَلَاثَة» کے لیے بیان ہیں یعنی عطفِ بیان ہیں، اور اپ جانتے ہیں بھئی، کہ معطوف علیہ اور عطفِ بیان کا اعراب بھی ایک ہوتا ہے، تو «ثَلَاثَة» مرفوع ہے، تو یہ تینوں بھی کیا ہیں؟ مرفوع ہوں گے بھئی۔
یہاں تک بات سمجھ میں اگئی؟
لیکن یہاں ایک، اعتراض ہوتا ہے بھئی کہ شارح نے، کہ «اَلْكِتَابُ وَالسُّنَّةُ وَإِجْمَاعُ الْأُمَّةِ» کو عطفِ بیان بنایا کس کے لیے بھئی؟ «ثَلَاثَةٌ» کے لیے۔ حالانکہ علمائے نحو فرماتے ہیں کہ عطفِ بیان کے اندر دونوں کا معرفہ ہونا ضروری ہے، پہلے کا، پہلا بھی معرفہ ہو اور دوسرا بھی معرفہ، اور یہاں پر «ثَلَاثَة» کیا ہے؟ نکرہ ہے بھئی، «ثَلَاثَةٌ» نکرہ ہے بھئی۔
سمجھ میں ایا بھئی؟ علامہ سیوطی ذکر فرماتے ہیں، نحو کی کتاب ہے ان کی بھئی، 'الاشباہ والنظائر'، اس کے اندر انہوں نے لکھا ہے کہ عطفِ بیان کے اندر دونوں کا معرفہ ہونا ضروری ہے۔
جی، یہ ترکیب بتلا دی۔ اب دوسری بحث کرنے لگے ہیں کہ مراد کیا ہے؟ 'الکتاب' سے کیا مراد ہے؟ بتلا رہے ہیں: «وَالْمُرَادُ مِنَ الْكِتَابِ بَعْضُ الْكِتَابِ»، اور 'الکتاب' سے بعضِ کتاب مراد ہے، «وَهُوَ مِقْدَارُ خَمْسِ مِائَةِ آيَةٍ»، اور وہ پانچ سو ایات کی مقدار ہے بھئی۔ سارا قران نہیں مراد 'الکتاب' سے بلکہ کیا، کتنی مقدار مراد ہے اس کی؟ پانچ سو ایات بھئی۔
جی کیوں بھئی، یہ پانچ سو ایات کیوں مراد ہیں؟ کہتے ہیں: «لِأَنَّهُ أَصْلُ الشَّرْعِ وَالْبَاقِي قِصَصٌ وَنَحْوُهَا»، اس لیے کہ یہ اصلِ شرع ہے، یہ شرع کی دلیل ہے، اس کے اندر یہ پانچ سو ایات تقریباً ہیں جن کے اندر شرعی احکام بیان ہوئے ہیں، جبکہ باقی کیا ہے قران کے اندر اور بھی چیزیں ہیں بھئی احکام کے علاوہ، قصے ہیں بھئی مختلف انبیاء وغیرہ کے، اور اسی طرح بھئی مثالیں ہیں ذکر کی گئی ہیں، اور اسی طرح ترغیب ہے بھئی، جنت کا ذکر اتا ہے، ترہیب ہے مولانا، جہنم کا ذکر اتا ہے، تو بہت سی چیزیں اتی ہیں بھئی۔ تو جو احکام جن ایات میں ہیں، ان کی تعداد تقریباً کتنی ہے؟ پانچ سو۔
اچھا بھئی، «وَهُوَ مِقْدَارُ»، بھئی اپ کو کتابت کی بھی ایک بات بتلا دیں، «وَهُوَ مِقْدَارُ خَمْسِ مِائَةِ»، بھئی «خَمْسَ» کو الگ لکھا، «مِائَة» کو الگ لکھا، حالانکہ کتابت کے اندر ان کو جوڑ کر لکھا جاتا ہے۔ سمجھ میں ایا؟ «ثَلَاثَ»، «أَرْبَعَ»، «خَمْسَ»، «سِتَّ» وغیرہ ان کو جب «مِائَة» کے ساتھ لکھتے ہیں تو «خَمْسَ» کے 'ث' کو کیا کریں گے؟ 'م' کے ساتھ جوڑ کر لکھیں گے۔ تو یہاں جڑا ہونا چاہیے تھا، چلیے۔
«وَهَكَذَا الْمُرَادُ»، اب اگے بتلا رہے ہیں سنت سے، سنت یعنی احادیث، تو کیا تمام احادیث مراد ہیں یا بعض بھئی؟ کہتے ہیں بھئی بعض احادیث مراد ہیں، «وَهَكَذَا الْمُرَادُ مِنَ السُّنَّةِ بَعْضُهَا»، اور اسی طرح سنت سے بعضِ احادیث، بعضِ سنت مراد ہے، «وَهُوَ مِقْدَارُ ثَلَاثَةِ آلَافٍ عَلَى مَا قَالُوا»، اور وہ تین ہزار کی مقدار ہے بناء بر اس کے جو علماء نے فرمایا ہے، یعنی علماء نے فرمایا کہ کتنی احادیث ہیں جو احکام سے، احکامِ شرعیہ سے متعلق ہیں؟ تین ہزار بھئی۔
«وَالْمُرَادُ»، اچھا بھئی، 'اجماع الامت' ایا تھا متن میں، اس سے کیا مراد ہے؟ کیا ہر امت کا اجماع مراد ہے؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، ہر امت کا اجماع مراد نہیں ہے بلکہ اس امتِ محمدیہ علی صاحبہا الف الف تحیۃ مراد ہے بھئی۔ تو 'الامت'، معلوم ہوا 'الامت' میں الف لام عہدِ خارجی ہے، اور کس کے لیے، کس کی طرف اشارہ ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی طرف۔ تو کہتے ہیں: «وَالْمُرَادُ بِإِجْمَاعِ الْأُمَّةِ»، اور اجماعِ امت سے مراد جو ہے، «إِجْمَاعُ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا اجماع مراد ہے۔
