درس نمبر۔88
حسن التخلص هو الانتقال مما افتتح به الكلام الى المقصود مع رعاية المناسبة بينهما، كقوله:
دعت النوى بفراقهم فتشتتوا
وقضى الزمان بينهم فتبددوا
دهر ذميم الحالتين فما به
شيء سوى جود ابن ارتق يحمد
بھئی گذشتہ سبق میں میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ کلام کا آغاز اچھا ہونا چاہیے بھئی۔ حسنِ ابتداء میں جیسے ذکر کیا گیا، آپ کوئی بات کرنے لگیں، کوئی خطبہ دے رہے ہیں، کوئی قصیدہ کہہ رہے ہیں وغیرہ، تو ہمیشہ کلام کا آغاز اچھے، پیارے، دلنشیں اور اچھے معنیٰ والے الفاظ کے ساتھ ہونا چاہیے، کیونکہ اگر آپ کے کلام کا آغاز اچھا ہوا تو لوگ آپ کے کلام کی طرف متوجہ ہو جائیں گے اور آپ کا باقی کلام بھی اچھے طریقے سے سنیں گے توجہ کے ساتھ، اور اگر کلام کا آغاز ہی اچھا نہ ہوا تو پھر وہ آپ کے باقی کلام کی طرف بھی توجہ نہیں دیں گے۔ تو خصوصاً کلام کا آغاز خوبصورت ہونا چاہیے۔
اس کے بعد یہ حسنِ تخلص آیا بھئی۔ حسنِ تخلص یہ ہے کہ کلام کا آغاز جس بات سے کیا ہے اس سے اپنے مقصود کی طرف انسان منتقل ہو اور اس آغاز اور مقصود میں مناسبت کا لحاظ رکھتے ہوئے۔ بھئی عربوں کا عموماً طریقہ یہ تھا کہ وہ قصائد وغیرہ کہتے تھے تو آغاز میں اپنے جوانی کے دنوں کا، عورتوں کے حسن و جمال کا، اپنے عشق و محبت کی باتیں ذکر کرتے تھے، کیونکہ لوگ ان باتوں کو پسند کرتے ہیں، ان کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں، تو شروع میں ان چیزوں کو ذکر کرتے اور پھر اس سے کس کی طرف منتقل ہوتے آہستہ آہستہ؟ اپنے مقصود کی طرف۔ یا اسی طرح شروع کے اندر فخر کی باتیں کرتے اور اپنے کارنامے وغیرہ یا کارنامے وغیرہ بیان کرتے اور پھر اس سے اپنے مقصود کی طرف منتقل ہو جاتے۔
تو کلام کے آغاز میں جو بھی بہرحال بات کی جائے، چاہے حسن و عشق کا ذکر کیا جائے، چاہے اس کے اندر فخر والی باتیں کی جائیں، چاہے اس کے اندر کوئی شکایت وغیرہ کی جائے، یعنی جس قسم کی بات بھی آغاز میں کریں، پھر اس سے جب آپ اپنے مقصود کی طرف منتقل ہوں تو درمیان میں کچھ مناسبت کا لحاظ رکھا جائے بھئی۔ یہ نہیں کہ انسان ایک دم اس بات کو چھوڑ کر دوسری بات شروع کر دے، یہ مناسب نہیں ہے بھئی۔ تو یہ جو مناسبت کا لحاظ رکھتے ہوئے انسان آغازِ کلام سے کس کی طرف منتقل ہو؟ اپنے مقصود کی طرف، اور کس طریقے سے؟ مناسبت کا لحاظ رکھتے ہوئے ان میں کوئی مناسبت بناتے ہوئے، تو اس کو کہتے ہیں حسنِ تخلص بھئی، کیا کہتے ہیں؟ حسنِ تخلص۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا بھئی؟
تو یہ جو انتقال جو ہے کلام کے شروع سے کس کی طرف؟ مقصود کی طرف، یہ بھی اچھے انداز میں ہونا چاہیے بھئی۔ تبھی سننے والوں کی توجہ برقرار رہے گی۔ اگر اچھے طریقے سے نہیں ہوگا، ایک دم آپ ایک بات چھوڑ کر پھر اپنا مقصود شروع کر دیتے ہیں، تو وہ ان کو یقیناً ان کو اچھا اثر ان پر نہیں ڈالے گا اور پھر یقیناً وہ آپ کے کلام کی طرف زیادہ توجہ نہیں کریں گے بھئی۔ تو یہ ہے حسنِ تخلص بھئی۔
دیکھیے بھئی کتاب پر: حسن التخلص هو الانتقال مما افتتح به الكلام، وہ منتقل ہونا ہے اس چیز سے جس سے کلام کا آغاز کیا گیا ہے، جس سے کلام کا افتتاح کیا گیا ہے، اس سے منتقل ہونا الى المقصود کس کی طرف؟ مقصود کی طرف، مع رعاية المناسبة بينهما ساتھ اس میں مناسبت کی رعایت رکھتے ہوئے بھئی، یعنی اس میں مناسبت کا لحاظ رکھتے ہوئے، كقوله جیسے کہ ایک شاعر کا قول ہے:
دعت النوى بفراقهم فتشتتوا
وقضى الزمان بينهم فتبددوا
دعت النوى، دعا یدعو کے معنیٰ طلب کرنا، دعوت دینا، تقاضا کرنا، اور النوى، نوا کہتے ہیں جدائی اور دوری کو، اسی طرح سفر کو بھی کہتے ہیں۔ دعت النوى، تقاضا کیا سفر نے بفراقهم ان کی جدائی کا۔ سفر نے کس چیز کا تقاضا کیا؟ ان کی جدائی کا۔ بھئی جب انسان ایک شخص سفر پر نکلتا ہے ایک طرف، دوسرا دوسری طرف نکلتا ہے، تو یقیناً کیا ہوں گے؟ ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں گے۔ تو یہی بات ذکر کر رہے ہیں کہ سفر نے ان کی جدائی کا تقاضا کیا۔ دعت النوى بفراقهم، تقاضا کیا سفر نے ان کی جدائی کا، فتشتتوا، تشتت کے معنیٰ جدا ہونے کے، بچھڑ جانے کے، فتشتتوا تو وہ بچھڑ گئے۔
