Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-004

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Ghais
📍 Location Lahore, Pakistan
📅 Approved Date 02 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 33
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی، وَيَنْعَقِدُ بِلَفْظِ النِّكَاحِ وَالتَّزْوِيجِ وَالْهِبَةِ وَالتَّمْلِيكِ وَالصَّدَقَةِ، وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: لَا يَنْعَقِدُ إلَّا بِلَفْظِ ‏‏النِّكَاحِ وَالتَّزْوِيجِ؛ لِأَنَّ التَّمْلِيكَ لَيْسَ حَقِيقَةً فِيهِ وَلَا مَجَازًا عَنْهُ، لِأَنَّ التَّزْوِيجَ لِلتَّلْفِيقِ وَالنِّكَاحَ لِلضَّمِّ.‏ بھئی گزشتہ سبق میں ہم نے کتاب النکاح شروع کی تھی بھئی، اور نکاح کی شرعی تعریف میں نے آپ کو لکھوائی تھی کہ ‏‏شریعت میں اور فقہ میں نکاح کس کو کہتے ہیں؟ هو عقد يفيد ملك المتعة قصدا. هو عقد يفيد ملك المتعة قصدا، وہ ایسا عقد ‏‏ہے جو قصداً ملک متعت کا فائدہ دے۔ یعنی وہاں مقصود ہی ملک متعت ہوتا ہے، تو یہ قصداً کی قید کے ذریعے باندی کے ‏‏خریدنے کو، باندی کی بیع و شراء کو نکال دیا۔ اس لیے کیونکہ باندی کی بیع و شراء میں بھی ملک متعت حاصل ہوتی ‏‏ہے، لیکن وہاں اصل مقصود ملک متعت نہیں ہوتی بلکہ ملک رقبی مقصود ہوتی ہے۔ اور پھر جب ملک رقبی آ جائے گی ‏‏تو اسی کے تابع ہو کر ملک متعت بھی حاصل ہو جائے گی۔ تو دیکھو یہ جو شرعی تعریف ہے، هو عقد، نکاح کس چیز کا نام ہے؟ وہ اس عقد کا نام ہے، يفيد ملك المتعة قصدا، جو ‏‏قصداً ملک متعت کا فائدہ دے۔ یہ جو عقد کا لفظ آیا، میں نے آپ کو بتلایا کہ اس سے مصدر نہیں مراد بلکہ حاصل ‏‏بالمصدر مراد ہے۔ ایک ہے مصدر اور ایک ہے حاصل بالمصدر۔ مصدر جو ہے وہ کسی کی صفت ہوتا ہے۔ مثلاً زید ‏‏ہنسا، تو ہم کہیں گے کہ ہنسنا زید کی صفت ہے۔ یا یوں کہو زید ہنس رہا ہے، تو ہم کہیں گے کہ یہ ہنسنا کیا ہے؟ زید کی ‏‏صفت ہے، زید ہے تو یہ والا زید کا ہنسنا بھی ہے، زید نہیں تو زید کا ہنسنا بھی نہیں۔ تو مصدر جو ہے وہ کسی کی صفت ‏‏ہوتی ہے، اور مصدر کا خارج میں وجود نہیں ہوتا۔ مصدر کا خارج میں وجود نہیں ہوتا، ہاں اس مصدر کی وجہ سے جو ‏‏صورت اور ہیئت حاصل ہوتی ہے، وہ ہمیں کبھی کبھار خارج میں نظر آتی ہے۔ تو ہنسنے سے جو صورت اور کیفیت ‏‏حاصل ہوئی یعنی ہنسی، وہ ہمیں خارج میں نظر آتی ہے۔ ہنسنا خارج میں نظر نہیں آتا کیونکہ ہنسنے کا خارج میں وجود ‏‏ہی نہیں ہے، وہ زید کی صفت ہے، وہ ایک فعل کا نام ہے، جس کا الگ کوئی وجود ہی نہیں۔ ہاں اس فعل پر عمل کرنے ‏‏کی وجہ سے جو صورت بنے گی، وہ ہمیں خارج میں نظر آئے گی۔ اسی طرح جیسے دوڑنا، زید دوڑ رہا ہے، تو یہ زید ‏‏کا فعل کیا ہوا؟ دوڑنا، یہ زید کی صفت ہے۔ لیکن خارج میں ہمیں دوڑنا نہیں نظر آ رہا، بلکہ اس دوڑنے سے جو صورت ‏‏حاصل ہوئی یعنی دوڑ، وہ ہمیں نظر آ رہی ہے اور وہ ہے حاصل بالمصدر۔ دیکھو لفظوں پہ خود غور کر لیں، حاصل ‏‏بالمصدر یعنی وہ چیز جو حاصل ہو رہی ہے بالمصدر، کس کی وجہ سے؟ مصدر کی وجہ سے، وہ ہے حاصل بالمصدر ‏‏بھئی۔ تو نکاح جو ہے، تعریف کے اندر کیا آیا؟ هو عقد، یہ عقد، یہ مصدر کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور حاصل ‏‏بالمصدر کے لیے بھی، تو یہاں عقد سے وہ مصدر نہیں مراد بلکہ حاصل بالمصدر مراد ہے بھئی۔ تو نکاح جو ہے اس حاصل بالمصدر کا نام ہے بھئی۔ لیکن علمائے محققین فرماتے ہیں کہ یہ ایجاب و قبول جس کے ‏‏ذریعے یہ عقد منعقد ہو، یہ بھی اس کی حقیقت سے خارج نہیں۔ تو یہ نکاح کرنے والے جو ایجاب و قبول کرتے ہیں، وہ ‏‏ارکان نکاح ہیں، اور رکن شے، شے کے اندر داخل ہوتی ہے۔ تو معلوم ہوا، نکاح جو ہے، وہ عقد ہے یعنی وہ حاصل ‏‏بالمصدر ہے، اور اس کے ساتھ ایجاب و قبول جو ہیں، وہ بھی اس عقد کی حقیقت میں، اس نکاح کی حقیقت میں داخل ہیں ‏‏کیونکہ ان کو محققین نے کیا قرار دیا ہے؟ رکن نکاح قرار دیا ہے، اور رکن شے جو ہے، شے کے اندر داخل ہوتی ہے ‏‏بھئی۔ اور پھر صاحب قدوری نے آپ کو بتلایا کہ یہ ایجاب اور قبول جو ہیں، ماضی کے صیغے ہونے چاہئیں بھئی۔ میں نے آپ ‏‏کو بتلایا تھا کہ اردو زبان کے اندر ماضی کے صیغوں کے ساتھ بھی نکاح منعقد ہو جائے گا، اور حال کے صیغوں کے ‏‏ساتھ بھی نکاح منعقد ہو جائے گا بھئی۔ البتہ مستقبل کے صیغوں کے ساتھ نکاح منعقد نہیں ہوگا، اس لیے کیونکہ جب آپ ‏‏مستقبل کی بات کر رہے ہیں، تو معلوم ہوا آپ صرف ایک وعدہ کر رہے ہیں، آپ کا عقد کرنے کا ارادہ نہیں ہے۔ تو عقد ‏‏کے لیے یا ماضی کے صیغے ہونے چاہئیں یا حال کے، تو اردو میں ماضی کا صیغہ بھی الگ ہے اور حال کا صیغہ بھی ‏‏الگ ہے، لہٰذا ان دونوں سے عقد نکاح یا عقد بیع منعقد ہو جائیں گے۔ لیکن عربی زبان کے اندر ماضی کا صیغہ تو الگ ‏‏ہے لیکن حال کا الگ صیغہ نہیں، وہی فعل مضارع جو ہے، وہ حال کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور مستقبل کے لیے ‏‏بھی استعمال ہوتا ہے۔ وہی اتزوج، اس کا معنی آپ یہ بھی کر سکتے ہیں، میں نکاح کرتا ہوں یعنی حال والا ترجمہ، اور ‏‏اتزوج کا یہ معنی بھی آپ کر سکتے ہیں کہ میں نکاح کروں گا، تو اگر مستقبل والا معنی کریں، پھر تو یہ صرف ایک ‏‏وعدہ ہوا، یہ تو معلوم ہوا یہ عقد کر نہیں رہا بلکہ عقد کا وعدہ کر رہا ہے بھئی۔ توجہ ہے؟ تو عربی زبان میں چونکہ حال ‏‏کا الگ صیغہ ہے ہی نہیں، مضارع ہے لیکن اس میں تو مستقبل کا بھی احتمال ہوتا ہے، اس لیے مضارع کے صیغے کے ‏‏ساتھ عقد منعقد نہیں ہوگا کیونکہ اس میں مستقبل کا بھی شک آ گیا بھئی، اور عقد جو ہے وہ یقینی کلام کے ذریعے ہوگا، ‏‏شک والے کلام کے ساتھ عقد منعقد نہیں ہوگا بھئی۔ اس کے بعد پھر یہ اشکال ہوا کہ ایجاب اور قبول جو ہیں، آپ نے فرمایا کہ وہ ماضی کے صیغے ہونے چاہئیں، لیکن ‏‏ماضی تو خبر دینے کے لیے وضع کی گئی ہے۔ اور ایجاب و قبول کے ذریعے مقصد کیا ہے؟ انشاء ہے یعنی عقد کو ‏‏وجود دینا ہے۔ مثلاً ایک شخص دوسرے شخص کے ہاتھ کوئی چیز فروخت کرتا ہے، تو جیسے ہی ایجاب و قبول کریں ‏‏گے، ان کے درمیان بیع کا وجود آ گیا، انہوں نے بیع کو وجود دے دیا، اور جب بیع پائی جائے، تو مشتری مبیع کا مالک ‏‏بن جاتا ہے۔ تو ایجاب و قبول نے کس چیز کو وجود دیا؟ بیع کو، بیع نہ ہوتی تو مشتری مالک بھی نہیں بن سکتا تھا، تو ‏‏معلوم ہوا کہ یہ ایجاب اور قبول جو ہیں، یہ انشاء عقد کر رہے ہیں، یہ ایک عقد کو وجود دے رہے ہیں۔ حالانکہ صیغے ‏‏کون سے؟ ماضی کے، اور ماضی تو خبر دینے کے لیے ہے کہ گزشتہ کوئی بات گزری ہوتی ہے، آپ اس کی خبر کسی ‏‏کو دیتے ہیں کہ میں کل فلاں جگہ گیا تھا، کل میں نے زید سے ملاقات کی تھی، کل میں نے سبق پڑھا تھا، تو آپ گزشتہ ‏‏زمانے کی خبر دیتے ہیں کسی کو اس ماضی کے صیغے کے ساتھ، تو اس کے ذریعے انشاء عقد کیسے ہو سکتا ہے؟ تو اس کا جواب دیا تھا صاحب ہدایہ نے کہ ماضی وضع تو خبر کے لیے ہے، لیکن چونکہ انسان محتاج تھا نکاح کرنے ‏‏کا، شریعت نے اس کو نکاح کی اجازت دی ہے، اور وہ نکاح کی مصلحتیں اور فائدے حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ محتاج ‏‏ہوا نکاح کرنے کا، اور عربی زبان میں کوئی بھی لفظ جو ہے، انشاء نکاح کے لیے موجود نہیں، انشاء بیع کے لیے ‏‏موجود نہیں، تو شریعت نے یہ ماضی کے صیغے کو ہی انشاء عقد کے لیے قرار دے دیا۔ کس کے لیے قرار دے دیا؟ ‏‏انشاء عقد کے لیے قرار دے دیا کہ اس کے ذریعے انشاء عقد ہو جائے گا تاکہ انسان کی ضرورت پوری ہو جائے، تاکہ ‏‏اس کی حاجت دور ہو جائے بھئی۔ اور پھر صاحب ہدایہ نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ نکاح دو ایسے لفظوں سے بھی منعقد ہو جائے گا، جن میں سے ایک ‏‏مستقبل والا صیغہ ہو اور ایک ماضی کا صیغہ ہو، مثلاً ایک شخص دوسرے سے کہتا ہے، زوجنی، تو مجھ سے نکاح کر ‏‏لے، تو وہ جواب میں کہتا ہے، زوجتك، میں نے تجھ سے نکاح کر لیا۔ اب اس کے اندر دیکھو، زوجنی، یہ امر کا صیغہ ‏‏ہے۔ لیکن علمائے کرام فرماتے ہیں کہ یہ نکاح منعقد ہو جائے گا جبکہ نکاح کی باقی شرائط پوری ہوں یعنی گواہ وغیرہ ‏‏موجود ہوں بھئی۔ بھئی کیسے نکاح منعقد ہوگا؟ نکاح کے لیے تو ایجاب اور قبول چاہیے، اور ایجاب اور قبول کون سے ‏‏صیغے ہونے چاہئیں؟ یا ماضی کے یا حال کے، اور عربی زبان میں تو ماضی کا صیغہ ہونا چاہیے، تو یہاں پر زوجنی، ‏‏یہ تو امر ہے اور امر تو مستقبل کے لیے آتا ہے، تو جواب یہ کہ جو پہلے شخص نے زوجنی کہا، یہ دوسرے کو اپنے ‏‏نکاح کا وکیل بنا رہا ہے۔ اپنے نکاح کا وکیل بنا رہا ہے، اور دوسرے شخص نے جو زوجتك کا کہا، یہی کلام ایجاب کے ‏‏بھی قائم مقام ہے اور قبول کے بھی قائم مقام ہے، کیونکہ یہ کہنے والا جو دوسرا شخص ہے، یہ کلام دونوں کی طرف ‏‏سے شمار ہوگا، خود اس کی طرف سے بھی شمار ہوگا کیونکہ وہ اپنا نکاح کر رہا ہے، وہ اصیل ہے، اور پہلے شخص ‏‏نے اس کو وکیل بنایا تھا، تو اس کا یہ کلام بطور وکیل کے بھی ہوا۔ تو یہ کلام بطور اصیل کے بھی ہے اور بطور وکیل ‏‏کے بھی ہے، تو یہ دونوں کے ایجاب اور قبول کے قائم مقام ہو گیا، اور اس سے عقد نکاح منعقد ہو جائے گا۔ اور پھر صاحب ہدایہ نے آپ کو ایک قیمتی ضابطہ بتلایا کہ الواحد يتولى طرفي النكاح، کہ ایک ہی شخص نکاح کی دو ‏‏جانب کا متولی ہو سکتا ہے۔ متولی یعنی ذمہ دار ہو سکتا ہے یعنی جس کو نکاح کی ولایت حاصل ہو، ولایت کہتے ہیں ‏‏اختیار کو۔ دیکھو شریعت نے ہر بالغ شخص کو حق دیا ہے، وہ اپنا نکاح کر سکتا ہے، معلوم ہوا اس کو اپنی ذات پر ولایت ‏‏حاصل ہے، وہ اپنا نکاح کر سکتا ہے۔ تو بعض اوقات ایک شخص دوسرے کو اپنا وکیل بنا دیتا ہے یعنی وہ جو اختیار اس ‏‏کو حاصل تھا، اس اختیار میں کسی کو اپنا وکیل بنا دیا یعنی اس کو بھی یہ اختیار دے دیا، وہ کیا کر سکتا ہے؟ اس کا ‏‏نکاح اب پڑھا سکتا ہے، اور خود بخود ولایت حاصل ہوئی یا اس موکل نے اس کو یہ ولایت دی بھئی؟ اس موکل نے اس ‏‏کو یہ اختیار دیا، یہ ولایت دی، تو ایک ہی وکیل دونوں جانب کا متولی ہو سکتا ہے یعنی ایک آدمی ایک شخص کو اپنے ‏‏نکاح کا وکیل بنا دیتا ہے کہ فلاں جگہ میرا نکاح کروا دو، اور وہ عورت بھی اسی شخص کو اپنا وکیل بنا دیتی ہے کہ اس ‏‏شخص سے میرا نکاح پڑھا دو۔ اب یہ جو وکیل ہے، یہ دونوں طرف سے نکاح کا متولی ہو گیا، یہ دو گواہوں کے سامنے ‏‏کہتا ہے کہ میں نے زید کا نکاح فلانی عورت سے کر دیا، بس بھئی، یہ جملہ جیسے ہی دو گواہوں کے سامنے وہ کہے ‏‏گا، وہ مرد اور عورت میاں بیوی بن گئے، ان کے درمیان عقد نکاح منعقد ہو گیا۔ تو نکاح کے اندر ایک ہی شخص دونوں جانب کا متولی اور ذمہ دار ہو سکتا ہے، لیکن بیع وغیرہ کے اندر ایسا نہیں ہے، ‏‏ایک ہی شخص دونوں جانب کا متولی نہیں ہو سکتا۔ مثلاً ایک شخص گاڑی خریدنا چاہتا ہے اور دوسرا شخص گاڑی بیچنا ‏‏چاہتا ہے، دونوں نے زید کو وکیل بنا دیا۔ دونوں نے زید کو وکیل بنا دیا، اور اب زید کہتا ہے کہ میں نے فلاں کی گاڑی ‏‏فلاں کو بیچ دی۔ تو فقہاء فرماتے ہیں کہ نہیں، عقد بیع منعقد نہیں ہوا بھئی۔ نکاح منعقد ہو گیا تھا، لیکن بیع اس طرح سے ‏‏منعقد نہیں ہوگا، بیع کے اندر ضروری ہے کہ ایجاب اور قبول کرنے والے الگ الگ افراد ہوں، ایک ہی فرد دونوں جانب ‏‏کا متولی نہیں ہو سکتا۔ بھئی اس کی وجہ کیا ہے؟ وجہ میں نے تفصیل سے کل بیان کی تھی کہ فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ ‏‏نکاح اور بیع کے اندر فرق ہے، بیع کے اندر حقوق عقد کا تعلق متعاقدین سے ہوتا ہے، وہ دو افراد جو آپس میں عقد کر ‏‏رہے ہیں، اس بیع کے حقوق کا تعلق بھی انہی افراد سے ہوگا۔ مثلاً دو آدمیوں نے آپس میں بیع و شراء کی، تو خریدار جو ‏‏ہے وہ پھر مبیع کا مطالبہ کرتا ہے، اور بیچنے والا پیسوں کا مطالبہ کرتا ہے، تو یہ جو حق دیا بیع نے، ایک کو مبیع کا ‏‏مطالبہ کرنے کا حق دیا اور دوسرے کو پیسوں کے اور ثمن کے مطالبے کا حق دیا، یاد رکھو یہ حق عقد کرنے والوں کو ‏‏ملتا ہے۔ اگر یہ عقد کرنے والے کسی کے وکیل ہیں، تو موکل کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ جا کر اب کہے کہ لاؤ ‏‏بھئی، مبیعہ میرے حوالے کر دو، بلکہ یہ مبیعہ کا مطالبہ کون کرے گا؟ جس نے عقد کیا ہے، وہ جو اس کا وکیل ہے جس ‏‏نے عقد کیا ہے، وہی مطالبہ کرے گا کہ لاؤ مبیعہ میرے حوالے کرو۔ اگر موکل چلا بھی جائے اور جا کر کہے بھئی، ‏‏میرے وکیل نے آپ سے فلاں چیز خریدی تھی، اب لاؤ وہ چیز میرے حوالے کر دو، میں اس کا مالک بن چکا ہوں، تو ‏‏بیچنے والا کہے گا کہ بھئی، میرا آپ کے ساتھ کوئی معاملہ نہیں ہوا، میرا معاملہ تو آپ کے وکیل کے ساتھ ہوا تھا، وہی ‏‏آئے اور آ کر مطالبہ کرے تو وہ مبیعہ میں اس کے حوالے کر دوں گا۔ اسی طرح اگر وہ جو بیچنے والا تھا، وہ کسی کا ‏‏وکیل تھا، اس نے مثلاً گاڑی آپ کے ہاتھ فروخت کر دی۔ اب جس وکیل نے گاڑی فروخت کی ہے آپ کے ہاتھ، شریعت ‏‏نے اسی کو حق دیا ہے، یہ آپ سے مطالبہ کرے گا کہ لائیے اب گاڑی کے پیسے میرے حوالے کر دیجیے، تو وکیل کو ‏‏یہ حق ہے، موکل کو یہ حق نہیں کہ وہ آ کر آپ سے پیسوں کا مطالبہ کرے، اگر وہ مطالبہ کرے گا بھی، تو آپ اس کو ‏‏کہیں گے کہ بھئی، میرا اور آپ کا تو کوئی بیع والا معاملہ نہیں ہوا، میرا معاملہ تو فلاں آدمی سے ہوا تھا جو آپ کا وکیل ‏‏ہے، میں پیسے اسی کے حوالے کروں گا، آپ کے حوالے نہیں کروں گا۔ تو حاصل کلام یہ کہ بیع کے اندر حقوق بیع کا تعلق عقد کرنے والوں سے ہوتا ہے، چاہے عقد کرنے والا اصیل ہے، ‏‏چاہے وہ وکیل ہے۔ جو بھی عقد کر رہا ہے، حقوق عقد کا تعلق اسی سے ہوگا۔ جو وہ جو عقد کرنے والا ہے، جو خریدار ‏‏ہے، وہ مبیع کا مطالبہ کرتا ہے، تو یہ مبیع کا مطالبہ کرنا اس عقد کرنے والے مشتری ہی کا کام ہے۔ تو یہ مشتری کیا ‏‏بنے گا؟ مطالب بن جائے گا، یہ مبیع کا مطالبہ کرے گا، اور وہ جو بائع ہے، وہ اس سے مطالبہ کیا جائے گا تو وہ مطالب ‏‏بن جائے گا بھئی۔ تو مطالب اور مطالب، یاد رکھو، الگ الگ افراد ہونے چاہئیں، ایک ہی شخص مطالب اور مطالب نہیں ہو سکتا۔ مثلاً آپ ‏‏مبیع کا مطالبہ کر رہے ہیں، تو مبیع کا مطالبہ آپ اپنے آپ سے تو نہیں کریں گے بلکہ کسی دوسرے فرد سے کریں گے، ‏‏تو مطالب الگ ہونا چاہیے اور مطالب یعنی جس سے مطالبہ کیا جائے وہ الگ شخص ہونا چاہیے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ ‏‏تو مطالب اور ہونا چاہیے اور مطالب اور ہونا چاہیے۔ اسی طرح جو بیچنے والا ہے، وہ ثمن کا مطالبہ کرے گا، تو وہ ‏‏مطالب ہوا، اور کس سے ثمن کا مطالبہ کرے گا؟ مشتری سے کہ آپ نے گاڑی خرید لی، اب پیسے میرے حوالے کرو، تو ‏‏بائع کیا بن گیا ثمن کا؟ مطالب، اور خریدار کیا بنا؟ مطالب، تو یہ مطالب اور مطالب الگ الگ افراد ہونے چاہئیں، ایک ہی ‏‏فرد مطالب اور مطالب نہیں ہو سکتا ورنہ تو اجتماع متنافیین لازم آئے گا۔ مطالب، مطالبہ کرنے والے کو کہتے ہیں اور ‏‏مطالب، جس سے مطالبہ کیا جائے، تو جو مطالب ہے وہ مطالب نہیں ہے اور جو مطالب ہے وہ مطالب نہیں ہے بھئی، تو ‏‏دونوں الگ الگ ہونے چاہئیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ ایک ہی شخص ایک ہی حیثیت سے مطالب بھی ہو اور مطالب بھی ‏‏ہو، یہ نہیں ہو سکتا، یہ تو اجتماع متنافیین ہے، یہ تو اسی طرح ہے جیسے ایک ہی شخص کے بارے میں آپ کہیں، یہ ‏‏مالک بھی ہے اور مملوک بھی ہے یعنی خود ہی مالک ہے، کس چیز کا مالک ہے؟ اپنا ہی مالک ہے بھئی۔ مالک کو تو ‏‏تصرفات کا حق ہوتا ہے، وہ ہر قسم کے تصرفات کر سکتا ہے جبکہ اس کا مملوک اور غلام یا باندی جو ہے، اسے تو ‏‏تصرفات کا حق حاصل نہیں ہوتا بھئی۔ تو جب آپ نے کہا یہ شخص مالک ہے، اس سے تو پتہ چلا اس کو تصرفات کا حق ‏‏ہے، اور جب آپ نے کہا یہ مملوک ہے، تو پتہ چلا اس کو تصرفات کا حق نہیں، تو ایک وقت میں ایک چیز ہو سکتی ہے، ‏‏ایک شخص کو تصرفات کا حق ہوگا یا تصرفات کا حق نہیں ہوگا، تو جیسے ایک ہی شخص مالک اور مملوک نہیں ہو ‏‏سکتا، اسی طرح ایک ہی شخص مطالب اور مطالب نہیں ہو سکتا ورنہ کیا خرابی لازم آئے گی؟ اجتماع متنافیین، دو ایسی ‏‏چیزیں جو اکٹھی نہیں ہو سکتیں، آپ ان کو جمع کر رہے ہیں۔ تو لہٰذا، عقد بیع کے اندر ایک مطالب ہوگا اور ایک مطالب، اور مطالب الگ فرد ہونا چاہیے اور مطالب الگ فرد ہونا ‏‏چاہیے، اس لیے ایک ہی شخص دونوں جانب کا متولی نہیں بن سکتا عقد بیع میں۔ جبکہ نکاح کے باب میں معاملہ مختلف ‏‏ہے، نکاح کے باب میں جو وکیل ہوتا ہے، وہ صرف پیغام پہنچاتا ہے، وہ صرف سفیر ہے، پیغام رساں ہے، حقوق نکاح ‏‏کا تعلق اس سے نہیں ہوتا۔ دو آدمیوں کو وکیل بنایا گیا، ایک مرد کی طرف سے، ایک عورت کی طرف سے، اور ان ‏‏وکیلوں نے ان ان دونوں کا نکاح کروا دیا گواہوں کے سامنے، تو یہ عقد نکاح منعقد ہو گیا۔ تو یہ جو دو وکیل ہیں، انہوں ‏‏نے صرف پیغام پہنچایا ہے، انہوں نے صرف نکاح کروایا ہے، حقوق عقد کا تعلق ان سے نہیں، لہٰذا اب وہ عورت کا ‏‏وکیل دوسرے کے وکیل سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ لاؤ بھئی، اب مہر حوالے کر دو، ہم نے اس عورت کا آپ کے موکل سے ‏‏نکاح کر دیا ہے، اب اس کا مہر حوالے کرو، نہیں، وکیل سے یہ مطالبہ نہیں ہو سکتا بلکہ اس کا مطالبہ موکل سے ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کیونکہ حقوقِ عقد کا تعلق کس سے ہے؟ موکل سے ہے یہاں پر، وکیل سے نہیں۔ اسی طرح جو ‏‏لڑکے کا وکیل ہے، وہ یہ مطالبہ نہیں کر سکتا دوسرے وکیل سے کہ اب اس شخص کی بیوی اس کے حوالے کر دی ‏‏جائے۔ کیونکہ وکیل صرف پیغام رساں ہے، حقوقِ عقد کا تعلق اس سے نہیں۔ تو یہاں پر وہ وکیلوں سے مطالبہ نہیں ہو ‏‏سکتا، وکیل نہ مطالب ہے اور نہ مطالب ہے۔ لہذا یہاں پر ایک ہی فرد دونوں جانب کا متولی ہو سکتا ہے، کیونکہ یہاں وہ ‏‏نکاح پڑھانے والا نہ مطالب ہے اور نہ مطالب ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چنانچہ اسی لیے آپ دیکھتے ہیں کہ عقدِ نکاح ‏‏کے اندر نام لیا جاتا ہے باقاعدہ کہ میں نے فلاں شخص کا نکاح فلاں عورت سے کر دیا، دیکھا؟ موکلوں کے نام لیے ‏‏جاتے ہیں باقاعدہ۔ جبکہ عقدِ بیع میں موکل کا نام نہیں لیا جاتا، میں نے آپ کو کہا میرے لیے گاڑی خرید کر لے آؤ، تو اب آپ جا کر وہاں ‏‏ذکر نہیں کریں گے کہ میں فلاں کے لیے گاڑی خریدتا ہوں بلکہ آپ خود ہی گاڑی خرید کر لے آئیں گے۔ تو عقدِ نکاح میں ‏‏وکیل جو ہیں، وہ صرف سفیر ہوتے ہیں اور وہ اپنے موکل کا باقاعدہ وہاں نام ذکر کرتے ہیں جن کا نکاح کر رہے ہیں، ‏‏جبکہ عقدِ بیع کے اندر حقوقِ عقد کا تعلق متعاقدین سے ہوتا ہے، اس کے اندر موکل کا نام ذکر نہیں کیا جاتا اور مطالب ‏‏اور مطالب وہ وکیل ہی بنتے ہیں، لہذا دونوں وکیلوں کا الگ الگ ہونا ضروری ہے۔ بائع کی طرف سے الگ وکیل ہو اور ‏‏مشتری کی طرف سے الگ وکیل ہو، بات سمجھ میں آ گئی۔ جی، اب آئیے آج کے سبق پر۔ کہتے ہیں: وَيَنْعَقِدُ بِلَفْظِ النِّكَاحِ وَالتَّزْوِيجِ وَالْهِبَةِ وَالتَّمْلِيكِ وَالصَّدَقَةِ. وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا ‏‏يَنْعَقِدُ إلَّا بِلَفْظِ النِّكَاحِ وَالتَّزْوِيجِ؛ لِأَنَّ التَّمْلِيكَ لَيْسَ حَقِيقَةً فِيهِ وَلَا مَجَازًا عَنْهُ.‏ اب صاحبِ قدوری وہ الفاظ ذکر فرما رہے ہیں جن سے عقدِ نکاح منعقد ہو جائے گا کہ کون کون سے الفاظ استعمال کیے ‏‏جائیں ایجاب و قبول میں تو ان کے ساتھ نکاح منعقد ہو جائے گا، اور کون سے الفاظ ہیں کہ ان سے عقدِ نکاح منعقد نہیں ہو ‏‏گا، تو فرماتے ہیں:‏ وَيَنْعَقِدُ بِلَفْظِ النِّكَاحِ وَالتَّزْوِيجِ، اور عقدِ نکاح منعقد ہو جائے گا نکاح اور تزویج کے لفظ سے۔ نکاح اور تزویج کے لفظ سے، ‏‏نَكَحَ يَنْكِحُ کے معنی ہیں نکاح کرنا اور زَوَّجَ يُزَوِّجُ تزویج کا معنی ہے نکاح کروانا، شادی کروانا، تو یہ دونوں لفظ نکاح ‏‏کے بارے میں صریح ہیں، یعنی ان میں اور کسی معنی کا احتمال نہیں ہے۔ ایک شخص، ایک شخص عقد کرتے ہوئے ‏‏کہے "نَكَحْتُكِ" میں نے تجھ سے نکاح کیا، تو دیکھو یہاں اور کسی معنی کا احتمال نہیں۔ اور اسی طرح "زَوَّجْتُكِ" میں تجھ ‏‏سے شادی کرتا ہوں یعنی اپنی شادی، اپنا نکاح تجھ سے کرتا ہوں، تو نکاح اور تزویج یہ صریح ہیں نکاح کے باب میں۔ ‏‏کس میں؟ صریح کسے کہتے ہیں؟ یعنی صاف لفظوں میں ایک بات کرنا جس میں اور کسی معنی کا احتمال نہ ہو، تو ‏‏‏"نَكَحْتُكِ" اور اسی طرح "زَوَّجْتُكِ" یا "تَزَوَّجْتُكِ" ان دونوں کا اور کوئی معنی نہیں ہے، ان کا معنی نکاح کرنے اور شادی ‏‏کرنے کے ہیں۔ تو لہذا لفظِ نکاح اور تزویج سے عقدِ نکاح منعقد ہو جائے گا۔ اسی طرح آگے فرماتے ہیں: وَالْهِبَةِ وَالتَّمْلِيكِ وَالصَّدَقَةِ، ہبہ اور تملیک اور صدقے کے لفظوں سے بھی نکاح منعقد ہو جائے ‏‏گا۔ ہبہ کہتے ہیں تحفہ دینا، ہبہ کا کیا معنی ہے؟ کسی کو تحفہ دینا۔ اسی طرح تملیک کا معنی ہے کسی دوسرے کو کسی ‏‏چیز کا مالک بنانا، اور صدقہ، صدقہ جو چیز کسی دوسرے شخص کو اللہ کی رضا کے لیے دی جائے تو اس کو کیا ‏‏کہتے ہیں؟ صدقہ کہتے ہیں بھئی۔ تو اب نکاح کے اندر کوئی شخص یہ لفظ استعمال کرتا ہے، مثلاً ایک عورت کسی ‏‏شخص سے نکاح کرنے لگی تو وہاں پر وہ کیا الفاظ بولتی ہے؟ "میں نے اپنی ذات کو آپ کے لیے ہبہ کر دیا"، جی، "میں ‏‏نے اپنی ذات کو آپ کے لیے ہبہ کر دیا" اور وہ شخص کہے "میں نے قبول کیا" دو گواہوں کے سامنے، تو کیا اس سے ‏‏عقدِ نکاح ہو گا یا نہیں؟ یا ایک عورت جو ہے ایک شخص سے کہتی ہے کہ "میں نے آپ کو اپنی ذات کا مالک بنا دیا"، ‏‏جی، اور وہ شخص کیا کہتا ہے؟ "میں نے قبول کر لیا"، یا ایک عورت جو ہے وہ کسی شخص سے کہتی ہے کہ "میں نے ‏‏اپنی ذات آپ کو صدقہ کر دی" اور وہ شخص کیا کہتا ہے؟ "میں نے قبول کر لیا"، تو عقد کرنے والوں میں سے کوئی ایک ‏‏جو ہے وہ یہ لفظ بولتا ہے اور نکاح کی نیت کرتا ہے، نکاح کا ارادہ کرتا ہے اور دوسرا قبول کرتا ہے تو فقہائے کرام ‏‏فرماتے ہیں کہ عقدِ نکاح منعقد ہو جائے گا۔ جی۔ نکاح اور تزویج یہ لفظ تو صریح ہیں نکاح کے باب میں، یہ صاف لفظوں میں کس کو بیان کر رہے ہیں؟ نکاح ہی کو بیان ‏‏کر رہے ہیں کہ نکاح کرنا چاہ رہا ہے۔ جبکہ ہبہ، تملیک اور صدقہ، یاد رکھو یہ نکاح کے اندر صریح نہیں، یہ کنایہ ہیں، ‏‏یہ کیا ہیں؟ کنایہ۔ کنایہ یوں کہو آسان لفظوں میں بات کو ذرا گھما کر کرنا، سیدھی بات نہ کرنا بلکہ بات کو ذرا گھما کر ‏‏کرنا، یعنی جہاں پر اس کلام کے اور بھی معنی ہوں۔ جس معنی کا آپ نے ارادہ کیا وہ معنی بھی ہو سکتا ہے اور دوسرا ‏‏معنی بھی ہو سکتا ہے، اس کو کہتے ہیں کنایہ۔ جی، اس کو کیا کہتے ہیں؟ کنایہ کہتے ہیں۔ کنائے کی اصل تفصیل آئے گی ‏‏طلاق کے باب میں، وہاں باقاعدہ آپ کو بتلائیں گے کہ طلاق کے اندر ایک لفظِ صریح ہے اور ایک کنایہ ہے۔ طلاق کے ‏‏اندر صریح لفظ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے "میں نے تجھے طلاق دے دی"، اب دیکھو یہاں اس نے کون ‏‏سا لفظ استعمال کیا؟ طلاق والا، اور طلاق کا معنی طلاق ہی ہے یہاں کسی اور معنی کا احتمال نہیں، جبکہ کنایہ اس کے ‏‏اندر اور معنی کا بھی احتمال ہوتا ہے، مثلاً ایک شخص اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ "تو جدا ہے"، "تو جدا ہے"، اب اس ‏‏کلام کا یہ بھی معنی ہو سکتا ہے کہ تو اور عورتوں سے جدا ہے، تیرے جیسا حسن و جمال اور کسی عورت میں نہیں، ‏‏اور اس کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ تو مجھ سے جدا ہے کیونکہ میں نے تجھے طلاق دے دی ہے، آج سے تو مجھ سے ‏‏الگ ہے بھئی۔ تو دیکھو "تو جدا ہے" اس میں دونوں معنی کا احتمال آ گیا، طلاق والے معنی کا بھی احتمال اور غیرِ طلاق ‏‏کا بھی احتمال، تو اس کو کنایہ کہیں گے۔ کیا کہیں گے؟ کنایہ، اور یاد رکھو کنایہ کے اندر نیت کا ہونا ضروری ہے۔ کس کا ہونا؟ نیت، صریح لفظ کا تو اور کوئی معنی ہی نہیں ہوتا لہذا وہاں، وہاں نیت کی ضرورت نہیں ہے لیکن کنائے ‏‏کے اندر نیت ضرور چاہیے۔ اب ایک شخص دوسرے شخص سے عقدِ نکاح کرتا ہے اور کہتا ہے "نَكَحْتُكِ" میں نے تجھ ‏‏سے کیا کیا؟ نکاح کیا، اب یہاں نیت کی ضرورت ہی نہیں ہے، دیکھو اس کا معنی نکاح کے علاوہ اور کچھ ہے ہی نہیں، ‏‏وہ دوسرا کہے گا "قَبِلْتُ" تو میں نے قبول کیا تو عقدِ نکاح منعقد ہو جائے گا۔ یا اسی طرح ایک شخص کہتا ہے "میں تجھ ‏‏سے شادی کرتا ہوں، نکاح کرتا ہوں"، تو دیکھو یہاں پر بھی کسی نیت کی ضرورت نہیں کیونکہ اس کا معنی نکاح اور ‏‏شادی ہی کے ہیں اور کوئی معنی نہیں۔ لیکن ہبہ، تملیک اور صدقہ ان کا معنی تو نکاح نہیں ہے، لیکن آپ مثلاً یہ لفظ ‏‏بولتے ہوئے ارادہ کس کا کر رہے ہیں؟ نکاح کا، تو پھر نیت ضروری ہے۔ جی، اس میں کیا ہونا چاہیے؟ نیت ہونی ‏‏چاہیے، یا کوئی اور دلیل وہاں موجود ہو جس سے پتہ چل جائے۔ تو لہذا ایک عورت نے کیا کہا؟ "میں نے اپنی ذات آپ کو ہبہ کر دی" اور ارادہ کس کا کیا؟ نکاح کا، اور دوسرے نے کہا ‏‏‏"میں نے قبول کیا" تو نکاح منعقد ہو گیا بھئی اگر باقی شرطیں پوری ہیں۔ یا اسی طرح "میں نے آپ کو اپنا مالک بنا دیا" یا ‏‏‏"میں نے اپنی ذات کو آپ پر صدقہ کر دیا" اور نیت کیا کی؟ نکاح والی، تو اور دوسرے نے "قَبِلْتُ" کہا تو نکاح منعقد ہو ‏‏گیا بھئی۔ تو دیکھو یہاں نیت کا ہونا ضروری ہے یا کوئی ایسا لفظ ذکر کر دیا جس سے پتہ چل گیا کہ نکاح ہی کا ارادہ ہے ‏‏یہاں اور معنی کا ارادہ نہیں، مثلاً ایک عورت کیا کہتی ہے؟ "میں نے اپنی ذات آپ کو ہبہ کر دی ایک لاکھ روپے بطورِ ‏‏مہر کے"، دیکھا مہر کو بھی ساتھ ذکر کر دیا، اب تو مہر کے لفظ سے واضح پتہ چل گیا کہ یہاں ہبہ کا لفظ بول کر کس کا ‏‏ارادہ کیا جا رہا ہے؟ نکاح کا، کیونکہ مہر نکاح میں آتا ہے ہبہ کے اندر نہیں آتا، یا عورت کہتی ہے "میں نے آپ کو اپنا ‏‏مالک بنا دیا ایک لاکھ روپے بطورِ مہر کے"، یہ مہر کا لفظ بتا رہا ہے کہ اس نے اس لفظ سے کس چیز کا ارادہ کیا ہے؟ ‏‏نکاح کا ارادہ کیا ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ حاصلِ کلام کیا؟ کہ صریح لفظ کے اندر نیت وغیرہ کی ضرورت نہیں، ان سے نکاح ہو جائے گا، اور کنایہ کا لفظ جو ہے اس میں نیت کی ‏‏ضرورت ہو گی یا کوئی اور دلیل ہو جس سے پتہ چلے کہ یہاں نکاح کا ارادہ کیا جا رہا ہے، اور اس سے بھی نکاح منعقد ‏‏ہو جائے گا۔ اب کس لفظ سے نکاح منعقد ہو گا اور کس لفظ سے نکاح منعقد نہیں ہو گا؟ ہمیں پتہ کیسے چلے گا؟ تو فقہائے ‏‏کرام اس کا ایک ضابطہ باقاعدہ ذکر فرماتے ہیں، فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ جو لفظ بھی تین معانی کا فائدہ دے، اس کے ‏‏ذریعے عقدِ نکاح منعقد ہو جائے گا بھئی۔ جو لفظ بھی تین معانی کا فائدہ دے، اس کے ذریعے عقدِ نکاح کا ارادہ کیا جائے ‏‏تو عقدِ نکاح منعقد ہو جائے گا بھئی، وہ تین معانی کون سے ہیں؟ یاد رکھنا، وہ تین معانی ہیں: تملیک العین فی الحال بھئی، ‏‏تملیک العین فی الحال، یعنی وہ لفظ تملیک کا بھی فائدہ دے، جی، اور تملیک بھی کس چیز کی ہو؟ عین کی ہو، اور تملیک ‏‏کا فائدہ بھی کب دے؟ فی الحال، یعنی اسی زمانے کے اندر دے بھئی۔ دیکھو اچھی طرح سمجھ لو، فقہاء کیا فرماتے ہیں کہ ‏‏جو لفظ تین معانی کا فائدہ دے، اس سے عقدِ نکاح منعقد ہو جائے گا جب نیت کی جائے گی۔ پہلا فائدہ کیا کہ وہ لفظ تملیک ‏‏کا فائدہ دے، تملیک، مَلَّكَ يُمَلِّكُ تَمْلِيكًا بابِ تفعیل کا مصدر ہے، تملیک کا معنی ہے دوسرے کو مالک بنانا۔ دوسرے کو مالک بنانا، اور دوسری چیز ہے عین بھئی، عین کا معنی ہے ذات، کوئی چیز بھئی۔ جی، ایک ہوتی ہے ذات ‏‏اور ایک ہوتا ہے فائدہ اور نفع، بعض اوقات آپ کسی شخص کو کسی چیز کا اس کی ذات کا مالک بناتے ہیں، اور بعض ‏‏اوقات آپ کسی چیز کی ذات کا مالک نہیں بناتے بلکہ صرف اس کے نفع کا مالک دوسرے کو بناتے ہیں۔ جی، دیکھو ‏‏مثالوں سے آپ کو خوب بات اچھی طرح سمجھ میں آ جائے گی، تو تملیک کا کیا معنی؟ مالک بنانا، اور عین کا کیا معنی؟ ‏‏ذات بھئی، تو یاد رکھو یہ جو تملیک ہے یہ چار قسم پر ہے بھئی، یہ تملیک کتنی قسم پر ہے؟ چار قسم پر ہے، یا تو تملیک ‏‏العین ہو گی یا تملیک المنافع ہو گی، تملیک العین کا معنی ہے کہ کسی چیز کا، کسی ذات کا ہی دوسرے کو مالک بنا دینا، ‏‏اور تملیک المنافع کا معنی ہے کہ دوسرے شخص کو آپ اس چیز کی ذات کا مالک نہیں بناتے اس چیز کے نفعوں کا مالک ‏‏بنا دیتے ہیں۔ تو تملیک دو قسم پر ہو گئی: ایک تملیک العین اور ایک تملیک المنافع، پھر یاد رکھو، یہ جو تملیک العین ہے یہ دو قسم پر ‏‏ہے، آپ دوسرے کو ایک چیز کی ذات کا مالک بناتے ہیں، یہ کبھی بالِعوض ہو گا اور کبھی بلا عوض ہو گا، یعنی آپ اس ‏‏کا عوض لیں گے اور کبھی آپ اس کا عوض نہیں لیں گے، اور اسی طرح جب آپ کسی کو منافع کا مالک بناتے ہیں تو ‏‏وہاں بھی اسی طرح ہو گا، کبھی آپ منافع کا مالک دوسرے کو بنائیں گے بالِعوض، یعنی کوئی عوض لیں گے، اور کبھی ‏‏مالک بنائیں گے منافع کا بلا عوض، تو تملیک چار قسم پر ہو گئی: تملیک العین بالِعوض اور تملیک العین بلا عوض، اسی ‏‏طرح تملیک المنافع بالِعوض اور تملیک المنافع بلا عوض، پھر دہرائیں! تملیک کتنی قسم پر؟ چار، ایک ہے تملیک العین ‏‏یعنی کسی چیز کی ذات کا مالک بنانا، یہ کبھی کیا ہو گا؟ بالِعوض، عوض کے ساتھ ہو گا، اور کبھی بلا عوض ہو گا بغیر ‏‏کسی عوض کے، اسی طرح تملیک المنافع وہ بھی کبھی بالِعوض ہو گا اور کبھی بلا عوض ہو گا، اب ان کے نام بھی یاد ‏‏رکھیں بھئی، تملیک العین بالِعوض ہو اس کو بیع کہتے ہیں۔ جی، تملیک العین بالِعوض کو بیع کہتے ہیں، یعنی آپ ایک شخص کو ایک چیز کا مالک بناتے ہیں اور بدلے میں اس سے بھی ‏‏کوئی چیز لیتے ہیں تو اس کو بیع کہتے ہیں۔ دیکھو آپ دکان پر جاتے ہیں، آپ دکاندار کو پیسے دیتے ہیں اور بدلے میں ‏‏جو چیز خریدنی ہو وہ لے لیتے ہیں، تو آپ اس چیز کے مالک بن گئے، دکاندار نے کیا کیا؟ آپ کو اس چیز کا مالک بنایا، ‏‏لیکن اس کا عوض اس نے لیا اس کے پیسے لے لیے، تو یہ تملیک العین بالِعوض ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ بیع بھئی، ‏‏اور اگر تملیک العین بلا عوض ہو آپ کسی کو مالک بناتے ہیں ایک چیز کا اور عوض نہیں لیتے تو اس کو کہتے ہیں ہبہ، ‏‏اردو زبان میں اس کو کہیں گے تحفہ۔ آپ اپنے ساتھی کو تحفہ دیتے ہیں تو دیکھو کوئی عوض اور بدلہ نہیں لیتے بھئی، ‏‏پیسے آپ اس سے نہیں لیتے، تو تملیک العین بلا عوض یہ کیا ہے؟ ہبہ ہے اور اردو میں کیا کہتے ہیں؟ تحفہ، لیکن یاد ‏‏رکھو اگر تحفے کے اندر آپ نے عوض لے لیا، مثلاً آپ نے اس کو کہا کہ "یہ کتاب میں آپ کو تحفے میں دوں گا لیکن ‏‏شرط یہ ہے بدلے میں آپ مجھے اپنا قلم دے دیں"، آپ نے کتاب اس کو دی اور اس نے قلم آپ کو دے دیا، تو یاد رکھو یہ ‏‏لفظوں کے اندر تو تحفہ ہے لیکن حقیقت اور معنی کے اعتبار سے یہ گویا بیع ہو گئی۔ جی، کیونکہ تحفہ تو بلا عوض ہوتا ہے اور یہاں تو دونوں جانب سے عوض موجود ہے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ بیع کہتے ‏‏ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو تملیک العین بالِعوض ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ بیع، تو بیع کے اندر دیکھو عین کا یعنی ‏‏اس چیز کا ہی مالک انسان بن جاتا ہے، آپ نے گاڑی خریدی آپ گاڑی ہی کے مالک بن گئے۔ جی، تو تملیک العین ہوا ‏‏بالِعوض، اور تملیک العین بلا عوض ہو وہ کیا ہے؟ وہ ہبہ اور تحفہ ہے، اور بعض اوقات دوسرے کو صرف منافع کا ‏‏مالک بنایا جاتا ہے، مثلاً آپ بازار جاتے ہیں اور کوئی گاڑی کرائے پر لے آتے ہیں۔ آپ نے پیسے دیے اور گاڑی کرائے پر لے آئے، تو مجھے بتائیے کیا آپ اس گاڑی کے مالک بن گئے ہیں؟ نہیں، آپ ‏‏گاڑی کے مالک نہیں، آپ گاڑی کے منافع کے مالک بن گئے ہیں، گاڑی پر کیا کیا جاتا ہے؟ سواری کی جاتی ہے، اس ‏‏میں سفر کیا جاتا ہے، اب یہ سواری اور سفر کا فائدہ آپ گاڑی سے اٹھا سکتے ہیں جی، تو اس شخص نے آپ کو گاڑی کا ‏‏مالک نہیں بنایا بلکہ گاڑی کے منافع کا مالک بنایا ہے، تو یہ ہے تملیک المنافع، اور ساتھ عوض بھی آپ نے دیا، پیسے ‏‏دیے، تو اس کو کہتے ہیں اجارہ، کیا کہتے ہیں؟ اجارہ، اردو میں کہتے ہیں کرائے پر کوئی چیز لینا، آپ بازار سے کوئی ‏‏بھی چیز کرائے پر لاتے ہیں، تو وہ کرائے پر دینے والا آپ کو اس چیز کے منافع کا مالک بنا دیتا ہے اس چیز کا مالک ‏‏نہیں بناتا، اور پھر کچھ دن جتنے دن کے لیے آپ کرائے پر لائے ہیں پھر وہ چیز آپ کو دوبارہ واپس کرنا پڑتی ہے۔ جی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو تملیک المنافع بالِعوض ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ اجارہ، اور اردو میں کرائے پر کوئی چیز دینا ‏‏بھئی۔ جی، اور اگر تملیک المنافع بلا عوض ہو، کسی کو منافع کا مالک بنایا اور عوض کوئی نہیں لیا، یاد رکھو اس کو عاریت کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ عاریت کہتے ‏‏ہیں، جیسے گھروں کے اندر بھی ہوتا ہے، بعض اوقات کسی کے گھر مہمان زیادہ آ جائیں تو ہمسایوں سے برتن مانگ ‏‏لیے جاتے ہیں، تو وہ برتن ہمسائے ان کو دیتے ہیں، تو کیا وہ ہمسایوں نے ان کو برتنوں کا مالک بنایا ہے یا برتنوں سے ‏‏صرف نفع اٹھانے کا مالک بنایا ہے؟ صرف نفع اٹھانے کا، استعمال کے بعد وہ برتن واپس کر دیے جائیں گے، تو دیکھو ‏‏یہ تملیک المنافع ہے اور بلا عوض ہے، اس کا عوض اور پیسے وغیرہ انہوں نے نہیں لیے، تو اس کو عاریت کہتے ہیں، ‏‏یا آپ دوسری مثال لے لیں، آپ کا ایک ساتھی آپ کے پاس آیا اور آ کر کہتا ہے کہ "مجھے کام جانا ہے، مجھے آپ کی ‏‏موٹر سائیکل ایک گھنٹے کے لیے چاہیے"، تو آپ دیکھو موٹر سائیکل اس کے حوالے کر دیتے ہیں، تو آپ نے اس کو ‏‏موٹر سائیکل کا مالک بنایا ہے یا موٹر سائیکل کے منافع کا مالک بنایا ہے؟ منافع کا، منافع کا مالک بنایا ہے، موٹر ‏‏سائیکل کے کیا منافع ہیں؟ کہ اس پر سفر کیا جاتا ہے، اس پر سواری کی جاتی ہے، تو اب یہ ایک گھنٹہ موٹر سائیکل کے ‏‏منافع سے وہ فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ جی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ہوا تملیک جو ہے، مالک بنانا، کبھی عین کا ہوتا ‏‏ہے یعنی ایک چیز کی ذات کا، اور کبھی مالک بنانا صرف منافع کا ہوتا ہے، صرف منافع کا مالک بنایا جاتا ہے ذات کا ‏‏مالک نہیں بنایا جاتا، اور پھر یہ تملیک العین ہو یا تملیک المنافع، یہ اس میں کبھی عوض ہو گا اور کبھی عوض نہیں، اگر ‏‏تملیک العین ہو اور عوض بھی ہو تو اس کا کیا نام ہے؟ بیع ہے، آپ بے شک زبان سے بیع کا لفظ ذکر نہ کریں جی، لیکن ‏‏حقیقت میں یہ بیع ہی ہے۔ جی، یہ حقیقت میں بیع ہی ہے بھئی، اسی طرح اگر تملیک العین بلا عوض ہو جی، تو اس کو ہبہ ‏‏اور تحفہ کہتے ہیں، آپ بے شک زبان سے تحفہ یا ہبہ کا لفظ ادا نہ کریں لیکن جب بھی آپ کسی کو ایک چیز کا مالک ‏‏بغیر عوض کے بناتے ہیں تو یہ کیا ہے؟ یہ ہبہ اور تحفہ ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور اگر آپ کسی کو مالک بناتے ‏‏ہیں ثواب کی نیت سے تو اس کو صدقہ کہتے ہیں۔ جی، آپ کسی شخص کو کسی چیز کا، کسی عین کا مالک بنائیں اور کس ‏‏لیے بنائیں؟ اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے، تو اس کو صدقہ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ صدقہ کہتے ہیں بھئی۔ یہاں ایک اور مسئلہ ذہن میں آیا وہ بھی بتلا دوں۔ فقہاء کرام فرماتے ہیں کہ جب اپ کسی کو صدقہ دے دیں تو پھر اب اپ ‏‏رجوع نہیں کر سکتے، اب اپ وہ واپس نہیں لے سکتے۔ آپ نے فقیر کو پیسے دے دیے اس نے لے لیے، اب اپ فوراً ارادہ بدل گیا کہ نہیں میں نہیں دیتا، نہیں بھئی! اب آپ کے ‏‏لیے یہ چیز واپس لینا جائز نہیں۔ بھئی کیوں؟ کیا وجہ ہے کیوں نہیں واپس لے سکتے؟ کہتے ہیں وجہ یہ ہے کہ اس کا ‏‏عوض آپ کو مل چکا۔ یہ آپ نے کس لیے دی تھی؟ اللہ کی رضا کے لیے، ثواب حاصل کرنے کے لیے۔ تو جیسے ہی فقیر ‏‏کو آپ نے وہ چیز دی آپ کو اللہ نے ثواب نصیب فرما دیا۔ تو آپ نے عوض وصول کر لیا، اب آپ وہ چیز واپس نہیں لے ‏‏سکتے۔ اچھا تو تملیک گویا چار قسم پر ہوئی۔ تملیک العين بالعلوم، تملیک العين بلا علوم، تملیک المنافع بالعلوم اور تملیک المنافع ‏‏بلا علوم۔ بات چل رہی تھی کہ کن لفظوں سے نکاح منعقد ہو جائے گا اور کن لفظوں سے نکاح منعقد نہیں ہوگا؟ فقہاء کرام نے ‏‏ضابطہ ذکر فرمایا کہ جو لفظ تین چیزوں کا فائدہ دے گا اس سے عقد نکاح منعقد ہو سکتا ہے۔ ایک تو وہ تملیک کا فائدہ ‏‏دے، اس میں دوسرے کو مالک بنایا جائے۔ دوسرا، تملیک بھی کس چیز کی ہو؟ عین کی تملیک ہو، منافع کی تملیک نہ ہو ‏‏اور تیسرا یہ کہ وہ فی الحال اس میں مالک بنانا ہو مستقبل کے اندر مالک بنانا نہ ہو۔ تو جو لفظ بھی تملیک عین کا فائدہ ‏‏دے فی الحال، اس کے ذریعے نکاح منعقد ہو جائے گا۔ کیا ضابطہ ہوا؟ جو بھی لفظ تملیک عین کا فائدہ دے فی الحال اس سے عقد نکاح منعقد ہو جائے گا جب نکاح کی نیت سے ‏‏وہ لفظ ادا کیے جائیں۔ تو دیکھو اب آپ لفظوں میں خوب غور کرتے جاؤ بھئی۔ ہبہ، تحفہ دینا۔ جب آپ کسی کو تحفہ دیتے ہیں تو آپ اس کو اس ‏‏تحفے کا مالک بنا دیتے ہیں، تو دیکھو تملیک آ گئی۔ اور تملیک بھی کس چیز کی ہے؟ صرف منافع کی ہے یا اس چیز کی ‏‏ذات کا ہی مالک بنا دیتے ہیں؟ اس ذات کا ہی مالک بنا دیتے ہیں۔ آپ نے کسی ساتھی کو کتاب تحفے میں دی تو وہ کتاب کا ‏‏مالک بن گیا بھئی۔ ایک ہے آپ ویسے پڑھنے کے لیے دیتے ہیں تو اس میں تو پھر آپ نے صرف منافع کا مالک بنایا ‏‏ہے، کتاب کا مالک نہیں۔ لیکن میں تحفے کی بات کر رہا ہوں، تحفہ جب بھی آپ کسی کو دیتے ہیں وہ اس کا کیا بن جاتا ‏‏ہے؟ مالک، تو تملیک آئی۔ اور تملیک بھی کس چیز کی ہے؟ عین کی ہے منافع کی نہیں۔ اور فی الحال، اسی وقت وہ مالک ‏‏بن جائے گا تو لہذا ہبہ کے لفظ کے ذریعے عقد نکاح کی نیت کی جائے تو نکاح منعقد ہو جائے گا۔ مثلاً ایک شخص ایک وکیل ایک عورت کی طرف سے کہتا ہے کسی شخص سے کہ میں نے فلاں عورت آپ کو تحفے ‏‏میں دے دی۔ اور وہ کہتا ہے میں نے قبول کر لی، یہ اس کا وکیل تھا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ یا عورت خود کہتی ہے ‏‏کہ میں نے اپنے آپ کو تحفے میں آپ کو دے دیا اور مرد کیا کہتا ہے کہ میں نے قبول کر لیا اور نکاح کی باقی شرائط ‏‏پوری ہیں یعنی دو گواہ وغیرہ موجود ہیں تو عقد نکاح منعقد ہو جائے گا۔ کیونکہ ہبہ تملیک کا بھی فائدہ دیتا ہے اور ‏‏تملیک بھی کس چیز کی ہوتی ہے؟ عین کی، اور فی الحال اسی زمانے میں ہوتی ہے۔ اسی طرح تملیک کا لفظ، ملک یملک تملیکا کیا معنیٰ؟ مالک بنانا۔ تو مالک بنانے میں بھی اسی طرح ہے آپ ایک شخص ‏‏کو کہتے ہیں لو بھئی میں نے آپ کو اس چیز کا مالک بنا دیا يا عورت کہتی ہے کہ میں نے اپنی ذات کا آپ کو مالک بنا ‏‏دیا اتنے مہر کے بدلے میں اور دوسرا کہتا ہے قبلتُ، تو اس سے بھی کیا ہوگا؟ نکاح منعقد ہو جائے گا کیونکہ مالک ‏‏بنانے میں بھی تملیک ہے اور کس چیز کی تملیک ہے؟ عین کی تملیک ہوتی ہے جب آپ کسی کو کہتے ہیں میں نے آپ ‏‏کو اس چیز کا مالک بنا دیا تو گویا آپ نے اس چیز کی عین کا اس کو مالک بنایا ہے۔ اور نیز اسی وقت وہ مالک بن جاتا ‏‏ہے تو تملیک کے لفظ سے بھی نکاح منعقد ہو سکتا ہے۔ لیکن نیت ضرور ہے بھئی! کنائے کے اندر میں نے بتایا نیت کا ہونا ضروری ہے۔ بغیر نیت کے کوئی لفظ بولے اور آپ ‏‏اس سے نکاح کا معنیٰ نکالنا شروع کر دیں ایسا نہیں ہے۔ ہاں! نکاح اور تزویج یہ صریح ہیں، ان کا معنیٰ ہی نکاح ہے ‏‏بھئی! اس میں چاہے بغیر نیت کے بھی عورت کہہ دے میں نے آپ سے نکاح کر لیا، نیت کچھ نہیں ہے اس کی۔ میں نے ‏‏آپ سے نکاح کر لیا اور دو گواہوں کے سامنے، اور وہ شخص دوسرا کہتا ہے میں نے قبول کر لیا، نکاح منعقد ہو گیا۔ اب ‏‏اس عورت سے نہیں پوچھیں گے آپ کی نیت تھی یا نہیں تھی، کیوں؟ کیونکہ نکاح اور تزویج میں اور کوئی معنیٰ ہی نہیں ‏‏ہے۔ نکاح اور تزویج کا تو معنیٰ ہی نکاح کرنا ہے، اس میں اور کوئی معنیٰ ہی نہیں، لہذا وہاں نیت کی ضرورت ہی نہیں ‏‏ہے پوچھنے کی۔ لیکن ہبہ، تملیک اور صدقہ وغیرہ ان کے تو اور معنیٰ ہیں بھئی! تو ان میں نیت کا ہونا ضروری ہے ‏‏بھئی!‏ تو اسی طرح صدقہ ہے، صدقہ کے اندر بھی جب آپ فقیر کو کوئی چیز دیتے ہیں تو فوراً وہ مالک بن جاتا ہے اور اس ‏‏کے نفع کا مالک بنتا ہے یا اس چیز کا؟ اس چیز کا مالک، تو تملیک عین بھی ہوتی ہے اور اسی وقت مالک بنتا ہے تو ‏‏تملیک عین فی الحال ہو گیا لہذا اس سے بھی عقد نکاح منعقد ہو جائے گا جب نیت کی جائے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ ایک عورت ایک شخص کو کہتی ہے کہ میں نے اپنی ذات آپ پر صدقہ کر دی ایک لاکھ روپے ‏‏بطور مہر کے اور وہ کہتا ہے میں نے قبول کیا تو اس سے نکاح منعقد ہو جائے گا۔ جبکہ آگے امام شافعی رحمہ اللہ کا ‏‏بھی ذکر آ رہا ہے وہ فرماتے ہیں نہیں، ان میں سے کسی لفظ سے نکاح نہیں ہوگا۔ زبان سے بول بھی دو نیت بھی کر لو ‏‏پھر بھی نکاح منعقد نہیں ہوگا کیونکہ نکاح ان کا معنیٰ ہی نہیں ہے۔ لیکن عند الاحناف جو لفظ بھی تملیک العین فی الحال کا ‏‏نفع دے، فائدہ دے، اس سے عقد نکاح منعقد ہو جائے گا جب نیت کی جائے بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی۔ تو اب آپ خود غور کر لیں اور کن لفظوں سے عقد نکاح منعقد ہوگا اور کس سے عقد نکاح ‏‏منعقد نہیں ہوگا؟ مثلاً ایک لفظ ہے اجارہ۔ اجارہ، یعنی کرائے پر کوئی چیز دینا۔ ایک عورت ایک شخص سے کہتی ہے دو ‏‏گواہوں کے سامنے میں اپنے آپ کو اجارہ کے طور پر آپ کو دیتی ہوں دو لاکھ روپے بطور مہر کے، نہیں بھئی اس ‏‏اجارہ سے عقد نکاح منعقد نہیں ہوگا۔ بھئی کیوں نہیں ہوگا؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ اجارہ، اجارہ کسے کہتے ہیں؟ وہ ‏‏جو میں نے تعریف بتلائی تملیک المنافع بالعوض، تملیک المنافع بالعوض۔ تو اجارہ کے اندر تملیک تو ہے، مالک بنانا تو ‏‏ہے۔ ایک چیز تو موجود ہے لیکن تملیک کس چیز کی ہونی چاہیے؟ عین کی ہونی چاہیے لیکن اجارے میں تو تملیک ‏‏صرف کس کی ہوتی ہے؟ منافع کی تملیک ہوتی ہے لہذا اس کے ذریعے عقد نکاح منعقد نہیں ہوگا۔ اسی طرح عاریت ہے، عاریت کی میں نے کیا تعریف کی؟ عاریت کسے کہتے ہیں؟ تملیک المنافع بلا عوض، بغیر عوض ‏‏کے کسی کو کوئی چیز استعمال کے لیے دینا اس کو عاریت کہتے ہیں۔ تو اب ایک اور عورت جو ہے وہ عاریت کے ‏‏لفظوں سے نکاح کرنا چاہ رہی ہے، فقہاء فرماتے ہیں نکاح منعقد نہیں ہوگا، اس لیے کیونکہ عاریت کے اندر وہ تینوں ‏‏فائدے نہیں ہیں۔ کون سے تین فائدے؟ تملیک بھی ہو اور تملیک بھی کس کی ہو؟ عین کی ہو اور فی الحال ہو، جبکہ عاریت ‏‏میں تملیک تو ہے مالک بنانا تو ہے لیکن عین کی تملیک نہیں ہوتی بلکہ منافع کی تملیک ہوتی ہے۔ صرف منافع کی ‏‏تملیک، لہذا عاریت کے لفظ سے بھی نکاح منعقد نہیں ہوگا، آپ نیت کر بھی لیں تو بھی اس سے نکاح منعقد نہیں ہوگا۔ اسی طرح اباحت اور احلال ہے۔ اباحت کا معنیٰ مباح کرنا، احلال کا معنیٰ بھی وہی ہے مباح کرنا، حلال کرنا۔ ایک چیز ‏‏کسی کے لیے مباح کر دینا، حلال کر دینا، جائز کر دینا یہ ہے اباحت اور احلال۔ اباحت کا کیا معنیٰ؟ جائز کر دینا، حلال ‏‏کر دینا۔ اور احلال کا بھی کیا معنیٰ؟ حلال کر دینا، جائز کر دینا۔ تو اباحت اور احلال سے بھی نکاح منعقد نہیں ہوگا، بھئی ‏‏کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ اباحت اور احلال میں سرے سے مالک بنانا ہی نہیں ہوتا۔ سرے سے مالک بنانا ہی نہیں ‏‏ہے، جب آپ کسی کے لیے کوئی چیز جائز قرار دیتے ہیں اس کا یہ معنیٰ نہیں کہ وہ اس کا مالک بن گیا، مثلاً آپ دعوت ‏‏پر جاتے ہیں اور وہاں آپ کے سامنے بہت سارے کھانے رکھ دیے جاتے ہیں اور وہ دعوت کرنے والا آپ سے کہتا ہے ‏‏کہ کھائیے، تو اس نے آپ کے لیے ان کھانوں کو مباح کر دیا، آپ کے لیے ان کو حلال کر دیا، آپ جتنا کھانا چاہیں آپ کھا ‏‏سکتے ہیں۔ مباح کرنے کا کیا معنیٰ ہے؟ یہ کھانا آپ کے لیے مباح ہے، جتنا کھانا چاہیں آپ کے لیے جائز ہے، مباح ہے، ‏‏آپ کو اجازت ہے بھئی۔ لیکن اس نے آپ کو کھانے کا مالک نہیں بنایا، لہذا اسی لیے اگر دعوت ہو اور اس میں کوئی ایک ‏‏شخص جو ہے وہ ان کھانوں کو سمیٹنا شروع کر دے کہ یہ تو میں گھر لے کر جاؤں گا تو دیکھو سارے لوگ برا محسوس ‏‏کریں گے یا نہیں؟ سارے لوگ برا محسوس کریں گے کہ بھئی اس نے آپ کو ان کھانوں کا مالک تو نہیں بنایا، اس نے تو ‏‏آپ کے لیے مباح کیا ہے، آپ کے لیے حلال کیا ہے، جتنا خود کھانا چاہتے ہو کھا لو، ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں ‏‏کیونکہ آپ مالک نہیں ہیں اس کے بھئی۔ تو لہذا اباحت اور احلال سے بھی عقد نکاح منعقد نہیں کیونکہ اس کے اندر سرے ‏‏سے تملیک ہی نہیں ہے، اس میں جائز کیا جاتا ہے اجازت دی جاتی ہے، مالک نہیں بنایا جاتا۔ اور اسی طرح وصیت کا لفظ ہے، تو یاد رکھو وصیت کے لفظ سے بھی نکاح منعقد نہیں ہوگا۔ وجہ یہ کہ وصیت، مثلاً ‏‏ایک شخص کہتا ہے میرے مرنے کے بعد میری یہ گاڑی زید کو دے دینا، تو گویا اس نے زید کو اس گاڑی کا مالک بنایا۔ ‏‏تو تملیک عین تو ہے، تملیک، تملیک ہے مالک بھی بنا رہا ہے اور کس کا بنا رہا ہے؟ عین کا بنا رہا ہے، گاڑی کے ‏‏صرف منافع کا مالک نہیں بنا رہا ہے، تو تملیک عین تو ہے، لیکن فی الحال مالک بنا رہا ہے یا موت کے بعد؟ بھئی ‏‏وصیت کر رہا ہے میرے مرنے کے بعد میری یہ گاڑی کس کو دے دینا؟ زید کو، تو یہاں دیکھو فی الحال اس کو مالک ‏‏نہیں بنا رہا ہے بلکہ اپنی موت کے بعد مالک بنا رہا ہے، اور ہم نے تو کیا کہا تھا؟ فی الحال تملیک عین ہونی چاہیے، لہذا ‏‏معلوم ہوا وصیت کے لفظ کے ساتھ بھی نکاح منعقد نہیں ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہذا مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ میں اپنی بیٹی کی وصیت کرتا ہوں زید کے لیے ایک لاکھ روپے بطور مہر کے، نہیں ‏‏بھئی اس وصیت کے لفظ سے نکاح منعقد نہیں ہوگا، کیونکہ یہ تو موت کے بعد کی طرف نسبت ہوتی ہے اس میں زندگی ‏‏کی طرف نسبت نہیں ہوتی۔ جی! اب دیکھیے پھر کتاب پر، کہتے ہیں: وينعقد بلفظ النكاح والتزويج، اور عقد نکاح منعقد ہو جاتا ہے نکاح کے لفظ سے ‏‏بھی اور تزویج سے بھی، کیونکہ یہ دونوں کیا ہیں؟ صریح ہیں، ان میں کسی نیت کی بھی ضرورت نہیں۔ جبکہ والہبة ‏‏والتمليك والصدقة، ان کے ذریعے بھی نکاح منعقد ہو جائے گا، یہ کیا ہیں؟ کنایہ ہیں، کیا ہیں؟ نکاح سے کنایہ ہیں لہذا ان ‏‏میں نیت کا ہونا ضروری ہے۔ آگے دیکھیے: وقال الشافعي رحمه الله تعالى رحمة واسعة: لا ينعقد إلا بلفظ النكاح والتزويج، ‏‏لأن التمليك ليس حقيقة فيه ولا مجازا عنه.‏ بھئی امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صرف نکاح اور تزویج کے لفظ سے نکاح منعقد ہوگا، ہبہ، تملیک، صدقہ وغیرہ ‏‏اور لفظوں سے عقد نکاح منعقد نہیں ہوگا، بےشک آپ زبان سے ادا کریں دل میں نیت بھی کر لیں نکاح کی، لیکن ان لفظوں ‏‏سے نکاح منعقد نہیں ہوگا بھئی۔ تو نکاح اور تزویج ان سے کیوں منعقد ہوگا؟ کیونکہ یہ نکاح کے اندر یہ لفظ صریح ہیں، ‏‏نکاح اور تزویج یہ نکاح میں صریح ہیں، ان کا معنیٰ ہی نکاح کرنا اور نکاح کروانا ہے، لہذا ان سے نکاح منعقد ہو جائے ‏‏گا۔ لیکن یہ جو باقی لفظ ہیں، یہ نکاح اور تزویج سے نہ تو حقیقت ہیں اور نہ مجاز۔ بھئی حقیقت اور مجاز کو سمجھ لو پھر ‏‏امام شافعی رحمہ اللہ کی بات آپ کو اچھی طرح سمجھ میں آئے گی بھئی۔ یاد رکھو ایک ہوتا ہے لفظ کا حقیقی معنیٰ اور ایک ہوتا ہے لفظ کا مجازی معنیٰ۔ حقیقی معنیٰ وہ ہے جس کے لیے کسی ‏‏لفظ کو وضع کیا جائے۔ کیا کیا جائے؟ وضع، وضع کا معنیٰ میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں، و، ض اور ع ہے۔ وضع ‏‏کرنا، وضع کا معنیٰ ہے مقرر کرنا۔ دیکھو آپ اردو زبان بولتے ہیں، آپ کو پتہ ہے اردو زبان میں گلاس کسے کہتے ہیں، ‏‏بارش کسے کہتے ہیں، بادل کسے کہتے ہیں، دیوار کسے کہتے ہیں، گھر کسے کہتے ہیں، مسجد کسے کہتے ہیں، کیونکہ ‏‏کیونکہ آپ جانتے ہیں اردو زبان میں یہ لفظ کس کس چیز کے لیے یا کس کس معنیٰ کے لیے مقرر ہیں، کس معنیٰ کے ‏‏لیے مقرر ہیں، تو وضع کا کیا معنیٰ ہے؟ مقرر۔ وضع کا کیا معنیٰ ہے؟ مقرر۔ تو دیکھو، ایک ہوتا ہے لفظ کا حقیقی ‏معنیٰ ‏اور ایک ہے مجازی معنیٰ۔ لفظ کو جس معنیٰ کے لیے وضع کیا جائے کسی زبان میں یعنی مقرر کیا جائے، وہ اس ‏کا ‏حقیقی معنیٰ ہے۔ اور اس کو کسی اور معنیٰ میں بھی استعمال کیا جائے تو وہ اس کا مجازی معنیٰ ہے۔ مثلاً شیر، شیر کا ‏‏لفظ اردو زبان میں ایک جنگلی درندے کے لیے وضع ہے، ایک جنگلی درندے کے لیے مقرر ہے بھئی۔ تو یہ شیر کا ‏‏حقیقی معنیٰ ہے۔ شیر کا حقیقی معنیٰ کیا ہے؟ جنگلی درندہ، اردو زبان میں یہ اس معنیٰ کے لیے اس کو وضع کیا گیا ہے، ‏‏اس معنیٰ کے لیے اس لفظ کو مقرر کیا گیا ہے۔ جبکہ شیر کے لفظ کو کبھی کبھار بہادر آدمی کے لیے بھی استعمال کر لیا ‏‏جاتا ہے، آپ اپنے ساتھی کے بارے میں کسی کو بتلاتے ہیں کہ وہ تو شیر ہے بھئی شیر، آپ اس کو بتلانا چاہتے ہیں کہ ‏‏بڑا بہادر آدمی ہے وہ، تو شیر کا لفظ بہادر آدمی کے لیے بھی استعمال کر لیا جاتا ہے لیکن یہ شیر کا لفظ بہادر آدمی کے ‏‏لیے تو وضع نہیں، تو معلوم ہوا بہادر آدمی اس شیر کا مجازی معنیٰ ہے۔ کیا ہے؟ مجازی معنیٰ، تو حقیقی معنیٰ کسے ‏‏کہتے ہیں؟ جس کے لیے کسی لفظ کو وضع کیا جائے اور اس معنیٰ کے علاوہ کسی اور معنیٰ میں استعمال کر لیا جائے ‏‏تو وہ پھر اس کا مجازی معنیٰ کہلاتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو شیر کا حقیقی معنیٰ کیا؟ جنگلی درندہ، اور مجازی معنیٰ ‏‏کیا؟ بہادر آدمی ہے بھئی۔ اور یاد رکھو، لفظ کو جس معنیٰ کے لیے وضع کیا جائے مقرر کیا جائے وہ اس کا معنیٰ موضوع لہُ کہلاتا ہے۔ کیا کہلاتا ‏‏ہے؟ معنیٰ موضوع لہُ، وہ معنیٰ جس کے لیے اس کو مقرر کیا گیا ہے۔ شیر کا معنیٰ موضوع لہُ کیا ہے؟ جنگلی درندہ۔ ‏‏توجہ ہے؟ لفظوں پر غور کریں موضوع لہُ، وہ معنیٰ جس کے لیے کسی لفظ کو موضوعُ، مقرر کیا گیا ہو لہُ، اس معنیٰ ‏‏کے لیے۔ تو شیر کا معنیٰ موضوع لہُ کیا ہے؟ جنگلی درندہ۔ اور بہادر آدمی، یہ اس کا معنیٰ موضوع لہُ ہے یا غیر ‏‏موضوع لہُ ہے؟ یہ غیر موضوع لہُ ہے، اس کے لیے اس لفظ کو وضع نہیں کیا گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ پھر دہرا لیں ‏‏بھئی، آگے یہ لفظ بار بار ذکر ہوگا تاکہ آپ کو کوئی اشتباہ نہ ہو، معنیٰ موضوع لہُ کسے کہتے ہیں؟ وہ معنیٰ جس کے ‏‏لیے کسی لفظ کو وضع کیا جائے مقرر کیا جائے، یعنی اس کا جو حقیقی معنیٰ ہے۔ تو حقیقی معنیٰ کہہ لو یا معنیٰ موضوع ‏‏لہُ کہہ لو ایک ہی بات ہے۔ اور دوسرا معنیٰ جو ہے وہ معنیٰ غیر موضوع لہُ کہلائے گا یا معنیٰ مجازی ہے بھئی۔ اب یاد رکھو، یاد رکھو لفظ کو معنیٰ موضوع لہُ میں استعمال کیا جائے تو اس کو کہتے ہیں حقیقت، اور لفظ کو معنیٰ غیر ‏‏موضوع لہُ میں استعمال کیا جائے تو اس کو کہتے ہیں مجاز۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں کہ کل میں چڑیا گھر گیا تھا وہاں ‏‏میں نے شیر دیکھا۔ اب اس شیر کا کیا معنیٰ ہے؟ اس کا یہاں شیر کس معنیٰ میں استعمال ہو رہا ہے؟ حقیقی معنیٰ میں یعنی ‏‏معنیٰ موضوع لہُ میں، یعنی شیر سے یہاں جنگلی درندہ مراد ہے۔ تو اس شیر کے لفظ کو کہیں گے یہ حقیقت ہے، یہ جو ‏‏میں نے جملہ بولا کل میں چڑیا گھر گیا تھا وہاں میں نے شیر دیکھا، یہ جو اس جملے کے اندر لفظ شیر ہے آپ کہیں گے ‏‏یہ حقیقت ہے۔ اس لفظ کا نام ہی کیا ہے؟ حقیقت، کیا معنیٰ حقیقت؟ حقیقت کا معنیٰ یہ ہے کہ لفظ اپنے معنیٰ موضوع لہُ میں ‏‏استعمال ہو رہا ہے۔ تو یہاں پر بھی میں نے چڑیا گھر میں کل شیر دیکھا، یہ شیر کا لفظ کس معنیٰ میں استعمال ہو رہا ہے؟ ‏‏معنیٰ موضوع لہُ میں، تو آپ یوں کہیں گے، یہ جو لفظ شیر ہے اس جملے میں یہ حقیقت ہے۔ اس لفظ کا نام ہی کیا ہے اس ‏‏جملے میں؟ یہ کیا ہے؟ حقیقت ہے۔ اور اگر لفظ شیر آپ جملے میں استعمال کریں اور اس کا معنیٰ بہادر آدمی کے کریں تو ‏‏پھر اس کو مجاز کہتے ہیں۔ مثلاً آپ مسجد میں بیٹھے ہوئے ہیں، آپ کا ایک ساتھی مسجد کے اندر داخل ہوا، آپ اپنے پاس ‏‏والوں کو کہتے ہیں دیکھو شیر آ گیا۔ کون آ گیا؟ شیر آ گیا۔ اب آپ مجھے بتائیے۔ یہاں شیر کا کیا معنیٰ ہے؟ جنگلی درندہ ‏‏اس کا معنیٰ ہے یا بہادر آدمی؟ یہاں بہادر آدمی ہے شیر کا معنیٰ، کیونکہ مسجد کے اندر تو کوئی جنگلی درندہ نہیں داخل ‏‏ہوا بلکہ ایک بہادر انسان داخل ہوا ہے۔ تو یہ جو جملہ آپ نے بولا کہ شیر آ گیا، مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اور آپ نے ‏‏کیا کہا؟ وہ دیکھو شیر آ گیا، تو یہ جو لفظ شیر ہے اس کو مجاز کہیں گے۔ یہ کیا ہے؟ مجاز۔ پھر دہراؤ، میں کل چڑیا گھر گیا تھا وہاں میں نے شیر دیکھا، یہ شیر لفظ کیا ہے؟ حقیقت۔ یہ لفظ شیر کیا ہے؟ حقیقت، بس ‏‏آپ نے صرف اتنا کہا کہ یہ لفظ شیر حقیقت ہے، سننے والا سمجھ جائے گا کہ شیر اپنے حقیقی معنیٰ میں استعمال ہو رہا ‏‏ہے۔ آپ نے صرف کیا کہا؟ یہ لفظ شیر حقیقت ہے، بس اتنا کہا، سننے والا سمجھ گیا کہ یہ شیر اپنے کس معنیٰ میں ‏‏استعمال ہو رہا ہے؟ حقیقی معنیٰ میں۔ یا مسجد میں آپ نے کہا وہ دیکھو شیر آ گیا۔ تو اس جملے کے بارے میں کوئی شخص کہتا ہے کہ اس جملے میں یہ جو لفظ شیر ہے، یہ مجاز ہے۔ یہ سنتے ہی اپ ‏‏سمجھ گئے کہ معلوم ہوا شیر کا لفظ اپنے حقیقی معنی میں استعمال نہیں ہو رہا، بلکہ کسی دوسرے معنی میں استعمال ہو رہا ‏‏ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لفظ کو اگر اپنے حقیقی معنی میں استعمال کیا جائے، تو اس لفظ کو کہتے ہیں حقیقت۔ اور اگر ‏‏لفظ کو کسی اور معنی میں استعمال کیا جائے، تو اس لفظ کو کیا کہتے ہیں؟ مجاز۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ لہٰذا، لہٰذا، اب دیکھو توجہ سے سنو بھئی! مثلاً میں آپ کے سامنے ایک لفظ بولتا ہوں، آپ نے مجھے بتانا ہے یہ حقیقت ہے ‏‏یا مجاز ہے؟ حقیقت ہے یا مجاز ہے؟ میں نے کہا: "شیر"‏।‏ میں نے کیا کہا؟ "شیر"‏।‏ اب میں آپ سے پوچھتا ہوں: بتاؤ ‏‏بھئی! یہ جو لفظِ شیر میں نے زبان سے ادا کیا، یہ حقیقت ہے یا مجاز؟ آپ فوراً کہیں گے کہ بھئی! آپ اس لفظ کو اپنے ‏‏کسی کلام کے اندر اپنے جملے میں استعمال کریں، پھر ہم آپ کو بتلائیں گے کہ یہ حقیقت ہے یا مجاز۔ کیوں؟ کیونکہ یہ ‏‏جو حقیقت اور مجاز ہیں، یہ لفظ کی استعمال کے اعتبار سے قسمیں ہیں۔ یہ حقیقت اور مجاز لفظ کے استعمال کے اعتبار ‏‏سے قسمیں ہیں۔ وہی لفظ اگر حقیقی معنی میں استعمال ہو تو حقیقت، وہی لفظ مجازی معنی میں استعمال ہو تو مجاز۔ تو یہ ‏‏استعمال کے اعتبار سے قسمیں ہیں، لہٰذا استعمال کے بعد ہی ان کا پتہ چل سکتا ہے کہ یہ حقیقت ہے یا مجاز۔ جب تک آپ ‏‏ان کو کسی جملے میں استعمال نہیں کریں گے، آپ کو پتہ چل ہی نہیں سکتا۔ میں نے صرف کیا کہا؟ "شیر"‏।‏ بھئی شیر تو ‏‏جنگلی درندے کو بھی کہتے ہیں اور شیر تو بہادر آدمی کو بھی کہتے ہیں، لیکن صرف لفظِ شیر کہا۔ آپ کو کچھ پتہ چلا ‏‏کون سا معنی مراد ہے؟ نہیں، صرف صرف لفظِ شیر کہنے سے آپ کو پتہ نہیں چلے گا۔ ہاں، جب میں اس کو جملے میں ‏‏استعمال کروں گا، پھر آپ کو فوراً پتہ چل جائے گا۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: "میں نے کل ایک شیر کو ہنستے ہوئے ‏‏دیکھا۔" کل میں نے ایک شیر کو ہنستے ہوئے دیکھا، اب مجھے بتائیے، یہ جو شیر کا لفظ جملے میں آیا، یہ حقیقت ہے یا ‏‏مجاز؟ مجاز ہے۔ کس سے پتہ چلا؟ یہ ہنستنے کے لفظ سے، کیونکہ ہنسنا یہ انسان کی صفت ہے، اور دوسرے حیوانات ‏‏کی صفت نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا یہ استعمال کے بعد پتہ چلتا ہے کہ یہ لفظ حقیقت ہے یا مجاز۔ جب تک استعمال نہیں، پتہ بھی نہیں چل سکتا۔ تو جب ‏‏میں نے صرف شیر کہا، تو میں نے تو ابھی استعمال ہی نہیں کیا کسی جملے میں۔ جب میں استعمال کروں گا، فوراً آپ کو ‏‏پتہ چل جائے گا کہ یہ حقیقت ہے یا مجاز ہے۔ تو کل میں نے ایک شیر کو ہنستے ہوئے دیکھا، اس جملے کے اندر یہ جو ‏‏لفظِ شیر ہے، یہ کیا ہے؟ مجاز ہے۔ آپ نے صرف اتنا کہا، یہ لفظِ شیر مجاز ہے۔ سننے والے سمجھ گئے کہ یہ کس معنی ‏‏میں استعمال ہو رہا ہے؟ مجازی معنی میں استعمال ہو رہا ہے۔ تو اس لفظ کا نام ہی اس وقت مجاز ہے۔ جیسے اسم، فعل اور حرف۔ زید کیا ہے؟ اسم۔ ضربَ کیا ہے؟ فعل۔ مِن کیا ہے؟ حرف۔ اسی طرح میں نے ایک شیر کو ‏‏ہنستے ہوئے دیکھا، یہ شیر کا لفظ کیا ہے؟ مجاز ہے۔ اس کا نام ہی کیا ہے؟ مجاز، جیسے لفظِ زید کا نام ہی کیا ہے؟ اسم۔ ‏‏ضربَ کا نام ہی کیا ہے؟ فعل، اور مِن کا نام ہی کیا ہے؟ حرف۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اب دوسری مثال دیکھیے۔ کل میں نے جنگل میں ایک شیر دیکھا۔ یہ لفظِ شیر کیا ہے یہاں پر؟ یہ حقیقت ہے۔ یہ کیا ہے؟ ‏‏حقیقت ہے، یعنی اپنے حقیقی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ تو یہ حقیقت اور مجاز لفظ کی قسمیں ہیں۔ کس اعتبار سے؟ ‏‏استعمال کے اعتبار سے۔ استعمال اگر اپنے حقیقی معنی میں ہوا ہے تو یہ حقیقت ہے، اور اگر اپنے مجازی معنی میں ‏‏استعمال ہوا ہے تو یہ مجاز۔ تو یہ قسمیں کس اعتبار سے ہیں؟ استعمال، لہٰذا استعمال کے بغیر ان کا پتہ نہیں چل سکتا۔ تو ‏‏حقیقت اور مجاز سمجھ میں آ گیا؟ اب دیکھو یاد رکھو، جب آپ ایک لفظ استعمال کرتے ہیں تو ذہن فوراً حقیقی معنی کی طرف ہی پہلے جاتا ہے۔ جب آپ ایک ‏‏لفظ بولتے ہیں تو ذہن فوراً کس کی طرف جاتا ہے؟ حقیقی معنی کی طرف جاتا ہے کہ یہ لفظ تو اس معنی کے لیے وضع ‏‏ہے۔ لیکن ہمیشہ حقیقی معنی تو مراد نہیں ہوتا، کبھی تو دوسرے معنی کا بھی ارادہ کر لیا جاتا ہے۔ تو یاد رکھو حقیقی معنی ‏‏کے علاوہ کسی اور معنی کا جب آپ ارادہ کریں، تو اس کے لیے کوئی قرینہ چاہیے۔ کیا چاہیے؟ قرینہ چاہیے جس سے ‏‏سننے والے کو بھی پتہ چلے کہ آپ حقیقی معنی کا ارادہ نہیں کر رہے، بلکہ کسی دوسرے معنی کا ارادہ کر رہے ہیں۔ تو ‏‏اس کے لیے قرینہ چاہیے۔ قرینہ کسے کہتے ہیں؟ هُوَ أَمْرٌ يُشِيْرُ إِلَى الْمَطْلُوْبِ. قرینہ کی یہ تعریف آپ کو ہمیشہ یاد ہونی ‏‏چاہیے۔ اَلْقَرِيْنَةُ هُوَ أَمْرٌ يُشِيْرُ إِلَى الْمَطْلُوْبِ. قرینہ هُوَ أَمْرٌ قرینہ وہ ایسی چیز ہے، يُشِيْرُ جو اشارہ کرتا ہے، إِلَى الْمَطْلُوْبِ کس ‏‏کی طرف؟ مطلوب اور مقصد کی طرف۔ جو آپ کا مطلوب اور مقصد ہے، اس کی طرف جو بھی چیز اشارہ کرے، اس کو ‏‏کیا کہتے ہیں؟ قرینہ۔ یاد رکھو قرینہ دو قسم پر ہوتا ہے۔ ایک ہے قرینہ لفظیہ اور ایک ہے قرینہ غیر لفظیہ۔ لفظ کو جب بھی آپ معنی غیر موضوع لہ میں استعمال کریں، تو اس کے لیے ہمیشہ قرینہ چاہیے۔ کیونکہ ویسے تو سننے ‏‏والوں کو پتہ نہیں چلے گا۔ سننے والوں کو پتہ نہیں چلے گا کہ آپ نے کس معنی کا ارادہ کیا۔ مثلاً میں ایک جملہ بولتا ہوں: ‏‏‏"میں نے ایک شیر دیکھا۔" صرف اتنا جملہ میں نے کہا: "میں نے ایک شیر دیکھا۔" آپ کے ذہن میں فوراً کیا آیا؟ دیکھو ‏‏میں نے ایک شیر دیکھا، آپ کا ذہن فوراً کس معنی کی طرف گیا؟ حقیقی معنی کی طرف چلا جاتا ہے ذہن فوراً کہ معلوم ‏‏ہوا یہ کس کی بات کر رہا ہے؟ حقیقی معنی یعنی جنگلی درندے کی بات کر رہا ہے۔ لیکن اگر میں اس سے بہادر آدمی کا ‏‏ارادہ کر رہا ہوں، تو وہ تو میرے دل کی بات ہے، سامنے والوں کو تو پتہ نہیں ہے۔ لہٰذا اس کے لیے کوئی قرینہ چاہیے، ‏‏کوئی ایسی چیز چاہیے جس سے ان کو بھی پتہ چل جائے کہ میں نے جنگلی درندے کا ارادہ نہیں کیا، بلکہ بہادر آدمی کا ‏‏ارادہ کیا ہے۔ تو جس چیز سے بھی سننے والوں کو اس بات کا پتہ چل جائے، اس کو قرینہ کہتے ہیں۔ تو کبھی وہ لفظوں سے ہی پتہ چل جاتا ہے سننے والوں کو، مثلاً میں نے آپ سے کہا: "کل میں نے ایک شیر کو ہنستے ‏‏ہوئے دیکھا۔" آپ کو کیا پتہ چلا کہ یہ شیر کس معنی میں ہے؟ مجازی معنی میں، اور کیا قرینہ کیا ہے؟ کس سے پتہ چلا؟ ‏‏ہنسنے سے پتہ چلا، کیونکہ ہنسنا یہ صرف انسان کی صفت ہے اور حیوانات کی صفت نہیں ہے۔ تو یہ قرینہ لفظیہ ہے۔ یہ ‏‏قرینہ ہے اور کس قسم کا قرینہ ہے؟ لفظیہ، لفظ ہے، لفظوں نے آپ کو بتلایا۔ اور بعض اوقات قرینہ لفظیہ نہیں ہوتا، غیر ‏‏لفظیہ ہوتا ہے۔ توجہ ہے؟ قرینہ کسے کہتے ہیں؟ جو بھی آپ کے مطلوب اور مقصد اور آپ کی مراد کی طرف اشارہ کر دے، اس کو کیا ‏‏کہتے ہیں؟ قرینہ۔ مثلاً آپ مسجد میں بیٹھے ہوئے ہیں، ایک ساتھی آپ کا مسجد میں داخل ہوا، آپ اپنے پاس والے لوگوں کو ‏‏کہتے ہیں کہ "وہ دیکھو شیر آ گیا۔" "وہ دیکھو شیر آ گیا۔" سننے والے سمجھ گئے کہ اس شیر سے کون سا معنی یہاں مراد ‏‏ہے؟ مجازی معنی۔ لفظوں میں تو کوئی ایسا لفظ نہیں آیا۔ "وہ دیکھو شیر آ گیا"، یہی جملہ آپ جنگل میں کہیں، تو سننے ‏‏والے سمجھ جائیں گے جنگلی درندہ مراد ہے۔ یہی لفظ آپ نے مسجد میں کہے، تو سننے والے سمجھ گئے کہ اس سے کیا ‏‏مراد ہے؟ بہادر آدمی مراد ہے۔ تو یہاں پر بھی قرینہ موجود ہے، بغیر قرینے کے آپ کو پتہ نہیں چلا۔ قرینہ کیا ہے؟ قرینہ ‏‏جو ہے وہ حالت ہے کہ آپ کہاں بیٹھے ہیں اس وقت؟ مسجد میں، اور کون داخل ہوا ہے مسجد میں؟ انسان داخل ہوا ہے، ‏‏بہادر آدمی داخل ہوا ہے، کوئی جنگلی درندہ داخل نہیں ہوا۔ تو دیکھو یہاں بھی آپ نے کہا: "وہ دیکھو شیر آ گیا"، سننے ‏‏والے سمجھ گئے شیر کا حقیقی معنی مراد نہیں، بلکہ مجازی معنی۔ اور خود بخود پتہ چلا یا اس مسجد میں ہونے کی جو ‏‏حالت تھی، اس سے پتہ چلا؟ جو حالت تھی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو قرینہ ضرور چاہیے، تو یہاں یہ جو قرینہ ہے، وہ لفظیہ نہیں ہے، لفظوں سے نہیں پتہ چل رہا، بلکہ قرینہ حالیہ ہے۔ ‏‏حالت بتلا رہی ہے، مسجد میں کون داخل ہوا ہے؟ انسان داخل ہوا ہے، کوئی جنگلی درندہ داخل نہیں ہوا۔ تو قرینہ یاد رکھنا، ‏‏جگہ جگہ کتابوں میں قرینہ کا لفظ آتا ہے۔ قرینہ کسے کہتے ہیں؟ جو چیز آپ کے مطلوب اور مقصود کی طرف اشارہ کر ‏‏دے کہ آپ کا ارادہ کیا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ قرینہ کہتے ہیں۔ اور قرینہ دو ہی قسم پر ہوتا ہے، یہ ہمیشہ یاد رکھنا، یا ‏‏قرینہ لفظیہ ہوتا ہے یا غیر لفظیہ۔ قرینہ یا لفظیہ ہوگا یا غیر لفظیہ۔ غیر لفظیہ پھر کسی بھی قسم کا ہو سکتا ہے، جیسے ‏‏یہاں پر حالت تھی۔ کیا تھی؟ حالت تھی، تو وہ بہرحال جو بھی ہوگا، یا قرینہ لفظیہ ہوگا یا غیر لفظیہ۔ ہاں نام الگ الگ آپ ‏‏کو سننے کو ملیں گے، تو آپ پریشان ہوں گے کہ پتہ نہیں قرینے کی کتنی قسمیں ہیں۔ نہیں بھئی، دو ہی قسمیں ہیں، یا ‏‏قرینہ لفظیہ ہے یا غیر لفظیہ۔ پھر اسی قرینہ لفظیہ کو کبھی قرینہ مقالیہ کہہ دیتے ہیں۔ مقال قول سے ہے نا، قول کا یعنی ‏‏قرینہ کیا ہے مقالیہ؟ کیا معنی؟ قول قول جو ہے، قول سے پتہ چل رہا ہے، معلوم ہوا لفظوں سے پتہ چل رہا ہے۔ یا کلام کا ‏‏چلاؤ بتلا رہا ہے کہ اس سے یہ والا معنی مراد نہیں ہے، بلکہ یہ والا معنی مراد ہے۔ تو قرینہ کبھی لفظیہ ہوگا اور کبھی ‏‏غیر لفظیہ ہوگا۔ تو لفظ کو اگر حقیقی معنی میں استعمال کیا جائے تو اسے کیا کہتے ہیں؟ حقیقت، اور اگر کسی دوسرے معنی میں استعمال ‏‏کیا جائے تو اسے کیا کہتے ہیں؟ مجاز، اور مجاز کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ قرینہ چاہیے، اگر آپ قرینہ نہیں لائیں گے، ‏‏سننے والا تو سمجھے گا شاید حقیقی معنی ہی کا ارادہ ہے۔ کیونکہ ذہن حقیقی معنی کی طرف فوراً چلا جاتا ہے۔ تو مجاز ‏‏کے لیے ہمیشہ قرینہ چاہیے، یہ آپ نے ہمیشہ یاد رکھنا ہے۔ اب اس کے بعد ایک اور بات یاد رکھیں۔ یاد رکھو یہ جو معنی حقیقی ہے اور معنی مجازی ہے، ان کے درمیان ہمیشہ کوئی ‏‏نہ کوئی ربط اور تعلق ضرور ہوگا۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ ایک لفظ سے کسی ایسے معنی کا ارادہ کر لیں کہ حقیقی معنی ‏‏کے ساتھ اس کا کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ لفظ کو وضع کیا گیا ہے معنی حقیقی کے لیے، آپ اس کو استعمال کرتے ہیں کسی ‏‏دوسرے معنی میں، تو یہ جو دوسرا معنی ہے، اس کا کوئی ربط اور تعلق ہونا چاہیے معنی حقیقی کے ساتھ۔ کوئی ربط اور ‏‏تعلق نہیں، تو پھر آپ اس معنی کے لیے اس لفظ کو استعمال بھی نہیں کر سکتے۔ مثلاً میں بکری کا لفظ بولوں اور بکری ‏‏کا حقیقی معنی کیا؟ وہ ایک چھوٹا سا حیوان بھئی، لیکن میں ارادہ ہاتھی کا کر لیتا ہوں، کس کا؟ اب دیکھو ہاتھی اور بکری ‏‏میں تو کوئی مناسبت نہیں ہے بھئی، لہٰذا میں بکری بول کر ہاتھی کا ارادہ نہیں کر سکتا بھئی۔ حقیقی معنی اور مجازی ‏‏معنی میں کوئی نہ کوئی ربط ہونا چاہیے، جیسے دیکھو یہاں پر بھی حقیقی معنی شیر کا کیا ہے؟ جنگلی درندہ، اور ‏‏مجازی معنی کیا ہے؟ بہادر آدمی۔ دیکھو ان دونوں کے درمیان ربط موجود ہے، تعلق موجود ہے کہ شیر بہادری کے اندر ‏‏بہت زیادہ مشہور ہے۔ اسی طرح یہ جو شخص کو آپ نے شیر کہا، آپ یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ اس کے اندر بھی شیر جیسی ‏‏بہادری موجود ہے۔ جیسے اس شیر کے اندر شجاعت اور بہادری ہے، اس انسان میں بھی کیا ہے؟ شجاعت اور بہادری ہے ‏‏بھئی، تو دیکھو مناسبت آ گئی۔ کیا آ گئی؟ مناسبت آ گئی۔ تو حاصل کلام کیا؟ کہ مجازی معنی کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ قرینہ، اور نیز حقیقی اور مجازی معنی میں ہمیشہ کیا ہونا ‏‏چاہیے؟ کوئی تعلق اور ربط ہونا چاہیے، بغیر تعلق اور ربط کے آپ ایک لفظ کو کسی دوسرے معنی کے لیے استعمال ‏‏نہیں کر سکتے۔ اب یاد رکھنا، یہ جو ربط اور تعلق ہے حقیقی اور مجازی معنی میں، اگر یہ تشبیہ والا تعلق ہو، آپ ایک ‏‏چیز کو دوسری کے ساتھ تشبیہ دے رہے ہیں، تو اس کو کہتے ہیں استعارہ۔ یہ کیا ہے؟ مجاز کی ہی قسم ہے استعارہ۔ اور ‏‏اگر تشبیہ کے علاوہ کوئی اور تعلق ہے حقیقی اور مجازی معنی میں، تو اس کو مجازِ مرسل کہتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ ‏‏رہی ہے؟ کیا؟ کہ اگر حقیقی اور مجازی معنی میں کون سا تعلق ہو؟ تشبیہ والا، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ استعاره، اور اگر ‏‏تشبیہ کے علاوہ کوئی اور تعلق ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مجازِ مرسل کہتے ہیں۔ مجازِ مرسل کے علماء نے کوئی بیس پچیس علاقے ذکر فرمائے ہیں کہ بیس پچیس قسم کے تعلق ہو سکتے ہیں مجازِ ‏‏مرسل میں، یعنی حقیقی اور مجازی معنی میں۔ جیسے یہ پہلی مثال میں نے ذکر کی کہ میں نے شیر کا لفظ بولا اور کس ‏‏معنی کا ارادہ کیا؟ بہادر آدمی کا، تو حقیقی معنی اور مجازی معنی میں کون سا تعلق ہے؟ تشبیہ والا، کون سا تعلق ہے؟ ‏‏تشبیہ والا، معلوم ہوا آپ اس انسان کو شیر کے ساتھ تشبیہ دے رہے ہیں، کس چیز کے اندر؟ بہادری کے اندر، تو معلوم ہوا ‏‏یہ استعارہ ہے۔ یہ کیا ہے؟ توجہ ہے؟ پھر سنو! لفظ کو معنی غیر موضوع لہ میں استعمال کیا جائے تو یہ مجاز کہلاتا ہے۔ ‏‏لفظ کو معنی غیر موضوع لہ میں استعمال کیا جائے تو یہ مجاز کہلاتا ہے، اور اس مجازی معنی کا حقیقی معنی کے ساتھ ‏‏کوئی نہ کوئی تعلق ضرور ہوگا، ایسا نہیں ہو سکتا دونوں میں کوئی تعلق ہی نہ ہو۔ مثلاً بکری بول کر آپ ہاتھی کا ارادہ ‏‏کر لیں بغیر کسی تعلق کے، آپ ایسا نہیں کر سکتے، تو دونوں میں کوئی تعلق ہوگا۔ یہ تعلق تشبیہ والا بھی ہو سکتا ہے اور ‏‏غیر تشبیہ والا بھی ہو سکتا ہے۔ اگر یہ تعلق تشبیہ والا ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ استعارہ۔ کیا کہتے ہیں؟ استعارہ۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: "کل میں نے ایک شیر کو تیر چلاتے ہوئے دیکھا۔" اس لفظِ شیر سے کون سا معنی مراد ہے؟ ‏‏حقیقی یا مجازی؟ مجازی معنی مراد ہے۔ تو میں نے کس کو شیر کہا؟ بہادر آدمی کو، معلوم ہوا میں اس کو کس کے ساتھ ‏‏تشبیہ دے رہا ہوں؟ شیر کے ساتھ۔ تو یہ مجاز ہے اور مجاز کی کون سی قسم ہے؟ استعارہ ہے بھئی۔ یہ استعارہ ہے۔ اور ‏‏اگر تشبیہ کے علاوہ کوئی اور تعلق ہو تو اس کو مجازِ مرسل کہتے ہیں، اور میں نے بتایا مجازِ مرسل کے علماء نے بیس ‏‏پچیس علاقے ذکر فرمائے ہیں۔ کبھی جز بول کر کل کا ارادہ کیا جاتا ہے، کبھی کل بول کر جز کا ارادہ کیا جاتا ہے۔ کبھی ‏‏ظرف بول کر مظروف کا ارادہ کیا جاتا ہے، ظرف کہتے ہیں برتن کو، مظروف جو اس کے اندر ہو۔ تو کبھی برتن بول ‏‏کر جو برتن کے اندر چیز ہے، اس کا ارادہ کیا جاتا ہے، اور کبھی مظروف بول کر کس کا ارادہ کرتے ہیں؟ ظرف کا ‏‏ارادہ کرتے ہیں۔ اسی طرح کبھی سبب بول کر مسبب کا ارادہ کرتے ہیں، سبب وہ جو کسی چیز تک پہنچائے، اور جس ‏‏چیز تک پہنچائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ مسبب۔ تو کبھی سبب بول کر کس کا ارادہ کرتے ہیں؟ مسبب کا، اور کبھی مسبب ‏‏بول کر کس کا ارادہ کرتے ہیں؟ سبب کا۔ تو یہ مختلف علاقے ہیں، دیکھو چھ علاقے تو میں نے ذکر کر دیے مجازِ مرسل ‏‏کے۔ جز بول کر کل کا ارادہ کرنا، اور یا کل بول کر جز کا ارادہ کرنا، دو علاقے ہو گئے۔ ظرف بول کر مظروف کا ارادہ ‏‏کرنا، یہ تین علاقے ہو گئے۔ مظروف بول کر ظرف کا ارادہ کرنا، چار ہو گئے۔ اور سبب بول کر مسبب کا ارادہ کرنا، یہ ‏‏ایک علاقہ ہوا، اور مسبب بول کر سبب کا ارادہ کرنا، دیکھو چھ علاقے تو میں نے ذکر کر دیے۔ تو اس طرح علماء نے ‏‏کوئی بیس پچیس علاقے ذکر کیے ہیں مجازِ مرسل کے۔ جیسے قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: يَجْعَلُوْنَ أَصَابِعَهُمْ فِيْ آذَانِهِمْ. يَجْعَلُوْنَ وہ لوگ ڈالتے ہیں، أَصَابِعَهُمْ اپنی انگلیوں کو، فِيْ ‏‏آذَانِهِمْ کس میں؟ اپنے کانوں میں۔ وہ لوگ اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈالتے ہیں، تو آپ دیکھو یہاں پر، أصابع کا ذکر آیا، ‏‏أصابع کسے کہتے ہیں؟ أصابع أصبع کی جمع ہے، انگلی کو کہتے ہیں۔ وہ لوگ اپنے کانوں میں انگلیاں ڈالتے ہیں، مجھے ‏‏بتائیے کان کے اندر پوری انگلی ڈالی جاتی ہے یا انگلی کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ، یعنی انگلی کا پورا داخل کیا جاتا ‏‏ہے؟ انگلی کا پورا داخل کیا جاتا ہے کان کے اندر، پوری انگلی تو داخل نہیں کی جاتی، معلوم ہوا یہاں یہاں انگلی بول کر ‏‏پورا مراد ہے، کل بول کر جز مراد ہے اس کا۔ اور یاد رکھو، یہ آپ بھی عام کلام کے اندر استعمال کرتے رہتے ہیں، لیکن ‏‏کبھی آپ نے توجہ نہیں دی۔ ہاں، علماء نے ان کو علمی رنگ دے کر آپ کے سامنے ذکر کر دیا۔ آپ بھی یہ مجازِ مرسل ‏‏کلام کے اندر استعمال کرتے ہیں، آپ بھی استعارہ استعمال کرتے ہیں، یہ بلاغت کی جتنی چیزیں ہیں، یہ عام کلام کے اندر ‏‏لوگ استعمال کرتے ہیں اور علماء انہی کو پھر علمی انداز میں بیان فرماتے ہیں۔ جیسے دیکھو، آپ بہادر آدمی کو شیر کہتے ہیں یا نہیں کہتے؟ دیکھو یہاں آپ استعارہ استعمال کر رہے ہیں، استعارہ کر ‏‏رہے ہیں۔ اور اسی طرح اور مثال لے لیں، مثلاً آپ اپنے ایک ساتھی کے پاس گئے اور وہ آپ کے سامنے چائے لے آیا۔ ‏‏چائے لے آیا، آپ نے ایک کپ پیا، اس نے کہا: "اور چائے پی لیں۔" آپ کہتے ہیں: "نہیں، بس ایک کپ میں نے پی لیا ‏‏ہے، اور نہیں پیوں گا۔" "میں نے ایک کپ پی لیا ہے، اور نہیں پیوں گا۔" مجھے بتائیے کپ، کپ تو اس برتن کا نام ہے، ‏‏آپ نے کپ کو پیا ہے یا آپ نے اس کے اندر جو چائے موجود تھی اس چائے کو پیا ہے؟ چائے کو پیا ہے، تو دیکھو آپ ‏‏نے کپ یعنی ظرف بول کر مظروف کا ارادہ کیا، یعنی میں نے ایک کپ کے برابر چائے پی لی ہے، اور چائے میں نہیں ‏‏پیوں گا۔ تو جملہ آپ نے کیا بولا؟ "میں نے ایک کپ پی لیا ہے"، آپ نے کپ پیا ہے یا چائے پی؟ چائے پی، تو دیکھا ‏‏ظرف بول کر آپ نے مظروف کا ارادہ کیا ہے۔ یا آپ کا ساتھی شربت لے آیا، وہ کہتا ہے: "اور شربت پیجیے۔" آپ کہتے ‏‏ہیں: "میں دو گلاس پی چکا ہوں، اور نہیں پیوں گا۔" بھئی آپ نے گلاس پیا ہے یا گلاس کے اندر جو شربت موجود تھا وہ ‏‏پیا ہے؟ شربت پیا ہے۔ گلاس تو سٹیل کا یا شیشے کا ہو گا وہ تو آپ نہیں پی سکتے۔ تو یہاں ظرف بول کر کیا مراد ہے؟ ‏‏مظروف مراد ہے۔ اور اسی طرح آپ اپنے ساتھی سے کہتے ہیں "دریا بہہ رہا ہے" یا "نہر بہہ رہی ہے"۔ ‏"نہر بہہ رہی ہے"، بھئی نہر بہتی ہے یا نہر کے اندر پانی بہتا ہے؟ پانی بہتا ہے۔ اسی طرح دریا کے اندر پانی بہتا ہے۔ نہر تو اس پانی کے بہنے کی جگہ کو کہتے ہیں۔ دریا تو اس پانی کے ‏‏بہنے کی جگہ کو کہتے ہیں۔ تو دریا اور نہر ظرف ہیں اور ظرف بول کر آپ نے کس کا ارادہ کیا؟ مظروف کا جو پانی ‏‏اس کے اندر موجود ہے کہ وہ بہہ رہا ہے۔ تو یہ آپ بھی عام کلام میں استعمال کرتے ہیں۔ تو اس کو کہتے ہیں مجازِ مرسل۔ تو لفظ کو معنیِ غیر موضوع لہُ میں استعمال کیا جائے اسے کیا کہتے ہیں؟ مجاز۔ اور مجاز کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ ‏‏قرینہ۔ اور معنیِ حقیقی اور معنیِ مجازی میں ہمیشہ کیا چاہیے؟ ربط۔ اور یہ ربط اور تعلق جو ہے اگر، اگر تشبیہ والا ہو ‏‏تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ اگر تشبیہ والا ہو تو اس کو استعارہ کہتے ہیں۔ اور اگر تشبیہ کے علاوہ کوئی اور تعلق ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مجازِ ‏‏مرسل کہتے ہیں۔ "یَجْعَلُونَ أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِم" یہاں پر مجازِ مرسل ہے، کل بول کر جز مراد ہے۔ "نہر بہہ رہی ہے" یہاں ‏‏مجازِ مرسل ہے کہ ظرف بول کر مظروف مراد ہے۔ "میں نے ایک گلاس پی لیا ہے" یہاں پر بھی مجازِ مرسل ہے کہ ‏‏ظرف بول کر مظروف مراد ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اچھا، یہاں کنایہ کا ذکر آیا۔ بلاغت میں کنایہ کس کو کہتے ہیں اس کو بھی سمجھ لیجیے بھئی۔ کنایہ کہتے ہیں علمِ بلاغت کے اندر ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کرنا۔ ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کرنا، اس کو کہتے ہیں کنایہ۔ مثلاً زید جو ہے لمبے قد والا ہے۔ تو اب آپ کسی کے سامنے یہ بات بیان کرنا چاہتے ہیں تو ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ اس بات کو صاف لفظوں میں بیان کر ‏‏دیں اور یوں کہیں "زید لمبے قد والا ہے" یا یوں کہو "زید کا قد لمبا ہے"۔ تو یہ صریح ہے۔ یہ کیا ہے؟ صریح یعنی صاف ‏‏لفظوں میں ایک بات کرنا۔ اور ایک ہے بات کو تھوڑا سا گھما کر کرنا۔ یاد رکھو بات کو جب تھوڑا سا گھما کر ذکر کیا ‏‏جائے تو اس کی لذت بڑھ جاتی ہے۔ تو مثلاً اب آپ یہی بیان کرنا چاہتے ہیں کہ زید لمبے قد والا ہے، لیکن لفظ دوسرے استعمال کرتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں کسی ‏‏سے کہ "زید کی قمیص لمبی ہے" یا "زید لمبی قمیص والا ہے"۔ اور ارادہ کیا ہے؟ اس کا قد لمبا ہے۔ تو دیکھو وہی بات آپ نے دوسرے لفظوں کے ساتھ ذکر کی تو اس کو کہتے ہیں کنایہ۔ تو دیکھو، تو دیکھو آپ نے ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کیا۔ کیونکہ قمیص کے لمبا ہونے کے ساتھ قد کا لمبا ہونا بھی لازم ‏‏ہے۔ قمیص اسی کی لمبی ہو گی جس کا قد لمبا ہو گا۔ تو قمیص کے لمبا ہونے کے ساتھ قد کا لمبا ہونا لازم ہے۔ آپ نے ذکر ‏‏لمبی قمیص کی اور ارادہ کس کا کیا؟ لمبے قد کا۔ تو ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کیا۔ لمبی قمیص کے ساتھ...‏ قد کا لمبا ہونا لازم ہے۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ لمبی قمیص کے ساتھ قد کا لمبا ہونا لازم ہے۔ آپ نے ذکر کس کو کیا؟ ملزوم، ارادہ کس کا کیا؟ ‏‏لازم کا۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ کنایہ۔ بلاغت میں اس کو کیا کہتے ہیں؟ کنایہ کہ ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کیا جائے، یا دوسری مثال لے لو۔ عربی زبان میں کہتے ہیں کہ "زیدٌ کثِیرُ الرَّمَادِ" ہے۔ زید کیا ہے؟ "کثِیرُ الرَّمَادِ" ہے۔ رماد کہتے ہیں راکھ کو بھئی۔ آپ نے ‏‏آگ جلائی، لکڑیاں جلائیں تو لکڑیاں جل گئیں اور پیچھے کیا بچ گئی؟ راکھ بچ گئی۔ تو اس کو عربی میں رماد کہتے ہیں۔ ‏‏‏"زیدٌ کثِیرُ الرَّمَادِ"، زید کثیر راکھ والا ہے۔ زید کثیر راکھ والا ہے اور عربی زبان میں یہ لفظ بولا جاتا ہے سخاوت کو بیان کرنے کے لیے۔ عربی زبان میں یہ لفظ کس لیے بولا جاتا ہے؟ سخاوت کو بیان کرنے کے لیے۔ وجہ یہ کہ زیادہ راکھ کے ساتھ سخاوت ‏‏لازم ہے۔ زیادہ راکھ کے ساتھ سخاوت لازم ہے کیونکہ زیادہ راکھ وہی ہو گی جہاں زیادہ لکڑیاں جلتی ہوں، اور زیادہ لکڑیاں وہیں ‏‏جلیں گی جہاں پر کھانا زیادہ پکتا ہو، اور کھانا وہیں پر زیادہ پکتا ہے جہاں مہمان زیادہ آتے ہوں، اور مہمان وہیں پر ‏‏زیادہ آتے ہیں جو شخص سخی ہو۔ بخیل آدمی کے گھر تو مہمان ایک دفعہ چلا جائے، دوبارہ پھر مڑ کر وہاں نہیں جائے ‏‏گا کہ یہ تو کسی کو چائے کبھی نہیں پوچھتا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دیکھو، راکھ کے زیادہ ہونے کے ساتھ سخاوت کا ہونا لازم ہے۔ تو ملزوم بول کر کس کا ارادہ کیا؟ لازم کا۔ اس کو کیا ‏‏کہتے ہیں؟ کنایہ کہتے ہیں۔ یا دوسری مثال لے لو، مثلاً، مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں "سورج نکل آیا ہے"۔ جب سورج نکلے ‏‏گا تو یقیناً دن بھی ہو گا بھئی۔ ایسا ہو سکتا ہے سورج نکلا ہو اور دن نہ ہو؟ نہیں، جب بھی سورج نکلا ہو گا، دن ضرور ‏‏ہو گا۔ تو سورج کے نکلنے کے ساتھ دن کا ہونا لازم ہے۔ تو ایک تو طریقہ یہ ہے کہ میں صاف لفظوں میں کہہ دوں "دن ‏‏ہو گیا ہے"۔ ‏"دن ہو گیا ہے"۔ اور ایک اسی بات کو میں کنائے کے رنگ میں کہتا ہوں۔ کس طرح کہتا ہوں؟ کنائے کے رنگ میں کہتا ‏‏ہوں کہ "سورج نکل آیا ہے"۔ اور ارادہ اسی معنیٰ کا۔ سورج کے نکلنے کے معنیٰ کا ارادہ میں نہیں کر رہا، لفظ تو میں بول رہا ہوں "سورج نکل آیا ہے"۔ اگر میں سورج کے نکلنے ہی کا ارادہ کرتا ہوں پھر تو کوئی کنایہ نہیں ہے، جس معنیٰ کا ارادہ کر رہا ہوں میں نے لفظ ‏‏بھی وہی استعمال کیے ہیں۔ ہاں، کنایہ میں اسی معنیٰ کا ارادہ ہوتا ہے اس کے لازم کا ارادہ ہوتا ہے۔ لازم کا ارادہ ہوتا ‏‏ہے، تو لفظ میں نے کیا بولا؟ "سورج نکل آیا ہے" اور ارادہ کس کا کیا؟ دن ہونے کا کہ "دن ہو گیا ہے"۔ تو اس کو کہتے ہیں کنایہ۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ کیونکہ سورج کے نکلنے کے ساتھ دن کا ‏‏ہونا لازم ہے۔ تو ملزوم بولا جائے اور ارادہ کس کا کیا جائے؟ لازم کا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ کنایہ کہتے ہیں بھئی، کنایہ ‏‏کہتے ہیں۔ تو معلوم ہوا کہ کنایہ کے اندر بھی لفظ جو ہے معنیِ غیر موضوع لہُ میں استعمال ہوتا ہے۔ اور مجاز کے اندر بھی۔ توجہ ہے؟ دونوں میں فرق اچھی طرح سے سمجھ لیں، پھر سمجھ لیں۔ لفظ کو معنیِ حقیقی میں ‏‏استعمال کیا جائے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ حقیقت۔ دوسرے معنیٰ میں استعمال کیا جائے تو وہ مجاز، اور مجاز کے لیے ‏‏ہمیشہ کیا چاہیے؟ قرینہ چاہیے۔ بغیر قرینے کے سننے والے کو معنیِ مجازی کی طرف اس کا ذہن نہیں جائے گا۔ اور پھر ‏‏یہ جو حقیقت اور مجاز ہے، ان دونوں کے درمیان ہمیشہ کیا ہونا چاہیے؟ تعلق اور ربط ہونا چاہیے۔ اگر ربط ہے تو آپ ‏‏اس معنیٰ میں استعمال کر سکتے ہیں۔ اگر ربط اور تعلق ہی کوئی نہیں تو پھر آپ اس معنیٰ کے لیے اس لفظ کو استعمال ‏‏بھی نہیں کر سکتے۔ تو معلوم ہوا معنیِ حقیقی اور معنیِ مجازی میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی تعلق ضرور ہونا چاہیے۔ اگر یہ ‏‏تعلق جو ہے تشبیہ والا ہو تو پھر اس کو استعارہ کہتے ہیں، اور اگر تشبیہ کے علاوہ کوئی اور تعلق ہو تو اس کو مجازِ ‏‏مرسل کہتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو وہ استعارہ اور مجازِ مرسل، یہ دونوں مجاز کی قسمیں ہیں۔ استعارہ اور مجازِ مرسل، یہ دونوں مجاز کی قسمیں ہیں۔ البتہ ایک میں علاقہ تشبیہ والا ہے اور ایک میں تشبیہ کے علاوہ ‏‏کوئی اور علاقہ ہے، سبّبیت والا ہے، مسبّبیت والا ہے، ظرفیت والا ہے یا مظروفیت والا ہے، یا جزئیت والا ہے یا کلیت ‏‏والا ہے جو میں نے مثالیں ذکر کر دیں ان میں سے کوئی ایک تعلق ضرور ہے۔ تو مجاز کے اندر بھی لفظ کس معنیٰ میں استعمال ہوتا ہے؟ غیر موضوع لہُ میں۔ اور کنایہ میں بھی ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کیا جاتا ہے یعنی لفظ کو معنیِ غیر موضوع لہُ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ‏‏توجہ ہے؟ میں نے کہا "زید کی قمیص لمبی ہے"، تو میں نے اسی معنیٰ کا ارادہ کیا یا قد کے لمبا ہونے کا ارادہ کیا؟ قد کے لمبا ‏‏ہونے کا، تو دیکھو لفظ معنیِ غیر موضوع لہُ میں میں نے استعمال کر لیا۔ تو دونوں میں فرق کیا ہے، یہ فرق بھی ہمیشہ ‏‏یاد رکھنا کہ مجاز اور کنائے میں فرق ہے بھئی۔ مجاز اور کنائے میں فرق یہ ہے کہ مجاز کے اندر آپ اسی جگہ پر معنیِ ‏‏حقیقی کا ارادہ نہیں کر سکتے۔ مجاز کے اندر آپ اسی جگہ پر معنیِ حقیقی کا ارادہ نہیں کر سکتے ورنہ آپ کا کلام ہی غلط ہو جائے گا۔ جبکہ کنائے کے ‏‏اندر آپ اسی جگہ پر معنیِ حقیقی کا ارادہ کریں تو بھی کلام غلط نہیں ہوتا۔ تو بھی کلام غلط نہیں ہوتا، مثلاً دیکھو، میں نے کہا "زید لمبی قمیص والا ہے" اور ارادہ کیا کیا؟ "لمبے قد والا ہے"۔ لیکن ‏‏اگر میں اسی حقیقی معنیٰ کا بھی ارادہ کروں اس جملے سے، "زید لمبی قمیص والا ہے" اور ارادہ بھی لمبی قمیص ہی کا ‏‏ہے تو میرا کلام صحیح ہے یا غلط ہے؟ میرا کلام پھر بھی صحیح ہے، زید لمبی قمیص والا ہے بھئی، اس کی قمیص لمبی ‏‏ہے بھئی۔ اور میں نے کیا کہا تھا؟ "زید کثیر راکھ والا ہے" اور ارادہ کس کا کیا؟ سخاوت کا۔ لیکن اگر میں معنیِ حقیقی ہی کا ارادہ ‏‏کر لوں کہ زید کثیر راکھ والا ہے تو یہ بات بھی درست ہے یا غلط ہے؟ یہ بھی درست ہے کہ معلوم ہوا اس کے ہاں راکھ ‏‏زیادہ ہے بھئی، جب وہ سخی ہے تو کھانے زیادہ پکتے ہیں تو راکھ زیادہ ہو گی بھئی۔ تو کنایہ کے اندر آپ حقیقی معنیٰ کا ارادہ کریں تو پھر بھی بات ٹھیک رہتی ہے، غلط نہیں ہوتی۔ لیکن مجاز کے اندر آپ ‏‏حقیقی معنیٰ کا ارادہ وہاں کر ہی نہیں سکتے، بات ہی غلط ہو جاتی ہے۔ مثلاً، مسجد کے اندر آپ کا ایک ساتھی آیا، آپ نے ‏‏اپنے پاس والوں سے کہا "وہ دیکھو شیر آ گیا"۔ شیر سے کون سے معنیٰ کا ارادہ کیا؟ مجازی معنیٰ، بہادر آدمی کا۔ تو اب آپ یہاں پر حقیقی معنیٰ کا ارادہ نہیں کر سکتے کہ "وہ دیکھو جنگلی درندہ آ گیا"، نہیں ‏‏بھئی، جنگلی درندہ تو یہاں آیا ہی نہیں ہے تو یہ تو آپ کا کلام جھوٹ ہو جائے گا، غلط ہو جائے گا۔ فرق سمجھ میں آیا؟ کنایہ کے اندر اسی مقام پر حقیقی معنیٰ کا ارادہ بھی کیا جائے تو وہ غلط نہیں ہوتا، لیکن مجاز کے اندر ‏‏اسی مقام پر حقیقی معنیٰ کا ارادہ نہیں کیا جا سکتا۔ یا جیسے دوسری مثال لے لیں، میں نے آپ سے کہا "کل میں نے ایک ‏‏شیر کو تیر چلاتے ہوئے دیکھا"۔ اس شیر کا کیا معنیٰ؟ بہادر آدمی، لیکن اگر میں حقیقی معنیٰ یہاں کرنا چاہوں تو کلام ہی ‏‏غلط ہو گیا۔ میں نے ایک جنگلی درندے کو تیر چلاتے ہوئے دیکھا بھئی، جنگلی درندہ کیسے تیر چلا سکتا ہے؟ آپ کی یہ بات ہی ‏‏صحیح نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو مجاز کے اندر بھی لفظ معنیِ غیر موضوع لہُ میں استعمال ہوتا ہے، کنایہ ‏‏میں بھی لفظ معنیِ غیر موضوع لہُ میں استعمال ہوتا ہے۔ توجہ ہے؟ لیکن دونوں میں فرق کیا ہے؟ کہ کنایہ کے اندر اس کلام سے حقیقی معنیٰ کا ارادہ کر لیا جائے تو بھی وہ کلام غلط نہیں ‏‏ہوتا، لیکن مجاز کے اندر اگر وہیں پر اسی لفظ سے حقیقی معنیٰ کا ارادہ کیا جائے تو کلام صحیح نہیں رہتا۔ بات سمجھ میں ‏‏آ گئی؟ یہاں ایک اور قیمتی بات یاد رکھنا بھئی، بلاغت کی کتابوں میں آپ پڑھیں گے "اَلْكِنَايَةُ أَبْلَغُ مِنَ الصَّرِيحِ"۔ "اَلْكِنَايَةُ أَبْلَغُ ‏‏مِنَ الصَّرِيحِ"، کنایہ جو ہے وہ ابلغ ہوتا ہے "مِنَ الصَّرِيحِ"، کس کے مقابلے میں؟ صریح کے مقابلے میں۔ صریح کسے ‏‏کہتے ہیں؟ صاف لفظوں میں ایک بات کی جائے۔ تو "اَلْكِنَايَةُ أَبْلَغُ مِنَ الصَّرِيحِ"، پہلے تو ان لفظوں کا معنیٰ سمجھ لو۔ یاد ‏‏رکھو یہاں جو ابلغ کا لفظ آیا یہ بمعنیٰ افضل کے ہے، "اَلْكِنَايَةُ أَفْضَلُ مِنَ الصَّرِيحِ"۔ کنایہ جو ہے وہ افضل ہوتا ہے کس ‏‏سے؟ صریح کے مقابلے میں۔ آپ ایک بات سیدھے لفظوں میں کہیں اور ایک ہے آپ بات کو گھما کر کہیں، کنایہ کے انداز ‏‏میں کہیں تو یاد رکھو آپ کا کلام اعلیٰ ہے کیونکہ آپ نے کنایہ کے رنگ میں بات کی ہے۔ تو "اَلْكِنَايَةُ أَبْلَغُ مِنَ الصَّرِيحِ" کا کیا معنیٰ ہے؟ "اَلْكِنَايَةُ أَفْضَلُ مِنَ الصَّرِيحِ" بھئی۔ تو یہ آپ کو ملے گا۔ اس کی وجہ کیا ہے ‏‏بھئی؟ وجہ اس کی یہ ہے کہ صریح لفظ میں صرف دعویٰ ہوتا ہے اور کنایہ کے اندر دعوے کے ساتھ ساتھ دلیل بھی ‏‏ہوتی ہے۔ کنایہ میں...دعوے کے ساتھ ساتھ دلیل بھی ہوتی ہے۔ اب آپ مجھے بتائیے، ایک ہے صرف دعویٰ کیا جائے، دلیل کوئی نہ ‏‏ہو، یہ اعلیٰ ہے یا دعوے کے ساتھ ساتھ آپ دلیل کو بھی ذکر کر دیں؟ دلیل والا...‏ دعوے کے ساتھ جب دلیل بھی ذکر ہو جائے تو دیکھو کلام مضبوط ہو گیا، اعلیٰ ہو گیا۔ بھئی کس طرح؟ دیکھو، میں نے ‏‏کیا کہا؟ میں نے کیا کہا "زَیْدٌ كَثِيرُ الرَّمَادِ"، زید کثیر راکھ والا ہے، اور کس معنیٰ کا ارادہ کیا؟ وہ سخی ہے، زید بڑا سخی آدمی ہے، تو یہ میں نے دعویٰ کیا اور دعوے کے ساتھ دلیل بھی آ گئی۔ دلیل کیا؟ یہی دلیل تو ‏‏ہے "كَثِيرُ الرَّمَادِ"، راکھ کا زیادہ ہونا۔ بخیل آدمی کے گھر زیادہ راکھ ہو سکتی ہے؟ نہیں، یہ راکھ کا زیادہ ہونا ہی تو دلیل ہے کہ وہ سخی آدمی ہے۔ تو دیکھو، میں نے لفظ ذکر کیا راکھ کا زیادہ ہونا لیکن ارادہ اس معنیٰ کا نہیں ہے، میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ زید ‏‏سخی آدمی ہے، بہت بڑا سخی ہے، اور اس دعوے کے ساتھ دلیل بھی آ گئی، دلیل یہی تو ہے "كَثِيرُ الرَّمَادِ" کہ اس کے گھر ‏‏راکھ بہت زیادہ ہوتی ہے۔ یا میں نے کہا "زید لمبی قمیص والا ہے" یا یوں کہو "زید کی قمیص لمبی ہے" اور ارادہ کس کا ‏‏کیا؟ اس کا قد لمبا ہے، تو گویا میرا دعویٰ یہ ہے کہ زید کا قد لمبا ہے اور ساتھ دلیل بھی آ گئی کہ اس کی قمیص لمبی ہے، یہی ‏‏تو دلیل ہے اس بات کی کہ اس کا قد لمبا ہے۔ تو دعوے کے ساتھ کیا آ گئی؟ دلیل بھی آ گئی، لہٰذا اس لیے کنایہ کیا ہے؟ ابلغ ‏‏ہے، افضل ہے، کس کے مقابلے میں؟ صریح۔ اگر میں صرف یہ کہتا "زید لمبے قد والا ہے" تو دعویٰ تو ہوا، دلیل تو ‏‏کوئی نہیں۔ لیکن جب میں نے کہا "زید لمبی قمیص والا ہے" تو دعویٰ یعنی وہ لمبے قد والا ہے، دعویٰ بھی ہوا اور ساتھ ‏‏دلیل بھی آ گئی کہ اس کی قمیص لمبی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یا جیسے میں نے کہا "سورج نکل آیا ہے" اور ارادہ کس ‏‏کا کیا؟ کہ "دن ہو گیا ہے"۔ تو دیکھو میرا دعویٰ ہوا "دن ہو گیا ہے" اور دلیل بھی ساتھ آ گئی، کیا دلیل ہے؟ سورج نکل آیا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کنایہ کے اندر چونکہ دلیل بھی ساتھ ہوتی ہے دعوے کے، اس لیے کنایہ ابلغ ہے، افضل ہے ‏‏صریح کے مقابلے میں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب آئیے بھئی، اب امامِ شافعی رحمہ اللہ علیہ کی بات آپ کو سمجھ میں آئے ‏‏گی۔ ادھر دیکھیے، امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نکاح اور تزویج، ان دونوں سے تو نکاح منعقد ہو جائے گا۔ کیونکہ یہ صریح ہیں نکاح کے باب میں، ان کا معنیٰ ہی نکاح کرنا اور نکاح کروانا ہے بھئی۔ لہٰذا ان سے نکاح منعقد ہو ‏‏جائے گا۔ لیکن ہبہ، تملیک اور صدقہ وغیرہ، ان سے نکاح منعقد نہیں ہو گا۔ وجہ یہ کہ یہ لفظ...‏ توجہ سے سنو، ہبہ، تملیک اور...‏ صدقہ...‏ صدقہ، یہ لفظ نہ تو ان کا حقیقی معنیٰ نکاح ہے نہ ان کا مجازی معنیٰ نکاح ہے۔ لفظ کے دو ہی معنیٰ ہوتے ہیں، کبھی وہ حقیقی معنیٰ میں استعمال ہوتا ہے کبھی مجازی، اور حقیقی اور مجازی معنیٰ میں ‏‏ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟ ربط اور تعلق ہوتا ہے۔ تو یہ جو تملیک ہے، یہ جو ہبہ ہے، یہ جو صدقہ ہے، ان لفظوں کا نہ تو حقیقی ‏‏معنیٰ نکاح ہے، یہ نکاح کے لیے وضع بھی نہیں، تو ان کا حقیقی معنیٰ بھی نکاح نہیں، اور ان کا مجازی معنیٰ بھی نکاح ‏‏نہیں ہے اس لیے کیونکہ حقیقی اور مجازی معنیٰ میں ہمیشہ کوئی ربط ہوتا ہے اور یہاں، یہاں نکاح اور تملیک...‏ ان دونوں میں کوئی ربط نہیں ہے۔ نکاح اور ہبہ دونوں میں کوئی تعلق نہیں ہے۔ نکاح اور صدقہ...‏ کوئی ان میں تعلق نہیں ہے۔ تو ہبہ کا حقیقی معنیٰ بھی نکاح نہیں اور یہ نکاح کے لیے مجاز بھی نہیں کیونکہ ہبہ اور نکاح ‏‏میں کوئی تعلق اور ربط نہیں۔ پھر سمجھیں۔ بات کیا ہوئی؟ کہ کبھی کسی لفظ کو اپنے حقیقی معنیٰ میں استعمال کرتے ہیں کبھی مجازی معنیٰ میں، اور کسی بھی ‏‏مجازی معنیٰ میں استعمال کر سکتے ہیں یا اس معنیٰ کا بھی حقیقی معنیٰ سے ربط ہونا چاہیے؟ ربط ہونا چاہیے۔ تو امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو ہبہ، تملیک اور صدقہ ہیں نہ تو ان کا حقیقی معنیٰ نکاح ہے ‏‏اور نہ ہی ان کا مجازی معنیٰ نکاح ہے اس لیے کیونکہ ان کے معنیٰ کی نکاح کے ساتھ کوئی مناسبت ہی نہیں ہے۔ کوئی ربط ہی نہیں ہے، کوئی تعلق ہی نہیں ہے، جب ربط ہی نہیں ہے تو نکاح کے معنیٰ میں ان کو استعمال بھی نہیں کر ‏‏سکتے۔ میں نے جیسے بتایا تھا میں بکری بول کر ہاتھی کا ارادہ کر سکتا ہوں بغیر کسی ربط اور تعلق کے؟ نہیں کر ‏‏سکتا، تو ہبہ، تملیک اور صدقہ بول کر بھی میں نکاح کا ارادہ نہیں کر سکتا کیونکہ ان کا نکاح کے ساتھ کوئی ربط اور ‏‏تعلق ہی نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ جو لفظ ہیں...‏ ہبہ، تملیک اور صدقہ، یہ نکاح کے لیے نہ تو حقیقت ہیں یعنی ان کا حقیقی معنیٰ بھی نکاح نہیں، اور نہ یہ نکاح کے لیے ‏‏مجاز ہیں، ان کا مجازی معنیٰ بھی نکاح نہیں ہے، اور لفظ کے استعمال کے تو یہی دو طریقے ہوتے ہیں یا وہ حقیقت ہوتا ‏‏ہے یا مجاز ہوتا ہے۔ تو جب نہ یہ حقیقت ہیں نکاح کے لیے نہ مجاز ہیں تو ان سے نکاح منعقد نہیں ہو گا۔ دلیل سمجھ میں آ ‏‏گئی؟ دیکھیے بھئی، آگے اور تفصیل آئے گی۔ کہتے ہیں "وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: لَا يَنْعَقِدُ إِلَّا بِلَفْظِ النِّكَاحِ وَالتَّزْوِيجِ"، اور امامِ شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ‏‏نکاح منعقد نہیں ہوتا مگر لفظِ نکاح اور لفظِ تزویج سے، انہی سے نکاح منعقد ہو گا اور کسی لفظ سے نہیں۔ نکاح کا معنیٰ ‏‏ہے نکاح کرنا اور تزویج کا معنیٰ ہے نکاح کروانا، تو یہ لفظ ہے۔ تزویج سے تزویج کا مادہ مراد ہے بھئی جو نکاح کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ "زَوَّجَ یُزَوِّجُ تَزْوِیْجٌ" کا کیا معنیٰ؟ نکاح ‏‏کروانا، کسی دوسرے کا نکاح کروانا، یا اسی طرح تزوج جو ہے اس کا بھی کیا معنیٰ؟ شربت پیا ہے۔ گلاس تو سٹیل کا یا ‏‏شیشے کا ہو گا وہ تو آپ نہیں پی سکتے۔ تو یہاں ظرف بول کر کیا مراد ہے؟ مظروف مراد ہے۔ اور اسی طرح آپ اپنے ساتھی سے کہتے ہیں "دریا بہہ رہا ہے" یا "نہر بہہ رہی ہے"۔ ‏"نہر بہہ رہی ہے"، بھئی نہر بہتی ہے یا نہر کے اندر پانی بہتا ہے؟ پانی بہتا ہے۔ اسی طرح دریا کے اندر پانی بہتا ہے۔ نہر تو اس پانی کے بہنے کی جگہ کو کہتے ہیں۔ دریا تو اس پانی کے ‏‏بہنے کی جگہ کو کہتے ہیں۔ تو دریا اور نہر ظرف ہیں اور ظرف بول کر آپ نے کس کا ارادہ کیا؟ مظروف کا جو پانی ‏‏اس کے اندر موجود ہے کہ وہ بہہ رہا ہے۔ تو یہ آپ بھی عام کلام میں استعمال کرتے ہیں۔ تو اس کو کہتے ہیں مجازِ مرسل۔ تو لفظ کو معنیِ غیر موضوع لہُ میں استعمال کیا جائے اسے کیا کہتے ہیں؟ مجاز۔ اور مجاز کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ ‏‏قرینہ۔ اور معنیِ حقیقی اور معنیِ مجازی میں ہمیشہ کیا چاہیے؟ ربط۔ اور یہ ربط اور تعلق جو ہے اگر، اگر تشبیہ والا ہو ‏‏تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ اگر تشبیہ والا ہو تو اس کو استعارہ کہتے ہیں۔ اور اگر تشبیہ کے علاوہ کوئی اور تعلق ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مجازِ ‏‏مرسل کہتے ہیں۔ "یَجْعَلُونَ أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِم" یہاں پر مجازِ مرسل ہے، کل بول کر جز مراد ہے۔ "نہر بہہ رہی ہے" یہاں ‏‏مجازِ مرسل ہے کہ ظرف بول کر مظروف مراد ہے۔ "میں نے ایک گلاس پی لیا ہے" یہاں پر بھی مجازِ مرسل ہے کہ ‏‏ظرف بول کر مظروف مراد ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اچھا، یہاں کنایہ کا ذکر آیا۔ بلاغت میں کنایہ کس کو کہتے ہیں اس کو بھی سمجھ لیجیے بھئی۔ کنایہ کہتے ہیں علمِ بلاغت کے اندر ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کرنا۔ ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کرنا، اس کو کہتے ہیں کنایہ۔ مثلاً زید جو ہے لمبے قد والا ہے۔ تو اب آپ کسی کے سامنے یہ بات بیان کرنا چاہتے ہیں تو ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ اس بات کو صاف لفظوں میں بیان کر ‏‏دیں اور یوں کہیں "زید لمبے قد والا ہے" یا یوں کہو "زید کا قد لمبا ہے"۔ تو یہ صریح ہے۔ یہ کیا ہے؟ صریح یعنی صاف ‏‏لفظوں میں ایک بات کرنا۔ اور ایک ہے بات کو تھوڑا سا گھما کر کرنا۔ یاد رکھو بات کو جب تھوڑا سا گھما کر ذکر کیا ‏‏جائے تو اس کی لذت بڑھ جاتی ہے۔ تو مثلاً اب آپ یہی بیان کرنا چاہتے ہیں کہ زید لمبے قد والا ہے، لیکن لفظ دوسرے استعمال کرتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں کسی ‏‏سے کہ "زید کی قمیص لمبی ہے" یا "زید لمبی قمیص والا ہے"۔ اور ارادہ کیا ہے؟ اس کا قد لمبا ہے۔ تو دیکھو وہی بات آپ نے دوسرے لفظوں کے ساتھ ذکر کی تو اس کو کہتے ہیں کنایہ۔ تو دیکھو، تو دیکھو آپ نے ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کیا۔ کیونکہ قمیص کے لمبا ہونے کے ساتھ قد کا لمبا ہونا بھی لازم ‏‏ہے۔ قمیص اسی کی لمبی ہو گی جس کا قد لمبا ہو گا۔ تو قمیص کے لمبا ہونے کے ساتھ قد کا لمبا ہونا لازم ہے۔ آپ نے ذکر ‏‏لمبی قمیص کی اور ارادہ کس کا کیا؟ لمبے قد کا۔ تو ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کیا۔ لمبی قمیص کے ساتھ...‏ قد کا لمبا ہونا لازم ہے۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ لمبی قمیص کے ساتھ قد کا لمبا ہونا لازم ہے۔ آپ نے ذکر کس کو کیا؟ ملزوم، ارادہ کس کا کیا؟ ‏‏لازم کا۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ کنایہ۔ بلاغت میں اس کو کیا کہتے ہیں؟ کنایہ کہ ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کیا جائے، یا دوسری مثال لے لو۔ عربی زبان میں کہتے ہیں کہ "زیدٌ کثِیرُ الرَّمَادِ" ہے۔ زید کیا ہے؟ "کثِیرُ الرَّمَادِ" ہے۔ رماد کہتے ہیں راکھ کو بھئی۔ آپ نے ‏‏آگ جلائی، لکڑیاں جلائیں تو لکڑیاں جل گئیں اور پیچھے کیا بچ گئی؟ راکھ بچ گئی۔ تو اس کو عربی میں رماد کہتے ہیں۔ ‏‏‏"زیدٌ کثِیرُ الرَّمَادِ"، زید کثیر راکھ والا ہے۔ زید کثیر راکھ والا ہے اور عربی زبان میں یہ لفظ بولا جاتا ہے سخاوت کو بیان کرنے کے لیے۔ عربی زبان میں یہ لفظ کس لیے بولا جاتا ہے؟ سخاوت کو بیان کرنے کے لیے۔ وجہ یہ کہ زیادہ راکھ کے ساتھ سخاوت ‏‏لازم ہے۔ زیادہ راکھ کے ساتھ سخاوت لازم ہے کیونکہ زیادہ راکھ وہی ہو گی جہاں زیادہ لکڑیاں جلتی ہوں، اور زیادہ لکڑیاں وہیں ‏‏جلیں گی جہاں پر کھانا زیادہ پکتا ہو، اور کھانا وہیں پر زیادہ پکتا ہے جہاں مہمان زیادہ آتے ہوں، اور مہمان وہیں پر ‏‏زیادہ آتے ہیں جو شخص سخی ہو۔ بخیل آدمی کے گھر تو مہمان ایک دفعہ چلا جائے، دوبارہ پھر مڑ کر وہاں نہیں جائے ‏‏گا کہ یہ تو کسی کو چائے کبھی نہیں پوچھتا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دیکھو، راکھ کے زیادہ ہونے کے ساتھ سخاوت کا ہونا لازم ہے۔ تو ملزوم بول کر کس کا ارادہ کیا؟ لازم کا۔ اس کو کیا ‏‏کہتے ہیں؟ کنایہ کہتے ہیں۔ یا دوسری مثال لے لو، مثلاً، مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں "سورج نکل آیا ہے"۔ جب سورج نکلے ‏‏گا تو یقیناً دن بھی ہو گا بھئی۔ ایسا ہو سکتا ہے سورج نکلا ہو اور دن نہ ہو؟ نہیں، جب بھی سورج نکلا ہو گا، دن ضرور ‏‏ہو گا۔ تو سورج کے نکلنے کے ساتھ دن کا ہونا لازم ہے۔ تو ایک تو طریقہ یہ ہے کہ میں صاف لفظوں میں کہہ دوں "دن ‏‏ہو گیا ہے"۔ ‏"دن ہو گیا ہے"۔ اور ایک اسی بات کو میں کنائے کے رنگ میں کہتا ہوں۔ کس طرح کہتا ہوں؟ کنائے کے رنگ میں کہتا ‏‏ہوں کہ "سورج نکل آیا ہے"۔ اور ارادہ اسی معنیٰ کا۔ سورج کے نکلنے کے معنیٰ کا ارادہ میں نہیں کر رہا، لفظ تو میں بول رہا ہوں "سورج نکل آیا ہے"۔ اگر میں سورج کے نکلنے ہی کا ارادہ کرتا ہوں پھر تو کوئی کنایہ نہیں ہے، جس معنیٰ کا ارادہ کر رہا ہوں میں نے لفظ ‏‏بھی وہی استعمال کیے ہیں۔ ہاں، کنایہ میں اسی معنیٰ کا ارادہ ہوتا ہے اس کے لازم کا ارادہ ہوتا ہے۔ لازم کا ارادہ ہوتا ‏‏ہے، تو لفظ میں نے کیا بولا؟ "سورج نکل آیا ہے" اور ارادہ کس کا کیا؟ دن ہونے کا کہ "دن ہو گیا ہے"۔ تو اس کو کہتے ہیں کنایہ۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ کیونکہ سورج کے نکلنے کے ساتھ دن کا ‏‏ہونا لازم ہے۔ تو ملزوم بولا جائے اور ارادہ کس کا کیا جائے؟ لازم کا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ کنایہ کہتے ہیں بھئی، کنایہ ‏‏کہتے ہیں۔ تو معلوم ہوا کہ کنایہ کے اندر بھی لفظ جو ہے معنیِ غیر موضوع لہُ میں استعمال ہوتا ہے۔ اور مجاز کے اندر بھی۔ توجہ ہے؟ دونوں میں فرق اچھی طرح سے سمجھ لیں، پھر سمجھ لیں۔ لفظ کو معنیِ حقیقی میں ‏‏استعمال کیا جائے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ حقیقت۔ دوسرے معنیٰ میں استعمال کیا جائے تو وہ مجاز، اور مجاز کے لیے ‏‏ہمیشہ کیا چاہیے؟ قرینہ چاہیے۔ بغیر قرینے کے سننے والے کو معنیِ مجازی کی طرف اس کا ذہن نہیں جائے گا۔ اور پھر ‏‏یہ جو حقیقت اور مجاز ہے، ان دونوں کے درمیان ہمیشہ کیا ہونا چاہیے؟ تعلق اور ربط ہونا چاہیے۔ اگر ربط ہے تو آپ ‏‏اس معنیٰ میں استعمال کر سکتے ہیں۔ اگر ربط اور تعلق ہی کوئی نہیں تو پھر آپ اس معنیٰ کے لیے اس لفظ کو استعمال ‏‏بھی نہیں کر سکتے۔ تو معلوم ہوا معنیِ حقیقی اور معنیِ مجازی میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی تعلق ضرور ہونا چاہیے۔ اگر یہ ‏‏تعلق جو ہے تشبیہ والا ہو تو پھر اس کو استعارہ کہتے ہیں، اور اگر تشبیہ کے علاوہ کوئی اور تعلق ہو تو اس کو مجازِ ‏‏مرسل کہتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو وہ استعارہ اور مجازِ مرسل، یہ دونوں مجاز کی قسمیں ہیں۔ استعارہ اور مجازِ مرسل، یہ دونوں مجاز کی قسمیں ہیں۔ البتہ ایک میں علاقہ تشبیہ والا ہے اور ایک میں تشبیہ کے علاوہ ‏‏کوئی اور علاقہ ہے، سبّبیت والا ہے، مسبّبیت والا ہے، ظرفیت والا ہے یا مظروفیت والا ہے، یا جزئیت والا ہے یا کلیت ‏‏والا ہے جو میں نے مثالیں ذکر کر دیں ان میں سے کوئی ایک تعلق ضرور ہے۔ تو مجاز کے اندر بھی لفظ کس معنیٰ میں استعمال ہوتا ہے؟ غیر موضوع لہُ میں۔ اور کنایہ میں بھی ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کیا جاتا ہے یعنی لفظ کو معنیِ غیر موضوع لہُ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ‏‏توجہ ہے؟ میں نے کہا "زید کی قمیص لمبی ہے"، تو میں نے اسی معنیٰ کا ارادہ کیا یا قد کے لمبا ہونے کا ارادہ کیا؟ قد کے لمبا ‏‏ہونے کا، تو دیکھو لفظ معنیِ غیر موضوع لہُ میں میں نے استعمال کر لیا۔ تو دونوں میں فرق کیا ہے، یہ فرق بھی ہمیشہ ‏‏یاد رکھنا کہ مجاز اور کنائے میں فرق ہے بھئی۔ مجاز اور کنائے میں فرق یہ ہے کہ مجاز کے اندر آپ اسی جگہ پر معنیِ ‏‏حقیقی کا ارادہ نہیں کر سکتے۔ مجاز کے اندر آپ اسی جگہ پر معنیِ حقیقی کا ارادہ نہیں کر سکتے ورنہ آپ کا کلام ہی غلط ہو جائے گا۔ جبکہ کنائے کے ‏‏اندر آپ اسی جگہ پر معنیِ حقیقی کا ارادہ کریں تو بھی کلام غلط نہیں ہوتا۔ تو بھی کلام غلط نہیں ہوتا، مثلاً دیکھو، میں نے کہا "زید لمبی قمیص والا ہے" اور ارادہ کیا کیا؟ "لمبے قد والا ہے"۔ لیکن ‏‏اگر میں اسی حقیقی معنیٰ کا بھی ارادہ کروں اس جملے سے، "زید لمبی قمیص والا ہے" اور ارادہ بھی لمبی قمیص ہی کا ‏‏ہے تو میرا کلام صحیح ہے یا غلط ہے؟ میرا کلام پھر بھی صحیح ہے، زید لمبی قمیص والا ہے بھئی، اس کی قمیص لمبی ‏‏ہے بھئی۔ اور میں نے کیا کہا تھا؟ "زید کثیر راکھ والا ہے" اور ارادہ کس کا کیا؟ سخاوت کا۔ لیکن اگر میں معنیِ حقیقی ہی کا ارادہ ‏‏کر لوں کہ زید کثیر راکھ والا ہے تو یہ بات بھی درست ہے یا غلط ہے؟ یہ بھی درست ہے کہ معلوم ہوا اس کے ہاں راکھ ‏‏زیادہ ہے بھئی، جب وہ سخی ہے تو کھانے زیادہ پکتے ہیں تو راکھ زیادہ ہو گی بھئی۔ تو کنایہ کے اندر آپ حقیقی معنیٰ کا ارادہ کریں تو پھر بھی بات ٹھیک رہتی ہے، غلط نہیں ہوتی۔ لیکن مجاز کے اندر آپ ‏‏حقیقی معنیٰ کا ارادہ وہاں کر ہی نہیں سکتے، بات ہی غلط ہو جاتی ہے۔ مثلاً، مسجد کے اندر آپ کا ایک ساتھی آیا، آپ نے ‏‏اپنے پاس والوں سے کہا "وہ دیکھو شیر آ گیا"۔ شیر سے کون سے معنیٰ کا ارادہ کیا؟ مجازی معنیٰ، بہادر آدمی کا۔ تو اب آپ یہاں پر حقیقی معنیٰ کا ارادہ نہیں کر سکتے کہ "وہ دیکھو جنگلی درندہ آ گیا"، نہیں ‏‏بھئی، جنگلی درندہ تو یہاں آیا ہی نہیں ہے تو یہ تو آپ کا کلام جھوٹ ہو جائے گا، غلط ہو جائے گا۔ فرق سمجھ میں آیا؟ کنایہ کے اندر اسی مقام پر حقیقی معنیٰ کا ارادہ بھی کیا جائے تو وہ غلط نہیں ہوتا، لیکن مجاز کے اندر ‏‏اسی مقام پر حقیقی معنیٰ کا ارادہ نہیں کیا جا سکتا۔ یا جیسے دوسری مثال لے لیں، میں نے آپ سے کہا "کل میں نے ایک ‏‏شیر کو تیر چلاتے ہوئے دیکھا"۔ اس شیر کا کیا معنیٰ؟ بہادر آدمی، لیکن اگر میں حقیقی معنیٰ یہاں کرنا چاہوں تو کلام ہی ‏‏غلط ہو گیا۔ میں نے ایک جنگلی درندے کو تیر چلاتے ہوئے دیکھا بھئی، جنگلی درندہ کیسے تیر چلا سکتا ہے؟ آپ کی یہ بات ہی ‏‏صحیح نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو مجاز کے اندر بھی لفظ معنیِ غیر موضوع لہُ میں استعمال ہوتا ہے، کنایہ ‏‏میں بھی لفظ معنیِ غیر موضوع لہُ میں استعمال ہوتا ہے۔ توجہ ہے؟ لیکن دونوں میں فرق کیا ہے؟ کہ کنایہ کے اندر اس کلام سے حقیقی معنیٰ کا ارادہ کر لیا جائے تو بھی وہ کلام غلط نہیں ‏‏ہوتا، لیکن مجاز کے اندر اگر وہیں پر اسی لفظ سے حقیقی معنیٰ کا ارادہ کیا جائے تو کلام صحیح نہیں رہتا۔ بات سمجھ میں ‏‏آ گئی؟ یہاں ایک اور قیمتی بات یاد رکھنا بھئی، بلاغت کی کتابوں میں آپ پڑھیں گے "اَلْكِنَايَةُ أَبْلَغُ مِنَ الصَّرِيحِ"۔ "اَلْكِنَايَةُ أَبْلَغُ ‏‏مِنَ الصَّرِيحِ"، کنایہ جو ہے وہ ابلغ ہوتا ہے "مِنَ الصَّرِيحِ"، کس کے مقابلے میں؟ صریح کے مقابلے میں۔ صریح کسے ‏‏کہتے ہیں؟ صاف لفظوں میں ایک بات کی جائے۔ تو "اَلْكِنَايَةُ أَبْلَغُ مِنَ الصَّرِيحِ"، پہلے تو ان لفظوں کا معنیٰ سمجھ لو۔ یاد ‏‏رکھو یہاں جو ابلغ کا لفظ آیا یہ بمعنیٰ افضل کے ہے، "اَلْكِنَايَةُ أَفْضَلُ مِنَ الصَّرِيحِ"۔ کنایہ جو ہے وہ افضل ہوتا ہے کس ‏‏سے؟ صریح کے مقابلے میں۔ آپ ایک بات سیدھے لفظوں میں کہیں اور ایک ہے آپ بات کو گھما کر کہیں، کنایہ کے انداز ‏‏میں کہیں تو یاد رکھو آپ کا کلام اعلیٰ ہے کیونکہ آپ نے کنایہ کے رنگ میں بات کی ہے۔ تو "اَلْكِنَايَةُ أَبْلَغُ مِنَ الصَّرِيحِ" کا کیا معنیٰ ہے؟ "اَلْكِنَايَةُ أَفْضَلُ مِنَ الصَّرِيحِ" بھئی۔ تو یہ آپ کو ملے گا۔ اس کی وجہ کیا ہے ‏‏بھئی؟ وجہ اس کی یہ ہے کہ صریح لفظ میں صرف دعویٰ ہوتا ہے اور کنایہ کے اندر دعوے کے ساتھ ساتھ دلیل بھی ‏‏ہوتی ہے۔ کنایہ میں...‏ دعوے کے ساتھ ساتھ دلیل بھی ہوتی ہے۔ اب آپ مجھے بتائیے، ایک ہے صرف دعویٰ کیا جائے، دلیل کوئی نہ ہو، یہ ‏‏اعلیٰ ہے یا دعوے کے ساتھ ساتھ آپ دلیل کو بھی ذکر کر دیں؟ دعوے کے ساتھ جب دلیل بھی ذکر ہو جائے تو دیکھو کلام مضبوط ہو گیا، اعلیٰ ہو گیا۔ بھئی کس طرح؟ دیکھو، میں نے ‏‏کیا کہا؟ میں نے کیا کہا "زَیْدٌ كَثِيرُ الرَّمَادِ"، زید کثیر راکھ والا ہے، اور کس معنیٰ کا ارادہ کیا؟ وہ سخی ہے، زید بڑا سخی آدمی ہے، تو یہ میں نے دعویٰ کیا اور دعوے کے ساتھ دلیل بھی آ گئی۔ دلیل کیا؟ یہی دلیل تو ‏‏ہے "كَثِيرُ الرَّمَادِ"، راکھ کا زیادہ ہونا۔ بخیل آدمی کے گھر زیادہ راکھ ہو سکتی ہے؟ نہیں، یہ راکھ کا زیادہ ہونا ہی تو دلیل ہے کہ وہ سخی آدمی ہے۔ تو دیکھو، میں نے لفظ ذکر کیا راکھ کا زیادہ ہونا لیکن ارادہ اس معنیٰ کا نہیں ہے، میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ زید ‏‏سخی آدمی ہے، بہت بڑا سخی ہے، اور اس دعوے کے ساتھ دلیل بھی آ گئی، دلیل یہی تو ہے "كَثِيرُ الرَّمَادِ" کہ اس کے گھر ‏‏راکھ بہت زیادہ ہوتی ہے۔ یا میں نے کہا "زید لمبی قمیص والا ہے" یا یوں کہو "زید کی قمیص لمبی ہے" اور ارادہ کس کا ‏‏کیا؟ اس کا قد لمبا ہے، تو گویا میرا دعویٰ یہ ہے کہ زید کا قد لمبا ہے اور ساتھ دلیل بھی آ گئی کہ اس کی قمیص لمبی ہے، یہی ‏‏تو دلیل ہے اس بات کی کہ اس کا قد لمبا ہے۔ تو دعوے کے ساتھ کیا آ گئی؟ دلیل بھی آ گئی، لہٰذا اس لیے کنایہ کیا ہے؟ ابلغ ‏‏ہے، افضل ہے، کس کے مقابلے میں؟ صریح۔ اگر میں صرف یہ کہتا "زید لمبے قد والا ہے" تو دعویٰ تو ہوا، دلیل تو ‏‏کوئی نہیں۔ لیکن جب میں نے کہا "زید لمبی قمیص والا ہے" تو دعویٰ یعنی وہ لمبے قد والا ہے، دعویٰ بھی ہوا اور ساتھ ‏‏دلیل بھی آ گئی کہ اس کی قمیص لمبی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یا جیسے میں نے کہا "سورج نکل آیا ہے" اور ارادہ کس ‏‏کا کیا؟ کہ "دن ہو گیا ہے"۔ تو دیکھو میرا دعویٰ ہوا "دن ہو گیا ہے" اور دلیل بھی ساتھ آ گئی، کیا دلیل ہے؟ سورج نکل آیا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کنایہ کے اندر چونکہ دلیل بھی ساتھ ہوتی ہے دعوے کے، اس لیے کنایہ ابلغ ہے، افضل ہے ‏‏صریح کے مقابلے میں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب آئیے بھئی، اب امامِ شافعی رحمہ اللہ علیہ کی بات آپ کو سمجھ میں آئے ‏‏گی۔ ادھر دیکھیے، امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نکاح اور تزویج، ان دونوں سے تو نکاح منعقد ہو جائے گا۔ کیونکہ یہ صریح ہیں نکاح کے باب میں، ان کا معنیٰ ہی نکاح کرنا اور نکاح کروانا ہے بھئی۔ لہٰذا ان سے نکاح منعقد ہو ‏‏جائے گا۔ لیکن ہبہ، تملیک اور صدقہ وغیرہ، ان سے نکاح منعقد نہیں ہو گا۔ وجہ یہ کہ یہ لفظ...‏ توجہ سے سنو، ہبہ، تملیک اور...‏ صدقہ...‏ صدقہ، یہ لفظ نہ تو ان کا حقیقی معنیٰ نکاح ہے نہ ان کا مجازی معنیٰ نکاح ہے۔ لفظ کے دو ہی معنیٰ ہوتے ہیں، کبھی وہ حقیقی معنیٰ میں استعمال ہوتا ہے کبھی مجازی، اور حقیقی اور مجازی معنیٰ میں ‏‏ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟ ربط اور تعلق ہوتا ہے۔ تو یہ جو تملیک ہے، یہ جو ہبہ ہے، یہ جو صدقہ ہے، ان لفظوں کا نہ تو حقیقی ‏‏معنیٰ نکاح ہے، یہ نکاح کے لیے وضع بھی نہیں، تو ان کا حقیقی معنیٰ بھی نکاح نہیں، اور ان کا مجازی معنیٰ بھی نکاح ‏‏نہیں ہے اس لیے کیونکہ حقیقی اور مجازی معنیٰ میں ہمیشہ کوئی ربط ہوتا ہے اور یہاں، یہاں نکاح اور تملیک...‏ ان دونوں میں کوئی ربط نہیں ہے۔ نکاح اور ہبہ دونوں میں کوئی تعلق نہیں ہے۔ نکاح اور صدقہ...‏ کوئی ان میں تعلق نہیں ہے۔ تو ہبہ کا حقیقی معنیٰ بھی نکاح نہیں اور یہ نکاح کے لیے مجاز بھی نہیں کیونکہ ہبہ اور نکاح ‏‏میں کوئی تعلق اور ربط نہیں۔ پھر سمجھیں۔ بات کیا ہوئی؟ کہ کبھی کسی لفظ کو اپنے حقیقی معنیٰ میں استعمال کرتے ہیں کبھی مجازی معنیٰ میں، اور کسی بھی ‏‏مجازی معنیٰ میں استعمال کر سکتے ہیں یا اس معنیٰ کا بھی حقیقی معنیٰ سے ربط ہونا چاہیے؟ ربط ہونا...‏ ربط ہونا چاہیے۔ تو امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو ہبہ، تملیک اور صدقہ ہیں نہ تو ان کا حقیقی معنیٰ نکاح ہے ‏‏اور نہ ہی ان کا مجازی معنیٰ نکاح ہے اس لیے کیونکہ ان کے معنیٰ کی نکاح کے ساتھ کوئی مناسبت ہی نہیں ہے۔ کوئی ربط ہی نہیں ہے، کوئی تعلق ہی نہیں ہے، جب ربط ہی نہیں ہے تو نکاح کے معنیٰ میں ان کو استعمال بھی نہیں کر ‏‏سکتے۔ میں نے جیسے بتایا تھا میں بکری بول کر ہاتھی کا ارادہ کر سکتا ہوں بغیر کسی ربط اور تعلق کے؟ نہیں کر ‏‏سکتا، تو ہبہ، تملیک اور صدقہ بول کر بھی میں نکاح کا ارادہ نہیں کر سکتا کیونکہ ان کا نکاح کے ساتھ کوئی ربط اور ‏‏تعلق ہی نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ جو لفظ ہیں...‏ ہبہ، تملیک اور صدقہ، یہ نکاح کے لیے نہ تو حقیقت ہیں یعنی ان کا حقیقی معنیٰ بھی نکاح نہیں، اور نہ یہ نکاح کے لیے ‏‏مجاز ہیں، ان کا مجازی معنیٰ بھی نکاح نہیں ہے، اور لفظ کے استعمال کے تو یہی دو طریقے ہوتے ہیں یا وہ حقیقت ہوتا ‏‏ہے یا مجاز ہوتا ہے۔ تو جب نہ یہ حقیقت ہیں نکاح کے لیے نہ مجاز ہیں تو ان سے نکاح منعقد نہیں ہو گا۔ دلیل سمجھ میں آ ‏‏گئی؟ دیکھیے بھئی، آگے اور تفصیل آئے گی۔ کہتے ہیں "وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: لَا يَنْعَقِدُ إِلَّا بِلَفْظِ النِّكَاحِ وَالتَّزْوِيجِ"، اور امامِ شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ‏‏نکاح منعقد نہیں ہوتا مگر لفظِ نکاح اور لفظِ تزویج سے، انہی سے نکاح منعقد ہو گا اور کسی لفظ سے نہیں۔ نکاح کا معنیٰ ‏‏ہے نکاح کرنا اور تزویج کا معنیٰ ہے نکاح کروانا، تو یہ لفظ ہے۔ تزویج سے تزویج کا مادہ مراد ہے بھئی جو نکاح کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ "زَوَّجَ یُزَوِّجُ تَزْوِیْجٌ" کا کیا معنیٰ؟ نکاح ‏‏کروانا، کسی دوسرے کا نکاح کروانا، یا اسی طرح تزوج جو ہے اس کا بھی کیا معنیٰ؟ نکاح، اس کا معنیٰ شاید، یوں کہو ‏‏تزویج کا معنیٰ ہے شادی کروانا اور تزوج کا معنیٰ ہے شادی کرنا۔ تو ان لفظوں سے نکاح منعقد ہو گا، نکاح ہے، تزویج ‏‏ہے، تزوج ہے، کیونکہ ان کا معنیٰ ہی نکاح ہے۔ نکاح اور شادی ہے۔ جبکہ باقی لفظوں کو نہ حقیقی معنیٰ نکاح ہے اور نہ مجازی معنیٰ۔ تو امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "لَا يَنْعَقِدُ إِلَّا بِلَفْظِ النِّكَاحِ وَالتَّزْوِيجِ" کہ نکاح منعقد نہیں ہو گا مگر نکاح اور تزویج کے ‏‏لفظ سے، "لِأَنَّ التَّمْلِيكَ لَيْسَ حَقِيقَةً فِيهِ وَلَا مَجَازًا عَنْهُ" اس لیے کیونکہ تملیک کا جو لفظ ہے یا یہ لفظ جو تملیک پر دلالت کر ‏‏رہے ہیں، یہ جو ہیں، یہ "لَيْسَ حَقِيقَةً فِيهِ" نہ تو یہ اس نکاح اور تزویج میں نہ تو یہ حقیقت ہیں "وَلَا مَجَازًا عَنْهُ" اور نہ ہی ‏‏یہ اس نکاح اور تزویج سے مجاز ہیں، نہ یہ حقیقت ہیں نکاح کے لیے اور نہ مجاز ہیں، یعنی نہ ان کا حقیقی معنیٰ نکاح ‏‏ہے اور نہ ان کا مجازی معنیٰ نکاح ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ آگے امامِ شافعی رحمہ اللہ کی بات ابھی چل رہی ہے بھئی، ‏‏بھئی ان کا حقیقی معنیٰ بھی نکاح نہیں، یہ بات تو ظاہر ہے آپ سب کو پتہ ہے۔ ہبہ کا معنیٰ نکاح ہے؟ نہیں۔ تملیک کا معنیٰ نکاح ہے؟ نہیں۔ اور صدقے کا معنیٰ بھی نکاح نہیں، یہ بات تو سب کو پتہ ہے کہ ان کا معنیٰ نکاح نہیں۔ ‏‏لیکن آگے امامِ شافعی رحمہ اللہ بتلائیں گے کہ ان کا مجازی معنیٰ بھی نکاح نہیں ہے، کیونکہ حقیقی اور مجازی معنیٰ میں ‏‏کیا ہوتا ہے؟ کوئی نہ کوئی تعلق ہوتا ہے، اور یہاں پر ان کا نکاح کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ تو اب دیکھیے، یہاں یہ بات تو واضح ہے کہ یہ جو ہبہ، تملیک اور صدقہ ہیں، ان کا حقیقی معنیٰ نکاح اور تزویج نہیں ‏‏ہے۔ ان کا حقیقی معنیٰ...‏ نکاح اور تزویج نہیں ہے۔ کسی لغت کی کتاب میں بھی آپ دیکھ لیں، یہ ہبہ، تملیک اور صدقہ کا معنیٰ کسی نے نکاح نہیں ‏‏لکھا ہو گا۔ تو ان کا حقیقی معنیٰ جو ہے وہ نکاح اور تزویج نہیں ہے، یہ بات تو واضح تھی۔ البتہ یہ نکاح اور تزویج سے مجاز بھی ‏‏نہیں ہے، یعنی ہبہ، تملیک اور صدقہ ان کا مجازی معنیٰ بھی نکاح اور تزویج نہیں کر سکتے۔ ان کا...‏ مجازی معنیٰ بھی نکاح اور تزویج نہیں کر سکتے، تو اس کے لیے دلیل کی حاجت تھی کہ بھئی ان کا مجازی معنیٰ ہم ‏‏کیوں نہیں کر سکتے؟ ان کا...‏ مجازی معنیٰ ہم نکاح یا تزویج کیوں نہیں کر سکتے؟ تو اس کی آگے امامِ شافعی رحمہ اللہ دلیل ذکر فرمائیں گے بھئی۔ تو ‏‏وہ انشاء اللہ کل اگلے سبق میں پڑھ لیں گے۔ یہاں تک بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله ‏‏أعلم بحقيقة الكلام۔