بھئی اسی امت کا اجماع کیوں مراد ہے، کسی اور امت کا اجماع کیوں نہیں مراد؟ تو یاد رکھیے اس امت کا اجماع جو ہے وہ حجتِ شرعی ہے، کسی اور امت کا اجماع حجتِ شرعی نہیں، اور اس امت کا اس لیے کہ «لِشَرَافَتِهَا وَكَرَامَتِهَا»، اس کے بلند مقام، بلندیِ درجہ اور عزت کی وجہ سے بھئی، شرافت اور کرامت کا ایک معنی ہے بھئی، اس کے معزز ہونے کی وجہ سے، معزز ہونے کی وجہ سے۔
تو اس امت کے مجتہدین کا اجماع کیا ہے؟ معتبر ہے۔ اب بعض علماء فرماتے ہیں بھئی کہ اجماع صرف اہل مدینہ کا معتبر ہے، بعض فقہاء فرماتے ہیں، بعض فقہاء نے ذکر کیا کہ صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد کا اجماع معتبر ہے، اور بعض نے ذکر کیا کہ صرف صحابہ کا اجماع کیا ہے؟ معتبر ہے، جبکہ شارح بتلا رہے ہیں کہ بھئی بس اس امت کے مجتہدین کا اجماع مراد ہے۔ صرف اس امت کے مجتہدین کا اجماع مراد ہے، «سَوَاءٌ كَانَ إِجْمَاعَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ»، برابر ہے چاہے وہ اہل مدینہ کا اجماع ہو، «أَوْ إِجْمَاعَ عِتْرَةِ الرَّسُولِ»، یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد کا اجماع ہو، «أَوْ إِجْمَاعَ الصَّحَابَةِ»، یا صحابہ کا اجماع ہو، «أَوْ نَحْوَهُمْ»، یا صحابہ جیسے اور بھئی جیسے تابعین ہیں تبع تابعین، چاہے ان کا اجماع ہو، لیکن بہرحال اسی امت کا اجماع معتبر ہے، کسی اور امت کا اجماع معتبر نہیں ہے، تو جو بھی اس سے مراد لے لیا جائے۔
«وَالْأَصْلُ الرَّابِعُ الْقِيَاسُ»، اور اصلِ رابع بھئی، چوتھی دلیل جو ہے وہ قیاس ہے بھئی، احکامِ شرعیہ کے لیے چوتھی دلیل کیا ہے؟ قیاس ہے بھئی۔
اب اس کے تحت شارح نے بڑی لمبی تشریح کی ہے تقریباً ڈیڑھ صفحہ یا اس سے بھی زائد بھئی۔ یاد رکھیے، اس شرح کے اندر چار بحثیں ہوں گی بھئی، شرح کے اندر کتنی بحثیں ہوں گی؟ چار بحثیں ہوں گی، پہلی بحث 'القیاس' کے بارے میں کریں گے، قیاس کے بارے میں۔ دوسری بحث بھئی میری کتاب میں اگلے صفحے پر ارہا ہے، اپ کے اگر اسی صفحے پر ہے تو چھ، سات سطروں کے بعد ہوگا: «وَإِنَّمَا أَوْرَدَ بِهَذَا النَّمَقِ»، یہاں سے دوسری بحث کریں گے کہ ماتن نے 'والاصل الرابع القیاس' یہ قیاس کو الگ کرکے کیوں ذکر فرمایا، انہی کے ساتھ کیوں نہیں ذکر فرمایا، اس کے بارے میں بحث کریں گے، پھر اس سے اگے چار، پانچ سطروں کے بعد ہے: «ثُمَّ لَا بَأْسَ»، یہاں سے تیسری بحث ہوگی بھئی کہ ان کو اپ نے اصول کہا، ان کو اصول کہنا صحیح نہیں، اور پھر چوتھی بحث جو ہے، اسی سے ایک، دو سطریں اگے ہے: «وَوَجْهُ الْحَصْرِ»، یہاں سے چوتھی بحث ہے وجہِ حصر کے بارے میں۔ تو اس شرح کے کتنے حصے ہوئے؟ چار حصے، پہلی بحث قیاس کے بارے میں، دوسری اس عبارت جو قیاس کے لیے عبارت الگ طور پر لائے اس کے بارے میں ہے، پھر اس کے بعد ان کو اصول کہا اس کے بارے میں بحث، اور پھر وجہِ حصر کے بارے میں چار بحثیں ہیں بھئی۔
تو کہتے ہیں بھئی پہلی بحث قیاس کے بارے میں کرنے لگے ہیں، پہلے عبارت حل کر رہے ہیں، کہتے ہیں: «وَالْأَصْلُ الرَّابِعُ بَعْدَ الثَّلَاثَةِ»، چوتھی اصل «بَعْدَ الثَّلَاثَةِ»، تین کے بعد بھئی، تین ادلہ کے بعد چوتھی دلیل «لِلْأَحْكَامِ الشَّرْعِيَّةِ»، کس کے لیے؟ احکامِ شرعیہ کے لیے، «هُوَ الْقِيَاسُ»، وہ کیا ہے؟ قیاس، کون سا قیاس؟ اگے صفت بھی لا رہے ہیں، «هُوَ الْقِيَاسُ الْمُسْتَنْبَطُ مِنْ هَذِهِ الْأُصُولِ الثَّلَاثَةِ»، وہ قیاس جو مستنبط ہو، جو جسے اخذ کیا جائے، جس کا استخراج کیا جائے، استدلال، «مِنْ هَذِهِ الْأُصُولِ الثَّلَاثَةِ»، انہی تین ادلہ سے بھئی۔ یعنی وہ قیاس مراد ہے جو ماخوذ ہو کتاب اللہ، سنتِ رسول اور اجماعِ امت سے بھئی، باقی قیاس نہیں بھئی۔