وقضى الزمان بينهم، اور فیصلہ کر دیا زمانے نے ان کے درمیان، فتبددوا، تبدد کے معنیٰ بھی جدا ہونے کے، بچھڑنے کے ہیں، تو وہ جدا ہو گئے۔ دهر ذميم الحالتين، زمانہ جو ہے ذميم الحالتين دو بری حالتوں والا ہے۔ فما به شيء، پس نہیں ہے اس زمانے کے ساتھ کوئی چیز، یعنی اس کے پاس کوئی چیز نہیں ہے، سوى جود ابن ارتق، سوائے ابنِ ارتق کی سخاوت کے، زمانے کے پاس ابنِ ارتق کی سخاوت کے علاوہ اور کوئی ایسی چیز نہیں ہے يحمد جس کی کیا کی جائے؟ تعریف کی جائے، تعریف کی جائے۔
معنیٰ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو دیکھیے شاعر یہاں پر آغاز کے اندر شکایت کرتا ہے زمانے کی بھئی، کلام کا آغاز اس نے کس طرح کیا؟ زمانے کی شکایت کرتے ہوئے، اور وہ جو احباء آپس میں ایک دوسرے سے بچھڑ گئے تھے، جدا ہو گئے تھے، اس کا تذکرہ کرتا ہے، اور یہ قصیدہ اس نے کہا ہے ابنِ ارتق جو ہے، ابنِ ارتق یہ کوئی سردار یا بادشاہ ہوگا، اس کی مدح اور تعریف کرنا چاہتا ہے، اس کی سخاوت بیان کرنا چاہتا ہے، تو قصیدہ اس لیے کہا ہے۔ تو شروع میں زمانے کی شکایت وغیرہ ذکر کرنے کے بعد اب وہ منتقل ہو رہا ہے کس کی طرف؟ اپنے مقصود کی طرف، اور بڑی مناسبت کے ساتھ منتقل ہو رہا ہے، مناسبت کا اس نے لحاظ رکھا، کس طرح کہا؟ فوراً اس کی سخاوت کی تعریف نہیں کی، بلکہ کیا کہا؟ زمانہ دو بری حالتوں والا ہے، اس کے پاس سوائے ابنِ ارتق کی سخاوت کے اور کوئی اچھی چیز نہیں ہے۔ تو دیکھو اس کے ساتھ جوڑ دیا کہ زمانے کے پاس اس کی سخاوت کے علاوہ کوئی اور اچھی چیز نہیں ہے، اور پھر آگے اس کی سخاوت بیان شروع سخاوت کو بیان کرنا وہ شروع کرے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو کہتا ہے:
دعت النوى بفراقهم فتشتتوا
وقضى الزمان بينهم فتبددوا
دهر ذميم الحالتين فما به
شيء سوى جود ابن ارتق يحمد
دعت النوى تقاضا کیا سفر نے ان کی جدائی کا، فتشتتوا تو وہ بچھڑ گئے، وقضى الزمان بينهم اور زمانے نے فیصلہ کر دیا ان کے درمیان، فتبددوا تو وہ جدا ہو گئے۔ زمانہ ذميم الحالتين دو بری حالتوں والا ہے، فما به شيء پس نہیں ہے اس کے پاس کوئی چیز، سوى جود ابن ارتق يحمد سوائے ابنِ ارتق کی سخاوت کے کہ اس کی تعریف کی جائے، یعنی اس کی سخاوت کے علاوہ اس کے پاس اور کوئی ایسی چیز نہیں جس کی تعریف کی جائے۔
اگلی صنعت دیکھیے بھئی: براعة الطلب بھئی۔ براعة الطلب هو ان يشير الطالب الى ما في نفسه دون ان يصرح في الطلب۔ براعتِ طلب یہ ہے، براعتِ طلب یعنی طلب کا بلند ہونا، اعلیٰ ہونا، دوسری طلبوں پر فائق ہونا۔ وہ یہ ایک تو یہ ہے انسان صراحتاً اپنی ضرورت دوسرے کے سامنے بیان کرے، کیا کرے؟ اپنی ضرورت صاف لفظوں میں اس کے سامنے ذکر کرے، اور ایک یہ کہ اپنی حاجت کی طرف اشارہ کر دے۔ اچھا طریقہ یہ ہے بھئی، کیا کرے؟ اپنی حاجت کی طرف ہلکے لفظوں کے ساتھ اشارہ کر دے، یہ ہے براعتِ طلب۔
دیکھیے یہی بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: براعة الطلب هو ان يشير الطالب، براعتِ طلب یہ ہے کہ اشارہ کرے طلب کرنے والا الى ما في نفسه اس چیز کی طرف جو اس کے نفس میں ہے، جو اس کے دل میں ہے، دون ان يصرح في الطلب بغیر اس کے کہ وہ تصریح کرے طلب میں، طلب میں وہ صراحت نہیں کرتا، صاف لفظوں میں طلب نہیں کرتا، کوئی چیز نہیں مانگتا، كما في قوله جیسے کہ شاعر جیسے کہ شاعر کے اس قول کے اندر ہے:
وفي النفس حاجات وفيك فطانة
سكوتي كلام عندها وخطاب
شاعر کہتا ہے، کسی کی تعریف کر رہا ہے بادشاہ یا سردار وغیرہ کی اور پھر اس کے سامنے کہتا ہے: وفي النفس حاجات، اور نفس میں، دل میں حاجاتٌ حاجتیں ہیں، ضرورتیں ہیں، وفيك فطانة، اور آپ میں سمجھداری ہے، ذہانت ہے، آپ میں کیا ہے؟ ذہانت ہے۔ سكوتي كلام عندها، میری خاموشی بھی کلام ہے عندها ای عند الفطانة، اس سمجھداری اور اس ذہانت کے ہوتے ہوئے میرا خاموش رہنا بھی کیا ہے؟ کلام ہے، وخطاب اور خطاب ہے۔
