Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-087

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 06 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 10
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔87 العقد والحل. الأول نظم المنثور، والثاني نثر المنظوم. فالأول نحو: والظلم من شيم النفوس فإن تجد ذا عفة فلعلة لا يظلم عقد فيه قول حكيم: الظلم من طباع النفس وإنما يصدها عنه إحدى علتين: دينية وهي خوف المعاد، ودنيوية وهي خوف العقاب الدنيوي. العقد والحل. عقد کا معنیٰ ہے باندھنا، اور الحل، حل کا معنیٰ ہے کھولنا۔ تو یاد رکھیے یہ دو الگ الگ چیزیں ہیں، ایک دوسرے کے مقابل ہیں، اور عقد کہتے ہیں کہ نثر ہو، نثر بھئی، یعنی کلامِ منثور جو ہے اس کو منظوم کر دینا، نظم بنا دینا اس سے، اسے کون سی صورت دے دینا؟ اشعار کی صورت دے دینا عام کلام کو، اس کو کہتے ہیں عقدٌ۔ تو دیکھیے یعنی باندھنا، عام کلام کو کس صورت میں باندھ دیا گیا؟ شعر کی صورت میں باندھ دیا گیا۔ اور حل اس کا عکس ہے بھئی، حل کا معنیٰ کھولنا، کھولنا۔ یعنی ایک بات جو شعر میں کہی گئی تھی اس کو کھول کر نثر کی صورت میں بیان کر دینا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ العقد والحل، الأول نظم المنثور، اول یعنی عقد جو ہے وہ نظم المنثور وہ منثور کلام کو منظوم کرنا ہے، والثاني نثر المنظوم، اور دوسرا یعنی حل جو ہے وہ نثر المنظوم، منظوم کو منثور کر دینا، نثر بنا دینا اس سے۔ فالأول، پہلے کی مثال نحو، پہلا یعنی عقد، جس میں کیا کیا گیا؟ نثر کو کس میں بدل دیا گیا؟ نظم میں پرو دیا گیا۔ والظلم من شيم النفوس فإن تجد ذا عفة فلعلة لا يظلم والظلم من شيم النفوس، شيم جمع ہے شیمۃٌ کی اور شیمۃٌ کہتے ہیں عادت کو اور خصلت کو۔ والظلم من شيم النفوس، اور ظلم کرنا یہ نفسوں کی طبیعت میں سے ہے، ظلم کرنا نفسوں کی طبیعت میں سے ہے، فإن تجد ذا عفة، پس اگر تو پائے کسی عفت والے کو، عفت کہتے ہیں پاکدامنی کو، تو ذا عفة پاکدامنی والا یعنی پاکدامن، فإن تجد ذا عفة اگر تو کسی کو پاکدامن پائے یعنی اگر کسی کا دامن ظلم سے پاک ہو، فلعلة لا يظلم، علۃ کہتے ہیں سبب کو بھئی، فلعلة لا يظلم تو کسی علت کی وجہ سے، کسی سبب کی وجہ سے لا يظلم وہ ظلم نہیں کرتا ہو گا۔ والظلم من شيم النفوس فإن تجد ذا عفة فلعلة لا يظلم، اور ظلم کرنا جو ہے نفسوں کی طبیعت میں سے ہے، اگر تو کسی کو پاکدامن پائے یعنی اس کو پائے کہ وہ ظلم نہیں کرتا ہے فلعلة لا يظلم تو کسی سبب کی وجہ سے وہ ظلم نہیں کرتا ہو گا۔ عقد فيه قول حكيم، باندھا گیا ہے یعنی عقد کیا گیا ہے اس کے اندر ایک دانا شخص کے قول کو، اور وہ یہ قول ہے بھئی: الظلم من طباع النفس، کسی دانا شخص نے یہ کہا تھا، الظلم من طباع النفس کہ ظلم کرنا جو ہے نفسوں کی طبیعت میں سے ہے، نفسوں کی طبیعتوں میں سے ہے، طباع جمع ہے طبعٌ کی بھئی، کہ یہ نفسوں کی طبیعتوں میں سے ہے، وإنما يصدها عنه إحدى علتين، صد يصد کے معنیٰ ہوتے ہیں روکنے کے، وإنما يصدها عنه کہ روکتا ہے نفس کو عنہ کس سے؟ ظلم سے، إحدى علتين دو علتوں میں سے کوئی ایک۔ تو کسی دانا شخص نے یہ کہا تھا کہ ظلم کرنا نفسوں کی طبیعتوں میں سے ہے اور ظلم سے نفس کو دو چیزوں میں سے، دو سببوں میں سے کوئی ایک روکتی ہے: دينية، ایک سبب تو کیا ہے؟ دینی ہے، وهي خوف المعاد، اور یہ اور وہ آخرت کا خوف ہے، ودنيوية، اور دوسرا سبب کیا ہے؟ دنیاوی ہے، وهي خوف العقاب الدنيوي، اور وہ دنیاوی سزا کا خوف ہے کہ دنیا میں مجھے سزا وغیرہ ملے گی، اور تو اس وجہ سے وہ ظلم سے رک جاتا ہے۔ تو کسی دانا شخص نے یہ کہا تھا کہ ظلم کرنا یہ نفسوں کی طبیعتوں میں سے ہے اور دو سببوں میں سے کوئی ایک سبب جو ہے انسان کو اور نفس کو روکتا ہے، ایک دینی سبب ہے اور ایک دنیاوی ہے، دینی سبب وہ آخرت کا خوف ہے اس کی وجہ سے بعض لوگ ظلم سے رک جاتے ہیں اور ایک سبب دنیاوی ہے اور وہ دنیاوی سزا کا خوف ہے کہ دنیاوی سزا کے خوف کی وجہ سے بعض لوگ ظلم سے رک جاتے ہیں، ورنہ ظلم نفسوں کی طبیعتوں میں سے ہے۔ تو اسی بات کو وہ اس شاعر نے اشعار کی صورت میں ذکر کر دیا کہ والظلم من شيم النفوس بھئی۔ تو دیکھیے عام منثور کلام کو کیا کر دیا؟ منظوم کر دیا، اس کو عقد کہتے ہیں۔ والثاني، اور دوسرا جو ہے، جس میں کیا ہے؟ حل ہے، یعنی شعر کو کھول کر نثر کی صورت میں بیان کرنا، نحو قوله، جیسے کسی شخص کا یہ قول ہے: العيادة سنة مأجورة ومكرمة مأثورة، کہ عیادت کرنا یعنی کسی مریض کی عیادت کے لیے جانا، سنة مأجورة ایسی سنت ہے جس پر اجر دیا جاتا ہے، ومكرمة مأثورة، مکرمہ کہتے ہیں قابلِ قدر کام بھئی، اور ایسا قابلِ قدر کام ہے، مأثورة جو منقول ہے یعنی جو بزرگوں سے نقل ہوتا چلا آیا ہے، ومع هذا، اور باوجود اس کے، فنحن المرضى، مرضیٰ جمع ہے مریض کی، فنحن المرضى اور باوجود اس کے تو ہم ہی مریض ہیں، ونحن العواد، اور ہم ہی عیادت کرنے والے ہیں، وكل وداد لا يدوم فليس بوداد۔ وداد وہی ودٌّ محبت کو کہتے ہیں بھئی، وداد۔ وكل وداد، اور ہر ایسی محبت، لا يدوم جو دائمی نہ ہو، جو ہمیشہ نہ ہو، فليس بوداد تو وہ محبت نہیں ہے، وہ محبت جو ہمیشہ نہ رہے وہ محبت نہیں ہے۔ تو دیکھیے یہ کسی شخص نے یہ قول کیا کہ عیادت یہ ایسی سنت ہے جس پر اجر دیا جاتا ہے اور ایسا قابلِ قدر کام ہے جو اسی طرح بزرگوں سے منقول ہوتا چلا آیا ہے، اور اس کے باوجود ہم ہی مریض ہیں اور ہم ہی کیا کرتے ہیں؟ ہم مریض ہیں دوسروں کو عیادت کرنی چاہیے لیکن ہم ہی مریض ہوتے ہیں اور عیادت بھی کون کرتا ہے؟ ہم ہی ہمیں ہی کرنا پڑتی ہے، اور ہر ایسی محبت جو دائمی نہ ہو وہ محبت ہی نہیں ہے بھئی۔ تو یہ اس میں حل ہے، اس میں کھول دیا، نثر بنا دیا اس قائل کو جو اس قول کو یہ جو آگے کسی شخص نے قول کیا۔ تو کہتے ہیں: وحل فيه قول القائل: إذا مرضنا أتيناكم نعودكم وتذنبون فنأتيكم ونعتذر إذا مرضنا، شاعر کہتا ہے: جب ہم بیمار ہوتے ہیں، أتيناكم تو ہم تمہارے پاس آتے ہیں، نعودكم تمہاری عیادت کرتے ہیں۔ جب ہم بیمار ہوتے ہیں تو بجائے اس کے کہ تم آ کر ہماری عیادت کرو، پھر بھی ہم ہی آ کر کیا کرتے ہیں؟ تمہاری عیادت کرتے ہیں۔ وتذنبون، اور تم گناہ کرتے ہو یعنی جرم کرتے ہو، تو جرم تم نے کیا ہے تمہیں آ کر معذرت کرنی چاہیے، لیکن فنأتيكم ہم تمہارے پاس آتے ہیں، ونعتذر اور عذر بیان کرتے ہیں بھئی، معذرت کرتے ہیں۔ تو کہتا ہے: جب ہم بیمار ہوتے ہیں تو تمہارے پاس آتے ہیں اور تمہاری عیادت کرتے ہیں، اور تم گناہ کرتے ہو تو بھی ہم تمہارے پاس آتے ہیں اور معذرت کرتے ہیں۔ تو دیکھیے یہ وہی اسی قول کو پچھلے کلام کے اندر کھول دیا گیا تھا کہ اس میں بھی شاعر نے یہی بات کہی بھئی کہ عیادت بھی ہم کرتے ہیں اور معذرتیں بھی ہم کرتے ہیں، تو محبت صرف ہماری جانب سے ہے، معلوم ہوا تمہاری طرف سے محبت نہیں، اور جو محبت دائمی نہیں وہ دراصل محبت ہی نہیں ہے بھئی۔ اگلی صنعت دیکھیے: التلميح. التلميح هو ان يشير المتكلم في كلامه لاية او حديث او شعر مشهور او مثل سائر او قصة۔ تلمیح اس کو کہتے ہیں بھئی کہ متکلم اپنے کلام میں کسی آیت یا حدیث یا مشہور شعر یا مشہور ضرب المثل یا کسی قصے کی طرف اشارہ کرتا ہے، کیا کرتا ہے؟ اس قصے کی طرف یا اس حدیث کی طرف یا آیت کی طرف یا کسی اور شعر وغیرہ کی طرف وہ اشارہ کرتا ہے۔ تو کہتے ہیں: التلميح هو ان يشير المتكلم في كلامه، وہ یہ کہ اشارہ کرے متکلم اپنے کلام میں، لاية کسی آیت کی طرف، او حديث یا حدیث کی طرف، او شعر مشهور یا کسی مشہور شعر کی طرف، او مثل سائر، سائر کا معنیٰ بھی مشہور بھئی، او مثل سائر یا کسی مشہور ضرب المثل کی طرف، او قصة یا کسی قصے کی طرف، كقوله، جیسے ایک شاعر کا قول ہے: لعمرو مع الرمضاء والنار تلتقي أرق وأحفى منك في ساعة الكرب تو آگے دیکھیے کتاب پر ہی: اشار الى البيت المشهور، اس میں اشارہ کیا ہے شاعر نے اس مشہور شعر کی طرف، وهو اور وہ یہ ہے: المستجير بعمرو عند كربته كالمستجير من الرمضاء بالنار یہ مشہور یہ شعر مشہور و معروف ہے بھئی، تو اوپر والے شعر میں اس شعر مشہور شعر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ پہلے اس شعر کا ترجمہ سمجھ لیجیے۔ المستجير بعمرو، استجارہ کے معنیٰ ہوتے ہیں پناہ پکڑنا بھئی، کسی سے حفاظت طلب کرنا۔ المستجير بعمرو، عمرو سے پناہ طلب کرنے والا، عند كربته، کرب کہتے ہیں غم کو بھئی، تکلیف کو، عند كربته اپنے غم کے وقت، اپنی تکلیف کے وقت، كالمستجير، یہ اسی شخص کی طرح ہے جو پناہ پکڑنے والا ہو، من الرمضاء، رمضاء کہتے ہیں تپتی ہوئی زمین، دھوپ کی وجہ سے تپتی ہوئی زمین جس پر پاؤں جلتے ہوں بھئی۔ جیسے کہ دھوپ کی وجہ سے تپتی ہوئی زمین سے کوئی پناہ طلب کرتا ہے، بالنار، آگ کی، کس کی پناہ طلب کرتا ہے؟ آگ کی، کوئی شخص چل رہا ہے اور وہ زمین زمین بے انتہا گرم ہے اور اس پر اس کے پاؤں جل رہے ہیں سخت، اب وہ کوئی پناہ اس کو نہیں ملتی، وہ آگ سے پناہ طلب کرتا ہے کہ میرے پاؤں جل رہے ہیں مجھے ذرا بچا لو، تو اب آپ خود دیکھیے اس کا کیا انجام ہوگا؟ وہ زمین اس کے لیے زیادہ تکلیف کا باعث ہے یا وہ آگ زیادہ تکلیف کا باعث ہو گی؟ آگ زیادہ تکلیف کا باعث ہو گی، وہ تو اس کو جلا کر ختم کر دے گی، یہاں تو صرف پاؤں جل رہے تھے اور آگ تو اس کو بالکل جلا دے گی۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ عمرو جو تھا، یہ عمرو، عمرو ابن حارث، یہ بڑا مشہور و معروف شعر ہے عرب میں بھئی، یہ شخص اپنے ظلم اور سنگدلی کے اندر ضرب المثل بن گیا بھئی۔ یہ واقعہ پہلے میں ذکر کر چکا ہوں، یہ میری کتاب میں صفحہ نمبر 31 پر یہ تعجیز کی مثال آیا تھا بھئی، تعجیز کی الکلام علی الانشاء کے باب میں: يا لبكر انشروا لي كليبا يا لبكر أين أين الفرار اس پر وہ واقعہ میں نے بیان کیا تھا کہ عرب کا قبیلہ قبیلہ ربیعہ جو ہے بڑا قبیلہ تھا اور اس کی شاخیں تھیں پھر نیچے بنو بکر، بنو شیبان، بنو تغلب وغیرہ بھئی۔ ان کے درمیان چالیس سال تک جنگ ہوئی بھئی، چالیس سال تک جنگ ہوئی اور اس کا واقعہ یوں پیش آیا تھا تو یہ جو بنو تغلب وغیرہ کا جو سردار تھا، کلیب نام کا ایک شخص تھا بھئی، اور میں نے آپ کو بتلایا تھا یہ بڑا ہی سرکش، ظالم اور جابر انسان تھا، اتنا سرکش انسان تھا کہ اپنے اونٹوں اپنے اونٹوں کے چرنے کے لیے جس چراگاہ کا انتخاب کر لیتا تھا اس چراگاہ میں کسی اور کو اپنے اونٹ چرانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی بھئی کہ یہ ہمارے سردار کے اونٹ چرانے کی جگہ ہے، یہاں کسی کا اونٹ بھی نہیں آ سکتا بھئی گھاس وغیرہ کھانے کے لیے بھئی۔ تو وہ اس نے اس کی چراگاہ میں وہ ایک عورت جو تھی بسوس نام کی، اس کی اونٹنی چلی گئی، اونٹنی چلی گئی اور وہاں کوئی پرندے کا گھونسلا تھا، اس کو گھونسلے کو اس اونٹنی نے خراب کر دیا، اس کے قدموں تلے آیا اور اس کے انڈے وغیرہ بھی ٹوٹ گئے۔ کلیب نے بعد میں دیکھا کہ اس پرندے کا گھونسلا خراب ہوا ہوا ہے اور انڈے وغیرہ ٹوٹ گئے ہیں، بالکل ضائع کر دیا سارا کچھ، اس کو بڑا غصہ چڑھا کہ یہ کیسے میرے علاقے کے اندر، میری چراگاہ کے اندر یہ اونٹنی آ گئی۔ چنانچہ اس نے اپنے غلاموں کو حکم دیا کہ اس اونٹنی کے بچے کو قتل کر دو اور اس کے تھنوں پر تیر اور نیزے مارو۔ غلاموں نے ایسا ہی کیا، چنانچہ اونٹنی زخمی ہوئی اور چیختی چلاتی ہوئی واپس گھر پہنچی کہ تھنوں سے دودھ بھی بہہ رہا ہے اور خون بھی بہہ رہا ہے۔ وہ بسوس نامی بڑھیا نے اپنی اونٹنی کا یہ حال دیکھا تو اس نے چیخنا چلانا شروع کر دیا اور ایسا واویلا مچایا کہ اس کا بھانجا جساس نام کا، بھانجا جو تھا اس نے کہا کہ تم فکر نہ کرو میں تمہارا بدلہ لوں گا۔ چنانچہ وہ پھر تاک میں رہنے لگا کلیب کی۔ اور یہ کلیب جو تھا یہ اس کا بہنوئی بھی تھا بھئی، کلیب کیا تھا جساس کا؟ بہنوئی بھی تھا یعنی اس کی بہن کی اس سے شادی ہوئی تھی، اور پھر اس کو موقع ملا کلیب کہیں باہر نکلا تنہا تھا تو اس نے اس کو نیزہ مارا اور وہ زخمی ہو کر زمین پر گر پڑا اور اب زخمی زمین پر گرا ہوا ہے اور وہ موت کا وقت اس کے قریب آ گیا، اسے شدید پیاس لگی ہوئی ہے، وہ پانی مانگ رہا ہے، تو یہ جساس اس کے قریب پہنچا، اس نے پانی طلب کیا کہ مجھے کچھ پانی دے دو، تو جساس کہنے لگا: پانی تو بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ چنانچہ اس کو اسی حالت میں چھوڑ کر آ گیا۔ یہ ابھی بھی موت کی کشمکش میں مبتلا ہے کہ وہاں سے عمرو ابن حارث، یہ جو اس شخص جس کا ذکر شعر میں آیا، یہ وہاں سے گزرا بھئی۔ تو اس کے پاس سے گزرا تو کلیب نے اس سے پکارا اور کہا کہ تھوڑا سا پانی مجھے دے دو مجھے سخت پیاس لگی ہے۔ تو اب دیکھیے اس تکلیف کے عالم میں نیزہ اس کو لگا ہوا ہے، خون بہہ رہا ہے، بالکل مرنے والا ہے اور اس حالت میں اس نے اس سے پانی کا سوال کیا، تو عمرو نے بجائے اس کے کہ اس کی مدد وغیرہ کچھ کرتا، پانی دیتا، عمرو نے فوراً تلوار نکالی اور اس کو قتل کر دیا بھئی، تو یہ اتنا سنگدل آدمی تھا۔ تو یہ بات پورے عرب میں مشہور ہو گئی کہ اتنا سنگدل آدمی بھئی! دوسرا بالکل مر رہا ہے، خون بہہ رہا ہے اور یہ اس کو اور اس سے پانی طلب کرتا ہے اور یہ بجائے پانی پلانے کے اس کو قتل کر دیتا ہے۔ تو یہ سنگدلی اور ظلم کے اندر ضرب المثل بن گیا بھئی۔ تو اس پر یہ شاعر نے کسی نے یہ شعر کہا، یہ جو دوسرا شعر ہے: المستجير بعمرو عند كربته كالمستجير من الرمضاء بالنار عمرو سے پناہ طلب کرنے والا اپنے غم کے وقت اس شخص کی طرح ہے جو پناہ پکڑنے والا ہو تپتی ہوئی زمین سے آگ کی، یہ اسی طرح ہے۔ سمجھ میں آیا؟ اب معنیٰ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ جیسے تپتی ہوئی زمین سے بچنے کے لیے کوئی آگ کی پناہ طلب کرے، آگ سے پناہ چاہے، تو عمرو سے پناہ لینا بھی اسی طرح ہے، یہ بھی بجائے تکلیف دور کرنے کے، بجائے تکلیف دور کرنے کے اس سے بھی بڑھ کر کیا کرے گا؟ تکلیف اور مصیبت کا باعث بنے گا بھئی۔ تو یہ مشہور شعر تھا۔ تو یہ پہلے شاعر نے اسی کی طرف اپنے شعر میں اشارہ کیا ہے۔ اب آئیے پہلے شعر پر بھئی، كقوله، جیسے ایک شاعر کا قول ہے: لعمرو مع الرمضاء والنار تلتقي أرق وأحفى منك في ساعة الكرب لعمرو، البتہ عمرو جو ہے مع الرمضاء، تپتی ہوئی زمین کے ساتھ، والنار، اس کا عطف چاہے عمرو پر کر لیں اور چاہے اس کا عطف رمضاء پر کر لیں، دونوں صورتوں میں ترکیب صحیح ہے بھئی۔ اگر اس کا عطف رمضاء پر کریں گے تو والنارِ مجرور پڑھیں گے، اور اگر اس کا عطف عمرو پر کریں تو مرفوع پڑھیں گے۔ تو دیکھیے دونوں طرح ہم ترجمہ کر لیتے ہیں: لعمرو مع الرمضاء والنار تلتقي، التظى يلظى کے معنیٰ ہوتے ہیں بھڑکنا بھئی، آگ کا شعلے مارنا۔ لعمرو مع الرمضاء والنار تلتقي، عمرو اور آگ جو کہ بھڑک رہی ہو مع الرمضاء، تپتی ہوئی زمین کے ساتھ، أرق وأحفى منك في ساعة الكرب، في ساعة الكرب، وہ زیادہ رحم کرنے والے ہیں، ارق زیادہ رحم کرنے والے اسم تفضیل ہے بھئی، واحفی اور زیادہ شفقت کرنے والے ہیں منك تجھ سے، في ساعة الكرب غم کی گھڑی میں۔ کوئی شاعر کسی دوسرے کو کہہ رہا ہے کہ وہ جو عمرو تھا اور وہ جیسے آگ ہے جو جلانے والی ہے، شاعر کسی سے کہہ رہا ہے تو اتنا بڑا ظالم ہے کہ وہ عمرو اور آگ بھی جو ہیں تیرے مقابلے میں زیادہ رحم کرنے والے اور زیادہ شفقت کرنے والے ہیں، تو ان سے بھی بڑھ کر ظالم ہے بھئی، ان سے بڑھ کر۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو لعمرو مع الرمضاء والنار تلتقي، لعمرو والنار تلتقي، البتہ عمرو اور آگ جو کہ بھڑک رہی ہو، أرق وأحفى، وہ زیادہ رحم کرنے والے اور شفقت کرنے والے ہیں اس حال میں کہ مع الرمضاء وہ کس کے ساتھ ہوں؟ تپتی ہوئی زمین کے ساتھ ہوں، منك تجھ سے یعنی تیرے مقابلے میں في ساعة الكرب غم کی گھڑی میں، غم کے وقت میں۔ پہلا معنیٰ ہم نے کیا کیا؟ عمرو اور آگ جو کہ بھڑک رہی ہو، یہ تپتی ہوئی زمین کے ساتھ، یہ تجھ سے زیادہ رحم اور شفقت کرنے والے ہیں۔ دوسرا معنیٰ پھر بھی اسی طرح رہے گا: لعمرو مع الرمضاء والنار تلتقي، عمرو تپتی ہوئی زمین اور بھڑکتی ہوئی آگ کے ساتھ أرق وأحفى منك، وہ تجھ سے زیادہ رحم کرنے والا اور ترس کھانے والا ہے في ساعة الكرب غم کے وقت میں۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ اشار الى البيت المشهور، اس میں شاعر نے اشارہ کیا مشہور شعر کی طرف، وهو اور وہ یہ ہے: المستجير بعمرو عند كربته كالمستجير من الرمضاء بالنار عمرو سے پناہ طلب کرنے والا اپنے غم کے وقت اس شخص کی طرح ہے جو پناہ پکڑنے والا ہے تپتی ہوئی زمین سے آگ کی۔ حسن الابتداء، جی اگلی صنعت ہے: حسن الابتداء۔ هو ان يجعل المتكلم مبدأ كلامه عذب اللفظ حسن السبك صحيح المعنى، فإذا اشتمل على إشارة لطيفة إلى المقصود سمي براعة الاستهلال، كقوله في تهنئة بزوال مرض۔ حسن الابتداء، ابتداء کا اچھا ہونا، ابتداء کا اچھا ہونا۔ یاد رکھیے جب بھی آپ کوئی کلام کرنے لگیں ابتداء اچھی ہونی چاہیے، کیونکہ اگر ابتداء اچھی ہوگی تو سننے والے آپ کے کلام کی طرف متوجہ ہو جائیں گے اور باقی کا کلام بھی سنیں گے، اگر ابتداء ہی اچھی نہ ہوئی تو پھر وہ باقی کلام کی طرف بھی توجہ نہیں دیں گے بھئی۔ تو یہی اب یہاں ذکر کر رہے ہیں: حسن الابتداء، ابتداء کا اچھا ہونا، هو ان يجعل المتكلم، وہ یہ کہ کر دے متکلم یعنی بنا دے متکلم مبدأ كلامه اپنے کلام کے آغاز کو، اپنے کلام کے شروع کو، عذب اللفظ، عذب اللفظ میٹھے لفظوں والا، حسن السبك، سبک کا کیا معنیٰ؟ بناوٹ جس کی اچھی ہو، حسن السبك اچھی بناوٹ والا، صحيح المعنى اور صحیح المعنیٰ جس کا معنیٰ صحیح ہو بھئی۔ تو حسن الابتداء یہ ہے کہ متکلم جو ہے اپنے کلام کے شروع کو میٹھے اور شیریں لفظوں والا، اچھی بناوٹ والا اور صحیح معنیٰ والا بنائے، فإذا اشتمل، اب اسی میں ایک اور بات بھی یاد رکھیں۔ اگر اپنے کلام کو کیا بنائے؟ میٹھے لفظ ہیں، اچھے اچھی بناوٹ ہے کلام کی، اس کے اندر کسی قسم کی خرابی نہیں کلام کے اندر اور صحیح معنیٰ ہے، تو یہ ہے حسنِ ابتداء، یہ کیا ہے؟ حسنِ ابتداء۔ اور اسی ابتداء کے اندر اگر کہنے والا آگے جو اس کا مقصود ہے، جو بات وہ کہنا چاہتا ہے جس کے لیے وہ کلام کو لے کر آیا ہے، وہ تو ابھی نہیں آیا یہ تو ابھی کلام کا آغاز ہے، تو اگر کلام کے آغاز میں اپنے مقصود کی طرف بھی کوئی اشارہ کر دے تو اس کو براعتِ استہلال کہتے ہیں، آپ پڑھ چکے ہوں گے۔ براعتِ استہلال کہ مصنف جو ہے آپ نے پڑھا ہوگا کہ مصنف کتاب کے خطبے کے اندر یعنی آغاز کے اندر ایسے الفاظ لے کر آتا ہے جس سے آگے آنے والے مقصود جو ہے اس کا مقصد جو ہے اس کی طرف اشارہ ہو جائے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ براعتِ استہلال بھئی۔ استہلال بھئی، استہلال، اصل میں کہتے ہیں یہ پہلی مرتبہ جو چاند ظاہر ہوتا ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ استہلال۔ پھر اس کو ہر چیز کے اول کے لیے استعمال کرنے لگے، ہر چیز کے اول کے کو ہی استہلال کہنے لگے، اور براعت کا معنیٰ ہے بلند ہونا، بلند ہونا۔ تو براعۃ الاستہلال کا کیا معنیٰ ہوا؟ استہلال کہتے تھے شروع کے چاند کو، پھر ہر چیز کے شروع کو کہنے لگے، تو استہلال کا کیا معنیٰ؟ شروع کا کلام وغیرہ، اور براعت کا کیا معنیٰ؟ بلند ہونا، یعنی کلام کے شروع کا کلام کا شروع ہی بلند ہے اعلیٰ درجے کا ہے، باقی قسم باقی جو ابتداء عام ابتداء جس میں ایسا نہ ہو یعنی جس میں مقصود کی طرف اشارہ نہ ہو، یہ اس سے بلند ہے اعلیٰ ہے کہ اس میں کیا کیا جا رہا ہے؟ ہے ابتداء اور اشارہ کس کی طرف ہو گیا؟ مقصود کی طرف، تو یہ عام قسم کی ابتداء سے بلند ہے اعلیٰ ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: فإذا اشتمل على إشارة لطيفة إلى المقصود، پس جب یہ کلام کا آغاز جو ہے یہ مشتمل ہو کسی باریک اشارے پر إلى المقصود مقصود کی طرف، سمي براعة الاستهلال، تو اس کو براعتِ استہلال کہتے ہیں، كقوله في تهنئة بزوال مرض، جیسے کسی شاعر کا قول بھئی في تهنئة، تہنئہ کہتے ہیں مبارکباد دینا بھئی، في تهنئة بزوال مرض مرض کے دور ہو جانے کی وجہ سے مبارکباد میں ایک شاعر کہتا ہے، یہ کوئی بادشاہ وغیرہ بیمار ہو گیا تھا اور پھر صحت یاب ہوا تو صحت یاب ہونے پر ایک شاعر نے مبارکباد دیتے ہوئے اپنا کلام اور قصیدہ پیش کیا، اور ابتداء کے اندر وہ دیکھیے بڑے اچھے کلمات، میٹھے اور شیریں کلام لے کر آتا ہے اور آگے مقصود کی طرف بھی باریک سا اشارہ کر دیتا ہے کہ یہ کلام میں کس لیے لا رہا ہوں؟ کیا ذکر کروں گا اس کے اندر؟ صحت جو اس بادشاہ کو صحت ملی ہے اس پر اس کی طرف بھی اشارہ کر دیتا ہے، دیکھیے شعر کے اندر: المجد عوفي إذ عوفيت والكرم وزال عنك إلى أعدائك السقم المجد عوفي، مجد کہتے ہیں بزرگی اور عظمت کو، المجد عوفي بزرگی کو بزرگی شفایاب ہو گئی، إذ عوفيت جب آپ کو شفا دے دی گئی، والكرم اور سخاوت بھی۔ یعنی عظمت اور بزرگی اور سخاوت ان کو بھی شفا ہو گئی إذ عوفيت جب آپ کو شفا ہو گئی، تو الکرم کا عطف جو ہے المجد پر ہے، المجد۔ عظمت اور سخاوت شفایاب ہو گئیں، ان دونوں کو بھی شفا مل گئی إذ عوفيت جب آپ کو شفا مل گئی، وزال عنك إلى أعدائك السقم، سقم کہتے ہیں بیماری کو، وزال عنك اور زائل ہو گیا، جدا ہو گیا عنک آپ سے، إلى أعدائك آپ کے دشمنوں کی طرف، السقم بیماری۔ بیماری آپ سے جدا ہو گئی کس کی طرف؟ آپ کے دشمنوں کی طرف یعنی ان کی طرف منتقل ہو گئی۔ تو شاعر کہتا ہے: المجد عوفي إذ عوفيت والكرم وزال عنك إلى أعدائك السقم بزرگی کو بزرگی شفایاب ہو گئی یا یوں کہیں عظمت، عظمت شفایاب ہو گئی إذ عوفيت جب آپ کو شفا دے دی گئی والكرم اور سخاوت بھی، وزال عنك إلى أعدائك السقم اور جدا ہو گئی آپ سے آپ کے دشمنوں کی طرف بیماری، یعنی بیماری آپ سے جدا ہو کر کس کی طرف منتقل ہو گئی؟ آپ کے دشمنوں کی طرف بھئی۔ تو دیکھیے یہ شاعر نے کلام کا آغاز، اپنے قصیدے کا آغاز بڑے اچھے اور دلنشین، پیارے الفاظ کے ساتھ اپنے قصیدے کا آغاز کیا اور آگے آنے والے مقصود کی طرف بھی اشارہ کر دیا کہ یہ قصیدہ کس چیز کے لیے ذکر کیا جا رہا ہے؟ یہ بادشاہ جو شفایاب ہوا ہے مرض سے اس کی طرف بھی اس نے اشارہ کر دیا بھئی۔ سو اس میں آگے آنے والے مقصود کی طرف بھی اشارہ ہو گیا، دیکھیے بیماری کا ذکر کر دیا اور شفا کا ذکر بیچ میں کر دیا کہ آگے پھر وہ صراحتاً مبارکباد پیش کرے گا بھئی۔ وكقول الآخر في تهنئة ببناء قصر، بناء کہتے ہیں تعمیر کو، قصر کہتے ہیں محل کو، اور جیسے ایک دوسرے شاعر کا قول کسی محل کی تعمیر پر مبارکباد دیتے ہوئے، کسی بادشاہ نے کوئی محل بنوایا تھا تو یہ اب محل جب بن گیا تو اب یہ شاعر اس کو مبارکباد کے طور پر اپنا قصیدہ پیش کرتا ہے اور آغاز میں دیکھیے بڑے اچھے پیارے اور دلنشین الفاظ لاتا ہے کہ کہ شاعر کہتا ہے: قصر عليه تحية وسلام خلعت عليه جمالها الأيام قصر، کہ وہ ایک ایسا محل ہے، عليه تحية وسلام، تحیہ اور سلام کا ایک معنیٰ بھئی، کہ ایسا محل ہے کہ اس پر سلامتی ہو، اس پر کیا ہو؟ سلامتی ہو، یا یوں کہیں اس پر دعا ہو اور اس کو دعا اور سلام پہنچے، خلعت عليه، ڈال دیا اس پر، جمالها اپنے جمال کو، الأيام زمانے نے۔ اس پر اس پر اپنا جمال ڈال دیا کس نے؟ زمانے نے، زمانے نے اپنا جمال اتار کر اس محل پر ڈال دیا ہے۔ تو دیکھیے کتنے اچھے الفاظ کے ساتھ آغاز کیا، شروع میں ہی تحیت اور سلام کو ذکر کر دیا بھئی محل کا، اور پھر اس کے جمال کا ذکر کر دیا کہ سارے زمانے نے اپنا حسن و جمال اتار کر کس پر ڈال دیا ہے؟ اس محل پر، اتنا خوبصورت محل ہے۔ جی، قصر عليه تحية وسلام وہ ایک ایسا محل ہے کہ اس پر سلام ہو، خلعت عليه جمالها کہ ڈال دیا ہے اس پر اپنا جمال، الأيام زمانے نے، زمانے نے اپنا حسن و جمال اس پر ڈال دیا ہے۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