تو ماتن نے متن میں یہ قید نہیں بڑھائی تھی کہ «الْمُسْتَنْبَطُ مِنْ هَذِهِ الْأُصُولِ الثَّلَاثَةِ»، لیکن شارح نے کیا کیا؟ شرح کے اندر یہ قید بڑھا دی کہ یہ قید یہاں ملحوظ ہے بھئی، یہ قید یہاں ملحوظ ہے۔
چنانچہ اگے ذکر کر رہے ہیں کہ بھئی ماتن کے لیے بھی مناسب یہ تھا کہ انہیں بھی کیا کرنا چاہیے تھا؟ یہ قید بڑھانی چاہیے تھی، قیاس کو اس قید کے ساتھ مقید کرنا چاہیے تھا، جیسے کہ اور علماء نے کیا ہے تاکہ قیاس کی باقی قسمیں خارج ہو جائیں، اس لیے کہ یہاں کون سا قیاس مراد ہے؟ قیاسِ شرعی، اور اسی طرح ایک قیاسِ شبہی ہے اور قیاسِ عقلی ہے، وہ مراد نہیں ہے، تو اور قیاسِ شرعی کو داخل کرنے کے لیے اور باقیوں کو، تو صرف تاکہ قیاسِ شرعی داخل رہے اور باقی خارج ہو جائیں، اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ یہ قید بڑھا دیتے، لیکن پھر اگے جواب بھی دیں گے کہ بھئی یہ اصولِ فقہ کی کتاب ہم پڑھ رہے ہیں، اور اصولِ فقہ کے اندر کون سا قیاس مراد ہوتا ہے؟ قیاسِ شرعی ہی مراد ہوتا ہے، قیاسِ شبہی اور قیاسِ منطقی یا قیاسِ عقلی مراد نہیں ہوتا، تو یہ بات مشہور و معروف ہے، سب کو علم ہے، تو اسی شہرت پر مصنف نے اکتفاء کر لیا ہے کہ سب کو پتہ ہے، تو لہذا اس قید کو ذکر نہیں کیا بھئی۔
کہتے ہیں: «وَكَانَ يَنَبَغِي أَنْ يُقَيِّدَهُ بِهَذَا الْقَيْدِ»، اور مناسب تھا ماتن کے لیے کہ «أَنْ يُقَيِّدَهُ بِهَذَا الْقَيْدِ»، کہ قیاس کو مقید کر دیتے اس قید کے ساتھ، کون سی قید بھئی؟ «الْمُسْتَنْبَطُ مِنْ هَذِهِ الْأُصُولِ الثَّلَاثَةِ»، «كَمَا قَيَّدَهُ فَخْرُ الْإِسْلَامِ وَغَيْرُهُ»، جیسے کہ اس کو مقید کیا ہے علامہ فخر الاسلام اور ان کے علاوہ علماء نے، «لِيَخْرُجَ الْقِيَاسُ الشَّبَهِيُّ وَالْعَقْلِيُّ»، تاکہ نکل جائے اس سے قیاسِ شبہی اور قیاسِ عقلی، اور صرف کون سا قیاس باقی رہ جائے؟ قیاسِ شرعی بھئی۔
قیاسِ شبہی اس کو کہتے ہیں بھئی کہ جس میں مشابہت کی بناء پر قیاس کیا جائے، بس صورت اس جیسی ہے تو قیاس کر لیا، جیسے امام مالک رحمہ اللہ کی طرف بعض علماء منسوب کرتے ہیں یہ بات کہ ان کا قول وہ قیاس کرتے ہیں یہ بھئی، وہ فرماتے ہیں کہ نماز کے اندر، جی نماز کے اندر بھئی، کہ نماز کے اندر قعدہ اولیٰ جو ہے وہ فرض ہے کیونکہ یہ قعدہ اولیٰ مشابہ ہے قعدہ ثانیہ کی طرح، قعدہ اولیٰ بھئی جو التحیات کے لیے ہم بیٹھتے ہیں اس کو قعدہ کہتے ہیں، تو قعدہ اولیٰ جو پہلا قعدہ ہے وہ مشابہ ہے کس کے ساتھ؟ قعدہ ثانیہ کے ساتھ، اور قعدہ ثانیہ تو فرض ہے، معلوم ہوا قعدہ اولیٰ بھی کیا ہوگا؟ فرض ہے۔ تو یہ قیاس کیا، صرف کس بناء پر؟ کیونکہ یہاں صورتوں میں مشابہت، قعدہ اولیٰ بھی کس کی طرح ہے؟ قعدہ ثانیہ کی طرح، ایک جیسی صورت ہے دونوں کی، تو یہ قیاسِ شبہی ہے بھئی، اس کو خارج کر دیا یہ قید لگا کر۔
لیکن اس قول کی نسبت کہتے ہیں امام مالک رحمہ اللہ کی طرف کرنا درست نہیں ہے اس لیے کہ ان کا یہ مذہب نہیں ہے بھئی، بلکہ ان کے نزدیک قعدہ اولیٰ سنت ہے بھئی، تو جب یہ ان کا مذہب ہی نہیں ہے تو ویسے اس قول کی ان کی طرف نسبت کرنا صحیح نہیں، یہ غلطی سے کسی سے ہوا ہے اور پھر اسی طرح چلا ایا کتب میں۔