تو دیکھو اب طلب کر رہا ہے اور کتنے لطیف انداز میں اس نے طلب کی بھئی، کتنے لطیف انداز میں اپنی حاجات پیش کر دیں اور بادشاہ سے مدد کا کہا کہ سمجھ میں آیا بھئی؟ کتنے لطیف انداز میں کیا کہتا ہے کہ میرے دل میں حاجتیں ہیں اور آپ میں ذہانت ہے، اور اس ذہانت کے ہوتے ہوئے اتنی عظیم ذہانت کہ یہاں اب اگر میں خاموش بھی رہوں تو میری خاموشی بھی کس کی طرح ہے؟ کلام اور خطاب ہی کی طرح ہے، خطاب کی طرح ہے۔ تو دیکھیے اشارہ کیا، باقی ذکر نہیں کیا ان کو صریح لفظوں کے ساتھ بھئی، صریح لفظوں کے ساتھ۔ تو اشارہ کر دیا کہ آپ ذہین آدمی ہیں، میں خاموش بھی رہوں آپ خود ہی سمجھ جائیں گے میری ضرورتوں کو اور میری حاجتوں کو۔
جی آگے دیکھیے: حسن الانتهاء، حسن الانتهاء بھئی۔ بھئی یہ تیسرا مقام آیا۔ بھئی میں نے آپ کو بتلایا کہ کلام جب بھی کریں خصوصاً تین مواقع پر، تین مواقع پر اس میں اس کا خصوصاً خیال رکھا جائے اس میں۔ ایک تو آغاز اچھے طریقے سے اچھے لفظوں سے ہو تاکہ سننے والے متوجہ ہو جائیں، پھر اس کے بعد جب مقصود کی طرف منتقل ہوں تو مناسبت کا لحاظ رکھتے ہوئے منتقل ہوں بھئی، بر ایک دم منتقل نہ ہوں، تو اس پر اس کا بھی خصوصاً خیال رکھا جائے، اور پھر آخر میں انتہا اچھی ہونی چاہیے بھئی۔
اگر آپ کے کلام کی انتہا اچھی ہوئی، آپ خوبصورت الفاظ لے کر آئے، دلنشیں کلام لے کر آئے، جو جس کی بناوٹ بڑی اچھی ہے، کسی قسم کے اس میں خرابی نہیں ہے اور معنیٰ وغیرہ درست ہے، تو اب آپ کے کلام کا تا دیر ان لوگوں پر اثر باقی رہے گا، اور اگر آپ کا باقی سارا کلام اچھا ہوا لیکن انتہا جو ہوئی، اختتام جو ہوا خراب ہوا، تو وہ جو پچھلا اچھا اثر ہے وہ بھی ختم ہو جائے گا بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو لہٰذا اختتام بھی کیا ہونا چاہیے؟ اچھے لفظوں سے ہونا چاہیے، اور پھر اس اختتام کے اندر اگر اپنے کلام کے ختم ہونے کی طرف بھی اشارہ کر دیا جائے تو اس کو کہتے ہیں براعة المقطع، کیا کہتے ہیں؟ براعة المقطع۔ مقطع کہتے ہیں اختتام کو، اسی طرح کلام کا بھی جو اختتام ہے اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ مقطع۔ تو براعة المقطع، اختتام کا اعلیٰ ہونا، اختتام کا فائق ہونا، تو ایسا اختتام کرنا کلام کا کہ سننے والے کو پتہ چل جائے کہ اب کلام ختم ہو گیا تاکہ وہ پھر مزید کلام کا منتظر ہی نہ رہے بھئی، مزید کلام کا منتظر ہی نہ رہے۔
تو جیسے شروع کے اندر براعة الاستہلال تھا، یہاں پر کیا ہے؟ براعة المقطع ہے کہ ایسے لفظ لانا کلام میں آخر میں جس سے سننے والوں کو بھی پتہ چل جائے کہ اب کلام کا اختتام ہو رہا ہے، اب آگے مزید کلام نہیں ہوگا۔
تو کہتے ہیں: حسن الانتهاء، انتہا کا اچھا ہونا، هو ان يجعل اخر الكلام عذب اللفظ حسن السبك صحيح المعنى، وہ یہ ہے کہ کر دیا جائے کلام کے آخر کو عذب اللفظ شیریں لفظوں والا، حسن السبك، حسن، یہ حسن نہیں حسن لفظ ہے، سبک میں بھی با ساکن ہے بھئی، حسن السبك۔ سبک کا کیا معنیٰ بھئی؟ بناوٹ، ہاں، سبکٌ کا معنیٰ ہے بناوٹ۔ تو حسن السبك، اچھی بناوٹ والا ہو، صحيح المعنى، صحیح معنیٰ والا ہو، فإن اشتمل على ما يشعر بالانتهاء سمي براعة المقطع، پس اگر وہ مشتمل ہو ایسی چیز پر جو خبر دے رہا ہو، يشعر خبر دے رہا ہو، جو بتلا رہا ہو، بالانتهاء اختتام کے بارے میں، سمي براعة المقطع تو اس کو براعة المقطع کہتے ہیں، كقوله جیسے کہ ایک شاعر کا قول ہے:
بقيت بقاء الدهر يا كهف اهله
وهذا دعاء للبرية شامل
بقيت بقاء الدهر، تو باقی رہے زمانے کے باقی رہنے کے بقدر، یعنی جب تک زمانہ ہے تو بھی باقی رہے، يا كهف اهله، کہفٌ اصل میں عربی زبان میں کہتے ہیں غار کو، پہاڑ وغیرہ میں جو غار ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ کہفٌ، اور چونکہ چونکہ اس یہ اس میں پناہ وغیرہ لوگ لیتے ہیں تو عام پناہ گاہ جو ہے اس کو بھی کیا کہہ دیتے ہیں؟ کہفٌ کہتے ہیں، تو یہاں بھی کہف پناہ کی جگہ کے معنیٰ میں ہے، جائے پناہ بھئی، جائے پناہ، جہاں پر پناہ لی جائے وہ جگہ بھئی۔ اهله، اور اہلہٖ کی ہا ضمیر دہر کو راجع ہے، يا كهف اهل الدهر، اہل دہر یعنی زمانے والے۔ بقيت بقاء الدهر يا كهف اهله، تو زمانے کے باقی رہنے کے بقدر باقی رہے، اے زمانے والوں کی جائے پناہ، اے زمانے والوں کے پناہ لینے کی جگہ، اے زمانے والوں کے پناہ لینے کی جگہ، کیا معنیٰ؟ یعنی زمانے میں یعنی یہ جو لوگ ہیں یہ جب کسی تکلیف، پریشانی اور غم میں مبتلا ہوتے ہیں تو یہ تیرے پاس ہی آ کر پناہ لیتے ہیں، تو ان کی پناہ کی جگہ ہے، معنیٰ سمجھ میں آیا بھئی؟
