Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-003

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 03 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 22
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
سبق نمبر۔۳‏ وبعد، فلما كان كتاب المنار أوجز كتب الأصول متناً وعبارةً وأشملها نكتاً ودرايةً ولم يشتغل ‏بحله أحد من الشراح الذين سبقونا بالزمان ولم يعصموا عن النسيان‎.‎ وبعد، فلما كان كتاب المنار أوجز كتب الأصول، یہاں سے آگے صاحبِ نور الانوار باعث ‏على التصنيف بيان کریں گے کہ میں نے یہ شرح کیوں لکھی اور پھر شرح کے لیے منار ‏کے متن کو کیوں منتخب کیا، یہ بيان کریں گے اور یہ اپنی شرح کی کیفیت بتلائیں گے کہ ‏میں کس قسم کی شرح لکھوں گا، اس میں کن چیزوں کا خیال رکھوں گا۔ تو تین چیزیں بیان کریں گے آگے وہ، پہلی یہ کہ شرح کے لیے اسی منار کے متن کو کیوں ‏منتخب کیا، اور بھی بہت سے متون تھے حنفی اصولِ فقہ میں، لیکن انہوں نے اسی متن کی ‏شرح کیوں کی، کسی دوسرے متن کی شرح کیوں نہیں کی۔ اور پھر کیا بیان کریں گے؟ کہ اس شرح کے لکھنے کا باعث کیا ہوا؟ منار کی تو بہت سی ‏شروحات پہلے سے موجود تھیں، پھر ان کو شرح کرنے اور شرح لکھنے کی حاجت کیوں ‏پیش آئی، وہ بیان کریں گے، اور کیفیت بتلائیں گے کہ میری شرح کس قسم کی ہوگی، ان ‏میں میں کن امور کا خیال رکھوں گا اور کس طریقے پر شرح کروں گا بھئی، بات سمجھ ‏میں آگئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: وبعد، فلما كان كتاب المنار، اور حمد و صلاة کے بعد جب کتابِ منار تھی، ‏أوجز كتب الأصول، أوجز: مختصر بھئی، زیادہ مختصر بھئی، اس میں تفصیل ہے بھئی، ‏كتب اصول میں سب سے مختصر تھی۔ منار کتاب جو تھی، وہ كتب اصول میں سے اصولِ فقہ کی کتابوں میں سب سے مختصر ‏تھی، بھئی کس اعتبار سے مختصر تھی؟ کہتے ہیں: متناً وعبارةً، متن اور عبارت کے ‏اعتبار سے بھئی، متن اور عبارت کے اعتبار سے تمام كتب اصول میں یہ سب سے ‏مختصر تھی۔ وأشملها نكتاً ودرايةً، نكت جمع ہے نكتة کی چھوٹے کاف کے ساتھ، ایک نقطہ ہوتا ہے بڑا ‏قاف دو نقطوں والا اور ط اس میں آتی ہے، وہ نقطہ یہ جو آپ قلم سے لگاتے ہیں نقطہ، ‏حروف کے نیچے یا اوپر نقطے لگاتے ہیں، اور ایک ہے نكتة، چھوٹے کاف اور تا دو ‏نقطوں والی، یہ باریک اور گہری بات کو کہتے ہیں بھئی، باریک اور گہری بات، تو یہ اس ‏کی جمع ہے نكت بھئی۔ اور دراية کا معنی ہے علم بھئی، علم۔ وأشملها، ها ضمیر راجع ہے كتب اصول کو بھئی، اور باعتبار نقطوں اور علم کے، یعنی ‏گہری باتوں اور علوم کے اعتبار سے وأشملها، ان كتب اصول میں سب سے زیادہ عام تھی، ‏یعنی اس میں عموم زیادہ تھا، یعنی یوں کہیں جامع تھی، کیا تھی؟ علوم اور گہری باتوں کے ‏اعتبار سے سب سے جامع تھی۔ یعنی منار کا جو متن تھا بڑا ہی مختصر تھا، لیکن مختصر ہونے کا یہ معنی نہیں کہ اس ‏میں باتیں کم تھیں، اس کے الفاظ تھوڑے تھے لیکن اس کے اندر جو علوم تھے اور گہری ‏باتیں، باریک باتیں تھیں وہ سب سے زیادہ تھیں، سب سے جامع تھیں یہ، سب سے جامع تھا ‏یہ متن بھئی۔ جی، اس لیے کہتے ہیں میں نے اس کو کیا کیا؟ منتخب کیا ہے۔ تو کہتے، دوبارہ ترجمہ دیکھیے: جب تھی کتابِ منار كتب اصول میں سب سے مختصر ‏باعتبار متن اور عبارت کے، اور سب سے زیادہ جامع تھی باعتبار نکات اور علوم کے۔ ولم يشتغل بحله أحد من الشراح، یہاں سے باعثِ شرح ذکر کر رہے ہیں کہ میں نے شرح ‏پھر کیوں لکھی جب اور بھی شروحات ذکر تھیں، موجود تھیں بھئی۔ اور کہتے ہیں: ولم يشتغل، اور مشغول نہیں ہوا بحله، اس منار کے حل کرنے میں، یعنی ‏اس کی شرح لکھنے میں، أحد، کوئی ایک بھی من الشراح الذين سبقونا بالزمان، ان شارحین ‏میں سے جو ہم سے پہلے تھے، گزرے ہیں باعتبار زمانے کے، جو ہم سے مقدم ہیں ‏زمانے کے اعتبار سے، ان میں سے کوئی ایک بھی مشغول نہیں ہوا تھا اس کتاب کے حل ‏میں، یعنی کامل اور صحیح طریقے پر کسی ایک نے بھی اس کو حل نہیں کیا تھا، مشغول ‏تو ہوئے تھے، شروحات تو لکھی تھیں لیکن صحیح طریقے سے کوئی ایک بھی مشغول ‏نہیں ہوا۔ ولم يعصموا عن النسيان، اور وہ محفوظ نہ رہے بھول چوک سے، نسیان بھول چوک کو ‏کہتے ہیں بھئی۔ تو صحیح طریقے سے وہ شارحین جو ہم سے پہلے گزرے ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی ‏صحیح طریقے سے اس کے حل میں مشغول نہیں ہوا تھا اور وہ غلطیوں، بھول چوک سے ‏محفوظ نہیں رہے تھے، یعنی ان سے ان کی شروحات میں بھول چوک ہوئی تھی۔ فإن بعض الشروح مختصرة مخلة لفهم المطالب، اس لیے ان ان میں سے بعض شرحیں جو ‏تھیں مختصرة، مختصر تھیں، مخلة، خلل ڈالنے والی تھیں لفهم المطالب، مطالب و مقاصد ‏کے سمجھنے میں۔ بعض شروحات ان میں سے بڑی مختصر، اتنی مختصر تھیں کہ مقاصد کے سمجھنے میں ‏خلل پیدا ہو جاتا، خلل ڈال دیتی تھیں، پوری طرح بات اور مقصد سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ وبعضها، اس کا عطف ماقبل میں بعض الشروح جو آیا اس پر عطف ہے، اور وہ إن کا اسم ‏ہے، منصوب ہے۔ وبعضها مطولة، اور ان میں سے بعض بڑی طویل تھیں، بعض طویل تھیں، مملة، مملة: اکتا ‏دینے والی۔ مملة، بڑی طویل تھیں، مملة، اکتا دینے والی تھیں في درك المعارب، درک کہتے ہیں تہہ ‏کو، کسی بھی چیز کا سب سے نچلا حصہ، تہہ جو ہے اسے کیا کہتے ہیں؟ درک۔ معارب: ‏وہی، یہ جمع ہے مأرب کی، مقصد کو کہتے ہیں بھئی۔ اور مقاصد کی تہہ میں اکتا دینے والی تھیں۔ یعنی بعض بتلایا کہ بعض شرحیں بڑی مختصر تھیں، مطالب کے سمجھنے میں خلل ڈال ‏دیتی تھیں، خلل آجاتا تو پوری طرح بڑا سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ اور بعض شروحات طویل ‏تھیں کہ مقاصد کی تہہ تک پہنچنے میں انسان اکتا جاتا تھا، مقاصد کی تہہ تک نہیں پہنچتا ‏تھا، پوری اتنی لمبی بحثیں شروع کر دیتے کہ مقصد درمیان میں ہی کہیں رہ جاتا، انسان ‏اکتا جاتا تھا اس سے بھئی، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو مملة في درك المعارب، اکتا دینے والی تھیں مقاصد کی تہہ میں۔ وقديماً كان يختلج في قلبي، اور قدیم زمانے سے یہ بات کھٹک رہی تھی میرے دل میں، ‏اختلج يختلج کے معنی ہیں کھٹکنا، یعنی میرے دل میں یہ بات تھی۔ أن أشرحه، کہ میں اس ‏منار کی کیا کروں؟ شرح کروں، شرحاً ينحل منه مغلقاته، شرحاً دیکھیے نکرہ آیا اور نکرہ ‏کے بعد ينحل فعل ہے، اور نکرہ کے بعد فعل آئے، یاد رکھیے وہ عموماً اس کے لیے ‏صفت بنتا ہے، صفت بنتا ہے۔ اور موصوف صفت کا ترجمہ، کہ عام طور پر اردو میں، بھئی عربی میں صفت ہوتی ہے ‏مؤخر: رجل شجاع، تو رجل موصوف مقدم ہے اور شجاع صفت مؤخر ہے، لیکن اردو میں ‏صفت مقدم ہوتی ہے، ترجمہ کیا کریں گے؟ بہادر آدمی، بہادر مرد بھئی، تو دیکھو بہادر ‏جو لفظ تھا عربی میں مؤخر تھا، آپ نے اس کو اردو میں کیا کر دیا؟ مقدم۔ ایک طریقہ یہ ‏ہے موصوف صفت کے ترجمے کا کہ صفت کو اردو میں کیا کر دو؟ مقدم۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ مقدم نہ کرو، صفت کو بعد ہی میں رکھو، البتہ موصوف سے پہلے ‏ایسا یا ایسی کا لفظ لے آؤ بھئی، موقع کے مطابق ایسا یا ایسی، تو دیکھو شرحاً، میرے دل ‏میں یہ بات کھٹک رہی تھی کہ میں اس کی شرح کروں، شرحاً: ایسی شرح ينحل منه ‏مغلقاته، کہ حل ہو جائیں اس سے مغلقاته، اس منار کے، مغلق: مشکل مقام، پیچیدہ بھئی، ‏اس کے مشکلا، مشکل مقام اور پیچیدہ مقام اس شرح سے حل ہو جائیں۔ ويوضح مشكلاته، اور یہ بھی اس کا عطف بھی ينحل پر ہے، یہ بھی صفت ہے شرحاً کی، ‏ایسی شرح يوضح، جو واضح کر دے مشكلاته، اس منار کی مشکلات کو، اس منار کی ‏مشکلات، تو مشکل مشكلاته، اس پر میں کسرہ پڑھ رہا ہوں لیکن یہ دراصل نصب ہے، یہ ‏منصوب ہے مفعول ہے يوضح کے لیے، لیکن یہ جمع کون سی جمع ہے؟ جمع مؤنث سالم، ‏اور اس کا اعراب آپ نے کیا پڑھا ہے؟ حالتِ رفعی میں ضمہ، اور نصبی جری میں کسرہ، ‏تو یہ کسرہ ہے دیکھنے میں لیکن دراصل یہ کیا ہے؟ نصب ہے، تو اس کا نصب آتا ہی ‏کسرہ کی صورت میں ہے، تو اس لیے مشكلاته میں نے پڑھا۔ تو دوبارہ دیکھیے ترجمہ: وقديماً كان يختلج في قلبي، اور قدیم زمانے سے یہ بات میرے دل ‏میں کھٹک رہی تھی کہ میں اس کی شرح کروں ایسی شرح ينحل منه مغلقاته، کہ حل ہو ‏جائیں اس سے اس منار کے مشکل مشکلات حل ہو جائیں، ويوضح مشكلاته، اور ایسی ‏شرح جو واضح کر دے، کھول دے، بیان کر دے مشكلاته، اس کی مشکلات کو، من غير ‏تعرض للاعتراض والجواب، تعرض کا معنی ہے درپے ہونا، پیچھے پڑنا، من غير تعرض، ‏بغیر پیچھے پڑے للاعتراض والجواب، اعتراض و جواب کے۔ اعتراض و جواب کے پیچھے پڑے بغیر میں اس کی ایسی شرح کروں جس سے اس کے ‏مشکل مقامات حل ہو جائیں، یعنی مطلب کہنے کا یہ ہے کہ میرے دل میں تھا کہ میں اس ‏کی ایسی شرح لکھوں جس سے اس کے مشکل مقامات حل ہو جائیں اور اس شرح میں، ‏میں اعتراض و جواب بھی ذکر نہیں کروں گا، اعتراض جواب کے پیچھے نہیں پڑوں گا۔ جی، آگے کیا پڑھیں گے بھئی؟ جی؟ ولا ذكرٍ پڑھنا یاد رکھنا بھئی، یہ مشکل عبارت ہے۔ اس کا ذکر کا عطف ہے تعرض پر، اور تعرض غير کے تحت واقع ہے، مضاف الیہ ہے، ‏مجرور ہے۔ من غير تعرضٍ ومن غير ذكرٍ، اور یہ جو لا ہے یہ زائد ہے بھئی، تحسینِ ‏عبارت کے لیے اس کو بڑھاتے ہیں بھئی، جیسے آپ قرآن میں بھی پڑھتے ہیں: غير ‏المغضوب عليهم ولا الضالين، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو جیسے وہاں پر ہے یہ لا زائد ہے، تو ‏یہاں بھی اسی طرح یہ لا زائد ہے بھئی۔ ورنہ تو غیر، غیر نفی کے لیے آیا، تعرض کریں گے یا تعرض نہیں کریں گے؟ مصنف کیا ‏بتلا رہے ہیں، میں اپنی شرح میں اعتراض و جواب سے تعرض کروں گا یا نہیں کروں گا؟ ‏نہیں کروں گا، یہ نہ کا، نہیں کا فائدہ کس نے دیا؟ غیر کے لفظ، تو یہ نفی کے لیے آیا، اور ‏آگے لا کو بھی اگر مان لیں کہ یہ زائد نہیں ہے تو یہ بھی نفی ہوئی، اور نفی پر نفی داخل ‏ہو تو یہ کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ اثبات کا فائدہ دیتی ہے، آپ نے خود کبھی غور کیا ہے ‏بھئی، نفی پر نفی داخل ہو تو اثبات کا فائدہ کیسے دیتی ہے؟ دیکھو، میں کہتا ہوں: زید نہیں ‏آئے گا۔ دیدھو، میں زید کے آنے کو بیان کر رہا ہوں یا نہ آنے کو؟ نہ، تو دیکھو یہ نفی ہے، اس پر ‏ذرا ایک اور نفی داخل کرو یہ اثبات بن جائے گا: ایسا نہیں ہو سکتا کہ زید نہ آئے! کیا ‏معنی؟ معلوم ہوا زید آئے گا، تو نفی پر جب نفی داخل ہوتی ہے وہ کس چیز کا فائدہ دیتی ‏ہے؟ اثبات کا، تو یہاں بھی اگر اس لا کو زائد نہ مانیں گے تو نفی پر نفی آئی تو پھر اثبات ‏بن جائے گا بھئی۔ تو من غير تعرض للاعتراض والجواب، بغیر پیچھے پڑے اعتراض و جواب کے، ولا ذكر ‏لما صدر منهم من الخلل والاضطراب، خلل کہتے ہیں عیب کو، خرابی کو، اور اضطراب ‏کہتے ہیں بےچینی اور فساد بھئی، بےچینی اور فساد۔ بغیر پیچھے پڑے اعتراض و جواب کے اور بغیر ذکر کیے وہ جو صادر ہوئے ہیں، واقع ‏ہوئے ہیں ان شارحین سے جو عیب اور خرابیاں اور جو فساد۔ بھئی منار کی پہلے بھی شروحات لکھی گئیں، ان بتلایا ان شارحین سے بہت سی جگہ ‏غلطیاں ہوئیں بھئی، تو کہتے ہیں: میں اپنی شرح کے اندر نہ اعتراض و جواب کو ذکر ‏کروں گا اور نہ ان شارحین سے جو خلل اور اضطرابات جو خرابیاں وغیرہ ان کی ‏شروحات میں واقع ہوئی ہیں ان کی طرف، ان کو بھی میں ذکر نہیں کروں گا، بس میں نفسِ ‏متن کو اچھے طریقے سے حل کروں گا، کسی اور کی شرح کی خرابیاں اپنی شرح میں ‏ذکر نہیں کروں گا۔ تو کہتے ہیں: من غير تعرض للاعتراض والجواب، بغیر پیچھے پڑے اعتراض و جواب ‏کے، ولا ذكر لما صدر منهم، اور بغیر ذکر کیے وہ جو واقع ہوئی ہیں ان شارحین سے من ‏الخلل والاضطراب، عیب اور خرابی، فساد وغیرہ۔ ولم يتفق لي ذلك إلى مدة، اور ولم يتفق لي، اور مجھے اس کا اتفاق نہیں ہوا۔ میرے دل میں ‏تو یہ بات تھی کہ میں اس کی شرح لکھوں لیکن مجھے اس کا اتفاق نہیں ہوا إلى مدة، ایک ‏مدت تک، میرے دل میں یہ بات تھی شرح کروں گا اس کی، ایک شرح کروں گا، لیکن ‏ایک مدت تک اس کے مجھے اتفاق نہیں ہوا بھئی، کیوں نہیں ہوا بھئی؟ وجہ کیا؟ کہتے ہیں: ‏لكثرة الشواغل، بوجہ مشاغل کی کثرت، میری مشغولیتیں بہت زیادہ تھیں اور تمام علمی ‏مشغولیتیں تھیں، درس و تدریس و تصانیف وغیرہ میں، تو اس شرح کے لکھنے کا موقع نہ ‏ملا۔ لكثرة الشواغل، مشاغل کی کثرت کی وجہ سے، وضيق المحامل، ضیق کہتے ہیں تنگی کو، ‏تنگی، محامل جمع ہے محمل کی، محمل۔ محمل کہتے ہیں جانور پر سامان وغیرہ لادنے کے لیے جو دونوں طرف اس کے جگہ ‏بنائی جائے اسے کیا کہتے ہیں؟ محمل، اب وہ عام ہے چاہے وہ مثلاً دو تھیلے وغیرہ اس ‏کے دونوں طرف رکھے، لگائے ہیں آپ نے، اس میں سامان رکھیں گے، یا کجاوہ وغیرہ ‏ہوتا ہے جیسے اونٹ وغیرہ پر اس کے دونوں اطراف میں سامان رکھتے ہیں، تو محمل جو ‏بھی وہ جو سامان رکھنے کی جگہ جانور کے اوپر بنائی جاتی ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ ‏محمل کہتے ہیں۔ مراد یہاں مواقع ہیں بھئی مواقع بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ مراد مواقع، وضيق المحامل، ‏کجاووں کی تنگی کی وجہ سے، مشاغل کی کثرت اور کجاووں کی تنگی، لیکن یہ تو لفظی ‏ترجمہ کر رہا ہوں، مراد کیا ہے؟ مواقع، مواقع کی تنگی کی وجہ سے، یعنی یہ کنایہ ہے ‏قلتِ فرصت سے، یعنی مجھے فرصت نہ ملی، مواقع بہت تنگ تھے، مواقع مجھے نہ ملے۔ تو کہتے ہیں: ولم، دیکھیے دوبارہ ترجمہ: ولم يتفق لي ذلك إلى مدة، اور مجھے اس کا اتفاق ‏نہیں ہوا ایک مدت تک، لكثرة الشواغل، مشاغل کی کثرت کی وجہ سے، وضيق المحامل، ‏اور قلتِ فرصت کی وجہ سے، فإذا أنا وصلت إلى المدينة المنورة والبلدة المكرمة، پس جب ‏میں پہنچا مدینہ منورہ والبلدة المكرمة، یہ عطفِ تفسیری ہے مولانا، وہی بلدة المكرمة کا کیا ‏معنی؟ مکرم شہر، معزز شہر، وہی مدینہ مراد ہے۔ پس جب میں مدینہ منورہ معزز شہر میں ‏پہنچا، فقرأ علي الكتاب المذكور، فقرأ علي، اس کا ایک ترجمہ یہ ہو سکتا ہے فقرأ کہ مجھ ‏پر پڑھی مذک، الكتاب المذكور، مذکورہ کتاب۔ یہ منار جو ہے مذکورہ کتاب جس کا وہ ذکر کرتے چلے آرہے ہیں یہ مجھ پر پڑھی، یعنی ‏وہ پڑھتے تھے، آگے ذکر آرہا ہے بعض الخلان، میرے بعض دوست تھے گہرے دوست، ‏وہ پڑھتے تھے اور میں سنتا تھا، مجھ پر پڑھنے کا یہی معنی ہے نا؟ انہوں نے میں نے نہیں پڑھی، یعنی مجھ پر پڑھی۔ یعنی وہ پڑھتے تھے اور میں سنتا۔ یہ ‏معنی بھی ہو سکتا ہے، لیکن یہ معنی یہاں مناسب نہیں بھئی۔ احادیث وغیرہ میں تو یہ ہوتا ہے کہ شاگرد استاد کے سامنے حدیث پڑھتا ہے، کیونکہ وہاں ‏مقصد احادیث کے الفاظ ہوتے ہیں۔ تو شاگرد احادیث سناتا ہے استاد کے استاد کو، اور استاد ‏اس کے ایک ایک لفظ کو توجہ سے سن کر پھر کہتا ہے، ہاں یہ حدیث اسی طرح ہے۔ اور ‏اس کو اجازت دیتا ہے آگے حدیث بیان کرنے کی۔ تو حدیث میں چونکہ اس کے ایک ایک لفظ کے اندر اہ کا خیال رکھا جاتا ہے، معمولی سی ‏بھی کہیں تبدیلی نہ آئے بھئی، تو وہ وہاں پر استاد شاگرد پڑھتا ہے، شرح وغیرہ تو با شرح ‏وغیرہ بھی موقع محل پر آ جاتی ہے، لیکن نفسِ حدیث کی جو حدیث اہ اجازت ہوتی ہے، ‏اس میں صرف اس کے الفاظ کیا کر دیتا ہے؟ بعض اوقات استاد پڑھ کے سناتا ہے، شاگرد ‏پڑھتا ہے اور شاگرد سنتا ہے۔ اور بعض اوقات کیا شاگرد پڑھتا ہے اور استاد سن کر ‏صرف اس کی تصدیق کرتا ہے، ہاں یہ حدیث اسی طرح ہے۔ جس کے یہی الفاظ ہیں، یہی ‏سند ہے وغیرہ۔ تو حدیث میں تو یہ ہے، لیکن متن کے اندر یہاں تو اجازت وغیرہ کی ضرورت نہیں ہے کہ ‏متن وہ اس کو سنائے اور وہ اس کو اجازت دے کہ ہاں یہ متن تم آگے روایت کر سکتے ہو۔ ‏متن تم بلکہ مقصد ہے پڑھا جاتا ہے کسی استاد کے پاس بیٹھ کر، متن بڑا مختصر ہوتا ہے ‏اور اس میں بڑی مختصر لفظوں کے اندر بڑی لمبی بحثوں کو ماتن سمیٹ کر رکھ دیتا ہے، ‏تو پھر وہ استاد آگے ان کی شرح کرتا ہے اور ان کو بیان کرتا ہے۔ تو یہاں قُرِأَ عَلَيَّ کے معنی یہ نہیں کریں گے کہ وہ انہوں نے مجھ پر پڑھی، یعنی انہوں نے ‏مجھے سنائی، یہ ترجمہ نہیں کریں گے۔ بلکہ اس کا دوسرا ترجمہ: انہوں نے مجھ سے ‏پڑھی یہ کتاب۔ انہوں نے مجھ سے یہ کتاب پڑھی بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور یہی معنی یہاں مناسب ہیں۔ اس لیے کہ آگے آ رہا ہے ایک سطر ‏میں ہی، ایک سطر کے بعد ہی کہ پھر انہوں نے مجھ سے درخواست کی کہ میں اس کی ‏شرح لکھوں۔ اور اتنا زور دباؤ ڈالا مجھ پر کہ کوئی عذر میرا قبول نہیں کیا، کہتے ہیں ہر ‏حال میں آپ کو شرح لکھنی ہی پڑے گی اور چنانچہ میں نے مجبور ہو کر پھر یہ شرح ‏لکھی۔ اور یہ تبھی کہا جا سکتا ہے جب استاد نے ان کو پڑھائی ہو، معلوم ہوا مصنف نے ان کو ‏پڑھائی، اس کی شرح کی، اور وہ اتنے متاثر ہوئے ان سب ان اسباق سے کہ انہوں نے پھر ‏کہا کہ صرف ہمارا پڑھنا کافی نہیں ہے، بلکہ آپ اس کی ہمیں ایک باقاعدہ شرح لکھ کر ‏دیں بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو اس سے بھی معلوم ہوا کہ باقاعدہ انہوں نے انہیں ‏پڑھائی تھی بھئی۔ فَقُرِأَ عَلَيَّ الْكِتَابُ الْمَذْكُورُ، تو مجھ سے پڑھی یہ مذکورہ کتاب۔ بَعْضُ خُلَّانِي، خُلَّان، نون کے ‏ساتھ، یہ جمع ہے خلیل کی، خلیل کہتے ہیں گہرے دوست کو۔ پڑھی مجھ سے یہ مذکورہ ‏کتاب بعض گہرے دوستوں نے، وَخُلَّصُ إِخْوَانِي، خُلَّص، یہ صفت ہے إِخْوَان کی، جس کو ‏مقدم کر دیا گیا اور اضافت کر دی گئی۔ عربی میں اس طرح کرتے ہیں، بعض اوقات صفت ‏کو اٹھا کر موصوف پر مقدم کر دیتے ہیں اور اس کی طرف کیا کر دیتے ہیں؟ اضافت کر ‏دیتے ہیں۔ نحو کی کتابوں میں آپ تفصیل پڑھ چکے ہیں بھئی۔ تو دراصل یہ کیا ہے؟ إِخْوَانِي الْخُلَّصِ۔ خُلَّص جمع ہے خالص کی۔ إِخْوَانِي، میرے بھئی، ‏إِخْوَانِي الْخُلَّصِ، میرے مخلص بھئی، میرے مخلص بھئی۔ تو اس خُلَّص کا عطف بَعْضُ پر ہو رہا ہے۔ یا چاہے آپ اس کا عطف خُلَّانِ پر کر دیں، ‏دونوں طرح صحیح ہے۔ تو پڑھی مجھ سے یہ مذکورہ کتاب بعض گہرے دوستوں نے اور ‏مخلص بھئیوں نے، یا اس کو بعض کے تحت ہی کر دیں زیادہ مناسب ہے، تو خُلَّصِ إِخْوَانِي ‏پڑھیں۔ اور بعض مخلص بھئیوں نے، انہوں نے مجھ سے پڑھی۔ مِنَ الْخُطَبَاءِ الْمُعَظَّمَةِ، ‏خطباء خطیب کی جمع ہے بھئی۔ مِنَ الْخُطَبَاءِ الْمُعَظَّمَةِ، المعظمة اس کی صفت ہے مولانا۔ اور میں نے کل بھی بیان کیا تھا کہ جمع بتاویلِ جماعةٌ کس کے حکم میں ہے؟ واحد مؤنث۔ ‏لہذا اس کی طرف ضمیر بھی عموماً کون سی راجع کرتے ہیں؟ واحد مؤنث، اور اس کی ‏صفت بھی کیا لاتے ہیں؟ واحد مؤنث، جیسے یہاں واحد مؤنث صفت لائی گئی۔ مِنَ الْخُطَبَاءِ الْمُعَظَّمَةِ، معظم خطیبوں میں سے، معظم خطیب جو مقرر مقررین تھے بھئی، ‏لِلْحَرَمِ الشَّرِيفِ، کس کے کہاں کے خطیب تھے؟ حرم شریف کے، وَالْمَسْجِدِ الْمُنِيفِ، یہ پھر ‏عطفِ تفسیری آ گیا بھئی۔ منیف کہتے ہیں بلند و بالا، بلند و بالا، یعنی عالی شان۔ تو حرم شریف کے، جی، وَالْمَسْجِدِ الْمُنِيفِ، عالی شان مسجد یعنی مسجدِ نبوی، مسجدِ نبوی ‏مراد ہے۔ مِنَ الْخُطَبَاءِ الْمُعَظَّمَةِ لِلْحَرَمِ الشَّرِيفِ وَالْمَسْجِدِ الْمُنِيفِ، معظم خطباء میں سے، معظم خطیبوں ‏میں سے، لِلْحَرَمِ الشَّرِيفِ، کس کے معظم خطیب؟ حرم شریف اور عالی شان مسجد یعنی ‏مسجدِ نبوی کے، مسجدِ، تو حرم شریف سے مسجدِ نبوی مراد ہے مولانا، سمجھ میں آیا؟ ‏حرمِ مدینہ مراد ہے۔ تو انہوں نے مجھ سے یہ کتاب پڑھی۔ دوبارہ ترجمہ دیکھیے: فَقُرِأَ عَلَيَّ الْكِتَابُ الْمَذْكُورُ ‏بَعْضُ خُلَّانِي وَخُلَّصُ إِخْوَانِي مِنَ الْخُطَبَاءِ الْمُعَظَّمَةِ لِلْحَرَمِ الشَّرِيفِ وَالْمَسْجِدِ الْمُنِيفِ، تو پڑھی ‏مجھ سے مذکورہ کتاب میرے بعض گہرے دوستوں نے اور بعض مخلص بھئیوں نے حرم ‏شریف اور عالی شان مسجد کے معظم خطیبوں میں سے۔ ان میں سے بعض مخلص بھئیوں ‏اور گہرے دوستوں نے مجھ سے یہ کتاب پڑھی۔ فَاقْتَرَحُوا، اقترح يقترح اقتراح کے معنی ہیں تجویز پیش کرنا، مراد ہے درخواست کرنا۔ ‏فَاقْتَرَحُوا، انہوں نے درخواست کی، بِهَذَا الْأَمْرِ الْعَظِيمِ، اس عظیم کام کی۔ انہوں نے مجھ سے ‏اس عظیم کام کی درخواست کی، یعنی اس کتاب کی آپ ہمیں کیا کریں؟ ایک شرح لکھ دیں۔ ‏وَالْخَطْبِ الْجَسِيمِ، خطب بھی کام کو کہتے ہیں، جسیم جسامت سے ہے، بڑے جسم والا، وہی ‏عظیم کے معنی میں بھئی، یہ وہی عطفِ تفسیری آ گیا۔ تو انہوں نے مجھ سے اس عظیم کام ‏کی اور بڑے معاملے کی، بڑے امر کی درخواست کی۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ وَحَكَمُوا عَلَيَّ جَبْرًا، حکم کا صلہ علیٰ آیا۔ لام آتا ہے نفع کے لیے اور علیٰ آتا ہے ضرر کے ‏لیے، تو معنی ہے یعنی حَكَمُوا عَلَيَّ، میرے خلاف فیصلہ کر دیا۔ انہوں نے میرے خلاف ‏فیصلہ کر دیا جبراً بھئی، زبردستی۔ یعنی میں تو عذر پیش کر رہا تھا کہ میں اس کی شرح ‏نہیں لکھ سکتا، اہ میری مشغولیات بہت زیادہ ہیں اور یہ کوئی آسان کام نہیں ہے اس کی ‏شرح لکھنا، لیکن انہوں نے جبراً میرے خلاف کیا کر دیا؟ فیصلہ کر دیا۔ وَلَمْ يَتْرُكُوا لِي ‏عُذْرًا، اور نہیں چھوڑا انہوں نے میرے لیے کوئی عذر۔ کسی قسم کا کوئی عذر نہیں ‏چھوڑا، یعنی میں نے جو بھی عذر وغیرہ پیش کیے، ان سب کو انہوں نے کہا کہ نہیں، ان ‏اعذار کے باوجود آپ کو کیا کرنا پڑے گی ہر حال میں؟ شرح لکھنا پڑے گی، اور ہر عذر ‏کا مجھے جواب دیا کہ یہ بھی ہو یہ اہ بھی کوئی بڑا مسئلہ نہیں، یہ بھی حل ہو سکتا ہے، ‏یہ بھی حل ہو سکتا ہے، بس آپ ہمیں کیا کریں؟ شرح لکھ کر دیں۔ فَشَرَعْتُ فِي إِسْعَافِ مَأْمُولِهِمْ، پس میں شروع ہوا اس اسعاف يسعف اسعاف کے معنی ہیں ‏پورا کرنا، پس میں شروع ہوا پورا کرنے میں، مامول کہتے ہیں آرزو کو، آرزو، فَشَرَعْتُ ‏فِي إِسْعافِ مَأْمُولِهِمْ، پس میں ان کی آرزو کے پورا کرنے میں شروع ہو گیا، یعنی شرح کے ‏لکھنے میں شروع ہوا۔ وَإِنْجَاحِ مَسْئُولِهِمْ، انجاح کا عطف اسعاف پر ہے، اس کے معنی بھی ‏پورا کرنا، اور مسئول وہ چیز جس کو طلب کیا جائے، یعنی مقصود، مقصود۔ پس میں ان ‏کی، دوبارہ سنیں، پس میں شروع ہوا ان کی آرزو کے پورا کرنے میں اور ان کے مقصود ‏کے پورا کرنے میں۔ تو ان کی آرزو اور ان کے مقصود کو پورا کرنے میں میں لگ گیا اور شروع ہو گیا، عَلَى ‏حَسَبِ مَا كَانَ مُسْتَحْضَرًا لِي فِي الْحَالِ، اسی کے بقدر، على حسب ما، اسی کے بقدر، ما كان ‏مستحضراً لي، وہ جو میرے لیے حاضر تھا، یعنی جو مجھے میسر تھا، في الحال، اس حال ‏میں۔ اس حال میں جو کچھ مجھے میسر تھا، اسی کے بقدر میں شروع ہو گیا۔ کہنا یہ چاہتے ہیں یعنی میں حالتِ سفر میں تھا، اور سفر کی حالت میں انسان اطمینان اور ‏سکون یا یوں کہیں تکالیف اور پریشانی ہوتی ہے، گھر پر جو سکون ہوتا ہے وہ سفر میں ‏نہیں۔ اور نیز گھر پر جو اسباب ہوتے ہیں وہ سفر میں نہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو مدینہ ‏منورہ کے سفر میں تھا، اگرچہ قلبی راحت تو بے انتہا، انتہا درجے کی تھی، لیکن بہرحال ‏تھا تو سفر میں، اور میرے پاس اسباب نہ تھے، میرے پاس کوئی کتابیں وغیرہ نہ تھیں ‏بھئی، دو چار کتابیں ہوں گی، اٹھ دس کتابیں ہوں گی زیادہ سے زیادہ سفر کے اندر، باقی ‏تمام میری کتابیں اور میرے اسباب تو کہاں پر موجود تھے؟ گھر پر۔ تو بس جو کچھ مجھے ‏اس حالت کے اندر میسر تھا، شرح بھئی شرح لکھنی تھی، شرح کے لیے حوالے ایک جگہ ‏حوالہ دیکھنا ہوتا ہے، دوسری کتاب میں حوالہ دیکھنا ہوتا ہے، ایک مسئلے کی تحقیق کسی ‏کتاب میں کرنا پڑتی ہے، دوسری کتاب کو دیکھنا پڑتا ہے، تو بہت ایک کتاب لکھنے کے ‏لیے بہت سی کتابوں کو سامنے رکھنا پڑتا ہے اور ان کا مطالعہ کرنا پڑتا ہے، تو ان کے ‏پاس تو وہاں سفر کے اندر اتنے اسباب موجود نہیں تھے، چند ایک کتابیں تھیں، تو کہتے ‏ہیں بس جو میں شروع ہوا اسی کے بقدر جو کچھ مجھے میسر تھا اس حالت کے اندر، جو ‏دو چار کتابیں تھیں، بس اسی میں کی مدد سے میں شروع ہو گیا شرح لکھنے میں، مِنْ غَيْرِ ‏تَوَجُّهٍ إِلَى مَا قِيلَ أَوْ يُقَالُ، بغیر توجہ کیے قیل و قال کی طرف۔ قیل و قال سے مراد ہے بے فائدہ بحثیں۔ بے فائدہ بحثیں۔ سمجھ میں آیا؟ اعتراض و جواب ‏کے لیے بھی یہ استعمال ہوتا ہے، لیکن اعتراض و جواب کا ذکر پیچھے ہو چکا بھئی، تو ‏یہاں اس کا معنی بے فائدہ بحث کے کریں گے۔ اور بغیر توجہ کیے بے فائدہ ابحاث کی ‏طرف۔ تو یعنی شارح یہ کہتے ہیں کہ میرے ارادہ تھا ایک ایسی شرح لکھوں جس میں اعتراض و ‏جواب بھی نہ ہو، جس میں باقی شارحین سے جو غلطیاں وغیرہ ہوئی ہیں ان کا ذکر بھی نہ ‏ہو، اور نیز اب آ کر آپ کو بتلا دیا کہ اس میں میں نے بغیر بے فائدہ ابحاث کی طرف بھی ‏توجہ نہیں کی، صرف جو کام کی باتیں تھیں انہی کو میں نے ذکر کیا ہے بھئی۔ وَسَمَّيْتُهُ بِكِتَابِ نُورِ الْأَنْوَارِ فِي شَرْحِ الْمَنَارِ، اور میں نے اس کا نام رکھا کتاب نور الانوار في ‏شرح المنار، منار کی شرح میں۔ تو میں نے اس کا نام رکھا کتاب نور الانوار فی شرح ‏المنار، منار کی شرح میں کتاب نور الانوار، وَاللَّهُ الْمُوَفِّقُ فِي الْبِدَايَةِ وَالنَّهَايَةِ، اور اللہ ہی توفیق ‏دینے والے ہیں۔ موفق توفیق دینے والے، لفظِ اللہ مبتدا اور الموفق خبر، اور آپ نے پڑھا ہے کہ مبتدا تو ہے ‏ہی معرفہ، خبر بھی معرفہ آ جائے تو یہ حصر کا فائدہ دیتے ہیں۔ حصر کا جی، تو اگر ہوتا ‏واللہ موفق، تو ترجمہ ہوتا اللہ توفیق دینے والے ہیں، غیر کی نفی نہ ہوتی۔ اس بات کی نفی ‏نہ ہوتی کہ کوئی اور بھی توفیق دینے والا ہے یا نہیں، لیکن اب جب الموفق کہہ دیا تو تو ‏ترجمہ کیا ہوا؟ اللہ ہی توفیق دینے والے ہیں، معلوم ہوا کوئی اور توفیق دینے والا نہیں۔ وَاللَّهُ ‏الْمُوَفِّقُ، اور اللہ ہی توفیق دینے والے ہیں، فِي الْبِدَايَةِ وَالنَّهَايَةِ، ابتدا کے اندر اور انتہا کے ‏اندر، یعنی کسی کام کے شروع کرنے میں بھی توفیق دینے والے اللہ ہیں، اور اس کو اختتام ‏تک پہنچانے کی توفیق دینے والے بھی اللہ ہی ہیں۔ وَهُوَ حَسْبِي لِلسَّعَادَةِ وَالْهِدَايَةِ، اور اللہ ہی میرے لیے کافی ہیں، للسعادة، نیک بختی کے لیے، ‏والهداية، اور رہنمائی کے لیے۔ نیک بختی اور رہنمائی کے لیے اللہ ہی کافی ہیں۔ وَالْمَسْئُولُ ‏عَنْهُ، اور اللہ سے یہ سوال ہے، أَنْ يَجْعَلَهُ خَالِصًا لِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ، کہ اس کتابِ نور الانوار کو ‏بنا دے خالص اپنی ذات اپنے معظم ذات کی کے لیے۔ خالص لوجهه، وجہ سے مراد اللہ کی ‏ذات ہے، الکریم معظم، خالص اپنی ذاتِ کریم کے لیے اس کو بنا دے، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا ‏بِاللَّهِ۔ حول کا معنی ہوتا ہے پھرنا، پلٹنا، واپس مڑنا۔ اور نہیں ہے واپس پلٹنا، یعنی گناہ سے، کس ‏سے؟ یعنی کوئی شخص کسی گناہ کو نہیں چھوڑ سکتا، إِلَّا بِاللَّهِ، مگر اللہ کی توفیق سے۔ اگر آپ بہت سے گناہوں سے بچے ہوئے ہیں تو یہ آپ کا کمال نہیں، بلکہ یہ اللہ کی توفیق ‏ہے، اللہ کی توفیق شاملِ حال ہو تو انسان گناہوں سے بچتا ہے۔ تو حول کا کیا معنی؟ پھرنا، پلٹنا، مڑنا۔ تو گناہ سے پلٹنا نہیں ہے، وَلَا قُوَّةَ، اور قوت نہیں ‏ہے، یعنی نیکی کرنے کی قوت۔ نیکی کرنے کی قوت نہیں ہے، إِلَّا بِاللَّهِ، مگر اللہ ہی کے ‏ساتھ، اللہ ہی کی مدد اور نصرت سے۔ آپ اگر کوئی نیکی کرتے ہیں تو اس میں اس پر ‏مغرور ہونے کی قطعا ضرورت نہیں ہے، یہ اللہ کی طرف سے توفیق تھی جو آپ کو اس ‏نیکی کی توفیق ملی بھئی، اللہ جو آپ نے اس نیکی کو کیا، آپ یہاں بیٹھے ہیں دین پڑھنے ‏کے لیے آئے ہیں، دیکھو اللہ کی کتنی نصرت آپ لوگوں کے ساتھ کہ اللہ نے آپ کو دین ‏پڑھنے کی توفیق دے دی بھئی، دین پڑھنے کی۔ تو کہتے ہیں: وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ، اور نہیں ہے گناہ سے پلٹنا اور نہ نیکی ‏کی طاقت ہے مگر اللہ ہی کی مدد سے، وہ اللہ العلي العظيم، جو بلند ہے اور عظیم ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ اچھا بھئی، ایک مرتبہ پھر ساری سبق دوبارہ ترجمہ جلدی سے دیکھ لیں بھئی۔ وَبَعْدُ، فَلَمَّا كَانَ كِتَابُ الْمَنَارِ أَوْجَزَ كُتُبِ الْأُصُولِ مَتْنًا وَعِبَارَةً، حمد و صلاۃ کے بعد، جب کتابِ ‏منار جو ہے وہ کتبِ اصول میں سب سے مختصر تھی متن اور عبارت کے اعتبار سے، ‏وَأَشْمَلَهَا نِكَتًا وَدِرَايَةً، اور اس کتبِ اصول میں سب سے زیادہ جامع تھی اعتبار گہری باتوں ‏اور علوم کے، وَلَمْ يَشْتَغِلْ بِحَلِّهِ أَحَدٌ مِنَ الشُّرَّاحِ الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالزَّمَانِ، اور پوری طرح مشغول ‏نہیں ہوا تھا اس کے حل میں کوئی ایک بھی ان شارحین میں سے جو مقدم گزرے ہیں ‏زمانے کے اعتبار سے ہم سے، ہم سے زمانے کے اعتبار سے مقدم گزرے ہیں، وَلَمْ ‏يَعْصِمُوا عَنِ النِّسْيَانِ، اور وہ محفوظ نہیں رہے تھے بھول چوک سے، فَإِنَّ بَعْضَ الشُّرُوحِ ‏مُخْتَصَرَةٌ مُخِلَّةٌ لِفَهْمِ الْمَطَالِبِ، اس لیے کہ بعض شروحات جو تھیں وہ مختصر تھیں، خلل ‏ڈالنے والی تھیں مطالب کے کے سمجھنے میں، مقاصد کے سمجھنے میں، وَبَعْضُهَا مُطَوَّلَةٌ ‏مُمِلَّةٌ فِي دَرْكِ الْمَآرِبِ، اور بعض شروحات جو تھیں وہ لمبی تھیں، اکتا دینے والی تھیں ‏مقاصد کی تہہ میں، یعنی مقاصد کی تہہ تک پہنچنے میں اکتا دینے والی تھیں، انسان ‏مقاصد کی تہہ تک نہیں پہنچتا تھا، اکتا جاتا تھا۔ وَقَدِيمًا كَانَ يَخْتَلِجُ فِي قَلْبِي، اور قدیم زمانے ‏سے، یعنی بڑے زمانے سے یہ بات میرے دل میں تھی، أَنْ أَشْرَحَ کہ میں اس کی شرح ‏لکھوں، شَرْحًا يَنْحَلُّ مِنْهُ مُغْلَقَاتُهُ وَيُؤْضِحُ مُشْكِلَاتِهِ، ایسی شرح کہ حل ہو جائیں اس سے ‏مُغْلَقَاتُهُ اس کی پیچیدگیاں وَيُؤْضِحُ مُشْكِلَاتِهِ اور واضح ہو جائیں اس کی مشکلات، اس منار ‏کی مشکلات۔ مِنْ غَيْرِ تَعَرُّضٍ، مِنْ غَيْرِ بھئی یہ اس کا یاد رکھیے تعلق اَنْ اَشْرَحَہٗ سے ہے۔ میں شرح ‏لکھوں مِنْ غَيْرِ تَعَرُّضٍ لِلِاعْتِرَاضِ وَالْجَوَابِ، بغیر پیچھے پڑے اعتراض اور جواب کے، وَلَا ‏ذِكْرٍ لِمَا صَدَرَ مِنْهُمْ مِنَ الْخَلَلِ وَالِاضْطِرَابِ، اور بغیر ذکر کیے وہ جو واقع ہوئے تھے ان ‏شارحین سے خلل اور اضطراب۔ وَلَمْ يَتَّفِقْ لِي ذَالِكَ اِلٰى مُدَّةٍ، اور اس کا مجھے اتفاق نہیں ہوا ‏ایک مدت تک، لِكَثْرَةِ الْمَشَاغِلِ وَضِيقِ الْمَحَامِلِ، مشاغل کی کثرت کثرت اور مواقع کی تنگی ‏کی وجہ سے۔ فَإِذَا أَنَا وَصَلْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ الْمُنَوَّرَةِ وَالْبَلْدَةِ الْمُكَرَّمَةِ، پس جب میں پہنچا مدینہ منورہ اور معزز ‏شہر میں، فَقُرِأَ عَلَيَّ الْكِتَابُ الْمَذْكُورُ بَعْضُ خُلَّانِي، تو پڑھی مجھ سے یہ مذکورہ کتاب بَعْضُ ‏خُلَّانِي، بعض میرے گہرے دوستوں نے، وَخُلَّصُ إِخْوَانِي، اور میرے بھئی بعض مخلص ‏بھئیوں نے مِنَ الْخُطَبَاءِ الْمُعَظَّمَةِ لِلْحَرَمِ الشَّرِيفِ وَالْمَسْجِدِ الْمُنِيفِ، عالی شان مسجد اور حرم ‏شریف کے معزز خطباء میں سے بعض گہرے دوستوں اور بعض مخلص بھئیوں نے، ‏بعض میرے مخلص بھئیوں نے مجھ سے مذکورہ کتاب پڑھی۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے ‏بھئی؟ دوبارہ ترجمہ اس جملے کا ذرا سنیں اور آخر سے ہوگا ترجمہ۔ عالی شان مسجد اور حرم ‏شریف کے معظم خطیبوں میں سے بعض میرے گہرے دوستوں اور بعض میرے مخلص ‏بھئیوں نے مجھ سے یہ مذکورہ کتاب پڑھی۔ فَاقْتَرَحُوا بِهَذَا الْأَمْرِ الْعَظِيمِ وَالْخَطْبِ الْجَسِيمِ، پس انہوں نے درخواست کی مجھ سے اس عظیم ‏کام کی وَالْخَطْبِ الْجَسِيمِ اور اس بڑے امر کی۔ وَحَكَمُوا عَلَيَّ جَبْرًا، اور انہوں نے فیصلہ کر ‏دیا میرے خلاف جبراً، وَلَمْ يَتْرُكُوا لِي عُذْرًا، اور نہیں چھوڑا انہوں نے میرے لیے کوئی ‏عذر۔ فَشَرَعْتُ فِي إِسْعَافِ مَأْمُولِهِمْ وَإِنْجَاحِ مَسْئُولِهِمْ، پس میں ان کی آرزو کے پورا کرنے میں ‏اور ان کے مقصد کو پورا کرنے میں شروع ہوا، عَلَى حَسَبِ مَا كَانَ مُسْتَحْضَرًا لِي فِي الْحَالِ، ‏اسی کے بقدر جو کچھ مجھے میسر تھا اس حال کے اندر، مِنْ غَيْرِ تَوَجُّهٍ إِلَى مَا قِيلَ أَوْ يُقَالُ، ‏بغیر توجہ کیے بے فائدہ ابحاث کی طرف، وَسَمَّيْتُهُ بِكِتَابِ نُورِ الْأَنْوَارِ فِي شَرْحِ الْمَنَارِ، اور ‏اس کا نام میں نے منار کی شرح میں کتابِ نور الانوار رکھا۔ تو میں نے اس کا نام نور الانوار فی شرح المنار رکھا۔ وَاللَّهُ الْمُوَفِّقُ فِي الْبِدَايَةِ وَالنَّهَايَةِ، اور ‏اللہ ہی توفیق دینے والے ہیں ابتدا کے اندر اور انتہا کے اندر۔ وَهُوَ حَسْبِي لِلسَّعَادَةِ وَالْهِدَايَةِ، ‏اور اللہ ہی میرے لیے کافی ہیں میری نیک بختی کے لیے اور رہنمائی کے لیے۔ وَالْمَسْئُولُ ‏عَنْهُ، اور اللہ سے یہ سوال ہے یعنی یہ دعا ہے، أَنْ يَجْعَلَهُ خَالِصًا لِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ، کہ وہ اس ‏کتابِ نور الانوار کو خالص اپنی ذات اپنی معظم ذات کے لیے کر لے، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا ‏بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ، اور گناہ سے پلٹنا اور نیکی کی طاقت جو ہے وہ نہیں ہے مگر اللہ کے ‏ساتھ، اللہ کی مدد کے ساتھ، وہ اللہ العلي العظيم، جو بلند ہے اور عظیم ہے۔ چلیے باصفا، ‏ھذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