دوسرا قیاسِ عقلی ہے بھئی، تو اسے قیاسِ منطقی بھی کہتے ہیں بھئی، جس میں اپ صغریٰ، کبریٰ ملاتے ہیں اور نتیجہ نکالتے ہیں بھئی۔ جیسے صغریٰ بناتے ہیں اپ بھئی: «هَذَا الْجِدَارُ يَنْتَشِرُ مِنْهُ التُّرَابُ»، یہ دیوار جو ہے اس سے مٹی اڑتی ہے، مٹی گرتی ہے، «وَكُلُّ جِدَارٍ يَنْتَشِرُ مِنْهُ التُّرَابُ فَهُوَ مُنْهَدِمٌ»، اور ہر وہ دیوار جس سے مٹی اڑتی ہو وہ کیا ہوتی ہے؟ وہ گرنے والی ہے، وہ منہدم ہو جائے گی، ایک وقت ائے گا چاہے جب بھی ائے لیکن ایک وقت ائے گا، وہ کیا ہو جائے گی؟ گر جائے گی، تو نتیجہ کیا نکلا؟ «هَذَا الْجِدَارُ مُنْهَدِمٌ»، یہ دیوار گرنے والی ہے۔ سمجھ میں ایا بھئی؟
یا اس سے اسان بنا لیں بھئی، «اَلْعَالَمُ مُتَغَيِّرٌ»، عالم کیا ہے؟ متغیر ہے، اس میں یعنی اس میں تبدیلیاںاتی رہتی ہیں بھئی، اپ دیکھتے ہیں بھئی، «وَكُلُّ مُتَغَيِّرٍ حَادِثٌ»، اور کبریٰ کیا ہے کہ ہر متغیر حادث ہے، قدیم نہیں بھئی، نتیجہ کیا نکلا؟ «اَلْعَالَمُ حَادِثٌ»، کہ یہ عالم بھی حادث ہے، قدیم نہیں بھئی۔ تو یہ قیاسِ منطقی اور قیاسِ عقلی۔
تو جب یہ قید بڑھا دی، تو یہ قیاسِ شبہی اور قیاسِ عقلی کیا ہو گئے؟ نکل گئے، جی: «وَلَكِنَّهُ اكْتَفَى بِالشُّهْرَةِ»، اچھا لیکن ماتن نے یہ قید نہیں بڑھائی، انہوں نے کیا کیا؟ شہرت پر ایک اکتفاء کر لیا کہ یہ بات مشہور ہے اس لیے ذکر نہیں فرمایا۔
«فَنَظِيرُ الْقِيَاسِ الْمُسْتَنْبَطِ مِنَ الْكِتَابِ»، اب قیاس کے بارے میں انہوں نے اپ کو بتلایا کہ قیاس کون سا قیاس معتبر ہے بھئی؟ قیاسِ شرعی بھئی، وہ کسے کہتے ہیں؟ جو مستنبط ہو انہی اصولِ ثلاثہ سے، یعنی وہ قیاس یا تو مستنبط ہوگا یعنی ماخوذ ہوگا کتاب اللہ سے، یا کہاں سے ماخوذ ہوگا؟ سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے، یا کس سے؟ اجماعِ امت سے، یعنی اس کی علت کا پتہ یا تو کتاب اللہ سے چلے گا یا سنتِ رسول سے یا اجماعِ امت سے پتہ چلے گا بھئی، تو ان تین سے مستنبط ہوگا قیاس بھئی، تو اب تینوں کی ایک ایک مثال بھی ذکر کر رہے ہیں کہ وہ قیاس جو مستنبط ہو کتاب اللہ سے اس کی مثال یہ ہے، وہ قیاس جو مستنبط ہو حدیث سے اس کی مثال یہ ہے، اور وہ قیاس جو مستنبط ہو اجماعِ امت سے اس کی مثال یہ ہے، تینوں کی مثال بھی ذکر کر رہے ہیں۔
تو کہتے ہیں: «فَنَظِيرُ الْقِيَاسِ الْمُسْتَنْبَطِ مِنَ الْكِتَابِ»، پس مثال اس قیاس کی جو مستنبط ہے، ماخوذ ہے کتاب اللہ سے، «قِيَاسُ حُرْمَةِ اللِّوَاطَةِ عَلَى حُرْمَةِ الْوَطْءِ فِي حَالَةِ الْحَيْضِ»، وہ قیاس، «قِيَاسُ حُرْمَةِ اللِّوَاطَةِ عَلَى حُرْمَةِ الْوَطْءِ فِي حَالَةِ الْحَيْضِ»، «بِعِلَّةِ الْأَذَى الْمُسْتَفَادَةِ مِنْ قَوْلِهِ تَعَالَى وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ»، اچھا بھئی دیکھیے، اللہ تعالی قران میں فرماتے ہیں: «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ»، اور اے پیغمبر! یہ لوگ اپ سے پوچھتے ہیں حیض کے بارے میں، «قُلْ هُوَ أَذًى»، اپ فرما دیجیے کہ وہ حیض جو ہے وہ گندگی ہے، «فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ»، پس تم اپنی عورتوں سے الگ رہو حالتِ حیض میں، «وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ»، اور ان کے قریب نہ جاؤ یعنی ان سے صحبت نہ کرو، «حَتَّى يَطْهُرْنَ»، یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائیں۔