وهذا دعاء للبرية شامل، اور یہ ایسی دعا ہے جو شامل ہے ساری مخلوق کو۔ وهذا، اشارہ ہے بقيت، یہ جو پیچھے دعا دی تھی نا: بقيت بقاء الدهر، اس دعا کی طرف اشارہ ہے۔ وهذا دعاء، اور یہ جو دعا ہے جو پچھلے مصرعے میں دی گئی، للبرية شامل، یہ ساری مخلوق کو شامل ہے، یعنی یہ ساری مخلوق کو میں نے دعا دی ہے، صرف تجھے دعا نہیں دی۔ توجہ ہے شعر پر؟ عجیب شعر کہا شاعر نے بھئی:
بقيت بقاء الدهر يا كهف اهله
وهذا دعاء للبرية شامل
تو زمانے کے باقی رہنے کی مقدار باقی رہے، یعنی جب تک زمانہ باقی ہے تو بھی باقی رہے، اے زمانے والوں کی جائے پناہ، اے زمانے والوں کے پناہ لینے کی جگہ، اور یہ میری دعا جو ہے یہ صرف تیرے لیے نہیں ہے بلکہ للبرية شامل، سارے لوگوں کو یہ دعا شامل ہے، یہ میں نے سب کو دعا دی ہے۔
کس طرح سب کو دعا دی ہے؟ کہتے ہیں اس لیے کہ تجھے میں دعا دے رہا ہوں، ممدوح جو ہے جس کی مدح کر رہا تھا شاعر، کہ تو جو ہے تو مظلوموں کی مدد کرنے والا ہے، ظالموں کو ظلم سے روکنے والا ہے، لوگوں کی تکالیف کو دور کرنے والا ہے، لوگ کسی پریشانی اور غم میں مبتلا ہوں تو وہ تیرے پاس ہی مدد کے لیے آتے ہیں اور تو ان سب کی مدد کرتا ہے، تو اور تجھے میں نے دعا دے دی کہ کیا دعا دی؟ کہ جب تک زمانہ باقی ہے اللہ تجھے بھی باقی رکھیں، اور تیرے ذریعے تو ان ساروں کا نظام صحیح چل رہا ہے، ان سب کو نفع ہو رہا ہے، تو تجھے دعا دینا گویا ان سب لوگوں کو دعا دینا ہے، تو یہ صرف میں نے تمہارے لیے دعا نہیں کی بلکہ یہ ساری مخلوق کو شامل ہے، کیونکہ سب تجھ سے نفع اٹھانے والے ہیں اور یہ ان کا سارا نظام تیری وجہ سے صحیح چل رہا ہے، معنیٰ سمجھ میں آ گیا بھئی؟
یہ معنیٰ ہے:
بقيت بقاء الدهر يا كهف اهله
وهذا دعاء للبرية شامل
تو باقی رہے زمانے کی باقی رہنے کی مقدار، اے زمانے والوں کی پناہ کی جگہ، اور یہ دعا جو ہے ساری مخلوق کو شامل ہے۔
اور نیز یہ ایک تو یہ حسن الانتهاء، اچھے طریقے سے کلام کو ختم کیا دیکھو بھئی، کتنے خوبصورت انداز سے! اور پھر یہ براعتِ مقطع بھی ہے بھئی۔ براعتِ مقطع کیا تھا؟ کہ کلام کے اختتام کی طرف بھی اشارہ کر دیا جائے، تو اس میں بھی شاعر نے لطیف اشارہ کر دیا کہ بس اب میرا کلام کیا ہو رہا ہے؟ میرا قصیدہ ختم ہو رہا ہے، آگے مزید کلام نہیں آئے گا۔ بھئی کس طرح اشارہ کیا؟ بھئی یہ دیکھیے یہ جو دعا دی آخر میں: بقيت بقاء الدهر کہا، وهذا دعاء اور یہ دعا ہے، اور عادت بھی یہی جاری ہے کہ عموماً کلام کے آخر میں کیا کیا جاتا ہے؟ دعا ذکر کی جاتی ہے، تو یہ دعا ذکر کرتے ہوئے گویا شاعر نے اشارہ کر دیا کہ اب کلام کا اختتام ہو رہا ہے۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟
اور مصنفین حضرات نے بھی اس مقام پر اس شعر کو ذکر کر کے اشارہ کر دیا کہ اب ہماری کتاب ختم ہو رہی ہے، کیا ہو رہی ہے؟ ختم ہو رہی ہے، اور گویا اپنے لفظوں میں انہوں نے اس کتاب کے لیے دعا کی اور یہ کہا: بقيت بقاء الدهر، اے کتاب! جب تک زمانہ باقی ہے تو بھی باقی رہے، يا كهف اهله، اے زمانے والوں کی جائے پناہ! یعنی یہ کتاب دیکھنے میں تو چھوٹی سی ہے لیکن بڑی عظیم ہے، سارے لوگوں کی جائے پناہ ہے، یعنی جو بھی علمِ بلاغت سیکھنے کا خواہش مند ہو اسے اس کتاب کی طرف رجوع کرنا پڑے گا، اس لیے کیونکہ یہ اس فن کی اکثر کتابوں کے سے لیے ہوئے خلاصے پر مشتمل ہے اور آسان لفظوں کے اندر ہے، جبکہ باقی کتابیں اتنی آسان نہیں ہیں، تو یہ باقی اس فن کو سیکھنے والوں کے لیے، اس علم کو سیکھنے والوں کے لیے پناہ کی جگہ ہے۔ تو گویا دعا دے رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اے کتاب! تو زمانے کے باقی رہنے کی مقدار باقی رہے، اے زمانے والوں کی جائے پناہ! اور یہ دعا جو ہے ساری مخلوق کو شامل ہے، یہ صرف تیرے لیے دعا نہیں ہے اے کتاب! بلکہ سارے لوگوں کے لیے یعنی جو بھی اس علم کو، اس فن کو سیکھنا چاہتا ہے، یعنی جو بھی علمائے دین ہیں، جو طلبائے دین ہیں ان سب کو یہ دعا شامل ہے بھئی، کیونکہ تیرے ذریعے ہی وہ عربی زبان کی اور قرآن کی خصوصاً فصاحت و بلاغت کو جانیں گے اور اسی کے ذریعے پتہ چلتا ہے کہ قرآن یہ انسانی کلام نہیں، انسانی بس سے باہر ہے، اتنا اونچا، اعلیٰ اور ارفع ہے کہ انسان اس جیسا کلام پیش ہی نہیں کر سکتا بھئی۔
