Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-001

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 03 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 24
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
سبق نمبر۔۱‏ اچھا بھئی، پڑھیے بھئی۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمد لله رب العالمين۔ اللهم صل على سيدنا ومولانا ‏محمد وعلى آله وأصحابه وبارك وسلم۔ اللهم صل على سيدنا ومولانا محمد وعلى آله وأصحابه وبارك ‏وسلم۔ اللهم صل على سيدنا ومولانا محمد وعلى آله وأصحابه وبارك وسلم۔ ربنا يسر لنا هذا الكتاب ولا تعسره وتممه بالخير وبك نستعين يا فتاح يا عليم۔ ربنا يسر لنا هذا الكتاب ولا ‏تعسره وتممه بالخير وبك نستعين يا فتاح يا عليم۔ ربنا يسر لنا هذا الكتاب ولا تعسره وتممه بالخير وبك ‏نستعين يا فتاح يا عليم۔ اللهم صل على سيدنا ومولانا محمد وعلى آله وأصحابه وبارك وسلم۔ اللهم صل على سيدنا ومولانا محمد ‏وعلى آله وأصحابه وبارك وسلم۔ اللهم صل على سيدنا ومولانا محمد وعلى آله وأصحابه وبارك وسلم۔ اچھا بھئی، اب تھوڑی سی کتاب کی عبارت بھی پڑھ لیں کوئی بھی۔ بسم الله الرحمن الرحيم۔ الحمد لله الذي جعل اصول الفقه مرقاة لشعائر الاحكام وآثارا لتمييز الحلال ‏والحرام، وصيرها موثقة بالبراهيم والدلائل، وموشحة بالحلي والشمايل، والصلاة والسلام على سيدنا محمد ‏الذي أجرى هذه الرسوم إلى يوم الدين، أجرى هذه الرسوم إلى يوم الدين، أجرى هذه الرسوم إلى يوم الدين، ‏وأيد العلماء بالأيدي المتين، ورفع درجاتهم في أعلى عليين وشهد لهم بالفلاح واليقين، ورفع درجاتهم في ‏أعلى عليين وشهد لهم بالفلاح واليقين، وعلى آله الهادين للمهتدين، والتابعين لهم ولتابعيه من الأئمة ‏المجتهدين۔ اچھا بھئی، لکھیے بھئی سب علم فقہ کی، اصول فقہ کی تعریف، موضوع اور غرض و غایت بھئی۔ ‏علمِ اصولِ فقہ کی تعریف‎:‎ هو علم، هو علم بقواعد، هو علم بقواعد يتوصل بها، يتوصل ص کے ساتھ ہے بھئی، يتوصل بها إلى، ‏هو علم بقواعد يتوصل بها إلى استنباط الأحكام، استنباط بھئی، س ہے، ت دو نقطوں والی، ن، ب، ا اور ‏ط، استنباط الأحكام الشرعية الفرعية، الأحكام الشرعية الفرعية من أدلتها، من أدلتها التفصيلية، التفصيلية۔ یعنی علم فقہ، علم اصول فقہ، ان قوانین کے جاننے کا نام ہے، ان قوانین کے جاننے کا نام ہے جن کے ‏ذریعے شرعی فرعی احکام کو، شرعی فرعی احکام کو ادلہ اربعہ سے نکالا جاتا ہے، نکالا جاتا ہے۔ ادلہ ا، ادلہ تفصیلیہ سے مراد ادلہ اربعہ ہیں۔ ادلہ تفصیلیہ سے مراد ادلہ اربعہ ہیں، یعنی قرآن، حدیث، ‏اجماع اور قیاس۔ یعنی قرآن، حدیث، اجماع اور قیاس۔ تعریف سمجھ میں آئی بھئی؟ علم اصول فقہ کس چیز کا نام ہے؟ قوانین کا نام ہے بھئی جان۔ قواعد ‏ہیں، ضابطے ہیں جن کے ذریعے ادلہ اربعہ سے یعنی قرآن، حدیث، اجماع اور قیاس کے ذریعے ‏احکام شرعیہ فرعیہ کو پہچانا جاتا ہے، ان کو معلوم کیا جاتا ہے بھئی۔ احکام کے ساتھ شرعی اور فرعی کی قید بڑھا دی بھئی۔ شرعی کی قید لگائی تو غیر شرعی احکام ‏خارج ہوئے بھئی۔ اور فرعی کی قید لگائی تو احکام اصلیہ نکل گئے بھئی۔ یاد رکھیے کچھ احکام کا ‏تعلق عقیدے سے ہے اور کچھ کا تعلق عمل سے ہے۔ یہاں عقیدے کی بحث ہم نہیں کریں گے بھئی، ‏عقیدہ اللہ ایک ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری پیغمبر ہیں، قیامت قائم ہوگی، سمجھ میں ‏آیا بھئی؟ وغیرہ۔ تو یہاں یہ عقیدے کی بحث نہیں ہوگی بلکہ عمل سے متعلق جو احکام ہیں نماز، ‏روزہ، زکوٰۃ، حج وغیرہ ان احکام کے نکالنے کے قوانین کو معلوم کیا جائے گا بھئی، ان کو، وہ قوانین ‏ذکر ہوں گے یہاں پر۔ موضوع بھئی، علم اصول فقہ کا موضوع: اس کا موضوع ادلہ اربعہ ہیں۔ اس کا موضوع ادلہ اربعہ ‏ہیں۔ غرض و غایت، غرض و غایت، غرض و غایت بھئی: تحصيل القدرة، تحصيل القدرة على، على ‏استنباط الأحكام الشرعية الفرعية، استنباط الأحكام الشرعية الفرعية من أدلتها التفصيلية، من أدلتها ‏التفصيلية۔ یعنی ادلہ اربعہ سے، یعنی ادلہ اربعہ سے احکام شرعیہ، احکام شرعیہ معلوم کرنے کی قدرت حاصل ‏کرنا، احکام شرعیہ معلوم کرنے کی قدرت حاصل کرنا۔ سمجھ میں آیا بھئی غرض و غایت؟ مقصد یعنی کیا ہے اس علم کا؟ تو کہ کیا لکھوایا آپ کو؟ ادلہ اربعہ ‏سے احکام شرعیہ کو معلوم کرنے کا، معلوم کرنے کی قدرت حاصل کرنا کہ کیسے معلوم کریں گے ‏بھئی احکام شرعیہ کو۔ آگے لکھیے بھئی، احوال ماتن، مختصر مختصر بھئی۔ متن بھئی یہاں یاد رکھیے، متن جو ہے اس کا ‏نام ہے منار، منار۔ اور یہ نور الانوار اس کی شرح ہے بھئی۔ متن کا نام منار ہے۔ تو ماتن کے احوال پہلے بھئی مختصر طور پر۔ ماتن یعنی منار کے مصنف، یعنی منار کے مصنف ابو ‏البرکات عبد اللہ ابن احمد ہیں۔ ابو البرکات عبد اللہ ابن احمد نسفی، نسف ن، س ہے بھئی، نسفی رحمہ ‏اللہ تعالیٰ ہیں۔ ان کا لقب حافظ الدین ہے۔ ان کا لقب حافظ الدین ہے۔ آپ ما وراء النہر، آپ ما وراء النہر کے، کے ایک شہر نسف کے رہنے والے تھے۔ نسف کے رہنے ‏والے تھے۔ ما وراء النہر یاد رکھیے یہ افغانستان کا، دوسری طرف کا کنارہ اور روس کا علاقہ، یہ ما وراء النہر ‏کہلاتے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ افغانستان کا روس کی جانب جو کنارہ ہے، افغانستان کا بھی ‏کچھ حصہ اس میں آ جاتا ہے اور ایران کا بھی کچھ آ جائے گا، کچھ حصہ روس کا بھئی۔ سمرقند و بخارا روس میں ہیں مولانا جہاں بڑے مراکز تھے ہمارے علوم کے بھئی، امام مسلم، امام ‏ترمذی، امام بخاری، صاحب ہدایہ وغیرہ، یہ بڑے بڑے علماء، جبال العلوم سارے وہاں کے گزرے ‏ہیں، انسان حیران ہوتا ہے بھئی اللہ نے کتنی برکتیں رکھی تھیں اس علاقے میں، لیکن اب وہاں ایسے ‏حوادثات پیش آئے کہ آہستہ آہستہ دین وہاں بالکل ہی مٹ گیا بھئی۔ اب تو کلمہ پڑھنے والا بھی معلوم نہیں وہاں ملتا ہے یا نہیں، بہرحال اب تو صورتحال بہتر ہوئی ہے ‏جب سے روس کے ٹکڑے ہوئے ہیں کچھ اور تبلیغی جماعت کی خصوصاً برکات ہیں اور جہاد کے ‏ثمرات ہیں، پھر آہستہ آہستہ وہاں مسلمانوں کی حالت بہتر ہو رہی ہے۔ تو یہ بڑا علم خیز علاقہ تھا ‏بھئی یہ ما وراء النہر کا۔ اب وہ تمام برکات ہندوستان میں آ گئی ہیں بھئی دیوبند کے اندر، دین کے ہر ‏شعبے کے اندر علماء دیوبند کی بڑی خدمات اور، بڑی خدمات ہیں بھئی ہر شعبے کے اندر۔ اچھا، کیا لکھوایا بھئی؟ اسی نسبت سے آپ نسفی کہلاتے ہیں۔ اسی نسبت سے آپ، آپ نسفی کہلاتے ‏ہیں۔ آپ بڑے متقی و پرہیزگار اور بہت بڑے عالم دین تھے۔ اور بہت بڑے عالم دین تھے۔ علم فقہ اور علم اصول فقہ میں آپ کی مہارت انتہا کو پہنچی ہوئی تھی۔ علم فقہ اور اصول فقہ میں آپ ‏کی مہارت انتہا کو پہنچی ہوئی تھی۔ حنفی اصول فقہ میں، حنفی اصول فقہ میں آپ کے لکھے ہوئے متن، آپ کے لکھے ہوئے متن منار ‏کو بڑی مقبولیت حاصل ہوئی۔ بڑی مقبولیت حاصل ہوئی۔ منار بڑا مختصر، جامع، بڑا مختصر، جامع اور پیارا متن ہے۔ اور پیارا متن ہے۔ صدیوں سے یہ متن، صدیوں سے یہ متن علماء کی توجہ کا مرکز ہے اور مدارس میں پڑھایا جاتا ہے۔ ‏اور مدارس میں پڑھایا جاتا ہے۔ صدیوں سے یہ متن علماء کی توجہ کا مرکز ہے اور مدارس میں پڑھایا جاتا ہے جو کہ اس کے عند ‏اللہ مقبول ہونے کی علامت ہے۔ جو کہ اس کے عند اللہ مقبول ہونے کی علامت ہے۔ آپ کا ایک اور متن "کنز الدقائق" بھی، "کنز الدقائق" بھی صدیوں سے طلاب علوم دینیہ کو پڑھایا ‏جاتا ہے۔ طلاب علوم دینیہ کو پڑھایا جاتا ہے۔ آپ کی وفات 710 یا 711 ہجری میں ہوئی۔ آپ کی ‏وفات 710 یا 711 ہجری میں ہوئی۔ جی آگے لکھیے بھئی شارح کے احوال، شارح کے احوال۔ نور الانوار، نور الانوار کے مصنف کا نام ‏احمد ہے۔ احمد ہے۔ آپ ملا جیون کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ ملا جیون کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ کی پیدائش، آپ کی پیدائش تقریباً 1048 ہجری میں ہوئی۔ 1048 ہجری میں ہوئی۔ جائے پیدائش، ‏جائے پیدائش ہندوستان کے شہر، ہندوستان کے شہر لکھنؤ کے قریب، لکھنؤ کے قریب ایک بستی ‏امیٹھی ہے۔ لکھنؤ کے قریب ایک بستی امیٹھی ہے۔ ملا جیون خلیفہ اول، خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد میں سے ہیں۔ ‏حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد میں سے ہیں۔ آپ کی شخصیت کی عظمت کا اندازہ، آپ کی شخصیت کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا ‏سکتا ہے، اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہندوستان کا مشہور ولی اللہ بادشاہ، کہ ہندوستان کا مشہور ‏ولی اللہ بادشاہ اورنگزیب عالمگیر آپ کے شاگردوں میں سے ہے۔ اورنگزیب عالمگیر آپ کے ‏شاگردوں میں سے ہے۔ بادشاہ اور شہزادے آپ کا بے انتہا احترام کرتے اور آپ کی خدمت کے متمنی رہتے، اور آپ کی ‏خدمت کے متمنی رہتے۔ مگر آپ نے بادشاہ کے دربار، مگر آپ نے بادشاہ کے دربار سے وابستہ ‏ہونے کے باوجود، بادشاہ کے دربار سے وابستہ ہونے کے باوجود کبھی اپنے دامن کو دنیا سے آلودہ ‏نہ ہونے دیا۔ اپنے دامن کو دنیا سے آلودہ نہ ہونے دیا۔ نہایت سادہ، نہایت سادہ اور تکلفات سے خالی ‏زندگی گزاری، اور تکلفات سے خالی زندگی گزاری۔ ذات باری تعالیٰ نے آپ کو نہایت قوی حافظہ نصیب فرمایا تھا ۔ درسی کتابوں کے صفحات کے ‏صفحات آپ کے حافظے میں محفوظ تھے، درسی کتابوں کے صفحات کے صفحات آپ کے حافظے ‏میں محفوظ تھے۔ طویل طویل، طویل طویل قصیدے ایک ہی مرتبہ سن کر، ایک ہی مرتبہ سننے سے ‏انہیں یاد ہو جاتے تھے بھئی اتنا قوی حافظہ تھا۔ آپ کی ساری عمر درس و تدریس میں بسر ہوئی۔ حرمین شریفین کے سفر کے دوران، حرمین شریفین ‏کے سفر کے دوران آپ نے صرف دو ماہ سات دن کے اندر، آپ نے صرف دو ماہ سات دن کے اندر ‏نور الانوار جیسی عظیم کتاب تصنیف فرمائی، نور الانوار جیسی عظیم کتاب تصنیف فرمائی۔ آپ کا انتقال 1130 ہجری میں ہوا، آپ کا انتقال 1130 ہجری میں ہوا۔ آپ نے اور بھی کئی کتابیں ‏تصنیف فرمائیں مثلاً تفسير احمدى، تفسير احمدى، آداب احمدی، آداب احمدی، السوانح، السوانح، مناقب ‏الاولياء، مناقب الاولياء۔ ان میں سے تفسیر احمدی کو زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔ تفسیر احمدی میں آپ نے، تفسیر احمدی میں آپ نے 500 کے لگ بھگ ان آیات کی تفسیر بیان کی ‏ہے، جن میں شرعی احکام بیان ہوئے ہیں ۔ جی بس بھئی! شارح کے احوال ختم ہوئے بھئی۔ چلیے بس کریں مولانا، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة ‏الكلام۔