اچھا تو قران کی یہ جو ایت ائی بھئی، اس کے اندر اللہ فرما رہے ہیں «وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ»، تم ان کے قریب نہ جاؤ یعنی صحبت نہ کرو کس حالت میں؟ حالتِ حیض میں، معلوم ہوا حالتِ حیض میں وطی حرام ہے، کیا پتہ چلا اس سے؟ «وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ» سے کیا پتہ چلا کہ حالتِ حیض میں وطی حرام ہے، اور اس کی علت کیا ہے؟ گندگی ہے، اور اس علت کا پتہ بھی کس سے چلا؟ قران سے بھئی، کتاب اللہ سے۔ تو اب اسی حالتِ حیض میں جو یہ وطی حرام ہے، اسی پر ہم قیاس کرتے ہیں حرمتِ لواطت کو بھی بھئی، کس کو قیاس کرتے ہیں؟ حرمتِ لواطت کو بھی، کہ لواطت بھی حرام ہے جیسے حالتِ حیض میں وطی کیا تھی؟ حرام تھی۔ کیوں؟ وجہ یہ کہ جو علت حالتِ حیض میں وطی کے اندر پائی جا رہی تھی، وہی علت کس کے اندر ہے؟ لواطت میں بھی پائی جا رہی ہے، حالتِ حیض میں وطی کرنا حرام تھا کس وجہ سے؟ گندگی کی وجہ سے، اور یہی علت کس کے اندر پائی جا رہی ہے؟ لواطت کے اندر بھی پائی جا رہی ہے، لہذا لواطت پر بھی وہی حکم لگا دیں گے جو حالتِ حیض میں وطی کا تھا بھئی، حالتِ حیض میں وطی کے اندر بھئی، محلِ وطی میں کیا ہے؟ گندگی، تو لواطت کے اندر بھی محلِ لواطت میں کیا ہے؟ گندگی، اور اس کا حکم کیا تھا؟ حالتِ حیض میں وطی کا حکم کیا تھا؟ حرام ہونا، اور وہی، اور علت کیا تھی؟ گندگی، وہی علت یہاں بھی پائی گئی تو وہی حکم یہاں بھی لواطت میں بھی ا جائے گا، لواطت بھی کیا ہے؟ حرام بھئی۔
بات سب کو سمجھ میں اگئی بھئی؟
تو کہتے ہیں ونظیر القیاس المستنبط من الکتاب، پس وہ قیاس جو مستنبط ہو کتاب اللہ سے، اس کی مثال قیاس حرمۃ اللواطۃ، وہ حرمتِ لواطت کو قیاس کرنا ہے علی حرمۃ الوطء فی حالۃ الحیض، حرمتِ وطء حالتِ حیض میں حرمتِ وطء پر قیاس کرنا ہے حرمتِ لواطت کو بعلۃ الأذی، کس علت کی وجہ سے؟ گندگی کی علت کی وجہ سے، المستفادۃ۔ بھئی المستفادۃ، حرمۃ الوطء کی صفت ہے، علت الأذی کی صفت نہیں، کیوں؟ کیونکہ مستفاد کا معنی ہے حاصل ہونا۔
تو دیکھیے اللہ کا آگے المستفادۃ من قولہ تعالیٰ، اللہ کے اس قول سے جو حاصل ہو رہی ہے ولا تقربوہن، تم ان کے قریب نہ جاؤ یعنی ان سے صحبت نہ کرو، تو ولا تقربوہن سے کیا پتہ چلا؟ کہ وطء کیا ہے؟ حرام۔ تو یہ اس قول سے، اللہ کے اس قول سے مستفاد ہو رہی ہے حرمتِ وطء، تو لہٰذا المستفادۃ کس کی صفت ہوئی؟ حرمتِ وطء کی صفت ہوئی۔
تو کہتے ہیں ولا تقربوہن حتى یطہرن، اور ان کے قریب نہ جاؤ یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائیں۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اس پر اشکال ہوتا ہے بھئی کہ قیاس جو ہے، قیاس آتا ہے اظہارِ حکم کے لیے۔ ایک حکم پہلے ظاہر نہیں تھا، قیاس کے ذریعے اسے کیا کیا جاتا ہے؟ ظاہر کیا جاتا ہے۔
تو یہاں تو حکم پہلے سے ہی ظاہر تھا، اس لیے کہ قرآن میں حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کا ذکر کئی جگہ آتا ہے اور وہاں سے پتہ چل جاتا ہے کہ یہ لواطت کیا ہے؟ حرام ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ کیا فرماتے ہیں: أئنکم لتأتون الرجال شہوۃ، کہ کیا تم مردوں کے پاس آتے ہو شہوت پورا کرنے کے لیے؟ تو یعنی کہ ایسا، یہ کام تمہیں نہیں کرنا چاہیے، استفہامِ انکاری ہے بھئی۔ تو کئی آیات ہیں جن سے پتہ چلتا ہے لواطت کے حرام ہونے کا۔ تو لواطت کی، کے حرام ہونے کا حکم تو پہلے ہی ظاہر ہے۔
تو پھر قیاس تو آتا ہے اظہارِ حکم کے لیے، مقصد ہی کیا ہے؟ حکم کا ظاہر کرنا، جب حکم پہلے ہی ظاہر ہے تو قیاس کی ضرورت ہے؟ تو قیاس کی ضرورت ہی نہیں، تو پھر اس کو آپ نے کیسے قیاس کی مثال کے طور پر ذکر کر دیا؟ یہاں تو قیاس کی حاجت ہی نہیں۔ تو بعضوں نے پھر جواب دیا کہ بھئی وہاں مردوں کے ساتھ لواطت کی حرمت کا پتہ چلا، عورتوں کے ساتھ لواطت کی حرمت کا پتہ نہیں۔ لہٰذا یہ اس، یہ جو مثال ذکر کی، اس کے ذریعے عورتوں کے ساتھ لواطت کی حرمت کا پتہ چل گیا، تو یہاں اظہارِ حکم ہوا اس پر پھر بعضوں نے کہا نہیں بھئی، عورت کے ساتھ لواطت کی حرمت کا پتہ بھی احادیث سے چل جاتا ہے۔