چلیے بھئی، بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔
اچھا، چلیے بھئی الحمد للہ کتاب تو ہماری مکمل ہو گئی۔ آئیے بھئی اب آخر میں دعا کر لیں بھئی۔
بھئی دعا کا طریقہ میں ہمیشہ ذکر کرتا رہتا ہوں اور آپ حضرات نے کو بھی میں نے بتلایا ہوگا، لیکن پھر یاد دہانی کے طور پر ذکر کر دیتا ہوں۔ یاد رکھیے جب بھی دعا کریں تو دعا چونکہ اللہ سے کی جا رہی ہے، اللہ سے آپ مانگ رہے ہیں، اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں، تو ابتداء کے اندر اللہ کی حمد و ثنا ہونی چاہیے۔ لہٰذا شروع میں انسان الحمد للہ پڑھ لے اور پھر اس کے بعد چند مرتبہ درود شریف ہو، اور پھر اس کے بعد دعا کی جائے اور آخر میں بھی درود شریف اور آمین ہو، اس سے دعا قبولیت کے قریب تر ہو جاتی ہے۔
جی، تو آپ بھی شروع میں الحمد للہ اور درود پڑھ لیجیے۔ الحمد لله رب العالمين، اللهم صل على سيدنا ومولانا محمد وعلى اصحابه۔
اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام مشکلات حل فرما۔ اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں، جتنے طلبہ ہیں، اے اللہ! سب کی تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! سب کی تمام مشکلات حل فرما۔ اے اللہ! سب کو زندگی میں اطمینان اور سکون نصیب فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام مشکلات حل فرما۔ اے اللہ! تمام معاملات میں غیب سے ہماری مدد فرما۔ اے اللہ! آپ تو ہر چیز پر قادر ہیں۔ اے اللہ! ہماری تمام مشکلات حل فرما۔ اے اللہ! سب حاضرین کو، اے اللہ! اطمینان اور سکون اور خوشیاں اور مسرتیں نصیب فرما۔
اے اللہ! اسلام کا پھر بول بالا فرما۔ اے اللہ! مسلمانوں کو اے اللہ! مسلمانوں کو پھر اسلام کی طرف لوٹا دے۔ اے اللہ! ہمیں دین پر پوری طرح عمل کرنے والا بنا دے۔ اے اللہ! ہم نام کے مسلمان رہ گئے۔ اے اللہ! ہمیں دین پر عمل کرنے والا بنا دے۔ اے اللہ! ہمیں پھر دین پر پوری طرح عمل کرنے والا بنا دے۔
اے اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی عظمت ہمارے دلوں میں جما دے۔ اے اللہ! چھوٹی سے چھوٹی سنت کی عظمت بھی ہمارے دلوں میں کامل طریقے سے جما دے۔ اے اللہ! ہمیں سنتوں پر عمل کرنے والا بنا دے۔ اے اللہ! ہمیں سنتوں پر عمل کرنے والا بنا دے۔ اے اللہ! ہمیں سنتوں کو پھیلانے والا بنا دے۔
اے اللہ! شرک اور بدعات اور گمراہیوں سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! یقیناً یہ وہ فتنے کا زمانہ ہے جس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ فتنے کے زمانے میں کوئی شخص شام کو مسلمان ہوگا تو صبح کو کافر ہو چکا ہوگا اور کوئی شخص صبح کو مسلمان ہوگا تو شام تک کافر ہو چکا ہوگا۔ اے اللہ! دن رات نئے نئے فتنے اٹھ رہے ہیں، خصوصاً دینِ اسلام کی طرف ان سب کا رخ ہے۔ اے اللہ! اے اللہ! اس فتنے کے زمانے میں ہمارے ایمان کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! قیامت تک ہماری آنے والی نسلوں کے بھی ایمان کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہمیں اپنے محبوب بندوں میں شامل فرما۔ اے اللہ! ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جس کے لیے آپ کی ساری مخلوقات، آپ کے سارے فرشتے دعائیں کرتے ہیں۔
اے اللہ! اے اللہ! یا ارحم الراحمین، یا ارحم الراحمین، یا ارحم الراحمین! حدیث شریف میں آتا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو شخص تین مرتبہ یا ارحم الراحمین کہہ لے، تو اللہ کے اتنے فرشتے جو نیک مجالس کی تلاش میں ہوتے ہیں تو وہ پکار کر اس شخص کی طرف کہتے ہیں کہ اے مانگنے والے مانگ، ارحم الراحمین تیری طرف متوجہ ہیں۔ آپ سب بھی کم از کم تین مرتبہ کہہ لیجیے: یا ارحم الراحمین، یا ارحم الراحمین، یا ارحم الراحمین۔
