Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-003

Version 2 · Text format · ⬆ Improved
👤 Contributor Muhammad Ghais
📍 Location Lahore, Pakistan
📅 Approved Date 02 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ⬆ بہتر کردیا گیا
👁️ Total Views 46
📝

Transcription Content

Download TEXT بہتر کردیا گیا TEXT
دیکھیے بھائی! سبق کتاب پر۔ کتاب النکاح۔‏ قَالَ النِّكَاحُ يَنْعَقِدُ بِالْإِيجَابِ وَالْقَبُولِ بِالَفْظَيْنِ يُعَبَّرُ بِهِمَا عَنِ الْمَاضِي، لِأَنَّ الصِّيغَةَ وَإِنْ كَانَتْ لِلْإِخْبَارِ وَضْعًا، فَقَدْ جُعِلَتْ لِلْإِنْشَاءِ ‏‏شَرْعًا، دَفْعًا لِلْحَاجَةِ، وَيَنْعَقِدُ بِالَفْظَيْنِ يُعَبَّرُ بِأَحَدِهِمَا عَنِ الْمَاضِي وَبِالْآخَرِ عَنِ الْمُسْتَقْبَلِ، مِثْلُ أَنْ يَقُولَ: زَوِّجْنِي، فَيَقُولَ: زَوَّجْتُكَ، ‏‏لِأَنَّ هَذَا تَوْكِيلٌ بِالنِّكَاحِ، وَالْوَاحِدُ يَتَوَلَّى طَرَفَيِ النِّكَاحِ.‏ بھائی! کتاب النکاح کا آغاز ہو رہا ہے۔ گزشتہ سبق میں، میں نے اپ کو بحث لکھوائی تھی نکاح کا لغوی معنی ذکر کیا تھا ‏‏کہ عربی زبان میں نکاح کا معنی وطی کے بھی آتے ہیں اور عقد کے بھی آتے ہیں۔ اور پھر بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ ‏‏دونوں اس کے حقیقی معنی ہیں، یعنی اس کو ان دونوں معنی کے لیے وضع کیا گیا ہے تو یہ مشترک لفظی ہے، بھائی۔ ‏‏جبکہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ ان میں سے ایک معنی حقیقی ہے اور ایک مجازی ہے، بھائی۔ تو بعض فرماتے ہیں کہ وطی اس کا حقیقی معنی ہے اور عقد جو ہے وہ اس کا مجازی معنی ہے۔ جبکہ بعض علماء اس ‏‏کے برعکس فرماتے ہیں کہ عقد اس کا حقیقی معنی ہے اور وطی اس کا مجازی معنی ہے۔ اور بعض علماء فرماتے ہیں کہ ‏‏یہ کہ یہ مشترک معنوی ہے۔ مشترک معنوی کا مطلب یہ ہے کہ دونوں کا معنی تو الگ الگ ہے، لیکن یہ ان دونوں پر ‏‏صادق آتا ہے معنی کے اعتبار سے۔ اور وہ فرماتے ہیں کہ نکاح کا حقیقی معنی جو ہے، ضَمُّ الشَّيْءِ إِلَى الشَّيْءِ، ایک چیز کو ملانا دوسری چیز کے ساتھ۔ اور ‏‏یہ معنی عقد پر بھی صادق آتا ہے۔ عقد میں بھی ملانا اور جوڑنا ہے، ایک مرد کو ایک عورت سے جوڑ دیا جاتا ہے، اب ‏‏وہ میاں بیوی کہلاتے ہیں، ان میں جوڑ آگیا، ربط آگیا۔ تو دیکھو! یہاں بھی ضَمُّ الشَّيْءِ إِلَى الشَّيْءِ کا معنی پایا گیا۔ اور اسی ‏‏طرح وطی کے اندر بھی ضَمُّ الشَّيْءِ إِلَى الشَّيْءِ کا معنی پایا جاتا ہے۔ تو وہ اس کو مشترک معنوی قرار دیتے ہیں، بھائی۔ اور جبکہ اصطلاحِ شریعت میں آپ نے پڑھا کہ نکاح کہتے ہیں: هُوَ ‏‏عَقْدٌ يُفِيدُ مِلْكَ الْمُتْعَةِ قَصْدًا، کہ نکاح جو ہے، وہ عقد ہے جو قصداً ملک متعه کا فائدہ دیتا ہے۔ ملکِ متعه یعنی عورت سے عورت سے نفع اٹھانا، اس سے صحبت کرنا، یہ اس نکاح کے بعد جائز ہو جاتا ہے۔ تو یہ عقدِ ‏‏نکاح کیا ہے؟ ملکِ متعه کا فائدہ دیتا ہے اور قصداً، بھائی۔ یعنی یہی فائدہ ہی مقصود ہوتا ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ اور میں نے بتایا تھا کہ یہ 'قصداً' کی قید کے ذریعے باندی کی بیع و شراء کو نکال دیا، کیونکہ باندی ‏‏کو جب کوئی انسان خریدتا تو اس کے لیے بھی صحبت جائز ہو جاتی تھی۔ لیکن اس کو نکاح کوئی نہیں کہتا تھا، وہ تھی ‏‏بیع، بھائی، باندی کی بیع و شراء، بھائی۔ تو وہاں پر بھی ملکِ متعه حاصل ہو جاتی ہے، لیکن وہ قصداً نہیں۔ وہاں اصل ‏‏مقصود ملکِ متعه نہیں ہوتی، اصل مقصود ملکِ رقبه ہوتی ہے اور پھر ملکِ رقبه کے واسطے سے جو ہے ملکِ متعه ‏‏بھی حاصل ہو جاتی ہے۔ جبکہ نکاح میں ایسا نہیں ہے، یہاں ملکِ متعه ہی مقصود ہے اس عقد کے ذریعے سے، جی۔ اور اس کا حکم شرعی بھی میں نے ذکر کر دیا تھا کہ نکاح جو ہے کبھی کبھار فرض ہوتا ہے، کبھی واجب، کبھی سنت ‏‏اور کبھی مکروہ تحریمی ہوگا اور کبھی حرام ہوگا۔ حالتِ اعتدال کے اندر نکاح جو ہے وہ سنتِ مؤکدہ ہے، بھائی۔ اور اگر ‏‏گناہ میں مبتلا ہونے کا خوف ہے تو پھر نکاح واجب ہے۔ اور اگر گناہ میں مبتلا ہونے کا یقین ہے تو پھر نکاح فرض ہے۔ اور پھر آپ نے یہ بھی پڑھا کہ نکاح افضل ہے یا ترکِ نکاح افضل ہے؟ اس میں امام شافعی رحمہ اللہ اور امام اعظم ابو ‏‏حنیفہ رحمہ اللہ کا اختلاف ہے۔ امام صاحب کے نزدیک نکاح جو ہے وہ افضل ہے، بھائی، افضل ہے، کیونکہ اس پر ‏‏حضور علیہ السلام نے نعم العبد فرمایا ہے اور نیز احادیث میں آتا ہے کہ اَلنِّكَاحُ مِنْ سُنَّتِي فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي، ‏‏اور اس طرح کی احادیث میں نے آپ کو لکھوائیں، بھائی۔ اور جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ترکِ نکاح افضل ہے، یعنی نکاح کے بغیر زندگی گزارنا افضل ہے اس ‏‏لیے کیونکہ نکاح کی وجہ سے انسان بعض اوقات بڑی مصیبتوں میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ اہل خانہ کے لیے رزقِ حلال ‏‏کمانا اور ان کے حقوق ادا کرنا اور ان کی ضروریات پوری کرنا یہ بڑا مشکل کام ہے۔ اور نیز اس نکاح کی وجہ سے ‏‏انسان کو عبادت کا موقع بھی کم ملتا ہے، کیونکہ انسان اپنے گھر والوں کی اور بچوں کی ضروریات پوری کرنے میں لگا ‏‏رہتا ہے۔ تو وہ فرماتے ہیں نکاح کو ترک کرنا افضل ہے، امام شافعی رحمہ اللہ۔ تو بہرحال ہمارے نزدیک نکاح یا فرض ہوگا یا واجب یا سنت اور پھر اس کی شرائط آپ نے پڑھیں کہ نکاح کرنے والا ‏‏مہر کا مالک ہو عاجلاً یعنی فی الحال ہی یا آجلاً یعنی کما کر دے سکے۔ کما کر دے سکے تو بھی ٹھیک ہے۔ اور اسی طرح نفقہ بھی دے سکے، فی الحال دے سکے یا کما کر کھلا سکے، بھائی، ہر روز کا نفقہ کھلا کر اس کی ‏‏ضرورت پوری کر سکے اور بیوی کو رہائش بھی دے سکے، یہ سب ضروری چیزیں ہیں، یہ شرطیں ہیں نکاح کے لیے۔ ‏‏اور اگر ظلم کرنے کا خوف ہے، آدمی کی طبیعت ظالمانہ ہے تو اس کے لیے نکاح مکروہِ تحریمی ہے، بھائی، اور اگر ‏‏ظلم کرنے کا یقین ہے تو پھر نکاح حرام ہے اس کے لیے، بھائی۔ اور پھر آپ نے یہ بھی پڑھا کہ نکاح جو ہے اس کے لیے دو گواہوں کا ہونا شرط ہے۔ دو گواہ ہوں گے تو ان کی ‏‏موجودگی میں نکاح صحیح ہو جائے گا، اگر دو گواہ نہیں ہیں تو پھر نکاح صحیح نہیں، اور وہ دونوں کیا ہوں؟ وہ دونوں ‏‏جو ہیں وہ اا مسلمان ہوں، آزاد ہوں، عاقل بالغ ہوں اور ان الفاظ کو سنیں بھی اور اس ایجاب و قبول کو اور ان کو سمجھیں ‏‏بھی کہ یہ ایجاب و قبول ہو رہا ہے۔ اور تو دو مرد ہونے چاہئیں آزاد، عاقل، بالغ وغیرہ تفسیل گزر گئی۔ اور یا ایک مرد ‏‏ہو اور دو عورتیں ہوں اور ان میں بھی یہی ساری شرطیں ہونی چاہئیں، بھائی۔ آزاد ہوں، معلوم ہوا غلام یا باندیاں ہیں صرف تو ان کی موجودگی میں نکاح نہیں ہو سکتا۔ اور عاقل بالغ ہوں، اگر مجنون ‏‏ہیں تو ان کی موجودگی میں بھی نکاح نہیں ہو سکتا، یا صرف بچے ہیں تو ان کی موجودگی میں بھی نکاح نہیں ہو سکتا۔ اور نیز بعضوں نے ایک اور شرط بھی لگائی کہ گواہ جو ہیں انسان ہوں، بھائی! معلوم ہوا صرف جنات موجود ہیں تو ان ‏‏کی موجودگی میں نکاح صحیح نہیں ہوگا۔ اور نیز نکاح مع الجنس ہونا چاہیے۔ یعنی اپنی ہی جنس کے ساتھ نکاح ہو، یعنی ‏‏انسان کا انسان کے ساتھ ہو، لہٰذا جنیہ کی جنس الگ ہے اس سے نکاح جائز نہیں، بھائی۔ اور پھر اس کے فائدے اور نقصانات ذکر ہوئے تھے کہ امام غزالی رحمہ اللہ نے اس کے کئی فائدے ذکر فرمائے ہیں۔ ‏‏پانچ فائدے میں نے آپ کو لکھوائے، بھائی۔ ایک فائدہ یہ ہے کہ اس سے اولاد حاصل ہوتی ہے۔ اور دوسرا فائدہ یہ ہے کہ ‏‏شہوت کا علاج ہوگا۔ تیسرا فائدہ یہ ہے کہ اس سے خاندان بڑھ جائے گا، پہلے نسبی رشتہ دار تھے اب سسرالی رشتہ دار ‏‏بھی بن گئے، بھائی! تو خاندان بڑھ جائے گا۔ اور چوتھا فائدہ یہ ہے کہ تدبیرِ منزل جو ہے وہ اس کا موقع ملے گا کہ گھر ‏‏کا انتظام و انصرام کیسے سنبھالنا ہے، کیسے گھر کو چلانا ہے، بھائی۔ اور پانچواں؟ جہاد بن نفس کا زیادہ موقع ملے گا، ‏‏کیونکہ اب عورتوں کے بھی، گھر والوں کے بھی حقوق ادا کرنے پڑیں گے، بھائی۔ یہ پانچ فائدے۔ اس کی آفات بھی ہیں، بھائی، تو تین آفتیں میں نے آپ کو لکھوائیں، بھائی۔ ایک تو یہ کہ بعض اوقات انسان جو ہے طلبِ ‏‏رزقِ حلال سے عاجز آ جاتا ہے، بھائی۔ تو گھر والوں کے لیے ان کی ضروریات پوری کرنا اس کے لیے مشکل ہو جاتا ‏‏ہے اور وہ بڑی تکلیف اور فقر و فاقہ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اور دوسری آفت یہ ہے کہ یہ گھر والے اور بچے جو ہیں وہ عبادت سے مانع بنیں گے، عبادت کا زیادہ وقت نہیں ملے گا۔ ‏‏اور ایک آفت یہ ہے کہ ان کی گھر والوں کی حقوق ادا کرنے میں کوتاہی ہوگی، حقوق پوری طرح ادا نہیں کر سکے گا ‏‏اور چنانچہ آخرت میں مؤاخذے کا مستحق بن جائے گا، بھائی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ لیکن بہرحال نکاح اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے، اس میں فائدے کا فائدہ ہے اور ثواب کا ثواب ہے۔ علماء فرماتے ہیں کہ ‏‏میاں بیوی کا آپس میں بیٹھ کر ہنسی مذاق کرنا اور دللگی کی باتیں کرنا یہ بھی نفل نمازوں سے بہتر ہے اس لیے کیونکہ ‏‏وہ حرام مقام کو چھوڑ کر حلال جگہ پر مصروف ہے، بھائی۔ اور نیز اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ اہل و عیال والے ‏‏شخص کی دو رکعتیں بغیر اہل و عیال والے شخص کی ۷۰ رکعتوں سے افضل ہیں۔ اور ایک حدیث میں ۸۲ کا عدد ذکر ‏‏ہے کہ اہل و عیال والے شخص کی دو رکعتیں بغیر اہل و عیال والے شخص کی ۸۲ رکعتوں سے افضل ہیں، بھائی۔ تو دیکھو! دو رکعتیں اتنی افضل ہیں تو تمام زندگی کی عبادتیں ان کا کتنا زیادہ اجر ہو جائے گا، انسان سوچ نہیں سکتا۔ ‏‏جی، اب آئیے کتاب پر، بھائی۔ كِتَابُ النِّكَاحِ، قَالَ النِّكَاحُ يَنْعَقِدُ بِالْإِيجَابِ وَالْقَبُولِ بِالَفْظَيْنِ يُعَبَّرُ بِهِمَا عَنِ الْمَاضِي‏ بھائی دیکھئے! میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ جو ہدایہ کا متن ہے، وہ بدایۃ المبتدی کہلاتا ہے۔ یہ بات ہر وقت آپ کے ذہن ‏‏میں ہو، بھائی، کہ یہ ہدایہ کا متن کیا کہلاتا ہے؟ بدایۃ المبتدی۔ اور یہ صاحبِ ہدایہ نے خود ترتیب دیا قدوری سے اور ‏‏جامع صغیر سے۔ تو اس میں اکثر عبارات قدوری کی ہیں اور جگہ جگہ وہ جامع صغیر کا کوئی مسئلہ اہم سمجھتے ہیں تو ‏‏اس کا اضافہ بھی صاحبِ ہدایہ فرما دیتے ہیں۔ تو یہ متن بدایۃ المبتدی ہے اور یہ ترتیب دیا گیا ہے قدوری سے اور امام ‏‏محمد رحمہ اللہ کی کتاب جامع صغیر سے۔ تو یہ جو آیا: قَالَ، قَالَ النِّكَاحُ يَنْعَقِدُ بِالْإِيجَابِ وَالْقَبُولِ، تو یہ 'قال' سے مراد صاحبِ قدوری ہیں کہ صاحبِ قدوری فرماتے ‏‏ہیں، کیونکہ آگے جو متن آ رہا ہے وہ قدوری کی عبارت ہے، بھائی۔ کہتے ہیں: النِّكَاحُ يَنْعَقِدُ بِالْإِيجَابِ وَالْقَبُولِ۔ اچھا، بھائی! آپ نے پڑھا، بھائی، کہ نکاح جو ہے، یہ عقد کا نام ہے۔ اور میں نے آپ کو بتلایا کہ عقد دو انسانوں کے ‏‏درمیان جو معاملہ ہو، اس کو عقد کہا جاتا ہے۔ دو انسانوں کے درمیان جو معاملہ ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ عقد کہتے ہیں۔ ‏‏مثلاً آپ کوئی چیز خریدتے ہیں، تو کسی ساتھی سے کتاب خریدنا چاہتے ہیں تو آپ کہیں گے کہ "یہ کتاب میں نے آپ سے ‏‏مثلاً پانچ سو روپے میں خرید لی" اور وہ جواب میں کہے گا کہ "مجھے منظور ہے" یا "میں نے آپ کو پانچ سو روپے ‏‏میں یہ کتاب بیچ دی۔" یا "مجھے قبول ہے"، جو بھی لفظ بولے جس سے اس کی رضامندی ظاہر ہو جائے۔ تو تو بیع مکمل ‏‏ہو گئی۔ بیع بھی ایک عقد ہے جو دو انسانوں کے درمیان ہوتی ہے اور اس کے اندر اس کے اندر خریدار جو ہے اس مبیع ‏‏کا پھر مالک بن جاتا ہے۔ تو یہ جو عقد ہے اس کے اندر جو شخص پہلے کلام کرے تو وہ جو کلام پہلے ہے وہ ایجاب کہلائے گا۔ اور جو دوسرے ‏‏نمبر پر کلام ہے اس کو کہتے ہیں قبول۔ اگر خریدار نے پہلے کلام کیا اور کہا "یہ کتاب میں نے ۱۰۰ روپے کی خرید ‏‏لی"، تو یہ ہے ایجاب اور اس کے جواب میں پھر بیچنے والا کہتا ہے "مجھے منظور ہے" یا "مجھے قبول ہے" یا "میں ‏‏نے بیچ دی اتنے پیسوں میں"، تو یہ قبول ہے۔ تو جو بھی پہلے کلام کرے وہ ایجاب کہلاتا ہے چاہے وہ کلام مشتری پہلے ‏‏کرے کہ "میں نے کتاب ۱۰۰ روپے کی خرید لی" یا چاہے یہ کلام پہلے بائع کرے، بیچنے والا کہے "یہ کتاب میں نے ‏‏آپ کو ۱۰۰ روپے میں بیچ دی" اور آپ کہتے ہیں "مجھے منظور ہے"، تو وہ جو بیچنے والے کا کلام پہلے ہے وہ ایجاب ‏‏کہلائے گا۔ اور جو بعد والا ہے وہ قبول کہلائے گا۔ ایجاب، دیکھو باب افعال ہے، اِیْجَابًا، اَوْجَبَ یُوْجِبُ اِیْجَابًا کا معنی ہے ‏‏‏'واجب کرنا'۔ تو چونکہ یہ ایجاب بھی دوسرے پر جواب کو واجب کر دیتا ہے، کیا کر دیتا ہے؟ واجب، یعنی لازم کر دیتا ‏‏ہے عرفاً، عرف میں۔ عرف کہتے ہیں عام لوگوں کی عادت کو اور ان کے طریقے کو کیا کہتے ہیں؟ عرف، بھائی۔ عام ‏‏لوگوں کی عادت کیا ہے؟ جب کسی سے اس طرح کی بات کی جائے تو وہ اس کا جواب دیتا ہے کہ مجھے منظور ہے یا ‏‏منظور نہیں ہے۔ آپ اپنے ساتھی کو کہتے ہیں "یہ میں نے سائیکل آپ سے ۵۰۰۰ میں خرید لی"، تو وہ فوراً جواب میں ‏‏کہے گا کہ "میں نے بیچ دی" یا "میں نے نہیں بیچی"۔ شریعت کے اندر نہیں واجب ہوگا اس پر کہ وہ جواب لازمی دے، ‏‏ہاں، عرف میں کیا کیا جاتا ہے؟ اس کا جواب دیا جاتا ہے ہاں کے ساتھ یا نہیں کے ساتھ۔ تو جو پہلے کلام ہوگا وہ ایجاب کہلائے گا، کیونکہ وہ عرفاً دوسرے پر جواب کو واجب کر دیتا ہے، یعنی لازم کر دیتا ‏‏ہے۔ تو اس لیے اس ایجاب کو ایجاب کہتے ہیں۔ اور یاد رکھنا یہ ایجاب اور قبول، یہ رکنِ عقد ہیں۔ ان کی وجہ سے عقد منعقد ہوگا۔ تو جیسے بیع ایک عقد ہے، اسی طرح ‏‏نکاح بھی ایک عقد ہے خاوند اور بیوی کے درمیان۔ پہلے دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی تھے، دونوں ایک دوسرے ‏‏کے لیے حرام تھے، لیکن جب آپس میں عقدِ نکاح کر لیا، اب دونوں ایک دوسرے کے لیے حلال ہو گئے۔ تو جیسے بیع ‏‏ملکیت کا فائدہ دیتی ہے کہ ایک شخص دوسری چیز کا مالک بن جاتا ہے، اس کو خرید لیتا ہے۔ اسی طرح عقدِ نکاح جو ‏‏ہے، ایک مرد اور عورت کے درمیان ربط اور جوڑ پیدا کر دیتا ہے یہ عقد اور اب وہ میاں بیوی کہلاتے ہیں، اب وہ ‏‏دونوں ایک دوسرے کے لیے حلال ہو گئے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ جو ایجاب اور قبول ہیں، یہ اس عقدِ نکاح کا رکن ہیں۔ رکنِ شے کسے کہتے ہیں؟ جو ایک چیز کے اندر داخل ہو، ‏‏جس سے وہ چیز بنے۔ وہ ارکان ہیں تو وہ چیز بھی ہے، وہ ارکان نہیں تو وہ چیز بھی نہیں ہے۔ تو یہاں پر بھی یہ جو ‏‏ایجاب اور قبول ہیں، یہ رکنِ نکاح ہیں، یہ ایجاب اور قبول ہیں تو نکاح ہے، یہ نہیں تو نکاح بھی نہیں۔ اور یاد رکھو! یہ ‏‏جب ایجاب اور قبول آئے گا، تو اس مرد اور عورت کے درمیان ایک ربط آ جائے گا، ایک جوڑ آ جائے گا۔ وہ ہے نکاح، بھائی۔ وہ جو ربط اور جوڑ دونوں کے درمیان آیا ہے، وہ کیا ہے؟ نکاح ہے۔ یہ ربط اور جوڑ ہے تو دونوں ‏‏میاں بیوی کہلا رہے ہیں۔ اگر یہ ربط اور جوڑ نہیں تو اب میاں بیوی بھی نہیں۔ چنانچہ جب خاوند اگر بیوی کو طلاق دے ‏‏دے تو دیکھو وہی ربط ٹوٹ گیا، ختم ہو گیا، اب یہ آپس میں میاں بیوی نہیں کہلاتے۔ تو شرعاً نکاح اس جوڑ اور ربط کا نام ہے جو دونوں کے درمیان آ گیا، لیکن یہ ایجاب اور قبول اس کا رکن ہیں، یہ بھی ‏‏اس کی حقیقت سے خارج نہیں۔ یہ ایجاب اور قبول ہیں تو انہوں نے وہ آپس میں جوڑ پیدا کر دیا۔ ان دونوں کے درمیان کیا پیدا کر دیا؟ جوڑ۔ اور وہ جوڑ حاصل بالُمَصدَر ہے۔ تو نکاح وہ حاصل بالُمَصدَر کا نام ہے، کس ‏‏کا نام ہے؟ حاصل بالُمَصدَر کا نام ہے۔ یاد رکھو، یہ جو مصدر ہے اس کا خارج میں وجود نہیں ہوتا، اور اردو میں مصدر ‏‏کی علامت کیا ہے؟ اس کے آخر میں 'نا' آتا ہے۔ ہنسنا، یہ کیا ہے؟ مصدر۔ رونا، یہ کیا ہے؟ مصدر۔ چلنا، یہ کیا ہے؟ ‏‏مصدر۔ پڑھنا، یہ کیا ہے؟ مصدر۔ کھانا کھانا، یہ کیا ہے؟ مصدر۔ پانی پینا، یہ کیا ہے؟ مصدر۔ تو یہ جو مصدر ہے اس کا ‏‏خارج میں وجود نہیں ہوتا، آپ کو کبھی خارج میں مصدر نظر نہیں آئے گا۔ ہاں، اس مصدر سے جو صورت حاصل ہوگی ‏‏وہ آپ کو کبھی خارج میں نظر آئے گی۔ مثلاً 'زید ہنسا' تو یہ ہنسنا زید کی صفت ہے اور خارج میں یہ ہنسنا ہمیں نظر نہیں ‏‏آتا، بھائی، کیونکہ مصدر کا خارج میں کوئی وجود نہیں ہوتا، یہ کسی کی صفت ہوتا ہے، جیسے یہاں پر یہ ہنسنا زید کی ‏‏صفت ہے، اور اس مصدر سے جو صورت اور جو ہیئت حاصل ہوتی ہے، وہ ہمیں خارج میں نظر آتی ہے۔ تو وہ خارج ‏‏میں جو ہمیں نظر آئی وہ ہنسی ہے۔ اس ہنسنے کے فعل کی وجہ سے جو صورت بنی، جو صورت حاصل ہوئی، اسے کیا ‏‏کہتے ہیں؟ ہنسی۔ تو خارج میں ہمیں ہنسی نظر آتی ہے، ہنسنا نظر نہیں آتا۔ اسی طرح 'دوڑنا'، دوڑنا مصدر ہے، مثلاً 'زید ‏‏دوڑا'، تو یہ دوڑنا زید کی صفت ہے اور یہ دوڑنا جو مصدر ہے ہمیں خارج میں نظر نہیں آتا۔ کیوں نہیں نظر آتا؟ کیونکہ ‏‏خارج میں اس کا وجود ہی نہیں ہے، یہ کسی کی صفت ہے، لیکن خارج میں اس کا وجود نہیں ہے۔ ہاں، اس دوڑنے کی ‏‏وجہ سے جو ہیئت اور صورت حاصل ہوئی، یعنی دوڑ، وہ ہمیں خارج میں نظر آتی ہے، اور یہ دوڑ جو ہے یہ حاصل ‏‏بالُمَصدَر ہے۔ یعنی وہ چیز، وہ صورت جو کس کی وجہ سے حاصل ہو رہی ہے؟ مصدر کی وجہ سے۔ حاصل بالُمَصدَر، ‏‏دیکھو لفظوں پہ غور کرو، وہ چیز جو حاصل ہو رہی ہے بالُمَصدَر، کس کی وجہ سے؟ مصدر کی وجہ سے۔ تو وہ ہمیں ‏‏خارج میں دکھائی دیتی ہے، خود مصدر ہمیں خارج میں دکھائی نہیں دیتا۔ اسی طرح 'چلنا'، یہ چلنا ہمیں خارج میں نظر ‏‏نہیں آئے گا، ہاں 'چال' ہمیں خارج میں نظر آئے گی۔ دوڑنا مصدر ہے۔ مصدر ہمیں خارج میں نظر نہیں آتا کیونکہ اس کا خارج میں وجود ہی نہیں ہے۔ یہ تو ایک صفت ہوتی ‏‏ہے، کسی جو کرنے والا ہے اس کی صفت ہے۔ تو خارج میں ہمیں دوڑنا نہیں نظر آتا، ہاں اس دوڑنے کی صفت کی وجہ ‏‏سے جو صورت حاصل ہو رہی ہے یعنی دوڑ، وہ ہمیں نظر آ رہی ہے۔ تو حاصل بالمصدر کسے کہتے ہیں؟ وہ کیفیت اور وہ صورت جو کس کی وجہ سے حاصل ہو؟ مصدر کی وجہ سے، اس ‏‏کو حاصل بالمصدر کہتے ہیں۔ تو دیکھو، یہاں نکاح کے اندر بھی ایجاب اور قبول ہوگا۔ اور ایجاب اور قبول کی وجہ سے اس مرد اور اس عورت کے ‏‏درمیان کیا آگیا؟ جوڑ آگیا، ربط آگیا، یہ ہے حاصل بالمصدر۔ کیا ہے؟ یہ جو نکاح کا عمل کیا یعنی ایجاب اور قبول کیا، ‏‏اس ایجاب اور قبول کی وجہ سے کیا حاصل ہوا؟ ایک ربط اور ایک جوڑ آگیا، اور وہ ہے حاصل بالمصدر۔ تو یہ جو جوڑ اور ربط ہے، یہ ہے اصل میں نکاح بھائی۔ یہ نکاح ہے، تو یہ میاں بیوی بھی کہلا رہے ہیں۔ اور جب طلاق ‏‏دے گا، یہی ربط اور جوڑ ٹوٹ جائے گا۔ اب وہی آدمی ہے، وہی عورت ہے، لیکن اب یہ ایک دوسرے کے لیے میاں بیوی ‏‏نہیں کہلاتے۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ تو شریعت کے اندر نکاح جو ہے، یہ اس حاصل بالمصدر کو کہتے ہیں۔ یہ ہے نکاح۔ اور یہ جو ایجاب اور قبول ہیں، یہ ‏‏بھی نکاح کی حقیقت سے خارج نہیں ہیں۔ میں نے بتلایا کہ یہ ارکانِ نکاح ہیں۔ یہ کیا ہیں؟ اور رکن ہر شے شے کے اندر ‏‏داخل ہوتی ہے، تو یہ ایجاب اور قبول بھی داخل ہیں نکاح کے اندر۔ تو فرماتے ہیں: النِّكَاحُ يَنْعَقِدُ بِالْإِيجَابِ وَالْقَبُولِ، نکاح جو ہے منعقد ہو جاتا ہے ایجاب اور قبول سے، بِلَفْظَيْنِ يُعَبَّرُ بِهِمَا عَنِ ‏‏الْمَاضِي، دو ایسے لفظوں سے کہ تعبیر کیا جائے ان دونوں کو ماضی سے۔ لفظین نکرہ آیا بھائی، اور نکرہ کے بعد یعبر فعل آیا۔ اور یاد رکھنا، نکرہ کے بعد فعل آجائے تو وہ عموماً آپس میں ‏‏موصوف صفت بنتے ہیں۔ تو لفظین یہ ہے موصوف اور یعبر ہے اس کی صفت۔ اور موصوف صفت کا ترجمہ کیسے ‏‏کرتے ہیں؟ موصوف سے پہلے اگر نکرہ ہو، موصوف سے پہلے "ایسا" یا "ایسی" کا لفظ لے آئیں گے۔ تو دیکھو ترجمہ سنو، کہ النِّكَاحُ يَنْعَقِدُ بِالْإِيجَابِ وَالْقَبُولِ، نکاح منعقد ہو جاتا ہے ایجاب اور قبول سے، بِلَفْظَيْنِ، دو ایسے ‏‏لفظوں کے ساتھ، يُعَبَّرُ بِهِمَا عَنِ الْمَاضِي، کہ تعبیر کیا جائے ان دونوں کو ماضی سے۔ دو ایسے لفظ جن کو کس سے تعبیر ‏‏کیا جائے؟ ماضی کے ساتھ تعبیر کیا جائے، ان سے نکاح منعقد ہو جاتا ہے۔ ماضی کے ساتھ تعبیر کیا جائے، یعنی ماضی کے صیغے ہوں۔ تعبیر کیا جائے، یعنی ادا کیا جائے۔ وہ لفظ کس طرح کے ‏‏ہوں جن کو آپ ادا کریں؟ وہ ماضی کے صیغے ہونے چاہئیں بھائی۔ تو نکاح منعقد ہو جاتا ہے بِلَفْظَيْنِ دو ایسے لفظوں ‏‏سے، يُعَبَّرُ بِهِمَا کہ ان دونوں کو تعبیر کیا جائے یعنی ان کو ادا کیا جائے، عَنِ الْمَاضِي کس سے؟ ماضی سے، یعنی ماضی ‏‏کے صیغے کے ساتھ ان کو ادا کیا جائے۔ اچھا بھائی، بات چل رہی تھی نکاح کی۔ آپ نے پڑھا کہ نکاح جو ہے وہ ایجاب اور قبول سے منعقد ہو جاتا ہے۔ اور یہ ‏‏ایجاب اور قبول جو ہیں، یہ یہ نکاح کی حقیقت میں داخل ہیں، یہ ارکانِ نکاح ہیں۔ اور پھر ان ارکانِ نکاح کی وجہ سے جو ‏‏جوڑ اور ربط آگیا، جو صورت اور جو ہیئت حاصل ہوئی، وہ یعنی وہ جو حاصل بالمصدر جو ہے، وہ ہے حقیقت میں ‏‏نکاح۔ وہ کیا ہے؟ وہ حقیقت میں نکاح ہے، وہ جو ربط آگیا ہے، وہ جو جوڑ آگیا جس کی وجہ سے اب یہ مرد اور عورت ‏‏میاں بیوی کہلا رہے ہیں۔ تو وہ ہے نکاح۔ البتہ یہ ایجاب اور قبول، یہ بھی نکاح کی حقیقت سے خارج نہیں، بلکہ یہ بھی کیا ہیں؟ ارکانِ نکاح ہیں، ‏‏کیونکہ انہی کی وجہ سے تو یہ وہ جوڑ آیا ہے۔ تو بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ ایجاب اور قبول جو ہیں، یہ نکاح کے ‏‏لیے شرط ہیں، نکاح کی حقیقت میں داخل نہیں۔ لیکن علماءِ محققین فرماتے ہیں کہ نہیں، یہ ایجاب اور قبول یہ بھی نکاح ‏‏کے اندر داخل ہیں، یہ ارکانِ نکاح ہیں۔ کیونکہ رکن شے جو ہے وہ شے کے اندر داخل ہوتی ہے۔ تو یہ بھی نکاح کی ‏‏حقیقت میں داخل ہیں۔ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں کہ ایجاب اور قبول وہ دو ایسے لفظ ہونے چاہئیں جن کو ماضی کے ساتھ تعبیر کیا جائے، ‏‏یعنی ماضی کا صیغہ ہونا چاہیے۔ مثلاً ایک شخص جو ہے ایک عورت سے کہتا ہے: تَزَوَّجْتُكِ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ، "میں نے تجھ سے نکاح کر لیا ایک ہزار درہم ‏‏کے بدلے میں بطورِ مہر کے۔"‏ تَزَوَّجْتُكِ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ، "میں نے تجھ سے نکاح کر لیا ایک ہزار درہم کے بدلے میں بطورِ مہر کے۔"‏ اب دیکھو "تزوجت" یہ کون سا صیغہ ہے؟ ماضی کا صیغہ ہے۔ اور پھر جواب میں وہ عورت کہتی ہے: قَبِلْتُ، "کہ میں ‏‏نے قبول کیا۔" تو دیکھو، ایجاب جو ہے وہ بھی ماضی کا صیغہ، اور قبول وہ بھی کیا ہے؟ ماضی کا صیغہ ہے۔ تو جب دو ‏‏گواہوں کے سامنے اس طرح کہا جائے گا تو اس سے نکاح منعقد ہو جائے گا بھائی۔ تو صاحبِ قدوری نے آپ کو بتلایا کہ ایجاب اور قبول کے جو لفظ ہیں، وہ ماضی کے صیغے ہونے چاہئیں۔ لیکن یاد ‏‏رکھیے، اردو کے اندر، اردو کے اندر حال کے صیغوں کے ساتھ بھی نکاح منعقد ہو جائے گا، ماضی کے صیغوں کے ‏‏ساتھ بھی اور حال کے صیغوں کے ساتھ بھی۔ مثلاً اردو میں ایک شخص دوسرا عورت سے کہتا ہے: "میں نے تجھ سے ‏‏نکاح کر لیا"، اور وہ عورت جواب میں کیا کہتی ہے؟ "میں نے قبول کر لیا۔" دو گواہوں کے سامنے، نکاح کی باقی شرائط ‏‏وغیرہ پوری ہوں گی تو یہ نکاح منعقد ہو جائے گا بھائی۔ تو دیکھو یہ ماضی کے صیغے استعمال کیے: "میں نے تم سے نکاح کر لیا"، اور وہ جواب میں کیا کہتی ہے؟ "میں نے ‏‏قبول کیا۔" اگر حال کے صیغے استعمال کریں پھر بھی نکاح ہو جائے گا: "میں تجھ سے نکاح کرتا ہوں ایک ہزار درہم ‏‏کے بدلے بطورِ مہر کے"، اور وہ جواب میں کہتی ہے کہ "میں قبول کرتی ہوں۔" تو دیکھو حال کے صیغے ہیں، "میں ‏‏نکاح کرتا ہوں"، اور وہ کیا کہتی ہے؟ "میں قبول کرتی ہوں"، تو حال کے صیغے ہیں، لیکن اس سے بھی نکاح منعقد ہو ‏‏جائے گا۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب حال کے صیغے کے ساتھ بھی نکاح منعقد ہو جاتا ہے، تو صاحبِ قدوری نے تو کیا فرمایا ‏‏کہ صیغے کون سے ہونے چاہئیں؟ ماضی کے۔ وجہ یہ ہے کہ عربی زبان میں حال کا کوئی الگ صیغہ نہیں ہے۔ وہی ‏فعلِ ‏مضارع جو ہے، وہ حال کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور استقبال کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ تو اگر کوئی شخص یوں کہے: أَتَزَوَّجُكِ، تو اس کا حال والا معنیٰ بھی صحیح، اور اس کا مستقبل والا معنیٰ بھی صحیح، ‏‏کیونکہ یہ فعلِ مضارع ہے، اور فعلِ مضارع میں حال کا معنیٰ بھی ہوتا ہے اور استقبال کا بھی۔ أَتَزَوَّجُكِ، "میں تجھ سے ‏‏نکاح کرتا ہوں"، تو حال والا معنیٰ کریں پھر تو نکاح منعقد ہو جاتا ہے۔ اور اگر مستقبل والا معنیٰ کریں: أَتَزَوَّجُكِ، "میں ‏‏تجھ سے نکاح کروں گا"، پھر تو معلوم ہوا یہ نکاح اس وقت نہیں کر رہا، صرف آگے مستقبل کا کوئی وعدہ کر رہا ہے ‏‏بھائی۔ اور مستقبل کے وعدے سے تو اس وقت نکاح منعقد نہیں ہوگا۔ تو چونکہ فعلِ مضارع کے اندر حال اور استقبال دونوں کا احتمال ہے، تو جب کوئی مضارع کا صیغہ استعمال کرے گا تو ‏‏بات یقینی نہ ہوئی کہ یہ اس وقت عقد کرنے کا ارادہ ہے یا یہ مستقبل کا وعدہ کر رہا ہے، اس کا پتہ نہیں چلے گا لفظ سے۔ ‏‏وعدے کے لیے بھی یہی لفظ استعمال ہوگا: أَتَزَوَّجُكِ، اور عقد کرنے کے لیے بھی یہی لفظ استعمال کرنا پڑے گا: أَتَزَوَّجُكِ۔ ‏‏تو پھر پتہ نہ چلے گا کہ یہ اس وقت عقد کرنا چاہ رہا ہے یا اب مستقبل کا ایک وعدہ کر رہا ہے۔ تو اس لیے عربی زبان میں ماضی کا صیغہ ہونا ضروری ہے، مضارع کے صیغے سے نکاح منعقد نہیں ہوگا۔ جبکہ ‏‏اردو کے اندر حال کا صیغہ الگ ہے اور مستقبل کا صیغہ الگ۔ حال کے لیے کیا کہے گا؟ "میں تجھ سے نکاح کرتا ‏‏ہوں"، اور مستقبل کے لیے کیا کہے گا؟ "میں تجھ سے نکاح کروں گا"، دیکھو صیغہ ہی الگ ہے، یہاں واضح پتہ چل رہا ‏‏ہے۔ حال کا صیغہ استعمال کرے گا تو معلوم ہوا یہ اس وقت عقد کر رہا ہے، اور مستقبل کا استعمال کرے گا تو پتہ چلے ‏‏گا کہ یہ صرف ایک وعدہ کر رہا ہے۔ تو اردو میں چونکہ حال کا صیغہ الگ ہے، اس لیے اردو میں حال کے صیغوں ‏‏کے ساتھ بھی عقد منعقد ہو جاتا ہے۔ اسی طرح بیع کا معاملہ بھی ہے۔ بیع کے اندر بھی عربی زبان کے اندر ماضی کے صیغے ہونے چاہئیں، کیونکہ عربی ‏‏کے اندر حال کے لیے الگ صیغہ نہیں۔ جبکہ اردو میں حال کے لیے الگ صیغہ موجود ہے۔ لہٰذا اردو میں حال کے ‏‏صیغوں کے ساتھ بیع کرے گا تو وہ بیع منعقد ہو جائے گی۔ تو صاحبِ قدوری نے جو ذکر فرمایا کہ صیغے ماضی کے ہونے چاہئیں، یہ عربی زبان کے اعتبار سے ہے بھائی۔ آگے دیکھیے بھائی، کہتے ہیں: لِأَنَّ الصِّيغَةَ وَإِنْ كَانَتْ لِلْإِخْبَارِ وَضْعًا فَقَدْ جُعِلَتْ لِلْإِنْشَاءِ شَرْعًا دَفْعًا لِلْحَاجَةِ، لِأَنَّ الصِّيغَةَ وَإِنْ ‏‏كَانَتْ لِلْإِخْبَارِ وَضْعًا فَقَدْ جُعِلَتْ لِلْإِنْشَاءِ شَرْعًا دَفْعًا لِلْحَاجَةِ۔ یہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ ایجاب و قبول کے ذریعے عقد کو وجود دیا ‏‏جاتا ہے، یعنی اس میں انشاءِ عقد ہوتا ہے، کیا؟ انشاء۔ انشاء، ینشئ، انشاء کا معنیٰ ہے کسی چیز کو وجود دینا۔ ایک چیز ‏‏جس کا وجود پہلے نہ ہو، اس کو وجود دینا، یہ کیا کہلاتا ہے؟ انشاء کہلاتا ہے۔ تو جب دیکھو، آپ کسی سے کوئی چیز خریدنے جاتے ہیں، آپ اس کو کہتے ہیں: "میں نے یہ کتاب آپ سے سو روپے میں ‏‏خرید لی"، اور وہ جواب میں کہتا ہے کہ "مجھے منظور ہے"، جیسے ہی ایجاب و قبول ہوا، دیکھو بیع کا وجود آگیا۔ اس ‏‏سے پہلے بیع کا وجود نہیں تھا، اب کیا ہوا؟ بیع کا وجود ہو گیا، اور جیسے ہی بیع ہوئی، ساتھ ہی خریدار اس کتاب کا ‏‏مالک بن گیا۔ پہلے اس کا مالک دوسرا شخص تھا، اب مالک کون بن گیا؟ خریدار بن گیا، کس وجہ سے؟ کہ بیع پائی گئی، ‏‏بیع کا وجود آگیا۔ اگر یہ بیع نہ پائی جاتی تو کیا وہ خریدار مالک بنتا؟ خریدار مالک نہ بنتا بھائی۔ معلوم ہوا ایجاب و قبول ‏‏کے ذریعے عقد کو وجود دیا جاتا ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ اور پھر اس کے احکام لاگو ہو جائیں گے۔ جیسے ایجاب اور قبول کیا، تو بیع کا وجود پایا گیا، بیع ‏‏منعقد ہو گئی، یعنی انشاءِ بیع ہوا، کیا ہوا؟ انشاءِ بیع ہوا، بیع کا وجود پایا گیا، اور پھر اس کا حکم لاگو ہو جائے گا کہ ‏‏خریدار اس چیز کا مالک بن جائے گا۔ ایک قلم آپ کی جیب پر لگا ہوا ہے، میں نے کہا: "یہ قلم میں نے آپ سے سو روپے ‏‏میں خرید لیا"، آپ جواب میں کیا کہتے ہیں؟ "مجھے منظور ہے"، جیسے ہی آپ نے "منظور ہے" کہا، ساتھ ہی میں جو ‏‏خریدار ہوں، اس قلم کا مالک بن گیا۔ اب یہ قلم بے شک آپ کی جیب پر لگا ہوا ہے، لیکن مالک میں ہو چکا ہوں۔ یہ کس ‏‏وجہ سے ہوا؟ کہ انشاءِ بیع کی وجہ سے۔ تو ایجاب و قبول کس لیے ہوتے ہیں؟ انشاءِ عقد کے لیے ہوتے ہیں۔ اسی طرح نکاح کے اندر جب ایک مرد اور ایک ‏‏عورت ایجاب اور قبول کرتے ہیں تو وہ میاں بیوی بن جاتے ہیں۔ وہاں کون سا عقد آیا؟ وہاں عقدِ نکاح آگیا، اور جیسے ہی ‏‏نکاح آیا، وہ میاں بیوی بن گئے۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اے صاحبِ ہدایہ! یہ جو ایجاب اور قبول ہیں، یہ تو عقدِ نکاح کو وجود دیتے ہیں، ان کی وجہ ‏‏سے انشاءِ نکاح ہوتا ہے، اور صاحبِ قدوری کیا فرما رہے ہیں کہ اس کے لیے کون سے صیغے استعمال کرنے پڑیں ‏‏گے؟ ماضی کے۔ بھائی ماضی کے صیغے تو خبر دینے کے لیے وضع ہیں۔ ماضی کے صیغے ایک گزشتہ بات کے ‏‏بارے میں وہ خبر دیتے ہیں، اس کے ذریعے تو کسی چیز کو وجود نہیں دیا جا سکتا بھائی۔ آپ کسی کو بتلاتے ہیں کہ "کل میں نے سبق پڑھا تھا"، دیکھو آپ نے اس کو گزشتہ دن کی خبر دی۔ یا "کل میں زید سے ‏‏ملنے گیا تھا"، دیکھو آپ نے گزشتہ زمانے کی ایک خبر اس کو دی۔ تو ماضی کے صیغے کس لیے وضع ہیں؟ خبر دینے ‏‏کے لیے وضع ہیں، وہ تو انشاءِ عقد کے لیے وضع نہیں۔ وضع کا معنیٰ ہے مقرر کرنا۔ وضع کا معنیٰ مقرر کرنا۔ جیسے میں آپ کے سامنے یہ تقریر کر رہا ہوں، اور اردو زبان ‏‏کے الفاظ ادا کر رہا ہوں، اور آپ اس کا معنیٰ سمجھتے جا رہے ہیں۔ کیونکہ آپ جانتے ہیں ایک ایک لفظ جو میں بول رہا ‏‏ہوں، وہ کس معنیٰ کے لیے وضع ہے یعنی مقرر ہے۔ وضع کا کیا معنیٰ؟ مقرر۔ مثلاً میں کہتا ہوں "گلاس"، فوراً آپ کے ‏‏ذہن میں ایک برتن کی صورت آگئی جس کے اندر پانی پیا جاتا ہے، کیونکہ اردو زبان میں گلاس کا لفظ کس کے لیے ‏‏وضع ہے، کس کے لیے استعمال کیا جاتا ہے؟ پانی پینے کے ایک برتن کے لیے۔ اسی طرح میں نے "درخت" کہا، میں ‏‏نے "دیوار" کہا، "آسمان"، "سورج"، جو جو لفظ میں ذکر کرتا جا رہا ہوں، آپ کے ذہن میں ان چیزوں کی صورتیں آتی جا ‏‏رہی ہیں۔ آپ پہچانتے جا رہے ہیں کہ یہ کس چیز کو ذکر کیا جا رہا ہے، کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ اردو زبان میں مثلاً ‏‏گلاس کا لفظ کس کے لیے مقرر ہے، اور سورج کا لفظ کس کے لیے مقرر ہے، اور بارش کا لفظ کس کے لیے مقرر ہے، ‏‏دیوار کا لفظ کس کے لیے مقرر ہے۔ تو یہ جو مقرر کرنا ہے ایک لفظ کو ایک معنیٰ کے لیے، اس کو کہتے ہیں وضع۔ واؤ، ضاد اور عین، وضعٌ۔ تو یہ جو ‏‏ماضی ہے، اس کو کس لیے مقرر کیا گیا ہے، کس لیے وضع کیا گیا ہے؟ خبر دینے کے لیے زمانۂ ماضی کی۔ تو یوں ‏‏کہو کہ اس کو خبر دینے کے لیے وضع کیا گیا ہے، اور آپ کیا فرما رہے ہیں؟ اس سے انشاءِ عقد ہو جائے گا، انشاءِ ‏‏نکاح ہو جائے گا۔ بھائی یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ ایک صیغہ وضع کس کے لیے ہے؟ خبر دینے کے لیے، اور آپ استعمال ‏‏کس میں کر رہے ہیں؟ انشاء کے لیے۔ تو صاحبِ ہدایہ اس کا جواب دیں گے کہ ہاں، آپ کی بات ٹھیک ہے، ماضی کا صیغہ اگرچہ خبر دینے کے لیے وضع ‏‏ہے، لیکن، لیکن انسان محتاج ہوا انشاءِ عقد کا۔ شریعت نے اس کو نکاح کی اجازت دی ہے، وہ نکاح کی مصلحتیں اور ‏‏فائدے حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ نکاح کرنا چاہتا ہے۔ اور نکاح کرنے کے لیے، نکاح کو وجود دینے کے لیے، یا یوں ‏‏کہو انشاءِ نکاح کے لیے عربی زبان میں کوئی صیغہ ہی نہیں ہے۔ کوئی ایسا لفظ ہی نہیں ہے جس سے کیا ہو جائے؟ ‏‏انشاءِ نکاح ہو جائے، نکاح یا عقد کا وجود آجائے، اور وہ انسان محتاج ہے، تو اس کی حاجت کی وجہ سے اسی ماضی ‏‏کے صیغے کو کس کے لیے قرار دے دیا گیا؟ انشاء کے لیے بھی۔ شریعت نے اسی صیغے کو، جو کس کے لیے وضع تھا؟ ماضی کے لیے، یعنی خبر دینے کے لیے، اسی کو کس کے لیے ‏‏مقرر کر دیا؟ انشاء کے لیے بھی مقرر کر دیا، کس کی وجہ سے؟ حاجت کی وجہ سے، کیونکہ اگر اس کو انشاء کے لیے ‏‏مقرر نہ کریں گے، تو پھر تو نکاح کی کوئی صورت ہی نہ رہے گی بھائی، اور انسان کو نکاح کی حاجت ہے بھائی۔ بات ‏‏سمجھ میں آگئی؟ تو دیکھیے، کہتے ہیں: لِأَنَّ الصِّيغَةَ وَإِنْ كَانَتْ لِلْإِخْبَارِ وَضْعًا، اس لیے کیونکہ یہ جو صیغہ ہے ماضی والا، وَإِنْ كَانَتْ ‏‏لِلْإِخْبَارِ وَضْعًا، اگرچہ یہ خبر دینے کے لیے ہے وضعاً، باعتبارِ وضع کے۔ باعتبارِ وضع کے اگرچہ یہ خبر دینے کے ‏‏لیے ہے، فَقَدْ جُعِلَتْ لِلْإِنْشَاءِ شَرْعًا، تو تحقیق اس کو قرار دے دیا گیا انشاء کے لیے شرعاً، شریعت کے اعتبار سے۔ شریعت ‏‏کے اعتبار سے اس کو کس لیے قرار دے دیا گیا؟ انشاء کے لیے، دَفْعًا لِلْحَاجَةِ، اس انسان کی حاجت کو دور کرنے کے ‏‏لیے بھائی۔ یاد رکھو، یہ دَفْعًا لِلْحَاجَةِ، یہ دَفْعًا یہ مفعول لہُ ہے بھائی۔ مفعول لہُ کسے کہتے ہیں؟ جو ماقبل فعل کی علت بیان کرے۔ ‏‏ضَرَبْتُهُ تَأْدِيبًا، "میں نے اس کی پٹائی کی تَأْدِيبًا کس لیے؟ ادب سکھانے کے لیے۔" تو دیکھو یہ تَأْدِيبًا نے ماقبل میں جو ‏‏ضرب تھی اس کی اس کی علت اور اس کی وجہ بیان کر دی کہ یہ ضرب کس لیے لگائی گئی ہے؟ ادب سکھانے کے لیے۔ ‏‏تو یہاں پر بھی یہ دَفْعًا لِلْحَاجَةِ یہ مفعول لہُ ہے۔ اور یہ علت بیان کر رہا ہے جُعِلَتْ لِلْإِنْشَاءِ کی، کہ اس صیغے کو اگرچہ یہ خبر دینے کے لیے ہے، یہ ماضی کا صیغہ، ‏‏لیکن اس کو انشاء کے لیے قرار دیا گیا، کیوں؟ اس کی وجہ کیا ہے؟ کہتے ہیں: دَفْعًا لِلْحَاجَةِ، اس انسان کی حاجت کو دور ‏‏کرنے کے لیے بھائی، اس کی حاجت پوری کرنے کے لیے، تو یہ مفعول لہُ ہے۔ وَيَنْعَقِدُ بِلَفْظَيْنِ يُعَبَّرُ بِأَحَدِهِمَا عَنِ الْمَاضِي وَبِالْآخَرِ عَنِ الْمُسْتَقْبَلِ۔ جی، صاحبِ قدوری نے تو بتلایا کہ نکاح کے لیے ایجاب اور قبول ضروری ہیں، اور یہ ایجاب اور قبول کون سے ‏‏صیغے ہونے چاہئیں؟ ماضی کے صیغے ہونے چاہئیں۔ آگے صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ اگر ایک صیغہ ماضی کا ہو ‏‏اور ایک مستقبل کا ہو تو اس سے بھی نکاح منعقد ہو جائے گا۔ ایک صیغہ مستقبل کا ہو اور دوسرا کس کا ہو؟ ماضی کا ‏‏ہو، اس سے بھی نکاح منعقد ہو جائے گا۔ مثلاً ایک شخص دوسرے شخص سے کہتا ہے: زَوِّجْنِي، "تو مجھ سے نکاح کر لے"، تو مجھ سے... ایک شخص دوسرے ‏‏شخص سے کہتا ہے۔ یاد رکھو، "شخص" کا لفظ مذکر اور مونث دونوں پر بولا جاتا ہے۔ مذکر ہو وہ بھی کیا ہے؟ شخص، ‏‏مونث ہو وہ بھی کیا ہے؟ شخص۔ تو ایک شخص دوسرے شخص سے کہتا ہے: زَوِّجْنِي، "تو مجھ سے نکاح کر لے"، وہ ‏‏جواب میں کہتا ہے: زَوَّجْتُكَ، "میں نے تجھ سے نکاح کر دیا"، یعنی "میں نے اپنا نکاح تجھ سے کر دیا۔" تو علماء فرماتے ‏‏ہیں کہ دونوں میں نکاح منعقد ہو گیا جب نکاح کی باقی شرائط پوری ہوں، گواہ وغیرہ موجود ہوں بھائی۔ تو تو یہاں پر یاد رکھنا، یہ جو پہلے شخص نے کہا زَوِّجْنِي "تو مجھ سے نکاح کر لے"، آپ کے ذہن میں آئے گا کہ ‏‏زَوِّجْنِي یہ جو پہلا لفظ ہے، یہ ہے ایجاب، اور زَوَّجْتُكَ یہ کیا ہے؟ قبول ہے۔ ایجاب اور قبول چاہیے نا عقد کے لیے؟ آپ کے ذہن میں آئے گا زوجنی کیا ہے؟ ایجاب اور زوجتک یہ کیا ہے؟ یہ قبول ‏‏ہے۔ لیکن یاد رکھیں ایسا نہیں ہے۔ وہ جو زوجنی ہے، زوج کون سا صیغہ ہے؟ امر ہے۔ کیا ہے؟ امر اور وہ تو امر تو جو ہے وہ مستقبل کے لیے آتا ہے۔ ‏‏ایجاب کے لیے ضروری ہے وہ یا وہ ماضی کا صیغہ ہو یا حال کا صیغہ ہو بھائی۔ مستقبل والے صیغے کے ساتھ تو ‏‏ایجاب نہیں ہو سکتا۔ میں نے کیا بتایا؟ عربی زبان میں دونوں صیغے کون سے ہوں؟ ماضی کے ہوں۔ اردو میں ماضی کے بھی ہو سکتے ہیں ‏‏اور حال کے بھی ہو سکتے ہیں۔ توجہ ہے؟ لیکن زوجنی یہ تو مستقبل کا صیغہ ہے، یہ تو امر ہے بھائی، زوجنی تو مجھ ‏‏سے نکاح کر لے۔ تو اس کو آپ ایجاب نہیں کہہ سکتے، ایجاب یا ماضی ہو گا یا حال ہو گا۔ تو پھر یہاں نکاح کیسے منعقد ‏‏ہوا جب ایجاب اور قبول نہیں؟ تو علماء فرماتے ہیں یہ جو زوجتک کہا ہے یہ لفظ ایجاب اور قبول دونوں کے قائم مقام ہے۔ یہ ایجاب اور قبول دونوں کے قائم مقام ہے اور اس کی وجہ سے یہ عقد نکاح منعقد ہو گیا بھائی۔ دونوں کے قائم مقام کس طرح ہے؟ کہتے ہیں جب احد المتعاقدین عقد کرنے والے جو دو ہیں ان میں سے ایک نے کہا ‏‏زوجنی تو مجھ سے نکاح کر لے تو گویا اس نے دوسرے کو اپنا وکیل بنا دیا نکاح کے لیے۔ دوسرے کو اپنے نکاح کے لیے وکیل بنا دیا۔ آپ بھی وکیل بناتے ہیں اپنے کسی کام کے لیے۔ مثلاً ایک صورت یہ ہے آپ ‏‏اپنے لیے بازار سے گاڑی خریدنے خود جاتے ہیں۔ اور دوسری صورت یہ ہے آپ اپنے ایک ساتھی کو پیسے دیتے ہیں کہ جاؤ جا کر بازار سے میرے لیے گاڑی خرید کر ‏‏لے آؤ۔ بھائی کیا آپ کی اجازت کے بغیر وہ شخص خود آپ کے پیسے لے جائے اور آپ کے لیے گاڑی خرید لائے کیا ‏‏اس کو یہ اختیار شریعت نے دیا ہے؟ نہیں، وہ خود نہیں آپ کے پیسوں اس طرح خرچ کر سکتا۔ لیکن جب آپ نے اس کو ‏‏کہا کہ جا کر میرے لیے گاڑی خرید کر لاؤ تو آپ نے اس کو اپنا وکیل بنا دیا۔ ایک چیز جس کا اختیار صرف آپ کو تھا ‏‏آپ نے اس میں دوسرے کو کیا بنا دیا اپنا وکیل بنا دیا۔ اب وہ جاتا ہے اور جا کر آپ کے لیے گاڑی خرید کر لے آتا ہے۔ ‏‏تو بعض اوقات کیا کیا جاتا ہے؟ ایک چیز جس کا اختیار انسان کو ہوتا ہے اس میں وہ دوسرے کو اپنا وکیل بنا دیتا ہے۔ تو ‏‏یہاں پر بھی وہ جو متعاقدین میں سے ایک تھا جس نے پہلے کلام کیا، کیا وہ اپنا نکاح خود کر سکتا ہے یا نہیں؟ اس کو ‏‏شریعت نے اختیار دیا ہے، وہ کیا کر سکتا ہے؟ جہاں چاہے نکاح کر سکتا ہے۔ اب وہ دوسرے کو کہہ رہا ہے زوجنی، تو کیا کر دے میرے ساتھ نکاح کر دے، گویا یہ اس کو اپنا وکیل بنا رہا ہے۔ یہ اس کو اپنا وکیل بنا رہا ہے اور وہ جواب میں کہتا ہے زوجتک، میں نے تجھ سے کیا کیا؟ نکاح کر لیا۔ تو یہ لفظ جو ‏‏ہے زوجتک یہ ایجاب اور قبول دونوں کے قائم مقام ہو گیا۔ یہ جس نے امر کا صیغہ استعمال کیا تھا اس کی طرف سے ‏‏بھی ہو گیا بطور وکیل کے۔ بطور وکیل کے کہ اس کے وکیل کے طور پر الفاظ ہو گئے۔ اور جو دوسرا فرد ہے وہ وہ اپنا ‏‏نکاح کر رہا ہے اس کے ساتھ تو وہ اپنے نکاح کے معاملے میں اصیل ہوا۔ کیا ہے؟ اصیل، اصیل ص کے ساتھ ہے۔ اصیل۔ دیکھو آپ گاڑی خریدنے جاتے ہیں اپنے لیے گاڑی خریدتے ہیں تو آپ ‏‏اصیل ہیں۔ کیا ہیں؟ اصل سے ہے نا اصل۔ آپ کیا ہیں؟ اصیل ہیں، آپ کو شریعت نے اختیار دیا آپ اپنے مال سے جو چیز ‏‏چاہیں آپ خرید سکتے ہیں۔ تو آپ گاڑی خریدتے ہیں اپنے لیے تو آپ اصیل ہیں اور آپ گاڑی خریدتے ہیں اگر کسی اور کے لیے کسی اور نے آپ ‏‏کو پیسے دیے تھے تو آپ اس کے وکیل ہیں۔ تو یہاں پر بھی جب اس نے دوسرے سے کہا کہ تو مجھ سے اپنا نکاح کر ‏‏دے تو اس نے اس کو اپنا وکیل بنا دیا۔ اور وہ اب اس کا نکاح اپنے ساتھ کرتا ہے تو خود ہے یہ اصیل اور دوسرے کے ‏‏لیے کیا ہے؟ وکیل۔ تو یہ اصیل بھی ہوا اور وکیل بھی ہوا تو اس کے لفظوں سے نکاح منعقد ہو جائے گا۔ اس کا یہ کلام وکیل ہونے کے اعتبار سے بھی ہے اور اصیل ہونے کے اعتبار سے بھی ہے، تو یہ ایجاب اور قبول دونوں ‏‏کے قائم مقام ہو گیا اور اس سے عقد نکاح منعقد ہو جائے گا۔ تو یہاں پر بھی جب پہلے عقد کرنے والے نے کہا زوجنی، تو مجھ سے نکاح کر لے، تو گویا اس نے سامنے والے کو اپنا ‏‏وکیل بنا دیا۔ اور وہ سامنے والا ہی تو نکاح کرنا چاہ رہا ہے اس کے ساتھ تو وہ کیا ہوا؟ وہ اصیل بھی ہے اور اس نے ‏‏اس کو اپنا وکیل بھی بنا دیا، تو ایک ہی شخص نکاح کی دونوں جانب کا ذمہ دار بن گیا کہ ایک اعتبار سے وہ اصیل ہے ‏‏تو دوسرے اعتبار سے وکیل ہے۔ تو اس کا یہ کلام دونوں طرف سے شمار ہو گا اور نکاح منعقد ہو جائے گا۔ بات سمجھ ‏‏میں آ گئی؟ حاصل کلام یہ کہ پہلے نے کہا زوجنی، دوسرے نے کہا زوجتک، تو یہ جو زوجنی ہے یہ تو امر کا صیغہ ‏‏ہے، یہ ایجاب نہیں۔ ایجاب کے اندر ماضی یا حال کا صیغہ ہونا چاہیے، مستقبل والا نہیں۔ تو یہ تو مستقبل کا صیغہ ہے، امر ہے۔ تو لہٰذا یہ ‏‏ایجاب نہیں ہے۔ ہاں اس میں اس نے دوسرے کو وکیل بنا دیا۔ اور دوسرا جب وکیل بن گیا تو اب وہ زوجتک کہے گا، تو ‏‏یہی ایجاب اور قبول دونوں کے قائم مقام ہے۔ جی، دیکھیے کتاب پر۔ کہتے ہیں: "وینعقد بلفظین یعبر باحدهما عن الماضی وبالآخر عن المستقبل" اور نکاح منعقد ہو جاتا ‏‏ہے دو ایسے لفظوں سے کہ تعبیر کیا جائے دونوں میں سے ایک کو ماضی سے "وبالآخر عن المستقبل" اور دوسرے کو ‏‏مستقبل سے۔ ‏"مثل ان یقول" مثال کے طور پر ایک شخص یوں کہتا ہے: "زوجنی" کہ تو مجھ سے نکاح کر لے۔ "فیقول" یہ فیقول ‏‏منصوب ہے، اس لیے کیونکہ اس کا عطف ماقبل میں جو یقول آیا اس پر ہے اور اس پر ان داخل ہے وہ منصوب ہے تو یہ ‏‏بھی منصوب۔ "مثل ان یقول زوجنی فیقول زوجتک" تو دوسرا شخص کہتا ہے "زوجتک" میں نے تجھ سے نکاح کر لیا۔ تو ‏‏اس سے بھی نکاح منعقد ہو جائے گا بھائی۔ یہاں آپ کے ذہنوں میں یہ اشکال آ سکتا ہے کہ "ان یقول" یہ بھی مذکر کا صیغہ اور "فیقول" یہ بھی کون سا صیغہ؟ مذکر ‏‏والا۔ تو حالانکہ عقد نکاح تو ایک مرد اور ایک عورت میں ہو رہا ہے تو ایک مذکر کا صیغہ ہونا چاہیے اور ایک مونث ‏‏کا۔ تو تو یاد رکھیں یہاں جو ضمیر ہے یقول کے اندر وہ متعاقد کو راجع ہے، عقد کرنے والا۔ اور عقد کرنے والا شخص ‏‏وہ مذکر بھی ہو سکتا ہے اور مونث بھی ہو سکتا ہے، تو وہ شخص متعاقد مراد ہے بھائی۔ جی، آگے دیکھیے: "لان هذا توکیل بال نکاح" اس لیے کیونکہ یہ توکیل بالنکاح ہے یعنی نکاح کا وکیل بنانا ہے۔ یعنی جو ‏‏پہلا صیغہ ہے اس کے اندر دوسرے کو نکاح کا وکیل بنانا ہے۔ "والواحد یتولی طرفی النکاح" اور ایک شخص جو ہے ‏‏نکاح کی دو طرف کا متولی ہو سکتا ہے۔ لفظوں پہ نظر رکھیں۔ "والواحد یتولی" اور ایک شخص جو ہے وہ متولی ہو سکتا ہے "طرفی النکاح" یہ اصل میں ہے ‏‏طرفین، دو طرف۔ طرفین تثنیہ ہے۔ اور یہ اس کی اضافت ہو رہی ہے النکاح لفظ کی طرف تو نون اضافت کی وجہ سے ‏‏گر گیا۔ تو "طرفی النکاح" نکاح کی دو طرف۔ نکاح کی دو طرف۔ "والواحد یتولی طرفی النکاح" اور ایک شخص نکاح کی دو طرف کا متولی ہو سکتا ہے۔ "علی ما نبینه ‏‏انشاء اللہ تعالی" اس وجہ سے جو ہم بیان کریں گے انشاء اللہ۔ یعنی آگے صاحب ہدایت فرما رہے ہیں آگے چل کر ہم اس کی ‏‏دلیل بیان کریں گے کہ ایک شخص نکاح کی دو جانب کا متولی ہو سکتا ہے۔ متولی جس کو ولایت حاصل ہو یعنی اختیار حاصل ہو ایک چیز کا اس کو کیا کہتے ہیں؟ متولی۔ صاحب ہدایت تو اس کو آگے بیان فرمائیں گے لیکن آپ یہاں پر اس کو سمجھ لیں اچھی طرح بھائی۔ بھائی دیکھو! ایک عقد بیع ہے اور ایک عقد نکاح ہے۔ نکاح کے اندر ایک شخص دونوں جانب کا متولی ہو سکتا ہے۔ دونوں جانب کا ذمہ دار ہو سکتا ہے، دونوں طرف سے اس کو ولایت حاصل ہو سکتی ہے۔ مثلاً آپ نکاح کرنا چاہتے ہیں، ‏‏آپ زید سے کہتے ہیں کہ میرا نکاح کروا دو فلاں جگہ پر اور وہ فلاں گھر والے بھی زید ہی کو کہتے ہیں کہ ہماری بیٹی ‏‏کا نکاح کروا دو فلاں سے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو دیکھو دیکھو مرد نے بھی ایک شخص کو وکیل بنا دیا اور ‏‏لڑکی والوں نے بھی اسی شخص کو کیا کر دیا؟ وکیل بنا دیا، تو ایک ہی وکیل ہو گیا دونوں طرف سے۔ اب یہ وکیل دو ‏‏گواہوں کو سامنے بٹھاتا ہے اور ان کے سامنے کہتا ہے کہ میں نے فلاں کا نکاح فلانی سے کر دیا۔ تو یاد رکھو اس صورت میں نکاح منعقد ہو جائے گا۔ یہ ایک ہی وکیل ہے دونوں طرف کا بھائی۔ ایک ہی شخص متولی ہو گیا دونوں طرف کا۔ تو اس کو ولایت حاصل ہے دونوں پر بھائی۔ ولایت کہتے ہیں کہ کسی پر ‏‏اختیار حاصل ہو کہ آپ کا تصرف اس پر نافذ ہو جائے، تو یہ جو وکیل نے کہا دو گواہوں کے سامنے کہ میں نے فلاں کا ‏‏نکاح فلانی سے کر دیا، یاد رکھو وکیل کا یہ قول دونوں پر نافذ ہو گیا۔ اس مرد کا اس عورت سے کیا ہو گیا؟ نکاح ہو گیا۔ اور خود بخود اس کا قول ان پر نافذ ہوا؟ یا انہوں نے اس کو وکیل بنایا تھا؟ انہوں نے اس کو یہ ولایت دی تھی، کوئی ‏‏شخص کسی دوسرے کا نکاح اس کی مرضی کے بغیر نہیں کر سکتا لیکن انہوں نے خود یہ اختیار اس کو دیا تھا کہ آپ ‏‏نکاح کروا دیں۔ تو دیکھو! یہ دونوں طرف نکاح کا متولی ہو گیا۔ جبکہ بیع وغیرہ میں ایک ہی شخص دونوں جانب کا ‏‏متولی نہیں ہو سکتا بھائی۔ بیچنے والا اور خریدنے والا دونوں الگ الگ افراد ہونے چاہئیں۔ تو نکاح کے اندر ایک شخص دونوں جانب کا متولی ہو سکتا ہے۔ جیسے ابھی نکاح کے اندر دیکھا آپ نے یہ جو دوسرے شخص نے زوجتک کا کہا یہ ایجاب اور قبول دونوں کے قائم مقام ‏‏ہے اس سے نکاح منعقد ہو گیا۔ اس کا یہ کلام بطور اصیل کے بھی ہوا اور بطور وکیل کے بھی ہوا تو اس سے عقد نکاح ‏‏منعقد ہو گیا۔ لیکن بیع کے اندر ایسا کیا جائے تو اس سے بیع منعقد نہیں ہو گی۔ مثلاً زید اور عمرو دونوں نے ایک ہی ‏‏شخص کو جو ہے وکیل بنا دیا۔ زید ایک چیز بیچنا چاہتا ہے اور عمرو اسی چیز کو خریدنا چاہتا ہے اور ایک ہی شخص ‏‏کو وکیل بنایا۔ اب وہ وکیل کہتا ہے کہ میں نے زید کی طرف سے یہ چیز عمرو کو بیچ دی اور پھر عمرو کی طرف سے ‏‏خود ہی بولتا ہے، کہتا ہے کہ میں نے عمرو کے لیے یہ چیز خرید لی اتنے پیسوں میں۔ تو فقہاء فرماتے ہیں کہ نہیں، اس ‏‏سے بیع منعقد نہیں ہو گی، بیع کے اندر عقد کرنے والے الگ الگ افراد ہونے چاہئیں، یعنی بائع کوئی اور شخص ہو اور ‏‏مشتری اور شخص ہونا چاہیے، ایک ہی شخص دونوں کا وکیل بن کر یہ عقد نہیں کر سکتا۔ بیع کے اندر ایک شخص ‏‏دونوں جانب کا متولی نہیں ہو سکتا، اس کی وجہ کیا ہے؟ وجہ یہ کہ یہ ایک ہے عقد نکاح اور ایک ہے عقد بیع، دونوں ‏‏کے اندر فرق ہے۔ فرق یہ ہے کہ عقد بیع کے اندر حقوق بیع کا تعلق عقد کرنے والوں سے ہوتا ہے۔ کیا؟ عقد بیع کے اندر دو آدمی آپس میں خرید و فروخت والا معاملہ کرتے ہیں، تو یہ جو عقد بیع ہے اس کے حقوق کا تعلق ‏‏وہ جن دونوں نے عقد کیا ہے چاہے وہ موکل ہیں چاہے وہ وکیل ہیں، تو بہرحال جنہوں نے بھی عقد کیا ہے یعنی جو بھی ‏‏متعاقدین ہیں حقوق کا تعلق بھی انہی سے ہو گا۔ جبکہ عقد نکاح کے اندر حقوق عقد کا تعلق وکیل سے نہیں ہوتا بلکہ موکل ‏‏سے ہوتا ہے۔ توجہ ہے؟ ایک کیا ہے عقد بیع اور ایک کیا ہے عقد نکاح، یہ دو عقد ہیں لیکن دونوں میں فرق ہے۔ فرق یہ ہے کہ بیع کا ‏‏جو عقد ہوتا ہے بیع کا جو معاملہ اور معاہدہ ہوتا ہے دو آدمیوں کے درمیان یعنی خرید و فروخت ہوتی ہے، اس بیع کی ‏‏وجہ سے جو حقوق ملتے ہیں وہ حقوق عقد کرنے والے کو ملتے ہیں ان کے موکل کو حقوق نہیں ملتے۔ مثلاً دو آدمیوں نے آپس میں ایک گاڑی کی خرید و فروخت کی، ایک شخص نے گاڑی بیچی اور دوسرے نے گاڑی خرید ‏‏لی، دونوں کے درمیان عقد ہو گیا ایجاب و قبول ہو گیا۔ اب خریدار کا حق کیا ہے؟ کہ وہ گاڑی کا مطالبہ کرے گا کہ ‏‏مجھے گاڑی دے دی جائے میں اس کا مالک بن چکا ہوں۔ اور بیچنے والا اس کا حق ہے کہ وہ ثمن کا اور پیسوں کا ‏‏مطالبہ کرے گا کہ گاڑی کے پیسے میرے حوالے کرو پھر میں گاڑی آپ کے حوالے کروں گا۔ تو دیکھو خریدار کا حق ‏‏کیا ہوا؟ مبیع کا مطالبہ کرے گا۔ اور بیچنے والے کا حق کیا ہوا؟ کہ وہ ثمن اور پیسوں کا مطالبہ کرے گا۔ یاد رکھو یہ جو ‏‏حق ہے مبیع اور ثمن کے مطالبے کا، یہ عقد کرنے والوں کو یہ حق ملے گا ان کے موکل کو یہ حق نہیں ہے۔ دو وکیلوں ‏‏نے آپس میں کیا کیا ہے؟ بیع و شراء کی ہے، تو بیچنے والا ثمن کا مطالبہ کرے گا اور خریدنے والا مبیع کا مطالبہ کرے ‏‏گا، یہ دونوں تو ایک دوسرے سے یہ مطالبہ کر سکتے ہیں لیکن ان کے موکل آ کر مطالبہ نہیں کر سکتے۔ خریدار کا ‏‏موکل آ جائے اور آ کر کہے گاڑی میرے حوالے کرو میرے وکیل نے آپ سے گاڑی خریدی تھی، تو بیچنے والا کہے گا ‏‏بھائی میرا معاملہ تو آپ کے وکیل کے ساتھ ہوا ہے آپ مجھ سے گاڑی کا مطالبہ نہیں کر سکتے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ آپ ‏‏عام معاملات میں بھی دیکھ لیں دنیا میں اسی طرح ہوتا ہے، جن دو آدمیوں کے درمیان عقد ہوتا ہے وہی ایک دوسرے سے ‏‏مطالبہ کرتے ہیں، اگر موکل بیچ میں آ کر مطالبہ کرے تو عقد کرنے والا اس کو کیا جواب دیتا ہے؟ کہ میرے ساتھ تو آپ ‏‏کا معاملہ نہیں ہے، میرے ساتھ تو جس کا معاملہ ہوا ہے وہی آ کر میرے سے مطالبہ کر سکتا ہے آپ میرے سے مطالبہ ‏‏نہیں کر سکتے۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو معلوم ہوا عقد بیع کے اندر حقوق عقد جو ہوتے ہیں، جو بیع کی وجہ سے جو حقوق ملتے ہیں وہ عقد کرنے والوں کو ‏‏ملتے ہیں، ان کے موکل کو حقوق نہیں ملتے۔ تو اسی بات کو مختصر لفظوں میں یوں کہیں گے کہ بیع کے اندر حقوق بیع کا تعلق متعاقدین سے ہوتا ہے، یعنی وہ جو دو ‏‏عقد کرنے والے ہیں۔ کیا کہا میں نے؟ کہ بیع کے اندر حقوق بیع کا تعلق متعاقدین سے ہوتا ہے۔ ان کے موکل سے اس کا تعلق نہیں ہوتا۔ حقوق عقد کا تعلق متعاقدین سے ہوتا ہے، کس سے ہوتا ہے؟ متعاقدین سے۔ ایک ‏‏مطالبہ کرنے والا ہے، یعنی ایک ہے مطا، مثلاً خریدار کیا کرے گا؟ خریدار مبیع کا مطالبہ کرے گا، تو خریدار بنے گا طالب اس میں فاعل ہے مطالبہ کرنے والا، اور جس جو بیچنے والا ہے ‏‏وہ کیا ہو گا؟ مطالب ہو گا اس سے مطالبہ کرے گا۔ خریدار اس بیچنے والے سے مطالبہ کرے گا کہ مبیعہ میرے حوالے ‏‏کرو، تو خریدار کیا ہوا؟ طالب۔ اور بیچنے والا کیا ہوا؟ مطالب۔ اور یاد رکھو طالب اور ذات ہوتی ہے اور مطالب اور ذات ‏‏ہوتی ہے، یہ نہیں ہو سکتا ایک ہی شخص طالب بھی بن جائے اور مطالب بھی بن جائے۔ آپ ایک چیز کا مطالبہ کرتے ہیں ‏‏کہ یہ چیز میرے حوالے کی جائے، تو ظاہر سی بات ہے یہ مطالبہ آپ اپنے آپ سے تو نہیں کریں گے، یہ تو کسی اور ‏‏سے کریں گے۔ تو آپ جب طالب ہیں تو مطالب کوئی اور ہو گا۔ طالب اور مطالب ایک شخص نہیں ہو سکتے، یہ اسی طرح ‏‏ہے جیسے مالک اور مملوک، مالک اور ہوتا ہے اور مملوک اور ہوتا ہے، ایک ہی شخص مالک بھی ہے اور مملوک بھی ‏‏ہے ایسا نہیں ہو سکتا۔ یہ اسی طرح ہے جیسے استاد اور شاگرد، ایک ہی شخص استاد بھی ہو اور شاگرد بھی ہو ایک ہی ‏‏حیثیت سے، یہ نہیں ہو سکتا بھائی۔ مثلاً ایک شخص کہتا ہے میں استاد ہوں، تو اس سے پوچھا جاتا ہے بھائی آپ کا شاگرد ‏‏کون ہے؟ وہ کہتا ہے میں خود ہی شاگرد ہوں۔ تو بھائی شاگرد آپ سے الگ ہونا چاہیے، شاگرد اور استاد ایک ہی ذات نہیں ‏‏ہو سکتی۔ ایک ہی ذات نہیں ہو سکتی، اسی طرح مالک اور مملوک ایک ذات نہیں ہو سکتی ورنہ تو کیا لازم آئے گا؟ اجتماع ‏‏متنافیین، ایسی دو چیزیں جو جمع نہیں ہو سکتیں ان کا جمع کرنا لازم آئے گا بھائی۔ تو تو طالب یعنی مطالبہ کرنے والا اور شخص ہو گا اور مطالب اس میں مفعول یعنی جس سے مطالبہ کیا جائے وہ اور ‏‏شخص ہو گا، یہ دونوں ایک ہی شخص نہیں ہو سکتے ایک ہی حیثیت سے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو عقد بیع کے اندر جو مشتری ہے خریدار ہے وہ مبیع کا مطالبہ کرتا ہے تو وہ ہوا طالب، اور بیچنے والا کیا ہوا؟ ‏‏مطالب۔ اور اسی طرح دوسری طرف سے دیکھیں تو بیچنے والا وہ پیسوں کا مطالبہ کرے گا، وہ ہوا طالب اور جو ‏‏خریدنے والا ہے وہ کیا ہوا؟ مطالب۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ہمیشہ طالب اور ذات ہو گی اور مطالب اور ذات ہو گی، ایک ‏‏ہی شخص طالب اور مطالب نہیں ہو سکتا بھائی۔ تو اس لیے عقد بیع کے اندر ایک شخص دونوں جانب کا متولی نہیں ہو ‏‏سکتا اس لیے کیونکہ اگر آپ یہ کہیں گے کہ ایک ہی شخص دونوں جانب کا متولی ہو سکتا ہے، تو پھر وہی شخص طالب ‏‏بھی بن جائے گا اور وہی شخص مطالب بھی بن جائے گا، اور ایک ہی شخص تو طالب اور مطالب نہیں ہو سکتا۔ بات بھی ‏‏سمجھ میں آئی کہ نہیں؟ کیا ہوا حاصل کلام؟ کہ بیع کے اندر حقوق عقد کا تعلق کن سے ہوتا ہے؟ متعاقدین سے۔ کس سے؟ ‏‏متعاقدین سے یعنی وکیل سے تعلق ہو گا، موکل سے حقوق کا تعلق نہیں ہو گا۔ اور کیا حقوق ہوں گے بیع کے؟ کہ مشتری ‏‏جو ہے وہ مبیع کا طالب بنے گا اور بائع کیا ہے؟ مطالب ہے۔ اور اسی طرح دوسری طرف سے دیکھیں تو بائع کیا ہے؟ ‏‏مطالب ہے، وہ ثمن کا، پیسوں کا مطالبہ کرے گا اور کس سے کرے گا؟ مشتری سے، تو مشتری مطالب بنے گا۔ تو مطالب ‏‏ایک شخص ہو گا اور مطالب دوسرا شخص ہو گا۔ ایسا نہیں ہو سکتا ایک ہی شخص مطالب بھی بن جائے اور مطالب بھی ‏‏بن جائے۔ یہ تو اجتماعِ متنافئین ہے۔ دو چیزیں جو ایک دوسرے کے مقابل ہیں ان کو آپ اکٹھا کر دیں ایسا نہیں ہو سکتا ‏‏بھائی۔ یہ اسی طرح ہے جیسے کہ ایک ہی شخص کے بارے میں آپ کہیں یہ مالک ہے اور یہی کیا ہے؟ مملوک ہے۔ بات ‏‏سمجھ میں آ گئی؟ حالانکہ مالک وہ تو صاحبِ اختیار ہوتا ہے، اس کا اختیار ہوتا ہے وہ اپنی مرضی سے جو چاہتا، جس ‏‏قسم کا تصرف چاہے کر سکتا ہے۔ اور جبکہ اس کا غلام جو ہے وہ تو بے اختیار ہے اس کے پاس تصرف کا حق نہیں ‏‏ہے۔ تو اگر آپ کہیں کہ یہی شخص مالک بھی ہے تو اس سے پتہ چلا کہ اس کو تصرف کرنے کا اختیار ہے۔ اور اگر آپ ‏‏کہیں یہی شخص غلام بھی ہے، تو پھر معلوم ہوا اس کے پاس تو کوئی تصرف کرنے کا اختیار نہیں۔ تو یہ دونوں چیزیں ‏‏ایک شخص میں جمع نہیں ہو سکتیں بھائی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اسی طرح عقدِ بیع کے اندر ایک ہی شخص مطالب ‏‏بھی ہو اور مطالب بھی ہو جائے یہ نہیں ہو سکتا۔ اس لیے دونوں جانب کا متولی ایک شخص نہیں ہو سکتا، دو الگ الگ ‏‏شخص ہونے چاہئیں۔ بائع کا وکیل اور ہونا چاہیے اور مشتری کا وکیل اور ہونا چاہیے۔ یعنی یوں کہیں عقد کرنے والے دو ‏‏افراد ہونے چاہئیں۔ عقد کرنے والے دو افراد ہونے چاہئیں۔ جبکہ اس کے مقابلے میں جو نکاح ہے، نکاح کے اندر حقوقِ نکاح کا تعلق وکیل سے نہیں ہوتا بلکہ موکل سے ہوتا ہے۔ ‏‏کس سے ہوتا ہے؟ موکل سے۔ مطلب ایک مرد اور ایک عورت کا نکاح کروا دیا دو وکیلوں نے۔ کس نے کروایا؟ دو ‏‏وکیلوں نے۔ تو اب مرد جو ہے، عورت کے وکیل سے یہ مطالبہ نہیں کر سکتا کہ میرا نکاح ہو گیا ہے، اب میری بیوی ‏‏میرے حوالے کرو۔ مرد جو ہے وہ وکیل سے جس نے نکاح کروایا ہے، مرد اس عورت کے وکیل کو نہیں کہہ سکتا کہ ‏‏میری بیوی کو میرے حوالے کرو۔ اور اسی طرح وہ جو عورت ہے وہ جو آدمی کی طرف سے جو وکیل تھا اس سے ‏‏مطالبہ نہیں کر سکتی کہ میرا نکاح کروا دیا ہے، اب لاؤ میرا مہر میرے حوالے کرو۔ عورت اس وکیل سے مطالبہ نہیں ‏‏کر سکتی۔ یہ جو نکاح کے اندر وکیل ہوتے ہیں، ان کی حیثیت صرف پیغام رساں کی ہوتی ہے۔ یہ صرف سفیر ہوتے ہیں۔ ‏‏کیا ہوتے ہیں؟ سفیر۔ سفیر کا معنی ہے پیغام پہنچانے والا۔ تو یہ جو وکیل ہوتے ہیں نکاح کے اندر، ان کی حیثیت محض ‏‏سفیر اور پیغام پہنچانے والے کی ہوتی ہے۔ انہوں نے پیغام پہنچایا اور دونوں کا کیا کروا دیا؟ نکاح کروا دیا۔ اور اس نکاح ‏‏کے حقوق کا تعلق وکیلوں سے نہیں، نکاح کروانے والے وکیلوں سے مطالبہ نہیں کیا جائے گا بلکہ مطالبہ موکل سے کیا ‏‏جائے گا۔ کس سے کیا جائے گا؟ موکل سے۔ وہ آدمی جس نے وکیل بھیجا تھا اپنے نکاح کے لیے اس آدمی سے عورت ‏‏مطالبہ کر سکتی ہے، "میرا مہر مجھے دو"۔ اس سے وہ مطالبہ کر سکتی ہے۔ اسی طرح یہ مرد جو ہے وہ اس عورت ‏‏کے وکیل سے مطالبہ نہیں کر سکتا کہ میری بیوی میرے حوالے کرو، بلکہ اس کے گھر والوں سے اب مطالبہ کرے گا ‏‏جنہوں نے اس کو وکیل بنا کر بھیجا تھا کہ میری بیوی میرے حوالے کرو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چنانچہ آپ اسی لیے دیکھتے ہیں کہ مثلاً میں نے آپ کو وکیل بنایا کہ جا کر میرے لیے گاڑی خرید لاؤ۔ تو آپ جا کر ‏‏گاڑی خریدتے ہوئے موکل کا نام ذکر کرتے ہیں یا اس کا نام ذکر نہیں کیا جاتا؟ اس کا نام نہیں ذکر کرتے، آپ جا کر ‏‏گاڑی خرید لیتے ہیں اور لا کر موکل کے حوالے کر دیتے ہیں۔ تو بیع کے اندر موکل کا نام ذکر کیا ہی نہیں جاتا کیونکہ ‏‏حقوق کا تعلق اس سے ہے ہی نہیں۔ لیکن نکاح کے اندر موکل کا نام ذکر کیا جاتا ہے کیونکہ حقوق کا تعلق اس سے ہے۔ ‏‏چنانچہ وکیل آ کر یہ نہیں کہتا کہ "میں اپنا نکاح کرتا ہوں" بلکہ کیا کہے گا؟ "زید نے مجھے بھیجا ہے، میں زید کا نکاح ‏‏کرتا ہوں"۔ اور وہ لڑکی والوں کی طرف سے جو وکیل ہے، وہ اس عورت کا نام لے گا کہ "میں اس کا نکاح کرواتا ہوں ‏‏اس کے ساتھ"۔ تو دونوں کا موکلوں کا باقاعدہ وہ نام لیتے ہیں کہ اس مرد کا اس عورت کے ساتھ نکاح کیا جا رہا ہے۔ ‏‏یعنی وہ صرف پیغام پہنچا رہے ہیں حقوق کا تعلق ان سے نہیں ہے۔ مہر کا یا بیوی کا مطالبہ وکیلوں سے یہاں نہیں ہو ‏‏سکتا۔ جبکہ بیع کے اندر حقوقِ عقد کا تعلق جو ہے وکیلوں سے ہوتا ہے، وکیل سے ہی ثمن کا بھی مطالبہ ہو گا اور وکیل ‏‏سے ہی مبیع کا مطالبہ ہو گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو معلوم ہوا نکاح کے اندر حقوقِ عقد کا تعلق وکیل سے نہیں ہوتا۔ وکیل نہ مطالب ہے اور نہ مطالب ہے۔ اگر مطالب اور ‏‏مطالب ہوتا، تو دو وکیلوں کا ہونا ضروری تھا۔ دو آدمیوں کا ہونا ضروری تھا۔ لیکن جب مطالب اور مطالب یہ ہیں ہی ‏‏نہیں، تو پھر ایک ہی آدمی دونوں جانب کا متولی ہو سکتا ہے نکاح میں۔ بات سمجھ میں آئی کہ نہیں؟ حاصلِ کلام کیا ہوا؟ ‏‏کہ نکاح کے اندر ایک ہی شخص دونوں جانب کا متولی ہو سکتا ہے۔ وجہ یہ کہ نکاح کے اندر حقوقِ نکاح کا تعلق وکیل ‏‏سے نہیں ہوتا، بلکہ کس سے ہوتا ہے؟ موکل سے ہوتا ہے۔ تو وکیل جو ہے وہ مطالب اور مطالب بنتا ہی نہیں ہے۔ جبکہ ‏‏بیع کے اندر حقوقِ بیع کا تعلق کس سے ہوتا ہے؟ عقد کرنے والوں سے۔ اگر وہ وکیل ہیں، تو مطالب اور مطالب بھی وہی ‏‏بنیں گے۔ تو اگر ایک ہی شخص دونوں جانب سے وکیل بن جائے گا، تو مطالب اور مطالب کا جمع ہونا لازم آئے گا۔ ایک ‏‏ہی شخص کیا بن جائے گا مطالب بھی اور مطالب بھی اور یہ تو اجتماعِ متنافئین ہے۔ یہ تو اسی طرح ہے جیسے ایک ہی ‏‏شخص مالک بھی ہے اور مملوک بھی ہے بھائی۔ مثلاً کہا جائے کہ یہ شخص مالک ہے، بھائی کس چیز کا مالک ہے؟ یہ ‏‏اپنا مالک ہے بھائی، مالک بھی یہی ہے اور مملوک۔ یہ نہیں ہو سکتا کیونکہ مالک جو ہے وہ صاحبِ تصرف ہوتا ہے ‏‏اور مملوک جو ہے وہ صاحبِ تصرف نہیں ہوتا اس کے پاس کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ تو جیسے ایک ہی شخص مالک اور ‏‏مملوک نہیں ہو سکتا، اسی طرح بیع کے اندر بھی ایک ہی شخص جو ہے وہ مطالب اور مطالب نہیں ہو سکتا۔ تو ایک ‏‏شخص بیع کی دونوں جانب کا متولی نہیں ہو سکتا، وہ دو الگ الگ افراد ہونے چاہئیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ مسئلہ حل ہو گیا اچھی طرح؟ تو یہ معنی ہے "وَالْوَاحِدُ يَتَوَلَّى طَرَفَيِ النِّكَاحِ" اور ایک شخص جو ہے نکاح کی دونوں طرف کا متولی ہو سکتا ہے، نکاح ‏‏کی دونوں طرف کا ذمہ دار ہو سکتا ہے۔ "عَلَى مَا نُبَيِّنُهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى" اس دلیل کی وجہ سے جو ہم بیان کریں گے انشاء ‏‏اللہ تعالی۔ "عَلَى مَا نُبَيِّنُهُ" یاد رکھو "عَلَى" کبھی علت بیان کرنے کے لیے آتا ہے۔ یہاں "عَلَى" کس لیے ہے؟ علت بیان ‏‏کرنے کے لیے کہ "وَالْوَاحِدُ يَتَوَلَّى طَرَفَيِ النِّكَاحِ" ایک شخص نکاح کی دونوں جانب کا متولی ہو سکتا ہے "عَلَى مَا نُبَيِّنُهُ" ‏‏اس علت کی وجہ سے، اس سبب کی وجہ سے "نُبَيِّنُهُ" جس کو ہم بیان کریں گے آگے چل کر انشاء اللہ۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا؟ چلیے بس بھائی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