کیونکہ حدیث میں روایات میں آتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف رحمت کی نظر نہیں فرماتے جو اپنی بیوی کے ساتھ لواطت کرے بھئی۔ اللہ اس کی طرف رحمت کی نظر نہیں فرماتے بھئی۔ تو دیکھیے اس حدیث سے کیا پتہ چل گیا؟ معلوم ہوا عورت کے ساتھ بھی لواطت حرام ہے۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟
تو معلوم ہوا لواطت چاہے مرد کے ساتھ ہو یا عورت کے ساتھ ہو، یہ حکم پہلے نص کے ذریعے پہلے ہی معلوم ہو چکا ہے، لہٰذا یہاں قیاس کی حاجت ہی نہیں۔ تو اس، یہ جو انہوں نے متن، شرح کے اندر ذکر کیا، اس کو انہوں نے قیاس کہا، حالانکہ قیاس تو آتا ہے اظہارِ حکم کے لیے اور حکم پہلے ہی ظاہر ہے، لہٰذا یہ قیاس، اس کی ضرورت ہی نہیں، اس کو بطورِ مثال کے ذکر کرنا صحیح نہیں ہے۔ تو جواب دیتے ہیں مولانا کہ بھئی یہاں قیاس، سے مراد دلیل ہے۔ کیا مراد ہے؟ دلیل مراد ہے، لیکن صورت چونکہ وہ قیاس والی بن گئی ہے، اس لیے اس کو اس، مثال کے طور پر ذکر کر دیا، یہ دلیل ہے بھئی، دلیل ہے۔
اور آگے آپ کو چل کر بتلائیں گے کہ یہ قیاس مستنبط ہوا ہے کتاب اللہ سے، کہ اس کی علت کا پتہ کس سے چلا؟ کتاب اللہ سے، اور کتاب اللہ کے ذریعے جس قیاس کے علت کا پتہ چلے وہ قطعی ہوتا ہے، وہ کیا ہوتا ہے؟ قطعی اور یقینی ہوتا ہے، تو لہٰذا پہلے یوں کہہ لیں ایک قطعی دلیل تھی اور اب کتنی دلیلیں ہو گئیں؟ دو قطعی دلیلیں ہو گئیں، یہ ایک اور دلیل ذکر ہو گئی۔
ونظیر القیاس المستنبط من السنۃ قیاس حرمۃ تفاضل، تفاضل الجص والنورۃ بعلۃ القدر والجنس علی حرمۃ الأشیاء الستۃ المستفادۃ من قولہ علیہ السلام: الحنطۃ بالحنطۃ والشعیر بالشعیر والتمر بالتمر والملح بالملح والذہب بالذہب والفضۃ بالفضۃ مثلاً بمثل یداً بید والفضل ربا، یہ حدیث ہے بھئی۔
اب اس حدیث پر ذرا نظر رکھیے، پہلے اس کو حل کر لیں۔ حدیث میں کیا آتا ہے: الحنطۃ بالحنطۃ، أي بیعوا الحنطۃ بالحنطۃ، بیچو تم لوگ گندم کے بدلے گندم۔ امر کیا ہے یہاں پر بھئی؟ محذوف نکالیں، بیچو تم لوگ گندم کے بدلے گندم۔ والشعیر بالشعیر، تو یہ الحنطۃ مفعول بنے گا بھئی، اس لیے اس کو منصوب پڑھا میں نے۔ والشعیر بالشعیر، اور جو کے بدلے جو، والتمر بالتمر، اور کھجور کے بدلے کھجور، والملح بالملح، اور نمک کے بدلے نمک، والذہب بالذہب، اور سونے کے بدلے سونا، والفضۃ بالفضۃ، اور چاندی کے بدلے چاندی، مثلاً بمثل، اس طور پر کہ مثل کے مقابلے میں مثل کے بدلے میں مثل ہو یعنی برابر سرا بر ہوں بھئی، دونوں کیا ہوں آپس میں؟ دونوں طرف سے مقدار برابر ہو، نیز یداً بید، ہاتھوں ہاتھ ہوں بھئی یعنی نقد ہو، ادھار کسی طرف سے نہ ہو، ایک ہاتھ سے ایک دے رہا ہے، دوسرا بھی دے دوسری چیز، والفضل ربا، اور جو زیادتی ہے وہ سود ہے، وہ زیادتی سود ہے بھئی۔
اچھا، تو فقہائے کرام نے اس حدیث کے اندر غور کیا اور اس سے ربا کی علت معلوم کی، کہ سود کی علت کیا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس حدیث کے اندر سود کو بیان فرما رہے ہیں بھئی، اس کی علت کیا ہے؟ اس میں فقہاء نے غور کیا، تو امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں بھئی کہ یہاں پر کچھ چیزیں کیلی ذکر ہوئی ہیں، کچھ وزنی ذکر ہوئی ہیں۔ کیل کیا جاتا ہے بھئی، کچھ چیزیں کیلی ہوتی ہیں جن کو ماپا جاتا ہے کسی برتن وغیرہ میں، جیسے آپ دودھ لینے جاتے ہیں، تو دکاندار کس طرح دیتا ہے آپ کو دودھ؟ برتن میں ماپ کر دیتا ہے بھئی، برتن بھر کر وہ ایک لیٹر اتنے کا، اس حساب سے پیسے لیتا ہے، اور چینی لینے جاتے ہیں آپ تو وہ دکاندار کیا کرتا ہے؟ تول کر، معلوم ہوا چینی وزنی ہے اور دودھ کیا ہے؟ کیلی ہے، اس کو ماپ کر بیچا جاتا ہے۔ تو اس حدیث کے اندر بھی جو چیزیں ذکر ہوئیں، اس میں سے کچھ کیلی ہیں اور کچھ وزنی ہیں، جیسے بھئی یہ گندم، جو، کھجور، نمک وغیرہ یہ کیا ہیں؟ کیلی ہیں بھئی، یہ قدیم، آج کے زمانے میں تو ٹھیک ہے وزنی ہیں، لیکن اس وقت کیا کیا جاتا تھا ان کو؟ کیل کیا جاتا تھا، ایک برتن ہوتا تھا بھئی، وہ برتن بھر کر گندم کا، وہ برتن قفیز کہلاتا تھا، تو مثلاً ایک قفیز اتنے کا ہے، دو قفیز اتنے کے بھئی۔
تو ماپ کر بیچا جاتا تھا، بلکہ آج بھی بہت سے دیہات کے اندر ابھی بھی یہ طریقہ رائج ہے، یہ نہیں کہ آج بالکل ختم ہو گیا۔ ابھی بھی رائج ہے، کہ کیا کیا جاتا ہے؟ گندم کو ماپ کر بیچا جاتا ہے بھئی۔
اچھا، تو امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں بھئی کہ اس حدیث کے اندر کچھ چیزیں کیلی ذکر ہوئی ہیں، کچھ وزنی۔ اور نیز جنس کے مقابلے میں جنس آئی ہے، کھجور کے بدلے کھجور ہی یعنی اس جنس کے مقابلے میں وہی جنس ذکر ہے، معلوم ہوا کہ ربا کی علت ایک تو جنس کا ہونا ہے، دونوں طرف کیا ہو؟ جنس ایک ہی ہو، نیز کیل یا وزن میں سے کوئی ایک چیز پائی جائے، کہ وہ چیز کیلی ہو یا وزنی ہو۔ اب کیلی یا وزنی دو لفظ تھے تو اس کے لیے فقہاء ایک ہی لفظ "قدر" استعمال کر لیتے ہیں، کیا استعمال کر لیتے ہیں؟ قدر، قدر سے، تو جب بھی جنس اور قدر پائی جائے تو اس وقت برابری ضروری ہے، زیادتی حرام ہے، زیادتی سود ہے بھئی، کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں والفضل ربا، نیز ادھار بھی پھر اس صورت میں جائز نہیں کیونکہ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مثلاً بمثل، برابر ہونے چاہئیں، یداً بید، اور نقد ہونے چاہئیں، ادھار نہیں بھئی، والفضل ربا، اور جو زیادتی ہے وہ سود ہے۔
تو فقہائے کرام نے علت معلوم کی بھئی، ہمارے نزدیک کیا ہے علت ربا کی؟ قدر اور جنس، یعنی دونوں طرف جنس ایک ہو اور قدر ہو، کیا معنی؟ وہ چیز مکیلات میں سے ہو یا موزونات میں سے ہو، تو اس صورت میں زیادتی جائز نہیں، زیادتی کریں گے ایک طرف سے ایک کلو گندم دے رہے ہیں، دوسری طرف سے دو کلو لے رہے ہیں، تو یہ تو زیادتی آ گئی، جنس ایک ہے نیز قدر بھی ہے کہ گندم کس میں سے ہے؟ مکیلات میں سے ہے، تو یہ جائز نہیں ہے، یہ سود ہوا مولانا، ایک کلو گندم تو ایک کلو کے مقابلے میں ہو گئی اور یہ ایک کلو ایک طرف سے جو زائد آئی، یہ کیا ہے؟ سود ہے۔
مسئلہ سب کو سمجھ میں آ گیا؟ تو یہ علت نکالی فقہائے کرام نے، اب یہ علت جہاں بھی پائی جائے گی وہاں پر تفاضل حرام ہو جائے گا، چنانچہ جص اور نورہ کے اندر بھی اسی طرح تفاضل حرام ہو گا۔
یاد رکھیے جص بھئی، یہ چونے سے بنایا ہوا سیمنٹ کی طرح ایک مصالحہ ہوتا تھا جس سے قدیم زمانے میں تعمیر وغیرہ کا کام لیا جاتا تھا، جیسے آج کل سیمنٹ ہے بھئی، کیا کرتے ہیں؟ دیوار بناتے ہوئے، چھت بناتے ہوئے مصالحہ کیا استعمال کرتے ہیں؟ سیمنٹ کا بھئی، تو اسی طرح یہ پہلے ایک طریقہ تھا بھئی، چونے سے ایک خاص مصالحہ بناتے تھے سیمنٹ جیسا ہی، اسے جص کہتے تھے، اور نورہ یہ عام چونا بھئی، سفیدی کا چونا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ نورہ کہتے ہیں۔ اب جص اور نورہ یہ بھی کس میں سے ہیں؟ مکیلات یا موزونات ہی میں سے ہیں بھئی، تو جب ان میں سے ہیں تو قدر آ گئی، تو لہٰذا جب جص کو جص کے بدلے بیچ رہے ہیں یا نورہ کو نورہ کے بدلے میں بیچ رہے ہیں، تو ایک قفیز کے مقابلے میں کتنا ضروری ہے؟ ایک ہی قفیز ہو گا، تفاضل حرام ہے کیونکہ وہ سود ہے، اس لیے کیونکہ سود کی علت پائی جا رہی ہے، جنس بھی ہے اور قدر بھی ہے، مسئلہ سب کو سمجھ میں آ گیا؟