اے اللہ! یقیناً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات سچی ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ اللہ کے نیک فرشتے جو ہیں وہ نیک مجالس کی تلاش میں رہتے ہیں، اور جہاں کہیں کوئی نیک مجلس ہوتی ہے اس کے گرد وہ جمع ہو جاتے ہیں اور فرشتوں کو بھی آواز دے کر بلا لیتے ہیں، اور اس مجلس والوں کو کا احاطہ کر لیتے ہیں اور جمع ہوتے چلے جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس مجلس کے ارد گرد وہ پہاڑوں کی صورت میں ان پر جمع ہو جاتے ہیں اور ان کی دعاؤں پر آمین کہتے ہیں۔ اے اللہ! یقیناً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات سچی ہے اور یقیناً اللہ کے وہ نیک فرشتے ہماری اس مجلس میں ضرور موجود ہوں گے، کیونکہ یہاں ہم کسی دنیاوی مقصد کے لیے جمع نہیں ہوئے، اے اللہ! ہم نے اس مجلس کے اندر آپ کے دین کی ایک کتاب مکمل کی ہے۔ اے اللہ! اے اللہ! اس کے پڑھنے اور پڑھانے میں کوئی کوتاہی ہوئی ہو، کوئی بے ادبی ہوئی ہو، اے اللہ! اپنے فضل و کرم سے اسے معاف فرما۔ اے اللہ! اس کو معاف فرما، اے اللہ! اس کو معاف فرما۔
اے اللہ کے نیک فرشتو! للہ ہماری دعاؤں پر آمین کہہ دو۔ اے اللہ کے نیک فرشتو! للہ ہماری دعاؤں پر آمین کہہ دو۔ تمہاری آمین سے یقیناً اللہ ہماری دعائیں قبول فرما لیں گے۔ اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں، اللہ سب کی تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! سب کی تمام مشکلات حل فرما۔ اے اللہ! سب کو اطمینان اور سکون نصیب فرما۔
اے اللہ! اے اللہ! اس وقت سارے لوگ خصوصاً مسلمان تمام عالم کے اندر بے انتہا تکالیف اور پریشانیوں میں مبتلا ہیں۔ اے اللہ! تمام مسلمانوں کی مدد فرما۔ اے اللہ! سب کی نصرت فرما، اے اللہ! سب کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! سب کی تکالیف اور پریشانیاں دور فرما، خصوصاً مجاہدین پر تو بڑا ہی کڑا وقت ہے کہ غیر تو دشمن تھے ہی پہلے ہی، اب اپنے بھی دشمن بنے ہوئے ہیں۔ اے اللہ! مجاہدین کی خصوصی مدد و نصرت فرما۔ اے اللہ! ان کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ان کو ہمت اور قوت نصیب فرما۔ اے اللہ! دشمنانِ اسلام پر ان کو غلبہ نصیب فرما۔ اور اے اللہ! جو شخص دینِ اسلام کو کسی بھی شکل میں نقصان پہنچانا چاہتا ہے، اے اللہ! ان کو تباہ و برباد فرما۔ اے اللہ! ان کو ذلیل و رسوا فرما۔
اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہمارے جو عزیز و اقارب ہم سے رخصت ہو چکے، اس دنیا سے چلے گئے، اے اللہ! اے اللہ! سب کی مغفرت فرما۔ اے اللہ! سب کے درجات بلند فرما۔
اے اللہ! ہمارے جتنے اساتذہ اس دنیا سے چلے گئے، اے اللہ! ان کی بھی قبروں کو نور سے بھر دے۔ اے اللہ! ان کی قبروں کو منور فرما۔ اے اللہ! ان کے کروڑہا درجات بلند فرما۔ اے اللہ! ان کے جو اہل و عیال باقی ہیں، اولاد دنیا کے اندر، ان کو خوشیاں نصیب فرما۔ اے اللہ! ان کو وسیع حلال رزق نصیب فرما۔
اسی طرح خصوصاً میرے والد محترم حضرت شیخ رحمہ اللہ، اے اللہ! ان کے بھی کروڑہا درجات بلند فرما۔ اے اللہ! ان کے کروڑہا درجات بلند فرما۔ اے اللہ! ان کے کروڑہا درجات بلند فرما۔ اے اللہ! ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں بھی ان کی طرح قبولیت اور مقبولیت نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں بھی ان کی طرح اپنے محبوب بندوں میں شامل فرما۔ اے اللہ! ہمیں بھی ان کی طرح اخلاص نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں بھی ان کی طرح اتباعِ سنت کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں بھی ان کی طرح استقامت نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں بھی ان کی طرح عقل نصیب فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔
اے اللہ! ہمارے جو اساتذہ زندہ ہیں، اے اللہ! ان کو بھی خوشیاں نصیب فرما۔ ان کی بھی تمام تکالیف اور پریشانیاں دور فرما۔ اے اللہ! ان کو وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں، اے اللہ! سب کو وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ! سب کو اطمینان اور سکون نصیب فرما۔ اے اللہ! حرام کے ذرے ذرے سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! قیامت تک ہماری آنے والی نسلوں کو بھی وسیع حلال رزق نصیب فرما۔
اے اللہ! اے اللہ! میرے جتنے تلامذہ ہیں، اے اللہ! ان کو دنیا میں بھی معزز اور محترم فرما۔ اے اللہ! ان کو آخرت میں بھی معزز اور محترم فرما۔ اے اللہ! ان سب سے دین کا کام لے۔ اے اللہ! ان سب سے دین کا کام لے۔ اے اللہ! اطمینان سے تمام زندگی دین کا کام کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! ہر قسم کی بدعتوں، گمراہیوں اور شرک سے حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔
اے اللہ! اے اللہ! تمام مدارس کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! جو شخص جس انداز میں بھی دینی کام میں لگا ہوا ہے، مجاہدین ہیں، مبلغین وغیرہ جتنے بھی ہیں، مدارس ہیں، مساجد ہیں، اے اللہ! سب کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! سب کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! یہ دشمنوں کی نگاہوں میں کانٹوں کی طرح کھٹک رہے ہیں۔ اے اللہ! ان کی خصوصی حفاظت فرما۔ اے اللہ! خصوصی حفاظت فرما۔ اے اللہ! مسلمانوں کو ہمت اور قوت نصیب فرما۔
اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! جہنم سے ہماری حفاظت فرما۔ حدیث میں آتا ہے جو شخص تین مرتبہ جہنم سے پناہ مانگ لیتا ہے تو جہنم خود کہتی ہے کہ اے اللہ! اس کو مجھ سے دور کر دے، اور جو شخص تین مرتبہ جنت مانگتا ہے تو جنت خود کہتی ہے کہ اے اللہ! اس کو میرے اندر لے آ۔ اے اللہ! ہم جہنم سے پناہ مانگتے ہیں۔ اے اللہ! جہنم سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! جہنم سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! جہنم سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہمیں جنت الفردوس نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں جنت الفردوس نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں جنت الفردوس نصیب فرما۔
اے اللہ! حاضرین میں سے کوئی بیمار ہو، اے اللہ! یا ان کے گھروں میں کوئی بیمار ہو، اے اللہ! اس علمِ دین کی برکت سے سب کو شفا نصیب فرما۔ اے اللہ! سب کو صحت اور عافیت نصیب فرما۔ وہ آپ کے ایک ساتھی ان کی وہ جو آنکھ کی تکلیف جن کی، ان کے لیے بھی دعا کریں، اے اللہ! ان کو بھی شفا نصیب فرما۔ اے اللہ! ان کا آپریشن کامیاب فرما۔
اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہر شر اور فتنے سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! میرے تمام تلامذہ جو ہیں، اے اللہ! اے اللہ! ان کو ایسی علمِ دین کی اور علمِ دین کی ایسی شمعیں بنا دیں ان کو کہ اے اللہ! اس سے آگے مزید لاکھوں شمعیں روشن ہوں۔ اے اللہ! اس سے مزید اے اللہ آگے مزید لاکھوں کروڑوں شمعیں روشن ہوں، اور یہ سلسلہ تا قیامت عظیم سے عظیم تر ہوتا چلا جائے۔
اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہمارے اس پڑھنے اور پڑھانے کو بھی قبول فرما۔ اے اللہ! ان اسباق کو سب کے لیے نافع فرما دے۔ اے اللہ! ان اسباق کو سب کے لیے نافع فرما دے۔ اے اللہ! غلطیوں سے حفاظت فرما۔ اے اللہ! قبولیت اور مقبولیت نصیب فرما۔ اے اللہ! آپ تو ہر چیز پر قادر ہیں۔ اے اللہ! ہماری دعاؤں پر کن فرما دیجیے۔
اے اللہ! آپ کی اے اللہ آپ کے خزانے تو بڑے وسیع ہیں، ہماری یہ چھوٹی سی مجلس ہے۔ اے اللہ! اے اللہ! ہمارے اے اللہ ہماری دعاؤں پر کن فرما دیجیے۔ اے اللہ! ہماری دعاؤں کو قبول فرما لیجیے۔ اے اللہ! ہمارے ہاتھوں کو خالی نہ لوٹائیے۔ اے اللہ! آپ تو قادر ہیں۔ اے اللہ! آپ خود فرماتے ہیں کہ جب سے یہ کائنات بنی ہے میں اپنے خزانے تقسیم کر رہا ہوں اور میرے خزانوں کے اندر ذرہ بھر کمی بھی نہیں آئی۔ اے وہ وسیع خزانوں والے! اے اللہ! ہماری یہ چھوٹی سی جماعت ہے، اے اللہ! ہمارے ہاتھوں کو خالی نہ لوٹا۔ اے اللہ! ہماری دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری دعائیں قبول فرما۔
اے اللہ! ہم پر رحم فرما۔ اے اللہ! یقیناً ہمارے گناہ بہت زیادہ، لیکن اے اللہ! آپ کی رحمت بڑی وسیع ہے۔ اے اللہ! آپ خود فرماتے ہیں، اے اللہ! آپ خود فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اتنے گناہ لے آئے کہ جس سے ساری زمین پر ہو جائے تو میری رحمت اس سے بھی وسیع ہے، میں اس سے بھی وسیع رحمت بتلاؤں گا اور اس کے گناہوں کو ختم کر دوں گا۔ اے اس وسیع رحمت والے! اے اللہ! ہماری دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہم نے اس کی مجلس میں دین کی ایک کتاب ختم کی ہے، اے اللہ! اس علمِ دین کی برکت سے ہمارے ہاتھوں کو خالی نہ لوٹا۔