اب بھئی یہ جو جص اور نورہ کے اندر ہم نے تفاضل کو حرام قرار دیا، کہ جص کے بدلے جص بیچو تو برابری ضروری، نورہ کے بدلے نورہ بیچو تو برابری، اگر زیادتی ہوئی تو پھر سود ہے، کیا اس کا ذکر حدیث میں آیا تھا؟ نہیں، اس کا ذکر تو حدیث میں نہیں آیا، ہاں حدیث میں چھ چیزیں آئی تھیں، ان کے اندر چھ چیزوں کے اندر تفاضل حرام ہے، وہ تو حدیث سے پتہ لگا۔ لیکن جص اور نورہ اس کی علت کا پتہ کس سے چلا؟ حدیث سے، اس کا ذکر حدیث کے اندر نہیں ہے بھئی، تو ان کو بھی ان چھ چیزوں پر ہم نے قیاس کیا۔ چھ چیزوں پر بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں علت کا پتہ کس سے چل رہا ہے؟ حدیث سے، تو جص اور نورہ کو جو ہم قیاس کرتے ہیں ان چھ چیزوں پر، یہ کون سا قیاس ہے؟ جو مستنبط ہوا ہے کس سے؟ حدیث سے۔
تو کہتے ہیں ونظیر القیاس المستنبط من السنۃ، اور نظیر اس قیاس کی جو مستنبط ہو سنت سے، وہ قیاس حرمۃ تفاضل الجص والنورۃ بعلۃ القدر والجنس علی حرمۃ الأشیاء الستۃ، وہ قیاس کرنا ہے جص اور نورہ میں تفاضل کی حرمت کو قدر اور جنس کی علت کی وجہ سے علی حرمۃ الأشیاء الستۃ، چھ اشیاء کی حرمت پر، تو جص اور نورہ میں تفاضل کی حرمت کو قیاس کرنا کس پر؟ چھ چیزوں میں میں کہ کہ حرمت پر، کس علت کی وجہ سے؟ قدر اور جنس کی وجہ سے، اور یہ جو چھ چیزوں کی حرمت ہے، المستفادۃ من قولہ علیہ السلام، یہ حاصل ہو رہی ہے حضور علیہ السلام کے اس قول سے: الحنطۃ بالحنطۃ، یعنی أي بیعوا الحنطۃ، بیچو تم گندم کے بدلے گندم، والشعیر بالشعیر، اور جو کے بدلے جو، والتمر بالتمر، اس میں میم ساکن ہے بھئی، والتمر بالتمر، اور کھجور کے بدلے کھجور، والملح بالملح، اور نمک کے بدلے نمک، والذہب بالذہب، اور سونے کے بدلے سونا، والفضۃ بالفضۃ، اور چاندی کے بدلے چاندی، مثلاً بمثل، اس طور پر کہ مثل کے بدلے مثل ہو یعنی برابر سرا بر ہوں دونوں طرف، یداً بید، اور اس طور پر کہ ہاتھوں ہاتھ ہوں یعنی نقد ہوں، ادھار کوئی نہ ہو، والفضل ربا، اور زیادتی سود ہے۔
تو آج کے زمانے کے اندر بھی گندم کے بدلے گندم بیچیں، جو کے بدلے جو، کھجور کے بدلے کھجور، یا نمک کے بدلے نمک بیچیں تو ان میں مساوات ضروری ہے اور ان چار چیزوں کا حدیث میں چونکہ ذکر آیا اور اس زمانے کے اندر ان میں ان کو کیل کے ساتھ ماپ کر بیچا جاتا تھا، تو آج بھی ان کے اندر اگر مساوات ایک تبادلے کی ضرورت پیش آئے تو مساوات ہو گی اور وہ مساوات کیل ہی کی صورت میں کرنا پڑے گی، وزن کی صورت میں نہیں۔ کیونکہ حدیث میں ان میں مساوات کا حکم دیا گیا اور اس زمانے میں یہ کیلی تھیں، مساوات کس طرح ہوتی تھی؟ کیل کے ساتھ ان میں مساوات ہوتی تھی، تو اب بھی کس طرح کرنی پڑے گی؟ کیل کی صورت، ہاں ان کے علاوہ اور چیزیں ہیں اس کا چونکہ حدیث میں ذکر نہیں ہے، وہاں پر قدر مع الجنس آ جائے اور مساوات ضروری ہو تو پھر زمانے کا اعتبار کرو، آپ کے زمانے میں کیلی ہے تو کیلی شمار کریں گے، پہلے جس طرح بھی بیچی جاتی تھی، اور آپ کے زمانے میں اگر وزنی ہے تو وزن کے اعتبار سے اس میں مساوات کر لیں گے، گزشتہ زمانے میں چاہے جس طرح بھی اس کو بیچا جاتا تھا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
چلیے ھذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