اے اللہ! میرے جتنے تلامذہ ہیں، اے اللہ! ان کے مستقبل کو خوشحال بنا دے۔ اے اللہ! ان کے مستقبل کو خوشحال بنا دے۔ اے اللہ! ہر قسم کی تکالیف اور پریشانیوں سے ان کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! اطمینان اور سکون کے ساتھ دین کا کام مستقل مزاجی کے ساتھ کرنے کی توفیق نصیب فرما۔
بہت سے احباب نے بھی دعاؤں کا کہا ہے اور بہت سے ویسے لوگ دعاؤں کا کہتے رہتے ہیں، مختلف مسائل، تکالیف اور پریشانیوں میں مبتلا۔ اے اللہ! آپ آپ تو عالم الغیب ہیں، سب کو جانتے ہیں۔ اے اللہ! ان سب کی حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! سب کی مشکلات حل فرما۔ اے اللہ! سب کو اطمینان اور سکون نصیب فرما۔
خصوصاً میرے ایک ساتھی مولانا عبد الحکیم صاحب کا کل کراچی سے فون آیا، انہوں نے بھی آپ حضرات سے دعاؤں کی درخواست کی ہے، اے اللہ! ان کی بھی تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! تمام مشکلات حل فرما۔ اے اللہ! اطمینان اور سکون نصیب فرما۔ اے اللہ! ان کو بھی اور ان کی اولاد کو بھی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی عزتیں اور راحتیں نصیب فرما۔ خصوصاً وہ کراچی کے احوال پر کراچی کے احوال کا تذکرہ کر رہے تھے، اسی طرح کراچی میں، بلوچستان میں، گلگت وغیرہ ملک کے مختلف حصوں میں، اے اللہ! اے اللہ! اے اللہ! جو فتنہ و فساد برپا ہے، اے اللہ! لوگ پریشانی اور غم میں مبتلا ہیں، اے اللہ! اے اللہ! اس فتنے اور فساد کو دور فرما دیجیے۔ اے اللہ! امن کی فضا قائم فرما دیجیے۔ اے اللہ! لوگوں کو اطمینان اور سکون دے دیجیے۔ اے اللہ! ہمیں نیک حکمران نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں نیک حاکم نصیب فرما۔ اے اللہ! نیک حکام نصیب فرما۔ اے اللہ! آپ تو قادر ہیں۔ اے اللہ! پھر دین کی ہوائیں چلا دیجیے۔ اے اللہ! ہر طرف اسلام کا بول بالا فرما دیجیے۔ اے اللہ! ہمیں پھر کامل اسلام پر عمل کرنے کی طرف لوٹا دیجیے۔ اے اللہ! ہمیں سنتوں کو پر عمل کرنے اور ان کو پھیلانے والا بنا دیجیے۔
اے اللہ! اے اللہ! اے اللہ! جو ہم نے پڑھا ہے اور جو پڑھ رہے ہیں، اے اللہ! اس پر ہمیں عمل کرنے والا بنا۔ اے اے اللہ! اس علم کو ہمارے لیے نافع فرما دے۔
میرے لیے بھی آپ حضرات سے دعاؤں کی درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ اے اللہ! صحت نصیب فرما۔ اے اللہ! تمام تکالیف اور پریشانیاں دور فرما۔ اے اللہ! اطمینان اور سکون نصیب فرما۔ اے اللہ! صحت اور عافیت نصیب فرما۔ اے اللہ! صحت اور عافیت نصیب فرما۔
اسی طرح میرے چند کام ہیں ان کے لیے بھی آپ حضرات سے خصوصاً دعاؤں کی درخواست ہے کہ اے اللہ! ان کاموں میں آسانی فرما دے۔ اے اللہ! آپ تو ہر چیز پر قادر ہیں۔ اے اللہ! ان کاموں کو دنیا اور آخرت کے اعتبار سے بے انتہا نافع فرما دیجیے۔ اے اللہ! میری توقع سے بھی بڑھ کر بہتر انداز میں ان کو فرما دیجیے۔ اے اللہ! آپ تو ہر چیز پر قادر ہیں۔
میری والدہ کے لیے بھی ان کی وہ بھی ضعیف ہو گئی ہیں کافی، ان کے لیے بھی آپ حضرات سے دعاؤں کی درخواست ہے۔ اے اللہ! ان کو صحت اور عافیت نصیب فرما۔ اے اللہ! ان کا سایہ ہمارے سروں پر تا دیر صحت اور عافیت اور مسرتوں سے قائم و دائم فرما۔ اے اللہ! مسرتوں کے ساتھ قائم و دائم فرما۔ اے اللہ! صحت اور مسرتوں کے ساتھ قائم و دائم فرما۔
اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! حاضرین میں سے، طلبہ میں سے بھی جن کے والدین یا ان میں سے جو زندہ ہیں، اے اللہ! سب کو صحت اور عافیت نصیب فرما۔ اے اللہ! ان کا سایہ ان کے سروں پر تا دیر قائم و دائم فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہمارے اس پڑھنے اور پڑھانے کو قبول فرما۔ اے اللہ! ہمارے اس پڑھنے اور پڑھانے کو قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔
اب دو تین منٹ جو جو دل میں حاجات ہوں خاموشی سے دعا کر لیں۔
صلى الله تعالى على خير خلقه محمد وعلى اله واصحابه اجمعين، امين امين ثم امين۔
چلیے بھئی مبارک ہو بھئی اپ سب حضرات کو یہ کتاب۔